نئی بات ۴۔ اگست
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
اگرچہ سندھ حکومت نے رینجرز کے قیام اور اس کے اختیارات می میعاد میں اضافہ کی منظوری دے دی ہے۔ لیکن وفاق اور سندھ کے درمیان ہونے والی بیان بازی سے ظاہر ہے کہ یہ اشو دونوں فریقین کی اطمینان کی حد تک حل نہیں ہوا ہے۔ وفاقی حکومت کہتی ہے کہ سندھ حکومت نے اینجرز کے اختیارات سے متعلق بھیجی گئی سمری اس نے رد کردی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے کوئی سمری نہیں بھیجی تھی۔ بلکہ وفاقی وزارت داخلا کو خط لکھا تھا۔ وفاقی وزارت داخلا کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کے اس خط میں بعض متضاد چیزیں ہیں جن کا قانونی ماہرین جائزہ لے رہے ہیں۔
سندھ حکومت نے رینجرز کے پولیسنگ کے اختیارات میں تین ماہ کی منظوری دی ہے جو 18 ستمبر کو ختم ہو جائیں گے۔ سندھ حکومت کو رینجرز کے اختیارات کے اس اجازت نامے میں وہی شرائط شامل ہیں جو گزشتہ مرتبہ سند اسمبلی کی منظور کردہ قرار داد میں تھی۔ البتہ سندھ حکومت نے اس مرتبہ جو وفاقی حکومت کو خط لکھا ہے جس کو وفاقی وزارت داخلا سمری قرار دے رہی ہے اور اسے مسترد کر چکی ہے اس میں صوبائی حکومت نے 15 شرائط رکھی ہیں۔ ان شرائط میں رینجرز کے سرکاری دفاتر پر چھاپے اجازت سے مشروط کئے گئے ہیں ۔شاہراہوں پر گشت اور چوکیاں کے قیام سے منع کیا گیا ہے۔
رینجرز کے رول کو بطور آزاد اور اپنی مرضی سے کارروائی کرنے کے مددگار فورس کے رکھا گیا ہے۔ رینجرز شاہراہوں پر گشت اس وقت کر سکے گی جب فساد یا ہنگامہ آرائی کی صورتحال ہوگی۔ اور اس صورتحال میں بھی آئی جی سندھ پولیس کی گزارش پر مشترکہ آپریشن کیا جائے گا۔
یہ تمام صورتحال ایسی ہے جس پر وزیر داخلا چوہدری نثار علی خان کا ردعمل حسب معمول موجود ہے۔ یہ حسن کمال ہے کہ اس معاملے پر نہ وزیراعظم کا موقف سامنے آیا ہے اور نہ ہی اتنے بڑے معاملے کو کابینہ کے اجلاس کا حصہ بنایا گیا ہے۔ تمام فیصلے، تمام موقف وزیر داخلا کی طرف سے آر ہے ہیں۔
وزیر داخلا جب موقف کاا ظہار کرتے ہیں تو وہ ملک میں موجود قانون، آئین، منتخب حکومت اور سیاسی نظام کا بھی خیال نہیں کرتے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ معاملے کی سنجیدگی اور حساسیت کے پیش نظر اس پر کابینہ بھی غور کرتی، اس کو قومی اسمبلی اور سنیٹ میں بھی زیر بحث لایا جاتا۔ کیونکہ صورتحال کسی ایک فرد یا ایک وزیر کی سمجھ ، فہم و فراست سے زیادہ سنگین اور اہم ہے۔ وزیر موصوف کو پتہ ہونا چاہئے کہ ملک میں نہ ایمرجنسی نافذ ہے اور نہ ہی آئین معطل ہے۔ وہ بار بار دوسرے آپشنز کی بات کرتے ہیں تو وہ دوسرے کون سے آپشنز ہیں؟ کیا وہ املک میں یا صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ چاہتے ہیں۔
چوہدری صاحب کے ان” کوششوں“ کی وجہ سے سندھ میں سویلین اسپیس مزید کم ہوگا۔ سندھ میں اس طرح کا بحران اگر مزید گہرا اور پیچیدہ ہوتا ہے تو اس کے نتائج وفاق میں موجود منتخب حکومت پر پڑنا ناگزیر ہو جائیں گے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ رینجرز کی تعینات صرف انتظامی معاملہ نہیں جس طرح اس کو پیش کیا جاتا ہے۔ بلکہ یہاتنا ہی قانونی، آئینی اور سیاسی معاملہ بھی ہے۔ ملک کا آئین وفاقیت پر مبنی ہے جہاں منتخب صوبائی حکومتیں موجود ہیں جنہیں اپنے دائرہ کار میں کام کرنے کا مکمل اختیار ہے۔ منتخب پارلیمنٹ کی موجودگی میں ان کو وزارت داخلا کی منشاءپر چلانا سیاسی خواہ قانونی اور آئینی طور پر صحیح نہیں۔
یہ درست ہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت پر کرپشن اور نااہلی کے الزامات ہیں۔ لیکن ا ن الزمات کی تحقیقات اور روک تھام کے لئے
ہمارے آئینی اور قانونی نظا م میں جواب اور ادارے موجود ہیں۔ جن کو سرگرم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کام کو سیکیورٹی اداروں کے ذریعے نہیں کرایا جاسکتا۔ اسی طرح سے یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک جمہوری نظام میں سیکیورٹی اداروں کو کیا، اور کس حد تک اختیارات ہیں اس کا حق عوام اور اس کے منتخب نمائندوں کے پاس ہے۔ صوبوں کی کارکردگی خواہ کتنی ہی خراب کیوں نہ ہو، اس کو ٹھیک کرنے کے لئے سیاسی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ سیاسی نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے پیپلزپارٹی کی خراب کارکردگی اور خراب حکمرانی الگ معاملہ ہیں جب کہ وفاق یا وفاقی وزیر داخلا اس معاملے میں اپنی مرضی چلائے یہ الگ معاملہ ہے۔
اس بات کو سمجھنے کے لئے چند سوالات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہیں:
۱) اگر قومی مالیاتی ایوارڈ میں ملنے والی رقم سندھ کے حکمران ہضم کر جاتے ہیں تو کیا ہم سندھ کا جائز حصہ لینے کے مطالبے سے دستبردار ہو جائیں؟ یا وفاق کی جانب سے سندھ کو یہ حصہ نہ دیا جائے؟
۲)سندھ میں پانی کی تقسیم منصفانہ نہیں کیونکہ بااثر افراد چھوٹے اور آخری سرے کے کاشتکاروں کا حصہ بھی پی جاتے ہیں تو کیا وفاق یا پنجاب سے پانی کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ نہ کریں؟
۳) اگر سندھ کی حکومت کرپٹ ہے تو کیا ہم سندھ کے آئینی حقوق سے دستبردار ہو اجائیں؟
۴)کیا خراب حکمرانی کے الزام میں لوگوں کو اپنے منتخب نمائندوں کے زریعے حکومت کرنے کا حق چھین لیا جائے؟ اگر یہی نطق لاگو کی اجتی ہے تو پھر یہ ”الزامات“ وفاقی حکومت پر بھی لگائے جا سکتے ہیں۔
یہ درست ہے کہ سندھ میں آج جو بدامنی کی صورتحال کے لئے پولیس ذمہ دار ہے، جس کو سیاسی بنایا گیا۔ لیکن اب یہ باتیں بھی ہونے لگی ہیں کہ وفاقی ادارے اس حساس صوبے میں بدامنی کو روکنے میں کتنے سنجیدہ رہے ہیں۔ سندھ کے بااثر وڈیرے راتوں رات انتے طاقتور اور بااثر نہیں ہوئے ہیں۔ ان کا اثر ماضی میں ایک سے زائد مرتبہ عوام نے اپنی رائے کے اظہار کے ذریعے توڑنے کا اعلان کر چکے تھے۔ جام صادق علی اور مظفر شاہ کو بطور وزیراعلیٰ کس نے سندھ کے عوام پر مسلط کیا؟
سندھ میں وہ دور بھی رہا جب ایک سیاسی کارکن کی حیثیت بڑے سے بڑے وڈیرے سے بھی زیادہ ہوتی تھی۔ پھر یہ بھی دیکھا گیا کہ مارشل لاﺅں کے زمانے میں بند کمروں میں یہ فیصلے ہوتے رہے کہ کون وزیر بنے گا، کون ایم پی اے، یا کونسلز بنے گا۔ ان فیصلوں نے سندھ کے سیاسی نظام، عوام کے حقیقی نمائندوں کی راہ میں رکاوٹیں ڈالیں۔ سیاست اور سیاسی کارکنوں کو پیچھے دھکیلا۔
ملک کے شمالی علاقہ جات میں آپریشن ہوا جس کے اچھے نتائج نکلے۔ اسی طرح بلوچستان بھی مسلسل آپریشن کی زد میں ہے۔ بدامنی دہشتگردی ، مذہبی انتہا پسندی کے واقعات اور کالعدم تنظیموں کی سرگرمیاں پنجاب میں بھی ہو رہے ہیں۔ وہاںآپریشن نہیں کیا جاتا۔
اندرون سندھ وہ صورتحال نہیں جو کراچی میں ہے۔ اگر ہر چھوٹے بڑے کام کے لئے رینجرز یا کسی وفاقی ادارے کو بلایا جاتا رہا تو تمام سویلین ادارے اور محکمے عضو معطل بن کر رہ جاےئیں گے۔ ان کی تنخواہیں اور دیگر سہولیات کے اختیارات عوام پر بوجہ بن جائیں گے۔ مزید یہ کہ ان کاموں کے لئے جن وفاقی اداروں کی خدمات حاصؒ کی جائیں گی ان کو بھی اضافی رقومات ادا کرنی پڑیں گی۔ مزید بآں یہ کہ وفاقی ادارے جس مقصد کے لئے بنائے گئے ہیں ان سے اگر مستقل طور اس طرح کے کام لئے جاتے رہے تو وہ مقصد پورا کس طرح سے ہو پائے گا جس کے لئے یہ ادارے بنائے گئے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ معاملے کو مزید پیچیدہ بنانے کے بجائے اس کا مستقل بنیادوں پر حل تلاش کیا جائے۔ وفاقی کابینہ اور پارلیمنٹ معاملہ نوٹس لے۔ صوبائی اداروں کو مضبوط اور موثر بنایا جائے۔ اب جب سندھ میں نئے وزیراعلیٰ ّیا ہے اور انہوں نے اچھے عزم کا اظہار کیا ہے تو انہیں آزادانہ طور پر کام کرنے کا موقعہ دیا جائے۔ اور ان کی مدد کی جائے کہ وہ صوبائی اداروں کو مضبوط بنا سکیں۔
نئی بات ۴۔ اگست