Friday, June 23, 2017

سندھ میں متبادل کی تلاش

سندھ میں متبادل کی تلاش
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
پیپلزپارٹی گزشتہ دو آئینی مدتوں سے مسلسل حکومت میں ہے۔ پارٹی نوے کے عشرے میں بھی دو مرتبہ حکومت میں رہی۔یعنی سندھ کے لوگ پارٹی کو مسلسل ووٹ دیتے رہے۔ ماسوائے اس کے کہ تین مرتبہ انتخابات میں انجنیئرنگ کی گئی۔ ایک انجنیئرنگ غلام اسحاق خان نے نوے کے عشر میں کی جب جام صادق علی خان کو اکثریت نہ ہونے کے باوجود ویزراعلیٰ سندھ بنا دیا گیا۔اسی فارمولے کے تحت لیاقت جوتئی بھی وزیراعلٰ بنے۔ دوسری انجنیئرنگ جنرل پرویز مشرف نے کی علی محمد مہر اور ارباب غلام رحیم وزیر اعلیٰ بنے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ چاروں حضرات فرد واحد کے طور پر منتخب ہو کر آئے اور بعد میں اسٹبلشمنٹ کی مدد سے ایم کیو ایم کے اراکین کو اپنے ساتھ ملا کرجوڑ توڑ کے ذریعے وزیراعلیٰ بنے۔ اسٹبلشمنٹ کا واحد ایجنڈا یہ تھا کہ پیپلزپارٹی کو اقتدار سے باہر رکھنا ہے۔ یہ کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں۔ اگر دیکھا جائے تو پیپلزپارٹی کوسندھ میں ہٹانے کی جتنی بھی کوششیں رہی ہیں ان کے پیچھے کبھی بھی کوئی سیاسی ایجنڈا، پروگرام یا منشور نہیں رہا۔ یہ سب مخالفت برائے مخالفت یا اسٹبلشمنٹ کی آشیرواد پر ہوئیں۔ اصل المیہ یہ ہے۔ سندھ کے لوگ اس سے یہی مطلب نکالتے ہیں کہ اسلام آباد یا لاہور کی تمام مشق سندھ میں کسی تبدیلی کے لئے نہیں بلکہ پیپلزپارٹی کو دور کرنے کے لئے ہے۔ ایسے میں سندھ کے لوگ پارٹی کیوں تبدیل کریں؟
اس صورتحال کو پیپلزپارٹی کے مخالفین سندھ پر بھٹو کا قرض اتارنا قرار دے رہے ہیں۔اگر بھٹو کے قرض کی بات کی جائے تو سب سے زیادہ مقروض خود پنجاب ہے۔ کیونکہ 1970 کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کو پنجاب نے ہی سب سے زیادہ ووٹ دیئے تھے اور یہ واحد صوبہ تھا جہاں پیپلز پارٹی نے اکثریت حاصل کی تھی۔ بھٹو نے ہی پنجاب کو بنگالیوں کی اکثریت سے جان چھڑانے میں مدد کی۔ وہ بھٹو ہی تھا جس نے شملہ معاہدہ کرکے 90 ہزار فوجی جنگی قیدیوں کو بھارت کی قید سے آزاد کرایا۔ تاریخ کی ورق گردانے کی جائے تو بھٹو کے دور حکومت میں سندھ خوش نظر نہیں آتا۔ سندھ کے سیاسی حلقے، اہل دانش ، قوم پرست بھٹو کے مخالف رہے۔یہ الگ بات ہے کہ بھٹو نے متعدد ایسے اقدامات کئے جس سے متوسط طبقے کو فائدہ ملا۔ یہ فائدہ صرف سندھ نہیں ملک بھر کے اس طبقے کو ملا۔ سندھ کے لوگوں نے یا دوسرے علاقووں کے لوگوں نے شاید اس وجہ سے زیادہ ’’دل پر لیا‘‘ کہ سندھ کے اس طبقے کو یہ ’’مراعات ‘‘ پہلی مرتبہ ملی تھیں، جبکہ پنجاب اور کسی حد تک خیبرپختونخوا میں پہلے سے یہ طبقہ کسی حد تک یہ ’’مراعات‘‘ حاصل کر رہا تھا۔
سندھ پر بھٹو کا قرض کی مخالفین بنائی ہوئی اصطلاح پیپلزپارٹی کو نقصان دینے کے بجائے فائدہ ہی دیتی ہے۔ کیونکہ لوگ پیپلزپارٹی کو برقرار رکھنے یا لاہور اسلام آباد کی کوششوں سے بچنے کے لئے ایک جواز مل جاتا ہے ایک آڑ مل جاتی ہے۔ سندھ کی سیاست پر نظر رکھنے والے اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ سندھ کے لوگوں نے بارہا تبدیلی کی کوشش کی۔لیکن اسٹبلشمنٹ کے اقدامات اس کے آڑے آئے۔ ایک بار پھر یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ ملک کے مختلف حلقے سندھ میں ایک بار پھر متبادل کی تلاش میں ہیں۔ سندھ کے عوام کی بھی یہ خواہش پرانی رہی ہے۔ لیکن جو متبادل سندھ کے عوام چاہتے ہیں وہ اسلام آباد یا لاہور کو پسند نہیں یا پھر اسلام آباد اور لاہور جو متبادل دینا چاہتے ہیں وہ
سندھ کے لوگوں کو پسند نہیں۔ سندھ کی بعض قوم پرست گروپ کوشاں ضرور رہے اور ایک پورا دور گزرا ہے جس میں رسول بخش پلیجو کی عوامی تحریک، ڈاکٹر قادر مگسی کی سندھ ترقی پسند پارٹی یہاں تک کہ جام ساقی کی بائیں بازو کی پارٹی عوامی سطح پر بہت مقبول رہی۔ ان پارٹیوں کی مقبولیت عوامی سطح پر تھی اور لوگوں کے خواہشات اور جذبات کی ترجمانی کرتے تھے۔ لیکن ان جماعتوں کی مختلف حوالوں سے یہ صلاحیت نہیں تھی اور وہ وقت کے چیلینجوں کو سمجھ نہیں سکے۔ یہ بھی ایک سوال ہے کہ اسلام آباد اور لاہور ان کو مناسب قبولیت کے لئے بھی تیار نہیں ہو رہا تھا۔ یہ پارٹیاں پنجاب میں جگہ نہیں بنا پائیں۔ شاید اسلام آباد کسی نئے سیاسی فارمولا کا تجربہ نہیں کرنا چاہ رہا تھا۔ نوے کے عشرے میں بینظیر بھٹو کی حکومت آتی اور جاتی رہی۔ جس سے اس تاثر کو مزید تقویت ملی کہ پنجاب جب پیپلزپارٹی کو ’’ برداشت‘‘ کرنے کے لئے تیار نہیں تو باقی گروپوں کو کیسے جگہ دے گا؟اس صورتحال میں اس نے ان سب گروپوں کو ایک طرف رکھ کر پیپلزپارٹی کو ہی بہتر سمجھا۔ نیتجے میں سندھی عوام اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان پیپلزپارٹی دونوں کے لئے ایک کمپرومائزنگ فارمولا بنی ہوئی ہے۔
پاناما لیکس اور ڈان لیکس جو گزشتہ سال سے پک رہے تھے۔ ان پاناما لیکس کا غیر فیصلہ کن عدالتی فیصلہ آیا ہے۔ جس میں نواز خاندان کے اثاثون اور املاک کی مزید تفتیش کے لئے عدالتی حکم پر تحقیقات شروع ہو چکی ہے۔ ڈان لیکس میں تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں وزیراعظم نے بعض ہدایات جاری کیں۔ جن کو عسکری حلقوں نے ادھورا قرار دے کر مسترد کر دی۔ نتیجے میں سول اور عسکری حلقوں کے درمیاں تناؤ بڑھ گیا۔ اسلام آباد میں بڑی تیزی سے حالات و واقعات میں روز ایک نئی تبدیل آرہی ہے ۔ یہ واقعات اپنی جگہ پر لیک سندھ میں بھی سیاسی سرگرمیاں شروع ہو گئی ہیں۔ وزیراعظم میاں واز شریف صوبے کے دارلحکومت سمیت حیدرآباد، ٹھٹہ، کراچی اور جیکب آباد کا دورہ کر آئے ہیں۔ ان کا دورہ سیاسی معنوں میں تعارفی دورہ تھا۔ کیونکہ 2013 کے انتخابات کے بعد انہوں نے پہلی مرتبہ سیاسی دوورہ کیا۔ اگرچہ انہوں نے ہر جگہ پر بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا۔ لیکن ان کے دوروں کو سیاسی حلقوں خواہ میڈیا میں اس وجہ سے بھی شک کی نظر سے دیکھا جارہا ہے کہ اتنے برسوں کے بعد ان کو سندھ کیسے یاد آیا۔ مزید یہ بھی کہ اس سے قبل وہ بعض منصوبوں کا علان کرتے رہے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بنظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام سے متاثر ہو کر ہیلتھ کارڈ کا اجراء کیا ہے۔ مختلف سروے رپورٹس میں بتایا گیا کہ گزشتہ انتخابات میں بینظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام کی وجہ پیپلزپارٹی کا عام لوگوں میں الگ سے ووٹ بینک بنا ہے۔ سندھ میں نواز لیگ کے لئے صورتحال مختلف اس لئے بھی ہے کہ اس کے پاس تاحال کوئی تنظیمی نیٹ ورک نہیں۔ کوئی کوئی باثر شخصیت نے بھی پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کی۔ گزشتہ مرتبہ ممتاز بھٹو، لیاقت جتوئی، ٹھٹہ کے شیرازی، غلام مصطفیٰ جتوئی کے بیٹے غلام مرتضیٰ جتوئی، کراچی سے حکیم بلوچ، اور شفیع محمد جاموٹ نے پارٹی میں شرکت کی تھی لیکن ان کا بھی تجربہ کوئی زیادہ خوشگوار نہیں رہا۔ ممتاز بھٹو اور لیاقت جتوئی نے پارٹی سے علحدگی اختیار کر لی۔ حکیم بلوچ پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔ غلام مرتضیٰ جتوئی تاحال وزیر مملکت ہیں لیکن گزشتہ دنوں حیدرآباد کے دورے کے دوران انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے پاس کوئی اختیارات نہیں۔نواز لیگ کے لئے دو دھکچے اور بھی تھے ۔برسہا برس سے پارٹی سے منسلک اسماعیل راہو نے بھی گزشتہ دنوں آصف زرداری کی موجودگی میں پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ لیاقت جتوئی جو مختلف وقتوں میں نواز لیگ کے ساتھ رہے انہوں نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی۔ لیاقت جتوئی کی تحریک انصاف میں شمولیت بظاہر عمران خان کی کامیابی لگتی ہے۔ سندھ میں سیاسی متبادل کی اسو جہ سے بھی گنجائش موجود ہے کہ فنکشنل لیگ کی مقبولیت فعالیت اب خال خال ہے۔ لیکن تحریک انصاف بھی عام لوگوں تک پہنچنے یا اپنا ورکر، کیڈر یا تنظیمی نیٹ ورک بنانے کے بجائے وڈیروں کے کندھوں پر سوار ہو کر سندھ میں داخل ہونا چاتی ہے۔ ایسے میں سندھ میں کچھ تبدیل کرنے کی بات یا خواہش تو کی جاسکتی ہے لیکن اس خواہش کو عملی شکل نہیں مل سکتی۔

سندھ میں جڈٰشل ایکٹوام: حکومتی فیصلے کالعدم

سندھ میں جڈٰشل ایکٹوام: حکومتی فیصلے کالعدم
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
سندھ میں ایک بار پھر جڈیشل ایکٹوازم سامنے آئی ہے۔ سپریم کورٹ خواہ سندھ ہائی کورٹ نے بعض اہم حکومتی فیصلوں کو کالعدم قرار دیا ہے یا تبدیل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ دہشتگردی کی لپیٹ میں آئے ہوئے اس ملک میں جہاں صرف اپنے ہی ملک کے نہیں بلکہ غیر ملکی شہریت رکھنے والے دہشتگرد سرگرم عمل ہیں، جن کے خلاف پاک افواج متعدد بار چھوٹ بڑے آپریشن کر چکی ہے۔ لیکن حالات قابو میں نہیں آسکے ہیں ۔ امن و مان کی بحالی بنیادی طور پر پولیس کی ذمہ داری ہے۔ لیکن اس اہم محکمہ کی نہ صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکا ہے اور نہ ہی اس میں تقرر اور تبادلوں میں خاص خیال رکھا گیا ہے۔اس ضمن میں سب سے زیادہ شکایات سندھ سے آتی رہی ہے۔ سندھ میں عدلیہ کو گزشتہ آٹھ سال کے دوران متعدد بار مداخلت کرنی پڑی اور حکومت کو بعض اقدامات اٹھانے کے لئے پابند بھی کیا گیا۔ سندھ میں آئی جی سندھ پولیس ک کے تبادلے کا معاملہ گزشتہ دو تین ماہ سے موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ مختلف مقدمات اور شکایات کی بنیاد پر سابق آئی جی سندھ پولیس غلام حیدر جمالی کو عدالتی حکم پر ہٹایا گیا۔ اس منصب پر اچھی شہرت رکھنے والے سنیئر پولیس افسر اے ڈی خواجہ کو مقرر کیا گیا۔ لیکن جلد ہی سندھ حکومت اور سندھ پولیس کے کمانی خواجہ کے درمیان اختلافات پیدا ہو نے کے بعد ان کا تبادلہ کیا گیا۔ عدالت نے ان تبادلہ روک دیا۔ چند ماہ بعد ایک بار پھر صوبائی حکومت نے ان کا تبادلہ کیا۔ اور عدالت نے پھر اس فیصلے پر عمل درآمد روک دیا ۔ اس طرح سندھ ہائی کورٹ میں بھرتیوں ار تقرر و تبادلوں کے متعدد مقدمات زیر سماعت ہیں۔ جس سے یہی تاثر ابھرتا ہے کہ مختلف عہدوں پر تقرریاں میرٹ یا مفاد عامہ کو نظر میں رکھنے کے بجائے سیاسی یا ذاتی بنیادوں پر کی جاتی ہیں۔ نیتیجے میں لوگ مطلوبہ سہولیات سے محروم رہتے ہیں۔ اور مسائل اور شکایات کے انبار جمع ہوتے رہتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے گزشتہ دور حکمرانی میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بھی امن و امان کی صورتحال کا نوٹس لیا تھا جو بعد میں کراچی بدامنی کیس کے نام سے مشہور ہوا۔اس کیس میں بدامنی کے حوالے سے کئی پہلو سامنے آئے۔ جس میں لینڈ مافیا اور دیگر مافیا کے رول کا بھی ذکر ہوا۔ سیاسی جماعتوں کی مسلح جتھوں کا بھی حوالہ آیا۔ اسی کیس کے مشاہدات اور ریمارکس کے نتیجے میں کراچی میں ایک بار پھر آپریشن کرنا پڑا۔ رینجرز کو پولیس کے اختیارات بھی ملے۔ امن و مان کی بحالی میں رینجرز اور عسکری قوتوں کا کردار بھی بڑھا۔ ان تمام اقدامات کے بعد بھی حکومت اسی انداز سے فیصلے کرتی رہی اور اسی پالیسی پر گامزن رہی۔ قانوندان شہاب اوستو کی شہریوں کو پینے کے پانی اور دیگر سہولیات کی فراہمی میں حکومت اور متعلقہ اداروں کی ناکامی کی درخواست بھی اسی تسلسل کی کڑی ہے۔ شہاب اوستو کی درخواست پر قائم کردہ کمیشن کی رپورٹ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح سرکاری مشنری اور ادارے اپنے فرائض انجام دینے میں ناکام رہے ہیں ۔ اور متعلقہ اعلیٰ افسران اور وزیر صاحبان ان کاموں کی مانیٹرنگ کرنے میں ناکام رہے۔ نتیجے میں لوگ سہولیات سے محروم ہیں اور بڑی بڑی رقومات خرچ کرنے کے باوجود عام لوگوں کی تکالیف میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یعنی لوگوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے بھی عدالت کو آگے آنا پڑا۔ اس سے حکومت کی کارکردگی اور ’’اچھی حکمرانی‘‘ عیاں ہوتی ہے۔ اب شہری سہولیات کے فراہمی کی مانیٹرنگ کے لئے عدلیہ نے ایک کمیشن قائم کردیا ہے۔اور صوبائی حکومت نے ٹاسک فورس تشکیل دی ہے۔ ٹاسک فورس بھی تاحال کوئی قابل ذکر کارنامہ انجام نہیں دے سکی ہے۔ لگتا ہے کہ وہ بھی ایک روایتی مانیٹنگ ادارے کی طرح ہو کر سسٹم کا حصہ بن گئی ہے۔
موجودہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد تعلیم، صحت ، سر سبز تھر کو اپنی ترجیحات قرار دیا تھا۔ تعلیم اوع صحت کے شعبوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ لیکن یہ ایمرجنسی اور وزیراعلیٰ کی ترجیحات ان دونوں بنیادی شعبوں کی حالت کو سدھار نہیں سکی۔
تھر کو سرسبز بنانے کا وعدہ ایک خواب ہی رہا۔ وہاں پر کوئی خاص ترقیاتی کام شروع نہیں کئے گئے جو اس پسماندہ علاقے کی معاشی، سماجی صورتحال میں نمایاں تبدیلی لاسکیں۔ اب سندھ ہائی کورٹ نے گزشتہ روز تھر میں بگڑتی ہوئی صورتحال کا ایک بار پھر نوٹس لیا ہے۔ پاکستان کا یہ ریگستانی علاقہ گزشتہ تین دہائیوں سے ہر دوسرے سال خشک سالی اور قحط کا شکار رہا ہے۔ برسہا برس تک ترقیاتی کام نہ کرانے کی وجہ سے علاقے کی پسماندگی، غربت اور بے بسی میں اضافہ ہوا ہے۔ تھر کے لوگوں کی مدد کے لئے یا عدلیہ پہنچی ہے یا پھر میڈیا۔ تھر کی صورتحال اب مزید خراب ہو رہی ہے۔ جس کی وجہ سے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمدعلی شیخ کو ازخود نوٹس لینا پڑا۔ انہوں نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ سندھ حکومت کے پاس ضمیر نام کی کوئی چیز ہے؟ تھر میں خوراک کی کمی کے باعث بچوں کی اموات واقع ہو رہی ہے۔ جس میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ سندھ حکومت بتائے کہ وہ اس ضمن میں کیا کر رہی ہے۔ تھر کا کیس دو سال پرانا ہے۔ اس کے بعد کتنے منصوبے شروع کئے گئے؟ صوبائی حکومت نے تازہ ترین صورتحال کے بارے میں دو ہفتے کی مہلت مانگ لی۔
یہ درست ہے کہ سندھ کو وفاق سے گیس، بجلی، پانی ، مالیات کے حوالے سے شکایات ہیں۔ انہی شکایات کو بنیاد بنا کر پیپلزپارٹی سندھ بھر میں احتجاج کر رہی ہے۔ یہ احتجاج ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاناما مقدمے میں مزید تفتیش کرانے کا منقسم فیصلہ آیا ہے۔ جس میں پانچ میں سے دو ججز نے وزیرا عظم کے خلاف اختلافی نوٹ لکھا ہے، جبکہ تین ججز نے مزید تفتیش کے لئے کہا ہے۔عملی اور قانونی طور پرتین ججز کے فیصلے کو ہی مانا جائے گا۔اس بنیاد پر اکثر سیاسی جماعتیں وزیراعظم سے استعیفے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔اگلا سال انتخابات کا ہے، اس وجہ سے ملک بھر میں سیاسی سرگرمیاں زوروں پر ہیں۔
پیپلزپارٹی کی سندھ میں حکومتی کارکردگی ویسے بھی عوام کے سامنے ہے، لیکن عدالتی فیصلوں اور ریمارکس نے اس پر مہر ثبت کردی ہے۔ صوبے میں حکومتی اور انتظامی معاملات 9 سال میں ٹھیک نہیں کئے جا سکے، وہ اب چند ماہ میں ٹھیک نہیں کئے جاسکتے۔ اگر امید پرستی کا دامن پکڑیں ، تو بھی اس کے لئے قوت ارادہ، خلوص نیت اور فیصلہ سازی میں میرٹ چاہئے۔ تاکہ لوگوں کو کچھ ہوتا ہوا نظر آئے۔ یہ بہت ہی زیادہ محنت طلب کام ہے۔پیپلزپارٹی شاید خود کو اس تمام بکھیڑے میں نہیں ڈالنا چاہتی، اس نے سندھ میں ہی احتجاج کا راستہ اختیار کیا۔ بات میں وزن اس وجہ سے بھی ہے کہ بنیادی طور پر اس کے مطالبات جائز ہیں۔ جن کو سندھ بھر میں قبولیت حاصل ہے۔ وفاقی سیاسی جماعتوں کی جانب سے سندھ کو مسلسل نظرانداز کرنے کی وجہ سے پیپلزپارٹی کے’’ سندھ دوست‘‘ ہونے کے دعوے کو مدد ملی ہے۔ ایسے میں اس کی اپنی کارکردگی کا سوال پیچھے رہ جائے گا۔ اور سندھ کے اشوز آگے آ جائیں گے۔ جس سے ایک نئی سیاست کی حکمت عملی بن سکتی ہے۔

اگر پاناما لیکس نہ ہوتے ، سیاسی منظر کیا ہوتا


اگر پاناما لیکس نہ ہوتے ، سیاسی منظر کیا ہوتا 

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت قائم ہونے والی تحقیقاتی ٹیم اور حکمران جماعت نواز لیگ کے درمیان دلائل اور الزامات کی جنگ جاری ہے۔ یہ تنازع بعض اوقات اداروں کے درمیان تنازع کی شکل میں بھی سامنے آرہا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کو ان افسران کے سامنے بھی حاضر ہو نا پڑا جن کا تقرر اور تبادلہ مروجہ قوانین اور ضوابط کے مطابق وزیر اعظم کر سکتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ جے ٹی آئی کی تشکیل سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت ہوئی ، یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اس کی تشکیل سپریم کورٹ نے کی۔ لیکن اس تمام محرکات کے پیچھے کچھ اور مضبوط ہاتھ بھی ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ جے آئی ٹی زیادہ طاقتور سمجھی جاتی ہے۔ عدلیہ نے تو پرویز مشرف کو بھی پیش ہونے کے لئے کہا تھا، وہ بھی کوئی معمولی کیس نہیں تھا بلکہ آئین کو توڑنے کا مقدمہ تھا۔ لیکن وہ پیش نہیں ہوئے بلکہ انہیں بیرون ملک جانے کی بھی اجازت مل گئی۔ صرف اتنا ہی نہیں انہوں نے عدلیہ کو توڑا۔ جج صاحابن کو اپنے گھروں میں مقید کیا۔محترمہ بینظیر بھٹو پسندیدہ انصاف کی شکایات کرتی تھیں کہ لاہور اور لاڑکانہ کے لئے انصاف کے الگ پیمانے ہیں۔ اب ان پیمانوں نے نئی شکل اختیار کی ہے کہ سویلیں اور غیر سویلین کے لئے الگ پیمانے ہیں۔ بیان بازی اور جے آئی ٹی سے متعلق جواب درجواب اور شکوہ در شکوہ کے بعد جے آئی ٹی کا عمل متازع ہو گیا ہے۔ 
سپریم کورٹ کے فیصلے کی ایک تشریح یہ بھی نکالی جاتی ہے کہ وزریاعظم نواز شریف کو کرپشن کے الزامات کے تحت ہٹانے کی مختلف درخواستوں پر جن تین جج صاحبان نے جے آئی ٹی بنانے سے متعلق فیصلہ دیا، وہ جو ثبوت اور دلائل پیش کئے گئے ان کو وزیراعظم کے خلاف کارروائی کے لئے ناکافی سمجھ رہے تھے۔ اس طرح کے فیصلے کے لئے کوئی زیادہ ٹھوس ثبوت ضرورت محسوس کی گئی۔ انصاف اور قانون کے تقاضے پورے کرنے کے لئے ایسے ثبوت ہوں جس میں کوئی نقص نہ ہو۔اب جب جے آئی ٹی کا عمل متنازع بنا دیا گیا ہے، ایسے میں جے آئی ٹی کی رپورٹ پر کیسے اطمینان ہو پائے گا؟ 
جے ٹی آئی کی خواہ کچھ بھی رپورٹ آئے لیکن اس رپورٹ کے ملک کے سیاسی نظام پر اثرات باگزیر ہیں۔ ملک میں لگاتار ہونے والے تیسرے انتخابات بہت ہی قریب ہیں۔ اس بات ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وطن عزیز کو کبھی بھی تین لگاتار انتخابات نصیب نہیں ہوئے۔ کیا ایک مرتبہ پھر ایسا ہی ہونے جارہا ہے؟ 1990 کے عشرے میں پیپلزپارٹی اور نواز لیگ ایک دوسری کی ٹانگ کھینچ رہی تھیں۔ وہ یہ سمجھ رہی تھیں کہ ایسا کر کے وہ ایک دوسرے کو گرا رہی ہیں۔ یہ بات سمجھنے کے لئے پیلپزپارٹی اور نواز لیگ کو ایک عشرے سے بھی زیادہ لگا کہ ان کی آپس کی یہ کشمکش سیاست اور سیاسی نظام کی ٹانگ کھینچنے کے مترادف ہے۔ اب پیپلزپارٹی آگے آگے نہیں۔اس کی جگہ پر تحریک انصاف ہے۔ جو انتخابی عمل کو بریک لگانا چاہتی ہے۔ اب جب جمہوری عمل کو ایک طرح سے اسٹاپ کیا جارہا ہے اس میں اکیلے عمران خان ذمہ دار نہیں۔ بلاشبہ وززیراعظم نواز شریف بھی اس عمل میں شامل ہیں، جنہوں نے ان خامیوں کو دور نہیں کیا ، عوام کو کچھ ڈؒ یور نہیں کیا، صوبوں کی شکایات برقرار رہیں۔ وہ دیگر سیاسی پارٹیوں کو اپنے ساتھ جوڑ نہ سکے۔ یہ درست ہے کہ نواز شریف کے خلاف کوئی باضابطہ اپوزیشن کا اتحاد موجود نہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی بھی پارٹی نواز شریف کے ساتھ بھی نہیں۔
سیاسی پارٹیوں کی ایک دوسرے سے دوری، اور سیاستدانوں پر کرپشن وغیرہ کے الزامات نے ایک ایسی فضا پیدا کردی ہے جس میں ماحول سیاستدانوں کے خلاف بنا ہے۔ یعنی غیر جمہوری تصورات مضبوط ہوئے ہیں اس کے ساتھ ساتھ لوگ جمہوریت کے بارے میں مشکوک ہو گئے ہیں۔ 



پنجاب میں یہ تاثر ہے کہ وزیراعظم کو جے ٹی آئی میں حاضری دینی پڑی۔ اور بالائی طبقے کی اس تضاد نے وزیراعظم کی بے عزتی کی۔ اس حد تک کہ وہ اب چوتھی بار وزیراعظم نہ بن سکے۔ جے ٹی آئی کی رپورٹ چاہے کچھ بھی آئے۔ لیکن وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کی تیسری مدت کا تمام تر وقت اپنی حکومت بچانے میں ہی صرف ہوا۔ 
مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان ہرحال میں وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ تب تک ممکن نہیں جب تک نواز شریف موجود ہیں۔ تمام تر انحصار پنجاب کی 148 جنرل یا براہ راست انتخاب والی نشستوں پر ہے۔گزشتہ انتخابات میں ان میں سے 117نشستیں نواز لیگ نے جیتی تھی جبکہ 15 کے لگ بھگ آذاد اراکین نواز لیگ کے ساتھ ہو گئے تھے۔ پی ٹی آئی کی پوری کوشش ہے کہ پنجاب میں نواز لیگ کو شکست دے۔ اس مقصد کے لئے اسکو سیاسی فکر اور حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ لیکن پنجاب میں نواز لیگ کے پاؤں اکھڑتے نظر نہیں آتے۔ جے آئی ٹی کے عمل کے حوالے سے نواز لیگ بقول علامہ طاہرالقادری کے’’ مظلوم ‘‘ بن رہی ہے جو ہمدردی کا ووٹ لے سکتی ہے۔ عمران خان یہ طے کر کے بیٹھے ہیں کہ اگر جے آئی ٹی کی رپورٹ نواز لیگ کے خلاف نہیں آتے، یا بعد میں نواز شریف کے خلاف کوئی کارروائی نہیں آتی، وہ احتجاج پر اتر آئیں گے۔ یہی صورتحال انتخابات کے موقعہ پر اور انتخابات کے نتائج پر بھی ہو سکتی ہے۔ یہ شدید محاذ آرائی کی صورتحال ہوگی۔ کیا اس کے لئے کچھ ایسے انتخابات کرائے جائیں گے جو عمران خان کو سوٹ کرتے ہوں؟ اس کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو سوچنا چاہئے کہ حالات کہاں کھڑے ہیں اور کہاں جا سکتے ہیں۔ 
دو لمحے کے لئے سوچیں ک۔اگر پاناما لیکس کا سکینڈل سامنے نہ آتا تو پاکستان کا سیاسی منظر نامہ کیا ہوتا؟ عمران خان دھاندلی کے الزامات کی تحریک چلا چکے۔ اس سے نواز لیگ کی حکومت ختم نہ ہپو سکی۔ اس کے بعد بظاہر کوئی اور ایسا اشو نہیں تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پاناما لیکس کے قصے میں ھقیقت ہوگی سو ہوگی، لیکن اس کا استعمال سیاسی ہو رہا ہے۔
یہ درست ہے کہ بالائی طبقوں کے آپس میں تضادات ہیں۔ جن کا عوام کی بہبود اور بھلائی سے کوئی تعلق نہیں لگتا۔ لیکن اس سے عوام کا تعلق ضرور بنتا ہے کہ جے آئی ٹی جو بھی رپورٹ دے، اور اسکے بعد عدلیہ جو بھی کارروائی کرے اس کے نتیجے میں عوام کو کیا ملے گا؟ کتنی دولت واپس پاکستان آسکے گی؟ یہاں عام لوگوں کے روزمرہ کے حالات زندگی پر کیا اثرات پڑیں گے؟ 
کسی بڑی تبدیلی یا معجزے کی توقع نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ نواز حکومت کی حالیہ دور کی کارکردگی اور گورننس کو اشو بننا چاہئے۔ لیکن آئندہ انتخابات میں ماضی بعید کو موضوع بحث بنایا جارہا ہے اور اسی کا نعرہ دیا جارہا ہے۔ لوگوں کے مسائل سیاسی مسائل میں پھنس کے رہ گئے
ہیں۔کوئی ان کی بات نہیں کر رہا۔ 

پنجاب واقعی سیاسی قیادت کی تبدیلی چاہتا ہے؟ سہیل سانگی


پنجاب واقعی سیاسی قیادت کی تبدیلی چاہتا ہے؟ 

میرے دل میرے مسافر    سہیل سانگی
وزیراعظم نوز شریف کی جے ٹی آئی کے سامنے حاضری کو تاریخی موڑ قرار دیا جارہا ہے۔کیونکہ یہ پہلا موقعہ ہے کہ ایک وزیراعظم کے خلاف ان کے ہی دور حکومت میں تحقیقات ہورہی ہے۔ اور انہیں سپریم کورٹ کے سایے میں تشکیل کی کی گئی جے ٹی آئی میں ان کے املاک اور اثاثوں کے بارے میں سوالات کے جوابات دینے پڑ رہے ہیں۔ ورنہ اس سے پہلے یہ ہوتا رہا ہے کہ حکومت جانے کے بعد دوسری حکومت نے آکر اس طرح کی تحقیقات کی یا مقدمے بنائے۔ اصل میں عمران خان نواز شریف کو ان کے عہدے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ اور ان کی جگہ پر خود وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔ پاناما کیس تو اچانک بیچ میں آگیا اور عمران خان کی لاٹری کھل گئی۔ اور ان کو ایک ایسا آلہ ہاتھ لگا جس کے ذریعے وہ وزیراعظم نواز شریف کے خلاف ایک اور تحریک چلائے۔ اس سے قبل انہوں نے انتخابات میں دھاندلیوں کے خلاف بھی تحریک چلائی تھی، جو جوڈیشل کمیشن کے قیام پر آکر ختم ہوئی۔ اور دھاندلی اس طرح سے ثابت نہ ہو سکی جس طرح کے الزامات عمران خان لگا رہے تھے۔ تب بھی ان کا یہ مطالبہ تھا کہ وزیراعظم مستعفی ہوں۔ 
تحریک انصاف کی تحریک کے نتیجے میں عدلیہ پاناما کیس میں بیچ میں آئی۔ عدالتی فیصلہ جسے بعض تجزیہ نگار اور قانوندان ادھورا قرار دے رہے ہیں ، اس فیصلے کے تحت عدالت کی نگرانی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنائی گئی۔ وزیراعظم نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کا آغاز ہوا اب اس میں ان کے دو بیٹے ،بیٹی اور بھائی شہباز شریف کا کو بھی شامل کیا جارہا ہے۔ 
پاناما کیس کو اس طرح پیش کیا جارہا ہے جیسے اس سے ملک اور عوام کی قسمت بدل جائے گی۔ عملا ایسا ممکن نہیں۔ بعض حلقے عمران خان کو اسٹیٹس مخالف علامت سے تعبیر کر رہے ہیں۔ جبکہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کو اسٹیٹس کو کاکی علامت۔ ان جماعتوں کے منشور اور ساخت کا بغور جائزہ لینے پتہ چلتا ہے کہ ان تینوں میں معمولی فرق ہے۔ تحریک انصاف کے جو لوگ اہم عہدوں پر یا اسمبلیوں میں ہیں یا جاسکتے ہیں میں ہیں، ان کے پاؤں کے نشانات ابھی تازہ ہیں کہ وہ ’’ اسٹیٹس کو‘‘ کی سیاسی جماعتوں سے آئے ہیں۔ 
اگرچہ جے ٹی آئی کی ابھی تحقیقات مکمل ہونا اور اسکی جامع رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش ہونا باقی ہے، اس رپورٹ میں کیا ہوگا؟ اس کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ اسی طرح سے اس رپورٹ کی روشنی میں سپریم کورٹ کیا اقدامات کرے گی؟ اس کے بھی کئی آپشنز ہو سکتے ہیں۔ پنجاب میں یہ گمان غالب پایا جاتا ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے حق میں نہیں آئے گی۔ اس طرح کے بعض اشارے بھی مل رھے ہیں ۔ لیکن یہ تاثر سیاسی طور پر نواز لیگ کے حق میں جائے گا اور انتخابات میں انہیں ’’ہمدردی‘‘ کا ووٹ مل جائے گا۔ اگرچہ پنجاب میں بنیاد رکھنے والی تمام جماعتیں اس کے بارے میں فکر مند ہیں لیکن عمران خان کو سب سے زیادہ فکر ہے۔ جے آئی ٹی رپورٹ اور اس پر عدالتی کارروائی عمران خان کے سیاسی وجود کے لئے اہم ہیں۔اگر کسی طور پر یہ سب کچھ نہیں ہو پاتا کہ میاں نواز شریف اور ان کا خاندان نااہل نہ ہو سکیں، اور نواز لیگ پنجاب میں اکثریت حاصل کر لے ۔ تو عمران خان کی یہ آخری سیاسی اننگ ہوگی۔ سب سے برا سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب اپنی قیادت تبدیل کرنا چاہتا ہے؟ پنجاب کا بزنیس کلاس، صنعتکار، اور مڈل کلاس کیا چاہتا ہے؟ یہ خیال کیا جاتا ہے نوجوان اور شہری مڈل کلاس اور چھوٹا تاجرعمران خان کے ساتھ ہے جو عددی خواہ متحرک ہونے کے اعتبار سے مضبوط حیثیت رکھتا ہے۔ پنجاب اب اتنا بدل چکا ہے جہاں دیہی بالائی طبقہ یعنی زمیندار وغیرہ فیصلہ کن کردار ادا نہیں کر پارہا ہے۔ پنجاب کے اس سیاسی مظہر کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس طرح سے سندھ میں مجموعی رائے عامہ پیپلزپارٹی کے خلاف رہتی ہے، احتجاج اور مظاہرے ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن ووٹ دینے کے وقت لوگ اسی کو ووٹ ڈالتے ہیں۔
نواز لیگ کی حکومت کی بنیاد پنجاب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو کوئی بھی اقتدار کا خواہشمند ہوتا ہے وہ پنجاب کی طرف دیکھتا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں پنجاب نے پیپلزپارٹی کو صوبے سے نکال باہر کیا۔ اور نواز لیگ کو اکثریت حاصل ہوگئی لیکن اس کے ساتھ دوسرا بڑا دھچکا یہ لگا کہ اس کے مقابلے میں پیپلزپارٹی نہیں تھی بلکہ تحریک انصاف دوسرے نمبر پر آئی۔ اس صورتحال نے صوبے میں موجود سیاست کا پرانا سیاسی ماڈل اور ہیئت تبدیل کردی۔ اب اس کو اگر حکومت سے نکال کر باہر کرنا ہے تو پنجاب میں ہی کرنا پڑے گا۔ باقی صوبوں کے پاس نشستوں کی اتنی تعداد نہیں۔ ویسے بھی باقی صوبوں کی نشستیں کم وزن رکھتی ہیں۔ پنجاب کی کی نشست بھاری سمجھی جاتی ہے۔ 
آج پنجاب میں تین قسم کی سیاسی قوتیں کام کر رہی ہیں۔ ایک نواز لیگ، دوسری تحریک انصاف اور تیسرے پیپلزپارٹی، علامہ طاہرالقادری، جماعت اسلامی ، ق لیگ، وغیرہ۔ نواز لیگ پنجاب کے بڑے کاروباری اور صنعت کار کی نمائندہ جماعت کہی جاتی ہے۔ جس کا مفاد پڑوسی ممالک خاص طور پر انڈیا کے ساتھ بہتر تعلقات میں ہے۔ پیپلزپارٹی کی زیادہ تر دیہی علاقوں اور شہر کے دانشور حلقوں میں سمجھی جاتی ہے۔ جبکہ علامہ طاہرالقادری کے حامی مذہبی رنگ میں رنگے ہوئے چھوٹے موٹے کاروباری لوگ ہیں، جو نواز لیگ کو بڑے کاروباری طبقے کی جماعت سمجھتے ہیں۔ یہی نقطہ تحریک انصاف اور علامہ کی قربت کا ہے جس میں انہوں نے تحریک انصاف اور اپنی عوامی تحریک کے کارکنوں کو ’’کزن‘‘ قرار دیا تھا۔علامہ کے نظریات اور عمران خان کی سیاست اور ذاتی حوالے سے قربت اپنی جگہ پر لیکن یہ رشتہ طبقاتی طور پر بھی صحی فطری لگتا ہے۔ اس طبقاتی مفاد کے تحت ان دونوں کزن جماعتوں کی خارجہ پالیسی کے بارے میں وہ لائین نہیں بنتی جو نواز لیگ کی ہے۔ 
ابھی پنجاب میں نواز لیگ کو چیلینج کرنے کے لئے اتحاد بنانے کی کوششیں شروع ہو گئی ہیں۔ کیا پنجاب میں واقعی نواز لیگ کے خلاف کوئی موثر اتحاد بن سکتا ہے؟ جس میں عمران خان، پیپلزپارٹی اور علامہ سمیت تمام نواز لیگ مخالف جماعتیں شامل ہوں۔ سیاسی طور پر دیکھا جائے تو بن سکتا ہے۔ لیکن طبقاتی مفادات کے طور پر اور شخصیات کے آپس میں تضادات کے پیش نظر مشکل نظر آتا ہے۔ تحریک انصاف یہ کہہ کر اتحاد میں آنے کے لئے تیار نہیں کہ فی الھال وہ پاناما کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے میں مصروف ہے، اور کسی اور رپھڑے میں پڑنا نہیں چاہتی۔ ممکن ہے کہ وہ اس اتحاد میں شامل نہ ہونا چاہتی ہو، یا یہ کہ اس کو پاناما کیس کے آخری نتیجہ کے بارے میں شبہ ہو کہ معاملات ممکن ہے کہ اس طرح نہ بنیں۔ 
اکثر سیاسی جماعتوں کا خیال ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ چاہے کچھ بھی آئے دیر یا سویر انتخابات تو ہونے ہیں۔ اگر نواز شریف کو نااہل قرار دیا جاتا ہے تو نواز لیگ کی حکومت ختم نہیں ہوگی ۔ وزیراعظم کوئی دوسرا آ جائے گا۔ باقی چندماہ کی تو بات ہے۔ لہٰذا پاناما کیس کے بعد کی صورتحال پر نظر رکھ کر ابھی سے حکمت عملی بنانی چاہئے۔یہ خیال زیادہ حاوی ہے کہ تحریک انصاف اکیلے ہی انتخابات لڑے گی۔ کیا تحریک انصاف اکیلے انتخابات لڑے گی تو وہ نواز لیگ کو شکست دے پائے گی؟ علامہ طاہرالقادری جو ابھی بیرون ملک سے آئے ہوئے ہیں، وہ اس اتحاد کے لئے بڑے کوشاں ہیں۔ یہاں تک کہ وہ انتخابات میں اپنا کوئی امیدوار کھڑا نہ کرنے کے لئے بھی تیار ہیں۔ یہی صورتحال پیپلزپارٹی اور ق لیگ کی بھی ہے۔ یعنی ان تینوں جماعتوں کا مطمع نظر نواز لیگ کو شکست دینا ہے۔لیکن تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس مقصد کا حصول عمران خان کے بغیر ممکن ہے؟ اگر سہ فریقی مقابلہ نواز لیگ کے حق میں جائے گا۔ صرف پنجاب کی حد تک اتحاد بنانے والوں کا کہنا ہے کہ اگر تمام جماعتیں راضی ہوں تو بعض مقتدرہ حلقوں سے بھی حمایت مل سکتی ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ صرف انتخابات کے لئے ہی نہیں بلکہ موجودہ صورتحال میں یہ پیغام دینا بھی ضروری ہے کہ پنجاباپنی سیاسی قیادت میں تبدیلی چاہتا ہے اور وہ بلا امتیازنواز لیگ کے خلاف ہے۔ اس اتحاد کا نقصان دہ پہلو یہ ہے کہ اس میں باقی صوبوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ یہ پیغام کسی طور پر بھی درست نہیں کہ باقی صوبوں کی اہمیت نہیں ۔ تبدیلی کا اسٹیئرنگ اور گیئر پنجاب کے پاس ہے۔ 

Friday, June 9, 2017

نواز شریف سیاسی جنگ لڑنا چاہتے ہیں؟



نواز شریف سیاسی جنگ لڑنا چاہتے ہیں؟ 

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی

جے آئی ٹی نے اپنی تحقیقات کے بارے میں دوسری رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی ہے اس رپورٹ میں بعض رکاوٹوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

جے ٹی آئی کی تشکیل اور اس کے کام کرنے کے حوالے سے تین پیچیدگیاں ہیں۔ جس کی وجہ سے اس ٹیم کے بارے میں سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ حسین نواز کی تصویر جاری ہونے سے یہ سوال اٹھا کہ جے ٹی آئی کی کارروائی کی سی سی ٹی وی کے ذریعے ریکارڈنگ ہو رہی ہے۔ یہ رکارڈنگ کون کر رہا ہے؟ اور کہاں پر اسکو محفوظ کیا جارہا ہے؟ اس حوالے سے میڈیا میں آنے والی باتیں تحقیقات اور عدلیہ کے عمل کے امیج کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ دوسرا سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے ٹیم کے ممبران کی نامزدگی کے حوالے سے میڈیا پر آنے والا واٹس اپ مسیج ہے۔ تیسرا نقطہ اس نیم عدالتی نیم تحقیقی کام میں عسکری اداروں کے نمائندوں کی شمولیت ہے۔ 
پہلے نواز لیگ کے سنیٹر نہال ہاشمی کی جے آئی ٹی کے بارے میں’’ دھمکی آمیز‘‘ ویڈیو بھی سامنے آئی۔ جس پر پہلے وزیراعظم نے نوٹس لیا اور ان کی پارٹی رکنیت معطل کرکے انہیں سنیٹ کی نشست سے مستعفیٰ ہونے کے لئے کہا۔ نہال ہاشمی نے ان ہدایات پر عمل کرتے ہوئے استعیفا دے دیا لیکن بعد میں سنیٹ چیئرمن رضا ربانی نے تصدیق کے لئے بلایا تو انہوں نے یہ استعیفا واپس لے لیا۔ تاہم عدلیہ نے نہال ہاشمی کی اس تقریر کا نوٹس لیا ہے اور ان کے خلاف مقدمہ قائم کردیا گیا ہے۔ 
وزیراعظم نواز شریف اور اس کے بچوں کے خلاف پاناما پیپرز کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ جے ٹی آئی سے مسلم لیگ نواز کوئی زیادہ پر امید نہیں ۔ حکمران جماعت معاملے پر سیاسی جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم کے بیٹے نے پہلے جے ٹی آئی کے دو ممبران پر اعتراض کیا تھا، اور یہ اعتراض بیانات کے ساتھ ساتھ عدالت کے سامنے بھی لایا گیا۔ لیکن عدالت نے ان کی یہ درخواست مسترد کردی۔ اب پارٹی جے ٹی آئی میں دوعسکری اداروں کے نمائندوں کی شمولیت پر اعتراض کیا ہے۔ اور کہا ہے کہ وہ ان اداروں کے نمائندوں کی اس مالی معاملے میں تحقیقات کے لئے مہارت جاننا چاہتے ہیں۔ یہ اعتراض نواز شریف خاندان نے عدالت میں دائر کردہ درخواست میں نہیں کیا تھا۔ اور جے ٹی آئی کی کارروائی کے خلاف احتجاج کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ایک ماہ پہلے جب عدالت نے پاناما پیپرز سے متعلق مقدمے میں فیصلہ سنایا تھا، تب مسلم لیگ نے سکون کا سانس لیا تھا کہ حکومت کے سر پر فوری خطرہ ٹل گیا ہے۔ لیکن یہ خطرہ ٹلا نہیں تھا بلکہ حکومت کو کچھ وقت مل گیا تھا۔ پارٹی سمجھتی ہے کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے اسٹیٹ بنک اور سیکورٹیز ایند ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے دو ممبران کو جے ٹی آئی میں شامل کرنے کے لئے واٹس اپ میسج، حسین نواز کی تصویر جاری ہوناجس میں وہ تفتیش کے لئے بطور ملزم دکھائے گئے ہیں، اور دوعسکری اداروں کے نمائندوں کی شمولیت کے اسباب کافی ہیں کہ پارٹی احتجاج کی لائن اختیار کرے۔ اس کا اظہار پنجاب حکومت کے ترجمان ملک احمد خان کا حالیہ بیان سے بھی ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک قانونی نقطہ بھی اٹھایا جارہا ہے کہ جے ٹی آئی کی تشکیل کرمنل پروسیجر کی شق 184 کے تحت کی گئی ہے جس کا کام ہے لیکن وہ ان حدود سے تجاوز کر رہی ہے۔ اس شق کے تحت ٹیم صرف انکوائری کر سکتی ہے لیکن یہ تفتیش کر رہی ہے۔ تفتیش تب کی جاتی ہے جب ایف آئی آر درج ہو، لیکن اس معاملے کی کوئی ایف آئی آر بھی درج نہیں۔ اسی طرح کا اظہار پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ بھی کر چکے ہیں۔ وہ کہتے ہین کہ جے ٹی آئی غیر جاندارانہ تحقیقات نہیں کر رہی۔وہ نواز خاندان کے خلاف بیانات لینے کے لئے گواہوں پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ انہوں نے ایک قدم آگے بڑھ کر کہا ہے کہ نواز خاندان کے پاس یہ آپشن بھی ہے کہ وہ جے ٹی آئی بائکاٹ کرے۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر جے ٹی آئی کوئی ایسا فیصلہ دیتی ہے جو نواز لیگ کی قیادت کے خلاف ہے تو کارکنان سڑکوں پر آ جائیں گے۔ 
منگل کے روز وزیراعلیٰ پنجاب شہبازنے صرف شریف خاندان کا محاسبہ اور تحقیقات کرنے کے خلاف اپنے بڑے بھائی کی کھل کر حمایت کا اعلان کیا۔اور سپری کورٹ سے کہا کہ دوسرے لٹیروں کے کلاف بھی کارروائی کیجائے۔ شہباز شریف کے حالیہ بیان کے بعد قریبی حلقے بھی اس بیانیہ میں شامل ہو گئے ہیں۔ 
یوں جے ٹی آئی کے حوالے سے متعدد سوالات جنم لے چکے ہیں۔ اور اس کو متنازع بنا دیا گیا ہے۔وزیراعظم نواز شریف نے سپریم کورٹ سے کہا تھا کہ وہ اس معاملہ کا نوٹس لے۔ 
پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف اس معاملے پر نواز لیگ کے خلاف پارلیمنٹ میں بھی سرگرم ہیں۔ ا اپوزیشن نے گزشتہ روز قومی اسمبلی کی کارروائی کا بائکاٹ کیا۔ اور خاص طور پر شہباز شریف کیاس بیان بیان کا نوٹس لینے کے لئے کہا۔ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ عدلیہ نے احتساب کے لئے صرف ایک ہی خاندان پر بندوق تان رکھی ہے۔ 
نواز شریف خاندان کے خلاف پاناما پیپرز کے معاملے کو پہلے بھی بعض حلقے سیاسی قرار دے رہے تھے۔ اور اس کو تحریک انصاف کے انتخابات میں دھاندلیوں کے اس مطالبے کے ساتھ جوڑ رہے تھے ۔ جس کا مقصد یہ تھا کہ ویزراعظم نواز شریف استعیفا دیں۔ اور نئے انتخابات منعقد ہوں۔ تحریک انصاف کے اس مطالبے پر دھرنا اور بعد میں دھاندلیوں کے خلاف عدالتی کمیشن کے قیام نے وزیراعظم نواز شریف کے خلاف تحریک کو ٹھنڈا کر دیا۔ ایسے میں پاناما پیپرز کا معاملہ اٹھا۔ اس سے ایک بار پھر تحریک انصاف کو موقعہ ملا۔ اور اس نے تحریک چلائی۔ لیکن یہ معاملہ بھی عدالت کے بیچ میں آنے کی وجہ سے سیاسی حدود سے نکل کر عدالتی حدد میں آگیا۔ نواز شریف گزشتہ دونوں مرتبہ اس کے خلاف چلنے والی تحریک کا جواب سیاسی طور پر نہیں دیا۔ وہ حکومت بچانے کے لئے معاملے کو طول دینا چاہتی تھی۔ لیکن اب پہلے جیسی صورتحال نہیں رہی۔ لہٰذا وہ اس کا جواب سیاسی طور پر دینا چاہ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی جو پہلے والی دو تحریکوں میں نواز شریف کو کسی نہ کسی طرح سے تحفظ دے رہی تھی اس نے بھی اس کے خلاف کھلی سیاسی لڑائی کا اعلان کر دیا ہے۔ جے آئی ٹی کی تحقیقات کے نتائج وزیراعظم اور ان کے خاندان کے خلاف آنے کی صورت میں احتجاج کی دھمکی دی ہے۔ اس کے جواب میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی تحریک چلانے کی دھمکی دی ہے۔ دوسری جانب اداروں کے درمیان تصادم کی بھی صورتحال بنے نظر آئی۔
عدلیہ کا فیصلہ تاریخی کام تھا کہ سپریم کورٹ ایک وزیر اعظم کے اثاثوں اور املاک کے بارے میں تحقیقات کر رہی تھی۔ اس میں صرف
وزیراعظم ار اس کے خاندان کا ہی مستقبل وابستہ نہیں بلکہ خود جمہوری عمل کے لئے بھی ایک امتحان ہے۔ اس کو کتنا غیر جانبدار اور تنازع سے بالا تر رکھا جاتا ہے؟ یہی اہم سوال عدلیہ، مختلف اداروں اور کود سیاسی جماعتوں اور پارلیمنٹ کے سامنے بھی ہونا چاہئے۔



Sohail Sangi Column, Nai Baat

Nai Baat June 9, 2017 

Friday, June 2, 2017

مائنس ٹو مائنس تھری فارمولا

مائنس ٹو مائنس تھری فارمولا
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف کے درمیان سیاسی اور عدالتی لڑائی تیز تر ہو گئی ہے۔ پاناما پیپرز کا معاملہ وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے گلے پڑا گیا ہے۔ ان کے خلاف عمران خان نے احتجاج کر کے ملک بھر میں رائے عامہ بنائی۔ اس میں دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔ نواز شریف اور عمران خان مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ان مقدمات کی نوعیت سیاسی ہے۔عمران خان 2013 کے انتخابات کے بعد ہر حال میں نواز شریف کو ہٹانا چاہتے ہیں۔ اور وزیراعظم اپنی حکومت بچانا چاہتے ہیں۔انتخابات میں دھاندلی کے الزامات پر عمران خان کی بات نہیں بنی۔ پاناما پیپرز کا معاملہ سامنے آگیا۔ پاناما پیپیرز کا معاملہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اب مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے پاس زیر تفتیش ہے جہاں وزیراعظم میاں نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز نے منگل کے روز پانچ گھنٹے تک بیان ریکارڈ کرایا۔ اور اب تیسری بار بلایا گیا ہے۔ وزیراعظم کے چھوٹے بیٹے حسن نواز کو بھی جے ٹی آئی نے طلب کیا ہے لیکن انہوں نے ٹیم کے سامنے پیش ہونے کے لئے وقت مانگا ہے۔ جے ٹی آئی جس طرح سے تحقیقات کر رہی ہے اس سے سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اس کا رخ شریف خاندان کے حق میں نہیں جارہا ہے۔ جے ٹی آئی کے دو ممبران پر حسن نواز شریف اعتراض کر چکے ہیں۔ جے آئی ٹی قطری شہزادے کا بیان بھی ہر صورت میں ریکارڈ کرنا چاہ رہی ہے۔ انہیں دوبارہ خط لکھ کر تین آپشنز دیئے ہیں ٹیم کے دو اراکین قطر میں جا کر ان کا بیان قلمبند کریں گے یا پھر انہیں سوالنامہ بھیجا جائے گا اس کے جوابات بھیجیں۔ تیسری شکل یہ ہو سکتی ہے کہ ویڈیو لنک پر وہ اپنا بیان ریکارڈ کرائیں۔

نواز لیگ کے رہنما حنیف عباسی کی عمران خان اور جہانگیر ترین کو نااہل قرار دینے کی درخواست کی سماعت سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے چیئرمیں عمران خان سے کو ایک ہفتے کی مہلت دی ہے کہ وہ اپنی کمپنی نیازی سروسز لمیٹیڈ نامہ آف شور کمنی سے متعلق تفصیلات عدالت میں پیش کریں۔ الیکشن کمیشن میں اثاثوں کے جو گوشوارے جمع کرائے ہیں ان میں اس کمپنی کا ذکر نہیں۔ عدالت نے یہ بات کاص طور رپ نوٹ کی کہ عمران خان نے نیازی سروسز اثاثوں اور ٹیکس گوشواروں میں شامل نہیں کیا ہے۔ جمائما کی بھجوائی گئی پانچ ٹرانزیشن ثابت کریں۔ جمائما کے طرف سے ریکارڈ آنے تک فیصلہ نہیں ہو سکتا۔
دوسری جانب بدھ کے روز پاکستان الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے چیئرمیں عمران خان توہین عدالت کیس میں دائر کردہ جواب مسترد کرتے ہوئے انہیں ایک ہفتے کی مزید مہلت دی ہے کہ نئے سرے سے اپنا بیان داخل کریں۔پارٹی فنڈنگ کے کیس کی سماعت الیکشن کمیشن کے پانچ رکنی بنچ نے کی اور فیصلہ دیا کہ کمیشن کو یہ اختیار ہے کہ وہ پارٹی کی فنڈنگ کے معاملات کی تحقیقات کرے ۔ اور تحریک انصاف سے کہا ہے کہ وہ 22 جون تک اپنا رکارڈ کمیشن میں پیش کرے۔ کمیشن نے یہ بھی فیصلہ دیا کہ وہ فنڈنگ سے متعلق معاملات میں ازخود بھی نوٹس لے سکتی ہے۔ جبکہ سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کے اس موقف سے مطمئن نہیں نظر آتی۔لہٰذاسپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے پوچھا ہے کہ کیا وہ پارٹی کی غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق معاملات ان کے دائرہ اختیار میں ہیں؟ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے اس کیس سے متعلق دس سوالات الیکشن کمیشن سے پوچھے ہیں۔
دو اہم جماعتوں کے درمیان اس چپقلش میں ایک اور عنصر بھی شامل ہو گیا ہے۔ میڈیا کے اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے بعض اداروں کے سربراہوں کو فون کئے گئے کہ جے آئی ٹی میں فلاں کو نامزد کریں وغیرہ۔ اس کے ساتھ ساتھ نواز لیگ کے سنیٹر نہال ہاشمی نے نواز خاندان کے خلاف تحقیقات کرنے والوں کو دھمکی کی ویڈیو آگئی۔ نہال ہاشمی کے اس بیان وزیرعظم نے ان سے سنیٹ کے عہدے سے استعیفا لے لیا ہے۔ کے بعد ان کی پارٹی ممبرشپ معطل کردی گئی ۔ چونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت جے ٹی آئی شریف خاندان کے اثاثوں کی تحقیقات کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی نہال ہاشمی کے بیان کا ازخود نوٹس لیا ہے۔ اور انہیں عدالت میں طلب کیا ہے۔
اس سیاسی لڑائی میں نہال ہاشمی نواز لیگ کے تیسرے سینیٹر ہیں جنہیں قربانی دینی پڑی اس سے پہلے دو وفاقی وزراء پرویز رشید اور مشاہداللہ خان قربانی دے چکے ہیں۔
دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کو آؤٹ کرنا چاہتی ہیں۔گزشتہ دنوں عمران خان نے خود کے لئے بھی امکان کا اظہار کیا ہے۔ ٹوئیٹ کہا کہ نواز شریف نااہل ہو جائیں گے تو ان کی اپنی نااہلی چھوٹی قربانی ہوگی۔ انہوں نے اس ضمن میں زرادری کا نام لئے بغیر اشارۃ کہا کہ انہیں بھی اس میں شامل کیا جائے۔ لیکن تاحال ان کے خلاف براہ راست کوئی تحقیقات نہیں۔ مزید برآں یہ کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان بھی یہ کہ چکے ہیں کہ آصف علی زرداری کے خلاف کوئی مقدمہ موجود نہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ چوہدری نثار علی خان جو پیپلزپارٹی پر تنقید کرتے رہے ہیں انہوں ایک ایسے موقع پر یہ بیان دیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ انہیں یہ عندیہ ملا ہے کہ الیکشن کمیشن جس طرح کے معاملات چلا رہی ہے اس میں ان کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال پر اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ عمران خان اور نواز شریف دونوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
اسلام آباد کی سیاسی مارکیٹ میں یہ بحث چل رہی ہے کہ آئندہ انتخابات سے پہلے صفائی مہم شروع ہونے والی ہے۔ جس میں مائنس کے فارمولے چل رہے ہیں۔ ملکی سیاست مائنس الطاف حسین ہے۔ اس مائنس میں مزید چل چیزیں پلس کی جارہی ہیں اور مائنس تھری کا فارمولا بنایا جارہا ہے۔
پاکستان کی سیات میں یہ کوئی نئی بات نہیں۔سیاستدانوں کو نااہل قرار دینے کے لئے 1958 میں ایوب خان نے’’ ایبڈو ‘‘کا قانون نافذ کیا۔ اس قانون نے تحت حکومت اپنے عزائم میں کامیاب رہی کہ پرانے سیاستدانوں کو نااہل قرار دیا اور اپنے حامی سیاستدانوں کی ایک کھیپ تیار کر لی۔ اس قانون کے تحت سات ہزار سیاستدانوں پر سیاست کرنے پر پابندی عائد کردی گئی۔ اور یہ شرط لاگو کی گئی کی اگر وہ 15 سال تک سیاست میں حصہ نہ لیں تو ان کے خلاف مقدمات نہیں چلائے جائیں گے۔ اس کے بعد کرپشن سے متعلق قوانین سیاسی انتقام کا ذریعہ بنے رہے۔ ایوب خان نے دس سال تک سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد رکھی۔ اس کے بعد جنرل ضیاء الحق نے بھی سیاسی جماعتوں پر پابندی کے ساتھ ساتھ سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی تھی۔ بعد میں 1985 میں ضیاء الحق نے غیر جماعتی انتخابات کرائے ۔ جنرل مشرف نے ملک کی دو بڑی جماعتوں کو باہر رکھ کر انتخابات کرائے۔ 1970 اور 1988 کے انتخابات اس لئے غیر جانبدارانہ سمجھے جاتے ہیں کہ ان انتخابات سے پہلے کوئی صفائی مہم نہیں چلائی گئی تھی۔ اور تمام پارٹیوں اور سیاستدانوں کو بغیر امتیاز کے انتخابات لڑنے دیا گیا تھا۔ 2008 میں متوقع انتخابات میں بینظیر بھٹو کو حصہ لینے روکا گیا تھا۔ اور انہیں قتل کردیا گیا۔ 2013 کے انتخابات بھی اس وجہ سے غیر جانبدارانہ نہیں تھے کیونکہ پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سمیت بعض پارٹیوں کو انتخابی مہم چلانے میں رکاوٹیں حائل ہوگئی تھی۔
جب سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات سیاسی طور پر حل نہیں کر پاتی، تو کوئی اور حل نکلا جاتا ہے۔ یہ حل ان متحارب گروپوں کو آؤٹ کرنے کا رہا ہے۔ نواز شریف او ر عمران خان اس سطح پر پہنچ چکے ہیں۔اگر یہ دونوں آؤٹ ہوتے ہیں تو پیپلزپارٹی کو بھی نہیں بخشا جائے گا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق سندھ میں پیپلزپارٹی کے بعض اہم لیڈروں کے خلاف خاصا مسالہ موجود ہے۔ صرف اسکو گرم کرنے کی ضرورت ہے۔ملک کا سیاسی مستقبل کا ہو، اس کا دو باتوں پر انحصار ہے ۔ ایک یہ کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو ایڈجسٹ کرنے کے لئے تیار ہیں؟ اور یہ بھی کہ عدالتیں ملک کے ان اہم معاملات پر کیا فیصلہ دیتی ہیں؟






Nai Baat June 2, 2017