سندھ میں متبادل کی تلاش
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
پیپلزپارٹی گزشتہ دو آئینی مدتوں سے مسلسل حکومت میں ہے۔ پارٹی نوے کے عشرے میں بھی دو مرتبہ حکومت میں رہی۔یعنی سندھ کے لوگ پارٹی کو مسلسل ووٹ دیتے رہے۔ ماسوائے اس کے کہ تین مرتبہ انتخابات میں انجنیئرنگ کی گئی۔ ایک انجنیئرنگ غلام اسحاق خان نے نوے کے عشر میں کی جب جام صادق علی خان کو اکثریت نہ ہونے کے باوجود ویزراعلیٰ سندھ بنا دیا گیا۔اسی فارمولے کے تحت لیاقت جوتئی بھی وزیراعلٰ بنے۔ دوسری انجنیئرنگ جنرل پرویز مشرف نے کی علی محمد مہر اور ارباب غلام رحیم وزیر اعلیٰ بنے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ چاروں حضرات فرد واحد کے طور پر منتخب ہو کر آئے اور بعد میں اسٹبلشمنٹ کی مدد سے ایم کیو ایم کے اراکین کو اپنے ساتھ ملا کرجوڑ توڑ کے ذریعے وزیراعلیٰ بنے۔ اسٹبلشمنٹ کا واحد ایجنڈا یہ تھا کہ پیپلزپارٹی کو اقتدار سے باہر رکھنا ہے۔ یہ کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں۔ اگر دیکھا جائے تو پیپلزپارٹی کوسندھ میں ہٹانے کی جتنی بھی کوششیں رہی ہیں ان کے پیچھے کبھی بھی کوئی سیاسی ایجنڈا، پروگرام یا منشور نہیں رہا۔ یہ سب مخالفت برائے مخالفت یا اسٹبلشمنٹ کی آشیرواد پر ہوئیں۔ اصل المیہ یہ ہے۔ سندھ کے لوگ اس سے یہی مطلب نکالتے ہیں کہ اسلام آباد یا لاہور کی تمام مشق سندھ میں کسی تبدیلی کے لئے نہیں بلکہ پیپلزپارٹی کو دور کرنے کے لئے ہے۔ ایسے میں سندھ کے لوگ پارٹی کیوں تبدیل کریں؟
اس صورتحال کو پیپلزپارٹی کے مخالفین سندھ پر بھٹو کا قرض اتارنا قرار دے رہے ہیں۔اگر بھٹو کے قرض کی بات کی جائے تو سب سے زیادہ مقروض خود پنجاب ہے۔ کیونکہ 1970 کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کو پنجاب نے ہی سب سے زیادہ ووٹ دیئے تھے اور یہ واحد صوبہ تھا جہاں پیپلز پارٹی نے اکثریت حاصل کی تھی۔ بھٹو نے ہی پنجاب کو بنگالیوں کی اکثریت سے جان چھڑانے میں مدد کی۔ وہ بھٹو ہی تھا جس نے شملہ معاہدہ کرکے 90 ہزار فوجی جنگی قیدیوں کو بھارت کی قید سے آزاد کرایا۔ تاریخ کی ورق گردانے کی جائے تو بھٹو کے دور حکومت میں سندھ خوش نظر نہیں آتا۔ سندھ کے سیاسی حلقے، اہل دانش ، قوم پرست بھٹو کے مخالف رہے۔یہ الگ بات ہے کہ بھٹو نے متعدد ایسے اقدامات کئے جس سے متوسط طبقے کو فائدہ ملا۔ یہ فائدہ صرف سندھ نہیں ملک بھر کے اس طبقے کو ملا۔ سندھ کے لوگوں نے یا دوسرے علاقووں کے لوگوں نے شاید اس وجہ سے زیادہ ’’دل پر لیا‘‘ کہ سندھ کے اس طبقے کو یہ ’’مراعات ‘‘ پہلی مرتبہ ملی تھیں، جبکہ پنجاب اور کسی حد تک خیبرپختونخوا میں پہلے سے یہ طبقہ کسی حد تک یہ ’’مراعات‘‘ حاصل کر رہا تھا۔
سندھ پر بھٹو کا قرض کی مخالفین بنائی ہوئی اصطلاح پیپلزپارٹی کو نقصان دینے کے بجائے فائدہ ہی دیتی ہے۔ کیونکہ لوگ پیپلزپارٹی کو برقرار رکھنے یا لاہور اسلام آباد کی کوششوں سے بچنے کے لئے ایک جواز مل جاتا ہے ایک آڑ مل جاتی ہے۔ سندھ کی سیاست پر نظر رکھنے والے اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ سندھ کے لوگوں نے بارہا تبدیلی کی کوشش کی۔لیکن اسٹبلشمنٹ کے اقدامات اس کے آڑے آئے۔ ایک بار پھر یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ ملک کے مختلف حلقے سندھ میں ایک بار پھر متبادل کی تلاش میں ہیں۔ سندھ کے عوام کی بھی یہ خواہش پرانی رہی ہے۔ لیکن جو متبادل سندھ کے عوام چاہتے ہیں وہ اسلام آباد یا لاہور کو پسند نہیں یا پھر اسلام آباد اور لاہور جو متبادل دینا چاہتے ہیں وہ
سندھ کے لوگوں کو پسند نہیں۔ سندھ کی بعض قوم پرست گروپ کوشاں ضرور رہے اور ایک پورا دور گزرا ہے جس میں رسول بخش پلیجو کی عوامی تحریک، ڈاکٹر قادر مگسی کی سندھ ترقی پسند پارٹی یہاں تک کہ جام ساقی کی بائیں بازو کی پارٹی عوامی سطح پر بہت مقبول رہی۔ ان پارٹیوں کی مقبولیت عوامی سطح پر تھی اور لوگوں کے خواہشات اور جذبات کی ترجمانی کرتے تھے۔ لیکن ان جماعتوں کی مختلف حوالوں سے یہ صلاحیت نہیں تھی اور وہ وقت کے چیلینجوں کو سمجھ نہیں سکے۔ یہ بھی ایک سوال ہے کہ اسلام آباد اور لاہور ان کو مناسب قبولیت کے لئے بھی تیار نہیں ہو رہا تھا۔ یہ پارٹیاں پنجاب میں جگہ نہیں بنا پائیں۔ شاید اسلام آباد کسی نئے سیاسی فارمولا کا تجربہ نہیں کرنا چاہ رہا تھا۔ نوے کے عشرے میں بینظیر بھٹو کی حکومت آتی اور جاتی رہی۔ جس سے اس تاثر کو مزید تقویت ملی کہ پنجاب جب پیپلزپارٹی کو ’’ برداشت‘‘ کرنے کے لئے تیار نہیں تو باقی گروپوں کو کیسے جگہ دے گا؟اس صورتحال میں اس نے ان سب گروپوں کو ایک طرف رکھ کر پیپلزپارٹی کو ہی بہتر سمجھا۔ نیتجے میں سندھی عوام اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان پیپلزپارٹی دونوں کے لئے ایک کمپرومائزنگ فارمولا بنی ہوئی ہے۔
پاناما لیکس اور ڈان لیکس جو گزشتہ سال سے پک رہے تھے۔ ان پاناما لیکس کا غیر فیصلہ کن عدالتی فیصلہ آیا ہے۔ جس میں نواز خاندان کے اثاثون اور املاک کی مزید تفتیش کے لئے عدالتی حکم پر تحقیقات شروع ہو چکی ہے۔ ڈان لیکس میں تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں وزیراعظم نے بعض ہدایات جاری کیں۔ جن کو عسکری حلقوں نے ادھورا قرار دے کر مسترد کر دی۔ نتیجے میں سول اور عسکری حلقوں کے درمیاں تناؤ بڑھ گیا۔ اسلام آباد میں بڑی تیزی سے حالات و واقعات میں روز ایک نئی تبدیل آرہی ہے ۔ یہ واقعات اپنی جگہ پر لیک سندھ میں بھی سیاسی سرگرمیاں شروع ہو گئی ہیں۔ وزیراعظم میاں واز شریف صوبے کے دارلحکومت سمیت حیدرآباد، ٹھٹہ، کراچی اور جیکب آباد کا دورہ کر آئے ہیں۔ ان کا دورہ سیاسی معنوں میں تعارفی دورہ تھا۔ کیونکہ 2013 کے انتخابات کے بعد انہوں نے پہلی مرتبہ سیاسی دوورہ کیا۔ اگرچہ انہوں نے ہر جگہ پر بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا۔ لیکن ان کے دوروں کو سیاسی حلقوں خواہ میڈیا میں اس وجہ سے بھی شک کی نظر سے دیکھا جارہا ہے کہ اتنے برسوں کے بعد ان کو سندھ کیسے یاد آیا۔ مزید یہ بھی کہ اس سے قبل وہ بعض منصوبوں کا علان کرتے رہے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بنظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام سے متاثر ہو کر ہیلتھ کارڈ کا اجراء کیا ہے۔ مختلف سروے رپورٹس میں بتایا گیا کہ گزشتہ انتخابات میں بینظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام کی وجہ پیپلزپارٹی کا عام لوگوں میں الگ سے ووٹ بینک بنا ہے۔ سندھ میں نواز لیگ کے لئے صورتحال مختلف اس لئے بھی ہے کہ اس کے پاس تاحال کوئی تنظیمی نیٹ ورک نہیں۔ کوئی کوئی باثر شخصیت نے بھی پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کی۔ گزشتہ مرتبہ ممتاز بھٹو، لیاقت جتوئی، ٹھٹہ کے شیرازی، غلام مصطفیٰ جتوئی کے بیٹے غلام مرتضیٰ جتوئی، کراچی سے حکیم بلوچ، اور شفیع محمد جاموٹ نے پارٹی میں شرکت کی تھی لیکن ان کا بھی تجربہ کوئی زیادہ خوشگوار نہیں رہا۔ ممتاز بھٹو اور لیاقت جتوئی نے پارٹی سے علحدگی اختیار کر لی۔ حکیم بلوچ پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔ غلام مرتضیٰ جتوئی تاحال وزیر مملکت ہیں لیکن گزشتہ دنوں حیدرآباد کے دورے کے دوران انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے پاس کوئی اختیارات نہیں۔نواز لیگ کے لئے دو دھکچے اور بھی تھے ۔برسہا برس سے پارٹی سے منسلک اسماعیل راہو نے بھی گزشتہ دنوں آصف زرداری کی موجودگی میں پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ لیاقت جتوئی جو مختلف وقتوں میں نواز لیگ کے ساتھ رہے انہوں نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی۔ لیاقت جتوئی کی تحریک انصاف میں شمولیت بظاہر عمران خان کی کامیابی لگتی ہے۔ سندھ میں سیاسی متبادل کی اسو جہ سے بھی گنجائش موجود ہے کہ فنکشنل لیگ کی مقبولیت فعالیت اب خال خال ہے۔ لیکن تحریک انصاف بھی عام لوگوں تک پہنچنے یا اپنا ورکر، کیڈر یا تنظیمی نیٹ ورک بنانے کے بجائے وڈیروں کے کندھوں پر سوار ہو کر سندھ میں داخل ہونا چاتی ہے۔ ایسے میں سندھ میں کچھ تبدیل کرنے کی بات یا خواہش تو کی جاسکتی ہے لیکن اس خواہش کو عملی شکل نہیں مل سکتی۔
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
پیپلزپارٹی گزشتہ دو آئینی مدتوں سے مسلسل حکومت میں ہے۔ پارٹی نوے کے عشرے میں بھی دو مرتبہ حکومت میں رہی۔یعنی سندھ کے لوگ پارٹی کو مسلسل ووٹ دیتے رہے۔ ماسوائے اس کے کہ تین مرتبہ انتخابات میں انجنیئرنگ کی گئی۔ ایک انجنیئرنگ غلام اسحاق خان نے نوے کے عشر میں کی جب جام صادق علی خان کو اکثریت نہ ہونے کے باوجود ویزراعلیٰ سندھ بنا دیا گیا۔اسی فارمولے کے تحت لیاقت جوتئی بھی وزیراعلٰ بنے۔ دوسری انجنیئرنگ جنرل پرویز مشرف نے کی علی محمد مہر اور ارباب غلام رحیم وزیر اعلیٰ بنے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ چاروں حضرات فرد واحد کے طور پر منتخب ہو کر آئے اور بعد میں اسٹبلشمنٹ کی مدد سے ایم کیو ایم کے اراکین کو اپنے ساتھ ملا کرجوڑ توڑ کے ذریعے وزیراعلیٰ بنے۔ اسٹبلشمنٹ کا واحد ایجنڈا یہ تھا کہ پیپلزپارٹی کو اقتدار سے باہر رکھنا ہے۔ یہ کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں۔ اگر دیکھا جائے تو پیپلزپارٹی کوسندھ میں ہٹانے کی جتنی بھی کوششیں رہی ہیں ان کے پیچھے کبھی بھی کوئی سیاسی ایجنڈا، پروگرام یا منشور نہیں رہا۔ یہ سب مخالفت برائے مخالفت یا اسٹبلشمنٹ کی آشیرواد پر ہوئیں۔ اصل المیہ یہ ہے۔ سندھ کے لوگ اس سے یہی مطلب نکالتے ہیں کہ اسلام آباد یا لاہور کی تمام مشق سندھ میں کسی تبدیلی کے لئے نہیں بلکہ پیپلزپارٹی کو دور کرنے کے لئے ہے۔ ایسے میں سندھ کے لوگ پارٹی کیوں تبدیل کریں؟
اس صورتحال کو پیپلزپارٹی کے مخالفین سندھ پر بھٹو کا قرض اتارنا قرار دے رہے ہیں۔اگر بھٹو کے قرض کی بات کی جائے تو سب سے زیادہ مقروض خود پنجاب ہے۔ کیونکہ 1970 کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کو پنجاب نے ہی سب سے زیادہ ووٹ دیئے تھے اور یہ واحد صوبہ تھا جہاں پیپلز پارٹی نے اکثریت حاصل کی تھی۔ بھٹو نے ہی پنجاب کو بنگالیوں کی اکثریت سے جان چھڑانے میں مدد کی۔ وہ بھٹو ہی تھا جس نے شملہ معاہدہ کرکے 90 ہزار فوجی جنگی قیدیوں کو بھارت کی قید سے آزاد کرایا۔ تاریخ کی ورق گردانے کی جائے تو بھٹو کے دور حکومت میں سندھ خوش نظر نہیں آتا۔ سندھ کے سیاسی حلقے، اہل دانش ، قوم پرست بھٹو کے مخالف رہے۔یہ الگ بات ہے کہ بھٹو نے متعدد ایسے اقدامات کئے جس سے متوسط طبقے کو فائدہ ملا۔ یہ فائدہ صرف سندھ نہیں ملک بھر کے اس طبقے کو ملا۔ سندھ کے لوگوں نے یا دوسرے علاقووں کے لوگوں نے شاید اس وجہ سے زیادہ ’’دل پر لیا‘‘ کہ سندھ کے اس طبقے کو یہ ’’مراعات ‘‘ پہلی مرتبہ ملی تھیں، جبکہ پنجاب اور کسی حد تک خیبرپختونخوا میں پہلے سے یہ طبقہ کسی حد تک یہ ’’مراعات‘‘ حاصل کر رہا تھا۔
سندھ پر بھٹو کا قرض کی مخالفین بنائی ہوئی اصطلاح پیپلزپارٹی کو نقصان دینے کے بجائے فائدہ ہی دیتی ہے۔ کیونکہ لوگ پیپلزپارٹی کو برقرار رکھنے یا لاہور اسلام آباد کی کوششوں سے بچنے کے لئے ایک جواز مل جاتا ہے ایک آڑ مل جاتی ہے۔ سندھ کی سیاست پر نظر رکھنے والے اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ سندھ کے لوگوں نے بارہا تبدیلی کی کوشش کی۔لیکن اسٹبلشمنٹ کے اقدامات اس کے آڑے آئے۔ ایک بار پھر یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ ملک کے مختلف حلقے سندھ میں ایک بار پھر متبادل کی تلاش میں ہیں۔ سندھ کے عوام کی بھی یہ خواہش پرانی رہی ہے۔ لیکن جو متبادل سندھ کے عوام چاہتے ہیں وہ اسلام آباد یا لاہور کو پسند نہیں یا پھر اسلام آباد اور لاہور جو متبادل دینا چاہتے ہیں وہ
سندھ کے لوگوں کو پسند نہیں۔ سندھ کی بعض قوم پرست گروپ کوشاں ضرور رہے اور ایک پورا دور گزرا ہے جس میں رسول بخش پلیجو کی عوامی تحریک، ڈاکٹر قادر مگسی کی سندھ ترقی پسند پارٹی یہاں تک کہ جام ساقی کی بائیں بازو کی پارٹی عوامی سطح پر بہت مقبول رہی۔ ان پارٹیوں کی مقبولیت عوامی سطح پر تھی اور لوگوں کے خواہشات اور جذبات کی ترجمانی کرتے تھے۔ لیکن ان جماعتوں کی مختلف حوالوں سے یہ صلاحیت نہیں تھی اور وہ وقت کے چیلینجوں کو سمجھ نہیں سکے۔ یہ بھی ایک سوال ہے کہ اسلام آباد اور لاہور ان کو مناسب قبولیت کے لئے بھی تیار نہیں ہو رہا تھا۔ یہ پارٹیاں پنجاب میں جگہ نہیں بنا پائیں۔ شاید اسلام آباد کسی نئے سیاسی فارمولا کا تجربہ نہیں کرنا چاہ رہا تھا۔ نوے کے عشرے میں بینظیر بھٹو کی حکومت آتی اور جاتی رہی۔ جس سے اس تاثر کو مزید تقویت ملی کہ پنجاب جب پیپلزپارٹی کو ’’ برداشت‘‘ کرنے کے لئے تیار نہیں تو باقی گروپوں کو کیسے جگہ دے گا؟اس صورتحال میں اس نے ان سب گروپوں کو ایک طرف رکھ کر پیپلزپارٹی کو ہی بہتر سمجھا۔ نیتجے میں سندھی عوام اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان پیپلزپارٹی دونوں کے لئے ایک کمپرومائزنگ فارمولا بنی ہوئی ہے۔
پاناما لیکس اور ڈان لیکس جو گزشتہ سال سے پک رہے تھے۔ ان پاناما لیکس کا غیر فیصلہ کن عدالتی فیصلہ آیا ہے۔ جس میں نواز خاندان کے اثاثون اور املاک کی مزید تفتیش کے لئے عدالتی حکم پر تحقیقات شروع ہو چکی ہے۔ ڈان لیکس میں تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں وزیراعظم نے بعض ہدایات جاری کیں۔ جن کو عسکری حلقوں نے ادھورا قرار دے کر مسترد کر دی۔ نتیجے میں سول اور عسکری حلقوں کے درمیاں تناؤ بڑھ گیا۔ اسلام آباد میں بڑی تیزی سے حالات و واقعات میں روز ایک نئی تبدیل آرہی ہے ۔ یہ واقعات اپنی جگہ پر لیک سندھ میں بھی سیاسی سرگرمیاں شروع ہو گئی ہیں۔ وزیراعظم میاں واز شریف صوبے کے دارلحکومت سمیت حیدرآباد، ٹھٹہ، کراچی اور جیکب آباد کا دورہ کر آئے ہیں۔ ان کا دورہ سیاسی معنوں میں تعارفی دورہ تھا۔ کیونکہ 2013 کے انتخابات کے بعد انہوں نے پہلی مرتبہ سیاسی دوورہ کیا۔ اگرچہ انہوں نے ہر جگہ پر بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا۔ لیکن ان کے دوروں کو سیاسی حلقوں خواہ میڈیا میں اس وجہ سے بھی شک کی نظر سے دیکھا جارہا ہے کہ اتنے برسوں کے بعد ان کو سندھ کیسے یاد آیا۔ مزید یہ بھی کہ اس سے قبل وہ بعض منصوبوں کا علان کرتے رہے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بنظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام سے متاثر ہو کر ہیلتھ کارڈ کا اجراء کیا ہے۔ مختلف سروے رپورٹس میں بتایا گیا کہ گزشتہ انتخابات میں بینظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام کی وجہ پیپلزپارٹی کا عام لوگوں میں الگ سے ووٹ بینک بنا ہے۔ سندھ میں نواز لیگ کے لئے صورتحال مختلف اس لئے بھی ہے کہ اس کے پاس تاحال کوئی تنظیمی نیٹ ورک نہیں۔ کوئی کوئی باثر شخصیت نے بھی پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کی۔ گزشتہ مرتبہ ممتاز بھٹو، لیاقت جتوئی، ٹھٹہ کے شیرازی، غلام مصطفیٰ جتوئی کے بیٹے غلام مرتضیٰ جتوئی، کراچی سے حکیم بلوچ، اور شفیع محمد جاموٹ نے پارٹی میں شرکت کی تھی لیکن ان کا بھی تجربہ کوئی زیادہ خوشگوار نہیں رہا۔ ممتاز بھٹو اور لیاقت جتوئی نے پارٹی سے علحدگی اختیار کر لی۔ حکیم بلوچ پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔ غلام مرتضیٰ جتوئی تاحال وزیر مملکت ہیں لیکن گزشتہ دنوں حیدرآباد کے دورے کے دوران انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے پاس کوئی اختیارات نہیں۔نواز لیگ کے لئے دو دھکچے اور بھی تھے ۔برسہا برس سے پارٹی سے منسلک اسماعیل راہو نے بھی گزشتہ دنوں آصف زرداری کی موجودگی میں پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ لیاقت جتوئی جو مختلف وقتوں میں نواز لیگ کے ساتھ رہے انہوں نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی۔ لیاقت جتوئی کی تحریک انصاف میں شمولیت بظاہر عمران خان کی کامیابی لگتی ہے۔ سندھ میں سیاسی متبادل کی اسو جہ سے بھی گنجائش موجود ہے کہ فنکشنل لیگ کی مقبولیت فعالیت اب خال خال ہے۔ لیکن تحریک انصاف بھی عام لوگوں تک پہنچنے یا اپنا ورکر، کیڈر یا تنظیمی نیٹ ورک بنانے کے بجائے وڈیروں کے کندھوں پر سوار ہو کر سندھ میں داخل ہونا چاتی ہے۔ ایسے میں سندھ میں کچھ تبدیل کرنے کی بات یا خواہش تو کی جاسکتی ہے لیکن اس خواہش کو عملی شکل نہیں مل سکتی۔
