Tuesday, December 26, 2017

ایک بار پھر استعیفا تھراپی


ایک بار پھر استعیفا تھراپی

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
ایک بار پھر استعیفا تھراپی سامنے آئی ہے۔ جس میں پچیس سے زائد اراکین اسمبلی کے استعیفا کااعلان سامنے آیا ہے۔ ابھی ہفتہ بھی نہیں ہوا کہآرمی چیف جنرل باجوہ نے سینیٹ میں پارلیمان کی بالادستی،آئین کی پاسداری، جمہوریت کے احترام اور سلامتی کے امور پر پارلیمنٹ کی رہنمائی پر اصرار کیا تھا۔ ان کے اس خطاب سے ان تمام لوگوں کی امیدوں پر اوس پڑ گئی تھی جو وقت سے پہلے انتخابات چاہتے تھے یا پھر طویل مدت کی نگراں حکومت۔ جنرل صاحب نے خطے کی صورتحال سے آگاہی دیتے ہوئے سعودی و ایرانی ممکنہ تصادم کا حصہ نہ بننے، بھارت سے بات چیت کی راہ اپنانے، افغانستان میں قیامِ امن اور امریکی صدر ٹرمپ کی پاکستان بارے سخت گیر پالیسی پہ بھی سینیٹ کو اعتماد میں لیا۔ اس کے بعد بعض رخوں پیش رفت سیاسی جماعتوں کی طرف سے یہ ہوئی ۔ پیپلزپارٹی سمیت دیگر جماعتوں کی حمایت کے نتیجے میں سینٹ میں حلقہ بندیوں سے متعلق چوبیسویں آئینی ترمیم منظور کر لی گئی۔ حکمران جماعت نواز لیگ جو شدید دباؤ میں اور زیر عتاب ہے اس نے نئی حکمت عملی اختیار کرلی۔ سیاسی جماعتیں الیکشن کے موڈ میں چلی گئی۔ِ میاں نواز شریف نے اگلے انتخابات کے لئے نواز لیگ کے لئے اپنے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف کو نامزد کردیا۔ سے یہ لگ رہا تھا کہ ملک پر غیر یقینی کیفیت ختم ہو رہی ہے۔ اس تمام کامطلب یہ بھی لیا جارہا تھا کہ میاں نواز شریف نے اپنی نااہلی کو تسلیم کر لیا ہے، بالفاظ دیگرے انہوں نے مائنس ون فارمولا تسلیم کر لیا ہے۔ پھر اچانک یہ خبر آئی کہ نواز شریف اپنے بھائی شہباز زریف کو وزیراعظم بنانے کی بات لوگوں میں کہنے سے گریز کر رہے ہیں۔ پارٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں فیصلہ پارٹی کی مجلس عاملہ کرے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ خبریں آنے لگیں کی شریف خاندان میں اختلافات ختم کرنے کے لئے خاندان کے بعض خیرخواہ درمیان میں آئے اور مریم نواز کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا عہدہ دینے کی پیشکش کی۔ بشرطیکہ کہ نواز شریف شہباز شریف کو وزیراعظم بنا لیں۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ مریم نواز کبھی بھی پنجاب کی وزیراعلیٰ نہیں بن سکتیں۔
نواز شریف نے اپنی عدالتی برطرفی کو ماننے کو تیار نہ تھے انہوں نے اسٹبلشمنٹ کو چیلنج کیا اور سویلین اقتدارِ اعلیٰ کی بحالی کی مہم چلارہے تھے۔ جبکہ میاں شہباز شریف محاذ آرائی کی پالیسی کے مخالف تھے۔ نواز شریف اپنا مقدمہ عوام کی عدالت میں پیش کررہے تھے۔ان کے حلقہ انتخاب یعنی نے اْن کا ساتھ دیا اور ان کی برطرفی پر ردعمل کا اظہار کیا۔ سب کوششیں ہو چکی۔ نہ پارٹی ٹوٹی اور نہ نواز شریف کو پارٹی صدارت سے فارغ کیا جاسکا۔لہٰذا شہباز اور چوہدری نثار کی مفاہمت اور مصلحت کی پالیسی نہیں چل سکی۔ نواز شریف کی پارٹی اور حکومت پر گرفت برقرار رہی ۔اچانک نواز شریف نے مزاحمتی حکمت عملی کو تبدیل کرکے نے شہباز شریف کو اگلے انتخابات کیلئے پارٹی کا وزیراعظم نامزد کرلیا۔ دو متضاد لائنیں چل رہی تھی۔ ایک طرف مزاحمت دوسری طرف شہباز شریف کو آگے کرنے کے ذریعے مفاہمت ۔ یہ ماجرا سمجھ میں نہیں آئی۔اب ایک طرف نواز شریف کی مزاحمتی لائن اور دوسری جانب افہام تفہیم کے نمائندہ شہباز شریف کی وزارتِ عظمیٰ کیلئے نامزدگیدو متضاد حکمت عملیاں سامنے آئیں۔
سینیٹ میں جنرل قمر جاوید باجوہ کے سینیٹ سے خطاب سے دو باتیں عیاں تھی۔ ایک یہ کہ منتخب ادارے قابلِ احترام ہیں اور جمہوری تسلسل جاری رہے گا اور دوسرا یہ کہ قومی سلامتی کے امور پر سول اور فوجی قیادت چیلنجوں کا مقابلہ کر نے کے لئے ایک صفحہ پر آنے کو تیار ہیں ۔ اصل معاملہ جنوبی وسطی ایشیا کی صورتحال ا تھی۔ کسی تجزیہ نگار نے خوب کہا ہے کہ یہی سوچ نواز شریف اور آصف زرداری کی بھی تھی۔ لیکن ان اس سوچ کو چلنے دیا گیا اور نہ انہیں۔
لگ رہا ہے کہ حالات کچھ بہتر ی کی طرف جارہے ہیں، لیکن خطرات کے گہرے سائے خطے پر موجود ہیں۔ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں بگاڑ پیدا ہونے جارہا ہے۔ امریکی نائب صدر امریکی نائب صدر نے افغانستان میں قائم امریکی فوجی اڈے بگرام میں خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان دہشت گردوں کو مبینہ طور پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہا ہے، تاہم یہ دن ختم ہوگئے اور اب امریکی صدر نے پاکستان کو نوٹس پر رکھ لیا۔ اس بیان سے صورتحال خراب ہوگئی۔ جس کے جواب میں وزیر دفاع خواجہ آصف کو ہی نہیں، چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی ا سمبلی کو بھی امریکہ کے حالیہ رویے کے بارے میں بیانات دینے پڑے۔
چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے نائب امریکی صدر مائیک پینس کی جانب پاکستان کو دی جانے والی دھمکی کے جواب میں کہا ہے کہ اب پاکستان کی دوسروں سے نوٹس لینے کی عادت نہیں رہی۔اسلام آباد میں منعقدہ 6 ملکی اسپیکرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے امریکا پر واضح کیا کہ پاکستان ایک خودمختار ملک ہے اور اسے اب دوسروں سے ہدایات لینے کی عادت نہیں رہی، چاہے وہ ہدایات امریکا سے ہی کیوں نہ آئیں۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ امریکا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو نظر انداز کر رہا ہے۔ اس سے ملتا جلتا بیان اسپیکر قومی اسمبلی یاز صادق کا ہے۔ ان دونوں رہنماؤں نے امریکہ کے خلاف موقف اختیار کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ پیپلزپارٹی نے رضا ربانی کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کر کے اسکو ان کا ذاتی موقف قرار دیا ہے۔ صدر ممنون حسین نے اسی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاک چین اتحادی راہداری (سی پیک) کی تعریف کی اور کہا کہ سی پیک خطے میں ایک نئی روح پھونک دے گا جبکہ پاکستان خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنا کردار با احسن و خوبی ادا کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پورے خطے کے ممالک کو سی پیک میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہے کیونکہ سی پیک کے فعال ہونے میں زیادہ دیر نہیں رہی۔وفاقی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے امریکی بیانات اور الزامات پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ کا بیان اقوام متحدہ میں سفارتی اور افغانستان جنگ میں ناکامی کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں الزام یا دھمکی نہ دیں، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہمارے تجربے سے سیکھیں۔ملک کے رہنماؤں کے ان بیانات سے لگتا ہے کہ سخت گیرامریکی موقف نے ایک بار پاکستان کو واپس پرانے بیانیے کی طرف دھکیل دیا ہے۔
لہٰذا اس کے اثرات ملکی سیاست پر بھی پڑ رہے ہیں۔اب صورتحال یہ ہے ۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نواز شریف کو کوئی نہیں بچاسکتا۔ پیرسیالوی کہتے ہیں کہ شہباز نے رانا ثنا کے استعفے کا مطالبہ پورا نہیں کیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے لاہو رمیں 16ممالک کے سفیروں اور قونصل جنرلز نے ملاقات کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اتوار کے روز ناشتے پر ہونے والی ملاقات دو گھنٹے تک جاری رہی۔ ملاقات کے دوران مختلف بین الاقوامی امور پر بات چیت کی گئی۔
نوازلیگ ایک مرتبہ پھر مخمصے کا شکار ہوگئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب میاں نواز شریف کھلے عام شہباز شریف کی بطور مستقبل کے وزیراعظم کے نام نہیں لے رہے ہیں۔ نواز شریف ان کے حمایوں کے پاس مضبوط دلیل یہ ہے کہ عمران خان کا توڑ نواز شریف ہی ہو سکتے ہیں نہ کہ شہباز۔اس ضمن میں وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا تاہ بیان اہمیت کا حامل ہے ان کا کہناہے کہ لڑائی سے کچھ نہیں ملے گا، سب ایک دوسرے کو معاف کریں۔ آرمی چیف جمہوریت کے حامی ہیں، ان کا حکم ماننے والے بھی اس پر عمل کریں۔ اب لوگوں کا فیصلہ چلے گا بند کمروں کا نہیں ، اقتدار اور پالیسی سازی پرآمرانہ سوچ کا قبضہ ہے ۔

Sohail Sangi Column
Nai Baat Dec 26, 2017 

http://politics92.com/singlecolumn/53689/Sohail-Sangi/Aik-Bar-Phir-Istifa-Therapy.aspx

Monday, December 25, 2017

جنرل صاحب ان سینیٹ

Dec 22, 2017
Sohail Sangi
Nai Bat Column

جنرل صاحب ان سینیٹ 
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 

ملک اندرونی خواہ بیرونی خطرات میں گھرا ہوا ہے۔ دہشگردی کی آگ تمام تر کوششوں کے باوجود بجھائی نہیں جاسکی ہے۔ جنگ عوام کی حمایت کے بغیر نہیں جیتی جاسکتی۔ اور جو ادارہ عوام کی نمائندگی کرتا ہے وہ پارلیمنٹ ہے۔ عوام کے نمائندہ اس ادرے کی حالت یہ ہے کہ کسی بھی ملکی اور ریاستی ادارے نے اس کو اہمیت نہیں دی۔کہ یہ ادارہ اپنی بالادستی گنوا سکے۔ حد یہ ہے کہ حکومت بھی متعدد فیصلے اس ادارے سے باہر کرتی رہی ہے۔ پارلیمنٹ میں جو فیصؒ ے لانے چاہئے تھے وہ کابینہ میں ہوتے رہے اور کابینہ میں جو فیصلے ہونے تھے وہ فرد اوحد یعنی وزیراعظم کرتے رہے۔ 
سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی صاحب آرمی چیف کو منتخب ایوان کی گلی میں لے آئے۔ یہ ایک خوش آئند بات لگتی ہے کہ آرمی چیف نے ملک کے منتخب ایوان بالا میں آکر بریفنگ دی۔ افواہوں کا ایک طوفان تھا، بلکہ سونامی تھی جو سب کچھ بہا کر لے جارہی تھی۔ موجودہ صورتحال میں جب ملک میں افواہ سازی کی انڈسٹری اوور ٹائیم پر کام کر رہی تھی۔ بریفنگ خوش آئنداور اہم ہے۔ چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے ملک کے سیاسی بحران کی شدت میں اضافہ کے پیش نظر ماہ اگست میں ہی تجویز پیش کی تھی کہ ملک کے تین اہم ادارے پارلیمنٹ، فوج اور عدلیہ مل بیٹھیں، اور بحران کا حل تلاش کریں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے سینیٹ چیئرمیں کی اس تجویز کی حمایت کی تھی۔ لیکن پھر اس ضمن میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ہاں یہ ضرور ہوا کہ 18 ستمبر کو سینیٹ کی دفاعی کمیٹی نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا اورمیں آرمی چیف سے ملاقات کی تھی۔تجزیہ نگار دفاعی کمیٹی کے دورے کو آرمی چیف کے پارلیمنٹ میں آنے سے انکارسمجھ رہے تھے۔

اس موقع پر پیپلزپارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کا یہ بنیادی اعتراض تھا کہ جی
 ایچ کیو کو پارلیمنٹ میں آکربریفنگ دینی چاہئے۔ نہ کہ پارلیمانی کمیٹی کو جی ایچ کیو جانا چاہئے۔ بعد میں فرحت اللہ بابر نے ایک کمیٹی سے استعیفا دے دیا۔ اس دوران جنرلوں اور ججز کے احتساب کے بھی آوازیں سیاسی فضا میں یہ بھی اٹھنے لگیں۔ نئے مردم شماری کے عبوری نتائج کے بعد نئی حلقہ بندی آئینی طور پرلازم ہو گئی۔ جس کے بغیر 2018 کے انتخابات کا ہونا ناممکن لگ رہا تھا۔ 
نئی حلقہ بندی کے لئے آئینی ترمیم قومی اسمبلی نے تو منظور کر لی لیکن سینیٹ میں ترمیم کے لئے مطلوبہ کورم ہی پورا نہیں ہو رہا تھا۔یوں ایک ماہ تک حلقہ بندی سے متعلق آئینی ترمیم سینیٹ میں لٹکی رہی۔ سب سے برا اعتراض پیپلزپارٹی کو تھا، جو سندھ میں مردم شماری کے نتائج کو چیلینج کر رہی تھی۔ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ پیپلزپارٹی کی سینیٹ میں اکثریت ہے لیکن اگر باقی تمام جماعتیں مل جائیں تو عددی اعتبار سے یہ ترمیم منظور ہو سکتی تھی۔
ایسے میں اسپیکر قومی اسمبلی ایازصادق کا’’ مایوس کن‘‘ بیان سامنے آیا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کر سکے گی۔ یہ بیان بظاہر مایوس کن سمجھا جارہا ہے لیکن اس بیان کی یہ بھ تعبیر تھی کہ نواز لیگ حکومت کے خالف ایک ’’ بڑی سازش‘‘ ہو رہی ہے۔ اس سازش کے تانے بانے پنجاب میں مذہبی نعرے پرنواز لیگ کو دھرنوں کے ذریعے دائیں بازو کی حمایت سے محروم کرنے اور بعض اراکین اسمبلی کے استعیفا کے اعلانوں سے بھی ملتے ہیں۔ 

اس سیاسی حملے کے دو مقاصد تھے۔ ایک یہ کہ حکمران جماعت نواز لیگ اپنی قیادت تبدیل کرے۔ دوئم یہ کہ وہ اپنی پالیسی محاذ آرائی کے بجائے، افہام و تفہیم کی طرف لے آئے۔ اگر یہ دونوں اقدامات نہیں ہوتے، تو پھر بحران اپنی انتہا کی طرف جاتا نظر آرہا تھا۔
سینیٹ میں اس بریفنگ کے فورا بعد دو نکات پر پیش رفت نظر آئی۔ پہلی یہ کہ سینٹ نے اسی روز آئینی ترمیم منظور کر لی۔ دوئم یہ کہ دوسرے روز نوز لیگ کے صدر نواز شریف کا یہ بیان آگیا کہ پارٹی کاّ ئندہ وزیراعظم میاں شہباز شریف ہونگے۔ 
یہ درست ہے کہ مجموعی طور پر ملک کی سیاسی جماعتوں کا کردار جمہوری عمل کے تسلسل اور اس کو مضبوط بنانے کے لئے اتنا موثر اور قابل تعریف نہیں لگتا۔ لیکن سحالات اور واقعات نے سیاسی جماعتوں کو اس نہج پر کھڑا کر دیا ہے کہ وہ کچھ نہ کریں اور صرف اپنی جگہ پر کھڑی رہیں تب بھی معاملات صحیح سمت میں جا سکتے ہیں۔ ماضی میں اسٹبلشمنٹ ملک کی دو اہم پارٹیوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے اور جمہوری نظام کو کمزور رکنے بلکہ اس میں تعلطل پیدا کرنے میں کامیاب ہوتی رہی ہے۔ اس مرتبہ ایسا نہیں ہو سکا۔ اس کے لئے مذہبی نعروں پر دھرنوں کا سہارا لیا گیا۔ ایک اور مثبت بات یہ بھی ہوئی کہ ملک کی مین اسٹریم سیاسی مذہبی جماعتیں ان دھرنا دینے والوں کے ساتھ کھڑی نہیں ہوئی۔

اس دوران ایک اور عنصر بھی شامل ہوا، وہ یہ کہ امریکہ نے پاکستان کو آخری موقعہ دینے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی یہ بھی خطے میں روس اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر کو روکنے کے لئے توازن پیدا کیا جارہا ہے۔ خطے کی تبدیل شدہ صورتحال کا تقجا تھا کہ سیاسی و عسکری فریقین ایک صفحے پر کھڑے ہوں۔ 

بریفنگ میں پورے ایوان پر مشتمل سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ فوج جمہوری نظام کے حق میں ہے۔ پارلیمنٹ دفاعی اور خارجہ پالیسی بنائے۔ہم اس پر عمل کریں گے۔ حکومت جو کہے گی اس پر عمل کریں گے۔پارلیمنٹ کی بالادستی کو قبول کرتے ہیں۔ فوج پارلیمنٹ کے ماتحت ہے۔ ملک میں صدارتی نظام نہیں چل سکتا کیونکہ اس سے چھوٹے صوبوں کے حقوق متاثر ہونگے۔ خارجہ اور دفاعی پالیسی کے حوالے سے سیاسی فریقین کو تحفظات رہے ہیں اور یہ بھی شکایت کی جاتی رہی ہے کہ ان دو اہم امور میں سیاسی بازو کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔ 
اب جب آرمی چیف نے سینیٹ میں آکر یہ اعلان کیا ہے ، سیاسی فریقین کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ اب اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ آرمی چیف نے جن نکات کو اٹھایا ہے یا جن نکات کو واضح کیا ہے ملک کے تمام ادارے بشمول آرمی، پارلیمنٹ، سیاسی قوتیں اور عدلیہ یقینی بنائیں کہ ان پر معن و عن عمل ہو اور ملک بحران سے مکمل طور پر نکل سکے۔

Thursday, December 21, 2017

قیادت تبدیل کرنے کے لئے نواز لیگ پر دباؤ

Dec 19 

قیادت تبدیل کرنے کے لئے نواز لیگ پر دباؤ 
غیر یقینی صورتحال عروج پر
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
ایک غیر یقینی کی فضا ہے جو پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے۔ پہلے ٹی وی ٹاک شوز میں اخبارات کے کالمز میں یہ سوال پوچھے جاتے رہے کہ کچھ ہونے والا ہے، کیا ہونے والا ہے۔ اب منتخب نمائندے بھی یہ سوال پوچھ رہے ہیں۔ اس غیر یقینی صورتحال نے مختلف سطحوں پر حکومتی خواہ انتظامی فیصلہ سازی کو ہی نہیں عام زندگی کو اور معیشت کے پہیے کو بھی سست کردیا ہے۔ 
صرف سوالات ہی نہیں ایک ذہن بن گیا ہے ۔موجودہ حکومت اپنی آّ ئینی حکومت مدت پوری کر سکے گی ؟ سینیٹ کے الیکشن کا کیا ہوگا؟سیاسی نظام اور جمہوری عمل برقرار رہے گا یا ختم ہو جائے گا؟ نگراں سیٹ اپ آئینی طریقے سے تشکیل دیا جائے گا یا کوئی اور راستہ اختیار کیا جائے گا۔؟ الیکشن وقت پر ہو پائیں گے ؟ اگر نہیں تو کتنے عرصے تک نہیں ہونگے؟ طویل مدت کی نگراں حکومت کیسی ہوگی؟ کیا ٹیکنوکریٹ حکومت کی کیا صورتحال ہے؟ اس پورے سیاسی بحران میں عدلیہ کیا رول ادا کرے گی؟ 
اس غیر یقینی صورتحال کی باز گشت صرف عام اراکین پارلیمنٹ کی گفتگو میں سنانئی دیتی ہے بلکہ قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کے ان ارشادات ن کہ انہیں نہیں لگتا کہ کہ حکومت اپنی مدت پوری کریگی نے غیر یقینی صورتحال اور سیاسی دھند میں اضافہ رکردیا ہے۔ 
سیاسی جماعتوں کے اکابرین سے بات چیت سے مختلف امکانات کا پتہ چلتا ہے، جس میں زیادہ تر حصہ ان کی خواہشات کا ہوتا ہے۔ یہ سوچ اکابرین کی نہیں بلکہ عملی سیاستدان کی ہوتی ہے۔ یہ پہلا موقعہ نہیں کہ منتخب ایوان کے رکھوالے ایاز صادق نے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اس سے پہلے مختلف موقع پر سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی متعدد بار اپنی تقاریر ، میڈیا سے بات چیت اور خود یوان کے اندر اس طرح کے خیالات کا ا ظہار کر چکے ہیں۔ اور خطرے کی نشان دہی کر چکے ہیں۔ جب منتخب ایوان کے رہنما اس طرح کی بات کرتے ہیں تو یہ ان کی خواہش نہیں ہوتی۔ بلکہ جو انہیں معلومات ہوتی ہے اور جو ان کا ویزن ہوتا ہے اس کے پیش نظر بات کرتے ہیں۔ 
اس کے ساتھ ساتھ انہیں اس بات کا بھی اداراک ہوتا ہے کہ جس ایوان کی وہ نمائندگی کر رہے ہیں اس میں کتنا دم ہے۔ اس ایوان اور اس کے ایوان کی کیا قوت اور صلاحیت ہے۔ یہ قوت اور صلاحیت ایک تو انہیں آئین سے ملتی ہے۔ دوسرے اراکین ک جن پارٹیوں سے وابسہ ہوتے ہیں ان کی قیادت سے حاصل ہوتی ہے ۔ تیسرے خود ان منتخب اراکین کے اپنے سچائی سے بھی ہوتی ہے۔ یہی وہ صلاحیتیں ہیں جو کسی منتخب ایوان کے کردار کو متعین کرتی ہیں۔ 
اسپیکر قومی اسمبلی کے بیان کی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے فوری طورپر تردید کی ۔ جو کہ ضروری بھی تھی۔ لیکن ان کی یہ تردید نقصان کا مکمل طور پر ازالہ نہیں کر سکی۔ حکمراں جماعت نواز لیگ میں ابھی تک بحران جاری ہے۔ 
کئی مخالف جماعتیں اور اسٹبلشمنٹ مائنس نواز شریف فارمولا کے لئے کوشاں ہیں۔ یہ سمجھا جارہا ہے کہ نواز شریف کی قیادت میں نواز لیگ کو انتخابات میں شکست دینا آسان نہیں۔اور یہ بھی کہ نواز شریف کے عدم موجودگی میں پارٹی کے اندر مختلف گروپ اس طرح سے متحد نہیں رہ سکتے۔ لہٰذ ان کے نزدیک ا نواز شریف کو مائنس کرنا لازم ہے۔ اطلاعات اور واقعات کے مطابق پارٹی کے اندرایک دھڑا ایسا ہے جو مائنس نواز شریف فارمولے کو کسی قیمت پر قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہے جبکہ دوسرے دھڑا چاہتا ہے افہام و تفہیم سے کام لیا جائے۔ اور نواز شریف کی عملی سیاست میں واپسی کے لئے کسی اچھے وقت کا انتظار کیا جائے۔
عمران خان بڑے بڑے جلسے کرنے کے باوجود کئی معاملات سے پیچھا نہیں چھڑاسکتے۔ عمران خان جس نے کبھی بھی آمریت کو نہیں للکارا۔ مشرف کے حامی رہے۔ اور ہر مرتبہ انہوں نے سیاسی حکومتوں کو ہی چیلینج کیا۔ یہاں تک کہ انتخابی مہم کے دوران جہانگیر ترین کی نااہلی بھی ان کا پیچھا کرتی رہے کی۔
عملی صورتحال یہ بن رہی ہے کہ سپریم کورٹ کے دو مختلف بنچوں کی دو فیصلوں نے آئندہ ملکی سیاست کا جو رخ متعین کریا اس میں شہباز شریف اور عمران خان حریف ہوں گے۔ شہباز شریف ان زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہیں۔ 
انہوں نے حدیبیہ پیپر ملز میں سنائے گئے فیصلے پر اسی عدالت عظمی پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے جس پر ان کے پارٹی کے سربراہ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نوازعدم اعتماد کااظہار کرتے ہیں۔ 
جہانگیر ترین کو نااہل اور عمران خان کو اہل قرار دینے والے فیصلے میں ایک فاضل جج کے اضافے نوٹ مزید صورتحال واضح کردی ہے۔ جس میں نواز شریف کی جانب سے مختلف جلسوں میں اور میڈیا پر اٹھائے گئے سوالات کے جواب دیئے گئے ہیں۔ ایک جج کی طرف سے یہ اضافی نوٹ یا فیصلہ یقیننا یہ بات لگتی ہے کہ عدالت سے باہر کہی جانے والی باتوں کا جواب دیا جائے۔ 
ماہرین پانامااور عمران خان اور جہانگیر ترین کے مقدمے کے فیصلے میں دہرا معیار کا بھی ذکر کر رہے ہیں۔ اس طرح کے سوالات کا جواب چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایک سیمینار سے خطاب کے دوران دیا اور اپنے فیصلے کی وضاحت دینا پڑی۔ انہیں حلفیہ کہنا پڑا کہ عدلیہ پر کوئی دباو نہیں ۔ یہ درست ہے کہ عدلیہ کا احترام کیا جانا چاہئے۔ اور عدالتی فیصلوں پر رائے دینا آسان کام نہیں لوگ عدلیہ سے انصاف اور غیر جانبداری کی توقع کرتے ہیں۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ عدلیہ نہ صرف انصاف کرے بلکہ نظر بھی آنا چاہئے کہ کہ انصاف ہوا۔ کیا عدالتوں کو یا ججوں کو عدالت سے باہر اس طرح کی باتں کرنی چاہئیں؟ اس طرح کے مزید سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔ 
حدیبیہ پیپر ملز کے فیصلے کے بعد صورتحال مزید تبدیل ہوئی ہے کہ اب مفا ہمت اور مصلحت کی حکمت عملی چلانے والے شہباز شریف اور دیگر حضرات کونسا راستہ اختیار کریں گے۔ اس تمام صورتحال کے باوجود موجودہ حکومت کاآّ ئینی حکومت مدت مکمل کرنا ؟ سینیٹ کے الیکشن ،سیاسی نظام اور جمہوری عمل کے تسلسل کے سوالات اپنی جگہ پر موجود ہیں۔ایسے میں سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی کی جانب سے پورے ایوان بالا کو کمیٹی میں تبدیل کر کے آرمی چیف کی جانب سے بریفنگ کا بندوبست کرنا ایک اچھا شگون سمجھا جارہا ہے۔ میاں رضا ربانی کی یہ کوشش ان کے اس سوچ کا تسلسل ہے کہ ریاست کے اہم ادارے مل بیٹھیں اور ایک مشترکہ الئحہ عمل بنائیں۔ دیکھیں میاں رضا ربانی کی یہ کوشش کس حد تک غیر یقینی صورتحال کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے ؟

Dec 19 
Sohail Sangi 
Nai Baa
t

Friday, December 15, 2017

پیپلزپارٹی کی سیاست اور سندھ

Dec 15, 2017
Sohail Sangi Column
Daily Nai Baat

پیپلزپارٹی کی سیاست اور سندھ
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی

سندھ میں پیپلزپارٹی اور اس کی صوبائی حکومت کو نئی صورتحال کا سامنا ہے۔ اس مرتبہ کرپشن کے مقدمات یا وفاق سے تصادم یا اسٹبلشمنٹ سے براہ راست تنازع نہیں بلکہ بعض سیاسی محرکات کا سامنا ہے ۔ وہ ہیں چھوٹے بڑے شہروں میں پینے کے پانی اور نکاسی آب کی صورتحال اور دوسری ہے گنے کا بحران۔ جس نے دیہی معیشت کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔ ایک معاملے کا تعلق صوبے کی دیہی آبادی سے ہے اور دوسرے کا تعلق گزشتہ دو سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت اس کے بعض عہدیداروں اور افسران کے خلاف کرپشن کی تحقیقات چلتی رہی اور اس کرپشن کی کہانیاں میڈیامیں آتی رہی۔ بعض معاملات عدالتوں تک بھی پہنچے۔ لیکن اب ان سب معاملات میں فی الحال س خاموشی ہے۔
اس سے پہلے سندھ میں رینجرز کے اختیارات کے ساتھ ساتھ، رینجرز اور ایف آئی اہلکاروں کے کی جانب سے صوبائی محکموں پر چھاپے پڑتے رہے۔ سندھ حکومت احتجاج کرتی رہی۔پیپلزپارٹی ڈاکٹر عاصم اور شرجیل میمن کے خلاف بعض مقدمات کی وجہ سے گزشتہ کئی ماہ تک دباؤ میں تھی ۔سابق وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کی پونے چھ ارب روپے مالیت کی اشتہاری مہم میں کرپشن کا کیس عدلیہ کی حدود سے ’’ڈرامائی‘‘ گرفتاری ہوئی۔ گزشتہ دنوں ڈاکٹر عاصم ضمانت پر رہا ہو گئے۔ اور پارٹی عہدے سے استعیفیٰ دینے کے بعد بیرون ملک چلے گئے۔ تین ماہ تک حکومت سندھ اور اے ڈی خواجہ کے درمیان انتظامی و عدالتی جنگ چلتی رہی۔
بینظیر بھٹو ہاؤسنگ اسکیم میں میگا کرپشن کی گئی۔ اس اسکیم کے تحت دو مرحلوں میں ہر سال چھ ہزار بے گھر افراد کو گھر تعمیر کر نے تھے۔ معاملہ کا وزیراعلیٰ سندھ نے نوٹس لیا پھر بات آئی گئی ہو گئی۔ سیاسی اور حکومتی معاملات کے ساتھ ساتھ پارٹی قیادت کے کاروباری معاملات پر بھی چیک رکھا گیا۔ ایک پاور پلانٹ کو گیس کی سپلائی کا معاملہ اٹھا، پھر پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے تین کاروباری پارٹنر پراسرار طور پر لاپتہ ہوئے۔ جنہیں چند ہفتے بعد رہا کیا گیا۔ محکمہ انسداد رشوت ستانی سندھ کے مطابق ہیپٹائٹس پروگرام، خیرپور سرکٹ ہاؤس اور اسلام کوٹ ایئر پورٹ کی تعمیر سمیت 240 انکوائریز محکمہ انسداد رشوت ستانی کے پاس ہیں۔ ان الزامات میں 904 افسران ملوث بتائے جاتے ہیں۔
محکمہ تعلیم اور بلدیات میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کا معاملہ سید قائم علی شاہ کے وزارت اعلیٰ کے دور سے چل رہا تھا۔ یہ معاملہ نئے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ حتمی طور پر نمٹا نہ سکے۔ تھر میں پینے کے پانی سے متعلق آر او پلانٹس میں بھی مبینہ کرپشن کی شکایات کی محکمہ جاتی تحقیقات ہوئی تاہم پارٹی کے بعض بااثر افراد کے بیچ میں آنے کی وجہ کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ سندھ میں کرپشن کے بیانیئے کا چرچہ رہا۔ لیکن ٹھوس شکل میں تاحال کوئی چیز سامنے نہیں آئی۔ 
مردم شماری کے عبوری نتائج کے سندھ حکومت کو ایک اور موقعہ فراہم کیا۔صوبائی حکومت خواہ قوم پرست سیاسی جماعتوں کے تحفظات سامنے آگئے۔ لہٰذا صوبے میں پیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف جو بیانیہ چل رہا تھا اس میں تبدیلی آئی، اور سیاسی لڑائی کا رخ وفاق اور پنجاب کی طرف ہو گیا۔ 
پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت نے وفاقی حکومت کے ساتھ ذرا جارحانہ رویہ اختیار رکھا۔ خاص طور پر صوبے میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ، وفاق سے مالیات میں حصہ بطور مطالبے کے مانگا۔ صوبائی اسمبلی نے وفاقی ادارے نیب کے متوازی ادارہ بنانے کا قانون منظور کیا۔ جس میں صوبائی معاملات میں تحقیقات کا اختیار وفاق سے لے لیا گیا تھا۔ لیکن یہ ب معاملہ ابھی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ لیکن اس سے یہ ضرور ہوا کہ وفاقی ادارے نیب نے ’جارحانہ انداز‘‘ میں سندھ میں کارروائیاں روک دیں۔ 
سینکڑوں ایسے افسران اور اہلکار ہیں جنہوں نے نیب کے ساتھ پلی بارگین کیا۔ لہٰذاکرپشن کے ذریعے کمائی کے کچھ حصے کی نیب کو ’’رضاکارانہ‘‘ ادا کرنے کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ کرپشن کرکے ’’ یوں رضاکارانہ ادائگی‘‘ کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے پرعدالت نے برہمی کا بھی اظہار کیا تھا۔ نیب کو کرپشن کے ذریعے ہڑپ کی گئی رقم کی’’رضاکارانہ طور‘‘ پرواپسی اور عدلیہ کے نوٹس لینے نے پریشانی پیدا کردی۔ لیکن اس کے باجود پانچ سو کے لگ بھگ افسران مختلف اہلکار و افسران اپنے عہدوں پر کام کرتے رہے۔ عزیر بلوچ کے اعترافات ایک بار پھر سامنے آئے ۔ اسٹبلشمنٹ ایک وقت میں پیپلزپارٹی یا نواز لیگ کسی ایک پر ہاتھ ڈال سکتی تھی۔ کچھ حالا ایسے پیدا ہوئے، کچھ پارٹی نے اپنے کارڈز ٹھیک کھیلے۔ لہٰذا جب نواز لیگ کے خلاف معاملات چل رہے تھے، پیپلزپارٹی کے خلاف مواد کٹھا کیا گیااور تیاری کی جارہی تھی لیکن کارروائی نہیں کی گئی۔ اب حالات بدل گئے ہیں۔ لگتا ہے کہ جو الزامات اور تحقیقات ہوئی وہ کسی اور وقت کے لئے اٹھا کے رکھ دی گئی ہے۔ 
یہ تو تھے الزامات ، مقدمات، تحقیقات کے معاملے۔ لیکن دو اہم معاملات نے سر اٹھایا ہے جس سے پیپلزپارٹی آسانی سے خود کوبری نہیں کر سکتی۔ گنے کی قیمتوں پر کاشتکاروں اور شگرملز کے درمیان تنازع تیز ہو گیا ہے۔ گنے کی خریدری اکتوبر سے شروع ہونی تھی، اس کی تاحال ڈیڑھ ماہ گزرنے کے بعد بھی قیمتیں مقرر نہیں کی گئی ہیں۔ نتیجے میں پوری دیہی معیشت تعطل کا شکار ہے۔ صوبے کی دیہی آبادی عموما پیپلزپارٹی کی ووٹر ہے۔ گنے کے بحران کی وجہ سے پارٹی پر منفی اثرات کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ 
صوبے میں پینے کے پانی اور صفائی اور ڈرینیج کے ناقص انتظاما ت کا معاملہ جو سپریم کورٹ کے پاس زیر سماعت ہے۔ جہاں عدالتی حکم پر وزیراعلیٰ سندھ بھی حاضر ہو چکے ہیں۔ عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس اقبال کلہوڑو پر مشتمل مسلسل نگرانی کے لئے کمیشن تشکیل دے دیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے اور اس کمیشن کی رپورٹ نے سندھ حکومت کو بہت ہی دفاعی پوزیشن میں ڈال دیا۔یہ معاملہ صوبے کے چھوٹے بڑے شہروں اور رائے عامہ بنانے والے حلقوں میں پیپلزپارٹی کے خلاف ایک بیانیہ اور دلیل کے طور سامنے آیا۔ اس بیانیہ سے صوبائی حکومت جان نہیں چھڑاپارہی تھی۔ یہ سوال ات اٹھائے جارہے ہیں کہ چلیں کرپشن کے الزامات کو مخالفین کی پروپیگنڈہ کہہ کر مسترد کردیں۔ لیکن عوام کو حقیقی معنوں میں کیا ملا۔ ممکن ہے کہ آئندہ انتخابات میں اپوزیشن جماعتیں کرپشن کے معاملات اٹھائیں لیکن اس نعرے کو سندھ میں شاید اتنی مقبولیت نہ مل سکے۔ اس کے بجائے عوام کو کیا ملا اور کیا نہیں ملا یہ نعرہ زیادہ مقبولیت حا صل کرسکتا ہے۔

Dec 15, 2017
Sohail Sangi Column
Daily Nai Baat  

Friday, December 8, 2017

طاقت اور جمہوریت کے سرچشمے میں تبدیلی


طاقت اور جمہوریت کے سرچشمے میں تبدیلی

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی

پریڈ گراؤنڈ اسلام آبادمیں سابق صدر آصف علی زرداری عالم لوہار کے گائے ہوئے
 گیت پر اگر بھنگڑہ نہ بھی ڈالاتے تو بھی اس ریلی کے وہی سیاسی اثرات ہوتے تھے۔ لیکن سابق صدر کا یہ ڈانس ریلی کو عوامی سطح پر آیا۔ یہ عجیب بات ہے کہ وہ وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں اس کو عوامی سطح پر لایا گیا۔ پنجاب کے کسی شہر میں یا سندھ کے کسی دیہات میں ’’ہو جمالو‘‘ پر ڈانس نہیں کیا۔ سندھ کے لوگ جو گزشتہ برسہا برس سے پیپلزپارٹی کو ووٹ دیتے رہے ہیں۔ وہ پارٹی کے شریک چیئرمین کا یہ رقص دیکھنے کے منتظر رہیں گے۔ 



پیپلزپارٹی کی یوم تاسیس پر اسلام آباد میں منعقدہ یہ ریلی کئی حوالوں سے اہمیت کی حامل ہے۔ 2013 کے عام انتخابات کے بعد سابق حکمران پارٹی وفاقی د ارلحکومت میں کوئی بڑا سیاسی شو نہیں کر پائی تھی۔ ملک کے اندر سیاست اس طرح کی ہو رہی تھی جس میں نواز لیگ یا پھر تحریک انصاف ہی میدان میں نظر آرہی تھیں۔ مختلف مواقع پر پیپلزپارٹی نے آگے آنے کی کوشش کی لیکن سیاست کے بڑے بحث میں اس کو جگہ نہیں مل رہی تھی۔ اور جب کبھی کوئی جگہ بنتی بھی تھی تو سندھ حکومت کی کارکردگی اور سندھ میں مختلف شعبوں میں کرپشن کے الزامات کے تحت اداروں کی کارروائی کے ہاتھوں اس کو پیچھے ہٹنا پڑتا تھا۔

2013 کے عام انتخابات کے بعد پیپلزپارٹی نے صرف سندھ تک محدود ہو گئی لیکن اس نے نواز لیگ کی مخالفت میں جارحانہ رویہ رکھنے کے بجائے دوستانہ پالیسی رکھی۔ پیپلز پارٹی سمجھتی تھی کہ پنجاب میں بنیاد رکھنے والی نواز لیگ کو کمزور کرنا مشکل ہے۔ لہٰذا وہ اس بات کا انتظار کرتی رہی کہ نواز لیگ خود اپنی غلطیوں یا اپنے ہی وزن تلے جھک جائے۔ اسٹبلشمنٹ سے محاذ آرائی کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کے دھنروں کے ذریعے مسلسل حملوں اور پاناما کیس ن میں میاں نواز شریف کی بطور وزیراعظم برطرفی نے وقت سے پہلے ایسی صورتحال پیدا کردی۔

نواز شریف کے ساتھ اسٹبلشمنٹ کی محاذ آرائی کے دوران جمہوریت کے تسلسل اور سویلین بلادستی کے نعرے پر کمزور ہونے کے بجائے مضبوط ہورہی تھی۔ نواز شریف اسلام آباد میں کمزور ہورہے تھے لیکن پنجاب میں مضبوط ہورہے تھے۔ پنجاب پر جمہوری اور لبرل سوچ حاوی ہونے جارہی تھی۔ ساٹھ کے عشرے اور ذوالفقار علی بھٹو کے بعد یہ پہلا موقعہ تھا کہ پنجاب میں یہ فکر دوبارہ پروان چڑھ نے لگا تھا۔اس سوچ کو ووٹ میں تبدیل ہونا ذرا مشکل اور طویل عمل تھا۔ اسٹبلشمنٹ کو یہ ضرورت پیش آئی کہ وہ عوام اور ووٹر کی سطح پر نواز لیگ سے نمٹے۔ فیض آباد دھرنے کو اس پس منظر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ جس کے فورا بعد لاہور میں بھی اسی بیانیہ پر دھرنا لگایا گیا۔ یہ نواز لیگ کے ووٹ بینک پر وار تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس دھرنے نمٹنے کے لئے نواز لیگ گومگو کا شکار رہی۔
فیض آباد دھرنے کے بعد یہ تاثر پختہ ہورہا تھا کہ اب مذہبی جماعتیں اور مذہبی بیانیہ ملک کی سیاست پر خاص طور پر اسلام آباد پر حاوی رہے گا۔ حکمران جماعت اس معاملے میں صحیح طور پر کردار ادا نہ کرسکی۔ جس کی وجہ سے ایک خلاء پیدا ہوا۔ ایسے میں پیپلزپارٹی کو موقعہ ملا کہ وہ اس خلاء کو پر کرے جو نواز لیگ نے فیض آباد اور لاہور کے دھرنوں کے بعد اپنی پالیسی اور حکمت عملی دائیں بازو کی طرف رکھنے کی وجہ سے پیدا کیا تھا۔ پیپلز پارٹی نے اپنی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر وفاقی دارالحکومت میں ریلی منعقد کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ ملک میں لبرل ازم کی بھی بات کی جاسکتی ہے۔ اس کا اظہار اور بیانہ ملک میں اتنا ہی مضبوط ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں اسلام آباد میں کسی سرگرمی کو تیار نہیں تھی۔ خود نواز لیگ بھی۔ پیپلزپارٹی نے پیش رفت کی۔ 
ایک زمانہ تھا جب لوگ سیاسی دباؤ ڈالنے کے لئے عوام سے رجوع کرتے تھے۔ عوام کے پاس جاتے تھے۔ شہر شہر جلسہ کرتے تھے۔ ذوالفقارعلی بھٹو نے ایوب خان کے خلاف بھی بڑے بڑے جلسے کئے۔ مشرقی پاکستان جب تک بنگلادیش نہیں بنا تھا شیخ مجیب نے بھی عوام کی حمایت اور اس حمایت کے اظہار کے لئے بنگال میں جگہ جگہ جلسے کئے تھے۔ بھٹو نے اقتدار میں رہتے ہوئے بھی عوام سے رجوع کرنے کے لئے جلسے کئے۔ یہاں تک کہ بنگلادیش کو تسلیم کرنے اور بھارت سے شملہ معاہدہ کرنے کے لئے بھی جلسوں کے ذریعے عوام سے رجوع کیا تھا۔ لیکن اب عوام کو موبلائیز کرنے کے بجائے اپنے حامیوں کو مختلف رہنما انہیں وفاقی دارالحکومت بلاتے ہیں۔ 
ججز کی بحالی کے لئے نواز شریف نے بھی لاہور سے اسلام آباد تک مارچ کیا۔ لیکن آدھے راستے میں بات مک گئی۔ عمران خان نے دو مرتبہ اسلام آباد کا رخ یا، اور سیای طاقت کا مظاہرہ دارلحکومت میں کیا۔ 
برطرفی کے بعد نواز شریف کا جی ٹی روڈ بھی اسی ضمن میں شمار ہوتا ہے۔ 
کہتے ہیں کہ کراچی سے وفاقی دارلحکومت تبدیل کر کے اسلام آباد کا نیا شہر بسا کے دارلحکومت قائم کرنے کے پیچھے سیاسی مقصد یہ تھا کہ کراچی صنعتی شہر ہے۔ یہاں مزدور اور شہری زیادہ سرگرم ہیں۔ حکومت ان کے دباؤ میں جلدی آجاتی ہے، لہٰذا دارلحکومت ایسی جگہ پر ہو جہاں اس طرح کا حتجاج اور دباؤ نہ ہو۔ اب تو بڑی بڑی سیاسی جماعتیں اسلام آباد میں ہی اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ یعنی سیاستداں عوام سے رجوع کرنے کے بجائے اسٹبلشمنٹ سے یا حکمرانوں سے رجوع کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ بھی لیا جاسکتا ہیکہ اب جمہوریت اور طاقت کا سرچشمہ عوام نہیں بلکہ اسٹبلشمنٹ ہے۔
آصف زرادری کا ڈانس جہاں لوک ترنگ کا اظہار کرتا ہے وہاں اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ اب صورتحال اس کی حق میں تبدیل ہورہی ہے۔ اس جلسے سے آصف زرادری کا اچانک خطاب بھی اس دلیل کی تائید کرتا ہے کیونکہ پروگرام کے مطابق جلسے سے بلاول بھٹو زرادری کو ہی خطاب کرنا تھا۔
سابق صدر زرداری کا وقت سے پہلے انتخابات کا مشورہ، نواز لیگ حکومت پہلے ہی ہار مان لے، کیا پتہ عبوری حکومت تک نہ رہے۔نواز شریف کو بچانے کے بجائے اب خود آگے آنے کا اعلان جیسے کلمات کو تجزیہ نگار اہمیت دے رہے ہیں۔ گزشتہ دس روز سے نگراں حکومت کے قیام کی باتیں ہورہی تھی، جس کے جواب میں آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ آئین سے بالاتر اقدام نہیں
ہونا چاہئے۔ یعنی نگراں حکومت وزیراعظم اور اپوزیشن ( نواز لیگ اور پیپلزپارٹی ) کی باہمی مشاورت سے بنے۔ حالیہ موقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلزپارٹی اپنے اس موقف سے پیچھے ہٹی ہے اور نگراں حکومت کسی اور طرح سے بھی قائم کرنے کے لئے تیار ہوگئی ہے۔ 
لہٰذا گزشتہ ہفتے تک پیپلزپارٹی جمہوری تسلسل کے لئے نواز لیگ کے ساتھ کھڑی تھی، اب وہ اس کی مخالفت میں کھڑی ہو گئی ہے۔ پاکستان کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کا خیال ہے کہ ملکی سیاست میں حالیہ تبدیلی دراصل اسٹبلشمنٹ کی کمزوری کو طاہر کرتی ہے۔ کیونکہ ماضی میں اسٹبلشمنٹ سیاسی جماعتوں سے جوڑ توڑ کر کے انہیں ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کردیتی تھی۔ لیکن اس مرتبہ کوئی بھی مین اسٹریم کی سیاسی جماعت اسٹبلشمنٹ کے ساتھ نہیں کھڑی ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ جذباتی اور مذہبی بیانیہ کا سہارا لیا گیا۔ہ پیپلزپارٹی کی حالیہ پالیسی اسٹبلشمنٹ کے لئے معاون بنے گی۔ پیپلزپارٹی کے لئے ایک پنتھ دو کاج کی صورتحال بن گئی۔ وہ اس کا اظہار اسلام آباد میں ہی کرنا چاہتی تھی۔ 
نئی بات آٹھ دسمبر دوہزار سترہ
Nai Baat 
Sohail Sangi Column

http://politics92.com/singlecolumn/53054/Sohail-Sangi/Taqat-Aur-Jamhoriyat-Ka-Sar-Chashma-Tabeel.aspx 

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/53054/Sohail-Sangi/Taqat-Aur-Jamhoriyat-Ka-Sar-Chashma-Tabeel.aspx

Thursday, December 7, 2017

طویل مدت کی نگراں حکومت کے قیام کی راہ


طویل مدت کی نگراں حکومت کے قیام کی راہیں

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ایک روز پہلے یہ ریمارکس دیئے اور کہا کہ کیا فوج کو حکومت اور مظاہرین کے درمیان ثالثی کا اختیارہے؟ جن کو سیاست کرنی ہے وہ ملازمت چھوڑ کر یہ کام کیرں۔ دوسرے روز لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس قاضی محمد امین احمد نے ریمارکس دیئے ہی کہ فوج نے مصیبت سے نکالا، کردار ادا نہ کرتی تو کتنی لاشیں گرتیں۔
دھرنے کے اور ا دھرنا لگانے والوں کے مطالبات کی منظوری اور جس طرح سے یہ مطالبات منظور ہوئے ان کے بارے میں نہ صرف عدالتیں سوال کر رہی ہیں۔ ن معاملات کا فوری طور ملکی سیاست پر جو اثرات ہوئے سو ہوئے لیکن طویل مدت میں ملک کی سیاست اور حکمرانی سے لیکر طرز زندگی اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہونگے۔ یہ ایک طویل فہرست ا ہے۔ اگر ایک جملے میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ دھرنا سیاست نے ملک میں جمہوری نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بعض ماہرین یہاں تک کہتے ہیں کہ ملک واپس ضیاء دور میں چلا گیا ہے نواز لیگ نے دھرنے سے متعلق پارلیمانی جماعتوں کے کردار کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشکل پڑنے پر تمام جماعتوں نے سیاست چمکائی ہے جبکہ پارٹی کے صدر وسابق وزیراعظم نواز شریف نے دھرنے سے متعلق وزارت داخلہ کے اقدامات پر عدم اطمینان اظہار کیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دھرنے کو درست انداز میں ہینڈل نہیں کیا گیا۔ آپریشن کی ناکامی سے حکومت کی سبکی ہوئی،‘دھرنے کے پیچھے کون تھا‘معاہدے کے نکات کس نے طے کئے ‘ذمہ داروں کا تعین کیاجائے یہ تفصیلات وزیر داخلہ احسن اقبال نے سے ان کو علیحدگی میں بتائی۔ 
مسلم لیگ (ن) کی مشاورتی اجلاس میں پارٹی رہنماؤں نے وزیر قانون کے استعفیٰ کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیاان کا ماننا ہے کہ بائیس دن بعد زاہد حامد کے استعفیٰ سے اور دھرنا قائدین کے مطالبات ماننے کے باعث حکومت کی رٹ کمزور ہوئی پارلیمانی جماعتوں کے عدم تعاون کی وجہ سے زاہد حامد کو وزارت کی قربانی دینا پڑی۔
مردم شماری کے عبوری نتائج کی روشنی میں اسمبلیوں کی حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی ترمیم حکومت منظور نہیں کراسکی ہے۔17 نومبر کو قومی اسمبلی کی منظور کردہ اس ترمیم کے لئے سنیٹ کا اجلاس طلب کیا گیا تھا۔ چار مرتبہ سنیٹ کے اجلاس میں یہ ترمیم پیش کرنے کی کوشش کی گئی لیکن سینیٹرز کی مطلوبہ تعدادحاضر نہ ہونے کی وجہ سے یہ ترمیم منظور نہیں کی جاسکی۔ گزشتہ روز تمام تر کوششوں کے باوجود ایوان میں 65 اراکین موجود تھے۔ جبکہ ترمیم کے لئے دو تہائی یعنی 69 اراکین کی حمایت ضروری ہے۔ پیپلزپارٹی کو حلقہ بندیوں کے مجوزہ قانون پر تحفظات ہیں۔ حکومت یہ تحفظات دور کرنے میں ناکام رہی، اس کے بغیر پیپلزپارٹی جس کو ایوان بالا میں اکثریت حاصل ہے اس بل کی حمایت کرنے سے انکار کردیا ہے۔ 
مردم شماری سے متعلق پیچیدگیوں کی وجہ سے آئندہ عام انتخابات کے انعقاد میں تاخیر ہو سکتی ہے۔حکومت اور اپوزیشن مطلوبہ آئینی ترمیم کی منظوری کے ایشو پر بٹی ہوئی ہیں۔ قومی اسمبلی نے اگرچہ آئینی ترمیم کی منظوری دیدی ہے لیکن یہ قانون سینیٹ تک نہیں پہنچ پا رہا کیونکہ ارکان کی مطلوبہ (دو تہائی) تعداد دستیاب نہیں ہے۔ 29 اگست کو الیکشن کمیشن نے وزارت قانون کی توجہ مردم شماری 2017ء کے نتیجے میں آئندہ عام انتخابات کے بروقت انعقاد کے حوالے سے پیدا ہونے والے آئینی نوعیت کے سوالات کی جانب مبذول کرائی تھی۔ تیرہ اگست کو منعقدہ مشترکہ مفادات کی کونسل نے حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی بل لانے کی منظوری دی تھی۔ پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ اس بل کو پہلے مشترکہ مفادات کی کونسل سے منظور کرانا چاہئے۔ 
ایک طرف پیپلزپارٹی پر حلقہ بندیوں سے متعلق ترمیم منظور نہ کرانے کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔ اور سیاسی جماعتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔دوسری طرف پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی کا ماننا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کا دفاع کریں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ ملک میں ابھرتے ہوئے رجحانات ریاست کے لیے خطرناک ہیں جبکہ بتایا جائے حکومت فوج کو بلانے اور معاہدہ کرنے پر کیوں مجبور ہوئی؟
22 دن اسلام آباد اور راولپنڈی یرغمال بنے رہے، دھرنے کے شرکاء سے معاہدہ اور اسلام آباد میں فوج کو طلب کیا گیا، وزیر قانون زاہد حامد عہدے سے مستعفی ہوگئے، ملک میں اتنا کچھ ہوا لیکن پارلیمنٹ کو کسی فیصلے سے متعلق اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ یہ شکایت سینیٹ کے چیئرمین نے بھی کی ایوان میں کی۔ 
وزیر اعظم ملکی صورتحال سے زیادہ اہم جدہ اور ریاض جانا اہم سمجھا۔ وزیرداخلہ 15 منٹ کے نوٹس پر عدالت میں پیش ہوسکتے ہیں تو پارلیمنٹ میں کیوں نہیں، جبکہ وزیر اعظم کو خود ایوان میں آنا چاہیے۔ اگرچہ سینیٹ کا اجلاس چل رہا تھا۔ یوں پارلیمنٹ کی توقیر کا خود حکومت نے بھی خیال نہیں رکھا۔ وہ ایک غیر متعلقہ ادارہ بنتی جارہی ہے۔
سیاسی قوتیں نہ دھرنے کا معاملہ اور نہ ہی حلقہ بندیوں کا معاملہ طے کر پارہی ہیں۔ اب سینیٹ کا اجلاس ملتوی ہو گیا ہے۔ اس بحران کو حل نہیں کر پارہی ہیں۔ 
چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے اگست میں ملک کو بحرانوں سے نکالنے اور مسائل کے حل کے لیے ریاستی اداروں کو مذاکرات کی دعوت دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ملک اداروں کے درمیان تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا اور ملکی مسائل کا قابل قبول حل نکالنے کے لیے ایگزیکٹو، پارلیمنٹ اور عدلیہ کے درمیان مذاکرات ضروری ہیں۔انہوں نے اس مقصد کے لئے سینیٹ کے فورم کی پیشکش کی تھی۔ اگرچہ اس پیشکش کو حکمران جماعت نواز لیگ نے قبول کیا تھا۔ لیکن باقی دو ریاستی اداروں کی جانب سے مثبت جواب نہ ملنے کی وجہ سے یہ پیشکش کوشش ناتمام رہی۔ اور اداروں کے درمیان خلیج بڑہی۔ جس کا اظہار فیض آباد کے دھرنے کے موقعہ پر کھلم کھلا نظر آیا۔ 
سیاسی جماعتوں کے اختلاافات کو سیاسی انتشار کا نام دے کر اس صورتحال میں وقت سے پہلے موجودہ حکوت کو ختم کرنے کی باتیں چل رہی ہیں۔ اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ عبوری حکومت کے لبادے میں طویل مدت کی عبوری حکومت قائم کردی جائے۔ 
میڈیا کا ایک حصہ یہ بھی کہہ رہا ہے کہ نگران وزیراعظم کے عہدے کی تلاش شروع ہو چکی ہے۔ پیپلزپارٹی نے اس سرگرمی کو بھانپ لیا ہے۔ اس کے جواب میں سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سیاسی تبدیلی آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے ذریعے آنی چاہیے۔ انہوں نے جوڑ توڑ کے ذریعے سیاسی تبدیلی کی ہمیشہ مخالفت کی ہے۔ ان کا مزید کہناتھا کہ سیاسی انجینئرنگ اور مذہبی نسل پرستی تھوپنے کی مخالفت کرتے رہیں گے،پیپلز پارٹی عوام کیاختیارات غصب کرنے کے خلاف مزاحمت کا عہد کرتی ہے۔
آئینی طور پر وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کونگران وزیراعظم نامزد کرنا ہے ۔ لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ ان دونوں حضرات کو علم ہی نہیں کہ نگراں وزیراعظم شاید تلاش بھی کر لیا گیا ہے۔ یعنی آئین سے بالاتر راستہ اختیار کیا جارہا ہے۔چوہدری شجاعت حسین بھی کہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کا نامزد کردہ نگراں وزیراعظم انہیں منظور نہیں۔یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب تحریک انصاف اور اس کے ہمنواقبل از وقت الیکشن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایسے میں یہ بھی کوشش کی جارہی ہے کہ مارچ 2018ء میں سینیٹ کے انتخابات سے قبل موجودہ حکومت گھر چلی جائے گی۔ کیونکہ سینیٹ کے انتخابات موجودہ اسمبلیوں کے ذریعے کرانے کی صورت میں نواز لیگ کو سینیٹ میں اکثریت حاصل کر لے گی۔ 
ایک طرف موجودہ حکومت کو مدت مکمل کرنے سے پہلے ہٹانے کی راہ ہموار کی جارہی ہے دوسری طرف حلقہ بندیوں سے متعلق آئنی ترمیم منظور کرنے میں سینیٹ کی ناکامی کی وجہ سے بروقت الیکشن کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔
یوں طویل عرصہ کیلئے نگراں حکومت کے قیام کی راہ ہموار ہوگی۔

Nai Baat Dec 1, 2017 
Sohail Sangi
Column

Tuesday, November 28, 2017

فنکشنل مسلم لیگ کا سکھر میں شو

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
سندھ میں پیپلزپارٹی کے مخالف پیرپاگار
ا کی قیادت میں قائم اتحاد گرینڈ نشیل الائنس نے بھی 26 نومبر کو سکھر میں بہت بڑا اجتماع کیا ۔تقریبا سوا دو سال پہلے سندھ میں پیپلزپارٹی مخالف جماعتوں ، شخصیات اور گروپوں نے پیپلزپارٹی کے خلاف گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے نام سے ایک اتحاد بنایا تھا۔ پیپلزپارٹی مخالف اتحاد میں بنیادی طور پر پارٹیوں سے زیادہ شخصیات کا اتحاد ہے۔ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کو چھوڑ کر باقی تمام گروپ شامل تھے۔ البتہ قوم پرستوں میں سے ایاز لطیف پلیجو، اور ممتاز بھٹو شامل ہوئے تھے۔ رواں سال عمراں خان کی جانب سے ’’سندھ پر توجہ‘‘ دینے کے بعد ممتاز بھٹو اور لیاقت جتوئی نے تحریک انصاف میں شمولیت کرلی۔
ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی اتحاد میں شامل نہیں۔ جسکی وجہ سے یہ اتحاد صوبے کی اردو بولنے والے ہو یا سندھی، بولنے والی شہری آبادی سے خالی تھا۔ قومی پرستوں میں قومی عوامی تحریک کا یاز لطیف پلیجو کا گروپ شامل ہے جبکہ جی ایم سید کے پوتے جلال محمود شاہ اور سندھ ترقی پسند پارٹی کے جلال محمود شاہ اور روسل بخش پلیجو کی قیادت میں چلنے والی عوامی تحریک کا حصہ شامل نہیں۔ بظاہر نواز لیگ بھی شامل تھی۔ لیکن بعد میں پارٹی کی حکمت عملی تبدیل ہونے کے بعد اس نے خود کو اتحاد کے اندر غیر فعال کردیا۔لیکن ارباب غلام رحیم شامل رہے جنہوں نے سکھر میں منعقدہ جلسے میں نواز لیگ سے علحدگی کا اعلان کردیا۔

پیپلزپارٹی مخالف اتحاد اس وقت قائم ہوا تھا جب پیپلز پارٹی اور وفاقی حکومت کے درمیان کشیدگی تھی۔ خاص طور پر سندھ میں رینجرز کو پولیسنگ کے اختیارات دینے کا تنازع بحران کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ نیب نے سندھ کے وزراء اور بعض اعلیٰ افسران کے خلاف کارروائیاں شروع کردی تھی۔ وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے سندھ میں گورنر راج نافذ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ یہ تاثر بن رہا تھا کہ اسٹبلشمنٹ پیپلزپارٹی کے خلاف کوئی قدم اٹھانے جارہی ہے۔ سیدغوث علی شاہ بھی پہلے اجلاس میں موجود تھے۔

اتحاد کے سربراہ پیر صبغت اللہ راشدی پیر پاگارا نے مئی 2016 میں حیدرآباد میں اتحاد کے ورکرز کنوینشن سے خطاب کرتے ہوئے اتحاد کے سربراہ پیر پاگار انے فوج سے اپیل کی کہ وہ ملک میں اقتدار میں آئے اور فوجی حکومت آٹھ دس سال تک رہے تاکہ ہر طرح کے لوٹ مار اور جرائم کا خاتمہ کیا جاسکے۔ انہوں نے پرویز مشرف کی حمایت کی تھی۔ پیر صاحب جو ماضی میں نواز لیگ کے اتحادی بھی رہے ہیں انہوں نے شکوہ کیا کہ ہم نے 2013 میں نواز شریف کی غیر مشروط طور پر حمایت کی تھی لیکن وہ انتخابات کے بعد سندھ کو بھول گئے۔
اس سے قبل اتحاد کی واحد سرگرمی 2016 کے ماہ مئی میں نکالے جانے والی حیدرآباد سے عمرکوٹ تک ریلی تھی۔ پاناما لیکس نے ملک میں نئی صف بندی کردی۔ ستمبر 2016 میں اس اتحاد میں دراڑیں پڑا شروع ہو گئی۔ سمتبر کے آخری ہفتے میں لیاقت جتوئی نے کہا کہ یہ اتحاد سو گیا ہے۔ انہوں نے نے کہا کہ اس اتحاد کی باقاعدگی سے اجلاس ہی نہیں ہو پارہے ہیں۔

ماضی میں پیپلزپارٹی کے خلاف سندھ سطح کے اتحاد بنتے رہے ہیں۔ جس کا اہم عنصر قوم پرست رہے۔ 1988 کے عام انتخابات سے قبل جیئے سندھ تحریک کے بانی جی ایم سید نے سندھ قومی اتحاد بنایا ۔لیکن یہ اتحاد کوئی کامیابی حاصل نہیں کرسکا۔ مشرف دور میں پیپلزپارٹی سے باہر بااثر شخصیات ارباب غلام رحیم، امتیاز شیخ اور دیگر نے اتحاد بنایا۔ اس اتحاد کا مقصد پیپلزپارٹی کو سندھ حکومت سے باہر رکھنا تھا۔ ان بااثر افراد اور ایم کیو ایم کی مدد سے سندھ میں حکومت بنی۔ اس مرتبہ قوم پرست عنصر غائب ہے۔ جلال محمود شاہ، ڈاکٹر قادر مگسی، رسول بخش پلیجو الگ کھڑے ہیں۔
پیر پاگارا کی قیادت میں 2013 کے انتخابات کے لئے ۹ جماعتی اتحاد بنایا۔ نواز شریف اس کا مقصد پیپلزپارٹی کو سندھ میں ہی مصرورف رکھنا اور پنجاب کے لوگوں کو یہ پیغام دینا تھا کہ آپ لوگ کیوں پیپلزپارٹی کی حمایت کر رہے ہو، اسے تو اپنے گھر یعنی سندھ میں بھی شدید مخالفت کا سامناہے۔ اور سندھ کے بعض حلقوں کو اقتدار میں حصہ پتی کرانا تھا۔ لیکن بعد میں یہ سب کچھ نہیں ہو سکا۔ جس کا شکوہ پیر پاگارا کی مذکور بالا تقریر سے ہوتا ہے۔
گرینڈ نشیل الائنس کی حالیہ سرگرمی فیض آباد کے دھرنے کے موقعہ پر ہی ہوئی ہے۔ گرینڈ نشنل الئنس نے پہلے لاڑکانہ سکھر وغیرہ میں بڑی ریلی نکالنے کو منصوبہ بنایا تھا۔ جس کو بعد میں سکھر کے قریب ’’کرپشن سے پاک متحدہ سندھ‘‘ کے نام سے ایک جلسے میں تبدیل کردیا گیا۔
گرینڈ اتحاد کی اہم حکمت عملی اور پالیسی کا اظہار پیر پاگارا، اور ان کے بھائی پیر صدرالدین شاہ کی تقاریر سے ہوتا ہے بااثر شخصیات کے اس وسیع تر اتحاد کے مطالبات کو ان الفاظ میں سمویا جاسکتا ہے ہ پیپلزپارٹی کی مبینہ کرپشن اور خراب حکمرانی ،سندھ میں گنے کی قیمتوں اور آبپاشی کے پانی تقسیم کی شکایات، گندم کے لئے باردانہ کی عدم فراہمی ۔ سیاسی طور پر پیپلزپارٹی کی حکومت اور پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری پر کڑی تنقید کی۔ اتحاد نے خود کو نواز شریف کے خلاف کھڑا کیا۔ جو لوگ مذہب کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں ان کا حکومت میں رہنا ممکن نہیں۔ یوں خود کو مذہبی جماعتوں کے قریب موقف رکھا۔
فکشنل لیگ کی قیادت جو کہ اتحاد میں شامل فریقین کو یکجا کرنے کی اہم قوت سمجھی جاتی ہے اس نے فوج کے تمام اقدامات کو سراہا۔ پیر پاگارا نے کہا کہ لوگ فوج اور عدلیہ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ یہ موقف ملک میں موجودہ منظر نامے میں نواز لیگ مخالف تصور کیاجائے گا۔ لیکن بڑے پیرپاگارا بھی خود کو فوج کا آدمی کہتے تھے۔ یہی بات موجودہ پیر پاگارا نے بھی دہرائی ہے۔ اس سے مراد اقتدار کے منظر بااثر افراد کے لئے اپنے اتحاد میں کشش پیدا کرنا رہی ہے ۔
سندھ میں پیپلزپارٹی کو کس طرح شکست دی جائے؟ اقتدار کی سطح پرمتبادل کیسے پیدا ہو؟یہ تاثر عام تھا کہ جب تک بااثر افراد اور ایلکیٹ ایبل کو یقین نہیں ہو جاتا کہ سندھ میں پیپلزپارٹی حکومت نہیں بنا رہی تب تک پیپلزپارٹی کو شکست نہیں دی جاسکتی۔ اس تاثر کو توڑنے کے لئے جلسے میں یہ یقین دلایا گیا کہّ آئندہ حکومت گرینڈ نیشل الائنس بنائے گا۔ اور اتحاد خود کو الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ کرائے گا۔

فنکشنل مسلم لیگ اس اتحاد کے ذریعے خود کو متبادل کے طور پر پیش کررہی ہے۔ یہی وہ ہے کہ جلسے سے ایک روز پہلے پیر صدرالدین شاہ نے عمران خان کو یہ مشورہ دیا کہ سندھ کے حوالے وہ فردا فراد رابطے کرنے کے بجائے ان سے رجوع کریں۔ گرینڈ ینشنل الائنس بنیادی طور پر سندھ کے وڈیروں کا اتحدا لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مطالبات میں بھی بڑے مطالبات زراعت سے متعلق ہیں۔ یہ ان نئے بطقات کی بات نہیں کرتا جو زیادہ سرگرم ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں نہیں لگتا کہ پیپلزپارٹی کو انتخابی حوالے سے کوئی بڑا نقصان پنچا سکے۔


Nai Baat
Column Sohail Sangi
 GDA, Grand national Alliance, Pir Pagara, Functional League,

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/52637/Sohail-Sangi/Sindh-Peoples-Party-Ko-Kese-Shikast-Di-Jaye.aspx



Friday, November 24, 2017

سیاسی معاملات پارلیمنٹ میں لانے کی ضرورت

Dharna, PMLN, Faizabad,

Column  Sohail Sangi
Nai Baat Nov 24-11-2017
سیاسی معاملات پارلیمنٹ میں لانے کی ضرورت 

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی


وزیراعظم کو ناہل قرا دے دیا گیا ہے۔احتساب عدالت میں زیر سماعت مقدمات اپنی جگہ پر، ان کی پارٹی کو ان سے الگ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اگرچہ حکمران جماعت نواز لیگ سیاسی جماعتوں کے قانون میں پارلیمنٹ سے ترمیم کراکے اس قدم کو روک چکی ہے۔ ایک بار پھر ناکام کوشش ہوئی کہ اس ترمیم کو ختم کرکے نواز شریف کو مسلم لیگ (ن) کی صدارت سے روکا جائے۔ 
یہ ترمیم گزشتہ روز پیپلزپارٹی اور دیگر حزب اختلاف کی جماعتوں نے قومی اسمبلی میں پیش کی تھی۔ نااہل قرار پانے کے بعد نواز شریف نے عدالتی فیصلے اور عمران خان کی سیاسی مقبولیت کے مظاہروں کا توڑ جی ٹی روڈ کا راستے لاہور جانے کے سفر کے ذریعے نکالا۔ مقتدرہ حلقوں اور اپنے مخالفین کو یہ پیغام دیا کہ وہ عوام میں اب بھی مقبول ہیں۔
دوسرا پیغام پارلیمنٹ کے ذریعے دیا جہاں نااہلی کے باوجود پارٹی کا عہدہ رکھنے سے متعلق ترمیم منظور کرائی۔ چاہے آپ سابق وزیراعظم کی سیاست سے اختلاف رکھتے ہوں لیکن یہ دونوں سیاسی راستے تھے۔ ان دو اقدامات سے یہ بات ثابت ہوئی کہ سیاسی طور پر انہیں شکست نہیں دی جا سکی ہے۔ اس کے لئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ اسی پس منظر میں فیض آباد کا دھرنا ہے۔
فیض آباد کا دھرنا دو چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔ اول یہ کہ اگر نواز شریف عوام سے بارہ راست رجوع کر سکتے ہیں تو کسی جذباتی نعرے پر ان کا اس طرح بھی راستہ روکا جاسکتا ہے۔ اور پارلیمنٹ اور اس کے فیصلے کو ایک طرف رکھا جاسکتا ہے۔ دوسرا یہ کہ سابق وزیراعظم اور ان کی پارٹی جس طرح سے ملک کی تجارتی اور خارجہ پالیسی خاص طور پر پڑوسی ملک سے تعلقات کے حوالے سے اختیار کرنا چاہتی ہے اس کے آگے بھی بند باندھا جاسکتا ہے۔ اور ملک میں مذہبی اور جذباتی ماحول بنا کر اس کو اس طرح کی پالیسیوں سے ہٹایا جاسکتا ہے۔ 
ملک کا حالیہ بحران جس نہج پر پہنچا ہے اس کو حل کرنے کے ماہرین چار نسخے تجویز کر رہے ہیں۔ اول یہ کہ تمام معاملات منتخب ادارے یعنی پارلیمنٹ کے ذریعے حل ہوں۔ دوسرا یہ کہ عوام سے رجوع کیا جائے۔ یعنی احتجاجی سیاست۔ تیسرا یہ کہ کوئی عدالتی حل ڈھونڈھا جائے۔ چوتھا فوج کی مداخلت ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ان تینوں نسخوں میں بالآخر بات دیر یا سویر انتخابات کرانے پر جاتی ہے۔ 
درحقیقت آئین، پارلیمنٹ اور جمہوریت پر یقین کا اظہار ہیں۔آج کے اطلاعاتی اور ٹیکنالاجی کے دور میں اگر کوئی یہ سمجھتاہے کہ کروڑوں عوام کے منتخب ادارے پر کسی اور ادارے یا مخصوص افراد کو مسلط یا حاوی کیا جاسکتا ہے تو یہ عملا ممکن نہیں اور دیرپا بھی نہیں۔ 
وزیر اعظم پر دباؤ ہے کہ وہ عدالتی فیصلے پر عمل کرائیں۔ لیکن صورتحال ایسی بنائی گئی ہے کہ حکومت کے لئے یہ دھرنا نہ نہ نگلنے کی اور نہ نکالنے کی چیز ہو گئی ہے۔ 
سنیئر مسلم لیگی رہنما ر ظفرالحق رپورٹ کی رپورٹ آنے کے بعد اس ضمن میں مطالبے کا اب کوئی جواز نہیں۔ رپورٹ میں میں کہا گیا ہے کہ ہے کہ کاغذاتِ نامزدگی سے متعلق شق میں تبدیلی کا فیصلہ پہلے 16رکنی ذیلی کمیٹی نے اور پھر 34رکنی پارلیمانی کمیٹی نے کیا اور پھر ایوان نے منظوری دی۔ یہ کسی فردِ واحد کا کام نہیں تھا ۔ کیا پوری پارلیمنٹ کو غلط قرر دیا جاسکتا ہے؟ اب تو عدالتِ عظمیٰ بھی یہ کہہ رہی ہے کہ یہ کونسا دین ہے جو لوگوں کو تکالیف پہنچانے راستے بند کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ 
ایک اور تبدیل رونما یہ ہوئی ہے کہ سپریم کورٹ نئے نتخابی اصلاحات ایکٹ 2017ء کیخلاف دائردرخواستوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کردیئے، چیف جسٹس نے نااہل شخص کی پارٹی سربراہی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقررکرنیکا حکم دیدیا۔ اس سے قبل ۔ انتخابی اصلاحات ایکٹ2017ء کیخلاف دائر پیپلز پارٹی، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید سمیت مختلف افراد کی جانب سے دائر9درخواستوں رجسٹرار آفس نے اعتراضات لگا کر ہدایت کی تھی کہ درخواست گذارمتعلقہ فورم سے رجوع کریں۔ 
بعد میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثارنے اپنے چیمبرمیں کی اور ہدایت کی کہ درخواستوں کو3رکنی بنچ کے سامنے سماعت کیلئے مقررکیا جائے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ان درخواستوں کے قابل سماعت ہونے کا فیصلہ کھلی عدالت میں ہوگا۔
مردم شماری کے بعد نشستوں کی تقسیم اور حلقہ بندیوں کا معاملہ ضرری ہو گیا ہے۔ چونکہ سیاسی تناؤ اور صف بندی کی وجہ سے یہ معاملہ پارلیمنٹ میں حل نہیں ہو پارہا ہے۔ قومی اسمبلی سے اس بل کی منظوری کے بعد لیکن مطلوبہ اعداد (دو تہائی اکثریت) نہ ہونے کی وجہ سے اسے سینیٹ نہیں بھیجا جا رہا۔ واضح رہے کہ سنیٹ میں حکمران جماعت نواز لیگ کو اکثریت حاصل نہیں۔
اب یہ معاملہ عدالت میں پہنچ چکا ہے ۔ یہ ایک اور کوشش ہے کہ سیاسی معاملہ سیاسی جماعتوں یا پارلیمنٹ کے اندر حل کرنے کے بجائے عدالیہ کو زحمت دی جارہی ہے۔ جس سے پیچیدگیاں پیدا ہوگئی ہیں۔ بعض ماہرین اس بات کی وکالت کر رہے ہیں کہ مردم شماری کے نتائج کو فی الحال نہ چھیڑا جائے اور عدالت کے ذریعے یہ فیصلہ لیا جا ئے کہ موجودہ پارلیمنٹ کی مدت میں اضافہ کیا جائے یا پھر عبوری حکومت کی مدت میں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے مجوزہ حل کوقبول نہ کیا گیا تو آئندہ عام انتخابات میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ 
موجودہ پارلیمنٹ کی مدت میں اضافہ بظاہر حکمران جماعت نواز لیگ کے حق میں نظرآتا ہے، لیکن کیا یہ جماعت مزید عرصے تک اپوزیشن کا مسلسل دباؤ برداشت کرتے ہوئے اپنی مقبولیت برقرار رکھ سکے گی؟ اس اضافی مدت میں مزید کیا کیا تبدیلیاں ہونگی؟ یہ سب کچھ تاحال ڈبے میں بند ہے۔ اگر عبوری حکومت کی مدت میں اضافہ کیا جاتا ہے ، یہ معاملہ کسی بھی طور رپ نواز لیگ کے حق میں نظر نہیں آتا۔ ویسے بھی عبوری حکومت طویل عرصے تک کسی مینڈیٹ اور مکمل اختیارات کے ساتھ رکھی جائے گی، اگر مینڈیٹ ہوگا تو اس کو کئی سخت فیصلے کرنے کے لئے کہا جائے گا۔ کیا ہم اہم فیصلے چاہے سخت ہو یا نرم ایک غیر منتخب حکومت کے ذریعے کرانے جارہے ہیں؟ 
آئین کے ا مطابق قومی اسمبلی میں نشستیں مردم شماری کے حتمی نتائج کے تحت آبادی کی بنیاد پر ہر صوبے، وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات اور دارالحکومت کیلئے متعین کی جائیں گی۔ محکمہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ عبوری نتائج کے پیش نظر ضروری ہوگیاہے کہ وفاقی وحدتوں میں آبادی کے لحاظ سے تبدیلیاں کی جائیں تاکہ قومی اسمبلی اور ساتھ ہی صوبائی اسمبلیوں میں نشستوں کی تعداد میں اضافہ یا ان کی ری ایلوکیشن کی جا سکے۔ اس وجہ سے حلقہ بندیاں بھی ازسرنو ہونی ہیں۔ جس کے لئے مطلوبہ قانون سازی کی ضرورت ہے۔ 
اس وقت حکومت اور اپوزیشن جماعتیں بالخصوص پیپلز پارٹی ملک میں مقررہ وقت پر آ ئندہ عام انتخابات چاہتی ہے۔ لیکن پیپلزپارٹی سنیٹ میں اکثریت کا سیاسی فائدہ لینا چاہتی ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ مسلم لیگ(ن) کے صدر اور سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ بلامشروط آصف زرداری سے ہاتھ ملانے کو تیار ہوں۔ اگرچہ انہیں شکوہ ہے پیپلزپارٹی نے عدالتوں سے ناہل قراردیئے گئے شخص کوپارٹی صدارت سے روکنے کا بل اسمبلی میں لانے پر تحریک انصاف کا ساتھ دیا۔ سیاسی معاملات سیاسی پلیٹ فارم سے ہی طے ہونے چاہئیں۔ اس امر کو سیاسی جماعتوں، عدلیہ سمیت ملک کے اہم داروں کو بھی یقینی بنانا چاہئے۔ کیونکہ ملک کے اندر سیاسی نظام کو بنانے یا از سرنو ترتیب دینے میں انکا کردار اہم ہوتا ہے۔ 
سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب کے حالیہ بیان کو اسی حوالے سے لیا جاسکتا ہے۔ اس سے سیاسی معاملات واپس پارلیمنٹ میں آسکتے ہیں۔ لہٰذا پیپلزپارٹی کو بھی چاہئے کہ وہ اس کا مثبت جواب دے۔ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ سیاسی بحران سے نکلنے کے باقی نسخے مثلا عوام سے رجوع کرنا یعنی احتجاجی سیاست۔ کوئی عدالتی حل ڈھونڈنا۔ یا فوج کی مداخلت کبھی بھی ملک اور قوم کے مفاد میں کارگر ثابت نہیں ہوئے ہیں۔
Column  Sohail Sangi
Nai Baat Nov 24-11-2017 
http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/52490/Sohail-Sangi/Siyasi-Moamlat-Parliament-Mein-Lane-Ki-Zaroorat.aspx 

Kawish Nov 24, 2017

نواز لیگ آپشنز اور سیاست

 PMLN Options and Politics 
 Nai Baat Nov 20, 2017
Sohail Sangi Column
نواز لیگ آپشنز  اور  سیاست

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
اداروں کے سیاسی کردار کا چرچا عروج پر ہے۔ یہ تاثر پختہ ہوتا جارہا ہے کہ نواز شریف کے خلاف ہونے والے ہر اقدام کے پیچھے درپردہ قوتیں ہیں۔ اپنی نااہلی کے بعد نوازشریف کسی بھی ادارے پر اعتماد کرنے کوتیار نہیں۔ نواز شریف بھی کسی طاقتور اداروں پر بھروسہ کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ چند ہفتے قبل سنیٹ چیئرمین رضا ربانی نے عسکری اداروں اور پارلیمنٹ کے درمیاں ڈائیلاگ کی پیشکش کی تھی۔ لیکن اس کا بھی کسی فریق نے مثبت جواب نہیں دیا۔ یعنی کوئی ایک فریق مصالحت کی پالیسی پر آنے کے لئے تیار نہیں۔

نواز شریف کے خلاف حکمت عملی کے ایک مرحلے پر تو عمل ہو گیا یعنی انہیں نااہل قرار دے دیا گیا۔ لیکن اس حکمت عملی کے باقی مراحل میں مشکل ہو رہی ہے۔ نوازشریف کی نااہلی کے باوجود پارٹی ٹوٹ نہیں سکی اور اس کا ووٹر بدستور اس کے ساتھ کھڑا ہے۔اگرچہ کچھ اختلافات ضرور سامنے آئے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کے دعوے اپنی جگہ پر لیکن نواز لیگ کے اراکین اسمبلی پارٹی نہیں چھوڑ سکے ہیں۔ یہی صورت حکمت عملی کو آگے بڑھانے میں رکاوٹ ہے۔ ایسے میں نوازشریف ایسے حالات میں سرنڈر نہیں کرنے کو تیار نہیں چاہتے۔ وہ ایک جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔
تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ حکمت عملی کے دوسرے مرحلے میں تحریک انصاف کو حکومت میں لانا تھا۔مگر زمینی حقائق ساتھ نہیں دے رہے۔ زمینی حقائق یہ بھی ہیں کہ نواز شریف کو عوامی عہدے کے لئے نااہل قرار دیا جاچکا ہے اور ان کے خلاف کرپشن کے چار ریفرنس مقدمات کی صورت میں زیر سماعت ہیں۔ دیکھا جائے توسابق وزیراعظم کے مستقبل اور ان کی سیاست کے تمام راستے وہاں سے ہوکر گزرتے ہیں جہاں سپریم کورٹ کھڑی ہے۔ ’’جہاں بھی جاؤں تیری محفل ہے‘‘ کا معاملہ ہے۔
 
نواز شریف کو اقامہ کی وجہ سے کسی عوامی عہدے کے لئے نااہل قرار دیا جاچکا ہے۔ اب کرپشن کے الزامات میں ان کو سزا دینا باقی ہے جس کے لئے احتساب عدالت میں چار مقدمات چل رہے ہیں۔ مارچ میں سنیٹ کے انتخابات ہونے ہیں۔ نواز لیگ ہر صورت میں چاہے گی کہ حالیہ صورتحال تب تک جاری رہے۔ اور اس میں کوئی بڑی تبدیلی نہ آئے۔ کیونکہ سنیٹ میں اس کی اکثریت مجموعی طور پر مستقبل کی سیاست پر اثرانداز ہوگی۔ اور اگر یہ جماعت اقتدار میں نہیں بھی آتی ہے تو بھی ایک موثر قوت کے طور پر اقتدار کے ایوان میں موجود رہے گی، جہاں ہر قسم کی قانون سازی کے لئے وقت کی حکومت کو سنیٹ سے رجوع کرنا پڑے گا۔ 

سنیٹ میں چار صوبوں کی نشستیں خالی ہونگی۔ نواز لیگ صرف ایک صوبے یعنی پنجاب میں اکثریت رکھتی ہے اور کسی حد تک بلوچستان میں ہے۔ ایک خیال یہ ہے کہ سنیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد نواز لیگ بعض آئینی ترامیم لانا چاہتی ہے۔ جس کے ذریعے سابق وزیراعظم نواز شریف کو بچایا جاسکتا ہے۔ 


 آئین کو تبدیل کرنے کے لئے دونوں ایوانوں میں الگ الگ دوتہائی اکثریت چاہئے۔ سنیٹ سے نواز شریف کی بہت امیدیں بندھی ہوئی ہیں۔ کیایہ پوزیشن نواز لیگ کو حاصل ہو سکتی؟
 
اس صورتحال میں مختلف آپشنز ہیں۔ صورتحال کو سمجھنے کے لئے بعض مفروضوں پر آجاتے ہیں۔ فرض کریں کہ نواز شریف اپنے لئے آئین میں ایسی ترمیم کرالیتے ہیں، جس میں وہ سزا کے اثرات سے بچ سکیں۔ سنیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد وہ ایسی ترمیم منظور کرالیتے ہیں تواگر ایسی ترمیم یہ ترمیم سپریم کورٹ میں چلینج ہو جائے گی۔ سپریم کورٹ اکیسویں آئینی ترمیم میں یہ فیصلہ دے چکی ہے کہ کونسی آئینی ترمیم آئینی ہوگی اور کونسی نہیں ہوگی۔
 
فرض کریں کہ عدالت سے بھی یہ ترمیم بچ جاتی ہے۔ لیکن پھر احتساب عدالت میں چلنے والے مقدمات ہیں۔ ایک مرتبہ پھر فرض کرلیتے ہیں کہ احتساب عدالت سے اگر انہیں سزا نہیں ہوتی، لیکن نااہلی اپنی جگہ پر رہتی ہے۔ اگر انہیں سزا ہو جاتی ہے تو بدترین صورتحال یہ ہوگی کہ انہیں سزا کے بعد جیل بھیج دیا جائے۔ 


اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نواز شریف کے جیل میں ہوتے ہوئے نواز لیگ الیکشن لڑ رہی ہوگی ۔ وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہ کر پارٹی چلا رہے ہونگے۔اس صورت میں میاں صاحب کسی اور کو وزیراعظم کے لئے نامزد کرنا پڑے گا دوسرا کون ہوسکتا ہے؟ یہ دوسرا شہباز شریف ہوگا۔ اس صورت میں شہباز شریف نواز شریف کی جانب سے انتخابی مہم چلا رہا ہوگا۔ وہ چھوٹے بھائی کے طور پر۔ ویسے بھی نواز شریف کے علاوہ سوائے شہباز شریف کے اور کوئی اتنا بڑا پروفائیل رکھنے والا نہیں۔
ا یک امکانی صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ نواز شریف کو سزا تو ہوجاتی ہے لیکن انہیں جیل نہیں بھیجا جاتا۔ کوئی معجزہ ہو جاتا ہے۔ مثلا صدر سزا معاف کر دیتے ہیں وغیرہ۔ لیکن اس صورت میں بھی انتخابات کے موقعہ پر ان کے کاغذات مسترد ہو جائیں گے۔ کیونکہ ان پر سزا کا ٹھپہ برقرار رہے گا۔ نواز شریف کاغذات مسترد ہونے کو عدالت میں چیلینج کرتے ہیں۔ اگر کوئی رٹرننگ افسر ان کے کاغذات قبول کر لیتا ہے۔ ان کا کوئی بھی حریف اس کو چیلینج کرسکتا ہے۔ یہ چلینج کرنا بھی سپریم کورٹ میں آکر ختم ہوگا۔ یہ راستہ بھی سپریم کورٹ کو ہی جاتاہے۔
کوئی بعید نہیں کہ نوازشریف اداروں سے ٹکرانے کے بعد عام انتخابات میں حصہ لے اور ایک مرتبہ پھر ملک کی سب سے بڑی جماعت کا سربراہ بن کر سامنے آئے۔
کیا نواز شریف کی گل مک گئی ہے؟ اس قانونی گورکھ دھندے سے ہٹ کر سیاست کو لیتے ہیں۔ میدان میں مریم نواز اور حمزہ شریف بھی ہیں۔ مریم نواز وزیراعظم بننا چاہتی ہیں، وہ اس امر کا اظہار بھی کر چکی ہیں۔ انہیں نواز شریف کی بھی حمایت حاصل ہے۔انہوں نے پارٹی کے اندر خواہ عام لوگوں میں اپنا ایک حلقہ قائم کر لیا ہے ۔ میڈیا میں بھی پروفائیل بنایا ہے۔لیکن اس سے شریف خاندان کے مسئلہ کھڑا ہو جائے گا۔ پہلی مرتبہ ایم این اے بننے والی براہ راست وزیراعظم ہاؤس پہنچ جائے گی۔ 


شاید پارٹی کے اندر ان کے نام پر ا تفاق رائے پیدا کرنا مشکل ہو جائے۔مریم کبھی بھی کسی عہدے پر نہیں رہی۔ انہیں صرف ایک انتخابی مہم کا تجربہ ہے۔ جو انہوں نے جیت لی تھی۔ لیکن چند ماہ کے دورانہیں یہ سب کچھ سیکھنا ہوگا کہ کس طرح سے قومی سطح کے امیدوار کو عمل کرنا چاہئے؟ کیا وریہ رکھنا چاہئے؟ نواز شریف اور مریم نواز کے لئے یہ امتحان ہوگا، کیونکہ اس طرح کی صورتحال میں اس طرح کے کئی امیدوار ہونگے جو وزیراعظم ہاؤس جانا چاہ رہے ہونگے۔ حمزہ شریف کا آپشن بھی بعض اضافی اور بعض منفی نکات رکھتا ہے۔ وہ ماضی میں اپنے والد اور انکل کی جانب سے پارٹی کے معاملات دیکھتے رہے ہیں۔ اراکین اسمبلی یا امیدواروں سے بات چیت کرتے رہے ہیں۔ 

اگرچہ حمزہ کو پارٹی کے معاملات دیکھنے کا تجربہ ہے تو اسے قومی سطح کا ایکسپوزر نہیں۔ پردے کے پیچھے رہ کر امیدواروں سے ڈیل کرنا ایک بات ہے اور ان جان اور بغیر پہچان والے ووٹر سے رابطہ دوسری بات ہے۔
 
اگر یہ صورتحال بن رہی ہے کہ نواز شریف منظر پر موجود نہیں مریم کو لانے میں خاندانی، تنظیمی اور دیگر اقسام کی مختلف رکاوٹیں ہیں۔، حمزہ سے معاملہ زور ہے اور باقی میدان میں صرف شہباز ہی رہ جاتے ہیں۔
 
نواز لیگ میدان میں کھڑی ہے، لیکن اس کو نہ ختم ہونیو الے بحران کا سامنا ہے۔ جس نے بڑی حد تک پارٹی کو نقصان بھی پہنچایا ہے۔ یہ طے ہے کہ نواز لیگ اپنے’’ زوال یا بحران‘‘ کے دوران سخت دھاڑ مقابل کرے گی۔
 
اس آپشن پر بھی غور کیا جارہا ہے کہ شہباز اور عمران کان کے درمیان براہ راست مقابلہ۔نواز لیگ اس آپشن کے لئے تیار ہے۔ اس لئے بھی کہ اس کے علاوہ اسکے پاس کوئی بہتر آپشن نہیں۔ اس صورت میں سندھ اور پیپلزپارٹی کا کیا کریں گے؟ اور یہ بھی کہ صرف اسٹبلشمنٹ اور نواز شریف ہی منظر نامے میں نہیں عدلیہ بھی ہے۔ 
 PMLN Options and Politcs 
 Nai Baat Nov 20, 2017
Sohail Sangi Column
http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/52366/Sohail-Sangi/Nawaz-League-Options-Aur-Siyasat.aspx  

Friday, November 17, 2017

کچھ تبدیل ہونے جارہا ہے



Nai Baat Nov 14, 2017

میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 
اشارے مل رہے ہیں کہ ملک میں کچھ تبدیل ہونے جارہا ہے۔ مذہبی سیاسی اتحاد میں شامل چھ جماعتوں کے رہنماﺅں کے ایک اجلاس میں متحدہ مجلس عمل کو دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا باقاعدہ اعلان آئندہ چند روز میں ہوگا۔
 سابق ڈکیٹیٹر پرویز مشرف نے اپنی پارٹی آل پاکستان مسلم لیگ کی چھتری میں عوامی اتحاد کے نام سے 23 جماعتوں کا اتحاد بنایا ہے۔اس اتحاد میں بھی بعض چھوٹی مذہبی جماعتیں شامل ہیں۔ دلچسپ امر ہے کہ مشرف کے اعلان کردہ اتحاد سے بعض جماعتوں نے یہ کہہ کرلاتعلقی کا اعلان کردیا ہے کہ ان سے پوچھا ہی نہیں گیا تھا۔ مشرف کو ابھی تک یہ غلط فہمی ہے کہ وہ ابھی تک آرمی چیف کے اختیارات رکھتے ہیں، کہ بغیر پوچھے بعض جماعتوں کا اتحاد بنا سکتے ہیں۔

 دو روز قبل روز ایم کیو ایم اور اس سے علحدگی اختیار کرنے والے گروپ پاک سرزمین پارٹی نے اتحاد بنایا اور بعد میں یہ اتحا د صرف ایک رات کا ثابت ہوا۔ ایک دوسرے پرتمام تر الزام تراشی کے باوجود پی ایس پی اور ایم کیو ایم ابھی تک ایک نقطے پر قائم ہیں کہ اتحاد ہونا چاہئے۔ یہ کراچی کے ووٹرز کا دباﺅ ہے یا اسٹلبمشنٹ کا؟ 
ریٹائرڈ جنرل مشرف بھی مہاجر اتحاد کے حامی ہیں۔ وہ کراچی میں اپنا حلقہ انتخاب ہی نہیں بلکہ سیاسی کارڈ کے طور پرکھیلنا چاہ رہے ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ پی ایس پی کے صدر مصطفیٰ کمال نے کھلم کھلا کہا ہے کہ ان کی پارٹی نے اسٹبلشمنٹ کے کہنے پر ایم کیو ایم سے اتحاد کیا تھا۔ تاحال اس کی تردید نہیں ہوئی ہے۔ 
سندھ میں ممتاز بھٹو نے اپنے سندھ نیشنل فرنٹ کو تحریک انصاف میںضم کردیا ہے۔ یہ پانچواں موقعہ ہے کہ ممتاز بھٹو نے فرنٹ کو کسی جماعت میں ضم کیا ہے۔ 
جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے دیگر مذہبی جماعتوں کے رہنماﺅں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایم اے اے کی بحالی کا اصولی فیصلہ کرلیا گیا ہے اور اس کا باقاعدہ اعلان دسمبر میں کراچی میں شاہ اویس نورانی کی رہائش گاہ پر کیاجائےگا۔ جو جماعتیں لاہور میں منعقدہ اجلاس میں شریک نہیں ان سے بھی رابطہ کیا جائے گا۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے مطابق ایم ایم اے کی بحالی پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔

 جماعت اسلامی آئین کے مطابق وقت پر انتخابات چاہتی۔ مذہبی جماعتوں نے 2002 میں بھی سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف دور میں ایم ایم اے کے نام سے سیاسی اتحاد قائم کیا تھا۔اور مولانا فضل الرحمٰن کو ایم ایم اے کا سربراہ مقرر کیا گیاتھا۔ 2002 کے عام انتخابات میں ایم ایم اے نے 63 نشستیں حاصل کی تھیں اور قومی اسمبلی میں تیسری بڑی جماعت کے طور پر ابھری تھی۔ 2002 میں بننے والے اس مذہبی سیاسی اتحاد میں جمعیت علمائے پاکستان، جمعیت علمائے اسلام (ف)، جماعت اسلامی، تحریک جعفریہ پاکستان، جماعت اہلِ حدیث اور متحدہ دینی محاذ شامل تھے۔ 
مذہبی سیاسی جماعتوں کا اتحاد بظاہر2005 میں کراچی میں بلدیاتی انتخابات میں اختلافات کی وجہ سے ٹوٹ گیا تھا۔ دراصل ملک میں تبدیل شدہ حالات میں اس اتحاد میں شامل جماعتوں کا رول تبدیل ہوگیا تھا، جس کی وجہ سے یہ اتحاد مزید عرصہ نہیں چل سکا۔ تبدیل شدہ حالات میں نئی صف بندی ہونے جارہی تھی۔ جس میں اقتدار پیپلزپارٹی کو ملنا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ پیپلزپارٹی کو اقتدار ملا لیکن دیر سے۔ 
 ایم ایم اے کی بحالی کے بعد کتنی موثر ہوگی؟ 
جماعت اسلامی فی الحال خیبر پختونخوا کی مخلوط حکومت میںتحریک انصاف کی اتحادی ہے۔ مولانا فضل الرحمان نواز لیگ کے اتحادی ہیں۔ دونوں دو الگ انتہا پر ہیں۔ ایم ایم اے ایک الگ انتہا ہے۔ 
 آج ایم کیو ایم اور اس سے علحدگی اختیار کرنے والے گروپوں کا یکجا ہونا اور متحدہ مجلس عمل کی بحالی اور اس کے ساتھ ساتھ ریٹائرڈ جنرل مشرف کا سرگرم ہونا ظاہر کرتا ہے کہ ایک بار پھر کوئی ایسا فارمولا وضع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو مشرف کے دور میں تھا۔ 
اس فارمولے کے تحت پیپلزپارٹی اور نواز لیگ دونوں آﺅٹ تھیں۔ ایم کیو ایم اور ایم ایم اے میدان میں تھیں۔ سابق صدر مشرف نے نواز لیگ کو دو حصوں میں کرکے چوہدری برادران کی قیادت میں مسلم لیگ قاف بنوا لی تھی۔ متحدہ شکل میں اقتدار کا حصہ تھی۔ اور وہ صرف صوبے کے دارلحکومت میں ہی نہیں بلکہ سندھ بھر میں سفید و سیاہ کی مالک تھی۔ 
یہ وہی فارمولا ہے جس کا ذکر گزشتہ روز پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے ان الفاظ میں کیا ہے کہ افتخار۔ کیانی فارمولا نہیں چلنے دیا جائے گا۔ 
سیاسی حلقے اس پر متفق نظر آتے ہیں کہ سابق وزیراعظم کو سزا ہو جائے گی ۔ جس کے بعد نواز لیگ کو ایک بہت بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس مشکل میں پارٹی کو متحدہ رکھنا، قیادت نامزد کرنا، اور انتخابات جیتنا تینوں شامل ہیں۔پیپلزپارٹی اس موقع کا فائدہ اٹھانا چاہے گی کہ نواز لیگ سے نکلنے والے بااثر افراد کو اپنے پاس جگہ دے۔لیکن اس کے لئے پیپلزپارٹی کو یقنینی بنانا پڑے گا کہ آئندہ حکومت اسی کی بن رہی ہے۔ اگر یہ یقین دہانی کرانے میں ناکام ہو جاتی ہے تو نواز لیگ چھوڑنے والے پیپلزپارٹی کے بجائے تحریک انصاف میں شمولیت کو ترجیح دیں گے۔ 
عمران خان اور مشرف دونوں نے یہ پڑھ لیا ہے کہ نئے امکانی سیٹ اپ میں نواز لیگ اور پیپلزپارٹی دونوں نہیں۔ پیپلزپارٹی کا خیال ہے کہ صرف نواز لیگ نئے سیٹ اپ میں نہیں ہے۔ 
غداری کے مقدمے سے بھاگے ہوئے مشرف کی خواہش ہے کہ بغیر انتخابات کے اقتدار ان کو دیا جائے، کیونکہ ووٹ کے ذریعے وہ نہیں جیت سکتے۔ وہ انتخابات سے ہٹ کر اپنی سیاسی حمایت میں کچھ سیاسی ، لسانی اور مذہبی جماعتوں کو کھڑا کر سکتے ہیں۔ عمران خان چاہتے ہیں کہ انتخابات کے ذریعے انہیں اقتدار دیا جائے۔ اس لئے ان کی کوشش ہے کہ سیاسی دھند کے درون ہی وقت سے پہلے انتخابات کا فیصلہ وہ جائے۔ لیکن الیکشن کمیشن کے حالیہ اعلان نے کپتان خان کی قبل از وقت انتخابات کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ 
اسلام آباد میں بعض مذہبی جماعتوں کے ایک ہفتے سے جاری دھرنے نے وفاقی دارلحکومت اور جڑواں شہر راولپنڈی کی معمول زندگی کو معطل کر کے رکھ دیا ہے۔مقتدرہ حلقے جو کراچی میں ایک روز کی ہڑتال کے آگے بند باندھ چکے ہیں وہ اسلام آباد کی شہری اور معمول کی زندگی مفلوج ہونے پر خاموش ہیں۔
یاد رہے کہ عمران خان کے آخری دھرنے کا عدلیہ نے بھی نوٹس لیا تھا۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ملک میں ایک بار پھر قدامت پسندی کا غلبہ تو نہیں ہو رہا؟ یہ صورتحال ملک کو ایک بار پھر روشن خیالی جمہوری عمل، شہری آزادیوں سے دور کر دے گی۔
 یہ تجزیہ نگار ایم ایم اے کی بحالی کو بھی اس سلسلے کی کڑی قرار دے رہے ہیں۔ اگر اسلام آباد کا دھرنا حکومت کو مطالبات منوانے کے ذریعے جھکا لیتا ہے یا یہ تحریک کسی طور پر پورے ملک کو لپیٹ میں لیتی ہے تو ملک بھر میں مذہبی سیاسی جماعتوں کی تنظیم کاری اور سیاسی شناخت صرف ایم ایم اے میں شامل جماعتوں کی موجود ہے۔ لہٰذا ایم ایم اے میں شامل جماعتوں کو اس کا فائدہ مل سکتا ہے۔ اس صورتحال میں ملک کے مقتدرہ حلقے بھی ایم ایم اے میں شامل جماعتوں پر زیادہ بھروسہ کرلیں۔ کیونکہ ان جماعتوں نے ماضی میں اسٹبلشمنٹ کے ساتھ کام کیا ہوا ہے۔ 

Nai Baat Nov 14, 2017
Sohail Sangi Column

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/52068/Sohail-Sangi/Kuch-Tabdeel-Hone-Ja-Raha-Hai.aspx

Monday, November 13, 2017

کراچی کی سیاست میں ڈرامائی تبدیلی

Nai Baat Nov 10, 2017
میرے دل میرے مسافر     سہیل سانگی

کراچی کی سیاست میں ایک بار پھر ڈرامائی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ مہاجر نعرے پر کام کرنے والی دوجماعتوں ، ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی نے کھل کر ساتھ چلنے کا اعلان کردیا ہے۔ 1984 میں مہاجر قومی موومنٹ کے نام سے مہاجروں کے حقوق کے نام پر قائم ہونے والی جماعت نے پہلے متحدہ قومی موومنٹ کا روپ لیا۔ اس میں پہلی دھڑے بندی نوے کے عشرے میں ہوئی جب آفاق احمد اور عامر خان کی قیادت میں ایک گروپ نے ایم کیو ایم حقیقی میں گروپ بنایا۔اس کے بعد کئی متوازی رجحانات اور گروپ اندرون خانہ چلتے رہے۔

 کراچی میں 2013 میں شروع ہونے والے حالیہ آپریشن کے بعد اس توڑ پھوڑ میں اضافہ ہوا۔ فاروق ستار کی قیادت میں ایک بہت بڑے حصے نے ایم کیو ایم پاکستان کا قائم کرنے اور لندن سے علحدگی کا اعلان کیا۔ تین جون 2016 کو مصطفیٰ کمال نے وطن واپسی پر ایم کیو ایم چھوڑ کر نئی پارٹی بنانے کا اعلان کیا تھا۔ یہ دونوں جماعتیں متوازی چلتی رہی، اور ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتی رہی۔ فاروق ستار کی قیادت میں چلنے والی ایم کیو ایم تمام تر اعلانات اور بیانات کے باوجود خود کو الگ ثابت نہیں کر سکی۔ سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پر یہ بحث چل رہی ہے کہ جنہوں نے ایم کیو ایم کو توڑا تھا اب واپس اس وک جوڑ رہے ہیں۔ 

گزشتہ دنوں سے فاروق ستار کے بیانات لگ رہا تھا کہ این پر سخت دباﺅ ہے۔ حکمت عملی کے حوالے سے ان کا آخری بیان یہ تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے منتخب اراکین کو پی ایس پی میں شامل کرایا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اگر برابری کی بنیاد پر کھنے دیا جائے تو ان کی قیادت میں چلنے والا گروپ زیادہ طاقتور ہے۔ ان کے اس بیان سے لگتا ہے کہ وہ کراچی کی سیاست میں نئی صف بندی میں اپنا حصہ زیادہ مانگ رہے تھے اور بالادستی چہاتے تھے۔ لیکن ان کی شاید ایک بھی نہیں مانی گئی۔ اس کے جواب میں مصطفیٰ کمال کا یہ موقف شیاع ہوا کہ اب ایم کیو ایم کا نام بھی نہیں رہے گا۔ 
ایم کیو ایم پاکستان کے بعض رہنماﺅں نے نجی محفلوں میں یہ بھی کہا کہ ہمیں واضح طور پر یہ بتایا گیا ہے کہ اگر نام اور جھنڈہ ت تبدیل نہیں کریں گے تو ہمارے سب لوگ پی ایس پی میں چلے جائیں گے۔ ہر حال میں نام بدل کر نئی پارٹی بنانی پڑے گی۔بلدیہ فیکٹری کے آتش زدگی کے واقعہ کے ایک ملزم محمد حماد کی گرفتاری نے بھی ڈرا دیا۔
 کراچی کے ڈپٹی میئر ارشد وہرا کی پاک سر زمین پارٹی میں شمولیت کے بعد ایم کیوایم پاکستان اور پی ایس پی رہنماﺅں کے بیانات میں شدت آگئی تھی، یہ بیان بازی اتنی بڑھی کہ گزشتہ روز پی ایس پی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے دعویٰ کیا تھا کہ اعلانیہ کہہ رہاہوں کہ ایم کیوایم کو دفن کرنا ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان پہلے خفیہ رابطے بھی چلتے رہے۔ مختلف آپشنز بھی زیر غور رہے یعنی انضمام ہو کہ اتحاد ہو؟ یا مل کر کوئی نئی پارٹی بنائی جائے؟ 

 متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی کا اہم اجلاس میں پاک سرزمین پارٹی سے مفاہمتی پالیسی پر چلنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں فاروق ستار نے نیا سیاسی منصوبہ رابطہ کمیٹی کے سامنے رکھ دیا ہے ،جس کے مطابق پہلے مرحلے میں سیاسی اتحاد پھر انضمام کیا جائے گا۔سیٹ ایڈجسٹمنٹ اور ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی نہ کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔ فاروق ستار نے پاک سرسبر پارٹی کے ساتھ چلنے کا تو فیصلہ کر لیا۔ لیکن خود ان کی پارٹی میں سب کچھ صحیح نہیں۔ 
ایم کیو ایم پاکستان کے ڈپٹی کنوینر عامر خان کہتے ہیں کہ صورت حال سامنے آئی ہے اس پر تشویش ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو طے ہوا تھا وہ یہ نہیں تھا، صورتحال اس سے مختلف ہے۔ مطلب فاروق ستار اور دیگر کو مذاکرات کے لیے جو مینڈٹ دیا گیا تھا وہ اس فیصلے سے مختلف تھا۔ 
متحدہ اور پی ایس پی کے ایک ہونے پر شبیرقائم خانی اور کشور زہرہ ناراض ہو کر اجلاس چھوڑ کر چلے گئے، جبکہ ایم این اے علی رضاعابدی نے ایم کیوایم پاکستان چھوڑنے اور ایم این اے کی نشست سے مستعفی ہونے کا اعلان بھی کردیا۔ایم کیو ایم رہنما شبیر قائم خانی کا نارضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ سب کرنا تھا تو پہلے ہی کردیتے۔
 پی ایس پی کا دعوا ہے کہ انہوں نے ایم کیوایم سے نہیں بلکہ ایم کیوایم نے پی ایس پی سے رابطہ کیا ہے۔ پی ایس پی کو ایم کیو ایم کا نام کسی صورت قبول نہیں ہے لیکن فوری انضام بھی مناسب نہیں سمجھتی۔ یعنی معاملات مرحلیوار طے ہوں۔
 ایم کیو ایم لندن اس اتحاد کو ایم کیو ایم ختم کرنے کی سازش سمجھ رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 23 اگست کا فاروق ستار نے اعلان ایم کیو ایم کو بچانے کے نام پر کیا تھا ۔ لیکن اب بات کہاں جا پہنچی ہے؟
سوال یہ ہے کہ دونوں جماعتیں اگر انضمام کی طرف جاتی ہیں تو قیادت کون کرےگا؟ یہ ایک متنازع معاملہ ہے۔ کیونکہ کوئی بھی گروپ دوسرے گروپ کے لیڈر کی قیادت میں چلنے کے لئے تیار نہیں۔ 
سندھ کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت العباد اور ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے ا نام ٹاپ لسٹ پر ہیں۔ عشرت العباد گورنری کے عہدے سے متسعفی ہونے کے بعد دبئی میں رہائش پزیر ہیں۔عشرت العباد نے ماضی میں مختلف جماعتوں کو ایک میز پر بٹھانے کی کوشش کی تھی تاکہ ان میں ہم آنگی پیدا ہو۔ لیکن وہ فی لاحال اس صورتحال سے خود کو لاتعلق ظاہر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ دونوں جماعتوں میں کسی سے بھی رابطے میں نہیں، البتہ ان دونوں پارٹیوں میں ہی اچھے لوگ موجود ہیں۔ وہ اس اقدام کو بہرحال مثبت سمجھتے ہیں انہیں امید ہے کہ ملک اور شہر کے لیے مثبت اور مل کر کام کریں آپس میں لڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔سابق گورنر سندھ فی الحال ممکنہ قیادت کے لیے ذہنی طور پر آمادہ ہی نہیں ہوں۔ وہ ایم کیو ایم حقیقی کو بھی تسلیم کرتے ہیں اور ان کا خیال ہے یہ دونوں پارٹیاں حقیقی کو نہ بھی ساتھ ملائیں تو بھی ورکنگ ریلیشن شپ توہو ہی سکتی ہے۔
 ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کو سب سے زیادہ خوشی ہے۔ یہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے دونوں گروپوں کے ایک ساتھ ہونے پر خوشی کا اظہار کیا تھا۔ ملک میں ان کے خلاف زیر سماعت مقد مات کے باوجود آج کل بیرون ملک ہیں۔ انہوں نے اپنے دور حکومت میں ایم کیو ایم کو مضبوط کیا تھا۔ ان کے ترجمان کے ذریعے موقف سامنے آیا ہے ۔ کہ جنرل ریٹائر مشرف کی اپنی پارٹی ہے، وہ اس پر توجہ دے رہے ہیں،قیادت عوام کی خواہش پر کی جاتی ہے۔ مہاجروں کے اتحاد پرخوشی ہے، ہمدردی ایم کیوایم کےساتھ نہیں مہاجروں کےساتھ ہے،مہاجر قوم کو اکٹھاہوکر ایک نئی طاقت کو ابھر کر سامنے آنا چاہیے۔ 
وہ سمجھتے ہیں کہ ایم کیو ایم نا اپنے آپ کوپاکستان بھرمیں بدنام کر دیا ہے، اس کا کوئی سیاسی مستقبل نظر نہیں آتا۔انہوں نے دونوں متحد ہونے والی جماعتوں کو مشورہ دیا کہ دیہی سندھ میں اپنی طاقت کوابھاریں، پیپلز پارٹی کو ہرا کر حکومت بنا سکتے ہیں۔
یعنی عشرت العباد اور پرویز مشرف دونوں مہاجروں کا بڑا اتحاد چاہتے ہیں اور ایم کیو ایم کے نام اور کام سے وابستہ پرانا بوجھ اٹھانا نہیں چاہتے۔ لہٰذا نام میں تبدیلی چاہتے ہیں۔ ان کے خیالات پی ایس پی کے مصطفیٰ کمال سے ملتے ہیں۔جنہوں نے مہاجر سیاست کی بنیاد پر کراچی سے باہر صوبے اور ملک میں سیاسی رول ادا کرنے کی بات کی ہے۔

ایم کیو ایم کے سابق رہنما سلیم شہزاد نے کہا ہے کہ فاروق ستار، مصطفیٰ کمال اور آفاق احمد ایک ہوجائیں ورنہ مہاجروں کا مینڈیٹ تقسیم ہو جائے گا۔وہ آج کل مہاجر اتحاد تحریک کے چیئر مین سلیم حیدر کے ہمراہ ہیں۔ کراچی کی سیاست میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے وہ آئندہ چند روز میں مہاجر الائنس کے اتحاد کیلئے گرینڈ مہاجر کنونشن بلا رہے ہیں۔ 
ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی کا یہ اتحاد آگے چل کر کیا شکل اختیار کرتا ہے؟ اور مہاجر نام پر کی جانے والی سیاست میں مزید کیا پیچ وخم آنے والے ہیں۔ ابھی تک کچھ واضح نہیں۔ 
اگرچہ پیپلز پارٹی ی کا فوری ردعمل ہی ہے کہ ایم کیو ایم کے دھڑے مل جائیں تو اچھا ہوگا۔ لیکن ریٹائرڈ جنرل مشرف یہ مشورہ اہم ہے کہ دیہی سندھ میں اپنی طاقت کوابھاریں، پیپلز پارٹی کو ہرا کر حکومت بنا سکتے ہیں۔یا مصطفٰ کمال کا یہ کہنا کہ مہاجر متحد ہوں تو ویزراعلیٰ کیا وزارت عظمیٰ کا بھی عہدہ لے سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ لیا جارہا ہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی مخالف گرپوں کو کٹھا کر کے شہری سیاست کے نام پر بننے والی نئی تنظیم کے ساتھ مل کر حکومت بنائی جائے۔ یہ کوئی نیا فارمولا نہیں۔ لیکن اسٹبلشمنٹ اس فارمولے کو نئی شکل میں آزما سکتی ہے۔

Sohail Sangi Column 
Nai Baat Nai Baat Nov 10, 2017