Saturday, November 30, 2019

تھر: ماروی اور فطری خوبصورتی

تھر: ماروی اور فطری خوبصورتی

لوگوں کی بڑی تعداد نگر پارکر کے علاقے میں سیر و تفریح کے لیے آتی ہے۔ فوٹو: اردو نیوز

بارش ہو اور چھٹیاں ہوں، سندھ کے لوگ تھر کا رخ کرتے ہیں۔ قدرتی مناظر سے مالا مال سادہ لوگوں کی یہ سرزمین سیرو تفریح کے لیے موزوں مقام ہے۔
نہ یہاں چوری یا لوٹ مار کا ڈر نہ امن و امان کے حوالے سے کوئی پریشانی، یہی وجہ ہے اب کے برس جب بارشیں ہوئیں تو لاکھوں لوگ تھر کا سبزہ، ریت کے ٹیلے اور کارونجھر پہاڑ کے دلکش مناظر دیکھنے پہنچے۔ عید کی چھٹیوں کے تین روز میں ایک لاکھ گاڑیوں کی آمد ریکارڈ کی گئی۔
سندھ کے جنوب مشرق میں واقع تھر فطرت کا یہ عجائب گھر ایک عشرے سے مسلسل خبروں میں رہا ہے۔ کبھی قحط سالی تو کبھی تھرکول تو کبھی غذائیت کی قلت کے باعث بچوں کے اموات کی وجہ سے تھر کی فطری خوبصورتی اس کا چوتھا پہلو ہے جو اکثر غائب رہتا ہے۔
نئوں کوٹ قلعے کی مرمت و تزئین کا کام آخری مراحل میں ہے۔ فوٹو: اردو نیوز

مون سون ختم ہو چکا، فصلیں اتر چکیں لیکن اب بھی یہاں اچھے مون سون کا ہیولہ برقرار ہے۔ ایک بار پھر تھر دیکھنے کے لیے روانہ ہوئے اور نئوں کوٹ کے راستے تھر میں داخل ہوئے۔
تھرپارکر پولیس کی چیک پوسٹ احساس دلاتی ہے کہ اب آپ تھر میں داخل ہو رہے ہیں۔ چیک پوسٹ کے سامنے ہی تالپور دور کا قلعہ ہے۔
نئوں کوٹ قلعہ تھر میں سینگارو اور کھڈی کے مقامات پر بنائے گئے قلعوں کی سیریز کا حصہ ہے۔
انگریزوں کے ہاتھوں سندھ کی فتح کے بعد زمانے کی ستم ظریفی اور حکومتوں کی نظر اندازی نے قلعے کو خستہ حال کر دیا۔ دو سال قبل ہیریٹیج انڈومنٹ فنڈ نے قلعے کی مرمت و تزئین شروع کی جو اب آخری مراحل میں ہے۔

قلعے سے ڈیڑھ دو کلومیٹر ہی چلے تھے کہ ریگزار نے خیرمقدم کیا، ریت کے ٹیلوں پر کھڑے خاردار پودے اور پیڑ بتا رہے تھے کہ صحرا شروع ہو چکا ہے۔ ڈرائیور کے بقول یہاں سے خودبخود فوزیہ سومرو یا مائی بھاگی کے گانے گاڑی کے ریکارڈر پر بجنا شروع ہو جاتے ہیں۔
چند کلومیٹر آگے گوٹھ خانہور اوٹھا ہے، اس گاؤں کا سندھ کی تاریخ و ادب میں حصہ دو شعرا ماٹھینو اوٹھو، بلاول اوٹھو یا پھر بائیں بازو کے پرانے کارکن عزیز مہر انوی کی وجہ سے ہے۔ کیسٹ کلچر کے دور میں بلاول اوٹھو کی شاعری مشہور گلوکارہ فوزیہ سومرو نے گائی، یوں شاعر اور گلوکارہ دونوں کو شہرت ملی۔
راستے میں تازہ کٹی ہوئی فصلوں والے کھیت اور ہرے بھرے کنڈی اور جار اور دیگر صحرائی نسل کے درخت موسم بہار کا انتظار کر رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ اس مرتبہ تھر میں موسم بہار زیادہ اچھا ہوگا۔
وجوٹو نئوں کوٹ اور مٹھی کے آدھے فاصلے پر واقع ہے، یہاں کبھی انگریز دور کا ریسٹ ہاؤس ہوتا تھا۔ نہایت ہی کڑوا پانی ہونے کے باوجود 80 کے عشرے میں پختہ سڑک بننے تک اس چھوٹی سی جگہ کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ اب چلتی گاڑی میں یہ جگہ کوئی عکس چھوڑے بغیر آنکھوں کے سامنے سے گزر جاتی ہے۔
یہاں ایک پرانے کنوئیں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہیں سے عمر نے ماروی کو اٹھایا تھا۔ فوٹو: اردو نیوز

پونے گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم تھرکے ضلعی ہیڈکوارٹر مٹھی پہنچ چکے تھے۔ مٹھی ضلعی ہیڈکوارٹر بننے سے پہلے بھی ثقافتی اور مخیر سرگرمیوں میں پیش پیش رہا ہے۔ کمہار برادری کی بسائی ہوئی اس بستی میں بعد میں راجپوتوں نے دربار نما اپنی کوٹری بنائی۔
مرکزی حیثیت بننے کی وجہ سے کچھ اور بھوج سے تجارت پیشہ ہندو لوہانہ برادری بڑے پیمانے پر اور مہشوری، سنار، میگھواڑ اور دیگر برادریاں آ کر یہاں آباد ہوئیں۔
اگرچہ مٹھی کو لوہانوں کا شہر سمجھا جاتا ہے لیکن درحقیقت یہ مختلف عقیدوں کے ماننے والوں کا شہر رہا ہے۔ یہاں مختلف مسلمان برادریاں بھی آباد ہیں۔ مٹھی پاکستان کا واحد شہر ہے جہاں ہندو اور مسلمان ساتھ مل کر ایک دوسرے کے تہوار مناتے ہیں۔
سندھ کی روایت کے مطابق یہاں مہمانوں کے لیے اچھی موسیقی کا بھی اہتمام ہے۔ فوٹو: اردو نیوز

گذشتہ 30 سال کے دوران دیکھتے دیکھتے مٹھی پانچ گنا بڑا ہو گیا۔ دیہی علاقوں سے آ کر یہاں لوگ بسے ہیں۔
مِٹھی اب ایک شہر ہے جہاں ہوٹلز، گیسٹ ہاؤسز کے ساتھ ساتھ تمام سہولیات اور کھانے پینے کی اشیا دستیاب ہیں۔  
تھر سرسنگیت کی بھی دھرتی ہے، ابھی تک لوک گیت عام لوگ گاتے اور گنگناتے ہیں۔ عام لوگوں کو ابھی تک شاہ عبداللطیف بھٹائی، میرا بائی، بھگت کبیر کی شاعری یاد ہے۔
شاہ عبداللطیف بھٹائی کو تھر منفرد انداز میں گاتا ہے۔ موہن بھگت نے شاہ بھٹائی کو بھگتی سٹائل میں گا کر اس عظیم شاعر کی شاعری کو لوگوں کو ازبر کرنے میں مدد دی۔ مراد فقیر اور مائی بھاگی نے مقبول لوک گیت 'چرمی' گا کر سندھی موسیقی میں لوک گیتوں کو زندہ کر دیا۔  
تھرپارکر میں کارونجھر کا علاقہ معدنیات سے مالامال ہے۔ فوٹو: اردو نیوز

مائی بھاگی بیک وقت شاعرہ، گائکہ اور موسیقار تھیں۔ انہوں نے سندھی گائیکی کو نیا رخ دیا۔ لتا منگیشکر کی لائبریری میں بھی ان کی آڈیو کیسٹس موجود ہیں۔
بعد میں صادق فقیر نے لوک گیت، شیخ ایاز کی جدید شاعری گا کر سندھی موسیقی میں نیا پن پیدا کیا۔ کریم فقیر اور صادق فقیر کے بیٹے نزاکت فقیر صادق فقیر کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے مہمانوں کو اچھی موسیقی سے محظوظ کرتے ہیں۔  
مٹھی شہر کا تجارت کے ساتھ ادب و ثقافت میں اہم کردار رہا ہے۔ ہر ماہ دو تین ادبی یا ثقافتی پروگرام منعقد ہوتے ہیں۔ نصیر کنبھار، امام علی جنجھی اور درجن بھر دیگر شعرا آج بھی اہم ہیں۔
لوک دانائی جاننے کے لیے بھارو مل امرانی اور پیارو شوانی سے ملیں۔ سماجی اور سیاسی حال احوال کے لیے کھاٹائو جانی سے معلومات کے بغیر جانکاری ادھوری ہے۔
تھر کے مقامی افراد زمین فروخت کر رہے ہیں جبکہ باہر کے لوگ یہاں زمین خرید رہے ہیں۔ فوٹو: اردو نیوز

مٹھی کے قریب ٹابھو میگھواڑ دستکاروں کا گاؤں ہے۔ ان دستکاروں کا کہنا ہے کہ جو چیز کہیں آپ کو لکڑی، دھات، کپڑے، چمڑے یا مقامی جانوروں کے بالوں سے بنا کر دے سکتے ہیں۔  
مٹھی سے نکلتے ہی سڑک کے دونوں طرف بعض مقامات پر ٹریفک کے لیے اونٹوں کے نشانات لگے ہوئے ہیں۔ اونٹ سڑک پر کھڑا ہو جائے تو گاڑی کے ہارن سے نہیں ہٹے گا۔ رات کے وقت گاڑی کی روشنی میں وہ کچھ دیکھ نہیں سکتا اور گاڑی کے اوپر بیٹھ جاتا ہے۔
دو عشرے پہلے تک اسلام کوٹ نصف درجن دکانوں اور نیم کے درختوں والا شہر تھا۔ اب باقاعدہ شہر کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ یہاں چہل پہل زیادہ ہے۔ کوئلے کی کھدائی اور بجلی گھر کی تعمیر کی وجہ سے معاشی سرگرمی نظر آتی ہے۔
انگریزوں کے خلاف لڑنے والے روپلو کولہی کا تعلق بھی کارونجھر کی پہاڑیوں سے تھا۔ فوٹو: اردو نیوز

شہر کے اندر داخل ہونے والے اجنبی کو اکثر پراپرٹی ڈیلر گھیر لیتے ہیں۔ بڑے پیمانے پر تعمیراتی کام اور پلاٹوں کی خریدو فروخت ہو رہی ہے۔ یہاں زمین کی قیمت حیدر آباد کے برابر بتائی جاتی ہے۔
مقامی لوگ زمین بیچ رہے ہیں اور باہر کے لوگ خرید رہے ہیں۔ یہاں تک کہ انتظامیہ کے بعض اعلیٰ افسران نے اسلام کوٹ کی نئی شہری منصوبہ بندی کے تحت پوش علاقے بننے والی سینکڑوں ایکڑ زمین خرید لی۔
نگر پارکر پہنچنے سے پہلے حب الوطنی کی کردار ماروی کا گاؤں بھالوا سیاحوں کے لیے باعث دلچسپی کا مرکز ہے۔ وقت کے حکمران عمر سومرو نے تھر کی خوبصورت لڑکی ماروی کو کنویں سے پانی نکالتے وقت اٹھایا اور عمرکوٹ میں لاکر قید کر لیا تھا۔
ماضی میں دریائی بہاؤ تھر میں آ کر ختم ہوتے تھے تاہم دریاؤں نے رخ بدلا تو یہ صحرا ہو گیا۔ فوٹو: اردو نیوز

کہاوت کے مطابق عمرماروی سے شادی کرکے مہارانی بنانا چاہتا تھا، لیکن ماروی راضی نہیں ہوئی، وہ ہرحال میں واپس اپنے گاؤں جانا چاہتی تھی۔ ماروی اس فیصلے پر ڈٹی رہی اور کہا کہ اگر 'میں مر جاؤں تو مجھے میرے گاؤں میں ہی دفن کرنا۔‘  
سندھ کے لوگ آج بھی جب وطنیت کا اظہار کرتے ہیں تو ماروی کے کردار کو ہی بیان کرتے ہیں 'جیھا جے تیھا موں مارو مجیا‘ جیسے بھی ہیں وہ میرے لوگ ہیں۔ بھالوا میں ایک حکومت سندھ کے محکمہ ثقافت نے ایک چھوٹا سا کمپلیکس بنایا ہے جس کے احاطے میں پرانا کنواں بھی ہے۔ کہتے ہیں کہ اسی کنویں سے عمر نے ماروی کو اٹھایا تھا۔
کارونجھر پہاڑ کی گود میں نگرپارکر شہر ہے۔ پورا کارونجھر نہ صرف معدنیات اور قدرتی مناظر سے بھرپور ہے بلکہ یہاں کئی مقامات پر مختلف مذاہب کی عبادت گاہیں بھی ہیں۔
تھر میں مسلمان اور ہندو ساتھ مل کر ایک دوسرے کے تہوار مناتے ہیں۔ فوٹو: اردو نیوز

گجرات کے حکمران محمود شاہ بن ظفر شاہ کی 1436 میں تعمیر کردہ بھوڈیسر مسجد جین اور ہندومذہب کے مندر ہیں۔ ان مذہبی عبادت گاہوں کی حال ہی میں مرمت ہوئی ہے۔
انگریزوں کے خلاف لڑنے والے روپلو کولہی کا تعلق بھی کارونجھر کی پہاڑیوں سے تھا۔ پہاڑ کی دوسری طرف کاسبو اور آدھی گام ہیں۔ کاسبو کے مندرمیں تھر کے گلوکاریوسف فقیر کا بسیرا ہے۔ آپ ان سے تھری وداع کا گیت 'ڈورو' پرسوز انداز میں سن سکتے ہیں۔
تھر کے لوگ کہتے ہیں کہ ماضی میں تمام دریائی بہاؤ تھر میں آ کر ختم ہوتے تھے۔ بعد میں دریاؤں نے رخ  بدلے یا پھر سرسوتی، گھاگھر یا ہاکڑو کی طرح خشک ہو گئے، تو تھر صحرا ہو گیا۔

مشرف پر سنگین غداری کا کیس اور حکومتی رویہ


مشرف پر سنگین غداری کا کیس اور حکومتی رویہ 
میرے دل میرے مسافر   سہیل سانگی  
 ایک ڈرامائی تبدیلی  رونما ہونے کو ہے۔ خصوصی عدالت ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کا فیصلہ سنانے جارہی تھی، تو اس سے دو روز قبل  وزیراعظم عمران خان کی حکومت اس کے دفاع میں اتر آئی ہے۔  اور لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹس میں فیصلہ رکوانے کے لئے  دو الگ الگ درخواستیں دائر کی ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف بیمار ہیں اس لیے عدالت نہیں آسکتے، اگر پرویز مشرف کی صحت ٹھیک نہیں تو کیس موخر کرنا چاہیے۔وزیر موصوف بندہ ساتھ لیکرپرویز مشرف کو  دیکھنے کے لئے جانے کے لئے تیار ہیں۔  وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ  پرویز مشرف کو غدار قرار دینا مناسب نہیں، انہیں آئین شکن کہا جاسکتاہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مشرف کیس میں حکومت کی نیت صحیح نہیں لگ رہی۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ اکیلا میرا نہیں ہے، اس میں اٹارنی جنرل اور دیگر بھی شریک ہیں۔
 سنگین غداری کیس میں فیصلہ رکوانے کے لیے تحریک انصاف حکومت نے اسلام آباد اورلاہور ہائی کورٹس سے استدعا کی ہے کہ عبوری ریلیف کے طور پر خصوصی عدالت کا 19 نومبر کا فیصلہ معطل کیا جائے۔ گزشتہ ہفتے پرویز مشرف کی مسلسل غیر حاضر رہنے کے بعد سنگین غداری کیس سننے والی  پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت نے اس ٹرائل کا فیصلہ محفوظ کرلیا  تھا۔وزیر داخلہ بریگیڈیئر اعجاز شاہ  جو مشرف کے ساتھی رہے ہیں کہتے ہیں کہ مشرف کو مناسب وقت دیں۔ 
 انیس نومبر کو خصوصی عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا اور  28 نومبرفٖیصلہ سنانے کا اعلان کیا تھا۔ خصوسی عدالت کے فیصلہ محفوظ کرنے کے دو روز بعدکو چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے 21 نومبر کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ ’عدلیہ کے سامنے کوئی طاقتور نہیں ہے، عدلیہ نے دو وزرائے اعظم کو نااہل قرار دیا جبکہ ایک سابق آرمی چیف کا فیصلہ آ رہا ہے۔چیف جسٹس کی یہ تقریر وزیر اعظم عمران خان کی تقریر کے جواب میں تھی جس میں انھوں نے براہ راست جسٹس کھوسہ کو ملک میں یکساں نظام انصاف لاگو کرنے کا کہا تھا۔واضح رہے کہ جسٹس کھوسہ اگلے ماہ 20 دسمبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔حکومت نے پاکستان کے نئے چیف جسٹس کے تقرر کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔
یہ مقدمہ ملزم پرویز مشرف پر آرمی چیف کی حیثیت سے تین نومبر 2007 کو ملک کا آئین معطل کر کے ایمرجنسی لگانے کے اقدام پر درج کیا گیا تھا۔سنگین غداری کے ٹرائل کی باقاعدہ کارروائی سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور حکومت میں  دسمبر 2013 کو شروع ہوئی تھی۔ 2014 میں ان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ اگر مشرف پر بغاوت کا الزام ثابت ہو جائے تو انھیں پھانسی یا عمر قید ہو سکتی ہے۔ پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی سمیت چار مقدمات ہیں جس میں مختلف عدالتیں اُنھیں اشتہاری قرار ے چکی ہیں۔
پراسیکیوشن ٹیم نے اپنی تمام شہادتیں اور دلائل مئی 2014  میں مکمل کرلیے تھے۔اس کے بعد مشرف کے وکلا کی جانب سے متعدد درخواستیں دی گئیں اور یہ مقدمہ عدالتی فائلوں میں ہی دب کر رہ گیا۔ نواز شریف کے دور حکومت میں بننے والی خصوصی عدالت کے سربراہ رہنے والے تین ججز بعد میں سپریم کورٹ کے ججز بن گئے۔تو اس عدالت کی نئے سرے سے تشکیل ہوتی رہی۔
وزارت داخلہ نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ سنگین غداری کیس میں شریک ملزمان کو مقدمے میں شامل ہی نہیں کیا گیا ہے۔موجودہ حکومت کا یہ موقف ہے کہ کیس میں پرویز مشرف دفاع کے حق سے محروم کیا گیا۔ خصوصی عدالت کا فیصلہ آئیں کے آرٹیکل 4 اور 10اے کی خلاف ورزی ہے۔ دلچسپ بات ہے کہ وزیرداخلہ آئین کو توڑنے کو  معمولی بات قرار دے رہے ہیں لیکن اسی آئین کی روء سے رلیف مانگ رہے ہیں۔   
 درخواست میں کہا گیا ہے کہ سابق آرمی چیف پرویز مشرف کو صفائی کا موقع ملنے تک خصوصی عدالت کو فیصلہ دینے سے روکا جائے۔کیونکہ حکومت نئی پراسیکیوشن ٹیم تعینات کرنا چاہتی ہے۔موجودہ حکومت نے خصوصی عدالت پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ عدالت کی تشکیل درست ہے اور نہ ہی شکایت مجاز فرد کی جانب سے داخل کرائی گئی ہے۔خصوصی عدالت کی تشکیل پر تحریک انصاف حکومت کی طرف سے پہلی بار اعتراض اٹھایا گیا ہے۔ خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کے علاوہ  اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز، چیف جسٹس کے عہدے پر براجمان ہونے والے جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور وزیر قانون زاہد حامد کو بھی اس ٹرائل میں شامل کرنے کا حکم دیا تھا۔لیکن پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اس مقدمے کے لیے قائم کی گئی خصوصی عدالت کو وفاقی حکومت کی شکایت کے عین مطابق ٹرائل صرف سابق آرمی چیف تک ہی محدود رکھنے کا حکم دیا تھا۔خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کو پیش ہونے کے متعدد مواقع دیے۔ رواں سال  مارچ میں  ملزم پرویزمشرف کا بیان ویڈیولنک کے ذریعے ریکارڈ کرنے کا حکم دیا ہے۔لیکن انہوں نے یہ موقع استعمال نہیں کیا۔اس عرصے کے دوران مشرف خود پیش ہوئے نہ ہی عدالت کی دیگر آپشنز کو تسلیم کیا۔ اب خصوصی عدالت مقدمے کا  فیصلہ 28 سنانے جارہی ہے، تو حکومت اس فیصلوے کو روکنا چاہ رہی ہے۔ وہ دبئی سے ملک آنے کوتیار نہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کے بعد پرویز مشرف ٹرائل کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی کوشش کی گئی، اس ٹرائل میں پراسیکیوشن ٹیم کو توڑدیا گیا۔ بعض دفعہ وکلا بھی نامزد نہیں کیے گئے، تاہم چیف جسٹس آصف کھوسہ نے یہ مقدمہ منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے  خصوصی عدالت کو احکامات دیے۔ ایک سماعت پر ریمارکس دیے تھے کہ برطانیہ میں مارشل لا کے نفاذ کی پاداش میں اولیور کرامویل کے جسد خاکی کو پھانسی کی علامتی سزا دی گئی تھی۔ 
ملک کے بعض اہم اداروں میں ادارتی تبدیلیاں آرہی ہیں۔ آرمی میں یہ تبدیلیاں آچکی، اب  الیکشن کمیشن اور عدلیہ میں بھی تبدیلیاں آرہی ہے کیونکہ ان دو اداروں کے سربراہان بھی اپنی میعاد ملازمت مکمل کرنے والے ہیں۔عدلیہ کے پاس جسٹس فائز عیسیٰ کا ریفرنس بھی زیر سماعت ہے۔ حکومت ہر حال میں جنرل مشرف سے سزا سے بچاناچاہتی ہے، اب حکومت اور عدلیہ دونوں  کے لئے امتحان ہے۔ نوز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کا  وزن حکومت عدلیہ پر ڈال رہی ہے۔فیصلہ جو بھی آئے اس کے ملکی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہونگے۔ 




Wednesday, November 20, 2019

مستقبل قریب کا منظر نام


https://www.naibaat.pk/18-Nov-2019/27801
اب سب کچھ نہیں تو بھی بہت کچھ کھل کر سامنا آچکا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کے ملک میں موجود بحران کو مزید توانا کردہ دیا۔ نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کے معاملات طے کرلئے تھے۔ عمران خان نواز شریف کی بیرون ملک روانگی میں اس لئے رکاوٹیں ڈال رہے ہیں تاکہ بگاڑ پیدا ہو اور بداعتمادی پیدا ہو۔ گزشتہ تین روز سے گجرات کے چوہدریوں کا لب و لہجہ بدلا ہوا ہے۔ نواز شریف کے بیرون ملک علاج کے حوالے سے بھی ق لیگ نے پی ٹی آئی حکومت کے بانڈ کی شرط کے فیصلے سے اتفاق نہیں کیا۔ اور نواز شریف کی غیر مشروط طور پر بیرون ملک جانے کی اجازت کا مطالبہ کیا گیا۔چوہدری شجاعت حکومت کے سرکردہ اتحادی ہیں ان کا اتنا سخت بیان یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ خود کو خان حکومت سے دور کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ چوہدری برادران یہ کام مقتدرہ حلقوں کی حمایت کے بغیر نہیں کر سکتے۔ چوہدری کے بیان سے لگتا ہے کہ اگر تین سے چھ ماہ کے اندر عمران خان کو فارغ نہیں کیا گیا تو ملک کو چلانا کسی کے بس کی بات نہیں ہوگا۔ حکمران جماعت کی سرکردہ اتحادی جماعت مسلم لیگ ق عمران خان حکومت سے مطمئن نہیں ایک انٹرویو میں چوہدری شجاعت حسین نے کہا تھا کہ بڑھتی مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے کوئی بھی وزیراعظم بننے کو آمادہ نہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کو کچل دیا گیا ہے۔ مقررہ مدت تین سے چھ ماہ تک بڑھائی جا سکتی ہے۔

سینیٹ کے چیرمین صادق سنجرانی نے بھی سینیٹ کے اجلاس میں یہ فیصلہ دی کہ نواز شریف کو علاج کے لئے بیرون ملک بھیجا جائے۔ سب جانتے ہیں کہ صادق سنجرانی کو لانے والے اور بچانے والے کون ہیں۔ یہی مطالبہ ایم کیو ایم نے بھی کیا ۔ عمران خان حکومت پہلے ہی سیاسی تنہائی کا شکار ہے اس کے تین اتحادی چوہدری براردران اور ایم کیو ایم نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کی کھلے عام حمایت کر رہے ہیں اور کسی شرط لاگو کرنے کے حق میں نہیں۔
کیا شہباز شریف اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان واقعی ہم آہنگی پیدا ہو گئی ہے؟ بظاہر یہی لگتا ہے۔ اس کی دو وجوہ ہیں۔ اول مائنس نواز شریف، جو کہ خرابی صحت کی وجہ سے ویسے ہی مائنس ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف خان کو حکومت میں لانے کا ناکام تجربہ۔ جس کی وجہ سے ملک سیاسی اور معاشی بحران کی لپیٹ میں ہے۔
بظاہر لگتا ہے کہ ان ہائوس تبدیلی کی تھیوری زور پکڑ رہی ہے۔ اس تھیوری کے مطابق پنجاب میں چوہدری پرویز الاہی، اور وفاق میں شہباز شریف یا کوئی اور بیچ کا بندہ۔

مولانا ضل الرحمٰن کو بھی چوہدری برادران نے یہ تسلی دے کر روانہ کیا کہ مقتدرہ حلقے نظریہ تسلسل پر نظرثانی کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ تبدیلی کے لئے نئے پلان اور نئے اسکرپٹ تیار ہو رہے ہیں۔ نواز شریف کو نیب سے ہسپتال پہنچانے میں مد دکرنے پر گزشتہ روز پریس کانفرنس میںشریف نے خداترس بندوں کا شکریہ ادا کیا تھا۔
لگتا ہے کہ ان خدا ترس بندوں سے ان کے معاملات بہتر ہو گئے ہیں۔ اس اسکرپٹ سے بلاول بھٹو بھی آگاہ ہیں، وہ بھی کہتے ہیں کہ آئندہ سال نیا وزیراعظم ہوگا۔
ق لیگ ملک کے مجموعی منظر نامہ کو پریشان کن سمجھتی ہے۔ ق لیگ کے ذرائع کے مطابق اس اتحادی جماعت نے تحریک انصاف کو کئی مرتبہ مشورہ دیا کہ معیشت اور طرز حکمرانی پر توجہ دیں ، اور احتساب جیسے متنازع معاملات میں نہ الجھیں۔ ق لیگ سمجھتی ہے کہ کہ حکومت کارکردگی دکھانے میں ناکام ہوگئی ہے اسلئے کوئی بھی مطمئن نہیں۔ الیکشن کے بعد چوہدری شجاعت نے عمران خان کو خان کو مشورہ دیا تھا کہ معیشت پر توجہ دیں ، ملک کی مالی صحت بہتر بننے کے بعد ہی کرپٹ افراد کیخلاف کریک ڈاؤن کریں۔ لیکن عمران خان نہیں چھوڑوں کی رٹ لگائے رکھی۔ ذرائع کے مطابق رواں سال والے بجٹ کے موقع پر چوہدری شجاعت، پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کی عمران خان سے آخری مرتبہ ملاقات ہوئی تھی۔ اب تو ق لیگ کی قیادت یہ کہہ رہی ہے کہ جب یہ لوگ ہماری سننے کیلئے تیار نہیں۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں چوہدری پرویز الٰہی نے حکومت سے کہا تھا کہ وہ اعتماد سازی کا ماحول بنانے اور معیشت بہتر کرنے پر توجہ مرکوز رکھے۔ پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ حکومت اپوزیشن کی جانب نرمی کا مظاہرہ کرے اور ساتھ ہی احتساب کی موجودہ پالیسی پر نظرثانی کرے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ سیاسی نوعیت کے کیسز پر کارروائی سے گریز کرے۔
ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آئی تو حکومت نے اپوزیشن کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے۔ اتحادی ساتھ ہونے کے باوجود دوری کا اشارہ دے چکے تھے۔ ؟ قومی اسمبلی میں حکمران اتحاد کے پاس 183 اور اپوزیشن کے پاس 158 اراکین ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ کہیں اپوزیشن کے عدم اعتماد کی تحریک منظور نہ ہو جائے، اگر ہو جاتی ہے تو وزیراعظم کے خلاف بھی عدم اعتماد کی تحریک لائی جاسکتی ہے۔ لہٰذا حکومت نے بہتر سمجھا کہ منظور کردہ آرڈیننس واپس لے لئے جائیں۔ صرف پچیس اراکین کا فرق ہے۔ اگر اتحادی جماعتیں الگ ہو جاتی ہیں اور اپوزیشن کا ساتھ دیتی ہیں تو وزیراعظم بھی نہیں رہے گا۔
وفاق اور پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت معمولی اکثریت کی حامل ہیں جس کے باعث اتحادی جماعتیں بالخصوص ق لیگ کے ارکان حکومت کی بقاء کیلئے بیحد ضروری ہیں۔
ماضی میںبھی ایسی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں کہ دونوں جماعتوں کے درمیان ق لیگ کے کابینہ میں حصے کے حوالے سے اختلافات پیدا ہو چکے ہیں۔ چوہدریوں کا حالیہ طرز عمل پی ٹی آئی والوں کے لیے پہلے کے مقابلے میں زیادہ پریشان کن ہو چکا ہے۔ اب دیکھیں واقعات کے صفحات آنے والے دنوں میں کس طرف پلٹتے ہیں۔

Tuesday, November 19, 2019

Sohail Sangi Stories published



Sohail Sangi Stories published in October and Nov 2019
بے نظیر کن شرائط پر وزیراعظم بنیں؟
 16 نومبر ، 2019
---------------------------------------

پہلا مارشل لا اور پہلا سیاسی جلا وطن

 10 نومبر ، 2019
---------------------------------------

جب احتجاج کی ریہرسل کرتے ہجوم پارلیمنٹ پہنچ گیا

 27 اکتوبر ، 2019
---------------------------------------

بیگم نصرت بھٹو کی چھاپہ مار کارروائی

 23 اکتوبر ، 2019
---------------------------------------

کیا سیاست نے اسلام آباد بنایا؟

 20 اکتوبر ، 2019
---------------------------------------
لیاقت علی خان قتل کیس
 13 اکتوبر ، 2019
---------------------------------------

 حر قتل کیس  بھٹو پر قتل کا دوسرا مقدمہ

 06 اکتوبر ، 2019
---------------------------------------


two stories on Imran khan in Sept
Details of my stories are as under: 
چے گویرا پاکستان میں 1.
Scheduled on August 10
---------------------------------------
'آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے'  2.
 03 اگست ، 2019
---------------------------------------
لیاری گینگ وار، سیاست اور فکری سفر 3.
 27 جولائی ، 2019
---------------------------------------
تھینک یو امریکہ: دس ہزار ٹن گندم اور جیکی کے قہقہے 4.
 20 جولائی ، 2019
---------------------------------------
جب ایک سیاسی قیدی سندھ کے کچے کے ڈاکوؤں کو ملا 5.
 13 جولائی ، 2019
---------------------------------------
باہر نکلنے والے کو گولی مار دی جائے گی‘ 6.
 05 جولائی ، 2019
---------------------------------------
تالپور سیاست میں غیر مؤثر کیسے ہوئے؟ 7.
 28 جون ، 2019
---------------------------------------
ہم وہ پیدائشی حاکم ہیں جو ہمیشہ اقتدار میں رہتے ہیں‘ 8.
 21 جون ، 2019
---------------------------------------
پگاڑا بھٹو جیسی پوزیشن چاہتے تھے 9.
 14 جون ، 2019
---------------------------------------
مہر خاندان : ’وزیراعلیٰ ہاؤس کی محفلیں‘10.
 09 جون ، 2019
---------------------------------------
اقتدار کے ’پاس‘ رہنے والا مہر خاندان 11.
 08 جون ، 2019
---------------------------------------
ہالہ کے مخدوم خاندان کی کہانی 12.
 28 مئی ، 2019

Sunday, November 17, 2019

تھر: عوام کے سر پر پہاڑ توڑنے کی کوشش


تھر: عوام کے سر پر پہاڑ توڑنے کی کوشش 
سندھ نامہ   سہیل سانگی
لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔  یہ کاروبار زراعت اور گلہ بانی کی ترقی کے خلاف ہے۔  لوگوں کو روزگار کے ذرائع چھن جائیں گے۔  ثقافتی ورثے کی تعریف میں بھی آتا ہے۔ 
جب سے ملکی و غیر ملکی مائننگ کمپنیوں نے تھر کا رخ کیا ہے، تھر کے لوگ زمین اپنے پاؤں کے نچیے کھسکتی ہوئی محسوس کر رہے ہیں،  ان کی بے بسی اور لاوارثی اس وقت ناقابل دیکھ ہو تی ہے جب حکومتی ادارے عوام کا ساتھ دینے کے بجائے ان کمپنیوں کا  ساتھ دیتے ہیں۔تھرکی زمین اور اسکی معدنیات تو اہم ٹہری، لیکن یہاں کے سولہ لاکھ سے زائد آبادی غیر اہم ہو گئی ہے۔  

ابھی تھر کول، گوڑانو ڈیم کا معاملہ حل نہیں ہوا تھا کہ پتہ چلا کارونجھر پہاڑ کی بڑے پیمانے پر کٹائی شروع ہوگئی ہے، وہ بھی کسی سرکاری اجازت نامہ کے بغیر۔  کہا جاتا ہے کہ ملک کی ترقی کے لئے یہ سب ضروری ہے۔ دنیا بھر میں جہاں کہیں معدنیات نکالی گئی، وہاں کے لوگ تباہ حال ہوئے، متعلقہ علاقوں میں کوئی ترقی نہیں ہوئی، لوگ بیروزگار اور بے گھر ہوئے،  ان لاطینی امریکہ سے لیکر  بھارت کے اوڑیسا اور راجستھان تک اور فلپائن سے  لیکر آسٹریلیا تک  یہی صورتحال  ہے۔  جہاں لوگ سونے کوئلے، یورینیم کی کان کنی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

ایک نہایت ہی پسماندہ علاقے تھر میں بڑے پیمانے پر  سرمایہ اور سرمایہ کار کمپنیوں، ان کے اہلکاروں کی آمد نے  مقامی آبادی میں احساس  محرومی اور احساس بیگانگی بڑھا دی ہے۔ جس طرح تمام قوانین، اصولوں ضوابط خواہ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں نے لوگوں کو احتجاج پر مجبور کردیا ہے۔ 

پانچ ماہ  پہلے نگرپارکر  کے باسی پینے کے پانی کے لئے احتجاج کر رہے تھے۔ اس مرتبہ کارونجھرپہاڑ کو بچانے کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔ صوبے سندھ کے تھر کے علاقے میں رن آف کچھ سے متصل واقع  تقریبا  23 کلومیٹر علاقے میں پھیلا ہواکارونجھر پہاڑی سلسلہ جنگلی حیات کی کئی اقسام، جڑی بوٹیوں اور پودوں کی اقسام کے لحاظ سے مالامال ہے جس کو نیشنل پارک کا درجہ دیا جانا چاہئے۔

 گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر’سیو  کارونجھر‘  یعنی کارونجھر بچاؤ کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے، سوشل میڈیا صارفین سندھ کے صحرائے تھر کے علاقے نگرپارکر  کے پہاڑ کارونجھر سے بے دریغ رنگ برنگے گرینٹ پتھر نکالنے پر احتجاج کررہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس پہاڑی سلسلے کو بچایا جائے اور مائننگ پر پابندی عائد کی جائے۔

  صحرائے تھر کو فطرت کا عجائب گھر  ہے۔یہ پہاڑی سلسلہ نہ صرف مویشیوں کی چراگاہ ہے جس پر کئی لوگوں کا گزر سفر ہے بلکہ یہاں کئی اقسام کی جنگلی حیات بشمول مور، نیل گائے، نیولے، ہرن، تیتر، خرگوش، لومڑی، گیدڑ اور کئی اقسام کے سانپ بھی بستے ہیں۔ موسم سرما میں ٹھنڈے ممالک سے آنے والے مہمان پرندے یہاں کے قدرتی تالابوں میں اترتے ہیں۔ 

کارونجھر پہاڑ پاکستان بھر سے ناپید ہوتے ہوئے  پرندے گِدھوں کی افزائش نسل کی بھی جگہ ہے۔ پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جہاں ممالیہ، رینگنے والے جانور، پرندے، مختلف اقسام کی جڑی بوٹیاں، پودے اور درخت ایک ہی جگہ پائے جاتے ہوں۔ 

کارونجھر پہاڑی سلسلے میں کئی بارانی ندیاں بشمول بھٹیانی ندی، راناسر ندی،
 گوردھڑو ندی، جھنجھو ندی  نگر پارکر شہر کو پانی سپلائی کرتی ہیں اور یہ پانی روک کر زراعت کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔نگرپارکر پہلے ہی پانی کی کمی کا شکار ہے اور گرینٹ کے لیے اس پہاڑ کو توڑنا فطرت ہی نہیں اور لوگوں کی زندگی  کے ساتھ جنگ کے مترادف  ہے۔

کارونجھر کی معاشی، ماحولیاتی  اہمیت اپنی جگہ پر یہ ثقافت کا بھی گہوراہ ہے۔جہاں مختلف مذاہب اسلام، ہندومت اور جین مت  کے مقدس مقامات ہیں جن میں قدیمی بھوڈیسر تالاب سے متصل 700 سال پرانی مسجد اور تھوڑے فاصلے پر ایک قدیم جین مت کا مندر ہے۔

 کارونجھر لال رنگ کے گرینٹ پتھر مشتمل پہاڑی سلسلے میں سفید اور کالے پتھر
 کے علاوہ پانچ رنگوں کے پتھر ہیں۔یہ رنگ برنگے گرینٹ کے پتھر کمروں کی ٹائلز اور عمارت سازی میں کام آتے ہیں، یہاں سے نکلنے والا پتھر پاکستان کے دیگر علاقوں سے نکلنے والے گرینٹ پتھروں سے قیمتی سمجھا جاتا ہے۔

گزشتہ چار عشروں سے قحط سالی کے بعد سندھ حکومت نے 30 سے زائد چھوٹے بڑے ڈیم تھر میں تعمیر کروائے مگر پتھروں کی بے دریغ کٹائی کے بعد شدید بارشوں کے باوجود کارونجھر کی ندیوں کے پانی سے کوئی بھی ڈیم نہ بھر سکا۔علاقوں میں واقع چھوٹی پہاڑیاں مکمل طور پر ختم ہوگئی ہیں۔ اس کے علاوہ کارونجھر جنگلی حیات کا مرکز ہے۔ ایک بڑے سرکاری ادارے کا ذیلی محکمہ کئی سالوں سے پتھر نکال رہا ہے، مگر حالیہ دنوں تھر میں بننے والے چھوٹے ڈیموں کے ٹھیکے داروں کی جانب سے پتھر نکالا گیا۔  

حکومت کہتی ہے کہ سندھ حکومت کے قانون مائیننگ کا اجازت نامہ کی دفعہ 25 کے تحت کارونجھر میں پتھر نکالنے کے لیے دی گئی ساری لیز منسوخ ہیں اور اس وقت سرکاری طور پر ایک بھی کمپنی کو پتھر نکالنے کی لیز نہیں۔ وفاقی حکومت نے 1980 میں کوہ نور نامی ایک کمپنی کو لیز جاری کی تھی مگر بعد میں کوہ نور نے سب لیز جاری کرکے پتھر نکالنے کا کام ایک بڑے سرکارے ادارے کے ذیلی محکمے کو دے دیا تھا۔2011 میں کمپنی نے چوڑیوکے مقام پر درگا ماتا مندر کے قریب پتھر نکالنا شروع کیے تو سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا، جس کے حکم پر کارونجھر سے پتھر نکالنے پر پابندی عائد  ہو گئی تھی۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ نے الزام عائد کیا کہ  حکمران جماعت کے تھر  سے تعلق رکھنے والے ایک رکن سندھ اسمبلی نے اپنے فرنٹ مین کو لیز پر دے دیا ہے۔ رکن اسمبلی قاسم  سراج سومرو کو اسمبلی میں وضاحت کرنی پڑی کہ کارونجھر کا پتھر کاٹنے سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔

  اٹھارویں آئینی ترمیم  کے بعد معدنیات صوبائی  محکمہ ہے لیکن سندھ حکومت اپنی منرل پالیسی ہی تاحال نہ بنا سکا۔ سندھ حکومت نے 2011 میں کارونجھر کو نیشنل پارک کا درجہ دینے کا اعلان کیا۔ 

اپریل 2015 میں وقت کے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے بھی اعلان کیا کہ کارونجھر پہاڑ اور سکھر کے ٹکر والے علاقے کو بھی نیشنل پارک کا درجہ دیا جائے گا، جس پر 50 کروڑ روپے خرچے کا تخمینہ لگایا گیا اور 2014 کے سالانہ بجٹ میں 50 لاکھ روپے مختص بھی کیے گیے مگر تاحال یہ دونوں مقامات نیشنل پارک نہ بن سکے۔ 

کارونجھر سے غیر قانونی پتھر نکالنے کے خلاف نگر پارکر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی،، کراچی، حیدرآباد میں تھر سے تعلق رکھنے والے نوجوان احتجاج کر رہے ہیں۔ کیا لوگوں کے ذرائع روزگار، ثقافتی ورثے، ماحولیاتی بگاڑ کی قیمت پر یہ پہاڑ توڑنا ضروری ہے؟ تھر کے لوگ  کہتے ہیں کہ کیا ملکی ترقی کیا ابکارونجھر کے پہاڑ پر آکر رکی ہے؟