Urdu Columns of Sohail Sangi میرے دل میرے مسافر : کالم
Saturday, October 31, 2015
بلدیاتی انتخابات، کرپشن اور گریٹ گیم
Friday, October 23, 2015
اسلام آباد پر شدید دباؤ: اسٹبلشمنٹ کی پالیسی تبدیل
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
کوئی مانے یا نہ مانے ، یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں ہمیشہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال ہی تبدیلی کا باعث بنی ہے۔ یہ خطہ جہاں پاکستان واقع ہے بڑی تبدیلیوں کی لپیٹ میں ہے۔ چینی راہداری، روس کی خطے میں از سرنو دلچسپی اور سرگرمی، سعودی عرب کی تبدیل شدہ صورتحال چند بظاہر نظر آنے والے اظہار ہیں۔ اسلام آباد پر امریکہ، برطانیہ، انڈیا، افغانستان اور ایران کا شدید دباؤ ہے۔ چین اور وس کی زبردست قسم کی دلچسپی ہے۔ظاہر ہے کہ کوئی بھی حکمران اپنی کمزوری ظاہر نہیں کرتا۔ اور آخر تک طاقتور ہونے کا تاثر دیتا رہتا ہے۔ ہمارے حکمران بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ لیکن یہ ضروری ہوتا ہے کہ اپنے ہی مفاد میں عوام کو اعتماد میں لے۔
قوموں کی تاریخ بتاتی ہے کہ مرکزی حکومت پر دباؤ بڑھنے سے نئی قوتیں جنم لیتی ہیں۔ اس کی متعدد مثالیں برصغیر خواہ یورپ کی تاریخ میں ملتی ہیں۔ ایسے میں اگر مرکز وفاق میں شامل قوتوں اور قوموں کو خوش رکھے گا تو مضبوط ہوگا۔
صورتحال میں اسلام آباد پر موجودہ شدید دباؤ میں مغرب کے نئے نئے مطالبات ہیں۔ افغانستان کی صورتحال کی وجہ سے دباؤ ہے کہ وہ وہاں پر طالبان کو روکے۔ اس پریشر نے حکومت کو خاصا پریشان کیا ہوا ہے۔ چین اور ر وس اپنی پالیسیاں دھیرج سے چلا رہے ہیں۔ وہ براہ راست امریکہ سے تصادم لینا نہیں چاہتے۔ایسے میں مشکل لگتا ہے کہ پاکستان ان معاملات کا اور اپنے رول کے بارے میں امریکہ سے کوئی باعزت حل حاصل کرلے۔ اندرونی ملک شدید مطالبہ کہ امریکہ سے کوئی بھی ایسا سمجھوتہ نہ کیا جائے جو ملکی مفادات کے خلاف ہو۔ اس مطالبہ میں اس وقت مزید وزن پید اہو جاتا ہے جب امریکہ کی جانب سے انڈیا کی بالادستی کو علاقہ میں مسلط کرنے کی کوششیں جاری ہوں۔ پاکستان کی جانب سے انڈیا کے بارے میں مزید سخت موقف دراصل اس کو دیئے گئے نئے کردار کی وجہ سے ہے۔
اسی پس منظر میں وزیراعظم نواز شریف امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کو اندرونی خطرات سے زیادہ بیرونی خطرات درپیش ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کو اپنے ایجند ا اور موقف کے بارے میں اعتماد میں لئے بغیر امریکہ کے دورے پر چلے گئے۔
پاکستانی سابق سفارتکار منیر اکرم نے بعض سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی سیکریٹری خارجہ جان کیری اور وزیر اعظم کے درمیان گزشتہ ماہ کی ملاقات بہت ہی تلخ رہی۔ جان کیری نے وزیر اعظم کو صرف ’’مسٹر نواز شریف‘‘ کہہ کر مخاطب کیا۔ ورنہ عالمی ڈپلومیسی میں عہدے سے مخاطب کیا جاتا ہے۔ مسٹر پرائیم منسٹر، مسٹر پریزیڈنٹ وغیرہ۔ بقول پاکستانی سفارتکار کے جان کیری کا لہجہ بہت سخت تھا۔ امریکی اخبارات کا کہنا ہے کہ نواز شریف اباما ملاقات میں پاکستان کے میزائیل اور جوہری پروگرام بھی زیر بحث آئے گا۔ ایران کے ساتھ امریکہ کے جوہری معاہدے کے بعد اب پاکستان پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ سویلین مقاصد کے لئے جوہری پروگرام پر بھی امریکہ راضی ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔ کیونکہ پاکستان کے پاس جو لمبی مار کرنے والے میزائیل ہیں اس سے صرف انڈیا ہی نہیں بلکہ پاکستان کے مغربی اور شمالی ممالک کی حکمت عملیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔
پاکستان پر کثیر رخوں بڑھتے ہوئے دباؤ میں کیا نواز شریف کی کمزور سویلین حکومت امریکی دباؤ میں آکر مطالبات مان لے گی؟ یا نواز شریف کی دو رخی پالیسی کی وجہ سے ان کی حکومت خطرے میں پڑ جائے گی؟ نواز شریف کی حکومت عددی لحاظ سے خواہ مضبوط صحیح لیکن سیاسی طور پر کمزور ہے۔ اپوزیشن ابھی بھی ان کے ساتھ نہیں۔ خود ان کی کابینہ اور پارٹی کے اندر بھی اختلافات ہیں۔ اگر وہ کوئی بھی ایسا سمجھوتہ کرتی ہے تو ان کی حکومت ایک بار پھر بحران کا شکار ہو جائے گی۔ پارلیمانی کمیٹی کی یہ سفارش کہ منتخب حکومت کی مدت چارسال کی جائے وہ صرف فائیلوں میں پڑی ہوئی سفارش نہیں رہے گی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے درمیان کسی اور آپشن بھی پر عمل بھی درآمد ہو سکتا ہے۔ جن کا اظہار وقت بوقت کیا جاتا رہا ہے۔
بیرونی دباؤ کے حوالے سے ہر سیاسی جماعت اور فریق کا اپنا اور دوسروں سے مختلف نظریہ اور نقطہ نظر ہے۔ ان خطرات اور حل کے موجود آپشنز کے حوالے سے جب تک ملک کے عوام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لینا ضروری ہے تاکہ تمام نقطہ ہائے نظر ایک دوسرے کے قریب آسکیں اور ایک اتفاق رائے جیسی صورتحال پیدا ہو۔ اس کے برعکس خفیہ معاہدوں کی راہ اختیار کرنے کی صورت میں مرکزی اختلافات تیز تر ہو جائیں گے۔
مرکز پر دباؤ اور اور سیاسی حلقوں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے اسٹبلشمنٹ کی پالیسی تبدیل ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی، تحریک انصاف، متحدہ اور عوامی نیشنل پارٹی کا کسی حد تک شمار ہونے لگا ہے۔ بلوچستان میں ڈاکٹر عبدالمالک کی حکومت کو مزید ڈھائی سال دینے کے امکانات بھی اسی صورتحال کا نتیجہ ہیں۔ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان اتحاد اور قربت پر ارباب اختیار ناخوش ہیں۔ اور کراچی میں ایک بار پھر آپریشن کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایم کیو ایم کو دینے کے لئے نواز حکومت کے ہاتھ خالی ہیں۔
یوں اسلام آباد پر بڑھتا ہوا دباؤ کا ملکی بساط پر دن دن واضح ہوتا جارہا ہے۔ اس پریشر کے نتیجے میں نئے اتحاد بنیں گے۔ سیاست نیا رخ اختیار کرے گی۔ بلکہ نیا رخ اختیار کر چکی ہے۔ گزشتہ عام انتخابات میں نواز لیگ نے پیر پاگارا کی سرکردگی میں دس جماعتی اتحاد بنایا تھا۔ لیکن سندھ میں پیپلزپارٹی کے خلاف بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کوئی مضبوط اتحاد نہیں بن سکا ہے۔قوم پرست بھی صرف صوبے کی سطح پر ہی صحیح کوئی آپس میں اتحاد نہیں بنا پائے ہیں ۔ یہ مظہر بہت سی چیزوں واضح کر دیتا ہے۔ ایسے میں آصف زرداری کی وطن واپسی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ بلوچستان کی’’ جلاوطن ‘‘ قیادت کو وطن لانے کی کوشیں اہم ہیں۔یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اس تاثر کو بھی زائل کردیا جائے گا کہ سندھ اور بلوچستان کی قیادت ملک سے باہر ہے۔
وفاق پر دباؤ کے نتیجے میں جب حکمت عملیاں تبدیل ہونگی توسندھ میں بھی صورتحال تبدیل ہوگی۔ اب لگتا ہے کہ اسٹبلشمنٹ کی یہ پالیسی بھی تبدیل ہوگی کہ پیپلزپارٹی کو اقتدار سے دور رکھا جائے۔ اس میں کچھ کمال آصف زرداری کا بھی ہے جس نے ہر حال میں اقتدار میں رھنے کا گر سیکھ لیا ہے۔ لین اس کو بھی ان عوامی شکایات کا ازالہ کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔یہ صحیح ہے کہ پیپلزپارٹی کے خلاف مختلف گروہوں کے ذریعے دباؤجاری رہے گا لیکن بعد میں اقتدار کا ہار گھما پھرا کے اسی کے گلے میں ڈالا جائے گا۔ دراصل مرکز اس صورتحال میں پیپلزپارٹی کو دیوار سے لگانا نہیں چاہتا۔ اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی آئندہ انتخابات میں شامل رہے گی ۔ مطلب مرکز میں
پیپلزپارٹی کے ساتھ معاملات آگے بڑھ رہے ہیں۔ جہاں بڑی حد تک ان معاملات کو ملک کے اندر اعتزاز احسن اور میاں رضا ربانی ڈیل کر رہے ہیں لیکن اس کا پبلک فیس سید خورشید شاہ بنے ہوئے ہیں۔
اس تھیوری پر عمل کے نتیجے میں مرکز میں مخلوط حکومت کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ سندھ میں شاید کچھ بھی تبدیل نہ ہو، سوائے چہروں کے۔
october 22 , 2015 for Nai baat
کوئی مانے یا نہ مانے ، یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں ہمیشہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال ہی تبدیلی کا باعث بنی ہے۔ یہ خطہ جہاں پاکستان واقع ہے بڑی تبدیلیوں کی لپیٹ میں ہے۔ چینی راہداری، روس کی خطے میں از سرنو دلچسپی اور سرگرمی، سعودی عرب کی تبدیل شدہ صورتحال چند بظاہر نظر آنے والے اظہار ہیں۔ اسلام آباد پر امریکہ، برطانیہ، انڈیا، افغانستان اور ایران کا شدید دباؤ ہے۔ چین اور وس کی زبردست قسم کی دلچسپی ہے۔ظاہر ہے کہ کوئی بھی حکمران اپنی کمزوری ظاہر نہیں کرتا۔ اور آخر تک طاقتور ہونے کا تاثر دیتا رہتا ہے۔ ہمارے حکمران بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ لیکن یہ ضروری ہوتا ہے کہ اپنے ہی مفاد میں عوام کو اعتماد میں لے۔
قوموں کی تاریخ بتاتی ہے کہ مرکزی حکومت پر دباؤ بڑھنے سے نئی قوتیں جنم لیتی ہیں۔ اس کی متعدد مثالیں برصغیر خواہ یورپ کی تاریخ میں ملتی ہیں۔ ایسے میں اگر مرکز وفاق میں شامل قوتوں اور قوموں کو خوش رکھے گا تو مضبوط ہوگا۔
صورتحال میں اسلام آباد پر موجودہ شدید دباؤ میں مغرب کے نئے نئے مطالبات ہیں۔ افغانستان کی صورتحال کی وجہ سے دباؤ ہے کہ وہ وہاں پر طالبان کو روکے۔ اس پریشر نے حکومت کو خاصا پریشان کیا ہوا ہے۔ چین اور ر وس اپنی پالیسیاں دھیرج سے چلا رہے ہیں۔ وہ براہ راست امریکہ سے تصادم لینا نہیں چاہتے۔ایسے میں مشکل لگتا ہے کہ پاکستان ان معاملات کا اور اپنے رول کے بارے میں امریکہ سے کوئی باعزت حل حاصل کرلے۔ اندرونی ملک شدید مطالبہ کہ امریکہ سے کوئی بھی ایسا سمجھوتہ نہ کیا جائے جو ملکی مفادات کے خلاف ہو۔ اس مطالبہ میں اس وقت مزید وزن پید اہو جاتا ہے جب امریکہ کی جانب سے انڈیا کی بالادستی کو علاقہ میں مسلط کرنے کی کوششیں جاری ہوں۔ پاکستان کی جانب سے انڈیا کے بارے میں مزید سخت موقف دراصل اس کو دیئے گئے نئے کردار کی وجہ سے ہے۔
اسی پس منظر میں وزیراعظم نواز شریف امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کو اندرونی خطرات سے زیادہ بیرونی خطرات درپیش ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کو اپنے ایجند ا اور موقف کے بارے میں اعتماد میں لئے بغیر امریکہ کے دورے پر چلے گئے۔
پاکستانی سابق سفارتکار منیر اکرم نے بعض سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی سیکریٹری خارجہ جان کیری اور وزیر اعظم کے درمیان گزشتہ ماہ کی ملاقات بہت ہی تلخ رہی۔ جان کیری نے وزیر اعظم کو صرف ’’مسٹر نواز شریف‘‘ کہہ کر مخاطب کیا۔ ورنہ عالمی ڈپلومیسی میں عہدے سے مخاطب کیا جاتا ہے۔ مسٹر پرائیم منسٹر، مسٹر پریزیڈنٹ وغیرہ۔ بقول پاکستانی سفارتکار کے جان کیری کا لہجہ بہت سخت تھا۔ امریکی اخبارات کا کہنا ہے کہ نواز شریف اباما ملاقات میں پاکستان کے میزائیل اور جوہری پروگرام بھی زیر بحث آئے گا۔ ایران کے ساتھ امریکہ کے جوہری معاہدے کے بعد اب پاکستان پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ سویلین مقاصد کے لئے جوہری پروگرام پر بھی امریکہ راضی ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔ کیونکہ پاکستان کے پاس جو لمبی مار کرنے والے میزائیل ہیں اس سے صرف انڈیا ہی نہیں بلکہ پاکستان کے مغربی اور شمالی ممالک کی حکمت عملیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔
پاکستان پر کثیر رخوں بڑھتے ہوئے دباؤ میں کیا نواز شریف کی کمزور سویلین حکومت امریکی دباؤ میں آکر مطالبات مان لے گی؟ یا نواز شریف کی دو رخی پالیسی کی وجہ سے ان کی حکومت خطرے میں پڑ جائے گی؟ نواز شریف کی حکومت عددی لحاظ سے خواہ مضبوط صحیح لیکن سیاسی طور پر کمزور ہے۔ اپوزیشن ابھی بھی ان کے ساتھ نہیں۔ خود ان کی کابینہ اور پارٹی کے اندر بھی اختلافات ہیں۔ اگر وہ کوئی بھی ایسا سمجھوتہ کرتی ہے تو ان کی حکومت ایک بار پھر بحران کا شکار ہو جائے گی۔ پارلیمانی کمیٹی کی یہ سفارش کہ منتخب حکومت کی مدت چارسال کی جائے وہ صرف فائیلوں میں پڑی ہوئی سفارش نہیں رہے گی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے درمیان کسی اور آپشن بھی پر عمل بھی درآمد ہو سکتا ہے۔ جن کا اظہار وقت بوقت کیا جاتا رہا ہے۔
بیرونی دباؤ کے حوالے سے ہر سیاسی جماعت اور فریق کا اپنا اور دوسروں سے مختلف نظریہ اور نقطہ نظر ہے۔ ان خطرات اور حل کے موجود آپشنز کے حوالے سے جب تک ملک کے عوام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لینا ضروری ہے تاکہ تمام نقطہ ہائے نظر ایک دوسرے کے قریب آسکیں اور ایک اتفاق رائے جیسی صورتحال پیدا ہو۔ اس کے برعکس خفیہ معاہدوں کی راہ اختیار کرنے کی صورت میں مرکزی اختلافات تیز تر ہو جائیں گے۔
مرکز پر دباؤ اور اور سیاسی حلقوں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے اسٹبلشمنٹ کی پالیسی تبدیل ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی، تحریک انصاف، متحدہ اور عوامی نیشنل پارٹی کا کسی حد تک شمار ہونے لگا ہے۔ بلوچستان میں ڈاکٹر عبدالمالک کی حکومت کو مزید ڈھائی سال دینے کے امکانات بھی اسی صورتحال کا نتیجہ ہیں۔ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان اتحاد اور قربت پر ارباب اختیار ناخوش ہیں۔ اور کراچی میں ایک بار پھر آپریشن کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایم کیو ایم کو دینے کے لئے نواز حکومت کے ہاتھ خالی ہیں۔
یوں اسلام آباد پر بڑھتا ہوا دباؤ کا ملکی بساط پر دن دن واضح ہوتا جارہا ہے۔ اس پریشر کے نتیجے میں نئے اتحاد بنیں گے۔ سیاست نیا رخ اختیار کرے گی۔ بلکہ نیا رخ اختیار کر چکی ہے۔ گزشتہ عام انتخابات میں نواز لیگ نے پیر پاگارا کی سرکردگی میں دس جماعتی اتحاد بنایا تھا۔ لیکن سندھ میں پیپلزپارٹی کے خلاف بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کوئی مضبوط اتحاد نہیں بن سکا ہے۔قوم پرست بھی صرف صوبے کی سطح پر ہی صحیح کوئی آپس میں اتحاد نہیں بنا پائے ہیں ۔ یہ مظہر بہت سی چیزوں واضح کر دیتا ہے۔ ایسے میں آصف زرداری کی وطن واپسی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ بلوچستان کی’’ جلاوطن ‘‘ قیادت کو وطن لانے کی کوشیں اہم ہیں۔یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اس تاثر کو بھی زائل کردیا جائے گا کہ سندھ اور بلوچستان کی قیادت ملک سے باہر ہے۔
وفاق پر دباؤ کے نتیجے میں جب حکمت عملیاں تبدیل ہونگی توسندھ میں بھی صورتحال تبدیل ہوگی۔ اب لگتا ہے کہ اسٹبلشمنٹ کی یہ پالیسی بھی تبدیل ہوگی کہ پیپلزپارٹی کو اقتدار سے دور رکھا جائے۔ اس میں کچھ کمال آصف زرداری کا بھی ہے جس نے ہر حال میں اقتدار میں رھنے کا گر سیکھ لیا ہے۔ لین اس کو بھی ان عوامی شکایات کا ازالہ کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔یہ صحیح ہے کہ پیپلزپارٹی کے خلاف مختلف گروہوں کے ذریعے دباؤجاری رہے گا لیکن بعد میں اقتدار کا ہار گھما پھرا کے اسی کے گلے میں ڈالا جائے گا۔ دراصل مرکز اس صورتحال میں پیپلزپارٹی کو دیوار سے لگانا نہیں چاہتا۔ اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی آئندہ انتخابات میں شامل رہے گی ۔ مطلب مرکز میں
پیپلزپارٹی کے ساتھ معاملات آگے بڑھ رہے ہیں۔ جہاں بڑی حد تک ان معاملات کو ملک کے اندر اعتزاز احسن اور میاں رضا ربانی ڈیل کر رہے ہیں لیکن اس کا پبلک فیس سید خورشید شاہ بنے ہوئے ہیں۔
اس تھیوری پر عمل کے نتیجے میں مرکز میں مخلوط حکومت کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ سندھ میں شاید کچھ بھی تبدیل نہ ہو، سوائے چہروں کے۔
october 22 , 2015 for Nai baat
بلدیاتی انتخابات پی پی میں باغیانہ مخالفانہ رجحانات
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
بلدیاتی انتخابات کی مہم کے دوران سندھ میں بظاہر پیپلزپارٹی کے حق میں قائم سیاسی جمود میں اب لہریں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں ۔ اس خاموش مگر اندر سے ابلتی ہوئی سیاسی جھیل میں کوئی بڑا پتھر تاحال نہیں پھینکا گیا ہے جو بڑی لہر کو جنم دے۔ اس کی وجہ پنجاب میں مقبولیت رکھنے والی جماعتوں کی اس صوبے سے لاتعلقی ہے۔ گزشتہ عام انتخابات کی طرح نواز لیگ ابھی بلدیاتی انتخابات میں بھی فریق نہیں۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان صوبے بھر کا دورہ کرنے کے بجائے صرف بالائی سندھ کا دورہ کر کے واپس چلے گئے۔ انہوں نے اس پچ پر کھیلنے کی کوشش کی جو پیپلزپارٹی کی پچ تھی۔عمران خان اس پچ کے نئے کھلاڑی ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کو اس میں اسے مہارت حاصل ہے۔ وہاں کے قبائلی سرداروں اور برادریوں کے معززین سے رابطہ کیا تھا۔ لیکن انہیں کوئی مثبت جواب کے بجائے ’’دیکھو ار انتظار کرو ‘‘کا پیغام ملا۔ جب یہ بھاری پتھر کپتان سے نہیں اٹھ سکا تو پیر پاگارا کی مسلم لیگ فنکشنل ان علاقوں میں سرگرم ہوئی ۔ اس نے کسی حد تک ہلچل پیدا ہوئی۔ کیونکہ ان کی جماعت داؤ پیچ سے واقف تھی۔
پارٹی کے سابق رہنما صفدر عباسی کے بعد آصف زرداری کے قریبی دوست ڈاکٹر ذوالفقار مرزا پیپلزپارٹی مخالف اتحاد بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر مرزا نے چند سال قبل جب زرداری سے برسوں کا یارانہ توڑ کر علم بغاوت بلند کیا تھا، تجزیہ نگاروں کا یہی خیال تھا کہ پیپلزپارٹی کو بدلیاتی انتخابات میں مشکل میں ڈالنے کے لئے ڈاکٹر مرزا کام آسکتے ہیں۔ ڈاکٹر مرزا نے اب مشرف دور کے وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم سے ملاقات کی ہے اور دونوں رہنماؤں نے اتحاد بنا لیا ہے۔ ڈاکٹر مرزا نے الگ سے پارٹی بنانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ لیکن تاحال ڈاکٹر صفدر عباسی اور ڈاکٹر مرزا کی حکمت عملی مشترکہ نہیں ہو سکی ہے۔ لیاری کراچی سے تعلق رکھنے والے نبیل گبول برسہا برس پیپلزپارٹی کے ساتھ رھنے کے بعد چند سال قبل ایم کیو ایم میں شامل ہو گئے تھے اور اس کی ٹکٹ پر ایم این اے بھی رہے۔ لیکن بعد میں انہوں نے ایم کیو ایم سے استعیفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے بھی الگ سے پارٹی بنانے کا علان کیا ہے۔ یہ سب سرگرمیاں الگ الگ ہو رہیں۔ کوئی ایسی صورت نہیں بن رہی کہ صوبے بھر میں کوئی متبادل کے طور پر کوئی گروپ سامنے آجائے۔
بڑی سطح پر ان سرگرمیوں سے ہٹ کر جو سب سے بڑی ہلچل سامنے آئی ہے وہ ہے خود پیپلزپارٹی کے اندر باغیانہ یا مخالفانہ رجحانات کا اظہار ہے۔ بالائی سندھ کے اضلاع کے علاوہ حیدرآباد، تھرپارکر، میرپورخاص میں مستحق امیدواروں کو بلدیاتی انتخابات میں ٹکٹ جاری کرنے پر کارکنان خوش نہیں۔ تین قسم کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ اول یہ کہ پارلیمانی بورڈ علاقہ کے اسمبلی ممبران نے اپنی مرضی کے بنوا لئے تھے۔ پارٹی ٹکٹ ان اراکین اسمبلی نے اپنے رشتیداروں یا من پسند لوگوں کو جاری کرالئے۔ اس کے جواب میں پارٹی کارکنان ناراض ہو گئے ہیں اور وہ ٹکٹ یافتہ امیدواروں کے مقابلے میں کھڑے ہوگئے ہیں۔ پیپلزپارٹی تمام تر کوششوں کے باوجود شاید ہی کسی یونین کونسل پر اپنا چیئرمین بلامقابلہ لے آ سکی ہے جب کہ ایم کیو ایم حیدرآباد میں ایک درجن سے زائد یونین کمیٹیز پر اپنے امیدوار بلا مقابل لانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ حیدرآباد میں صوبائی وزیر جام شورو اور سابق صوبائی وزیر زاہد بھرگڑی نے مل کر اپنی پسند کے لوگوں کو پارٹی ٹکٹ جاری کیں۔ جس کے خلاف شکایات صوبائی قیادت تک پہنچیں۔ گزشتہ روز وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ جو پارٹی کے صوبائی صدر بھی ہیں حیدرآباد تشریف لائے اور اختلافات دور کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے دو وزراء کے فیصلے کو برقرار رکھا، اور ناراض کارکنوں سے کہا کہ انہیں کہیں اور اکموڈیٹ کیا جائے گا۔ سجاول میں پیپلزپارٹی نے ایک مقامی سیاسی گروپ بخاری گروپ سے اتحاد کیا تھا۔ لیکن یہ گروپ کاغذات نامزدگی کی آخری تاریخ کے روز ٹوٹ گیا۔
صوبے کا پسماندہ ترین علاقہ تھر جو گزشتہ تین سال سے قحط سالی کی زد میں ہے۔ یہاں پر گزشتہ عام انتخابات میں علاقے کے بااثر ارباب گروپ کو پہلی بار شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ کیونکہ تمام ارباب مخالف قوتیں متحدہ ہوگئی تھی اور انہوں نے پیپلزپارٹی کی حمایت کی تھی۔ اب یہاں پر صورتحال تبدیل ہے۔ میگھواڑ برادری جس کا اس ضلع کے علاوہ صوبے کے زیرین علاقوں میں لاکھوں میں ووٹ ہیں، اس نے بغاوت کردی ہے۔ اس بغاوت کا آغاز تھر کی بعض یونین کونسلوں میں میگھواڑ برادری کو بلدیاتی ٹکٹ نہ دینے سے شروع ہوا تھا۔ اس برادری سے تعلق رکھنے والے ایم پی اے ڈاکٹر کھٹومل جیون اور سنیٹر گیانچند نے اعلیٰ قیادت سے بھی رابطہ کیا۔ انہوں نے شکایت کی کہ ان کی شیڈیولڈ کاسٹ برادری کو پارٹی کی مقامی قیادت جو کہ اونچی ذات سے تعلق رکھتی ہے نظرانداز کر رہی ہے۔ پارٹی قیادت نے ان کی بات سننے کے بعد ان دونوں نمائندوں کو بتایا کہ اگر وہ پارٹی کا فیصلہ نہیں مانتے تو پارٹی کے پاس یہ آپشن موجود ہے کہ ارباب گروپ کو پارٹی میں جگہ دی جائے۔ ارباب گروپ کے تھر کے علاوہ بدین میں بھی ووٹ ہیں ۔ یہ معاملہ تاحال طے نہیں ہوسکا ہے۔ اور تھر کے شہروں میں پارٹی کے اس فیصلے کے خلاف میگھواڑ برادری مظاہرے کر رہی ہے۔ پارٹی کی مقامی قیادت اس برادری کے معززین کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے۔
پیپلزپارٹی کے اندر پارٹی مخالف یا قیادت کی مخالفت کی آوازیں اٹھنی لگی ہیں۔ یہ نیا مظہر ہے۔ سندھ میں سیاسی خلاء کی موجودگی کا واضح اظہار ہو رہا ہے۔ لیکن اس خلاء کو پر کیسے کیا جائے اس کا اظہار صرف ٹکڑیوں میں ہو رہا ہے۔
Friday, October 2, 2015
سنڌ ۾ پ پ خلاف اليڪشني اتحاد ۽ ٽرين مارچ : سهيل سانگي
سپريم ڪورٽ پختي عزم جو اظهار ڪري رهي آهي، ته چونڊون هر حال ۾ ٿينديون. نواز شريف به چونڊن جي تياريءَ کي آخري شڪل ڏيئي رهيو آهي.کيس پڪ آهي ته هاڻي حڪومت ۾ اچڻ جو سندس وارو آهي، ان ڪري هو هن مقصد لاءِ ڪا به ڪسر نه ڇڏڻ جي موڊ ۾ لڳي ٿو. نواز شريف فڪري لحاظ کان پاڻ کي ساڄي ڌر سان سڃاڻپ ڪرائڻ لاءِ جماعت اسلاميءَ سان گڏ ئي ٻيٺو آهي ۽ ساڳئي وقت ئي طالبان سان ڳالهين لاءِ به زور ڀري رهيو آهي، ائين هن اهو ڏيکارڻ جي ڪوشش ڪئي آهي ته ملڪ جي پرڏيهي پاليسي ڪهڙي رکڻ گهرجي ٿو ۽ ملڪ اندر ڪهڙي فڪر ۽ نقطءِ نظر جي ترجماني ڪري ٿو.
اليڪشن جي اتحاد لاءِ مرڪزي سطح تي هن مولانا فضل الرحمان سان ٺاهه ڪيو آهي ته جيئن خيبرپختونخوا ۾ سندس پوزيشن بهتر ٿي سگهي ۽ پنجاب ۾ عمران خان، قاف ليگ ۽ پيپلزپارٽي جي جوڙ توڙ سبب امڪاني نقصان جو پورائو ڪري سگهي. ان سان گڏوگڏ اهو به ته ايندڙ چونڊن دوران ۽ ان کان پوءِ هو پيپلزپارٽي کي هڪ اتحادي کان محروم ڪري سگهي. گذريل ڏيڍ سالن کان نواز شريف جي اهائي ڪوشش رهي آهي ته هو پنهنجي پارٽي کي ملڪ گير پارٽي طور مڃائي. هو اهو ڪم پارٽي جي مخصوص پاليسيءَ ۽ تنظيمي رڪاوٽن يا اهڙي ڪنهن ليڊر شپ جي کوٽ سبب نه ڪري سگهيو. هن اهڙا تجربا سنڌ ۾ ڪرڻ جي ڪوشش ڪئي، جڏهن ممتاز ڀٽي کي پارٽي ۾ شامل ڪيائين ۽ ان کان علاوه مارئي ميمڻ عوامي سطح تائين پهتي پر اهو تجربو ڪو گهڻو ڪامياب نه ويو ۽ نه ئي وري ڪنهن ٻئي صوبي ۾ ان تجربي کي دهرائي پيو سگهجي. اهڙي صورت ۾ هن سڄي ملڪ ۾ اتحاد جي سياست شروع ڪئي، بلوچستان ۾ سردار مينگل سان اتحاد ڪيائين، جنهن بعد اسلام آباد ۽ لاهور جي دانشورن اختر مينگل کي وفاق ڏي وڌندڙ آخري هٿ ۽ سندس بيان کي آخري سڏ قرار ڏنو. سنڌ ۾ مختلف ڌرين سان پهرئين مرحلي ۾ ڌار ڌار انڊر اسٽينڊنگ قائم ڪيائين، يعني ڊاڪٽر قادر مگسي، اياز لطيف پليجو، جلال محمود شاهه سان الڳ الڳ ڳالهه ٻولهه ڪيائين. نواز شريف جي اتحادن واري سياست کي جلال محمود ڄاڻي ورتو، هن اهو به سمجهي ورتو ته سنڌ سطح تي اهڙي ڪنهن اتحاد لاءِ ڪنهن اڳواڻ جي ضرورت پوندي. ان ڪري هن ٻين ڌرين کي پاسيرو رکندي، انهن سان صلاح مشوري بنا نواز شريف سان ٺاهه ڪري ورتو. ائين جلال محمود شاهه ٻين قومپرستن جي ڀيٽ ۾ نواز شريف کي وڌيڪ ويجهو ٿي ويو. انهيءَ عرصي دوران مڪاني ادارن واري قانون خلاف تحريڪ هلي ته جلال محمود شاهه ئي سنڌ بچايو ڪميٽي جو سربراهه ٿيو. جلال محمود شاهه جي نواز شريف سان ٺاهه لياقت جتوئي جون مارڪون گهٽائي ڇڏيون، جنهن سمجهيو پئي ته سنڌ ۾ نواز ليگ ۽ ان جا اتحادي سندس ليڊرشپ ۾ اچي ويندا. سيوهڻ واري ننڍي چونڊ ۾ ايس يو پي جي اميدوار خلاف لياقت جتوئي پاران پنهنجي اميدوار کان هٿ نه کڻائڻ جو هڪ سبب اهو به هو ته جلال محمود شاهه جي پوزيشن کي گهٽائي ڏيکاري سگهجي. جڏهن ڳالهه اڳتي وڌي ته فنڪشنل ليگ سنڌ اندر حڪومت مخالف تحريڪ جي اڳواڻيءَ جي دعويدار طور سامهون آئي. ان سنڌ بچايو ڪميٽي ۽ ٻين قوم پرست گروپن کي پنهنجي ڇٽيءَ هيٺ آڻي ڇڏيو. پير پاڳاري جي حڪومت مخالف وهڪري ۾ بيهڻ سان هر ڪو ٻين قومپرست ڌرين يا جلال محمود شاهه بدران ساڻس ئي ڳالهائڻ لڳو. ائين نواز شريف جي ڊاڪٽر قادر مگسي، اياز لطيف پليجي سان ٿيل انڊر اسٽينڊنگ ۽ جلال محمود شاهه سان ٿيل ٺاهه پوئتي رهجي ويا. هاڻي ميدان ۾ پيرپاڳاري جي مهينو کن اڳ رائيونڊ ۾ نواز شريف سان ٿيل ملاقات يا وري تازو ڪنگري هائوس ۾ نواز شريف جي آمد ۽ اتي ٿيل فيصلا اهم بڻجي ويا. ڪنگري هائوس ۾ نواز شريف سان ٿيل ڳالهين جي وري ٻئي ڏينهن تي سنڌ بچايو ڪميٽي جي اجلاس ۾ سڌي يا اڻ سڌيءَ طرح سان توثيق ڪرائي ويئي.
سنڌ اندر نواز شريف جي سياست جي هن ڀيري شروعات قوم پرست ڌرين سان ڳالهين سان ٿئي ٿي، جنهن ۾ انهن ڌرين سنڌ جا مطالبا رکيا ۽ پنجاب ۽ نواز شريف بابت پنهنجي تحفظات کان آگاهه ڪيو ۽ ڪجهه خاطريون ۽ يقين دهانيون به ورتيون. جلال محمود ته باقاعده ڏهه نڪاتي ٺاهه تي صحيحون ڪرايون، جيتوڻيڪ ان ٺاهه کي ڪجهه حلقا بنهه هلڪو سڏي رهيا هئا. ائين سنڌ ۾ سڄي جدوجهد جو رخ پنجاب مخالف يا پنجاب کان ڪجهه وٺڻ بابت هو. ڀلو ٿئي پيپلز پارٽي جو، جنهن ايم ڪيو ايم جي چوڻ تي ٻِٽي مڪاني ادارن وارو تڪراري قانون لاڳو ڪري ڇڏيو ۽ ان تڪراري قانون سنڌ جي وحدت کي خطري ۾ وجهي ڇڏيو. ان قانون جدوجهد جي رخ ۽ جدوجهد جي اڳواڻي ئي تبديل ڪري ڇڏي. هاڻي جدوجهد جو رخ پنجاب مخالف يا پنجاب کان ڪجهه گهرڻ جي بدران ايم ڪيو ايم خلاف ٿي ويو. نواز شريف هن ڀيري پهرئين ڏينهن کان ايم ڪيو ايم کان وِٿيرڪو رهيو هو، جنهن جي ڪي حلقا اهي تشريح ڪري رهيا هئا ته هو هن ڀيري سنڌ سان ڊيل ڪرڻ چاهي ٿو، ته وري ٻيا حلقا اهو چئي رهيا هئا ته اسيمبليءَ ۾ ايم ڪيو ايم جا ووٽ اسٽئبلٽمينٽ جا ووٽ آهن، ان ڪري انهن ووٽن جو فڪر ناهي، جڏهن اسٽئبلشمينٽ کيس حڪومت ڏيندي، تڏهن اهي ووٽ ڏاج ۾ ملي ويندا. سنڌ جي ڌرين جڏهن ٻِٽي مڪاني نظام خلاف تحريڪ هلائي، ته نواز شريف به انهن ڌرين سان گڏ ٿي بيٺو. ان ڳالهه نواز شريف ۽ پنجاب ٻنهي کي ڪيترن ئي سوالن ۽ خاطرين کان آجو ڪري ڇڏيو. هتي نوٽ ڪرڻ جي ڳالهه اها آهي ته فنڪشنل ليگ سنڌ جو ڪيس ان مهل کنيو آهي، جڏهن اهو معاملو ايم ڪيو ايم ۽ سنڌين جي وچ ۾ تڪراري بڻيو. جيستائين سنڌ پنجاب سان اٽڪيل هئي، تيستائين فنڪشنل ليگ ميدان ۾ نه هئي. سنڌ ۾ اهو سمورو منظر نامو تڪراري مڪاني ادارن جي نظام لاڳو ٿيڻ تان جڙيو هو، جنهن دوران سنڌ جو باقي ايجنڊا گم ٿي ويو هو. هاڻي جڏهن اهو قانون واپس ورتو ويو آهي، تڏهن هن ايجنڊا ۾ عملي طور ڪو گهڻو وزن نه رهيو آهي. ها! اهو ضرور آهي، ته ماڻهن کي شڪ ۽ ڊپ آهي ته متان چونڊن بعد پيپلزپارٽي ايم ڪيو ايم سان جُٽ ٿي، ڪنهن شڪل ۾ اهو نظام ٻيهر نه لاڳو ڪري وجهي. ٻيو اهو ته پيپلز پارٽي بي ڀروسي ٿي ويئي. پيپلز پارٽي ماضي جي تجربن مان اهو سمجهي ٿي ته ان کي سنڌ مان تيستائين نٿو اُکيڙي سگهجي، جيستائين سنڌ جا شهري علائقا ان جي خلاف نٿا ٿي بيهن. 77ع واري پي اين اي جي تحريڪ، بينظير ڀٽو جي ٻنهي حڪومتن جو وڃڻ ۽ ڪجهه ٻيا واقعا اهو ئي ٻڌائين ٿا. اهو ئي سبب آهي جو اها ايم ڪيو ايم مان هٿ ڪڍڻ لاءِ تيار ناهي، هر حال ۾ ان کي پاڻ سان گڏ رکڻ گهري ٿي. پيپلزپارٽي جي سوچ آهي، ته جنهن ڏينهن ايم ڪيو ايم ان جي هٿن مان ويئي، اهو ان جو آخري ڏينهن هوندو. رهيو سوال اليڪشن ۽ سنڌ اندر ووٽ بئنڪ جو، ان کي پيپلزپارٽي ان انداز سان يا سياسي انداز سان نٿي ڏسي، بلڪه ان کي ٺيٺ وڏيرڪي انداز سان ڏسي ٿي، سو ايئن ته فلاڻي وڏيري يا رئيس وٽ هيترا ووٽ آهن، ان کي ”هيئن نه ته هونئن“ پاڻ سان گڏ جوڙي رکيو آهي، باقي ڪجهه ووٽ پارٽي جا آهن، ان ڪري اها سيٽ ڪيڏانهن ڪو نه ويندي. ٻيو ڪو ميدان ۾ ماڻهو ڪونهي، وغيره وغيره.
اهو صحيح آهي ته سنڌ اندر فڪري يا سياسي سطح تي پيپلز پارٽي ڪمزور ٿي آهي، ڇاڪاڻ جو اهي ٻئي حلقا ان جي خلاف آهن، پر عملي طور تي يا اليڪشن جي حوالي سان پيپلزپارٽي اڃا ايتري ڪمزور نه ٿي آهي. نواز شريف پير پاڳارو يا وري انهن سان ڳنڍيل گروپ يا جماعتون عملي طور تي پيپلز پارٽي کي اليڪشن جي حوالي سان ڪٿي به نٿا چُڀن. فنڪشنل ليگ وٽ 6/7 صوبائي اسيمبليءَ جون جنرل سيٽون آهن. سمورو زور لڳائڻ ۽ سياسي وايو منڊل جي تبديلي سبب، ان انگ ۾ هڪ ٻن سيٽن جو اضافو ٿي سگهي ٿو. هڪ ٻن هنڌن تي پيپلزپارٽي کي ڪجهه ڏکيائي ٿي سگهي ٿي، پر مجموعي طور تي سنڌ ۾ سيٽن تي ڪو اثر پوي، سا ڳالهه ٿيندي نظر ڪو نه ٿي اچي.
پڇاڙڪا لفظ: اڄ صبح جو سوير هڪ دوست فون ڪري چيو ته ”سائين سنگت اسلام آباد ٿي وڃي، اچو ته هلون...“ چيو مانس ته،” سنگت کي ڪو ڪم هوندو، ڀلي اهو ڪم لاهي اچي، پاڻ اتي ئي ويٺا آهيون،“ ۽ پوءِ ان همراهه ڳالهه کي بنهه ٽوڙي وڌو ۽ چيائين ته مڪاني ادارن واري قانون خلاف جڏهن سنڌ ٻري پئي، تڏهن ڪراچيءَ ڏي سنگت مارچ نه ڪيو، هاڻي پيپلزپارٽي جي حڪومت جي پڇاڙڪن ڏينهن ۾ اسلام آباد ٽرين مارچ ڪهڙي خوشيءَ ۾ ٿا ڪن؟ مون وٽ سندس ان سوال جو ترت ڪو به جواب نه هو.
Subscribe to:
Comments (Atom)






