بلاول بھٹو کا ٹرین کیا مارچ دے گا؟
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
پیپلزپارٹی احتجاج میں داخل ہو چکی ہے۔ اس کی پہلی جھلک راولپنڈی میں دیکھنے میں آئی جب پارٹی کے چیئرمین اور شریک چیئرمین منی لانڈرنگ اور جعلی بینک اکاؤنٹس کی تحقیقات کے لئے کو نیب کے سامنے پیش ہوئے۔ پارٹی کارکن یکجہتی کے لئے جمع ہوئے۔ پولیس سے مڈبھیڑ ہوئی۔ دوسری جھلک آج کراچی سے لاڑکانہ تک ٹرین مارچ کی شکل میں جاری ہے۔ اس ٹرین مارچ کا اعلان پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقعہ پر جمع ہونے کے لئے کیا تھا۔تاہم اس احتجاجی مہم کا حصہ ہے جس کا ذکر آصف علی زرداری گزشتہ کئی ہفتوں سے کر رہے تھے۔ پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو روہڑی سے راولپنڈی تک ٹرین مارچ کریں گے۔ حالیہ مارچ کے دوران وہ 26 مارچ کی رات نوابشاہ میں قیام کریں گے، وہاں سے 27 مارچ کی صبح خصوصی ٹرین براستہ سکھر رات کو لاڑکانہ پہنچے گی، جہاں پیپلز پارٹی کے کارکن بلاول بھٹو زرداری کا استقبال کریں گے ۔ وہ راستے میں 25 مقامات پر کارکنوں سے خطاب کریں گے۔یوں سندھ کا ایک بڑے حصہ تک ان کی رسائی ہو سکے گی۔
ٹرین مارچ اور لانگ مارچ ماضی میں بھی پاکستان کی سیاست کا حصہ رہے ہیں۔1992 میں بینظیر بھٹو نے پاکستان ڈیموکریٹک الائنس بنایا اور نواز شریف کے خلاف تحریک شروع کی ان کا کہنا تھا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے۔ بینظیر بھٹو نے لاہور سے راولپنڈٰ ی تک لانگ مارچ کیا۔تب صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم نواز شریف کے درمیان اختلافات زوروں پر تھے۔ نتیجے میں چند ماہ بعد نواز شریف کی حکومت ختم کردی گئی۔
ستمبر 1994 میں ابھی بینظیربھٹو کی حکومت کو بمشکل ایک سال ہوا تھا۔ نواز شریف نے بینظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف ٹرین مارچ کیا۔اس مارچ کا فوری طور پر کوئی نتیجہ نہیں کل سکا، بینظیر نے 1996 تک حکومت کی۔
2008 میں پاکستان بار کونسل نے چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری اور دیگر ججز کی بحالی کے لئے تحریک چلائی۔ ان ججز کو صدر پرویز مشرف نے ہٹایا تھا۔ ابتدائی طور پر یہ تحریک کامیابی حاصل نہ کر سکی تاہم 2009 میں نواز شریف کی قیادت میں ایک بڑی پارٹی کی تحریک میں شمولیت پر حکومت پر دباؤ پڑا۔ ابھی لانگ مارچ راستے میں ہی قیادت کو جنرل کیانی کاپیغام ملا کہ ججز کو بحال کیا جارہا ہے۔ نواز لیگ او رپیپلزپارٹی کے مارچوں کی کامیابی کے پیچھے حکومت وقت اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان ٹکراؤ تھے۔ یہ جماعتیں ان ٹکراؤ کو کیش کرانا چاہتی تھی، جبکہ اسٹبلشمنٹ سیاسی جماعتوں کی رقابت سے فائدہ اٹھانا چاہتی تھی۔
عمران خان احتجاج کے اس سیاسی حربے سے آگاہ تھے۔ انہوں نے اس آلہ کا پہلی مرتبہ 2012 میں تب استعمال کیا جب انہوں نے قبائلی علاقوں پر امریکی ڈرون حملوں کے خلاف اسلام آباد سے وزیرستان تک لانگ مارچ کیا۔
جنوری 2013میں علامہ طاہرالقادری نے لاہور سے اسلام آباد تک ملین مارچ کیا۔ 2014 میں آزادی مارچ کے نام سے عمران خان نے اگست سے لیکر د سمبر تک انتخابات میں دھاندلی کے خلاف مارچ کیا اور اسلام آباد میں دھرنا دیا۔علامہ قادری نے ایک مرتبہ پھر لانگ مارچ کیا۔ یہ وہی موقعہ تھا جب عمران خان کا دھرنا چل رہا تھا۔ عمران خان کو یہ دھرنا آرمی پبلک اسکول پشاور کے سانحے کی وجہ سے ختم کرنا پڑا۔
جماعت اسلامی نے امیر سراج الحق کی قیادت میں مئی 2016 میں پشاور سے کراچی تک لانگ مارچ کیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ کرپشن کے خاتمے تک یہ مارچ جاری رہے گا۔یہ مارچ نے عملی طور پر عمران خان کی تحریک کو مدد دی ۔ کراچی سے اسلام آباد تک سندھ بعض سیاسی گروپوں نے’’ محبت سندھ ‘‘کے اظہار کے لئے ٹرین مارچ کیا تھا۔ لیکن یہ مارچ کوئی بڑا پیغام نہیں دے سکا۔
پیپلزپارٹی کی قیادت کے خلاف مقدمات اس نہج پر ہیں کہ پارٹی کی قیادت کے خلاف گھیراؤ تنگ ہو چکا ہے تازہ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ہے کہ نیب نے آصف علی زرداری کیخلاف جعلی اکاؤنٹس اور میگامنی لانڈرنگ کیس سے متعلق پہلا ریفرنس پنک ریذیڈنسی ریفرنس تیارکرلیاہے، ریفرنس دائر کرنے کی منظوری نیب ایگزیکٹو بورڈ سے لی جائیگی جس کے بعد آئندہ ہفتے تک ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کیا جائیگا۔الزام ہے کہ پنک ریزیڈنسی پارک لینڈ طرز کی کمپنی بنائی گئی تھی جس کو سندھ کی زمینیں غیر قانونی طور پر الاٹ کی گئیں۔بعد میں پنک ریزیڈنسی کے اکا ونٹس سے مبینہ طور پر رقم جعلی بینک اکاونٹس میں منتقل کی گئی۔وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو بھی نیب ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں پیر کے روز طلب کیا ۔ ان سے اومنی گروپ کی دو شگر ملز ٹھٹہ اور دادو شگر ملز کا ریکارڈ طلب کیا گیا ہے۔ یعنی آصف زرداری کے خلاف مزید ثبوت کی تلاش۔ راولپنڈی میں زرداری اور بلاول سے تحقیقات کا مطلب ہے کہ مقدمات بھی وہیں چلیں گے۔
دریں اثنائسابق وزیراعظم نواز شریف کی بیماری نے نواز لیگ کو بھی احتجاج کی طرف دھکیل دیا ہے۔ بلاول بھٹو ٹرین مارچ اور مریم نواز کی والد کے علاج کے لئے جیل کے باہر دھرنا دینے کے اعلانات کی ٹائیمنگ ایک ہی ہے۔ نتیجے میں حکومت کو دونوں پارٹیوں کے حوالے سے ایک قدم پیچھے ہٹنا پڑا۔ مریم نواز کو اجازت دی گئی کہ وہ اپنے پسند کے ڈاکٹر سے پانے والد کا معائنہ و علاج کرائے۔ جبکہ بعض وزراء اور حکمران پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے بلاول بھٹو کو غدار قرار دینے پر وزیراطلاعات کو وضاحت کرنی پڑی کہ بلاول محب وطن ہیں۔
انتخابات کے بعد بلاول بھٹو اسلام آباد میں مصروف ہو گئے تھے۔ لہٰذا انہیں سندھ کے عوام سے رابطہ کرنے کا موقعہ نہیں مل سکا ۔ ٹرین مارچ انہیں یہ موقعہ فراہم کررہا ہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں اٹھنے بیٹھنے کے بعدبلاول کو اب سیاست کی دنیا کا تجربہ ہو چکا ہے۔ اگرچہ تاحال ان کی سیاست پر والد کی سیاست کا سایہ حاوی ہے لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ وہ اپنے طور پر بھی بعض فیصلے کرنے لگے ہیں۔ یہ مارچ اس امر کو بھی ظاہر کرے گا۔
سندھ میں بہرحال پیپلزپارٹی آج بھی بڑی پارٹی ہے، اور حکومت میں بھی ہے۔ یہ ٹرین مارچ عوام کی شرکت و شمولیت کے لحاظ سے کامیاب ہو جائے گا۔ دیکھنا یہ ہے مارچ مقتدرہ حلقوں کو کیا پیغام دے پاتا ہے؟ اس ٹرین مارچ پر حکومت کیا ردعمل دیتی ہے؟ اور پیپلزپارٹی کے پاس ٹرین مارچ سے آگے اتحادی تلاش کرنے اور احتجاج کے طریقوں اور وقت کے حوالے سے کیا حکمت عملی ہے؟
#BilawalBhutto# #TrainMarch# #Long March Politics# #PPP-PMLN heading to Alliance#
Bilawal Bhutto train March
https://www.darsaal.com/columns/sohail-sangi/bilawal-bhutto-ka-train-march-ka-pegham-11697.html
http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/68492/Sohail-Sangi/Bilawal-Bhutto-Ka-Train-March-Ka-Pegham.aspx
https://www.naibaat.pk/25-Mar-2019/22019
----------------------------------------------------------------------------------------------------
پنڊي جي حوالي سان تجربو سٺو ناهي، منهنجو ٽرائل ڪيو پيو وڃي، نيب کي سهڪار جي پڪ ڏني آهي: مراد شاهه

اسلام آباد (رپورٽ: ايم بي سومرو) نيب راولپندي جي ٽيم شروعاتي پُڇاڳاڇا بعد وڏي وزير مراد علي شاهه کي سوالنامو ڏئي ڇڏيو. وڏي وزير چيو آهي ته پنڊي جي حوالي سان اسان جو تجربو سٺو نه رهيو آهي، مون وٽ لڪائڻ لاءِ ڪجهه ناهي ۽ نيب کي جاچ ۾ سهڪار جي پڪ ڏياري آهي. وڏو وزير مراد علي شاهه اسلام آباد پهچڻ بعد پهرين ڊي جي نيب سنڌ عرفان منگي سان ملاقات ڪئي، جنهن دوران مٿس لڳايل الزامن تي ڳالهيون ڪيون ويون. اُن کانپوءِ نيب راولپنڊي جي 5 رُڪني ٽيم وڏي وزير مراد علي شاهه کان پُڇاڳاڇا ڪئي. نيب ذريعن جو چوڻ آهي ته وڏي وزير کان 50 کان وڌيڪ سوال پُڇيا ويا، جڏهن ته کائنس اومني گروپ کي هڪ ارب جي سبسڊي ۽ ٺٽو شگر ملز ۾ ڪرپشن اسڪينڊل جي حوالي سان سوال پُڇيا ويا. نيب ٽيم آڏو پيش ٿيڻ بعد ميڊيا سان ڳالهائيندي وڏي وزير مراد علي شاهه چيو ته ڪراچي ۾ پيش ٿيان ها ته خاموشي سان پيش ٿي هليو وڃان ها ۽ ڪيس ڪراچي ۾ هجڻ جي صورت ۾ خرچ به گهٽ ٿئي ها. هُن چيو ته ڪيس پنڊي ۾ هلي رهيو آهي ۽ ماڻهو سڀ ڪراچي ۾ آهن، اسان جو پنڊي جي حوالي سان تجربو سٺو ناهي رهيو. منهنجو ميڊيا ٽرائل ڪيو پيو وڃي، نيب کي جيڪو پُڇڻو هو، پُڇي ڇڏيو ۽ مون کي سوالنامو به ڏنو ويو آهي. پهريون ڀيرو نيب آڏو پيش ٿيو آهي، مون وٽ لڪائڻ لاءِ ڪجهه به نه آهي ۽ نيب کي جاچ ۾ سهڪار جي پڪ ڏياري آهي. هڪ سوال جي جواب ۾ وڏي وزير چيو ته مون کان ٺٽو شگر ملز جي حوالي سان به سوال ڪيا ويا.










