Wednesday, March 27, 2019

بلاول بھٹو کا ٹرین مارچ کیا پیغام دے گا؟


بلاول بھٹو کا ٹرین کیا مارچ دے گا؟

میرے دل میرے مسافر  سہیل سانگی


پیپلزپارٹی احتجاج میں داخل ہو چکی ہے۔ اس کی پہلی جھلک راولپنڈی میں دیکھنے میں آئی جب پارٹی کے چیئرمین اور شریک چیئرمین منی لانڈرنگ اور جعلی بینک اکاؤنٹس کی تحقیقات کے لئے کو نیب کے سامنے پیش ہوئے۔ پارٹی کارکن یکجہتی کے لئے جمع ہوئے۔ پولیس سے مڈبھیڑ ہوئی۔ دوسری جھلک آج کراچی سے لاڑکانہ تک ٹرین مارچ کی شکل میں جاری ہے۔ اس ٹرین مارچ کا اعلان پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقعہ پر جمع ہونے کے لئے کیا تھا۔تاہم اس احتجاجی مہم کا حصہ ہے جس کا ذکر آصف علی زرداری گزشتہ کئی ہفتوں سے کر رہے تھے۔ پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو روہڑی سے راولپنڈی تک ٹرین مارچ کریں گے۔ حالیہ مارچ کے دوران وہ 26 مارچ کی رات نوابشاہ میں قیام کریں گے، وہاں سے 27 مارچ کی صبح خصوصی ٹرین براستہ سکھر رات کو لاڑکانہ پہنچے گی، جہاں پیپلز پارٹی کے کارکن بلاول بھٹو زرداری کا استقبال کریں گے ۔ وہ راستے میں 25 مقامات پر کارکنوں سے خطاب کریں گے۔یوں سندھ کا ایک بڑے حصہ تک ان کی رسائی ہو سکے گی۔
ٹرین مارچ اور لانگ مارچ ماضی میں بھی پاکستان کی سیاست کا حصہ رہے ہیں۔1992 میں بینظیر بھٹو نے پاکستان ڈیموکریٹک الائنس بنایا اور نواز شریف کے خلاف تحریک شروع کی ان کا کہنا تھا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے۔ بینظیر بھٹو نے لاہور سے راولپنڈٰ ی تک لانگ مارچ کیا۔تب صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم نواز شریف کے درمیان اختلافات زوروں پر تھے۔ نتیجے میں چند ماہ بعد نواز شریف کی حکومت ختم کردی گئی۔
ستمبر 1994 میں ابھی بینظیربھٹو کی حکومت کو بمشکل ایک سال ہوا تھا۔ نواز شریف نے بینظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف ٹرین مارچ کیا۔اس مارچ کا فوری طور پر کوئی نتیجہ نہیں کل سکا، بینظیر نے 1996 تک حکومت کی۔
2008 میں پاکستان بار کونسل نے چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری اور دیگر ججز کی بحالی کے لئے تحریک چلائی۔ ان ججز کو صدر پرویز مشرف نے ہٹایا تھا۔ ابتدائی طور پر یہ تحریک کامیابی حاصل نہ کر سکی تاہم 2009 میں نواز شریف کی قیادت میں ایک بڑی پارٹی کی تحریک میں شمولیت پر حکومت پر دباؤ پڑا۔ ابھی لانگ مارچ راستے میں ہی قیادت کو جنرل کیانی کاپیغام ملا کہ ججز کو بحال کیا جارہا ہے۔ نواز لیگ او رپیپلزپارٹی کے مارچوں کی کامیابی کے پیچھے حکومت وقت اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان ٹکراؤ تھے۔ یہ جماعتیں ان ٹکراؤ کو کیش کرانا چاہتی تھی، جبکہ اسٹبلشمنٹ سیاسی جماعتوں کی رقابت سے فائدہ اٹھانا چاہتی تھی۔
عمران خان احتجاج کے اس سیاسی حربے سے آگاہ تھے۔ انہوں نے اس آلہ کا پہلی مرتبہ 2012 میں تب استعمال کیا جب انہوں نے قبائلی علاقوں پر امریکی ڈرون حملوں کے خلاف اسلام آباد سے وزیرستان تک لانگ مارچ کیا۔
جنوری 2013میں علامہ طاہرالقادری نے لاہور سے اسلام آباد تک ملین مارچ کیا۔ 2014 میں آزادی مارچ کے نام سے عمران خان نے اگست سے لیکر د سمبر تک انتخابات میں دھاندلی کے خلاف مارچ کیا اور اسلام آباد میں دھرنا دیا۔علامہ قادری نے ایک مرتبہ پھر لانگ مارچ کیا۔ یہ وہی موقعہ تھا جب عمران خان کا دھرنا چل رہا تھا۔ عمران خان کو یہ دھرنا آرمی پبلک اسکول پشاور کے سانحے کی وجہ سے ختم کرنا پڑا۔
جماعت اسلامی نے امیر سراج الحق کی قیادت میں مئی 2016 میں پشاور سے کراچی تک لانگ مارچ کیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ کرپشن کے خاتمے تک یہ مارچ جاری رہے گا۔یہ مارچ نے عملی طور پر عمران خان کی تحریک کو مدد دی ۔ کراچی سے اسلام آباد تک سندھ بعض سیاسی گروپوں نے’’ محبت سندھ ‘‘کے اظہار کے لئے ٹرین مارچ کیا تھا۔ لیکن یہ مارچ کوئی بڑا پیغام نہیں دے سکا۔
پیپلزپارٹی کی قیادت کے خلاف مقدمات اس نہج پر ہیں کہ پارٹی کی قیادت کے خلاف گھیراؤ تنگ ہو چکا ہے تازہ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ہے کہ نیب نے آصف علی زرداری کیخلاف جعلی اکاؤنٹس اور میگامنی لانڈرنگ کیس سے متعلق پہلا ریفرنس پنک ریذیڈنسی ریفرنس تیارکرلیاہے، ریفرنس دائر کرنے کی منظوری نیب ایگزیکٹو بورڈ سے لی جائیگی جس کے بعد آئندہ ہفتے تک ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کیا جائیگا۔الزام ہے کہ پنک ریزیڈنسی پارک لینڈ طرز کی کمپنی بنائی گئی تھی جس کو سندھ کی زمینیں غیر قانونی طور پر الاٹ کی گئیں۔بعد میں پنک ریزیڈنسی کے اکا ونٹس سے مبینہ طور پر رقم جعلی بینک اکاونٹس میں منتقل کی گئی۔وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو بھی نیب ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں پیر کے روز طلب کیا ۔ ان سے اومنی گروپ کی دو شگر ملز ٹھٹہ اور دادو شگر ملز کا ریکارڈ طلب کیا گیا ہے۔ یعنی آصف زرداری کے خلاف مزید ثبوت کی تلاش۔ راولپنڈی میں زرداری اور بلاول سے تحقیقات کا مطلب ہے کہ مقدمات بھی وہیں چلیں گے۔
دریں اثنائسابق وزیراعظم نواز شریف کی بیماری نے نواز لیگ کو بھی احتجاج کی طرف دھکیل دیا ہے۔ بلاول بھٹو ٹرین مارچ اور مریم نواز کی والد کے علاج کے لئے جیل کے باہر دھرنا دینے کے اعلانات کی ٹائیمنگ ایک ہی ہے۔ نتیجے میں حکومت کو دونوں پارٹیوں کے حوالے سے ایک قدم پیچھے ہٹنا پڑا۔ مریم نواز کو اجازت دی گئی کہ وہ اپنے پسند کے ڈاکٹر سے پانے والد کا معائنہ و علاج کرائے۔ جبکہ بعض وزراء اور حکمران پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے بلاول بھٹو کو غدار قرار دینے پر وزیراطلاعات کو وضاحت کرنی پڑی کہ بلاول محب وطن ہیں۔
انتخابات کے بعد بلاول بھٹو اسلام آباد میں مصروف ہو گئے تھے۔ لہٰذا انہیں سندھ کے عوام سے رابطہ کرنے کا موقعہ نہیں مل سکا ۔ ٹرین مارچ انہیں یہ موقعہ فراہم کررہا ہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں اٹھنے بیٹھنے کے بعدبلاول کو اب سیاست کی دنیا کا تجربہ ہو چکا ہے۔ اگرچہ تاحال ان کی سیاست پر والد کی سیاست کا سایہ حاوی ہے لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ وہ اپنے طور پر بھی بعض فیصلے کرنے لگے ہیں۔ یہ مارچ اس امر کو بھی ظاہر کرے گا۔
سندھ میں بہرحال پیپلزپارٹی آج بھی بڑی پارٹی ہے، اور حکومت میں بھی ہے۔ یہ ٹرین مارچ عوام کی شرکت و شمولیت کے لحاظ سے کامیاب ہو جائے گا۔ دیکھنا یہ ہے مارچ مقتدرہ حلقوں کو کیا پیغام دے پاتا ہے؟ اس ٹرین مارچ پر حکومت کیا ردعمل دیتی ہے؟ اور پیپلزپارٹی کے پاس ٹرین مارچ سے آگے اتحادی تلاش کرنے اور احتجاج کے طریقوں اور وقت کے حوالے سے کیا حکمت عملی ہے؟
#BilawalBhutto# #TrainMarch# #Long March Politics# #PPP-PMLN heading to 
Alliance#

Bilawal Bhutto train March
https://www.darsaal.com/columns/sohail-sangi/bilawal-bhutto-ka-train-march-ka-pegham-11697.html

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/68492/Sohail-Sangi/Bilawal-Bhutto-Ka-Train-March-Ka-Pegham.aspx

https://www.naibaat.pk/25-Mar-2019/22019

----------------------------------------------------------------------------------------------------

نيب راولپنڊي جي ٽيم طرفان وڏي وزير کان پُڇاڳاڇا مڪمل

پنڊي جي حوالي سان تجربو سٺو ناهي، منهنجو ٽرائل ڪيو پيو وڃي، نيب کي سهڪار جي پڪ ڏني آهي: مراد شاهه


اسلام آباد (رپورٽ: ايم بي سومرو) نيب راولپندي جي ٽيم شروعاتي پُڇاڳاڇا بعد وڏي وزير مراد علي شاهه کي سوالنامو ڏئي ڇڏيو. وڏي وزير چيو آهي ته پنڊي جي حوالي سان اسان جو تجربو سٺو نه رهيو آهي، مون وٽ لڪائڻ لاءِ ڪجهه ناهي ۽ نيب کي جاچ ۾ سهڪار جي پڪ ڏياري آهي. وڏو وزير مراد علي شاهه اسلام آباد پهچڻ بعد پهرين ڊي جي نيب سنڌ عرفان منگي سان ملاقات ڪئي، جنهن دوران مٿس لڳايل الزامن تي ڳالهيون ڪيون ويون. اُن کانپوءِ نيب راولپنڊي جي 5 رُڪني ٽيم وڏي وزير مراد علي شاهه کان پُڇاڳاڇا ڪئي. نيب ذريعن جو چوڻ آهي ته وڏي وزير کان 50 کان وڌيڪ سوال پُڇيا ويا، جڏهن ته کائنس اومني گروپ کي هڪ ارب جي سبسڊي ۽ ٺٽو شگر ملز ۾ ڪرپشن اسڪينڊل جي حوالي سان سوال پُڇيا ويا. نيب ٽيم آڏو پيش ٿيڻ بعد ميڊيا سان ڳالهائيندي وڏي وزير مراد علي شاهه چيو ته ڪراچي ۾ پيش ٿيان ها ته خاموشي سان پيش ٿي هليو وڃان ها ۽ ڪيس ڪراچي ۾ هجڻ جي صورت ۾ خرچ به گهٽ ٿئي ها. هُن چيو ته ڪيس پنڊي ۾ هلي رهيو آهي ۽ ماڻهو سڀ ڪراچي ۾ آهن، اسان جو پنڊي جي حوالي سان تجربو سٺو ناهي رهيو. منهنجو ميڊيا ٽرائل ڪيو پيو وڃي، نيب کي جيڪو پُڇڻو هو، پُڇي ڇڏيو ۽ مون کي سوالنامو به ڏنو ويو آهي. پهريون ڀيرو نيب آڏو پيش ٿيو آهي، مون وٽ لڪائڻ لاءِ ڪجهه به نه آهي ۽ نيب کي جاچ ۾ سهڪار جي پڪ ڏياري آهي. هڪ سوال جي جواب ۾ وڏي وزير چيو ته مون کان ٺٽو شگر ملز جي حوالي سان به سوال ڪيا ويا.

Saturday, March 23, 2019

کیا تھر بدلائے گا پاکستان؟



کیا تھر بدلائے گا پاکستان؟

سندھ نامہ          سہیل سانگی 

سندھ اینگرو کمپنی نے دعوا کیا ہے کہ تھر کول سے بجلی کی پیداوار شروع ہو گئی ہے اور اس بجلی کو نیشنل گرڈ سے جوڑ دیا گیا ہے۔یہ موضوع میڈیا خواہ سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہے کہ واقعی کول سے بجلی پیدا ہونا شروع ہو گئی ہے؟کیونکہ صوبے کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد سمیت دیگر شہروں میں چار سے چھ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ اب بھی جاری ہے۔میڈیا اور دیگر حلقوں کو شبہ ہے کہ تھرکول اور پھر یہاں سے بجلی کی پیداوار اس پسماندہ علاقے کی زندگی میں کوئی بدلاؤ لے آئے گا۔ تھر میں سڑکیں صرف کول ایریا تک پہنچنے کے لئے ہیں۔ اایک حد تک مٹھی اور اسلام کوٹ تک روڈ اور صحت کی سہولیات پہنچ پائی ہیں۔ اجنہیں طمینان بخش نہیں کہا جاسکتا۔ مگرجبکہ تین تحصیلیں یعنی چھاچھرو، ڈاہلی اور نگرپارکرجو کہ پورے تھر کا ساٹھ فیصد سے زائد علاقہ ہے، تاحال سڑکوں اور دیگر مواصلات، تعلیم اور صحت کے بنیادی نیٹ ورک سے محروم ہیں۔تھر کی ترقی کے پورے معاملے سے وفاقی حکومت بہت دور کھڑی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے توانائی کے صوبائی وزیر امتیاز شیخ کے ساتھ یہ نعرہ دیا کہ’’ تھر بدلائے گا پاکستان ‘‘یہ سوال کیا جارہا ہے کہ کیا کالا سون تھر کی قسمت تبدیل کر پائے گا؟ حالات و واقعات سے ایسے شواہد نہیں مل رہے ہیں۔

روزنامہ کاوش لکھتا ہے کہ تھر کول پراجیکٹ کے بلاک ٹو جہاں سے 660 میگاواٹ بجلی پیدا ہونی تھی وہاں سے دو روز قبل 330 میگاواٹ بجلی پیدا ہونا شروع ہو گئی ہے۔ تھر سے پیدا ہونے والی بجلی نیشنل گرڈ اسٹیشن فیصل آباد منتقل کردی گئی ہے ، جہاں سے بجلی کی تقسیم کو ممکن بنایاجاسکے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ اور پروجیکٹ کے عملے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کامیابی کو ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اہم قرار دیا جارہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ واقعی عوامی ترقی ہے۔؟ جس کو سندھ حکومت کامیابی قرار دے کر مبارک باد دے رہی ہے۔ 
تھر کول پروجیکٹ سے پیدا ہونے والی بجلی کو عوامی خوشحالی سے منسلک کرنا اس وجہ سے بھی غیر متعلقہ لگتا ہے کہ تھر کے 70فیصد سے زائد عوام تاحال بجلی سے محروم ہے۔ کیا یہ جشن اس پر منایا جارہا ہے اس بجلی کی پیداوار کے بعد بھی تھر کے باسیوں کو حقوق نہیں ملیں گے؟ ضلع تھرپارکر کا رہائشی اس ترقی کو کس نظر سے دیکھے گا؟ اس کے لئے اس ترقی کا مفہوم کیا ہوگا؟ تھر کول سے پیدا ہونے والی بجلی کے ساتھ تھر کی ترقی کا سوال بھی وابستہ ہے۔ یہ ترقی اپنی نوعیت میں عوامی ترقی ہوگی۔ کامیابی کا اعلان کرنے والوں کو یہ بھی اعلان کرنا چاہئے تھا کہ اس میں سے کتنی بجلی تھر کے لوگوں کو ملے گی؟ 
کوئی تھری یہ بھی بھول گیا ہوگا کہ دو سال پہلے جب گوڑانو ڈیم پر کام شروع ہوا تھا تو وہاں پر 12 دیہات متاثر ہوئے تھے۔ نقل مکانی کرنے والے ان لوگوں کو کسی اطمینان بخش بحالی کی پالیسی کے تحت آباد نہیں کیا گیا۔ یاد رہے کہ گوڑانو ڈیم جو اب مکمل ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے ایک لاکھ سے زائد درخت تباہ ہو چکے ہیں۔ وہ مویشی جن پر گاؤں کے لوگوں کو گزر سفر تھا، وہ بھی بری طرح سے متاثر ہو چکا ہے۔ اس پروجیکٹ کے نتیجے میں بے گھر اور متاثر ہونے والے لوگ ایک سال سے زائد عرصے تک سے سراپا احتجاج یں۔ اور یہ معاملہ عالمی تنظیموں تک جا پہنچا ہے۔ اس پروجیکٹ پر کام کرنے والی سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کی کول مائننگ اسیسمنٹ رپورٹ بھی زیادہ تسلی بخش نہیں۔ جن لوگوں کی زمینوں سے یہ پائپ لائن گزاری گئی ہے وہ ابھی تک معاوضے اور انصاف کے لئے منتظر ہیں۔ بعض کے معاملات عدالتوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ اس پروجیکٹ کی کامیابی پر مبارکباد ینے والے وزیراعلیٰ سندھ کو اس پر بھی غور کرنا چاہئے کہ پروجیکت کی کامیابی اس صوبے کے باسیوں کی بدحالی پر ہی کھڑی ہے۔ 
مبارکباد دینے والے وزیراعلیٰ سندھ کو یہ بھی اعلان کرنا چاہئے تھا کہ اس بجلی میں سے کتنا فیصد تھر کے مقامی باشندوں اور دیہات کے لئے مختص ہے؟ پیپلزپارٹی کی حکومت تھر کے دیہات کے بچے کو بچانے میں ناکام رہی ہے۔ اس سے تھر کول سے بجلی پیدا ہونے کے بعدترقی کی امید کی جاسکتی ہے؟ عوامی ترقی کا مطلب عوامی خوشحالی ہے۔ تھر کول کا اربوں روپے کی مالیت کا پروجیکٹ اپنی جگہ پر، تھر کا معیار زندگی کتنا اور کیا بدلا ہے؟ یہ تھر کے لوگ ہی بتا سکتے ہیں۔
روزنامہ سندھ ایکسپریس لکھتا ہے کہ سندھ بھر میں جہاں کمپنیاں قدرتی وسائل کے استعمال پر کام کر رہی ہیں وہاں مقامی لوگوں کو روزگار میں حصہ آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ وہاں کے معیار زندگی میں یا غربت میں کوئی فرق آیا۔ان علاقوں میں سڑکیں اور دیگر سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اگر تھ کے ساتھ بھی یہی ہونا ہے تو تھر کول منصوبہ کا تھر کے لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں پنچے گا۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اس منصوبے میں تھر کے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کو یقینی بنائے۔ 
روزنامہ عبرت لکھتا ہے کہ اگر حکومت چاہتی ہے کہ تھر کے لوگوں کو روزگار کے حوالے سے اس پروجیکت میں جگہ ملے تو تھرمیں قائم دو ٹیکنیکل انسٹیٹوٹس کو فعال بناکر تھر کے نوجوانوں میں فنی تربیت کو یقینی بنائے۔اگرچہ حکومت کو یہ کام پروجیکٹ شروع ہونے سے پہلے کرنا چاہئے تھا۔ اگر صحیح منصوبہ بندی اور حکمت عملی اختیار کی جائے تو تھر ایک بڑا صنعتی زون بن سکتا ہے۔ جب بجلی کی پیداوار پر مبارکبادیں دی جارہی ہیں اس موقعہ پر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ تھر کے لوگوں کو قومی ترقی کے عوض اپنے گھر، اور زمین چھوڑنی پڑی۔ اس کا نہ صرف انہیں معاوضہ ملنا چاہئے بلکہ ان بے گھر ہونے والوں کی آبادکاری اور مناسب روزگار کا بھی بندوبست کرناکیا جانا چاہئے۔

Friday, March 22, 2019

صرف قراردادیں ہی کیوں ؟



سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کر کے صوبے کے تمام اسکولوں کو پابند کیا ہے کہ سندھی لازمی طور پر پڑھائیں۔ قرارداد کے پس منظر میں وزیرتعلیم سردار علی شاہ نے زبردست قسم کی سندھ دوست اور سماج دوست باتیں کی۔ بلاشبہ یہ قرارداد سندھ کے ہر باسی کی سوچ کی عکاسی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف باتیں کرنا ہی کافی ہے؟ کیا عملی حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہونی چاہئے؟ سندھ کے لوگوں کو شاید خوشی ہوتی اور عملی طور پر کچھ ہوتا ہوا نظر آتا اگر وزیر تعیلم یا وزیراعلیٰ سندھ ان اسکولوں کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا نوٹیفیکیشن منسوخ کرتے جو سندھی نہیں پڑھاتے۔ ایسا ہوتا تو لوگوں کو سمجھ میں آتا کہ سندھ حکومت صرف سندھ کارڈ کھیلتی نہیں بلکہ سندھ کاز کے لئے کچھ کر کے دکھاتی ہے۔ وزیراعلیٰ یا وزیر تعلیم سندھی نہ پڑھانے والے اسکولوں کے کرتوت عوام کے سامنے لے آتے تو اچھا تھا۔

وزیر تعلیم سردار علی شاہ نے بھارت میں کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ وہاں سندھی سمیت 36 زبانوں کو قومی زبان کا رتبہ حاصل ہے۔ لیکن انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا پاکستان میں سات زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دینے سے متعلق بل قومی اسمبلی میں کئی برس سے رکا ہوا ہے اس کے لئے کوئی خط وکتابت کی؟ اس سے قبل وزیرتعلیم قومی اسمبلی میں زیر التوا بل پر افسوس کا اظہار کر چکے ہیں۔ لیکن سندھ کو افسوس کے بجائے عمل کی ضرورت ہے۔ سندھ کے عوام جانتے ہیں کہ سندھ اسمبلی یہ قرارداد 2010، مارچ 2011 ، اور ستمبر 2016 میں بھی منظور کر چکی ہے۔ ان قراردادوں کا نتیجہ کیا نکلا؟ حیرت کی بات ہے کہ جو کام حکومت کو کرنے ہیں وہ کرنے کے بجائے دلاسے کیوں دیئے جارہے ہیں؟
حالیہ قرارداد کے بعد سندھ کے لوگ سوچنے لگے ہیں کہ آخر کیوں قرارداد کے اوپر قرارداد منظور کی جارہی ہیں؟ اس کی کیا ضرورت پیش آرہی ہے؟ اور یہ کہ حالیہ اور ماضی کی قراردادوں میں فرق کیا ہے؟
سندھ میں ساڑھے بارہ ہزار نجی اسکول ہیں۔ ان میں سے اگر چالیس پچاس کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جاتی تو لگتا کہ سندھ حکومت سندھی زبان کو رائج کرنے کے معاملے میں سنجیدہ ہے۔ جن نجی اسکولوں کے خلاف کارروائی کی بات کی جارہی ہے وہ اسکول سندھ حکومت کی حیثیت کو ہینہیں مانتے۔


حکومت سندھ کی جانب سے نجی اسکولوں میں سندھی کی لازمی تدریس کا قانون ایسا ہی ہے جیسا ٹرانسپورٹ میں کرایوں کے نفاذ کا قانون۔ سرکاری طور پر کرایے ایک ہوتے ہیں لیکن بسوں، ویگنوں اور کوچز میں مقررہ کرایے سے دگنا، اور تین گنا کرایہ وصول کیا جاتا ہے۔ کرایہ ناموں کے ایسے متعدد نوٹیفکیشن ہر ضلع اور ڈویژن میں پڑے ہوئے ہیں لیکن ان کی حیثیت ایک کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں۔ ایسے میں سندھ اسمبلی کے حالیہ قرارداد سے کیا فرق پڑے گا؟

1973ء سے سندھی کو صوبے میں ایک قانون کے ذریعے سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔ پھر کیوں سندھ کے تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں خط و کتابت کے لئے انگریزی استعمال کی جاتی ہے؟ 1972ء کے قانون میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ دفتری زبان سندھی ہوگی۔ صوبے کے تمام تعلیمی اداروں میں سندھی لازمی طور پر پڑھائی جائے گی۔ اس قانون کے تحت سندھ حکومت کو اختیار ہے کہ وہ سندھی زبان کے فروغ کے لئے قواعد و ضوابط بنا سکتی ہے۔ اس قانون میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ صوبائی حکومت صوبے کے محکموں اور اداروں میں سندھی زبان رائج کرنے کے مکمل اختیارات رکھتی ہے۔ اسی طرح سندھ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنز ایکٹ 2005 کے تحت بھی سندھ حکومت نجی تعلیمی اداروں میں اپنی پالیسیاں نافذ کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ اور نجی تعلیمی ادارے سندھی زبان کی تدریس کے پابند ہیں۔ لیکن عملی طور پر صوبے میں تقریبا تمام نجی اسکول سندھی کو لازمی مضمون کے طور پر نہیں پڑھاتے۔ یہاں تک کہ کراچی کے تعلیمی اداروں سے سندھی زبان نکال دی گئی ہے۔ ایک خاص گروہ کو خوش کرنے کے لئے ہمارے رہنماؤں نے بھی سندھی زبان کی کراچی بدر کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ اب صرف سندھ کارڈ کا کھیل نہیں چلے گا حکومت کو عملی طور پر کچھ کر کے دکھانا پڑے گا۔
سندھ میں بڑھتی ہوئی غربت کے عنوان سے روزنامہ کاوش لکھتا ہے کہ ٹنڈوالہیار کے قریب کولہی برادری کی ایک خاتون دھرمی کولہی کی خودکشی کی خبر سے صوبے میں غریب طبقے کے لوگوں کی خود کشی کے واقعات میں ایک اور اضافہ ہوگیا۔خودکشی کرنے والی خاتون کسان تھی۔ سندھ کے غریب طبقے کے افراد کی روز انہ خودکشی کے واقعات بتاتے ہیں کہ صوبے میں معاشی طور پر زندگی کی اذیت اب موت کی اذیت سے بدتر ہو تی جاررہی ہے۔ کہ لوگوں کو اب موت کا تصور اتنا تکلیف دہ محسوس نہیں ہوتا۔ نچلے طبقے کا معاشی استحصال انہیں خود کشی کے بارے میں سوچنے اور اس پر عمل کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومتیں اپنے لوگوں کو کس معیار کی زندگی دے رہی ہیں۔
خودکشی کرنے والوں میں اکثریت کا تعلق کولہی، بھیل اور میگھواڑ برادریوں سے ہے۔ خودکشی کرنے والے کسان اور مزدور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں خود کشی کے واقعات زیادہ ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ سال تھرپارکر میں خودکشیوں کا رجحان زیادہ دیکھا گیا۔ خاص طور پر تھر اور دیگر ایسے پسماندہ علاقے جہاں زراعت زیادہ نہیں، وہاں پسماندہ اور غریب لوگ مائکروفنانس بینکوں اور این جی اوز کی طرف دیکھتے ہیں۔ مائکر و قرضہ جات دینے والے اداروں کا تھر کے علاقے میں کئی سال سے وسیع نیٹ ورک موجود ہے۔ جو غریب لوگوں کو سود پر قرضے دیتا ہے ۔ اور بعد میں ماہانہ وصولی کرتا ہے۔ بعض خاندان ایسے ہوتے ہیں جو قرضے کی قسط دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے۔ قرض خواہان ادائیگی کرنے کی صورت میں انہیں ڈراتے دھمکاتے ہیں۔ نتیجے میں گھر کے بڑے کے پاس سوائے خود کشی کے کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ سندھ کے وہ علاقے جہاں زراعت بہتر ہوتی ہے، وہاں کا غریب طبقہ بھی قرضے کے جال میں پھنسا ہوا ہے۔ لیکن یہاں پر خودکشی کی وجہ بینک قرضوں کے بجائے زمیندار کا استحصال ہے۔

یہ سوال سندھ حکومت پر اٹھتا ہے کہ آخر عام آدمی قرضہ لینے پر مجبور کیوں ہوتا ہے؟ پیپلزپارٹی کے منشور میں موجود کسان اور مزدور کا نعرہ ہونے کے باجود پارٹی مسلسل تیسرے دور حکومت میں بھی ان طبقات کے لئے کوئی پیکیج نہیں دے سکی۔ جس سے ان کے حالات زندگی میں تبدیلی آسکے۔ اور نہ ہینچلے طبقے کے لئے حکومت اتنی ملازمیں پیدا کر سکی ہے۔ بینظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام کے تحت پانچ ہزار روپے دینے کے بجائے لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع کا بندوبست کرے۔ تاکہ غریب طبقہ بھی زندگی گزار سکے۔

https://www.naibaat.pk/15-Mar-2019/21754

وجہ مزاج پرسی ہی سہی، میثاق جمہوریت کے احیاء کا امکان


میرے دل میرے مسافر 
سہیل سانگی
بلاول نواز ملاقات

وزیراعظم عمران خان نے شاید پہلی مرتبہ براہ راست پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو تنقید کا نشانہ بنایا۔اس سے پہلے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی میں بلاول کی تقریر پر تنقید کی تھی۔ حکمران جماعت کے دو اہم رہنماؤں کی جانب سے اچانک پیپلزپارٹی کے نوجوان رہنما کو نشانہ بنانا عجیب لگا۔ ورنہ ان کے والد آصف علی زرداری پر ہی تنقید نشانہ رہے ہیں۔ لیکن بعد میں رونما ہونے والے واقعات نے یہ عیاں کر دیا کہ بلاول کو تنقید کا نشانہ کیوں بنایا جارہا ہے۔ وزراعظم عمران خان کی تقریر کے دو روز بعد بلاول بھٹو نے کوٹ لکھپت جیل میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی۔بعد میں وہ سندھ پہنچے اور کراچی میں سندھ اسمبلی میں آئے اور اہم پریس کانفرنس کی ۔
موجودہ اسمبلی کے وجود میں آنے کے بعد بلاول بھٹو مسلسل اسلام آباد میں رہے، انہوں نے بہ قریب سے پارلیمانی سیاست کا مشاہدہ کیا، اور مختلف لیڈروں سے ملاقاتیں اور رابطے کئے۔ دوسری جانب آصف علی زرداری خرابی صحت کی بناء پر زیادہ سرگرم نہیں دکھائی دے رہے تھے۔ ابھی بھی انہیں منی لانڈرنگ اور مبینہ جعلی اکاؤنٹس کے مقدمات کا سامنا ہے۔ تجزیہ نگار آنے والے دنوں میں آصف علی زرداری کی گرفتاری کو خارج ازامکان قرار نہیں دے رہے ہیں۔ جبکہ خود زرادری بھی گزشتہ دو ماہ سے اس گرفتاری کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ اس صورتحال میں پارٹی میں بلاول بھٹو کا رول بڑھ گیا ہے۔ عمران خان جانتے ہیں کہ بلاول اب پارٹی اور میں زیادہ اہم ہو گئے ہیں۔ لہٰذا ان کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ 
میاں نوازشریف کے جیل میں علاج کروانے سے انکار نے ایک نئی صورتحال پید اکردی ہے۔ جس کی یہ توضیح کی جارہی ہے کہ میاں صاحب ڈٹ گئے ہیں اور حکومت کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں ۔اس صورتحال میں بلاول بھٹو کی ان سے ملاقات یقیننا اہمیت کی حامل ہے۔کچھ عرصہ قبل قومی اسمبلی میں آصف علی زرداری اور میاں شہباز شریف کے درمیان بھی ملاقات ہو چکی ہے۔بلاول بھٹو کی حالیہ ملاقات اسی کا تسلسل لگتا ہے۔ 
ملاقات کے بعد اگرچہ بلاول بھٹو زرادری نے یہ کہا کہ میاں صاحب سے ملاقات الائنس کیلئے نہیں تھی‘اتحاد کی باتیں قبل از وقت ہیں۔ لیکن صرف مزاج پرسی کے لئے نہیں تھی۔ بلکہ اس کے لئے تھی کہ ہسپتال داخل ہو کر علاج کرانے سے انکار سے سامنے آیا کہ ڈیل کی جو باتیں ہو رہی تھی وہ ڈیل نہیں ہو سکی۔ پیپلزپارٹی بھی اب یہی سمجھتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی کہا کہ نواز شریف اصولوں پرقائم ہیں اور مجھے نہیں لگتا کہ کوئی ڈیل ہوئی یا نواز شریف سمجھوتہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ نواز شریف اپنے اصولوں پر قائم رہیں گے‘بلاول بھٹو نے میاں کا جملہ بھی دہرایا کہ وہ نظریاتی بن گئے ہیں۔ 
تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز کئی مواقع پر قریب آتی رہیں اور بعض اوقات قریب آتے آتے دور ہو گئیَں، ایسا بھی ہوا کہ ان دونوں پارٹیوں نے آپس میں قربت کے بعض مواقع گنوائے۔نواز بلاول ملاقات بعد سویلین بالادستی کے لئے لندن میں بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان لندن میں ہونے والا میثاق جمہوریت ایک مرتبہ پھر میثاق جمہوریت زیر بحث آگیا۔ ملاقات میں میثاق جمہوریت پر بات ہوئی ہے کہ ہمیں اسے فعال او رمضبوط کرنا چاہیے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ میثاق جمہوریت کے تمام نکات پر عملدر آمد نہ ہونا پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کی ناکامی ہے۔تاہم وہ کہتے ہیں کہ میثاق جمہوریت کو نئے سرے سے لانا ہو گا۔
وجہ مزاج پرسی ہی سہی لیکن ملاقات کے دوران ملک کی دو بڑی جماعتوں کے رہنماؤں نے تحریک انصاف کے سواتمام دیگر جماعتوں سے نئے میثاق جمہوریت پر اتفاق کیا۔ یعنی تحریک انصاف کے خلاف یا وہ فارمولا جس کے تحت تحریک انصاف کو حکومت دی گئی، اس کے خلاف ایک متحدہ حکمت عملی بنائی جائے گی۔ پاکستان کی جو سیاسی مشکلات، نظام میں کمزوریاں ہیں ان کا حل نکالنا چاہیے۔ 
سیاسی صورتحال میں ایک اورتبدلی کسی بھی وقت رونما ہو سکتی ہے۔ کیونکہ چوہدری برادران کے خلاف مقدمات کھلنے جا رہے ہیں ۔ اس صورت میں ق لیگ حکومت کا ساتھ چھوڑ سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو تحریکِ انصاف کے لئے پنجاب میں حکمرانی جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ یہ دباؤ وفاقی حکومت تک بھی جاسکتا ہے۔
پاکستان کی جو سیاسی مشکلات، نظام میں کمزوریاں ہیں ان کا حل نکالنا چاہیے۔عدلیہ انتظامیہ بیوروکریسی اور سسٹم کے اندر پائے جانے والے چیک اینڈ بیلنس جب فیل ہو جاتے ہیں تب ایسی صورتحال بنتی ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے سے بلاول بھٹو جو نکات اٹھا رہے ہیں ہیں ان کو اس طرح سے سمویا جاسکتا ہے۔ میثاق جمہوریت کو ازسرنو زندہ کیا جائے۔ میثاق جمہوریت کے تحت عدالتی اصلاحات پر کام ہونا تھا، آمریت کے دور میں جو کالے قانون بنائے گئے انہیں ختم کرنا تھا جو نہیں کئے گئے۔ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ اس پر غور ہونا چاہیے۔ نیب میں اصلاحات لائی جائیں گی۔جمہوریت اور اٹھارہویں ترمیم پر کوئی سودے بازی نہیں ہوگی۔کالعدم تنظیموں کو مین اسٹریم سیاست کا حصہ بنانے کے بجائے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ پیپلزپارٹی جیل بھرو تحریک اور لانگ مارچ کے لئے بھی تیار ہیں۔ بلاول بھٹو کی نواز شریف سے ملاقات کے بعد سندھ آمد اور سندھ اسمبلی کا دورہ پیپلزپارٹی کی حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ اسپیکر سندھ اسمبلی سراج درانی کی گرفتاری ،ان کے گھر پر نیب کے چھاپے اور سندھ کے مقدمات راولپنڈی منتقلی کے خلاف موبلائزیشن کر رہے ہیں۔ دونوں جماعتوں کے اتحاد کی صورت میں ان اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف کارروائی حکومت کے لئے ایک اور مشکل پیدا کرسکتی ہے۔ 
تحریک انصاف کی حکومت نواز شریف کی بیماری اور جیل سے باہر علاج کرانے کے دباؤ کا سامنا نہیں کر رہی۔ اب پیپلزپارٹی نے بھی اپنا وزن نواز شریف کے پلڑے میں ڈال دیا ہے۔ تحریک انصاف اپوزیشن کے سامنے ڈٹ جانے سے گریز کر رہی ہے ۔ ممکن ہے کہ حکومت کو میاں نوازشریف کو پیرول پر رہا کرنا پڑے۔ 

Bilawal Nawaz meeting



https://www.naibaat.pk/14-Mar-2019/21728 


سہیل سانگی کالم ، اردو کالم، میرے دل میرے مسافر 

پیپلز پارٹی کی جانب سے طاقت کا مظاہرہ

پیپلزپارٹی پہلے ہی تحریک چلانے اور احتجاج کے موڈ میں تھی اور اس طرح کی وارننگ دے چکی تھی۔ تحریک انصاف کی حکومت نے منی لانڈرنگ اور جعلی بینک اکاؤنٹس کے مقدمات کراچی سے راولپنڈی منتقل کر کے آ بیل مجھے مار کی طرح پیپلزپارٹی کو دعوت دی کہ وہ پاور سینٹر میں آکر اپنی طاقت کامظاہرہ کرے۔


پنڈی اور پیپلزپارٹی کا رشتہ اور جھگڑا پرانا ہے۔اس شہر سے پارٹی کی کئی تلخ و شیریں یادیں وابستہ ہیں۔ اسی پنڈی شہر میں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ اس شہر کے پارک میں محترمہ بینظیر بھٹو کو قتل کیا گیا۔ساٹھ کے عشرے کے آخر میں ایوب خان کے خلاف اسی شہر کے گورڈن کالج سے طلباءکی تحریک اٹھی تھی جس نے بعد میں بھٹو کی حمایت کی تھی۔ اس شہر میں محترمہ بھی کوشش کرتی رہیں کہ اسلام آباد کے قریب اپنی سرگرمی اور طاقت کامظاہرہ کریں۔ وہ بھی پنڈی پر اثرانداز ہونے کے لئے تھا۔ جلسے کے بعد اسی باغ میں ایک دہشتگرد حملے میں شہید ہوگئیں۔

بینظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو نے سیاسی طور پر ہمیشہ پنجاب کو اہمیت دی ہے۔کیونکہ اقتدار کا حصول پنجاب کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں۔ لہٰذا محترمہ کیکوشش رہی کہ پنجاب میں ایکٹوازم کی جائے۔ وہ اس کوشش میں کامیاب بھی رہیں۔ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد آصف علی زرداری کی زیرقیادت چلنے والی پیپلزپارٹی نے کئی بار کوشش کی اور کئی نسخے آزمائے کہ پنجاب کو سرگرم کیا جائے۔ پارٹی کے لئے ملک کے اس بڑے اور فیصلہ کن صوبے سے حمایت حاصل کی جائے۔ اس مقصد کے لئے مختلف وقتوں میں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو نے خاصا وقت اور توانائی خرچ کی ۔ لاہور میں بلاول ہاؤس اسی مقصد کے لئے بنایا گیا۔ پنجاب پیپلز پارٹی صوبے میں نواز لیگ کو اپنا سب سے بڑا حریف سمجھتی رہی۔ بلاول بھٹو نے اعتزا زاحسن کے نسخے پر کام کیا۔ یہ نسخہ نواز لیگ کی مخالفت کا تھا۔ لیکن اس میں بھی بڑی کامیابی نہیں ہوئی۔ جب تحریک انصاف تیسری پارٹی کے طور پر ابھری تو نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کو احساس ہوا کہ وہ ایک دوسرے کی حریف نہیں حلیف بھی بن سکتی ہیں۔
مقدمات کی راولپنڈی منتقلی کے بعداب بلاول بھٹو کو موقعہ فراہم کیا گیا ہے کہ پنجاب میں ایکٹوازم دکھائے۔بدھ کے روز پنڈی میں نیب کے سامنے پیشی کے موقع پر پیپلزپارٹی نے طاقت کا اچھا مظاہرہ کیا۔ اسلام آباد کی وجہ سے پنڈی اور پنجاب کے علاوہ پارٹی

پشاور سے بھی آسانی سے کارکنوں کو لانے میں کامیاب ہوئی۔پیپلزپارٹی کے حامیوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی۔سڑکیں بلاک کردی گئی۔ پارٹینے کارکنوں کو وفاقی دارلحکومت پہنچ کر پارٹی کی قیادت سے یکجہتی کا اظہار کرنے کی ہدایت کی تھی۔
بلاول بھٹو اور مریم نواز کی ملاقات دو جنریشن کا سیاسی میلاپ ہے ۔نواز شریف پہلے سے قید ہیں، اب اگر آصف زرداری گر فتار ہو جاتے ہیں اور ایسے میں مریم اور بلاول بھٹو کا ملنا ایک معنی رکھتا ہے۔بڑوں کی غیر موجودگی میں پیپلزپارٹی میں بلاول بھٹو کو اور نواز لیگ میں مریم نواز کو ہی سیاست کرنی ہے۔اس ملاقات کی وجہ سے دونوں بڑی پارٹیوں کے درمیان یہ دونوں احتجاج کی سیاست کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ اس پر سوال کیا جاسکتا ہے کہ احتجاج کیعلامت بننا انہوں نے خود منتخب کیا ہے یا پارٹی نے انہیں یہ رول دیا ہے؟ آصف علی زرداری مفاہمت کی سیاست کے ذریعے پارٹی کے لئے جگہ بناتے رہے۔ تقریباً اسی طرح جس طرح میاں شہباز شریف نواز لیگ میں کرتے رہے۔ مسلم لیگ نواز کے پاس ایک ہارڈفیس نواز شریف اور مریم نواز کیشکل میں ہے۔ پیپلزپارٹی نے بھی بلاول بھٹو کی شکل میں ایک ہارڈ اوفیس اور آصف علی زرداری کی شکل میں ایک سافٹ رکھا ہے۔
پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کی قیادت نیب کے رول کو سیاسی قرار دے چکی تھی اور نیب قوانین میں تبدیلی پر زور دے رہی تھیں۔ریٹائرڈ برگیڈ یئر اسد منیر کیموت کے بعد نیب کے رول پر مزید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اب جب آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو سے تفتیش نیب کر رہی ہے وہ بھی پنڈی میں، اس سے نیب کا رول سیاسی قرار دینے میں اپوزیشن کی جماعتوں کو آسانی ہو گئی ہے۔

راولپنڈی میں پیپلزپارٹی کی جانب سے طاقت کا مظاہرہ کرنے کے بعد نیب اور حکومت کے لئے مشکل ہو گیا ہے کہ وہ باقی تفتیشی کارروائی راولپنڈی میں کرے۔اسلام آباد اور پنڈی میں یہ عمل جاری رکھنے کا تجربہ تلخ ثابت ہوا۔لیکن یہ کارروائی آسانی سے واپس کراچی بھی نہیں لائی جاسکتی۔ ممکن ہے کہ سندھ ہائی کورٹ میں تفتیشی کارروائی راولپنڈی منتقل کرنے کے خلاف آصف زرداری کی دائر کردہ درخواست یہ کارروائی کراچی لے آنے میں مددگار ثابت ہو۔ حکومت کا خیال تھا کہ کراچی میں تفتیش کا عمل جاری رکھنے کی صورت میں پیپلزپارٹی طاقت کا مظاہرہ آسانی سے کر سکتی ہے۔ کیونکہ سندھ میںپارٹی کی حکومت ہے اور یہ پارٹی کا بیس ہے۔خیال ہے کہ آصف زرداری کے دورہ سندھ اور بعد میں بلاول بھٹو کی کراچی میں موجودگی اور پارٹی اجلاس میں شرکت کے موقعہ پر حکمت عملی بنالی گئی تھی اور ہوم ورک کرلیا گیا تھا۔ لیکن حکومت کی یہ حکمت عملی اتنی کامیاب نہ رہی۔احتجاج راولپنڈی میں بھی ہوا۔ اب نیب اگر پیپلزپارٹی کی قیادت کے خلاف تفتیش کا عمل راولپنڈی میں جاری رکھتا ہے تو پیپلزپارٹی دوبارہ بھی احتجاج کرے گی۔ اسلام آباد میں جا کر احتجاج کرنے اور تحریک چلانے کی روایت بھی موجودہ حکمران جماعت نے ڈالی تھی۔

وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے بدھ کے واقعہ پر جو ردعمل دیاہے اس سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ پیپلزپارٹی اور وفاقی حکومت یا تحریک انصاف اب آمنے سامنے آگئی ہیں۔یہ ٹکراؤ بھی وفاقی دارلحکومت یا راولپنڈی میں ہو رہا ہے۔اس مقام کے احتجاج میں پیپلزپارٹی اور نواز لیگ ایک دوسری کی آسانی سے مدد بھی کر سکتے ہیں۔ جس سے صرف قیادت کی سطح پر ہی نہیں بلکہ کارکنوں کی سطح پر بھی قربت پیدا ہوگی۔ یہ عمل مجموعی طور پر جمہوری تحریک کو مضبوط کرے گا۔


https://www.naibaat.pk/21-Mar-2019/21930

نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کے آپشن : احتجاج یا تحریک؟






------------------------------------------------------------------



نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کے آپشن : احتجاج یا تحریک؟
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
نواز شریف کی بیماری اور آصف علی زرداری کی ممکنہ گرفتاری کی صورت میں سندھ اور پنجاب میں تحریک چل سکتی ہے؟پیپلز پارٹی کی سندھ کونسل نے پارٹی کی مرکزی قیادت گرفتار ہوئی تو تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔اس سے قبل پارٹی ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر بڑا جلسہ کر کے سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرے گی ۔ یہ فیصلے پارٹی کی مرکزی قیادت کی گرفتاریوں اور مقدمات کی بینکنگ کورٹ کراچی سے راولپنڈی منتقلی پر تفصیلی غور کے بعد کئے گئے۔
پارٹی کونیب کی کارروایوں پر سخت تشویش ہے۔جس کو سندھ کونسل کے اجلاس میں غیر قانونی، غیر انسانی اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیب حکام کے اختیارات کے ناجائز استعمال اور ان کے اثاثوں کی تحقیقات کی جائے۔ اجلاس میں این ایف سی ایوارڈ کا مطالبہ دہرایا گیا۔ لیکن اٹھارویں ترمیم پر ڈٹے رہنے کے بجائے نیشنل ایکش پلان پر بھرپور عمل کرنے پر زور دیا گیا۔
گزشتہ دو ماہ سے آنکھ مچولی چل رہی ہے۔ حکومت یہ تاثر دیتی ہے کہ بس پیپلزپارٹی سپریمو اگلے ہفتے گرفتار ہو جائیں گے۔ چند ہفتے پہلے آصف علی زرداری نے بھی یہ تیاری کر لی تھی۔ انہوں نے سندھ کا خاص طور پر ان اضلاع کا جہاں ان کی جائدادیں ہیں، کا دورہ کیا۔ جلسے کئے جہاں پر اس طرح کی زبان استعمال کی جو انہوں نے 2016 میں کی تھی اور بعد میں انہیں پندرہ ماہ تک بیرون ملک جانا پڑا تھا۔ مطلب اب پیپلزپارٹی اور زرادری صاحب خود گرفتاری کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔پارٹی کو دو ہفتے قبل یہ پتہ لگا کہ قیادت کے خلاف کچھ ہونے والا ہے۔ دوسری طرف یہ بھی لگا کہ نواز شریف ڈٹے ہوئے ہیں۔ جو ڈیل کی باتیں تھی، وہ نواز لیگ کو بس اینگینج رکھنے اور لوگوں کے دکھاوے کے لئے تھیں۔ بلاول بھٹو نے کوٹ لکھپت میں نواز شریف سے ملاقات کی ۔

حالات نے دونوں جماعتوں کو ایک صفحے پر کھڑا کردیا ہے۔ ان کے لئے ضروری ہوگیا ہے کہ وہ کوئی مشترکہ حکمت عملی بنائیں۔ بلاول بھٹو نے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مختصرا حکمت عملی کے خدوخال بیان کئے کہ نیا میثاق جمہوریت کیا جائیگا جس میں تحریک انصاف کے علاوہ باقی تمام سیاسی جماعتوں کو شامل کرلیا جائے گا۔ پہلے چارٹر آف ڈیموکریسی پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کے درمیان 14 مئی 2006 کو لندن ہوا تھا جس پر بینظیر بھٹو اور نواز شریف نے دستخط کئے تھے۔ اس میثاق جمہوریت کا مقصد جمہوریت کی بحالی اور مشرف کی آمریت کے خاتمہ تھا۔
مجوزہ حکمت عملی یہ ہے کہ حکمران جماعت تحریک انصاف کو چھوڑ کر باقی سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ ملایا جائے۔اس کے توڑ کے طور پر حکومت نے شدت پسند تنظیموں کو مین اسٹریم سیاست میں شامل کرنے کی حکمت عملی کا اعلان کیا ہے۔ جس کے پاس اسٹریٹ پاور بھی ہے وہ بھی ڈنڈے والا۔ پیپلزپارٹی ان تنظیموں کو مین اسٹریم سیاسی میدان میں اتارنے کی مخالفت کر رہی ہے۔
پارٹی قیادت کی گرفتاری سے متعلق پیپلز پارٹی کا اندیشہ اس وقت یقین میں تبدیل ہو گیا جب کراچی کی بینکنگ کورٹ نے منی لانڈرنگ اور جعلی بینک اکاؤنٹس کا کیس نیب کی درخواست پر راولپنڈی منتقل کر دیا۔ اس تحقیقات میں آصف علی زرادری، فریال تالپور اور بلاول بھٹو زرادری کو نوٹس جارے کر دیئے گئے ہیں۔ دریں اثناء تحقیقات میں شامل افراد نے مقدمے کی راولپنڈی منتقلی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔
آج پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے درجن بھر وزراء یا سابق وزراء زیر تفتیش ہیں یا ان پر مقدمات ہیں۔ جبکہ دو درجن افسران بھی اس لسٹ میں شامل ہیں۔ یوں سندھ سے تعلق رکھنے و الے تین درجن کے قریب سیاستدان اور افراد کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے جس میں پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، سابق وزریاع لیٰ قائم علی شاہ، اسپیکر سندھ اسمبلی سراج درانی شامل ہیں۔ اس صورتحال نے یہ موقعہ فراہم کیا کہ پیپلزپارٹی یہ کہے کہ کیا کرپشن صرف سندھ میں ہی ہو رہی ہے؟ یہ بھی کہ سندھ کے مقدمات باہر بھیجنا امتیازی سلوک ہے۔
اس پس منظر میں پیپلزپارٹی سندھ کونسل کے اجلاس میں پارٹی کی مرکزی قیادت یعنی آصف علی زرادری اور فریال تالپور کی گرفتاری کی صورت میں تحریک چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔
کیا یہ تحریک صرف سندھ میں ہی چلائی جائے گی؟ پارٹی کی تنظیم باقی صبوں خاص طور رپ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھی ہے۔ تحریک کا بوجھ سندھ پر اس لئے ڈالا جا رہا ہے کہ یہاں پر پارٹی کی حکومت ہے؟ لیکن تحریک تو پارٹی چلارہی ہے، صوبائی حکومت نہیں۔ سندھ پر تحریک کا وزن اس لئے بھی محسوس کیا جارہا ہے کہ تین چار وز پہلے بلاول بھٹو سندھ اسمبلی بھی گئے تھے۔ اور اب پارٹی کی صوبائی تنظیم کے اجلاس کی صدارت بھی کی ہے جس کی وجہ سے اس اجلاس کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
دو سوال اہم ہیں۔ ایک یہ کہ کیا واقعی پیپلزپارٹی تحریک چلانے کی پوزیشن میں ہے؟ دوسرا یہ کہ پارٹی قیادت کی گرفتاری کے فورا بعد تحریک شروع کردی جائے گی؟ ماضی کی مثالیں موجود ہیں کہ فوری طور پر ایسا نہیں ہوسکتا۔ ذاولفقار علی بھٹو کی گرفتاری، قتل کیس کے مقدمے کے فیصلے اور ان کی سزائے موت پر عمل کرنے کے موقعوں پر احتجاج ضرور ہوا تھا، لیکن فوری طور پر تحریک نہیں چلی تھی۔تب لیڈ ربھٹو تھا اور وہ ستر کا عشرہ تھا۔ آج آصف علی زرداری ہیں اور یہ اکیسویں صدی کا دوسرا عشرہ ہے۔ تب آگے ضیاء کی آمریت تھی، آج عمران خان کی حکومت ہے جسے بہر حال ووٹ ملے ہیں۔اور ایک حد تک عوام میں حمایت بھی رکھتا ہے۔ بہت دیر سے تحریک چلی۔ وہ بھی ضیاء الحق کے خلاف۔ یہ ضرور تھا اس تحریک میں شدت کی وجہ بھٹو کو پھانسی دینے کی وجہ سے آئی۔لہٰذااس تحریک میں سندھ نے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا۔
دوسری مثال نواز شریف کی ہے۔ جب نواز شریف کو سزا ہوئی یا وطن واپسی پر گرفتاری کی صورت میں احتجاج یقیننا ہوا، لیکن تحریک نہیں چل سکی۔ اس وقت تو صرف آصف علی زرداری یا فریال تالپور کی گرفتاری ہے۔ اس پر احتجاج تو ہو سکتا ہے لیکن تحریک نہیں چل سکتی۔تحریک کے لئے سازگار یا مطلوبہ حالات اور اس کے حق میں سیاسی صف بندی ہونا ضروری ہے۔ ایم آرڈی اتحادکی تشکیل میں پیچھے جماعت اسلامی اور سردار قیوم کو چھوڑ کر باقی تمام سیاسی جماعتیں تھی۔ بلکہ جب ایم آرڈی کا اتحاد تشکیل دیا جا رہا تھا تب ایک مرحلے پر یہ دو جماعتیں بھی اس اتحاد میں شمولیت کی خواہان تھی۔
کامیاب تحریک کے لئے حکومت مخالفین کو متاثر کرنا ضروری ہے۔ اور تاریخ بتاتی ہے کہ جس تحریک کے واضح مقاصد ہوں وہی کامیاب ہوتی ہے۔ صرف بہت سارے مقاصد اور نعرے سامنے رکھنے سے تحریک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتی۔ ایسے مطالبات یا مقاصد جس میں بہت سارے لوگ اپنی امنگوں کا عکس دیکھیں۔
ایک بات ضرور ہے کہ نوز شریف کی بیماری نے حکومت کو سخت پریشان کیا ہوا ہے۔ یہ ایک انسانی مسئلہ کے طور پر سامنے آیا ہے۔جس پر عالمی رائے عامہ کو بھی موبلائیز کیا جاسکتا ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے پلی بارگین کی کی بات کی اور ان کا کہنا ہے کہ یہ مقدمات ان کے دور میں نہیں بنے۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے من پسند جگہ پر علاج کی پیشکش کی ہے۔ بعد از خرابی بسیار دونوں پارٹیوں کو یہ بات سمجھ میں آگئی ہے کہ اکیلے اکیلے نہ سیاسی لڑائی لڑی جاسکتی ہے اور نہ کوئی دیرپاسیاسی فائدہ حاصل کیا جاسکتا۔ نواز شریف کی بیماری اور آصف علی زرداری کی گرفتاری دونوں کو یکجا کیا جائے تو ملک کے دو بڑے صوبوں میں آواز کی گونج ضرور سنائی دے گی۔ کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ بلاول نواز ملاقات میں اس ترکیب پر بات چیت ہوئی اور فیصلہ بھی ہوا۔ اس پر بات چیت یقیننا ہوئی ہوگی ۔ کیونکہ اس کے بعد وزیراعظم عمران خان سے لیکر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور شیخ رشید تک سب بلاول بھٹو کو ٹارگیٹ کئے ہوئے ہیں۔ اس کی ایک وجہ بلاول کا بڑھتا ہوا رول ہے لیکن اس سے بھی بڑھ کریہ بات بھی ہے یہ تنقید اصل میں اس حکمت عملی پر ہے جس کی بلاول قیادت کرنے جارہے ہیں۔
موجودہ سیٹ اپ میں سندھ اور پنجاب خود کو موجود نہیں سمجھتے۔ یہ دونوں صوبے خود کو سیٹ اپ سے باہر سمجھتے ہیں۔ لہٰذا دو بڑے صوبوں کا آپس میں اتحاد اہم صورتحال پیدا کرسکتا ہے۔یہاں ایک اور مسئلہ ہے۔ پیپلزپارٹی اپنی سندھ میں حکومت گنوانا نہیں چاہے گی۔ جب کہ نواز لیگ کے پاس کھونے کے لئے کچھ بھی نہیں۔
نواز شریف کا معاملہ سزا کے بعد نمٹ چکا ہے۔ ان کی پیرول وغیرہ پر رہائی اور علاج کا مسئلہ ہے۔جو نسبتا آسان ہے۔ آصف علی زرداری اور پیپلزپارٹی کی قیادت کے خلاف ابھی کارروائی ہونا باقی ہے۔ اس لئے دونوں جماعتوں کے مفادات یکساں نہیں۔ پیپلزپارٹی صرف سندھ میں ہے، جس کو عمران خان اپنا پاور بیس نہیں مانتے۔لہٰذا آصف علی زرداری ان کا حریف نمبر ون نہیں۔ پنجاب ہر حال میں پاور بیس ہے، لہذا نواز شریف عمران خان کا حریف نمبر ون ہے۔ وقت کم ہے ۔ کیونکہ رواں سال نومبر میں کچھ اور بھی تبدیل ہونے والا ہے۔
آخری بات یہ بھی ہے کہ میدان میں صرف پیپلزپارٹی اور نواز لیگ ہی نہیں ، مقتدرہ حلقے اور حکومت بھی ہے۔ دیکھیں گلے چند ہفتوں میں گیم کس طرح سے کھلتا ہے۔

Nai Baat - Sohail Sangi - News CHarter of Democracy - Bilawal Bhutto- Nawaz meeting

Sunday, March 17, 2019

وزیراعظم کوسندھ حکومت کے طعنے

یہ شاید گزشتہ اگست کا واقعہ ہے۔ انتخابات کے بعدعمران خان وزیراعظم منتخب ہو چکے تھے۔ عارف علوی نے ٹوئٹر پر ایک فوٹو اپ لوڈ کی۔ جس میں عمران خان نگرپاکر میں سو رہے ہیں۔ اس تصویر کا کیپشن یہ لکھا گیا تھا کہ 80 کے عشرے میں نگر پارکر میں شدید گرمیوں میں گزاری گئی رات عمران خان سو رہے ہیں۔عارف علوی تب صدر پاکستان نہیں بنے تھے۔ نہیں معلوم تین عشروں کے بعد یہ فوٹو شیئر کر کے تحریک انصاف کے رہنما کیا پیغام دینا چاہ رہے تھے۔ لیکن تھر کے لوگوں نے اس سے یہی پیغام لیا کہ عارف علوی صاحب کو تھر یاد ہے اور وہ وزیراعظم عمران خان کو بھی اس پسماندہ علاقہ تھر یاد دلا رہے ہیں جو قحط سالی سے گزر رہا ہے۔ بعد میں عارف علوی صاحب بھی صدر پاکستان منتخب ہو گئے۔ ہوا یہ کہ دونوں رہنما تھر کو بھول گئے۔

عمران خان کی حکومت میں قحط نے شدت اختیار کی ، بچوں کی اموات کی خبریں میڈیا میں آنے لگیں۔ سندھ حکومت نے قحط زدگان کو بارہ ماہ تک مفت گندم اور ان کے مویشیوں کے لئے مفت چارہ دینے کا اعلان کیا۔ ماہرین کی رائے تھی کہ قحط زدگان کے لئے ایک سال تک اس طرح امداد جاری رکھنااکیلے صوبائی حکومت کے بس کی بات نہیں۔ تھر سے انتخاب لڑنے والے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے رابطہ ممکن نہ تھا۔ تھر سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے رہنما لال مالہی کو بعض مقامی صحافیوں نے راضی کیا کہ صورتحال خراب ہو رہی ہے اس میں وفاقی حکومت اپنا کردار ادا کرے۔ کسی طرح سے بات وزیراعظم تک پہنچا دی گئی۔ وزیراعظم کی ہدایت پر دو وزراء تھر کے دورے پر پہنچ گئے۔وفاقی وزراء صاحبان قحط زدگان کے لئے دو ایمبولینسز دینے کا اعلان کر کے واپس چلے گئے۔ پانچ ماہ گزرنے کے بعد
بھی وفاقی حکومت کے اس اعلان پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

رواں ماہ وزیراعظم عمران خان کے دورے کا پروگرام بنا تو تھر کے لوگوں نے حکومت کے سربراہ کے اس دورے سے کئی امیدیں باندھ لیں کیونکہحکومت کے سربراہ شاذونادر ہی تھرپارکر جیسے پسماندہ علاقے کا دورہ کرتے ہیں۔ لیکن جب بھی یہ دورہ ہوتا ہے تو کوئی ایسا پروگرام دیتے ہیں جو اس پسماندہ علاقے میں تبدیلی لے آتا ہے۔ 90 کے عشرے میں وزیراعظم بینظیر بھٹو نے تھاریو ہالیپوٹہ میں کوئلے کی کھدائی کے افتتاح کے وقت تھر کا دورہ کیا۔اور بعض ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا۔ نوے کے عشرے کے آخر میں جنرل پرویز مشرف نے شدید قحط سالی کے موقعہ پر تھر کا دورہ کیا۔بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیاں اور بعض ترقیاتی کام شروع ہوئے۔ تھر میں آج جو روڈ نیٹ ورک موجود ہے وہ مشرف کے زمانے کا ہے یہ اور بات ہے کہ قحط سالی کی وجہ سے ورلڈ بینک اور بعض دیگر عالمی اداروں نے رقم فراہم کی تھی۔ عمران خان نے حالیہ دورہ تھر کے دوران ایک لاکھ خاندانوں کو صحت کارڈ دینے اور چار ہسپتالوں کی سہولت والی ایمبولینسز اور دو عام ایمبولینسز اور ایک سو آر او پلانٹس دینے کا اعلان کیا۔ بینظیر بھٹو اور مشرف کے دیئے گئے پروگراموں کی وجہ سے تھر میں تبدیلی آئی۔ تھر کو ایک نئی جہت ملی۔ لیکن عمران خان کے اعلان کردہ پروگراموں میں کوئی بھی ترقیاتی اسکیم شامل نہیں جو تھر کےلوگوں کی زندگی میں تبدیلی لا سکے۔ تھر میں لوگ یہ باتیں کر رہے ہیں کہ چار ایمبولینسز اور آر او پلانٹس مخیر حضرات یا این جی اوز بھی دے سکتے ہیں۔ صحت کارڈ ملک کے بعض دیگر علاقوں مین پہلے سے رائج ہے۔ یہ منصوبہ ویسے بھی ایک دو سال کے اندر تھر تک پہنچ جاتا۔ وزیراعظم نے ایسی کیا چیز دی جو پسماندہ علاقے کے لوگوں کی زندگی بدل سکے؟ مسلسل قحط کے شکار لوگوں کو قحط سالی سے بچایا جا سکے؟ وزیراعظم کے دورہ تھر کو خطے کی جنگی صورتحال سے بھی جوڑا جارہا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے تھر کے پڑوسی صوبے راجستھان میں جلسہ کرکے پاکستان سے جنگ کی باتیں کی تھیں۔ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کہتے ہیں کہ وزیراعظم کی تھر والی تقریر ملک اور فوج کے لئے بہتر نہیں تھی وزیراعظم پاکستان حالات کی گرمی کے دوران اگر تھر کا دورہ کرتے تو شاید اتنا دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوتا۔ لیکن انڈیا کو یہ پیغام دینا بھی ضروری تھا کہ راجستھان سیکٹر بھی پاکستان کے لئے اہم ہے۔ راجستھان سیکٹر پرانڈیا کے ساتھ اسرائیل کے تعاون کی خبریں میڈیا میں آرہی تھی۔ تھر کے باسیوں کو 1971 ء کی جنگ میں تلخ تجربہ ہوا تھا۔اس محاذ پر پاکستان کی دفاعی پوزیشن مضبوط نہ ہونے کی وجہ سے انڈیا نے ایک ہزار مربع کلومیٹر علاقہ پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس لئے وہ ڈرے ہوئے بھی تھے۔ پاکستان یہ پیغام بھی دینا چاہ رہا تھا کہ تھر کا علاقہ اب ’’سافٹ بیلی‘‘ نہیں کہ انڈیا آسانی سے گھس آئے۔
دورہ تھر میں ایک مقامی سیاست کا پہلو بھی ہے۔ یہاں سے مخدوم شاہ محمود قریشی نے جولائی کے انتخابات لڑے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ غوثیہ جماعت کے مریدین کی وجہ سے وہ جیت جائیں گے۔ لیکن پیپلزپارٹی کے پیر نورمحمد شاہ کے ہاتھوں ہار گئے۔ قریشی صاحب کے اتحادی اور ارباب گروپ کے صوبائی اسمبلی کے امیدوارعبدالرزاق راہموں جیت گئے تھے۔ یہ واحد سیٹ کو چھوڑ کر باقی پورے تھر میں ارباب گروپ کا صفایا ہو گیاتھا۔ انتخابات کے بعد شاہ محمود قریشی پلٹ کر تھر نہیں آئے تھے۔ لہٰذا قریشی صاحب کے لئے دورہ تھر واجب تھا۔ وزیراعظم عمران خان کو بھی تھر میں آ کر تقریر کرنی تھی۔ ارباب گروپ کے اکیلے رکن سندھ اسمبلی اپوزیشن میں بیٹھ کر کوئی اہم کردار ادا نہیں کر پا رہے تھے۔ ان کے لئے مشکل ہو رہا تھا کہ اقتدار سے باہر بیٹھ کر اپنے حامیوں اور ووٹرز کو مطمئن رکھ سکیں۔ ارباب غلام رحیم پیپلزپارٹی کے ہاتھوں ضلع بھر میں شکست فاش کھانے کے بعد موقعہ کی تلاش میں تھے کہ وہ اپنی کھوئی حیثیت بحال کرنے کے لئے دوبارہ آغاز کریں۔ ان کا خیال تھا کہ اگر چھاچھرو اور ڈاہلی تحصیلوں میں اپنے حامیوں کو شو کر سکتے اور پیپلزپارٹی مخالف ووٹروں کو اکٹھا رکھ سکتے ہیں تو اس کا اثر پورے تھر کی سیاست پر پڑے گا۔
وزیراعظم کے دورہ تھر کو ان تین باتوں کے پس منظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ ارباب غلام رحیم اور ان کے گروپ نے اگرچہ پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کی لیکن جلسے کو کامیاب بنانے اور وہاں استقبال کے لئے موجود رہنا ضروری سمجھا۔ شاہ محمود قریشی بھی چاہتے ہیں کہ ارباب غلام رحیم یا پارٹی میں شامل ہوں یا طاقت کا مظاہرہ لوگوں کو جمع کر کے دکھائیں۔ اس لئے وزیراعظم اور شاہ محمود قریشی نے تھر کے لئے کوئی بڑا اعلان نہیں کیا۔ ارباب گروپ کو اتنا ریلیف دیا کہ وفاقی حکومت نے بعض اسکیمیں دی ہیں جن سے ارباب گروپ کے حامیوں کو اقتدار میں شمولیت کا احساس ہوگا۔ارباب غلام رحیم فی الحال تحریک انصاف میں شمولیت نہیں کرنا چاہ رہے ہیں، وہ کسی اور اشارے اور بلدیاتی انتخابات کے منتظر ہیں۔ اس دورے کے بعد شاہ محمود قریشی اپنے مریدوں کو یہ کہنے کی پوزیشن میں آگئے کہ ’’ دیکھیں آپ کے لئے وزیراعظم چل کر آئے ہیں‘‘ ۔
یہ موقعہ تھا کہ وزیراعظم سندھ حکومت کے پیٹرن پر چلنے کے بجائے تھر کے لئے یونیورسٹی، بارانی زراعت کے لئے بعض اسکیموں کا اعلان کرتے۔ تھرکے قحط کا آؤٹ آف باکس حل دیتے۔ وفاقی حکومت یہ نہ کر پائی لہٰذا اس کو سندھ حکومت کے طعنے سننے پڑ رہے ہیں کہ وہ قحط زدگان کے لئے کچھ نہیں کر رہی۔

https://www.naibaat.pk/11-Mar-2019/21644

https://www.darsaal.com/columns/sohail-sangi/wazir-e-azam-ko-sindh-hukumat-ke-tannay-11356.html 

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/68104/Sohail-Sangi/Wazir-e-Azam-Ko-Sindh-Hukumat-Ke-Tannay.aspx