Monday, July 13, 2015

سندھ سے معاملات عید کے بعد

سندھ سے معاملات عید کے بعد
اپیکس کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی

سائیں قائم علی شاہ کو شکایت تھی کہ رینجرز ان کو اعتماد مین لئے بغیر نہیں کارروائی کرتی ہے ۔اتوار کے روز صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس جس کی صدارت خود شاہ صاحب نے کی، اس کے بعد اس طرح کی شکایت کا موقعہ ختم ہو گیا۔ اب جو کچھ کرنا ہے اس کی اپیکس کمیٹی نے منظوری دے دی ہے۔ دہشتگردوں اور ان کی مالی معاونت کرنے والوں اور کالعدم تنظیموں کے خلاف آپریشن جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس کے بعد بریفنگ میں سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے بتایا کہ دشمن ملک کے ہاتھوں استعمال ہونیوالوں کیخلاف گھیرا تنگ کرنے ، کالعدم جماعتوں کیخلاف کارروائی تیز اور دہشت گردی کی ترغیب دینے والے بعض مدارس کیخلاف کارروائی کابھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
گزشتہ عام انتخابات میں پیپلزپارٹی کاتین صوبوں صفایا ہوگیا۔ اور صرف سندھ تک محدود ہوگئی۔ خیال تھا کہ پارٹی کی قیادت اس صورتحال کے پیش نظر دوسرے صوبوں اور خاص کر سندھ میں اپنی حکمت عملی، پالیسیاں اور رویہ تبدیل کرے گی۔ میں پیپلزپارٹی نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ پارٹی کی سندھ حکومت نے نااہلی، بدعنوانی، ناقص کارکردگی کا گہرا تاثر چھوڑا ہے۔
اسٹبلشمنٹ نے اپیکس کمیٹی کا ایک مضبوط پلیٹ فارم بنا کر رینجرز کے ذریعے امن و مان قائم کرنے کی کوشش کی۔بات دہشتگردوں کے خلاف آپریشن سے شروع ہوئی اور پھر ان کی مالی امداد کرنے والوں اور بعض پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی تک جا پہنچی۔ اس بات نے پارٹی قیادت کو چونکا دیاْ۔پارٹی اور سندھ حکومت نے اسٹبلشمنٹ پر الزام لگایا کہ رینجرز اختیارات سے تجاوز کر رہی ہے اور اسکے حامیوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ مطلب رینجرز پولیس اور سول اتھارٹی کے کاموں میں مداخلت کر رہی ہے۔رینجرز جس کے ساتھ ظاہر ہے کہ کور ہیڈ کوارٹر بھی شامل تھا، سندھ حکومت کے اس رویے پر اسٹبلشمنٹ نے وفاقی حکومت سے رجوع کیا۔
وفاقی حکومت نے مالی معاملات کے حوالے سے کارروائیوں میں رینجرز کے بجائے نیب اور ایف آئی اے کے ذریعے راستہ صاف کرنے کی کوشش کی۔ تووزیراعلیٰ سندھ نے عدالت میں جانے یا معاملہ سندھ اسمبلی میں لے جانے کی دھمکی دی۔
یوں سندھ میں پیپلزپارٹی اور وفاقی حکومت کے درمیان تناؤ بڑھتا گیا ۔ اس بڑھتے ہوئے تناؤ کی زد میں وفاقی حکومت بھی آ گئی۔
اسٹبلشمنٹ نے مذہبی انتہا پسندوں اور ایم کیو ایم کی عسکری ونگ اور دیگر مافیا کو بھی ہدف بنایا۔ نیتجے میں ایم کیو ایم کے بعض رہنماؤں کا کا گھیراؤ تنگ کیا گیا۔ اسی دوران ایم کیو ایم کے خلاف کچھ مواد میڈیا میں آنے لگا جس سے اس جماعت کے خلاف کارروائی کا سبب بنتا گیا۔
آصف علی زرداری نے صدائے احتجاج بلند کی۔ لیکن بظاہر اسکا راولپنڈی اور اسلام آباد پر کوئی خاص نہیں پڑا۔ بہرحال پیپلز پارٹی سندھ کی حکمران اور اکثریتی جماعت ہے۔ اور موجودہ سیاسی نظام کا ایک اہم پلر بھی ہے جس کے بغیر خود نواز شریف کی حکومت بھی نہیں چل سکتی۔ سندھ کی پارلیمان میں نمائندگی کرنے والی دو جماعتیں مسلسل دباؤ میں ہیں۔ لیکن عوام میں بھی مشکل ہورہی ہے۔ وہ ایم کیوایم کو دہشتگرد اور پیپلزپارٹی کو عمومی طور پر بدعنوان اور نااہل سمجھتے ہیں ۔ یہ تاثر خطرناک ہے۔
اسلام آباد میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ عسکری حلقوں نے اپنا تاثر کچھ اس طرح سے بنالیا ہے جو عوام کی امنگوں کے قریب ہے۔ اس کا دوسرا مطلب یہ نکلتا ہے اگر ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی وہ کسی احتجاج یا ایکشن کی طرف جاتے ہیں، ان کو عوام کی حمایت نہیں ملے گی۔عسکری حلقے کام تو اچھا کر رہے ہیں لیکن سول اور جمہوری نظام پر یقیننا آنچ آنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔
اپیکس کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں اگرچہ بہت ساری چیزوں کے بارے میں فیصلے کئے گئے ہیں لیکن رینجرز کے اختیارات کے حوالے سے کچھ طے نہیں ہو سکا۔ لگتا ہے کہ فریقین اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں۔
اب اسلام آباد اور راولپنڈی بہت قریب ہیں۔ اگر معاملہ مزید خرابی کی طرف بڑہتا ہے تو سندھ حکومت رینجرز کی تعینات اور اختیارات کے احکامات واپس لے سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو اس پر وزیراعظم شدید دباؤ میں آجائیں گے۔ ممکن ہے کہ انہیں گورنر راج لگانا پڑے۔ لیکن یہ سب کچھ اتنا آسان نہیں۔ اب آئین جس شکل میں کھڑا ہے، اس کے لئے سندھ اسمبلی کی منظوری یا پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی منظوری چاہئے۔ یہ منظوری حاصل کرنا اتنا آسان نہیں۔ 

پیپلزپارٹی کے پاس قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی سیٹ اور سنیٹ میں اکثریت ہے اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا عہدہ بھی۔ اگر زرداری براہ راست محاذ آرائی سے گریز کر تے ہوئے قانون کے حدود میں رہ کر طویل سیاسی لڑائی لڑیں تو نواز لیگ حکومت کو مشکل میں ڈال سکتی ہے۔ وفاق اور نواز لیگ کے خلاف سندھ میں خاصا مسالہ موجود ہے۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت رہے ، جہاں مرکز کے خلاف ہڑتالیں اور مظاہرے ہو سکتے ہیں۔ اس کا عندیہ دو مرتبہ سے زیادہ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ دے چکے ہیں۔اس سے سندھ میں قوم پرستی کے جذبات بھڑک اٹھیں گے۔ اور بعض قوتیں سندھ کے قوم پرستوں کو بلوچ شدت پسندوں کی طرح بنانا چاہتی ہیں وہ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاسکتی ہیں۔

لہیذا جیسے میں اپنے ایک ہفتہ پہلے اپنے کالم’’ اسٹبلشمنٹ اور پی پی کی ڈیل ‘‘کے عنوان میں لکھ چکا ہوں کہ پیپلزپارٹی کے پاس اقتدار کی جنگ لڑنے کے خواہ ترپ کارڈ نہ ہوں پر کئی کارڈ ہیں۔ جن کو وہ باری باری یا ایک ساتھ استعمال کرکے نواز حکومت کے تمام کارڈز ختم کروا سکتی ہے اور اپنے کارڈز استعمال کر کے صورتحال کو اپنے حق میں رکھ سکتی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے ، شاید یہ کوئی بھی نہیں چاہے گا کہ ایک بار پھر سندھ کی ان دوجماعتوں کو مظلوم بننے کاموقعہ ملے۔
اس صورتحال میں نواز لیگ پر دباؤ پنجاب میں بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی رہنما فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے۔ مسلم لیگ ن سے پیپلز پارٹی کی یکطرفہ محبت نے پیپلز پارٹی کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن کو طلاق دیدے۔ جبکہ پیپلزپارٹی کے سنیٹ میں لیڈر اعتزاز احسن جو ایک حوالے سے اسلام آباد میں آج کل پارٹی کے معاملات دیکھ رہے ہیں انہوں نے بھی کہا ہے کہ مفاہمت کی سیاست سے پارٹی کو نقصان پہنچا ہے۔
ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کا اتحاد نواز لیگ کے لئے مشکل پیدا کرسکتا ہے۔ اس مشکل کو دور کرنے کے لئے ایم کیو ایم پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ یا اپنی قیادت تبدیل کرے یا پیپلزپارٹی سے دوری اختیار کرے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ نے رینجرز کو صرف ایک ماہ کی توسیع دی ہے۔ اس ضمن میں چوہدری نثار علی خان سے شرائط طے کی گئیں۔ وفاقی حکومت نے رینجرز کو یقین دہانی کرائی ہے کہ رینجرز کے معاملات میں مداخلت نہیں ہوگی۔ سندھ رینجرز نے کراچی آپریشن کے اختیارات کے حوالے سے وفاقی حکومت کو آگاہ کیا وفاقی حکومت کا یہ موقف رہا کہ کراچی میں قیام امن پر کوئی سودے بازی نہیں ہوگی۔ اور نہ ہی رینجرز کے اختیارات کم کئے جائیں گے۔ رینجرز اپنا کام جاری رکھیس۔پیپلزپارٹی کی قیادت سے اتفاق رائے ہو گیا ہے کہ عید کے بعد صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان اہم فیصلے ہونگے۔ تب تک آصف علی زرداری بھی واپس وطن آجائیں گے۔ اور ویزر اعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل بھی بیروں ملک دوروں سے واپس آجائیں گے۔
سندھ میں دو حالیہ تبدیلیاں وفاقی حکومت اور اسٹبلشمنٹ کے حق میں جاتی ہیں ۔ایم کیو ایم کے حوالے سے دو اہم چیزیں سامنے آئی ہیں۔ ایک عامر خان کی رہائی جنہیں مارچ میں نائین زیرو پر چھاپے کے وقت گرفتار کیا گیا تھا۔ عامر خان نوے کے عشرے میں آفاق احمد اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ الطاف حسین سے الگ ہوئے تھے اور 92 میں آپریشن کے دوران انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ساتھ دیا تھا۔ بعد میں الطاف حسین کی ایم کیو ایم کے متوازی تنظیم ایم کیو ایم حقیقی بنائی۔ لیکن دو تین سال ہوء ہیں کہ وہ واپس ایم کیو ایم میں آئے ہیں۔ممکنہ تبدیلی کی صورت میں وہ متحدہ کی قیادت کے امیدوار ہو سکتے ہیں ۔ دوسری تبدیلی لندن میں ایم کیو ایم کے رہنما محمد انور کی پارٹی سے سبکدوشی ہے جنہیں پارٹی نے اجلاس کر کے بظاہر علالت کی بنیاد پر سبکدوش کیا ہے ۔ محمد انور الطاف حسین کے قریب ترین ساتھیوں میں سے سمجھتے جاتے ہیں ۔ لیکن ملک کے اندر پارٹی کے بعض حلقے ان سے ناخوش رہے ہیں ۔
سندھ میں رینجرز کے اختیارات اور کارروائیوں پر پیر پاگارا خوش ہیں۔ قوم پرستوں کی جانب سے سید جلال محمود شاہ نے کہا ہے کہ کرپٹ حکمرانوں سے فوجی حکومت اچھی ہے۔ جبکہ پلیجو کی عوامی تحریک نے کرپشن کے خلاف کیمپ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ سب اپنی جگہ پر لیکن بعض سیاسی اور زمینی حقائق بھی ہیں۔ آپریشن کو سیاسی ہونے سے بچایاجائے۔قانون اور اختیارات کی حدود میں رہ کر براہ راست دہشتگردی، فرقہ واریت، مذہبی انتہا پسندی، کے خلاف کارروائیاں کرے۔ سیاسی معاملات انتظامی طریقے سے ہینڈل کرنے سے گریز کیا جائے۔ سیاسی جماعتوں اور سیاست کا فیصلہ عوام پر ہی چھوڑا جائے۔ عوام کے پاس احتساب کا اپنا طریقہ کار ہوتا ہے۔
دوسری طرف ضرورت اس بات کی ہے کہ سندھ کی دونوں جماعتیں اپنی صفیں درست کر لیں۔ دہشتگردی، اور بدعنوانی کے جو داغ ان پر لگے ہیں انکو عملی طور پر دھونے ی کوشش کریں تاکہ اسٹبلشمنٹ کے پاس کسی کارروائی کے لئے اتنا واضح جواز نہ رہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ کم از کم عوام تو اس کے ساتھ کھڑے ہوں۔
Sohail Sangi
For Nai Baat July 14, 2015

Thursday, July 9, 2015

نیب کی لسٹ پر شدید ردعمل

نیب کی لسٹ :  دیکھیں عوام کو کتنا انصاف ملتا ہے
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی

 

قومی احتساب بیورو کی کارروایوں پر سندھ حکومت کو اعتراض تھا ہی، لیکن جب اس ادارے نے حکمران جماعت نواز لیگ کے رہنماؤں بشمول وزیر اعظم نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف ، سابق صدر آصف علی زرداری، سابو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، آفتاب شیرپاؤ، کے خلاف زیر تفتیش مقدمات کے بارے میں سپریم کورٹ کو 150 افراد کی فہرست پیش کی تو حکمران جماعت پریشان ہوگئی۔ ورنہ اس سے پہلے سندھ حکومت کے موقف کو وفاقی حکومت اور وزراء جھٹلا رہے تھے۔ سپریم کورٹ نے اس لسٹ کو نامکمل قرار دیا ہے اور اس ضمن میں مزید تفصیلات طلب کی ہیں ۔ لسٹ میں دیئے گئے اکثرناموں کا تعلق وفاقی عہدیداروں سے ہے جو نیب کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں ۔
 

وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے نیب کی اس لسٹ پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرپشن ختم کرنے کے لئے قائم کیا گیا یہ ادارہ سیاست دانوں کی پگڑیاں اچھال رہا ہے اور انہیں بدنام کر رہا ہے۔ ماضی کے تجربے کی روشنی میں پرویز رشید کی بات میں وز ن پیدا ہو جاتا ہے۔ اس لسٹ پر قاف لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت نے بھی ردعمل ظاہر کیا ہے کیونکہ ان کا نام بھی فہرست میں شامل ہے۔
 

لسٹ میں متعلقہ فرد کا نام، کرپشن کے الزامات کا اختصار، اور خردبرد کی گئی رقم لکھی ہوئی ہے۔
ان میں سے کئی کیسز دس سال پرانے ہیں۔ ایک ڈیڑھ عشرے تک ان مقدمات کو کیوں التوا میں رکھا گیا؟ ان کے خلاف تحقیقات کیوں مکمل نہیں کی گئی؟ یہ سوالات عدلیہ نے بھی پوچھے ہیں اور عوام بھی پوچھتے ہیں۔

 

پاکستان میں کرپشن کے مقدمات کی تاریخ اور ان کو عدالتوں کے ذریعے نمٹانے میں بڑے جھول ہیں۔ سیاسی بنیادوں پر سمجھوتے اور سودے بازیاں ہوتی رہیں۔ بلا امتیاز کارروائی کرنے کے بجائے مرضی کے چند مقدمات بنائے گئے جس میں سے اکثر سیاسی بنیادوں پر ہوتے تھے۔ اور بعد کی سودے بازی میں وہ ختم کردیئے جاتے تھے۔ یا برسوں التوا میں پڑے رہتے تھے۔ احتساب بیورو کا دائرہ اختیارکیا؟ لیکن یہ ضرور دیکھا گیا ہے کہ لسٹ میں عسکری اداروں میں سے کسی کا نام نہیں۔
 

ماضی میں بعض عسکری افسران کے نام آتے رہے ہیں۔ اگر ان الزامات کو محض الزامات ہی مان لیا جائے، لیکن اصغر خان کیس تو بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کیس میں سپریم کورٹ نے تین جنرلوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔ لیکن تاحال ان کے خلاف کسی کارروائی کی خبر نہیں آئی ہے۔
 

جنرل مشرف نے جب نواز شریف حکومت کا تختہ الٹا تو انہوں نے بھی شروع کے دنوں میں کرپشن کے مقدمات چلانے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن بعد میں وہ خود اس سیاسی طبقے کے ساتھ کھڑے ہوگئے جنہیں وہ کرپٹ قرار دے رہے تھے اور ان کے خلاف کارروائی کا عہد کررہے تھے۔ نیب نے قاف لیگ کی قیادت کو صاف ستھرا ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ باقی جماعتیں یا رہنما جو قاف لیگ کے واش روم سے دھل کر نہیں آئے تھے ان کے خلاف مقدمات کی شنوائیاں ہوتی رہیں۔ بات تب آکر ختم ہوئی جب سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لئے مشرف نے این آر او جاری کیا۔ کرپشن کی زد میں آنے والے سیاستدانوں کے تمام کرپشن کے گناہ دھل گئے اور ایک ہی حکم سے وہ سب صاف ستھرے ہوگئے، جیسے انہوں نے کچھ کیا ہی نہ تھا۔
 

نیب کی لسٹ اتنی لمبی کیوں ہے؟ وہ اس لئے کہ کرپشن ہماری معاشرے کی اصطلاح میں ایک سیاسی لفاظی بن گئی ہے ۔ مرضی کے چند کرپشن کیس اٹھانے کا مطلب ہے کہ اصل ملزمان کو ڈھیل دی جارہی ہے۔ جس کے ذریعے سیاسی مخالفین کو دبایا جاسکتا ہے، بدنام کیا جاسکتا ہے یا ان کی سیاسی سرگرمیوں کو محدود کیا جاسکتا ہے۔
 

کبھی ایوب خان نے بھی ایبڈو کے ذریعے سیاست دانوں کو سیاست کرنے سے دور رکھا تھا۔ بعد میں جنرل ضیا نے بھی ’’پہلے احتساب پھر انتخاب ‘‘ کے نعرے کی آڑ لی تھی۔ ان دونوں حکمرانوں کے احتساب کا نتیجہ تاریخ کا حصہ ہے۔ وہ دراصل نئے سیاسی بروکرز متعارف کرانا چاہ رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں صاحبان نے عام انتخابات تو نہیں کرائے لیکن بلدیاتی انتخابات ضرور کرائے تاکہ وہ اپنی قانونی حیثیت کو تسلیم کرا سکیں اور عوام کے ایک طبقے کی حمایت حاصل کر سکیں۔ اس کے پیچھے یہ مقصد بھی کارفرما تھا کہ پرانی سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں سے پیچھا چھڑائیں یا انہیں غیر متعلق irrelevant بنادیں۔
 

سپریم کورٹ میں پیش کی گئی فہرست کے ناموں پر ملک کے کسی بھی شہری کو تعجب نہیں۔ اس بات سے انکار نہیں کہ ہماری سیاست کو بگاڑنے اور اس کو ممخصوص شکل دینے میں کرپشن کتنا اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے جو الزامات لگائے جاتے ہیں وہ صرف لوگوں تک پہنچائے جاتے ہیں نہ کہ عدالتوں تک۔ نیب یہ مقدمات اپنے انجام تک کیوں نہیں پہنچا سکی؟ اس کی وجہ واضح ہے۔ نیب بھی یہ سمجھتی ہے کہ اس الزامات اور مقدمات سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کارروای کے طور پر ہیں یا انہیں دبانے یا سیاسی طور پر بدنام کرنے کے لئے ہیں ۔
 

نیب کے قیام کا مقصد جو کہ اس کے اغراض و مقاصد میں تحریر ہے ہو ہے کرپشن کا خاتمہ۔ کرپشن کا توڑ تب نکلے گا جب انصاف ہوگا۔ لیکن برسوں سے ایسا نہیں ہو رہا۔ نتیجے میں یہ ادارہ وہ مقاصد ھاصل نہیں کر سکا جس کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ کئی ملزمان ملی بارگیننگ کے ذریعے رقم کی ادائگی کرکے بری ہوجاتے ہیں۔ جس سے دہرا پیغام ملتا ہے۔ یعنی کرپشن کرنے کے بعد اگر ملزم پکڑا جائے تو خرد برد کی گئی رقم کا کچھ حصہ واپس ادا کر کے صاف ستھرا ہوسکتا ہے۔ اس رقم کی ادائگی کے بعد اس پر کوئی سزا یا پینلٹی نہیں۔
 

دراصل ایک زیادہ مضبوط پیغام کی ضرورت ہے۔ نیب کی جانب سے ذمہ داریاں نہ نبھانے کی وجہ سے ہماری مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ 

کہیں اس کے پیچھے سویلین اختیار کو دبانے کی کہانی تو نہیں؟ لوگوں کو شبہ ہے کہ اس مرتبہ بھی ماضی کی کہانی دہرائی جائے گی کہ ان الزامات کو سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے تو استعمال نہیں کیا جائے گا؟ کوئی نیا این آر او تو نہیں آجائے گا؟ یا صرف پرانی سیاسی قیادت سے جان چھڑانے کے سیاسی مقاصد کے لئے تو اس کا استعمال نہیں کیا جائے گا یا ملزمان کو واقعی سزا ہوگی؟ معاملہ عدالت عظمیٰ کے پاس ہے دیکھیں عوام کو کتنا انصاف ملتا ہے۔
 
Sohail Sangi

July 9, 2015 to be published in Nai Baat on July 10

Tuesday, July 7, 2015

معیشت کی صحت اور آئی ایم ایف کا سرٹیفکیٹ

معیشت کی صحت مند ی اور آئی ایم ایف کا سرٹیفکیٹ
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
آئی ایم ایف کے حالیہ جائزے میں پاکستانی معیشت کی ترقی کو امید افزا قرار دیا ہے۔ اس کی وجہ 2013 میں اس عالمی ارادے سے پاکستان کا معاہدہ بتایاجاتا ہے ۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کو بعض سخت مالی اور معاشی اقدامات کیے گئے تھے۔ اگر صرف اسکو ایک آنکھ سے دیکھا جائیپاکستان کی معیشت کی کارکردگی اچھی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے ہیں۔ مالی پالیسیاں جو کہ مائکرو انڈیکیٹر کے زمزے میں آتی ہیں، دراصل یہ سب دکھاوے کی کہانی ہے ۔ اصل بات اس کہانی کے پیچھے چھپی ہوئی ہے کہ یہ سب کچھ کس طرح سے حاصل کیا گیا؟کس قیمت پر؟اس کے مستقبل میں کیا اثرات مرتب ہونگے؟ لیکن حکومت خوش ہے اور عوام کو بھی خوش خبری دے رہی ہے کہ سب کچھ اچھا ہو رہا ہے۔
 
ملکی معیشت کے اصل حقائق کچھ اور ہیں:برآمدات گر رہی ہیں۔ صنعتیں بند ہورہی ہیں سرمایہ کاری کا بھی حال اچھا نہیں۔ ضروری اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بینکوں کے منافع میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ سب ملکی معیشت کے حقیقی وارثوں کے لئے منفی اشارے ہیں۔
 
معیشت کی اس حالت پرباہر کے قرضہ دینے والے خوش ہیں کہ پاکستان اس قابل ہے کہ اسکو قرضہ دیا جاسکتا ہے۔ یعنی ملک قرضہ ادا کرنے کی حیثیت میں آگیا ہے۔ یہ واحد وجہ ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ نے ملک کی اچھی صحت کا سرٹیفکیٹ جاری کردیا ہے۔ کسی بھی ملک میں معاشی یا سیاسی حالات کچھ بھی ہوں مالیاتی اداروں کو ایک ہی فکر ہوتی ہے کہ اس نے جو قرضہ دیا ہے وہ واپس ادا ہو بھی سکتا ہے یا نہیں۔ اگر ہو سکتا ہے تو اسکو کوئی فکر نہیں وہ ’’سب اچھا ہے‘‘ کی ہی رپورٹ دے گا۔
 
قیام پاکستان کے بعد اپنی معیشت، اپنی صنعت اور اپنا معاشی نظام بنانے میں ناکام رہے۔ اور بڑی حد تک غیر ملکی امداد اور غیر ملکی قرضوں پر انحصار کیا گیا۔ وہ سرد جنگ کا زمانہ تھا۔ مختلف ممالک خاص طور پر امریکہ اور مغربی ممالک اپنے فوجی اور حکمت عملی کے مفادات کے تحت پاکستان کو امداد دیتے رہے۔ اور غیر ملکی پیسے کا حصول خارجہ پالیسی کا حصہ بن گیا۔ لیکن ستر کے عشرے سے حالات بدلنا شروع ہوئے اور اسی کے عشرے کے آخر تک پوری دنیا ہی بدل گئی جب سوویت یونین کا زوال ہوا۔ یہ وہ صورتحال تھی کہ کئی عشروں سے فوجی حکمت عملی کے حولاے سے امریکہ جیسے اتحادی اور دوست نے بھی مدد سے ہاتھ کھینچ لیا۔ پاکستاں کو بیرونی مالی مدد یا قرضہ کے لئے اب عالمی ملیاتی اداروں یعنی عالمی بینک اور عالمی مالیاتی فنڈ پر بڑے پیمانے پر انحصار کرنا پڑا۔
 
جب سے عالمی مالیاتی اداروں کے جال میں پاکستان پھنسا ہے اسکو ہمیشہ اس خطرے میں رہتا ہے کہ وہ اپنے معاشی پالیسیان اس طرح سے رکھے کہ قرضہ کی قسط ادا کرتا رہے۔چاہے اس کے نتیجے میں عوام کے معاشی حالات کچھ بھی ہوں۔ بالفاظ دیگرے قرضہ دینے الوں کو مطمئن رکھے۔ حکومتیں جب اس فلسفے کے تحت کام کرتی ہیں ان کے فیصلے احمقانہ ہوتے ہیں۔
 
اب عالمی کریڈٹ ریٹنگ اداروں اور قرضہ دینے والوں کی واہ واہ اورعالمی غیر سرکاری اداروں پر برہمی سامنے آئی ہے۔ اس سے نیت مشکوک نظر آتی ہے۔ یہ عالمی مالیاتی ادارے ہمارے معاشی منیجروں کے لاڈلے اسٹیک ہولڈرز ہیں۔ اور حکومت ان کی خدمت کر کے خوششی محسوس کرتی ہے۔ جب کہ این جی اوز وغیرہ نچلی سطح پر کام کرنے والے اور انہیں فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اس سیکٹر کی پالیسی ساز حلقوں میں کم آواز ہے۔
 
پاکستان میں اس سے بہتر معاشی انتظام کاری کی ضرورت ہے۔اپنا معاشی نظام بنانے اور ملکی معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑے کرنے کے بجائے اپنے حالات بہتر کرنے کے لئے صرف آئی ایم یاف کی طرف دیکھنا فضول اور مضر رساں مشق لگتی ہے۔
 
دعوے اپنی جگہ پر، عملا اس میں بہت کم صداقت ہے کہ حکومت نے نہ توانائی کے شعبے کو بحال کرسکی ہے اور نہ ہی ٹیکس کی بنیاد وسیع ک کر پائی ہے۔ عوامی بھلائی ،خدمات اور بھلائی کے اخراجات کم کر کے مالی خسارہ کم کیا گیا ہے۔ لیکن حکمرانوں کی شاہ خرچیوں پر کوئی قدغن نہیں۔ پھر وہ وزیراعظم ہاؤس ، ایوان صدر ، وزراء اعلیٰ کے اخراجات ہوں یا اراکین اسمبلی کی تنخواہیں اور دیگر سہولیات اور اخراجات ہوں۔
 
معیشت میں جو ترقی ایسے شعبے میں ہوئی ہے جو پرندے کی طرح ایک رات میں اڑ کر جا سکتے ہیں۔ مثلا خدمات یا تعمیرات کا شعبہ۔ جبکہ روزگار پیدا کرنے والی صنعتیں بری حالت میں ہیں۔ حقیقی چیلینج یہ ہے کہ’’ بالائی طبقے کی کی خدمت کرو اور اس کی قیمت کو وزن غریبوں پر ڈالو‘‘ پر مکمل عمل ہو رہا ہے۔ یہ پالیسی پاکستان کی سیاسی قیادت کی اپنی پیداوار ہے۔ جس پر وہ سالہا سال سیکاربند ہے اور موجودہ حکومت بھی اس سے مستنیٰ نہیں۔ 

آئی ایم ایف کے اس جائزے کے بعد کیا ہوگا؟ توانائی کے شعبے کی نالائقیوں کی مزید قیمت لوگ ادا کریں۔ ان پر بھاری ٹیکس لگتا رہے جو پہلے سے ٹیکس نیٹ میں ہیں۔
 
اب آئی ایم ایف کے کردار اور اس کی حقیقی کاکردگی کو پرکھنا بہت ضروری ہوگیا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد عالمی سرمایہ داری نظام کو سہارا دینے اور دنیا بھر میں اس نظام کو نافذ کرنے کے لئے قائم کئے گئے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ وہ کسی عوامی تنقید یا اعتراض کو حساب میں نہیں لاتی۔ جبکہ اس کا دعوا ہے کہ وہ عام لوگوں کے بھلے کے لئے کر رہی ہے۔ بعض ممالک میں آئی ایم ایف نے ایسے معاہدے بھی کئے جو دستخط ہونے اور بعض صورتوں میں قرضہ جاری ہونے تک خفیہ رکھے گئے۔ ایسا بھی ہوا کہ قرض دار ملکوں کے عوام نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار بھی کیا۔
 
اس ادارے کی پالسیوں اور فیصلوں کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ایسی پالیسیاں پوری دنیا پر نافذ کی جارہی ہیں جن پر امریکہ کا اتفاق رائے ہے۔جبکہ ہر ملک کی سماجی، معاشی، سیاسی اور ثقافتی صورتحال کو حساب میں نہیں لیا جاتا۔ اس کے نیتجے میں ان پالیسیوں پر عمل درآمد اور ان سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اور قرضہ دینے والا ادارہ ایک سود خور کی طرح اپنا منافع وصول کرتا رہتا ہے۔ اور مزید قرضہ دیکر اپنے جال میں پھنساتا رہتا ہے۔ حالانکہ ہونا یہ چاہئے کہ اس ادارے کو قرضہ دینے سے پہلے ان ممالک کی معیشت اور سیاسی فضا کا مطالعہ کرنا چہائے۔ اور دیکھنا چاہئے کہ اس کی مداخلت کے اس معاشرے پر مجموعی طور کیا اثرات مرتب ہونگے؟
 
آئی ایم ایف جب کسی ملک کو قرضہ دیتا ہے تو وہ اپنی کڑی شرائط عائد کرتا ہے۔ اور مخصوص معاشی پالیسیاں اختیار کرنے کو مشروط بناتا ہے۔ مثلا سرکاری اخراجات کم کئے جائیں۔ ٹیکس بڑھائے جائیں۔ عوام کو دی جانے والی سبسڈی ختم کی جائے۔ لوگوں کی بنیادی سہولیات تعلیم، صحت، پینے کے پانی وغیرہ پر حکومتی اخراجات کم کئے جائیں۔ کرنسی کے استحکام کے لئے سود کے نرخ بڑھائے جائیں۔ نتیجے میں جو فرمیں ناکام ہوتی ہیں وہ دیوالیہ ہو جائیں۔ 

سرکاری صنعتوں اور تجارتی اداروں کی نجکاری کی جائے ، بیوروکریسی میں کرپشن ختم کی جائے وغیرہ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مالیاتی ادارے کے اس مداخلت اور مخصوص قسم کی پالیسیاں دینے سے صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔ جب سے ملک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کا عمل دخل بڑھا ہے کرپشن اور دیگر بیوروکریٹک بے قاعدگیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
 
گزشتہ بیس سال کا تجربہ اس ادارے کی کارکردگی کے بارے میں کچھ اور بتاتا ہے۔ نوے کے عشرے کے آخر میں آئی ایم ایف نے بعض ایشیائی ممالک خاص طور پر انڈونیشیا، ملائیشیا اور تھائلینڈ پر زور دیا کہ وہ وہ اپنی مالی پلایسی سخت کرے بجٹ کا خسارہ کم کرے ان پالیسیوں سے کساد بازاری پیدا ہوئی اور بیروزگاری بڑھی۔ 2001 میں ارجنٹائن کو بھی اس پالیسی پر عمل کرنے کے لئے کہا گیا۔ اس سے عوامی خدمات کے شعبے میں سرمایہ کاری کم ہوگئی اور معیشت کو دھچکا لگا۔ یونان کو دو مرتبہ بیل آؤٹ پیکیج دیا گیا۔ لیکن سقراط کا ملک ابھی بھی سکرات کے عالم میں ہے۔
 
نوے کے عشرے میں کینیا میں پیسے کی منتقلی پر کنٹرول ختم کردیا گیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں کرپٹ سیاستدانوں کے لئے آسان ہوگیا کہ وہ اپنا پیسہ بیرون ملک منتقل کردیں اور یوں یہ تمام رقم ملکی معیشت کے دائرے سے باہر چلی گئی۔ کسی ملک کے حالات کو سمجھے بغیر اندھادھند اپنی پالیسی نافذ کرنے کی ناکامی کی یہ ایک اور مثال تھی۔ ایسا ہی تجربہ پاکستان کو بھی ہوا، جس کے کچھ مناظر ہم نوے کے عشرے میں دیکھ چکے ہیں۔ 

 آئی ایم ایف کی شرائط کی وجہ سے کرناسی میں کمی کرنی پڑتی ہے۔ کرسی کی قیمت میں کمی سے افراط زر میں اضافہ ہوتا ہے۔ فری مارکیٹ پالیسی ہر ملک میں اور ہر حالت میں کامیاب نہیں ہوتی۔ پرائیویٹائزیشن نجی شعبے کی اجارہ داری داری قائم کردیتی ہے جو صارفین یعنی عام آدمی کو لوٹتا رہتا ہے۔
 
ہاورڈ انسٹیٹیوٹ آف ڈولپمنٹ کے سربراہ جیری سچیز نے کیا خوب کہا ہے: ’’واشنگٹن کی 19 ویں اسٹریٹ میں بیٹھے ہوئے 1000 معیشت دان 75 ترقی پذیر ممالک میں ڈیڑھ ارب سے زائد آبادی پر اپنی مرضی کی معاشی پالیسیاں اور شرائط ڈکٹیٹ کراتے ہیں ۔ ‘‘
 
دراصل آئی ایم ایف ایک ایسا ناقص نظام معیشت لاگو کر رہا ہے جس میں لوگوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ برآمدات والی اشیاء پیدا کریں اس کے بجائے ملکی ضروریات کی جو مختلف اشیاء ہیں وہ پیدا کرنا چھوڑ دیں۔ دنیا کے غذائیت کی قلت والے بچوں میں سے 80 فیصد ان ممالک میں رہتے ہیں جہاں کاشکاروں کو لالچ، دباؤ، اور پالسیوں کے ذریعے مجبور کیا گیا ہے کہ وہ مقامی آبادی کی خوراک کی اجناس پیدا کرنے کے بجائے برآمدات کی اشیاء پیدا کریں جو کہ مالدار ممالک کی ضروریات ہوں۔ آئی ایم ایف ملکی یا چھوٹی صنعتوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے تاکہ کثیرالقومی کمپنیوں کی مصنوعات کے لئے مارکیٹ پیدا ہوسکے۔ یہ وہ صورتحال ہے جہاں چھوٹا کاروباری اور کاشتکار مقابلہ یا مسابقت نہیں کر سکتا۔
 
آئی ایم ایف اور عالمی بینک متعلقہ ممالک کو مشورہ دیتے رہتے ہیں کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے پر کشش حالات بنانے کے واسطے مزدوروں سے متعلق قوانین میں نرمی کریں۔ اجتماعی سودہ کاری کے قانون کو بھی ایک طرف رکھ دیں۔ اس کے نیتجے میں کارپویشنوں کو سستا مزدور مل جاتا ہے جسے کسی بھی وقت ملازمت سے نکالا جاسکتا ہے۔ اس کے چند مناظر ہم پاکستان میں دیکھ رہے ہیں س۔ ملک میں موجود ٹھیکہ داری سسٹم، مستقل ملازمتوں کا خاتمہ نتیجے میں ملازم پیشہ افراد کو حاصل سماجی تحفظ کا نظام عملا ختم ہوگیا۔

جنوبی کوریا، انڈونیشیا، تھائلینڈ میں آئی ایم ایف کی پالیسیوں کے نیتجے میں 200 ملین نئے غریب پیدا ہوئے۔ غربت جاری ہی نہیں رہتی بلکہ بڑھتی رہتی ہے اور آئی ایم ایف کا قرضہ بھی بڑھتا رہتا ہے۔ اب ہم خود فیصلہ کرلیں کہ عالمی ادارے کی جانب سے ہماری معیشت کی صحت کی چٹ کی کیا معنی ہیں؟
July 7, 2015 Sohail Sangi

Saturday, July 4, 2015

وزیر اعظم اقتصادی دارالحکومت میں

وزیر اعظم کا دورہ کراچی
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
 

وزیر اعظم نواز شریف نے کراچی کا دورہ ایک ایسے موقع پر کیا ہے جب کراچی میں گرمی کی شدید لہر اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ وغیرہ سے بارہ سو سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے تھے۔ دو وفاقی ادارے نیب اور رینجرز کرپشن کے الزام میں مختلف صوبائی افسران کے کرفتاریاں کر رکہے تھے اور کئی درجن افسران، وزراء کے خلاف کرپشن کے الزام میں تحقیقات کر رہے ہیں۔ اس تحقیقات کے دوران پیپلزپارٹی کی قیادت آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ بیرون ملک چلے گئے۔
 

وفاقی ادارے صوبے میں کارروایاں کر رہے تھے لیکن وفاقی حکومت ان کارروایوں پر خاموش تھی۔اس ضمن میں کوئی وضاحت نہیں کر سکی۔ ان وجوہات کی بناء پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان خلیج پیدا ہوگئی۔ سندھ حکومت اس معاملے پر دبے الفاظ میں احتجاج کرتی رہی۔ اور بار بار یہ کہتی رہی کہ وہ وفاقی اداروں کی مداخلت کے معاملے پر عدالت سے رجوع کرے گی لیکن اس نے تین ہفتے گزرنے کے بعد بھی ایسا نہیں کیا۔
 

اس تمام عمل کو پیپلزپارٹی اپنے خلاف کارروائی سمجھ رہی تھی۔ آصف علی زرداری سے جب وزیراعظم نے ملاقات سے انکار کیا تو وہ اپنے اتحادیوں کا اجلاس کرنے کے بعد دبئی چلے گئے۔ جس کے لئے یہ بھی کہا جارہا ہے ک ان کا بیرون ملک جانا وزیراعظم سے ناراضگی کا اظہار ہے۔ پیپلزپارٹی کی ناراضگی اور اس کے خلاف کارروایوں نے نواز لیگ کو سیاسی تنہائی میں کھڑا کردیا۔
سندھ میں جاری مختلف واقعات اور حالات کی وجہ سے وزیر اعظم8 نواز شریف پریشان ہیں اور خود کو خاصی مشکل میں پا رہے ہیں۔ ویزراعظم اور آرمی چیف نے اس حوالے سے بھی مشاورت کی ہوگی۔ اور یہ بھی کہ آپریشن کا آئندہ کا کیا لائحہ عمل رکھا جائے۔
 

یہ بھی سمجھا جارہا ہے کہ اس ملاقات میں پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے عسکری قوتوں کے خلاف برہمی والے بیان اور ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان کشیدگی، اور سندھ میں صوبائی حکومت اوررینجرز کے درمیان کشیدگی کو بھی دیکھا گیا۔ رینجرز اور سندھ حکومت کے درمیان کراچی کے معاملات چلانے پر کشیدگی پائی جاتی ہے۔
وزیر اعظم نواز شریف نے کراچی کا دورہ کرنے سے ایک روز قبل آرمی چیف سے ملاقات کی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس ملاقات میں ایم کیو ایم پر بھارتی خفیہ ایجنسی کی جانب سے فنڈنگ اور ملکی معاملات میں بھارتی ایجنسی کی بڑہتی ہوئی مداخلت کے معاملے کا بھی جائزہ لیا گیا ۔ تجزی نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان یہ معاملہ اقوام متحدہ میں اتھانے جارہا ۔ کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ صرف ایم کیو ایم کا ہی مسئلہ نہیں ہے، مجموعی طور پر بھارتی خفیہ ایجنسی کی سرگرمیاں اور مداخلت بڑھ گئی ہے۔ اس ضمن میں اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی وفاقی دارلحکومت میں موجود ہیں۔ ان سے مشاورت اور ہدایات دی جارہی ہیں۔ 


ایم کیو ایم کے حوالے سے منی لانڈرنگ کیس اور عمران فاروق کے قتل کیس میں بھی پیش رفت ہو رہی ہے۔ چوہدری نثار علی خان نے گورنر سندھ سے عشرت العباد سے ملاقات کی ، پاکستان میں گرفتار ملزمان تک لندن پولیس کی رسائی اور کراچی میں گرفتاریوں پر بات چیت کی۔ تجزی نگاروں کا خیال ہے کہ حالیہ سرگرمیوں سے لگتا ہے کہ حکومت بطور پارٹی ایم کیو ایم کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنے جارہی۔ البتہ جرائم پیشہ افراد کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔
 

سندھ حکومت اور رینجرز کے درمیان تنازع کے بعد وزیر اعظم دونوں فریقین کے حوالے سے توازن رکھنے کے لئے سخت دباؤ میں ہیں۔
 

وزیر اعظم پیپلزپارٹی کے ساتھ ورکنگ رلیشن شپ برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ اس لئے انہوں نے عسکری قیادت سے بھی یہ بات رکھی ہوگی کہ رینجرز اور سندھ حکومت کے درمیان کشیدہ تعلقات میں سدھار لایا جائے۔ اس سلسلے کی ایک کڑی یہ بھی ہے کہ گزشتہ ہفتے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ بھی دبئی گئے تھے۔ 

کیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے لیڈر کو وزیراعظم نواز شریف کا پیغام پہنچایا اور ملاقات سے انکار سے جو ناراضگی پیدا ہوئی تھی اسے دور کرنے کی کوشش کی۔ کہا جاتا ہے کہ آصف علی زرداری نے سید خورشید شاہ کو بتایا کہ وزیراعظم اب اس معاملے میں کوئی پہل کریں یا عملی اقدامات کریں تو بات آگے بڑھ سکتی ہے۔ دو راز قبل اس بات کا عندیہ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کے ایک ٹی وی انٹرویو سے بھی ملتا ہے جس میں وہ وزیراعظم سے کہہ چکے ہیں کہ وہ سندھ حکومت اور رینجرز کے درمیان اختلافات کو دور کرنے میں مدد کریں۔
 

کراچی کے دورے کے دوران وزیراعظم بھی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکے کہ گرمی کی شدت سے ہونے والی اموات کی ذمہ داری کس پر آتی ہے؟ جب کیس بھی معاملے میں ذمہ داری کا تعین نہیں ہوپاتا تو عدالتی کمیشن وغیرہ قائم کی جاتی ہے۔ تعجب کی بات ہے وزیراعظم نے ذمہ داری کے تعین کے لئے اس طرح کے کسی قدم کا اعلان نہیں کیا۔
 

وزیراعظم سے ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو بھرپور طریقے سے یہ موقعہ دیا گیا کہ وہ پیپلزپارٹی اور سندھ حکومت کو جو وفاقی اداروں اور وفاقی سے شکایات کے دفتر کھول دیں۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ وفاقی ادارے کارروائی سے انہیں بھی آگاہ نہیں کرتے۔ اورفرمائش کی کہ صوبے میں نیب اور ایف آئی اے کو کارروایوں سے رکا جائے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ کہ ان اداروں کی کاررویاں صوبائی خود مختاری میں مداخلت ہیں۔ وزیراعظم نے ان کی شکایات یا بتیں سنیں لیکن اس ضمن میں کوئی واضح اعلان یا یقین دہانی سامنے نہیں آئی ہے۔ ہاں یہ ضرور کہا کہ وہ پیپلزپارٹی کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ن اس ضمن میں اکیلے یا اپنے طور پر کوئی فیصلہ نہیں لینا چاہتے اور وہ عسکری قیادت کو بھی اعتماد میں لینا چاہتے ہیں۔
Soahil Sangi
Nai Baat http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D9%88%D8%B2%DB%8C%D8%B1-%D8%A7%D8%B9%D8%B8%D9%85-%D8%A7%D9%82%D8%AA%D8%B5%D8%A7%D8%AF%DB%8C-%D8%AF%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D9%84%D8%AD%DA%A9%D9%88%D9%85%D8%AA-%D9%85%DB%8C%DA%BA

Thursday, July 2, 2015

کیا پیپلزپارٹی اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان ڈیل ہوئی ہے؟

کیا پیپلزپارٹی اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان ڈیل ہوئی ہے؟
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
سندھ میں جب رینجرز اور نیب نے اپنی کارروایاں تیز کیں، تو پارٹی کے شیرک چیئرمین آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں فاٹا سے پارٹی کے عہدیداروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسٹبلشمنٹ پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ان کا بیان اس سے بلکل ہی الٹ تھا جس طرح کی سیاست زرداری صاحب کی پہچان ہے۔ مین اسٹریم میڈیا میں بیٹھے تجزیہ نگار جو خود کو باخبر ترین اور ڈوریان ہلانے والے سمجھتے ہیں ان کو یہ قصہ سمجھ میں ہی نہیں آیا۔ الٹا اس بیان کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے اس کا مذاق اڑایا۔مین اسٹریم میڈیا نے دو طرح کے تاثر دینے کی کوشش کی: ایک یہ کہ آصف کے کہنے پر نوابشاہ بھی بند نہیں ہو سکے گا وہ چلے ہیں پورے ملک کو بند کرانے۔ دوسرے یہ کہ زرداری نے یہ بیان نیب اور رینجرز کی کاروایوں کے ردعمل میں دیا ہے۔

 
ان کارروایوں کے دو پس منظر اور بھی ہیں۔ ایک یہ دو وفاقی ادارے سندھ صوبے میں مداخلت کر رہے تھے۔ اور وفاق اس میں اپنی پوزیشن واضح کرنے میں ناکام رہا۔ سندھ حکومت اپنے معاملات میں مرکز کی اس مداخلت پر بیان بازی تو کرتی رہی لیکن عدالت میں نہیں گئی اور نہ ہی سیاسی اشو بنا کر لڑائی کی۔ کیونکہ اسکو پتہ تھا کہ اس کے آخری نتیجے میں سیاسی طور پر اسکو فائدہ ہی ہے۔ دوسرا نقطہ یہ تھا کہ سندھ کی ایک اور پارٹی ایم کیو ایم پہلے سے دباؤ میں تھی جس پر دباؤ بڑھ رہا تھا۔ اپوزیشن یہ بنی کہ کوئی بھی سیاسی قوت اس کی حمایت کرنے کے لئے تیار نہیں تھی۔ ایم کیو ایم کی قیادت اور بعض دیگر کارکنوں پر سنگین الزامات اپنی جگہ پر لیکن وہ موجودہ سیٹ اپ میں منتخب ایوانوں میں نمائندگی رکھتی ہے اور اس نظام کا حصہ ہے۔ 


اپنی کارکردگی، سنگین نوعیت کے الزامات اور عدم برداشت کی سیاست کی وجہ سے وہ اس نظام کی کمزور کڑی تھی۔ جس کے بارے شواہد بھی کٹھے کرلئے گئے تھے اور کسئی برسوں سے ماحول بھی جڑا ہوا تھا۔ نواز لیگ نہ ایم کیو ایم کا اپنے سایے میں لے سکی اور نہ ہی ایم کیو ایم اپنی سیاست کی وجہ سے نواز لیگ سے جڑ سکی۔
 

باہر جب آصف زرداری کی سخت گیر تقریر پر بحث ہو رہی تھی اندر ہی اندر آصف زرداری کی اس تقرری کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہی تھی۔ چند حقائق بہت اہم ہیں جن کی وجہ سے پیپلزپارٹی کی پوزیشن کو مضبوط بنتی ہے۔ اس پارٹی کے پاس ملک کے دوسرے بڑے صوبے کی حکومت ہے۔ یہ صوبہ ملکی معیشت کی شاہ رگ ہے اور معدنی وسائل سے مالامال ہے۔
 

جہاں تک اقتدار کے ایوانوں کی بات ہے اس کے پاس قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی سیٹ اور سنیٹ میں اکثریت ہے اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا عہدہ بھی۔ اس صورتحال میں اگر زرداری صاحب نے حکومت کے خلاف تحریک نہ بھی چلا سکے، لیکن قانون کے حدود میں رہ کر طویل سیاسی لڑائی لڑے تو نواز لیگ حکومت کو مشکل میں ڈال سکتی ہے۔ ملک کو جو علاقائی اور عالمی خطرات موجود ہیں ان کی موجودگی میں وہ تمام سیاسی سیٹ اپ کو اپ سیٹ کر سکتے ہیں۔وفاق اور نواز لیگ کے خلاف سندھ میں خاصا مسالہ موجود ہے۔ 
سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت رہے ، جہاں مرکز کے خلاف ہڑتالیں اور مظاہرے ہو سکتے ہیں۔ اس کا عندیہ دو مرتبہ سے زیادہ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ دے چکے ہیں اور کے الیکٹرک کے اور وفاق کے خلاد دھرنے کی قیادت بھی کر چکے ہیں۔
 

مطلب پیپلزپارٹی کے پاس اقتدار کی جنگ لڑنے کے خواہ ترپ کارڈ نہ ہوں پر کئی کارڈ ہیں۔ جن کو وہ باری باری یا ایک ساتھ استعمال کرکے نواز حکومت کے تمام کارڈز ختم کروا سکتی ہے اور اپنے کارڈز استعمال کر کے صورتحال کو اپنے حق میں رکھ سکتی ہے۔
 

اب اسلام آباد اور لاہور اور وہاں کے تجزی نگاروں کو بھی یہ بات سمجھ میں آرہی ہے کہ سندھ میں کرپشن کے نام پر شروع کئے گئے کریک ڈاؤن کے سیاسی مقاصد ہیں۔ اور اس کریک ڈاؤن کا اصل مقصد گورننس کو ٹھیک کرنا یا کرپشن کا خاتمہ کم بلکہ سیاسی طور پر اثرانداز ہونا تھا۔
 

یہ اشارے بھی مل رہے ہیں کہ اسٹبلشمنٹ انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لئے قائم جڈیشل کمیشن کے فیصلے سے پہلے نواز شریف کو حاصل آصف زرداری کی حمایت واپس لینا چاہتی ہے۔ جب نواز شریف نے آصف علی زرداری سے ملنے سے انکار سے اسٹبلشمنٹ نواز شریف کو اکیلا کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ اب صورتحال کچھ اس طرح سے بنی ہے۔ اسٹبلشمنٹ ، پی پی اور تحریک انصاف ایک طرف ہیں تو دوسری طرف نواز شریف اکیلا ہے۔۔ اب نواز حکومت کو جڈیشل ٰ کمیشن کے فیصلے کے بعد آسانی سے گھر روانہ کیا جاسکتا ہے۔
 

وزیراعظم کی سیاسی بصیرت دیکھیں۔ انہوں نے ملک کی دوسری بڑی پارٹی جو ایوان خواہ سیاسی حوالے سے بھی بڑی ہے، اس کے لیڈرسے ملنے سے انکار کردیا۔ وزیر اعظم کا خیال تھا کہ وہ ملاقات سے انکار کر کے اسٹبلشمنٹ کو خوش کر رہے ہیں ۔ لیکن عملا وہ خود تنہا ہو رہے تھے۔ دوسری طرف اسٹبلشمنٹ آصف زرداری سے بات چیت کر رہی تھی۔ یوں آصف کی سیاسی طور پر پوزیشن مضبوط ہوگئی اور نواز شریف کی پوزیشن کمزور ہوگئی۔ زرداری اس صورتحال کو پورے طور پر ادراک رکھ رہے تھے، لہٰذا بڑا بروقت بیان دیا۔
 

پیپلز پارٹی اسٹبلشمنٹ ڈیل میں کیا کیا ہے؟ اسکو سمجھنے کے لئے کچھ پیچھے جانا پڑے گا۔ 2014 سے پیپلزپارٹی پر دباؤ ہے کہ وہ عمران خان کے ساتھ کھڑی ہو۔ لیکن آصف زرداری نواز شریف کے ساتھ پرانے معاہدے پر قائم رہے۔ اور انہوں نے عمران خان کا اتحادی بننے سے انکار کردیا۔ پیپلز پارٹی کے اس انکار کے بعد اس کو دھکیلنا شروع کیا گیا۔ اور نواز شریف سے مسلسل ایسے اقدامات کرائے گئے کہ یہ فاصلے اور دوریاں بڑھیں۔ مجموعی طور پر پیپلزپارٹی اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگئی۔ وہ اس طرح سے کہ اسلام آباد میں نواز شریف کی حکومت ہو یا کسی اور کی، اس کو پیپلزپارٹی کی حمایت حاصل ہوگی یا وہ اس میں حصہ دار ہوگی۔ یہ صورتحال اب بھی برقرار ہے۔ 

آصف زرداری کے اس بیان کو تجزیہ نگار ایک بڑا بریک تھرو قرار دے رہے ہیں ۔ اتنے بڑے معاملے سے میڈیا کی توجہ ہٹانے کے لئے کچھ اور اشوز میدان میں اتارے گئے۔
 
یہ ڈیل کا ہی نتیجہ ہے کہ بڑے آرام کے ساتھ فریال تالپور اور آصف زرداری بیرون ملک چلے گئے جبکہ کرپشن کے الزام میں گرفتار افسران کے اعترافی بیانات آرہے تھے وہ کرپشن کی بڑی رقم بلاول ہاؤس پہنچاتے تھے۔ بعد میں بلاول بھٹو واپس آگئے ہیں۔اس ڈیل کے بعد بھی سندھ میں کرپشن پر کریک ڈاؤن اب نچلی سطح پر چلتا رہا گا اور اد کے لئے ڈھول زیادہ بجتے رہیں گے۔ اگر بات بہت زیادہ آگے بڑھ گئی تو ایک اور این آر او بھی آسکتا ہے۔

 

نواز لیگ کو اب احساس ہوا ہے کہ وزیر اعظم نے آصف زرداری سے ملاقات سے انکار کر کے کتنا بڑا نقصان کیا ہے۔ وہ پارٹی عمران خان کے دھرنوں کے موقعہ پر نواز لیگ کے ساتھ کھڑی رہی۔نیتجے میں باقی سیاسی قوتوں کو بھی جمہوریت کو ڈی ریل ہونے بچانے کے لئےحکومت کے ساتھ کھڑا ہونا پڑا۔ آج ان کے انکار نے نواز لیگ کو سیاسی طور پر تنہا کردیا ہے۔ نواز لیگ اب راستے تلاش کر رہی ہے کہ پیپلزپارٹی کو منا لے۔ آصف زرداری کی نئی چال دراصل مستقبل کے منظر نامے کے حوالے سے ہے۔
 

فرض کریں کہ اگر ڈیل نہیں ہوئی ہے توخیبر پخونخوا حکومت پہلے ہی وفاقی حکومت کے خلاف دھرنے دے رہی ہے۔ ہلکا پھلکا ٹریلر سندھ حکومت نے بھی دکھایا ہے۔ اگر وہ باقاعدہ سڑکوں پر آتی ہے تو سندھ میں گورنر راج لگ سکتا ہے۔ ایسے میں اگر سندھ حکومت کا بوریا بستر لپیٹا جاتا ہے تو نواز حکومت بھی باقی نہیں رہے گی۔۔ 
Sohail Sangi

زرداری کا کون ساتھ دے سکتا ہے؟

زرداری کا کون ساتھ دے سکتا ہے؟
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ 
سہیل سانگی
سیاسی حلقوں میں یہ سننے کو ملتا ہے کہ پیپلزپارٹی کی قیادت اپنے اقتدار کا آخری تخت گاہ ہاتھوں سے نکلتا دیکھ کر تصادم پراتر آئی ہے۔دوسری جانب پیپلزپارٹی کے جیالے اور ہارڈ لائنر ہمدرد آصف زرداری کی جانب سے سیکیورٹی اسٹبلشمنٹ کو اس طرح سے للکارنے پر خوش ہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ ایک طویل مدت کے بعد کسی سیاسی قوت نے سیکیورٹی اسٹبلشمنٹ کو اس طرح سے للکارا ہے۔ اس تقریر نے انہیں اس پیپلزپارٹی کی یاد تازہ کردی ہے جس کی پہچان اینٹی اسٹبلشمنٹ تھی۔

 

پیپلزپارٹی ماضی میں جب اسٹبلشمنٹ سے ٹکراؤ میں آتی تھی، تو اس وقت اس کے پیچھے عوام کی قوت ہوتی تھی۔ اب صورتحال بدل چکی ہے۔ باقی تینوں صوبوں سے پیپلز پارٹی کو مسترد کردیا گیا ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے نتائج کو دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ گلگت اور بلتستان میں بھی ہاتھوں سے نکل چکا ہے۔
 

عام تاثر یہ ہے کہ سندھ کے پاس کوئی متبادل نہیں۔حالانکہ اس پر کئی سوالات ہیں کہ سندھ میں متبادل بننے کیوں نہیں دیا جتا یا یہ کہ یہ متبادل کیوں نہیں بن سکا ہے؟ بہرحال سندھ کے عوام پیپلزپارٹی کو ووٹ دیتے رہے ہیں اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ اب بھی جب وہ اسٹبلشمنٹ سے ٹکراؤ میں آئے گی تو اس کے ساتھ کھڑے ہوں۔
 

یہ بیانیہ مقبول ہے کہ اسٹبلشمنٹ کو یہ للکارنا نہ جمہوریت کے لئے اور نہ ہی عوام کے لئے ہے۔ موجودہ صورتحال میں سندھ کے لوگ دوراہے پر کھڑے ہیں۔وہ اس صورتحال میں گھروں میں بیٹھنے کو ترجیح دیں؟ کیا پیپلزپارٹی اسٹبلشمنٹ سے ٹکر لے کر کرپشن کا دور واپس لانا چاہتی ہے؟ یا اس کی لوگوں کو کچھ دینے کی نیت بھی ہے؟
 

سندھ میں سیکیورٹی اسٹبلشمنٹ کی مداخلت کی کوئی بھی باشعور شخص حمایت نہیں کرسکتا۔یہ سوال آڑے آرہاہے کہ یہ پیپلزپارٹی جس طرح سے عوامی حقوق اور جمہوریت کو یرغمال بنائے ہوئے تھی ، عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے پیدا ہو گئے تھے۔ عوام کی حکمرانوں تک رسائی کے راستے بند کئے ہوئے تھی۔پیپلزپارٹی نے عوام کے لئے اسپیس نہیں چھوڑا۔حالانکہ عوامی اسپیس دراصل سیاسی جماعتوں کی میراث ہی ہوتا ہے۔ اسکا نتیجہ یہی نکلنا تھا کہ ایک دن غیر جمہوری قوتیں غیر آئینی اور غیر قانونی طریقے سے مداخلت کریں ۔ اور سیاسی قوتوں کو سویلین اسپیس سے ہاتھ دھونے پڑیں۔
 

عملیت پسند سیاستدان جانتے ہیں کہ عوام کی قوت حکومت کے ساتھ نہ ہونے کا فائدہ وہی حلقے اٹھائیں گے جن کے مفادات غیر جمہوری طریقوں سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔تمام باتوں کے باوجود پیپلزپارٹی کو اب بھی ووٹ کی حمایت حاصل ہے لیکن مزاحمت کی نہیں۔ عوام مزاحمت کی راہ تب اختیار کریں گے جب عوام کو اس سے اصولی یا جذباتی لگاؤ ہو۔ ایک پہلو یہ ہے کہ پیپلزپارٹی اب اسٹبلشمنٹ کی قوتوں سے ٹکر کھانے کے لئے تنہا کھڑی ہے۔ پیپلزپارٹی بھی اسی طرح سے سیاسی تنہائی میں چلی گئی ہے جس طرح سے ایم کیو ایم چلی گئی تھی۔ عمران خان کے دھرنے کے روز آصف علی زرداری نواز شریف کے گھر پہنچ گئے تھے۔ لیکن اس مرتبہ موجودہ نظام کے دواہم پسیاسی پلر دور کھڑے ہیں۔ وزیراعظم نے آصف علی زرداری سے ملنے سے انکار کردیا۔
 

پیپلز پارٹی نے آج جو رویہ اختیار کیا ہے یہ رویہ اگر آٹھ سال پہلے اختیار کرتی تو پارٹی کی اتنی تباہی نہیں ہوتی جتنیّ ج ہوئی ہے۔ پارٹی نے ٹکراؤ امیں آنا تو دور کی بات کئی سودے بازیاں، مفاہمتیں کیں ۔ سیاسی مفاہمتوں، طرز حکمرانی ، اپنی کمزوریوں اور کرپشن کے طویل سلسلے کی وجہ سے صرف جمہوریت کو ہی نہیں بلہ سویلین بالادستی کو بھی نقصان پہنچایا۔
 

کچھ لوگوں کو شبہ ہے کہ آئندہ چند روز میں یہ سب ٹھنڈے ہو جائیں گے۔ پیپلزپارٹی نے اگرچہ ڈمیج کنٹرول کی پالیسی اختیار کی ہے۔ لیکن وہ بھی سمجھتی ہے کہ یہ ٹکراؤ اب ناگزیر ہے۔ پیپلزپارٹی کو بھی اپنی صفیں درست کرنے اور اتحادی ڈھونڈنے اور سیاسی بیانیہ بنانے کے لئے بھی اور مضبوط حکمت عملی چاہئے۔پارٹی کی اندر کی صفوں کی صورتحال یہ ہے کہ پرانے لیڈروں میں سے مخدوم امین فہیم، صفدر عباسی اور ناہید خان ، ذوالفقار مرزا اندرون خانہ مخالف ہیں ۔پیپلز پارٹی کو وڈیروں کی حمایت حاصل ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی موجودگی پارٹی کے لئے مثبت بن سکتی ہے۔ لیکن زاس میں بھی کئی اگر مگر ہیں۔
 

کیا وہ عسکری قوتوں سے محاذ آرائی کے متحمل ہو سکتی ہیں؟ پیپلزپارٹی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ محاز آرائی کا ایک تاریخ رکھتی ہے۔ اور کئی صورتوں میں اس نے یہ جنگ جیتی بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ماضی میں اسٹبلشمنٹ سے جھگڑے کی جو بنیادیں تھیں کیا آج بھی وہی بنیادیں ہیں؟ ماضی میں یہ پارٹی مظلوم بن کر لڑتی آئی ہے۔ کیا آج بھی مظلومانہ صورتحال ہے؟ ماضی میں اس پارٹی کے خلاف جب کارروائی ہوتی تھی لوگ واقعی اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔
یہ سب کچھ اپنی جگہ پر، کیا لوگ پیپلزپارٹی کی دشمنی میں اسٹبلشمنٹ سے محبت اور ہمدردی کرنے لگیں؟
آصف زرداری اس خوش فہمی میں ہیں کہ اگر وہ کھڑے ہوئے تو کراچی سے خیبر تک پورا ملک بند کرا دیں گے۔

 

کیا پیپلز پارٹی اسٹبلشمنٹ سے محاز آرائی کی متحمل ہو سکتی ہے؟ایم آرڈی کی تحریک کے دوران لوگوں نے رضاکارانہ طور رپر اپنا کاروبار بند رکھا۔ اور خوشی خوشی گرفتاریاں بھی دیں۔ ماضی میں اس جماعت نے ایم آر ڈی، پی ڈی ایف، گرانڈ ڈیموکریٹک الائنس کی شکل میں کیا تھا۔ ایم آرڈی کی تحریک میں ملک قاسم، نوابزادہ نصراللہ خان جیسے لوگ بھی شامل تھے۔ وہ کیڈر اور تھا جو ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو نے پیدا کیا تھا۔ اب آصف علی زرداری نے جو کیڈر پیدا کیا ہے، وہ گرفتاریاں دینا تو دور کی بات گرفتاری سے قبل ضمانتیں کرا رہا ہے۔
 

پیپلزپارٹی کے رابطوں کے بعد ایم کیو ایم، اے این پی، قاف لیگ اور کسی حد تک جے یو آئی ایف ایک غیر اعلانیہ اور فطری اتحاد قائم کیا ہے۔ ویسے پیپلزپارٹی نواز لیگ حکومت کی بھی غیر مشروط حمایت کر رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کونسی جماعتیں اس کا ساتھ دیتی ہیں ۔
 

عوامی نشنل پارٹی کا کھلم کھلا موقف سامنے نہیں آیا۔ لیکن خیبر پختونخو میں حالیہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج نے ایک بار پھر ان دونوں جماعتوں کو قریب لا کھڑا کیا ہے۔ یہ ہوسکتا ہے کہ زرداری سے اتحاد کے چکر میں اس کی حمایت کرے۔ قاف لیگ دوستی کی حد تک ٹھیک
ہے۔
 

محمود خان اچکزئی روایتی طور پر اسٹبلشمنٹ مخالف رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ علاقائی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ اب اقتدار کے ایوانوں کا حصہ بن گئے ہیں ۔ بھی اس مرحلے پر پیپلزپارٹی کی حمایت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ۔ پاکستان کی سیاست اس موڑ پر ہے کہ کوئی بھی یہ کہنے کے لئے تیار نہیں کہ آصف زرداری نے خواہ کسی بھی وجہ سے دیا ہو لیکن یہ بیان اصل میں ان قوتوں کے خلاف ہے جس نے پورے سماج کوغیر سیاسی بنانے، کنگز پارٹیاں بنانے ، آئین کو منسوخ کرنے ، ایمرجنسی یا مارشل لا نافذ کرنے کو ملکی مفاد کا نام دیا۔
 

افطار ڈنر میں اتحادیوں نے زرداری کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ انہوں نے ان اتحادیوں یعنی ایم کیو ایم، اے این پی اور جے یو آئی (ف) کے بل بوتے پر ہی دعوا کیا تھا کہ کراچی سے خیبر سے تک ملک بند کرا سکتے ہیں۔ دو جماعتیں فطری اتحادی ہیں۔ ایک پیپلزپارٹی اور دوسری متحدہ۔ ان دونوں پارٹیوں کے خلاف جن بنیادوں پر کارروائی ہو رہی ہے ان کو کسی بھی طور پر عوام میں پذیرائی نہیں مل سکتی۔
 

گزشتہ دنوں متحدہ نے کراچی کو بند کرنے کی کال دی تھی۔ لیکن شہر بند نہیں ہوسکا۔ یہ مرحلہ اگرچہ فوری طور پر نہیں آرہا، لیکن آئندہ چند ہفتوں میں اس کے خطوط اور واضح طور پر سامنے آئیں گے۔

کراچی میں گرمی کی لہر اور ہلاکتیں

کراچی میں گرمی کی لہر اور ہلاکتیں
جمع شدہ کوتاہیوں اور نالائقیوں کا نتیجہ
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی

سندھ میں کرپشن اور ہشتگردی کے خلاف کاررویوں کی گرمی چل ہی رہی تھی کہ موسم کی گرمی بھی نے اس صوبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ تاحال موسم کی گرمی کی وجہ سے ایک ہزار سے زائد افراد کی قیمتی جانیں وں سے محروم ہو چکے ہیں ۔کراچی میں پہلے دہشتگردی کی وجہ سے ، اب گرمی کی وجہ سیانسانی جانیں جارہی تھی۔دہشتگردی ہو یا کرپشن یا گرمی جن کی وجہ سے جانی نقصان ہو، اصل میں ان سب کی ذمہ داری آخری تجزیے میں حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے۔ اگر کوئی گرمی یا گھٹن سے مر جائے تو اس کی ذمہ داری حکومت پر نہیں آتی۔ یہی رویہ ہے جو حکومت سندھ تھر کے قحط کے بارے میں اختیار کئے ہوئے ہے۔

حکمران خواہ صوبے میں ہوں یا وفاق میں بیٹھے ہوئے ہوں دونوں کے رویے عیاں کر دیتے ہیں کہ ان کا ویزن کیا ہے، مسائل کو دیکھنے ،ان کو حل کرنے کے بارے میں سنجیدگی کتنی ہے۔ وزیر مملکت برائے بجلی و پانی عابد شیر علی صاحب فرماتے ہیں کہ اگر کوئی گرمی یا گھٹن سے مر جائے تو اس کی ذمہ داری حکومت پر نہیں آتی۔ یہی رویہ ہے جو حکومت سندھ تھر کے قحط کے بارے میں اختیار کئے ہوئے ہے۔ اس موقعہ پر بعض اہم باتیں سامنے آئی ہیں۔ 

ہر ایک ذمہ داری اپنے کندھوں سے اتار کر دوسرے پر ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کبھی کہا جارہا ہے کہ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کی نجکاری کی وجہ سے یہ بجلی کا بحران پیدا ہوا ہے اور نتیجے میں ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ کراچی الیکٹرک سپلائی کا موقف ہے کہ اس کو وفاق سے کم بجلی فراہم کی جارہی ہے۔ اس کی وجہ سے بجلی کی کمی پیدا ہوئی ہے۔ وزارت پانی اور بجلی کا یہ بھی موقف ہے کہ کراچی الیکٹرک کارپوریشن کو گزشتہ عرصے میں اپنے بجلی گھر تعمیر کرنے تھے اور لائن لاسز کو کنٹرول کر کے بجلی کی انتظام کاری کو ٹھیک کرنا تھا جو کہ نہیں کر پائی ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ وزار بجلی و پانی اور کراچی الیکٹرک کے درمیان بجلی سپلائی کرنے کے معاہدے ختم ہوگئی ہے اور کارپوریشن نئے نرخ کے مطابق قیمت ادا نہیں کر رہی۔ اس کے باوجود وزارت اس کو پرانے داموں پر بجلی فراہم کر رہی ہے۔

وفاقی وزارت کا یہ بھی کہنا ہے کہ کراچی الیکٹرک اس کے کنٹرول میں ہی نہیں ۔ اگر یہ کارپوریشن نہ وفاق کے کنٹرول میں ہے اور نہ صوبے کے تو پھر آخر کس کے کنٹرول میں ہے؟یوں ذمہ داری نبھانے کے بجائے ذمہ داریوں سے بھاگنے کا ایک طویل سلسلہ شروع ہے۔ جب یہ صورتحال ہو تو مسئلے کو حل کرنے کی کوشش ہی نہیں ہو پاتی۔

ایک جھگڑا وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان بھی ہے۔ سندھ کا یہ موقف ہے کہ توانائی کے سب سے زیادہ وسائل وہ فراہم کرتا ہے اس کے باجود وہ توانائی کی قلت بشمول لوڈ شیڈنگ کا شکار ہے۔ سندھ حکومت نے خود کو اس المیے سے خود کو بری الذمہ کرنے کے لئے بیان بازی کے علاوہ بھی کچھ اقدامات کئے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی سربراہی میں کراچی الیکٹرک کارپویشن کے دفتر کے سامنے دھنرنا دیا گیا۔ اس دھرنے کا رخ وفاقی حکومت کے خلاف بھی ہے۔ اس مقصد کے لئے دھرنا ایک دوسال پہلے صوبائی وزراء اور ایم پی ایز نے بھی دیا تھا ۔ اس مرتبہ وزیراعلیٰ خود بھی شامل ہوگئے ہیں۔

بجلی کی فراہمی اور توانائی کے وسائل کا استعمال وفاق اور سندھ کے درمیان متنازع نقط ہے۔ لیکن اس مرتبہ وفاقی اداروں کی جانب سے بعض صوبائی افسران افسران کی کرپشن کے الزام میں گرفتاریاں اور ان کے خلاف تحقیقات اور اس ضمن میں پیپلزپارٹی کے اہم رنماؤں اور وزراء وغیرہ کے نام بھی تحقیقات کی لسٹ میں آنے کی خبروں کے بعدپیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان دوری اور ہلکی پھلکی موسیقی میں الزام بازی بھی ہو رہی ہے۔ 

وفاق نے سندھ میں شمسی توانائی کے بڑے پیمانے پر منصوبے شروع کرنے کی بھی مخالفت کی ہے ۔ اس پر دونوں فریقین کے درمیان اختلاف موجود ہے۔ کے درمیان سندھ حکومت اتنے سارے اموات سے خود کو بری کرنے کے ساتھ ساتھ اس موقعہ کو وفاق کے خلاف سیاسی حوالے سے بھی استعمال کرنا چاہتی ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ پر ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ اور صوبائی حکومت نے بجلی کے مسئلے پر اس سے پہلے کتنا ہوم ورک کیا اور کتنے متعلقہ فورموں میں یہ بات مدلل انداز میں رکھی؟ کم از کم سندھ کے لوگ صوبائی حکومت سے اس حوالے سے مطمئن نہیں۔

سندھ حکومت جو کہ ابھی بجلی پیدا کرنے کے بعض منصوبوں خاص طور پر پن چکی (ونڈ مل) پر کام کر رہی ہے، اس نے وفاق سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی سپلائی کرنے والی اندرون سندھ میں کا کرنے والی دو کمپنیوں حیسکو اور سیپکو کو صوبائی حکومت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اصولی طور پر یہ مطالبہ خراب نہیں لگتا، لیکن جب صوبائی حکومت کی گورننس اور کارکردگی کو دیکھا جائے تو اس مطالبے کی حمایت کرنے کو طبیعت نہیں چاہتی۔ بعض محکمے مثلا تعلیم، صحت، بلدیاتی امور، زراعت، آبپاشی وغیرہ مکمل طور پر صوبائی کنٹرول میں ہیں ان کی بدترین کارکردگی ہے۔

سیاست، ذمہ داریوں سے بھاگنا اپنی جگہ پر، اس میں کچھ صحیح کچھ غلط بھی ہے۔ لیکن اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ صوبے کے اندر خواہ ملک بھر میں کوئی نظام یا سسٹم موجود نہیں۔ اگر کسی ایک شعبے یا محکمے پر کسی بھی وجہ سے معمولی سا دباؤ پڑتا ہے تو پورا نظام بیٹھ جاتا ہے۔ بعض اداروں اور محکموں کی ے زوال کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے وجود کی افادیت کھو بیٹھے ہیں۔لگتا ہے کہ مسلسل ہونے والی کوتاہیاں ، نالائقیاں ناہلی کرپشن وغیرہ جمع ہو رہی تھیں۔ اور کسی ایک جگہ پر بھی دباؤ بڑھنے سے سب کی قلعی کھل گئی۔ 

اس نقطے کو سمجھنے کے لئے موسم کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ان اموات اور بحران نے حکومت، ہمارے منصوبہ بندی کے ماہرین کے لئے کئی اسباق اور سوال چھوڑے ہیں۔ 

بجلی کے بحران میں گرمی کی شدت بڑھی تو صحت، پینے کے صاف پانی کی فراہمی خواہ نکاسی آب ، شہروں کی مجموعی صفائی کی بدترین صورتحال ابھر کر سامنے آئی۔ اس کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ اور ان کی مناسب قیمتوں پر فراہمی کے سوالات بھی اس بحران سے جڑے ہوئے ہیں ۔ ایک اور نقطہ جو بہت ہی اہمیت کا حامل ہے وہ ہے ہمارا رہن سہن، تعمیرات۔ کراچی شہر میں یہ سانحہ اس وجہ سے بھی ہوا کہ بڑے بڑے پلازا ہوں یا چھوٹے ان سب کی تعمیر کے وقت ہوا کے گزر، روشنی ، صفائی کے امور کو بالکل ہی نظر انداز کیا جاتا رہا۔ تنگ اور گھٹن کا ماحول تو خود نے بنایا۔ اس ضمن میں موجود قوانین اور متعلقہ ادارے لوگوں کو ہودار، صاف ستھرا ماحول مہیا کرنے میں ناکام رہے۔ ایسے ذرائع یعنی بجلی وغیرہ پر انحصار کرنے کی کوشش کی گئی جس کی پیداواراوار مہنگی، اور مشکل ہے کم ہو رہے ہیں۔

کراچی خواہ دوسرے شہروں کا یہ بھی المیہ ہے کہ حکومت ہاؤسنگ نئے شہروں کے قیام کی منصوبہ بندی نہیں کر پائی۔ کچی آبادیاں تعداد اور آبادی میں پکی آبادیوں کے برابر ہی ہیں۔یہاں پر شہری سہولیات کا وجود نظر نہیں آتا۔

کراچی کا یہ بھی المیہ ہے کہ شہر کی اپنی آبادی افزائش نسل کے ذریعے جس شرح سے بڑھتی ہے اس کے برابر باہر کے لوگ آتے ہیں، جو شہر ی سہولیات پر اضافی بوجہ ڈالتے ہیں۔افغان پناہ گزین ہوں یا برمی یا کوئی اور ہم سب کو دعوت دیتے رہتے ہیں اور اپنے لئے خود مصیبتیں پیدا کرتے ہیں ۔ اس کا نیتجہ یہ ہے کہ کراچی میں درجہ حرارت 46 یا47 ہو گیا تو قیامت صغرا محسوس کی گئی۔

لہٰذا صرف بجلی کے معاملے کو ٹھیک کرنے کی بات نہیں، گورننس، منصوبہ بندی ، پالیسیوں کو ٹھیک کرنے اور ان پالیسیوں اور قوانین پر عمل کرنے کی بات ہے۔