سندھ سے معاملات عید کے بعد
اپیکس کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد
اپیکس کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
سائیں قائم علی شاہ کو شکایت تھی کہ رینجرز ان کو اعتماد مین لئے بغیر
نہیں کارروائی کرتی ہے ۔اتوار کے روز صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس جس کی
صدارت خود شاہ صاحب نے کی، اس کے بعد اس طرح کی شکایت کا موقعہ ختم ہو گیا۔
اب جو کچھ کرنا ہے اس کی اپیکس کمیٹی نے منظوری دے دی ہے۔ دہشتگردوں اور
ان کی مالی معاونت کرنے والوں اور کالعدم تنظیموں کے خلاف آپریشن جاری
رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس کے بعد بریفنگ میں سندھ کے وزیر اطلاعات
شرجیل میمن نے بتایا کہ دشمن ملک کے ہاتھوں استعمال ہونیوالوں کیخلاف گھیرا
تنگ کرنے ، کالعدم جماعتوں کیخلاف کارروائی تیز اور دہشت گردی کی ترغیب
دینے والے بعض مدارس کیخلاف کارروائی کابھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
گزشتہ عام انتخابات میں پیپلزپارٹی کاتین صوبوں صفایا ہوگیا۔ اور صرف سندھ
تک محدود ہوگئی۔ خیال تھا کہ پارٹی کی قیادت اس صورتحال کے پیش نظر
دوسرے صوبوں اور خاص کر سندھ میں اپنی حکمت عملی، پالیسیاں اور رویہ تبدیل
کرے گی۔ میں پیپلزپارٹی نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ پارٹی کی سندھ حکومت نے
نااہلی، بدعنوانی، ناقص کارکردگی کا گہرا تاثر چھوڑا ہے۔
اسٹبلشمنٹ نے اپیکس کمیٹی کا ایک مضبوط پلیٹ فارم بنا کر رینجرز کے
ذریعے امن و مان قائم کرنے کی کوشش کی۔بات دہشتگردوں کے خلاف آپریشن سے
شروع ہوئی اور پھر ان کی مالی امداد کرنے والوں اور بعض پیپلز پارٹی کے
رہنماؤں کی تک جا پہنچی۔ اس بات نے پارٹی قیادت کو چونکا دیاْ۔پارٹی اور
سندھ حکومت نے اسٹبلشمنٹ پر الزام لگایا کہ رینجرز اختیارات سے تجاوز کر
رہی ہے اور اسکے حامیوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ مطلب رینجرز پولیس اور سول
اتھارٹی کے کاموں میں مداخلت کر رہی ہے۔رینجرز جس کے ساتھ ظاہر ہے کہ کور
ہیڈ کوارٹر بھی شامل تھا، سندھ حکومت کے اس رویے پر اسٹبلشمنٹ نے وفاقی
حکومت سے رجوع کیا۔
وفاقی حکومت نے مالی معاملات کے حوالے سے کارروائیوں میں رینجرز کے
بجائے نیب اور ایف آئی اے کے ذریعے راستہ صاف کرنے کی کوشش کی۔
تووزیراعلیٰ سندھ نے عدالت میں جانے یا معاملہ سندھ اسمبلی میں لے جانے کی
دھمکی دی۔
یوں سندھ میں پیپلزپارٹی اور وفاقی حکومت کے درمیان تناؤ بڑھتا گیا ۔ اس بڑھتے ہوئے تناؤ کی زد میں وفاقی حکومت بھی آ گئی۔
اسٹبلشمنٹ نے مذہبی انتہا پسندوں اور ایم کیو ایم کی عسکری ونگ اور
دیگر مافیا کو بھی ہدف بنایا۔ نیتجے میں ایم کیو ایم کے بعض رہنماؤں کا
کا گھیراؤ تنگ کیا گیا۔ اسی دوران ایم کیو ایم کے خلاف کچھ مواد میڈیا میں
آنے لگا جس سے اس جماعت کے خلاف کارروائی کا سبب بنتا گیا۔
آصف علی زرداری نے صدائے احتجاج بلند کی۔ لیکن بظاہر اسکا راولپنڈی اور
اسلام آباد پر کوئی خاص نہیں پڑا۔ بہرحال پیپلز پارٹی سندھ کی حکمران
اور اکثریتی جماعت ہے۔ اور موجودہ سیاسی نظام کا ایک اہم پلر بھی ہے جس
کے بغیر خود نواز شریف کی حکومت بھی نہیں چل سکتی۔ سندھ کی پارلیمان میں
نمائندگی کرنے والی دو جماعتیں مسلسل دباؤ میں ہیں۔ لیکن عوام میں بھی مشکل
ہورہی ہے۔ وہ ایم کیوایم کو دہشتگرد اور پیپلزپارٹی کو عمومی طور پر
بدعنوان اور نااہل سمجھتے ہیں ۔ یہ تاثر خطرناک ہے۔
اسلام آباد میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ عسکری حلقوں نے اپنا تاثر کچھ اس
طرح سے بنالیا ہے جو عوام کی امنگوں کے قریب ہے۔ اس کا دوسرا مطلب یہ نکلتا
ہے اگر ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی وہ کسی احتجاج یا ایکشن کی طرف جاتے
ہیں، ان کو عوام کی حمایت نہیں ملے گی۔عسکری حلقے کام تو اچھا کر رہے ہیں
لیکن سول اور جمہوری نظام پر یقیننا آنچ آنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔
اپیکس کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں اگرچہ بہت ساری چیزوں کے بارے میں
فیصلے کئے گئے ہیں لیکن رینجرز کے اختیارات کے حوالے سے کچھ طے نہیں ہو
سکا۔ لگتا ہے کہ فریقین اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں۔
اب اسلام آباد اور راولپنڈی بہت قریب ہیں۔ اگر معاملہ مزید خرابی کی طرف
بڑہتا ہے تو سندھ حکومت رینجرز کی تعینات اور اختیارات کے احکامات واپس
لے سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو اس پر وزیراعظم شدید دباؤ میں آجائیں گے۔
ممکن ہے کہ انہیں گورنر راج لگانا پڑے۔ لیکن یہ سب کچھ اتنا آسان نہیں۔ اب
آئین جس شکل میں کھڑا ہے، اس کے لئے سندھ اسمبلی کی منظوری یا پارلیمنٹ کے
دونوں ایوانوں کی منظوری چاہئے۔ یہ منظوری حاصل کرنا اتنا آسان نہیں۔
پیپلزپارٹی کے پاس قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی سیٹ اور سنیٹ میں اکثریت ہے اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا عہدہ بھی۔ اگر زرداری براہ راست محاذ آرائی سے گریز کر تے ہوئے قانون کے حدود میں رہ کر طویل سیاسی لڑائی لڑیں تو نواز لیگ حکومت کو مشکل میں ڈال سکتی ہے۔ وفاق اور نواز لیگ کے خلاف سندھ میں خاصا مسالہ موجود ہے۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت رہے ، جہاں مرکز کے خلاف ہڑتالیں اور مظاہرے ہو سکتے ہیں۔ اس کا عندیہ دو مرتبہ سے زیادہ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ دے چکے ہیں۔اس سے سندھ میں قوم پرستی کے جذبات بھڑک اٹھیں گے۔ اور بعض قوتیں سندھ کے قوم پرستوں کو بلوچ شدت پسندوں کی طرح بنانا چاہتی ہیں وہ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاسکتی ہیں۔
لہیذا جیسے میں اپنے ایک ہفتہ پہلے اپنے کالم’’ اسٹبلشمنٹ اور پی پی کی ڈیل ‘‘کے عنوان میں لکھ چکا ہوں کہ پیپلزپارٹی کے پاس اقتدار کی جنگ لڑنے کے خواہ ترپ کارڈ نہ ہوں پر کئی کارڈ ہیں۔ جن کو وہ باری باری یا ایک ساتھ استعمال کرکے نواز حکومت کے تمام کارڈز ختم کروا سکتی ہے اور اپنے کارڈز استعمال کر کے صورتحال کو اپنے حق میں رکھ سکتی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے ، شاید یہ کوئی بھی نہیں چاہے گا کہ ایک بار پھر سندھ کی ان دوجماعتوں کو مظلوم بننے کاموقعہ ملے۔
اس صورتحال میں نواز لیگ پر دباؤ پنجاب میں بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ پیپلز
پارٹی کی رہنما فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے۔ مسلم لیگ ن سے پیپلز پارٹی کی
یکطرفہ محبت نے پیپلز پارٹی کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق
انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن کو طلاق دیدے۔
جبکہ پیپلزپارٹی کے سنیٹ میں لیڈر اعتزاز احسن جو ایک حوالے سے اسلام آباد
میں آج کل پارٹی کے معاملات دیکھ رہے ہیں انہوں نے بھی کہا ہے کہ مفاہمت کی
سیاست سے پارٹی کو نقصان پہنچا ہے۔
ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کا اتحاد نواز لیگ کے لئے مشکل پیدا کرسکتا
ہے۔ اس مشکل کو دور کرنے کے لئے ایم کیو ایم پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ
یا اپنی قیادت تبدیل کرے یا پیپلزپارٹی سے دوری اختیار کرے۔ یہی وجہ ہے
کہ وزیراعلیٰ سندھ نے رینجرز کو صرف ایک ماہ کی توسیع دی ہے۔ اس ضمن میں
چوہدری نثار علی خان سے شرائط طے کی گئیں۔ وفاقی حکومت نے رینجرز کو یقین
دہانی کرائی ہے کہ رینجرز کے معاملات میں مداخلت نہیں ہوگی۔ سندھ رینجرز
نے کراچی آپریشن کے اختیارات کے حوالے سے وفاقی حکومت کو آگاہ کیا وفاقی
حکومت کا یہ موقف رہا کہ کراچی میں قیام امن پر کوئی سودے بازی نہیں ہوگی۔
اور نہ ہی رینجرز کے اختیارات کم کئے جائیں گے۔ رینجرز اپنا کام جاری
رکھیس۔پیپلزپارٹی کی قیادت سے اتفاق رائے ہو گیا ہے کہ عید کے بعد صوبائی
اور وفاقی حکومتوں کے درمیان اہم فیصلے ہونگے۔ تب تک آصف علی زرداری بھی
واپس وطن آجائیں گے۔ اور ویزر اعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل بھی
بیروں ملک دوروں سے واپس آجائیں گے۔
سندھ میں دو حالیہ تبدیلیاں وفاقی حکومت اور اسٹبلشمنٹ کے حق میں جاتی ہیں
۔ایم کیو ایم کے حوالے سے دو اہم چیزیں سامنے آئی ہیں۔ ایک عامر خان کی
رہائی جنہیں مارچ میں نائین زیرو پر چھاپے کے وقت گرفتار کیا گیا تھا۔
عامر خان نوے کے عشرے میں آفاق احمد اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ الطاف حسین
سے الگ ہوئے تھے اور 92 میں آپریشن کے دوران انہوں نے قانون نافذ کرنے
والے اداروں کا ساتھ دیا تھا۔ بعد میں الطاف حسین کی ایم کیو ایم کے
متوازی تنظیم ایم کیو ایم حقیقی بنائی۔ لیکن دو تین سال ہوء ہیں کہ وہ
واپس ایم کیو ایم میں آئے ہیں۔ممکنہ تبدیلی کی صورت میں وہ متحدہ کی قیادت
کے امیدوار ہو سکتے ہیں ۔ دوسری تبدیلی لندن میں ایم کیو ایم کے رہنما
محمد انور کی پارٹی سے سبکدوشی ہے جنہیں پارٹی نے اجلاس کر کے بظاہر
علالت کی بنیاد پر سبکدوش کیا ہے ۔ محمد انور الطاف حسین کے قریب ترین
ساتھیوں میں سے سمجھتے جاتے ہیں ۔ لیکن ملک کے اندر پارٹی کے بعض حلقے ان
سے ناخوش رہے ہیں ۔
سندھ میں رینجرز کے اختیارات اور کارروائیوں پر پیر پاگارا خوش ہیں۔ قوم
پرستوں کی جانب سے سید جلال محمود شاہ نے کہا ہے کہ کرپٹ حکمرانوں سے فوجی
حکومت اچھی ہے۔ جبکہ پلیجو کی عوامی تحریک نے کرپشن کے خلاف کیمپ لگانے
کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ سب اپنی جگہ پر لیکن بعض سیاسی اور زمینی حقائق بھی
ہیں۔ آپریشن کو سیاسی ہونے سے بچایاجائے۔قانون اور اختیارات کی حدود میں رہ
کر براہ راست دہشتگردی، فرقہ واریت، مذہبی انتہا پسندی، کے خلاف
کارروائیاں کرے۔ سیاسی معاملات انتظامی طریقے سے ہینڈل کرنے سے گریز کیا
جائے۔ سیاسی جماعتوں اور سیاست کا فیصلہ عوام پر ہی چھوڑا جائے۔ عوام کے
پاس احتساب کا اپنا طریقہ کار ہوتا ہے۔
دوسری طرف ضرورت اس بات کی ہے کہ سندھ کی دونوں جماعتیں اپنی صفیں درست
کر لیں۔ دہشتگردی، اور بدعنوانی کے جو داغ ان پر لگے ہیں انکو عملی طور
پر دھونے ی کوشش کریں تاکہ اسٹبلشمنٹ کے پاس کسی کارروائی کے لئے اتنا
واضح جواز نہ رہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ کم از کم عوام تو اس کے ساتھ
کھڑے ہوں۔
Sohail Sangi
For Nai Baat July 14, 2015
Sohail Sangi
For Nai Baat July 14, 2015