Thursday, July 27, 2017

پیپلزپارٹی بطور اپوزیشن پارٹی: ایک جائزہ


میرے دل میرے مسافر   سہیل سانگی کالم 


پیپلزپارٹی بطور اپوزیشن پارٹی: ایک جائزہ

تقریبا چار سال کی مفاہمتی سیاست کے بعد پیپلزپارٹی بالآخر واز حکومت کے خلاف سڑکوں پرآ گئی۔ اتوار کو یعنی پاناما گیت کی سماعت کرنے والی سپریم کورٹ کی بنچ کے محفوظ فیصلے سے ایک روز قبل پارٹی کی جانب سے صوبے کے مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ یہ بحران کی پاناما گیٹ یا پھر عمران خان کی وزیرعظم نواز شریف کو ہٹانے کی ضد اور خود کو وزیراعظم کے عہدے پر آنے کی جلدی سمجھا جارہا ہے۔ جبکہ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے حامی اسکو سازش قرار دے رہے ہیں۔ان کا اشارہ بعض غیر سیاسی حلقے کی طرف ہے۔ یہ سب وجوہات اپنی جگہ پر، اس تمام قصے میں اپوزیشن اور حکمرن نواز لیگ کی کوتاہیوں کا بڑا عمل دخل ہے۔ 
حکمران جماعت کی یہ غلطی ہے وہ اپوزیشن کو اپنے ساتھ رکھنا معیوب سمجھ رہی تھی۔ وہ پیپلزپارٹی اور عام لوگوں کو یہ تاثر دینا چاہ رہی تھی کہ پیپلزپارٹی کی حمایت کے بغیر ہی وہ حکومت چلا سکتی ہے۔ اس کا خیال تھا کہ چوبکہ پیپلزپارٹی اس پورے نظام کا لازمی حصہ ہے لہٰذا وہ کہے بغیر ہی برے وقت میں حکومت ک ساتھ دے گی۔ 

پیپلزپارٹی اپنی حکومت کی میعاد پورے کرنے کے بعد صرف سندھ میں حکومت پر ہی اکتفا کر رہی تھی۔ دیکھا جائے تو پیپلزپارٹی کے اپوزیشن کا رول موثر طور پر ادا نہ کرنے کی وجہ سے ایک خلاء پیدا ہوا، جس کو عمران خان اور ان کے احتجاج نے بھرا۔ یوں حالیہ بحران پیچیدہ ہوگیا۔ 

انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کی سرکاری پالیسی کا اعلان مخدوم امین فہیم نے جون 2013 میں کیا اور کہا کہ ’’تعمیری اپوزیشن‘‘ کا کردار ادا کرے گی۔ یعنی حکومت کو فری ہینڈ دے گی۔ عمران خان نے جب تحریک کا اعلان کیا تو سید خورشید احمد شاہ نے کہا تھا کہ پارٹی ’’حقیقی اپوزیشن‘‘ کا رول ادا کرے گی۔ مطلب پارٹی بطور اپوزیشن اپنی پوزیشن بتانا چاہ رہی تھی۔یہاں سے پیپلزپارٹی پر فرینڈؒ ی اپوزیشن کا ٹیگ لگ گیا۔ اس بیانیہ میں آگے چل کر2014 میں تبدیلی ہوئی، جس کا اظہار سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کیا کہ پا رٹی’’ ذمہ دارانہ اپوزیشن ‘‘ کا کردار ادا کرے گی۔ یہ وہی سال تھا جب عمران خان نے انتخابات میں دھاندلیوں کا الزام لانگ مارچ اور وفاقی دارالحکومت میں دھرنا دیا۔ 2014 کے دھرنے کے موقعہ پر پیپلزپارٹی نے حکومت کا ساتھ دیا۔ تب نواز لیگ پیپلز پارٹی اور دیگر پارٹیوں پر انحصار کر رہی تھی۔

عمران خان کا دھرنا اس وجہ سے ناکام رہا کہ سیاسی جماعتیں حکمران جماعت نواز لیگ کے ساتھ کھڑی تھی۔ یعنی بینظیر بھٹو نے جو میثاق جمہوریت بنایاتھا اس پر کسی تحت سیاسی قوتیں متحدہ تھیں۔ اورتیسری قوت کی گنجائش نہیں نکل رہی تھی۔نواز شریف کے خلاف کسی کارروائی سے پہلے یہ ضروری ہو گیا کہ میثاق جمہوریت کے جذبے کو ختم کیا جائے۔ اور سیاسی قوتوں خاص طور پر پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کو ایک دوسرے سے د ور کیا جائے۔کراچی آپریشن اور اسی دوران پیپلزپارٹی کے صوبائی وزراء کے خلاف کارروائی پر وزیراعظم نواز شریف کی خاموشی اور رضامندی نے راہ ہموار کردی۔ پیپلزپارٹی خود کو پنجاب میں بحال کرنے کی تیاری کر رہی تھی۔ ایسے میں پیپلزپارٹی کے خلاف کارروائی نواز شریف کو اچھی لگ رہی تھی کہ ان کی حریف جماعت کو پنجاب میں فعال ہونے کا موقعہ نہیں مل رہا۔دوسری جانب 2014 کے دھرنے کے تجربے کے بعد نواز لیگ نے سیکھ لیا کہ پیپلزپارٹی یا دوسری جماعتوں کے ساتھ یا ان کے بغیر کیسے اس صورتحال کو منہ دیا جائے۔

17 فروری 2014 کو سابق صدر پرویز مشرف پہلی مرتبہ سول عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ اسی سال مارچ میں عدالت نے ان پر 2007 میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے الزام میں غداری کا مقدہ میں فرد جرم عائد کی۔ 13 اگست کو تحریک انصاف اور عوامی تحریک نے لانگ مارچ اور دھرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ اور یوم آزادی کے موقعہ پر لاہور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ شروع ہو گیا۔ مشرف کو اکبر بگٹی قتل کیس میں بری کردیا گیا۔ اس مقدمے میں ریٹائرڈ جنرل کوبری ہی ہونا تھا کیونکہ اکبر بگٹی فوجی آپریشن میں مارے گئے تھے۔ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ دونوں مشرف پرآئین کی خلاف ورزی کا مقدمہ چلانے کے حوالے سے کوئی مشترکہ پالیسی نہیں بنا سکیں۔ دراصل دونوں جماعتیں اسٹبلشمنٹ کے پاس اپنی الگ الگ پوزیشن بنانا چاہ رہی تھی۔ 

جون 2015 میں شریک چیرمین آصف علی زرداری عسکری اسٹبلشمنٹ پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ وہ اپنی حدود سے تجاوز کر رہی ہے۔ سابق صدر نے کہا کہ آرمی چیف تین سال بعد آتے جاتے رہتے ہیں لیکن سیاسی قیادت برقرار رہتی ہے۔ ہم ملک کو بہتر جانتے ہیں اور اس کو بہتر طور پر چلانا بھی جانتے ہیں۔ انہوں نے متنبیہ کیا کہ سیاسی جماعتوں کی کردار کشی بند کی جائے نہیں تو ہم قیام پاکستان سے لیکر اب تک کے ملزم جنرلوں کی لسٹ جاری کریں گے۔ 

اٹھارہ ماہ تک وہ خود ساختہ جلاوطنی میں رہنے کے بعد 24 دسمبر 2016 کو وہ واپس وطن لوٹے۔ اس عرصے کے دوران بلاول بھٹو ہی ملک میں رہے۔ پیپلزپارٹی کااسی سال فروی میں یہ موقف رہا کہ وہ کہ’’ تعمیری اپوزیشن‘‘ کا رول ادا کرے گی۔ 
جون 2016 میں پہلی مرتبہ پیپلزپارٹی نے اپنے دبئی کے اجلاس میں حکومت کی باضابطہ اپوزیشن کا اعلان کیا۔ جون 2016 میں دبئی میں پیپلزپارٹی کا اجلاس ہوا جس میں پارٹی قیادت نے ملک میں اہم اور بڑی اپوزیشن پارٹی کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ پارٹی نے عدالفطر کے بعد عوامی رابطہ مہم چلانے کا بھی فیصلہ کیا۔ دوسری جماعتوں سے رابطے کا بھی فیصلہ اور یہ کہ پارٹی نواز لیگ کے ساتھ کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ بہرحال ملک میں جمہوری سیٹ اپ کو مضبوط کرنے کے لئے فعال کردار ادا کرے گی۔ پارٹی کی ازسرنوتنظیم کاری شروع کی۔ 

2 نومبر 2016 میں جب عمران خان نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا گھیراؤ کرنے کا اعلان کیا تو پیپلزپارٹی نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔ نواز حکومت نے سکون کا سانس لیا۔ بلاول بھٹو زرادری نے چار مطالبات رکھے: قومی سلامتی کے لئے پارلیمانی کمیٹی کی از سرنو تشکیل، مکمل وزیر خارجہ کا تقرر، پاناما لیکس کے لئے پیپلزپارٹی کا بل۔ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں منعقدہ کل جماعتی کانفرنسز کی قراداوں پر عمل درآمد۔ حکومت پاناما لیکس کے بل کے علاوہ باقی پر بات کرنے کے لئے تیار تھی۔ 

نواز لیگ پیپلز پارٹی کے ساتھ رسمی طور پر کبھی بھی رابطہ نہیں کیا، کیونکہ نواز لیگ سمجھتی تھی کہ پیپلزپارٹی کی مجبوری ہے، وہ اور لیگ دونوں ایک نظام کا حصہ ہیں لہٰذا پیپلزپارٹی نظام کی حمایت کرے گی۔

عمران خان کی دھواں دھار اپوزیشن کی وجہ سے پیپلزپارٹی کو کئی مرتبہ سوچنا
 پڑا کہ وہ ’’ فرینڈلی اپوزیشن‘‘ کا کردار چھوڑ کر حقیقی اپوزیشن بن جائے۔ نومبر 2016 میں پیپلزپارٹی نے فرینڈلی اپوزیشن کا ٹیگ اتارنے کا فیصلہ کیا۔پیپلزپارٹی نے دسمبر 2016 میں پارٹی سے کہا کہ پنجاب میں تحریک شروع کرنے کی تیاری کرے۔ لانگ مارچ کا اعلان کیا۔ بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرادری نے قومی اسمبلی میں آنے کا فیصلہ کیا۔ اور دما دم مست قلندر کا نعرہ لگایا۔ لیکن عملی طور پر پیپلز پارٹی پنجاب کے بجائے سندھ میں سرگرم رہی۔ جبکہ پنجاب میں تحریک انصاف ہی سرگرم نظر آئی۔ اگر حکومت کی بھرپور مخالفت کرنی تھی تو پنجاب سے کرتی۔ خورشید شاہ بھی سندھ کے معاملات پر بات کرتے رہے۔ سنیٹ میں تمام تر سرگرمی رضا ربانی کی وجہ سے رہی۔

 اپریل میں زرداری نے یہ کہنا شروع کیا کہ آئندہ حکومت ان کی پارٹی بنائے گی۔ لیکن تب تک خاصی دیر ہو چکی تھی۔ پارٹی اپنے کم از کم تین بڑے اعلانات یعنی پنجاب میں تحریک چلانے، آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کو ضمنی انتخابات کے ذریعے قومی اسمبلی میں لانے اور تحریک انصاف سے ہٹ کر اپنی پچ بنانے کے فیصلے پر عمل نہیں کر سکی۔ وجوہات درست صورتحال کا ادارک کرنا، یا پارٹی کی قیادت کا ملک سے غیر حاضر ہونا یا پارلیمنٹ میں موجود پارٹی کی قیادت کی صلاحیت ہو سکتی ہے۔ 

اس پس منظر میں کہا جاسکتا ہے کہ عملی طور پر پیپلزپارٹی شروعاتی ہی بھرپور اپوزیشن کا کردار ادا کرنے میں ناکام رہی۔ اور یہ صورتحال پورے چار سال تک جاری رہی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آج کے حالات میں جب پتے اس کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں پیپلزپارٹی اس کمی کو کس طرح سے پورا کرتی ہے؟

 Sohail Sangi Column .. Nai Baat July 25, 2017

Thursday, July 20, 2017

پیپلزپارٹی کے اپنے اور پرائے لوگ

آصف علی زرداری کے تین دوستوں کی پراسرار گمشدگی

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 


حکومت سندھ اور پیپلزپارٹی نے آصف زرداری کے تین ساتھیوں کی پراسرار گمشدگی پر سخت غصے کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کے مختلف رہنماؤں اور وزراء کے بیانات میڈیا میں آرہے تھے۔ لیکن بدھ کے روز وزیراعلیٰ سندھ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو اسمبلی کے فلور پر آکر’ ’پالیسی‘‘ بیان دینا پڑا۔ ان کے اس بیان کی اہمیت نہ صرف یہ ہے کہ وزیراعلیٰ نے اسمبلی میں آکر یہ بیان دیا ہے۔ کیونکہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم شازر نازر ہی اس طرح کے بیانات دیتے ہیں۔ لہٰذا ان بیانات کو سیاسی طور پر پالیسی بیان کا درجہ دیا جاتا ہے۔ ان کے بیان کا متن بھی اتنی ہی اہمیت کا حامل ہے۔ آٹھ اپریل کو مختلف علاقوں سے لاپتہ ہونے والے ان تین افراد کا تاحال کسی بھی سرکاری ادارے یا غیر سرکاری گروہ نے قبول داری نہیں کی ہے۔ 

سید مراد علی شاہ نے اسمبلی میں آصف زرادری کے تین دوستوں کی گمشدگی کی مذمت کی اور پولیس کو ہدایت کی کہ وہ ان کو بازیاب کرانے کے لئے تمام وسائل استعمال کرے۔ غلام قادر مری ، نواب لغاری اور اشفاق لغاری کا براہ راست پارٹی سے کوئی تعلق نہیں۔ حکومت سندھ کا خواہ عام خیال یہ ہے کہ آصف زرداری کی زمینوں اور دیگر کاروبار سے متعلق ان تین افراد کو وفاقی ادارے نے اٹھایا ہے۔ اسی روز قومی اسمبلی اور سنیٹ میں پیپلز پارٹی نے ان گمشدگیوں کے معاملے کو بھرپور طریقے سے اٹھایا۔ اور دونوں ایوانوں میں واک آؤٹ کیا۔ 

 قومی اسمبلی اور سنیٹ میں سرکاری طور پر بتایا گیا کہ ان گمشدگیوں یا گرفتاریوں میں وفاقی وزارت داخلہ یا رینجرز ملوث نہیں ۔ جب کہ پیپلزپارٹی اس ضمن میں وفاقی وزیر داخلہ کو ملوث کر رہی ہے اور انہی کو تنقید کا نشانہ بنائے ہوئے ہے،۔


وزیراعلیٰ سندھ نے اسمبلی کو ان گرفتاریوں کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا کہ غلام قادر مری کو جامشورو ٹول پلازا کے پاس ایک ویگو گاڑی اور ایک ڈبل کیبن میں سوار افراد نے اٹھایا، ان لوگوں کے ہاتھ میں واکی ٹاکی بھی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ان گرفتاریوں سے متعلق تمام شواہد موجود ہیں۔  
پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت سے کاروباری تعلق رکھنے والے تین افراد کی گرفتاری سے متعلق یقیننا حکومت سندھ اور خود آصف علی زرادری نے اداروں کی سطح پر خواہ ذاتی سطح پر معلومات کی ہوگی، تحقیقات بھی کی ہوگی۔ اور اس معلومات اور تحقیقات کے بعد ہی وزیراعلیٰ سندھ نے اسمبلی میں آکر یہ بیان دیا ہے۔ ان کے بیان کے بعد پارٹی کے مختلف اراکین اسمبلی نے بھی اس بحث میں حصہ لیا۔ اور وفاقی حکومت اور وزیر داخلہ پر تنقید کی۔ 

 پیپلزپارٹی کا سندھ اسمبلی خواہ قومی اسمبلی میں یہ موقف ہے کہ یہ گرفتاریاں وفاقی ادارے نے کی ہیں لہٰذا یہ ناممکن ہے کہ وزیر داخلہ اس سے لاعلم ہوں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسی بھی شہری کو خواہ وہ کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتا ہو، یا کسی بھی الزام کے تحت گرفتار ہو، ان کو گرفتاری کے 24 گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش کیا جانا چاہئے، یہ اس شکص کا قانونی حق ہے جس سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ اصولی اورّ ئینی طور پر یہ بات درست بھی ہے۔ 

 سندھ اسمبلی میں اتنی مضبوطی کے ساتھ موقف سامنے آنے کے بعد یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وزیر داخلہ اس ضمن میں نہ صرف اپنی بلکہ اپنی وزارت کی سرکاری طور پر پوزیشن واضح کریں۔ کیونکہ ایسا ممکن نہیں کہ کسی بھی شخص کی گرفتاری ہو اور وزارت داخلہ اس سے لاعلم ہو۔


سندھ میں ان’’ ہائی پروفائل‘‘ گمشدگیوں پر ملے جلے تاثر کا اظہار کیا جارہا ہے۔ اس بات پر تمام حلقے متفق ہیں کہ چاہے کسی بھی کسی بھی سخت ترین جرم کے تحت گرفاتری ہو، اس کی گرفتاری ظاہر کردینی چاہئے، دوئم یہ کہ گرفتار شدہ کو مقررہ وقت میں عدالت میں پیش کرنا چاہئے۔ 

 یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ گمشدگیاں یا گرفتاریاں سیاسی دباؤ کے لئے ہیں یا احتساب کے عمل کا حصہ ہیں۔ کیونکہ ان افراد کا تعلق آصف علی زرادری کے کاروبار سے متعلق ہے، اس لئے ممکن ہے کہ حکومت یا اس کا کوئی ادارہ زرداری پرسیاسی دباؤ ڈالنا چاہتا ہو۔ اگر اس کو احتساب کے زمرے میں شمار کیا جائے تو بھی براہ راست اس زمرے میں نہیں لایا جاسکتا۔  

اس امکان کو خارج از امکان نہیں قرار دیا جاسکتا کہ گرفتار شدگان کو تحویل میں لے کر کے ان سے زارداری صاحب کے املاک و کاروبار سے متعلق کوئی معلومات کٹھی کی جارہی ہے جس کو آنے والے وقتوں میں حکومت یا کوئی ادارہ استعمال کرے۔ اگر دو منٹ کے لئے یہ بات مان بھی لی جائے کہ حکومت یا اس کا کوئی ادارہ زرداری صاحب کی املاک یا کاروبار سے متعلق تفصیلات اور اعداد و شمار جمع کرنا چاہتا ہے، اس میں ناراض ہونے کی کیا بات ہے؟ یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ ان کے کاروبار و املاک قانونی ہی ہونگی۔


پراسرار گمشدگیوں کا یہ کوئی پہلا موقعہ نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ پیپلزپارٹی کو پہلی مرتبہ اس کی تپش محسوس رہی ہے کہ ان کی قیادت کے قریبی لوگوں پر ہاتھ ڈالا گیا ہے۔ جس پر پارٹی قیادت برہمی کا اظہار کر کے سنیٹ اور قومی اسمبلی میں احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کئے ہوئے ہے۔ 

دوسری طرف سندھ حکومت بھی بھرپور طریقے سے احتجاج کررہی ہے۔ پیپلزپارٹی سندھ کی نمائندہ جماعت ہے جس کو سندھ کے لوگوں نے ووٹ دیئے ہیں۔ لہٰذا اس صوبے کے ہر باشندے کے بارے میں سندھ حکومت کو اتنی ہی فکر کرنے کی ضرورت ہے جتنی کہ غلام قادر مری، یا نواب لغاری کی پراسرار گمشدگی کے بارے میں ہے۔ 

ماضی میں کم از کم ڈیڑھ درجن نوجوانوں کو پراسرار طور پر اٹھایا گیا تھ اور بعد میں ان کی مسخ شدہ لاشیں ملی تھی۔ پیپلزپارٹی یا سندھ حکومت نے کبھی بھی اپنے غصے ، برہمی کا اظہار نہیں کیا۔ پیپلزپارٹی کا یہ موقف سیاسی ہے کہ اب جو گرفتار ہوئے ہیں وہ ’’اپنے لوگ‘‘ ہیں اور پہلے جو گرفتار ہوئے تھے وہ اپنے نہیں تھے۔ پارٹی کو اپنے اور پرائے کا یہ فرق ختم کرنا پڑے گا۔

سول ملٹری تعلقات میں کشیدگی کی لہر


میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی ایک بار پھر سول ملٹری تعلقات میں کشیدگی کی لہر محسوس کی جارہی ہے۔جس کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ ابھی حکومت پاناما لیکس کے بحران سے خود کو نکال ہی نہیں پائی تھی کہ ایک اور بحران پیدا ہو گیا ہے۔ گزشتہ سال ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی خبر ڈان اخبار نے شایع کی جس پر عسکری حلقوں نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ جس کے نیتجے میں حکومت نے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں تحقیقات کے لئے کمیشن بنایا۔ اس کمیٹی میں سول اور عسکری خفیہ اداروں ک کے نمائندے بھی شامل تھے۔ تقریبا چھ ماہ کے بعد وزیراعظم کو کمیٹی نے وزارت داخلہ کے ذریعے رپورٹ پیش کی۔ اس رپورٹ کے بعض حصوں پر وزیراعظم نے فوری عمل درآمد کے احکامات جاری کئے۔ ان احکامات کی خبر میڈیا میں پہنچتے ہی ایک اور بحران کھڑا ہو گیا۔ اس میں اضافہ عسکری ادارے کی میڈیا ونگ کے ٹوئٹ نے کیا۔ 

چوہدری نثار علی خان جن کے لئے یہ کہا جاتا ہے کہ ان کا موقف وزیراعظم نواز شریف سے مختلف ہوتا ہے ان کو بھی کہنا پڑا کہ ٹوئٹس کے ذریعے ادارے ایک دوسرے سے ہم کلام نہیں ہو سکتے وغیرہ۔ 

اس بحران کے کئی پہلو ہیں۔ شایع ہونے والی خبر غلط تھی؟ یا اس کا شایع ہونا غلط

 تھا؟ اور حکومتی اداروں خاص طور پر وزارت اطلاعات کے ذمہ داروں کو اس خبر کو رکوانا چاہئے تھے؟ جب یہ خبر شایع ہوئی تب سے اس معاملے کا ان خبروں کی روشنی میں ہی دیکھا جائے جو اسس اشو پر خبریں شایع ہوئی ہیں تو صورتحال مختلف بنتی ہے۔ اگر خبر غلط تھی تو اس کی تردید ہی کافی تھی جو کہ متعلقہ اداروں سے کی گئی۔اگر خبر کی اشاعت کو ملکی سلامتی اور اس طرح کے معاملات کے ساتھ جوڑا جائے تو پھر اس کا سول عدالتوں میں مقدمہ ہو سکتا تھا۔

 جہاں تک خبر کو رکوانے کی بات ہے، کیا آج کی ٹیکنالوجی کے دور میں خبر کو
 رکوانا ناممکن سی بات ہے۔ حکومت نے اس خبر پر عسکری اداروں کے اعتراض پر اپنے وفاقی وزیر کو ہٹادیا۔ کمیٹی کی رپورٹ کے بعدپرنسپل انفارمیشن آفیسر راؤ تحسین کو اس الزام میں ہٹایا گیا ۔ 

سوال یہ ہے کہ کیا راؤ تحسین اور سابق وفاقی وزیر پرویز رشید یہ خبر رکوا سکتے تھے؟ یہ سب کچھ کسی ایسے دور میں ممکن تھا جب پریس پر کنٹرول تھا، پریس ایڈائیس جاری پوتی تھی۔ کیا شایع ہونا چہائے اور کیا شایع نہ ہونا چاہئے اس کا فیصلہ کوئی بھی چھوٹا بڑا اہلکار کر لیتا تھا۔ یہ سب کچھ ایوب خان اور جنرل ضیا کے دور میں اور کسی حد تک بھٹو کے دور میں بھی ہوتا رہا۔ لیکن تب کی دنیا مختلف تھی۔ نہ اتنی بڑی میڈیا ملک کے خواہ باہر تھی اور نہ اس طرح کی سیاسی، معاشی صورتحال تھی۔ وہ سرد جنگ کا دور تھا۔ انسانی حقوق، شہری آزادیاں اور جمہوریت ان تمام اعلیٰ انسانی اقدار کی وہ اہمیت نہیں ۔ 

اب ان اعلیٰ انسانی اقدار کی دنیا بھر میں مضبوط تحریکیں ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ان اقدار کی تعریف اور دارہ میں بھی توسیع ہوگئی ہے۔ لہٰذا بہت ساری چیزیں کسی حکومت، ادارے یا فرد کی شدید خواہش کے باوجود نہیں ہو سکتیں۔ ہمیں اس حیقیقت کو ماننا پڑے گا کہ آج ایک مختلف دور ہے اور اس کے تقاضے بھی مختلف ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی سمجھنا پڑے گا کہ ریاست کے بنیادی رکن تین ہوتے ہیں۔ مقننہ، حکومت اور عدلیہ۔ باقی تمام ادارے ریاستی ادارے نہیں بلکہ حکومتی ادارے ہوتے ہیں۔ یا ان تین اداروں کے ماتحت ہوتے ہیں۔ یہ بہت اہم نکتہ ہے جس کو ہماری سیاست اور سوچ میں ہم کئی برسوں سے حساب میں ہی نہیں لاتے۔ لہٰذا ہم ریاست کے بنیادی ٹصور کو ہی غلط سمجھتے رہے۔ اور اس کے نقصانات بھی اٹھاتے رہے۔ یہ صحیح ہے کہ ملک کے اہم اداروں کے درمیاں ہم آہنگی اور مربوط روابط حکومتی پالیسیوں اور مجموعی طور پر ترقی کا باعث بنتے ہیں۔ لیکن اس کی ذمہ داری بھی تمام اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ 


ہر ہوشمند شہری خواہ وہ کسی بھی عہدے یا مقام پر بیٹھا ہو سمجھ سکتا ہے کہ آج جب ہم آئندہ انتخابات سے چند ماہ کے فاصلے پر کھڑے ہیں۔ تب کوئی ایسی صورتحال نہیں بن سکتی کہ کسی طرح سے نواز شریف یا اس کی حکومت کو گھر بھیج دیا جائے۔ یہ صحیح ہے کہ عمران خان کا یہ شدید مطالبہ ہے۔ پیپلپزپارٹی بھی پاناما لیکس کے بعد یہ مطالبہ کر رہے ہیں۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ یہ صرف ان کا مطالبہ ہے۔ دراصل وقت سے پہلے وہ بھی ایسا نہیں چاہتے۔ ممکن ہے کہ شروع کے دنوں میں عمران خان یہ بات دل سے چاہ رہے ہوں۔ اب جو بھی مطلابے ہو رہے ہیں اور سیاسی ایندھن جلایاجارہا ہے یا جمع کیا جارہا ہے وہ دراصل آئندہ انتخابات کے حوالے سے ہے جن کو 2018 میں ہی ہونا ہے۔ 


سیاسی طور پر یہ بات اس وجہ سے بھی کہی جاسکتی ہے کہ عمران خان نے 2013 کے انتخابات کے بعد پورا ور لگالیا کہ نواز شریف کی حکومت ختم ہو، وہ نہیں ہوسکا۔ اب لوگ کسی بڑے احتجاج کے موڈ میں نہیں۔ خاص طور پر عمران خان کی اپیل پر اور ان کے اس ایک نکاتی ایجندا پر۔ 

عوامی سطح پر بات کی جائے تو لوگ نواز شریف کے کچھ خواب کچھ وعدے خرید کرنے کے لئے تیار ہیں اور ایک وقت دینا چاہتے ہیں۔ لوگ کوئی اس طرح کا بہانہ نہیں چاہتے کہ حکومت کو مدت پوری نہیں کرنے دی گئی۔ پیپلزپارٹی میں کرشماتی قیادت نہیں۔ وہ احتجاجی سیاست اس طرح سے نہیں کرنا چاہتی۔ اس میں اس طرح کے احتجاج کی طاقت ہے جو ابھی سندھ میں کر رہی ہے۔ لیکن اس کو ملک گیر شکل نہیں دے سکتی۔ سندھ میں اس احتجاج کے پیچھے اس صوبے کی اپنی شکایات ہیں۔ جس کو لے کر پیپلزپارٹی صرف ایک صوبے میں ہی احتجاج کررہی ہے۔
کچھ فنی اور سیاسی معاملات بھی اتکے ہوئے ہیں۔ مثلا انتخابی اصلاحات۔ یہ قانونی مسودہ پارلیمنٹ کے پاس زیرغور ہے۔ ان اصلاحات کے بغیر انتخابات کرنا ایک بار پھر متنازع ہو جائیں گے۔ الیکشن کمیشن یہ بھی چاہتی ہے کہ نئی مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندی کے تحت انتخابات ہوں۔ یہ صرف الیکشن کمیشن کی خواہش نہیں بلکہ عام لوگوں کی کواہش بھی ہے۔ کیونکہ یہ حلقہ بندیاں نہ صرف از کار رفتہ ہو گئی ہیں بلکہ ان پر تقریبا تمام سیاسی جماعتوں کو اعتراضات ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بیس سال کے عرصے میں بڑے پیمانے پر ڈیموگرافی میں بھی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔لہٰذا پرانی حلقہ بندیاں لوگوں کی امیدوں اور خواہشات اور رائے کی نمائندگی نہیں کرتی۔
حکمران جماعت نے ڈان لیکس کا معاملہ نمٹانے کے لئے عسکری حلقوں سے بات چیت کرنے اور مطمئن کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے فی الحال یہ معاملہ ٹھنڈا ہو جائے گا۔ یہ مصلحت درست سمجھی جائے گی۔ اس لئے کہتے ہیں کہ سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی۔
یہ درست ہے کہ ہمارے حکمران اپنے مالی معاملات شفاف رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔ یعنی ان حضرات نے اپنے اختیارات سے تجاوز کر کے یہ دولت بنائی وغیرہ۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ کوئی اور ادارہ اپنے اختیارات سے تجاوز کر کے ان کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرے۔ اصل میں یہ پاکستان کا المیہ رہا ہے کہ ادارے اپنے اختیارات میں رہ کر کام نہیں کرتے۔ یہیں سے گڑبڑ ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ یہ لکیر کھینچنی چاہئے اور واضح کردینی چاہئے کہ کس کے کیا اختیارت ہیں؟ 


 سیاسی حلقوں کو اپنے سیاسی یا ذاتی اور وقتی مفادات کو بالائے تاک
رکھ کرہی اس ضمن میں پہلکاری کرنی پڑے گی اور اپنا موقف بھرپور طریقے سے رکھنا پڑے گا۔ اس ضمن میں پیپلزپارٹی کا حالیہ موقف قابل تحسین ہے۔ اب نواز لیگ اور دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی اس کا مثبت جواب دینا چاہئے۔ پارلیمنٹ کا رول بڑھانا چاہئے۔

پیپلزپارٹی اور نواز لیگ دباؤ میں

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
April 11 Nai Baat 

پیپلزپارٹی اور نواز لیگ دباؤ میں 
پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے پارٹی کے چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر یہ عندیہ دیا تھا کہ ان کی اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان ان بن ختم ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے اکثریت نہ ہونے کے باوجود انہوں نے سنیٹ کا چیئرمین اپنی پارٹی کا بنایا تھا، اسی طرح سے وہ اپنا وزیراعظم بنائیں گے۔ 
اس سے پہلے کے واقعات میں کرپشن کے الزامات میں پھنسے ہوئے پیپلزپارٹی کے بعض اہم رہنماؤں سابق وزیر اطلاعات شرجیل میمن، سابق وزیر پیٹرولیم، سابق وزیر مذہبی امور ڈا کٹر عاصم حسین، حامد سعید کاظمی اور دیگران کو رلیف ملا۔ اسی طرح سے ایک ماڈل ایان علی کو منی لانڈرنگ مقدمہ میں گرفتار کیا گیا۔ اس منی لانڈرنگ کا معاملہ بھی آصف علی زرداری کے ساتھ جوڑا جارہا ہے۔ ایان علی نے تقریبا دو سال اور حامد سعید کاظمی نے 18 ماہ
 قید کاٹی۔ شرجیل میمن دو سال تک خود ساختہ جلاوطنی کاٹ کر آئے۔

پیپلزپارٹی کی سیاست کچھ اس طرح سے رہی ہے ۔ کبھی لگتا ہے کہ وہ اسٹبلشمنٹ

 کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے اور کبھی اس کے برعکس معاملہ لگتا ہے۔

دوسری طرف پتہ چلا ہے کہ آصف علی زرداری کے تین قریبی لوگ نواب لغاری، غلام قادر مری اور اشفاق لغاری پر اسرار طور پر لاپتہ ہو گئے ہیں۔ نواب لغاری، اشفاق لغاری کا تعلق آصف زرداری کے بزنیس پارٹر انور مجید کی کمپنی سے بتایا جاتا ہے۔ غلام قادر مری زرداری صاحب کی زمینوں کے منیجر سمجھے جاتے ہیں۔ انہیں سندھ کے مختلف علاقوں میں سے بعض نامعلوم افراد نے ا ٹھالیا ہے۔ نامعلوم افراد سے مراد خفیہ ادارے ہی سمجھا جاتا ہے۔ سابق وزراء اسمبلی میں تھے، ان کی پارٹی میں ایک حثیت تھی، لہٰذا اس معاملے کو پارٹی سیاسی رنگ دے کر اٹھا رہی تھی، حال ہی میں گرفتار ہونے والے تینوں افراد کی پارٹی میں کوئی پوزیشن نہیں۔ 


 یہ گرفتاریاں آصف زرداری کے لئے نئی پریشانیوں کا باعث بن سکتی ہیں۔
آئی سندھ پولیس کے تقرر کا معاملہ ابھی وفاقی حکومت کے ساتھ اٹکا ہوا ہے، فی الحال سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کا نوٹیفکیشن مسترد کردیا ہے۔ اس معاملے کو پیپلزپارٹی صوبائی اختیارات میں مداخلت سے تعبیر کر رہی ہے۔ کیونکہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد یہ اختیار صوبائی دائرہ اختیار میں چلا گیا ہے۔


یہ نئے معاملات بتاتے ہیں کہ پیپلزپارٹی کے لئے ایک بار پھر مشکلات شروع

 ہوری ہیں۔ زرداری صاحب نے بھٹو کی برسی کے موقع پر اعلان کیا کہ وہ انتخابات کے لئے تیار ہیں۔ اور انہوں نے پنجاب میں مختلف مقامات پر جلسے کرنے اور بھرپور انتخابی مہم چلانے کا بھی اشارہ دیا۔ 

اس تقریر میں بعض امور قابل غور ہیں اول یہ کہ انہوں نے انتخابات کے عمل یا اس دوران ہونے والے اتحادوں وغیرہ کا ذکر نہیں کیا اور یہ آپشن اوپن رکھا۔اور پارٹی اکثریت سے جیتے گی وغیرہ کا بھی حوالہ نہیں دیا۔


دوئم یہ کہ انہوں نے انتخابات کے بعد کی حکمت عملی کا اظہار کیا ہے، ان کے الفاظ کی اگر مناسب حوالے سے تشریح کی جائے تو یہ مطلب نکلتا ہے کہ پارٹی اکثریے سے نہیں جیت رہی ہے۔ اور اقلیت میں ہونے کے باوجود ان کی پارٹی وزیراعظم بنا لے گی۔


اس کا مطلب یہ بھی نکلتا ہے کہ نواز شریف اور عمران خان بھی واضح اکثریت سے نہیں جیت پائیں گے کہ وہ اکیلے سر حکومت بنا لیں۔ یعنی ’’ ہنگ پارلیمنٹ‘‘ آئے گی۔ جس میں دو سے زائد سیاسی جماعتیں حکومت بنائیں گی۔
یہ درست ہے کہ بلوچستان، فاٹا کے اراکین کسی بھی جماعت کے ساتھ حکومت بنانے کے لئے تیار ہو سکتے ہیں۔ 


سندھ میں پیپلزپارٹی خود کو خطرے میں نہیں سمجھتی۔ اور مزید یہ کہ وہ کسی بھی برانڈ کی ایم کیو ایم سے مخلوط حکومت بنا لے گی۔ ایم کیو ایم کی زیادہ دلچسپی وفاقی حکومت میں نہیں بلکہ صوبائی حکومت میں رہتی ہے۔ چونکہ سندھ میں پیپلزپارٹی ہی حکومت بنائے گی لہٰذا پیپلزپارٹی کو اگر وفاق میں حکومت بنانے کے لئے ووٹ کی ضرورت پڑی تو ہر برانڈ کی ایم کیو ایم اس کا ساتھ دے گی۔


معاملہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کا ہے۔پیپلزپارٹی کا خیال ہے کہ خیبرپختونخوا میں ان کے روایتی اتحادی جے یو آئی (ف) اور عوامی نیشنل پارٹی اس مربتہ زیادہ نشستیں لیں گی۔ یہ فارمولا سمجھ میں بھی آتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت تحریک انصاف کو ہی دی جائے، اور قومی اسمبلی کی زیادہ نشستیں پیپلزپارٹی کے اتحادیوں کو ملیں۔ 


پنجاب میں نواز لیگ، تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے درمیان سہ فریقی مقابل ہوگا۔ پیپلزپارٹی اگر پنجاب میں چالیس کے لگ بھگ نشستیں لے لیتی ہے تو پھر زرداری فارمولا عمل میں آتا ہوا نظر آتا ہے۔


لیکن پیپلزپارٹی پر نیا دباؤ کچھ اور کہانی کی طرف جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے آرمی چیف سے ملاقات کر کے قوم کو یہ خوشخبری دی تھی کی مسلح افواج جمہوریت کے ساتھ ہیں۔


ابھی پاناما لیکس مقدمہ کے فیصلے کا شدت سے کیا جارہا ہے۔ عسکری حلقوں کی جانب سے یہ بیان آیا ہے کہ پانامالیکس کے کیس سے متعلق منصفانہ فیصلے کا انتطار ہے۔ پنجاب کے وزیر قانون ثناء اللہ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کو پاناما لیکس کے کیس میں ہٹایا گیا تو عوام مداخلت کریں گے۔ یہ بیان بھی خاصی صورتحال کو عیاں کر رہا ہے۔ گزشتہ روز آصف علی زرداری یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی پارٹی انتخابات کے لئے تیار ہے۔


بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ پاناما کیس کے فیصلے کے نتیجے میں انتخابات وقت سے پہلے بھی ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں نواز لیگ اور پیپلزپارٹی دونوں پر دباؤ کی توضیح اور تشریح یہ بنے گی کہ ان پارٹیوں کو ممکن ہے کہ تنگ گلی کی طرف دھکیلا جارپا ہو۔ بہر حال جس طرح سے پاک افواج کو پاناما مقدمے کا انتظار ہے اسی طرح سے سیاسی جماعتوں اور اس ملک کے عوام کو بھی اس فیصلے کا انتظار ہے۔

نواز لیگ سندھ کے بارے میں کتنی سنجیدہ ہے؟


نواز لیگ سندھ کے بارے میں کتنی سنجیدہ ہے؟
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی

وزیراعظم نواز شریف نے دس روز کے دوران سندھ کے دو دورے کئے ہیں۔پہلے وہ ٹھٹہ کے شیرازی برادران کی دعوت پر ٹھٹہ گئے اور بعد میں رواں ہفتے کراچی میں گورنرہاؤس میں پارٹی کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کی۔ وزیراعظم کے ان دوروں کو سیاسی دورے قرار دیا جارہا ہے۔
2013 کے عام انتخابات کے بعد پہلی مرتبہ انہوں نے سندھ کے دو مقامات کا سیاسی دورہ کیا ہے۔ ورنہ چار سال کے دوران وہ جب بھی سندھ آئے تو انتظامی حوالے سے آئے۔ ان کا زیادہ تر آنا کراچی آپریشن کے حوالے سے ہی ہوا۔ سندھ میں میاں صاحب کے حالیہ سیاسی دوروں پر یہی کہا جارہا ہے’’ کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔ ‘‘
2013 کے انتخابات کے موقع پر انہوں نے پیر پاگارا کی قیادت میں قوم پرستوں کے ساتھ مل کر پیپلزپارٹی کا مقابلہ تو نہیں کیا تھا لیکن اس کو تنگ کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن یہ بے دلی کے ساتھ کوشش ناتمام تھی۔ جس کا کوئی سیاسی یا انتخابی نتائج پر اثر نہیں ہوا۔
بعد میں صورتحال یہ بنی کہ سندھ میں پیپلزپارٹی بلا شرکت غیرے سندھ میں بادشاہ بنی رہی۔ نہ اس کی کوئی مخالفت کرنے والا تھا اور نہ ہی کوئی چیلینج کرنے والا۔ کسی حد تک عدلیہ اور رینجرز کے اقدامات چیک اینڈ بیلنس کا کام کرتے رہے۔
ان چار برسوں کے دوران کئی مواقع آئے جب نواز لیگ سندھ میں آکر سیاست کر سکتی تھی اور اپنے لئے جگہ پیدا کرسکتی تھی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کے درمیان ایک غیر تحریری معاہدہ ہو چکا تھا کہ پنجاب میں پیپلزپارٹی کوئی گڑبڑ نہیں کرے اور نواز لیگ سندھ کا رخ نہیں کرے گی۔ یوں نواز لیگ آئینی مدت مکمل کرلے گی۔
عمران خان کی سیاسی اسٹیج پر داخلا نے صورتحال کو پنجاب میں اور پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کے تعلقات پر اثر ڈالا۔ اس کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت اور اسٹبلشمنٹ کی جانب سے سندھ میں پیپلزپارٹی کے بعض رہنماؤں اور پارٹی کے قریبی بیوروکریٹس کے خلاف کرپشن اور دہشتگردوں کی مالی اعانت کے الزامات کے تحت سخت دباؤ پڑا۔ جس میں نواز حکومت پیپلزپارٹی کی کوئی مدد نہیں کر سکی۔ کیونکہ وہ خود سخت دباؤ میں اور بے بس محسوس کر رہی تھی۔
نواز لیگ نے بلدیاتی انتخابات میں بھی سندھ میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن اور اس کے چار سے زائد دھڑوں میں تقسیم ہو جانے کی وجہ سے پیپلزپارٹی اس کی مخالفت اور دباؤ سے باہر آگئی۔ فنکشنل لیگ اپنے گھر کو سنبھال نہ سکی۔ نتیجے میں اس کے بعض اراکین اسمبلی تک پیپلزپارٹی میں شامل ہو گئے۔ یوں سندھ میں ایک پارٹی کا شو چلنے لگا۔
اب انتخابات تقریبا ایک سال کے فاصلے پر ہیں۔ پیپلزپارٹی میں سندھ کے مزید وڈیروں کی آمد شروع ہوگئی ہے، پارٹی بھرپور کوشش کر رہی ہے کہ کوئی بھی بااثر شخصیت پارٹی سے باہر نہ رہنے پائے۔ اگرچہ فی الحال ایسا کرنے میں بڑی حد تک پارٹی کامیاب نظر آتی ہے۔

لیکن ان سب بااثر وڈیروں کی ایک ہی پلیٹ فارم پر موجودگی کی وجہ سے پرانے سیاسی توازن میں تبدیلی ظہور پذیر ہورہی ہے۔ نئے آنے والے اقتدار اور اختیار میں حصہ چاہتے ہیں۔ جن کو اکموڈیٹ کرنے سے لازمی طورپرانے بھوتاروں کی صحت پر اثر پڑے گا۔
زشتہ چار سال کے دوران پارٹی کے اندر بعض لابیاں مضبوط تو بعض کمزور ہوئی ہیں۔نئے آنے والوں نے ان لابیوں کے درمیان سرد جنگ کو تیز کردیا ہے۔ مزید یہ کہ اضلاع میں وڈیروں کے متحارب گروپ ہیں جو کہ کسی ایک پلیٹ فارم پر نہیں بیٹھتے۔ اس سے پہلے اقتدار میں تبدیلی کی کوئی صورت نہیں بن رہی تھی۔ تو یہ سب گروپ پارٹی کے اندر خاموش بیٹھے تھے اور اقتداری پارٹی کے اندر ہونے کے ناطے ان کو جو تھوڑا بہت مل رہا تھا اس پر اکتفا کئے ہوئے تھے۔ لیکن اب میاں نوز شریف نے سندھ کا رخ کیا ہے تو ایسے لوگوں کے لئے ایک راہ نکل آئی ہے۔
وڈیرے کو اقتدار اور اختیار چاہئے۔ گورنر سندھ جسٹس سعیدالزمان صدیقی کے انتقال کے بعد بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم نواز شریف نے محمد زبیر کو صوبے کا نیا گورنر مقرر کیا۔ ان کے تقرر سے ہی یہ اشارہ مل گیا تھا کہ یا گورنر پارٹی کے لئے سیاسی کردار ادا کرے گا۔ گورنر اگرچہ وفاق کا نمائندہ ہوتا ہے لیکن ماضی میں سندھ اور پنجاب دونوں صوبوں میں اکثر اوقات گورنر کا سیاسی کردار رہا ہے۔
پیپلزپارٹی مرکز میں دور حکومت کے دوران پنجاب کے گورنرسلمان تاثیر سے سیاسی کردار ادا کراتی رہی۔ اور اسکے ذریعے پارٹی کی تنظیم اور پارٹی کے اثر رسوخ کو برقرار رکھنے کے لئے کام لیتی رہی۔ سندھ میں طویل مدت تک گورنر کے عہدے پر فائز رہنے والے عشرت العباد مکمل طور پر ایم کیو ایم کے ہی نمائندے رہے۔ جس کو بعض انتظامی اختیارات بھی حاصل تھے۔ گورنر کے عہدے کی سیاسی مقاصد یا پارٹی کی تنظیم کے لئے استعمال کرنا آئینی طور پر درست نہیں لیکن اقتدار کی یہ چمک دکھا کر بعض بااثر لوگوں کو نواز لیگ اپنی طرف متوجہ کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں پیر پاگارا نے بھی گورنر سندھ سے ملاقات کی تھی۔
سوال یہ ہے کہ نواز لیگ کو سندھ میں علامتی طور پر دو چار اسمبلی کی نشستیں چاہئیں یا وہ اس حساس صوبے میں بطور پارٹی آنا چاہ رہی ہے؟نواز لیگ کے لئے ضروری ہے کہ خود کو ملک گیر پارٹی دکھانے کے لئے سندھ میں علامتی نمائندگی ہی سہی، اس کے ذریعے اپنا وجود دکھائے۔ نواز لیگ پر یہ الزام عائد ہوتا رہا ہے کہ وہ سندھ میں سیاسی فریق بننے کے لئے تیار نہیں۔
ماضی میں سندھ سے نواز لیگ میں شمولیت کرنے والوں کا کوئی زیادہ اچھا تجربہ نہیں رہا۔ 2013 کے انتخابات میں ممتاز بھٹو، لیاقت جتوئی، شیرازی برادران، ارباب، غلام مصطفیٰ جتوئی کا خاندان، عبدالحکیم بلوچ، شفیع محمد جاموٹ وغیرہ پارٹی میں آئے تھے۔ لیکن ان کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں کیا گیا۔ نتیجے میں ان میں سے بیشتر لوگ پارٹی چھوڑ چکے ہیں یا غیر فعال ہو چکے ہیں۔ پارٹی کے پرانے رہنما سید غوث علی شاہ کو میاں صاحب کسی حساب میں بھی نہیں لے آئے۔
جب نواز لیگ قومی یا ملک گیر پارٹی کا ہونے کا دعوا کرتی ہے تو اس کو دیگر صوبوں کے ساتھ اسی طرح کا سلوک کرنا چاہئے جس طرح کا سلوک سیاسی، ترقیاتی اور دیگر حوالوں سے پنجاب کے ساتھ کرتی ہے۔ سندھ بھی ملک کا سی طرح سے حصہ ہے۔ یہاں کے لوگ بھی متبادل چاہتے ہیں۔ حکومت پر چیک اینڈ بیلینس چاہتے ہیں۔
وفاقی حکومت کی اور بڑے صوبے سے تعلق رکھنے والی پارٹی کی وجہ سے وہ سندھ میں زیادہ پرکشش بن سکتی ہے اور فیصلہ سازی پر اثرانداز بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ سندھ میں پارٹی کو بطور پارٹی کے منظم کیا جائے اور اسی طرح سے رکھا جائے۔ سندھ کے لوگوں بلکہ خود نواز لیگ میں شامل لوگوں کو بھی یہ شکایت رہی ہے کہ ان کا رویہ سندھ کی طرف مساویانہ نہیں۔
نواز لیگ کی حالیہ سرگرمیوں کی وجہ سے پیپلزپارٹی خود کے لئے خطرہ سمجھتی ہے۔ اور نہیں تو کوئی اور میدان میں موجود تو ہوگا۔ لوگوں کے لئے کوئی دوسری چوائیس تو ہوگی۔نواز لیگ کو پیپلزپارٹی سے سبق سیکھنا چاہئے کہ پنجاب میں انتخابات میں شکست کے باوجود اس نے وہاں پر اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھی اور تنظیم سازی کے مختلف تجربے کرتی رہی۔ مطلب نواز لیگ کو سندھ میں زیادہ سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

ہمارے ہاں یک طرفہ تاریخ کا جھکاؤ زیادہ رہا ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ سویلین اختیار کو مزید کمزور اور عسکری اختیار کو مضبوط کیا ہے۔
ملک میں کوئی ایسی سیاسی جماعت نہیں جو عملا عسکری بالادستی کو تسلیم نہ کرتی ہو۔
سیاسی جماعتیں ایک صفحے پر ہیں مگر یہ صفحہ سیاسی نہیں

نئے اضلاع یا نئی جاگیریں

March 19


نئے اضلاع یا نئی جاگیریں
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
سندھ میں ایک بار پھر نئے اضلاع کی تشکیل کی جارہی ہے۔ اس ضمن میں حکومت نے اپنی تجاویز کو آخری شکل دے دی ہے، جس کا اعلان کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے۔ عام انتخابات میں ابھی ایک سال باقی ہے لہٰذا اس حکومتی اقدام کو ان انتخابات سے علحدہ نہیں دیکھا جاسکتا۔ لگتا ہے کہ سندھ میں حکمرانوں نے یہ انتخابات جیتنے کے تمام بندوبست کر لئے ہیں۔
نئے اضلاع کا قیام بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت صوبے کے مختلف اضلاع کو تقسیم کر کے نئے ضلعے بنائے جارہے ہیں۔اس تجویز کے مطابق سانگھڑ کو تین اضلاع میں تقسیم کر کے کھپرو کو الگ ضلع بنایا جارہا ہے، تھرپارکر میں چھاچھرو کو ضلع کا درجہ دیا جارہا ہے۔ مٹیاری اور بینظیرآباد کی کوکھ سے نئے ضلع حاکم آباد کو جنم دیاجارہا ہے۔
خیرپور جو قیام پاکستان کے وقت آزاد ریاست تھی اس کو دو اضلاع میں تقسیم کیا جارہا ہے۔ خیرپور کو اس سے قبل ٹکڑے نہیں کیا گیا تھا، کہا جاتا ہے کہ خیرپور ریاست کی پاکستان میں شمولیت اس شرط پر کی گئی تھی کہ اس کی وحدت کو ہر حال میں برقرار رکھا جائے گا۔
ضلع کسی بھی صوبے یا ملک کا انتظامی یونٹ ہوتا ہے جو اس کی بعض خصوصیات مثلا علاقے کی قربت، مواصلات کے رابطے، لوگوں کا آپس میں معاشی خواہ سیاسی سماجی و ثقافتی رابطے، کی بنیاد پر قائم کیا جاتاہے۔
یہ اصول دنیا بھر میں رائج ہے۔ کیونکہ یہ وہ اجزاء ہیں جو لوگوں کو سہولت فراہم کرتے ہیں اور پپہلے سے موجود رابطوں و سماجی رشتوں کو مضبوط کرتے ہیں، جو آگے چل کر ان کی معاشی اور سیاسی ترقی کا سبب بھی بنتے ہیں۔ اضلاع صرف انتظامی یونٹ نہیں ہوتے بلکہ سیاسی یونٹ یا حلقہ انتخاب بھی بنتے ہیں۔ یہ سانتخابی یونٹ بلدیاتی انتخابات میں ہی نہیں بلکہ 99 فیصد قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ انتخاب کے لئے بھی تسلیم کئے جاتے ہیں۔
ان اضلاع کی تشکیل اور انتظامی یونٹوں کی توڑ پھوڑ کے پیچھے انتظامی نہیں بلکہ سیاسی مقاصد کر فرما ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سندھ کے حکمرانوں نے صوبے میں جو نئے بھوتاروں (وڈیروں)کی بھرتی شروع کی ہے ان سب کو راضی رکھنے اور ان کو ذاتی بادشاہتیں دینے اور سیاسی مخالفین ک کے حلقہ انتخاب توڑ کر انہیں بے اثر بنانئے کے لئے حکومت اس فارمولے کا سہارا لے رہی ہے۔
جب شفافیت، میرٹ اور اچھی حکمرانی کا فقدان ہو، حکمرانوں کے اکثر اقدامات سیاسی بالادستی اور گرفت مضبوط بنانے کے لئے ہوتے ہیں، تاہم یہ تاثر یہ دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہ سب کچھ عوام کے وسیع تر مفاد میں کیا جارہا ہے۔ یہ کوئی پہلا موقعہ نہیں۔ اضلاع کو توڑ کر زرعی زمیں کی طرح تقسیم کا عمل مشرف دور میں بھی کیا گیا تھا۔ وہاں پر پسند کے ظل سبحانی مقرر کر کے یہ ضلع ان کے حوالے کئے گئے تھے۔


ان فیصلوں کی بنیاد بھی سیاسی تھی۔وڈیروں کی جیسے جیسے اولادیں بڑی ہوتی جاتی ہیں اسی حساب سے نئے اضلع اور انتظامی یونٹ بنائے جاتے ہیں۔ یا پھر بعض بااثر افراد کی ’’سیاسی جاگیر‘‘ یعنی حلقہ انتخاب کو محفوظ بنانے کے لئے اس طرح کے اقدامات کئے جاتے ہیں۔
مشرف دور میں قائم کئے گئے اضلاع میں ابھی تک مکمل دفتری سہولیات میسر نہیں ، جس کی وجہ سے عوام کو پہنچنے والے فوائد خال خال ہیں ۔ ہاں یہ ضرور ہوا ہے کہ ان اضلاع سے تمام سیاسی مقاصدحاصل کئے جاتے رہے ہیں۔
مشرف دور یا اس سے قبل جو نئی تحصیلیں بنائی گئی تھی وہاں ضلع اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال، کالج اور دیگر انتظامی محکمہ جات کے دفاتر بھی ٹھیک سے قائم نہیں ہو سکے ہیں۔
اس مرتبہ نئے اضلاع کی تشکیل کے پیچھے بھی سیاسی مقاصد ہیں۔ ایک ہی ضلع کے تمام بااثر بھوتاروں کو خوش رکھنے کے لئے ایک بار پھرروایت کو دہرایا جارہا ہے۔ مشرف دور میں ارباب غلام رحیم سندھ کے ویزراعلیٰ تھے۔ تب بھی نئے اضلاع کی مخالفت کی گئی تھی اور یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ صرف وہاں پر اضلاع قائم کئے جائیں جہاں عوام کی ضرورت ہو۔


اضلاع کی در اصل ازسرنو تشکیل ، نہیں تقسیم ہو۔ جو کہ موجود حکمرانوں کو سیاسی سہولت دینے کے لئے کی جارہی ہے تاکہ وہ اپنی پسند کے اتحادی اور امیدوار بنائیں اور مخالفین کو نقصان پہنچائیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ اپنے ووٹرز کا انتخاب خود کر لیتے ہیں، اس سے پہلے کہ ووٹر ان کا انتخاب کریں۔
تجربے میں یہ بات آئی ہے کہ ایسے ممالک جہاں سیاسی جوڑ توڑ میں ریاست یا حکومت ملوث ہوتی ہے وہاں ا ضلاع کی تقسیم نہ صرف پسندیدہ گروپ کو آگے لانے کے لئے کی جاتی ہے بلکہ نئے سرے سے حد بندیاں ایک ایسا عمل ہے جو صحت مند مقابلے کی نفی کرتا ہے۔ جو آگے چل کر مساویانہ ووٹنگ کی قوت اور منصفانہ نمائندگی کو ضرب پہنچاتا ہے۔
عام طور پر نئے اضلاع کی تشکیل کا عمل نئی مردم شماری کے بعد قانون ساز اسمبلی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ لیکن پاکستان بہ جنبش قلم حاکم وقت کر لیا ہے۔ بعض ممالک میں ہر دس سال کے بعد صورتحال کا جائزہ لیا جاتا ہے اور اس کے بعد یہ عمل شروع کیا جاتا ہے۔
یہ درست ہے کہ قانونی طور پر صوبائی حکومت کو ضلاع قائم کرنے ہیں، لیکن ہوتا یہ رہا ہے کہ اس کی مرضی ہے کہ جہاں سے چاہے یہ تقسیم کی لکیر نکال دے ۔ لیکن اس طرح کا عمل بنیادی طور پر جمہوری جوہر کے خلاف ہے۔ حکومت اس میں صوابدیدی اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔
دنیا میں نئے اضلاع کی تشکیل کے لئے چند طریقے وضع ہیں۔ لیکن سندھ میں جب بھی نئے اضلاع بنائے گئے ہیں نہ اصولوں کو اور نہ ہی اس طریقہ کار کو مدنظر رکھا گیاہے۔
ایک ا پروچ ہو ہے جو نوکر شاہی کا اپروچ کہلاتاہے۔ملک کے آئین اور نظام کے اصولوں کے مدنظر سینئر اور غیر جانبدارسرکاری افسران کی ٹیم نقشے تیار کرتی ہے کہ کس علاقے کو کونسے ضلع میں شامل کیا جائے۔ بعد اس تجویز کو صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے۔ جس کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ نوکرشاہی کی تیارکردہ سفارشات میں ترامیم کر لے۔ہوتا یہ چاہئے کہ یہ ترامیم اسمبلی سے منظور کرنے سے پہلے ایک بار پھر اس ٹیم کو غور کرنے کے لئے بھیجی جانی چاہئیں۔
خود مختار کمیشن کے ذریعے بھی اضلاع کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے۔ امریکی ریاست کلیفورنیا میں اضلاع کی تشکیل آزاد اور خود متار کمیشن کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اس کمیشن میں ایسے باوقار افراد کو نامزد کیا جاتا ہے جو حکمران جماعت یا اسمبلی کے دباؤ میں نہ آسکیں۔ یہ کمیشن نقشے تیار کرتی ہے۔ اور اپنی تجاویز ریاستی (صوبائی) اسمبلی کو بھجتی ہے۔ جو اس کو منظور کر کے قانونی شکل دیتی ہے۔
ؑ جب سیاسی صف بندی زیادہ ہو اور اضلاع کی تشکیل پر تنازع ہو تو عدالتی طریقہ بھی اختیار کیا جاتا ہے۔ لیکن بعض ممالک میں یہ تشکیل ہوتی ہی عدالتی طریقے سے ہے۔جہاں اضلاع کی تشکیل کے لئے عدالتی کمیشن قائم کیا جاتا ہے جو نئے اضلاع کی حد بندیاں تجویز کرتا ہے، جس کو بعد میں اسمبلی قانونی شکل دے گی۔ امریکہ کی ریاست فلوریڈا میں یہ طریقہ رائج ہے۔
بعض ممالک میں اضلاع کا قیام حکومت اور اپوزیشن کی مشترکہ کمیشن کے ذریعے کیا جاتا ہے اس کامقصد یہ ہوتا ہے کہ دونوں جماعتیں کسی معاہدے پر پہنچیں۔ یعنی ایک دوسرے کے سیاسی مفادات کا خیال رکھیں۔ مصلحت اور مفاہمت سے کام لیں۔
ایک اور بھی طریقہ اپنایا جاسکتا ہے۔ یہ کام عوامی رائے اور شفافیت کے ذریعے کیا جائے جس کے تحت عوام سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی تجاویز دیں۔ اور یہ تجاویز شایع کی جائیں یا عوام کے معائنے کے لئے مہیا کی جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مشاورتی اجلاس، عوامی شنوائی وغیرہ کی جائیں۔
اضلاع کے قیام یا توڑ پھوڑ کے وقت مندرجہ ذیل نکات کا خاص خیال رکھا جانا چاہئے ۔ ان کو انتظامی حوالے سے نئے اضلاع کی تشکیل کے بنیادی اجزاء قرار دیا جاتا ہے۔ قربت، قدرتی یا سیاسی حد بندیوں میں تسلسل اور ، compactness ۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی جائزہ لینا چاہئے کہ ان اقدامات کا علاقے اور مکیونٹی پرسیاسی، معاشی اور سماجی اثر کیا آئے گا؟ اس ضمن میں علاقے کی تاریخ، سیاسی، سماجی، ثقافتی ربط کو بھی حساب میں لایا جائے گا۔ اس عمل میں ڈیموگرافی بھی نہایت ہی اہم جز ہے۔
ڈیموگرافی کے لئے مردم شماری کے اعدادوشمار سے مدد لی جاسکتی ہے۔ڈیموگرافی کے عنصر سے مراد ہے آبادی کے درمیان توازن یا برابری۔ یعنی ایسی برادریاں یا گروہ جو اقلیتی ہیں ان کی نمائندگی کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے ۔مطلب یہ ہے کہ کمیونٹی کا مفاد اس ضمن میں سب سے اہم ہے۔
اگر ان اجزاء اور مروجہ طریقہ ہائے کار جو دنیا میں رائج ہیں نظر میں رکھا جائے تو حکومت سندھ نے نئے اضلاع بناتے وقت کسی بھی اصول کو ملحوظ خیال نہیں رکھا۔ نہ سنیئر اور غیر جانبدار ماہرین سے نقشے بنائے گئے اور نہ ہی یہ نقشے عوام کے سامنے اعتراضات اور تجاویز کے لئے پیش کئے گئے۔ اور عدلیہ کو شامل کرنے سے بھی گریز کیا گیا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس پورے عمل کی خود اسمبلی سے بھی منظوری نہیں لی گئی ہے۔عجب معاملہ ہے کہ حکومت لاکھوں لوگوں کو ایک نوٹفکیشن کے ذریعے ایک انتظامی یونٹ سے نکال کر دوسرے یونٹ میں ڈال رہی ہے، وہ بھی ان کو بتائے بغیر ۔ اس حکومتی فیصلے کے علاقے کے لوگوں کی زندگی، ترقی اور مستقبل پر گہرے اثرات پڑیں گے۔
سیاست وقتی عمل ہے۔ آج حکمران جماعت جن لوگوں کی سیاسی جاگیریں بچانے یا ان کو ہمیشہ کے لئے تحفظ دینے کے لئے جو غیر جمہوری
طریقہ اختیار کر ہی ہے عین ممکن ہے کہ آئندہ انتخابات میں وہی لوگ موجودہ حکمران جماعت کی مخالفت میں کھڑے ہوں۔ لہٰذا عوام اور ان کے حقوق مقدم ہیں۔سندھ حکومت پر لازم ہے کہ وہ اس طرح کے اقدام سے قبل مکمل قانونی، جمہوری اور مشاورت کا عمل اختیار کرے تاکہ لوگوں کے سیاسی، جمہوری، معاشی، ثقافتی اور سماجی حقوق سلب نہ ہو سکیں۔

خطے میں نئی صف بندی اور پاکستان

March 31
خطے میں نئی صف بندی اور پاکستان
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی

جن سے کبھی نظریاتی اور جغرافیائی حدود کو خطرہ سمجھا جاتا تھا، اور لوگوں کے ذہنوں میں سالہا سال تک یہ زہر بھرا گیا، اب انہی سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا جارہا ہے۔ ریاست نے یو ٹرن لیا ہے۔ اور روس کے ساتھ نئی صف بندی کی طرف جارہی ہے۔ دیر آید درست آید۔ روسی افواج نے پاکستان کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں شرکت کی۔ جبکہ ماسکو کی جانب سے افغانستان میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں بھی ایک اہم فریق کے طور پر پاکستان شرکت کرنے جا رہا ہے۔

قیام پاکستان سے فوری بعد امریکہ سے دوستی ہی نہیں کی بلکہ اس کے کیمپ میں جاکر اسی کی عالمی حکمت عملی کا کل پرزہ بنا رہا۔ ہم نے اپنی سیاست معیشت، خارجہ پالیسی سب کچھ اس کے ماتحت کردیا۔افغان جنگ پراکسی جنگ کے طور پر لڑی جس کے نتیجے میں آگے چل کر پاکستان میں جہادی قوم پیدا کر لی۔ اور تمام تر توانائیاں افغانستان میں انقلاب کو روکنے پر صرف کی گئیں۔ آج کی صورتحال اسی کا نتیجہ ہے۔ جب ترقی پسند اور روش خیال لوگوں کی تعداد سینکڑوں میں پہنچ گئی ہے۔ اور شدت پسندی ہزاروں سے لاکھوں ذہنوں تک پہنچ گئی ہے۔ اب امریکہ کی وجہ سے پیدا کی گئی شدت پسندی کی حکمت عملی کے باعث دہشتگردی کو نمٹنے کے لئے ہم ملک بھر میں آپریشن پر آپریشن کئے جارہے ہیں۔ لیکن اس سے جان نہیں چھوٹ رہی۔ 

پہلے پاکستان امریکہ کے ساتھ ملک میں روس کا اثر ختم کرنا چاہتا تھا۔ اور اب اسی روس کے ساتھ چین کی مدد سے امریکہ کا اثر روکنے اور ختم کرنے کا خواہشمند ہے۔ اگر شروع میں ہی ہم اپنی پالیسیاں غیر جاندارانہ رکھتے تو شاید یہ دن نہیں دیکھنے پڑتے۔

شروع کے دنوں کے بعد بھی کئی مواقع آئے جب ہم اس امریکی کھورکھ دھندے سے نکل سکتے تھے، لیکن کوئی حکمت عملی اور دوراندیشی کے فقدان یا پھر چھوٹے چھوٹے مفادات آڑے آتے گئے اور ہم ایڈہاک ازم کی بنیاد پر کوئی آزادانہ موقف نہیں اختیار کر سکے۔
افغانستان ایک ایسی دلدل بن چکا ہے کہ اب امریکہ خود اس سے نکل بھی نہیں پارہا۔ اور ایک طرح سے اسے مزید طو دے کر اپنے مفادات حاصل کر رہا ہے۔ میں قیام امن کے لئے امریکی کوششوں کی ناکامی کے بعد سفارتی سطح پر روس کا یہ پہلا قدم ہے۔ تشویش کا اظہار اس لئے بھی کیا جارہا ہے کہ جنگ زدہ اس ملک میں داعش کے گروپ کا خطرہ روز بروز بڑھ رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ تین ممالک جو اس بحران کو اپنے کئے بھی خطرہ سمجھتے ہیں اس کا علاقائی حل تلاش کرنے کی کوش کر رہے ہیں۔ پہلے ان مشاورتی اجلاسوں میں کابل کو دعوت نہیں دی گئی تھی جس پر افغانستان نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا،لیکن آئندہ کانفرنس میں افغان حکومت کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ امریکہ کو ماسکو کی پہلکاری پر شروع کئے گئے اس عمل میں امریکہ کو نہیں شامل کیا گیا ہے۔

اس سے قبل چار ملکی فورم جس میں امریکہ، چین، افغانستان اور پاکستان شامل تھے قیام امن کے لئے کوششیں لے چکا ہے۔ شدت پسند افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں ناکامی کے بعد یہ مذاکرات گزشتہ ایک سال سے معطل ہیں۔ ممکن ہے کہ ماسکو کے حالیہ تجویز چار رکنی فورم کی جگہ لے لے۔ گزشتہ سال دسمبر میں روس، چین اور پاکستان کے درمیان تین مشاورتی اجلاس ہو چکے ہیں۔ جس میں اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ افغان بحران خطے میں پھیل سکتا ہے۔

ابھی تک یہ طے نہیں کہ افغانستان کے طالبان بھی اس کانفرنس میں شرکت کریں گے یا نہیں۔ افغان اور امریکی حکام کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس میں افغان طالبان کو مدعو نہیں کیا گیا ہے۔ پاکستان کا یہ موقف ہے کہ وہ افغانستان میں قیام عمل کے لئے کوشاں ہے اور خیرسگالی کے طور پر افغان سرحد کھول دی ہے۔افغانستان پر زور دے رہا ہے کہ وہ سرحد کی انتظام کاری میں تعاون کے۔

افغانستان، ایران، انڈیا، وسطی ایشیا کی بعض ریاستوں کو ماسکو میں ہونے والی اس کانفرنس میں مدعو کیا گیا ہے جبکہ امریکہ نے روسی دعوت مسترد کردی ہے ۔ دو ہفتے قبل پاکستانی حکام نے متعدد افغان طالبان رہنماؤں کو اسلام آباد دعوت دے کر بلایا تھا۔ اور شدت پسندوں پر زور دیا تھا کہ وہ ماسکو کے امن مذاکرات میں شرکت کریں۔

افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی نے گزشتہ ہفتے اپنے واشنگٹن کے دورے کے دوران امریکہ سے فرمائش کی کہ وہ افغانستان میں مزید فوج بھیجے کیونکہ ان کے ملک میں طالبان کے حملوں میں شدت آگئی ہے۔ اور اسلامک اسٹیٹ گروپ بھی خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اس وقت 8400 امریکی فوجی افغانستان میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ امن مذاکرات کے لئے تیار ہیں تاہم انہیں شبہ ہے کہ جب تک پاکستان اپنی سرزمین پر موجود دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں پر صفایا نہیں کرتا مشکل ہے کہ طالبان ان مذاکرات میں شرکت کریں۔ یہی پڑوسیوں کے درمیان تلخی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔
ماسکو کی حالیہ کوششیں امریکہ کی شرکت کے بغیر کیسے نتیجہ خیز ثابت ہونگی؟ یہ ایک سوال ہے۔ کیونکہ اس وقت بھی افغانستان میں امریکہ کی تقریبا دس ہزار فوج موجود ہے۔ جو شدت پسندوں کے خلاف آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔

سوال یہ ہے کہ افغان حکومت یہ دعوت قبول کرتی ہے یا ماسکو میں ہونے والے مذاکرات کے بارے میں اپنے نقط نظر میں نرمی پیدا کرتی ہے۔ ماسکو کی سہ فریقی اجلاس نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شدت پسند رہنماؤں کی سفری پابندیاں ختم کی جائیں ۔ یہ مطالبہ دراصل طالبان نے کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے مشروط کر کے رکھا ہے۔ لیکن سفری پابندی ہٹانے کے لئے امریکہ کی رضامندی ضروری ہے۔
طالبان اس صورت میں کابل کے ساتھ مذاکرات میں بیٹھ سکتے ہیں جب تک وہ میدان جنگ میں قابل قدر کامیابی حاصل نہیں کر لیتے۔
افغان امن مذاکرات کو سرد خانے سے نکالنے کے لئے پاکستان اور افغانستان کے درمیان خوشگوار تعلقات ضروری ہیں۔
اس ضمن میں کچھ بات آگے بڑھی ہے لیکن وہ کافی نہیں۔

طالبان ماسکو کے اس اجلاس سے خوش ہیں کہ ان کا مطالبہ ایک بڑے فورم پر زیر بحث آیا ہے۔ چین اور روس اقوام متحدہ سے یہ مطلابہ کر رہے ہیں کہ بعض افغان طالبان لیڈر جن کو دہشتگردوں کی لسٹ میں شامل کیا گیا ہے ان کے نام اس لسٹ سے خارج کئے جائیں تاکہ امن مذاکرات آگے بڑھ سکیں۔

چین گزشتہ کچھ عرصے سے افغان امن کوششوں میں سرگرم ہے۔ جو کہ کان کنی اور انفرااسٹرکچر کے مختلف منصوبوں میں سرمایہ کار ہے اس کے طالبان اور افغان حکومت دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ طالبان نے بعض مواقع پر جنگ میں پھنسے ہوئے فریقین کے درمیان مذاکرات کرانے میں مدد بھی کی ہے۔ بیجنگ کو افغانستان میں بڑھتے ہوئے عدم استحکام اور وہاں داعش کی سرگرمیوں کی اطلاعات پر گہری تشویش ہے۔

افغانستان کے منظر میں روس کی آمد نئی ہیں۔ اس کی کوشش ہے کہ داعش کے خطرے سے نمٹنے کے لئے تبدیل شدہ منظر نامے میں نئے اتحاد اور نئی صف بندی کی ضرورت ہے۔ ماسکو میں افغانستان پر اجلاس کے بعد ایک اور سہ فریقی مذاکرات ہوئے یہ شام کے بحران سے متعلق تھی اور اس میں ترکی اور ایران بھی شریک ہوئے۔ اس سہ فریقی اجلاس میں بھی امریکہ کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ماسکو افغنا اور شام کے بحرانوں میں آگے بڑھ رہا ہے ۔اس کے نتیجے میں عالمی طور پر طاقت کے توازن میں تبدیلی رونما ہورہی ہے۔  

شمالی افغانستان میں شدت پسندوں کی بڑھتی یوئی سرگرمیوں کی وجہ سے وسطی ایشیا کے ریاستوں کو خطرہ ہے۔ ماسکو کو یہ بھی تشویش ہے کہ وسطی ایشیا کی مسلم آبادی خاص طور پر چیچینیا میں داعش اپنا اثر بڑھا رہی ہے۔ عراق اور شام کی جنگ میں غیر ملکی شدت پسندوں کی سب سے زیادہ تعداد چیچینیا کی ہے ۔ لہٰذا اس صورتحال نے بھی روس کو مجبور کای کہ وہ افغان طالبان سے رروابط بڑھائے۔ جو کہ افغانستان میں داعش کے گروپوں کے ساتھ برسرپیکار ہیں۔

اس حوالے سے چین اور پاکستان کی تشویش کی ساجھے داری ہوگئی۔ اور انہوں نے نئی علاقائی صف بندی میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان کو امید ہے کہ وہ اس ترکیب کے ذریعے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لے آئے گا۔ لیکن صورتحال کی پیچیدگی کے پیز نظر یہ سب کچھ اتنا آسان نہیں۔ اس ضمن میں کابل حکومت کو افغان طالبان اور پاکستان کے حوالے سے تحفظات ہیں۔یہ تحفطات دور کر کے پاکستان نئے فارمیٹ میں اپنی جگہ پیدا کر سکتا ہے۔ بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں اب حکمت عملی کے طور پر اضافہ ہوچکا ہے۔ پاکستان کے لئے کسی طور پر بھی ممکن نہیں کہ وہ امریکا کے ساتھ تعلقات میں وہ جگہ لے سکے جو بھارت حاصل کر چکا ہے۔ایسے میں بہتر ہے کہ ہم مشرق وسطیٰ یا مغرب کی طرف دیکھنے کے بجائے خطے پر ہی اپنی نظریں مرکوز رکھیں۔

خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال نے نئے چیلینجز اور نئے مواقع پیدا کئے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان ایک بار خطے میں موجود قوتوں کا ساتھ دیتا ہے یا اپنی روایتی پرانی پالیسی پر گامزن رہتا ہے؟

کیا پاکستان میں کوئی وفاقی پارٹی ہے؟

میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی

گزشتہ تین عشروں سے ملک میں کوئی ایسی سیاسی جماعت نظر نہیں آتی جو وفاقی نمائندگی کی دعویدار ہو۔کہنے کو آج کے دور کی بڑی سمجھی جانی والی جماعتیں پیپلزپارٹی، نواز لیگ ، تحریک انصاف وفاقی ہیں، لیکن جب اسمبلیوں میں نمائندگی کا مختلف صوبوں کے مسائل و وسائل کا وسال آتا ہے تب پتہ چلتا ہے کہ یہ جماعتیں اپنے جوہر میں وفاقی پارٹیاں نہیں۔

جنرل ضیاء کے دور تک پیپلزپارٹی وفاقی پارٹی تھی۔ اگرچہ منتخب ایوانوں میں پنجاب میں زیادہ مضبوط تھی۔ اس کے بعد سندھ میں بھی اکثریت میں تھی۔ جبکہ بلوچستان اور پختونخوا میں صوبائی سطح سے لیکر ضلع کی سطح تک موجود تھی۔ اسی وجہ سے اس نے یہ نعرہ اپنایا ہوا تھا کہ وفاقی کی زنجیر پیپلزپارٹی۔ پارٹی زیادہ مضبوط پنجاب میں تھی۔ لیکن جب بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹا گیا تو سب سے زیادہ احتجاج سندھ میں ہوا۔ اگرچہ ابتدائی طور پر پنجاب میں بھی پارٹی کے لیڈروں اور جیالوں نے قید، بند، کوڑوں خواہ پھانسی کی سزائیں بھی کھائیں۔ لیکن جب جدوجہد طول پکڑ گئی تو آہستہ آہستہ پنجاب میں یہ معاملہ ہلکا ہوتا گیا۔

یہاں تک کہ جب جنرل ضیا کی آمریت پر آخری سیاسی وار کے طور پر ایم آرڈی کی تحریک شروع ہوئی تو اس میں پنجاب بھرپور شرکت نہ کر سکا جس کی کہ توقع کی جاتی تھی۔ سندھ اس تحریک میں آگے رہا۔ عوامی نیشنل پارٹی نے بھی محدود پیمانے پر شرکت کی۔بعد میں جو انکشافات ہوئے ان سے پتہ چلتا ہے کہ ایم آر ڈی کی تحریک کو صرف ایک صوبے تک محدود رکھنا خود ضیا کی پالیسی تھا۔ اس مقصد کے لئے جنرل ضیا اور ان کے’’ رفقاء کار‘‘ نے تمام بندوبست کر لئے تھے۔ اس کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ’’ یہ احتجاج ملک گیر نہیں ایک صوبے تک محدود ہے۔ اور وہ بھی اس وجہ سے کہ بھٹو سندھی تھا بھٹو نے سندھی نواز پالیسیاں اختیار کی تھیں۔ اور سندھی بھٹو سے جذباتی لگاؤ کا بھی اظہار کر رہے ہیں وغیرہ وغیرہ‘‘۔ یہی سے احساس محرومی کا نعرہ شروع ہوا۔ یعنی اسٹبلشمنٹ نے ملک بھر میں جمہوریت کی جدوجہد کو ایم صوبے کی محرامی تک محدود کیا گیا۔ آئندہ اسی تصور پر کبھی شعوری طور پر تو کبھی لاشعوری طور پرسیاست ہوتی رہی۔ لہٰذا ایم آر ڈی جیسے تحریک بھی واپس وفاقیت کو دوبارہ رائج نہ کرسکی۔

جنرل ضیاء کی بعض پالیسیاں ظاہر ظہور تھی، لیکن بعض پوشیدہ پالیسیاں بھی تھی، جن کا اثر اور احساس وقت گزرنے کے بعد ہوا۔ دراصل اس ملک گیر تحریک کو ایک صوبے تک محدود کرنے کے طویل المیعاد اثرات یہ ہوئے کہ آنے والے وقت میں وفاق کی پارٹی نہیں رہی۔ دھیرے دھیرے پیپلزپارٹی سندھ تک سکڑتی گئی۔اور اس کے توڑ کے طور پر پیپلزپارٹی مخالف دھڑوں کو یکجا کر کے اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی)کے نام سے کٹھا کیا گیا۔ یوں ایک وفاقی پارٹی کے مقابلے میں مختلف دھڑوں کا اتحاد سامنے لایا گیا۔ 1988 کے عام انتخابات کے بعد اسی فارمولے کو آگے بڑھانے کے لئے بینظیر بھٹو کو بعض شرائط پر حکومت دی گئی۔ آگے چل کر آئی جے آئے ختم ہو گیا اور عملی طور پر نواز لیگ سامنے آئی۔ جو پنجاب میں پیپلزپارٹی کے مد مقابل کھڑی ہو گئی۔ نواز لیگ بطور پارٹی اس وجہ سے بھی بنی کہ اس نے خود کو اقتدار حاصل کرنے کے لئے متبادل پارٹی کے طور پر خود کو پیش کیا۔ یہی وجہ بنی کہ اقتدار پسند افراد کو پیپلزپارٹی سے نکلنے کا راستہ مل گیا۔

تاریخ کے اوراق پلٹنے سے یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ قیام پاکستان کے بعد عملا کوئی بھی وفاقی پارٹی نہیں رہی۔قیام پاکستان کے بعد منعقد ہونے والے پہلے انتخبات میں مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والی جماعتیں ہار گئیِ اور وہاں پر جگتو فرنٹ نے فتح ھاصل کر لی۔ 1956 کا آئین دیکر کر مغربی پاکستان کی چاروں وحدتوں کو ون یونٹ کے ذریعے مغربی پاکستان بنایا گیا۔اور اس کو مشرقی پاکستان کے مد مقابل کھڑا کیا گیا۔ خود اس عمل نے وفاقیت کی نفی کی۔ ایک ظرف مشرقی پاکستان اپنی اکثریت ختم ہونے کے خلاف جدوجہد کرنے لگا، تو دوسری طورف مغربی پاکستان میں زبردستی شامل کئے گئے صوبے ون یونٹ کے خلاف تحریک چلانے لگے ۔ اس عمل نے صوبوں اور مرکز کے درمیان فاصلے بڑھا دیئے۔ جو پھر کبھی بھی صحیح خطوط پر استوار نہیں ہو سکے۔

جنرل ضیاء الحق نے بھی اس صورتحال کا فائدہ اٹھایا۔ درحقیقت یہ وفاق کی ذمہ داری تھی کہ وہ اپنی تمام وحدتوں کی غلط فمہیاں اور شکایات کا ازالہ کرے۔کسی زمانے میں نیشنل عوامی پارٹی کے پلیٹ فارم سے متبادل دینے کی کوشش کی ۔ اس جماعت کی پالیسی قوم پرست اور بائیں بازو کی تھی۔ جس کو اسٹبلشمنٹ نے ابھرنے نہیں دیا۔اس میں بعض اندرونی خواہ بیرونی عوامل بھی شامل تھے۔ اگر نیشنل عوامی پارٹی جسے بعد میں کالعدم قرار دیا گیا، اس کے تصور کو پھلنے پھولنے کا موقعہ دیا جاتا تو بڑی حد تک صوبائیت اور قوم پرستی کے الجھاوے کو سلجھایا جاسکتا تھا اور اس کے نتیجے میں وفاق مضبوط ہو سکتا تھا۔ کے لیکن ہوتا یہ رہا کہ ان وحدتوں کی شکایات میں آئے دن اضافہ ہوتا رہا۔ اور معاملہ مزید پیچیدہ ہوتا گیا۔

سیاست سے ہٹ کر اسٹبلشمنٹ خواہ حکومت وقت نے کوئی ایسے اقدامات نہیں کئے جن سے صوبوں کے درمیاں فاصلے کم ہوں۔ بلکہ نواز حکموت سے یہ شکایت رہتی ہے کہ وہ پنجاب کے علاوہ کسی صوبے کو نہ سیاسی طور پر نہ اپنی حکموت کی پالیسیوں میں حساب میں لے آتے ہیں۔

اب صورتحال یہ ہے کہ پیپلزپارٹی سندھ تک محدود ہے، اور نواز لیگ سندھ میں باقاعدہ آنے کے لئے تیار نہیں۔ یہی صورتحال تحریک انصاف کی ہے۔ پیپلز پارٹی کے ساتھ ساتھ یہ دونوں جماعتیں وفاقی حکومت کی امیدوار کہلاتی ہیں۔ اب انتخابات میں سال نہیں ماہ باقی ہیں۔ ان پارٹیوں کی طرف سے سندھ کی طرف کوئی پیش رفت نہیں۔ پیپلزپارٹی پنجاب میں واپس بحالی کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اس کے لئے نواز لیگ اور تحریک انصاف کی موجودگی میں مزید یہ کہ پارٹی کے ؂ وفاق میں سابقہ اور سندھ میں مسلسل دو ادوار کی کارکردگی اس کے آڑے آرہی ہیں۔ پختونخوا میں تحریک انصاف جیتے یا عوامی نشینل پارٹی وہ مخلوط حکومت بنائیں، سوائے بلوچستان کے اور کسی صوبے تک ان کی رسائی نہیں۔ بلوچستان ویسے ہی مخلوط حکموتیں بنتی ہیں۔

سندھ اور پنجاب دو بڑے صوبے ہیں اس دفعہ بھی لگتا ہے کی ان کی سیاسی جماعتیں صوبوں تک ہی محدود رہیں گی۔ مسلسل یہ صورتحال کوئی خش آئندہ نہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کو اس کا کتنا ادراک ہے اور وہ کیا عملی اقدامات اٹھاتی ہیں۔

ٹرمپ دنیا میں تبدیلی کا اظہار

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
ٹرمپ دنیا میں تبدیلی کا اظہار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی امیدوار بنتے ہی متنازع ہو گئے تھے۔ تانزع کا یہ سایہ ان کے انتخابات جیتنے پر بھی ختم نہیں ہوا۔ اور اب جب وہ اپنے عہدے کا حلف اٹھا چکے ہیں تب بھی جاری ہے۔ جب وہ انتخابات جیتے ، امریکہ کے کئی شہروں میں احتجاج اور مظاہرے ہوئے۔ عام لوگوں نے سر عام خوشی کا اظہار نہیں کیا۔ جب وہ کپیٹال ہل میں حلف اٹھا رہے تھے تو اس مقام سے باہر مظاہرے ہو رہے تھے۔ اور اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کر رہے تھے۔ واشنگٹن، نیویارک ، لندن، سوئیڈن، ٹوکیو وغیرہ میں مظاہرے ہو رہے تھے۔

لوگوں کا یہ اظہار ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ہے، اور انہیں ڈر ہے کہ یہ پالیسیان ان کے لئے نقصاندہ ثابت ہونگی۔ انہیں سماجی تحفظ چھن جانے، مختلف سماجی اور معاشی فوائد میں کمی کا ڈر ہے۔ امریکی اباما کی پالیسیوں سے ناخوش تھے اس میں تبدیلی چاہتے تھے۔ لیکن وہ یہ تبدیلی نہیں چاہتے تھے جو ٹرمپ کی صورت میں ان کے سمانے آئی ہے۔ امریکا میں شاذو ناذر ہوتا ہے کہ صدر کے انتخابات پر اس طرح سے مظاہرے ہوں اور لوگ سڑکوں پر نکلّ ئیں۔ اور روز اول سے مظاہرے کرتے رہیں۔ اس طرح کی صورتحال برطانیہ کی یورپی یونین سے علحدگی کے فیصلے کے موقع پر بھی نظر آئی۔ ریفرینڈم میں عوام نے ہورپی یونین سے علحدگی کا فیصلہ کیا۔ لیکن بعد میں خیال آیا کہ شاید انہوں نے غلط فیصلہ کر لیا ہے۔ اس فیصلے کی کچھ اور شکل ہونی چاہئے تھی۔ ترکی میں طیب اردگان صدر منتخب ہوئے۔ لیکن ان کے خلاف مضبوط آواز موجود تھی جس کو انہوں نے کسی اور طریقے سے ہینڈل کیا۔

مختلف ممالک میں جو مظاہر سامنے آئے ہیں وہ اس بات کا اظہار ہیں کہ پیچیدگیاں اور الجھاوے بڑھ گئے ہیں۔ پالیسیوں اور عمل سے متعلق واضھ اور کلیئر کٹ لائیں موجود نہیں۔ یہ دنیا کے نئے معاشی اور سیاسی نظام کا نیا مظہر ہے۔ آج مختلف ممالک خواہ لوگوں کا ایک دوسرے پر انحصار بہت بڑھا ہوا ہے۔ لوگ مختلف معاملات پر جانکاری رکھتے ہیں اور ان کے بارے میں فیصلہ بھی کر لیتے ہیں۔ اور دوسرے لمحے وہ فیصلہ تبدیل کر لیتے ہیں۔ اور کسی اور رائے یا کسی اور فیصلے کی طرف چلے جاتے ہیں۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ مجموعی طور پر معاشی اور سیاسی پلایسیوں اور حکمت عملی کو شک کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔

امریکہ دنیا بھر کے لئے اس لئے اہم ہے کہ فوجی، معاشی اور سیاسی طور پر دنیا کا سردار بنا ہوا ہے۔ اس نے پہلے یہ سرداری زبردستی لی، دوسرے ملکوں اور گروہوں نے اس کی یہ سرداری قبول کی۔ اس تمام معاملے میں ظاہر ہے کہ امریکہ کے ہی نہیں بلکہ وہ جس سرمایہ د اری نظام کی نمائندگی کرتا ہے اسکے تحفظ کا معاملہ بھی تھا۔ امریکہ کئی ممالک اور اگوں کے لء مثالی حیثیت رکھتا ہے۔ ٹرمپ کے اس اعلان نے کہ ’’ پہلے امریکا‘‘ نے پورے عالمی ماحول میں ہلچل پیدا کردی ہے۔ یعنی پہلی اولیت امریکا ہے، وہ نظام نہیں جس کی وہ سربراہی کر رہا تھا۔ اس صورتحال میں دوسرے ممالک کہاں کھڑے ہوں؟ امریکا کے پاس ان کے لئے کوئی consideration نہیں ہوگی۔ اور تو چھوڑیئے آئی ایم ایف، عالمی بینک جیسے مالی اداروں کواہ سیاسی اداروں کے لئے یہ ایک نیا چیلینج ہے۔

سرد جنگ کے دور میں فوجی اتحادوں کی دنیا تھی۔ اور اس جنگ کے خاتمے کے بعد معاشی اتحادوں کا دور شروع ہوا۔ جس کو گلوبلائیزیشن کا نام دیا گیا۔ گزشتہ دو سال کے دوران جو حالات پیدا ہو رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ اب ایک بار پھر ہر ملک انفرادی طور پر اپنے لئے
سوچ رہا ہے۔ یعنی کسی بلاک کے لئے لاٹھی بردار سردار امریکہ کی جانب سے پالیسی نہیں آئے گی۔
کیا دنیا واقعی اس رخ میں جارہا ہے؟ بالکل ایسا بھی نہیں۔ مختلف ممالک بھلے اپنی اپنی پالیسیاں اور حکمت عملیاں بنائیں ، مگر جب بھی اور جہاں بھی امریکا بہادر کو اعتراض ہوگا، وہاں ’’امریکہ فرسٹ‘‘ کے طور پر سامنے آ جائے گا. اور اپنا کردار ادا کرے گا۔ اس کی معنی یہ لی جا رہی ہیں کہ امریکہ پالیسیوں میں پہل کاری نہ کر کے دراصل ان کی ذمہ داریوں سے بری ہونا چاہتا ہے۔ اور مختلف معاملات میں خود سے ذمہ داری ہٹانا چاہتا ہے۔ وہ یہ کرتا رہے گا کہ جو بات اس کو درست نہیں لگے گی یا اس کے مفادات کے مطابق نہیں ہوگی، اس کو روک دے گا۔ لیکن اس کے مضمرات کے لئے خود تیار نہیں ہوگا۔ اس سے پہلے شمالی امریکہ سے لیکر آسٹریلیا تک جتنے بھی فوجی اور معاشی خواہ سیاسی بعاہدے اور بلاکس بنتے رہے وہ سب امریکا کی ذمہ داری تھے، ان بلاکس کے قیام، ان میں تبدیلیاں یا ختم کرنے کرنے والا بھی امریکا ہی رہا ہے۔

فی الحال تمام حلقے ٹرمپ کی نئی خارجہ پالیسی ں کو حتمی طور پر سمجھنے میں دقت محسوس کر رہے ہیں۔ تاہم بعض مقامات ایسے ہیں جہاں ان کی پالیسی واضح ہے۔ چین ایشیا میں نئے معاشی و فوجی قوت کے طور پر ابھر رہا تھا۔ 1979 میں امریکہ نے چین سے قربت شروع کی۔ بعد میں یہ قربت بعض مواقع پر حکمت عملی اور بعض تجارتی معاملات میں خاصی آگے تک گئی۔ تائیواں کو چین اپنا ایک بچھڑا ہوا صوبہ سمجھتا ہے۔

امریکا نے تائیوان کی حمایت کر دی۔ٹرمپ نے آتے ہی چین کے ’’ ایک ہی چین‘‘ کے نعرے کی مخالفت کی۔ اور تائیوان کے صدر کو فون کر کے تبادلہ خیال کیا۔ چین کے لئے یہ پیغام تھا کہ امریکا اب تائیوان اور چین سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل کر رہا ہے۔ ٹرمپ چین کے گہرے تجارتی تعلقات کا بھی مخالف ہے۔ آج امریکہ میں اشیائے صرف کی بہت سی مصنوعات چین سے درآمد کردہ ہیں۔ عملا امریکہ چینی مصنوعات کی بہت بڑی مارکیٹ ہے۔ ٹرمپ چین سے اتنی بڑی تجارت رکھنے کے لئے تیار نہیں۔ وہ چین کو تجارتی حوالے سے manipulator سمجھتا ہے۔
ٹرمپ کا خیال ہے امریکی کرنسی کی قیمت گرانے میں چین کی تجارت کا بھی رول ہے۔ ٹرمپ چینی مصنوعات پر بھاری ٹیکس عائد کر کے ان کی مارکیٹ کو محدود کر سکتے ہیں۔ اس طرح سے امریکی صنعت یہ مصنوعات پھر سے پیدا کرنے لگے گی۔ جس سے کچھ روزگار کے بھی مواقع نکلیں گے۔ کیا اس طرح سے امریکی سرمایہ کار ان مصنوعات کی تیاری میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں؟ بظاہر یہ مشکل لگتا ہے کیونکہ امریکی معیشت بنیادی طور پر بھاری صنعت اور سروس سیکٹر پر مبنی ہے۔ عام استعمال کی اشیاء میں سرمایہ کاری ان کے لئے اتنا منافع بخش نہیں ہوگا۔امریکہ میں مزدوری اتنی سستی نہیں، کہ وہ سستی قیمت پر یہ مصنوعات پیدا کر سکے۔

چین کے بعد ایران ٹرمپ کی پالیسی کا اہم نقطہ ہوگا۔ اباما حکومت نے ایران کے ساتھ جوہری روک تھام کے لئے معاہدہ کیا تھا۔ ٹرمپ یہ معاہعدہ توڑنا چہاتا ہے۔ جس کے اثرات پاکسیتان سمیت خطے کے دوسرے ممالک پر بھی پڑیں گے۔ اس معاہدے کے بعد ایران شام اور عراق میں داعش سے لڑنے میں مدد کر رہا ہے۔ اگر یہ معاہدہ ختم ہو جاتا ہے تو ایران اس کام سے ہاتھ نکال لے گا۔ ٹرمپ انتظایہ کے نزدیک ایران میں امریکی سرمایہ کاری خواہ تجارت کے مواقع کم ہیں اس کے مقابلے میں سعودی عرب اور دیگر اس طرح کے ممالک میں منافع بخش تجارت کے مواقع زیادہ ہیں۔ ایران امریکا قربت اسرائیل اور سعودی عرب کو اچھی نہیں لگتی۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کا اثر پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک پر بھی پڑے گا۔

پاکستان سے متعلق امریکی پالیسیوں میں تبدیلی کا امکان کم ہے بلکہ تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان پر دباؤ بڑھ جائے گا۔ اس ضمن میں ٹرمپ کے امور خارجہ کے سیکریٹری کے بیانات کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ ٹرمپ کی پالیسیاں دنیا میں سائنس، ٹکنالاجی، معیشت اور سماجی طور پر آنے والے تبدیلی کو ظاہر کرتی ہیں۔ لیکن بیک وقت یہ پالیسیاں زمینی حقائق سے تضاد میں بھی ہیں۔ کیونکہ آج کے دور میں کوئی ملک یا قوم خود پر انحصار کرکے زندہ نہیں رہ سکتی۔ اور صرف اپنی بھی نہیں چلا سکتی۔ لوگ اور قومیں ایک دوسرے کے قریب آئی ہیں تو ٹرمپ ان کو دور نہیں کر سکتا۔ یہ تضاد نئی صورتحال پیدا کرے گا۔ آنے والے وقت میں خود ڈپلومیسی اور عالمی پالیسیاں بھی تبدیل ہونگی۔ ٹرمپ صرف اظہار ہے۔

معیشت اور سیاست کی ترقی ساتھ ساتھ

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
معیشت اور سیاست کی ترقی ساتھ ساتھ

دنیا کی چار بڑی آڈٹ فرموں میں سے ایک فرم پرائیس واٹر ہاؤس کوپر نے یہ

 خوشخبری سنائی ہے کہ 2050 میں پاکستان کی معیشت کینیڈا کو بھی پیچھے چھوڑ دے گی۔ پاکستان کے بارے میں یہ پیش گوئی دراصل ملکی معیشت کو پیش نظر رکھ کر نہیں بلکہ موجود مواقع کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے۔ یعنی ہم اگر اپنی صلاحیتوں کو استعمال میں لا کر ان مواقع کو عملی شکل دیں۔ ایک پرانی کہاوت ہے کہ کسی شخص کے دروازے پر تین مرتبہ دستک ہوئی۔ اس شخص نے آخری دستک پر پوچھا دروازے پر کون ہے؟ جواب ملا مواقع یعنی opportunity ،اس شخص نے کہا کہ آپ opportunity نہیں کیوں کہ وہ تین مرتبہ دستک نہیں دیتی۔ یہ صحیح ہے کہ دنیا میں تبدیل شدہ معیشت ، اور ملک کے محل وقع کی وجہ سے ہمارے لءئے بہت سارے مواقع نکل آئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان تمام مواقع اور potential کو ہم کس طرح سے ٹھیک استعمال کر سکتے ہیں اور استفادہ  کر سکتے ہیں۔ 
اس رپورٹ میں پاکستان کو اتنے اچھی جگہ پوزیشن پر تو کھڑا کردیا ہے لیکن کوئی تفصیلات نہیں کہ کن بنیادوں پر یہ بات کہی جارہی ہے۔ جبکہ پولینڈ، چین، انڈیا، برازیل کے بارے میں تفصیلی تجزیے موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ویتں ام، انڈیا اور بنگلہ دیش کو 2050 تک تیز تر ترقی کرنے والے ملکوں میں شامل کیا گیا ہے۔ اسی طرح سے کہا گیا ہے کہ میکسیکو جرمنی اور برطانیہ سے بھی بڑا ہوگا۔ 
رپورٹ میں مجموعی طور پر کہا گیا ہے کہ یہ ممالک اپنے انفراسٹرکچر کو مضبوط بنائیں۔ اپنی معیشتوں کو قدرتی وسائل پر غیر ضروری طور پر انحصار کرنے کے بجائے کثیر رخون میں لے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے سیاسی اور قانونی اداروں کو موثر کریں۔ 
رپورٹ کی مجموعی سفارشات کے بعض نکات پاکستان کے حوالے سے نہایت ہی اہم ہیں، یعنی، انفرااسٹرکچر ، قدرتی وسائل پر غیرضروری انحصار، معیشت کو کچیر رخوں میں لے جانا، قانونی اور سیاسی اداروں کی مضبوطی۔ 
کسی بھی ملک کی مجموعی پیداوار کا تعلق کام کرنے والی افرادی قوت میں اضافہ اور ان کے معیار پر ہوتا ہے ان دونوں کا تعلق معیاری تعلیم پر ہے۔ جبکہ سرمایہ میں اضافے کا تعلق ٹیکنالاجی میں ترقی اورصحیح رخ میں سرمایہ کاری ہے۔ لوگوں کی قوت خرید کا تعلق بھی افرادی قوت کی تعلیم، تربیت اور ان کے حالات کار ، معاوضے اور ان کے مستل ملازمت پر منحصر ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ کی ملکی مارکیٹ مضبوط نہ ہو اور آپ مکمل طور پر غیر ملکی تجارت پر انحصار کر کے اپنی معیشت کو مضبوط بنائیں۔ لگوں کی قوت خرید جتنی زیادہ ہوگی وہ اسی حساب سے اپنی اشیائے صرف خرید کریں گے اور خریداری کے ذریعے بھی وہ اپنی معیشت کو مضبوط کر تے رہیں گے۔ اگر ملک میں مخلتف اشیاء کا معیاردرست نہیں ہوگا اور اس معیار کو بہتر رکھنے کے لئے قوانین اور قوانین پر عمل کرانے کے لئے مکینزم نہیں ہوگا تو ملکی اشیاء نہیں خریدی جائیں گے۔ ہمارے پاس ملکی صنعتوں کے مضبوط نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ معیار پر سودے بازی کی جاتی ہے۔ لہٰذا دوسرے ممالک کے اشیاء کے لئے مارکیٹ کھول دی جاتی ہے۔ یہ صورتحال معیشت کے دیگر شعبوں اور ٹیکنالاجی پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ 
ابھی چین کی ترقی اور وسطی ایشیا کا جنوب کی طرف ہو جانے کے بعد ایک بار پھر امریکہ کی دلچسپی اس علاقے میں بڑھ گئی ہے۔ وسطی ایشیا قدرتی وسائل خاص طور پر توانائی کے وسائل سے مالامال ہونے کے ساتھ ساتھ اچھی مارکیٹ بھی رکھتا ہے اور اچھی افرادی قوت بھی۔ یہ کسی طرح سے امریکہ کے مفاد میں نہیں کہ وسطی ایشیا اور باقی ایشیا کسی طور پر معاشی حوالے ایک دوسرے سے مل جائیں۔ 
یہ درست ہے کہ ملک میں بدترین غربت اور مہنگائی کے باوجود ملک میں اشیائے خوردنی کی پیداوار اتنی ہے جس کو قلت میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اس کی تقسیم کا معاملہ باقی معیشت کے شعبوں کی طرح یہاں بھی ایک سوال بنا ہوا ہے۔ 
جب سیاسی اور قانونی ادارے بنانے کی بات کی جاتی ہے تو معاملہ اچھی حکمرانی اور ملک میں معیشت کے ساتھ ساتھ ویسا منصفانہ اور نمائندہ سیاسی نظام بھی بنانا لازمی ہے۔ اچھی حکمرانی کی صورتحال آئے دن میڈیا میں رپورٹ ہو رہی۔ ملک میں موجود کئی ادارے اتنے غیر فعال ہو چکے ہیں کہ اپنے وجود کی اہمیت بھی کھو بیٹھے ہیں۔ کرپشن، پسند نا پسند، اقرباء پروری، ہمارے سیاسی اور سماجی نظام کا لازمی حصۃ بن گئے ہیں۔ آج کل صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے ایک بار پھر عدلیہ کے کندھوں پر یہ ذمہ داری ڈال دی گئی ہے۔
کئی معاملات جن کو سیاسی یا انتظامی طور پر حل کیا جاسکتا ہے ان کے لئے عدلیہ کو بیچ میں لایا جاتا ہے۔ اکثر دقفہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ادارے اپنے دائرے میں کام نہیں کرتے۔ جس کیو جہ سے بھی کئی مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں۔سیاسی ادارے بنانے سے مطلب سیاسی جماعتوں کا مضبوط ہونا ہی نہیں بلکہ سماج میں سیاسی شعور اور اس شعور کا سیاست پر دباؤ ہے۔ ہم ہر چھوٹے بڑے واقع پر محسوس کرتے ہیں کہ ہماری سیاسی جماعتیں اور سیاسی نظام کتناکمزور ہے؟ اس کمزوری کی وجہ سے عوام کی شرکت اور نمائندگی منتخب ایوانوں کے باوجود موثر اور صحیح طور پر نہیں ہو پاتی ہے۔ منتخب ایوان کئی فیصلے کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن وہ فیصلے کسی نہ کسی مصلحت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سننیٹ کے چیئرمن رضا ربانی کا حالیہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم مطلوبہ ترقی نہیں کر سکے ہیں۔ 
اصل بات یہ ہے کہ معیشت کی ترقی کا انحصار بنایدی طور پر اچھی سیاست اور اچھی انتظام کاری پر ہے۔ اگر ہم اچھی سیات اور اچھی انتظام کاری نہیں کر سکتے تو چاہے کنے ہی مواقع پیدا ہوتے رہے ہم ان سے استفادہ حاصل نہیں کر سکیں گے۔ یہ بات پاکستان کے بارے میں حالیہ رپورٹ کے حوالے سے بھی کہی جا سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم معیشت اور سیاست دونوں کو صحیح اور نمائندہ رخ میں چلائیں، صرف اسی صورت میں ملک اور قوم کا فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ 


پنجاب میں آپریشن

پنجاب میں آپریشن
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی

سندھ میں رینجرز، بلوچستان میں فرنٹیئر کنسٹبلری اور خیبرپختونخوا میں فورسز کے ذریعے آپریشن جاری ہے۔ اسی طرح سے وزیرستان اور فاٹا کے بعض لاقوں میں بھی آپریشن چل رہا ہے۔ پنجاب واحد صوبہ تھا جہاں پر آپریشن نہیں ہو رہا تھا۔ حالانکہ ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت وہاں بھی آپریشن ہونا تھا۔ جہاں کے لئے میڈیا رپورٹس اور بعض خفیہ اداروں کی اطلاعات کے مطابق فرقہ واریت اور جنگجو افراد کی نرسریاں ہیں۔
اب پنجاب کی باری آئی ہے۔ وہ ملک کے اس بڑے صوبے میں دہشتگردوں کے خاتمے امن و امان کی بحالی کے لئے رینجرز کو طلب کیا گیا ہے۔ یعنی بظاہر یہ وہی مقصد ہے جس کے لئے کراچی میں رینجرز کو بلایا گیا تھا۔ ۔ ممکن ہے کہ بعض لوگ اس کو اچھا شگون سمجھیں، لیکن اس کا ایک تکلیف دہ پہلو یہ بھی ہے کہ صوبے میں جو ارباب اختیار تھے وہ مناسب اور موثر اقدامات اٹھانے میں ناکام رہے۔ نتیجے میں حالات خراب ہوتے گئے۔ بالآخر آئین کی دفعہ 245 کے تحت رینجرز کو طلب کرلیا گیا۔

ضرب عضب اور ردالفساد میں دو فرق ہیں۔ جنرل راحیل شریف کے آپریشن ضرب عضب علاقے کو دوبارہ فتح کرنا یا حاصل کرنا تھا۔ جبکہ جنرل باجوہ کے آپریشن رد الفساد کا فوکس ملک کے اندر دہشتگردوں کے انفراسٹرکچر اور نیٹ ورک و حمایت کو تباہ کرنا ہے۔
ابھی تک ضرب عضب آپریشن جاری ہے ایسے میں نیا آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کس حد تک مناسبت ہے۔ تمام تر کمایابیوں کے باوجود آپریشن ضرب عضب ملک کے اندرونی خطرات کو ختم نہیں کرسکا۔ دہشتگرد دوبارہ منظم اور از سر نو گروہ بندی کر رہے ہیں۔
خیال کیا جاتا تھا کہ وزیرستان میں آپریشن سے اسلام آباد، کابل اور واشنگٹن کے درمیان عدم اعتماد کی فضا کو ختم کرے گا۔ لیکن معاملہ اس کے برعکس ہوا۔ اتحادی فنڈ میں کتوتی ہوئی۔
کراچی اور پنجاب کے درمیان کوئی مماثلت نہیں ۔ جب کراچی میں رینجرز کو بلایا گیا تھا تب حالات بہت مخلتف تھے۔
ملک کا سب سے بڑا شہر ہونے کے باوجود کراچی کا معاملہ کم پیچیدہ تھا۔ اول یہ کہ برسہا برس سے جاری دہشتگردی کے واقعات اور اس کے ساتھ سیاست کے میلاپ نے صورتحال کو گمبھیر بنا دیا تھا۔ سویلین ادارے شہر میں امن قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ صوبائی حکومت خود کو غیر فعال سمجھ رہی تھی۔کراچی نے ایسے دن بھی دیکھے کہ شہر تقریبا مختلف لسانی گروہوں کے درمیان بٹا ہوا شہر بنا ہوا تھا۔

90 کے عشرے سے جوں جوں حالات خراب ہونا شروع ہوئے وہاں پر وفاقی اداروں کی موجودگی اور عمل دخل بڑھ گیا، جس نے صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار کو عملی طور پر کم کردیا۔حکومت ایسے میں کیا کرے کیا نہ کرے اسے کچھ سمجھائی نہیں دے رہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وقتا فوقتا سندھ میں رینجرز کے قیام اور ان کے اختیارات کا معاملہ صوبائی اور وفاقی حکومت کے درمیان اختلافات کی وجہ بنا رہا۔ آہستہ آہستہ صورتحال یہ بن گئی کہ صوبائی حکومت کراچی میں امن و امان کی بحالی وفاقی معاملہ سمجھنے لگی۔ پہلے جو کچھ ہوا سو ہوا لیکن پیپلزپارٹی کی قیادت بھی اس کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی تھی۔ بالآخر کراچی میں ایک لسانی تنظیم کے کھاتے میں سب الزامات آ گئے۔ اور اس کے خلاف آپریشن جاری ہے۔

کراچی کے مقابلے میں لاہور ایک ہی زبان بولنے والوں کا شہر ہے۔ صوبے کی حکمرانی ایک ہی شخص کر رہا ہے وہ ہے وزیراعلیٰ پنجاب۔ سندھ کی طرح بعض علاقے یا محکمے کسی ایک خاص جماعت کو نہیں دیئے ہوئے ہیں اور نہ ہی پنجاب میں گورنر سندھ کی طرح بااختیار رہا کہ اسے وزیراعلیٰ کی طرح بعض انتظامی امور بھی عملی طور پر ادا کرنے پڑے ہوں۔ لاہور یا پنجاب میں مشتبہ لوگ اس طرح سے کھلے عام تیار نہیں ملیں گے جس طرح سے کراچی میں ملے تھے۔

زیادہ تر زور اس بات پر ہے کہ جنوبی پنجاب میں جنگجو افراد کی پناہ گاہیں یا نرسریاں ہیں۔ جس کے لئے میڈیا اور سیاسی حلقوں میں زور شور سے بات تیں عام ہیں۔ کیا باقی پنجاب اس طرح کی سرگرمیوں سے محفوظ اور پاک ہے؟ اگر پنجاب کے علاقے کو چھوڑ کر صرف جنوبی کو ٹارگیٹ بنایا جاگیا تو اس کے فوری خواہ طویل مدت کے مضمرات سے نہیں بچنا مشکل ہو جائے گا۔ جنوبی پنجاب کو ویسے ہی بہت شکایات ہیں۔ جو تخت لاہور کی بات کرتے ہیں۔ اگر آپریشن گیا جاتا ہے تو تخت لاہور والی بات صحیح سمجھی جائے گی۔ ایسے میں جذبات کو ٹھنڈا کرنا مشکل کام ہو جائے گا۔

یقنیناا قانون نافذ کرنے والے بلا امتیاز آپریشن کرنا چاہیں گے۔یہ بھی ممکن ہے کہ اس آپریشن میں وہ حلقے بھی گھسیٹے جائیں جو صوبے میں موجود نظام اور حکومت کا حصہ ہیں۔ یہ نواز لیگ کی مضبوط حکومت کے لئے چیلینج ہوگا کہ وہ ان سیاسی مضمرات کا سامنا کرے کیونکہ ایک سال کے بعد انتخابات ہونے والے ہیں۔ پارٹی کے لئے اپنے اتحادیوں کو مطمئن کرنا اور سمجھانا مشکل ہو جائے گا۔ یہ نواز لیگ کے لئے کڑا امتحان ہوگا۔ نواز لیگ مجبور ہو گئی ہے کہ وہ خود کو اپنے پرانے دوستوں سے دور رکھے۔ ظاہر ہے کہ اس بنیاد پر نواز لیگ پر تنقید بھی ہوگی۔

سوال یہ بھی ہے کہ مشتبہ لوگ اور معصوم لوگوں کے درمیان کیسے تفریق کی جائے گی؟ نواز لیگ نے کبھی یہ اصطلاح سنی ہی نہیں۔ وہ خود کو اس ہنگامی صورتحال کے لئے تیار کر سکے گی؟ حال ہی یہ اصطلاح ایجاد کی گئی کہ مقامی جنگجو نہیں ، بلکہ ان دہشتگردں کا تعلق باہر سے ہے۔ البتہ مقامی طور پر کچھ سہولت کار ہو سکتے ہیں۔ جو کہ کم نقصان کار ہیں پنجاب میں افغان شہریوں کی گرفتاریاں اس ضمن کی کڑی لگتی ہیں۔
شہباز شریف جو کہ اپنی طبع اور کام کے اسٹائل میں حکم چلانے والے رہے ہیں ان کے لئے بھی یہ آپریشن نیا تجربہ ہوگا کہ وہ ان اقدامات کو جسٹیفائی کرے جو کسی اور ادارے نے کئے ہوں۔
خیال کیا جارہا ہے کہ حالیہ آپریشن ردالفساد کا فوکس پنجاب ہوگا۔ یہ پنجاب میں سیاسی ڈائنامکس بھی تبدیل کر سکتا ہے۔
ہم گزشتہ تین چار عشروں سے ایک خاص مائینڈ سیٹ بنا رہے ہیں۔ اس مائینڈ سیٹ کے لوگ ہمیں عام لوگوں میں ہی نہیں سرکاری اداروں، مختلف سماجی شعبوں بشمول تعلیم میں بھی نظر آئیں گے۔اصل میں پورا بیانیہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ بیانیہ ہی مائینڈ سیٹ بناتا ہے۔
ضرب عضب آپرشن کو ابھی منطقی نتیجہ پر پہنچانا ہے ایسے میں ایک اور آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ ممکن ہے کہ اس کے نتیجے میں ہمارے ادارے دہشتگردوں کی ایک کھیپ یا نسل کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ لیکن جب تک ہم ان بنیادوں اور جڑوں کو نہیں پہچان پائیں گے تب تک ایک نسل کے بعد دوسری نسل پیدا ہوتی رہے گی۔ اور دہشتگرد تو ختم ہو تے رہیں گے لیکن دہشتگردی ختم نہیں ہوگی۔

فوجی عدالتوں کے بعدعدلیہ کے لئے امتحان

فوجی عدالتوں کے بعدعدلیہ کے لئے امتحان 
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی

دو سال قبل آئین میں ترمیم کے ذریعے قائم کی گئی فوجی عدالتیں ختم ہو گئی ہیں۔ دو سال کے لئے آئین اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کرکے یہ عدالتیں قائم کی گئی تھیں۔ تاکہ ملک میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی کی لہر کو روکا جاسکے۔ اب نئی اسٹبلشمنٹ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے موڈ میں نہیں۔ اگرچہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اگر تمام پارٹیاں متفق ہوئیں تو دوبارہ اس پر سوچا جاسکتا ہے۔ اور اس مقصد کے لئے پارلیمانی پارٹیوں سے مشاورت کی جائے گی۔ یعنی حکومت نے رضامندی کا اظہار کیا کے کہ اگر عسکری قوتیں فوجی عدالتیں دوبارہ قائم کرنا چاہیں تو سویلین حکومت اس کے لئے تیار ہے۔

2015 میں جب فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق ترمیم کی گئی تھی پاکستان کی تمام بار کونسلز نے اس ترمیم کی بھرپور مخالفت کی تھی اور اسے متوازی عدالتی نظام قرار دیا تھا۔ لیکن جب پشاور آرمی اسکول میں دہشتگردوں نے گھس کر معصوم بچوں کو قتل کیا تو عوامی دباؤ بڑھ گیا۔ نتیجے میں سپریم کورٹ کو بھی فوجی عدالتوں کے قیام کے حق میں فیصلہ دینا پڑا۔

اس سے قبل ریٹائرڈ جنرل کیانی نے اپنے دور میں خاص طور پرکراچی کے لئے فوجی عدالتوں کے قیام کی فرمائش کی تھی۔ اور کہا تھا کہ فوج سرف اس سورت میں امن و امان کے معاملات میں آگے آئے گی جب مقدمات چلانے کا اختیار بھی انہیں دے دیا جائے گا۔ عدلیہ میں یہ معاملہ خاص طور پر کراچی کے حوالے سے زیر بحث رہا، جہاں رینجرز مزید اختیارات مانگ رہی تھی ، اور بدامنی عام تھی۔ بعد میں علامہ طاہرالقادری کے ایک اخبار میں شایع ہونے والے خط کا سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا اور یہ آگے چل کرکراچی بدامنی کیس کے نام سے مشہور ہوا۔
کراچی اور ملک کے بعض دیگر علاقوں میں یہ صورتحال پیدا ہو گئی تھی کہ شدت پسندی کے حوالے سے عدالتیں مقدمات چلانے سے گریز کر رہی تھی۔ بعض ججز اور سرکاری وکلاء پر بھی حملے ہوئے۔

میاں نواز شریف نے 2013 میں تمام سیاسی جماعتوں کو بلا کر سیاسی رہنماؤں سے فوجی قیادت کی خواہش پر فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری حاصل کی تھی۔ اس منظوری میں ملک کی تمام سرکردہ سیاسی رہنما آصف علی زرادری، عمران خان، اسفندیار ولی، مولانا فضل الرحمان اور دیگر شامل تھے۔ فوجی عدالتوں نے متعدد مقدمات کے فیصلے سنائے۔ اور آرمی چیف نے باقاعدہ ان فیصلوں کی تقتیثق کی۔ ان فیصلوں سے دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچا۔
فوجی عدالتیں ایک ایسے ماحول میں بنی تھی جب مروجہ عدالتی نظام دباؤ میں تھا۔ عدالتی نظام اور ججزدہشتگردی کا شکار ہو رہے تھے۔ آئی ایس پی آر نے فوجی عدالتوں کوصحیح قرار دیتے ہوئے کہا۔ اس عرصے کے دوران 274 مقدمات فوجی عدالتوں کو بھیجے گئے۔ ان میں سے 161 کو سزائے موت سنائی گئی۔ 12کو پھانسی دی گئی۔ اور ۳۱۱ کومختلف میعاد کی سزائیں سنائی گئیں۔ اکثر کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ دہشتگردی کے مقدمات کی فوجی عدالتوں کے ذریعے نمٹانے کے اچھے نتائج نکلے اور دہشتگردی کی سرگرمیوں میں کمی واقع ہوئی۔
ملک بھر میں 11 فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھی، ان میں سے تین صوبہ خیبرپختونخوا میں، تین پنجاب میں ، دو سندھ اور ایک بلوچستان میں تھی۔
رواں سال انسانی حقوق کے لئے سرگرم عاصمہ جہانگیر سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی کہ فوجی عدالتوں میں جو مقدمات چلائے گئے ہیں ان کے مقدمات دوبارہ عام عدالتوں میں چلائے جائیں۔

کراچی میں ٹارگیٹ کلنگ، بلدیہ فیکٹری میں 250 افراد کو جلا کر قتل کرنے کا مقدمہ، 12 مئی کا سانحہ اور ایسے درجنوں مقدمات باقی ہیں ، جو ابھی نمٹائے نہیں جا سکے ہیں۔ 12مئی کا واقعہ لوگوں کو پتہ ہے کہ اسکا حکم کہا ں سے ملا تھا اور اس پر کس طرح سے عمل ہوا تھا۔ اس الزام میں گرفتار کراچی کے میئر منتخب ہو گئے اس پر پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، تحریک انصاف یا کسی اور سیاسی جماعت نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔
کرپشن سے متعلق مقدمات بھی اہمیت کے حامل ہیں۔ جو سندھ میں ایک عرصے سے لٹکے ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں کوئی پیش رفت نہیں ہو پارہی۔ سندھ کے تعلیمی اداروں کیس ربراہی بکتی رہی۔ آئی سندھ پولیس کی تقرری، سرکاری زمین، سالانہ بجٹ، آؤٹ سائیڈ بجٹ ٹھیکے ملازمتوں، حکومت سے وفاداری کر کے راتو رات کروڑ پتی ہونے کا مرض وبا کی طرح پھیل چکا ہے۔
بعض سیاسی رہنماؤں کی قلابازیوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کو بچانا چاہ رہے ہیں۔ اب آصف علی زرادری ڈاکٹر عاصم کو رہا کرنے کے جتن کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر عاصم تین سماعتوں پر عدالت میں بیماری کی وجہ سے حاضر نہیں ہو سکے۔ یہ کس طرح کے سیاسی قیدی ہیں؟ سیاسی کارکنوں کے لئے جیل تربیت گاہ ہوتی تھی اور ہتھکڑی کو اپنا زیور سمجھتے تھے۔

فوجی عدالتوں کے مدت ختم ہونے کے بعد دہشتگردی سے متعلق مقدمات انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں منتقل کئے جائیں گے۔ویسے خصوصی عدالتیں خصوصی حالات میں ہی قائم کی جاتی ہیں۔ ان کو ایک لحاظ سے عام عدالتی نظام کا حصہ نہیں مانا جاتا ہے۔
انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں سویلین جج مقرر ہیں۔اب ایک بار پھر عدلیہ کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔
ایک طرف سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کا کیس زیر سماعت ہے۔ دوسری طرف دہشتگردی سے متعلق مقدمات بھی واپس عام عدلیہ کے دائرے میں آ رہے ہیں۔ دہشتگردی سے متعلق مقدمات میں اگر معاملات کو ٹھیک سے نہیں دیکھا گیا تو ان ججز پر انگلیاں اٹھیں گی اور عدلیہ کی نیک نامی کو دھچکہ پہنچے گا۔ اور لوگوں کا عدلیہ سے اعتبار اٹھ جائے گا۔ یوں ملک میں امن و امان، دہشتگردی اور کرپشن جیسے معاملات کے ساتھ ساتھ سیاسی معاملات بھی عدلیہ کے فیصلوں کے منتظر ہو گئے ہیں۔
یہاں پر ایک ذمہ داری سویلین حکومت اور وسیلین قوتوں پر بھی ہے کہ وہ ملک میں رائج عدالتی نظام کو مضبطو کرنے میں کیا کردار ادا کرتے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک بار پھر اکیسویں آئینی ترمیم کی طرف لوٹنا پڑے۔

سیاسی صفحے کی تلاش

سیاسی صفحے کی تلاش
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
پی ایس ایل کا انعقاد خیر وخیرت سے ہو گیا۔ یوں عالمی طور پر ملکی ساکھ کو پہنچنے والا دھچکے سے پاکستان بچ گیا۔ یہ سب کچھ فوج اور یگر عسکری اداروں کے تعاون سے ممکن ہو سکا۔ پی ایس ایل پر پر عمران خان نے بیانات کے ذریعے کچھ طبع آزمائی کی لیکن اس میں انہیں کوئی زیادہ کامیابی نہیں ہوئی۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اب الیکشن کمیشن کو تختہ مشق بنانا چاہ رہے ہیں۔ عمران خان کی یہ روز آئندہ سال ہونے والے انتخابات تک جاری رہے گی۔ یہ ان کی حکمت عملی ہے کہ مسلسل اپوزیشن میں ہی رہنا ہے اور لوگوں کو یہ تاثر دینا ہے کہ اصل اور حقیقی اپوزیشن وہی ہیں۔

سیاسی حکومت اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان تناؤ کوئی نئی بات نہیں۔ یہ تناؤ جو پچاس کے عشرے میں شروع ہوا تھاکبھی ختم ہوپایا۔ البتہ کبھی اس میں تیزی آتی رہی تو کبھی شدت میں کمی۔ اس تناؤ کا شکار سیاست اور سیاسی جماعتیں بھی ہوئیں تو انتظامیہ اور گورننس بھی ہوئی۔ نواز لیگ اگرچہ ایک ہی پارٹی ہے لیکن اس کے اندر ایک سے زائد پارٹیاں ہیں۔ جو مختلف گروہوں اور مکتب فکر کی نمائندگی کرتی ہیں۔ مثلا سرتاج عزیز اور احسن اقبال کے لئے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ پارٹی کی درمیانی صفحوں کے بندے ہیں۔ ثناء اللہ کو دائیں کی جانب زیادہ جھکاؤ ہے۔ چوہدری نثار علی خان کو اسٹبلشمنٹ کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ لہٰذا وہ کئی مواقع پر پارٹی کی نہیں بلکہ اپنی بات کرتے ہیں۔

عمران خان کے دھرنے کے موقع پر ان کے بیانات کو پارٹی کے دیگر خواہ باہر سیاسی حلقے مشکوک نظر سے دیکھتے تھے۔ بہرحال ان کا ایک مرکزی کردار ہے۔ وہ ملک کے اندرونی معاملات پر کم اور بیرونی معاملات پر زیادہ بات کرتے ہیں۔ ان کا حالیہ بیان بھی اس بات کی عکاسی کرتا کہ وسیلین حکومت اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان تعلقات آج کل صحیح ہیں۔

جنرل راحیل شریف کے دور سپہ سالاری میں حکومت اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان سخت تناؤ کی صورتحال رہی۔ یہی صورتحال جنرل کیانی اور پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں بھی رہی۔ اس سے پہلے بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں فیصلے ٹرائیکا کے ذریعے طے ہوتے تھے۔ بعد میں نواز شریف کی بھی اسٹبلشمنٹ سے زیادہ نہیں بن سکی۔ صورتحال یہاں تک پہنچی کہ وزیراعظم نواز شریف نے آرمی چیف کو تبدیل کرنا چاہ لیکن ان کی یہ کوشش ناکام رہی نتیجے میں ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔

جنرل باجوہ کے آنے کے بعد صورتحال یں تبدیلی سمجھی جارہی ہے۔ اب نہ سرکاری اجلاسوں سے متعلق پہلے جیسی گرما گرمی کی خبریں آتی ہیں اور نہ ہی عسکری ادارے کی میڈیا ونگ کے ٹوئٹر سے الفاظ کی گولہ باری ہوتی ہے۔ اس میں جنرل باجوہ کی پالیسی کا کمال ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اب موجودہ اسمبلی کی آئینی مدت مکمل ہونے میں کوئی زیادہ وقت نہیں لہٰذا ا کسی فوری عمل کی ضرورت نہیں سمجھی جارہی۔ اس کے بجائے تمام تر نظریں آئندہ انتخابات پر ہی رکھی جارہی ہیں۔ نواز شریف بھی سیکھ گئے ہیں کہ کس طرح سے اسٹبلشمنٹ کو ڈیل کیا جائے۔

یہ کہہ سکتے ہیں کہ آج کل ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں سیاسی اور عسکری اداروں کے درمیان تعلقات پیشہ ورانہ طور پر استوار ہیں۔ اس کے دو بڑے اظہار نظر آرہے ہیں ایک پنجاب میں رینجرز کا آپریشن، دوسرا ملک میں فوجی عدالتوں کا دوبارہ قیام۔ اس سے پہلے نواز شریف اسٹبلشمنٹ کے یہ دونوں مطالبے ماننے کے لئے تیار نہیں تھے۔ دراصل عمران خان کے دھرنے نے سیاسی حکومت کو کمزور کر دیا تھا۔ بعد میں آرمی پبلک اسکول پر حملے نے فوجی عدالتوں کے قیام کو ناگزیر بنا دیا۔

جنرل کیانی نے اپنے دور سپہ سالاری میں بھی کراچی میں دہشتگردی کو روکنے کے لئے فوجی عدالتوں کے قیام اور عسکری اداروں کو پالیسی کے اختیارات دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن پیپلزپارٹی کی حکومت نے یہ بات نہیں مانی تھی۔ بعد میں جب 2013 کے عام انتخابات کے نتیجے میں نواز لیگ حکومت میں آئی تو اس نے سب سے پہلے یہی کام کیا تھا۔ اور آرمی چیف کے ساتھ آکر کراچی میں آپریشن شروع کرایا تھا۔ تب سندھ سے تعلق رکھنے والی بعض اہم پارٹیوں کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔ اعتماد میں لینے کی اس عمل سے سندھ کے قوم پرست خارج تھے۔

اب نواز لیگ ملک بھر میں فوجی عدالتوں کے قیام کے لئے سرگرم ہے۔ اس نے رینجرز کو بھی اپنے سیاسی قلعے پنجاب میں آپریشن کی اجازت دے دی ہے۔ یہ آپریشن عملا کتنا ہو رہا ہے اس کے کیا اثرات مرتب ہونگے؟ یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ اس آپریشن کے لئے عمران خان کو بڑی پریشانی ہے، وہ نہ اس آپریشن کی مخالفت کر پارہے ہیں اور نہ حمایت۔ عام تاثر یہ دیاجارہا ہے کہ پنجاب میں گڑبڑ افغان باشندے پھیلا رہے تھے۔ مقامی لوگ اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوتے۔

سچ تو یہ ہے کہ نئے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے وہ کام بڑے سکون اور آرام سے کر لئے جس کے لئے ان کے پیش رو میڈیا میں بہت شور غل ہو تھا۔ یعنی ماضی کے مقابلے میں دونوں فریقین ایک دوسرے کو بخوبی جانتے ہیں۔ لہٰذا یہ دونوں ایک ہی صفحے پر نظر آتے ہیں۔
ہمارے ہاں یک طرفہ جھکاؤ کی تاریخ زیادہ رہی ہے، سویلین معاملات پر عسکری قوتوں کا اثر زیادہ رہا ہے ۔ دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ نے سویلین اختیار کو مزید کمزور کیا۔ اب بھی اس جنگ کے ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آتے۔ اس لئے عسکری پلڑا آنے والے وقتوں میں بھی بھاری ہے گا۔

دہشتگردی ملک کے اندر ہو یا سرحد پار سے ہو رہی ہو، ایسے میں ان اداروں کو ہی مضبوط کرنے کی ضرورت پیدا ہوتی ہے جو اس دہشتگردی سے لڑ سکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ا یسے میں عسکری ادارے ہی مضبوط ہونگے۔ دہشتگردی کا دباؤ عدلیہ پر بھی محسوس کیا جاتا رہا ہے۔ جب کہ قانون نافذ کرنے کے لئے پولیس بھی غیر موثر ہورہی تھی کہ رینجرز کو پولیس کے اختیارت دیئے گئے، اور فوج کو عدالتیں قائم کرنے کا اختیار
دیا گیا۔ انتخابات ہوں یا مردم شماری ان کے لئے فوج کا کردار رکھا گیا ہے۔ سویلین حکومت دفاعی اور خارجہ پالیسی سے دستبردار ہوچکی ہے اور عملاان دو اہم امور پر فوج کا استحقاق تسلیم کر چکی ہے۔ ملک میں کوئی ایک بھی جماعت ایسی نہیں جو فوج کی بالادستی کو تسلیم نہ کرتی ہو۔ پیپلزپارٹی بھی فوجی عدالتوں کے قیام کے لئے رہا ہموار کر رہی تھی۔ تحریک انصاف بھی کسی نہ کسی طرح سے یہ کام کر ہی ہے۔ 



پاکستان کے گرد نواح کے حالات میں تناؤ، اور عدم استحکام ہے۔ فوج اور سیاسی قوتیں ایک صفحے پر نظر آتی ہیں۔ عملا نیم سویلین نظا م چل رہا ہے۔ جس میں تمام سیاسی جماعتیں ایک صفحے پر ہیں یہ اور بات ہے کہ یہ صفحہ سیاسی نہیں۔
سیاسی جماعتوں کا بطور سیاسی شعبے کے کوئی اپنا موقف ہیں۔ اور اگر کسی کا تھوڑا بہت ہے تو اس پر دیگر جماعتیں ساتھ نہیں۔ عملا کوئی سیاسی صفحہ ہیں۔ جس کو تلاش کرنا ازحد ضروری ہے۔