پیپلزپارٹی بطور اپوزیشن پارٹی: ایک جائزہ
تقریبا چار سال کی مفاہمتی سیاست کے بعد پیپلزپارٹی بالآخر واز حکومت کے خلاف سڑکوں پرآ گئی۔ اتوار کو یعنی پاناما گیت کی سماعت کرنے والی سپریم کورٹ کی بنچ کے محفوظ فیصلے سے ایک روز قبل پارٹی کی جانب سے صوبے کے مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ یہ بحران کی پاناما گیٹ یا پھر عمران خان کی وزیرعظم نواز شریف کو ہٹانے کی ضد اور خود کو وزیراعظم کے عہدے پر آنے کی جلدی سمجھا جارہا ہے۔ جبکہ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے حامی اسکو سازش قرار دے رہے ہیں۔ان کا اشارہ بعض غیر سیاسی حلقے کی طرف ہے۔ یہ سب وجوہات اپنی جگہ پر، اس تمام قصے میں اپوزیشن اور حکمرن نواز لیگ کی کوتاہیوں کا بڑا عمل دخل ہے۔
حکمران جماعت کی یہ غلطی ہے وہ اپوزیشن کو اپنے ساتھ رکھنا معیوب سمجھ رہی تھی۔ وہ پیپلزپارٹی اور عام لوگوں کو یہ تاثر دینا چاہ رہی تھی کہ پیپلزپارٹی کی حمایت کے بغیر ہی وہ حکومت چلا سکتی ہے۔ اس کا خیال تھا کہ چوبکہ پیپلزپارٹی اس پورے نظام کا لازمی حصہ ہے لہٰذا وہ کہے بغیر ہی برے وقت میں حکومت ک ساتھ دے گی۔
پیپلزپارٹی اپنی حکومت کی میعاد پورے کرنے کے بعد صرف سندھ میں حکومت پر ہی اکتفا کر رہی تھی۔ دیکھا جائے تو پیپلزپارٹی کے اپوزیشن کا رول موثر طور پر ادا نہ کرنے کی وجہ سے ایک خلاء پیدا ہوا، جس کو عمران خان اور ان کے احتجاج نے بھرا۔ یوں حالیہ بحران پیچیدہ ہوگیا۔
انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کی سرکاری پالیسی کا اعلان مخدوم امین فہیم نے جون 2013 میں کیا اور کہا کہ ’’تعمیری اپوزیشن‘‘ کا کردار ادا کرے گی۔ یعنی حکومت کو فری ہینڈ دے گی۔ عمران خان نے جب تحریک کا اعلان کیا تو سید خورشید احمد شاہ نے کہا تھا کہ پارٹی ’’حقیقی اپوزیشن‘‘ کا رول ادا کرے گی۔ مطلب پارٹی بطور اپوزیشن اپنی پوزیشن بتانا چاہ رہی تھی۔یہاں سے پیپلزپارٹی پر فرینڈؒ ی اپوزیشن کا ٹیگ لگ گیا۔ اس بیانیہ میں آگے چل کر2014 میں تبدیلی ہوئی، جس کا اظہار سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کیا کہ پا رٹی’’ ذمہ دارانہ اپوزیشن ‘‘ کا کردار ادا کرے گی۔ یہ وہی سال تھا جب عمران خان نے انتخابات میں دھاندلیوں کا الزام لانگ مارچ اور وفاقی دارالحکومت میں دھرنا دیا۔ 2014 کے دھرنے کے موقعہ پر پیپلزپارٹی نے حکومت کا ساتھ دیا۔ تب نواز لیگ پیپلز پارٹی اور دیگر پارٹیوں پر انحصار کر رہی تھی۔
عمران خان کا دھرنا اس وجہ سے ناکام رہا کہ سیاسی جماعتیں حکمران جماعت نواز لیگ کے ساتھ کھڑی تھی۔ یعنی بینظیر بھٹو نے جو میثاق جمہوریت بنایاتھا اس پر کسی تحت سیاسی قوتیں متحدہ تھیں۔ اورتیسری قوت کی گنجائش نہیں نکل رہی تھی۔نواز شریف کے خلاف کسی کارروائی سے پہلے یہ ضروری ہو گیا کہ میثاق جمہوریت کے جذبے کو ختم کیا جائے۔ اور سیاسی قوتوں خاص طور پر پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کو ایک دوسرے سے د ور کیا جائے۔کراچی آپریشن اور اسی دوران پیپلزپارٹی کے صوبائی وزراء کے خلاف کارروائی پر وزیراعظم نواز شریف کی خاموشی اور رضامندی نے راہ ہموار کردی۔ پیپلزپارٹی خود کو پنجاب میں بحال کرنے کی تیاری کر رہی تھی۔ ایسے میں پیپلزپارٹی کے خلاف کارروائی نواز شریف کو اچھی لگ رہی تھی کہ ان کی حریف جماعت کو پنجاب میں فعال ہونے کا موقعہ نہیں مل رہا۔دوسری جانب 2014 کے دھرنے کے تجربے کے بعد نواز لیگ نے سیکھ لیا کہ پیپلزپارٹی یا دوسری جماعتوں کے ساتھ یا ان کے بغیر کیسے اس صورتحال کو منہ دیا جائے۔
17 فروری 2014 کو سابق صدر پرویز مشرف پہلی مرتبہ سول عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ اسی سال مارچ میں عدالت نے ان پر 2007 میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے الزام میں غداری کا مقدہ میں فرد جرم عائد کی۔ 13 اگست کو تحریک انصاف اور عوامی تحریک نے لانگ مارچ اور دھرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ اور یوم آزادی کے موقعہ پر لاہور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ شروع ہو گیا۔ مشرف کو اکبر بگٹی قتل کیس میں بری کردیا گیا۔ اس مقدمے میں ریٹائرڈ جنرل کوبری ہی ہونا تھا کیونکہ اکبر بگٹی فوجی آپریشن میں مارے گئے تھے۔ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ دونوں مشرف پرآئین کی خلاف ورزی کا مقدمہ چلانے کے حوالے سے کوئی مشترکہ پالیسی نہیں بنا سکیں۔ دراصل دونوں جماعتیں اسٹبلشمنٹ کے پاس اپنی الگ الگ پوزیشن بنانا چاہ رہی تھی۔
جون 2015 میں شریک چیرمین آصف علی زرداری عسکری اسٹبلشمنٹ پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ وہ اپنی حدود سے تجاوز کر رہی ہے۔ سابق صدر نے کہا کہ آرمی چیف تین سال بعد آتے جاتے رہتے ہیں لیکن سیاسی قیادت برقرار رہتی ہے۔ ہم ملک کو بہتر جانتے ہیں اور اس کو بہتر طور پر چلانا بھی جانتے ہیں۔ انہوں نے متنبیہ کیا کہ سیاسی جماعتوں کی کردار کشی بند کی جائے نہیں تو ہم قیام پاکستان سے لیکر اب تک کے ملزم جنرلوں کی لسٹ جاری کریں گے۔
اٹھارہ ماہ تک وہ خود ساختہ جلاوطنی میں رہنے کے بعد 24 دسمبر 2016 کو وہ واپس وطن لوٹے۔ اس عرصے کے دوران بلاول بھٹو ہی ملک میں رہے۔ پیپلزپارٹی کااسی سال فروی میں یہ موقف رہا کہ وہ کہ’’ تعمیری اپوزیشن‘‘ کا رول ادا کرے گی۔
جون 2016 میں پہلی مرتبہ پیپلزپارٹی نے اپنے دبئی کے اجلاس میں حکومت کی باضابطہ اپوزیشن کا اعلان کیا۔ جون 2016 میں دبئی میں پیپلزپارٹی کا اجلاس ہوا جس میں پارٹی قیادت نے ملک میں اہم اور بڑی اپوزیشن پارٹی کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ پارٹی نے عدالفطر کے بعد عوامی رابطہ مہم چلانے کا بھی فیصلہ کیا۔ دوسری جماعتوں سے رابطے کا بھی فیصلہ اور یہ کہ پارٹی نواز لیگ کے ساتھ کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ بہرحال ملک میں جمہوری سیٹ اپ کو مضبوط کرنے کے لئے فعال کردار ادا کرے گی۔ پارٹی کی ازسرنوتنظیم کاری شروع کی۔
2 نومبر 2016 میں جب عمران خان نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا گھیراؤ کرنے کا اعلان کیا تو پیپلزپارٹی نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔ نواز حکومت نے سکون کا سانس لیا۔ بلاول بھٹو زرادری نے چار مطالبات رکھے: قومی سلامتی کے لئے پارلیمانی کمیٹی کی از سرنو تشکیل، مکمل وزیر خارجہ کا تقرر، پاناما لیکس کے لئے پیپلزپارٹی کا بل۔ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں منعقدہ کل جماعتی کانفرنسز کی قراداوں پر عمل درآمد۔ حکومت پاناما لیکس کے بل کے علاوہ باقی پر بات کرنے کے لئے تیار تھی۔
نواز لیگ پیپلز پارٹی کے ساتھ رسمی طور پر کبھی بھی رابطہ نہیں کیا، کیونکہ نواز لیگ سمجھتی تھی کہ پیپلزپارٹی کی مجبوری ہے، وہ اور لیگ دونوں ایک نظام کا حصہ ہیں لہٰذا پیپلزپارٹی نظام کی حمایت کرے گی۔
عمران خان کی دھواں دھار اپوزیشن کی وجہ سے پیپلزپارٹی کو کئی مرتبہ سوچنا
پڑا کہ وہ ’’ فرینڈلی اپوزیشن‘‘ کا کردار چھوڑ کر حقیقی اپوزیشن بن جائے۔ نومبر 2016 میں پیپلزپارٹی نے فرینڈلی اپوزیشن کا ٹیگ اتارنے کا فیصلہ کیا۔پیپلزپارٹی نے دسمبر 2016 میں پارٹی سے کہا کہ پنجاب میں تحریک شروع کرنے کی تیاری کرے۔ لانگ مارچ کا اعلان کیا۔ بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرادری نے قومی اسمبلی میں آنے کا فیصلہ کیا۔ اور دما دم مست قلندر کا نعرہ لگایا۔ لیکن عملی طور پر پیپلز پارٹی پنجاب کے بجائے سندھ میں سرگرم رہی۔ جبکہ پنجاب میں تحریک انصاف ہی سرگرم نظر آئی۔ اگر حکومت کی بھرپور مخالفت کرنی تھی تو پنجاب سے کرتی۔ خورشید شاہ بھی سندھ کے معاملات پر بات کرتے رہے۔ سنیٹ میں تمام تر سرگرمی رضا ربانی کی وجہ سے رہی۔
اپریل میں زرداری نے یہ کہنا شروع کیا کہ آئندہ حکومت ان کی پارٹی بنائے گی۔ لیکن تب تک خاصی دیر ہو چکی تھی۔ پارٹی اپنے کم از کم تین بڑے اعلانات یعنی پنجاب میں تحریک چلانے، آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کو ضمنی انتخابات کے ذریعے قومی اسمبلی میں لانے اور تحریک انصاف سے ہٹ کر اپنی پچ بنانے کے فیصلے پر عمل نہیں کر سکی۔ وجوہات درست صورتحال کا ادارک کرنا، یا پارٹی کی قیادت کا ملک سے غیر حاضر ہونا یا پارلیمنٹ میں موجود پارٹی کی قیادت کی صلاحیت ہو سکتی ہے۔
اس پس منظر میں کہا جاسکتا ہے کہ عملی طور پر پیپلزپارٹی شروعاتی ہی بھرپور اپوزیشن کا کردار ادا کرنے میں ناکام رہی۔ اور یہ صورتحال پورے چار سال تک جاری رہی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آج کے حالات میں جب پتے اس کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں پیپلزپارٹی اس کمی کو کس طرح سے پورا کرتی ہے؟
تقریبا چار سال کی مفاہمتی سیاست کے بعد پیپلزپارٹی بالآخر واز حکومت کے خلاف سڑکوں پرآ گئی۔ اتوار کو یعنی پاناما گیت کی سماعت کرنے والی سپریم کورٹ کی بنچ کے محفوظ فیصلے سے ایک روز قبل پارٹی کی جانب سے صوبے کے مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ یہ بحران کی پاناما گیٹ یا پھر عمران خان کی وزیرعظم نواز شریف کو ہٹانے کی ضد اور خود کو وزیراعظم کے عہدے پر آنے کی جلدی سمجھا جارہا ہے۔ جبکہ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے حامی اسکو سازش قرار دے رہے ہیں۔ان کا اشارہ بعض غیر سیاسی حلقے کی طرف ہے۔ یہ سب وجوہات اپنی جگہ پر، اس تمام قصے میں اپوزیشن اور حکمرن نواز لیگ کی کوتاہیوں کا بڑا عمل دخل ہے۔
حکمران جماعت کی یہ غلطی ہے وہ اپوزیشن کو اپنے ساتھ رکھنا معیوب سمجھ رہی تھی۔ وہ پیپلزپارٹی اور عام لوگوں کو یہ تاثر دینا چاہ رہی تھی کہ پیپلزپارٹی کی حمایت کے بغیر ہی وہ حکومت چلا سکتی ہے۔ اس کا خیال تھا کہ چوبکہ پیپلزپارٹی اس پورے نظام کا لازمی حصہ ہے لہٰذا وہ کہے بغیر ہی برے وقت میں حکومت ک ساتھ دے گی۔
پیپلزپارٹی اپنی حکومت کی میعاد پورے کرنے کے بعد صرف سندھ میں حکومت پر ہی اکتفا کر رہی تھی۔ دیکھا جائے تو پیپلزپارٹی کے اپوزیشن کا رول موثر طور پر ادا نہ کرنے کی وجہ سے ایک خلاء پیدا ہوا، جس کو عمران خان اور ان کے احتجاج نے بھرا۔ یوں حالیہ بحران پیچیدہ ہوگیا۔
انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کی سرکاری پالیسی کا اعلان مخدوم امین فہیم نے جون 2013 میں کیا اور کہا کہ ’’تعمیری اپوزیشن‘‘ کا کردار ادا کرے گی۔ یعنی حکومت کو فری ہینڈ دے گی۔ عمران خان نے جب تحریک کا اعلان کیا تو سید خورشید احمد شاہ نے کہا تھا کہ پارٹی ’’حقیقی اپوزیشن‘‘ کا رول ادا کرے گی۔ مطلب پارٹی بطور اپوزیشن اپنی پوزیشن بتانا چاہ رہی تھی۔یہاں سے پیپلزپارٹی پر فرینڈؒ ی اپوزیشن کا ٹیگ لگ گیا۔ اس بیانیہ میں آگے چل کر2014 میں تبدیلی ہوئی، جس کا اظہار سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کیا کہ پا رٹی’’ ذمہ دارانہ اپوزیشن ‘‘ کا کردار ادا کرے گی۔ یہ وہی سال تھا جب عمران خان نے انتخابات میں دھاندلیوں کا الزام لانگ مارچ اور وفاقی دارالحکومت میں دھرنا دیا۔ 2014 کے دھرنے کے موقعہ پر پیپلزپارٹی نے حکومت کا ساتھ دیا۔ تب نواز لیگ پیپلز پارٹی اور دیگر پارٹیوں پر انحصار کر رہی تھی۔
عمران خان کا دھرنا اس وجہ سے ناکام رہا کہ سیاسی جماعتیں حکمران جماعت نواز لیگ کے ساتھ کھڑی تھی۔ یعنی بینظیر بھٹو نے جو میثاق جمہوریت بنایاتھا اس پر کسی تحت سیاسی قوتیں متحدہ تھیں۔ اورتیسری قوت کی گنجائش نہیں نکل رہی تھی۔نواز شریف کے خلاف کسی کارروائی سے پہلے یہ ضروری ہو گیا کہ میثاق جمہوریت کے جذبے کو ختم کیا جائے۔ اور سیاسی قوتوں خاص طور پر پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کو ایک دوسرے سے د ور کیا جائے۔کراچی آپریشن اور اسی دوران پیپلزپارٹی کے صوبائی وزراء کے خلاف کارروائی پر وزیراعظم نواز شریف کی خاموشی اور رضامندی نے راہ ہموار کردی۔ پیپلزپارٹی خود کو پنجاب میں بحال کرنے کی تیاری کر رہی تھی۔ ایسے میں پیپلزپارٹی کے خلاف کارروائی نواز شریف کو اچھی لگ رہی تھی کہ ان کی حریف جماعت کو پنجاب میں فعال ہونے کا موقعہ نہیں مل رہا۔دوسری جانب 2014 کے دھرنے کے تجربے کے بعد نواز لیگ نے سیکھ لیا کہ پیپلزپارٹی یا دوسری جماعتوں کے ساتھ یا ان کے بغیر کیسے اس صورتحال کو منہ دیا جائے۔
17 فروری 2014 کو سابق صدر پرویز مشرف پہلی مرتبہ سول عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ اسی سال مارچ میں عدالت نے ان پر 2007 میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے الزام میں غداری کا مقدہ میں فرد جرم عائد کی۔ 13 اگست کو تحریک انصاف اور عوامی تحریک نے لانگ مارچ اور دھرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ اور یوم آزادی کے موقعہ پر لاہور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ شروع ہو گیا۔ مشرف کو اکبر بگٹی قتل کیس میں بری کردیا گیا۔ اس مقدمے میں ریٹائرڈ جنرل کوبری ہی ہونا تھا کیونکہ اکبر بگٹی فوجی آپریشن میں مارے گئے تھے۔ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ دونوں مشرف پرآئین کی خلاف ورزی کا مقدمہ چلانے کے حوالے سے کوئی مشترکہ پالیسی نہیں بنا سکیں۔ دراصل دونوں جماعتیں اسٹبلشمنٹ کے پاس اپنی الگ الگ پوزیشن بنانا چاہ رہی تھی۔
جون 2015 میں شریک چیرمین آصف علی زرداری عسکری اسٹبلشمنٹ پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ وہ اپنی حدود سے تجاوز کر رہی ہے۔ سابق صدر نے کہا کہ آرمی چیف تین سال بعد آتے جاتے رہتے ہیں لیکن سیاسی قیادت برقرار رہتی ہے۔ ہم ملک کو بہتر جانتے ہیں اور اس کو بہتر طور پر چلانا بھی جانتے ہیں۔ انہوں نے متنبیہ کیا کہ سیاسی جماعتوں کی کردار کشی بند کی جائے نہیں تو ہم قیام پاکستان سے لیکر اب تک کے ملزم جنرلوں کی لسٹ جاری کریں گے۔
اٹھارہ ماہ تک وہ خود ساختہ جلاوطنی میں رہنے کے بعد 24 دسمبر 2016 کو وہ واپس وطن لوٹے۔ اس عرصے کے دوران بلاول بھٹو ہی ملک میں رہے۔ پیپلزپارٹی کااسی سال فروی میں یہ موقف رہا کہ وہ کہ’’ تعمیری اپوزیشن‘‘ کا رول ادا کرے گی۔
جون 2016 میں پہلی مرتبہ پیپلزپارٹی نے اپنے دبئی کے اجلاس میں حکومت کی باضابطہ اپوزیشن کا اعلان کیا۔ جون 2016 میں دبئی میں پیپلزپارٹی کا اجلاس ہوا جس میں پارٹی قیادت نے ملک میں اہم اور بڑی اپوزیشن پارٹی کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ پارٹی نے عدالفطر کے بعد عوامی رابطہ مہم چلانے کا بھی فیصلہ کیا۔ دوسری جماعتوں سے رابطے کا بھی فیصلہ اور یہ کہ پارٹی نواز لیگ کے ساتھ کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ بہرحال ملک میں جمہوری سیٹ اپ کو مضبوط کرنے کے لئے فعال کردار ادا کرے گی۔ پارٹی کی ازسرنوتنظیم کاری شروع کی۔
2 نومبر 2016 میں جب عمران خان نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا گھیراؤ کرنے کا اعلان کیا تو پیپلزپارٹی نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔ نواز حکومت نے سکون کا سانس لیا۔ بلاول بھٹو زرادری نے چار مطالبات رکھے: قومی سلامتی کے لئے پارلیمانی کمیٹی کی از سرنو تشکیل، مکمل وزیر خارجہ کا تقرر، پاناما لیکس کے لئے پیپلزپارٹی کا بل۔ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں منعقدہ کل جماعتی کانفرنسز کی قراداوں پر عمل درآمد۔ حکومت پاناما لیکس کے بل کے علاوہ باقی پر بات کرنے کے لئے تیار تھی۔
نواز لیگ پیپلز پارٹی کے ساتھ رسمی طور پر کبھی بھی رابطہ نہیں کیا، کیونکہ نواز لیگ سمجھتی تھی کہ پیپلزپارٹی کی مجبوری ہے، وہ اور لیگ دونوں ایک نظام کا حصہ ہیں لہٰذا پیپلزپارٹی نظام کی حمایت کرے گی۔
عمران خان کی دھواں دھار اپوزیشن کی وجہ سے پیپلزپارٹی کو کئی مرتبہ سوچنا
پڑا کہ وہ ’’ فرینڈلی اپوزیشن‘‘ کا کردار چھوڑ کر حقیقی اپوزیشن بن جائے۔ نومبر 2016 میں پیپلزپارٹی نے فرینڈلی اپوزیشن کا ٹیگ اتارنے کا فیصلہ کیا۔پیپلزپارٹی نے دسمبر 2016 میں پارٹی سے کہا کہ پنجاب میں تحریک شروع کرنے کی تیاری کرے۔ لانگ مارچ کا اعلان کیا۔ بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرادری نے قومی اسمبلی میں آنے کا فیصلہ کیا۔ اور دما دم مست قلندر کا نعرہ لگایا۔ لیکن عملی طور پر پیپلز پارٹی پنجاب کے بجائے سندھ میں سرگرم رہی۔ جبکہ پنجاب میں تحریک انصاف ہی سرگرم نظر آئی۔ اگر حکومت کی بھرپور مخالفت کرنی تھی تو پنجاب سے کرتی۔ خورشید شاہ بھی سندھ کے معاملات پر بات کرتے رہے۔ سنیٹ میں تمام تر سرگرمی رضا ربانی کی وجہ سے رہی۔
اپریل میں زرداری نے یہ کہنا شروع کیا کہ آئندہ حکومت ان کی پارٹی بنائے گی۔ لیکن تب تک خاصی دیر ہو چکی تھی۔ پارٹی اپنے کم از کم تین بڑے اعلانات یعنی پنجاب میں تحریک چلانے، آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کو ضمنی انتخابات کے ذریعے قومی اسمبلی میں لانے اور تحریک انصاف سے ہٹ کر اپنی پچ بنانے کے فیصلے پر عمل نہیں کر سکی۔ وجوہات درست صورتحال کا ادارک کرنا، یا پارٹی کی قیادت کا ملک سے غیر حاضر ہونا یا پارلیمنٹ میں موجود پارٹی کی قیادت کی صلاحیت ہو سکتی ہے۔
اس پس منظر میں کہا جاسکتا ہے کہ عملی طور پر پیپلزپارٹی شروعاتی ہی بھرپور اپوزیشن کا کردار ادا کرنے میں ناکام رہی۔ اور یہ صورتحال پورے چار سال تک جاری رہی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آج کے حالات میں جب پتے اس کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں پیپلزپارٹی اس کمی کو کس طرح سے پورا کرتی ہے؟
Sohail Sangi Column .. Nai Baat July 25, 2017

