Tuesday, August 21, 2018

نئے پاکستان کا میچ اور سندھ



نئے پاکستان کا میچ اور سندھ

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
نئے پاکستان میں نیا میچ شروع ہونے جارہاہے۔ وزیراعظم عمران خان کی نئی ٹیم کا اعلان کیا جاچکا ہے۔مخالف ابھی ٹیم سازی کا مرحلہ مکمل نہیں کر سکی ہے۔ پہلے دو مرحلوں میں اسپیکر، ڈپٹی سپیکر اوروزیراعظم کا انتخاب ہو چکا۔ وزیراعظم کے انتخاب میں حزب اختلاف تین حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ابھی تین مرحلے باقی ہیں جن میں صدر، سینیٹ کے چیئرمین اور اپوزیشن لیڈر کا انتخاب باقی ہے۔ ایک سے زائد سلیکٹرز اور ٹیم میں شامل گروپوں کے سیاسی اور ذاتی طور پر مفادات میں کم ہم آہنگی کی وجہ سے پارلیمنٹ میں مضبوط وسیع تر اتحاد کے امکانات کم نظر آرہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ عمران کم از نصف آئینی مدت تک اپوزیشن کے دباؤ کے بغیر حکومت چلا لیں گے۔ 
حکومت ہو یا کرکٹ نہ اکیلا کپتان کھیلتا ہے اور نہ اکیلا وزیراعظم حکومت چلاتا ہے۔ لہٰذا میچ جیتنے کے لئے ٹیم میں شامل کھلاڑی بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ پارٹی ٹکٹ دینے اور انتخابی حکمت عملی کے موقع پر یہ کہہ کر تحریک انصاف کے کارکنوں کو خاموش کردیا گیاکہ انتخاب جیتنے کے لئے الیکٹ ایبلز اور پیسہ ضروری ہے۔ لیکن جب کابینہ تشکیل دی گئی اس وقت بھی یہی حکمت عملی کارفرما رہی۔ کابینہ میں بھی کچھ زیادہ نیا نہیں۔وزیراعظم عمران خان کی ٹیم پر جائزہ دلچسپ منظر نامہ پیش کرتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ریٹائرڈ جنرل مشرف کی روح عمران خان کی کابینہ میں آگئی ہے۔ 

اکیس رکنی کابینہ میں سے 12 ارکان مشرف کیساتھ کام کر چکے ہیں۔ سابق جنرل پرویز مشرف کے ترجمان،ان کے سابق اٹارنی جنرل اور ان کی کابینہ اور کور ٹیم کے کئی ارکان شامل تھے۔کابینہ کے وہ ارکان جو مشرف کے ساتھ کام کرچکے ہیں ان میں فروغ نسیم،طارق بشیر چیمہ،غلام سرور خان،زبیدہ جلال،فواد چودھری،شیخ رشید احمد،خالد مقبول صدیقی،شفقت محمود،مخدوم خسرو بختیار،عبدالرزاق داؤد،ڈاکٹر عشرت حسین اور امین اسلم شامل ہیں۔سینیٹرفروغ نسیم جنہیں قانون و انصاف کا سب سے اہم منصب دیا گیا ہے ن کی ایم کیو ایم سے رفاقت رہی ہے۔ انہوں نے ہی ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے درمیان مصالحت کا فارمولا بنایا اور اس پر عمل کیا۔ واضح رہے کہ اس فارمولا میں ایم کیو ایم کے سنیئر رہنما فاروق ستار آؤٹ ہیں۔
سینیٹرفروغ نسیم کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ وہ غدار ی کیس میں مشرف کے اٹارنی جنرل ہیں۔ایم کیو ایم مشرف کی اتحادی رہی ہے۔ فروغ نسیم وزیر قانون بننے کے بعد مقدمے کی پیروی نہیں کرسکیں گے۔لیکن ان کا وزیر قانون بننا مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے پر اثر اندازہوگا۔ خصوصی عدالت دوبارہ سماعت شروع ہوگئی ہے اور سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کو واپس لانے کی ہدایت کردی ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ عمران خان کیا فیصلہ کرتے ہیں ۔ یاد رہے کہ پی ٹی آئی رہنما شفقت محمود جو کہ عمرا ن خان کی کابینہ کے حصہ ہیں۔انہوں نے الیکشن کے دنوں میں کیپٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے مشرف کے ٹرائل کی درخواست کی تھی۔

کابینہ کے پانچ اراکین پرویز خٹک،بابر اعوان،شاہ محمود قریشی،فہمیدہ مرزا اور فواد چودھری نے بھی وزیر کے طور پر پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت میں کام کیا۔یعنی 17 سے زائد افراد مشرف دور یا پھر پیپلز پارٹی کی حکومت میں رہے ہیں۔ یہ سب لوگ اگر اتنے اچھے تھے تو ماضی میں انہوں نے کیا کردار ادا کیا؟ اپنے اس دور کا وہ دفاع کریں گے؟ یا اپنی کارکردگی بتا ئیں گے؟یا پھر یہ سمجھا جائے کہ ان لوگوں کا شمار ماہرین میں سے ہوتا ہے اور وہ بطور پروفیشنل ان سے کوئی بھی کام لے سکتا ہے۔ دراصل ایسا نہیں۔ 
کابینہ سازی میں بھی مصلحتیں اور سیاسی فیصلے آڑے آئے۔ چوہدری برادران جن کی مدد سے تحریک انصاف پنجاب میں حکومت بنائی ہے، یہ وہی برادران ہیں جن کی وجہ سے عمران خان نے جنرل مشرف کا ساتھ چھوڑا تھا۔ اب انہی کو گلے لگا رہے ہیں اور اہم منصب دے رہے ہیں۔ کابینہ کے تین ارکان اسد عمر،شیریں مزاری اور عامر کیانی وہ ہیں جو پی ٹی آئی کے اپنے ہیں، جو کبھی دوسری پارٹی کا باقاعدہ حصہ نہیں رہے ۔
کابینہ اور دیگر اہم وفاقی عہدوں پر سندھ سے لئے گئے ارکان کا معاملہ غور طلب ہے۔ جہاں حکمران جماعت نے منصب کراچی تک ہی محدود رکھے ہیں، اور باقی سندھ کو پیپلزپارٹی کے کھاتے میں چھوڑدیا ہے۔حکمران جماعت کے اتحادیوں میں ایم کیو ایم سب سے زیادہ فائدہ میں رہی، جس کو ایوان میں صرف سات نشستوں کے باوجود کابینہ میں دو منصب ملے ۔مسلم لیگ (ق) سندھ کے گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس ، شیخ رشید کی عوامی مسلم لیگ اور فاٹا کو تحریک انصاف حکومت میں صرف ایک ایک وزارت ملی۔ ایسا لگتا ہے کہ سندھ سے لئے گئے افراد کی نامزدگی کے لئے ایم کیو ایم سے مشاورت کی گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہفتہ پہلے کراچی کے میئر وسیم اختر نے پیشگی ماحول بنایا۔ انہوں نے وفاقی اردو یونیورسٹی کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی سے اگر کسی کو اہم عہدے پر لیا جاتا ہے تو بعض لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ یہ ان کا اشارہ تھا ۔
معاشی و مالی امور کے مشیر سابق گورنر اسٹیٹ بینک عشرت حسین ، اٹارنی جنرل انوار منصور، نامزد گورنر سندھ عمران اسمٰعیل اور صدر کے عہدے کے لئے عارف علوی کی نامزدگی سامنے آئی ہے۔ ان سب کا تعلق کراچی سے ہے۔ 
اگرچہ سندھ سے سابق چیئرمین سینیٹ اور مالی امور کے ماہر محمد میاں سومرو تحریک انصاف کی ٹکٹ پر جیت کر آئے تھے۔ اسی طرح سے سید علی نواز شاہ پیپلزپارٹی سے بغاوت کر کے آزاد حیثیت میں منتخب ہوئے تھے۔ لہٰذا سندھ کے اندرونی علاقوں کی حکومت میں شرکت اور نمائندگی خال خال رہے گی۔ 
یہ درست ہے کہ تحریک انصاف یا اس کی حامی جماعتوں کی باقی سندھ میں انتخابات کے حوالے سے نمائندگی کوئی زیادہ نہیں۔ اس میں سندھ کے لوگوں کا اتنا قصور نہیں بلکہ اس کی وجہ خود تحریک انصاف کی اپنی انتخابی حکمت عملی تھی۔ کیونکہ سندھ میں پی ٹی آئی نے اپنے امیدوار کھڑے کئے۔ جیسے اب حکمران جماعت سندھ کی اقتدار میں شرکت کا معاملہ پیپلزپارٹی پر چھوڑ رہی ہے اسی طرح سے انتخابات کا معاملہ اس نے جی ڈی اے پر چھوڑدیا تھا،۔ 
کراچی سندھ کا ہی دارلحکومت ہے ۔ اور صوبے کا اٹوٹ انگ ہے۔ لسانی تقسیم اور اس کو کئی برسوں تک ہوا دینے کے بعدکر اچی اور باقی سندھ کی سیاست اور انداز فکر مختلف ہو گیا ہوتا یہ رہا ہے کہ دو لسانی کمیونٹیز کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑا کیا جاتا رہا ہے اور انہیں یہ باور کرایا جاتا رہا ہے کہ ان دونوں کے مفادات ہم آہنگ نہیں بلکہ ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے جامع پالیسی اور انتھک کوشوں کی ضرورت ہے۔ سابق اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا کی ان کو دیئے گئے قلمدان کی وجہ سے اہمیت ہوسکتی۔ خاص طور پر حالیہ مالی بحران اور وفاق کے اخراجات پورے نہ ہونے جب اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کو تبدیل کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہجنوبی پنجاب کا صوبہ بنانے کا مطالبہ بھی سیاسی طور پر تمام بڑی جماعتیں تسلیم کر چکی ہیں لیکن اس کو عملی شکل دینے میں کئی رکاوٹیں ہیں۔ 
تحریک انصاف کی موجودہ حکمت عملی میں وہ وہ ایم کیو ایم کے فریم میں خود کو رکھ کر رہی ہے۔ ایم کیو ایم اپنی سیاسی بقا کے لئے چاہتی ہے کہ تحریک انصاف لگ بھگ اس کے مطالبات مانے، اور اسی پرانی ڈگر پر چلے۔ایم کیو ایم یہ بھی چاہے گی کہ اس پر چسپاں’’غدار ی کے لیبل‘‘ کو اتارے۔وزیراعظم عمران خان اور ان کی کراچی سے لی گئی ٹیم کے ذریعے کراچی آپریشن میں رلیف لے ۔
تحریک انصاف نے سندھ کے لئے جو اقتدار میں شرکت کا فارمولا بنایا ہے وہ صرف کراچی فوکسڈ ہے۔ یہ وہی ماڈل وہ ہے جو مسلم لیگ نواز استعمال کرتی رہی ہے۔نو از لیگ نے بھی گورنر، وفاقی وزراء، صدر، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر خواہ مخصوص نشستوں سینیٹ میں باقی سندھ کو نظر انداز کیا۔اس کا منطقی طور پر سیاسی فائدہ پیپلزپارٹی کو ہی ملا۔ یہ درست ہے کہ آج تحریک انصاف سندھ میں گراس روٹ سیاسی جماعت نہیں۔کیا وہ خود کو آنے والے وقتوں بھی ایسا ہی رکھے گی؟ 



کابینہ کچھ زیادہ نہیں ہے

https://www.naibaat.pk/20-Aug-2018/15903

Friday, August 17, 2018

سندھ میں سیاسی صف بندی کا نیا موڑ



سندھ میں نئے سیاسی کھچاؤ 

سندھ میں سیاسی صف بندی کا نیا موڑ

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی

پیپلزپارٹی سندھ میں بغیر کسی اور جماعت یا گروپ کی مدد کے اکیلے حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔ اس کے گلے میں ایم کیو ایم کی گھنٹی بھی نہیں ہے جس کی پیپلزپارٹی کے رہنما اکثر شکایت کیا کرتے تھے۔ اب کسی طور پر بھی اس پر مخلوط حکومت بنانے کا بھی دباؤ نہیں۔ اس کو سندھ میں فری ہینڈ مل گیا ہے۔ مخلوط حکومت چاہے سیاسی مصلحت کی بناء پر بنائی جائے یا مطلوبہ اراکین کی تعداد کے لئے کی جائے، اس کو پالیسی اور فیصلہ سازی خواہ عمل درآمد میں بہرحال مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 

اس مرتبہ سرکاری بینچوں پر کئی نئے چہرے ہیں تو کئی پرانے بھی۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اسمبلی پارٹی کیڈرمثلا نثار کھڑو، منظور وسان ، پیر مظہرالحق جیسے پرانے رہنماؤں سے تقریبا خالی ہوگئی ہے جو محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ تھے۔ یا پرانا پارٹی کیڈر تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ انہی خاندانوں کے نوجوان اب اسمبلی میں ہیں۔ لہٰذا سمبلی میں خاندانی تسلسل تو رہا، لیکن سیاسی جدوجہد کا تسلسل نہیں رہا۔ یہ درست ہے کہ اسمبلی بالکل نئے چہرے کم ہیں ، مگر اکثریت ان اراکین کی ہے جن کا براہ راست سیاسی تحریکوں یا جدوجہد سے تعلق نہیں رہا ہے۔ 
پیپلزپارٹی نے الیکٹ ایبلز کی سیاست کی حکمت عملی کے تحت حالیہ انتخابات میں حصہ لیا ۔ سندھ بھر میں تمام الیکٹ ایبلز کو اپنی گود میں لے لیا۔ پارٹی ٹکٹ دینے پر اختلافات سامنے آئے تو اس غلطی کا احساس ہو ا اور اسکو حکمت عملی تبدیل کری پڑی۔ پارٹی نے پچھڑی ہوئی برادریوں کو اہمیت دینا شروع کی۔ کرشنا کولہی کو سینیٹر منتخب کیا۔ میگھواڑ برادری کو اپنے ساتھ ملایا۔ تنزیلہ شیدی کو خواتین کی مخصوص نشست پر لے آئی۔ان برادریوں کو حکمران جماعت میں شمولیت سے شراکت داری کا احساس پیدا ہوا۔ نتیجے میں صوبے کے زرین اضلع میں پارٹی کے امیدواروں کی پوزیشن مضبوط ہو گئی۔ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق پارٹی امیدواروں کی یقینی جیت کی وجہ یہی بنی۔ جب نتائج آئے تو پارٹی کی نشستوں میں اضافہ ہی نہیں ہوا بلکہ جیتنے والے امیدواروں کے ووٹوں میں اضافہ ہوا۔ اس کا فائدہ یہ بھی ہوا کہ پارٹی قیادت نے ان الیکٹ ایبلز کو یہ پیغام بھی دیا کہ خواہ وہ کتنے ہی بڑے اور بااثر کیوں نہ ہو، پارٹی کی حمایت کے بغیر وہ جیت نہیں سکتے۔ اس کی مثال بڑے بڑے ہیوی ویٹ پیر پاگارا کے بھائی پیر صدرالدین شاہ، غلام مرتضیٰ جتوئی اور ارباب غلام رحیم کی شکست ہے۔ 
پیپلزپارٹی نے سید مراد علی شاہ کو بطور وزیراعلیٰ نامزد کیا ہے۔ لیکن ان کی کابینہ میں بعض پرانے چہرے نہیں ہونگے۔فریال تالپور کی سندھ اسمبلی میں موجودگی سے یہی سمجھا جارہا ہے کہ حکومت سندھ اور اسمبلی کے معاملات وہی دیکھیں گی۔ نامزد وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے یوم آزادی کے موقع پر میڈیا کو بتایا کہ سندھ کابینہ میں بہتر افراد لئے جائیں گے۔ کراچی کے جن لوگوں کو عوام نے مسترد کیا ہے ان کے ساتھ بھی بیٹھنا پڑا تو بیٹھیں گے۔ صوبے میں انفراسٹرکچر کی بہتری، صحت، تعلیم کے شعبوں میں اصلاحات لانے اور غربت کے خاتمے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔ کراچی کو مزید ترقی دلائیں گے۔ 
ڈھائی سال قبل جب پیپلزپارٹی نے سید قائم علی شاہ کو ہٹا کر مراد علی شاہ کو وزیراعلیٰ مقرر کیا تھا تو انہوں نے صاف ستھرا کراچی شہر، سر سبز تھر اور محفوظ سندھ کا ایک خوبصورت نعرہ دیا تھا۔ انہوں نے ایہ بھی کہا تھا کہ تعلیم، صحت اور امن ومان ان کی ترجیحات ہونگے۔ بعد میں انہوں نے صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی بھی نافذ کی۔ ترجیحات اور عزم کل بھی قابل تحسین تھا اور آج بھی جو کہہ رہے ہیں وہ بھی قابل تحسین ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ یہ اہداف کس حد تک پورے کر پائے ہیں وہ سب کے سامنے ہے۔ اقوام متحدہ نے کی روپرٹ کے نہ صرف ملک میں شرح خواندگی کم ہے بلکہ یہاں کا تعلیمی نظام موجودہ تقاضوں سے 60 سال پیچھے ہے۔ فاٹا اور بلوچستان کو چھوڑ کر سندھ کا تعلیمی معیار ملک کے باقی صوبوں اور علاقوں میں بہت پیچھے ہے۔ یہاں تک کہ کشمیر اور بلتستان میں بھی تعلیمی معیار کے حوالے سے سندھ سے آگے ہیں۔ 
تحریک انصاف کے نامزد گورنرعمران اسماعیل کے تقرر پر پیپلزپارٹی خوش نہیں۔ وہ سمجھتی ہے کہ اپوزیشن کی قیادت پی ٹی آئی کے پاس ہونے کے ساتھ ساتھ اگر گورنر بھی اسی پارٹی کا ہوگا اور اسی طرح سے سخت سیاسی موقف رکھنے والا ہوگا تو صوبائی حکومت کے لئے مشکلات ہونگی۔ ان کابلاول ہاؤس کی دیواریں گرانے سے متعلق بیان پیپلزپارٹی کے لئے جذباتی مسئلہ بھی ہے لیکن اس کو اگر سیاسی معنوں میں لیا جائے تو پارٹی کے لئے وارننگ ہے۔ پیپلزپارٹی نے تحریک انصاف سے وضاحت طلب کی ہے اور درخواست کی ہے کہ انہیں گورنر مقرر نہ کیا جائے۔ 
وفاق کے ساتھ تعلقات کا معاملہ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف میں قربت نظر آرہی ہے۔ پیپلزپارٹی کے دو مقاصد ہوں گے۔ ایک یہ کہ اس کی سندھ حکومت کو ڈسٹرب نہ کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ پارٹی کے بڑے رہنماؤں کے خلاف کرپشن، منی لانڈرنگ وغیرہ کے حوالے سے کوئی کارروائی نہ ہو۔ اس کے عوض پیپلزپارٹی وفاق میں خود بھی رہے گی اور اپوزیشن کو بھی فرینڈلی رکھنے میں کردار ادا کرے گی۔ تحریک انصاف کے لئے یہ صورتحال فائدہ مند ہوگی کہ اپوزیشن منقسم رہے۔وہ پیپلزپارٹی کو یہ سمجھانے کی کوشش کرے گی کہ نواز لیگ دونوں کی مشترکہ دشمن ہے۔ اس صورتحال میں نہیں لگتا کہ پارلیمنٹ میں وسیع تر اپوزیشن کا اتحاد زیادہ عرصہ چلے یا کوئی موثر کردار ادا کرے۔
آصف علی زرداری نے مولانا فضل الرحمٰن کی حلف نہ اٹھانے اور اسمبلی کے بائکاٹ کرنے کی تجویز کو مسترد کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو حالیہ انتخابات کی ساکھ بری طرح سے متاثر ہوتی۔ 
صوبے کی حکمران جماعت پیپلزپارٹی اس مرتبہ ایک مختلف قسم کی اپوزیشن کا سامنا ہوگا۔اس اپوزیشن کی قیادت وفاق میں حکمران جماعت تحریک انصاف کے پاس ہوگی۔ سندھ کو اس طرح کی صورتحال کا اس سے پہلے کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا۔ گزشتہ دور حکومت میں نواز لیگ وفاق میں حکومت میں تھی لیکن سندھ میں اپوزیشن ک ایم کیو ایم کی تھی۔ لہٰذا وفاق میں حکمران جماعت صوبائی حکومت کو سیاسی طور پر ہینڈل کرنے کے لئے ایم کیو ایم کی محتاج تھی۔ ماضی میں اپوزیشن وہی کرتی رہی جو ایم کیو ایم چاہتی تھی۔ تحریک انصاف یقیننا چاہے گی کہ وہ سندھ کے باقی علاقوں میں بھی اپنے پاؤں جمائے۔
پیپلزپارٹی کراچی کے بارے میں نرم گوشہ رکھے ہوئے ہیں ، نامزد وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا یہ بیان اہم ہے کہ ایم کیو ایم مخلوط حکومت میں آسکتی ہے بشرطیکہ وہ علحدہ صوبے کے مطالبے سے دستبردار ہو ۔ ااپوزیشن میں خود کو منوانے کے لئے تحریک انصاف زیادہ سرگرم اور فعال کردار ادا کرنے کی کوشش کرے گی۔ اس کے اشارے نامزد گورنر سندھ کے بیانات سے بھی مل رہے ہیں۔ تحریک انصاف کو ایک دقت کا یقیننا سامنا کرنا پڑے گا کہ اس کے اراکین اسمبلی کراچی کو چھوڑ کر باقی سندھ سے صرف ایک ہی ممبر ہ یعنی شہریار شر ہیں۔ لہٰذا سندھ میں اپوزیشن کے پاس کوئی منجھا ہوا پارلیمنٹرین نہیں۔ لگ بھگ یہی صورتحال پیپلزپارٹی کے ساتھ بھی ہے۔ نثار کھڑو، منظور وسان، پیر مظہرالحق، جام مہتاب ڈہر اب اسمبلی میں نہیں۔ 
سابق وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ ہیں لیکن وہ کوئی سرگرم کردار ادا نہیں کر سکیں گے۔ تحریک انصاف کو ایک طرف اسمبلی میں پیپلزپارٹی کا سامنا کرنا ہے دوسری طرف ایم کیو ایم کے ساتھ بھی چلنا ہے اور آئندہ وقت میں اپنے لئے کراچی میں مزید جگہ بھی بنانی ہے۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ کراچی میں مقبولیت حاصل کرنے کے لئے یہ تینوں جماعتیں ایک دوسرے کے مقابلے میں ہونگی۔

https://www.naibaat.pk/16-Aug-2018/15779

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/62354/Sohail-Sangi/Sindh-Main-Siyasi-Saf-Bandi-Ka-Niya-Mor.aspx

http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-aug-17-2018-176479

https://www.darsaal.com/columns/sohail-sangi/sindh-main-siyasi-saf-bandi-ka-niya-mor-6426.html

Tuesday, August 14, 2018

کپتان کی حکومت وعدے پورے کر پائے گی؟

کپتان کی حکومت وعدے پورے کر پائے گی؟

نئی حکومت کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے اس کی وجہ غیر ملکی تجارت میں خسارہ ہے جو ہر ماہ بڑھتا جارہا ہے۔ حکومت مجبور ہے کہ وہ کسی دوست ملک یا پھر عالمی مالیاتی ادارے سے قرضہ حاصل کر کے یہ خسارہ پورا کرے۔ یعنی قرضہ اتارنے کے لئے مزید قرضہ لیا جائے گا۔ تحریک انصاف کی حکومت کے متوقع وزیر خزانہ اسد عمر کا کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا آپشن ترجیحی آپشن نہیں ترجیحی آپشن برآمدات کو بڑھانا اور سمندر پار بسنے والے پاکستانیوں کو منافع بخش بانڈ کی پیشکش کرنا ہے۔ دوسرا آپشن دوست ممالک سے دوطرفہ فنڈ حاصل کرنا ہے۔ اس سے قبل وزارت خزانہ کے متوقع امیدوار اسد عمر یہ کہتے رہے ہیں کہ عالمی مالیاتی فنڈ کا آپشن آئندہ ماہ کے آخر تک اختیار کر لیا جائے گا ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو گزشتہ تین ماہ سے دو ارب روپے ماہانہ خسارہ ہو رہا ہے۔ 
تاہم سابق وزیر خزانہ اور ماہر اقتصادیات حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مالی ضروریات تقریبا 26 ارب ڈالر ہیں۔ جبکہ وزارت خزانہ کا تخمینہ 23 ارب ڈالر کا ہے۔ نگران وزیر خزانہ یہ کہتی رہی ہیں کہ رواں مالی سال کے دوران مالی خسارہ تقریبا 12 ارب ڈالر کا ہے۔ سابق سیکریٹری خزانہ وقار مسعود نے 2006 اور 2013 میں دو مرتبہ آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکیجز کرائے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کی تباہ ہوتی ہوئی معیشت کو بچانے کے لئے آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔ سعودی عرب یا چین جیسے دوست ممالک سے رقم حاصل کرنا کوئی آپشن نہیں کیونکہ یہ رقومات عالمی ادارے سے حاصل کئے گئے ڈالر کا متبادل نہیں۔ 
یہ پاکستان کا 13واں تیرہویں بیل آؤٹ ہوگا۔ پاکستان نے پہلی مرتبہ 1988 سے آئی ایم ایف پر انحصار کرنا شروع کیا۔ آئی ایم ایف کا اندازہ ہے کہ مالی سال 2019 میں پاکستان کو بیرونی فنانسنگ کی مد میں 27 ارب ڈالر کی ضرور ت ہو گی،اگر50 ارب ڈالر کی برآمدات ہوں تو یہ مسئلہ حل ہو جائے گا دوسرا حل درآمدات کم کرنے میں ہے جس پر آج کل عمل ہو رہا ہے۔
دوسری جانب گردشی قرضے 650ارب روپے ہونے پر چھ نجی بجلی گھروں نے بجلی کی پیدوار میں مزید کمی کردی ہے جس سے شارٹ فال ایک ہزار میگا واٹ سے بڑھ گیا ہے۔
ایسا بھی نہیں ہے کہ آئی ایم ایف اٹھاکے ڈالر کی تھیلی آپ کو دے دے گا۔ اس کے ساتھ کئی معاشی و مالیاتی شرائط لاگو کرے گا جس کے ہماری عام زندگی پر اثرات پڑیں گے۔ پھر یہ بھی ہے کہ موجودہ صورت حال میں جب پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات زیادہ خوشگوار نہیں ایسے میں اس عالمی ادارے سے فنڈ لینا آسان نہیں۔ 
عالمی ادارہ ڈالر دینے کے عوض کیا مطالبہ کر ے گا؟ وہ بعض ادارتی اصلاحات، خاص طور پر سرکاری شعبے کے تجارتی و پیداواری اداروں میں تبدیلی، ٹیکس بڑھانا، اور معاشی ضابطے سخت کرنا شامل ہو گا۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ سود کی شرح میں اضافہ ہوگا اور روپے کی قیمت مزید کم ہو جائے گی۔ یعنی عالمی مالیاتی ادارہ حکومت پر اخراجات کی پابندی لگا دے گا۔ اور اس نے اسلامی ویلفیئرر ریاست کا جو انتخابات میں معاہدہ کیا وہ پورا نہیں ہو سکے گا۔ عمرن خان نے صحت کی سہولیات بڑھانے اور سوشل سیکیورٹی نیٹ کو پھیلانے اور اسکولوں کو اپ گریڈ کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔ انہوں نے 100 دن کا جو پروگرام دیا تھا اس پر عمل کا کوئی امکان نہیں رہا، اس کا اعتراف متوقع وزیر خزانہ اسد عمر گزشتہ دنوں کر چکے ہیں۔ 
نگران وزیرخزانہ ریونیو و اقتصادی امورڈاکٹر شمشاد اختر اور انکی ٹیم نے آئی ایم ایف امدادی پیکج کیلئے بنیادی ہوم ورک مکمل کردیا جس کا ڈیٹا بیس آنیوالے وزیرخزانہ اسد عمر کو ڈاکٹر شمشاد اختر اس وقت پیش کرینگی جب وہ وفاقی وزیر خزانہ کا حلف اٹھالیں گے۔نگران وزیرخزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پیکج کیلئے نگران حکومت نے بنیادی ہوم ورک کردیا ہے ضروری ڈیٹا بیس تیارکرلیا ہے،اگر آئی ایف سے ایکسٹینڈ فنڈ فیسیلیٹی یا کسی اور نام سے اربوں ڈالر لینے کیلئے عمران خان حکومت مناسب سمجھے گی تو شمشاد اخترکی ڈیٹا بیس کو استعمال کریگی۔ پیپلز پارٹی کی سابق حکومت نے بھی آئی ایم ایف سے پیکج لیا تھا اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی آئی ایم ایف سے ایکسٹینڈ فنڈ فیسیلیٹی لے چکے ہیں۔ امریکہ نے آئی ایم ایف کو نگران حکومت کیلئے اربوں ڈالر اور فنڈ دینے کی مخالفت کی ہے اورپاکستان کی سالانہ کولیشن فنڈ کم کرکے 15کروڑ ڈالر کردی ہے۔ امریکہ کو خدشہ ہے کہ یہ رقم پاکستان چین کو قرضے کی ادائیگی کے لئے استعمال کرے گا۔ اور امریکہ کو چین کے پاکستان میں منصوبوں پر بھی اعتراضات ہیں۔ 
نواز لیگ حکومت نے سعودی عرب سے پانچ بلین ڈالر کی امداد طلب کی تھی لیکن ریاض نے دینے سے انکار کردیا۔ چین نے بھی نواز حکومت کو بیل آؤٹ دینے سے انکار کردیا تھا۔ اب 2 ارب ڈالر دینے کے لئے تیار ہے۔ 
عمران خان کا یہ پہلا امتحان ہے اور ان کے سامنے مشکلات میں گھری پاکستانی معیشت ہے جبکہ پاکستان خود دو معاشی طور پر طاقتور ملکوں کے درمیان سینڈ وچ بن چکا ہے۔ملک کا موجود ہ خسارہ بر آ مدا ت اور درآمدات کے درمیان عدم توازن میں ہے اور 18 ارب ڈالر سے بھی زیادہ کی خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے۔پاکستانی روپیہ لرز رہا ہے اور ٹیکسوں کے جمع ہونے کی شرح کم ہے اور پاکستان عالمی ’’گرے لسٹ‘‘ کی جانب بھی جارہا ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ جب جب ملک میں انتخابات ہوئے ہیں ملک پر عالمی مالیاتی اداروں کا دباؤ بڑھا ہے۔ یہ معاملہ 1988 میں شروع ہوا تھا اور بعد میں 90 کے عشرے میں بھی جاری رہا۔ اور 2002 ، 2008 اور 20013 میں ملک کو بڑے پیمانے پر بیل آؤٹ کے لئے عالمی مالیاتی ادارے سے رجوع کرنا پڑا۔ اب 2018 کے انتخابات کے بعد بھی ملک شدید مالی بحران کے دہانے کھڑا ہے۔ 
عمران خان کیلئے ٹاسک مزید مشکل ہوگیا ہے کیونکہ پاکستان خود دو معاشی طور پر طاقتور ملکوں کے درمیان سینڈ وچ بن چکا ہے،چین جس کا بھاری قرضہ ہے اور آئی ایم ایف قلیل مدت کیلئے ہے۔ چین کے منصوبوں کا اثر تاحال ملکی معیشت کی ترقی پر پورے طور پر ظاہر نہیں ہوا ہے۔پاکستانی ماہر معاشیات کاکہنا ہے کہ عمران خان کی ٹیم کے پا س کو ئی چوائس نہیں ہے لیکن مانیٹرنگ فنڈ سے کئی ارب ڈالر بیل آؤٹ لینگے۔ اگر امریکا بیل آؤٹ روکتا ہے تو عمران خان کی نئی حکومت کو بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ماضی کی حکومتوں کے خلاف عوامی بے چینی اور عدم اعتماد کی وجہ وعدوں اور ڈلیوری کے درمیان گیپ رہا ہے۔ تحریک انصاف اور اس کے لیڈر عمران کا وزن اصل میں نئی توقعات کی وجہ سے ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس سے بہت کچھ بدل جائے گا۔ اس کی تقاریر میں اچھی حکمرانی ، قانون کی حکمرانی بنیادی خدمات کی فراہمی غربت کا خاتمہ، انسانی وسائل کی ترقی اور معاشی بحران سے نکالنا ہے۔ 
ملک کا یہ بھی بہت بڑا مسئلہ ہے کہ ہر سال دس سے پندرہ لاکھ نوجوان جو ورک فورس میں شامل ہو رہے ہیں۔ جو معیشت میں ضم نہیں ہو پاتے۔ دوسری جانب اگر اشیاء خوردنی کی قیمتوں ، پیٹرول اور دیگر یوٹیلٹی کی قیمتیں کم نہیں ہوئی تو لوگ مایوس ہونگے ۔اگر نقصان میں چلنے والے سرکاری اداروں میں ملازمتیں ختم کی گئیں۔ ٹیکس سرگرم کلاس مثلاً تاجروں، پراپرٹی مالکان پر ٹیکس لاگو کیا گیا، پانی، بجلی اور گیس پر سبسڈی ختم کردی گئی، مرحلے وار ہی سہی، زرعی پیداوار مثلاً گنے وغیرہ کی قیمتیں عالمی منڈی کے برابر کی گئیں۔ ان اقدامات سے مستقل مفاد رکھنے والے متاثر ہونگے۔ لازمی طور پر وہ مزاحمت کریں گے۔ لوگوں میں بے چینی بڑھے گی۔ یہ بات سامنے آئے گی کہ یہ حکومت ماضی کی حکومتوں سے مختلف نہیں۔ 


https://www.naibaat.pk/13-Aug-2018/15650

تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کی مفاہمت

حالیہ انتخابات نے کراچی کی سیاسی صورت حال ہی بدل دی خیال تھا کہ ایم کیو ایم کے اندر دھڑے بندی کے نتیجے میں کراچی کے اردوبولنے والوں کا ووٹ انہی میں تقسیم ہوگا اور تھوڑی تھوڑی نشستیں ایم کیو ایم کے مختلف گروپوں یا اس کی کوکھ سے جنم لینے والوں کو ملیں گی۔پیپلزپارٹی، اے این پی، متحدہ مجلس عمل اور نواز لیگ کو بھی کچھ حصہ ملے گا۔ ایم کیو ایم کے گروپ آپس میں کوئی قابل عمل فارمولا نہیں بنا پائے۔ لہٰذا صرف ایم کیو ایم پاکستان کراچی سے قومی اسمبلی کی صرف 4، حیدرآباد سے2اور صوبائی اسمبلی کی 16 نشستیں جیت پائی۔ یہاں تک کہ پاک سرزمین پارٹی کا بالکل ہی صفایا ہو گیا۔ صرف ایم کیو ایم ہی نہیں بلکہ تمام روایتی سیاسی جماعتیں بشمول ، ایم ایم اے کی ممبر جماعتیں، اور اے این پی بھی اسمبلی میں کوئی نمائندگی حاصل نہ کر سکیں۔ پیپلزپارٹی بھی کراچی میں اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکی۔ ایم کیو ایم میرپورخاص، نوابشاہ اور سکھر میں بھی کوئی نشست حاصل نہ کر سکی۔ جہاں سے بلدیاتی یا عام انتخابات میں یہ جماعت ایک صوبائی کی نشست حاصل کرتی رہی ہے۔ یہ نتائج گزشتہ انتخابات سے بہت ہی مختلف ہیں۔ 2013میں قومی اسمبلی کی 25اور صوبائی اسمبلی کی 50نشستیں ایم کیو ایم کے پاس تھیں۔ پی ٹی آئی کے پاس کراچی سے قومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی اسمبلی کی تین سیٹیں تھیں جبکہ اب قومی اسمبلی کی 14اور صوبائی اسمبلی کی 20سیٹیں ہیں حالات مکمل بد ل گئے ہیں،
ایم کیو ایم اب سندھ میں تیسری جماعت کے طور پر آ گئی ہے۔ یعنی نہ وہ حکومت سازی میں کوئی کردار ادا کر سکتی ہے اور نہ اکیلے طور پر اپوزیشن کا رول۔ کیونکہ پیپلزپارٹی کے پاس اتنی اکثریت ہے کہ اکیلے حکومت بنائے ۔ اسکے پاس دو آپشن تھے ایک یہ سندھ میں اپوزیشن کا رول پلے کرتی۔ ایسے میںتحریک انصاف کو وفاق میں حکومت سازی کے لئے ضرورت پڑگئی۔ یہاں ایم کیوایم کی چھ نشستیں اس کے کام آگئیں اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی طے ہو گیا کہ یہ دونوں جماعتیں سندھ اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن بن جائیں گی۔
ایم کیو ایم کو سب سے بڑا ڈر یہ ہے کہ کراچی میں جاری آپریشن سے کیسے بچا جا سکے۔ مزید نقصانات نہ ہوں۔ یہ کام وفاقی حکومت میں ہی جانے سے ہو سکتا تھا۔ پیپلزپارٹی کے ساتھ بیٹھنے کا اسکو تجربہ تھا۔ شاید اس کے ووٹرز بھی کسی نئے اتحاد کے تجربے کو ترجیح دے رہے تھے۔ ایم کیو ایم پی ٹی آئی کو چھوڑ کر کہیں اور جانے کا سوچ کر مزید خطرہ مول لینا نہیں چاہتی تھی یہی وجہ دونوں کے درمیان اتحاد کی بنی۔
پی ٹی آئی کراچی کی پارٹی کہہ کرایم کیو ایم کی اہمیت بڑھا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں مطلوبہ اکثریت حاصل ہو جاتی تو کیا وہ ایم کیو ایم کی مدد مانگتی؟ یا یہ کہ ایم کیو ایم کی طرف اس کا یہی مفاہمتی رویہ ہوتا؟ نتائج کی وجہ سے ایم کیوایم کی حمایت لینا مجبوری ہے۔
ایم کیو ایم حکومت کے بغیر رہ نہیں سکتی لہٰذا اس نے بہتر سمجھا کہ پاکستان تحریک انصاف کا ساتھ دے۔ یہ کوئی پہلا موقعہ نہیں اس سے قبل 90 کے عشرے میں بھی ایم کیوایم نے پیپلزپارٹی سے تحریری اتحاد توڑ کر آئی جے آئی کا ساتھ دیا تھا اور بینظیر بھٹو کی حکومت کو ہٹانے کا سبب بنی تھی۔
حالیہ انتخابات کے بعدایم کیو ایم کو پیپلزپارٹی
سے معاہدہ کا کوئی فائدہ نظر نہیں آرہا تھا۔ پیپلزپارٹی کو سندھ اسمبلی میں عددی اکثریت حاصل ہے۔ سندھ میں ایم کیو ایم کی اہمیت تب ہوتی ہے جب پیپلزپارٹی کی اہمیت کم ہو۔ پیپلزپارٹی 2013 کے انتخابات کے بعد کراچی کے معاملے میں زیادہ سنجیدہ ہے۔ گزشتہ تین چار برسوں کے دوران پیپلزپارٹی نے کراچی میں کئی ترقیاتی منصوبے شروع کئے۔یہاں تک کہ فریال تالپور نے کراچی کے منصوبوں کے حوالے سے منعقدہ بعض اجلاسوں کی صدارت بھی کی ۔ اس کا خیال تھا کہ شہر میں پرامن حالات کے پیش نظر اس کے لئے اسپیس نکل سکتی ہے اور وہ ترقیاتی کاموں کے ذریعے عوام میں اپنی جگہ بنا سکتی ہے۔
ایک ہی صوبے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے مطالبات اور سکھ سانجھے ہیں۔ لیکن دونوں اپنے اپنے علاقے تک محدود ہیں۔ جس کی وجہ سے پیچیدگیاں اور الجھنیں پیدا ہو رہی ہیں۔ ماضی میں 1988 اور 2008 میں سندھ اسمبلی میں اکثریت کے باوجود پیپلزپارٹی نے ایم کوئی ایم کو حکومت میں شامل کیا۔ 1988 میں ایم کیو کے ساتھ پیپلزپارٹی نے باقاعدہ مفاہمتی یاداشت نامے پر بھی دستخط کئے۔ لیکن 1989 میں ایم کیو ایم کو بینظیر بھٹوکی حکومت کو غیر مستحکم کرنے اور بعد میں اسمبلیاں توڑنے کے لئے استعمال کیا گیا۔ پھر عسکری گروہ وجود میں آگئے۔ مسئلہ یہ ہے دونوں جماعتوں نے صرف حکومتی سطح پر اختلافات دور کرنے کی کوشش کی ۔ کارکنوں کی سطح پر نہیں۔
عملی شکل یہ ہے کہ کراچی میں ایم کیوایم کی جگہ لے لی ا نتخابات میں دونوں جماعتیں حریف جماعتیں تھی، ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑا، انتخابی مہم بھی چلائی۔ لیکن بعد میں اتحادی بن بیٹھی۔ دونوں پارٹیوں کے درمیان مفاہمتی یاداشت پر دستخط کئے گئے ہیں۔ اس یاداشت میں کوئی بہت زیادہ مطالبات نہیں۔
پی ٹی آئی کی کراچی میں جیت سے توقع کی جاسکتی ہے کہ اب کراچی کی سیاست مین اسٹریم میں آجائے گی۔ اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ایم کیوایم کے ساتھ معاہدہ اس کی راہ میں رکاوٹ بھی بن سکتا ہے۔ ایم کیوایم پی ٹی آئی کو جتنی اسپیس دے گی، اپنی اسپیس کم کرے گی۔ ایک نظر میں دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کا ساتھ دے کر ایک دوسرے کی سیاست کی توثیق کی ہے۔
ایم کیوایم پاکستان مشکل ترین وقت سے گرز رہی ہے۔ اسکو پتہ ہے کہ کوئی ریلیف یا سہولت مل سکتی ہے تو مرکز سے ہی مل سکتی ہے۔اس کامرکز کیطرف دیکھنا فطری سی بات لگتا ہے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کو صرف وزیراعظم اور اسپیکر، ڈپٹی اسپیکرکے انتخابات کے لئے نہیں بلکہ آئندہ ماہ ہونیوالے صدارتی انتخابات کیلئے بھی ان کے چھ ایم این ایز اور بائیس ایم پی ایز کی ضرورت پڑے گی۔یہ حقیقت ہے کہ ایم کیوایم پی ٹی آئی کیجونیئرپارٹنرہے۔ اس کواضافی نمبر مل سکتے ہیں کیونکہ’’ وہ کراچی کی پارٹی ہے‘‘۔ کراچی پاکستان کی معیشت اورتجارت کامرکزہے۔
معاہدے کے زیادہ تر نکات کا تعلق سندھ سے ہے۔ خاص طور پر بلدیاتی اداروں کو مضبوط کرنا جبکہ وزیراعظم اور مرکز کراچی آپریشن اورخاص طور پرایم کیوایم کے’بند دفاتر‘ اور لاپتہ افراد کے مقدمات سے متعلق ان کے خدشات دور کرنے کیلئے اپنا اثراستعمال کرسکتے ہیں۔اب جب این آراو دوبارہ کھل رہا ہے، ایسے میں ایم کیو ایم کے لئے مزید دقت پیدا ہوگی۔ پی ٹی آئی نے ’’کراچی کی پارٹی ‘‘کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ایک بار مرکز اور صوبوں کی حکومت بن جائے تو پی ٹی آئی سندھ حکومت کو بھی دیکھ لے گی اور کراچی آپریشن پر اگر تحفظات ہوئے تو انھیں دورکرنے کیلئے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی بھی بناسکتی ہے۔
انتخابات میں کچھ نشستیں حاصل کر کے ایم کیو ایم کو اپنی بقا کا راستہ مل گیا ہے۔ ایم کیوایم اگست 2016کے بعد والی شناخت منوانا چاہتی ہے، اور باقی تمام ماضی اپنے سابق قائد کے کھاتے میں ڈالنا چاہتی ہے۔پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما ڈاکٹرعارف علوی نے اپنی پارٹی کی جانب سے مفاہمتی یاداشت پر دستخط کیے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’ہمیں ایم کیوایم کی جانب ایک نئی پارٹی کے طورپردیکھناہے جس کی تخلیق 22اگست کے بعد ہوئی اور انھیں ایک موقع دینا چاہیے ۔‘‘یہ بات قابل فکر ہے کہ ایم کیو ایم کو اپنے اندرونی رجحانات، اختلافات، تضادات کا بھی سامنا ہے۔ جس میں بعض رجحان کے طور پر نہیں محض گروہی ہیں۔یعنی بعض گروہ اپنا وجود برقرار رکھنے کے لئے کر رہے ہیں۔ ان اختلافات پر قابو پائے بغیر ایم کیو ایم کوئی بڑا فائدہ نہیں لے سکتی، اورکراچی کے لئے بھی کچھ زیادہ نہیں کرسکتی۔ لہٰذا بیک وقت ایم کیو کو اپنے اندرونی تضادات کا حل ڈھونڈنا ہے اور اپنی پارٹی کے لئے ریلیف ڈھونڈنا ہے۔ اگر ایم کیو ایم کوئی ریلیف نہیں حاصل کر سکی تو اس کو مزید دقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

https://www.naibaat.pk/06-Aug-2018/15370

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/62034/Sohail-Sangi/Tehreek-e-Insaf-Aur-MQM-Ki-Mufahmat.aspx

https://www.darsaal.com/columns/sohail-sangi/tehreek-e-insaf-aur-mqm-ki-mufahmat-6153.html