سندھ میں پاکستان پیپلزپارٹی کے متبادل کے طور پر پیش کرنے والا اور انتخابات کے بعد صوبے میں حکومت بنانے کا دعویدار گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس انتخابات میں بری طرح سے ہار گیا۔ انتخابات سے پہلے یہ تاثر تھا کہ جی ڈی اے اسٹبلشمنٹ کی آشیرواد سے بنا ہوا اتحاد ہے یہ تاثر شاید اتنا غلط بھی نہیں تھا۔ کیونکہ اس کے بعض اہم اراکین اپنے حلقہ میں اس کا اعتراف بڑے فخریہ انداز میں کرتے تھے۔ لیکن یہ سب کچھ چل نہیں سکا۔ اس اتحاد میں شامل بعض جماعتیں اپنے سانگھڑ اور خیرپور جیسے مضبوط قلعوں میں ہار گئیں۔ باثر جاگیردارانہ پس منظر رکھنے والے غلام مرتضیٰ جتوئی اپنے آبائی حلقہ نوشہروفیروز سے ہار گئے۔ اسی طرح دیگر ذاتی جاگیر بنے ہوئے حلقوں میں بڑے بڑے برج گر گئے۔ اس لسٹ میں پیر پگاڑا کے بھائی پیر صدرالدین شاہ، ارباب غلام رحیم، سید غوث علی شاہ شامل ہیں۔ پیپلزپارٹی کے لئے آخری موقعہ ہے۔
پیپلزپارٹی کی دس سالہ کارکردگی ایسی تھی کہ لوگ اسکو انتخابی مہم ہی چلانے نہیں دے رہے تھے۔ پیپلزپارٹی بھی اس بات کی قائل ہو چکی تھی کہ اس مرتبہ اس کو سندھ میں حکومت بنانے نہیں دیا جائے گا۔ لیکن الیکشن سے پہلے نواز شریف کو سزا سنانے اور اس کی وطن واپسی پر ان کے لئے پنجاب میں ہمدردی کا ووٹ پیدا ہوا۔ پھر نواز شریف نے وطن واپسی کا پروگرام بنایا تو مزید مقبولیت بڑھ گئی۔ حکمرانوں کو خدشہ ہوا کہ کہیں نواز شریف بغاوت نہ کر بیٹھیں یا کرنا چاہتے ہیں ۔ ملک کے مالی حالات اور قرضوں کی واپسی نے اسٹبلشمنٹ کی سانس پھولا دی تھی۔ لہٰذا اسٹبلشمنٹ ہر حال میں نواز شریف کو سیاسی طور پر ٹھکانے لگانا چاہتی تھی۔ لیکن خدشہ تھا کہ ایک وقت نواز شریف اور زرداری حکومت سے فارغ ہوں اور کرپشن کے الزامات میں کی صورت میں مشترکہ تحریک چلائیں ۔ اس لئے بیک وقت ملک کی دو بڑی پارٹیوں سے لڑائی ملک کے لئے فائدہ مند نہیں ہو گی۔ لہٰذا پیپلزپارٹی سے معاہدہ کر کے اس کو سندھ میں حکومت دی گئی۔
مختلف پارٹیوں اور بااثر شخصیات پر مشتمل اس اتحاد کے پیچھے حکمت عملی یہ تھی کہ مختلف حلقوں میں پڑنے والے پیپلزپارٹی مخالف ووٹ کو اگر ایک جگہ ڈالا جائے تو اس پارٹی کا صفایا کیا جاسکتا ہے اور صوبے میں اس پارٹی کا متبادل سامنے آسکتا ہے۔ اس سے قبل یہ ووٹ الگ الگ امیدوار اٹھاتے ہیں، جس کا فائدہ پیپلزپارٹی کو ملتا ہے۔ لہٰذا بڑے بڑے تمام زمینداروں اور بااثر شخصیات کو اپنے ساتھ ملا یا گیا۔ بعض نے شمولیت کی۔ بعض سے اتحاد بنایا اور باقی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹ منٹ کی۔ پوری کوشش کی گئی کہ پیپلزپارٹی کو ہرانے کے لئے ہر سیٹ پر ون ٹو ون مقابلہ ہو۔ پیر پگاڑا کی مسلم لیگ فنکشنل کی چھتری کے نیچے سندھ کی سطح پر یہ اتحاد قائم ہوا۔ پیر پگاڑا نے خاص طور پر چوہدری برادران، ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف ، عمران خان سمیت صوبے سے باہر کے سیاستدانوں سے بھی ملاقاتیں کی۔ اور ان سے مسلسل رابطے میں رہے تاکہ یہ اتحاد ملکی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں اور سرگرمیوں کا حصہ بنجائے ۔ یہ اس لئے بھی ضروری تھا کہ فیصلے تو اوپر سے ہی ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں پیر پگاڑا کو قبولیت بھی ملی۔ صوبے کے اندر اپنی مہم کو مضبوط کرنے کے لئے انہوں نے کراچی میں ایم کیو ایم اور پاک سرزمین پارٹی کے رہنماؤں سے انتخابی اتحاد اور نتائج کے بعد مخلوط حکومت سازی کے بارے میں ملاقاتیں کیں۔ ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے درجنوں الیکٹ ایبلز پیپلزپارٹی سے نارض ہوئے ۔ اور انہوں نے بغاوت کر کے آذادانہ حیثیت مین انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔ ان میں سابق وزیر داخلہ ذولفقار مرزا، ان کی بیگم اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا، سید علی نواز شاہ، ستار راجپر، سیف اللہ دھاریجو سمیت کئی رہنما شامل تھے۔ جی ڈی اے قیادت کے لئے ایک اور سنہری موقعہ نکل آیا کہ خود پیپلزپارٹی کی صفوں میں بھی ڈینٹ پڑ رہا تھا۔ اور اس نے ان ’’باغیوں‘‘ کا دل و جان سے اپنی صفوں میں استقبال کیا۔
پیپلزپارٹی کو اپنی دس سالہ خراب کارکردگی کی وجہ سے مہم چلانے میں دقت کا سامنا تھا۔
سندھ کے سنجیدہ اور رائے عامہ بنانے والے حلقے پیپلزپارٹی کی مخالفت کے ایک نکاتی پروگرام کے ساتھ سامنے آنے والے اس اتحاد کے مخالف ہوگئے۔
جی ڈی اے کی بری طرح سے ناکامی پر میری مختلف مکاتب فکر کے لوگوں سے تفصیلی بات چیت ہوئی۔ جس میں اس اتحادی کی ناکامی کی وجوہات سامنے آتی ہیں۔ نامور لکھاری اور عام حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی امر سندھو حکومتی کارکردگی کی وجہ سے پیپلزپارٹی کی نقاد بلکہ مخالف رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جی ڈی اے غیر فطری اتحاد ہے جب انتخابات کا اعلان ہو رہا تھا تو راتوں رات سندھ پر نازل ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات سیاسی عمل ہیں جس میں ووٹرز کے دکھ سکھ میں ساتھ رہنا پڑتا ہے اور انہیں سیاسی عمل میں شامل رکھا جاتا ہے۔ لہٰذا یہ کوئی دو چھ ماہ کا قصہ نہیں۔ ہنگامی بنیادوں پر اتارے گئے اس اتحاد کی سوائے پیپلزپارٹی مخالفت کے نہ کوئی ڈائریکشن ہے نہ پروگرام۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2013 میں بھی انہی جماعتیں اور شخصیات نے پیپلزپارٹی مخالف اتحاد بنایا تھا۔ تب نواز شریف کی حمایت کر رہے تھے اور اب عمران خان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ لیکن انتخابات کے بعد یہ سب لوگ لاپتہ ہوگئے۔ رات گئی بات گئی۔ وہ نہ اسمبلیوں میں نظر آرہے تھے اور نہ سڑکوں پر۔ اب انتخابات ہونے جارہے ہیں تو باہر نکلے ہیں۔
جی ڈی اے کے سیکریٹری جنرل ایاز لطیف پلیجو قومی عوامی تحریک کے صدر بھی ہیں ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ انتخابات کی طرح ایک بار پھر جی ڈی اےکے ساتھ ہاتھ ہو گیا ہے۔ نواز شریف کو سزا سنانے اور ان کی لندن واپسی کے بعد صورتحال تبدیل ہوگئی تھی۔ ایک بغیر دستخط کے این آر او ہوا جس کے تحت پیپلزپارٹی کو کو سندھ میں انتخابات جیتنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ انہوں نے جی ڈی اے کی انتخابی شکست کو مینیجڈ قرار دیا اور کہا کہ ایک فارمولا کے تحت پیپلزپارٹی جیتی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ بھی کہا کہ شہری علاقوں میں پیپلزپارٹی مخالف ووٹرز ووٹ دینے نہیں آئے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بعد میں ہونے والے واقعات کی وجہ سے پوری اسکیم کو ازسرنو ڈیزائن کیا گیا۔ جس میں خود ایم کیو ایم اور پاک سرزمین پارٹی کو بھی چھوٹا کیا گیا۔ اس صورتحال میں صوبے میں جی ڈی اے کی کوئی جگہ یا اہمیت ہی نہ رہی۔
تجزیہ نگار منظور سولنگی کا کہنا ہے کہ سزا سنانے کے بعد نواز شریف پنجاب میں مقبول ہورہا تھا اور وہ ہمدردی کا ووٹ لے رہا تھا۔ اس بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے یہ خطرہ محسوس کیا جانے لگا کہ شاید نواز شریف کھلی بغاوت پر نہ اتر آئے اور تحریک چلانے کا نہ اعلان کردے۔ مالیاتی بحران اور غیر ملکی قرضون کی واپسی نہ ہونے نے اسٹبلشمنٹ کو تھکا دیا تھا۔ ایسے میں کسی تحریک کو دعوت دینا دانشمندی نہ تھی جو ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کردے۔ یہ بھی خدشہ ظاہر کیا گیا کہ اگر بیک وقت دو بڑی پارٹیوں کے دونوں بڑوں نواز شریف اور آصف علی زرداری میں ہاتھ ڈالے گئے تو دو بڑے صوبوں میں صورتحال سنگین ہو جائے گی۔ لہٰذا گیم پلان میں تبدیلی کی گئی۔ ایک طرف زرداری اور فریال تالپور کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات سامنے لائی گئی، تو دوسری طرف پیپلزپارٹی کو نشستیں جیتنے دی گئیں۔ اس پس منظر میں سیاسی انجنیئرنگ صرف پنجاب میں کی گئی۔ کیونکہ وہاں کی نشستیں ہی کافی تھی۔ مزید یہ کہ کٹ ڈاؤن بھی صرف نواز شریف کو کرنا تھا۔ کسی امکانی صورت میں کراچی سے کچھ نشستیں پی ٹی آئی کے کھاتے میں لکھ دی گئیں۔
پروفیسر ڈاکٹر امداد چانڈیو جو ستر اور اسی کی دہائی میں طالب علم رہنما بھی رہے ہیں۔ ان کے مطابق جی ڈی کی اصل روح مسلم لیگ فنکشنل تھی۔ یہ سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک روحانی اور مریدوں کی جماعت ہے۔ جس میں کسی غیر مرید کے لئے جگہ نہیں۔ خود یہ جماعت بھی صرف دو اضلاع سانگھڑ اور خیرپور تک محدود ہے۔ جبکہ اتحاد میں شامل باقی لوگ ایک دو حلقوں تک محدود تھے۔ ذوالفقار مرزا بدین میں، ارباب غلام رحیم تھرپارکر تک غلام مرتضیٰ جتوئی نوشہروفیروز تک اور ممتاز بھٹو صرف نو ڈیرو کے حلقے تک محدود تھے۔ یہ سب افراد منتشر تھے اور ان کے مفادات بھی متصادم تھے۔ سندھ میں یہی کہا جاتا رہا کہ جی ڈی اے سب کے سب وزیراعلیٰ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پیر پگاڑا کو ایک موقع پر اعلان کرنا پڑا کہ ان کے وزیراعلیٰ علی گوہر مہر ہیں۔ ان متصادم مفادات کی وجہ سے بعض حلقوں میں جی ڈی اے رہنما اپنے حامی ووٹ اتحاد کے امیدواروں کو منتقل نہ کر سکے۔ امدا چانڈیو کا ماننا ہے کہ جی ڈی اے کی قیادت میں سیاسی رویے کا فقدان ہے۔ اور اس نے جو امیدواران میدان میں اتارے وہ سب پرانی نسل کے تھے جو اپنا ماضی خراب کارکردگی، خراب رویوں کابوجھ بھی اٹھائے ہوئے تھے۔ جن کو لوگ پہلے ہی مسترد کر چکے تھے۔ جی ڈی اے گھوٹکی میں میاں عبدالحق مٹھو کی حمایت کر رہی تھی۔ اقلیتی ووٹرز ان کے سوالیہ کردار کی وجہ سے خائف تھے۔مسلم لیگ فنکشنل 80 اور 90 کے عشروں اور مشرف دور میں حکومت میں رہی۔ لیکن اس کی کارکردگینہ ہونے کے برابر تھی۔
سندھ کے لوگ خراب حکمرانی، کرپشن کے الزامات اور میرٹ کو نہ ماننے کے کڑے تجربے سے گز چکے تھے، مگر پھر بھی انہوں نے پیپلزپارٹی کو ووٹ دیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سندھ کے لوگ پیپلزپارٹی کے حامی ہوگئے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی مخالفت اور حاوی سوچ ابھی بھی موجود ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ لوگوں نے جی ڈی اے کو بطور متبادل قبول نہیں کیا۔ اسکا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جی ڈی اے لوگوں کے لئے پرکشش نہیں ہو سکا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کا متبادل کوئی اسی طرح کی مقبول جماعت اور عوامی قیادت ہی ہو سکتی ہے۔
رہی سہی کسر جی ڈی اے کے بعض امیدواروں کی جانب سے بعض نئی تشکیل پانے والی مذہبی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے نے پوری کردی۔ اور جب پیر پگاڑا نے انتخابی مہم کے آخری دنوں میں سندھ کے دورے کے دوران بہت ہی پر اعتماد انداز میں کہا کہ سندھ میں جی ڈی حکومت بنائے گا۔اس کے ردعمل میں حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والے گروپ، شاعر ، ادیب اور دانشور پیپلزپارٹی کی حمایت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ اور انہوں نے نہ صرف پیپلزپارٹی کو ووٹ ڈالا بلکہ اس کی مہم کا حصہ بھی بنے۔ سندھ کا ووٹ یہ بتاتا ہے کہ صرف پیپلزپارٹی کی مخالفت کے نعرے پراور رجعت پرست افراد پر مشتمل راتوں رات تیار کئے گئے متبادل کو قبول نہیں کریں گے۔
http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/61819/Sohail-Sangi/GDA-Kyun-Mutabadil-Na-Ban-Aaka-.aspx
https://www.darsaal.com/columns/sohail-sangi/gda-kyun-mutabadil-na-ban-aaka-5959.html
No comments:
Post a Comment