Monday, September 30, 2019

سندھ میں غیر یقینی حالات اور بے چینی کیوں؟


 سندھ میں غیر یقینی حالات اور بے چینی کیوں؟ 
سندھ نامہ   سہیل سانگی 
وفاق سندھ حکومت اور کراچی کی انتظام کاری کے لئے کیا کرنا چاہتا ہے؟ تاحال وفاق کی جانب سے کوئی یقین دہانی نہیں کرائی جاسکی ہے۔ نیب کی جانب سے اقدامات جاری ہیں۔  نتیجۃ صوبے میں غیر یقینی حالات ہی نہیں بلکہ بڑی بے چینی بھی پائی جاتی ہے۔ صوبے کے سیاسی و اہل نظر حلقے اس معاملے میں پیپلزپارٹی کے موقف کی حمایت کر رہے ہیں۔

بعض حلقوں میں سنیجدگی سے بحث ہورہی ہے کہ  اس غیر یقینی اور بے چینی صورتحال پیدا کرنے میں کہیں وفاقی حکومت کا ہاتھ تو نہیں؟ بدین ٹھٹہ وغیرہ میں زرعی پانی کی شدید قلت حکومت تو دور نہ کر سکی لیکن گزشتہ ایک ماہ سے وقفے وقفے سے جاری بارشوں کے بعد صورتحال بہتر ہو گئی ہے۔ تاہم زرعی فصلوں پر ٹڈی دل کے حملے کی اطلاعات  آرہی ہیں۔

کراچی  کے گٹروں کے بعد اب کچرا سیاست کا اہم موضوع ہے۔کراچی کے معاملات کی حساسیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ وزیراعلیٰ خود صفائی مہم کی نگرانی کر رہے ہیں۔  ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کراچی میں کراچی سڑک پر پھینکنے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کرلیا گیا۔ 

اچھی حکمرانی اور قانون پر عمل درآمد ٹھیک طور پر نہ ہونے کی شکایات پہلے ہی تھیں اب مختلف علاقوں میں بنیادی ضروریات کی فراہمی، انسانی حقوق  یا قانون کی خلاف ورزی کے واقعات صوبائی حکومت کی کارکردگی پر مزید سوالیہ نشان ڈال رہے ہیں۔صوبائی حکومت کبھی بارش کے پانی کی نکاسی، تو کبھی کسی ضلع میں صحت کی صورتحال، تو کبھی کتوں کے پیچھے دوڑ رہی ہے۔یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سسٹم ٹھیک سے کام نہیں کر رہا۔ 

پیپلزپارٹی کے رواں دور حکومت میں  اس کو کام کرنے کا کم ہی موقعہ مل رہا ہے۔ صوبے میں گاہے بگاہے اقلیتوں کے تحفظ کا سوال اٹھتا رہتا ہے۔ گزشتہ دنوں گھوٹکی میں  اقلیتوں کے خلاف واقعہ اورآصفہ بی بی میڈیکل کالج کی طالبہ نمرتا کی پراسرار حالات میں موت  کے واقعہ  پر سندھ نے شدید ردعمل دیا۔ مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے، کئی شہروں سے لوگوں کے وفود گھوٹکی پہنچے اور اقلیتوں سے اظہار یکجہتی کیا۔  

اپوزیشن کی سیاست اسمبلی یا پھر صرف کراچی تک محدود ہے۔باقی صوبے بھر میں پیپلزپارٹی کسی نہ کسی طور پر سرگرمی کرتی رہتی ہے۔ ان  تمام موضوعات پر اخبارات میں خبروں کے علاوہ مضامین اور کالم لکھے جارہے ہیں۔
روزنامہ پہنجی اخبار اداریے میں رقمطراز ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے سندھ میں  رہائش  پزیر اقلیتوں اور خاص طور پر ہندو برادری کو جس طرح سے نشانہ بنایا جارہا ہے، اس سے عدم تحفظ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ 

ہندو لڑکیوں کا زبردستی مذہب تبدیل کرا کے شادی کرنے کے واقعات ہوں یا  اغوا برائے تاوان کی وارداتیں۔ اب ان واقعات میں ہندوؤں کی مذہب عبادتگاہوں، خواہ املاک پر منظم حملے بھی ہونے لگے ہیں۔ یہ واقعات جہاں ریاست کی کمزور ہوتی ہوئی رٹ کی نشاندہی کرتے ہیں وہاں اقلیتوں کو تحفظ دینے کی حکومت کی آئینی وقانونی ذمہ داری کی نفی کرتے ہیں۔اس معاملے کا باریک اور حساس نقطہ یہ ہے کہ ہمارے سماج میں  مذہبی رواداری، بھائی چارہ اور ہم آہنگی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔
ریاستی قوانین پر عمل درآمد کرانا، جرائم پیشہ عناصر کو قابو میں لانا،  اور فتنہ فساد کی سازش کرنے والوں کو قانون میں گرفت میں لانا ریاستی اداروں کا فرض اور ذمہ داری ہے۔ لیکن اکثر کیسوں میں دکھا گیا ہے کہ ڈنڈا بردار ہجوم نہایت ہی آزادی سے اقلیتوں کی املاک کو نقصان پہنچاتے  اور نذر آتش کرتے رہتے ہیں۔ مگر پولیس خواہ دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے کوئی  ایکشن لیتے ہوئے نظر نہیں آتے۔  

یہ منظر اقلیتوں میں مزید خوف اور ناامیدی کا باعث بنتا ہے، کسی بھی مجرم کے جرم کاتعین کرنا انصاف کے اداروں کا کام ہے۔ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں، لیکن پھلہڈیوں  سے گھوٹکی تک کے واقعات میں  صورتحال کچھ یوں نظر آئی جیسے نہ قانون ہو، اور نہ ہی حکومت۔ یہ واقعات جہاں اقلیتوں میں عدم تحفظ پیدا کرتے ہیں وہاں کاروباری سرگرمیوں کو بھی نقسان پہنچاتے ہیں۔ پھر دنیا میں  ہمارے لئیایک جنونی مذہبی انتہاپسند ریاست کا تاثر ابھرتا ہے۔ 

گزشتہ روز سندھ اسمبلی نے  متفقہ طور پر ہندو برادری کو تھٖفظ دینے اور ان کی عبادت گاہوں کو سیکیورٹی فراہم سے متعلق ایک قرارداد منظور کی ہے۔جو ایک قابل تحسین قدم ہے۔ لیکن یہ وقتی یا عراضی حل ہے۔ یعنی عمل سے مشروط ہے۔ رواداری کا معاشرہ بنانے کے لئے صرف حکومت ہی نہیں، معاشرے کے تمام حصوں اور اداروں کو  مربوط طریقے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔
 روزنامہ کاوش اداریے میں لکھتا ہے کہ سندھ میں زرعی معیشت کے بعد آبادی کے بڑے حصے کا زریعہ معاش  آبی معیشت پر ہے۔ سندھ کی آبگاہوں سے مختلف اقسام کی گھاس وغیرہ پیدا ہوتی ہے،  لیکن مچھلی کی پیداوار اہم ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں سے ان جھیلوں میں مچھلی کی پیداوار کم ہوتی جارہی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر محکمہ ماہی گیری نے مچھلی کے بیج کی فراہمی کے لئے مختلف اضلاع میں چمھلی کی ہیچریز قائم کی۔ یہ ہیچریز  اپنے بنیادی کام کی تکمیل میں ناکام رہی ہیں۔ 

محکمہ ماہی گیری کے افسران  غیر فعال ہیچریز کی فیڈ اور دیگر سامان کی مد میں  بجٹ باقاعدگی سے  لیتے رہے ہیں۔  لیکن مچھلی کا بیج مارکیٹ سے خرید کر کے ڈلا جاتا ہے۔ کبھی کبھی این جی اوز یا عالمی ادارے مہربانی کر کے محکمہ کا کام آسان کر دیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان ہیچریز کو فعال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مچھلی کی پیداوار میں اضافہ کیا جاسکے۔   

https://www.darsaal.com/columns/sohail-sangi/sindh-main-gair-yaqeeni-halat-aur-becheni-kyun-16229.html 

Friday, September 27, 2019

پیپلزپارٹی کیا سوچ رہی۔۔۔؟


پیپلزپارٹی کیا سوچ رہی۔۔۔؟ 
میرے دل میرے مسافر    سہیل سانگی
 ہر کوئی دسمبرتک کی آس لگائے بیٹھا ہے۔ آئندہ تین ماہ میں ایساکیا ہونے والا ہے؟ حالات اور واقعات سے لگتا ہے کہ ملک میں بظاہر پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی حکومت کے درمیان راؤنڈ چل رہا  ہے۔ تب تک نواز لیگ کے خلاف مزید اقدامات کو التوا میں ڈال دیا گیا ہے۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن اور پیپلزپارٹی کے اہم رہنما خورشید شاہ کی گرفتاری اور وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کو گرفت میں لانا تازہ وقعات ہیں۔ مستقبل قریب میں صورتحال کیاہوگی؟ خیال ہے کہ پیپلزپارٹی کی حکمت عملی کا اہم کردارہوگا۔

 پیپلزپارٹی نے اسلام آباد آزادی مارچ کے لئے آل پارٹیز کانفرنس بلانے یا رہبر کمیٹی کا اجلاس بلانے کی تجویز دی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے مارچ  پر پیپلزپارٹی کے اندر دو رایے ہیں۔ ایک یہ کہ مکمل طور پر اس میں شرکت کی جائے۔ کہا جاتا ہے کہ پارٹی کے گرفتار رہنما  آصف علی زرداری بھرپور شرکت کے حق میں ہیں۔ 

دوسری رائے  جس کے حامی بلاول بھٹو ہیں اس کے مطابق  اس مارچ کی اخلاقی حمایت اور علامتی شرکت کی جائے۔یہ بات اہم ہے کہ آصف علی زرداری  اور بلاول بھٹو یعنی باپ بیٹے  کے درمیان بارہ راست مالقات کو تقریبا دو ماہ کا عرصہ ہ ہو چکا  ہے ان کی آخری ملاقات پراڈکشن آرڈر پرقومی اسمبلی میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد بلاول نہ ان سے جیل میں ملنے گئے ہیں اور نہ عدالت کی پیشی کے موقع پر جاکر ملاقات کی۔ 
سنیٹراعتزاز احسن  پارٹی کے اندر ایک خاص نقطہ نظ رکھنے والوں میں  سے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ عمران حکومت کو خطرہ معیشت،مہنگائی اور بیروزگاری سے ہے، اپوزیشن کو اس صورتحال میں شاید زیادہ محنت کی ضرورت نہ پڑے۔وہ شاید مولانا کے مارچ کو’زیادہ محنت‘ قرار دے رہے ہیں۔  تاہم پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ حکومت ہر طرح سے فیل ہوچکی ہے،مہنگائی  کے طوفان نے لوگوں خاص طور پر تنخواہ دار طبقہ کو لپیٹ میں لے لیاہے،بے روزگاری عروج پر ہے،کاروبار بند ہورہے ہیں
بلاول کے مطابق پارلیمنٹ کو5سال مکمل ہونے  دیئے جائیں، وہ سمجھتے ہیں کہ  صرف سیاسی جماعتوں کے احتجاج یا دباؤ سے حکومت نہیں بدلی جاسکتی، یہ تب ہو سکے گا جب بدلنے والے خود ایسا نہیں چاہیں گے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر  پارلمنٹ کو جاری نہ رکھنے کی صورت میں کوئی نیا فارمولا نہ آجائے۔ 
پیپلزپارٹی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب پریشر بڑھے کا تو اتحادی بھی ساتھ چھوڑ سکتے ہیں،ہمیں یہ خطرہ ہے کہ نظام نہ لپیٹ دیا جائے اس لئے احتجاج میں مولانا فضل الرحمان کا ساتھ دینے سے انکار کیا۔ لیکن تمام پارٹیاں پرامن احتجاج اور اپنے اپنے جلسے کریں تو کسی موقع پر حکومت کو گھر جانے کیلئے کہہ سکتے ہیں۔ 

پیپلزپارٹی اسی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ بلاول بھٹو کا حالیہ دورہ سندھ بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا۔ 
گزشتہ دنوں وہ گرفتار رہنما سید خورشید شاہ سے اظہار یکجہتی کے طور پر سکھر آئے۔  بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ”اگر جنوری تک اگر حکومت کا خاتمہ نہ کیا گیا تو جیالوں سمیت پنڈی پہنچوں گا“۔  پنڈی کی کوئی معنی بھی لی جاسکتی ہیں، لیکن انہوں وضاحت کی کہ ”ذوالفقار علی بھٹو کو بھی پنڈی میں پھانسی دی گئی تھی، بینظیر بھٹو کو بھی پنڈی میں شہید کیا گیا تھا“۔  
یہ کہ پیپلز پارٹی نے  جے یو آئی ایف کی اس تنقید کا جواب دیا ہے کہ پیپلزپارٹی کے گرفتار رہنما رہا ہونا چاہتے ہیں اور آزاد رہنما گرفتار نہیں ہونا چاہتے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی پیغام ہے کہ  اسلام آباد ہی نہیں پنڈی میں احتجاج کیا جاسکتا ہے، لیکن  یہ احتجاج پیپلزپارٹی خود کرے گی۔ اس احتجاج کے لئے انہوں نے مولانا فضل الرحمان یا کسی اور کو شرکت کے لئے نہیں کہا۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے اندر خواہ باہر اپوزیشن کی دو اہم جماعتوں کو اپنے ساتھ جوڑے رکھتی  ہوئی  آگے بڑھتی ہے یا ان کو نظر انداز کر کے صرف اکیلے چلتی ہے؟
 پیپلز پارٹی کے لئے اہم محاذ سندھ  حکومت ہے جو اس کی کمزوری بھی ہے اور مضبوط نقطہ بھی۔ لیکن یہاں پر بھی وفاقی حکومت کے پاس کوئی مضبوط یا آسانی سے قابل عمل آپشن نہیں۔ 

سندھ کی صورتحال  پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگار علی قاضی کہتے ہیں کہ وزیراعلیٰ سندھ کو کم از کم  اٹھارہ  گھنٹے فون پر یا روبرو ملاقاتوں کے ذریعے حکومت کے اعلیٰ افسران و عہدیداران سے رابطے میں رہنا پڑتا ہے۔ لیا یہ دلچسپ صورتحال نہیں ہوگی کہ چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس جیل جا کر وزیراعلیٰ سے ہدایات  لیں گے؟۔ مختلف سمریز اور ہدایات و فیصلوں پر ان کے دستخط چاہئے ہوتے ہیں۔ کیا سب کچھ جیل کے اندر ہوتا رہے گا یا نیب کے دفتر میں؟ یا پھر چیف منسٹر ہاؤس کو سب جیل قرار دیا جائیگا؟

 پیپلزپارٹی پر دباؤ  وزیراعلیٰ تبدیل کرنے لے جایا جاسکتا ہے جو پیپلزپارٹی کے لئے بدترین آپشن ہوگا۔ لہٰذا وہ اس آپشن پر نہیں جائے گی۔کیونکہ اس کو فارورڈ بلاک  بننے کا خطرہ ہے۔

قانوندان خواہ سیاسی مبصرین کے مطابق  اس کے علاوہ بھی تین آپشن ہو سکتے ہیں۔یہ کہ راستہ عدالت سے رجوع  کیا جائے۔معاملے کی حساسیت کے پیش نظر عدالت بھی اس انوکھے قسم کے کیس کا جلدی میں کوئی فیصلہ نہیں کر پائے گی۔ کیونکہ  یہ سیدھا سیاسی معاملہ ہے۔ 
دوسرا آپشن   یہ ہے کہ صوبے کے مختلف واقعات کو بنیاد بنا کرگورنر راج نافذ کردیا جائے۔ آخری آپشن فارورڈ بلاک بنا کر  عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کا ہے۔ اگر یہ آپشن لیا جاتا ہے تو کیا دوبارہ پیپلزپارٹی کو ہی موقع ملے گا کہ وہ حکومت بنائے۔ اگر یہی کرنا ہے تو پھر دس ماہ تک کی اتنی خچر خواری کیوں کی جارہی تھی؟۔ 

معاملہ کراچی کے لئے بلدیاتی اختیارات کا ہے جو وفاقی حکومت یعنی وزیر اعظم عمران خان کا مقصد ہے۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کی ہی حکومت رہتی ہے تو حکومت کواپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے دیر سویر پیپلزپارٹی کے ساتھ ڈیل کرنی پڑے گی۔  

What PPP is thinking? - Column by Sohail Sangi 
Keywords: PPP, PMLN, Maulana Fazal, Islamabad March, PTI, Murad Ali Shah, Bilawal Bhutto, Zardari,


https://www.darsaal.com/columns/sohail-sangi/people-16198.html

Monday, September 23, 2019

کراچی میں سیاسی کچرا


کراچی  میں سیاسی کچرا 
میرے دل میرے مسافر   سہیل سانگی
کچرے کے پیچھے سیاست ہی سہی، چلیں اچھا ہوا کہ وفاقی خواہ صوبائی نے تسلیم کیا کہ بنیادی شہری سہولیات اہم ہیں۔ کراچی خواہ سندھ کے دیگر شہروں میں وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی نگرانی میں سندھ حکومت نے صفائی مہم شروع کردی ہے۔  

بات سید مراد علی شاہ کی حکومت ہٹانے سے شروع ہوئی تھی۔  اب وہ کچرا ٹھا رہے ہیں۔ کیاپتہ اس طرح ان کی حکومت بچ جائے۔ اس کے علاوہ شاہ صاحب کراچی، میرپور خاص اور دیگر شہروں کا دورہ بھی کر رہے ہیں۔  

وزیرشپنگ نے دوہفتہ میں شہر صاف کرنے کا بلند دعویٰ کیا،دوسرے وزیرآبی وسائل نے دعویٰ کیا۔ اس مسئلہ کے حل کے لیے کمیٹی کاا علان بھی کیا گیا لیکن کام کے بجائے بحث کاآغاز ہوگیا۔ چند روز قبل وفاقی حکومت نے کچرا اٹھانے کی کوشش کی،  کام ایف ڈبلیو او کو دیا، وفاقی وزیرعلی زیدی کا دعوا ہے کہ ایک لاکھ 35ہزار ٹن کچرا اٹھایا لیکن لینڈ فل سائٹ پر 15ہزار ٹن پہنچا،باقی ایک لاکھ 20ہزار ٹن کچرا شہرمیں ڈال دیا گیا۔ 

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے صرف تیرہ ہزار ٹن کچرا اٹھایا۔ کراچی تقریبا  بارہ ہزار ٹن روزانہ کچرا پیدا کرتا ہے۔
صوبائی حکومت نے ہر جگہ بلدیہ کے ملازمین کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ سب کی چھٹیاں موخر کردی گئیں ہیں،ضرورت کی مشینری اور آلات فراہم کردیئے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ بذات خود اس مہم کو مانیٹرکررہے ہیں۔اس ضمن میں بعض اہم باتیں سامنے آئی ہیں۔ کچھ علاقوں میں  بلدیاتی اداروں اور ان کے عملے کے تعاون  نہ کرنے کی وجہ سے یہ مہم ان علاقوں میں بہتر طور پر نہیں چل رہی  ہے۔ 

مہم کے دوسرے دن  یہ  انکشاف ہوا کہ بھاری پتھر 24  انچ کی سیوریج لائن سے نکالے گئے ہیں، وزیراعلیٰ کا ماننا ہے کہ کراچی  کی اونرشپ کا دعوا کرنے والوں نے اس مہم کو ناکام بنانے کے لیے ڈالے تھے۔ 

کچرے اٹھانے کو مہم کیوں بنایا گیا؟ اصل میں یہ شہری حکومت کی مسلسل ناکامی  ہے۔ کیا بلدیہ عظمیٰ اور شہر کی مختلف ذیلی بلدیات کے پاس عملہ نہیں؟ کیا ان کے پاس معمول کے مطابق کچرا اٹھانے والی گاڑیاں اور ان کے لئے تیل نہیں؟ کیا صفائی کے لئے مطلوبہ دیگر سامان اور آلات نہیں؟ ہر ایک جانتا ہے کہ بلدیہ کے پاس عملہ اور دیگر مطلوبہ سازوسامان بمع گاڑیوں کے موجود ہے۔  ماہانہ  صفائی سے متعلق عملے اور ان کی نگرانی کرنے والوں کو تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں۔ 

گاڑیوں کے تیل ان کی دیکھ بھال پر ہر ایک بڑی رقم ماہ خرچ ی کی جاتی ہے۔ یہ
 بات اس وجہ سے بھی کہی جاسکتی ہے کہ تاحال بلدیہ کی جانب سے شکایات سامنے آئی ہیں، ان چیزوں کی شکایت نہیں کی گئی ہے۔ یہ  بات تحقیق طلب ہے کہ عملہ کیوں کام نہں کرتا؟ اور صفائی کی مد میں رکھی گئی رقومات کہاں خرچ ہوئیں؟ 

 یہ کوئی راکیٹ سائنس نہیں کہ  اگر روزانہ کی بنیاد پر صفائی ہوتی رہتی تو شہر  میں  اتنی گندگی نہیں پھیلتی، اور مسائل نہیں ہوتے۔ کچرا اٹھانے کیلئے بہت زیادہ فنڈز کی ضرورت نہیں ہے، تاہم وزیراعلیٰ سندھ نے فنڈز فراہم کرنے اور ڈی ایم سیز کی مدد کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کچرا اٹھانا ڈی ایم سیز کا کام ہے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ان کی سپورٹ میں تھا، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اس وقت بارہ ہزار ٹن سے زیادہ کچرا اٹھارہا ہے۔ 

پی ٹی آئی سندھ کا کہنا ہے کہ کراچی سے کچرا اٹھانا سندھ حکومت کا کام ہے انہیں ہی کرنا چاہئے۔ یہ بات جزوی طور پر درست ہے کہ تمام معاملات کی حتمی ذمہ داری حکومت پر ہوتی ہے۔ لیکن چلی سطح پر جو کام جس کو کرنا ہے وہ نہ کرے  پھریہ ذمہ داری دوسرے پر ڈالنا درست نہیں ہوگا۔ 
  یہ صوبائی حکومت کا کام نہیں بہرحال یہ صوبائی حکومت کی طرف سے اچھا قدم ہے اور اس کو ضرور سراہاجانا چاہیئے۔  اصل میں کچرے کا بڑا بیک لاگ ہے، جس کو ختم کرنا ضروری ہے۔ 

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ  کے مطابق کلین مائی کراچی مہم کے پہلے دن 7152 ٹن کچرا اُٹھایا گیا، کراچی کے بیک لاک کچرے کو ایک ماہ کے اندر ٹھکانے لگانے کا عزم کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوشش ہوگی اس ڈیڈلاک کو ختم کریں۔ صوبائی حکومت مہم چلا کر یہ یہ بیک لاگ ختم کردیتی ہے، اس کے بعد کیا ہوگا؟  
اگر صفائی سے متعلق  عملہ ٹھیک سے کام نہیں کرتا، اس کا م کی صحیح سے نگرانی نہیں ہوتی، تو چھ ماہ بعد دوبارہ شہر کی یہی صورتحال ہو جائے گی۔ ہوتا یہ ہے کہ لوگ اپنے گھر یا دوکان کی صفائی کرکے کچرا دوسرے کے گھر یا دوسرے کی دکان اور سٹرک پر پھینک دیتے ہیں۔ اور بلدیہ کا عملہ روزانہ کی بنیاد پر صفائی نہیں کرتا۔ جس سے بیک لاگ بنتا اور اس میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ بلاش بہ  اس کے لئے  گلی کوچوں میں بڑے کچرے دان فراہم کرنے اور کچرے دانوں کی دن میں دو تین مرتبہ صاف کرنا ضروری ہے تاکہ کچرا ڈرم باہر نہ گرے۔ صوبائی حکومت قانون سازی کر سکتی ہے کہ سڑک پہ  یا کسی کے گھر کے سامنے یا دوکان کے سامنے کچرا پھینکنے کی صورت میں جرمانہ عائد کیا جا سکے۔ لیکن یہ تمام کام بلدیہ کو ہی کرنے اور دیکھنے ہیں۔
بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ معاملہ چھوٹے تاجروں میں سیلز ٹیکس  پر پھیلی ہوئی بے چینی کا بھی ہے۔ملک میں چھوٹے تاجروں کی سب سے بڑی مارکیٹ کراچی میں ہے۔ سیلز ٹیکس کے حوالے سے چھوٹے تاجروں اور ایف بی آر کے درمیان مذاکرات  ناکام ہوچکے ہیں۔  لہٰذا  وفاقی حکومت کراچی کے شہریوں کی توجہ  وفاقی اقدامات سے ہٹا کر اس کا رخ صوبائی حکومت کی طرف کرنا چاہتی ہے۔

بہرحال جو بات واضح ہے وہ یہ کہ وفاقی حکومت نے بلدیہ کی ناکامی پر پردہ ڈالتے ہوئے، کراچی شہر کی صفائی کا معاملہ سندھ حکومت میں گلے میں اس لئے ڈالا کی وہ  اس کی آڑ میں اپنی مرضی کا بلدیاتی قانون لاسکے۔  اس کے ساتھ ساتھ کراچی کو کسی طرح سے وفاق سے منسلک کر سکے۔ 

سندھ حکومت نے معاملے کو بھانپ لیا اور خود کراچی کی اونرشپ کے لئے آگے آئی ہے۔ وزیراعلیٰ اور ان وزراء صفائی مہم میں لگ گئے ہیں۔وہ اس تاثر کو مٹانا چاہ رہے ہیں کہ سندھ حکومت کراچی کے لئے کچھ نہیں کررہی۔ کم از کم کراچی کے نام پر وفاقی حکومت کوئی قدم اٹھائے اس کو ناکام کرنا چاہ رہے ہیں۔

Sunday, September 22, 2019

پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کے دو راہے

Nai Baat Sep 19, 2019
پیپلزپارٹی اور نواز لیگ  کے دو راہے 

میرے دل میرے مسافر   سہیل سانگی

بلاول بھٹوزرداری سندھ کا دورہ مختصر کر کے ابھی اسلام آباد پہنچے ہی تھے کہ پارٹی کو ایک اور دھچکے  لگا کہ ایک اہم رہنما سید خورشید شاہ کو نیب نے اپنے شکنجے میں لے لیا ہے۔  بینظیر بھٹو  ہوں یاا ٓصف علی زرداری اور بلاول بھٹو خورشید شاہ کوان سب کا اعتماد حاصل رہا ہے اور وہ  قیادت کی عدم موجودگی میں قومی اسمبلی میں پارٹی کی بھرپور نمائندگی کرتے رہے۔ ان کے بعدوزیراعلیٰ سندھ سمیت بعض دیگر گرفتاریوں کے بھی اشارے مل رہے ہیں۔ بلاول بھٹو مولانا فضل الرحمٰن کے لاک ڈاؤن سے ہٹ کر سندھ میں تحرک پیدا کر رہے تھے۔ جس میں وہ  بڑی ٰ حد تک کامیاب بھی ہوئے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی  کے فلور پر یقین دہانی کرائی کہ سندھ اور سندھ حکومت کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہورہا۔  دوسری طرف نواز لیگ کی طرف سے دھرنے کا حصہ بننے کے لئے پیش رفت ہوئی۔ اور مولانا فضل الرحمٰن اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کی اور بعد میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو اس ملاقات پر اعتماد میں لیا۔کوٹ لکھپت میں ہونے والی اس ملاقات میں احسن اقبال اور خواجہ محمد آصف بھی موجود تھے۔ سابق وزیراعظم کوبتایا گیا کہ دونوں جماعتوں نے حکومت مخالف ’آزادی مارچ‘ کی تاریخ مشترکہ طور پر طے کرنے کا فیصلہ کیا۔اس سے قبل پیپلز پارٹی نے دھر نے میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن اس کو اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرنا پڑا۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بازگشت سنائی دیتی رہی کہ نواز لیگ اور حکومت کے درمیان مذاکرات چل رہے ہیں۔ 
 وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے طور پر یقین دہانی کرائی تھی یا حکومتی پالیسی کا حصہ تھی، کیونکہ بعد میں ہوا یہ کہ پارٹی کے اہم ارہنما سید خورشید شاہ گرفتار ہوگئے۔ اور پیپلزپارٹی کو خدشہ ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو گرفتار کرلیا جائے گا۔ جہیں نیب نے انیس سوالات پر مشتمل سوال نامہ بھیجنے کے بعد چوبیس ستمبر کو اسلام آباد طلب کیا ہے۔ بلاول بھٹو کے ترجمان مصطفیٰ کھوکھر  نے پارٹی کا موقف رکھا ہے کہ سید مراد علی شاہ کو ہٹانے کے دو ہی طریقے ہیں۔ ان کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی جائے، یا پھر عدالت کے ذریعے ہٹایا جائے۔ گرفتاری سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔ ہٹایا گیا تو جیل میں کابینہ کا اجلاس بلائیں گے۔ 
سندھ حکومت پر انتظامی اور گورننس کے حوالے سے دباؤ جاری ہے، جس سے  پارٹی کے قلع والے صوبے میں پارٹی اور حکومت دونوں کی ساکھ کو متاثر ہورہی ہے۔ یہ دباؤسندھ حکومت کے حوالے سے کسی بھی اقدام کو عوام میں قبولیت  یا جواز کو جائز قرار دینے میں مدد دے سکتے ہیں۔وفاقی حکومت کو پتہ ہے کہ سندھ حکومت پیپلزپارٹی کی کمزوری ہے۔ وہ اس کمزوری کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ پیپلزپارٹی سندھ کو ہی احتجاج کا بنیاد بنانا چاہتی ہے۔ پارٹی کے لائحہ عمل کے مطابق احتجاج سندھ سے ہوتا ہوا پنجاب جائے گا۔ یعنی ایک مرتبہ پھر پیپلزپارٹی سندھ سے پنجاب جاکر وہاں آواز دینا چاہتی ہے۔ پیپلزپارٹی سمجھتی ہے  احتجاج پنجاب کی شمولیت کے بغیر نتیجہ خیز نہیں ہوگا۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مولانا فضل الرحمان کے احتجاج کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کا اعلان کیا ہے تاہم کہا ہے کہ کچھ تحفظات دور ہوجائیں تو شاید ہم مولانا کے احتجاج میں شامل بھی ہوجائیں گے۔
پی پی چیئرمین کا یہ موقف کہ’ہمارا جو بھی راستہ ہوگا جمہوری اور آئینی ہوگا، ہم چاہتے ہیں کہ جمہوری نظام چلے،پارلیمنٹ چلے، ہرصورت میں جمہوریت کاتسلسل برقراررکھا جائے‘ بظاہر اچھا ہے لیکن اس سے دو باتیں ظاہر ہوتی ہیں۔اس کی ایک تشریح یہ نکالی جارہی ہے کہ پارٹی حکومت کے خلاف موقف میں پیچھے ہٹی ہے۔کیونکہ مولانا کا دھرنا  ’پارلیمنٹ چلے، ہرصورت میں جمہوریت کاتسلسل برقرارر ہنے ‘ کے دائرے میں نہیں آتا۔ دوسری تشریح یہ ہے کہ آئین سے بالاتر اقدامات کا خدشہ ہے۔ دورہ سندھ کے دوران بلاول بھٹو نے نئے انتخابات کا مطالبہ کیا تھا، لیکن اسلام آباد  پہنچنے کے بعد انہوں نے پارٹی کے پرانے مطالبے کا اعادہ کیا کہ آئندہ عام انتخابات انتخابی اصلاحات کے مطابق ہونے چاہئیں، موجودہ قوانین کے تحت دوبارہ عام انتخابات کا فائدہ نہیں ہوگا۔ لگتا ہے کہ پیپلزپارٹی صورتحال کو از سرنو دیکھ رہی ہے۔  
بلاول بھٹو نے گزشتہ روز جیل میں والد آصف علی زرداری سے ملاقات میں صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ خورشید شاہ کی گرفتاری سے منتخب ایوان میں پارٹی ایک اچھے  ترجمان سے محروم ہو گئی ہے۔ جس سے قومی اسمبلی میں حکومت کو پوزیشن مضبوط ہوگی۔ او وہ اگر کوئی بل وغیرہ لانا چاہے گی تو اسے سہولت ہو جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ بلاول نے اس گرفتاری کو سیاسی گرفتاری قراردیا ہے۔ حکومت کو دو  محاذوں پر مخالفت کا سامنا ہے، ایک پارلیمنٹ کے اندر اور دوسرا پارلیمنٹ سے باہر۔پہلے حکومت پارلیمنٹ کے اندر صفیں درست کرنا چاہ رہی ہے۔ مولانا کی تمام تر کوششوں کے باوجود پیپلزپارٹی اور نواز لیگ ایک دوسرے سے قریب نہیں ہو پائی ہیں، دونوں کے درمیان بدگمانیاں برقرار ہیں۔گزشتہ ایک ماہ کے دوران دونوں جماعتوں  کے درمیان  نہ ملاقات ہے اور نہ  ایک جیسا موقف۔
مولانا فضل الرحمٰن کا دعوا ہے کہ وہ پندرہ لاکھ کا مجمع لگائیں گے۔ اس میں سے اگر پانچ کا ہندسہ نکال بھی دیں اور یہ ایک لاکھ کا مجمع ہوگا، حکومت پر دباؤ عروج پر پہنچ جا ئے گا۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ حکومت مولانا کے خلاف کوئی اقدام نہیں کر رہی۔ بعض اوقات لگتا ہے کہ مولانا کی سرگرمیاں حکومت، خواہ اپوزیشن کی دونوں جماعتوں کے لئے مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔ یہ تینوں فریق مولانا کی اس دھمکی سے خوفزدہ بھی ہیں، لیکن اس سے فائدہ بھی اٹھانا چاہتی ہیں۔ یہ اہم سوال ہے کہ مولانا کے پی کے یا ملک کے دیگر علاقوں سے لوگ کٹھے کر لیں گے، لیکن تب تک صورتحال تب تک تبدیل نہیں ہوگی  جب تک پنجاب  اس میں بھرپور شمولیت نہیں کرے گا۔

PPP, PMLN, Bilawal Bhutto, PTI, NAB, Islamabad Lockout, NawazSharif

Thursday, September 19, 2019

بلاول بھٹو کا دورہ سندھ


بلاول  بھٹو کا دورہ سندھ 
Sep 17, 2019
  
 میرے دل میرے مسافر

 ”وفاق سندھ کے ساتھ گڑبڑ نہیں کر رہا“ کی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے قومی اسمبلی میں یقین دہانی  کے بعد بلاول بھٹو زرداری سندھ کا دورہ معطل کر کے اسلام آباد چلے گئے ہیں۔ بلاول بھٹو نے سندھ کا دورہ تب شروع کیا تھا جب اسلام آباد سے یہ خبریں آرہی تھی کہ حکومت اوردو بڑی جماعتوں کے درمیان ڈیل ہوری ہے۔ شرائط رکھی جارھی ہیں۔ سندھ میں حکومت تبدیل کی جارہی ہے۔ اس اثناء میں وزیراعظم عمران خان نے ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی پر مشتمل کمیٹی بنادی جس کے ذمہ کراچی میں ترقیاتی کام دئیے جارہے تھے۔

ابھی اس پر بحث چل ہی رہی تھی کہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے سندھ میں آرٹیکل 149 نافذ کرنے کی بات کردی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ کراچی پر غیر آئینی طور پر قبضہ کی کوششیں ہورہی ہیں، اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو سندھو، سرائیکی اور پختون دیش بن سکتا ہے

کراچی کمیٹی اور وزیر قانون  کے اس موقف پر سندھ پھرمیں طیش پیدا ہو گیا۔ دو ہفتے قبل آرمی چیف نے سندھ کی تعریف کی تھی۔ بہرحال وفاقی حکومت اور وفاقی وزیر قانون کے اس موقف نے پانی پھیردیا۔ 

سندھ میں کہا جارہا ہے کہ بلاول بھٹو کی بات ٹھیک نشانے پر بیٹھی۔ وفاقی حکومت کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو چننا پڑا کہ وہ پیپلزپارٹی کو یقین دہانی کرائیں کہ سندھ اور سندھ حکومت کے ساتھ کوئی گڑبڑ نہیں ہو رہی۔ لہٰذا بلاول بھٹو سے کہا کہ سندھ کارڈ نہ کھیلیں۔ سندھو دیش کی بات کرنے والے بری طرح سے پٹ جائیں گے۔ صوبائی خود مختاری کو نقصان پہنچنے نہیں دیں گے۔  وفاقی وزیر قانون کی جانب سے آرٹیکل 149 کے باے میں وضاحت کے بعد بلاول بھٹو کی سندھو دیش اور پختونستان کی بات کرنا مناسب نہیں۔  
بلاول بھٹو نے  دورے کے دوران  چار باتوں کو فوکس کیا۔
۔ ۱)  وفاقی حکومت سندھ سے کراچی لینا چاہتی ہے۔ 
۔ ۲) سندھاسمبلی میں فارورڈ بلاک بنانے یا خود پارٹی پروزیراعلیٰ تبدیل کرنے کے لئے دباؤ ہے۔ بلاول نے  دوسرے کے آخری روز صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ تین مرتبہ تبدیل کرنے کی فرمائش کے باوجود پارٹی کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ ہی ہیں۔
۔  ۳) سندھ مالی بحران کا شکار ہے کیونکہ اس کو آئین کے آرٹیکل 161 کے تحت پیسے دینے میں مرکز ناکام رہا ہے۔ صوبوں کے اختیارات اور مالی وسائل کسی طور پر کم نہیں کئے جاسکتے۔
۔  ۴) وفاقی حکومت استعیفا دے اور نئے انتخابات کرائے۔
اس سے پہلے نواز لیگ نے نئے انتخابات کا مطالبہ کیا تھا پیپلزپارٹی نئے انتخابات کا مطالبہ نہیں کر رہی تھی۔بلاول بھٹو کے پروگرام میں لاڑکانہ اور شکارپور کی بعض مصروفیات کے علاوہ دورہ تھر بھی شامل تھا۔لیکن وہ بلاول بھٹو سندھ کا دورہ مختصر کر کے اسلام آباد  چلے گئے۔
 اسلام آباد روانگی سے قبل گڑھی خدا بخش میں کارکنوں کے ورکرز کنونشن سے خطاب  کے دوران انہوں نے بعض اہم باتیں کی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول اس مرتبہ زیادہ پر اعتماد تھے۔ انہوں نے حکومت، اتحادیوں اور سلیکٹرز کو اس سال کے آخر تک کی ڈیڈ لائن دی ہے اور کہا  اگر حکومت، اتحادی اورسلیکٹرز نے عمران خان کو گھر نہیں بھیجا تو ہم خود اسلام آباد پہنچ کر اسے گھر بھیج دینگے۔ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ زرداری کو جیل میں ڈال کر نہیں جھکا سکتے، وہ سمجھتے ہیں کہ ہماری قیادت کو جیل میں رکھ کر جھوٹے مقدمات بناکر سندھ میں کٹھ پتلی حکومت لاسکتے ہیں مگر ہم ایسا نہیں ہونے دینگے۔اگر صدر زرداری اور فریال تالپور نے کچھ غلط کیا ہے تو سزا کیوں نہیں دے سکتے ہو، ایک ادارے کو جے آئی ٹی پر کیوں بٹھادیتے ہو، اگر کچھ غلط ہے تو پنڈی میں ٹرائل کیوں کرایا جاتا ہے۔ 
بلاول اب سمجھتے ہیں کہ حکومت سابق صدر آصف علی زرادری کے خلاف مکمل طور پر مقدمہ چلا کر سزا دلانے کی پوزیشن میں نہیں۔

سندھ میں حکومتی تبدیلی کے خلاف پیپلزپارٹی نے اپنا ہوم ورک مکمل کرلیا ہے۔
 یہی وجہ ہے کہ بلاول کہتے ہیں کہ ’میں نے بتیاں گل کردی ہیں، اگر کوئی بی بی کا قافلہ چھوڑنا چاہتا ہے تو وہ چھوڑ کر چلا جائے، مگراسےعوام کو جواب دینا ہوگا اور الیکشن میں تیر کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ ‘

خطے  کے حوالے سے تبدیلی یہ آئی ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے افغان مذاکرات معطل کردیئے ہیں۔ کشمیر کے معاملے پر پی ٹی آئی حکومت مسلم ممالک سے مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان انڈیا پر دباؤ ڈال سکیں۔ آئی ایف کی جانب سے بھی بعض رپورٹس  اطمینان بخش نہیں بتائی جاتی۔ 
دو ہفتے پہلے لگ رہا تھا کہ اپوزیشن پیچھے ہٹ گئی ہے۔ لیکن اب نئی صورتحال 

سامنے آئی ہے۔نئی صورتحال پر تبادلے  خیال کے لئے پارٹی کے صدرشہباز شریف نے شاہد خاقان عباسی سے ان کے گھر جا کرملاقات کی۔ نواز شریف کے بیانئیے کے ساتھ کھڑے پرویز رشید نے ڈیل کی کوششوں کی تصدیق کی کہ تین مرتبہ کوئی ثالث میاں نواز شریف سے جیل میں ملنے آیا تھا۔ نواز شریف نے شرط رکھی کہ معافی مانگو اورنئے انتخابات کراؤ۔

 پیپلزپارٹی اگرچہ تاحال مولانا فضل الرحمٰن  کے اسلام آباد لاک ڈاؤن کا حصہ نہیں بن رہی لیکن اس نے اپنے تئیں سندھ پیپلزپارٹی نے تحریک چلانے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ صوبے کی دیگر مخلص جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس تحریک میں ساتھ دیں۔

لگتا ہے کہ حالیہ وفاقی حکومت کے اقدامات نے حکومت کو پیچھے ہٹنے پرمجبور کردیا ہے۔ جس کا فائدہ اپوزیشن کو ملارہا ہے۔  یہاں بعض اشارے اہم ہیں۔ چند ہفتے قبل آصف علی زرادری نے اسلام آباد کے موسم میں تبدیلی کی بات کی تھی۔ 
مولانا فضل الرحمٰن خواہ اکیلے ہی لاک ڈاؤن کرانے جارہے ہوں لیکن یہ ذہن میں رہے کہ وہ یہ دھرنا اکتوبر میں ہی دینا چاہ رہے ہیں۔  بلاول بھی  سال کے آخر تک کی ڈٰڈلائن دے رہے ہیں۔  

Sep 17, 2019
Bilawal Bhutto Sindh Visit - Nai Baat Column by Sohail Sangi

Friday, September 13, 2019

ڈیل یا نو ڈیل Deal or No deal

Nai Baat Sep 13, 2019

ڈیل  یا  نو  ڈیل 

میرے دل میرے مسافر    سہیل سانگی

مولانا فضل الرحمٰن اس بات پر مصر ہیں کہ اکتوبر میں اسلام آباد لاک ڈاؤن دھرنا دیا جائے  جو  موجودہ حکومت کے خاتمے تک جاری رہے۔ مسلم لیگ (ن) نے اس دھرنے کی حمایت کا تو اعلان کیا ہے لیکن یہ نہیں معلوم کہ وہ کس حد تک اس کے ساتھ جائے گی۔ جبکہ پیپلز پارٹی نے تقریبا اس دھرنے سے خود علحدہ کردیا ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پارٹی اس دھرنے میں شرکت نہیں کرے گی اور کہا کہ ان کی دعائیں مولانا کے ساتھ ہیں۔

ایسا لگ رہا ہے کہ مولانا اکیلے ہی یہ دھرنا دینا چاہ رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی حکومت کے خلاف عوام میں موجود بے چینی کو کوئی شکل دی جا سکتی ہے۔ خواہ دوسری جماعتیں ساتھ نہ  دیں، یہ دھرنا کامیاب ہو سکتا ہے۔

مولانا  کے لئے اس طرح کی پہلکاری اور احتجاجی پاور شو اس لئے بھی ضروری
 ہے کہ خیبرپختونخوا میں ان کی پارٹی کے لئے بقا کا مسئلہ ہے۔ جس کو گزشتہ دو انتخابات میں کونےسے لگایا جارہا ہے۔ان کے سامنے یہی ایک مقصد ہے کہ اپنے بقا برقرار رکھے۔حالات و واقعات بتاتے ہیں کہ مولانا کی سیاست  خطے کی تبدیل شدہ صورتحال میں فٹ نہیں بیٹھتی۔ مذہبی سیاست  جس رنگ اور حکمت عملی کے لئے چاہئے اس کی نئی اشکال بنا دی گئی ہیں۔ 

جے یوآئی(ف)  2013 کے بعد مسلسل پی ٹی آئی کے سیاسی دباؤ میں ہے۔ فاٹا حالیہ صوبائی انتخابات میں ان کی جماعت ہار گئی۔ لہٰذا مولانا جو ماضی میں مصلحت کی پالیسی کے لئے جانے جاتے تھے اب مزاحمتی فارمولے پراترآئے ہیں۔ جے یو آئی اور اے این پی  (سابقہ نعپ)  جو ستر اور اسی کے عشرے میں صوبے میں بڑی سیاسی قوتیں تھیں، اب پرانی پارٹیاں ہو گئی ہیں۔ اے این پی بھی سڑکوں پرآکرپی  ٹی آئی کے خلاف احتجاج نہیں کرنا چاہتی۔ اگرچہ جے یو آئی اے این پی، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور نواز لیگ کے ساتھ مختلف وقتوں میں حکومت خواہ اپوزیشن میں ساتھ رہی لیکن آج کوئی بھی جماعت اس کا ساتھ نہیں دے رہی۔ ممکن ہے کہ یہ جماعتیں  علامتی شرکت کریں اور دسرے درجے کی قیادت دھرنے میں اظہار یکجہتی کے لئے آجائے، وہی صورتحال بنے جو اے پی سی کی ہے۔ 

مولانا  2018کے انتخابات نتائج کو یکسر مسترد کرنے والے ہیں انہوں نے آصف زرداری اور نواز شریف کو مشورہ دیاتھا کہ ان کے اراکین اسمبلی حلف نہ اٹھائیں۔ اس صورتحال میں ایک بحران پیدا ہو سکتا تھا۔ اور پی ٹی آئی حکومت نہیں بناسکتی تھی۔ پی پی پی اور مسلم لیگ کی یہ دلیل تھی کہ اس صورت میں آئین سے بالاتر کارروائی کا راستہ کھلے گا۔ پی ٹی آئی  قیادت کو یقین تھا کہ شریف اور زرداری کا دور کھا کر آگئی ہیں، ان کی اقتدار میں واپسی کا امکان نہیں۔

مولانا فضل الرحمان  جانتے ہیں کہ پیپلزپارٹی اور شہباز شریف اس وجہ سے خود
 کو  دھرنے سے دور رکھے ہوئے ہیں کہ وہ ریلیف کی چاہتے ہیں۔وہ اکتوبر میں اسلام آباد لاک ڈاؤن دھرنا چینا چاہتے ہیں اس مقصد کے لئے انہوں نے کے لئے رابطے شروع کردیئے ہیں انہوں نے آفتاب شیرپاؤ اوراسفندیار سے رابطہ کیا ہے۔ بلاول بھٹو، محمود اچکزئی، سراج الحق اور حاصل بزنجو کیساتھ رابطے کریں گے۔ اسلام آباد دھرنے کے دوران حکومت کے خاتمے، وزیر اعظم کے استعفیٰ اور90دنوں میں نئے انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کیا جائیگا جبکہ حکومت کے خاتمے تک دھرنا جاری رہے گا۔ نواز شریف کے بیانیہ کے ساتھ کھڑے  پارٹی رہنما احسن اقبال نے بھی نئے انتخابات کی بات کی ہے۔ 

یہ حقیقت ہے کہ دو بڑی سیاسی جماعتیں احتساب کے عمل کی زد میں ہیں۔ ان کی قیادت  ہر طرح کے دباؤ میں ہے۔ وہ مزاحمت سے زیادہ کچھ لو کچھ دو یا مصالحت کے راستے تلاش کر رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہونے والی نئی صورت حال نے مزید پیچیدگی پیدا کردی ہے۔

اصل معاملہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ سے نمٹنا ہے۔ اسلام آباد کے ذرائع کا مانناہے کہ حکومت جب نواز شریف اورآصف زرداری کو گرفتار کر سکتی ہے، اس صورتحال میں حکومت جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی گرفتاری کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔
نواز لیگ کے پاس ہارنے کے لئے کچھ زیادہ نہیں کیونکہ پارٹی کی اعلی قیادت بشمول سابق وزیر اعظم اور پارٹی کے سربراہ نواز شریف ایک اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، نوازشریف کی صاحبزادی، مریم نواز،رفیق برادران خواجہ سعداورسلمان رفیق،مسلم لیگ پنجاب کے صدررانا ثناء اللہ اورسابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل گرفتار ہیں،لیکن پھر بھی پارٹی کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف مولانا فضل الرحمٰن کامکمل ساتھ دینے کے حق میں نہیں۔

نواز شریف چاہتے ہیں کہ  مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد لاک آؤٹ میں مکمل ساتھ دیا جائے۔ نواز شریف کا کیپٹن صفدر کے ذریعے مولانا کو دھرنے کی حمایت کا پیغام دیا ہے۔شہباز شریف اور دوسری قیادت سمجھتی ہے کہ اس صورت میں  پارٹی پربڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن  ہوگا۔ 

سیاسی مارکیٹ میں یہ افواہیں بھی گشت کررہی ہیں کہ مسلم لیگ (ن) اورپیپلز پارٹی کی قیادت مبینہ طور پر ڈیل کے لیے راضی ہو گئی ہیں۔اس امر کے بعض اشارے بھی مل رہے ہیں، جس کی کسی مستند حلقے سے تردید بھی نہیں
 ہورہی۔  
پیپلزپارٹی کے پاس کھونے کے لئے بہت کچھ ہے۔ سب سے بڑھ کر سندھ حکومت۔  لاک ڈاؤن میں شرکت اس مصالحتی کوششوں کو زک پہنچا سکتی ہیں۔ بلاول بھٹو کاحالیہ دورہ سندھ کے دوران  بیان کہ پارٹی مولانا کے لاک ڈاؤن کی اخلاقی حمایت کرے گی، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کسی نہ کسی سطح پر مصالحت کا عمل جاری ہے۔ 

لہٰذا پیپلزپارٹی خواہ دوسرا فریق مذاکرات میں اپنی سودے بازی کی پوزیشن مضبوط رکھنا چاہتے ہیں۔ شہباز شریف کے بیانیہ پر کھڑی نواز لیگ چاہتی ہے کہ پیپلزپارٹی  کے ساتھ ڈیل ہو تو صورتحال واضح ہوگی، اور اس کی روشنی میں پارٹی اپنا راستہ بناسکتی ہے۔ 


  


Saturday, September 7, 2019

آصفہ بھٹو زرداری کی انٹری


آصفہ بھٹو زرداری کی انٹری 
 سہیل سانگی میرے دل میرے مسافر

آصف علی زرداری کو جعلی اکاؤنٹس کیس اور نوازشریف کو قومی احتساب بیورو کے بنائے گئے ریفرنسز کا سامنا ہے۔  اور اپنی پارٹیوں اور دور حکومت کے عہد میں سفید و سیاہ  کے پابند سلاسل ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی بڑی خواہش تھی کہ ان دونوں رہنماؤں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھے۔حالات و واقعات  سے لگتا ہے کہ یہ سوچ مضبوط ہو گئی ہے کہ سابق وزیر اعظم  نواز شریف کی طرح سابق صدر آصف علی زرداری کو پارلیمنٹ سے نااہل کروایا جائے اور پھر احتساب عدالت سے انہیں بھی سزا ہو اور وہ بالکل اسی طرح جیل رہیں جیسے نوازشریف  رہ رہے ہیں۔ پاکستان کی سیات پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اس ساری مشق اور مشقت کا مقصد حقیقی احتساب ہرگز نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد کچھ آئینی تبدیلیاں اور بعض امور میں تبدیلیاں لانا ہے۔ نوازشریف اور زرداری فی الحال  بقول وزیر داخلہ  اعجاز شاہ کے توبہ کرنے کے لئے تیار نہیں۔وہ ان تبدیلیوں سے وہ انکاری ہیں۔ وجہ صاف ہے کہ ”اقرار“  صرف ان کی اپنی ہی نہیں بلکہ اپنی اولادوں کی سیاست کی بھی موت ہوگی۔لہٰذا ان کے اسٹیک بڑھ گئے ہیں۔ وہ ان اسٹٹیکس میں مزید ”سرمایہ کاری“ کر رہے ہیں۔ بیدخل ہونے کے بجائے اپنے خاندان کے مزید افراد کو سیاست میں ڈال رہے ہیں۔ 
اسٹبلشمنٹ نے ملک کی سیاست کو جہموری اور اوپن رکھنے کے بجائے ایک بار پھر دو سیاسی خاندانوں کے ستون پر کھڑا کردیا۔پہلے کبھی بھٹو خاندان کی مورثی سیاست کا ذکر ہوتا تھا۔ اب شریف خاندان بھی ہے۔نوازشریف اور آصف علی زرداری دو مکمل طور پر الگ  الگ شخصیتیں ہیں۔دونوں کے الگ  سیاسی نظریات شناختیں ہیں، پس منظر بھی مختلف ہے۔ لیکن وقت نے ان میں بعض مماثلتیں پیدا کردی ہیں۔  
شہباز شریف کے بعد مریم بی بی نواز لیگ میں سرکردہ پوزیشن پر ہیں۔ بلاول بھٹو پیپلزپارٹی  کے چیئرمین ہیں۔ اسٹبلشمنٹ ’نواز لیگ ٹو‘بنانے کی کوشش کرتی رہی، سندھ میں فارورڈ بلاک بنانے کی۔موروثی سیاست کے نقصانات اپنی جگہ پر، اگر کسی سیاستدان کی اولاد اپنی پوزیشن سخت محنت اور حالات کا مقابلہ کرنے کے بعد بناتا ہے تو اس کو محض اس بنیاد پر محروم نہیں کیا جاسکتا کہ وہ سیاستدان کی اولاد ہے۔ آج کے دور میں مورثی سیاست کرنا اتنا آسان بھی نہیں۔ مختلف تکالیف اور پریشر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکومت اور اسٹبلشمنٹ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مریم نواز اور ان کے والد جیل میں ہیں۔ بلاول بھٹو اور ٓصفہ کے والد بھی جیل میں ہیں 
سابق صدر آصف علی زرداری اور شہید بے نظیر بھٹو کی صاحبزادی آصفہ بھٹوزرداری نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انہوں نے جو  انٹرویو دیا  وہ ان کے والد کی جیل میں بیماری اور مناسب علاج نہ ہونے کی شکایت کے لئے نہیں تھا۔ بلکہ سیاسی تھا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اور پرویز مشرف کے دور حکومت میں بہت مماثلت ہے، عمران خان کی وہی کابینہ ہے جو پرویز مشرف کی تھی۔آصفہ جو کہ گزشتہ عام انتخابات میں اس وجہ سے نہیں لڑ سکی تھی تاہم انہوں نے اپنے بھائی بلاول بھٹو کی لیاری والی نشست پر بھرپور مہم چلائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی ناکامیوں کی فہرست ان کی کامیابیوں سے کہیں زیادہ لمبی ہے۔انہوں نے عمران خان کی معاشی، خواہ خارجہ پالیسی خاص طور پر کشمیر پالیسی پر تنقید کی۔ ان کا ماننا تھا کہ میرے والد آصف زرداری نے ساڑھے گیارہ سال قید میں گزارے اس و قت انہوں نے کسی سے این آر او نہیں مانگا۔پی پی رہنما آصفہ بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وہ جیل میں اپنے والد کے علاج سے مطمئن نہیں ہیں۔انٹرویو  ایک لحاظ سے جامع تھا جو کوئی سیاستدان دے سکتا ہے۔ اس سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ آصفہ نے اب باقاعدہ سیاست میں  انٹری دی ہے۔
آصفہ انیس سو سترہ سے مختلف مواقع پر سیاسی بیانات دیتی رہی ہیں۔ بینظیر بھٹو قتل کیس کے حوالے سے انہوں نے کہا تھا کہ بھٹو خاندان کے لئے کوئی انصاف نہیں، بینظیر بھٹو کیس میں عدالت نے ایک بار پھرمایوس کیا ہے۔ روان سال مئی میں  اسلام آباد میں پیپلزپارٹی کے کارکنوں کی گرفتاری اور  واٹر کین کا استعمال کرنے پر کہاکہ  جیالے پھانسی سے نہیں ڈرتے تو پانی سے کیا ڈریں گے؟واٹر کین سے نیب کے کالے قانون کو  دھویا نہیں جاسکتا۔ 
بلاول بھٹو جب ملکی سیاست میں اپنا رول ادا کر رہے ہیں، ایسے میں والد آصف زرداری کا کیس آصفہ کے حصے میں دیا گیا ہے۔ تیس اگست کو زرداری کو  اسلام آباد کی پمز ہسپتال سے اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔اس موقع پر آصفہ کو والد سے ملنے نہیں دیا گیا۔ آصفہ نے مطالبہ کیا کہ والد کو واپس ہسپتال میں رکھا جائے۔  دس جون کوآصفہ والد کی گرفتاری کے وقت  رہائشگاہ پر موجود تھیں اور گرفتاری کے بعد روانگی سے قبل آصف علی زرداری نے اپنے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری کو گلے لگایا اور پیار کیا۔بعد میں فوری رد عمل کے اظہار کے طور پر سماجی رابطے کی  ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ گرفتاری سے سچائی کو نہیں روکا جاسکتا۔ پہلے بھی الزام لگا کر گرفتار کیا گیا۔ اور الزامات غلط ثابت ہوئے۔ 
جولائی کے وسط میں والد آصف زرداری سے نیب کے دفتر میں ملاقات کی۔ اگست کے پہلے ہفتے میں احتساب عدالت  نے انہیں والد سے ملاقات کی درخواست منظور کی۔
آصفہ بھٹو نے  دو ہزار سولہ میں گلوبل ہیلتھ میں یونیورسٹی کالج سے  ماسٹرز کیا۔بینظیر بھٹو کی بڑی بیٹی بختاور کی سیاست میں کوئی خاص دلچسپی نہیں۔ لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں پیپلزپارٹی اور نوازلیگ دونوں پر مزید سختی آنے والی ہے۔  آصف زرداری کے جیل میں ہونے کے بعد  بلاول بھٹو اکیلے رہ گئے ہیں۔ عملا  پارٹی میں سیکنڈ رینک کی قیادت نہیں۔ بینظیر بھٹو نے مخدوم امین فہیم کو سیکنڈ رینک کی قیادت  پر رکھا تھا۔  وہ دور دوسرا تھا۔ آج نہ وہ دور ہے اور نہ کوئی مخدوم امین فہیم، لہٰذا  پیپلزپارٹی کی قیادت کے پاس یہی آپشن ہے کہ آصفہ بھٹو زرداری کو اس  ذمہ داری کے لئے تیار کرے،  جس پر  پارٹی قیادت اور بلاول خواہ خود بڑے زرداری بھی  مطمئن ہونگے اور  پارٹی  کیانردونی صفوں میں بھی اتفاق رائے ہو گا۔










سندھ اوروفاق کی دوریوں میں مزید اضافہ

Sindh and federal government distance each other
حکومت سندھ کی زمین کے کیس میں گرفتار اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید کے گرفتار بیٹے غنی مجید، حماد شاہ، توصیف، طارق الرحمٰن، عامر سمیت سات افراد نے نیب کے ساتھ پلی بارگین کرلی ہے۔ ان سات ملزمان نے ساڑھے دس ارب روپے ادا کرنا قبول کیا ہے اور اسٹیل ملز اور سندھ حکومت کی 226 ایکڑ زمین بھی واپس کرنا قبول کیا ہے۔ نوری آباد پاور کمپنی اور سندھ ٹرانسمیشن کمپنی کے افسران نے بھی پلی بارکین کر لی ہے۔ سندھ بینک کے ایک افسر کی پلی بارگین کی درخواست ابھی التوا میں ہے۔ جعلی اکائونٹس سے متعلق 18 انکوائریز میں سے ایک اسٹیل ملز اور حکومت سندھ کی زمین سے متعلق ہے۔ جعلی اکائونٹس کیس میں آصف زرداری اور فریال تالپور سمیت 39 ملزمان ہیں۔ جن میں سے پچیس گرفتار ہیں۔ ڈاکٹر ڈنشا اور جمیل احمد سے بات چیت چل رہی ہے ان کے ساتھ پلی بارگین کا معاملہ آخری مرحلے میں ہے۔ کل تیرہ افراد نے پلی بارگین کی ہے جن سے 13 ارب روپے وصول کئے جاچکے ہیں، یہ رقم اومنی گروپ کے علاوہ ہے۔ شیخ رشید کہتے ہیں کہ آصد زرداری سے بات چیت چل رہی ہے، پیسے کشمیر فنڈ میں دیئے جائیں گے۔ بعض خیرخواہ ثالثی کر رہے ہیں۔ آصف زرداری کچھ نہ کچھ دیں گے، شریف برادران ایسے بھی نہیں ہیں۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ کی ہدایات پر ملک ریاض نے بحریہ ٹائون کے حوالے سے جو دس ارب روپے کی ادائیگی کی ۔تین چار مدوں سے آنے والی یہ ایک خطیر رقم ہے، لگتا ہے آنے والے دنوں میں پلی بارگین یا دیگر طریقوں سے مزید رقومات آنے والی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ رقومات کس کی ہیں؟ کس کو ملنی چاہئیں؟ سندھ حکومت کا مانناہے کہ یہ تمام رقومات سندھ حکومت کی ہیں کیونکہ یہ زمین اور دیگر اثاثے سندھ کی ملکیت تھے، لہٰذا ان پر آئینی و قانونی طور پر سندھ حکومت کا حق ہے۔ لیکن وفاق صوبے کو نظر انداز کر کے ہر حال میں یہ رقم خود لینا چاہتا ہے۔ سندھ حکومت اور وفاق کے درمیان این ایف سی ایوارڈ میں سے کم رقم جاری ہونے پر پہلے ہی تنازع چل رہا ہے۔ ان رقومات پر وفاقی حکومت کے دعوے سے سندھ اور وفاق کے درمیان ایک اور تنازع مزید پیدا ہو رہا ہے۔

سندھ اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ گنے کے کاشتکاروں کوالٹی پرمیم کی مد میں مل مالکان کی طرف واجب الادا ہیں۔ کمیٹی کے اجلاس کے دوران سیکریٹری زراعت اور ڈائریکٹر جنرل آڈٹ کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔ اجلاس میں مالی سال 2009-10 اور 2010-11 مالی سال کی آڈٹ رپورٹ پیش کی گئی۔ آڈٹ افسران نے کوالٹی پریمیم کی مد میں ایک ارب 43 کروڑ روپے ریکوری نہ ہونے کا معاملہ اٹھایا۔ جس پر سیکریٹری زراعت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ پرائیویٹ پارٹی کا ہے۔ آڈٹ حکام کے اعتراضات غلط ہیں۔ آڈٹ حکام کا یہ موقف تھا کہ جہاں ایکٹ کی خلاف ورزی ہوگی وہاں اعتراضات اٹھائے جائیں گے۔ یہ پیسے حکومت کے نہیں کاشتکاروں کے ہیں۔ کین کمشنر نے بتایا کہ یہ کوالٹی پریمیم کی ادائیگی کا معاملہ 1997 سے چل رہا ہے، اب تک کاشتکاروں کے پینتیس ارب روپے اس مد میں واجب الادا ہیں۔
’’کاشتکاروں کو زرعی اجناس کی صحیح قیمت ملنا محال ‘‘ کے عنوان سے روزنامہ کاوش لکھتا ہے کہ گندم کی فصل اترتی ہے تو حکومت ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے سرکاری قیمت دیر سے مقرر کرتی ہے۔ قیمت مقرر کرنے کے بعد سرکاری خریداری مراکز قائم نہیں کئے جاتے۔ اس اثناء میں باردانے کی تقسیم کا مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہ صورتحال گنے کی فصل کے ساتھ ہوتی ہے۔ حکومت وقت پر شگر ملز چالو کرانے میں ناکام رہتی ہے۔ کاشتکاروں کو گنے کی صحیح قیمت نہیں مل پاتی۔ کاشتکاروں کو برسہا برس تک گنے کی رقم کی ادائیگی نہیں کی جاتی۔ ابھی سندھ میں کپاس کی فصل مارکیٹ میں آئی ہے۔ لیکن کاشتکار صحیح قیمت حاصل کرنے سے محروم ہیں۔فیکٹری مالکان نے مختلف مقامات پر اجارہ داری قائم کرکے فی من کی قیمت میں 1000 سے 1200 روپے تک کمی کردی ہے۔ کپاس کے کارخانوں پر نصب کانٹوں میں بھی ہیراپھیری کی جارہی ہے۔ حصے کا پانی نہ ملنے کے باعث سندھ میں زراعت کا حال ویسے ہی برا ہے۔ جو پانی ملتا ہے اس کی منصفانہ تقسیم نہیں ہوتی۔ نتیجے میں چھوٹے کاشتکار کو نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ پانی کی کمی پوری کرنے کے لئے یہ کاشتکار ٹیوب ویل استعمال کرتا ہے۔ اس وجہ سے اس کی پیداوار کی فی ایکڑ لاگت بڑھ جاتی ہے۔ جب فصل تیار ہو کر مارکیٹ پہنچتی ہے تو اس کی صحیح قیمت نہیں ملتی۔ کاشتکار کا المیہ ہے کہ وہ اپنی زرعی پیداوار کی قیمت خود مقرر نہیں کرتا۔ وہ اس معاملے میں تاجر، دلال یا کارخانیدار کے رحم و کرم پر ہے۔ شہدادپور میں کارخانیداروں نے اجارہ داری قائم کر کے کپاس کے دام اپنی مرضی کے مقرر کر رکھے ہیں۔ اس وقت کپاس کے فصل کی قیمت 3900 روپے من ہے لیکن کارخانیدار من مانی کر کے کاشتکاروں کو 2700 روپے ادا کر رہے ہیں۔ عملی صورت یہ ہے کہ کاشتکاروں کو 31 فیصد قیمت ادا کی جارہی ہے۔ اس صورتحال پر حکومت سندھ کی خاموشی معنی خیز ہے۔ محکمہ زراعت اس معاملے لاتعلق ہے۔ سندھ زرعی صوبہ ہے جس پر پوری دیہی معیشت چلتی ہے اور کارخانوں خواہ برآمد کے لئے خام مال اس شعبے سے ہی آتا ہے۔ لیکن زراعت حکومت کے ایجنڈا پر نہیں ہے۔ زرعی شعبے اور کاشتکاروں کے مسائل سے حکومت کی لاتعلقی باعث تشویش ہے۔

Wednesday, September 4, 2019

سندھ میں جوڑ توڑ:بلاول کے لئے آزمائش

Sindh maneuvering a test for Bilawal
سندھ میں جوڑ توڑ: بلاول کے لئے آزمائش
   
میرے دل میرے مسافر   سہیل سانگی
پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری  کے ترجمان مصطفیٰ نواز کھوکھرکا کہنا ہے کہ سندھ میں مراد علی شاہ حکومت کو تبدیل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ لہٰذا پارٹی سطح پر پہلی مرتبہ تصدیق کی ہے کہ سندھ حکومت کو تبدیل کرنے اور پارٹی ایم پی ایز کا فاروڈ بلاک کی باتیں افواہ  بلکہ ان میں وزن ہے۔ سندھ میں صوبائی حکومت کی تبدیلی کی کوششوں کے بعد پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سندھ میں سرگرم ہو گئے ہیں۔  اراکین سندھ اسمبلی سے مشترکہ طور پر اور ناراض اراکین سے الگ الگ ملاقاتیں کی، انہوں نے اراکین اسمبلی سے کہا کہ کہیں سے فون آئے یا دباؤ پڑے اور رابطہ ہو تو پارٹی کو آگاہ کیا جائے۔ پارٹی چیئرمین نے ان سے مسائل پوچھے اور شکایات سنیں۔ وزیراعلیٰ انہیں کتنا سنتے ہیں۔ اگرچہ  بلاول ہاؤس کے ترجمان اس غیر معمولی ملاقاتوں کو معمو ل کی ملاقاتیں کہہ رہے ہیں۔چیئرمین نے ان سے کام کاج اور ترقیاتی اسکیموں کے بارے میں پوچھا۔ 
گزشتہ سال دسمبر  میں منی لانڈرنگ کیس میں جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے کے بعد یہ تیسرا موقعہ ہے کہ مراد علی شاہ  حکومت کو ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس رپورٹ میں وزیراعلیٰ سندھ  پر الزامات آئے تھے۔اب پیپلزپارٹی مخالف گرینڈ نیشنل الائنس نے وزیراعلیٰ سندھ کو دوبارہ اعتماد کا ووٹ لینے کا مطالبہ کیا ہے اور پیپلزپارٹی کے اندر فارورڈ بلاک  کے لئے کمیٹی تشکیل دی ہے جو مراد علی شاہ کی حکومت کے خاتمے کے لئے پیپلزپارٹی کے اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل کرے گی۔ میڈیا رپورٹس  کے مطابق پہلے یہ سمجھا جارہا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی منی لانڈرنگ میں گرفتار ی  کے بعد تبدیلی کا  کارڈ کھیلا جائے گا۔ لیکن پیپلزپارٹی نے یہ عندیہ دیا کہ وہ گرفتاری کے بعد بھی مراد علی شاہ کو وزیراعلیٰ  رکھے گی، کیونکہ  صرف سندھ اسمبلی کا استحقاق ہے کہ وزیراعلیٰ کو تبدیل کرے۔ فاورڈ بلاک بنانے کے لئے جی ڈی اے کی کمیٹی کے قیام کے بعد لگتا ہے کہ مراد علی شاہ حکومت کو ہٹانے کے خواہان حلقے  وزیراعلیٰ کی کسی عدالتی فورم سے نااہلی کاانتظار نہیں کرنا چاہتے۔عدالتی فورم  میں بہرحال وقت لگے گا۔ سندھ کی وہ اشرافیہ جوگزشتہ انتخابات  کے نتیجے میں اقتدار سے  باہررہ گئی اس کو بہت جلدی ہے۔ وہ سمجھتی کہ یہ مناسب وقت ہے۔ لہٰذا  براہ راست ان کے خلاف عدم اعتماد کا آپشن اختیار کیا جائے۔ اعتماد کا ووٹ لینے کا مطلب یہ ہے کہ مراد علی شاہ  167 کے ایوان میں سے 87  اراکین کی حمایت ثابت کریں۔ پیپلزپارٹی کے پاس کل 99 اراکین اسمبلی ہیں۔  جی ڈی اے کو مراد علی شاہ کی حکومت ہٹانے کے لئے پیپلزپارٹی کے اراکین کا فارورڈ بلاک  چاہئے، یعنی ایسے 16 سے 20 جواعتماد کے ووٹ والے روزایوان سے غائب رہیں۔ 
پیپلزپارٹی اس صورتحال میں جی  ڈی اے کی جانب سے دوبارہ اعتماد کا ووٹ لینے  کے مطالبے کو نظرانداز کرسکتی ہے۔ اس صورت میں جی ڈی اے اور فارورڈ بلاک کے ایم پی ایز کو ایوان میں آکر مرادعلی شاہ کے خلاف عدم اعتمادکا ووٹ  دیناپڑے گا۔ یعنی  یہ اراکین ایوان میں اپنی ہی پارٹی کے خلاف کھڑے ہوں اور اس کے خلاف ووٹ کریں۔ بظاہر مرادعلی شاہ کی مجبوری نہیں کہ وہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرے۔ تاہم پیپلزپارٹی  پیش بندی کے طور پر یہ کر سکتی ہے کہ مخالفین کے وار کرنے سے پہلے ایوان میں اپنی نمبر گیم ٹھیک کر کے  اچانک خود اعتماد کا ووٹ لے لے۔ 
سندھ اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ ہو یا عدم اعتماد کا، ہر دو صورتوں میں کھلا ووٹ کرناہو گا، سینیٹ کی طرح خفیہ رائے شماری نہیں ہوگی۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اس صورت میں منحرف اراکین کے لئے مشکل ہوگا کہ وہ اپنی قیادت  اور کیمراؤں کی موجودگی میں پارٹی کے خلاف ووٹ کریں۔ کوئی بھی میمبر نہیں چاہے گا کہ وہ یوں کھل کر سامنے آئے اور اپنا سیاسی مستقبل تاریک کرے۔ 
 پاکستان کی سیاست کو سمجھنے والے جانتے ہیں کہہ جی ڈی اے فاروڈ بلاک کے لئے کمیٹی بنائے یا کچھ اور پی پی پی کا شاید ہی کوئی رکن اسمبلی فارورڈ بلاک میں جائے۔ ہاں البتہ یہ ضرور ہوسکتا  ہے کہ مقتدرہ حلقوں  نے رابطہ کیا بازی پلٹ سکتی ہے  فاروڈ بلاک بن سکتا ہے۔ 
 جی ڈی اے کا دعوا ہے کہ انہوں نے نمبر گیم اپنے حق میں کرلی ہے، اب صرف طریقہ کار طے کیا جارہا ہے۔ یہ حلقے بتاتے ہیں کہ مقتدرہ حلقے تین آپشنز پر غور کر رہے ہیں دو ماہ کے لئے سندھ میں گورنر راج نافذ کردیا جائے۔ عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جائے، یا ازسرنو صوبائی اسمبلی کے انتخابات کرائے جائیں۔  سندھ میں حکومت ہٹانے کے لئے فارورڈ بلاک میں 16 سے بیس تک اراکین چاہئیں۔  سوال یہ ہے کہ اگر جی ڈی اے اتنے اراکین کی حمایت حاصل کر چکے ہیں تو سندھ میں گورنر راج کا آپشن کیوں بتایا جارہا ہے؟ ویسے بھی گورنر راج نافذ کرنے میں بعض قانونی و آئینی پیچیدگیوں  کے ساتھ ساتھ سیاسی بدنامی الگ ہوگی۔ یہی خیال کیا جارہا ہے کہ یہ مطلوبہ تعداد مکمل نہیں، لہٰذا گورنر راج کا سوچا جارہا ہے۔صوبائی اسمبلی کے نئے انتخابات کا آپشن بھی تب استعمال ہو سکے گا جب وزیراعلیٰ اسمبلی توڑنے کی سفارش کریں گے۔  باقی آپشنز کو عمل میں  لانا زیادہ مشکل ہے،لہٰذا  فارورڈ بلاک کے ذریعے ہی  ایوان کے اندر سے تبدیلی لانے کا کام کر رہے ہیں۔  
جی ڈی اے کے بعض اراکین کی اسپیکرآغا سراج درانی  سے ملاقات نے معاملے کو گرما دیا۔بالآخر انہیں تردید کرنی پڑی کہ وہ کوئی فاروڈ بلاک نہیں بنا رہے ہیں۔ سراج درانی زیرحراست ہیں۔ تاہم  وہ اسمبلی کو سب جیل قراردے کے اپنے منصب انجام دے  رہے ہیں۔  چند ماہ قبل ان کے گھر پر نیب اور ایف آئی اے نے چھاپہ مارا تھا۔ اور ان کے اہل خانہ سے بعض کاغذات پر دستخط لئے تھے۔ اب ان کے خلاف تحقیقات اگلے مرحلے میں ہے۔نہیں معلوم کہ فاروڈ بلاک بنانے میں مقتدرہ حلقے سنجیدہ ہیں۔اگرایسا ہوا تو مقدمات اور ممکنہ طور پر ان کے اہل خانہ کو بھی ملوث کرنے کی صورت میں آغا سراج درانی  فارورڈ بلاک کے دائرے میں آسکتے ہیں۔  یہ بھی پتہ چلا ہے کہ سندھ کے 39  ایم پی ایز کے خلاف کرپشن کے الزامات ہیں، اور ان کے خلاف تحقیقات مختلف مراحل میں ہے۔  ذوالفقار مرزا کے کزن نجف مرزا کی نیب میں تقرری سے سندھ میں منی لانڈرنگ سمیت دیگر میگا کیسز میں پیش رفت کا امکان ہے جبکہ سلطان خواجہ ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ ہیں۔یہ تمام معاملات سندھ سے تعلق رکھنے والے پولیس افسران کے ذریعے ہی کرائے جارہے ہیں۔ بشیر میمن، اے ڈی خواجہ، سلطان خواجہ ثناء اللہ عباسی  نصف درجن پولیس افسران کا رجحان پیپلزپارٹی کی طرف سمجھا جاتا رہا ہے، تاہم انہیں شکایت ہے کہ پارٹی قیادت نے اپنے دور حکمران میں ان کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں کیا۔
 مراد علی شاہ  کی یہ بات اپنی جگہ پر کہ وفاقی حکومت سازشیں کررہی ہے، اور فارورڈ بلاک ایک شوشہ ہے۔لیکن حالات اور واقعات کچھ اور منظر پیش کر رہے ہیں۔ ٓآصف علی زرداری ہسپتال میں داخل ہوئے، بعض ٹیسٹ کرنے کے بعد انہیں واپس اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا۔ حکومت کا خیال ہے کہ ہسپتال میں ہونے سے وہ مراد علی شاہ کی حکومت کو ہٹانے کی کوششوں پر براہ راست اثرانداز ہوتے۔ آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی عدم موجودگی میں بلاول بھٹو کے لئے یہ پہلا ٹیسٹ کیس ہے کہ وہ کس طرح سے جوڑ توڑ کی سیاست کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔