کراچی میں سیاسی کچرا
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
کچرے کے پیچھے سیاست ہی سہی، چلیں اچھا ہوا کہ وفاقی خواہ صوبائی نے تسلیم کیا کہ بنیادی شہری سہولیات اہم ہیں۔ کراچی خواہ سندھ کے دیگر شہروں میں وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی نگرانی میں سندھ حکومت نے صفائی مہم شروع کردی ہے۔
بات سید مراد علی شاہ کی حکومت ہٹانے سے شروع ہوئی تھی۔ اب وہ کچرا ٹھا رہے ہیں۔ کیاپتہ اس طرح ان کی حکومت بچ جائے۔ اس کے علاوہ شاہ صاحب کراچی، میرپور خاص اور دیگر شہروں کا دورہ بھی کر رہے ہیں۔
وزیرشپنگ نے دوہفتہ میں شہر صاف کرنے کا بلند دعویٰ کیا،دوسرے وزیرآبی وسائل نے دعویٰ کیا۔ اس مسئلہ کے حل کے لیے کمیٹی کاا علان بھی کیا گیا لیکن کام کے بجائے بحث کاآغاز ہوگیا۔ چند روز قبل وفاقی حکومت نے کچرا اٹھانے کی کوشش کی، کام ایف ڈبلیو او کو دیا، وفاقی وزیرعلی زیدی کا دعوا ہے کہ ایک لاکھ 35ہزار ٹن کچرا اٹھایا لیکن لینڈ فل سائٹ پر 15ہزار ٹن پہنچا،باقی ایک لاکھ 20ہزار ٹن کچرا شہرمیں ڈال دیا گیا۔
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے صرف تیرہ ہزار ٹن کچرا اٹھایا۔ کراچی تقریبا بارہ ہزار ٹن روزانہ کچرا پیدا کرتا ہے۔
بات سید مراد علی شاہ کی حکومت ہٹانے سے شروع ہوئی تھی۔ اب وہ کچرا ٹھا رہے ہیں۔ کیاپتہ اس طرح ان کی حکومت بچ جائے۔ اس کے علاوہ شاہ صاحب کراچی، میرپور خاص اور دیگر شہروں کا دورہ بھی کر رہے ہیں۔
وزیرشپنگ نے دوہفتہ میں شہر صاف کرنے کا بلند دعویٰ کیا،دوسرے وزیرآبی وسائل نے دعویٰ کیا۔ اس مسئلہ کے حل کے لیے کمیٹی کاا علان بھی کیا گیا لیکن کام کے بجائے بحث کاآغاز ہوگیا۔ چند روز قبل وفاقی حکومت نے کچرا اٹھانے کی کوشش کی، کام ایف ڈبلیو او کو دیا، وفاقی وزیرعلی زیدی کا دعوا ہے کہ ایک لاکھ 35ہزار ٹن کچرا اٹھایا لیکن لینڈ فل سائٹ پر 15ہزار ٹن پہنچا،باقی ایک لاکھ 20ہزار ٹن کچرا شہرمیں ڈال دیا گیا۔
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے صرف تیرہ ہزار ٹن کچرا اٹھایا۔ کراچی تقریبا بارہ ہزار ٹن روزانہ کچرا پیدا کرتا ہے۔
صوبائی حکومت نے ہر جگہ بلدیہ کے ملازمین کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ سب کی چھٹیاں موخر کردی گئیں ہیں،ضرورت کی مشینری اور آلات فراہم کردیئے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ بذات خود اس مہم کو مانیٹرکررہے ہیں۔اس ضمن میں بعض اہم باتیں سامنے آئی ہیں۔ کچھ علاقوں میں بلدیاتی اداروں اور ان کے عملے کے تعاون نہ کرنے کی وجہ سے یہ مہم ان علاقوں میں بہتر طور پر نہیں چل رہی ہے۔
مہم کے دوسرے دن یہ انکشاف ہوا کہ بھاری پتھر 24 انچ کی سیوریج لائن سے نکالے گئے ہیں، وزیراعلیٰ کا ماننا ہے کہ کراچی کی اونرشپ کا دعوا کرنے والوں نے اس مہم کو ناکام بنانے کے لیے ڈالے تھے۔
مہم کے دوسرے دن یہ انکشاف ہوا کہ بھاری پتھر 24 انچ کی سیوریج لائن سے نکالے گئے ہیں، وزیراعلیٰ کا ماننا ہے کہ کراچی کی اونرشپ کا دعوا کرنے والوں نے اس مہم کو ناکام بنانے کے لیے ڈالے تھے۔
کچرے اٹھانے کو مہم کیوں بنایا گیا؟ اصل میں یہ شہری حکومت کی مسلسل ناکامی ہے۔ کیا بلدیہ عظمیٰ اور شہر کی مختلف ذیلی بلدیات کے پاس عملہ نہیں؟ کیا ان کے پاس معمول کے مطابق کچرا اٹھانے والی گاڑیاں اور ان کے لئے تیل نہیں؟ کیا صفائی کے لئے مطلوبہ دیگر سامان اور آلات نہیں؟ ہر ایک جانتا ہے کہ بلدیہ کے پاس عملہ اور دیگر مطلوبہ سازوسامان بمع گاڑیوں کے موجود ہے۔ ماہانہ صفائی سے متعلق عملے اور ان کی نگرانی کرنے والوں کو تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں۔
گاڑیوں کے تیل ان کی دیکھ بھال پر ہر ایک بڑی رقم ماہ خرچ ی کی جاتی ہے۔ یہ
بات اس وجہ سے بھی کہی جاسکتی ہے کہ تاحال بلدیہ کی جانب سے شکایات سامنے آئی ہیں، ان چیزوں کی شکایت نہیں کی گئی ہے۔ یہ بات تحقیق طلب ہے کہ عملہ کیوں کام نہں کرتا؟ اور صفائی کی مد میں رکھی گئی رقومات کہاں خرچ ہوئیں؟
یہ کوئی راکیٹ سائنس نہیں کہ اگر روزانہ کی بنیاد پر صفائی ہوتی رہتی تو شہر میں اتنی گندگی نہیں پھیلتی، اور مسائل نہیں ہوتے۔ کچرا اٹھانے کیلئے بہت زیادہ فنڈز کی ضرورت نہیں ہے، تاہم وزیراعلیٰ سندھ نے فنڈز فراہم کرنے اور ڈی ایم سیز کی مدد کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کچرا اٹھانا ڈی ایم سیز کا کام ہے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ان کی سپورٹ میں تھا، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اس وقت بارہ ہزار ٹن سے زیادہ کچرا اٹھارہا ہے۔
پی ٹی آئی سندھ کا کہنا ہے کہ کراچی سے کچرا اٹھانا سندھ حکومت کا کام ہے انہیں ہی کرنا چاہئے۔ یہ بات جزوی طور پر درست ہے کہ تمام معاملات کی حتمی ذمہ داری حکومت پر ہوتی ہے۔ لیکن چلی سطح پر جو کام جس کو کرنا ہے وہ نہ کرے پھریہ ذمہ داری دوسرے پر ڈالنا درست نہیں ہوگا۔
گاڑیوں کے تیل ان کی دیکھ بھال پر ہر ایک بڑی رقم ماہ خرچ ی کی جاتی ہے۔ یہ
بات اس وجہ سے بھی کہی جاسکتی ہے کہ تاحال بلدیہ کی جانب سے شکایات سامنے آئی ہیں، ان چیزوں کی شکایت نہیں کی گئی ہے۔ یہ بات تحقیق طلب ہے کہ عملہ کیوں کام نہں کرتا؟ اور صفائی کی مد میں رکھی گئی رقومات کہاں خرچ ہوئیں؟
یہ کوئی راکیٹ سائنس نہیں کہ اگر روزانہ کی بنیاد پر صفائی ہوتی رہتی تو شہر میں اتنی گندگی نہیں پھیلتی، اور مسائل نہیں ہوتے۔ کچرا اٹھانے کیلئے بہت زیادہ فنڈز کی ضرورت نہیں ہے، تاہم وزیراعلیٰ سندھ نے فنڈز فراہم کرنے اور ڈی ایم سیز کی مدد کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کچرا اٹھانا ڈی ایم سیز کا کام ہے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ان کی سپورٹ میں تھا، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اس وقت بارہ ہزار ٹن سے زیادہ کچرا اٹھارہا ہے۔
پی ٹی آئی سندھ کا کہنا ہے کہ کراچی سے کچرا اٹھانا سندھ حکومت کا کام ہے انہیں ہی کرنا چاہئے۔ یہ بات جزوی طور پر درست ہے کہ تمام معاملات کی حتمی ذمہ داری حکومت پر ہوتی ہے۔ لیکن چلی سطح پر جو کام جس کو کرنا ہے وہ نہ کرے پھریہ ذمہ داری دوسرے پر ڈالنا درست نہیں ہوگا۔
یہ صوبائی حکومت کا کام نہیں بہرحال یہ صوبائی حکومت کی طرف سے اچھا قدم ہے اور اس کو ضرور سراہاجانا چاہیئے۔ اصل میں کچرے کا بڑا بیک لاگ ہے، جس کو ختم کرنا ضروری ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے مطابق کلین مائی کراچی مہم کے پہلے دن 7152 ٹن کچرا اُٹھایا گیا، کراچی کے بیک لاک کچرے کو ایک ماہ کے اندر ٹھکانے لگانے کا عزم کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوشش ہوگی اس ڈیڈلاک کو ختم کریں۔ صوبائی حکومت مہم چلا کر یہ یہ بیک لاگ ختم کردیتی ہے، اس کے بعد کیا ہوگا؟
اگر صفائی سے متعلق عملہ ٹھیک سے کام نہیں کرتا، اس کا م کی صحیح سے نگرانی نہیں ہوتی، تو چھ ماہ بعد دوبارہ شہر کی یہی صورتحال ہو جائے گی۔ ہوتا یہ ہے کہ لوگ اپنے گھر یا دوکان کی صفائی کرکے کچرا دوسرے کے گھر یا دوسرے کی دکان اور سٹرک پر پھینک دیتے ہیں۔ اور بلدیہ کا عملہ روزانہ کی بنیاد پر صفائی نہیں کرتا۔ جس سے بیک لاگ بنتا اور اس میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ بلاش بہ اس کے لئے گلی کوچوں میں بڑے کچرے دان فراہم کرنے اور کچرے دانوں کی دن میں دو تین مرتبہ صاف کرنا ضروری ہے تاکہ کچرا ڈرم باہر نہ گرے۔ صوبائی حکومت قانون سازی کر سکتی ہے کہ سڑک پہ یا کسی کے گھر کے سامنے یا دوکان کے سامنے کچرا پھینکنے کی صورت میں جرمانہ عائد کیا جا سکے۔ لیکن یہ تمام کام بلدیہ کو ہی کرنے اور دیکھنے ہیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے مطابق کلین مائی کراچی مہم کے پہلے دن 7152 ٹن کچرا اُٹھایا گیا، کراچی کے بیک لاک کچرے کو ایک ماہ کے اندر ٹھکانے لگانے کا عزم کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوشش ہوگی اس ڈیڈلاک کو ختم کریں۔ صوبائی حکومت مہم چلا کر یہ یہ بیک لاگ ختم کردیتی ہے، اس کے بعد کیا ہوگا؟
اگر صفائی سے متعلق عملہ ٹھیک سے کام نہیں کرتا، اس کا م کی صحیح سے نگرانی نہیں ہوتی، تو چھ ماہ بعد دوبارہ شہر کی یہی صورتحال ہو جائے گی۔ ہوتا یہ ہے کہ لوگ اپنے گھر یا دوکان کی صفائی کرکے کچرا دوسرے کے گھر یا دوسرے کی دکان اور سٹرک پر پھینک دیتے ہیں۔ اور بلدیہ کا عملہ روزانہ کی بنیاد پر صفائی نہیں کرتا۔ جس سے بیک لاگ بنتا اور اس میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ بلاش بہ اس کے لئے گلی کوچوں میں بڑے کچرے دان فراہم کرنے اور کچرے دانوں کی دن میں دو تین مرتبہ صاف کرنا ضروری ہے تاکہ کچرا ڈرم باہر نہ گرے۔ صوبائی حکومت قانون سازی کر سکتی ہے کہ سڑک پہ یا کسی کے گھر کے سامنے یا دوکان کے سامنے کچرا پھینکنے کی صورت میں جرمانہ عائد کیا جا سکے۔ لیکن یہ تمام کام بلدیہ کو ہی کرنے اور دیکھنے ہیں۔
بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ معاملہ چھوٹے تاجروں میں سیلز ٹیکس پر پھیلی ہوئی بے چینی کا بھی ہے۔ملک میں چھوٹے تاجروں کی سب سے بڑی مارکیٹ کراچی میں ہے۔ سیلز ٹیکس کے حوالے سے چھوٹے تاجروں اور ایف بی آر کے درمیان مذاکرات ناکام ہوچکے ہیں۔ لہٰذا وفاقی حکومت کراچی کے شہریوں کی توجہ وفاقی اقدامات سے ہٹا کر اس کا رخ صوبائی حکومت کی طرف کرنا چاہتی ہے۔
بہرحال جو بات واضح ہے وہ یہ کہ وفاقی حکومت نے بلدیہ کی ناکامی پر پردہ ڈالتے ہوئے، کراچی شہر کی صفائی کا معاملہ سندھ حکومت میں گلے میں اس لئے ڈالا کی وہ اس کی آڑ میں اپنی مرضی کا بلدیاتی قانون لاسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ کراچی کو کسی طرح سے وفاق سے منسلک کر سکے۔
سندھ حکومت نے معاملے کو بھانپ لیا اور خود کراچی کی اونرشپ کے لئے آگے آئی ہے۔ وزیراعلیٰ اور ان وزراء صفائی مہم میں لگ گئے ہیں۔وہ اس تاثر کو مٹانا چاہ رہے ہیں کہ سندھ حکومت کراچی کے لئے کچھ نہیں کررہی۔ کم از کم کراچی کے نام پر وفاقی حکومت کوئی قدم اٹھائے اس کو ناکام کرنا چاہ رہے ہیں۔
بہرحال جو بات واضح ہے وہ یہ کہ وفاقی حکومت نے بلدیہ کی ناکامی پر پردہ ڈالتے ہوئے، کراچی شہر کی صفائی کا معاملہ سندھ حکومت میں گلے میں اس لئے ڈالا کی وہ اس کی آڑ میں اپنی مرضی کا بلدیاتی قانون لاسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ کراچی کو کسی طرح سے وفاق سے منسلک کر سکے۔
سندھ حکومت نے معاملے کو بھانپ لیا اور خود کراچی کی اونرشپ کے لئے آگے آئی ہے۔ وزیراعلیٰ اور ان وزراء صفائی مہم میں لگ گئے ہیں۔وہ اس تاثر کو مٹانا چاہ رہے ہیں کہ سندھ حکومت کراچی کے لئے کچھ نہیں کررہی۔ کم از کم کراچی کے نام پر وفاقی حکومت کوئی قدم اٹھائے اس کو ناکام کرنا چاہ رہے ہیں۔
No comments:
Post a Comment