Saturday, October 15, 2016

’ بی بی ہم شرمندہ ہیں کہ تیرے قاتل ابھی زندہ ہیں‘‘

Daily Nai Baat 24 -12-2012


’ بی بی ہم شرمندہ ہیں کہ تیرے قاتل ابھی زندہ ہیں‘‘

میرے دل میرے مسافر۔۔ کالم سہیل سانگی


پیپلز پارٹی اقتدار کے پانچ سال مکمل کرنے والی ہے۔ مگر تاحال بینظیر بھٹو کے قاتل نہ گرفتار کر سکی ہے اور نہ ہی تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے لا سکی ہے۔ کارکنوں کا یہ نعرہ سچا ثابت ہو رہا ہے کہ’ ’ بی بی ہم شرمندہ ہیں کہ تیرے قاتل ابھی زندہ ہیں‘‘ ۔ 

ابھی صرف اتنا ہی ہوا ہے کہ مشرف کو مفرور قرار دیا گیا ہے بینظیر بھٹو کے لابیئسٹ مارک سیگل کو عدالت میں بیان قملبند کرانے کے لیے طلب کیا ہے،۔جن کو بینظیر بھٹو نے بذریعہ ای میل آگاہ کیا تھا کہ ان زندنگی خطرے میں ہے۔یہ سوال اپنی جگہ پر ہے کہ مارک سیگل بیان قملبند کرانے آتے ہیں یا نہیں۔

امریکی سیکریٹری خارجہ رائیس کونڈی جن کا بینظیر بھٹو کو وطن لانے میں اہم کردار تھا اور انہوں نے منصب چھوڑنے کے بعد اپنی کتاب میں بینظیر بھٹو کے حوالے سے بعض انکشافات بھی کئے ہیں انہیں نہ اقوام متحدہ کی کمیشن اپنا بیان دیا اور انہین نہ ہی عدالت میں لب کیا گیا ۔ اسی طرح افغان صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ انہوں نے بینظیر بھٹو کو قاتلانہ حملوں سے آگاہ کیا تھا، ان کا بھی نہ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیشن میں بیان نہیں ریکارڈ کیا گیا۔ 

حکومت نہ مقامی اور نہ ہی عالمی سازش کو بے نقاب کرسکی ہے۔اب جو شواہد سامنے آرہے ہیں وہ باتاتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کے قتل میں بھی ملکی اور عالمی دونوں عناصر شامل تھے۔ مگر یہ سازش بھی تاحال منکشف نہیں ہو سکی ہے۔ 
حکومت اور امریکہ دونوں بیت اللہ محسود کو بینظیر کے قتل کا ذمہ دار ٹہرا رہے تھے۔ مگربعد میں امریکہ ہی 
نے ڈرون حملے میں محسود کو ہلاک کردیا۔ یاد رہے کہ لیاقت علی خان اور صدر کنینڈی کے قاتلوں کو بھی موقعے پر ہی قتل کردیا گیا تھا۔

قومی اسمبلی نے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کی قرارداد منظور کی تھی مگر تاحال اس منتخب ایوان کو
 بھی تحقیقاتی رپورٹ سے آاگاہ نہیں کیا گیا ہے۔ اس اشو پر سندھ اسمبلی کی بھی قرارداد تھی۔ مگر سندھ کے منتخب ایوان کو بھی باقاعدہ رپورٹ سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ بلکہ اراکین اسمبلی کو الگ سے میٹنگ کرکے رحمان ملک نے بریف بعض اسمبلی کو نہیں بتایا گیا۔ سندھ اسمبلی میں بھی صرف اراکین کو بتایا گیا۔ 

کیا ان حالات میں بے نظیر بھٹو کا قتل کا سانحہ ناگزیر تھا یا بعض حلقوں کی لاپروائی یا ظالمانہ روش کی وجہ سے ہوا۔اب اس کی ذمہ داری نہ امریکی حکام لے رہے ہیں اور نہ ہی مشرف۔

بلاشبہہ وہ وطن واپسی اور اقتدار کی باگ دوڑ سنبھالنے کی خواہان تھیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ مرنا ہی چاہتی تھیں۔امریکی اداروں اور اہلکاروں کے حوالے سے وہاں کے اخبارات کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ محترمہ پر امریکی سیکریٹری خارجہ کونڈی رائیس نے دباؤ ڈالا کہ وہ واپس وطن جائیں۔اور صدر مشرف ان کی حمایت کر سکتے ہیں ان کا موقف بے نظیر کے تجزیہ کے بر عکس تھا۔

امریکی صحافی روبن رائیٹ اور گلین کیسلر نے 27 دسمبر کو لکھا کہ بینظیر کی وطن واپسی کو آخری شکل وطن کے لیے روانگی سے ایک ہفتہ پہلے کونڈی لیزا سے فون پر بات کے دوران دی گئی تھی۔یہ فون کا ل ایک سال سے زائد عرصے تک جاری خفیہ ڈپلومیسی کا نتیجہ تھی۔ اور اس ڈپلومیسی کو اس وقت سامنیلایا گیا جب امریکہ نے یہ فیصلہ کیا پاکستان کی طاقتورسیاسی خاندان کی فرد واشنگٹن کے اتحادی اس ملک کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بیل آؤٹ کر سکتی ہے۔یہ بے نظیر بھٹو کے لیے ڈرامائی تبدیلی تھی۔

مارک سیگل واشنگٹن میں بینظیر کے لیے لابنگ کر رہے تھے، اور پردے کے پیچھے جاری ڈپلومیسی سے آگاہ تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ یہ سمجھنے لگا کہ بینظیر بھٹو استحکام کے لیے خطرہ نہیں بلکہ وہ واحد راستہ ہیں جس کے ذریعے استحکام کی اور مشرف کو اقتدار میں رکھنے کی ضمانت مل سکتی ہے۔

نیوزویک کے مضامین سے پتہ چلے گا کہ رائیس کونڈی بینظیر اور مشرف ٹیم کو مثالی سمجھتی تھی۔ اور کنڈی نے بے نظیر بھٹو کو راضی کیا کہ وہ واپس پاکستان جائیں اور مشرف کے ساتھ ٹیم بنائے۔ مگر جب وہ وطن پہنچی تو مشرف کا عمل، بے نظیر کی چھٹی حس اور زمینی حقائق یہ تھے کہ یہ سب بش انتظامیہ کی خام خیالی تھی اور رائیس کے اقدامات دیوانے کا خواب تھے۔
رائیس اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ ڈیل میں ان افواہوں کی وجہ سے پیچیدگیاں پیدا ہونے لگیں کہ مشرف صدارتی اتخابات کے بعد وردی اتارینگے۔اور وہ آرمی چیف کا عہدہ رکھنے کا ساتھ ساتھ صدرارتی اتنخاب لڑینگے۔بینظیر نے مجھے بتایا کہ جنرل مشرف ایسا نہیں کرینگے۔ اور یہ بھی کہا کہ میں یہ سمجھونگی کہ امریکی حکومت بیچ میں ضامن ہے۔

رائیس کے مطابق ڈیل کا 4 اکتوبر کو اعلان کیا گیا۔ جب 18 اکتوبر کو بینظیر بھٹو وطن لوٹیں تو ان پر قاتلانہ حملہ ہوا اور انکے استقبالی جلوس میں دو دھماکے ہوئے۔ان کی تو جان بچ گئی مگر 140 افراد ہلاک ہوگئے۔رائیس کا کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر ڈک چینی مشرف کے حق میں تھے۔ 

دو صحافیوں رائیٹ اور کیسلراپنی رپورٹ میں سی آئی اے اور قومی سلامی کونسل کے ایک اہلکار بروس ریڈلکے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ستمبر میں ڈپٹی سیکریٹری امور خارجہ جان نیگروپونٹے اسلام آباد کا دورہ کیا۔انہوں نے مشرف کو پیغام دیا کہ’’ بنیادی دی طور پر ہم آپ کے ساتھ ہیں مگر چاہتے ہیں کہ حکومت پر جمہوری لبادہ ہو، اور ہم سمجھتے ہیں اس کے لیے بینظیر کا چہرا نہایت ہی موزوں ہے۔ ‘‘

مشرف بینظیر کو ناپسند کرتے تھے وہ ہچکچارہے تھے اایسا کرنے سے ان کی پوزیشن کمزور ہورہی ہے۔ سی آئی اے اہلکارریڈل کے مطابق مشرف کے سامنے دوؤپشن تھے : بینظیر یا نواز شریف ۔ مشرف نے ان میں کم نقصان دہ آپشن منتخب کیا۔

جان ریڈؒ کے مطابق خارجہ پالیسی کے کئی کہنہ مشق ماہرین کو اس امریکی پلان کے بارے میں شبہ تھا۔امریکی انتظامیہ، وزارت خارجہ اور محکمہ دفاع میں کئی لوگ تھے جن کا خیال تھا کہ اس آئیڈیا میں آغاز سے ہی برائی ہے۔ کیونکہ یہ دونوں لیڈوں کے ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے کے امکانات صفر ہیں۔

ڈیل کے حصے کے طور پر پیپلز پارٹی نے مان لیا کہ وہ مشرف کے تیسری مدت کے لیے صدر کے انتخابات پر احتجاج نہیں کرے گی ۔ اس کے بدلے مشرف بینظیر کے خلاف کرپشن کے الزامات واپس لے لیں گے۔ مگر بینظیر نے واشنگٹن سے ایک ضمانت مانگی کہ مشرف آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرائیں گے جس کے نتیجے میں سویلین حکومت وجود میں آئے گی۔

سیگل کے مطابق رائیس اس ڈیل کو آخری شکل دینے میں مصروف تھی بینظیر بھٹو کودبئی میں فون کرکے بتایا کہ واشنگٹن اس پروسیس پر عمل ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے ۔ ایک ہفتے بعد یعنی 18 اکتوبر کو بینظیر واپس وطن آئیں۔اس کے دس ہفتے بعد انہیں قتل کردیا گیا۔

حکمت عملی کے طور پر رائیس کا آئیڈیا یہ تھا علامتی قسم کے انتخابات کرکے دنیا کو دکھائیں گے کہ پاکستان میں جمہوریت آگئی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کونڈی اپنے اس آئیڈیا پر مصر تھیں کہ مشرفاس کھیل میں پہل کرے گا اور اس کے بعد وہ ان تمام سگنلز کو نظرانداز کرے گا جو اس کے عقیدے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ دراصل مشرف بے نظیر بھٹو کے ساتھ چلنا نہیں چاہ رہا تھا۔ اس لئے وہ ٹال مٹول سے کام لے رہا تھا۔

28 دسمبر کو مائیکل ہرش نیوزویک میں لکھا کہ رائیس کے زور بھرنے پر بینظیر بھٹو انتخابات میں حصہ لینے پر راضی ہوئیں اس شرط کے ساتھ کہ وہ بینظیر بھٹو کو تیسرے مرتبہ وزیراعظم بننے کی اجازت دیں گے۔ مگر مشرف نے اس قانون کو تبدیل کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔بلکہ ملک میں ہنگامی حالات کا اعلان کردیا ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اس فیصلے کی فوری طور پر صدر بش مذمت نہ کر سکے۔اور نہ ہی امریکیوں نے معاہدے کے دوسری پوائنٹ پر زوردیا جو بینظیر بھٹوکی تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے سے متعلق تھی۔ امریکیوں نے اس معاملے کو لٹکا ہوا چھوڑا۔ پی پی کے ذرائع کے مطابق امریکی اپنے وعدے سے مکر گئے۔

اس رپورٹ کے مطابق کونڈی نے ایک مرتبہ پھر بینظیر کو حفاظت کی یقین دہانی کرائی اور مشرف کو اپنا وعدہ ایفا کرنے کے لیے سرگرم ہوگئیں کہ بینظیر کی حفاظت ضروری ہے۔ وطن پہنچنے کے بعد بینظیر نے رائیس کو آگاہ کیا کہ وہ خطرے میں ہیں ۔ان کی وطن واپسی پر استقبالی جلوس میں ان پر خودکش بمبار نے قاتلانہ حملہ کیا تھا۔
نیوزویک نے لکھا کہ سانحہ کارساز کے بعد بینظیر نے مشرف پر سیکیورٹی فراہم نہ کرنے کا الزام لگایا ۔ واشنگٹن میں انتظامی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ رائیس نے ذاتی طور پر مشرف پر زور دیا کہ وہ بینظیر کو کم از کم ایسی سیکیورٹی فراہم کریں جو ان کے وزیراعظم کو حاصل ہے۔

ایک مرتبہ پاکستان پہنچنے کے بعدوہ واپس نہیں جاسکتی تھیں۔انہوں نیاپنی سیاسی مہم شروع کردی۔ اگرچہ اکتوبر کے وسط میں انہیں پتہ چل گیا تھا وہ موت کے جال میں ہے۔ اس طرح کے اشارے ہر طرف سے مل رہے تھے۔

بینظیر بھٹو نے27دسمبر کو مارک سیگل کو ای میل بھیجی گئی جس میں انہوں نے اپنی سیکیورٹی کے حوالے سے شکایت کی تھی۔ انہوں لکھا کہ’’مجھے محسوس کرایا جا رہا ہے کہ میں غیر محفوظ ہوں مجھے نجی کاریں، یا کاروں سیاہ شیشے استعمال کرنے ، جیمرز فراہم کرنے یا چار پولیس گاڑیاں فراہم کرنے سے روکا جا رہا ہے۔‘‘۔اس سے زیادہ وہ کیا لکھتیں۔

امریکی صحافی لکھتے ہیں کہ محکمہ خارجہ کی یہ ناہلی تھی کہ وہ بینظیر بھٹو کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہا۔ اس بات کو تحقیقات میں کیوں نہیں لایا جا رہا ہے؟ کونڈی اور ان کی ٹیم کی بڑی دلچسپی تھی کہ وہ القاعدہ یا دوسرے ایسے دہشتگردوں پر الزام عائد کریں تاکہ انتظامیہ کے اس فیصلے سے توجہ ہٹا سکیں کہ انہوں نے بینظیر کو بھیڑیوں کے نرغے میں ڈال دیا ہے۔

بہرحال ہر مرتبہ بینظیر بھٹو اور ان کے مشیر امریکی انتظامیہ کو سیکیورٹی بڑھانے کے لیے کہتے رہے۔امریکیوں نے بینظیر کو مشورہ دیا کہ وہ پرائیویٹ سیکیورٹی ایجنسی کی خدمات حاصل کریں۔مگر بینظیر اور ان کے شوہر آصف زرداری اس تجویز کو رد کرتے رہے۔کیونکہ انہیں شبہ تھاکہ پاکستان کی اچھے سے اچھی سیکیورٹی ایجنسی میں بھی دہشتگرد گھسے ہوئے ہو سکتے ہیں۔

یہ واقعات بتاتے ہیں کہ کس طرح سے امریکی وزارت خارجہ قتل کے واقع کے لیے مقتولہ کو ہی ذمہ دار ٹہراتی رہی۔تعجب کی بات ہے کہ رائیس کونڈی اور اسکی ٹیم مشرف پراپنا اثر استعمال کرنے میں ناکام ہو رہی تھی اور پرائیویٹ فرم کی خدمات کے لیے زور دے رہی تھی۔
مشرف بینظیر بھٹو کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں تھا جو کہ آئندہ انتخابات میں ان کی پارٹنر قرار دی جارہی تھی۔ جب کراچی سانحہ میں 136جیالے ہلاک ہوئے تو نیویارک ٹائیمز نے رپورٹ دی کہ پاکستان کی وزارت خارجہ نے بینظیر کوملک چھوڑنے سے روک دیا ہے۔

اس طرح سے بینظیر بھٹوامریکی سیکریٹری رائیس کونڈی کے وعدے اور امریکہ کی یقین دہانیوں کی بھینٹ چڑھ گئیں۔اگر امریکہ واقعی بینظیر کی سیکیورٹی چاہتا تھا اور مشرف کو بھی ہرحال میں بچانا اور اپنے ساتھ رکھنا چاہتا تھا تو اس سے بینظیر کی سیکیورٹی کیوں نہ حاصل کر سکے۔ اور بیت اللہ محسود یا کسی اور دہشتگرد کا نشانہ بنی۔
یہ بڑے اہم سوال ہیں۔جن کے جواب میں ہی قتل کا سراغ موجود ہے۔ موجودہ پی پی حکومت ابھی تک ملکی وعالمی سازش کو بے نقاب کرنے میں ناکام رہی ہے یا کترا رہی ہے۔ اس کے باوجود اسی بنیاد پر ووٹ کی طلبگار ضرور ہے۔ 

24 -12-2012

بینظیر بھٹو کی برسی کے موقعہ پر خصوصی تحریر۔ ’’روزنامہ نئی بات‘‘ میں شایع شدہ

Saturday, October 1, 2016

مودی کی پالیسی سے خطے میں انتہا پسندی بڑھنے کا خطرہ

مودی کی پالیسی سے خطے میں انتہا پسندی بڑھنے کا خطرہ


میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 

خطے میں موثر دو ممالک امریکہ اور چین نے پاکستان اور بھارت پر آپس میں کشیدگی ختم کرنے اور معاملات پرامن اور مذاکرات کے ذرریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ تاہم بھارتی وزیر اعظم نے مودی جارحانہ رویہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں رواں سال نومبر میں مجوزہ سارک سربراہی کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے ۔ اب سارک کانفرنس کا رواں سال انعقاد ممکن نظر نہیں آتا۔ 



پاکستان اور بھارت کے درمیان بلواسطہ جنگ اور کشیدگی گزشتہ چند دہائیوں سے جاری ہے ۔ لیکن اس میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب انڈیا نے کھلے عام بلوچستان کے معاملے میں مداخلت کا اعلان کیا۔ بھارت کے اس اعلان سے بلوچستان کے عوام یا وہاں کی قوم پرست تحریک کا بھلا ہونے کے بجائے نقصان ہی پہنچا۔ بلکہ اس بھارتی رویے سے پاکستان میں موجود جہادی قوتوں کی حامی لابی کو تقویت ملے گی۔ جو کہ خطے میں قیام امن کے لئے نہایت ہی خطرناک ہوگا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اب پاک بھارت کشیدگی کا حوالہ علاقائی بن چکا ہے۔ 



لگتا ہے کہ معاملہ ایک مرتبہ پھر ایک اور پراکسی جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ پاکستان پراکسی جنگ لڑنے کی پہلے بھی بھاری قیمت ادا کر چکا ہے۔ امریکہ کے ساتھ خصوصی تعلقات اور پھر امریکہ کی جانب سے افغانستان میں بھارت کو خصوصی رول دینے کے بعد ان تینوں ممالک کے حکمت عملی کے تعلقات قائم ہو چکے ہیں۔ بھارت ان تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے کابل میں موجود حکومت کے ذریعے پاکستان کو گھیرے میں لانے اور دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے جو یقیننا پاکستان کے لئے باعث تشویش ہے۔ پاکستان ایک عرصے سے شکایت کرتا رہا ہے کہ بھارت پاکستان میں تخریبی کارروائیوں کے لئے افغان سرزمین استعمال کر رہا ہے۔ مودی کے حالیہ بیانات نے پاکستان کے اس موقف کو مضبوط کیا ہے۔ افغانستان کوپاکستان کے خلاف استعمال کرنا خود امریکہ اور اسکے دیگر حلیف مغربی ممالک کے لئے بھی باعث تشویش ہونا چاہئے۔ اس طرح کے اقدامات سے افغانستان میں عدم استحکام بڑھے گا۔ اور وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان پراکسی جنگ کا میدان بن جائے گا۔ کای ایسے میں افغان بحران کا پرامن اور قابل قبول حل تلاش کیا جاسکتا ہے؟ 



پاکستان کو عالمی طور پر اکیلا کرنے کے اعلان کے بعدبھارت نے یہ بھی دھمکی دی ہے کہ وہ سندھ طاس پانی کا معاہد منسوخ کر دے گا۔ پاکستان کا پانی بند کر کے مودی برصغیر میں غربت کے خلاف کس طرح سے مشترکہ جنگ لڑنا چاہتے ہے؟ یہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تین جنگوں اور مختلف تضادات کے بعد بھی برقرار رہا۔ یہ پہلا موقعہ ہے بھارتی وزیر اعظم نے اس معاہدے کی تنسیخ کی بات کر رہا ہے۔ یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان عالمی بینک کے توسط سے ہوا تھا۔ ایک عالمی معاہدے کو منسوخ کرنا اتنا آسان نہیں۔ لیکن اس طرح کے بیانات سے اس معاہدے کو متنازع بنایا جارہا ہے جس کے اثرات آنے والے وقتوں میں پڑنا ناگزیر ہیں۔ 
پانی کا معاملہ اتنا حساس ہے کہ معاہدے کی ایک معمولی خلاف ورزی دونوں ملکوں کو فوجی تصادم کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ 
یہ سمجھنا اہم ہے کہ مودی نے یہ اشو کیوں کھڑا کیا؟ کیا کل کو انہیں اس پوزیشن سے نیچے آنے میں دقت نہیں ہوگی؟ بھارت کے اکثریتی عوام مودی کی اس پالیسی کے خلاف ہیں۔ ایک عالمی ادارے کے سروے کے مطابقاگرچہ انڈیا میں پاکستان مخالف جذبات میں اضافہ ہوا ہے تاہم پچاس فیصد لوگ مودی کی پالیسیوں کو ٹھیک نہیں سمجھتے۔ مودی نے اس انتہاپسندانہ موقف کے نقصانات کا ازالہ کر لے گا۔ کیونکہ انڈیا عالمی طور پر اس وقت بہتر پوزیشن میں ہے۔ اس کی معیشت میں بہتری وغیرہ کو خاص طور پر اہم سمجھا جاتا ہے۔ کیا وہ پاکستان کے ساتھ تصادم اور کشیدگی کے اس طرح کے موقف اور اقدامات کے بعد عالمی سطح پر اپنی ساکھ اور حیثیت کو برقرار رکھ پائے گا؟ 



مودی کہتے ہیں کہ انڈیا پاکستان کو دہشتگردی ایکسپورٹ کرنے کے نام پرقابل نفرت ملک بنا کر دنیا میں اکیلا کر دے گا۔ اس میں شبہ نہیں کہ ہماری غلط پالیسیوں اور اور نااہلی کی وجہ سے ملک کے اندر دہشتگرد گروپ سرگرم ہیں۔ جس کے نقصانات ہم اندرونی خواہ بیرونی طور پر اٹھا رہے ہیں۔ پاکستان کے بارے میں اس حوالے سے عالمی طور پر شدید شک و شبہات ہیں، جنہیں ہم تاحل دور نہیں کر سکے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اختیار اور فیصلہ سازی کے ایک سے زائد مراکز ہیں لہٰذا پاکستان اپنی مربوط خارجہ اور سیکیورٹی پالیسی بنا نہیں سکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سفارتی حوالے سے گزشتہ چند برسوں میں ملک کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔ لیکن اپنی جغرافیائی محل وقع کی وجہ سے دنیا کے لئے ابھی بھی اہم ملک ہے۔ 



پاکستان کو الٹے سیدھے اقدامات کے ذریعے غیر مستحکم کرنے کی کوشش کے نہ صرف خطے پر بلکہ خود انڈیا پر بھی منفی اثرات ہونگے۔ پاکستان کو غربت بیروزگاری، اور ناخواندگی کا بھاشن دینے کے ایک روز بعد بھارتی وزیراعظم نے 360 درجے کی ڈگری کا موقف لیا ہے۔ اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک ایسے خطے میں جہاں معیشت کی بنیاد زراعت ہو، اور جہاں زندہ رھنے کا بنیادی ذریعہ بھی یہ ہو وہاں کس طرح سے ایک اتنے بڑے ملک کا وزیراعظم ایک غیرانسانی عمل کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ حکم صادر کر دیا کہ بھارت ان تین مغربی دریاؤں پر بجلی گھر تعمیر کرے جن کا پانی معاہدے کے تحت پاکستان کے لئے مخصوص ہے۔ وہ ایسا کر کے ممکن ہے کہ انڈٰا کے بعض انتہا پسندوں کو خوش کر لیں لیکن خطے کو مزید غیر مستحکم کر رہے ہیں۔ وہ اس کوشش یں دونوں ملکوں کے درمیان ایک اور تنازع کھڑا کر رہے ہیں۔ 



پاکستان کے پالیسی سازوں کو محتاط اور دانشمندانہ ردعمل دینا چاہئے۔پاکستان کی جانب سے جذباتی اور ہراسگی کا ردعمل صورتحال کو مزید خراب کرے گا۔ پاکستان پانی کے ماہرین کی اور عالمی ثالثوں کی مضبوط ٹیم بنائے اور عالمی بینک کو بھی بیچ میں لے آئے۔ تاکہ بھارتی تحرک پر جلد اور موثر جواب دیا جاسکے۔ کرشنا گنگا اور بلگیار کی ثالثی سے سبق ملتا ہے کہ کمزور پالیسی، لیڈرشپ کے فیصلہ سازی میں عدم بلوغت، اور دنیا میں کیس کو کمزور طریقے سے رکھنے کی وجہ سے پاکستان کو نقصان اٹھانا پڑا۔ ضرورت اس مار کی ہے کہ پاکستان خود کو سفارتی اور قانونی حوالے مضبوط کرے۔ 



معاملہ خطے میں بالادستی کا ہے۔ اپنے مفادات کو جارحانہ سفارتکاری کے ذریعے بچانے کا ہے۔ معاملہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو اپنا ہمنوا بنا کر اقتصادی میدان میں آگے بڑھنے کا ہے۔ 
پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر کشیدگی کا باعث ہے۔ جنرل ضیا سے لیکر جنرل مشرف تک اور بعد میں میاں نواز شریف تک جب بھی دونوں ممالک کے سربراہوں کی ملاقاتیں ہوئی یہ طے پایا گیا کہ کشمیر کے معاملے کا تصفیہ پرامن اور بات چیت کے ذریعے سے کیا جائے گا۔ لیکن ابھی اچانک بھارتی وزیراعظم کے موقف میں تبدیلی آگئی ہے۔ اور چند ہفتے قبل کشمیر میں بھارتی فورسز نے جو مظالم کئے اور ایسی گیس کا استعمال کیا گیا جس سے مظاہرین کے آنکھوں کا نور ختم ہو گیا۔ ابھی تک کوئی ایسا فارمولا نہیں پیش کیا جاسکا ہے جو بیک وقت پاکستان، بھارت کو کشمیریوں تینوں کے لئے قابل قبول ہو۔ ممبئی واقعہ سے پہلے بھارت کشمیر کے معاملے کو اولیت دیتا رہا۔ لیکن اس کے بعد وہ دہشتگردی کو نمبر و قرار دیتا رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی دکھتی رگ بلوچستان پر بھی ہاتھ رکھا۔ 
جس طرح کشمیر میں حال ہی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی اس کو بڑے پیمانے پرعالمی سطح پر اٹھایا جاتا تو بھات خاصی مشکل میں پڑ سکتا تھا۔ بھارت کو کشمیر کے واقعہ سے توجہ ہٹانے کے لئے کوئی بہانہ چاہئے تھا۔ جس سے دہشتگردی دوبارہ فوکس میں آئے۔ اڑی واقعہ نے اسے یہ موقعہ فراہم کیا۔ اڑی واقعہ کے بارے میں کئی شبہات اور تحفظات ہیں۔ 
سوال یہ ہے کہ مودی کی اس ضارحانہ پالیسی اور سفارت کاری سے فائدہ کس کو ہو رہا ہے؟ ظاہر ہے کہ خطے میں انتہا پسندانہ سوچ بڑھے گی۔ نقصان خطے کے امن اور یہاں کے لوگوں کا ہوگا۔