Sunday, January 10, 2016

Nawaz Shairf increasing deprivation among provinces

میاں صاحب! یہ طرز حکمرانی کیا ہے؟
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی 

 اقتصادی راہداری پر تضاد نے یاں نواز شریف کی طرز حکمرانی اور ان کے لائحہ عمل کو عیاں کر دیا ہے۔ وزیراعظم اس میگا منصوبے پراپوزیشن اور صوبوں کو اعتماد میں لینے میں ناکام رہے ہیں۔ اگرچہ یہ صرف ایک معاملہ نہیں بلکہ قومی سلامتی اور خارجہ امور کے معاملات میں بھی نہ صوبوں کو کچھ پتہ ہے اور نہ ہی اپوزیشن کو۔ لہٰذا مختلف قوتیں ان کے خلاف جمع ہو رہی ہیں۔ سنیٹ میں بھی گرمی محسوس کی جارہی ہے۔ 

نواز لیگ کی اتحادی جمیعت علمائے اسلام (ف) نے بھی راہداری کے معاملے پر آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی۔ خیبر پختونخوا میں رہداری کا معاملہ مقبول نعرہ کی طرح بن گیا ہے۔ اب وہاں سیاست کرنے والی ہر جماعت اس منصوبے کی مخالفت میں اپنا اظہار کرنا ضروری سمجھ رہی ہے۔ صورتحال کچھ س طرح کی بن رہی ہے کہ کم از کم راہداری کے اشو پر جے یو آئی، تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی، اور پختونخوا عوامی ملی پارٹی ایک ساتھ کھڑی ہیں۔ 

سندھ حکومت رینجرز اور کرپشن کے اشوز پر بھنور میں پھنسی ہوئی ہے۔ دیگر امور نہ اس کی ترجیح بن رہے ہیں اور نہ یاد ہیں۔ حالانکہ سندھ پر اس راہداری کے مثبت تو شاید چند ہی ، اسکے بجائے منفی اثرات زیادہ پڑنے کا خدشہ ہے۔ 

راہداری پر فی الحال صرف خیبر پختونخوا برملا تضاد میں ہے۔خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے صوبے کے تحفظات کو دور نہیں کیا گیا تو مرکز دیکھے گا ہم کیا کرتے ہیں۔ خیبرپختونخوا کا صرف یہ مطالبہ ہے کہ اقتصادی راہداری سے متعلق مئی 2015 میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلوں پر عمل کیا جائے۔ ہمیں ہائی وے کی ضرورت نہیں۔ یہ بنانے کے لئے ہمارے پاس پیسے ہیں۔ جبکہ وفاقی حکومت ان کے صوبے میں صرف ہائی وے بنانا چاہتی ہے۔ 

راہداری کے معاملات پر نظر رکھنے والی پارلیمانی کمیٹی نے بھی خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سے ملاقات کی۔ یہ کمیٹی خیبر پختونخوا کے موقف سے متفق ہو کر آئی۔ بعد میں منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال کو یہ ذمہ داری دی گئی لیکن وہ بھی خیبر پختونخوا حکومت کو راضی نہ کر سکے۔ تعجب کی بات ہے کہیہ رول تو صوبائی رابطہ کے وفاقی وزیر ریاض پیرزادہ کا بنتا تھا لیکن انکے بجائے احسن اقبال کے کندھوں پر یہ ذمہ داری دی گئی ۔ 

اس منصوبے میں فائبر آپٹک، ریلوے لائن اور گیس اور تیل کی پائیپ لائن بچھانا ، ایل این جی، بجلی کے منصوبوں کے علاوہ متعدد اقتصادی زون قائم کرناشامل ہے اور گوادر سے کاشغر تک ہائی وے کی تعمیر ۔ اپنی سائیز اور گرانٹس قرضوں اور مختلف نیٹ ورکس کے حوالے سے یہ اتنا ہی بڑا اور اہم ہے جتنا کہ امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دوبارہ سانس لینے کے لئے مغربی یورپ کو مارشل امداد دی تھی۔ 46 ارب ڈالر کا یہ منصوبہ تقدیر بدلنے والا منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی دو مرتبہ قراردادیں منظور کر چکی ہے راہداری کی تعمیر آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلوں کی روشنی میں کی جائے۔قرارداد کے مطابق خیبر پختونخوا کے لئے اس راہداری میں کچھ بھی نہیں۔ 
یہ درست ہے کہ اس راہداری کے آغا زہونے کا سہرہ میاں صاحب کے سر ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ چین سے پاکستان کی برسوں کی دوستی کا نتیجہ ہے ۔پاکستان میں حکومتیں بدلنے کے باوجود بھی اس دوستی میں فرق نہیں آیا۔ممکن ہے کہ پاکستان کو کبھی اس دوستی کے عوض بعض نقصانات بھی اٹھانے پڑے ہوں۔ اس دوران اور آپشنز بھی آئے ہونگے جو پاکستان نے استعمال نہیں کئے ہونگے۔ 

 میاں صاحب اپنی پالیسیاں اور حکمت عملی اس طرح چلا رہے ہیں جن میں صرف اپوزیشن ہی آﺅٹ نہیں ہے۔ بلکہ پنجاب کو چھوڑ کے باقی صوبے بھی آﺅٹ ہیں۔ دلچسپ قصہ یہ ہے راہداری کے معاملے تو متعلقہ وزارتوں کے وزراء مثلا پانی و بجلی کے وزیر خواجہ آصف تیل اور قدرتی وسائل کے وزیر شاہد خاقان عباسی بھی بے خبر ہیں۔ باخبر یا معاملات کے فیصلے کرنے والے وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں۔
 اگر وزیر اعلیٰ پنجاب کو فیصلہ سازی کا حق دیا گیا ہے تو باقی صوبوں کو بھی ملنا چاہئے۔ خاص طور پر ایسے میں جب صوبے اپنے تحفظات کا کھلا اور زور دے کر اظہار کر چکے ہوں۔ 

حکومتی معاملات قومی ہوتے ہیں ۔ اور قوم میں صوبے بھی شامل ہیں۔لہٰذا یہ امور مشترکہ مفادات کی کونسل میں زیر بحث آنے چاہئے۔ حالانکہ کہ سندھ اس ادارہ کا اجلاس طلب کرنے کی درخواست بھی دے چکا ہے اور مسلسل مطالبہ بھی کرتا رہا ہے۔ لیکن تاحال اس کی کوئی سبیل نکلتی نظر نہیں آتی۔ ملک میں مردم شماری کرانے کا فیصلہ کیا گیا، جو کہ اچھی بات ہے، لیکن اس کو بھی مشترکہ مفادات کی کونسل میں پیش نہیں کیا گیا۔ 

وزیراعظم جن کے پاس وزارت خارجہ کا بھی قلمدان ہے۔ حالانکہ انہیںاس قلمدان کے حوالے سے اہم فیصلے کرنے کی زحمت نہیں
کرنی پڑتی لیکن پھر بھی وہ خود کو بیرون ملک دوروں میں خاصا مصروف رکھتے ہیں۔ وہ یا غیر ملکی دورے پر ہوتے ہیں یا لاہور میں۔ وہ اس مرتبہ پیپلزپارٹی کی وہ پالیسی اختیار کئے ہوئے جس کے تحت وہ خطے کی صورتحال سے اپنی اہمیت اور جواز حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی پارلیمنٹ میں حاضری بھی خال خال ہی رہتی ہے۔ یہی صورتحال پارٹی کے مختلف سطح کے اجلاس منعقد کرنے کی ہے۔ بس جو کچھ کرنا ہے انہیں کو کرنا ہے، اور وہ کر رہے ہیں۔ 

 نواز شریف اپنی پانچ سالہ آئینی مدت کا نصف دور مکمل کر چکے ہیں۔ نصف مدت کی پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان کا محور اس بات کے گرد گھومتا ہے کہ کسی طرح سے ڈھائی سال منعقد ہونے والے انتخابات جیتے جائیں۔ ویسے اس خواہش میں کوئی برائی نہیں ہوتی اگر وہ ملک بھر میں انتخابات جیتنے کی ہوتی۔ لیکن کوشش یہ کی جارہی ہے کہ سیاسی طور پر پنجاب کو ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے کیونکہ صرف پنجاب کی نشستیں جیتنے کے بعد وفاق میں حکموت بنائی جاسکتی ہے۔ لہٰذا باقی صوبے ان کی نہ ایجنڈا کا حصہ ہیں اور نہ ہی ان کی پالیسیاں یہاں منعکس ہوتی ہیں۔ 

حکمرانی کے اس انداز نے اپوزیشن اور صوبوں دونوں کو حکومتی فیصلوں سے دور کردیاہے ۔ ایسے میں وہ خیالات پرواں چڑھیں گے جس کو اسلام آباد صوبائیت کا نام دیتا ہے۔ نواز شریف اس” صوبائیت“ کو پھیلانے کے ذمہ دار بن رہے ہیں۔ 

 چلیں سندھ میں پیپلزپارٹی کی خراب حکمرانی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ایم کیو ایم کو بھی شکایات ہیں۔ وزیراعظم یہ شکایات دور کرنے یا ان کو با عزت طریقے سے سننے کے لئے بھی تیار نہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ نیب کسی دوسرے صوبے میں سرگرم نظر نہیں آتی۔ 

بلوچستان کو دیکھیں ، وہاں تمام تر دعوﺅں کے باوجود اس کو مین اسٹریم میں لایا جاسکا ہے۔ ڈاکٹر عبدالمالک کے بعد وہاں انتظامیہ میں تھوڑا بہت احساس شرکت بھی ختم ہو گیا یے۔ 
خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔ اور وزیراعلیٰ نے اپنے موقف ہے کہ اگر ہماری نہیں مانتے تومرکز دیکھے گا کہ ہم کیا کرتے ہیں۔ یہ موقف وزیراعلیٰ سندھ کے اس موقف کے قرب ہی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہم پر حملہ کیا جارہا ہے۔

 عملا وزیراعظم کو اس سے فکر نہیں کہ دوسرے صوبوں میں کیا ہو رہا ہے؟ یا یہ کہ آئندہ انتخابات میں ان صوبوں میں کیا ہوگا؟ بس وہاں ایسا کچھ نہ ہو جس سے ان کی اپنی حکومت خطرے میں پڑے۔ باقی سب خیر ہے۔ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ آخر یہ انداز اور طرز حکمرانی کہاں لے جائے گا؟

Written on Jan 10, 2016 for Nai Baat
Published
http://naibaat.com.pk/ePaper/karachi/12-01-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg

نواز شریف کا استحکام۔۔۔ ۔۔

نواز شریف مستحکم ہو رہے ہیں۔۔

میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 

 گزشتہ عام انتخابات کے بعد جیسے ہی میاں نواز شریف نے حکومت سنبھالی، انہیں کئی ایک سیاسی بحرانون اور عسکری اسٹبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات میں کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ دقتیں نئے چیف جسٹس اور نئے آرمی چیف کے آنے سے بھی کم نہیں ہوئیں۔ بلکہ بعض محاذوں پر ان میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔ ملک کے اندر طالبان سے مذاکرات، انتخابات میں دھاندلی اور ان سے استعیفے کے مطالبے ہو رہے تھے۔ خطے میں جو نئی صورتحال ابھی رہی تھی اس میں وزیراعظم کوئی کردار ادا نہیں کر پارہے تھے۔ 

پہلے یک سال پہلے میاں نواز شریف کی حکومت بھنور میں پھنسی ہوئی نظر آرہی تھی۔ منتخب حکومت نے غیر منتخب اداروں کے سامنے کئی باتیں مانیں۔اس حوالے سے ان پر تنقید کی جاسکتی ہے کہ انہوں نے بعض ایسے بھی فیصلے مانے جو منتخب جمہوری حکومت کو زیب نہیں دیتے۔ انہوں نے عسکری اور سویلین توازن کو برقرار کھا۔ حالانکہ اس کو بعض تجزیہ نگار ان کے درمیان نئے توازن کا نام دے رہے ہیں کیونکہ پلڑا عسکری قوتوں کا ہی بھاری رہا۔

 تاہم اس کا فیصلہ تاریخ کے بڑے سفر میں کیا جائے گا کہ یہ وقت کے حوالے سے ملک کے فائدے میں تھے یانقصان میں؟ اس کی ایک تعبیر یہ بھی ہے کہ انہوں نے یہ سب کچھ اپنی حکومت کو بچانے کے لئے کیا۔ اس دلیل میں کوئی شبہ بھی نہیں۔ یہ ہر حکمران کرتا ہے، خاص طور پر آج کے دور میں جب نظریاتی اور اصولوں کی سیاست ختم ہو چکی ہے ۔وہ کسی نہ کسی طرح سے منتخب حکومت اور جمہوری عمل کو بچانے میں کامیاب ہوگئے۔ ظاہر ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جمہوری اداروں اور جمہوری عمل کا تحفظ خاصا اہم ہوتا ہے۔ آج 2015 کے اختتام اور نئے سال کے آگاز پر صورتحال تبدیل نظر آتی ہے۔ ان کی پوزیشن بہتر بنتی نظر آرہی ہے۔ 

یہ بھی لگا ہے کہ امور خارجہ اور سیکیورٹی کے معاملات میں عسکری اسٹبشمنٹ کی بالادستی رہی۔ اس کی بڑیٰ وجہ دہشتگردی کے خلاف کارراوئیاں تھیں، جن کا مقابلہ مختلف وجوہات کی بناءپر جمہوری یاسویلین حکومت نہیں کر سکتی تھی۔ کراچی اس ضمن میں اہم مثال ہے۔ جہاں دہشتگردی اور سیاست دونوں انوکھے امتزاج میں موجود ہیں۔ 

تمام تر حالات و واقعات کے باوجود کوئی بھی ملکی سیاست کا اہم کھلاڑی سیاست سے باہر نہیں۔ کوئی نیا پاور بروکر وجود میں نہیں آیا۔ عمران خان جو 2013 کے انتخابات میں پوزیشن حاصل کر چکا تھا عملا ان کی وہی پوزیشن ہے۔ یہ صحیح ہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم پر مشکل وقت ہے۔اس کی ذمہ دار یہ جماعتیں خود تھیں۔ نواز شریف نے صرف اتنا کیا کہ ان جماعتوں کا ملبہ اپنے سر نہیں لیا۔ لیکن ان دونوں جماعتوں کی ملکی سیاست میں موثر موجودگی ہے۔ مختلف مشوروں کے باوجود سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت کے بجائے بھان متی کا کنبہ بنا کر مخلوط حکومت نہیں بنائی گئی۔ اور نہ ہی گورنر راج نافذ کیا گیا۔ یہ نواز شریف کی بھلے ذہانت نہ ہو لیکن حکمت عملی ضرور تھی۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ایسا کچھ کرنے کے بعد ان کے پاس بھی کچھ نہیں بچے گا۔ لہٰذا ان تمام چیزوں کا بچ بچاﺅ کر کے انہوں نے باقی سب اقدامات کئے جن کی ان سے فرمائش کی جاتی رہی۔ 

 بلوچستان میں نواز شریف بہت ساری چیزیں کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ وہ زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتے تھے کہ وہاں سرداروں سے ہٹ کر جو قیادت موجود تھی اس کو اپنے ساتھ ملائے رکھیں۔ اسی طرح کا تجربہ بینظیر بھٹو نے 88 کے انتخابات کے بعد کیا تھا۔ لیکن حالات مخلتف ہونے کی وجہ سے وہ اس کو نبھا نہیں سکیں۔ اب حالات مختلف ہیں ۔ نواز شریف سیاسی دباﺅ کو روک سکتے تھے انہوں نے ڈاکٹر مالک کی حکومت کو معاہدے کے مطابق ڈھائی سال مکمل کرنے دیئے۔ 

خیال ہے کہ خود نوز شریف ڈاکٹر مالک کی حکومت کو جاری رکھنا چاہتے تھے لیکن سیاسی دباﺅ اور مصلحتوں کا شکار ہو گئے۔ یہی صورتحال جنرل مشرف کے معاملے میں رہی۔ ان پر اگر مقدمہ نہیں چل ایا جاسکا تو انہیں بیرون ملک جانے بھی نہیں دیا گیا۔ 

 سندھ کے لوگوں کو نواز شریف سے یہ شکایت یقیننا رہی کہ وہ ان کے لئے کچھ نہیں کر پائے۔ وہ اس لئے کہ میاں صاحب پیپلزپارٹی کے ساتھ اپنی انڈر اسٹینڈنگ خراب نہیں کرنا چاہے تھے۔ 

 نواز شریف کے لئے سندھ کا معاملہ بھی تاحال چیلینج ہے۔ عسکری قوتیں دہشتگردوں اور جرائم مافیا اور کرپشن کو ایک ہی صف میں کھڑا کرنا چاہتی ہے۔ اسمیں بڑی حد تک نواز شریف عسکری فیصلوں کے ساتھ ہیں لیکن وہ نظام کے ٹوٹنے کی حد تک نہیں جانا چاہیں گے۔ 

 اسٹبلشمنٹ افغانستان، امریکہ اور بھارت کے ساتھ تعلقات میں فری ہینڈ چاہتی ہے۔
 کیونکہ افغانستان سے امریکی اخراج کے بعد اسٹبلشمنٹ نہیں چاہیت کہ وہاں بھارت کا اس طرح سے اثر رسوخ ہو۔ 

وزیراعظم نواز شریف کی یہ فرمائش ہے کہ بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات بنانے کو بھی نظرانداز نہ کیا جائے۔ افغانستان کی وجہ سے ایک ایسا منظر نامہ بن رہا ہے جس میں پاکستان، چین، اور امریکہ تو موجود ہیں لیکن بھارت موجود نہیں۔ اس ضمن میں امریکہ اور افغانستان اس صورت میں بھارت کے رول کو ختم یا کم کرنا نہیں چاہتے۔ یہ ایک بڑا چیلینج ہے۔ 

ان حکومت کی باقی مدت میں ایک اہم واقعہ یہ ہونے والا ہے کہ جنرل راحیل شریف رواں سال کے آخر میں ریٹائر ہو رہے ہیں۔ جبکہ 2017 انتخابات کا سال ہی ہوگا۔ کیونکہ 2018 کے اوائل میں انتخابات ہونے ہیں۔ لہٰذا جو بھی تبدیلی آئے گی وہ ان انتخابات کی
  وجہ سے یا ان کے ذریعے آ جائے گی۔ اس کے لئے کسی بڑی اکھاڑ پچھاڑ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ 

Written on Jan 4, 2016 for Nai baat 



Alternative narrative متبادل بیانہ کہاں ہے؟

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
 ملک میں جاری گزشتہ دو ڈیڑھ دیائیوں سے جاری دشتگردی کے خلاف ضرب عضب اور کراچی آپریشن چل رہے ہیں۔ اس ضمن میں بعض کامیابیاں بھی ہوئی ہیں جنہیں گاہے بگاہے بیان کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی اطلاعات آرہی ہیں کہ ملک کے مختلف علاقوں میں داعش کے وجو کی بھی خبریں آرہی ہیں۔ اب تو وزیر داخلا پنجاب نے بھی سرکاری طور پر ملک میں دعاش کے وجود کا اعتراف کر لیا ہے۔ مختلف سرکاری ادارے خواہ سیاسی حلقے اور عام لوگوں میں یہ تاثر پختگی سے موجود ہے کہ داعش یا اس کی ذیلی تنظیمیں یا اس جیسی بعض انتہا پسند اور شدت پسند گروہ ملک میں بہر حال موجود ہیں۔ اس تاثر کو تمام تر عملی اقدامات اور رائے عامہ کو بنانے والے اداروں کی کوششوں کے باوجود ختم نہیں کیا جاسکا ہے۔ 

آخر سوال ایسا کیوں ہے؟ ہم دہائیوں سے ملک میں دہشتگردوی اور شدت پسندی سے انکار کرتے رہے ہیں اور اپنی داستانوں، بیانوں اور دلائل میںیہی تاثر دیتے رہے ہیں یہ کوئی دہشتگردی نہیں۔ لہٰذا ان واقعات پر ایک پردہ ڈل گیا تھا۔ 

اب اداروں خواہ اہل فکر لوگوں کو یہ بات سمجھ آگئی ہے کہ یہ سب کچھ ایک مخصوص انداز فکر کو پروان چڑھنے کی وجہ سے ہوا ہے۔ جس کے دوران مختلف واقعات سے کہانیاں جوڑ کر یا ان کے بعض پہلوﺅں کو یکسر ایک طرف رکھ کر اور باقی کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے رہے۔ جہاں کہیں د ہشتگردی یا اس قسم کی انتہا پسندی اور شدت پسندی سے لڑا جاتا ہے وہاں جنگ کے اور دیگر عملی اقدامات ساتھ ساتھ کے ساتھ نقطہ نظر، انداز فکر اور سوچ کو بھی تبدیل کیا جاتا ہے۔ اور پورے معاشرے میں یہ سوچ پیدا کی جاتی ہے کہ اس کی بنیادیں کیا ہیں؟

 اس سے پہلے سرکاری ادارے ، میڈیا یا دانشور جس طرح سے معاملات کو بیان کرتے رہے، ان کی تشریح و توضیح کرتے رہے وہ ٹھیک نہیں تھا۔ بلکہ ان تشریحات نے دراصل اس انتہا پسندی کو ہی مضبوط کیا۔ 

 تمام اقدامات کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ پر ہے کہ ہمارے پاس جوابی فکر اور تشریح کیا ہے؟ دیکھاجائے ، وہ تو ہم نے ابھی بنایا ہی نہیں۔ جب تک یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ ایک فرد کیوںاور کیسے دہشتگرد بن جاتا ہے ہے؟ تب تک ہم جوابی فکر نہیں پیدا کر سکتے جو کہ اس شدت پسندی کے خلاف لڑائی کا ایک اہم ہتھیار اور مورچہ ہے۔ 

انتہا پسند تنظیمیں خواہ وہ داعش ہو یا دیگر اس طرح کے سیاسی پروگرام رکھنے والی تنظیمیں ہوں انہوں نے اپنے مقاصد، عمل اور نعرے میں مذہب کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔یہ تنظیمیں اپنے کارکنان کو یا نئے آنے والوں کو یہ سکھاتی ہیں کہ موجودہ نظام میں جو بھی خرابیاں ہیں اس کا جواب ایک خاص قسم کے مذہبی کفر میں ہی نہیں بلکہ عمل میں ہے اور وہ عمل ہے جہاد۔ 

ہمارے نظام اور اداروں کی ناکامی ہے کہ وہ لوگوں کو کچھ دے نہیں پائے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ناانصافیوں، کرپشن، میرٹ کو کچلنے ، اپنے کاروباری معاملات کو آگے بڑھانا ان کی ترجیح ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ بدترین حکمرانی ہے۔ عوام کو سیاسی نظام میں ایک سیاسی اور جمہوری عمل کے ذریعے تبدیلی آتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ خاص طور پر ان لوگوں کے لئے جو کچھ کرنا چاہتے ہیں، کچھ تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سب چیزیں مزید سازگار حالات پیدا کر دیتے ہیں کہ لوگ شدت پسند تنظیموں کی طرف دیکھیں۔

نیشنل ایکشن پلان کے مقاصد سے لگا کہ ہم شدت پسندی وغیرہ کے بارے میں انکار اور خود تردیدی موقف کو ترک کیاہے۔ لیکن اس ضمن میں بعض اہم رخوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ 

جہاں تک فکری حوالہ ہے ہم بہت ہی دھیمے اور نرم انداز میں کام کر رہے ہیں۔ سانحہ آرمی اسکول پشاور بہت سے حوالوں سے ٹرننگ ثابت ہوا۔ کیونکہ اس واقعہ نے ذہنوں کو صاف کیا اور بہت سی چیزیں واضح ہوئیں۔ اس پلان کے پانچویں نقطے میں واضح طور پر لکھا ہے کہ نفرت آمیز اور انتہا پسندانہ مواد کا توڑ کیا جائے گا۔ میڈیا میں دہشتگردوں کو ہیرو کرکے پیش نہیں کیا جائے گا۔

 ہمیں ایک نفیس طریقوں کی ضرورت ہے۔ میڈیا اور ریاست شہریوں کو تعلیم دے سکتے ہیں اور جواب میں شہری ایک ذمہ دار شہری کے طور پر عمل کر سکتے ہیں۔ اور ریاست کا دفاع کر سکتے ہیں۔ شہریوں میں ذمہ دارانہ فکر اختیار کرنے میں اس وقت سہولت ہوگی جب ہم اچھی حکمرانی قائم کر سکیں گے۔ عام آدمی کے مسائل کو حل کر پائیں گے۔ جمہوری انداز فکر اتنا ہی ضروری ہے۔ لیکن یہ اس وقت ہو پائے گا جب شہری یہ سمجھنے لگیں گے کہ ان کے ووٹ دینے یا نہ دینے سے فرق پڑتا ہے۔ اس کے لئے جمہوری اور سیاسی اداروں کی مضبوطی اور بالادستی کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ 

 ایک اور دائرہ صوبوں اور وفاق کے درنیان موجود کشیدگی کا بھی ہے جس کو منصفانہ طریقے سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لئے کہ خواہ متبادل فکر اور نقطہ نظر یا آپریشن وغیرہ، ان سب میں صوبوں کا بہت بڑا رول ہوتا ہے۔ 

انتہا پسند اور شدت پسند گروپوں کا یہ نعرہ ہے کہ اسلامی دنیا خطرے میں ہے اس کو جہاد کے ذریعے ہی بچایا جاسکتا۔ وہ اس ضمن میں مختلف کڑیاں جوڑ کر ایک پوری کہانی بناتے ہیں۔ نتیجے میں یہ نعرہ اور کہانی ایک سادہ آدمی کے لئے پر کشش بن جاتی ہے۔ ان کا اس وجہ سے اثر بڑھ رہا ہے۔ یہاں سے شدت پسندی کو راستہ ملتا ہے۔ 

انتہا پسندوں کے نزدیک صحت، تعلیم اور جمہوریت، پارلیمنٹ، عدالتی نظام، خواتین کے حقوق، لڑکیوں کی تعلیم، متنازع معاملات ہیں ۔ یہ ان سب کو غیر ملکی اور غیر اسلامی سمجھتے ہیں اور غیر ملکی ایجنڈا کا حصہ سمجھتے ہیں۔ جب حکمران بھی غیر جمہوری اور غیر منصفانہ انداز میں کام کرنے لگتے ہیں تو عام آدمی کے نزدیک ان انتہا پسندوں کی باتیں صحیح محسوس ہونے لگتی ہیں۔ ایک عام آدمی بہت آسانی سے ان نعروں اور پروپیگنڈہ کی جال میں
 پھنس جاتا ہے۔ 
لہٰذا مذہب کی تشریح اور واقعات کی توضیحات صحیح پس منظر میں کرنا اہم ہے۔ یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ مذہبی تشریح جو انتہا پسند کر رہے ہیں وہ درست نہیں۔ یہ کام مذہبی علماءکا ہے۔ لیکن ایسے مذہبی علماءکی آواز اب سننے میں نہیں آتی۔ 

 نصاب میں تبدیلی اور تعلیمی نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ کس طرح سے ہم اپنی نئی نسل کو تنقیدی نقطہ نظر دے سکتے ہیں؟ رواداری سکھاسکتے ہیں۔ تشدد سے دور رکھنے کے لئے تشدد سے نفرت بھی ضروری ہے۔ جوابی فکر اور انداز فکر مثبت اور موثر ہونا چاہئے۔ 




Friday, January 1, 2016

پیپلزپارٹی مشکل میں

پیپلزپارٹی مشکل میں
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
وزیر اعلیٰ سندھ کی اسلام آباد یاترا بے نتیجہ رہی۔وزیر اعظم نے سندھ حکومت کی ایک بھی نہیں مانی۔کوئی رلیف ملنا تو دور کی بات، سندھ حکومت کی شکایات دور کرنے کے لئے چوہدری نثار علی خان کو مقرر کیا ہے جس سے سندھ حکومت کو پہلے سے شکایات تھیں۔ جن کے ساتھ اس کی الفاظ کی لڑائی ایک ڈیڑ ھ ماہ سے
چل رہی ہے۔
یہ دو باتیں میاں صاحب وزیراعلیٰ سائیں قائم علی شاہ کو کراچی ایئر پورٹ پر بھی بتا سکتے تھے۔ اس کے لئے ایک بوڑھے آدمی کو سخت سردی میں اسلام آباد بلانے کی کیا ضرورت تھی؟ 

 وفاقی حکومت نے اس اہم ملاقات جس پر پورے ملک کی نظریں لگی ہوئی تھیں کتنی اہمیت دی ہے؟ سرکاری طور پر وزیر اعظم ہاﺅس سے دو لائن کی پریس رلیز بھی جاری نہیں ہوئی۔ بس ایک فوٹو جاری ہوا ہے جس میں وفاقی او رسندھ حکومت کے سربراہان اپنے دو دو وزراءکی ٹیم کے ساتھ آمنے سامنے بیٹھے ہیں۔ وفاقٰ حکومت نے کوئی ٹھوس اقدام یقین دہانی یا وعدہ کرنے کے بجائے صرف اتنا کہا کہ وزیر داخلا چوہدری نثار علی کرائیں گے انہی سے شکایات کے ازالے کی بات کیجیئے گا۔ 
مطلب وفاقی حکومت اس ضمن میں کوئی بات عملی اقدام کرنے کے بجائے معاملے کو لٹکائے رکھنا چاہتی ہے۔ جیسے ہمارے پاس مختلف معاملات پر کمیٹیاں بٹھائی جاتی ہیں۔ ان کمیٹیوں کا کبھی بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔ 

 مختصرا یہ کہ وزیر اعظم نے سندھ کے وزیر اعلیٰ کو جو کچھ کہا اس کو مختصر الفاظ میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ کراچی میں آپریشن ای طرح سے رینجرز کے مکمل اختیارات کے ساتھ جاری رہے گا۔ اگر” کہیں ضروری ہوا‘ ( اس کا صوابدیدی اختیار بھی وفاق یا چوہدری نثار علی خان کے پاس ہوگا)ا تو وفاق سندھ حکومت کی شکایت کا ازالہ کر سکتا ہے۔وفاق نے سندھ حکومت کی اس درخواست کر مسترد کر دیا کہ رینجرز کے اختیارات کم کئے جائیں۔

وزیر اعظم نے قائم علی شاہ کو سیاسی حلقوں سے بھی یہ کہہ کر کے بھی ڈرایا کہ اگر آپریشن کے طریقہ کار میں کوئی تبدیلی کی گئی تو دوسری سیاسی جماعتیں خاص طور پر تحریک انصاف وغیرہ انہیں تنقید کا نشانہ بنائیں گی۔ وزیر اعظم شاید پیپلزپارٹی کو دھمکی نہیں دے رہے تھے بلکہ سمجھا رہے تھے کہ پارٹی سیاسی تنہائی میں چلی جائے گی۔ تمام سیاسی جماعتیں خلاف ہو جائیں گی۔ نیب اور ایف آئی اے سے متعلق وزیراعلیٰ سندھ کا موقف وزیر اعظم نے یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ خود ان کی اپنی جماعت کے خلاف یہ دونوں ادارے تحقیقات کر رہے ہیں۔ 

اس صورتحال میں سندھ حکومت کے پاس صرف ایک ہی راستہ بچا تھا کہ وہ اس آپریشن میں اپنے لئے کوئی کردار یا اثر کی گنجائش نکال پائے۔ کم از کم رینجرز کے حوالے سے وفاقی حکومت سے رابطہ یا شکایت کر پائے۔ کیونکہ کپتان ہونے کے باوجود انہیں کسی چیز کا پتہ ہی نہیں ہوتا۔ سندھ حکوت اس آپریشن میں اپنی کوئی تعلق داری تلاش کر رہی تھی۔ کیونکہ گزشتہ چند ماہ سے سندھ حکومت کا کوئی حوالہ ہی نظر ہی نہیں آرہا تھا۔ 

 وزیر اعظم نے چوہدری نثار علی خان سے کہا ہے کہ وہ سندھ حکومت سے رابطے میں رہیں۔چوہدری نثار نے جب رینجرز کےاختیارات کے حوالے سے سندھ حکومت سے لفظی جنگ کا آغاز کیا ، اس وقت وزیر اعظم بیرون ملک دورے پر تھے۔ انہوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وزیراعظم کو پتہ نہیں ہے وہ جیسے ہی وطن لوٹیں گے تو انہیں صورتحال سے آگاہ کی کردیا جائے گا۔ اس وجہ سے پیپلزپارٹی نے اپنی توپوں کا تمام رخ چوہدری صاحب کی طرف رکھا۔ 

چوہدری صاحب کی یہ بات کہ وزیراعظم صورتحال سے آگاہ نہیں ہیں، صحیح بھی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ وہ نواز حومت ممیں بہت طاقتور وزیر داخلا رہے ہیں۔ حالیہ دور حکومت کے دوران دو تین مرتبہ وہ ناراض ہو کر گھر بیٹھ گئے تھے۔ لیکن بعد میں میاں صاحب انہیں منا کر واپس لاتے رہے۔ وہ وزیر داخلا جس نے گزشتہ ایک ماہ سے سندھ حکومت کا ناطقہ بند کیا ہوا ہے، وہ کیسا ریلف دے گا؟ یہ بات سمجھنے کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں۔ 

 پیپلزپارٹی کو نواز لیگ حکومت نے اس طرح سے پھنسایا ہوا ہے بالکل اسی طرح جیسے ایم کیو ایم پھنسی ہوئی ہے۔کہ آپشنز ہوتے ہوئے بھی کوئی آپشن نہیں۔ ایم کیو ایم جو اپنے ایک کارکن کی گرفتاری یا قتل پر پورا شہر بند کر دیتی تھی۔ اور پورے میڈیااور ملک کو سر پر اٹھالیتی تھی۔ اس کے ہیڈ کوارٹر نائین زیرو پر چھاپے پڑے، لوگ گرفتار ہوئے لیکن کراچی کا پہیہ چلتا رہا۔ بازاریں کھلی رہیں۔ لیکن اس کو اس جملے کے بعد ” صبر و تحمل“ سے کام لینا پڑا کہ ” اب کراچی میں کوئی ہڑتال نہیں ہوگی“۔ 

پیپلزپارٹی مشکل میں ہے۔ اس مشکل کو وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کے ان الفاظ میں بھی نظر آتی ہے۔ ”وفاق سے ہماری کوئی لڑائی نہیں۔ “ بقول ایک تجزیہ نگار کے اسی تنخواہ پرکام کرنے کے لئے تیار ہیں۔ یعنی وہ آرٹیکل 148 کے تحت وفاق نے جو اختیارات استعمال کرتے ہوئے رینجرز کو باختیار رکھا ہے۔ اس پر کوئی جھگڑا کرنا نہیں چاہتی۔ معاملہ ساٹھ دن تک جوں کا توں جاری رہے گا۔ خیال یہ ہے کہ دبئی بیٹھی ہوئی قیادت کو یہ فیصلہ منظور ہوگا۔ 
سوال یہ ہے کہ ساٹھ دن کے بعد یہ معاملہ دوبارہ سر اٹھائے گا تب کیا کریں گے؟ اور وفاقی حکومت اسی آرٹیکل کے تحت اس کی مدت میں مزید توسیع کر سکتی ہے۔ کیونکہ اب بال سندھ حکومت کے پاس نہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ ساٹھ روز کے بعد صوبائی حکومت یہ معاملہ سندھ اسمبلی میں لے جاسکتی ہے کہ اس کا ستحقاق مجروح ہوا ہے وغیرہ۔ ایسا وہ ابھی بھی کر سکتی ہے۔
 قصہ یہ ہے کہ سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی وفاق سے تکرار میں تو رہنا چاہتی ہے ٹکراﺅ میں نہیں آنا چاہتی۔ کیونکہ اس کو پتہ ہے کہ آرٹیکل 149, ، 232، اور 234 بھی موجود ہیں اور گورنر راج کا آپشن بھی۔ پارٹی فی الحال اس پر خطر کھیل میں جانے کی پوزیشن میں کود کو نہیں سمجھتی۔