میاں صاحب! یہ طرز حکمرانی کیا ہے؟
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
اقتصادی راہداری پر تضاد نے یاں نواز شریف کی طرز حکمرانی اور ان کے لائحہ عمل کو عیاں کر دیا ہے۔ وزیراعظم اس میگا منصوبے پراپوزیشن اور صوبوں کو اعتماد میں لینے میں ناکام رہے ہیں۔ اگرچہ یہ صرف ایک معاملہ نہیں بلکہ قومی سلامتی اور خارجہ امور کے معاملات میں بھی نہ صوبوں کو کچھ پتہ ہے اور نہ ہی اپوزیشن کو۔ لہٰذا مختلف قوتیں ان کے خلاف جمع ہو رہی ہیں۔ سنیٹ میں بھی گرمی محسوس کی جارہی ہے۔
نواز لیگ کی اتحادی جمیعت علمائے اسلام (ف) نے بھی راہداری کے معاملے پر آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی۔ خیبر پختونخوا میں رہداری کا معاملہ مقبول نعرہ کی طرح بن گیا ہے۔ اب وہاں سیاست کرنے والی ہر جماعت اس منصوبے کی مخالفت میں اپنا اظہار کرنا ضروری سمجھ رہی ہے۔ صورتحال کچھ س طرح کی بن رہی ہے کہ کم از کم راہداری کے اشو پر جے یو آئی، تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی، اور پختونخوا عوامی ملی پارٹی ایک ساتھ کھڑی ہیں۔
سندھ حکومت رینجرز اور کرپشن کے اشوز پر بھنور میں پھنسی ہوئی ہے۔ دیگر امور نہ اس کی ترجیح بن رہے ہیں اور نہ یاد ہیں۔ حالانکہ سندھ پر اس راہداری کے مثبت تو شاید چند ہی ، اسکے بجائے منفی اثرات زیادہ پڑنے کا خدشہ ہے۔
راہداری پر فی الحال صرف خیبر پختونخوا برملا تضاد میں ہے۔خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے صوبے کے تحفظات کو دور نہیں کیا گیا تو مرکز دیکھے گا ہم کیا کرتے ہیں۔ خیبرپختونخوا کا صرف یہ مطالبہ ہے کہ اقتصادی راہداری سے متعلق مئی 2015 میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلوں پر عمل کیا جائے۔ ہمیں ہائی وے کی ضرورت نہیں۔ یہ بنانے کے لئے ہمارے پاس پیسے ہیں۔ جبکہ وفاقی حکومت ان کے صوبے میں صرف ہائی وے بنانا چاہتی ہے۔
راہداری کے معاملات پر نظر رکھنے والی پارلیمانی کمیٹی نے بھی خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سے ملاقات کی۔ یہ کمیٹی خیبر پختونخوا کے موقف سے متفق ہو کر آئی۔ بعد میں منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال کو یہ ذمہ داری دی گئی لیکن وہ بھی خیبر پختونخوا حکومت کو راضی نہ کر سکے۔ تعجب کی بات ہے کہیہ رول تو صوبائی رابطہ کے وفاقی وزیر ریاض پیرزادہ کا بنتا تھا لیکن انکے بجائے احسن اقبال کے کندھوں پر یہ ذمہ داری دی گئی ۔
اس منصوبے میں فائبر آپٹک، ریلوے لائن اور گیس اور تیل کی پائیپ لائن بچھانا ، ایل این جی، بجلی کے منصوبوں کے علاوہ متعدد اقتصادی زون قائم کرناشامل ہے اور گوادر سے کاشغر تک ہائی وے کی تعمیر ۔ اپنی سائیز اور گرانٹس قرضوں اور مختلف نیٹ ورکس کے حوالے سے یہ اتنا ہی بڑا اور اہم ہے جتنا کہ امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دوبارہ سانس لینے کے لئے مغربی یورپ کو مارشل امداد دی تھی۔ 46 ارب ڈالر کا یہ منصوبہ تقدیر بدلنے والا منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی دو مرتبہ قراردادیں منظور کر چکی ہے راہداری کی تعمیر آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلوں کی روشنی میں کی جائے۔قرارداد کے مطابق خیبر پختونخوا کے لئے اس راہداری میں کچھ بھی نہیں۔
یہ درست ہے کہ اس راہداری کے آغا زہونے کا سہرہ میاں صاحب کے سر ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ چین سے پاکستان کی برسوں کی دوستی کا نتیجہ ہے ۔پاکستان میں حکومتیں بدلنے کے باوجود بھی اس دوستی میں فرق نہیں آیا۔ممکن ہے کہ پاکستان کو کبھی اس دوستی کے عوض بعض نقصانات بھی اٹھانے پڑے ہوں۔ اس دوران اور آپشنز بھی آئے ہونگے جو پاکستان نے استعمال نہیں کئے ہونگے۔
میاں صاحب اپنی پالیسیاں اور حکمت عملی اس طرح چلا رہے ہیں جن میں صرف اپوزیشن ہی آﺅٹ نہیں ہے۔ بلکہ پنجاب کو چھوڑ کے باقی صوبے بھی آﺅٹ ہیں۔ دلچسپ قصہ یہ ہے راہداری کے معاملے تو متعلقہ وزارتوں کے وزراء مثلا پانی و بجلی کے وزیر خواجہ آصف تیل اور قدرتی وسائل کے وزیر شاہد خاقان عباسی بھی بے خبر ہیں۔ باخبر یا معاملات کے فیصلے کرنے والے وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں۔
اگر وزیر اعلیٰ پنجاب کو فیصلہ سازی کا حق دیا گیا ہے تو باقی صوبوں کو بھی ملنا چاہئے۔ خاص طور پر ایسے میں جب صوبے اپنے تحفظات کا کھلا اور زور دے کر اظہار کر چکے ہوں۔
حکومتی معاملات قومی ہوتے ہیں ۔ اور قوم میں صوبے بھی شامل ہیں۔لہٰذا یہ امور مشترکہ مفادات کی کونسل میں زیر بحث آنے چاہئے۔ حالانکہ کہ سندھ اس ادارہ کا اجلاس طلب کرنے کی درخواست بھی دے چکا ہے اور مسلسل مطالبہ بھی کرتا رہا ہے۔ لیکن تاحال اس کی کوئی سبیل نکلتی نظر نہیں آتی۔ ملک میں مردم شماری کرانے کا فیصلہ کیا گیا، جو کہ اچھی بات ہے، لیکن اس کو بھی مشترکہ مفادات کی کونسل میں پیش نہیں کیا گیا۔
وزیراعظم جن کے پاس وزارت خارجہ کا بھی قلمدان ہے۔ حالانکہ انہیںاس قلمدان کے حوالے سے اہم فیصلے کرنے کی زحمت نہیں
کرنی پڑتی لیکن پھر بھی وہ خود کو بیرون ملک دوروں میں خاصا مصروف رکھتے ہیں۔ وہ یا غیر ملکی دورے پر ہوتے ہیں یا لاہور میں۔ وہ اس مرتبہ پیپلزپارٹی کی وہ پالیسی اختیار کئے ہوئے جس کے تحت وہ خطے کی صورتحال سے اپنی اہمیت اور جواز حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی پارلیمنٹ میں حاضری بھی خال خال ہی رہتی ہے۔ یہی صورتحال پارٹی کے مختلف سطح کے اجلاس منعقد کرنے کی ہے۔ بس جو کچھ کرنا ہے انہیں کو کرنا ہے، اور وہ کر رہے ہیں۔
نواز شریف اپنی پانچ سالہ آئینی مدت کا نصف دور مکمل کر چکے ہیں۔ نصف مدت کی پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان کا محور اس بات کے گرد گھومتا ہے کہ کسی طرح سے ڈھائی سال منعقد ہونے والے انتخابات جیتے جائیں۔ ویسے اس خواہش میں کوئی برائی نہیں ہوتی اگر وہ ملک بھر میں انتخابات جیتنے کی ہوتی۔ لیکن کوشش یہ کی جارہی ہے کہ سیاسی طور پر پنجاب کو ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے کیونکہ صرف پنجاب کی نشستیں جیتنے کے بعد وفاق میں حکموت بنائی جاسکتی ہے۔ لہٰذا باقی صوبے ان کی نہ ایجنڈا کا حصہ ہیں اور نہ ہی ان کی پالیسیاں یہاں منعکس ہوتی ہیں۔
حکمرانی کے اس انداز نے اپوزیشن اور صوبوں دونوں کو حکومتی فیصلوں سے دور کردیاہے ۔ ایسے میں وہ خیالات پرواں چڑھیں گے جس کو اسلام آباد صوبائیت کا نام دیتا ہے۔ نواز شریف اس” صوبائیت“ کو پھیلانے کے ذمہ دار بن رہے ہیں۔
چلیں سندھ میں پیپلزپارٹی کی خراب حکمرانی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ایم کیو ایم کو بھی شکایات ہیں۔ وزیراعظم یہ شکایات دور کرنے یا ان کو با عزت طریقے سے سننے کے لئے بھی تیار نہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ نیب کسی دوسرے صوبے میں سرگرم نظر نہیں آتی۔
بلوچستان کو دیکھیں ، وہاں تمام تر دعوﺅں کے باوجود اس کو مین اسٹریم میں لایا جاسکا ہے۔ ڈاکٹر عبدالمالک کے بعد وہاں انتظامیہ میں تھوڑا بہت احساس شرکت بھی ختم ہو گیا یے۔
خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔ اور وزیراعلیٰ نے اپنے موقف ہے کہ اگر ہماری نہیں مانتے تومرکز دیکھے گا کہ ہم کیا کرتے ہیں۔ یہ موقف وزیراعلیٰ سندھ کے اس موقف کے قرب ہی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہم پر حملہ کیا جارہا ہے۔
عملا وزیراعظم کو اس سے فکر نہیں کہ دوسرے صوبوں میں کیا ہو رہا ہے؟ یا یہ کہ آئندہ انتخابات میں ان صوبوں میں کیا ہوگا؟ بس وہاں ایسا کچھ نہ ہو جس سے ان کی اپنی حکومت خطرے میں پڑے۔ باقی سب خیر ہے۔ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ آخر یہ انداز اور طرز حکمرانی کہاں لے جائے گا؟
Written on Jan 10, 2016 for Nai Baat
Published
http://naibaat.com.pk/ePaper/karachi/12-01-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg
Published
http://naibaat.com.pk/ePaper/karachi/12-01-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg

