Friday, January 1, 2016

پیپلزپارٹی مشکل میں

پیپلزپارٹی مشکل میں
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
وزیر اعلیٰ سندھ کی اسلام آباد یاترا بے نتیجہ رہی۔وزیر اعظم نے سندھ حکومت کی ایک بھی نہیں مانی۔کوئی رلیف ملنا تو دور کی بات، سندھ حکومت کی شکایات دور کرنے کے لئے چوہدری نثار علی خان کو مقرر کیا ہے جس سے سندھ حکومت کو پہلے سے شکایات تھیں۔ جن کے ساتھ اس کی الفاظ کی لڑائی ایک ڈیڑ ھ ماہ سے
چل رہی ہے۔
یہ دو باتیں میاں صاحب وزیراعلیٰ سائیں قائم علی شاہ کو کراچی ایئر پورٹ پر بھی بتا سکتے تھے۔ اس کے لئے ایک بوڑھے آدمی کو سخت سردی میں اسلام آباد بلانے کی کیا ضرورت تھی؟ 

 وفاقی حکومت نے اس اہم ملاقات جس پر پورے ملک کی نظریں لگی ہوئی تھیں کتنی اہمیت دی ہے؟ سرکاری طور پر وزیر اعظم ہاﺅس سے دو لائن کی پریس رلیز بھی جاری نہیں ہوئی۔ بس ایک فوٹو جاری ہوا ہے جس میں وفاقی او رسندھ حکومت کے سربراہان اپنے دو دو وزراءکی ٹیم کے ساتھ آمنے سامنے بیٹھے ہیں۔ وفاقٰ حکومت نے کوئی ٹھوس اقدام یقین دہانی یا وعدہ کرنے کے بجائے صرف اتنا کہا کہ وزیر داخلا چوہدری نثار علی کرائیں گے انہی سے شکایات کے ازالے کی بات کیجیئے گا۔ 
مطلب وفاقی حکومت اس ضمن میں کوئی بات عملی اقدام کرنے کے بجائے معاملے کو لٹکائے رکھنا چاہتی ہے۔ جیسے ہمارے پاس مختلف معاملات پر کمیٹیاں بٹھائی جاتی ہیں۔ ان کمیٹیوں کا کبھی بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔ 

 مختصرا یہ کہ وزیر اعظم نے سندھ کے وزیر اعلیٰ کو جو کچھ کہا اس کو مختصر الفاظ میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ کراچی میں آپریشن ای طرح سے رینجرز کے مکمل اختیارات کے ساتھ جاری رہے گا۔ اگر” کہیں ضروری ہوا‘ ( اس کا صوابدیدی اختیار بھی وفاق یا چوہدری نثار علی خان کے پاس ہوگا)ا تو وفاق سندھ حکومت کی شکایت کا ازالہ کر سکتا ہے۔وفاق نے سندھ حکومت کی اس درخواست کر مسترد کر دیا کہ رینجرز کے اختیارات کم کئے جائیں۔

وزیر اعظم نے قائم علی شاہ کو سیاسی حلقوں سے بھی یہ کہہ کر کے بھی ڈرایا کہ اگر آپریشن کے طریقہ کار میں کوئی تبدیلی کی گئی تو دوسری سیاسی جماعتیں خاص طور پر تحریک انصاف وغیرہ انہیں تنقید کا نشانہ بنائیں گی۔ وزیر اعظم شاید پیپلزپارٹی کو دھمکی نہیں دے رہے تھے بلکہ سمجھا رہے تھے کہ پارٹی سیاسی تنہائی میں چلی جائے گی۔ تمام سیاسی جماعتیں خلاف ہو جائیں گی۔ نیب اور ایف آئی اے سے متعلق وزیراعلیٰ سندھ کا موقف وزیر اعظم نے یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ خود ان کی اپنی جماعت کے خلاف یہ دونوں ادارے تحقیقات کر رہے ہیں۔ 

اس صورتحال میں سندھ حکومت کے پاس صرف ایک ہی راستہ بچا تھا کہ وہ اس آپریشن میں اپنے لئے کوئی کردار یا اثر کی گنجائش نکال پائے۔ کم از کم رینجرز کے حوالے سے وفاقی حکومت سے رابطہ یا شکایت کر پائے۔ کیونکہ کپتان ہونے کے باوجود انہیں کسی چیز کا پتہ ہی نہیں ہوتا۔ سندھ حکوت اس آپریشن میں اپنی کوئی تعلق داری تلاش کر رہی تھی۔ کیونکہ گزشتہ چند ماہ سے سندھ حکومت کا کوئی حوالہ ہی نظر ہی نہیں آرہا تھا۔ 

 وزیر اعظم نے چوہدری نثار علی خان سے کہا ہے کہ وہ سندھ حکومت سے رابطے میں رہیں۔چوہدری نثار نے جب رینجرز کےاختیارات کے حوالے سے سندھ حکومت سے لفظی جنگ کا آغاز کیا ، اس وقت وزیر اعظم بیرون ملک دورے پر تھے۔ انہوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وزیراعظم کو پتہ نہیں ہے وہ جیسے ہی وطن لوٹیں گے تو انہیں صورتحال سے آگاہ کی کردیا جائے گا۔ اس وجہ سے پیپلزپارٹی نے اپنی توپوں کا تمام رخ چوہدری صاحب کی طرف رکھا۔ 

چوہدری صاحب کی یہ بات کہ وزیراعظم صورتحال سے آگاہ نہیں ہیں، صحیح بھی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ وہ نواز حومت ممیں بہت طاقتور وزیر داخلا رہے ہیں۔ حالیہ دور حکومت کے دوران دو تین مرتبہ وہ ناراض ہو کر گھر بیٹھ گئے تھے۔ لیکن بعد میں میاں صاحب انہیں منا کر واپس لاتے رہے۔ وہ وزیر داخلا جس نے گزشتہ ایک ماہ سے سندھ حکومت کا ناطقہ بند کیا ہوا ہے، وہ کیسا ریلف دے گا؟ یہ بات سمجھنے کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں۔ 

 پیپلزپارٹی کو نواز لیگ حکومت نے اس طرح سے پھنسایا ہوا ہے بالکل اسی طرح جیسے ایم کیو ایم پھنسی ہوئی ہے۔کہ آپشنز ہوتے ہوئے بھی کوئی آپشن نہیں۔ ایم کیو ایم جو اپنے ایک کارکن کی گرفتاری یا قتل پر پورا شہر بند کر دیتی تھی۔ اور پورے میڈیااور ملک کو سر پر اٹھالیتی تھی۔ اس کے ہیڈ کوارٹر نائین زیرو پر چھاپے پڑے، لوگ گرفتار ہوئے لیکن کراچی کا پہیہ چلتا رہا۔ بازاریں کھلی رہیں۔ لیکن اس کو اس جملے کے بعد ” صبر و تحمل“ سے کام لینا پڑا کہ ” اب کراچی میں کوئی ہڑتال نہیں ہوگی“۔ 

پیپلزپارٹی مشکل میں ہے۔ اس مشکل کو وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کے ان الفاظ میں بھی نظر آتی ہے۔ ”وفاق سے ہماری کوئی لڑائی نہیں۔ “ بقول ایک تجزیہ نگار کے اسی تنخواہ پرکام کرنے کے لئے تیار ہیں۔ یعنی وہ آرٹیکل 148 کے تحت وفاق نے جو اختیارات استعمال کرتے ہوئے رینجرز کو باختیار رکھا ہے۔ اس پر کوئی جھگڑا کرنا نہیں چاہتی۔ معاملہ ساٹھ دن تک جوں کا توں جاری رہے گا۔ خیال یہ ہے کہ دبئی بیٹھی ہوئی قیادت کو یہ فیصلہ منظور ہوگا۔ 
سوال یہ ہے کہ ساٹھ دن کے بعد یہ معاملہ دوبارہ سر اٹھائے گا تب کیا کریں گے؟ اور وفاقی حکومت اسی آرٹیکل کے تحت اس کی مدت میں مزید توسیع کر سکتی ہے۔ کیونکہ اب بال سندھ حکومت کے پاس نہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ ساٹھ روز کے بعد صوبائی حکومت یہ معاملہ سندھ اسمبلی میں لے جاسکتی ہے کہ اس کا ستحقاق مجروح ہوا ہے وغیرہ۔ ایسا وہ ابھی بھی کر سکتی ہے۔
 قصہ یہ ہے کہ سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی وفاق سے تکرار میں تو رہنا چاہتی ہے ٹکراﺅ میں نہیں آنا چاہتی۔ کیونکہ اس کو پتہ ہے کہ آرٹیکل 149, ، 232، اور 234 بھی موجود ہیں اور گورنر راج کا آپشن بھی۔ پارٹی فی الحال اس پر خطر کھیل میں جانے کی پوزیشن میں کود کو نہیں سمجھتی۔ 





No comments:

Post a Comment