https://www.urdunews.com/node/424026/پاکستان/تالپور-سیاست-میں-غیر-موثر-کیسے-ہوئے؟
Urdu Columns of Sohail Sangi میرے دل میرے مسافر : کالم
Saturday, June 29, 2019
تالپور سیاست میں غیر موثر کیسے ہوئے؟
https://www.urdunews.com/node/424026/پاکستان/تالپور-سیاست-میں-غیر-موثر-کیسے-ہوئے؟
Friday, June 28, 2019
پہلی اینٹ کی تلاش
پہلی اینٹ کی تلاش
میرے دل میرے مسافر ۔۔سہیل سانگی
روم ایک دن میں تعمیر نہیں ہوا تھا۔ اسی طرح
سے کوئی بھی سیاسی تحریک ایک کانفرنس سے یا فوری طور پر شروع نہیں کی ہوئی۔ اصل میں
سیاسی تحریک کا عوامی ہونا بیحد ضروری ہوتا ہے۔ عوام اپنے مسائل کی وجہ سے سڑکوں
پر نکلتے ہیں۔ لہٰذایہ سوچناکہ کل اس سے حکومت گر جائے گی یا کل سے حکومت کے لئے
مشکلات پیدا ہوجائیں گی ایسا کبھی نہیں ہوتا ۔25 جولائی کو ”دھاندلی زدہ الیکشن“ کیخلاف
یوم سیاہ منانے کا فیصلہ کیا گیا جس دوران اپوزیشن کے مشترکہ جلسے ہونگے،سیاسی
جماعتیں پارلیمان کے اندر اور باہر بھرپور احتجاج جاری رکھیں گی۔ یوم سیاہ پر
چاروں صوبوں میں مشترکہ جلسے کیے جائیں گے۔
ماضی کی مثالیں دیکھ لیں۔ایوب خان کے خلاف
پہلا اتحاد پانچ جماعتوں خواجہ خیر الدین اور ممتاز دولتانہ کی زیر قیادت کونسل
مسلم لیگ، عوامی لیگ، نیشنل عوامی ارٹی بھاشانی گروپ، نیشنل عوامی پارٹی ولی گروپ،
چوہدری محمد علی کی نظام اسلام پارٹی، اور جماعت اسلامی پر مشتمل تھا۔ متحدہ اپوزیشن
نےیوب خان کے مقابلے میں صدارت کے لئے بانی پاکستان کی ہمشیرہ فاطمہ جناح کو بطور
امیدوار لے آئی۔ دھاندلیوں کی وجہ سے اپوزیشن کی امیدوار فاطمہ جناح صدارتی الیکشن
ہار گئیں۔
ایوب خان کے خلاف نوابزادہ نصراللہ خان کی
سربراہی میں پانچ جماعتی اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے اپریل 1967 میں
بنا۔ لیکن جنوری 1969میںاس کا نام تبدیل کر کے ڈیموکریٹک ایکشن کمیٹی رکھا گیا۔ لیکن
ان کے خلاف تحریک دو سال بعد چل سکی۔ تحریک کی وجہ یہ بنی کہ ایوب خان اپنی کامیابیوں
کا صد سالہ جشن منانا چاہ رہے تھے،ایوب خان نے تشدد کے ذریعے ”ڈیک “ کی تحریک کو
روکنا چاہا۔ کراچی، لاہور، ڈھاکہ، پشاور، کھلنا میں فوج طلب کرلی گئی۔ فروری میں ایوب
خان سیاسی قیدی رہا کرنے اور اپوزیشن سے مذاکرات کے لئے مجبور ہو گیا۔ انہوں نے
نئے آئین بنانے کا بھی اعلان کیا۔ وہ سیاسی سمجھوتہ چاہتے تھے لیکن انہیں جنرلوں کی
حمایت حاصل نہ ہو سکی ۔ نتیجے میں جنرل یحیٰٰ خان نے مارچ میں مارشل لا
¾ نافذ
کردیا۔ جنرل یحییٰ خان نے بڑی سیاسی پارٹیوں سے مذاکرات شروع کئے۔ عوامی لیگ نے
صوبائی حقوق کے مطالبے پر مہم چلائی اور اس نعرے کو مقبول عام بنایا۔ جماعت اسلامی
نے اسلامی آئین کا مطالبہ کردیا۔ ”ڈیک“ کے غیر موثر ہونے کی وجہ سے میدان میں عوامی
لیگ اور پیپلزپارٹی رہ گئیں۔
ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف پہلا اتحاد یونائٹیڈ
ڈیموکریٹک فرنٹ 1973 میں قائم ہوا۔پانچ سال بعد بننے والے پاکستان نیشنل الائینس
ان کے خلاف تحریک شروع کرسکا۔
اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس نے پچیس جولائی
کے یوم سیاہ پر اتفاق اور لاک ڈاﺅن کا بھی اصولی فیصلہ کرلیاگیا ہے۔بلوچستان نیشنل
پارٹی کے سربراہ ہیں اختر مینگل عین وقت پر وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بلاواا
ٓ نے کی وجہ سے شرکت نہ کر سکے۔ بہرحال اختر مینگل نے مولانا فضل الرحمٰن کوپانچ
نکات کے لئے ایک خط بھیجاجس پر مینگل اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان پچھلے سال
معاہدہ کیا تھا۔مولانا فضل الرحمٰن کے مطابق اعلامیہ میں اختر مینگل کی پارٹی کے
چھ نکات شامل ہیں۔
کانفرنس نے وزیراعظم کا قرضوں کے خلاف انکوائری
کمیشن قومی ترقیاتی کونسل،قرضہ کمیشن اورججز کیخلاف ریفرنسز مسترد کر دیا۔ کے قرضے
کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی قائم کی جائے،مجوزہ قومی ڈیولپمنٹ کونسل (این ڈی
سی) ایک غیر ضروری ادارہ ہے جس کی قومی اقتصادی کونسل کی موجودگی میں کوئی ضرورت
نہیں، یہ اقدام اداروں کو متنازع بنانے کی کوشش ہے جسے اجلاس نے مسترد کیا۔
کونسا قدم کب اٹھانا چاہئے؟ کون سی اینٹ پہلے
نکالی جائے ؟ یہ بہت اہم سوالات ہیں۔ ابھی کل جماعتی کانفرنس کو بہت سارے مطالبات
اور حکمت عملی پر متفق ہونا باقی ہے۔ گزشتہ روز کی کانفرنس کو ہی لے لیجئے۔مولانا
فضل الرحمان اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان تکرار کم و بیش 45 منٹ تک جاری رہی۔
مولانا فضل الرحمان کا خیال تھاکہ معاملہ مڈٹرم الیکشن کی طرف جائے ، مارشل لاءلگ
گیا تو اس کا مقابلہ کریں گے۔پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کا موقف مولانا سے مختلف
تھا۔بلاول بھٹو نے جواب میں کہا میں نانا، دو ماموں اور والدہ گنوا چکا ہوں، پارلیمنٹ
کسی صورت ڈی ریل نہیں ہونے دوں گا۔عوامی نیشنل پارٹی کے ایک رہنما نے مداخلت کر کے
بیچ بچاﺅ کرایا، اے این پی کے رہنما نے کہا ہم مشترکہ
گراﺅنڈز پر بات کرتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کی یہ
بھی نے تجویز تھی کہ عمران خان نے صحابہ کی توہین کی، جس کا ذکر بھی اعلامیے میں کیا
جائے۔ جوابا بلاول بھٹو کا موقف تھا کہ مذہب کا نواز شریف، عمران خان سمیت کسی کے
خلاف بھی استعمال قبول نہیں۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی
زیر صدارت بدھ کو ا ٓٹھ گھنٹے طویل جاری رہنے والے اے پی سی کے اجلاس میں اتفاق کیا
گیا کہ اپویزشن پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ کے باہر بھرپور کردار ادا کرےگی۔نے
اپوزیشن جماعتوں میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے پر اتفاق ہوگیا،نئے چیئرمین
سینیٹ کو لانے کا فیصلہ اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی کریگی۔اے پی سی میں رہبر کمیٹی
میثاق معیشت اور قومی چارٹر تیار کرے گی۔ اجلاس میں منصفانہ اور غیر جانبدارانہ
احتساب پر زور دیا گیا اور جعلی احتساب کو مسترد کیا گیا۔ اپوزیشن کی طرف سے عدم
تعاون کے اظہار کے طور پر اپوزیشن کے تمام ممبران کے دھاندلی سے متعلق پارلیمانی
کمیٹی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔اگرچہ یہ علامتی ہے لیکن اپوزیشن بعد میں
دیگر کمیٹیوں سے نکلنے کا بھی فیصلہ کر سکتی ہے۔
شہبازشریف نے اے پی سی میں اظہار خیال خیال
کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو گھر بھیجنے کے لئے سڑکوں پر بھی آنے پڑے تو نکلنا چاہئے
۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ ہماری لڑائی عمران خان سے نہیں انہیں سلیکٹ کرنے والوں
سے ہے۔پوری پارٹی کا نواز شریف اور شہباز پر بھرپور اعتماد ہے، ایک دوسرے کے ساتھ اختلاف
تو کرسکتے ہیں البتہ فیصلہ لیڈر شپ کا ہوتا ہے۔اجلاس میں حکومت کے خلاف تحریک
چلانے پر بھی اکثریتی جماعتوں نے اتفاق کیا ہے تاہم بلاول بھٹو زرداری نے تحریک
چلانے کی تاحال حمایت نہیں کی۔
حکمت عملی کے حوالے سے یہ طے کیا گیا کہ فوری
طور پر تحریک چلانے کے بجائے حکومت کو مرحلے وار کمزورکیا جائے۔ اور یہ سلسلہ
نومبر تک جاری رکھا جائے، جب ایک اعلیٰ ادارے کی سربراہی میں تبدیلی ہوگی۔
سینیٹ چیئرمین صادق سنجرانی پیپلزپارٹی اور پی
ٹی آئی کے ووٹوں سے منتخب ہوئے ہیں۔ یہ اینٹ آسانی سے سرکائی جاسکتی ہے۔ چیئرمین
اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی پہلی اینٹ ہے۔نواز شریف حکومت کو بھی اس اینٹ کے
ذریعے کمزور کیا گیا تھا۔اس کے بعدحکومت مخالف تحریک پنجاب میں شروع کرنے کی باری
آئے گی۔
Tuesday, June 25, 2019
میثاق معیشت سے میثاق سیاست تک
میثاق
معیشت سے میثاق سیاست تک
میرے
دل میرے مسافر سہیل سانگی
قومی
اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ثالثی کی راہ تو نکال لی
، لیکن اب معاملے کو مزید آگے بڑھانا وزیراعظم اور اپوزیشن ک رہنماﺅں
کا کام ہے۔وزیراعظم عمران خان سے اسپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر نے ملاقات میںقومی
اسمبلی میں موجودہ حکومتی حکمت عملی، اپوزیشن اور حکومتی اراکین کی بجٹ تقاریر
پرتبادلہ خیال کیا گیا جبکہ خصوصی پارلیمانی کمیٹیوں کی تشکیل پربھی بات چیت ہوئی۔
اوربجٹ پاس کروانے کے حوالے سے حکمت عملی کے بارے میں وزیراعظم کو بریفنگ دی۔ اسد
قیصر نے وزیرا عظم کو سمجھایا کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے کی حکمت عملی حکومت
کے حق میں نہیں۔ اس طرح سے اپوزیشن کے حق میں ماحول بن گیا ہے۔ عددی اعتبار سے
بھلے حکومت بجٹ منظور کرا لے، اگر اپوزیشن نے ووٹنگ میں حصہ نہ لیا تو عالمی خواہ
ملکی سطح پر اس بجٹ اور حکومت کی سیاسی ناکامی سمجھی جائے گی۔ جب اپوزیشن اس بجٹ کو
آایم ایف کا بجٹ کہہ رہی ہے تو اس کے لئے ووت کرنے نہیں جائے گی ، تو یہ عالمی مالیاتی
ادارے کے لئے کوئی اچھا پیغام نہیںہوگا۔ وزیراعظم کو یہ بتایا گیا کہ اپوزیشن کی
دو بڑی پارٹیوں کے رہنما شبہاز شریف اور آصف زرداری معیشت کی بحالی کے لئے تعاون
کے لئے ہاتھ بڑھا رہے ہیں اس کا فائدہ اٹھانا چاہئے۔
سپیکرقومی
اسمبلی کی یہ بات کسی طرح سے وزیراعظم کی سمجھ میں آگئی۔ اور انہوں نے اپوزیشن کیساتھ
میثاق معیشت طے کرنے کی منظوری دیدی اور فیصلہ کیا گیا کہ ملک کو معاشی بحران سے
نکالنے کیلئے اعلی سطحی پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے گی، اور امکا ن ہے کہ میثاق معیشت
کمیٹی میں سینیٹ و قومی اسمبلی کے تمام سیاسی جماعتوں سے اراکین شامل کئے جائینگے۔
یہ بات وضح رہے کہ میثاق معیشت کمیٹی کے قیام کی تجویز اپوزیشن جماعتوں نے دی تھی
تاکہ سیاسی جماعتوں کے اہم رہنما ملکی معیشت میں بہتری کیلئے تجاویز دے سکیں۔
وزیراعظم
کی جانب سے اپوزیشن کی پیشکش پر مثبت رد عمل سے تین روز پہلے وزیراعظم قومی ترقیاتی
کونسل کی تشکیل کا اعلان کر چکے ہیں ۔ اس کونسل کے آرمی چیف بھی ممبر ہیں۔ یہ بات
شدت سے محسوس کی جارہی تھی کہ فیصلہ سازی میں پارلیمنٹ اور منتخب نمائندوں کو کونے
میں کھڑا کیا جارہا ہے۔ تمام پالیسیاں مستعار لئے ہوئے ٹیکنوکریٹ بنا رہے ہیں اور
ان پر عمل کر رہے ہیں۔ نتیجے میں خود حکمران جماعت کے اراکین اسمبلی بھی بجٹ پر
تنقید کر رہے ہیں۔ پورا ماحول غیر سیاسی اور غیر پارلیمانی بن رہا ہے۔ ٹیکس کی
وصولی اور ملک کی معاشی پالیسیوں کے بارے میں روز نئے فیصلے سامنے آرہے ہیں۔ ان
تمام فیصلوں اور اعلانات کو نہ عوامی اور نہ ہی سیاسی حمایت حاصل ہے۔
جس
طرح سے عمران خان نے کرپشن کا بیانیہ مقبول کرالیا تھا اسی طرح اپوزیشن نے مہنگائی
اور بجٹ کا معاملہ مقبول کرالیا ہے۔ اب اس کی چھتری کے نیچے حکومت کے خلاف ہر بات
کی جاسکتی ہے اور قدم اٹھایا جاسکتا ہے۔ جس کا انداز مسلم لیگ نواز کی ترجمان مریم
اورنگزیب کے اس موقف سے لگایا جاسکتا ہے کہ” عوام نالائق حکمرانوں کو ٹیکس نہیں دیں
گے۔“اگر واقعی یہ بات چل نکلتی ہے تو حکومت کتنے لوگوں کو گرفتار کرے گی؟
مقتدرہ
حلقوں کو بھی محسوس ہوا کہ مالی معاملات کی اتنی پیچیدہ صورتحال اور اس کے ساتھ سیاسی
بحران کو حل کرنا عمران خان کے بس کی بات نہیں۔ یہ اندازہ آئی ایم ایف کو بھی ہوگیا۔
آصف زرادری نے صورتحال کو بھانپ لیا، اور انہوں نے اسمبلی میں کہا کہ ماضی کے قصے
چھوڑیں، آگے کیا کرنا ہے اس پر بات کریں۔ ان سے پہلے شہباز شریف بھی اپنی تقریر میں
یہ اشارہ دے چکے تھے۔ اس کے بعد اسپیکر اسد قیصر نے اپنا رول ادا کیا۔ مذاکرات چل
رہے ہیں۔ ہر فریق اپنے مطالبات اور شرائط رکھ رہا ہے۔
اپوزیشن
نے میثاقِ معیشت کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان خودپوزیشن سے بات کریں اور میثاقِ
معیشت پرلائحہ عمل بتائیں۔آصف زرداری نے کہا کہ میثاقِ معیشت پر وزیراعظم اپنا
مکمل موقف واضح کریں، ہم اپنی پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں سے بات کرکے جواب دینگے۔پیپلزپارٹی
کے سیدخورشید شاہ نے کہا کہ ایک طرف معیشت کی بات اور دوسری جانب این آر او کا
الزام لگاتے ہیں۔ بجٹ پر بحث کے دوران مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی
اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر اور آصف زرداری نے میثاقِ معیشت کی بات کی،
اسے حکومت نے کمزوری سمجھا، یہ رویہ ہے تو ہمیں بھی ضرورت نہیں، اگر رویہ ٹھیک ہوا
تو ملکی مفاد میں میثاقِ معیشت ہو سکتا ہے، اگر رویہ ٹھیک نہ ہوا تو ایک میز پر بھی
نہیں بیٹھ سکیں گے۔ظاہر ہے کہ صرف معیشت پر بات نہیں ہوگی۔یہ سب کچھ مقتدرہ حلقوں
کی تائید کے بغیر ممکن نہیں۔ اپوزیشن کے لئے سب سے بڑی فرمائش نواز شریف اور آصف
زرداری کے لئے رلیف لینا ہوگا۔
تقریبا ستر سال کی عمر
میں دو بوڑھے نواز شریف اور آصف علی زرداری استقامت کے ساتھ کھڑے ہیں۔دونوں پارٹیوں
کی نوجوان قیادت زیادہ جذباتی ہو رہی ہے۔ مریم نواز نے یہ پیغام دیا ہے کہ یہ کوئی
مصر نہیں جہاں نواز شریف کا حال سابق مصری صدر مرسی جیسا ہو۔وہ آخری حد تک جانے کے
لئے تیار ہے۔انہوں نے میثاق معیشت کا مذاق اڑایا۔ وہ سمجھتی ہیں کہ یہ آخری موقعہ
ہے کہ نواز شریف کے لئے کوئی رلیف حاصل کیا جائے۔ بلاول بھٹو نے نوابشاہ میں عمران
خان سے کہا کہ تم نے میرے بہن کو رلایا ہے۔دوسرے روز آصف علی زرداری نے یقین دہانی
کرائی اور کہا کہ مریم بی بی ہماری بیٹی ہے۔ جو بھی فیصلہ ہوگا وہ متحدہ اپوزیشن
مل کر رکے گی۔ زرداری نے بظاہر تعلقات کو ذاتی بنایا لیکن اس کے پیچھے پیغام یہ ہے
کہ پیپلزپارٹی الگ سے کوئی ڈیل نہیں کر رہی۔ تم کو بھی آن بورڈ لیا جائے گا۔ پھر
مریم نواز نے وضاحت کی کہ میثاق معیشت پر ان کے بیان کو میڈیا نے سیاق و سباق سے
ہٹ کر پیش کیا۔تاہم اس وضاحت کے ساتھ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کا بیان آیا کہ بیانہ صرف
نواز شریف کا چلے گا۔
صف
علی زرداری جب کہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کے پاس این ٓر او دینے کا کوئی اختیار
نہیں جبکہ مستقبل میں ان کیساتھ بیٹھنے کا کوئی امکان بھی نہیں ہے ہم ن لیگ کے
ساتھ بیٹھ گئے ہیں لیکن عمران خان کے ساتھ بیٹھنا مشکل ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ
عمران خان سے نہیں بلکہ مقتدرہ حلقوں سے بات کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ سلیکٹیڈ وزیراعظم
کی اصطلاح اوربیانیہ کا حصہ ہے ، یعنی مصنوعی طور پر لائے گئے وزیراعظم ہیں، اس کے
پیچھے اصل کچھ اور قوتیں ہیں۔ حکومت کویہ بات دس ماہ بعد سمجھ میں آئی کہ اس کی
معنی کیا ہیں۔
عمران خان کے لئے بہت
ہی حساس صورتحال ہے۔ ان کے پاس بات چیت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ ا وران ساتھ بات
چیت کرنے جارہا ہے، جن رہنماﺅں
کو چور اور لٹیرے کہہ رہا تھا ۔دونوں صورتوں میں ان کی سیاسی حیثیت کم ہو رہی ہے۔
https://www.naibaat.pk/24-Jun-2019/24211
آج کی تاریخ اور مورخ کی پریشانیاں
Nai Baat June 21, 2019
آج کی تاریخ اور مورخ کی پریشانیاں
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
مورخ جب آ ج کے دور کی دور تاریخ لکھے گا تو خاصا پریشان ہو جائے گا۔ ایک منتخب ایوان جس کے چلتے اجلاس میں اسپیکر چیمبر کو سب جیل قرار دیا گیا۔پوری سندھ اسمبلی غلط ہے؟ یا پھر سپیکر چیمبر کو سب جیل قرار دینے کاحکمنامہ درست نہیں۔نہیں لگتا کہ واقعی شفاف احتساب ہو رہا ہے۔
مورخ ابھی تک پچاس کے عشرے کے دو واقعات پر پریشان ہے ۔ کراچی کو سندھ سے الگ کرکے وفاقی علاقہ بنانے کے فیصلے کے خلاف سندھ سراپا احتجاج بن گیا۔ اس مسئلے پر قائم ہونے والے سندھ عوامی محاذ کے سینکڑوں کارکنوں کو جیل بھیج دیا گیا۔ بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر وزیر اعظم لیاقت علی خان نے ایک پنجاب کے ایک وکیل دین محمد کو سندھ کا گورنر بنایا۔ اس پر سندھ کے عوام نے مزید ناراضگی کا اظہار کیا۔ نئے گورنر نے سندھ میں اسمبلی توڑ کر گورنر راج نافذ کردیا۔ کھڑو کو ایبڈو کے ذریعے نااہل قرار دیا گیا۔ بعد میں عبدالستار پیرزادہ نے حکومت بنانے کے لیے کراچی کی سندھ کو واپسی، مرکزی اداروں میں سندھیوں سے امتیازی سلوک کا خاتمہ، فوجی افسروں کو سندھ میں زمینیں دینے پر ممانعت جیسے مطالبات رکھے۔ ان دنوں پنجاب سے تعلق رکھنے والے نواب افتخار حسین ممدوٹ کو سندھ کا گورنر بنایاگیا جنہوں نے ستار پیرزادہ کی حکومت ختم کرکے ایوب کھوڑو کو بحال کردیا۔ پھر کھڑو کے ذریعے ہی ون یونٹ کا بل منظور کرایا۔
سیاست میں مداخلت کی اس گتھی کو بھی جب تحریک انصاف کی وفاقی حکومت پر دباﺅ بڑھا، اپوزیشن نے وفاقی بجٹ بلاک کرنے کا فیصلہ کیا ، اس کے جواب میں حکومت نے مختلف طریقے اختیار کیا، ایک یہ قومی اسمبلی میں لیڈر آ ف اپوزیشن کو تقریر کرنے نہیں دی۔ خود وزراءنے بھی ہنگامہ کیا۔ پھر وزیراعظم کا یہ بیان بھی آیا کہ وہ اپوزیشن کی اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا کہ سرکاری بینچوں نے اسمبلی میں غل و شور کیا، اسپیکر کی ایک بھی نہیں سنی نتیجے میں حکومت کے اپنے ہی طلب کردہ اجلاس کو اتناڈسٹرب کیا کہ ڈپٹی اسپیکر کو اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔
حکومت نے دوسرا قدام یہ اٹھایا کہ اپوزیشن سے بارگین کرنے کے لئے ایوان کی روایات کے برعکس گرفتار اراکین اسمبلی آصف علی زرادری اور سعد رفیق کے پراڈکشن آرڈر جاری نہیں کئے۔ بعد میں جب حکومت نے اپوزیشن سے اپنا یہ مطالبہ منوا لیا کہ اپوزیشن سرکاری اراکین کی تقاریر بھی بغیر شور غل کے سنیں گے، تو پابند سلاسل اراکین کے پراڈکشن آرڈر جاری کئے گئے۔ یعنی قوانین ضابطے جو کہ کمزور کو حق دلانے کے لئے ہوتے ہیں، ان کو ایک طرف رکھ ر اس کو بطور رعایت کردیا گیا۔ یعنی حکومت مہربان ہوگی تو اراکین اسمبلی کو اجلاس میں شرکت کرنے دے گی نہیں تو نہیں۔ اور حکومت مہربان تب ہوگی جب اپوزیشن حکومت کے ساتھ رویہ درست رکھے گی۔ یہ تمام اقدامات دراصل اپوزیشن کی آواز دبانے کے لئے اختیار کئے گئے ہیں۔
تیسرا قدم حکومت نے یہ اٹھایا کہ بجٹ کے خلاف تحریک چلانے کی محرک جماعت پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت پر دباﺅ ڈالا گیا۔ ایک طرح سے پورے منتخب ایوان کی قانونی حیثیت کو چیلینج کیا گیا۔یہاں تک کہ گورنر سندھ عمران اسماعیل نے سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ اجلاس طلب کرنے والے اراکین کے دستخط اصلی یا نقلی ہونے کا سوال اٹھایا کر درخواست کو غیرقانونی کہا گیا۔ گورنر کے پاس کیا ثبوت ہیں کہ اجلاس بلانے کی درخواست دینے والے اراکین ملک یا شہر کے اندر ہیں یا نہیں؟ نہیں معلوم کہ گورنر سندھ اس طرح کا اعتراض کرنے کے لئے کو کس نے ایسا ”قانونی مشورہ “ دیا ۔آئین ، یا اسمبلی کے قواعد و ضوابط میں کہیں نہیں لکھا کہ دستخط کرتے وقت اراکین اسمبلی کی صوبائی دارلحکومت میں موجودگی لازمی ہے۔ یہ سیاست اور جمہوریت میں مروجہ روایت ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے اراکین اسمبلی سے بعض درخواستوں پرپیشگی دستخط کے لیتی ہیں۔ بالکل اس طرح جیسے ٹکٹ ایوارڈ کرتے وقت کاغذات نامزدگی سے دستبرادری کے فارم پر سیاسی جماعتیں دستخط لے لیتی ہیں یا منتخب ایوان سے استعیفا کی درخواست بھی دستخط لے لیتی ہیں۔ یہ سب دستخط تب تک جائز مانے جاتے ہیں تاوقتیکہ کوئی ممبراپنے دستخط سے دستبردار نہیں ہوتا۔ جمہوریت رویات پر چلتی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی پارلیمانی جمہوریت برطانیہ میں سب سے بڑا قانون آئین بھی غیر تحریری ہے اور روایات پر چلتا ہے۔ سندھ اسمبلی سیکریٹریٹ نے گورنر سندھ کے اس اعتراض کو مسترد کردیا کہ کونسا ممبر کہاں ہے اس کی تصدیق کرنا ہمارا کام نہیں، تاہم دستخط اصلی ہیں۔
چوتھا قدم حکومت کا یہ تھا کہ اچانک جی ڈے اے کو ایک بار پھرسرگرم کیا گیا جب بھی پیپلزپارٹی وفاقی حکومت سے ٹکراﺅ کی پالیسی اختیار کرتی ہے، جی ڈی اے حرکت میں آتا ہے۔ ایک بار پھر سندھ حکومت کو یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ اگر صوبے کی حکمران جماعت پیپلزپارٹی جو وفاق میں اپوزیشن کے ساتھ مل کر تحریک چلانے جارہی ہے، اس نے ”مناسب “ رویہ نہ رکھا تو اس کی حکومت کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ وفاقی حکومت گزشتہ جولائی کے انتخابات کے بعد سندھ حکومت کوجی ڈی اے کا پتہ تیسری مرتبہ دکھا رہی ہے۔ تین روز قبل منعقدہ جی ڈی اے کے اجلاس میں سندھ حکومت کے خاتمے اور گورنر راج نافذ کرنے کی باتیں کی گئیِ ۔اتحاد کے سربراہ پیر پگارا نے یہ موقف اختیار کیا کہ موجودہ حکمرانوں کے ہوتے ہوئے شفاف احتساب ممکن نہیں۔ عدالتیں سندھ میں جرائم، کرپشن اور خراب حکمرانی کا نوٹس لیں۔یعنی سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ختم کردی جائے، مزید یہ کہ عدلیہ سندھ حکومت کے لئے وہ رویہ اختیار کرے جو جسٹس ثاقب نثار نے کیا تھا۔ مطلب حکومتی معاملات میں عدلیہ کی بیجا مداخلت ۔ غوث علی شاہ کا کہنا ہے کہ جی ڈی اے سندھ حکومت کے خاتمے کے لئے اہم کردار ادا کرے گا۔ جی ڈی اے آصف علی زرداری اور دیگر کو سزائیں بھی دلانا چہاتا ہے۔ اس کا موقف ہے کہ کرپشن کرنے والوں کی صرف گرفتاریاں کافی نہیں، انہیں سزائیں ملنی چاہئیں۔ جی ڈی اے کے سیکریٹری ایاز لطیف پلیجو کا کہنا ہے کہ سندھ کارڈ اب نہیں چلے گا۔یہ کہہ کر یقین دہانی کرائی جارہی ہے کہ پیپلزپارٹی کی قیادت کو سزاﺅں کی صورت میں سندھ احتجاج نہیں کرے گا۔ جبکہ زمینی حقائق اس سے مختلف ہیں۔ سندھ میں گورنر راج کے نفاذ یا پیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف ممکنہ صورت پر سوشل میڈیا میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ جس میں جی ڈی اے کے موقف کی مذمت کی گئی۔ سول سوسائٹی اور رائے عامہ بنانے والوں نے اس امکانی صورتحال میں پیپلزپارٹی کا ساتھ دینے کا موقف اختیار کیا ہے۔ یہ دعوے اور کوششیں اپنی جگہ پر، تمام شکایات اور الزامات کے باوجود سندھ پیپلزپارٹی کے خلاف کھڑا نہیں ہو سکا ہے۔
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
مورخ جب آ ج کے دور کی دور تاریخ لکھے گا تو خاصا پریشان ہو جائے گا۔ ایک منتخب ایوان جس کے چلتے اجلاس میں اسپیکر چیمبر کو سب جیل قرار دیا گیا۔پوری سندھ اسمبلی غلط ہے؟ یا پھر سپیکر چیمبر کو سب جیل قرار دینے کاحکمنامہ درست نہیں۔نہیں لگتا کہ واقعی شفاف احتساب ہو رہا ہے۔
مورخ ابھی تک پچاس کے عشرے کے دو واقعات پر پریشان ہے ۔ کراچی کو سندھ سے الگ کرکے وفاقی علاقہ بنانے کے فیصلے کے خلاف سندھ سراپا احتجاج بن گیا۔ اس مسئلے پر قائم ہونے والے سندھ عوامی محاذ کے سینکڑوں کارکنوں کو جیل بھیج دیا گیا۔ بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر وزیر اعظم لیاقت علی خان نے ایک پنجاب کے ایک وکیل دین محمد کو سندھ کا گورنر بنایا۔ اس پر سندھ کے عوام نے مزید ناراضگی کا اظہار کیا۔ نئے گورنر نے سندھ میں اسمبلی توڑ کر گورنر راج نافذ کردیا۔ کھڑو کو ایبڈو کے ذریعے نااہل قرار دیا گیا۔ بعد میں عبدالستار پیرزادہ نے حکومت بنانے کے لیے کراچی کی سندھ کو واپسی، مرکزی اداروں میں سندھیوں سے امتیازی سلوک کا خاتمہ، فوجی افسروں کو سندھ میں زمینیں دینے پر ممانعت جیسے مطالبات رکھے۔ ان دنوں پنجاب سے تعلق رکھنے والے نواب افتخار حسین ممدوٹ کو سندھ کا گورنر بنایاگیا جنہوں نے ستار پیرزادہ کی حکومت ختم کرکے ایوب کھوڑو کو بحال کردیا۔ پھر کھڑو کے ذریعے ہی ون یونٹ کا بل منظور کرایا۔
سیاست میں مداخلت کی اس گتھی کو بھی جب تحریک انصاف کی وفاقی حکومت پر دباﺅ بڑھا، اپوزیشن نے وفاقی بجٹ بلاک کرنے کا فیصلہ کیا ، اس کے جواب میں حکومت نے مختلف طریقے اختیار کیا، ایک یہ قومی اسمبلی میں لیڈر آ ف اپوزیشن کو تقریر کرنے نہیں دی۔ خود وزراءنے بھی ہنگامہ کیا۔ پھر وزیراعظم کا یہ بیان بھی آیا کہ وہ اپوزیشن کی اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا کہ سرکاری بینچوں نے اسمبلی میں غل و شور کیا، اسپیکر کی ایک بھی نہیں سنی نتیجے میں حکومت کے اپنے ہی طلب کردہ اجلاس کو اتناڈسٹرب کیا کہ ڈپٹی اسپیکر کو اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔
حکومت نے دوسرا قدام یہ اٹھایا کہ اپوزیشن سے بارگین کرنے کے لئے ایوان کی روایات کے برعکس گرفتار اراکین اسمبلی آصف علی زرادری اور سعد رفیق کے پراڈکشن آرڈر جاری نہیں کئے۔ بعد میں جب حکومت نے اپوزیشن سے اپنا یہ مطالبہ منوا لیا کہ اپوزیشن سرکاری اراکین کی تقاریر بھی بغیر شور غل کے سنیں گے، تو پابند سلاسل اراکین کے پراڈکشن آرڈر جاری کئے گئے۔ یعنی قوانین ضابطے جو کہ کمزور کو حق دلانے کے لئے ہوتے ہیں، ان کو ایک طرف رکھ ر اس کو بطور رعایت کردیا گیا۔ یعنی حکومت مہربان ہوگی تو اراکین اسمبلی کو اجلاس میں شرکت کرنے دے گی نہیں تو نہیں۔ اور حکومت مہربان تب ہوگی جب اپوزیشن حکومت کے ساتھ رویہ درست رکھے گی۔ یہ تمام اقدامات دراصل اپوزیشن کی آواز دبانے کے لئے اختیار کئے گئے ہیں۔
تیسرا قدم حکومت نے یہ اٹھایا کہ بجٹ کے خلاف تحریک چلانے کی محرک جماعت پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت پر دباﺅ ڈالا گیا۔ ایک طرح سے پورے منتخب ایوان کی قانونی حیثیت کو چیلینج کیا گیا۔یہاں تک کہ گورنر سندھ عمران اسماعیل نے سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ اجلاس طلب کرنے والے اراکین کے دستخط اصلی یا نقلی ہونے کا سوال اٹھایا کر درخواست کو غیرقانونی کہا گیا۔ گورنر کے پاس کیا ثبوت ہیں کہ اجلاس بلانے کی درخواست دینے والے اراکین ملک یا شہر کے اندر ہیں یا نہیں؟ نہیں معلوم کہ گورنر سندھ اس طرح کا اعتراض کرنے کے لئے کو کس نے ایسا ”قانونی مشورہ “ دیا ۔آئین ، یا اسمبلی کے قواعد و ضوابط میں کہیں نہیں لکھا کہ دستخط کرتے وقت اراکین اسمبلی کی صوبائی دارلحکومت میں موجودگی لازمی ہے۔ یہ سیاست اور جمہوریت میں مروجہ روایت ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے اراکین اسمبلی سے بعض درخواستوں پرپیشگی دستخط کے لیتی ہیں۔ بالکل اس طرح جیسے ٹکٹ ایوارڈ کرتے وقت کاغذات نامزدگی سے دستبرادری کے فارم پر سیاسی جماعتیں دستخط لے لیتی ہیں یا منتخب ایوان سے استعیفا کی درخواست بھی دستخط لے لیتی ہیں۔ یہ سب دستخط تب تک جائز مانے جاتے ہیں تاوقتیکہ کوئی ممبراپنے دستخط سے دستبردار نہیں ہوتا۔ جمہوریت رویات پر چلتی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی پارلیمانی جمہوریت برطانیہ میں سب سے بڑا قانون آئین بھی غیر تحریری ہے اور روایات پر چلتا ہے۔ سندھ اسمبلی سیکریٹریٹ نے گورنر سندھ کے اس اعتراض کو مسترد کردیا کہ کونسا ممبر کہاں ہے اس کی تصدیق کرنا ہمارا کام نہیں، تاہم دستخط اصلی ہیں۔
چوتھا قدم حکومت کا یہ تھا کہ اچانک جی ڈے اے کو ایک بار پھرسرگرم کیا گیا جب بھی پیپلزپارٹی وفاقی حکومت سے ٹکراﺅ کی پالیسی اختیار کرتی ہے، جی ڈی اے حرکت میں آتا ہے۔ ایک بار پھر سندھ حکومت کو یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ اگر صوبے کی حکمران جماعت پیپلزپارٹی جو وفاق میں اپوزیشن کے ساتھ مل کر تحریک چلانے جارہی ہے، اس نے ”مناسب “ رویہ نہ رکھا تو اس کی حکومت کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ وفاقی حکومت گزشتہ جولائی کے انتخابات کے بعد سندھ حکومت کوجی ڈی اے کا پتہ تیسری مرتبہ دکھا رہی ہے۔ تین روز قبل منعقدہ جی ڈی اے کے اجلاس میں سندھ حکومت کے خاتمے اور گورنر راج نافذ کرنے کی باتیں کی گئیِ ۔اتحاد کے سربراہ پیر پگارا نے یہ موقف اختیار کیا کہ موجودہ حکمرانوں کے ہوتے ہوئے شفاف احتساب ممکن نہیں۔ عدالتیں سندھ میں جرائم، کرپشن اور خراب حکمرانی کا نوٹس لیں۔یعنی سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ختم کردی جائے، مزید یہ کہ عدلیہ سندھ حکومت کے لئے وہ رویہ اختیار کرے جو جسٹس ثاقب نثار نے کیا تھا۔ مطلب حکومتی معاملات میں عدلیہ کی بیجا مداخلت ۔ غوث علی شاہ کا کہنا ہے کہ جی ڈی اے سندھ حکومت کے خاتمے کے لئے اہم کردار ادا کرے گا۔ جی ڈی اے آصف علی زرداری اور دیگر کو سزائیں بھی دلانا چہاتا ہے۔ اس کا موقف ہے کہ کرپشن کرنے والوں کی صرف گرفتاریاں کافی نہیں، انہیں سزائیں ملنی چاہئیں۔ جی ڈی اے کے سیکریٹری ایاز لطیف پلیجو کا کہنا ہے کہ سندھ کارڈ اب نہیں چلے گا۔یہ کہہ کر یقین دہانی کرائی جارہی ہے کہ پیپلزپارٹی کی قیادت کو سزاﺅں کی صورت میں سندھ احتجاج نہیں کرے گا۔ جبکہ زمینی حقائق اس سے مختلف ہیں۔ سندھ میں گورنر راج کے نفاذ یا پیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف ممکنہ صورت پر سوشل میڈیا میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ جس میں جی ڈی اے کے موقف کی مذمت کی گئی۔ سول سوسائٹی اور رائے عامہ بنانے والوں نے اس امکانی صورتحال میں پیپلزپارٹی کا ساتھ دینے کا موقف اختیار کیا ہے۔ یہ دعوے اور کوششیں اپنی جگہ پر، تمام شکایات اور الزامات کے باوجود سندھ پیپلزپارٹی کے خلاف کھڑا نہیں ہو سکا ہے۔
نوجوان قیادت ، مشترکہ موقف ۔ بڑی تبدیلی ہے
Nai Baat June 18, 2019
اپوزیشن کا پلان
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
اپوزیشن کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے اعلان کیا ہے کہ قومی اسمبلی میں بجٹ منظورنہیں ہونے دیں گے۔ ان کا موقف ہے کہ اپوزیشن پر لازم ہے ایسے خودکش بجٹ کو تحریک چلائے کر بھی منظور ہونے سے روکے ،اگر تحریک انصاف کی حکومت جاتی ہے تو بھلے جائے ۔بلاول بھٹو کی افطار پارٹی کے تسلسل میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی دعوت پر پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری جاتی امراءپہنچے۔ دونوں رہنماﺅں کے درمیان طویل مشاورت ہوئی جس میں دونوں جماعتوں کے رہنمابھی شریک ہوئے۔ یہ ملاقات آصف علی زرداری کی گرفتاری کے پس منظر میں ہوئی ہے۔ جبکہ میاں نواز شریف پہلے ہی العزیزیہ کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ حمزہ شہباز بھی گرفتار ہیں۔ نیب اور حکومتی حلقوں سے یہ اشارے مل رہے ہیں کہ آصف زرداری اور فریال تالپور کی گرفتاری کے بعد دونوں پارٹیوں کے مزید لوگوں کو گرفتار کیا جائے گا۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور سید خورشید شاہ کے نام لیے جارہے ہیں۔
ملاقات میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان 2006 میں طے پانے والے میثاق جمہوریت کا اعادہ کیا گیاوراسکے فریم ورک میں رکھ معاملات کو آگے بڑھانے کا اظہار کیا گیا۔ دونوں جماعتوں نے ایک رف خاکہ تیار کر لیا ہے کہ کن مطالبات پر فوکس کیا جائے گا۔ دونوں رہنما نیب حکومت کی ملی بھگت سے کارروائیوں کو یک طرفہ انتقامی کاروائیوں اور حکومتی ملی بھگت سمجھتے ہیں، جن میں اپوزیشن کونشانہ بنایا جارہا ہے ۔ نیب کے ان مقدمات کے حوالے سے عدالتوں کا طرز عمل بھی زیر غور آیا۔
سیاسی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا گیاکہ حکومتی رویے نے پارلیمنٹ کو بھی مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ قانون سازی کا عمل ر ±ک گیا ہے۔ بنیا دی حقوق کی ورزیوں، میڈیا کی آزادی سلب کرنے ، اپوزیشن کی آواز دبانے اور سنسر شپ کا نوٹس لیا گیا۔ وکلاءکی حالیہ تحریک اور عدلیہ کی صورتحال پر یہ موقف اپنایا گیا کہ ججز کے خلاف حکومتی ریفرنس کو بد نیتی پر مبنی اور عدلیہ کی آزادی پر حملہ قرار دیا گیا۔ اور عدلیہ کی آزادی اورخود مختاری کےلئے بھر پور جدوجہد جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
ملک کی معاشی صورتحال مایوس کن ہے۔جس کا خلاصہ یہ ہے: ۱)روپے کی مسلسل گرتی ہوئی قیمت ۲) رمہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح، ۳) دس ماہ میں ریکارڈ قرضے ، ۴) اسٹاک ایکسچینج کی بحرانی صورت حال ، ۵) قومی شرح نمو کانصف رہ جانا، ۶)بیرونی اور اندرونی سرمایہ کاری کا ر ±ک جانا، ۷) ترقیاتی منصوبوں پر کام کا خاتمہ ، ۸) بجلی، گیس، پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتیں کئی گنا اضافہ ۔۹) عام آدمی پر ٹیکسوں کا نا قابل برداشت بوجھ ۔غر یب کم آمدنی اور متوسط طبقے کے لوگ، محنت کش، کسان اور ملازمت پیشہ افراد کےلئے زندگی مشکل بنا دی گئی ہے۔ بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔
اب بجٹ پر بحث شروع ہورہی ہے لہٰذافوری معاملہ قومی اسمبلی سے گرفتار ارکانِ قومی اسمبلی کے پروڈکشن آڈر کا ہے ۔ اپوزیشن بھرپور زور لگائے گی کہ گرفتار اراکین قومی اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں۔ تاکہ وہ بجٹ پر اپنی رائے دے سکیں۔
کیا مسلم لیگ نواز ٹکراﺅ والی اس حکمت عملی پر متفق ہے؟ مریم نوازکہتی ہیں کہ وہ پارٹی کے سنیئر رہنماﺅں کو اعتماد میں لے چکی ہیں، جبکہ ایک روز پہلے مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف کی بلاول بھٹو سے ملاقات ہوئی تھی۔نواز لیگ کے ذرائع کہتے ہیں کہ بلاول چاہیں تودوبارہ بھی ان سے مل سکتے ہیں۔ فی الحال رابطے اوربات چیت ہورہی ہے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ مریم نواز سے ملاقات میں بجٹ کسی صورت پاس نہ ہونے دینے پر بات ہوئی، میں نے مریم نے اور دیگر نوجوان قیادت نے لمبی سیاسی اننگز کھیلنی ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ مریم نواز ان کے ساتھ سچائی سے چلیں گی، ان کے والد نے جمہوریت کے لیے قربانی دی ہے ۔
پیپلزپارٹی کا خیال ہے کہ آصف زرداری کی گرفتاری کا معاملہ تازہ ہے۔ بجٹ کی منظوری اچھا موقعہ ہے لہذا فوری طور پر احتجاج میں چلا جانا چاہئے۔ بلکہ وہ تو 21جون کو نوابشاہ میں محترمہ بینظیر بھٹوکی سالگرہ کے موقعہ جلسہ کر کے حکومت کے خلاف تحریک کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔نواز لیگ اس انتظا میں ہے کہ حکومت ان دو پارٹیوں کی قربت پر کیا ردعمل دیتی ہے؟ بہر حال طے یہی ہوا ہے کہ دونوں جماعتیں مشاورت کے بعدتحریک کی حکمت عملی کوحتمی شکل دی جائے گی۔ اور اس پرتفاق کیا کہ اپوزیشن کے ایک مشترکہ لائحہ عمل کےلئے تمام اپوزیشن جماعتوں کے قائدین سے بات کی جائے گی ۔
پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جو کرنا ہے کرلو موقف نہیں بدلیں گے، انہوں کے موقف کا نچوڑ صوبوں کے مالی وسائل، عدلیہ پر حملے، 1973 کے آئین، عوامی حقوق، لاپتا افراد، فوجی عدالتوں اور 18ویں ترمیم ہیں۔
پیپلز پارٹی اور نواز لیگ مشترکہ موقف اختیار کرکے بجٹ پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر جدوجہد کریں گی۔ وہ اس ضمن میں کیا کیا کریں گی ؟ ان کے پلان کو سات نکات میں بیان کیا جاسکتا ہے ۱) اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لیں گے۔۲)حکومت کی اتحادی جماعتوں سے بھی رابطہ کریں گے۔ ۳) 21جون کو بینظیر بھٹو کی سالگرہ کے موقعہ پر نوابشاہ میں جلسہ منعقد کر کے حکومت کے خلاف تحریک شروع کردی جائے۔۴) موبلائزیشن کے لئے عوام سے رابطہ کیا جائے گا اور شر شہر جایا جائے گا ۵) عوام کو سڑکوں پر لایا جائے گا، ۶)مولانا فضل الرحمٰن کے ذریعے اپوزیشن کی اے پی بلائی جائے گی۔۷) اپوزیشن بجٹ کی منظوری روکنے کو الیکشن کی طرح لے گی۔ حکومت کے اتحادیوں کو بھی ساتھ لیا جائے گا۔ اس ضمن میں اختر مینگل سے نلاول کی ملاقات ہوچکی ہے۔
بلاول بھٹو نے بڑا آسرا دے دیا کہ پاکستان کا اگلا بجٹ پیپلزپارٹی بنائے گی۔یہ بات ان کو تحریک چلانے میں مدد دے گی۔ پہلے مرحلے دونوں جماعتیں حکومت کے خلاف ان مسائل پر جوش جذبہ اور ماحول بنائیں گی، اور دوسرے مرحلے میں مولانا فضل الرحمٰن سامنے آئیں گے۔
بھلے حتمی فیصلہ آل پارٹیز کانفرنس میں کیا جائے، لیکن دو جماعتوں کی نوجوان قیادت کے درمیان ملاقات اور مشترکہ موقف کا اظہار ایک بڑی تبدیلی ہے۔ یہ درست ہے کہ دونوں پارٹیوں کے پاس مشترکہ جدوجہد کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔ دونوں جماعتوں کی ٹاپ لیڈرشپ پابند سلاسل ہے۔ ایسے میں نوجوان لیڈرشپ عمران خان کی انتقامی کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے جارحانہ سیاست کر ے۔ اپوزیشن کے خلاف کاروائیاں، عدالت عظمیٰ کے ججز کے خلاف ریفرنس، اور بجٹ گرم ایشوز ہیں ۔ دونوں نوجوان قیادت کی لوگوں میں مقبولیت رکھتے ہیں اور مشترکہ اور بڑے پیمانے پر عوامی دباﺅ عمران خان حکومت کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
اپوزیشن کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے اعلان کیا ہے کہ قومی اسمبلی میں بجٹ منظورنہیں ہونے دیں گے۔ ان کا موقف ہے کہ اپوزیشن پر لازم ہے ایسے خودکش بجٹ کو تحریک چلائے کر بھی منظور ہونے سے روکے ،اگر تحریک انصاف کی حکومت جاتی ہے تو بھلے جائے ۔بلاول بھٹو کی افطار پارٹی کے تسلسل میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی دعوت پر پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری جاتی امراءپہنچے۔ دونوں رہنماﺅں کے درمیان طویل مشاورت ہوئی جس میں دونوں جماعتوں کے رہنمابھی شریک ہوئے۔ یہ ملاقات آصف علی زرداری کی گرفتاری کے پس منظر میں ہوئی ہے۔ جبکہ میاں نواز شریف پہلے ہی العزیزیہ کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ حمزہ شہباز بھی گرفتار ہیں۔ نیب اور حکومتی حلقوں سے یہ اشارے مل رہے ہیں کہ آصف زرداری اور فریال تالپور کی گرفتاری کے بعد دونوں پارٹیوں کے مزید لوگوں کو گرفتار کیا جائے گا۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور سید خورشید شاہ کے نام لیے جارہے ہیں۔
ملاقات میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان 2006 میں طے پانے والے میثاق جمہوریت کا اعادہ کیا گیاوراسکے فریم ورک میں رکھ معاملات کو آگے بڑھانے کا اظہار کیا گیا۔ دونوں جماعتوں نے ایک رف خاکہ تیار کر لیا ہے کہ کن مطالبات پر فوکس کیا جائے گا۔ دونوں رہنما نیب حکومت کی ملی بھگت سے کارروائیوں کو یک طرفہ انتقامی کاروائیوں اور حکومتی ملی بھگت سمجھتے ہیں، جن میں اپوزیشن کونشانہ بنایا جارہا ہے ۔ نیب کے ان مقدمات کے حوالے سے عدالتوں کا طرز عمل بھی زیر غور آیا۔
سیاسی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا گیاکہ حکومتی رویے نے پارلیمنٹ کو بھی مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ قانون سازی کا عمل ر ±ک گیا ہے۔ بنیا دی حقوق کی ورزیوں، میڈیا کی آزادی سلب کرنے ، اپوزیشن کی آواز دبانے اور سنسر شپ کا نوٹس لیا گیا۔ وکلاءکی حالیہ تحریک اور عدلیہ کی صورتحال پر یہ موقف اپنایا گیا کہ ججز کے خلاف حکومتی ریفرنس کو بد نیتی پر مبنی اور عدلیہ کی آزادی پر حملہ قرار دیا گیا۔ اور عدلیہ کی آزادی اورخود مختاری کےلئے بھر پور جدوجہد جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
ملک کی معاشی صورتحال مایوس کن ہے۔جس کا خلاصہ یہ ہے: ۱)روپے کی مسلسل گرتی ہوئی قیمت ۲) رمہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح، ۳) دس ماہ میں ریکارڈ قرضے ، ۴) اسٹاک ایکسچینج کی بحرانی صورت حال ، ۵) قومی شرح نمو کانصف رہ جانا، ۶)بیرونی اور اندرونی سرمایہ کاری کا ر ±ک جانا، ۷) ترقیاتی منصوبوں پر کام کا خاتمہ ، ۸) بجلی، گیس، پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتیں کئی گنا اضافہ ۔۹) عام آدمی پر ٹیکسوں کا نا قابل برداشت بوجھ ۔غر یب کم آمدنی اور متوسط طبقے کے لوگ، محنت کش، کسان اور ملازمت پیشہ افراد کےلئے زندگی مشکل بنا دی گئی ہے۔ بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔
اب بجٹ پر بحث شروع ہورہی ہے لہٰذافوری معاملہ قومی اسمبلی سے گرفتار ارکانِ قومی اسمبلی کے پروڈکشن آڈر کا ہے ۔ اپوزیشن بھرپور زور لگائے گی کہ گرفتار اراکین قومی اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں۔ تاکہ وہ بجٹ پر اپنی رائے دے سکیں۔
کیا مسلم لیگ نواز ٹکراﺅ والی اس حکمت عملی پر متفق ہے؟ مریم نوازکہتی ہیں کہ وہ پارٹی کے سنیئر رہنماﺅں کو اعتماد میں لے چکی ہیں، جبکہ ایک روز پہلے مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف کی بلاول بھٹو سے ملاقات ہوئی تھی۔نواز لیگ کے ذرائع کہتے ہیں کہ بلاول چاہیں تودوبارہ بھی ان سے مل سکتے ہیں۔ فی الحال رابطے اوربات چیت ہورہی ہے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ مریم نواز سے ملاقات میں بجٹ کسی صورت پاس نہ ہونے دینے پر بات ہوئی، میں نے مریم نے اور دیگر نوجوان قیادت نے لمبی سیاسی اننگز کھیلنی ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ مریم نواز ان کے ساتھ سچائی سے چلیں گی، ان کے والد نے جمہوریت کے لیے قربانی دی ہے ۔
پیپلزپارٹی کا خیال ہے کہ آصف زرداری کی گرفتاری کا معاملہ تازہ ہے۔ بجٹ کی منظوری اچھا موقعہ ہے لہذا فوری طور پر احتجاج میں چلا جانا چاہئے۔ بلکہ وہ تو 21جون کو نوابشاہ میں محترمہ بینظیر بھٹوکی سالگرہ کے موقعہ جلسہ کر کے حکومت کے خلاف تحریک کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔نواز لیگ اس انتظا میں ہے کہ حکومت ان دو پارٹیوں کی قربت پر کیا ردعمل دیتی ہے؟ بہر حال طے یہی ہوا ہے کہ دونوں جماعتیں مشاورت کے بعدتحریک کی حکمت عملی کوحتمی شکل دی جائے گی۔ اور اس پرتفاق کیا کہ اپوزیشن کے ایک مشترکہ لائحہ عمل کےلئے تمام اپوزیشن جماعتوں کے قائدین سے بات کی جائے گی ۔
پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جو کرنا ہے کرلو موقف نہیں بدلیں گے، انہوں کے موقف کا نچوڑ صوبوں کے مالی وسائل، عدلیہ پر حملے، 1973 کے آئین، عوامی حقوق، لاپتا افراد، فوجی عدالتوں اور 18ویں ترمیم ہیں۔
پیپلز پارٹی اور نواز لیگ مشترکہ موقف اختیار کرکے بجٹ پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر جدوجہد کریں گی۔ وہ اس ضمن میں کیا کیا کریں گی ؟ ان کے پلان کو سات نکات میں بیان کیا جاسکتا ہے ۱) اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لیں گے۔۲)حکومت کی اتحادی جماعتوں سے بھی رابطہ کریں گے۔ ۳) 21جون کو بینظیر بھٹو کی سالگرہ کے موقعہ پر نوابشاہ میں جلسہ منعقد کر کے حکومت کے خلاف تحریک شروع کردی جائے۔۴) موبلائزیشن کے لئے عوام سے رابطہ کیا جائے گا اور شر شہر جایا جائے گا ۵) عوام کو سڑکوں پر لایا جائے گا، ۶)مولانا فضل الرحمٰن کے ذریعے اپوزیشن کی اے پی بلائی جائے گی۔۷) اپوزیشن بجٹ کی منظوری روکنے کو الیکشن کی طرح لے گی۔ حکومت کے اتحادیوں کو بھی ساتھ لیا جائے گا۔ اس ضمن میں اختر مینگل سے نلاول کی ملاقات ہوچکی ہے۔
بلاول بھٹو نے بڑا آسرا دے دیا کہ پاکستان کا اگلا بجٹ پیپلزپارٹی بنائے گی۔یہ بات ان کو تحریک چلانے میں مدد دے گی۔ پہلے مرحلے دونوں جماعتیں حکومت کے خلاف ان مسائل پر جوش جذبہ اور ماحول بنائیں گی، اور دوسرے مرحلے میں مولانا فضل الرحمٰن سامنے آئیں گے۔
بھلے حتمی فیصلہ آل پارٹیز کانفرنس میں کیا جائے، لیکن دو جماعتوں کی نوجوان قیادت کے درمیان ملاقات اور مشترکہ موقف کا اظہار ایک بڑی تبدیلی ہے۔ یہ درست ہے کہ دونوں پارٹیوں کے پاس مشترکہ جدوجہد کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔ دونوں جماعتوں کی ٹاپ لیڈرشپ پابند سلاسل ہے۔ ایسے میں نوجوان لیڈرشپ عمران خان کی انتقامی کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے جارحانہ سیاست کر ے۔ اپوزیشن کے خلاف کاروائیاں، عدالت عظمیٰ کے ججز کے خلاف ریفرنس، اور بجٹ گرم ایشوز ہیں ۔ دونوں نوجوان قیادت کی لوگوں میں مقبولیت رکھتے ہیں اور مشترکہ اور بڑے پیمانے پر عوامی دباﺅ عمران خان حکومت کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
Tuesday, June 18, 2019
بلاول-مريم ملاقات: گڏيل جدوجهد جو پلان ڇا هوندو؟
بلاول-مريم ملاقات: گڏيل جدوجهد جو پلان ڇا هوندو؟: بلاول-مريم ملاقات: گڏيل جدوجهد جو پلان ڇا هوندو؟
بلاول-مريم ملاقات: گڏيل جدوجهد جو پلان ڇا هوندو؟

بلاول-مريم ملاقات: گڏيل جدوجهد جو پلان ڇا هوندو؟

بلاول ڀٽو زرداري ۽ مريم نواز جارحاڻي سياست ڪرڻ ڏي وڃن پيا. اپوزيشن جي ٻنهي پارٽين قومي اسيمبلي ۾ نئين مالي سال جي بجيٽ بلاڪ ڪرڻ ۽ تحريڪ هلائڻ جو اعلان ڪيو آهي. سندن چوڻ آهي ته هن “خودڪش بجيٽ” کي منظوري کان روڪڻ اپوزيشن جو فرض ٿئي ٿو. بلاول ڀٽو جي افطار پارٽي جي تسلسل ۾ مسلم ليگ (ن) جي نائب صدر مريم نواز جي دعوت تي پيپلزپارٽي جو چيئرمين بلاول ڀٽو جاتي امرا پهتو. جتي ٻنهي اڳواڻن ملڪي صورتحال تي صلاح مشورا ڪيا. ان موقعي تي ٻنهي پارٽين جا ڪجهه مرڪزي اڳواڻ به موجود هئا.
هي ملاقات آصف زرداري جي گرفتاري جي پس منظر ۾ ٿي آهي. جڏهن ته نواز شريف اڳ ئي العزيزيه ڪيس ۾ سزا ڪاٽي رهيو آهي. شهباز شريف تي به ڪيس هلندڙ آهن. حمزه شريف تازو گرفتار ٿيو آهي. نيب ۽ حڪومتي حلقن وٽان ملندڙ اشارن موجب ٻنهي پارٽين جي ڪجهه وڌيڪ اڳواڻن کي به گرفتار ڪيو ويندو. ان ڏس ۾ شاهد خاقان عباسي، سنڌ جو وڏو وزير مراد علي شاهه ۽ خورشيد شاهه جا خاص طور تي نالا کنيا پيا وڃن.
پهرين بجيٽ جي جوڙڪٽ نه پئي بيٺي. جڏهن بجيٽ دستاويز ٺهي ويو ته وزيراعظم عمران خان “شڪر آهي ملڪ جو ڏيوالو نڪرڻ کان بچي ويو” جو نعرو هنيو. ساڳئي وقت ڪرپشن خلاف وڌيڪ ڪاررواين جو اشارو ڏنو. ٻن وڏين پارٽين جي اهم اڳواڻن وچ ۾ ٿيل ملاقات ۾ بينظير ڀٽو ۽ نواز شريف جي وچ ۾ 2006ع ۾ ٿيل “جمهوريت بابت ٺاهه” کي ورجايو ويو ۽ ان جي فريم ورڪ ۾ رکي معاملن کي اڳتي وڌائڻ جو فيصلو ڪيو ويو. ٻنهي جماعتن هڪ طرفو خاڪو ڏنو آهي ته ڪهڙن ڪهڙن مطالبن تي فوڪس ڪيو ويندو ۽ جدوجهد جو طريقو ڪهڙو هوندو. ٻنهي لاءِ سڀ کان وڏو مسئلو نيب ۽ احتسابي عدالتون آهن. سندن چوڻ آهي ته حڪومت ۽ نيب گڏجي ڪرپشن جا ڪوڙا ڪيس ٺاهي اپوزيشن ليڊرن کي ڦاسائي رهيون آهن، ان ڏس ۾ عدالتن جي طرز عمل تي پڻ ڳالهه ٻولهه ٿي.
سياسي صورتحال بابت اهو موقف اختيار ڪيو ويو آهي ته حڪومتي رويي سبب پارليامينٽ مفلوج آهي جتان ڪابه قانونسازي نه ٿي سگهي آهي، بنيادي حقن جون ڀڃڪڙيون ٿي رهيون آهن، ميڊيا جي آزادي کسيل آهي، اپوزيشن جو آواز دٻائڻ لاءِ سنسرشپ آهي. وڪيلن جي تحريڪ ۽ عدليه جي صورتحال تي اهو موقف اختيار ڪيو ويو ته ججن جي خلاف ريفرنس بدنيتي تي ٻڌل آهي، ان ڪري عدليه جي آزادي ۽ خودمختياري لاءِ ڀرپور جدوجهد ڪئي ويندي، مطلب وڪيلن جي جدوجهد جو ساٿ ڏنو ويندو.
ملڪ جي معاشي صورتحال گهڻو مايوس ڪندڙ آهي. ان جو تت ڪجهه هن ريت ٺاهيو ويو. (1) مهانگائي ۾ جهجهي واڌ ٿي آهي (2) رپئي جي قميت صفا ڪري پئي آهي. (3) ڏهن مهينن ۾ موجوده حڪومت رڪارڊ قرض ورتو. (4) اسٽاڪ ايڪسچينج ۾ بحران آهي (5) قومي پيداوار ۾ واڌ جي شرح گهٽجي اڌ جيتري بيٺي آهي (6) ڏيهي توڙي پرڏيهي سيڙپ بيهجي ويئي آهي (7) بجلي گيس، تيل جا اگهه گهڻو وڌي ويا آهن. عام ماڻهو کي ٽيڪس جو ناقابل برداشت بار اچي ويو آهي. گهٽ آمدني ۽ وچولي طبقي لاءِ زندگي مشڪل بڻجي ويئي آهي. هي آهي مجموعي طور معيشت جو خاڪو جيڪو گڏيل اظهار جي شڪل ۾ سامهون آيو آهي.
سڀ کان وڏو سوال اهو ڪيو پيو وڃي ته ڇا مسلم ليگ نواز ٽڪراءُ واري هن حڪمت عملي تي بيهندي؟ مريم نواز چوي ٿي ته هن سينيئر اڳواڻن کي اعتماد ۾ وٺي ڇڏيو آهي. هوڏانهن ٻه ڏينهن اڳ بلاول ڀٽو نواز ليگ جي صدر شهباز شريف سان ملاقات ڪري چڪو آهي. نواز ليگ جي مفاهمت پسند گروپ جو چوڻ آهي ته في الحال ڳالهيون ۽ صلاح مشورا پيا ٿين. بلاول ڀٽو وري به شهباز شريف سان ملاقات ڪري سگهي ٿو. بظاهر لڳي ٿو ته نواز ليگ جو هڪ گروپ ڪنهن وڏي جهيڙي ۾ وڃڻ لاءِ تيار ناهي پر مريم نواز جي سرگرم ٿيڻ ڪري پارٽي تي سندس ئي بيانيو ڇانيل آهي، سو اهو ته هينئر پيپلزپارٽي جهيڙو ڪرڻ چاهي ٿي، بجيٽ موقعو ڏنو آهي ته ڇونه ان جهيڙي کي اڪلايو وڃي ڇاڪاڻ جو هاڻي نواز ليگ وٽ وڃائڻ لاءِ ڪجهه به ناهي. اهو ئي سبب آهي جو بلاول ڀٽو پرُاميد آهي ته بجيٽ جي منظوري کي بلاڪ ڪرڻ ۽ تحريڪ هلائڻ لاءِ مريم نواز تيار آهي پوءِ ڀلي عمران خان جي حڪومت ڇو نه هلي وڃي. بلاول چوي ٿو ته مريم نواز ۽ ٻي نوجوان قيادت سان ڊگهي سياسي اننگز کيڏڻي آهي، هو سمجهي ٿو ته مريم هن سان گڏ سچائي سان هلندي.
پيپلزپارٽي جو خيال آهي ته آصف زرداري جي گرفتاري تازو معاملو آهي، بجيٽ منظور ڪرائڻ ۾ حڪومت ڦاٿل آهي، ان ڪري فوري طور احتجاج ۾ وڃي سگهجي ٿو، بلڪه هو 21 جون تي نواب شاهه ۾ بينظير جي سالگرهه لاءِ رکيل جلسي مان تحريڪ جي شروعات ڪرڻ وارو آهي. نواز ليگ ان انتظار ۾ آهي ته ٻنهي پارٽين جي ويجهڙائپ ۽ تحريڪ هلائڻ واري داٻي بابت حڪومت ڪهڙو رد عمل ٿي ڏئي. بهرحال طئي اهو ٿيو آهي ته ٻئي جماعتون صلاح مشوري سان تحريڪ جي حڪمت عملي کي آخري شڪل ڏينديون. ان سان گڏوگڏ باقي رهيل اپوزيشن پارٽين کي به ساڻ کڻڻ جو فيصلو ڪيو ويو آهي، اهو ڪم مولانا فضل الرحمان ۽ بلاول ڀٽو ڪندا.
ٻنهي اڳواڻن جي وچ ۾ ٿيل ڳالهيون ۽ سياسي صورتحال جو تجزبو پنهنجي جاءِ تي پر بلاول چوي ٿو ته صوبن جي مالي وسيلن، عدليه تي “حملي”، 73ع جي آئين، لاپته ماڻهن، فوجي عدالتن ۽ 18هين ترميم واري موقف تان هو نه هٽندو. ايئن هو ڊگهي جدوجهد ۽ ڪجهه بنيادي نوعيت جي معاملن کي ڇهي رهيو آهي.
گڏيل جدوجهد جو پلان ڇا هوندو؟ ان تي ٻئي جماعتون متفق آهن ته پارليامينٽ اندر توڙي ٻاهر جدوجهد ڪئي ويندي. پلان کي ستن پوائنٽن ۾ بيان ڪري سگهجي ٿو. (1) ٻين اپوزيشن جماعتن کي اعتماد ۾ ورتو ويندو. (2) حڪومت جي اتحادي ڌرين سان رابطا ڪيا ويندا. (3) 21 جون تي بينظير ڀٽو جي سالگرهه جي موقعي تي تحريڪ جي شروعات ڪئي ويندي. (4) عوامي رابطن لاءِ شهر شهر وڃبو ۽ ماڻهن سان سڌو رابطو ڪبو. (5) ماڻهن کي روڊن تي آندو ويندو. (6) مولانا فضل الرحمان ذريعي آل پارٽيز ڪانفرنس ڪوٺائي ويندي. (7) بجيٽ کي منظور ٿيڻ کان روڪڻ کي اليڪشن طور وٺندي.
بلاول ڀٽو آسرو به ڏنو آهي ته پاڪستان جو ايندڙ بجيٽ پيپلزپارٽي پيش ڪندي. اهو آسرو تحريڪ هلائڻ ۾ مدد ڏيندو باقي پهرين مرحلي ۾ ماحول گرم ڪيو ويندو. ڀلي آخري فيصلو آل پارٽيز ڪانفرنس ۾ ڪيو وڃي پر ٻنهي جماعتن جي نوجوان قيادت جي وچ ۾ ملاقات ۽ گڏيل موقف جو اظهار هڪ وڏي سياسي تبديلي آهي. اهو صحيح آهي ته ٻنهي پارٽين وٽ پنهنجي سياسي بقا لاءِ گڏيل جدوجهد کانسواءِ ڪو ٻيو آپشن به ناهي. ٻنهي جي ٽاپ ليڊر شپ جيلن ۾ بند آهي، اهڙي صورت ۾ نوجوان قيادت حڪومت جي انتقامي ڪاررواين جو مقابلو ڪرڻ لاءِ جارحاڻي سياست جو رستو ورتو آهي. اهو به ممڪن آهي ته بلاول ڀٽو، مريم نواز کي نواب شاهه واري جلسي ۾ وٺي اچي. اها ڳالهه پيپلزپارٽي کي ايئن فائدو ڏيندي ته ڏسو پنجاب جهيڙي ۾ گڏ بيٺو آهي. ان سان سنڌ ۾ موثر تحريڪ هلائڻ ۾ مدد ملندي. مريم نواز وري پنهنجي پارٽي کي مجبور ڪري وٺندي ته جهيڙي ۾ پئجي ويا آهيون، هاڻي منهن ته ڏيڻو آهي.
قومي اسيمبلي ۾ انگن جي راند ۾ بظاهر حڪمران ڌر کي 19 ميمبرن جي سرسي حاصل آهي، جيڪا وڏي سرسي ناهي. اپوزيشن جيڪڏهن انتقامي ڪاررواين، ججن خلاف ريفرنس، بجيٽ ۽ مهانگائي جي گرم اشوز تي وڏو عوامي دٻاءُ پيدا ڪري ٿي وجهي ته پوءِ عمران خان کي ڪجهه پوئتي هٽڻو پوندو.
هي ملاقات آصف زرداري جي گرفتاري جي پس منظر ۾ ٿي آهي. جڏهن ته نواز شريف اڳ ئي العزيزيه ڪيس ۾ سزا ڪاٽي رهيو آهي. شهباز شريف تي به ڪيس هلندڙ آهن. حمزه شريف تازو گرفتار ٿيو آهي. نيب ۽ حڪومتي حلقن وٽان ملندڙ اشارن موجب ٻنهي پارٽين جي ڪجهه وڌيڪ اڳواڻن کي به گرفتار ڪيو ويندو. ان ڏس ۾ شاهد خاقان عباسي، سنڌ جو وڏو وزير مراد علي شاهه ۽ خورشيد شاهه جا خاص طور تي نالا کنيا پيا وڃن.
پهرين بجيٽ جي جوڙڪٽ نه پئي بيٺي. جڏهن بجيٽ دستاويز ٺهي ويو ته وزيراعظم عمران خان “شڪر آهي ملڪ جو ڏيوالو نڪرڻ کان بچي ويو” جو نعرو هنيو. ساڳئي وقت ڪرپشن خلاف وڌيڪ ڪاررواين جو اشارو ڏنو. ٻن وڏين پارٽين جي اهم اڳواڻن وچ ۾ ٿيل ملاقات ۾ بينظير ڀٽو ۽ نواز شريف جي وچ ۾ 2006ع ۾ ٿيل “جمهوريت بابت ٺاهه” کي ورجايو ويو ۽ ان جي فريم ورڪ ۾ رکي معاملن کي اڳتي وڌائڻ جو فيصلو ڪيو ويو. ٻنهي جماعتن هڪ طرفو خاڪو ڏنو آهي ته ڪهڙن ڪهڙن مطالبن تي فوڪس ڪيو ويندو ۽ جدوجهد جو طريقو ڪهڙو هوندو. ٻنهي لاءِ سڀ کان وڏو مسئلو نيب ۽ احتسابي عدالتون آهن. سندن چوڻ آهي ته حڪومت ۽ نيب گڏجي ڪرپشن جا ڪوڙا ڪيس ٺاهي اپوزيشن ليڊرن کي ڦاسائي رهيون آهن، ان ڏس ۾ عدالتن جي طرز عمل تي پڻ ڳالهه ٻولهه ٿي.
سياسي صورتحال بابت اهو موقف اختيار ڪيو ويو آهي ته حڪومتي رويي سبب پارليامينٽ مفلوج آهي جتان ڪابه قانونسازي نه ٿي سگهي آهي، بنيادي حقن جون ڀڃڪڙيون ٿي رهيون آهن، ميڊيا جي آزادي کسيل آهي، اپوزيشن جو آواز دٻائڻ لاءِ سنسرشپ آهي. وڪيلن جي تحريڪ ۽ عدليه جي صورتحال تي اهو موقف اختيار ڪيو ويو ته ججن جي خلاف ريفرنس بدنيتي تي ٻڌل آهي، ان ڪري عدليه جي آزادي ۽ خودمختياري لاءِ ڀرپور جدوجهد ڪئي ويندي، مطلب وڪيلن جي جدوجهد جو ساٿ ڏنو ويندو.
ملڪ جي معاشي صورتحال گهڻو مايوس ڪندڙ آهي. ان جو تت ڪجهه هن ريت ٺاهيو ويو. (1) مهانگائي ۾ جهجهي واڌ ٿي آهي (2) رپئي جي قميت صفا ڪري پئي آهي. (3) ڏهن مهينن ۾ موجوده حڪومت رڪارڊ قرض ورتو. (4) اسٽاڪ ايڪسچينج ۾ بحران آهي (5) قومي پيداوار ۾ واڌ جي شرح گهٽجي اڌ جيتري بيٺي آهي (6) ڏيهي توڙي پرڏيهي سيڙپ بيهجي ويئي آهي (7) بجلي گيس، تيل جا اگهه گهڻو وڌي ويا آهن. عام ماڻهو کي ٽيڪس جو ناقابل برداشت بار اچي ويو آهي. گهٽ آمدني ۽ وچولي طبقي لاءِ زندگي مشڪل بڻجي ويئي آهي. هي آهي مجموعي طور معيشت جو خاڪو جيڪو گڏيل اظهار جي شڪل ۾ سامهون آيو آهي.
سڀ کان وڏو سوال اهو ڪيو پيو وڃي ته ڇا مسلم ليگ نواز ٽڪراءُ واري هن حڪمت عملي تي بيهندي؟ مريم نواز چوي ٿي ته هن سينيئر اڳواڻن کي اعتماد ۾ وٺي ڇڏيو آهي. هوڏانهن ٻه ڏينهن اڳ بلاول ڀٽو نواز ليگ جي صدر شهباز شريف سان ملاقات ڪري چڪو آهي. نواز ليگ جي مفاهمت پسند گروپ جو چوڻ آهي ته في الحال ڳالهيون ۽ صلاح مشورا پيا ٿين. بلاول ڀٽو وري به شهباز شريف سان ملاقات ڪري سگهي ٿو. بظاهر لڳي ٿو ته نواز ليگ جو هڪ گروپ ڪنهن وڏي جهيڙي ۾ وڃڻ لاءِ تيار ناهي پر مريم نواز جي سرگرم ٿيڻ ڪري پارٽي تي سندس ئي بيانيو ڇانيل آهي، سو اهو ته هينئر پيپلزپارٽي جهيڙو ڪرڻ چاهي ٿي، بجيٽ موقعو ڏنو آهي ته ڇونه ان جهيڙي کي اڪلايو وڃي ڇاڪاڻ جو هاڻي نواز ليگ وٽ وڃائڻ لاءِ ڪجهه به ناهي. اهو ئي سبب آهي جو بلاول ڀٽو پرُاميد آهي ته بجيٽ جي منظوري کي بلاڪ ڪرڻ ۽ تحريڪ هلائڻ لاءِ مريم نواز تيار آهي پوءِ ڀلي عمران خان جي حڪومت ڇو نه هلي وڃي. بلاول چوي ٿو ته مريم نواز ۽ ٻي نوجوان قيادت سان ڊگهي سياسي اننگز کيڏڻي آهي، هو سمجهي ٿو ته مريم هن سان گڏ سچائي سان هلندي.
پيپلزپارٽي جو خيال آهي ته آصف زرداري جي گرفتاري تازو معاملو آهي، بجيٽ منظور ڪرائڻ ۾ حڪومت ڦاٿل آهي، ان ڪري فوري طور احتجاج ۾ وڃي سگهجي ٿو، بلڪه هو 21 جون تي نواب شاهه ۾ بينظير جي سالگرهه لاءِ رکيل جلسي مان تحريڪ جي شروعات ڪرڻ وارو آهي. نواز ليگ ان انتظار ۾ آهي ته ٻنهي پارٽين جي ويجهڙائپ ۽ تحريڪ هلائڻ واري داٻي بابت حڪومت ڪهڙو رد عمل ٿي ڏئي. بهرحال طئي اهو ٿيو آهي ته ٻئي جماعتون صلاح مشوري سان تحريڪ جي حڪمت عملي کي آخري شڪل ڏينديون. ان سان گڏوگڏ باقي رهيل اپوزيشن پارٽين کي به ساڻ کڻڻ جو فيصلو ڪيو ويو آهي، اهو ڪم مولانا فضل الرحمان ۽ بلاول ڀٽو ڪندا.
ٻنهي اڳواڻن جي وچ ۾ ٿيل ڳالهيون ۽ سياسي صورتحال جو تجزبو پنهنجي جاءِ تي پر بلاول چوي ٿو ته صوبن جي مالي وسيلن، عدليه تي “حملي”، 73ع جي آئين، لاپته ماڻهن، فوجي عدالتن ۽ 18هين ترميم واري موقف تان هو نه هٽندو. ايئن هو ڊگهي جدوجهد ۽ ڪجهه بنيادي نوعيت جي معاملن کي ڇهي رهيو آهي.
گڏيل جدوجهد جو پلان ڇا هوندو؟ ان تي ٻئي جماعتون متفق آهن ته پارليامينٽ اندر توڙي ٻاهر جدوجهد ڪئي ويندي. پلان کي ستن پوائنٽن ۾ بيان ڪري سگهجي ٿو. (1) ٻين اپوزيشن جماعتن کي اعتماد ۾ ورتو ويندو. (2) حڪومت جي اتحادي ڌرين سان رابطا ڪيا ويندا. (3) 21 جون تي بينظير ڀٽو جي سالگرهه جي موقعي تي تحريڪ جي شروعات ڪئي ويندي. (4) عوامي رابطن لاءِ شهر شهر وڃبو ۽ ماڻهن سان سڌو رابطو ڪبو. (5) ماڻهن کي روڊن تي آندو ويندو. (6) مولانا فضل الرحمان ذريعي آل پارٽيز ڪانفرنس ڪوٺائي ويندي. (7) بجيٽ کي منظور ٿيڻ کان روڪڻ کي اليڪشن طور وٺندي.
بلاول ڀٽو آسرو به ڏنو آهي ته پاڪستان جو ايندڙ بجيٽ پيپلزپارٽي پيش ڪندي. اهو آسرو تحريڪ هلائڻ ۾ مدد ڏيندو باقي پهرين مرحلي ۾ ماحول گرم ڪيو ويندو. ڀلي آخري فيصلو آل پارٽيز ڪانفرنس ۾ ڪيو وڃي پر ٻنهي جماعتن جي نوجوان قيادت جي وچ ۾ ملاقات ۽ گڏيل موقف جو اظهار هڪ وڏي سياسي تبديلي آهي. اهو صحيح آهي ته ٻنهي پارٽين وٽ پنهنجي سياسي بقا لاءِ گڏيل جدوجهد کانسواءِ ڪو ٻيو آپشن به ناهي. ٻنهي جي ٽاپ ليڊر شپ جيلن ۾ بند آهي، اهڙي صورت ۾ نوجوان قيادت حڪومت جي انتقامي ڪاررواين جو مقابلو ڪرڻ لاءِ جارحاڻي سياست جو رستو ورتو آهي. اهو به ممڪن آهي ته بلاول ڀٽو، مريم نواز کي نواب شاهه واري جلسي ۾ وٺي اچي. اها ڳالهه پيپلزپارٽي کي ايئن فائدو ڏيندي ته ڏسو پنجاب جهيڙي ۾ گڏ بيٺو آهي. ان سان سنڌ ۾ موثر تحريڪ هلائڻ ۾ مدد ملندي. مريم نواز وري پنهنجي پارٽي کي مجبور ڪري وٺندي ته جهيڙي ۾ پئجي ويا آهيون، هاڻي منهن ته ڏيڻو آهي.
قومي اسيمبلي ۾ انگن جي راند ۾ بظاهر حڪمران ڌر کي 19 ميمبرن جي سرسي حاصل آهي، جيڪا وڏي سرسي ناهي. اپوزيشن جيڪڏهن انتقامي ڪاررواين، ججن خلاف ريفرنس، بجيٽ ۽ مهانگائي جي گرم اشوز تي وڏو عوامي دٻاءُ پيدا ڪري ٿي وجهي ته پوءِ عمران خان کي ڪجهه پوئتي هٽڻو پوندو.
Subscribe to:
Comments (Atom)