Tuesday, June 11, 2019

Mahar Sardars Edited 2188 words

Mahar Sardars Edited 2188 words
مہر سردار جو اقتدار سے دور نہیں رہ سکتے
سہیل سانگی
کہنہ مشق سیاستدان جی ایم سید نے اپنی کتاب ’جنب گزاریم جن سیں ¾ میں لکھتے ہیں کہ علی گوہر مہر اول خالصتا جاگیردار ہیں۔ سیاست یا سندھ کے مسائل سے ان کا کوئی کوئی تعلق نہیں، وہ سخی ہیں اور ان کا دسترخوان وسیع ہے۔ یہ بات ان کے بعد آنے والے مہر سرداروں پر بھی صادق آتی ہے۔
سندھ میں دو خاندان جتوئی اور مہر بہت بڑے زمیندار رہے ہیں۔جتوئی ستر کے عشرے میں اقتدار کے اعلیٰ منصب پر پہنچ گئے۔ مگر تقسیم ہند سے قبل سیاست میں ہونے کے باوجود مہر خاندان اقتدار کے ایوانوں میں بڑا نام نہ تھا۔
ہر فوجی آمر کی طرح مشرف نے نئے پاور بروکرز متعارف کرائے،تو مہر خاندان کا قرعہ بھی نکل آیا اور علی محمد خان مہر وزیراعلیٰ سندھ بن گئے۔ اس سے قبل مہر سرادر ضلع سطح کی سیاست کرتے تھے۔
مہر سرداروں کے بڑے حریف لونڈ سردار رہے ہیں۔ گھوٹکی ان دو سرداروں کی سیاسی کشمکش کا مرکز کا رہا۔ یہاں پر سیاست بلوچ اور سماٹ (نسلا سندھی) کی بنیاد پر منقسم رہی۔ بلوچ قبائل کلہوڑا اور تالپور دور میں آئے اور ان کی فوج کا حصہ تھے لہٰذا مقامی سماٹ قبیلوں نے حکمراں بلوچ قبیلوں کی جارحانہ رویے کے پیش نظراپنا اتحاد بنایا۔ واقعات بتاتے ہیں کہ مہر اور لونڈ سرداروں نے اپنی سیاست کے لئے بلوچ اور سماٹ تنازع کو تکرار زندہ رکھا۔
ایک مرتبہ مہر لونڈ قبائل میں تصادم ہوا۔ بھٹو نے دونوں سرداروں کو سرکٹ ہاﺅس روہڑی میں نظربند کیا، اسکے بعد ان کے درمیان کبھی خون ریز تصادم نہیں ہوا۔
 شکار گاہیں اقتدار کی سیڑھی بنیں
شمالی سندھ کے گھوٹکی ضلع کے صحرائی علاقے میں سکھر سے لے کر پنجاب میں رحیم یار خان تک شکار گاہیں۔ ان شکار گاہوںمیں دوڑتے ہرنوں اور اڑتے نایاب پردیسی پرندوں کے شکار کے لئے ملک کے فوجی و سول حکمرانوں سے لے کر خلیج کے شیوخ و شہزادوں تک آتے رہے ہیں اور خیمہ گاہوں میں مہمانداریاں اور سیر وشکار کرتے رہے ہیں۔
شکار گاہوں میں پاکستان کے فوجی و سول حکمرانوں خواہ خلیج کے شیوخ کی آمد کی وجہ سے مہر سرداروں کے با اثر اور اقتدار کے حلقوں کی قربت سمیٹی۔ صدراسکندر مرزا اور صدر جنرل ایوب کے ساتھ سردار مہر کے روابط اور ان کی خان گڑھ کی جاگیر اور شکار گاہوں پر دعوتیں تاریخ کا حصہ ہیں جن میں ذوالفقار علی بھٹو بھی شریک ہوتے تھے۔
خلیج کے شیوخ پاکستان کی سیاست پر بھی اثر انداز ہوتے رہے ہیں، نوے کے عشرے میں جب بینظیر بھٹو کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے موقعہ پر ان شیوخ نے سردار مہر کو محترمہ کے حق میں ووٹ دینے کی سفارش کی۔ یہ بھی میڈیا میں رپورٹ ہوا کہ جنرل مشرف نے سردار علی محمد مہر کو امارات کی ایک اعلیٰ شخصیت کی سفارش پر وزیر اعلیٰ بنایا تھا۔
ترکی ٹوپی اور غلام محمد مہر
پاکستانی سیاست میں ماضی قریب میں دو ترکی ٹوپیاں مشہور ہوئیں۔ ایک نوابزادہ نصراللہ خان کی جنہوں نے خود کو اپوزیشن کے لئے وقف کیا، دوسرے غلام محمد مہر جو ہمیشہ اقتدار کے ساتھ رہے۔ سیاسی حلقوں میں کہاوت ہے کہ روایات اور رکھ رکھا ¶ کے سختی سے پابند سردار غلام محمد نے ہمیشہ اپنی سر پرپہنی ہوئی ترکی ٹوپی تو نہیں بدلی ، مگر پارٹیاں بدلتے رہے۔
1970 میں سردار مہر ہوا کا رخ نہ سمجھ سکے۔وہ یہ انتخابات عبد القیوم خان کی مسلم لیگ کے ٹکٹ پر لڑے، لیکن اپنے حریف سردارپی پی پی کے ٹکٹ یافتہ نور محمد لونڈ کے ہاتھوں ہار گئے۔ ذوالفقار علی بھٹووزیر اعظم بنے تو 1973 میں مہر سردار نے غلام مصطفیٰ جتوئی کے ذریعے بھٹو سے معاملات بنائے۔ ان کی دعوت پر بھٹو گھوٹکی آئے اور سردار غلام محمد مہر نے پی پی پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔
بھٹو نے سردار غلام محمد کو پیپلزپارٹی کی ٹکٹ پر سینٹر بنایا۔ جیسے ہی بھٹو ایوانِ اقتدار سے رخصت ہوئے،سردار پی پی پی کو الوداع کہہ کر جنرل ضیاءالحق کے ساتھ ہو لئے اور وفاقی وزیر بن گئے۔ 1988 ع میں ایک بار پھر سردار مہر کا اندازہ غلط نکلا جب وہ عام انتخابات میں اسلامی جمہوری اتحاد کے امیدوار بنے اور پیپلزپارٹی کے امیدوار پیر بھرچونڈی کے ہاتھوں ہار گئے۔
1993 کے انتخابات میں مہر سردار پی پی پی میں شامل ہوکر انتخابات جیتے۔ نوے کی دہائی میں سردار غلام محمد مہر کے انتقال کے وقت ان کے بیٹے چھوٹے تھے، لہٰذا سرداری کی پگ ان کے کزن علی گوہر مہر کو پہنا دی گئی۔ نئے مہر علی گوہر مہر دوئم سیاسی افق پر نمودار ہوئے۔
پی پی پی نے مہروں کو کبھی عہدہ نہیں دیا۔
وزارت اعلیٰ کی راتیں اور رنگین باتیں
مشرف نے سیاسی انجنیئرنگ کے ذریعے اکتوبر 2002ءکے عام انتخابات اور 2005ءکے بلدیاتی انتخابات میں پی پی پی مخالف گروپ کو شریک اقتدار کیا۔ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل احسان کے کہنے پر سردار علی محمد مہر نے پیپلزپارٹی کی ٹکٹ ٹھکرادی اور سندھ اسمبلی میں منتخب ہوکرآئے۔ پرویز مشرف کے دورِ اقتدار پہلا موقعہ تھا کہ مہر خاندان کی پانچوں گھی میں سر کڑھائی میں تھا ۔ علی گوہر خود ضلع گھوٹکی کے ناظم بنے اور چھوٹے بھائی علی محمد مہر وزیراعلیٰ سندھ، جبکہ سب سے چھوٹے بھائی علی نواز عرف راجہ مہر صنعت و پیداوار کا مملکتی وزیر بنے۔
خلیجی شیوخ کی سفارش ،مشرف کی مہربانی ،ایم کیو ایم، پگارا کی فنکشنل لیگ کی مدد سے علی محمد مہر کو وزارت اعلیٰ بن تو گئے لیکن وہ سندھ کے کمزور ترین وزیراعلیٰ ثابت ہوئے۔ امن و امان کا مسئلہ رہا۔ انہوں نے پیپلزپارٹی کی قیادت کے خلاف کوئی بڑا ایکشن نہیں لیا۔ لیکن گھوٹکی کی سطح پر پارٹی کے لوگوں کو تنگ کیا۔
 مہر دور میں وزیراعلیٰ ہا ¶س میں شب و روز گزارنے والے ایک صاحب کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم بعض زمینوں کے پلاٹ الاٹ کرانا چاہتی تھی، مہر نے انکار کیا، تو ایم کیو ایم کی قیادت نے ان کی جنرل مشرف سے شکایت کی۔ بہرحال دو سال کے بعد انہیں ہٹادیا گیا۔
ان کے ایک سیاسی مشیر بتاتے ہیں کہ علی محمد مہر کو ہٹانے میں این ایف سی پر ان کا سخت موقف بھی تھا۔ این ایف سی اجلاس سے پہلے انہوں نے جنرل مشرف سے ملاقات کی ۔اجلاس کے بعد انہیں بااثر ادارے کے ایک اعلیٰ افسر کا فون آیا کہ آپ نے اچھا نہیں کیا۔
سردار مہر کے ساتھ کام کرنے والے افسران کہتے ہیں کہ ان میں قوت فیصلہ کم تھی، یا خوفزدہ رہتے تھے کہ کوئی الزام نہ آجائے۔ لہٰذا کسی کا کام نہیں کرتے تھے۔ تاہم بتاتے ہیں کہ انہوں نے صحرائے روہی میں تیس ہزار ایکڑ ز میں مبینہ طور اپنے نام الاٹ کرالی۔ اور ڈیزرٹ مائنر نام سے ایک نہر بھی تعمیر کرالی۔ یہ معاملہ اب زیر تفتیش ہے۔
ان کی وزارت اعلیٰ کے دوران یہ باتیں سیاسی مارکیٹ میں آئیں کہ را ت کو وزیراعلیٰ ہا ¶س میں رقص وموسیقی کی محفلیں ہوتی ہیں اور وزیراعلیٰ بھی جھومتے ہیں۔ جس کو لوگوں نے ان شبوں کو واجد علی شاہ کا عہد کہنے لگے۔ کئی برس بعد ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو میں جب ان سے ان محفلوں کے بارے میں پوچھا تو سردار علی محمد جواب گول کر گئے، انہوں نے واضح الفاظ میں نہ تصدیق کی نہ تردید۔ کہا کہ وزیراعلیٰ ہا ¶س میں عام لوگوں کی طرح زندگی گزاری۔
علی محمد مہر کے قریبی دوست سندھی صحافی لالا رحمان سموں نے وزیراعلیٰ ہا ¶س میں رقص و سرود کی محفلوں کی تردید کی اور کہا البتہ رات کو محفلوں میں انتاکشری ضرور کھیلتے تھے، جس میں شرکاءمحفل میں سے ہر ایک باری باری کوئی گانا سناتا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سردار علی محمد رات کو سرخ رنگ کا گا ¶ن پہنتے تھے جس کی وجہ سے بات سے بتنگڑ بنادیا گیا۔
 رحمٰن سموں بتاتے ہیں کہ مرحوم علی محمد مہر موسیقی اور رقص کو سمجھتے تھے اور انہوں نے ہی مجھے رقص میں فوٹ اسٹیپ سمجھائے۔ شاید انہوں نے یہ فرانس میں ایک عرصہ گزارنے کے دوران سیکھا۔ راوں سال اپریل میں جب وہ وفاقی وزیر نارکوٹکس کنٹرول تھے کراچی میں واقع گھر میں گھسنے والے مسلح ملزمان نے انہیں سر پہ وزنی چیز مار کر زخمی کردیا۔یہ معمہ ابھی حل نہیں ہوا تھا کہ علی محمد مہر گزشتہ مال حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے۔
مہروں نے ہر حکومت کا ساتھ دے کر ذاتی فوائد ضرور حاصل کئے تاہم انہوں نے اپنے زیر اثر علاقے میں سڑکوں کا جال بچھایا۔
شکارپور کے مہر سکے کا دوسرا رخ ہیں جو زیادہ کھردرا ہے۔
مہر خاندان منتشر کیسے ہوا ؟
سردار غلام محمد مہر کے انتقال کے بعد مہر خاندان ساڑھے تین عشروں تک اکٹھا رہا ہے تاہم ان دنوں سیاسی طور پر منقسم ہیں۔ مرحوم چیف سردار غلام محمد مہر کے صاحبزادے محمد بخش مہر بلاول بھٹو کے ہیں۔ 2018ءکے عام انتخابات کے موقع پر مہر خاندان نے ضلع کی لگ بھگ تمام قومی و صوبائی اسمبلی کے حلقوں کی ٹکٹیں مانگیں۔پہلی مرتبہ مہر خاندان نے ایک دوسرے کے خلاف ووٹ کئے۔ علی گوہر مہر جی ڈی اے کے ٹکٹ یافتہ ایم پی اے ہیں۔ ان کے بھائی علی محمد مہر تحریک انصاف میں شامل ہو کر مملکتی وزیر بنے۔دوسرے بھائی راجا مہر پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں۔
 گزشتہ سال دسمبر میں سندھ میں ان ہا ¶س تبدیلی کے لئے مہر فیملی سرگرم ہوئی۔ لیکن جی ڈی اے اور تحریک انصاف کے درمیان وزارت اعلیٰ کے عہدے پر اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے یہ تحرک اپنے موت آپ مرگیا۔
پیر پگارا سے قربت کی وجوہات
مہروں کی پیر پگارا سے طویل سماجی خواہ سیاسی قربت رہی ۔ بڑے پگارا شاہ مردان شاہ راشدی مرحوم جب لندن سے جلاوطنی گزار کر لوٹے تو ان کی دستار بندی کی رسم میں جو درجن لوگ بھر موجود تھے ان میں غلام محمد مہر شامل تھے۔ اس قربت کی دو وجوہات تھی۔ مہروں کی سرداری میں پگارا کے مرید زیادہ ہیں۔ دوئم یہ کہ پگارا سندھ میں اسٹبلشمنٹ کے بڑے تھے، اور مہر اسٹبلشمنٹ نواز۔
جذباتی لگا ¶ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک مرتبہ پیر علی گوہر شاہ راشدی خانگڑھ سے جب واپس جارہے تھے، ان کی گاڑی پر بعض جرائم پیشہ افراد نے فائرنگ کی۔ اطلاع پرعلی محمد مہر کو ملی، تو انہوں نے ضلع بھر سے پولیس گاڑیاں منگوا کر فائرنگ کے وقوع کے قربب واقع گا ¶ں کو مسمار کر دیا۔
سماجی اطوار اور طریقہ ’واردات‘
مزاج میں اتنے گہرے کہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ سردار ناخوش ہیں یا خوش۔مہر سردار اوطاق یا بیٹھک کے رسیا لوگ ہیں جن کی بیٹھک پر ہر وقت کھانا چلتا رہتا ہے۔ علاقے میں مہروں کے لال سفید مہروں کے سالن مشہور ہیں۔
مہر سرداروں کے بنگلے پر خواہ کتنا ہی بڑا آدمی یا عہدیدار ٰ ہو جوتاپہن کر اندر نہیں جاسکتا، سوائے مہر سرداروں کے۔ اسی طرح عام لوگ اوطاق میں کرسی یا صوفہ پر بیٹھ نہیں سکتے۔ یہ ماضی کی بات ہے۔
سردار علی گوہر کے بیٹے حاجی خان مہر برادری میں تعزیت کرنے گئے، تو وہاں اس خاندان کے لوگوں نے سردار کے ساتھ کرسی پر بیٹھ کر تعزیت وصول کی۔ حاجی خان مہر نے جب اپنے والد کو صورتحال سے آگاہ کیا، تو اسی وقت بلدوزر اور ٹریکٹر منگوا کر خانپور مہر میں موجود متعلقہ لوگوں کی دکانیں گرادیں۔
ایک رائے یہ ہے کہ خواہ مخواہ کسی سے زیادتی نہیں کرتے، دلیل میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ ان کے رویے کی وجہ سے مہروں میں سے کوئی بڑا ڈاکو یا چور پیدا نہیں ہو سکا۔ اس کے بجائے انہوں نے خود بھی سرکاری زمین حاصل کی اور اپنے لوگوں کو بھی سرکاری زمین دلائی۔
سیفد سیاہ کے مالک ہونے کا عالم یہ ہے کہ خانپور یا مہروں کے زیر اثر علاقے میں کوئی بھی شخص زمین خرید کرے گا تو اس کے نام پر کھاتہ نہیں بن سکے گا۔ کیونکہ اس کے لئے سردار کی باقاعدہ منظوری ضروری ہے۔ لہٰذا صرف اسٹامپ پیپر پر لکھ کر دی جائیگی۔
مہر ہر جمع کو فیصلوں کے لئے کچہری لگاتے ہیں۔ چھوٹے جھگڑے منشیوں یا چھوٹے وڈیروں کو ریفر کرتے ہیں، بڑے فیصلے خود کرتے ہیں۔ برادریوں کے تصادم اور قتل کے فیصلے دوسرے سرداروں کے ساتھ جرگے میں کرتے ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے پابندی کے باوجود مہر سردار جرگے منعقد کرتے رہے۔
مہر خاندان کو حکومت کے مزے لوٹنے کے بعد اقتدار اور اختیار کا ٹھیک سے اندازہ ہواکہ پولیس پروٹوکول حاکمیت کی علامت ہے ،اس سے لوگوں پر رعب بٹھایا جاسکتا ہے۔ اب جب پولیس پروٹوکول نہیں ملتا، تب پولیس موبائل جیسی بنائی ہوئی اپنی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں ، جس میں کالی ڈریس میں اپنے نجی گارڈ بیٹھے ہوتے ہیں۔یوں اپنی برتری کا اظہار کرتے ہیں ۔
مہر سرداروں کاطریقہ واردات دوسرے وڈیروں اور سرداروں سے مختلف ہے۔ان کے پاس ایک منظم مکینزم ہے۔ منشی، کمدار، اور ہر گا ¶ں میں ایک چھوٹا موٹا وڈیرہ اپنے ساتھ جوڑ کر رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر پولیس، تحصیلدار اور آبپاشی کا داروغہ آپ کے ساتھ ہیں تو سیاست آسان ہے، اس مقصد کے لئے ان عہدوں پرپسند کے افسران کی تعینات کراتے ہیں۔وہ براہ راست اپنے مخالفین کے خلاف کارروائی کرنے کے، حکومتی یا ریاستی مشنری کو استعمال کرتے ہیں۔



https://www.urdunews.com/node/422086/پاکستان/اقتدار-کے-’پاس‘-رہنے-والا-مہر-خاندان


https://www.urdunews.com/node/422266/پاکستان/مہر-خاندان-’وزیراعلیٰ-ہاؤس-کی-محفلیں‘

No comments:

Post a Comment