Tuesday, June 25, 2019

نوجوان قیادت ، مشترکہ موقف ۔ بڑی تبدیلی ہے

Nai Baat June 18, 2019


اپوزیشن کا پلان
 میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
اپوزیشن کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے اعلان کیا ہے کہ قومی اسمبلی میں بجٹ منظورنہیں ہونے دیں گے۔ ان کا موقف ہے کہ اپوزیشن پر لازم ہے ایسے خودکش بجٹ کو تحریک چلائے کر بھی منظور ہونے سے روکے ،اگر تحریک انصاف کی حکومت جاتی ہے تو بھلے جائے ۔بلاول بھٹو کی افطار پارٹی کے تسلسل میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی دعوت پر پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری جاتی امراءپہنچے۔ دونوں رہنماﺅں کے درمیان طویل مشاورت ہوئی جس میں دونوں جماعتوں کے رہنمابھی شریک ہوئے۔ یہ ملاقات آصف علی زرداری کی گرفتاری کے پس منظر میں ہوئی ہے۔ جبکہ میاں نواز شریف پہلے ہی العزیزیہ کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ حمزہ شہباز بھی گرفتار ہیں۔ نیب اور حکومتی حلقوں سے یہ اشارے مل رہے ہیں کہ آصف زرداری اور فریال تالپور کی گرفتاری کے بعد دونوں پارٹیوں کے مزید لوگوں کو گرفتار کیا جائے گا۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور سید خورشید شاہ کے نام لیے جارہے ہیں۔
ملاقات میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان 2006 میں طے پانے والے میثاق جمہوریت کا اعادہ کیا گیاوراسکے فریم ورک میں رکھ معاملات کو آگے بڑھانے کا اظہار کیا گیا۔ دونوں جماعتوں نے ایک رف خاکہ تیار کر لیا ہے کہ کن مطالبات پر فوکس کیا جائے گا۔ دونوں رہنما نیب حکومت کی ملی بھگت سے کارروائیوں کو یک طرفہ انتقامی کاروائیوں اور حکومتی ملی بھگت سمجھتے ہیں، جن میں اپوزیشن کونشانہ بنایا جارہا ہے ۔ نیب کے ان مقدمات کے حوالے سے عدالتوں کا طرز عمل بھی زیر غور آیا۔
 سیاسی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا گیاکہ حکومتی رویے نے پارلیمنٹ کو بھی مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ قانون سازی کا عمل ر ±ک گیا ہے۔ بنیا دی حقوق کی ورزیوں، میڈیا کی آزادی سلب کرنے ، اپوزیشن کی آواز دبانے اور سنسر شپ کا نوٹس لیا گیا۔ وکلاءکی حالیہ تحریک اور عدلیہ کی صورتحال پر یہ موقف اپنایا گیا کہ ججز کے خلاف حکومتی ریفرنس کو بد نیتی پر مبنی اور عدلیہ کی آزادی پر حملہ قرار دیا گیا۔ اور عدلیہ کی آزادی اورخود مختاری کےلئے بھر پور جدوجہد جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
ملک کی معاشی صورتحال مایوس کن ہے۔جس کا خلاصہ یہ ہے: ۱)روپے کی مسلسل گرتی ہوئی قیمت ۲) رمہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح، ۳) دس ماہ میں ریکارڈ قرضے ، ۴) اسٹاک ایکسچینج کی بحرانی صورت حال ، ۵) قومی شرح نمو کانصف رہ جانا، ۶)بیرونی اور اندرونی سرمایہ کاری کا ر ±ک جانا، ۷) ترقیاتی منصوبوں پر کام کا خاتمہ ، ۸) بجلی، گیس، پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتیں کئی گنا اضافہ ۔۹) عام آدمی پر ٹیکسوں کا نا قابل برداشت بوجھ ۔غر یب کم آمدنی اور متوسط طبقے کے لوگ، محنت کش، کسان اور ملازمت پیشہ افراد کےلئے زندگی مشکل بنا دی گئی ہے۔ بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔
 اب بجٹ پر بحث شروع ہورہی ہے لہٰذافوری معاملہ قومی اسمبلی سے گرفتار ارکانِ قومی اسمبلی کے پروڈکشن آڈر کا ہے ۔ اپوزیشن بھرپور زور لگائے گی کہ گرفتار اراکین قومی اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں۔ تاکہ وہ بجٹ پر اپنی رائے دے سکیں۔
کیا مسلم لیگ نواز ٹکراﺅ والی اس حکمت عملی پر متفق ہے؟ مریم نوازکہتی ہیں کہ وہ پارٹی کے سنیئر رہنماﺅں کو اعتماد میں لے چکی ہیں، جبکہ ایک روز پہلے مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف کی بلاول بھٹو سے ملاقات ہوئی تھی۔نواز لیگ کے ذرائع کہتے ہیں کہ بلاول چاہیں تودوبارہ بھی ان سے مل سکتے ہیں۔ فی الحال رابطے اوربات چیت ہورہی ہے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ مریم نواز سے ملاقات میں بجٹ کسی صورت پاس نہ ہونے دینے پر بات ہوئی، میں نے مریم نے اور دیگر نوجوان قیادت نے لمبی سیاسی اننگز کھیلنی ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ مریم نواز ان کے ساتھ سچائی سے چلیں گی، ان کے والد نے جمہوریت کے لیے قربانی دی ہے ۔
 پیپلزپارٹی کا خیال ہے کہ آصف زرداری کی گرفتاری کا معاملہ تازہ ہے۔ بجٹ کی منظوری اچھا موقعہ ہے لہذا فوری طور پر احتجاج میں چلا جانا چاہئے۔ بلکہ وہ تو 21جون کو نوابشاہ میں محترمہ بینظیر بھٹوکی سالگرہ کے موقعہ جلسہ کر کے حکومت کے خلاف تحریک کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔نواز لیگ اس انتظا میں ہے کہ حکومت ان دو پارٹیوں کی قربت پر کیا ردعمل دیتی ہے؟ بہر حال طے یہی ہوا ہے کہ دونوں جماعتیں مشاورت کے بعدتحریک کی حکمت عملی کوحتمی شکل دی جائے گی۔ اور اس پرتفاق کیا کہ اپوزیشن کے ایک مشترکہ لائحہ عمل کےلئے تمام اپوزیشن جماعتوں کے قائدین سے بات کی جائے گی ۔
پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جو کرنا ہے کرلو موقف نہیں بدلیں گے، انہوں کے موقف کا نچوڑ صوبوں کے مالی وسائل، عدلیہ پر حملے، 1973 کے آئین، عوامی حقوق، لاپتا افراد، فوجی عدالتوں اور 18ویں ترمیم ہیں۔
پیپلز پارٹی اور نواز لیگ مشترکہ موقف اختیار کرکے بجٹ پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر جدوجہد کریں گی۔ وہ اس ضمن میں کیا کیا کریں گی ؟ ان کے پلان کو سات نکات میں بیان کیا جاسکتا ہے ۱) اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لیں گے۔۲)حکومت کی اتحادی جماعتوں سے بھی رابطہ کریں گے۔ ۳) 21جون کو بینظیر بھٹو کی سالگرہ کے موقعہ پر نوابشاہ میں جلسہ منعقد کر کے حکومت کے خلاف تحریک شروع کردی جائے۔۴) موبلائزیشن کے لئے عوام سے رابطہ کیا جائے گا اور شر شہر جایا جائے گا ۵) عوام کو سڑکوں پر لایا جائے گا، ۶)مولانا فضل الرحمٰن کے ذریعے اپوزیشن کی اے پی بلائی جائے گی۔۷) اپوزیشن بجٹ کی منظوری روکنے کو الیکشن کی طرح لے گی۔ حکومت کے اتحادیوں کو بھی ساتھ لیا جائے گا۔ اس ضمن میں اختر مینگل سے نلاول کی ملاقات ہوچکی ہے۔
 بلاول بھٹو نے بڑا آسرا دے دیا کہ پاکستان کا اگلا بجٹ پیپلزپارٹی بنائے گی۔یہ بات ان کو تحریک چلانے میں مدد دے گی۔ پہلے مرحلے دونوں جماعتیں حکومت کے خلاف ان مسائل پر جوش جذبہ اور ماحول بنائیں گی، اور دوسرے مرحلے میں مولانا فضل الرحمٰن سامنے آئیں گے۔
بھلے حتمی فیصلہ آل پارٹیز کانفرنس میں کیا جائے، لیکن دو جماعتوں کی نوجوان قیادت کے درمیان ملاقات اور مشترکہ موقف کا اظہار ایک بڑی تبدیلی ہے۔ یہ درست ہے کہ دونوں پارٹیوں کے پاس مشترکہ جدوجہد کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔ دونوں جماعتوں کی ٹاپ لیڈرشپ پابند سلاسل ہے۔ ایسے میں نوجوان لیڈرشپ عمران خان کی انتقامی کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے جارحانہ سیاست کر ے۔ اپوزیشن کے خلاف کاروائیاں، عدالت عظمیٰ کے ججز کے خلاف ریفرنس، اور بجٹ گرم ایشوز ہیں ۔ دونوں نوجوان قیادت کی لوگوں میں مقبولیت رکھتے ہیں اور مشترکہ اور بڑے پیمانے پر عوامی دباﺅ عمران خان حکومت کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر سکتا ہے۔

No comments:

Post a Comment