مودی کا دورہ : دکھاوا یا کوئی ٹھوس عمل بھی
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
بھارتی وزیر اعظم کے لاہور پہنچنے کی خبر نے سوشل میڈیا۔ موبائل سروس کو گرما دیا۔ حیرت ، تعجب، خوف کا اظہار اور سوالات، امکانات اور خدشات صاف منعکس ہو رہتے تھے۔ خاص طور پر پاکستان کے حوالے سے یہ بات کہی جارہی تھی۔ کارگل اور اس سے پہلے گجرال کا دورہ ، جنہوں نے ملکی سیاست پر گہرے اثرات چھوڑے تھے۔ آخر بھارتی وزیر اعظم کو کیا سوجھی کہ اچانک پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کو سالگرہ مبارک کہنے لاہور پہنچ گئے؟ اور نواسی کی شادی میں شرکت کی۔ کیا پنڈی کی اس دورے کی منظوری حاصل ہے؟
بھارتی وزیراعظم ماسکو اور افغانستان کے سورے سے واپس آرہے تھے۔ اور واپسی میں ہیپی برتھ ڈے ٹو میاں صاحب کہنے اور شادی میں شرکت کے لئے پہنچ گئے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ قصہ اتنا سادہ بھی نہیں۔ اس کو میڈیاکے بعض حلقوں نے اس طرح سے پیش کیا اور خود میاں صاحب نے بھی جیسے مودی صاحب واقعتا ذاتی طور پر میاں صاحب سے ملنے آئے تھے۔
ایک واقعہ یا حقیقت کو بیان کرنے کے لئی زاویے اور تشریحات ہوتی ہیںہیں۔ اس میں فرق اس وجہ سے آتا ہے کہ آپ کس طرف کھڑے ہیں اور آپ کے پاس اس واقعہ کا پس منظر کتنا ہے۔ نریندرا مودی کے اس دورے کا کس نے انتظام کیا؟ کئی تشریحات ہیں اور اس ایک سوال کے کئی جوابات بھی ہیں۔ بھارت میں اس دورے کی اپنی تشریحات اور توضیحات بیان کی جارہی ہونگی اور پاکستان میں اس سے مختلف۔ اس میں بہت ساری چیزیں ابھی تک خفیہ ہی ہیں ا جن میں سے بعض پر آنے والے وقتوں میں پردہ اٹھے گا لیکن بیشتر آخر تک خفیہ ہی رہیں گی ۔
مودی اپنے طور پر ہی آئے تھے۔ یا وزیراعظم نواز شریف نے انہیں مدعو کیا تھا؟ ہر د ومیں سے کوئی بھی ہو، یہ غیر معمولی بات تھی۔ یہ طے ہے کہ یہ سب مسلسل کوششوں کا نتیجہ تھا جسے میڈیاسے چھپا کے رکھا گیا۔بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کا حالیہ دورہ پاکستان سے یہ سلسلہ مکمل ہوا۔ ایک خاص وقت پر بات عام کی گئی ۔میاں صاحب کی نواسی کی شادی بھی میڈیا کی کوریج سے دور رہی تاوقتیکہ مہمان خصوصی بھارتی وزیر اعظم پہنچے۔
مودی کا دورہ لاہور دونوں ممالک کے وزراءکی پیرس ملاقات کے سلسلے کی کڑی ہے۔ بھارت کے اسٹیل ٹائیکون مسٹر جنڈل بھارتی وزیر اعظم کے ساتھ تھے۔ جن کے لئے کہا جارہا ہے کہ انہوں نے دونوں ورازءاعظم کو قریب آنے مین اہم کردار ادا کیا ہے۔
تجزیہ نگار اس” کرشمے “کو یوں بیان کر رہے ہیں کہ یہ دوربہت پہلے سے بنایا گیا تھا۔ اور ایسا لگتا بھی ہے۔ پاکستان میں یہ پریشانی بڑھ رہی تھی کہ مودی صاحب اپنے طور پر آکر ہماری پریشانیوں میں اضافہ کردیا ہے۔ نواز شریف کے نقاد اس کو نواز شریف کا ذاتی مفادات یا بزنیس کے لئے سرینڈر کی بھی باتیں کی جارہی تھیں۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی صورتحال یہ رہی ہے سوائے چند ایک مثبت یا خوشگوار جھونکوں نے باقی پوری تاریخ الزامات جوابی الزامات سے بھری ہوئی ہے۔
بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے حالیہ پاکستان کے دورے کے دوران نے مریم شریف سے بھی ملاقات کی تھی۔ خیال ہے کہ وہ اس ملاقات میں وہ اپنے وزیراعظم کے لئے دعوت نامہ لینے میں کامیاب ہوگئی تھی؟
جنوبی ایشیا کے دو بڑے مملاک کے رہنماﺅں کے درمیان کیا بات ہوئی کیا طے ہوا؟ کچھ پتہ نہیں۔ سرکاری موقف میں کوئی تبدیلی نہیں۔ پاکستانی سیکریٹری خارجہ انور عزیز چوہدری نے میڈٰا کو بتایا کہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ دونوں مماک ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات بڑھائیں گے۔ مضبوط کریں گے ۔ بھارتی وزیراعظم مودی نے افغانستان سے واپسی پر میاں نواز شریف سے پوچھا کہ کیا وہ جاتے ہوئے تھوڑی دیر لاہور میں ٹہر سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ جناب بالکل تشریف لے آئیں۔ ہمارےساتھ چائے پی جیئے ۔
تجزیہ نگار اس پر متفق ہیں کہ بھارتی وزیراعظم مودی پاکستان کے لئے کوئی تحفہ نہیں لائے تھے۔ تحفہ ان معنوں میں کہ پاک بھارت تعلاقت میں کوئی بڑا جمپ۔ انہوں نے وہی راستہ اختیار کیا جو اٹل بہاری واجپائی نے کیا تھا۔ بارہ سال پہلے واجپائی بھی آئے تھے انہوں نے جنرل مشرف سے اسی طرح بات کی تھی۔ انہوں نے پاکستان پر الزام تراشی کے بجائے پاکستان کے ساتھ بات چیت کرتے رہنے کا راستہ اختیار کای۔ یہ س کچھ افغانساتن اور ماسکو کے دورے کے بعد ہوا۔
مودی واقعی پاکستان سے تعلقات بہتر بنانےنے کی خواہش ہو یا نہ ہو لیکن وہ دنیا میں اپنے دوستوں کو یہ باور کراننا ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ ایسا بھی نہیں کہ وہ دہشتگردی کے بغیر کسی اشو پر پاکستان سے بات چیت کے لئے یتار نہیں۔
اگر مودی نے افغانستان اور ماسکو میں مذاکرات میں پیش رفت حاصل کی ہے تو اس کے پاس پاکستان کے ساتھ تعلقات کے بہت سارے آپشن کھل جاتے ہیں۔ اس سے پہلے کیا ہوتا رہا؟ ضیاءالحق کی کرکٹ ڈپلومیسی، واجپائی کا بس کا سفر، مشرف کا سارک کانفرنس میں واجپائی سے ہاتھ ملانا۔ نواز شریف اور مودی کی پیرس میں ملاقات۔ اور اب لاہور میں گلے ملنا۔ یہ سب کچھ تب ہوتا رہا جب اندرونی طور پر دونوں ممالک کی حکومتوں پر دباﺅ تھا کہ پڑوسیوں سے تعلقات بہتر بنائے جائیں۔
اس مرتبہ ایک اور چیز کا اضافہ ہوا ہے وہ یہ کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کا مطالبہ اس سطح پر ہیں جن سے دونوں ممالک انکار نہیں کر سکتے۔ یہ وہی تجارتی یا کاروباری تعلقات ہیں جو اس طرح کے غیر رسمی اور غیر سرکاری راستے تلاش کر رہے ہیں اور بنا رہے ہیں۔
اہل فکر ونظر حلقوں کی جانب سے خیرمقدم کیاجانا چاہئے۔ لیکن نتیجہ خیز اور بامقصد ڈلومیسی ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ لاہور یاترا دونوں مملک کی جانب سے باقاعدہ اور سوچی سمجھی کوشش تھی یا صرف فوٹو سیشن تھا؟
مودی کے ماسکو اور کابل کے رہنماﺅں کے ساتھ بہت سے امور پر تفصیلی اور بامقصد بات چیت کی اور کئی اہم فیصؒے بھی کئے گئے۔ لاہور کے دورے کے بعد دونوں وزرائے اعظم نے کسی ٹھوس چیز کا اعلان نہیں کیا۔ صرف مودی کے لئے ہی یہ مسئلہ نہیں کہ اسے اپنے ملک میں ان حلقوں کا مقابلہ کرنا پڑے گا جو پاکستان سے بات چیت کے حق میں ہیں۔ یہی معاملہ پاکستان کے ساتھ شاید اس سے زیادہ ہے۔
عوام کی توقعات بڑھاناور م مخالف لابیوں کو الرٹ کرنا اور اصل بات کو چھپائے رکھنا خطرناک معاملہ ہے۔ اگر واقعی لاہور ملاقات میں کوئی پیش رفت ہے تو جامع دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے آئندہ ماہ متوقع دونوں ممالک کے وزراءخارجہ کے اجلاس میں ٹھوس باتیں کی جانی چاہئیں۔
.