Wednesday, December 30, 2015

مودی کا دورہ : دکھاوا یا کوئی ٹھوس عمل بھی

 مودی کا دورہ : دکھاوا یا کوئی ٹھوس عمل بھی
 میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی

بھارتی وزیر اعظم کے لاہور پہنچنے کی خبر نے سوشل میڈیا۔ موبائل سروس کو گرما دیا۔ حیرت ، تعجب، خوف کا اظہار اور سوالات، امکانات اور خدشات صاف منعکس ہو رہتے تھے۔ خاص طور پر پاکستان کے حوالے سے یہ بات کہی جارہی تھی۔ کارگل اور اس سے پہلے گجرال کا دورہ ، جنہوں نے ملکی سیاست پر گہرے اثرات چھوڑے تھے۔ آخر بھارتی وزیر اعظم کو کیا سوجھی کہ اچانک پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کو سالگرہ مبارک کہنے لاہور پہنچ گئے؟ اور نواسی کی شادی میں شرکت کی۔ کیا پنڈی کی اس دورے کی منظوری حاصل ہے؟

بھارتی وزیراعظم ماسکو اور افغانستان کے سورے سے واپس آرہے تھے۔ اور واپسی میں ہیپی برتھ ڈے ٹو میاں صاحب کہنے اور شادی میں شرکت کے لئے پہنچ گئے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ قصہ اتنا سادہ بھی نہیں۔ اس کو میڈیاکے بعض حلقوں نے اس طرح سے پیش کیا اور خود میاں صاحب نے بھی جیسے مودی صاحب واقعتا ذاتی طور پر میاں صاحب سے ملنے آئے تھے۔ 

ایک واقعہ یا حقیقت کو بیان کرنے کے لئی زاویے اور تشریحات ہوتی ہیںہیں۔ اس میں فرق اس وجہ سے آتا ہے کہ آپ کس طرف کھڑے ہیں اور آپ کے پاس اس واقعہ کا پس منظر کتنا ہے۔ نریندرا مودی کے اس دورے کا کس نے انتظام کیا؟ کئی تشریحات ہیں اور اس ایک سوال کے کئی جوابات بھی ہیں۔ بھارت میں اس دورے کی اپنی تشریحات اور توضیحات بیان کی جارہی ہونگی اور پاکستان میں اس سے مختلف۔ اس میں بہت ساری چیزیں ابھی تک خفیہ ہی ہیں ا جن میں سے بعض پر آنے والے وقتوں میں پردہ اٹھے گا لیکن بیشتر آخر تک خفیہ ہی رہیں گی ۔

مودی اپنے طور پر ہی آئے تھے۔ یا وزیراعظم نواز شریف نے انہیں مدعو کیا تھا؟ ہر د ومیں سے کوئی بھی ہو، یہ غیر معمولی بات تھی۔ یہ طے ہے کہ یہ سب مسلسل کوششوں کا نتیجہ تھا جسے میڈیاسے چھپا کے رکھا گیا۔بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کا حالیہ دورہ پاکستان سے یہ سلسلہ مکمل ہوا۔ ایک خاص وقت پر بات عام کی گئی ۔میاں صاحب کی نواسی کی شادی بھی میڈیا کی کوریج سے دور رہی تاوقتیکہ مہمان خصوصی بھارتی وزیر اعظم پہنچے۔

مودی کا دورہ لاہور دونوں ممالک کے وزراءکی پیرس ملاقات کے سلسلے کی کڑی ہے۔ بھارت کے اسٹیل ٹائیکون مسٹر جنڈل بھارتی وزیر اعظم کے ساتھ تھے۔ جن کے لئے کہا جارہا ہے کہ انہوں نے دونوں ورازءاعظم کو قریب آنے مین اہم کردار ادا کیا ہے۔ 

تجزیہ نگار اس” کرشمے “کو یوں بیان کر رہے ہیں کہ یہ دوربہت پہلے سے بنایا گیا تھا۔ اور ایسا لگتا بھی ہے۔ پاکستان میں یہ پریشانی بڑھ رہی تھی کہ مودی صاحب اپنے طور پر آکر ہماری پریشانیوں میں اضافہ کردیا ہے۔ نواز شریف کے نقاد اس کو نواز شریف کا ذاتی مفادات یا بزنیس کے لئے سرینڈر کی بھی باتیں کی جارہی تھیں۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی صورتحال یہ رہی ہے سوائے چند ایک مثبت یا خوشگوار جھونکوں نے باقی پوری تاریخ الزامات جوابی الزامات سے بھری ہوئی ہے۔ 

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے حالیہ پاکستان کے دورے کے دوران نے مریم شریف سے بھی ملاقات کی تھی۔ خیال ہے کہ وہ اس ملاقات میں وہ اپنے وزیراعظم کے لئے دعوت نامہ لینے میں کامیاب ہوگئی تھی؟ 

 جنوبی ایشیا کے دو بڑے مملاک کے رہنماﺅں کے درمیان کیا بات ہوئی کیا طے ہوا؟ کچھ پتہ نہیں۔ سرکاری موقف میں کوئی تبدیلی نہیں۔ پاکستانی سیکریٹری خارجہ انور عزیز چوہدری نے میڈٰا کو بتایا کہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ دونوں مماک ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات بڑھائیں گے۔ مضبوط کریں گے ۔ بھارتی وزیراعظم مودی نے افغانستان سے واپسی پر میاں نواز شریف سے پوچھا کہ کیا وہ جاتے ہوئے تھوڑی دیر لاہور میں ٹہر سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ جناب بالکل تشریف لے آئیں۔ ہمارےساتھ چائے پی جیئے ۔ 

تجزیہ نگار اس پر متفق ہیں کہ بھارتی وزیراعظم مودی پاکستان کے لئے کوئی تحفہ نہیں لائے تھے۔ تحفہ ان معنوں میں کہ پاک بھارت تعلاقت میں کوئی بڑا جمپ۔ انہوں نے وہی راستہ اختیار کیا جو اٹل بہاری واجپائی نے کیا تھا۔ بارہ سال پہلے واجپائی بھی آئے تھے انہوں نے جنرل مشرف سے اسی طرح بات کی تھی۔ انہوں نے پاکستان پر الزام تراشی کے بجائے پاکستان کے ساتھ بات چیت کرتے رہنے کا راستہ اختیار کای۔ یہ س کچھ افغانساتن اور ماسکو کے دورے کے بعد ہوا۔ 

مودی واقعی پاکستان سے تعلقات بہتر بنانےنے کی خواہش ہو یا نہ ہو لیکن وہ دنیا میں اپنے دوستوں کو یہ باور کراننا ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ ایسا بھی نہیں کہ وہ دہشتگردی کے بغیر کسی اشو پر پاکستان سے بات چیت کے لئے یتار نہیں۔ 

 اگر مودی نے افغانستان اور ماسکو میں مذاکرات میں پیش رفت حاصل کی ہے تو اس کے پاس پاکستان کے ساتھ تعلقات کے بہت سارے آپشن کھل جاتے ہیں۔ اس سے پہلے کیا ہوتا رہا؟ ضیاءالحق کی کرکٹ ڈپلومیسی، واجپائی کا بس کا سفر، مشرف کا سارک کانفرنس میں واجپائی سے ہاتھ ملانا۔ نواز شریف اور مودی کی پیرس میں ملاقات۔ اور اب لاہور میں گلے ملنا۔ یہ سب کچھ تب ہوتا رہا جب اندرونی طور پر دونوں ممالک کی حکومتوں پر دباﺅ تھا کہ پڑوسیوں سے تعلقات بہتر بنائے جائیں۔ 

اس مرتبہ ایک اور چیز کا اضافہ ہوا ہے وہ یہ کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کا مطالبہ اس سطح پر ہیں جن سے دونوں ممالک انکار نہیں کر سکتے۔ یہ وہی تجارتی یا کاروباری تعلقات ہیں جو اس طرح کے غیر رسمی اور غیر سرکاری راستے تلاش کر رہے ہیں اور بنا رہے ہیں۔ 

 اہل فکر ونظر حلقوں کی جانب سے خیرمقدم کیاجانا چاہئے۔ لیکن نتیجہ خیز اور بامقصد ڈلومیسی ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ لاہور یاترا دونوں مملک کی جانب سے باقاعدہ اور سوچی سمجھی کوشش تھی یا صرف فوٹو سیشن تھا؟ 

مودی کے ماسکو اور کابل کے رہنماﺅں کے ساتھ بہت سے امور پر تفصیلی اور بامقصد بات چیت کی اور کئی اہم فیصؒے بھی کئے گئے۔ لاہور کے دورے کے بعد دونوں وزرائے اعظم نے کسی ٹھوس چیز کا اعلان نہیں کیا۔ صرف مودی کے لئے ہی یہ مسئلہ نہیں کہ اسے اپنے ملک میں ان حلقوں کا مقابلہ کرنا پڑے گا جو پاکستان سے بات چیت کے حق میں ہیں۔ یہی معاملہ پاکستان کے ساتھ شاید اس سے زیادہ ہے۔ 

عوام کی توقعات بڑھاناور م مخالف لابیوں کو الرٹ کرنا اور اصل بات کو چھپائے رکھنا خطرناک معاملہ ہے۔ اگر واقعی لاہور ملاقات میں کوئی پیش رفت ہے تو جامع دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے آئندہ ماہ متوقع دونوں ممالک کے وزراءخارجہ کے اجلاس میں ٹھوس باتیں کی جانی چاہئیں۔ 

.

Experiment of Karachi LB polls


 کراچی کے انتخابات کا تجربہ
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 
پنجاب اور سندھ میں کچھ بھی نہیں بدلا۔ان دو صوبوں میں وہی رجحان سامنے آیا ہے جو 2013 کے عام انتخابات میں دکھائی دیا تھا۔ سندھ کے شہری علاقوں میں ایم کیو ایم اور دیہی علاقوں میں پیپلزپارٹی جیتی ہے۔ کراچی کے ووٹر نے تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کو قبول نہیں کیا۔ ان کا اتحاد نہیں کام آیا۔ اور کراچی میں” زیرعتاب“ متحدہ قومی موومنٹ کو اکثریت حاصل ہوگئی ہے ۔ 

یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ ملک کے سب سے بڑے شہر میں بلدیاتی انتخابات میں کئی اتحادوں اور درجن جماعتوں کی شرکت کے باوجود لوگوں کی اکثریت نے خود کو گھروں تک محدود رکھا ہے۔ یہ رجحان خاص طور پر اردو بولنے والوں کی آبادیوں میں زیادہ دیکھا گیا۔

کم ٹرن آﺅٹ کی ایک توضیح یہ بھی کی جارہی ہے کہ شہر میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کرکے لوگوں کو یہ باور کرایا گیا کہ اگر وہ باہر نکلیں گے تو چھاپے میں ان کی گرفتاری بھی ہوسکتی ہے۔ لیکن ایم کیو ایم کا دعوا ہے کہ وہ اپنے ووٹرز کو پولنگ اسٹیشن تک لے آنے میں کامیاب ہوگئی۔

اگر ایم کیو ایم کے اس دعوے کو مان لیا جائے کہ اس کے ووٹرز تو نکل آئے تھے ، تو کیا اس کے حقیقی معنوں میں اتنے ہی ووٹر ہیں؟

کراچی میں سنہ 2013 میں تخریب کاری کے واقعات کے باوجود لوگوں کی ایک بڑی تعداد پولنگ سٹیشنوں تک پہنچی اسی طرح عزیز آباد میں حلقہ این اے 246 پر ضمنی انتخابات میں بھی ٹرن آو ¿ٹ بہتر رہا۔بلدیاتی انتخابات گلی گلی کے انتخابات ہوتے ہیں ان میں کہ اگر ٹرن آو ¿ٹ 35 سے 40 فیصد بھی رہتا ہے توبھی کافی کم کہلائے گا۔ 

موجودہ ٹرن آﺅٹ پچیس سے تیس فیصد بتایا جاتا ہے ۔سیاسی جماعتیں بڑی تعداد میں لوگوں کو باہر نکالنے میں ناکام رہی ہیں، جس کو بعض تجزیہ نگار بلدیاتی اداروں اور سیاسی جماعتوں پر بد اعتمادی کا اظہار کا نام دے رہے ہیں۔

کراچی کے بلدیاتی انتخابات کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ملک کے دیگر علاقوں کے برعکس کراچی میں حالیہ انتخابات میں جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے خود مہم چلائی لیکن انتخابی گہماگہمی کے ووٹنگ کے دن اثرات نظر نہیں آئے۔ اور تبدیلی کا کارڈ نہیں چلا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ تقریبا 70 فیصد لوگوں نے خود کو ان انتخابات سے خود کو دور رکھا اور اس میں ووٹ ہی نہیں ڈالا۔اس صورتحال میں ایم کیو ایم کی کلی طور پر نمائندہ حیثیت سیاسی حوالے سے نہیں مانی جائے گی۔ 

 اردو بولے جانے والی آبادیوں میں سیاسی سرگرمیاں محدود نظر آئیں۔ ان آبادیوں میں کارکن اتنے سرگرم نظر نہیں آئے ہوں گے جتنی ان علاقوں میں ہلچل تھی جہاں اردو بولنے والے کم ہیں۔ اردو بولنے والی آبادیوں میں جماعت اسلامی کے علاوہ اور کوئی جماعت موجود نہیں۔

لوگوں کا ردعمل توقع کے خلاف رہا لیکن ایم کیو ایم جس بنیاد پر یہ دعویٰ کر رہی تھی کہ مہاجر کارڈ چلے گا یا صوبہ کارڈ چلے گا وہ بھی نہیں چلا۔
 اردو بولنے والی آبادیوں میں بھی متوسط طبقے والی آبادیوں میں ووٹر ٹرن آوٹ کم رہا اس کی برعکس غریب طبقے والی آبادیوں میں ٹرن آو ¿ٹ زیادہ نظر آیا ۔

کراچی میں عمران خان کی مقبولیت اور جماعت اسلامی کے نظم اور تجربے کو یکجا کرکے دونوں جماعتوں کا اتحاد ایم کیو ایم سے مقابلے میں اتارا گیا ۔جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کو ماضی کے برعکس سازگار ماحول ملا ہے۔ گذشتہ عام انتخابات کا جماعت اسلامی نے بائیکاٹ کردیا تھا جبکہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں شہر کے ہر علاقے میں مشترکہ یا آزاد حیثیت میں امیدوار کھڑے کیے گئے ہیں، جن کا ایک ہی نعرہ ہے کہ شہر میں امن قائم کیا جائے گا۔

جماعت اسلامی اور عمران خان کی حکمت عملی جو بھی ہو لیکن ان کا زیادہ تر انحصار شہر کی پختون آبادی پر تھا۔ جو ”ووکل“ بھی رہی ہے۔ انتخابات سے قبل عمران خان اور سراج الحق نے مشترکہ ریلیاں نکالیں۔ عام انتخابات میں اس آبادی کے ووٹ پر کبھی اے این پی، کبھی جے یو آئی، تو کبھی اور پختونوں کی جماعت ایک دو صوبائی اسمبلی کی نشستیں حاصل کرتی رہی ہے۔ لیکن اس مرتبہ پختون آبادی کا رجحان جماعت اسلامی سے بھی آگے مذہبی بنیادوں پر رہا۔ 

متحدہ قومی موومنٹ کو حالیہ بلدیاتی انتخابات میں اس کو جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے اتحاد کے علاوہ رینجرز کے آپریشن کا بھی سامنا رہا ہے لیکن وہ اس کو ہمدردیوں میں تبدیل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ ایم کیو ایم کو ہمدردی کا بھی ووٹ ملا ہے۔ جس کا اعتراف خود ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کیاہے کہ ’یہ ہمارے لیے بہت اچھا ہوا، یوں سمجھئے زحمت کی آڑ میں رحمت ہے۔ 

 بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم نے ماضی کے برعکس اردو بولنے والوں کی اکثریتی آبادیوں تک محدود رکھا ہے۔

حالیہ بلدیاتی انتخابات میں حکمران پاکستان پیپلزپارٹی کو ماضی قریب کا سب سے بڑا سیاسی جھٹکا لگا ہے، لیاری میں چار سے زائد یونین کونسلز میں اس کو امیدوار نہیں ملے تاہم اس کی نظریں پھر بھی دیہی علاقوں پر مشتمل ضلعی کونسل پر رہیں جہاں اس کا مقابلہ مقامی برادری کے اتحاد سے رہا جس کو مسلم لیگ ن، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی حمایت حاصل تھی۔ بہرحال پیپلزپارٹی کو کراچی کے دیہی علاقوں میں اکثریت حاصل ہوئی۔

ایم کیو ایم گزشتہ تین دہائیوں سے کراچی کی سیاست پر چھائی رہی ہے۔ اس کے پاس ہر طرح کا نیٹ ورک، اور طاقت رہی ہے۔ تنظیم کاری موجود ہے ۔کارکنوں کی تعداد موجود ہے۔اس کے پاس ووٹرز، حلقہ بندیوں اور دیگر زمینی حقائق کے حوالے سے تمام معلومات ہے۔ یہ وہ عناصر ہیں جو انتخابی حکمت عملی میں بڑے کارآمد ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں مسلم لیگ (نون)، تحریک انصاف، اور کود پیپلزپارٹی کے پاس اس طرح کی تنظیم کاری اور نیٹ ورک موجود نہیں۔ 

اسٹبلشمنٹ کی پالیسیوں نے بڑی حد تک ووٹرز کو متحدہ سے دور کرنے کے بجائے مزید اسکے قریب کردیا۔ جو شاید کسی انجنیئرنگ کے ذریعے کراچی خواہ سندھ میں کچھ تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ 

سیاست کو انجینئرنگ کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ یہ درست ہے کہ جہاں کہیں جرم اور سیاست کا گٹھ جوڑ ہو اس کو توڑنا چاہئے اور ختم کرنا چاہئے۔ لیکن یہ تاثر دینا یا عمل سے ظاہر کرنا کہ سیاست ہی جرم ہے کسی طور پر بھی فائدہ مند ثابت نہیں ہوگا۔
 Dec 7, 2015

رینجرز کے اختیارات اور سندھ حکومت کی فرمائش


 رینجرز کے اختیارات اور سندھ حکومت کی فرمائش
 میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
 رینجرز ک پولیس کے اخیارات دینے کے معاملے پر صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ رینجرز کو رواں سال جولائی میں پولیس کے اختیارات دیئے گئے تھے۔ ان ختیارت کی مدت چھ دسمبر کو ختم ہو چکی ہے۔ اختیارات میں توسیع کے لئے سمری وزیراعلیٰ سندھ کو دو ہفتے قبل بھیج دی گئی تھی۔ لیکن انہوں نے اس پر دستخط نہیں کئے۔ 

 صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم میاں نواز شریف اور آرمی چیف مدت ختم ہونے کے ایک روز بعد کراچی پہنچے اور انہوں نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ کراچی میں آپریشن جاری رہے گا۔ رینجرز کو بھی اختیارات ملیں گے اور سیاسی جماعتوں کی مسلح شعبوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔ اجلاس میں سندھ حکومت نے اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ یہ وہ خدشات تھے کہ وفاقی ادارے سندھ میں مداخلت کر رہے ہیں۔مداخلت کا یہ معاملہ کراچی میں دہشتگردی، بھتہ خوری، اور ٹارگیٹ کلنگز کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے بعد شروع کی ہوا۔

اس موقعہ پرسندھ حکومت نےر پھر وفاق سے کراچی میں جاری آپریشن کے لئے اسلح اور دیگر مدوں میں 24 ارب روپے کی رقم مہیا کرنے کا مطالبہ دہریا ہے۔ صوبائی حکومت کا یہ موقف ہے کہ وزیر اعظم نے تین مرتبہ کراچی آپریشن کے اخراجات کی مد میں مدد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن ان میں سے کسی پر بھی تاحال عمل نہیں ہو سکا ہے۔ وزیراعلیٰ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایپکس کمیٹی میں فیصلے باوجود رقم نہیں فراہم کی جارہی ہے۔

 آرمی چیف کا کہنا ہے کہ آپریشن کے کپتان وزیراعلیٰ سندھ ہیں۔ وزیر اعلی نے وزیر اعظم سے ملاقات میں بھی رینجرز کے اختیارات کا معاملہ اٹھایا۔ وزیراعظم کا بیان جو ریکارڈ پر آیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ رینجرز کے بارے میں تحفظات دور کئے جائیں گے۔ لیکن آپ آپریشن کی مدت میں توسیع کریں۔

 وزیراعلیٰ نے یہ بھی شکایت کی کہ رینجرز صوبے میں انہیں جو اختیارات دیئے گئے ہیں ان سے ہٹ کر بھی کارروائی کرتی ہے۔ اس ملاقات میں ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری کا معاملہ بھی اٹھایا۔ وزیراعلیٰ نے بعد میں اپنی کچن کابینہ سے بھی مشورہ کیا اور دبئی میں پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے بھی رابطہ کیا۔ مزید ہدایات کے لئے پارٹی کے چیئرمیں بلاول بھٹو زرداری دبئی گئے ہوئے ہیں۔ جہاں سے حتمی فیصلہ ہوگا۔ 

اگرچہ آپریشن ہر مرض کی دوا نہیں۔ لیکن صوبائی اور وفاقی حکومت دونوں کا یہ دعوا ہے کہ آپریشن اچھے نتائج دے رہا ہے۔ لیکن وفاق اور صوبے کے درمیان جھگڑا رینجرز کو اختیارات دینے پر اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ رینجرز اگرچہ کراچی میں نوے کے عشرے سے موجود ہے۔ 
 سندھ حکومت رینجرز کو اختیارات دینا چاہ رہی ہے۔ بلکہ اسے یہ اختیارات دینے پڑیں گے۔ کیونکہ سندھ حکومت وفاقی اداروں سے ٹکر لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے پیغام کے انتظار میں ہیں ۔ اور پارٹی قیادت نے مبینہ طور پر یہ کہا ہے کہ ابھی انتظار کریں۔ 

وزیراعلیٰ رینجرز کے اختیارات میں توسیع کر سکتے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ انہوں نے یہ ضروری سمجھا کہ صوبائی اسمبلی سے اس کی منظوری لی جائے۔ 

 جمہوری اداروں کے درمیان تصادم اچھا شگون نہیں۔ صوبائی حکومت کے خدشات کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امن و امان کی بحالی کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں۔ کیونکہ ایک ادارے کے دوسرے ادارے کی حدود میں داخل ہونے سے تنازعات پیدا ہوتے ہیں ۔ 

 اب معاملہ سندھ اسمبلی میں لے جایا جارہا ہے۔ اور ایک قرارداد پیش کی جارہی ہے۔ سندھ حکومت کی بنیادی طور پر تین شرائط ہیں۔ ۱ول یہ کہ رینجرز کو سیاسی رہنما گرفتار کرنے کا اختیار نہ دیا جائے۔ دوئم یہ کہ کرپشن کے مقدمات دہشتگردی کی عدالت میں نہ چلائے جائیں سوئم یہ کہ رینجرز کوئی بھی کارروائی وزیراعلیٰ کی منظوری یا ان کو آگاہ کئے بغیر نہ کرے۔ 

سندھ حکومت وفاقی حکومت پر یہ بھی دباﺅ ڈال رہی ہے کہ آپریشن کے اخراجات کا ایک حصہ وفاقی حکومت برداشت کرے۔ سندھ حکومت کے اس مطالبے میں وزن ہے۔ اس لئے کہ صوبائی حکومت کو ایک خطیر رقم آپریشن پر خرچ کرنی پڑ رہی۔ ّپریشن دراصل ہنگامی یا ناگہانی قسم کی صورتحال ہے جس میں متاثرہ صوبے کی مدد کرنا وفاقی حکومت کا فرض بنتا ہے۔ یہ دلیل اس وقت مزید مضبوط ہو جاتی ہے جب یہ آپریشن وفاقی حکومت کے فیصؒے کے تحت کیا جارہا ہے اور یہ بھی کہ خود وزیراعظم ان اخراجات میں وفاق کی جانب سے حصة دینے کا وعدہ کر چکے ہیں۔ 

سندھ حکومت کے ان دو شرائط کے پیچھے بعض سیاسی عوامل بھی کارفرما ہیں۔ کیونکہ اس کی زد میں پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ دونوں آرہی ہیں۔ 

ینجرز کا یہ موقف رہا ہے کہ وزراءوغیرہ جو کرپشن یا چائنا کٹنگ کے ذریعے وصولی کرتے رہے ہیں وہ رقم دہشتگردی پر استعمال ہو رہی ہے۔چونکہ دہشتگردی کے خلاف کارروائی رینجرز کا اب براہ راست مینڈیٹ ہے لہٰذا رینجرز ان دونوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں سمجھتی۔ حکمران جماعت کا دوسرا نقطہ اپنے وزراء وغیرہ کو بچانے کی کوشش ہے جن پر کرپشن کے سنگین الزامات ہیں۔ یہ معاملہ خاص طور پر ڈاکٹر عاصم حسین کے حوالے سے بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔

 ڈاکٹر عاصم کے ریمانڈ لینے پر سندھ حکومت اور رینجرز کے دو الگ الگ موقف تھے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ رینجرز نے سندھ حکومت کے تین وزراء کو اس ادارے کے حوالے کرنے کا مطلابہ کیا تھا۔ جن میں سے ابھی دو کابینہ سے ہٹا دئے گئے ہیں

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس مرحلے پر پیپلزپارٹی نے ایم کیو ایم کو حکومت میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔ اس طرح سے پیپلزپارٹی نہ صرف اپنے لوگوں کو بلکہ ایم کیو ایم کے لوگوں کو بھی بچانا چاہتی ہے۔ 

 پیپلزپارٹی کی یہ پیشکش اس لئے بھی ہے کہ وہ اس معاملے میں تنہا نہ ہو جائے۔ حالانکہ ایم کیو ایم خود زیر عتاب ہے۔ لیکن بلدیاتی انتخابات میں کراچی میں اکثریت سے جیت نے اس کی پوزیشن مضبوط کردی ہے۔ پیپلزپارٹی نے یہ پیشکش کر کے دراصل ایم کیو ایم کے اس مینڈیٹ کو تسلیم کیا ہے۔ 

کراچی میں آپریشن صرف وفاقی حکومت کا ایجنڈا نہیں ، بلکہ عسکری قوتیں بھی یہ آپریشن چاہتی ہیں ۔ اس لئے سندھ حکومت رینجرز کے اختیارات میں توسیع ہر حال میں کرے گی۔ لیکن اپنے کچھ مطالبات منوانے اور تحفظ کو یقینی بنانا چاہ رہی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وفاق اور عسکری ادارے سندھ حکومت کی کونسی فرمائش پوری کرتے ہیں؟

Written on  Dec 12, 2015 
 for Nai Baat

رینجرز بقابلہ سندھ اسمبلی


 رینجرز بقابلہ سندھ اسمبلی 
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 

وفاقی حکومت کے ساتھ دو ہفتے تک کی کشمکش کے بعد رینجرز کے اختیارات سے متعلق سندھ اسمبلی نے قرارداد منظور کر لی ہے۔ جس کے تحت رینجرز کے اختیارات عملی طور پر کم کردیئے گئے ہیں۔ اس وقفے میں وفاقی وزیر داخلا چوہدری نثار علی خان کی جذباتی اور دھمکی آمیز بیانات بھی آئے۔ 

 اس قرارداد کے مطابق صوبے میں رینجرز کے قیام میں 12 ماہ کی توسیع کردی گئی ہے ۔ رینجرز چار قسم کے جرائم یعنی اغوا برائے تاوان، ٹارگیٹ کلنگ، اور فرقہ وارانہ دہشتگردی کے خلاف آزادی کے ساتھ کارروائی کر سکے گی۔ لیکن رینجرز کو کرپشن کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں ہوگی۔ رینجرز چیف سیکریٹری یا چیف منسٹر کی اجازت کے بغیر کسی دفتر پر چھاپہ نہیں مار سکے گی ۔ کسی اہم شخص کی گرفتاری یا شک کی بنیاد پر گرفتاری کے لئے وزیراعلیٰ سندھ سے تحریری اجازت لینی پڑے گی۔ اس قرارداد کے مطابق رینجرز سندھ پولیس کے علاوہ کسی دوسرے ادارے خاص طور پر نیب یا ایف آئی اے سے مدد نہیں لے سکے گی۔ 

 وفاق کسی طور پر بھی نہیں چاہ رہا تھا کہ رینجرز کے اختیارات کا معاملہ اسمبلی میں جائے۔ وفاق کی خواہش تھی کہ اگزیکیٹو آرڈر کے ذریعے رینجرز کو پولیس کے اختیارات مل جائیں۔ اور وفاق کا حکم سندھ میں چلتا رہے۔ لیکن سندھ کی حکمران جماعت بضد تھی کہ معاملہ اسمبلی میں لے جایا جائے۔ 

 جہاں تک وفاق نے اس معاملے کو سیاسی بنایا، صوبائی حکومت نے اس کو ترپ کارڈ کے طور پر استعمال کیا۔ جس طرح کی قرارداد منظور ہوئی ہے اس سے وفاق اور سندھ کے درمیان کشیدگی بڑھنے کا امکان ہے۔ وزیر داخلا چوہدری نثار علی خان نے دیگر آپشنز کی جو دھمکی دی تھی اس کی تلوار ابھی تک لٹکی ہوئی ہے۔ 

سندھ کا رینجرز کے اختیارات سے متعلق معاملے کو صوبائی اسمبلی میں لے جانا درست اقدام ہے۔ یہ ایک منتخب ادارہ ہے۔ جس کو اپنے دائرہ کار میں تمام معاملات پر بحث کرنے، غور کرنے اور فیصلہ کرنے کا اختیار ہے۔ یہی جمہوری اسپرٹ ہے جس کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لحاظ سے وفاقی وزیر داخلا کی دھمکیاں اور گورنر راج کی میڈیا میں افواہوں کو کسی طور پر جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ وفاقی وزیر کا یہ کہنا کہ اگر رینجرز کو اختیارات نہیں دیئے گئے تو وہ ڈاکٹر عاصم حسین کی ویڈیو جاری کریں گے۔ 
یہ میڈیا ٹرائل اور قانونی حدد سے ہٹ کر فیصلے کرنے کا دباﺅ کے زمرے میں آتے ہیں۔ ڈاکٹر عاصم نے کیا اعتراف جرم کیا اور کس کے خلاف بولے وہ تو سب ہو چکا ۔ اس کے باوجود ان پر جو مقدمہ بن سکا وہ اتنا ہی تھا کہ ان کے اسپتال میں زخمی دہشتگردوں کا علاج ہوتا تھا۔

 یہ سب نوے روز کی طویل رینجرز کی تحویل میں رہنے کے بعد سامنے آیا۔ اگر اس سے بڑھ کر کوئی چیز تھی تو اس کا مقدمہ کیوں نہیں بنایا گیا؟ 

 رینجرز ہو یا کوئی اور ادارہ اس کو پولیسنگ اختیار دینا بہت ہی حساس معاملہ ہے۔ اس لئے اس بات کو یقینی بنانا نہایت ہی اہم ہے کہ جس ادارے کو جس مقصد کے لئے اختیارات دیئے جارہے ہیں اسی مقصد کے لئے ہی استعمال ہونگے۔ 

اس قرارداد نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے ۔ بعض مبصرین کے نزدیک یہ قرارداد اس شکل میں اس وجہ سے آئی ہے کہ پیپلزپارٹی کی دبئی میں موجود قیادت اور اسلام آباد پنڈٰ کے درمیان رابطہ نہیں ہو سکا ہے جس میں رینجرز کے اختیارات کو سویلین حکومت کے ماتحت کر دیا گیا ہے ۔

 اس قرداد سے رینجرز اور دیگر اداروں کو یہ بھی پیغام ملا ہے کہ کرپشن یا دیگر سول معاملات میں وہ مداخلت نہیں کریں۔ 

 سندھ کا دارلحکومت کراچی گزشتہ چند عشروں سے دہشتگردوں کے نشانے پر ہے۔ جہاں ہر قسم کی دہشتگردی ہوتی رہی ہے ۔ کراچی میں آباد کوئی کمیونٹی، یہاں تک کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اس سے محفوظ نہیں رہے ہیں۔ دہشتگردی کی آگ میں جلتے ہوئے اس شہر اغوا کی وارداتیں، بھتہ خوری، چائنا کٹنگ ، اسٹریٹ کرائیم ایک مسلسل عذاب کی شکل میں جاری رہا ہے۔

کراچی کے ہرشہری نے اپنی حیثیت کے حساب سے یہ عذاب بھگتا ہے ۔ ان منظم جرائم اور دہشتگردی کے واقعات کی وجہ سے کراچی کی کاروباری سرگرمیاں تباہ ہوئیں۔ جانی مالی نقصانات کے علاوہ سرمایہ کاری متاثر ہوئی۔ لوگوں اور خاص طور پر بچوں میں خوف وہراس کی نفسیات پیدا ہوئی۔ جس نے کم از کم دو نسلوں کی سوچ ، صلاحیت اور تخلیقی قوت کو برباد کیا۔ ا

 آپریشن جاری تھا کہ اچانک وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان اخلتافات پیدا ہو گئے۔ یہ اختلافات تب شروع ہوئے جب رینجرز نے کرپشن کے کیسز میں ہاتھ ڈالنا شروع کیا۔

 بلاشبہ کرپشن بے تحاشا حد تک موجود ہے، لیکن یہ رینجرز کا مینڈیٹ نہیں تھا۔ جس کے خلاف الگ سے پلان بنانے کی ضرورت ہے۔

 کرپشن کو دہشتگردی کے آپریشن کے ساتھ ملانے سے معاملات گڑبڑ ہونا شروع ہوئی۔ ہر ادارے کو اپنے مینڈیٹ اور دائرہ اختیار میں رہ کر کام کرنا چاہئے۔ ملک میں ایسے ادارے موجود ہیں جن کامینڈیٹ کرپشن کا خاتمہ ہے۔ یہ کام انہی اداروں کو دینے کی ضرورت ہے۔ 
 اب جو صورتحال ابھر رہی ہے اس میں وفاق اور صوبے درمیان ٹکراﺅ ایک نقطہ ہے جب کہ اس معاملے کے آپریشن پر پڑنے والے اثرات دوسرا نقطہ ہے۔ اپنی جگہ پر دونوں نکات اہم ہیں۔ یہ قرارداد خواہ کیسی بھی ہو وفاق کو سندھ اسمبلی کی رائے کا احترام کرنا چاہئے۔ وفاق کو صبر اور تحمل سے کام لینا چاہئے۔ غیر دانشمندانہ فیصلوں کا اب یہ ملک متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس لئے اسے کسی مہم جوئی سے باز رھنا چاہئے۔ 

Written on Jan 17, 2015 
For Nai Baat 

Will zardari attend BB death anniversary function>

 زرداری بی بی کی برسی میں شرکت کریں گے؟
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی

 سندھ بمقابلہ وفاق یا سندھ بمقابلہ رینجرز کے بحران گزشتہ چند ہفتوں کا قصہ نہیں۔ یہ معاملہ کراچی میں آپریشن شروع ہوتے ہی کے آغاز میں ہی سامنے آچکا تھا۔۔ لیکن اب وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے باقی چیزوں پر پردہ ڈالنے کے لئے اس کو صرف ایک شخص یعنی ڈاکٹر عاصم کو بچانے کا نام دیا اور میڈیا نے بڑے مزے سے اس خیال کو خرید کر لیا۔ 

معاملے کا آغاز تب ہوا جب پارٹی کے اہم رہنما آصف علی زرداری نے ” اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے“ کا بیاں دیا۔ اور اس کے بعد وہ دبئی چلے گئے۔ اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ الجھنیں بڑھتی گئیں۔ اس وقت وہ عملا خود ساختہ جلاوطنی میں ہیں۔یعنی اس بات پر سب متفق ہیں کہ اگر وہ واپس وطن آئے تو انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔اگرچہ یہ بات نہ وہ خود کر رہے اور نہ ہی پیپلزپارٹی نے تاحال ایسا اظہار کیا ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ سابق صدر ہونے کے ناطے ان کے ساتھ رعایت کی گئی ہے کہ صرف ڈاکٹر عاصم کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اور اسی کے ذریعے دباﺅ ڈالا جارہا ہے۔ 

آصف علی زرداری کے ساتھ آج کل وہی صورتحال ہے جو مشرف دور میں نواز شریف اور شہباز شریف کے ساتھ تھی۔ دوسرے دور حکومت میں نواز شریف کا مشرف کے ساتھ تنازع ہوا۔ان پر دہشتگردی اور ہائیجیکنگ کا کیس چلایا گیا۔ بعد میں سعودی عرب نے ثالثی کی۔ اور ڈیل کے تحت انہوں نے سعودی عرب میں پناہ لی۔ اطلاعات ہیں کہ آصف زرداری کی باحفاظت واپسی کے لئے بلاول بھٹو زرداری بھی اسلام آباد گئے تھے۔ جہاں انہوں نے اہم اور اعلیٰ سطح کے عہدیداران سے ملاقاتیں کیں۔ مگر معاملہ حل نہیں ہو سکا۔ یہ بات بھی کہی جارہی ہے کہ اس ضمن میں چوہدری اعتزاز احسن اور سنیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے بھی رول ادا کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ شرط رکھی جارہی ہے کہ زرداری صاحب اینٹ سے اینٹ بجانے والا جملہ سر عام واپس لیں۔

پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرادری سعودی عرب کیوں گئے ہیں۔ کیا پیپلزپارٹی بھی ثالث تلاش کر رہی ہے؟زرداری صاحب کی جلد وطن واپسی کی اس وجہ سے بھی ضرورت بڑھ گئی ہے کہ بینظیر بھٹو کی برسی 27 دسمبر کو ہے۔ کیا وہ بینظیر بھٹو کی برسی میں شرکت کر سکیں گے؟ مختلف ثالثوں کی ناکامی کے بعد اب وہ سعودی عرب کی مدد لے رہے ہیں ۔ ان کا زیادہ تر زور اس پر ہے کہ انہیں بینظیر بھٹو کی برسی میں شرکت کی اجازت دی جائے۔

 زرداری کے دور حکومت میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں وہ گرم جوشی نہیں رہی تھی جو نواز شریف کے دور حکومت میںرہتی ہے۔ لیکن پیپلز پارٹی کا خیال تھا کہ سعودی عرب کے اعلان حالیہ قائم کردہ اتحاد میں پاکستان کی بغیر پوچے شمولیت کی ملک میں توثیق کے لئے پیپلزپارٹی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ لیکن حالات اور واقعات بتاتے ہیں کہ سعودی عرب نے ایسی کوئی یقین دہانی پر رضامندی ظاہر نہیں کی ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ اس سے پہلے جنرل مشرف نے بھی وطن وپاسی کے لئے سعودی عرب کی سفارش ھاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ 

پیپلزپارٹی نے بینظیر بھٹو کی برسی پر لاڑکانہ میں بڑا جلسہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جس کا باقاعدہ فیصلہ سندھ پیپلزپارٹی کے اجلاس میں گزشتہ روز کیا گیا۔ پارٹی نہیں چاہتی کہ اس مرتبہ آصف زرادری برسی میں غیر حاضر رہیں۔ پارٹی کے لئے اس لئے بھی یہ مسئلہ اہم ہے کہ گزشتہ سال برسی میں بالول بھٹو زرادری نے برسی میں شرکت نہیں کی تھی۔ ان کی عدم موجودگی کو باپ بیٹے کے درمیان اختلافات بتائے گئے تھے۔ مطلب گزشتہ برسی میں بلاول بھٹو نہیں تھے کیا اس مرتبہ زرادری صاحب شرکت نہیں کر پائیں گے؟

 یہ آخری آپشن ہوگا کہ انہیں اگر شرکت کی اجازت نہ دی جائے تو ویڈیو لنک کے ذریعے جلسے سے خطاب کا موقعہ دیا جائے۔ 
صورتحال بینظیر بھٹو کی برسی تک واضح ہو جائے گی۔ اگر وہ برسی میں شرکت کرتے ہیں تو یہی سمجھا جائے گا کہ بات بن گئی ہے۔ 

اگر وہ برسی کے موقعہ پر نہیں آتے اور انہیں صرف ویڈیو لنک پر خطاب کرنے کی اجازت ملتی ہے۔ اگر یہ بھی نہیں ہوا تو یہ کہا جائے گا کہ طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے زرداری صاحب شرکت نہیں کر پائے ہیں۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے لیکن اس کے سربراہ ملک سے باہر ہیں۔ 

اب اسٹبلشمنٹ نے ایک اور پتہ کھیلا کہ سندھ اسمبلی کی قرارداد کی روشنی میں تیار کردہ سندھ حکومت کی سمری وفاقی حکومت نے مسترد کردی ہے اور اپنے طور پر آئین کے آرٹیکل 148 کے تحت رینجرز کے پولیسنگ کے اختیارت میں ساٹھ روز کی توسیع کردی ہے۔ اس کے بعد عملا سندھ میں وفاقی راج کی صورتحال ہے۔ سندھ حکومت اس معاملے پر سرینڈر نہیں کرنا چاہتی۔ اس معاملے پر وفاقی حکومت سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور اگر خاطر خواہ جواب نہیں ملا تو عدلیہ ار دیگر آئینی فورمز میں جائے گی۔ 

 دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کو اسی دائرے میں لینا چاہئے اور کرپشن کو کرپشن کے دائرے میں ہی لینے کی ضرورت ہے۔ معاملے کو انا پرستی، تم بڑے کہ ہم بڑے، کے جائے زیادہ سنجیدگی کی ضرورت ہے۔ اگر وفاق سندھ اسمبلی کی قراداد کو عزت نہیں دیتا، سندھ اسمبلی اگر
 دوبارہ قرارداد منظور کرتی ہے اور وفاق کے عمل کیمذمت کرتی ہے تو کیا ہوگا؟ اور یہ بھی کہ کل یہ معاملہ جن سنیٹ میں آئے گا تو کیا ہوگا؟ 
 سندھ کا معاملہ انتظامی یا ّئینی ماملہ نہیں جس طرح اسکو پیش کیا جارہا ہے۔

 ان دو طریقوں سے اس لئے پیش کیا جارہا ہے کہ متعلقہ فریقین خود کو ان پہلوﺅں میں اپنی سہولت محسوس کرتے ہیں۔ یہ 
معاملہ براہ راست سیاسی ہے۔ اس کو سیاسی طور پر ہی حل کرنے کی ضرورت ہے۔ 

 written on Dec 24, 2015  for Nai Baat

Tuesday, December 22, 2015

Grand Alliance 2015 edition -Sohail sangi

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
 سندھ میں گرینڈ الائنس کیوں؟

 سندھ میں رینجرز کو پولیسنگ کے اختیارات دینے کا تنازع جاری ہے ، جو کہ ابھی بحران کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ ایسے میں پہلے گرینڈ الائنس بننے کی خبریں آنے لگیں اس کے بعد اس کے قیام کا اور اب 9 جنوری سے صوبائی حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا علان سامنے آیا ہے۔ 

 23013 کے عام انتخابات کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے کہ نواز لیگ نے باقاعدہ پیپلزپارٹی کی حکومت کی سیاسی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ سیاست خواہ جمہوری حکومت میں حامی یا مخالف اتحادوں کا بننا کوئی نئی بات نہیں۔ پاکستان خواہ سندھ کی تاریخ ایسے متعدد اتحادوں سے بھری ہوئی ہے۔ ستر کے عشرے کے بعد جو اتحاد بنے ، ان میں سے سوائے ایم آرڈی کے باقی تقریبا سب کے سب پیپلزپارٹی کے خلاف اور اسٹبلشمنٹ کے حمایت میں بنے ۔ پاکستان قومی اتحاد ستر کے عشے کے آخر میں بنا ۔ یہ اتحاد نو ستاروں کی پی این اے کی تحریک کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ اس اتحاد کی ٹھریک کے نتیجے میں زوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹا گیا۔ اور ضیاءالحق نے ملک میں مارشل لا لوگو کردیا۔ جو دس سال تک رہا۔ اس دوران افغانستان کی پراکسی جنگ کے واقعات سمیت پاکستان نے معاشی طور پر خواہ خارجہ پالیسی، امن ومان ، ملک کی فکری سوچ اور دیگر شعبوں میں کیا کھویا، اس کے زخم ابھی تک ہرے ہیں ۔

 دوسرا بڑا اتحاد آئی جے آئی تھا جس کا مقصد ضیاءالحق کے باقیات کو بچانے کے ساتھ ساتھ پیپلزپارٹی کو پنجاب سے بے دخل کرنا تھا۔ 

ماضی قریب میں سندھ میں 9اتحاد بنا، جو پیر پاگارا کی قیادت میں 2013 کے انتخابات کے حوالے سے بنایا گیا تھا۔ اس کا مقصد پیپلزپارٹی کو سندھ میں ہی پھنسائے رکھنا اور پناجب کے لوگوں کو یہ پیغام دینا تھا کہ آپ لوگ کیوں پیپلزپارٹی کی حمیات کر رہے ہو، اسے تو اپنے گھر یعنی سندھ میں بھی شدید مخالفت کا سامناہے۔ سندھ کے قوم پرست حلقے اس سیاسی کھیل کو سمجھ نہ سکے کہ اس اتحاد کے نتیجے میں انہیں کچھ نہ ملنا ہے اور نہ ہی سندھ تبدیل ہونا ہے۔ اور وہ تالیاں بجا کر اس اتحاد میں شامل ہو گئے۔ یہ اتحاد نواز لیگ کی چھتری میں ہی بن رہا تھا۔ وہ انتخابات میں ووٹ بینک کے حوالے سے اپنا الگ اکاﺅنٹ کھولنے میں ناکام رہے، یوں انہوں نے اسٹبلشمنٹ کی اس پالیسی کو مضبوط کیا کہ پیپلزپارٹی کا متبادل قوم پرست یا کوئی اور لبرل حلقے نہیں بلکہ پیر پاگارا ہے جنہیں اسٹبلشمنٹ ستر کے عشرے سے سندھ میں متبادل کے طور پر تیار کررہی ہے۔ 

خیر یہ کھیل عملی طور پرانتخابات سے پہلے ہی ختم ہو گیا تھا لیکن اس کا باقاعدہ اعلان بعد میں ہوا۔ انتخابات کے دو سال بعد بھی قوم پرست اس معاملے کی چھان بین کر کے شاید اس نیتجے پر نہیں پہنچ پائے ہیں کہ اس اتحاد کا مقصد کیا تھا اور اس کے نیتجے میں کیا ہوا؟ 

 اب ایک بار پھر اس حساس صوبے میں گرینڈ الائنس کو اتارا گیا ہے۔ جو نہ صرف اپنے جوہر میں بلکہ نعرے میں بھی صرف پیپلزپارٹی مخالف اور پر اسٹبلشمنٹ ہے۔ اس کے پاس صوبے سماجی یا معاشی ترقی کے حوالے سے کوئی پروگرام یا نعرہ نہیں۔ یہ پیپلزپارٹی کا کا گلہ صرف رینجرز کو مزید مدت کے لئے اختیارات دینے کے تکرار کے وقت ہی نہین دبا رہی، بلکہ اس طرح سے وہ غیر جمہوری مطالبہ اور غیر سیاسی حلقوں کو مضبوط کر رہے ہیں۔ 

سندھ میں رینجرز 1997 سے موجود اور سرگرم ہے۔ رواں سال کراچی میں آپریشن کے حوالے سے انہیں پولیسنگ اختیارات دیئے گئے تھے۔ جس کی مدت 6 دسمبر کو ختم ہوگئی۔ سندھ حکومت کی جانب سے رینجرز کو عملی طور پر یہ اختیارات اب بھی حاصل ہیں ۔ اس میں سندھ اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے صرف اتنا اضافی کیا گیا ، جس کو اختیارات گھٹانا قرار دیا جارہا ہے وہ یہ کہ صرف بعض معاملات میں رینجرز صوبائی حکومت کے سربراہ جسے آپریشن کے کپتان ک نام دیا گیا تھا، ان کی اجازت ضروری قرار دی گئی ہے۔ 

 رینجرز کو اختیارات کا معاملہ آئین کے آرٹیکل 147 یا پھر رینجرز ایکٹ یا انسداد دہشتگردی قنون مجریہ 1997 کے تحت ہی آتنا چاہئے۔ قانونی ماہرین اس نقطے پر منقسم ہیں کہ کسی ایک قانون کے دائرے میں ہی معاملات آتے ہیں۔ دو منٹ کے لئے اگر مان بھی لیا جائے کہ ان تین قوانین میں سے کسی ایک دو یا تینوں کا اطلاق کیا جاتا ہے تب بھی صوبائی حکومت کی اتھارٹی کو برتری حاصل ہے۔ 

 آپریشن خواہ کسی شخص کے علاج کے لئے ہو یا دہشتگردوں کے خلاف ہو، وہ مقرر اور محدود مدت کے لئے ہی ہوتا ہے۔ اس یہ استحقاق اس اتھارٹی کو حاصل ہوتا ہے اس معاملے میں یہ اتھارٹی سندھ حکومت ہے، جو اس فورس کو مدد کے لئے طلب کرتی ہے۔ 

پاکستان خواہ سندھ کے سیاسی حلقوں کو سمجھنا چاہئے کی طویل عرصے تک قانون نافذ کرنے والے ادارے کو دینے کا مطلب سیاسی یا سویلین اتھارٹی کے اختیارات میں تجوز کرنا ہے۔ اس ضمن میں بلوچستان کا تجربہ ہمارے سمانے ہے۔ جہاں یہ بحران اب شدید تر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ یاں سویین اختیارات کم ہوتے گئے اب حکومت سازی اور دیگر فیصلے سازی میں سویلین کو اولیت حاصل نہیں رہی۔ 

تعجب کی بات ہے خیبر پختونخوا اور پنجاب جہاں دہشتگردی کے واقعات بھی ہوتے رہے، دہشتگردوں کی نرسریوں اور پناہ گاہوں کا بھی پتہ چلتا رہا، وہاں کبھی بھی رینجرز طلب نہیں کی گئی۔ 

 سندھ میں گرینڈ الائنس کا قیام رینجرز کے اختیارات اس کے بنیادی تجاد سے الگ نہیں ۔ سماجی علوم کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد ملک میں مرکزیت نہیں رہی۔ لةٰذا اس کا سیاسی اور انتظامی ڈھانچہ عدم کرکزیت والا بن گیا ہے۔ ریاستی مرکزیت نہیں اس کے باوجود اسٹبلشمنٹ کے پاس مرکزیت ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ہمارے ادارے عدم کرکزیت اور سیاسی بالادستی کے عدای بھی نہیں رہے ہیں۔ فیصلہ سازی میں سیاسی دھڑے کو اولیت یا برتری حاصل نہیں۔ اس ضمن میں جنرل مشرف کا سنیٹ کے چیئرمین رضا ربانی کے بارے میںغصے بھرا بیان معاملے کو اور بھی عیاں کر دیتا ہے۔ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ رضا ربانی نے اٹھارویں ترمیم بنا کر ریاستی مرکزیت خمت کردی ہے۔ اسٹبلشمنٹ امن وامان، خارجہ پالیسی، بیرونی تجارت ، حکمت عملی کے معاملات کو ہینڈؒ ل کرنے میں دقت محسوس کر ہی ہے۔ یہ ایک بنیادی تضاد ہے۔ اور سندھ کا حالیہ بحران اس تضاد سے باہر نہیں ۔

یہ درست ہے کہ پیپلزپارٹی کی بدترین حکمرانی نے لوگوں کو سخت پریشان کیا ہوا ہے۔ وہ سندھ کے لوگوں کو گزشتہ سات سال کے دوران سوائے سرکاری نوکریوں کے کچھ دے نہیں سکی ہے۔ پارٹی خواہ عوام، اور پارٹی کی ہر سطح کی قیادت اور کارکنوں کے درمیان فاصلے بڑھے ہیں۔ ایک خلاءپیدا ہوا ہے۔ جس کو پر کرنے کی نہ نواز شریف اور نہ عمران خان ضرورت محسوس کر رہے ہیں ۔ سندھ میں اس خلاءکو پر کرنے کے لئے ایسی قوتوں کو اتحاد کی شکل میں لایا جارہا ہے جو ایک آدھ کو چھوڑ کر آمریت کی حامی ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھی رہے ہیں اور ان کے سیاسی اور معاشی مفادات بھی آمریت سے وابستہ رہے ہیں۔ اس میں وہ جماعتیں بھی شامل ہیں جو 2008 کے انتخابات کے بعد حکومت میں پیپلزپارٹی کے ساتھ چمٹی ہوئی رہیں۔ ان قوتوں کا ماضی میں جمہویرت دوستی، یا عوام دوستی کا کوئی ریکارڈ نہیں۔ 
 یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ اس اتحاد سے اگر ایم کیو ایم کو الگ کردیا جائے اس کی عملی طاقت صفر ہے۔ یہ بات اس لئے بھی وزن رکھتی ہے کہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ان تمام جماعتوں کی کارکردگی رہی وہ سب کے سامنے ہے۔ یہ سب حضرات اس وقت ایسا کوئی اتحاد بنانے کی ضرورت محسوس نہیں کر رہے تھے۔ 
 حالیہ اتحاد کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ غلام مصطفیٰ جتوئی اور بڑے پیر پاگارا کے انتقال کے بعد سندھ میں پیپلزپارٹی مخالف کوئی قدآور شخصیت موجود نہیں۔ اب جو افراد موجود ہیں وہ سب اپنے قد میں ایک دوسرے کے برابر اور سب کے سب وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہیں۔ لہٰذا اتحادی ہونا اپنی جگی ان کے آپس میں مقابلے کی صورتحال اس مخالفت سے بھی شید تر ہے۔ جب کوئی وفاقی وزیر سندھ حکومت کو مختلف آپشنز کی دھمکی دے رہا ہوتا ہے تو تجزیہ نگاروں سمجھتے ہیں کہ وفاق کی نظر ممتاز بھٹو پر ہے جسے کل اختیارات کے ساتھ گورنر بنا دیا جائے گا۔ ایک فرد کے ذریعے حکومت بنانے اور چلانے کا تجربہ جام صادق فارمولا کے تحت تین چار مرتبہ کای جا چکا ہے۔ لیکن اس کا نتیجہ یہی نکلا ہے کہ اگر انہیں وفاق کی بیساکھی حاصل ہے تو ٹھیک ورنہ ایک روز بھی ٹہر نہیں سکتے۔ 

 یہ بدقسمتی اپنی جگہ پر کہ پیپلزپارٹی کی حکومت امن امان قائم کرنے ، لوگوں کو ڈؒیور کرنے اور کرپشن کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ اس ناکامی نے یہ جگہ پیدا کی کہ ریاستی ادارے بیچ میں آئیں۔ پیپلزپارٹی اگر اپنی گورننس درست نہیں کرے گی، پارٹی میں عوام اور کارکنوں کو جگہ نہیں دے گی تب تک اسے اس طرح کی صورتحال کا سمنا کرنا پرے گا۔ کیونکہ اس کی یہ ” حرکتیں“ سازگار حالات پیدا کرتی ہیں اور ایسا میلاپ پید اکرتی ہیں کہ غیر جمہوری عناصر مداخلت کریں یا آگےا آئیں ۔

 حالیہ گرینڈ الائنس کے ذریعے کسی مثبت تبدلی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ منتخب حکومت کے خلاف جب بھی اس طرح کے اتحاد بنتے ہیں یا تھڑٰک چلتی ہے۔عوام کو کبھی بھی کچھ نہیں ملا ہے۔اس سے جمہوریت اور سیاسی ادارے کمزور ہوئے ہیں۔ بینظیر بھٹو جیسی شخصیت کو بھی بالآخر میثاق جمہوریت بنانا پڑا۔