Thursday, March 11, 2021

تالپور وں کی سیاسی شناخت کیسے ختم ہوئی؟

 

تالپور وں کی  سیاسی شناخت  کیسے ختم ہوئی؟

سہیل سانگی        کراچی

تالپور  وں  نےہالانی  کے میدان میں کلہوڑوں سے  جنگ جیتی اور سندھ پر ساٹھ سال حکمرانی کی ۔لیکن میانی  کے میدان میں انگریزوں سے ہار گئے۔  تالپورآزاد  سندھ کے آخری حکمران تھے۔  پھر    نہ تالپوروں کی حکومت  رہی ، نہ سندھ آزاد  رہی ۔

انگریزوں  کے ہاتھوں سندھ کی فتح سے پہلے  تین تالپور برادران اپنے اپنے صوبوں کے حکمران تھے۔   میر  سہراب خان تالپور  کےخیرپور، میر فتح علی  خان  کے پاس حیدرآباد،  اور میرٹھارا خان  کے پاس میرپورخاص کی حکمرانی تھی۔  بعد میں انہی تین گھرانوں کے افراد سیاست میں آئے۔  ٹنڈو محمد خان اور ٹنڈو باگو  میں حیدرآباد کے تالپوروں کا خاندان میں سے تھے۔  

سیاست جاگیردارانہ کھیل

سندھ کی بامبئی سے علحدگی  کےوقت سندھ میں سیاست   جاگیردارانہ   کھیل  تھا۔    پچاس کے عشرے کے وسط تک    سیاسی  جوڑ   توڑ کا   عروج رہا۔ سترہ سال کے دوران  14 حکومتیں تشکیل دی گئی ۔ غلام حسین ہدایت اللہ پانچ مرتبہ، خانبہادرایوب  کھڑو تین مرتبہ،  اللہ بخش سومرو دو بار، جبکہ میر بندہ علی تالپور، عبدالستار پیرزادہ، قاضی فضل اللہ، پیر الہی بخش اور یوسف ہارون ایک ایک بار ویزراعلیٰ رہے۔ایوب کھڑو، میر بندہ علی تالپور، سید میراں محمد شاہ چار حکومتوں میں وزیر رہے۔ جاگیردار طبقے کے بیس افراداس دور میں سندھ  کے سیاہ و سفید کے مالک رہے۔ قیام پاکستان سے لیکر چون تک چھ بڑے جاگیردار  مرکز میں سندھ کی نمائندگی کرتے رہے۔  ایوب خان کے زرعی اصلاحات  اور سیاسی نظام عملی عکس ایک عشرے ظاہر ہوا۔ 

عوامی سیاست والے حیدرآباد کے میر

  حیدرآباد  کی سیاست میں تالپور خاندان   میں  نمایاں  رول  میر علی احمد تالپور اور میر رسول بخش تالپور کا رہا۔ دونوں  بھائیوں  نے سیاسی  کریئر کا آغاز   روشن خیال سیاست سے کیا۔   اور ان کا رنگ ڈھنگ  جاگیردارانہ  کے بجائے عوامی  تھا۔ علی احمد تالپور نے 1937 میں کانگریس  شمولیت اختیار کی۔ اور بعد میں خاکسار تحریک ،خان عبدالغفار خان کی پارٹی ،میاں افتخارالدین کی آزاد پاکستان پارٹی  سے ہوتے ہوئے 1951 میں مسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔ 1953 میں سندھ اسمبلی کے اور 1955 میں مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ وہ مغربی پاکستان کے وزیر بھی رہے۔

میر علی احمد   1970 میں  ذوالفقار علی بھٹو کی خالی کردہ نشست پر ضمنی انتخاب جیتے۔ لیکن  73ع کے آئین پر اختلافی نوٹ لکھا۔ 75ع میں پیپلزپارٹی کو خیرباد  کہا۔  جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا پر عمل کیا گیا، میر علی احمد میں ضیاء کی کابینہ میں  وزیر دفاع  تھے۔ علی احمد تالپور کے اس اقدام پر سندھ آج تک ناراض ہے۔ 1985 کے انتخابات میں کامیاب نہ ہو سکے  ۔

سازش مقدمات اور حیدرآباد کے میر

راولپنڈی سازش کیس کا جب مقدمہ حیدرآباد میں چلا تو میر رسول بخش تالپور کا بنگلہ  اسیران کے عزیزوں اور احباب کا مرکز بنارہا۔ یہی  روایت انہوں نے   نیشنل عوامی پارٹی کے خان عبدالولی خان،  میر غوث بخش بزنجوو دیگران  کے خلاف  چلنے والے مقدمے  میں بھی برقرار رکھی۔

رسول بخش تالپور  نے حیدرآباد میں  مزدور تحریک کو منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ گاڑی کھاتہ حیدرآباد کی ٹریڈیونین آفیس   ان کے نام پر کرایہ پر لی گئی تھی۔  میر برادران  نے  صدارتی الیکشن میں ایوب خان کے خلاف فاطمہ جناح کا ساتھ دیا۔  جب بھٹو نے  سندھ میں پیپلزپارٹی  منظم کرنا چاہی تو میر  رسول بخش  نےآگے بڑھ کر ساتھ دیا اور انہیں پیپلزپارٹی سندھ  کا صدر مقرر کیا گیا۔  بعد میں بھٹو سے اختلافات  پیدا ہو گئے اور انہوں نے  پارٹی سے استعیفا دے دیا۔

 میر رسول بخش تالپور ادب دوست تھے۔ فیض احمد فیض، احمد فراز اور دیگر بڑے بڑے شعراء ان کے مہمان رہ چکے ہیں۔

  میر علی احمد کے بیٹے  حیدر علی  تالپورضیاء کے غیر جماعتی انتخابات میں سندھی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ بعد میں ہونے والے انتخابات میں کسی میں بھی کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔  میر رسول بخش تالپور کے بیٹے میر رفیق تالپور  نے تین مرتبہ سیاست میں طبع آزمائی کی۔ لیکن کامیابی نصیب نہیں ہوئی،  اب سیاسی منظر میں نظر نہیں آتے۔

بڑوں   کی مدد سے سیاست :  میرپور خاص  کے میر

میرپور خاص  کے تالپور میں سے   میر الہدادا خان تالپور  بارہ برس تک مجلس قانون ساز کے رکن اور آٹھ سال تک ضلع لوکل بورڈ کے صدر رہے۔  ان کے بیٹے میر  امام بخش 1953 میں صوبائی وزیر  رہے ۔ بھٹو دور میں پیپلزپارٹی کےٹکٹ پر دو مرتبہ رکن سندھ اسمبلی  رہے۔  ان کے بیٹے میر لطف اللہ غیر جماعتی انتخابات میں رکن سندھ اسمبلی بنے۔

میران میرپورسے تعلق رکھنے والے دو بھائی  احمد خان تالپور 1946 سے 1956 تک  سندھ اسملی  کے رکن  رہے  اور محمد بخش تالپور  ویسٹ پاکستان اسمبلی کے رکن رہے۔

اس خاندان کے ایک اور فرد میر علی بخش تالپور 1970 میں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب جیتے ۔ان کے بیٹے منور تالپور   جنرل ضیاء کی مجلس شورا کے ممبر بنے۔بعد میں  غیر جماعتی انتخابات میں رکن صوبائی اسمبلی  رہے۔  1988 میں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ  انتخاب جیتنے کے بعد صوبائی کابینہ کے رکن بھی۔ 1990، سے لیکر تمام انتخابات میں وہ منتخب ہوتے رہے۔ فریال تالپور ان کی اہلیہ ہیں۔

 سندھ یونیورسٹی کی طلباء یونین   سے سیاسی کریئر کا آغاز کرنے والے یوسف تالپور   قوم پرس ت سمجھے جاتے ہیں وہ       1977 میں عمرکوٹ سے پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ ممتاز بھٹو کے سندھی بلوچ پشتون فرنٹ  کی حمایت سے  1988 اور 1990 میں  الیکشن ہار نے کے بعد انہیں  دوبارہ پیپلزپارٹی میں  آنا پڑا ۔ اس کے بعد اور وفاقی وزیر اورتین مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔  یوسف تالپورکے بیٹے تیمور تالپور آج کل سندھ اسمبلی کے رکن اور صوبائی وزیر ہیں۔

1988  میں    صرف میرپورخاص کی تالپور  فیملی سے میر منور تالپور اور  میر حیات تالپور صوبائی اسمبلی کے رکن بن سکے۔  1990  میں بھی یہ دو نوںصاحبان  صوبائی اسمبلی تک پہنچ سکے۔ جبکہ1993     میں  انکے علاوہ میر اللہ بچایوتالپور بھی ایم پی اے بن سکے۔ ان تینوں میر صاحبان نے 1997 میں بھی  اپنی پوزیشن برقرار رکھی ۔

 مشرف دور کے انتخابات میں  محبوب تالپور  اور ذوالفقار  علی تالپور  ،  تیمور خان تالپور  جیت کر آئے۔   بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد ہونے والےانتخابات میں   حاجی حیات تالپور ، محبوب تالپور، میر تیمور تالپور رکن سندھ اسمبلی بنے۔

2013 کے انتخابات میں  میر اللہ بخش تالپور بدین سے اور میر حیات تالپور،  نواب تیمور تالپور میرپورخاص سے رکن اسمبلی بنے۔  ان خاندانوں نے 2018 کے انتخابات میں بھی اپنی پوزیشن برقرار رکھی۔   میراللہ بخش تالپور،  ذوالفقار تالپور،  میر طارق علی تالپور ( حیات تالپور کے پوتے) محمد تیمور تالپور  سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ آج کل قومی اسمبلی میں  میر منور تالپور اور  یوسف تالپور موجود ہیں۔ دونوں کا تعلق میرپورخاص کے تالپور خاندان سے ہے۔

بادشاہ گر  میر ٹنڈو محمد خان والے

ٹنڈو محمد خان کے تالپوروں  نے   میر غلام علی تالپور  کی وجہ سےقیام پاکستان سے پہلے اور بعد کے ابتدائی برسوں میں سیاست میں بڑا  نام پیدا کیا۔  وہ ایک عشرے تک  سندھ میں بادشاہ گر رہے۔ انہوں  1936 سے  لیکر کبھی بھی الیکشن نہیں ہارا۔  1940 سے ایوب خان تک    کابینہ میں رہے ۔ دو مرتبہ وزیراعلیٰ سندھ بنتے رہ گئے۔ پہلی مرتبہ مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی میں یوسف ہارون سے دو   سووٹوں سے ہار گئے دوسری مرتبہ ایبڈو کے تحت نااہل قرار دیئے جانے   کے پیش نظر انہوں نے عبدااستار پیرزادہ کو ویزراعلیٰ نامزد کیا۔

سکھر میں مسجد منزل گاہ کے واقعہ کے بعد وزیر اعظم  اللہ بخش سومرو اپنی اکثریت قائم نہ رکھ سکے۔ تب  گورنر  سندھ نے میر بندہ علی کو  کابینہ بنانے کی دعوت دی۔ تالپور لابی اتنی مضبوط  تھے کہ خانبہاردر ایوب کھڑو اور جی ایم سید  جیسی شخصیات   ان کی کابینہ میں  وزیرتھیں۔میر غلام علی تالپور کے بھائی  میر علی نواز تالپور عبدالستار پیرزادہ کابینہ میں وزیر رہے۔

سہ فریقی رسہ کشی

چالیس کے عشرے میں میر اور سید گروپوں کے درمیان کشمکش  کے باعث وزراء اور لیگی  کے درمیان اقتدار کی جنگ تیز ہوگئی۔1946 کے انتخابات کے موقعہ پر  تالپور بطورایک اہم سیاسی گروپ کے موجود تھے، لیگ کی ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے جی ایم سید، میر گروپ اور کھڑو  کے درمیان  سہ فریقی رسہ کشی ابھر کر سامنے آئی۔  شیخ غلام حسین، میر ، اورکھڑو    آپس میں مل گئے اورسید لا بی کے خلاف ہوگئے۔

بعد   میں پروڈا کے تحت ایوب کھڑو کے خلاف  جن تین وزراء  نے پٹیشن دائر کی ان میں  آغا غلام نبی پٹھان اور قاضی فضل اللہ   کے ساتھ میر غلام علی  بھی شامل تھے  ۔ جوابی حملے کے طور پر ایوب کھڑو نے ان تینوں وزراء کے خلاف بد انتظامی اور عہدے کے غلط استعمال  کے الزامات   میں ایک درخواست دائر کی۔ ایوب  کھڑو اور قاضی فضل اللہ نے میر غلام علی تالپور کو  دو سال کے لئے  پارٹی سےخارج  کرنا چاہا لیکن خواجہ ناظم الدین  نےمداخلت  کی ۔

ون یونٹ اور تالپور وں کا کردار

ملک کے مقتدرہ قوتوں نے جب ملک میں ون یونٹ نافذ کرنا چاہا، غلام علی تالپور سندھ اسمبلی کے اسپیکر تھے۔ ان پر دبائو ڈالا گیا کہ وہ ون یونٹ کے قیام کا بل منظور کرائیں۔ انکار پر بندوق کی نوک پر انہیں ان کی رہائش گاہ حیدرآباد سے اغوا کیا گیا تھر کے صحرا مٹھی لے جایا گیا۔ تب کوئی روڈ نہیں تھا۔ لہٰذا انہیں اونٹ پر بٹھا کے لے جایا گیا۔  بعد میں میر غلام علی تالپور نے ایوب کھڑو کی حکومت گرانے کی کوشش کی۔ تو میر گروپ کے کچھ راکین کو گرفتار کر لیا گیا۔

تالپوروں کی بادشاہ گری میر غلام علی تالپور  کی زندگی تک ہی رہی۔

میر غلام علی تالپور کے  دو بیٹوں اعجاز تالپور اور  ممتاز تالپور  نے بھی سیاست میں حصہ لیا۔  لیکن جب تک انہیں پیپلزپارٹی  کی حمایت رہی  انہوں نے انتخاب جیتا ورنہ  ناکامی ان کا مقدر بنی رہی۔ میر اعجاز کے بیٹے میر عنایت  صرف  1985 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوسکے۔ 

میر غلام علی تالپور  کے کزن میر بندہ علی تالپور 1937 میں  سندھ لیجسلیٹو اسمبلی  کے رکن بنے۔ سر غلام حسین ہدایت اللہ کی پہلی  کابینہ میں   وزیرتھے۔ اللہ بخش سومرو کی  کابینہ  ختم ہونے کے بعد کچھ عرصے تک  وزیراعلیٰ رہے۔1946 اور 1953 میں رکن سندھ اسمبلی ہوئے اس کے بعد ان کا نام سیاسی افق سے  نظر نہیں آئے ۔

میربندہ علی کے بیٹے میر غلام علی تالپور  جنرل ضیاء کی شورا کے ممبر نامزدہوئے اس کے بعد  سیاسی پلٰت فارم  پر نظر نہیں آتے۔ میر غلام علی کے چھوٹے بھائی میر محمد حسن عرف میر بابو پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن جیتے۔

 خیرپور  کے بادشاہ لوگ میر

قیام پاکستان کے ابتدائی  9 سال تک خیرپور الگ ریاست  رہی۔ لہٰذا  یہاں کے تالپور وںکا ملکی سیاست سے کوئی تعلق نہ  رہا۔  ون یونٹ ٹوٹنے کے بعد  خیرپور   سندھ اور ملکی سیاست کا حصہ بنی۔

خیرپور کے  تالپور خاندان کی سیاست میں کم دلچسپی رہی۔  وہ کہتے ہیں کہ عزت اور دولت دونوں ہمارے پاس ہے۔ ہم نہ کسی کو تنگ کرنا چاہتے ہین نہ کسی کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں ۔ خیرپور کے تالپور اپنے بادشاہی رویے،  اور بیگمات کے  محلاتوں کی تعمیر  کے لئے مشہور ہیں۔ فیض محل، دلشاد محل اور دیگر محلات یادگار ہیں۔ اس خاندان سے   1970 میں  پہلی مرتبہ  میر عطاحسین تالپور  رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور صوبائی وزیر بھی بنے ۔  ضیاء الحق کے غیر جماعتی انتخابات میں   میر  غلام علی عرف گلن تالپور رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے۔

اس کے برعکس زیریں سندھ لاڑ کے تالپور میں ایسی شخصیات بھی پیدا ہوئیں جنہوں نے  رفاحی کام کئے۔ میر غلام محمد تالپور نے ٹنڈو باگو میں ہائی اسکول  بمع ہوسٹل قائم کیا،  جہاں سے ہزاروں  غریب گھروں کے بچوں نے تعلیم حاصل کی۔ ٹنڈو جام کے کامریڈ میر محمد تالپور کمیونسٹوں کے ساتھ رہے۔ اور سندھ  کی کسان تحریک میں بھرپور کردار ادا کیا۔  ٹنڈو باگو کے میر خدابخش  تالپور نے اپنی بیگم کے لئے صاحباں محل تعمیر کروایا۔

تالپور  سیاست میں غیرموثر کیسے ہوئے؟ منظر نامہ کیسےبدلا؟

قیام پاکستان  کے بعد  ایک عشرے تک ملک بھر اور خاص طور پر سندھ میں محلاتی سازشوں کا دور رہا۔ اس دور میں سندھ کی سیاست میں کسی کو بنانا یا  ناکام کرنا   تالپور  وں  کے ہاتھ میں تھا۔  ساٹھ کے عشرے کے اواخر میں  ون یونٹ کے خلاف تحریک اور بھٹو  کی پیپلزپارٹی  کے ذریعےعوامی سیاست کی لہر آئی تو تالپور خاندان لا پتہ ہو گئے۔   بعد میں بھٹو  کو سزائے موت اور ایم آرڈی  کی تحریک  نے پوری سیاست کا منظر نامہ ہی بدل دیا۔یہاں تک کہ  1988  کے بعد تین انتخابات میں تالپوراتنے غیر موثر ہوگئے کہ کوئی بھی تالپور قومی اسمبلی تک نہ پہنچ سکا۔   ماضی کے حکمران خاندان کے صرف وہی فرد میدان میں رہے جو سیاسی عمل کا حصہ بنے اور ایکٹوازم کی۔  بعض افراد اسٹبلشمنٹ کے آسرے پر رہے، کہ کب غیر مقبول سیٹ اپ بنتا ہے اور انہیں بھی شریک اقتدار کیا جاتا ہے۔

ون یونٹ کے خلاف سندھ کے مڈل کلاس کی تحریک ،ذوالفقار علی بھٹو کے معاشی و انتظامی اصلاحات اور سیاسی حکمت عملی نے نئے پاور بروکر زپیدا کئے۔  جاگیرداروں کاسیاست میں عمل دخل کم ہو گیا۔   سیاسی حرکیات تبدیل ہو گئیں۔اب  سیاست کرنے کے لئے صرف بڑی زمینداریاں اور پیسہ کافی نہیں تھی۔

 بینظیر بھٹو کی مقبول لہر کے دوران اکثر تالپور سیاستدان پیپلزپارٹی میں شامل ہو گئے۔ لیکن  نواب یوسف تالپور اور میر علی بخش تالپور  یا کسی حد تک بدین  تالپور خاندان  سیاسی وجود برقرار رکھ پائے۔تاہم  انیس سو تیس  کے عشرے سے لیکر پچاس کے عشرے کی طرح ان کی اپنی کوئی الگ سے شناخت یا گروپ نہیں رہا۔  یہ عجیب بات ہے کہ  سیاست میں تالپروں کی جگہ سیدوں نے لی۔س

================================================

تالپور خاندان

سہیل سانگی

تالپور  ہالانی میں کلہوڑوں سے  جنگ جیتے اور سندھ پر ساٹھ سال حکمرانی کی ۔لیکن میانی  کے میدان میں انگریزوں سے ہار گئے۔  یوں تالپورآزاد کے آخری حکمران تھے۔  سندھ کی حکمرانی ان سے کیا گئی، پھر کبھی   سندھ کی آزادی رہی نہ تالپوروں کی حکومت۔

مورخ ایچ ٹی سورلے لکھتے ہیں کہ  شکارپور اور سکھر کو اپنی حکومت میں شامل کرنے کے بعد میروں نے سندھ کو ایک وحدت کے اندر میں لانے کا منصوبہ مکمل کرلیا۔ اس کے بعد اس پر حکمرانی کی، یہ ایسی صورتحال تھی جس سے سندھ صدیوں تک واقف نہیں تھا۔

ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہاتھوں سندھ کی فتح سے پہلے سندھ میں تالپور خاندان چویاری کے ذریعے حکومت کرتے تھے۔ یعنی چار  تالپور برادران کو الگ الگ صوبے دیئے گئے تھے۔   میر مراد علی تالپور کو خیرپور، میر۔۔۔ کو حیدرآباد، میر ۔۔۔۔ کو ٹنڈو محمد خان اور بدین، میر ۔۔۔ میرپورخاص۔  بعد میں جو تالپوران سیاست میں آئے  ان کا انہی چار خاندانوں سے تعلق رہا۔  قیام پاکستان کے ابتدائی  9 سال تک خیرپور الگ ریاست  رہی۔ لہٰذا  یہاں کے تالپور کا ملکی سیاست سے کوئی تعلق نہ تھا۔  ون یونٹ  کے قیام  کے ساتھ خیرپور ریاست کو بھی مغربی پاکستان میں ضم کردیا گیا۔ ون یونٹ ٹوٹنے کے بعد  خیرپور   سندھ اور ملکی سیاست کا حصہ بنی۔

پیر علی محمد راشدی نے کیا خوب  لکھا :   سندھ کے  مال دار لوگ  سردار وڈیرے، میر ،پیر مخدوم اور سیٹھ، شاہوکار وکیل، افسران  ریٹائرڈ یا غیر ریٹائرڈ حاضر گٹھ جوڑ کئے ہوئے ہوتے تھے۔ آپس میں مل بیٹھ کر بندربانٹ کرلیتے تھے۔ اس سیاست کا مقصد بھی محدود ہوتا تھا۔  محض کمشنر صاحب کو خوش کرنا،  افسران پر اثر ڈالنا،  غریب عوام پرسکہ جمانا ،  اپنے حریفوں کو نیچا دکھانا ذاتی پذیرائی،  ذاتی مفادات حاصل کرنا،  

سنتیس سے لیکر چون تک  سندھ میں 14 حکومتیں تشکیل دی گئیَ جن میں غلام حسین ہدایت اللہ پانچ مرتبہ، ایون کھڑو تین مرتبہ،  اللہ بخش سومرو دو بار، جبکہ میر بندہ علی تالپور، عبدالستار پیرزادہ، قاضی فضل اللہ، پیر الہی بخش اور یوسف ہارون ایک ایک بار ویزراعلیٰ رہے۔ایوب کھڑو، میر بندہ علی تالپور، سید مراں محمد شاہ چار حکومتوں میں وزیر رہے۔ جگیردار طبقے کے بیس افراد، سترہ برسوں میں سندھ  کے سیاہ و سفید کے مالک رہے۔ قایم پاکستان سے لیکر چون تک چھ بڑے جاگیردار  مرکز میں سندھ کی نمائندگی کرتے رہے۔

سندھ کی تاریخ جے صفحات بتاتے ہیں کہ  انیس سو تیس سے لیکر پچاس کے عشرے تک تالپور  سندھ کی سیاست میں اہم کرادر ادا کر رہے تھے۔ لیکن ساٹھ کے عشرے کے اواخر میں جب عوامی سیاست کی لہر آئی تو تالپور خاندان پتہ ہو گئے۔  یہاں تک کہ  1988  کے بعد تین انتخابات میں تالپورتنے غیر موثر ہوگئے کہ کوئی بھی تالپور قومی اسمبلی تک نہ پہنچ سکا۔

 

سینتیس سے لیکر پینتالیس تک  کی اسمبلی میں ساٹھ اراکین میں سے تین تالپور تھے۔  تھرپارکر سے سردار بہادر میر الہداد خان تالپور،   بدین سے غلام علی تالپور  ،  حیدرآباد سے میر غلام اللہ تالپور اور میر حسین بخش تھے۔

میر غلام علی تالپور  کا تالپور خاندان کی سیاست میں نہایت ہی  سرگرم رول رہا۔ انہوں  1936 میں بدین سے انتخاب  سے اپنے سیاسی کریئر کا آغاز کیا۔ انہوں نے کبھی بھی الیکشن نہیں ہارا۔  1940 سے کر  کابینہ میں رہے جب ایون خان نے آکر مارشل لاء نافذ کیا۔ دو مرتبہ وزیراعلیٰ سندھ بنتے رہ گئے۔ پہلی مرتبہ مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی میں یوسف ہارون سے دو   سووٹوں سے ہار گئے دوسری مرتبہ انہیں ایبڈو کے تحت نااہل قرار دیا گیا، انہوں نے عبدااستار پیرزادہ کو ویزراعلیٰ نامزد کیا۔

بمبئی سے سندھ کی علحدگی کے بعد سندھ کونسل  ہوئے اور اللہ بخش سومرو وزیراعلیٰ  منتخب ہوئے۔ تیس  کے اواخر میں سکھر میں مسجد منزل گاہ کے واقعہ کے بعد اللہ بخش سومرو اپنی اکثریت قائم نہ رکھ سکے۔ مارچ 1940 میں گورنر  سندھ نے میر بندہ علی کو  کابینہ بنانے کی دعوت دی۔ تب تالپور لابی اتنی مضبوط  تھے کہ انہوں نے اپنی وزارت میں خانبہاردر ایوب کھڑو اور جی ایم سید  جیسی قدآوار سیاسی شخصیات کو  بور وزیر لیا۔

چالیس کے عشرے میں میر اور سید گروپوں کے درمیان روایتی کشمکش  کے پس منظر میں وزراء اور لیگی  کے درمیان اقتدار کی جنگ تیز ہوگئی۔

1946 کے انتخابات کے موقعہ پر  تالپور بطورایک اہم سیاسی گروپ کے موجود تھے، لیگ کی ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے جی ایم سید، میر گروپ اور کھڑو  کے درمیان  سہ فریقی رسہ کشی ابھر کر سامنے آئی۔  شیخ غلاام حسین، میر ، اورکھڑو   سید لا بی کے خلاف ہوگئے۔  

دوسری سندھ اسمبلی میں خانبہادر میر غلام علی تالپور حیدرآباد سے،  میر بندہ علی تالپور بدین سے،  خانبہادر میر حسین بخش تالپور، 

قیام پاکستان کے چار سال بعد  پروڈا کے تحت ایوب کھڑو کے خلاف  جن تین وزراء  نے پٹیشن دائر کی ان میں  آغا غلام نبی پٹھان اور قاضی فضل اللہ   کے ساتھ میر غلام علی  بھی شامل تھے  ۔ جوابی حملے کے طور پر ایوب کھڑو نے ان تینوں وزراء کے خلاف بد انتظامی اور عہدے کے غلط استعمال  کے الزامات   میں ایک درخواست دائر کی۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس میں اہم کردار علی محمد راشدی کا تھا۔ ایوب  کھڑو اور قاضی فضل اللہ نے سندھ مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی سے قرارداد منظور کرائی کہ میر غلام علی تالپور کو  پارٹی سے دو سال کے لئے خارج کیاجائے۔ لیکن خواجہ ناظم الدین کی مداخلت پر یہ معاملہ رک گیا۔

تیسری سندھ اسمبلی میں   ساٹھ کے ایوان میں تین تالپور میر بندہ علی تالپور  (بدین)، میر احمد خان تالپور (میرپور خاص تھرپارکر)، میر غلام علی تالپور  (حیدرآباد) رکن تھے۔ یعنی زیریں سندھ کے  تینوں سابق حکمراں تالپور خاندانوں کو نمائندگی حاصل تھی۔

 راولپنڈی سازش کیس کا جب مقدمہ حیدرآباد میں چلا تو میر رسول بخش تالپور کا بنگلہ  اسیران سازش کیس کے عزیزوں اور احباب کا مرکز بنارہا۔ یہی صورتحال  نیشنل عوامی پارٹی کے رہنمائوں پر چلنے والے مقدمے کی بھی تھی۔

رسول بخش تالپور  نے حیدرآباد میں  مزدور تحریک کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ حیدرآباد کی ٹریڈیونین آفیس  آخر تک ان کے نام پر کرایہ پر چلتی رہی، جو کہ بعد میں نعپ کی آفیس بنی۔  رسول بخش تالپور نے ایوب خان کے خلاف صدارتی الیکشن میں  محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا۔  جب بھٹو نے  سندھ میں پیپلزپارٹی  منظم کرنا چاہی تو میر صاحب نےآگے بڑھ کر ساتھ دیا اور انہیں پیپلزپارٹی صدر کا صدر مقرر کیا گیا۔

ملک کے مقتدرہ قوتوں نے جب ملک میں ون یونٹ نافذ کرنا چاہا، غلام علی تالپور سندھ اسمبلی کے اسپیکر تھے۔ ان پر دبائو ڈالا گیا کہ وہ ون یونٹ کے قیام کا بل منظور رکائیں۔ انکار پر بندوق کی نوک پر انہیں ان کی رہائش گاہ حیدرآباد سے اغوا کیا گیا تھر کے صحرا مٹھی لے جایا گیا۔ تب کوئی روڈ نہیں تھا۔ لہٰذا انہیں اونٹ پر بٹھا کے لے جایا گیا۔ 

ون یونٹ کے قیام کا احوال اردشیر کاوسجی نے ان الفاظ میں کیا ہے: جب ون یونٹ کا بل منظوری کے لئے سندھ اسمبلی میں کیا جانا تھا، وزیراعلیٰ ایوب کھڑو نے پیر علی محمد راشدی  کے گٹھ جوڑ سے  تالپوروں  کے خلاف اقدامات کئے۔ میر علی احمد تالپور کو گرفتار کر لیا گیا۔ میر رسول بخش  تالپور روپوش ہو گئے۔ اور غلام علی تالپور کو اغوا کیا گیا۔  بعد میں میر غلام علی تالپور نے ایوب کھڑو کی حکومت گرانے کی کوشش کی۔ تو میر گروپ کے کچھ راکین کو گرفتار کر لیا گیا۔

چوتھی سندھ اسمبلی جو  ستمبر 1953 سے  مارچ 1955 تک رہی، اس میں  سات تالپور ایوان میں پہنچے، اس مرتبہ میرپورخاص کی تالپور خاندان نے زیادہ نمائندگی حاصل کی۔ ان میں   میر غلام علی تالپور، میر احمد خان نگرپاکر سے، میر علی احمد تالپور حیدرآباد سے، میر علی نواز تالپور، میر اللہ بچایو خان ڈگری،  میرمحمد بخش تالپور ٹنڈو باگو،  میر بندہ علی تالپور  ٹنڈو محمد خان سے تھے۔  اس کے بعد ون یونٹ قائم کرکے چاروں صوبوں کو ایک صوبے مغربی پاکستان میں ضم کردیا گیا۔

ملک کے مقتدرہ قوتوں نے جب ملک میں ون یونٹ نافذ کرنا چاہا، غلام علی تالپور سندھ اسمبلی کے اسپیکر تھے۔ ان پر دبائو ڈالا گیا کہ وہ ون یونٹ کے قیام کا بل منظور رکائیں۔ انکار پر بندوق کی نوک پر انہیں ان کی رہائش گاہ حیدرآباد سے اغوا کیا گیا تھر کے صحرا مٹھی لے جایا گیا۔ تب کوئی روڈ نہیں تھا۔ لہٰذا انہیں اونٹ پر بٹھا کے لے جایا گیا۔ 

ون یونٹ کے قیام کا احوال اردشیر کاوسجی نے ان الفاظ میں کیا ہے: جب ون یونٹ کا بل منظوری کے لئے سندھ اسمبلی میں کیا جانا تھا، وزیراعلیٰ ایوب کھڑو نے پیر علی محمد راشدی  کے گٹھ جوڑ سے  تالپوروں  کے خلاف اقدامات کئے۔ میر علی احمد تالپور کو گرفتار کر لیا گیا۔ میر رسول بخش  تالپور روپوش ہو گئے۔ اور غلام علی تالپور کو اغوا کیا گیا۔  بعد میں میر غلام علی تالپور نے ایوب کھڑو کی حکومت گرانے کی کوشش کی۔ تو میر گروپ کے کچھ راکین کو گرفتار کر لیا گیا۔

دوسری قومی اسمبلی   میں میر غلام علی تالپور  رکن رہے۔ یہ اسمبلی جو  1955 سے 1959 تک  رہی۔

ویسٹ پاکستان اسمبلی  میں میر علی بخش تالپور، میر علی مردان خان تالپور خیرپور،  میر علی نواز تالپور ولد بندہ علی تالپور،  میر اللہ بچایو تالپور میرپور خاص، میر غلام علی تالپور، میر محمد بخش تالپور۔ جبکہ  میر علی احمد تالپور  مغربی پاکستان حکومت کےوزیر  بھی رہے۔

دوسری ویسٹ پاکستان اسمبلی   میں   تالپور خاندان کے چار افراد خدابخش خان تالپور،   میر محمد بخش تالپور،  محمد خان تالپور،  میر رسول بخش تالپور ممبر رہے۔  ون یونٹ دور میں میر اعجاز تالپور  دو مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن رہے  ۔

ویسٹ پاکستان کی تیسری اسمبلی میں میر خدابخش تالپور، میر محمد بخش تالپور، ولی محمد تالپور حیدرآباد

ون یونٹ ٹوٹنے کے  کے بعد  1970 میں پانچویں  سندھ  اسمبلی کے انتخابات ہوئے۔ ان انتخابات میں  پہلی مرتبہ  خیرپور سے میر عطاحسین تالپور  رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور صوبائی وزیر بھی بنے ۔ جبکہ  میر رسول بخش تالپور حیدرآباد،  میر ممتاز تالپور ٹنڈو محمد خان سے،  امام بخش تالپور میرپورخاص سے رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے۔ بنگلادیش بننے کے بعد جب ذوالفقار علی بھٹو نے حکومت سنبھالی تو میر رسول بخش خان تالپور گورنر سندھ اور مشیر اعلیٰ سندھ بھی رہے۔

 ضیاء الحق کے غیر جماعتی انتخابات میں  سات تالپور

 میر  غلام علی عرف گلن تالپور خیرپور،  میر حیدر تالپور حیدرآباد،  میر اعجاز تالپور ٹنڈو محمد خان،  میر اللہ بخش تالپور بدین،  میر لطف اللہ تالپور میرپورخاص،  میر حاجی حیات تالپور ڈگری،  میر منور تالپور میرپورخاص،  

اس مدت کے لئے میر عنایت تالپور قومی اسمبلی کے رکن رہے۔

 بینظیر بھٹو کی مقبول لہر کے دوران اکثر تالپور سیاستدان پیپلزپارٹی میں شامل ہو گئے۔ تاہم ان کی اپنی کوئی الگ سے شناخت یا گروپ نہیں رہا۔  1988  میں    صرف میرپورخاص کی تالپور  فیملی سے میر منور تالپور اور  میر حیات تالپور صوبائی اسمبلی کے رکن بن سکے۔  1990  میں بھی یہ دو صاحبان میر منور تالپور   اورمیر حیات تالپور صوبائی اسمبلی تک پہنچ سکے۔ جبکہ1993     میں  میر منور تالپور اور حیات تالپور کے علاوہ میر اللہ بچایوتالپور بھی ایم پی اے بن سکے۔ یان تینوں میر صاحبان نے 1997 میں بھی  اپنی پوزیشن برقرار رکھی ۔

 مشرف دور کے عام انتخابات میں  محبوب تالپور میرپورخاص،   محمد حسن  تالپور بدین،  تیمور خان تالپور، ذوالفقار  علی تالپور جیت کر آئے۔   بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد 2008 میں منعقدہ انتخابات میں محمد حسن تالپور بدین،  حاجی حیات تالپور ، میر محبوب تالپور، میر تیمور تالپور۔

2013

 میر اللہ بخش تالپور،  میر حیات تالپور،  نواب تیمور تالپور،

2018

 میراللہ بخش تالپور،  ذوالفقار تالپور،  میر طارق علی تالپور ( حیات تالپور کے پوتے) محمد تیمور تالپور

اب قومی اسمبلی

 میر منور تالپور، میر یوسف تالپور،

پہلی قومی اسمبلی میں کوئی تالپور نہیں۔

قومی اسمبلی 1962 سے 64 تک

 میر اعجاز علی تالپور،

1965 سے 1969 تک

میر اعجاز تالپور،

1970

میر اعجاز تالپور،  میر اللہ بخش

1977

میر اعجاز تالپور،  

غیر جماعتی

 

1988

1990

1993

یوسف تالپور،

1997 سے 1999

2002

یوسف تالپور۔  عبدالغنی تالپور

2008

میر منور تالپور،  یوسف تالپور،

2013 سے 2018

ٹنڈو محمد خان کے تالپروں میں میر اعجاز ، میر مشتاق، میر ممتاز، میرمحمد حسن تالپور

 

میر الہ یار خان تالپور، میر الہداد خان تاالپور، تیس اور چالیس کے عشرے میں اسمبلی میں رہے۔

میر احمد خان تالپور 1946 سے لیکر1956 تک اسملی ممبر رہے میر محمد بخش تالپور

حیدرآباد کے میران

  • Mir Nabi Bukhsh Talpur
  • Mir Rasool Bukhsh Khan
  • Mir Ali Ahmed Khan
  • Mir Haider Ali Khan
  • Mir Rafiq Ahmed Khan
  • Mir Muhammad Ali Talpur
  • Mir Suleiman Khan Shahdadani

www.drpathan.com/index.php/online-library/dr-pathan/books-by-dr-pathan/1193-list-of-all-members-of-sindh-assembly-from-27th-april-1937-till-date

 

 

 


جتوئی خاندان- ملک گیر سیاست سے ضلع سطح تک

جتوئی خاندان        ملک گیر سیاست سے ضلع سطح تک

اقتدار کا پیالہ جس کی تمام عمر بھر پیاس رہتی ہے

سہیل سانگی

 ’ہم پیدائشی حاکم ہیں، لہٰذا کسی نہ کسی طرح سے اقتدار میں رہتے ہیں۔‘     غلام مرتضیٰ جتوئی نے ایک امریکی صحافی کو اپنے گاں اور زمینوں کا دورہ کرتے وقت کہا تھا۔ جتوئی اس جاگیردار طبقے کا نمائندہ ہے جو  اب ختم ہونے  جارہا ہےتاہم  سندھ کے معاشرے اور سیاست میں اثر رسوخ رکھتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد جو بھی حکومتیں نے زمین کی ملکیت کی تقسیم میں عدم توازن کو کبھی بھی ٹھیک کرنے کی کوشش نہیں کی۔ نتیجے میں وڈیرے، سردار جاگیردار ، خان، چوہدری اور بھوتار اپنی قبائلی زمینی وراثت کے ساتھ موجود رہے۔ یہ لوگ لوگوں پر  معاشی اور معاشرتی  حوالے سے ہی نہیں سیاسی حوالے سے بھی حکمرانی کرتے رہے ہیں۔

سندھ میں جتوئی خاندان کے پاس سب سے بڑی زمینداری رہی ہے۔لہٰذاپانچ  نسلوں سے سیاست و حکمرانی میں رہنے والے جتوئی خاندان کے سیاست میں  مقام کی وجہ قبیلہ یا برادری نہیں بلکہ م زمینیں  اور سماجی  روابط  ہیں۔ غلام مصطفیٰ جتوئی سے لیکر مسرور جتوئی تک کو سیاست اور زمین باپ دادا سے ورثے میں ملیں۔ اس خاندان کے افراد نے وفاقی وزار ت سے لیکر وزیراعلیٰ سندھ اور وزیر اعظم تک کے عہدے حاصل کئے۔

غلام مصطفیٰ جتوئی کے دادا خانبہادر امام بخش خان جتوئی1923 سے 1931 تک تین مرتبہ بمبئی لیجسلٹو اسمبلی کے رکن رہے۔ انکے والد غلام رسول جتوئی 1946 اور 1952 میں دو مربتہ سندھ اسمبلی کے رکن رہے۔

خاندان  کے منصب اور اثر رسوخ میں اضافہ غلام مصطفیٰ جتوئی نے کیا، شاید اس میں بڑا کمال  بھٹو کی مینٹرشپ کا تھا۔

غلام مصطفیٰ        جتوئی بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں۔ایک بھائی غلام مجتبیٰ جتوئی رکن اسمبلی بھی رہے۔ غلام مجتبیٰ جتوئ طبیعت میں  بڑے بھائی  سے الٹ تھے ۔ دوسرےبھائی ڈاکٹر عبدالغفار جتوئی ہارٹ سرجن ہیں۔ 

سیاسی کریئر  کا اآغاز ضلع کونسل نوابشاہ کے چیئرمین  کے عہدے سے کیا۔ لہٰذا انہیں موقعہ ملا کہ وہ علاقے کے بااثر لوگوں سید، انڑ، ڈاہری، راجپرسے روابط قائم کریں اور مختلف برادریوں اور طبع کے لوگوں کو ساتھ لیکر چلنےکا تجربہ ہوا۔

سندھ میں زبان کے مسئلے پر ہونے والے ہنگاموں  کے بعد  جتوئی  کو 1977 وزیراعلیٰ سندھ مقرر کیا گیا۔ وہ  اس عہدے پر  رہے تاوقتیکہ ضیاءالحق نے مارشل لاء نافذ کیا اور منتخب حکومت برطرف کردی ۔

بھٹو کے قابل اعتماد ساتھی

 ساڑھے چار عشروں پر محیط سیاسی کریئر رکھنے والے جتوئی پیپلزپارٹی کے قیام سے لیکر ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت تک بھٹو کے قابل اعتماد ساتھی رہے۔

 جتوئی کی شریف طبع اپنی جگہ پر لیکن بھٹو نے ان کو اس وجہ سے بھی جگہ دی کہ ان کی موجودگی سے وڈیرہ طبقے کو یقین رہے کہ یہ پارٹی ان کی ہے۔ ہو سب کو ساتھ لیکر چلنے کی پالیسی رکھتے تھے۔ آئین پر دستخط نہ کرنے اور حکومت مخالف لابنگ کرنے پر جب ذوالفقار علی بھٹو نےاپنی ہی پارٹی کے ایم این اے رئیس عبدالحمید جتوئی کو گرفتار کیا تو غلام مصطفیٰ جتوئی  ثالث بنے۔

سندھ کی  سطح پرممتاز بھٹو اور غلام مصطفیٰ جتوئی دو الگ انتہائیں تھی، ان کی  آپس میں کبھی نہیں بنی۔ مقامی  سطح پردربیلو کے ظفر علی شاہ کا سید اور جتوئی  خاندان ایک دوسرے کے حریف رہے ہیں۔

ضیاء دور میں سیاسی جوڑ توڑ

بھٹو کی گرفتاری اور عدالت سے سزائے موت سنانے کے بعد پیپلز پارٹی کے بڑے بڑے رہنما ممتاز بھٹو، عبدالحفیظ پیرزادہ، کوثر نیازی وغیرہ خاموش ہو گئے۔ پارٹی کی قیادت بیگم نصرت بھٹو کر رہی تھی۔ اس زمانے میں غلام مصطفیٰ جتوئی بیگم صاحبہ کے ساتھ کھڑے رہے۔

غلام مصطفیٰ کھر کی تجویز پر  جتوئی نے مثبت نتائج حاصل کرنے کے لئے   جنرل ضیاء کے قائم کردہ  الیکشن سیل  کے ممبران سے ملاقات کی۔الیکشن سیل کے ممبران کی اس تجویز سے اتفاق کیا کہ حکومت  پیپلزپارٹئ اور  پاکستان قومی اتحاد  کی جماعتوں پر مشتمل اجلاس بلائے جس میں ترکی کی طرز پر فوج کا سیاست اور حکومت میں  مداخلت  سے متعلق آئینی کردار متعین  کرنے سے متعلق یقین دہانی   حاصل کرلی جائے۔ جتوئی کا اصرار تھا کہ  پیپلزپارٹی سے صرف ان لوگوں کو بلایا جائے جن پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔ جتوئی نے کہا کہ اگر بھٹو کو بلایا گیا تو معاملہ گڑبڑ ہوگا۔ البتہ بھٹو کی غیر موجودگی میں غلام مصطفیٰ کھر اور وہ خود  باقی ہم خیالوں سے مل کر معاملہ سنبھال سکتے ہیں۔ لیکن مارشل لاء  حکام نے غیر یقینی حالات کی وجہ سے انتخابات ملتوی کردیئے۔

جتوئی خاندان کی خواتین بھی  سڑکوں  پر

جتوئی نے ضیاء   مخالف اتحاد ایم آرڈی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔  اگست 1983 میں ایم آرڈی کی اپیل پر ' جیل بھرو تحریک'  چلی ۔ توسندھ میں پیپلزپارٹی سندھ کے صدر ہونے کے ناطے اس کی قیادت جتوئی نے کی۔ یہ پہلا موقعہ تھا کہ جتوئی خاندان کی خواتین احتجاج کے کئے سرعام سڑکوں پر نکلیں،  ان کے بیٹے غلام مرتضیٰ جتوئی  نے اپنے خلاف قتل کے مقدمات دائرہونے کے بعد  چند ماروپوشی کی زندگی گزاری۔

 پارٹی میں جتوئی کے کردار کو شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا، کیونکہ ان کا جھکا حکومت کی طرف سمجھا جاتا تھا۔محمود ہارون ضیاءکا پیغام لیکر جتوئی کے پاس گئے تھے۔ کہ جنرل انہیں وزیراعظم بنانا چاہتے ہیں۔ اس ضمن میں جتوئی اور مولانا کوثر نیازی ضیاءالحق سے ملاقات کی۔ وہ ضیاءکو ملک کا صدر تسلیم کرنے کے لئے تیار تھے۔جتوئی اب خود کو قومی سطح کا لیڈر سمجھنے لگے تھے۔

پیر پگارا، چوہدری ارشد، مولانا نورانی کے ساتھ ایک میٹنگ میں  طے پایا کہ  جنرل ضیاء جتوئی کی سربراہی میں قومی حکومت بنائیں گے جو انتخابات کرائے گی۔ اس تجویز پر بیگم نصرت بھٹو نے شدید ردعمل کا اظہار کیا کہ اگر ہمای طاقت پر کوئی اقتدار حاصل کرتا ہے، اسے فورا پارٹی سے نکال دیا جائے گا۔ جنرل ضیاء پیپلزپارٹی کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے ڈرے ہوئے تھے۔ لہٰذا پیپلزپارٹی کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے غیر جماعتی انتخابات کرائے۔ 

خیال ہے کہ سندھ کے وڈیرے اور گدی نشین جتوئی کی اس یقین دہانی پر سڑکوں پر آئے تھے کہ تین ماہ کے اندر ان کی حکومت بن جائے گی۔ ملک کے باقی حصوں میں موثر انداز میں تحریک نہ بن پائی ۔ جب سندھ میں یہ تحریک ریڈیکل لوگوں کے ہاتھ میں جارہی تھی۔ ایسے میں جتوئی کا بیان آیا کہ’ ماضی کی تلخیاں بھلا دیں۔‘ اس بیان کے بعد تحریک ختم ہو گئی۔

'بھٹو فیملی ہیرو   ہیرو   ۔۔۔'

ان کے سیاسی مستقبل کو اس وقت جھٹکا لگا جب 1986 میں بینظیر بھٹو خود ساختہ جلاوطنی کے بعد وطن لوٹیں۔ انہوں نے جتوئی کو پارٹی کی صوبائی صدارت سے ہٹا دیا اور مخدوم خلیق الزماں کو سندھ کے صدرہو گئے ۔ جتوئی کا کہنا ہے کہ انہیں ان کی اعتدال پسندی کی وجہ سے ہٹایا گیا۔

اسی سال جتوئی  بیرون ملک سے وطن لوٹے تو انہوں نے بینظیر بھٹو کے استقبال کے مقابلے میں اپنا بی بڑا استقبال کرانا چاہا۔ لیکن جب وہ کراچی ایئر پورٹ پر اترے تو ہجوم نے  'بھٹو فیملی ہیرو ہیرو باقی سب زیرو   ' کے نعرے لگا کر انہیں مجبور کیا کہ وہ بینظیر بھٹو کی تصویر کو سلام کریں۔یوں  جتوئی کا استقبال بینظیر کی حمایت میں تبدیل  ہوگیا۔

بعد میں انہوں نے  غلام مصطفیٰ کھر، حنیف رامے، حامد رضا گیلانی، کمال اظفر حامد سرفراز ملک، آفتاب جیلانی ان کے ساتھ  مل کر نیشنل پیپلزپارٹی بنائی۔ خیال تھا کہ پیپلزپارٹی پر دبا  بڑھے گا تو اراکین اسمبلی پارٹی چھوڑ کر جتوئی کی پارٹی میں آئیں گے۔

اقتدار کے  پیالہ  کی آس

ضیاءالحق کے مرنے کے بعد پورا سیاسی منظر تبدیل ہو گیا۔ غلام اسحاق خان نے انتخابات کا اعلان کیا، تو بینظٰیربھٹو نے جلسوں، جلوسوں اور ریلیوں کا سلسلہ شروع کیا، جس نے لاکھوں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔   ضیاء  دور میں اسٹبلشمنٹ   سندھ سے  وزیراعظم   نہیں لینا چاہتی تھی۔۔   پگارا  اس بات پر ضیاء سے ناراض ہوگئے۔ یہاں تک کہ  محمد خان جونیجو کی برطرفی کے بعد جتوئی نگران وزیراعظم  کے خواہشمندتھے لیکن ضیاء نے رسک محسوس کیا ۔ ضیا ء    نواز شریف کو ایک بڑے لیڈر طور پر سامنے لے آئے ۔اب وزارت عظمیٰ کے نئے امیدوار کے طور پر سامنے آئے۔

 ضیاء کے مرنے کے بعد مقتدرہ  حلقوں نے  پیپلزپارٹی کے مقابلے میں نو جماعتی اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے  بنایا۔  جتوئی کو اسکا سربراہ بنایا گیا۔انتخابات میں دوسرے بڑے بڑوں کی طرح جتوئی سندھ میں تو انتخاب ہار گئے ۔ جتوئی کو ان کی آبائی نشست پر شکست  کے لئے  پگارا   کو مورد الزام  ٹہرایا جاتا  ہے  ،  کہ اسی کے عشرے میں جتوئی   نے  انہیں وزیراعظم بننے نہیں دیا تھا۔ بہرحال  جتوئی آئی جے  آئی کے  سربراہ تھے لہذا   انہیں ادھار کی سیٹ پر  ضمنی انتخابات میں منتخب کرایا گیا۔  کوٹ ادو  کی یہ نشست ان کے دوست غلام مصطفیٰ کھر نے خالی کی تھی۔ 

بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت کو برطرف کرنے کے بعد  جتوئی کو نگراں وزیراعظم مقرر کیا گیا۔ ان کا خیال تھا کہ اب وہ وزیراعظم بن جائیں گے۔  لیکن خفیہ ادارے نے نواز شریف کے حق میں بازی پلٹ دی۔

اقتدار کی بھو ل بھلیاں

نواز شریف کے اسی دور حکومت میں  وزیراعلیٰ سندھ جام صادق علی کے انتقال کے بعد  جتوئی  ڈاکٹر ابراہیم جتوئی کو وزیرعلیٰ سندھ بنانا چاہ رہے تھے۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ پگارا اور نواز شریف دونوں نہیں چاہ رہے تھے کہ جتوئی کا بندہ وزیراعلیٰ سندھ بنے۔  لہٰذا  قرع سید مظفرحسین شاہ کے نام کا نکلا۔

نواز شریف دور حکومت میں مرتضیٰ جتوئی وزیر مواصلات رہے۔ وہ اپنے گاں میں شگر مل لگانا چاہتے تھے، لیکن وزیراعظم نواز شریف نے شگر مل لگانے کا اجازت نامہ دینے سے انکار کردیا۔تاہم سیاسی طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ نواز شریف کی مطلق العنان رجحانات کی وجہ سے جتوئی نے ان کے خلاف تحریک چلانے میں بینظیر بھٹو کا ساتھ دیا۔ 

جب صدر غلام اسحاق خان اور وزیر اعظم نواز شریف کے درمیاں شدید کشمکش چل رہی تھی اس وقت جتوئی صدر کے کیمپ میں تھے۔ اس مرتبہ بھی وہ نگراں وزیراعظم بننا چاہتے تھے۔  مقابلے میں حامد ناصر چٹھہ اور بلخ شیر مزاری تھے۔ پگارا نے جتوئی کی مخالفت کی تو  صدر  غلام اسحاق نے شریف حکومت کو1993 برطرف کرکے بلخ شیر مزاری کو نگراں وزیراعظم مقرر کردیا۔

انہوں نے ایک مرتبہ صحافیوں سے نجی گفتگو میں کہا تھا کہ  اقتدار ایسا پیالہ ہے جو ایک مرتبہ ہونٹوں کو چھو لے تو عمر بھر آس رہتی ہے۔

نیشنل پیپلزپارٹی جو ایک خاندان کی ہی پارٹی ہے۔ ضلع میں پارٹی سے زیادہ جتوئی گروپ کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔ اس نے 1993 انتخابات کے بعد بینظیر بھٹو کی مخلوط حکومت میں شمولیت اختیار کی۔ اور پھر صدر فاروق لغاری نے بینظیر کی حکومت کو برطرف کردیا۔

  معراج خالد   کے نگراں دور  میں منعقدہ انتخابات میں جتوئی جیت نہ سکے۔ اس کے بعد خود کھیلنے کے بجائے اپنی دوسری نسل کو کھیلنے کا موقع دیا۔

مشرف دور جتوئی خاندان کے لئے سنہری دور تھا۔ان  کے گروپ  نے قومی اور سندھ اسمبلی کی سولہ سولہ اور سینیٹ کی تین نشستیں حاصل کیں۔

یہ ایک ریکارڈ تھا کہ ایک ہی خاندان کے چار افراد ملک کے تین منتخب ایوانوں کے رکن تھے ۔

  دو ہزار نو میں غلاام مصطفیٰ جتوئی کے انتقال کر بعد ان کے بیٹے غلام مرتضیٰ سیاسی معاملات دیکھ رہے ہیں۔ مرتضیٰ جتوئی گزشتہ سال کے انتخابات میں اپنے آبائی حلقے سے ہار گئے،   بڑے جتوئی  منجھے ہوئے  اور تجربہ کار سیاستداں تھے۔ وہ ملک گیر سطح کی سیاست کرتے تھے۔ ان کے تعلقات و روابط  بھی اتنے بڑے تھے۔ان کے بعد پارٹی سکڑ گئی ہے اور جتوئی خاندان کی سیاست ضلع سطح پر آگئی ہے۔