Thursday, March 11, 2021

سندھ کی شناخت اور بقا کی جدوجہد

 سندھ کی شناخت اور بقا کی جدوجہد

سہیل سانگی

آخر مسئلہ کیا ہے کہ آئے دن سندھ کے لوگ احتجاج اور مظاہرے کرتے رہتے ہیں اور آزادی کے ستر برس گزارنے کے بعد بھی اپنے آپ کو خوش نہیں پا رہے ہیں۔یہ بنیادی نوعیت کا سوال ہے۔وہ وفاق کے ہر منصوبے کو شک و شبہے کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ معاشی، سیاسی، اور ثقافت و زبان کے حوالے سے ناانصافی ہوئی۔

نوآبادیاتی نظام سے آزاد ہونے والے ممالک کے سیاسی عمل میں قومی یکجہتی اہمیت کا حامل سوال رہا ہے۔ سوشلسٹ ممالک کی ناکامی کے بعد یہ سوال  باقی نہیں رہا کوئی ملک صرف نظریاتی طور پر متحد رہ سکتا۔دراصل قومی یکجہتی میں ذیلی قومیتی وفاداریاں، نسل، زبان، مذہب، علاقہ لازمی عناصر ہوتے ہیں۔ جن کو ٹھیک سے حل کئے بغیر قومی یکجہتی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ 

پاکستان بھی مختلف ثقافتی اور سماجی گرہوں کا مجمع  کے طور پر وجود میں آیا۔  بلوچستان اور خیبر پختونکوا کے سرداروں سے لیکر سندھ اور پنجاب کے جاگیردار اور مشرقی پاکستان کے متوسط طبقہ تھے۔سماجی کلچر کے علاوہ سیاسی کلچر بھی مختلف تھا۔ بنگال میں نسبتا جمہوری کلچر تھا۔ تحریک پاکستان کی قیادت انڈیا کے اقلیتی صوبوں نے کی تھی۔ کیونکہ وہی لوگ خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے تھے۔ لہٰذ جو علاقے پاکستان کہلائے وہاں ا مسلم لیگ کی گراس روٹ سطح پر مقبولیت نہیں تھی۔  دو قومی نظریے کے مطابق مذہب ایک قوم ہونے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ مختلف نقائص کے باوجود یہ تصور چالیس کے عشرے کی سیاسی، معاشی اور سماجی حالات میں لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لایا۔حالات و واقعات بتاتے ہیں کہ قیام پاکستان کے بعد نئے ملک حکمرانوں کے پاس کوئی نہ واضح پروگرام تھا نہ ویزن کہ اس نئے ملک کا کرنا کیاہے۔؟چھوٹی قومیتوں کی امنگوں اور مطالبات کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ملک کے لئے فوری طور مسئلہ یہ تھا کہ لاکھوں لوگ جو ہجرت کر کے آئے ہیں ان کی آبادکاری کا تھا۔ سیاستداں خواہ انتظامی مشنری اس کام کو بخوبی انجام دینے کے اہل نہیں تھی۔دلچسپ امر ہے کہ قیام پاکستان کے ساتھ فوری مسئلے مہاجروں کی آبادکاری کی نفسیاتی کیفیت سے ہم ا ٓج تک نکل نہیں پائے ہیں۔ 

 ماضی کے حالات و واقعات بتاتے ہیں کہسندھ کی شناخت کو ایک سے زائدحوالوں سے خطرہ ہے۔جن کو مختصرا چار حصوں میں درجہ بندی کا جاسکتی ہے۔ 

۱) سندھ کی جغرافیائی وحدت اوراختیارات و انتظام کاری  

۲) زبان و ثقافت 

۳)  زرعی و شہری جائدادیں 

۳) اقلیت میں تبدیل ہونے کا  ڈر 

۴) پانی معدنی و  مالی وسائل  

 جغرافیائی وحدت اور خود مختار انتظامی یونٹ  

 ماضی قریب میں سندھ کی جغرافیائی وحدت  کے خلاف  متعدد بار کوششیں کی جاتی رہی۔انگریزوں  کے قبضے سے پہلے سندھ ایک طویل عرصے تک خود مختار اور آزادملک کے طور پر رہا۔فتح کے تین سال  بعد  1946 میں اس کا بمبئی پریزیڈنسی کے ساتھ الحاق کر دیا۔ 1936 تک وہ اپنی علحدہ انتظامی یونٹ منوانے کی جدوجہد کرتا رہا۔ جب اس کو الگ صوبے کی حیثیت ملی تو کراچی کو اس کا دارلحکومت بنایا گیا۔الگ صوبہ بننے کے گیارہ سال بعد سندھ کے صنعتی اور تجارتی حب کراچی کو مرکزی حکومت کا دارلحکومت بنا کر سندھ سے چھین لیا گیا اور  1969 تک وفاقی حکومت کے ماتحت رہاجب یحیٰ خان نے ون یونٹ کو توڑنے کا اعلان کیا اور مغربی پاکستان کے چار صوبے بنائے تو  سندھ کوکراچی کو واپس ملا۔ یہ تمام عرصہ سندھ اپنی جغرافیائی وحدت اور یکجہتی سے محروم رہا۔ لہٰذا سندھ کے لئے اس کی جغرافیائی اور انتظامی یکجہتی اہمیت کی حامل رہی۔

سندھ کی مسلم اشرافیہ کی لڑ جانے والی اہم جنگ سندھ سے بمبئی سے علحدگی کی جدوجہد تھی۔ تحریک جو بظاہر سندھ کو صوبے کی حیثیت دینے کے لئے تھی، لیکن اس کا عوامی پہلو یہ بھی تھا کہ سندھ کا کھویا ہوا تشخص بحال ہو جو برطانوی راج نے  1847 میں ختم کیا تھا۔ سندھ کو صوبے کی حیثیت مل گئی۔ اس کے اثرات اور ثمرات  ابھی پورے طور پر پہنچے ہی نہیں تھے کہ برصغیر کی تقسیم ہوگئی۔تقسیم کے نتیجے میں بھارت سے آنے والے لاکھوں مسلمان سندھ میں ہی آکر آباد ہوئے۔ لہٰذا  سندھ کا تشخص اس نقل مکانی اور  پاکستان کی نوکرشاہی نے مزید عرصے تک چلنے نہیں دیا۔

ابھی دیہی و شہری آبادی میں جائیدادوں پر قبضے کے معاملے چل ہی رہے تھے کہ سندھ کے عوام پر دوسرا  وار کیا گیا۔ سندھیوں کے معاشی، سیاسی اور ثقافتی مرکز کراچی کو وفاقی دارالحکومت بنانے اوراسے وفاق کے حوالے کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔19جولائی 1948 کو گورنر جنرل کے حکم پر کراچی اور اس سے ملحقہ علاقوں سمیت 812 مربع میل مرکزی حکومت کے حوالے کردیا گیا۔ سندھی لیڈروں کے وفد نے زیارت میں جا کر قائد اعظم سے ملاقات کی اور کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی مخالفت کی۔ قائد اعظم کا کہنا تھا کہ اس سے سندھ کے لوگوں کا فائدہ ہے۔ 

کراچی کو سندھ سے الگ کرکے وفاقی علاقہ بنانے کے فیصلے کے خلاف سندھ سراپا احتجاج بن گیا۔ اس مسئلے پر قائم ہونے والے سندھ عوامی محاذ کے سینکڑوں کارکنوں کو جیل بھیج دیا گیا۔ بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر وزیر اعظم لیاقت علی خان نے ایک پنجابی وکیل دین محمد کو سندھ کا گورنر بنایا۔ اس پر سندھ کے عوام نے مزید ناراضگی کا اظہار کیا۔ نئے گورنر نے سندھ میں اسمبلی توڑ کر گورنر راج نافذ کردیا۔کراچی کو وفاق کی تحویل میں دینے سے سندھ کو زبردست مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ دستور ساز اسمبلی کی رپورٹ نے نقصان کا اندازہ چھ سو سے آٹھ سو ملین روپے تک لگایا۔ جن عمارتوں میں وفاقی ادارے قائم کیے گئے ان کی مالیت پینتالیس کروڑ بنتی تھی۔ وعدے کے مطابق یہ خسارہ وفاق کو پورا کرنا تھا لیکن ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

قیام پاکستان کے ابتدائی دنوں میں عوام اور قومیتوں کو سیاسی، معاشی و ثقافتی حقوق دینے کے بجائے حکمرانوں کو  اسلام اور اسلامی ریاست  کے لئے  اپیل پیدا کرنا آسان لگا۔ مسلم لیگ پنجابی اور بنگالی لیڈرشپ کے درمیان جھگڑے کا شکار رہی۔ پنجابی گروہ کسی بھی طور پر بنگال کو اس کی اکثریت کی بنیاد پر آئین میں سیاسی فائدہ دینے کے لئے تیار نہ تھا۔ مہاجر پنجابی گروہ کی کامیابی نے بنگالیوں کو  غیر بنا دیا۔ انہیں محسوس ہوا کہ پنجابی گروہ ان کو اقتدار میں ان کا جائز حصہ نہیں دے رہا بلکہ ان کی زبان، کلچر،  اٹھنے بیٹھنے کے طریقے  پر بھی امتیاز برت رہا ہے۔پاکستان کا حکمران طبقہ بنگال کی فرسٹیشن کو سمجھ نہ سکا۔الٹا ان کی زبان اور کلچر وغیرہ کو”ہندو“ کہنے لگا۔ مشرقی پاکستان میں زبان کے مسئلے پرشروع ہونے والی تحریک نے خود مختاری کی تحریک کا راستہ اختیار کیا اور بات آزادی تک چلی گئی۔ 

 ون یونٹ۔ مساوات کے نام پر بالادستی

  پاکستان اگرچہ پانچ قومیتوں  یا پانچ صوبوں کی فیڈریشن  تھا۔پچا س کے عشرے بنگال کی  اکثریت کو برابر کرنے کے لئے مساوی نمائندگی کا فارمولا دیا گیا جو بوگرہ فارمولا یا مساوات کا فارمولا کہلاتا ہے،  اس ون یونٹ اسکیم میں مغربی پاکستان کے صوبوں کو ضم کر کے  ایک صوبہ بنایا گیا۔ یہ فارمولا  بنگال کی اکثریت اور بالادستی روکنے کے لئے  تھا،  لیکن ایک پنتھ دو کاج کی مصداق اس  کے ذریعے  پنجاب کی چھوٹے صوبوں پر بالادستی بھی قائم کرنا تھا۔ 1956  میں مغربی حصے کو ایک یونٹ بنایا گیا۔  اس کے نتیجے میں دوسرے صوبوں کی طرح سندھ بھی اپنا الگ تشخص کھو بیٹھا۔جب ون یونٹ بنا تو فیصلہ سازی، تمام سرکاری ریکارڈ، سب کچھ لاہور منتقل ہوگیا۔ ملازمتوں کے دروازے بھی سندھ کے لوگوں کے لیے بند ہوگئے۔ اختیار و اقتدار کی لاہور منتقلی اور ون یونٹ کا قیام اور مزید پنجابی آبادی کے سندھ میں بسنے کا باعث بنی۔

 ون یونٹ کا قیام ویسے تو بنگال کے ساتھ برابری کے لیے تھا لیکن سندھ کو بھی اس نئے ڈھانچے میں بڑا نقصان ہوا۔صوبائی اسمبلی توڑنے کے بعد ضمنی انتخابات ہوئے۔ عبدالستار پیرزادہ نے حکومت بنانے کے لیے کراچی کی سندھ کو واپسی، مرکزی اداروں میں سندھیوں سے امتیازی سلوک کا خاتمہ، فوجی افسروں کو سندھ میں زمینیں دینے پر ممانعت جیسے مطالبات رکھے۔ ان دنوں پنجاب سے تعلق رکھنے والے نواب افتخار حسین ممدوٹ کو سندھ کا گورنر بنایاگیا جنہوں نے ستار پیرزادہ کی حکومت ختم کرکے ایوب کھوڑو کو بحال کردیا۔

اکتوبر سن 58 میں ایوب خان نے مارشل لاء  نافذ کردیا۔ سندھ کے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مارشل لاء  ون یونٹ کو بچانے کے لیے لگایا گیا تھا۔

بعد میں مختلف ادوار میں بھی ون یونٹ کے مختلف ایڈیشن دہرائے جاتے رہے۔ جمہوریت کی ناکامی اور بیوروکریٹ اور فوجی حکومتوں کے قیام نے اختیارات کو مزید ارتکاز کی طرف لے گئے۔ تمام مارشل لاء ایڈ منسٹریٹر چیف مارشل لاء ایڈ منسٹریٹر کے احکامات مانتے تھے۔ صوبائی خود مختاری کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ یہ صورتحال ایوب، یحیٰ اور ضیاء الحق کے تئیس سال دور میں رہی۔  73 کے آئین میں بھٹو نے بھی یہی طرز حکمرانی رکھا۔ جلد ہی نعپ کی حکومتوں کو گرا دیا گیا۔ 

 جنرل ضیاء اور ایوب کی فوجی حکومتیں صوبائی جذبات و خواہشات کی نفی کرتی رہی۔ جنرل  ضیاء کے دور میں اسلام پسند میڈیا مطالبہ کرنے لگا کہ چار قومیتوں کی بات کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔  ایک طرف سندھ کے لوگ اپنے معاشی وسائل اور جائیدادوں سے محروم ہو رہے تھے تو دوسری طرف ان کی زبان اور ثقافت خطرے میں  پڑ رہی تھی۔ لہٰذا سندھ کی قومی تحریک ایک نکاتی مطالبے پر مرکوز ہوگئی یعنی ون یونٹ کا خاتمہ۔  ون یونٹ کی مخالفت  پہلے دن سے ہی  شروع ہو گئی تھی لیکن اس تحریک نے ساٹھ کے عشرے کے آخری برسوں میں زور پکڑا۔  ستّر کے انتخابات سے پہلے یحییٰ خان نے ون یونٹ توڑنے اور صوبے بحال کرنے کا اعلان کیا تو کراچی سندھ کو واپس مل گیا۔ اس سے سندھی آبادی کو خاصی تشفی ہوئی۔

 آج بھی سندھ سے کراچی کی علحدگی کا ایم کیو ایم کا مطالبہ سندھیوں کے ذہنوں میں مزید خود پیدا کر رہا ہے۔ 

اقلیت میں تبدیل ہونے کا ڈر

 سندھ میں قومی پہچان کی صورتحال زیادہ پیچیدہ ہے۔ نسلیاتی سیاست کے تضادات  اس صوبے میں بیحد نمایاں ہیں۔یہاں پر مسلسل اور بلا روک ٹوک باہر سے بڑے پیمانے پر لوگ  آکر آباد ہوتے رہے ہیں۔ تقسیم ہند  کے نیتجے میں  لاکھوں کی تعداد میں مہاجروں آئے۔ یہ سلسلہ ساٹھ کے عشرے تک جاری رہا۔ قیام پاکستان کے وقت پنجاب نے خاص طور پر بندوبست کیا کہ پنجاب میں صرف ان مہاجروں کو  آباد کیا جائے جو مشرقی پنجاب سے آئے ہیں۔ باقی شمال اور وسطی ہندوستان سے آنے والوں کو کو سندھ میں آباد کیا گیا۔ جب حکومت سندھ نے مزید مہاجر قبول کرنے سے انکار کیا تو گورنر جنرل نے 27  اگست 1948 کو ہنگامی حالت کا اعلان کر کے سندھ حکومت کو ہدایت کی کہ پنجاب  کے کیمپوں میں پناہ گزین دو لاکھ مہاجرین کو سندھ میں جگہ دی جائے۔ جبکہ دس لاکھ مہاجرین پہلے ہی کراچی آچکے تھے۔ مرکزی حکومت مہاجرین کی سندھ مین خصوصا کراچی میں آبادکاری اور ہندؤں کی چھوڑی ہوئی جائدادیں ان کو لاٹ کرنے کے لئے بضد تھی۔تقسیم کے بعد شہروں میں اردو بولنے والوں کی اکثریت ہوگئی۔

 ون یونٹ اور ایوب خان کے دور حکومت میں صنعتکاری نے ملک کے بالائی علاقوں سے آبادی کی کراچی منتقلی کو تیز کیا۔سندھ کے صنعتی شہروں میں پختون اور پنجابی مزدور آئے۔ 

 گڈو بیراج اور کوٹری بیراج بنے تو ملک کے بالائی  حصہ کی اشرافیہ کے لئے سندھ کی زمینیں اور یہاں آکر آباد ہونا  پر کشش لگا۔ 

  بنگلا دیش  کے قیام سے باہر سے آنے والے لوگوں کا تیسرا  ریلا  آیا، جن کو بہاری کا جاتا ہے۔ سندھیوں کی مخالفت کے باوجود انہیں کراچی میں آباد کیا گیا۔

ستر کے عشرے میں سندھ کے افغان پناہ گزینوں کی شکل میں  تارکین وطن کا ایک اور ریلے کو بھگتا۔ قبائلی علاقہ جات، سوات وغیرہ میں آپریشن  نے ایک بڑی آبادی کو وہاں سے سندھ کے دارلحکومت کراچی کی طرف دھکیلا۔جن کی اکثریت اب بھی کراچی میں رہ رہی ہے اور اس کی واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ سندھیوں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ انہیں اپنے ہی صوبے میں اقلیت میں بتدیل کیا جارہا ہے۔  سندھیوں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ انہیں اپنے ہی صوبے میں اقلیت میں بتدیل کیا جارہا ہے۔

ایک اور مسئلہ سندھ کی ڈیموگرافی میں تبدیلی ہے جہاں صوبے کے قدیمی باشندے اپنی ہی زمین پر اقلیت میں تبدیل ہورہے  ہیں۔

اختیار و  اقتدار
دیکھا جائے توسندھ میں مختلف نوعیت کی پیچیدگیاں باہر سے آنے والوں نے پیدا کی۔ قیام پاکستان کے وقت مہاجر افسر شاہی خاصی  مضبوط پوزیشن میں تھی۔ فوج کے اعلیٰ عہدوں پر مہاجروں کی نمائندگی موجود تھی۔افسر شاہی مہاجروں کے تحفظ کا ذریعہ تھی۔ لہٰذا وہ پاکستانی ریاست اور اسلامی نظریے کے حامی تھے۔ اور قومیتوں کی تحریکوں کے مخالف۔ پچیس سال تک  سی ایس پی افسران فوجی بیروکریٹس کے ساتھ اقتدار میں بڑی حصہ دار رہی۔ بھٹو کے اسلاحات نے صورتحال میں کیفیتی تبدیلی پیدا کی۔ افسر شاہی کی کمر توردی۔ یہ اور بات ہے کہ ان اصلاحات کے نیتجے میں فوج کی بالادستی کی راہ میں آخری راکوٹ بھی ختم ہو گئی۔ مہاجر  ریاستی ڈھانچے میں اپنے سرپرستوں سے محروم ہوگئے۔ اقتدار پنجابیوں  کے ہاتھ میں پہنچ گیا۔ ریاستی مشنری میں قمیتی توازن میں  تبدیلی کے اثرات مہاجر سیاست میں نمایاں ہونے لگے۔ یہ خد وخال 1986 میں کھل کر سامنے آگئے۔ انہوں نے اسلامی قومیت کو خیرباد کہا اور سیدھے نسلی و قومیتی سیاست کی راہ پر آگئے۔ انہوں نے مہاجر قومی موومنٹ بنائی اور مطلابہ کیا کہ ہمیں پانچویں قومیت تسلیم کیا جائے۔ کوٹہ سسٹم میں مہاجروں کے لئے مرکز میں بیس فیصد اور سندھ میں پچاس سے ساٹھ فیصد مقرر کیا جائے۔ یوں مہاجروں کا سیاسی مظہر اس آبادی میں مقبول ہوگیا۔ 
ایم آڈی کی تحریک سے ایک سبق سیکھا گیا کہ سندھیوں اور مہاجروں میں احساس ہوا۔ جس کو تورنے کے لئے سندھی مہاجر تصادم ہوئے۔1988 کے انتخابات کے بعد قومیتی سیاست کا نئے سرے سے جائزہ لیا گیا۔ قوم پرستوں کی انتہاپسندانہ پوزیشن اور پیپلزپارٹی کی اعتدال پسندانہ  کے باجود سندھ کے عوام نے پیپلزپارٹی کو وٹ دیئے۔ یہ صورتحال بعد میں بھی جاری رہی۔ اور سندھ پیپلزپارٹی کو ہی ووٹ دیتا رہا۔ اس چیز کے باوجود کہ 80کے عشرے کے وسط سے لیکر مہاجر سیاست  میں زیادہ تلخی اور شدت پسندی آئی ہے اور اس کے مطالبات، حکمت عملی اور  انداز میں زیادہ انتہا پسندی آئی ہے۔  2010 میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد  اتہاپسند  قوم پرستی کی سیاست بالکل ہی دم تور چکی ہے۔ 
زبان اور ثقافت
زبان قومی شناخت اور ثقافت اہم عنصر ہے۔ انگریزوں کے زمانے سے سندھی نہ صرف ذریعہ تعلیم تھی بلکہ سرکاری یا دفتری زبان بھی تھی۔پاکستان میں شامل صوبوں میں بنگالی اور سندھی  دو زبانیں تھی جن  ذریعہ تعلیم کے طور رپ تھی، جن کا  علم وادب تحریری شکل میں موجود تھا۔ ایوب خان نے سندھی زبان کی دفتری زبان اور ذریعہ تعلیم کے طورپر حیثیت چھین لی۔اردو کو سرکاری  زبان کا درجہ دیا گیا۔  اس اقدام سے مہاجروں کوزبان کی حد تک بالادستی  کے ساتھ ان کی خواہشات اور امنگوں کی تشفی ہوئی۔ سندھی ادیبوں اور طلبہ نے مادری  زبان کی حیثیت کی بحالی کی تحریک شروع کی۔ ستر کے عشرے کے آغاز میں بھٹو نے سندھی زبان کو سرکاری زبان بنانے کا  بل منظو ر کیا،  تو اسکی مزحمت کی گئی،  اور ایک آرڈیننس کے ذریعے اسمبلی کے پاس کردہ قانون میں ترمیم کی گئی۔ زبان کا مسئلہ سندھ میں لگاتار اہم رہا۔ سندھی اور دوسری علاقائی زبانوں کو قومی زبانیں قرا دینے کا بل ابھی تک پارلیمنٹ میں زیر التوا ہے۔  
 قیام پاکستان کے بعد سندھ سے تقریبا کی بیس فیصد ہندو آبادی کے انخلاء اور اس کے بدلے بھارت کے مختلف صوبوں سے آ کر بسنے والی بڑی آبادی کی وجہ سے سندھ کے سماجی، ثقافتی اور سیاسی حیثیت متاثر ہوئی۔ہندو آبادی زبان اور ثقافت کے لحاظ سے سندھ کا حصہ تھی۔ ہندوؤں نے مختلف شہروں میں سکول، کالج، تفریح گاہوں اور ہسپتالوں کے حوالوں سے کئی فلاحی کام کیے تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد سندھ میں ایسے کاموں اور ایسی سہولیات بڑھانے اور برقرار رکھنے کا سلسلہ رک گیا۔ ان قومیتوں کے کلچر اور زبان کو دبایا گیا۔ چھوٹی قومیتوں نے اپنے فرسٹیشن کا اظہار زبان کی شکل میں کیا۔  جو حال بنگالی زبان کے ساتھ ہوا وی سندھی کے ساتھ بھی۔ مہاجر سندھ کے شہری علاقوں میں آکر آباد ہوئے۔  وہ کچھ پڑھے لکھے تھے تو انتظامیہ میں بھی آگئے۔ یوں صوبے کی معیشت اور سماجیت پر بھی حاوی ہوگئے۔ سندھی کو بتدریج صوبہ بدر کیا جانے لگا۔
اس کے علاوہ حکومتی سطح پر بھی بعض ایسے اقدامات کیے گئے جس سے سندھی زبان کی حیثیت مزید متاثر ہوئی۔آزادی کے ایک سال بعد سندھ یونیورسٹی کو کراچی سے حیدر آباد منتقل کر دیاگیا اور کراچی کے لیے الگ یونیورسٹی قائم کی گئی۔ سندھ کے ممتاز دانشور محمد ابراہیم جویو نے ایک مقالے میں کہا تھا کہ سندھ یونیورسٹی کی حیدر آباد منتقلی کے وقت وزیرِاعظم لیاقت علی خان نے خوش گپیوں میں کہا تھا کہ یہ یونیورسٹی اونٹ اور گدھا گاڑی کلچر والوں کے لیے ہے۔آئندہ پانچ برسوں میں کراچی یونیورسٹی میں سندھی کو امتحانی زبان کے طور پر ختم کردیاگیا اور صرف اردو، بنگالی اور انگریزی میں امتحان دینے کی اجازت دی گئی۔ کچھ ہی عرصہ بعد کراچی میں بعض سندھی سکول بند کر دیے گئے یا غیر سندھیوں کو بطور اساتذہ مقرر کیا گیا۔شعراء ادیبایوب خان کے خلاف تحریک میں اس لئے شامل ہوگئے تھے کہ ایوب خان نے سندھی زبان سے وہ رتبہ چھین لیا جو اسے برطانوی راج میں حاصل تھا۔بنگالی زبان کا اشو ابھی تازہ ہی تھا۔ یوں ذریعہ تعلیم اور دفتری زبان  کے معاملات ایجنڈا پر آگئے۔  اس تحریک نے اگرچہ سندھ بھر کے نوجوانوں کو ایک پلیٹ  فارم پر کٹھا کیا،  پھر بھی یہ تحریک متوسط طبقے تک محدود رہی۔ اور متوسط  طبقہ سیاسی طور پر اہمیت اختیار کر گیا۔ اس کی وجہ سے سندھ میں  ایک نوجوان کارکن،ادیب اور شاعر کی حیثیت  اور  اہمیت وڈیرے سے زیادہ ہوگئی۔ اس کا عکس سماج میں مختلف مواقع پر نظر بھی آنے لگا۔ لیفٹ بھی نظر آنے لگا۔
ایک زمانے میں پاکستان ٹی وی پر سندھی پروگرام ہفتے میں صرف دو گھنٹے ہوتا تھا۔  مارشل لاء کے طویل عرصے کے دوران چھوٹی قومیتوں کے لئے کم گنجائش نکلتی تھی کہ وہ اپنے معاشی، سیاسی اور ثقافتی حقوق یا خود ثقافت اور زبان کے لئے آواز اٹھائیں۔  
دوسری زبانیں بولنے والوں کی ایک بڑی آبادی کے بسنے سے سندھ کی زبان اور کلچر پر برا اثر پڑا۔ زبان کی طرح کلچر بھی حساس معاملہ ہے۔ ایک عشرہ قبل  سندھ کلچرل ڈے منایا گیا۔ اور اب ہر سال دسمبر میں یہ دن منایا جاتا ہے۔ 
زمینیں اور جائداد
مہاجروں کی آبادکاری کے لیے وزارتِ بحالیات اور کئی چھوٹے بڑے ادارے قائم کیے گئے۔حکومت کے بیشتر اہلکار مہاجر یا پھر پنجابی تھے۔ انہوں نے افسرشاہی کو اپنے قبضے میں لے کر ہندوؤں کی متروکہ شہری جائیدادوں کے جھوٹے سچے کلیم منظور کرانے کے ساتھ ساتھ زرخیز اور قابل کاشت وہ دیہی زمینیں پر بھی حاصل کی گئیں جو ہندو چھوڑ گئے تھے۔ ان زمینوں کے حقیقی وارث سندھی کسان تھے لیکن آزادی کے خواب کی تعبیر کے برعکس ہندو کی جگہ مسلمان مہاجر آگیا۔پنجاب کے ایک محقق احمد سلیم لکھتے ہیں کہ یہ کلیم یا تو بالکل جھوٹے ہوتے تھے یا پھر اصل سے زیادہ۔پچاس کی دہائی میں ہی ایک اور قانون بنایاگیا کہ مقامی لوگ دس ہزار روپے سے زیادہ مالیت کی شہری جائیداد نہیں خرید سکتے۔ بڑے بڑے مکانات، ہوٹل، سینما ہاؤس نیلام کییگئے اور ان کی ادائیگی کلیم کے کاغذات کے ذریعے کی گئی جن کا یا تو وجود نہ تھا یا کوئی ثبوت نہ تھا۔ 
قیامِ پاکستان سے چند ہی ماہ قبل سندھ اسمبلی نے ایک بل منظور کیا تھا کہ صوبے میں ہندوؤں کے پاس مسلمانوں کی جو زمینیں گروی ہیں ان کو وہ بیچ نہیں سکتے۔ اس قانون پر پنجاب میں توعمل درآمد کیا گیا لیکن سندھ میں گورنر نے بل پر دستخط نہیں کیے اور وہ باقاعدہ قانون نہ بن سکا۔ پھر جب پاکستان بنا تو یہ زمینیں ہندوؤں کی ملکیت قرار دے دی گئیں اور کلیموں کے ذریعے مہاجروں کو ملیں۔ مقامی لوگ زمین کی ملکیت سے محروم ہوگئے۔ بعض دستاویزات کے مطابق یہ اراضی40 لاکھ ایکڑ یا کل زرعی زمین کا42 فی صد تھی۔
اسی کے ساتھ سندھ ریفیوجی رجسٹریشن آف لینڈ کلیم ایکٹ کے تحت مارچ 1947 کے بعد ہندوؤں کی بیچی گئی زمینوں کے معاہدوں کو منسوخ قرارا دے دیا گیا۔
زرعی زمیں 
1890  کے آواخر میں جمڑاؤ کینال کی تکمیل پر ہزاروں ایکڑ نئی قابل کاشت زمین  پنجاب سے تعلق رکھنے والے  فوجی اہلکاروں کو الاٹ کی گئی۔ میں پچاس کے عشرے میں کوٹری بیراج بنا تو اس کے زیرِ کمانڈ تین لاکھ چالیس ہزار ایکڑ زمین سول اور فوجی نوکرشاہی کو دی گئی۔پروفیسر عزیزاحمد اپنی کتاب ’کیا ہم اکٹھے رہ سکتے ہیں‘ میں لکھتے ہیں کہ زمینیں سندھی ہاریوں کے پاس جانے کی بجائے پنجابیوں، مہاجروں اور پٹھانوں کے ہاتھوں میں جانا شروع ہوئیں۔
1951 میں ایک سندھی روزنامہ نے اپنے اداریے میں لکھا: ’سندھ کے لوگوں کے ذہنوں میں شکوک بڑھ رہے ہیں کہ نئے بیراج کی زمینیں باہر کے لوگوں کو دی جائیں گی۔ اگر ایسا کیا جا رہا ہے تو اس کے بعد سندھ اور وفاقی حکومتیں سندھ کے لوگوں سے تعاون کی توقع نہ رکھیں۔ سندھ کے ہاریوں کا ان زمینوں پر پہلا حق ہے۔ اب پہلے سے زیرِ کاشت زمینیں مہاجروں کو دی گئی ہیں، اور نئی زمینیں نوکر شاہی کو دی جائیں گی‘۔
ساٹھ کے عشرے میں گدو بیراج تعمیر ہوا تو تربیلا ڈیم، منگلا ڈیم، اور اسلام آباد کے متاثرین، ریٹائرڈ اور عنقریب ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین، انعام اور خطاب پانے والوں کو اور نیلام کے ذریعے یہ زمین دینے کا فارمولہ بنایاگیا۔
صورتحال یہ بنی کہ زمین حاصل کرنے والے 172 سرکاری اہلکاروں میں صرف ایک سندھی تھا۔ نیلامی کی زمینوں کا فائدہ صرف پنجاب کو ہوا۔ سندھ میں کہاوت کے طور پر کہا جانے لگا کہ خدا کرے کسی کو کوئی خطاب نہ ملے یا کوئی کھلاڑی اچھا کھیل نہ کھیلے کیونکہ اس کا معاوضہ سندھ کی ہی زمین دینے کی شکل میں ادا کیا جائیگا۔ سندھی عوام کی مہاجروں اور پنجابیوں سے ان بن کی جڑیں اسی غیر منصفانہ تقسیم میں ہیں۔
پانی اور مالیات کے مسائل
 دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم اور قومی مالیاتی ایوارڈ  دو ایسے امور  ہیں، جن پر سندھ کو ہمیشہ تشویش رہی ہے۔ ان دونوں امور پر خاص طور پر سندھ اور پنجاب کے درمیاں اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ بعد میں جب سندھ میں تیل گیس اور کوئلے کے ذخائرملے تو وفاق اور صوبے کے درمیان کشیدگی کی  ایک اور وجہ میں اضافہ ہوا۔ دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم اور گریٹر تھل کینال کی تعمیر پر سندھ کی قوم پرست، مذہبی اور وفاق پرست جماعتیں سب متفق ہیں اور وہ انفرادی یا اجتماعی طور پر احتجاج کرتی رہی ہیں۔
پانی کا معاہدہ ایک ایسے دور میں ہوا جب سندھ میں مرکز کی مسلّط کردہ جام صادق کی غیر مقبول حکومت تھی۔ سندھیوں کو ہمیشہ شکایت رہی ہے کہ اس معاہدے میں ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے لیکن آگے چل کر اس معاہدے پر بھی حکومتِ پنجاب نے عمل کرنے سے انکار کردیا۔
سندھ کو ایک اور شکایت یہ ہے کہ اس کو مالی  وسائل میں جائز حصہ نہ دیا گیا تو اس کی آبادی معاشی و سماجی پسماندگی کی طرف چلی جائے گی۔ اور وہ اپنی ثقافت اوت قومی شناخت کا دفاع نہیں کر پائے گی۔ سندھ کی  اس بے چینی کو استعمال کر کے بھٹو نے مقبولیت حاصل کر لی۔ پیپلز پارٹی صوبائی سطح پر سندھ کے مسائل اور ملکی سطح پر نچلے طبقے کے روٹی، کپڑا اور مکان جیسے مسائل اٹھا رہی تھی۔
ستر کے  عام انتخابات کی ووٹرزفہرستیں سندھی میں چھپوانے کے مطالبے کے حق میں حیدرآباد میں بھوک ہڑتال کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس موقع پرسندھی مہاجر فسادات کرانے کی کوشش کی گئی۔

بھٹو اور پیپلزپارٹی اور سندھ  
ون یونٹ کے خلاف تحریک سے سیاسی ڈائنامکس تبدیل ہوئے۔ پیپلزپارٹی وجود میں آئی۔ بھٹو نے متوسط طبقے  اور اس کے مطالبات کو ایڈریس کرنے کی کوشش کی۔ تعلیم، ملازمتیں،  دیہی علاقوں میں سہولیات، زبان اور ثقافت کے اشوز کو یا بڑی حدتک حل کیا یا پھر ڈی فیوز کردیا۔  جب 1973 کا آئین بنا تو جی ایم سید نے پارلیمانی سیاست سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا اور سندھو دیش کا نعرہ لگایا۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ پاکستان کے ڈھانچے میں سندھ کو حقوق کا تحفظ ممکن نہیں۔ لیکن بھٹو کی پالیسیوں کی وجہ سے یہ نعرہ  بعض فکری حلقوں سے ہٹ کرعوامی سطح پر مقبولیت نہیں حاصل کر سکا۔ 
  بھٹو  کے نئے  پاکستان کی بنیاد سندھ اور پنجاب کے اتحاد پر تھی۔ جس سے پنجاب اور مہاجر کے درمیان قائم اتحاد جو قیام پاکستان سے  رہا تھا ٹوٹ گیا۔
ٓٓٓٓ ٓٓبھٹو دور میں پاکستان کی سیاست میں سندھ کا شیئر یا کلیم شروع ہوا۔ سندھ میں ٹپیکل پنجاب مخالف سیاست تھی اس میں بھٹو پل بنایا۔ پاکستان  بننے میں سندھ آگے آگے رہا لیکن  پاکستان بننے کے بعد وسائل، اختیار، اقتدار،  ملازمتوں اور نئے ملک کے دیگر ثمرات  میں حصہ نہ ملنے کی وجہ سے سندھ ڈپریشن میں چلاگیا۔ بھٹو نے لوگوں کو اس سے نکالا۔  زرعی اصلاحات، شگر ملیں، کوٹہ سسٹم، اسوقت سندھ کے دیہی علاقوں کو فائدہ پہنچا۔ سندھ کے لوگوں کو بظاہر بھٹو کی دوسری کسی تحریک سے اختلاف نہیں ہوا۔  اس کے اثرات پی این اے کی تحریک میں بھی نظر آئے۔ ان چیزوں نے سندھ کے عوام کا بھٹو کے ساتھ بانڈ مضبوط کیا۔
 ایم آرڈی تحریک:سندھ کا ردعمل 
1979 میں بھٹو حکومت کا تختہ الٹنے اور 1979 میں پھانسی نے سندھ میں قومی تحریک کو بے انتہا طاقت دی۔ اس کی علامت بھٹو تھا جو سندھ سے تعلق رکھتا تھا۔ضیاء کی پالیسیاں اور اقدامات سندھ میں اس کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے لیے کافی تھے۔ ایم آر ڈی کی تحریک جو ملک گیر تھی لیکن اس کا عملی اظہار کچھ اس طرح ہوا کہ سندھ میں اس نے اتنی شدت اختیار کر لی کہ یہ تحریک سندھ کی تحریک کے طور پر ہی پہچانی جانے لگی۔سرکاری اعداد وشمار یہ ہیں کہ اس دور میں 1263 لوگوں کو قتل کیا گیا اور ہزاروں کو زخمی کیا گیا۔ مظاہرے، جلوس، قید، کوڑے، پھانسیاں اور فوج کے ہاتھوں لاکھاٹ (سکرنڈ) اور میہڑ (دادو) میں مظاہرین کی ہلاکت اس تحریک کے بہت بڑے واقعات تھے۔
یہ پہلا موقع تھا کہ سندھ کی دیہی آبادی نے فوجی آمریت کے خلاف اور اپنے حقوق کے لیے مکمل طور پر بغاوت کا اعلان کیا۔ سندھ میں شاید ہی ایسا کوئی گھر ہو جس نے اس تحریک میں حصہ نہ لیا ہو۔ اگرچہ اس کا رنگ ایک حد تک قوم پرستانہ تھا لیکن نچلی سطح پر عمومی طبقاتی تھی۔ایم آر ڈی تحریک کے دور میں بہادری اور شجاعت کے کئی ایک واقعات ہوئے جو اب سندھ میں لوک ادب کا حصہ بن گئے ہیں۔
ایم آرڈی تحریک کے بعد حکمران سندھ اور دیگر صوبوں کے شہروں میں لسانی پرنفرت پھیلانے میں کامیاب ہوگئے۔ اس تحریک کے توڑ کے لیے کراچی میں ایم کیو ایم، سندھ پنجابی پشتون اتحاد اور مذہبی بنیاد پرستی کو ابھارا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب تحریک اپنی طبقاتی شکل اختیار کر رہی تھی۔ جب جب قومی تضادات طبقاتی تضادات کے ساتھ جڑے تو معاملہ خاصا گرم ہو گیا۔مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ تحریک مزید کامیاب ہو جاتی صوبوں اور شہری اور دیہی آبادی کے درمیان مزید بھائی چارہ ہوتا۔ 
 ضیاء کے خلاف ملک بھر میں نفرت کو ٹھنڈا کرنے کے لیے غیر جماعتی انتخابات کرائے گئے۔ ایم آرڈی کے گڑھ سندھ سے محمد خان جونیجو کو وزیرِ اعظم بنایا گیا۔ 
 پاکستان کی تاریخ میں سندھ سے تین وزیر عظم رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو، محمد خان جونیجو، اور بینظیر بھٹو۔ ان تینوں کو فوجی حکومت نے ہٹایا جس وجہ سے ان کی فوج کے خلاف نفرت اور احساس محرومی میں اضافہ ہوا۔
شہری آبادی کا ردعمل 
ون یونٹ ٹونٹنے بعد جب سندھ اسمبلی بنی تو  سندھ کے اندرونی علاقے آئے ہوئے لوگ اور کراچی کے لوگ ایک دوسرے کو اجنبی اور عجیب محسوس ہونے لگے۔ 
 سندھی زبان کا بل اور کوٹہ سسٹم کا نفاذ کواردو بولنے والوں کے خلاف  قرار دیا گیا اور اردو بولنے کی حیثیت بحال کرانے کے خواہشمندوں کو موقعہ دیا کہ وہ  سرگرمی دکھائیں۔  اس زمانے میں سندھی مہاجر فسادات ہوئے جس میں فریقین کے درجنوں افراد ہلاک ہوگئے۔ یہیں سیاست میں تشدد کا عنصر آنا شروع ہوگیا۔کراچی کی پوزیشن دراصل اس شہر کے مرکزی دارالحکومت بننے اور پنجاب اور پٹھان آبادی کے بڑے پیمانے پر اس شہر میں آ کر بسنے، ون یونٹ کے بعد مغربی پاکستان کا دارالحکومت لاہور منتقل ہونے سے خاصی متاثر ہوگئی تھی۔ ایم کیو ایم کا پہلا جھگڑا پٹھانوں کے ہی ساتھ ہوا جب بشرا زیدی کیس میں دونوں فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ جب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد منتقل ہوا  تو ایک اور نقصان ہوا۔ یوں مرکزی چیزوں پر پنجابی اور پٹھان نے نہ صرف اپنی حصہ داری بڑھا دی بلکہ باقی حصے میں سندھیوں کو بھی شراکت کرا دی تو مہاجر اپنے آپ کو تنگ محسوس کرنے لگے۔
جونیجو دور میں ہی سندھی مہاجر تضاد بڑھا۔ تیس ستمبر کا حیدرآباد کا سانحہ اور اسکے جواب میں کراچی کا سانحہ صرف انتخابات ملتوی کرانے کے لئے نہیں تھا بلکہ سندھ کی آبادی کو مستقل بنیادوں پر تقسیم کرنے کا فارمولا بھی تھا۔ اسٹبلشمنت کی جانب سے مہاجرقیادت کو یہ ذہن میں ڈالا گیا کہ واپس پیپلزپارٹی اقتدار میں آرہی ہے۔اس کے توڑکے لئے ایم کیو ایم کو فروغ دیا۔ 
بعد میں سندھی مہاجر تضادبعد میں حکومت کو ٹربل میں رکھنے  اور جمہوری عمل کو عدم استحکام میں رکھنے کے لئے جاری رکھا گیا۔سندھ کی دو کمیونٹیز دیہی اور شہری کا آپس میں ٹکراؤ کسی بھی طور  ان کے مفاد میں نہیں تھا۔اس دراڑ کی وجہ سے سندھ کا متحدہ موقف ختم ہو چکا ہے۔ نتیجے میں جو اسپیس بنا وہ باہر کی آبادی اور غیر جمہوری قوتوں نے پر کیا۔
پیپلز پارٹی کو کمزور کرنے کی غرض سے اسٹبلشمنٹ نے قوم پرستوں کو بعض چھوٹی چھوتی مراعات دے کر خوش کرنے کی کوشش کی گئی۔ جس کے جواب میں مہاجریت کو فروغ ملا۔
پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے سے سندھیوں کو اربنائزیشن (شہری) دھارے میں شامل ہونے کے لئے کچھ جگہ ملی۔ بھٹو نے بڑی حد تک متوسط طبقے خاص طور پر سندھ کو اکموڈیٹ کیا تھا۔  سندھ کے لوگوں کو اقتدار میں شمولیت کا احساس دلایا تھا۔قیام پاکستان کے بعد یہ پہلا موقعہ تھا کہ سندھ کے لوگوں میں حاکمیت کا احساس پیدا ہوا۔  اس لئے بھٹو کو ہٹانے سے سندھ کے لوگوں کولگا کہ ان سے کچھ چھن گیا ہے۔ 
بینظیر  بھٹونے ایم کیو ایم سے معاہدہ کیا۔ بعد میں اسٹبلشمنٹ نے ایم کیو ایم کو اقتدار میں زیادہ حصہ دینے کی لالچ دے کر یہ معاہدہ ختم کریا۔ بعد میں بغیر پیپلزپارٹی کے جو حکومتیں بنیں ان میں ایم کیو ایم کا کلیدی رول اور اختیار رہا۔ 
 ضیاء دور کے بعد  اب تک جو اشوز سندھ کی سیاست کا محور رہے ہیں  ان میں میں کالا باغ  ڈیم کی تعمیر کا معاملہ زیادہ  وزنی ہے۔ جونیجو دور میں سندھ اسمبلی نے پہلی مرتبہ اس آبی ذخیرے کے  خلاف قرارداد منظور کی۔اس کے بعد کم از کم دو مرتبہ صوبائی اسمبلی اس کو مسترد کر چکی ہے۔  جنرل مشرف تمام تر زور لگانے کے باوجود سندھ اسمبلی سے یہ قرارداد منظور نہیں کرا سکے۔ اس متنازع ڈیم کے خلاف پیپلزپارٹی اور قوم پرست اتحاد میں بھی رہے ہیں۔ نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں بینظیر بھٹو زیر قیادت میں سندھ کے تمام پارٹیوں نے بشمول قوم پرست  جماعتوں کے، سندھ پنجاب بارڈر پر کموں شہید کے مقام پر  تاریخی دھرنا دیا تھا۔کالاباغ ڈیم،  پانی کی منصفانہ تقسیم، این ایف سی ایوارڈ، وفاقی ملازمتیں،  تیل،گیس اور معدنی وسائل،  نج کاری،  مردم شماری،  واپڈا کے ساتھ سندھ کا تنازع،  ریلوے اور اس کی زمینیں، بندرگاہ، ان اختیارات پر پنجاب کی بالادستی محسوس کی جاتی ہے۔ ان پر حکومتی خواہ سیاسی سطح پر وقتا فوقتا اٹھایا جاتارہا ہے۔ یعنی سندھ انتہا پسندی یا مہاجر مخالف سیاست کے بجائے پنجاب سے جھگڑا کرنے اور مرکز میں اپنے وسائل اور اقتدار کا حصہ مانگنے کی طرف گیا۔

No comments:

Post a Comment