Nai Baat April 29
جنگی معیشت سے کاروباری معیشت تک
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
عمران خان کرپشن کے خلاف سندھ سے تحریک کا آغاز کر چکے ہیں۔ حکومت نے پاناما لیکس اسکینڈل کی تحقیقات کے لئے چیف جسٹس کو کمیشن کی تشکیل کے لئے خط لکھ دیا ہے اور کمیشن کے ٹی او آر کا بڑا دائرہ بنایا گیاہے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ آرمی چیف نے عسکری صفوں سے ایک درجن افسران کوکرپشن کے الزام میں سبکدوش کردیا ہے۔ جس سے صورتحال گھمبھیر ہوگئی ہے۔ اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ آرمی چیف کرپشن کے معاملے کو کتنا سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ آرمی چیف کے اس قدام کی مبصرین اور تجزیہ نگار مختلف تشریحات اور توضیحات بیان کر رہے ہیں۔ چاہے کچھ بھی ہو اس کے اثرات لازمی طور پر وزیراعظم نواز شریف کی حکومت پر پڑیں گے۔
آرمی چیف کے قدم اور ملک کی صورتحال میں رونما ہونے والی تبدیلی کو دیکھنے اور سمجھنے کا ایک حوالہ خطے کی صورتحال بھی ہے۔ اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ خطے میں صورتحال جس رخ میں تبدیل ہو رہی ہے سیکیورٹی اسٹبلشمنٹ بھی اپنی ترجیحات اور حکمت عملی اس کے مطابق بنا رہی ہے۔
پچاس سے عشرے سے ملکی معیشت اور خارجہ پالیسی عالمی طاقتوں کی جنگی حکمت عملی کے بنیاوں پر چلتی رہی۔ اس کے نتیجے میں نہ ملک میں موثر زرعی اصلاحات ہوئیں نہ صنعتکاری ہو پائی۔ ایوب خان کے دور حکومت میں چند ایک صنعتیں قائم ہوئیں یازراعت میں” سبز انقلاب“ ان کا مقصد بھی اپنی معیشت اور زراعت کو بنانا نہیں بلکہ دوست ممالک کی ضروریات کو پورا کرنا تھا۔ خطے میں تبدیلی یہ آ رہی ہے کہ سرد جنگ کا قصہ ختم ہوا تو اس کے ساتھ ایشیا کے اس خطے میں جنگ کی سرگرمی اور گرما گرمی باقی نہ رہی۔
افغانستان میں استحکام کے اقدامات کے ساتھ وہاں سے نیٹو کی افواج نکلنے کے بعد امریکہ اور مغرب کا جنگی تھیٹر مشرق وسطیٰ بن رہا ہے۔اس تھیٹر کے تمام لوازمات اس وقت بھی عراق، شام، لبیا،اور یمن میں موجود ہیں۔ وہ اپنی تمام تر وجہ مشرق وسطیٰ میں نقشہ تبدیل کرنے پردینا چاہتا ہے۔ گزشتہ پندرہ سال کے دوران افغانستان میںجنگ اور استحکام کے اقدامات کی بھاری قیمت ادا کرنے کے بعد اب وہ چاہتاے کہ خطے میں امن اور استحکام اور وہ یہ مقصد بات چیت کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے طالبان کو قطر میں دفتر کھول کے دیا اور ان کو ”پیس پارٹنر “بھی قرار دیا ہے۔
پاکستان، افغانستان، امریکا اور چین کے درمیان افغانستان میں قیام امن کے لیے چار ملکی مصالحتی عمل کا سلسلہ رواں سال جنوری میں اسلام آباد سے شروع کیا گیا ۔ اب تک اس کے چار اجلاس ہوچکے ہیں۔آج کل پاکستان کے ذریعے امریکہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا بندوبست کرانے میں مصروف ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں گزشتہ ہفتے ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد پاکستان کی جانب سے افغان طالبان پر دباو ¿ تھا کہ وہ امن مذاکرات میں حصہ لیں، جس کے بعد طالبان کا وفد مذاکرات کے لیے قطر سے پاکستان پہنچا ہے۔
امریکہ ے سرمایہ کاری کی حد تک چین کے لئے اس خطے میں راستے کھول دیئے ہیں سمجھتا ہے کہ چین کی سرمایہ کاری کے ذریعے خطے میں کاروباری معیشت کو فروغ ملے گا، علاقے میں معاشی استحکام پیدا ہوگا۔ یہ بات امریکی حکمت عملی سے میل کھاتی ہے۔ لیکن چین سرمایہ کاری سے آگے یعنی علاقے کی سیاسی یا جنگی حکمت عملی میں پڑنا نہیں چاہتا۔ یہ امریکہ اور مغربی ممالک کا ہی کھاتہ رہے گا۔ امریکی اہلکار یہ بات کھلے طور کہہ رہے ہیں کہ اگر چینی تجارتی راہداری آگے بڑھتی ہے تو اس سے پاکستان، چین اور امریکہ تنیوں کا بھلا ہوگا۔ یہ امر قابل غور ہے کہ چین کے ساتھ امریکہ اور مغرب کے تعلقات نئی شکل لے رہے ہیں۔ اس نئی شکل کے دور رس نتائج مرتب ہونگے۔
یہ پہلو بھی تبدیل شدہ صورتحال کا حصہ ہے کہ امریکہ اور سعو دی عرب کے تعلقات میں کھنچاﺅ آگیا ہے اور وہ بھی ازسرنو مرتب ہو رہے ہیں۔ امریکہ کاایران کی طرف نرم گوشہ ہوتا جا رہا ہے۔ شام اور یمن میں معاملات سیدھا کرنے میں ایران کے کردار کو اہم قرار دیا ہے اس کے بعد سعودی عرب نے اپنی امریکہ میں ساڑھے سات سو ارب ڈالر کی واپس لینے کیا اشارہ دیاہے۔
اگر کوئی بہت بڑا واقعہ نہیں ہوتا ، آئندہ چند برسوں میں امریکہ اور مغربی ممالک ہمارے خطے میں جنگ میں دلچسپی نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی۔ امریکہ اور چین چاہتے ہیں کہ جنوبی ایشیا ئی ممالک کے درمیان ٹکراﺅ کے بجائے مفاہمت کی پالیسی رہے ہیں۔آنے والے وقت میں چین اس خطے میں معاشی معاملات میں امریکہ کا خاموش اتحادی ہوگا۔ اس کے بعد پاکستان میں جنگی معیشت اس طرح سے مستحکم نہیں رہ سکتی۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ عالمی قوتیں جو پہلے سرد جنگ اور بعد میں افغان جنگ کے پس منظر میں پاکستان کی عسکری شعبے پر جو سرمایہ کاری کرتی رہی ہیں وہ اس سلسلہ کو مزید جاری نہیں رکھ سکیں گی۔ اب اس خطے میں جنگی معیشت کے بجائے کو کاروباری معیشت کو لینے ہے۔
عسکری قیادت اس صورتحال کو سمجھتے ہوئے خود کو اس کاروباری معیشت کا حصہ بننے کی تیاری اور کوشش کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یمن اور سعودیہ کے درمیان تصادم میں وہ اس کا حصہ نہ بنی۔ یہ بھی درست ہے کہ امریکہ بھی یہ نہیں چاہتا تھا۔
اس پس منظر میں چینی اقتصادی راہداری رونما ہوئی ہے یہ راہداری کاروباری معیشت کا سب سے بڑی بنیاد ہے۔ تینتالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے اس منصوبے میں نہ صرف پنجاب اپنا شیئر حاصل کر رہا ہے بلکہ عسکری قوت بھی بطور ارادے کے اپنے مفادات کا حصہ اس منصوبے میں سمجھتے ہیں۔مستقبل قریب میں گوادر پورٹ کے شروع ہونے کے بعد پاکستان کا حصہ کئی گنا بڑھ جائے گا۔ عسکری اداروں کے کئی ذیلی ادارے مختلف کاروبار چلا رہے ہیں جن کا مستقبل کی کاروباری معیشت میں حصہ بڑھ جائے گا۔
کاروباری معیشت کی راہ ہموار کرنے کے لئے ملک کے اندرکرپشن اور دہشتگردی دو بڑی رکاوٹیں ہیں۔ ملک میں امن و امان، دہشتگردی اور کرپشن کی اس صورتحال میں بیرونی سرمایہ کاری ممکن نہیں ایسے غیر یقینی اور مافیا قسم کی صورتحال میں کوئی بھی سرمایہ کار اپنا سرمایہ نہیں لگائے گا اور نہ ہی اپنے اسٹیک بڑھائے گا۔
عسکری اداروں نے امن و امان، قدرے شفاف انتظامی ماحول بنانے اور فاٹا، کراچی اور بلوچستان میں صورتحال کو موثر طور پر قابو میں لانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ پنجاب میں بھی مذہبی شدت پسندوں کو پیغام مل چکا ہے کہ ان سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ بدنام ڈاکو غلام رسول عرف چھوٹ کے معاملات سے بھی کئی پیغامات اور اسباق ملے ہیں۔ چین یہ بھی مطالبہ کر چکا ہے کہ سنکیانک کے علاقے میں جاری مسلح جدوجہد کا خاتمہ ہو۔ فاٹا میں آپریشن سے بڑی حد تک چین کو بھی تسلی ملی ہے۔ اس ضمن میں فوج کے سربراہ متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ چینی راہداری کے خلاف تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔
اگر بات پورے طور پر اس پس منظر کی ہے تودہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے بعد عسکری قوتیں اب دوسرے نقطے کی طرف آرہی ہیں۔ اور یہ نقطہ ہے کرپشن کا خاتمہ۔ سندھ میں ڈاکٹر عاصم اور دیگر افسران کی گرفتاری، ، سابق صدر کا ملک چھوڑ کر جانا اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ پنجاب کی قیادت میں بھی کرپشن کا ایک بڑا گروہ موجود ہے۔ اس کے خلاف بھی کارروائی ہونی تھی۔ لیکن پاناما لیکس نے اس عمل کو تیز تر کردیا ہے۔ فوج نے اپنے ادارے میں اندرونی صفائی سے پہلکاری کردی ۔
خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں عسکری حلقے دہشتگردی کے ساتھ ساتھ کرپشن کے معاملات پر بھی سخت موقف اختیار کریں گے۔ ایسے میں سویلین اداروں پر بھی دباﺅ بڑھے گا کہ وہ اسی طرح سے عسکری اداروں کی حمایت کریں جس طرح سے انہوں نے دہشتگردی کے خاتمے کے معاملے پر کی تھی۔ پیپلزپارٹی کی دو پہلو والی پالیسی خواہ تحریک انصاف کے موقف اور مختلف سیاسی جماعتوں کی حکمت عملیوں کو اسی پس منظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔
روزنامہ نئی بات
http://www.naibaat.com.pk/ePaper/islamabad/29-04-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg



