Friday, April 29, 2016

جنگی معیشت سے کاروباری معیشت تک

Nai Baat April 29 

 جنگی معیشت سے کاروباری معیشت تک 

میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی

عمران خان کرپشن کے خلاف سندھ سے تحریک کا آغاز کر چکے ہیں۔ حکومت نے پاناما لیکس اسکینڈل کی تحقیقات کے لئے چیف جسٹس کو کمیشن کی تشکیل کے لئے خط لکھ دیا ہے اور کمیشن کے ٹی او آر کا بڑا دائرہ بنایا گیاہے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ آرمی چیف نے عسکری صفوں سے ایک درجن افسران کوکرپشن کے الزام میں سبکدوش کردیا ہے۔ جس سے صورتحال گھمبھیر ہوگئی ہے۔ اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ آرمی چیف کرپشن کے معاملے کو کتنا سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ آرمی چیف کے اس قدام کی مبصرین اور تجزیہ نگار مختلف تشریحات اور توضیحات بیان کر رہے ہیں۔ چاہے کچھ بھی ہو اس کے اثرات لازمی طور پر وزیراعظم نواز شریف کی حکومت پر پڑیں گے۔ 

آرمی چیف کے قدم اور ملک کی صورتحال میں رونما ہونے والی تبدیلی کو دیکھنے اور سمجھنے کا ایک حوالہ خطے کی صورتحال بھی ہے۔ اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ خطے میں صورتحال جس رخ میں تبدیل ہو رہی ہے سیکیورٹی اسٹبلشمنٹ بھی اپنی ترجیحات اور حکمت عملی اس کے مطابق بنا رہی ہے۔
پچاس سے عشرے سے ملکی معیشت اور خارجہ پالیسی عالمی طاقتوں کی جنگی حکمت عملی کے بنیاوں پر چلتی رہی۔ اس کے نتیجے میں نہ ملک میں موثر زرعی اصلاحات ہوئیں نہ صنعتکاری ہو پائی۔ ایوب خان کے دور حکومت میں چند ایک صنعتیں قائم ہوئیں یازراعت میں” سبز انقلاب“ ان کا مقصد بھی اپنی معیشت اور زراعت کو بنانا نہیں بلکہ دوست ممالک کی ضروریات کو پورا کرنا تھا۔ خطے میں تبدیلی یہ آ رہی ہے کہ سرد جنگ کا قصہ ختم ہوا تو اس کے ساتھ ایشیا کے اس خطے میں جنگ کی سرگرمی اور گرما گرمی باقی نہ رہی۔

 افغانستان میں استحکام کے اقدامات کے ساتھ وہاں سے نیٹو کی افواج نکلنے کے بعد امریکہ اور مغرب کا جنگی تھیٹر مشرق وسطیٰ بن رہا ہے۔اس تھیٹر کے تمام لوازمات اس وقت بھی عراق، شام، لبیا،اور یمن میں موجود ہیں۔ وہ اپنی تمام تر وجہ مشرق وسطیٰ میں نقشہ تبدیل کرنے پردینا چاہتا ہے۔ گزشتہ پندرہ سال کے دوران افغانستان میںجنگ اور استحکام کے اقدامات کی بھاری قیمت ادا کرنے کے بعد اب وہ چاہتاے کہ خطے میں امن اور استحکام اور وہ یہ مقصد بات چیت کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے طالبان کو قطر میں دفتر کھول کے دیا اور ان کو ”پیس پارٹنر “بھی قرار دیا ہے۔ 

پاکستان، افغانستان، امریکا اور چین کے درمیان افغانستان میں قیام امن کے لیے چار ملکی مصالحتی عمل کا سلسلہ رواں سال جنوری میں اسلام آباد سے شروع کیا گیا ۔ اب تک اس کے چار اجلاس ہوچکے ہیں۔آج کل پاکستان کے ذریعے امریکہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا بندوبست کرانے میں مصروف ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں گزشتہ ہفتے ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد پاکستان کی جانب سے افغان طالبان پر دباو ¿ تھا کہ وہ امن مذاکرات میں حصہ لیں، جس کے بعد طالبان کا وفد مذاکرات کے لیے قطر سے پاکستان پہنچا ہے۔

امریکہ ے سرمایہ کاری کی حد تک چین کے لئے اس خطے میں راستے کھول دیئے ہیں سمجھتا ہے کہ چین کی سرمایہ کاری کے ذریعے خطے میں کاروباری معیشت کو فروغ ملے گا، علاقے میں معاشی استحکام پیدا ہوگا۔ یہ بات امریکی حکمت عملی سے میل کھاتی ہے۔ لیکن چین سرمایہ کاری سے آگے یعنی علاقے کی سیاسی یا جنگی حکمت عملی میں پڑنا نہیں چاہتا۔ یہ امریکہ اور مغربی ممالک کا ہی کھاتہ رہے گا۔ امریکی اہلکار یہ بات کھلے طور کہہ رہے ہیں کہ اگر چینی تجارتی راہداری آگے بڑھتی ہے تو اس سے پاکستان، چین اور امریکہ تنیوں کا بھلا ہوگا۔ یہ امر قابل غور ہے کہ چین کے ساتھ امریکہ اور مغرب کے تعلقات نئی شکل لے رہے ہیں۔ اس نئی شکل کے دور رس نتائج مرتب ہونگے۔

یہ پہلو بھی تبدیل شدہ صورتحال کا حصہ ہے کہ امریکہ اور سعو دی عرب کے تعلقات میں کھنچاﺅ آگیا ہے اور وہ بھی ازسرنو مرتب ہو رہے ہیں۔ امریکہ کاایران کی طرف نرم گوشہ ہوتا جا رہا ہے۔ شام اور یمن میں معاملات سیدھا کرنے میں ایران کے کردار کو اہم قرار دیا ہے اس کے بعد سعودی عرب نے اپنی امریکہ میں ساڑھے سات سو ارب ڈالر کی واپس لینے کیا اشارہ دیاہے۔ 

اگر کوئی بہت بڑا واقعہ نہیں ہوتا ، آئندہ چند برسوں میں امریکہ اور مغربی ممالک ہمارے خطے میں جنگ میں دلچسپی نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی۔ امریکہ اور چین چاہتے ہیں کہ جنوبی ایشیا ئی ممالک کے درمیان ٹکراﺅ کے بجائے مفاہمت کی پالیسی رہے ہیں۔آنے والے وقت میں چین اس خطے میں معاشی معاملات میں امریکہ کا خاموش اتحادی ہوگا۔ اس کے بعد پاکستان میں جنگی معیشت اس طرح سے مستحکم نہیں رہ سکتی۔ 

 اس کا مطلب یہ ہوا کہ عالمی قوتیں جو پہلے سرد جنگ اور بعد میں افغان جنگ کے پس منظر میں پاکستان کی عسکری شعبے پر جو سرمایہ کاری کرتی رہی ہیں وہ اس سلسلہ کو مزید جاری نہیں رکھ سکیں گی۔ اب اس خطے میں جنگی معیشت کے بجائے کو کاروباری معیشت کو لینے ہے۔

عسکری قیادت اس صورتحال کو سمجھتے ہوئے خود کو اس کاروباری معیشت کا حصہ بننے کی تیاری اور کوشش کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یمن اور سعودیہ کے درمیان تصادم میں وہ اس کا حصہ نہ بنی۔ یہ بھی درست ہے کہ امریکہ بھی یہ نہیں چاہتا تھا۔

اس پس منظر میں چینی اقتصادی راہداری رونما ہوئی ہے یہ راہداری کاروباری معیشت کا سب سے بڑی بنیاد ہے۔ تینتالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے اس منصوبے میں نہ صرف پنجاب اپنا شیئر حاصل کر رہا ہے بلکہ عسکری قوت بھی بطور ارادے کے اپنے مفادات کا حصہ اس منصوبے میں سمجھتے ہیں۔مستقبل قریب میں گوادر پورٹ کے شروع ہونے کے بعد پاکستان کا حصہ کئی گنا بڑھ جائے گا۔ عسکری اداروں کے کئی ذیلی ادارے مختلف کاروبار چلا رہے ہیں جن کا مستقبل کی کاروباری معیشت میں حصہ بڑھ جائے گا۔ 

 کاروباری معیشت کی راہ ہموار کرنے کے لئے ملک کے اندرکرپشن اور دہشتگردی دو بڑی رکاوٹیں ہیں۔ ملک میں امن و امان، دہشتگردی اور کرپشن کی اس صورتحال میں بیرونی سرمایہ کاری ممکن نہیں ایسے غیر یقینی اور مافیا قسم کی صورتحال میں کوئی بھی سرمایہ کار اپنا سرمایہ نہیں لگائے گا اور نہ ہی اپنے اسٹیک بڑھائے گا۔ 

 عسکری اداروں نے امن و امان، قدرے شفاف انتظامی ماحول بنانے اور فاٹا، کراچی اور بلوچستان میں صورتحال کو موثر طور پر قابو میں لانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ پنجاب میں بھی مذہبی شدت پسندوں کو پیغام مل چکا ہے کہ ان سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ بدنام ڈاکو غلام رسول عرف چھوٹ کے معاملات سے بھی کئی پیغامات اور اسباق ملے ہیں۔ چین یہ بھی مطالبہ کر چکا ہے کہ سنکیانک کے علاقے میں جاری مسلح جدوجہد کا خاتمہ ہو۔ فاٹا میں آپریشن سے بڑی حد تک چین کو بھی تسلی ملی ہے۔ اس ضمن میں فوج کے سربراہ متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ چینی راہداری کے خلاف تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔ 

اگر بات پورے طور پر اس پس منظر کی ہے تودہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے بعد عسکری قوتیں اب دوسرے نقطے کی طرف آرہی ہیں۔ اور یہ نقطہ ہے کرپشن کا خاتمہ۔ سندھ میں ڈاکٹر عاصم اور دیگر افسران کی گرفتاری، ، سابق صدر کا ملک چھوڑ کر جانا اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ پنجاب کی قیادت میں بھی کرپشن کا ایک بڑا گروہ موجود ہے۔ اس کے خلاف بھی کارروائی ہونی تھی۔ لیکن پاناما لیکس نے اس عمل کو تیز تر کردیا ہے۔ فوج نے اپنے ادارے میں اندرونی صفائی سے پہلکاری کردی ۔ 

خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں عسکری حلقے دہشتگردی کے ساتھ ساتھ کرپشن کے معاملات پر بھی سخت موقف اختیار کریں گے۔ ایسے میں سویلین اداروں پر بھی دباﺅ بڑھے گا کہ وہ اسی طرح سے عسکری اداروں کی حمایت کریں جس طرح سے انہوں نے دہشتگردی کے خاتمے کے معاملے پر کی تھی۔ پیپلزپارٹی کی دو پہلو والی پالیسی خواہ تحریک انصاف کے موقف اور مختلف سیاسی جماعتوں کی حکمت عملیوں کو اسی پس منظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔

 روزنامہ نئی بات
http://www.naibaat.com.pk/ePaper/islamabad/29-04-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg

سندھ کے ترقیاتی منصوبے: عدالتیں کہاں ہیں؟


سندھ کے ترقیاتی منصوبے: عدالتیں کہاں ہیں؟

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 

ابھی مبصرین اور ماہرین اس خبر پر اظہار افسوس کر رہے تھے کہ سندھ حکومت رواں مالی سال کے دوران بمشکل تیس فیصد ترقیاتی بجٹ خرچ کر سکی ہے کہ ایک اور خبر آئی ہے کہ حکومت سندھ نے 108 ایم پی ایز کو چار چار کروڑ روپے کے حساب سے تین ارب 87 کروڑ 75 لاکھ روپے اپنے حلقوں میں ترقیاتی کام کرانے کے لئے جاری کئے۔ جن میں سے صرف چھ ایم پی ایز نے یہ فنڈ خرچ کئے جبکہ باقی 102 ایم پی ایز نے ایک ٹکہ بھی خرچ نہیں کیا۔ جن منتخب نمائندوں نے رقم خرچ نہیں کی اس میں خود وزیراعلیٰ سندھ، اسپیکر سندھ اسمبلی، بعض وزراء منظور وسان، جام شورو، دوست علی راہموں، علی نواز مہر، شر جیل میمن صوبائی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے چیئرمین سلیم رضا جلبانی، طارق مسعود آرائیں، فصیح شاہ، غلام قادر چانڈیو، بہادر ڈاہری، اعجاز شاہ شیرازی، بھی شامل ہیں۔ 

یہ ایک طویل لسٹ ہے جس میں احمد علی پتافی، محمد علی ملکانی، پیر فضل جیلانی (رانیپور)، نعیم کھرل، غزالہ سیال، اویس مظفر، امداد پتافی، اعجاز علی شاہ، مراد شاہ، عبدلکریم سومرو، مہیش ملانی، ارباب راہموں ، علی نواز شاہ شامل ہیں۔ 715 اسکیمیں جاری کرنے کے لئے ایم پی ایز کو یہ رقم جاری کی گئی۔ 

جب وزیراعلیٰ کو نہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کی رقم خرچ کرنے کی توفیق ہوئی اور نہ بطور ایم پی اے اپنے حلقے میں ترقیاتی کام کرنے کی ہمت ہوئی۔ ایسے میں ایم پی ایز یا مختلف محکموں سے پوچھنے کی زحمت کون کر سکتا ہے؟ یعنی بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحاان اللہ۔۔۔

سندھ کی ترقی کیسے ہو؟ رواں مالی سال کے دوران حکومت سندھ نے ترقیاتی منصوبوں کے لئے 213ارب روپے مختص کئے تھے جس میں 27 ارب روپے غیر ملکی امداد بھی شامل تھی۔ وزارت خزانہ کے جاری کردہ دستاویز کے مطابق اس میں سے بمشکل تینتیس فیصد فنڈ خرچ کئے جا سکے ہیں۔ صوبے کے چھیالیس میں سے سولہ محکمے ایسے ہیں جنہوں نے بجٹ کا دس فیصد بھی خرچ نہیں کیا۔ صوبائی ڈزاسٹر اتھارٹی نے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا جبکہ تھر کے علاقے میں قحط ڈزاسٹر کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ 

 بات صرف یہیں پر ختم نہیں۔ روشن سندھ اسکیم میں ایک بااثر ٹھیکیدار کو یہ ذمہ داری سونپی گئی۔ نتائج اسکیم کے مقاصد سے الٹ آئے۔ پھر بھی پتہ نہیں ٹھیکیدار کی کونسی ادا بھا گئی کہ اسے کروڑوں روپے کی ادائگی کردی گئی۔ ٹھیکے کے شرائط میں یہ طے تھا کہ کام میں ایسا معیار رکھا جائے گا کہ دو سال تک لائیٹیں خراب نہیں ہونگی۔ جب یہ لائیٹیں وقت سے پہلے خراب ہونا شروع ہوئیں تو اس ٹھیکیدار سے حساب لینا چاہئے تھا۔ لیکن ایسا کرنے کے بجائے اسے ادائگی کردی گئی۔ 

 لگتا ہے کہ اس منصوبے کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا گیا ہے جو اکثر معاملات میں کیا جاتا ہے، یعنی میرٹ کو ٹھکرا نا۔ تقرر ہو یا تبادلہ، یا پھر کوئی ترقیاتی کام کا ٹھیکہ ۔ یہاں بھی کر پسندیدہ اور ناتجربیکار افراد کو نوازا گیا۔ کہیں بھی میرٹ نہیں چلتی۔ جب میرٹ نہیں چلے گی تو یہی نتائج نکلیں گے، جو روشن سندھ منصوبے میں سامنے آئے ہیں۔ یہ منصوبہ سندھ کو روشن کرنے کے لئے تھا، لیکن میرٹ کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے سندھ کو اندھیرے میں دھکیل کر ایک اور ناانصافی کی گئی۔ یہ منصوبہ ایسا ہی تھا جیسا پڑھا لکھا پنجاب کا منصوبہ۔ جس سے وہاں کی شرح خواندگی پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ پنجاب میں سستی روٹی کی اسکیم بھی شروع کی گئی، لیکن یہ اسکیم حکومت کو بہت مہنگی پڑی۔ یعنی کوئی بھی اسکیم شروع کریں اس کے نتائج الٹ آتے ہیں۔ اس سے سمجھ لینا چاہئے کہ یقیننا کہیں نہ کہیں اثر رسوخ استعمال ہوا ہے۔ 

عام خیال یہ تھا کہ گزشتہ دور میں عوام کو کچھ دینے میں ناکامی اور لوگوں کے غصے کے پیش نظر دوسرے یعنی موجودہ دور میں ان غلطیوں کا ازالہ کرے گی۔ لیکن یہ خام خیالی ثابت ہوا۔ کیونکہ موجودہ دور میں بھی حکومت اور حکمران جماعت کے اسمبلی ممبران نے مکمل طور پر عوام کو نظرانداز کیا۔ ایک طرف سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے مختص کی گئی رقم خرچ نیں کی گئی، اس پر طرہ یہ کہ اسمبلی ممبران کو جو ترقیاتی فنڈز مہیا کئے گے انہوں نے ان فنڈز کو ہاتھ ہی نہیں لگایا۔ 

 تھر کے چھ ایم پی ایز میں سے کسی نے اس فنڈ سے ایک ٹکہ خرچ نہیں کیا ۔ تھر وہ علاقہ ہے جہاں بدترین غربت اور بچوں کی اموات محض اس وجہ سے ہو رہی ہیں کہ اسے ترقی میں پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہی صورتحال ساحلی ضلع ٹھٹہ کی ہے جو ملک کے غریب ترین اضلاع میں دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ 

 اگر حکومت کی اولیت عوام کی خدمت کرنا اور ان کی زندگی میں بہتری لانا ہوتا تو صورتحال مختلف ہوتی۔ لیکن جب صرف اپنی جیبیں بھرنا مقصود ہو تو ترقی کی صورتحال یہی ہوگی۔ فنڈز کا اجراءاور خرچ نہ ہوتا یک پہلو ہے، دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ جو رقومات خرچ کی گئیں وہ کتنی منصفانہ انداز میں کی گئیں ان میں شفافیت کتنی تھی۔ 

 سندھ کے مختلف اضلاع میں ابترصورتحال ہے ۔ کہیں پینے کا پانی نہیں تو کہیں سیوریج اور نکاسی آب کا نظام ٹوٹ چکا ہے، کہیں روڈ اور گلیاں کھنڈر بنے ہوئے ہیں۔ کہیں صفائی کا نظام درہم برہم ہے۔ صحت، تعلیم، روزگار وغیرہ کی سہولیات تو دور کی بات ہے۔ 

 ہر گاﺅں اور شہر کی صورتحال بتاتی ہے کہ وہاں بنیادی سہولیات کی کیا صورتحال ہے۔ یہ صورتحال اس صوبے کی ہے جہاں حکمران جماعت برسوں سے حکومت میں ہے اور یہی نمائندے منتخب ہو کر آتے رہے ہیں۔ دنیا بھر میں شہادتیںاور قربانیاں ہمیشہ جوش اور جذبے کا سب بنتی ہیں لیکن ہماری بد نصیبی ہے کہ یہ اقتدار کی رکسی کے لےئے استعمال ہو رہی ہیں۔ 

 کرپشن، میرٹ کو مٹی میں ملانا، بد ترین حکمرانی نے انسانی حقوق اور سماجی انصاف کا جنازہ نکال دیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ چند افراد ہیں جو حکومت کے نام پر لوگوں پر سوار ہیں۔ 

 ایک خیال یہ بھی ہے کہ کرپشن کے الزامات پر نیب اور دیگر اداروں کی حالیہ کارروایوں کے بعد اسمبلی ممبران ان فنڈز کو ہاتھ لگانے کے لئے تیار نہیں۔ کیونکہ انہیں ان رقومات کا حصہ دینا پڑ جائے گا۔ حکومت مخالف حلقوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں ایم پی ایز کی کوٹا کا فنڈ صرف کاغذوں پر ہی خرچ ہوا ہے۔ سرزمین پر کوئی اسکیم موجود نہیں۔ جب ممبر صاحبان کو اپنے حصے کے جو کہ 80 سے لیکر 100 فیصد تک ہوتا ہے نہ ملے تو ایسے فنڈ جاری کرانے اور خرچ کرنے کا کیا فائدہ ۔ یہ صورتحال سندھ حکومت اور یہاں کے منتخب نمائندوں کی مجرمانہ غفلت کو عیاں کرسکتی ہے۔ اصولی طور پر کابینہ کے تمام وزراءاور ایم پی ایز کا احتساب ہونا چاہئے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ سندھ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ اس معاملے کا نوٹس لے۔۔۔

سندھ میں معاشی ترقی کی بہت بڑی گنجائش اور صلاحیت ہے۔ دستیاب وسائل کی خراب انتظام کاری اور بہت زیادہ سیاسی کی وجہ سے اس صوبے کے وسائل تو خرچ ہو جاتے ہیں لیکن مسائل حل نہیں ہوتے۔ 
26-اپریل-2016 
Nai Baat
http://www.naibaat.com.pk/ePaper/islamabad/26-04-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg


Friday, April 22, 2016

چھوٹو آپریشن کے لمبے اثرات

April 22, 2016
چھوٹو آپریشن کے لمبے اثرات
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
اکیس روز کے آپریشن کے بعد بلآخر بدنام زمانہ ڈاکو غلام رسول کو گرفتار کر اور یرغاملی پولیس اہلکاروں کو رہا کرالیا گیا ہے۔ اس آپریشن میں پانچ روز فوج بھی شامل تھی جبکہ باقی وقت میں رینجرز اور پنجاب پولیس تھے۔ آئی ایس پی آر ترجمان کا بیان ہے کہ چھوٹو نے غیر مشروط طور پر فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ فوج نے چار روز تک چھوٹو کی سپلائی لائین کاٹ رکھی تھی۔ نجی چینلز کی اطلاعات کے مطابق ڈاکوﺅں اور انتظامیہ کے درمیان معاہدہ طے پایا۔ معاہدہ کرنے میں عمائدین اور چند مقامی افراد نے مدد کی۔ یرغمالیوں کو رہا کردیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ مذاکراتی کمیٹی بنائی گئی۔چھوٹو نے یرغمالی رہا کرانے اور ہتھیار ڈالنے کے لئے جو شرائط رکھی تھی ان میں انہیں اور ان کے اہل خانہ کو دبئی بھیجنا، شامل تھا۔ 
 چھوٹو اس سے پہلے بھی پولیس اہل کاروں کو اغوا کر کے اپنے ساتھیوں کو رہا کراچکا ہے۔ لیکن اس مرتبہ انہیں گرفتاری دینے پڑی۔ اس سے قبل 22 سو پولیس نفری چھوٹو کے خلاف کامیابی حاصل نہیں کر سکی تھی۔ آرمی کو ایک بار پھر امن و امان کے مسئلہ پر طلب کیا گیا۔ جب کہ یہ معاملہ قانون نافذ کرنے والی سول ایجنسیوں کا تھا۔ 
گھوٹکی سے دریائے سندھ کی اپ اسٹریم میں دریائے سندھ کے چوڑائی آٹھ کلومیٹر سے گیارہ کلومیٹر تک ہے، جس میںمختلف چھوٹے جزائر ہیں جو متوسط سیلاب میں بھی محفوظ رہتے ہیں، ڈاکو اس جغرافیائی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔بالائی سندھ میں بھی دریا کے دونوں اطراف میں خیرپور، شکارپور، کشمور اور گھوٹکی میں اس وقت بھی ڈاکو سرگرم ہیں، لیکن قبائلی تنازعات کی وجہ سے ان کی حدود غیر اعلانیہ طور پر محدود ہیں۔سندھ میں ڈاکو اغوا کے علاوہ بھتہ خوری اور کچے کی زرخیز زمینوں پر کاشت اور بھینسیں بھی پالتے جن کا دودھ قریبی شہروں میں فروخت کیا جاتا ہے۔ یہی صورتحال تھوڑے بہت فرق کے ساتھ پنجاب میں بھی ہے۔ 
 تین صوں کی سرحوں پر واقع برسوں تک دریا کا کچے کا یہ علاقہ جرائم پیشہ افراد کی جنت بنا رہا ہے جہاں حکومت اور قانون کی رٹ نہیں چلتی تھی۔یہاں سندھ اور پنجاب کے گینگ یرغمالیوں کا تبادلہ بھی کرتے تھے اور ان کو پولیس سے محفوظ رکھنے کے لئے بھی قیام کراتے تھے۔ اب آرمی کے گن شپ ہیلی کاپٹروں اور بم پھینکنے کے بعد آرمی نے کامیابی حاصل کی ہے۔ کچا جمال آپریشن کے دوران وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے ڈائریکٹر جنرل رینجرز جنرل بلال اکبرسے ملاقات کی۔ ملاقات میں پنجاب میں چھوٹو گینگ کے خلاف جاری آپریشن کے سندھ پر اثرات پر غور کیا گیا۔ سندھ حکومت کو یہ تشویش ہے کہ چھوٹو گینگ کے سندھ میں داخلے پر تشویش رہی لیکن اپنے صوبے میں چھپے ہوئے ڈاکوﺅں کے خلاف شکارپور اور گھوٹکی میں ناکام ہونے والے آپریشن پر تشویش ہی نہیں۔ 
 چھوٹو کے اس ڈرامے میں چند چیزیں ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ اکیس روزہ اس مقابلے کے دوران میڈیا کی توجہ پاناما لیکس سے کم ہوئی۔ سول ایجنسیوں کی صلاحیت اور ناکامی کا کھلا اظہار ہوا۔ سب سے بڑی بات یہ کہ مجموعی طور گورننس کا اسپیس بھی کم ہوا۔ 
اس المیے کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ ملک بھر میں کئی ایسے مقامات ہیں جہاں ریاست کی اتھارٹی موجود نہیں اگر موجود ہے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ کیونکہ ان مقامات پر جرائم پیشہ افراد آزادی کے ساتھ اپنی کاروائیاں کرتے رہتے ہیں اور عام سی زندگی گزارتے ہیں۔ 

کوئی بھی منظم اور مسلسل ہونے والا جرم پشت پناہی کے بغیر پروان نہیں چڑھتا ۔ وہ کسی مقامی وڈیرے کی ہو یا ریاستی اداروں کی چھوٹ کا نتیجہ۔سندھ جس کو ڈاکوﺅں کے حوالے سے خاصی شہرت دی گئی ہے وہاں کا تجربہ بتاتا ہے کہ جنرل ضیاالحق کے دور حکومت میں سندھ میں ڈاکو کو پہلے چھوٹ دی گئی اس کے بعد ان کے خلاف بھرپور آپریشن ہوا نتیجے میں کچے کے جنگلات کاٹا گیا۔ اور یہاں سے جو زمینیں حاصل ہوئیں وہ اپنے من پسند لوگوں کو دی گئیں۔ قبائلی بنیادوں پر سیاست کرنے والے ان سرداروں اور جاگیرداروں کی ڈاکو سیاسی مجبوری ہیں جن کے ذریعے وہ اپنی حکمرانی قائم کیے ہوئے ہیں۔ سندھ میں پولیس میں سیاسی تقرریوں اور تبادلوں کے الزامات ہیں۔ ان دونوں حوالے سے پنجاب میں کیا صورتحال ہے؟ اس سوال کا بھی جواب آنا چاہئے۔ 

ایک طویل عرسے تک پنجاب حکومت جنوبی پنجاب میں ڈاکوﺅں اور مذہبی انتہا پسندوں کی موجودگی اور بڑھتے ہوئے اثر سے انکار کرتی رہی۔ چھوٹو کوئی راتوں رات پیدا نہیں ہوا۔ تعجب کی بات نہیں کہ پولیس کا یاک سابق مخبر، ایک بہت بڑی گینگ کے ساتھ جس کا اپنا نیٹ ورک بھی تھا بلا روک ٹوک کاروائیاں کرتا رہا کیا یہ مقامی بااثر افراد کی پشت پناہی کے بغیر ممکن تھا؟ 

دلچسپ امر ہے کہ ماضی میں تمام پولیس کاروائیاں ناکام رہی۔ یوں ان جرائم پیشہ افراد کو مزید جگہ ملتی رہی۔ 2013 میں گینگ نے ایک پولیس پوسٹ پر حملہ کیا اور آٹھ اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا۔ انہیں آٹھ روز بعد رہائی ملی جب پولیس نے چھوٹو کے گھر والوں اور ساتھیوں کو رہا کیا۔ سوالیہ یہ بھی ہے کہ کس طرح سے اس گینگ تک اتنا جدید ہتھیار پہنچتا رہا جو وقتا فوقتا پولیس کے خالف استعمال ہوتا رہا۔ اس علاقے میں صرف چھوٹ کی گینگ نہیں بلکہ نصف درج اور گینگ بھی ہیں۔ جو اس طاقتور صوبے کی طاقت کو چیلینج بنے رہےہیں۔ 

بظاہر لگتا ہے کہ یہ آرمی کا دباﺅ تھا جس نے پنجاب حکومت کو سرگرم کیا اور ایکشن میں لے آیا۔ لیکن ابھی تک کسی مذہبی انتہا پسند گروپ کے خلاف کاروائی کی کوئی اطلاع نہیں جن کا کسی طرح سے ان جرائم پیشہ افراد سے گٹھ جوڑ ہے۔ شدت پسندی اور حکومت کی اتھارٹی کے سکڑنے کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ لہٰذا یہ معاملہ مربوط حکمت عملی کے بغیر موثر طور پرحل نہیں کیا جاسکتا۔ 
 ابھی تک صورتحال یہ ہے کہ صوبائی خواہ وفاقی حکومت انکار کی اس صورتحال سے باہر نہیں آسکی ہے۔ ایسے میںاس مسئلہ کا حل کیسے ہوگا۔ 
انتہا پسند گروپوں کے خالف کریک ڈاﺅن کرنے کے سوال پر فوجی اور سول قیادت کے درمیان نتاﺅ کی صورتحال رہی۔ کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہو اجب گزشتہ ماہ علامہ اقبال پارک لاہور کے پارک میں دھماکہ ہوا جس میں درجنوں افراد جاں بحق ہوگئے۔ جب عسکری حلقوں نے فوری آپریشن کرنے کا یک طرفہ فیصلہ کیا تو سول حکومت کو اچھا نہیں لگا۔ اب اگرچہ بظاہر یہ تعلقات معمول پر آگئے ہیںکیونکہ کہ صوبائی حکومت آرمی کا مطالبہ مان لیا ہے۔ لیکن یہ معاملہ ایک چبھن کے طور پر بہرحال موجود ہے۔ 
صوبائی حکومت کا دعوا ا پنی جگہ پر کہ سول ایجنسیاں اس کاروائی کی قیادت کر رہی ہیں۔ لیکن راجن پور آپریشن سے یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ سول ایجنسیاں اس طرح کے جرائم پیشہ افراد سے نمٹنے کی بھی پورے طور پر صلاحیت نہیں رکھتیں۔ دہشتگردوں یا شدت پسندوں سے کیسے نمٹ لے گی؟
آرمی نے چھوٹو گینگ کو پکڑ لیا ہے لیکن یہ مسئلے کا خاتمہ نہیں۔ جب حکمرانی سکڑ رہی ہو ایسے میں آرمی کے واپس چلے جانے کے بعددوسرے گینگ بھی پیدا ہوتے رہیں گے۔ یہ صرف راجن پور کا قصہ نہیں۔ حکمرانی کے غیر موثر ہونے نے ایک خلاءپیدا کیا ہے۔ جو کہ یہ شدت پسند گروپ بھر رہے ہیں۔ ۔ 
 سندھ اور بلوچستان میں پہلے ہی حکمرانی بہت خراب ہے۔ یوں اندرونی سیکیورٹی کے معاملات میں فوج کا کردار بڑھ گیا ہے۔ کراچی کو ہی دیکھیئے جس کو عملا رینجرز چلا رہی ہے۔ یہاںسول ایجنسیاں پیچھے ہٹ گئی ہیں۔ رینجرز کے آپریشن سے پہلے ملک کے اس بڑے اور صنعتی شہر میں کئی علاقے نو گو ایریا ز تھے۔ اب کراچی میں حالات معمول پر آتے جارہے ہیں۔ 

وفاقی حکومت کراچی میں رینجرز کو مکمل اختیارات دینے کی حمایت کرتی ہے، لیکن یہی اختیارات پنجاب میں دینے کو تیار نہیں۔ 
چھوٹو کے خلاف آپریشن کے بعد پنجاب میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے لئے دباﺅ کو برداشت کرنا صوبائی خواہ وفاقی حکومت کے لئے مشکل ہو جائے گا ۔ چھوٹوکے خلاف آپریشن نے سوالات بھی اٹھائے ہیں اور اثرات بھی دکھائے ہیں۔ سول قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی صلاحیت کو ایکسپوز کر دیا ہے۔ ایک ڈاکو گینگ کے لئے بھی اب سول حکومت کا یہاں پر بھی فوج پر انحصار بڑھ گیا ہے۔ یہ بات فوج کو پنجاب میں بھی کھینچ لائے گی جو بلوچستان اور شمالی مغرب میں پہلے سے آپریشن میں مصروف ہے۔ یہ سمجھنا از حد ضروری ہے کہ فوجی آپریشن کسی طور پر بھی مستقل یاطویل مدت کا حل نہیں۔ مسئلہ کسی ایک یا دو گینگ کے خاتمے کا نہیں۔ مسئلہ حکومت کی اتھارٹی قائم کرنے کا ہے۔ اس نازک مسئلہ پر کوئی واضح سوچ موجود نہیں۔ 

http://www.naibaat.com.pk/ePaper/lahore/22-04-2016/details.aspx?id=p12_05.jpg



Sunday, April 17, 2016

مارک سیگل کا بیان اور رائیس کونڈی لیزا کی کتاب


 مارک سیگل کا بیان اور رائیس کونڈی لیزا کی کتاب

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی

محترمہ بے نظیر بھٹو قتل کیس میں امریکی لابیئسٹ مارک سیگل کے بیان نے اس کیس کو نیا موڑ دے دیا ہے۔ بینظیر بھٹونے انہیں ای میل کر کے بتایا تھا کہ ان کی زندگی کو خطرہ ہے۔ بینظیر بھٹو کیس میں مارک سیگل نے اپنے بیان میں اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ دیا جس پر ریٹائرڈجنرل مشرف کے وکیل نے اعتراض کیا کہ یہ رپورٹ اس کیس کا حصہ نہیں۔ مطلب نہ اقوام متحدہ کی تحقیقات کو اور نہ اسکاٹ لینڈیارڈ پولیس کی تحقیقات اوررپورٹ کو شامل کیا گیا ہے۔ 

 یہ بات عام تھی کہ بینظیر بھٹو ایک ڈیل کے تحت ہی پاکستان آرہی تھیں۔ اس ڈیل کی ضمانت امریکہ نے دی تھی۔ لیکن بعد میں مشرف اس ڈیل سے مکر گئے تھے۔ مارک سیگل کے بیان کو اگر اس وقت کی امریکی خارجہ سیکریٹری رائیس کونڈی لیزا کی خود نوشت کتاب کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس کا وزن اور بڑھ جاتا ہے۔ تعجب ہے کہ اس کتاب کو اس کیس میں موجود حقائق کی تحقیقات کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ یہ کتاب مریکی سیکریٹری خارجہ رائیس کونڈی بھٹو اور مشرف ٹیم کو مثالی سمجھتی تھی۔وہ اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ انہوں نے بے نظیر بھٹو کو راضی کیا کہ وہ واپس پاکستان جائے اور مشرف کے ساتھ ٹیم بنائے۔ مگر جب وہ وطن پہنچی تو مشرف کا ردعمل مختلف تھا۔ 

بینظیر بھٹو کی چھٹی حس اور زمینی حقائق یہ تھے کہ یہ سب دیوانے کا خواب تھے۔ صورتحال کو سمجھنے کے لئے ہم رائیس کونڈی لیزا کے کتاب سے کچھ اقتسابات پیش کر رہے ہیں:
 دراصل مشرف بے نظیر بھٹو کے ساتھ چلنا نہیں چاہ رہے تھے۔ اس لئے وہ ٹال مٹول سے کام لے رہے تھے۔

رائیس کونڈیلیزا کی کتاب میں وہ لکھتی ہیں کہ آٹھ اگست 2007 کو جنرل پرویز مشرف مارشل لاء نافذ کرنے والے تھے مگر بینظیر بھٹو نے انکو ایسا کرنے سے روک دیا۔ بعد میں امریکی صدر بش نے محترمہ کو اس جرات مندی پر سراہا۔ 
وہ لکھتی ہیں کہ 2007 کے شروع میں مشرف نے ان سے کہا کہ بینظیر بھٹو طاقتور اپوزیشن لیڈر ہیں اور خود ساختہ جلاوطنی میں گذار رہی ہیں۔ وہ ان کو قریب لانے میں انکی مدد کرے۔یہ بڑی بات تھی کہ دو ماڈریٹ سیاستداں پاور شیئرنگ کے فارمولے اےک دوسرے سے قریب آئیں۔اس سے بنیاد پرست انڈر مائنڈ ہو جائیںگے اور نواز شریف بھی جس کے شدت پسندوں کے ساتھ تعلقات بتائے جاتے ہیں۔ امریکہ کے جنوبی و وسطی ایشیا ئی امور کے ڈپٹی سیکریٹری رچرڈ باﺅچر کے ذمہ یہ کام سونپا گیا کہ وہ ڈیل کے امکانات کو دیکھے۔ وہ دونوں فریقین سے ملتے رہے خاص طور پر بینظیر بھٹو سے جو اس وقت لندن میں تھیں۔رچرڈ دونوں فریقین کو قریب لانے میں کامیاب ہو گئے اور دونوں کی ملاقات بھی ہو گئی۔یہ ملاقات جولائی کے آخر میں متحدہ عرب امارات میں ہوئی۔پر ادھوری رہی۔ جب میں نے مشرف سے ہنگامی حالات ختم کرنے کے بارے میں بات کی تو انہیں یقین دلایا کہ ہم ان دونوں کے درمیاں فاصلے کم کرنے کے لئے کوششیں دگنی کردیںگے۔

بوشر دونوں فریقین کے درمیان شٹل کرتے رہے۔ اکتوبر تک چار معاملات ابھر کر آئے۔ پہلا یہ کہ جنرل مشرف کب وردی اتاریں گے؟( انتخابات سے پہلے یا بعد میں)۔ کیا بینظیر بھٹو اور ان کی پارٹی کے اراکین کو کرپشن اور دوسرے ایسے مقدمات سے تحفظ ملےگا؟ کیا وہ آئینی رکاوٹ کے باوجود کہ تیسری بار وزیراعظم ہو سکتی ہیں؟ چوتھا یہ کہ کیا مشرف، انتخابات سے پہلے ان کی وطن واپسی کی حمایت کرینگے۔ میں نے تےن اکتوبر کی شام کو ےہ چاروں چیزیں مشرف کے سامنے رکھیں۔اور پونے چھ بجے بینظیر کو فون کرکے جواب سے آگاہ کیا۔سوا چھ بجے دوبارہ مشرف سے بات کی۔اور پونے سات بجے بینظیر سے بات کی۔اور ےہ سلسلہ ہر آدھے گھنٹے بعد رات11.28 منٹ تک جاری رہا۔ 

رائیس کا کہنا ہے کہ بینظیر کو مشرف کی نیت پر شک تھا اور مشرف کو بھی۔ بینظیریہ کہتی رہی کہ وہ پارٹی کانفرنس کرنا چاہ رہی ہیں کیونکہ پارٹی کے لوگ مشرف سے ڈیل کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔میں انہیں دلیل دیتی رہی کہ انکو ملک کے لئے ایسا کرنا چاہئے۔صرف ان دونوں کے درمیان اتحاد ہی اچھے طریقے سے انتخابات کرا سکتا ہے۔جب میں ان فون کالز کے درمیاں شٹل کر رہی تھی تو سوچ رہی تھی کہ کیا میں صحیح کر رہی ہوں؟ بڑی مشکل سے پاور شیئرنگ کا فارمولا بنایا گےا۔ کیونکہ عمومی طور پر فریقین یہ شیئرنگ نہیں چاہ رہی تھیں۔میرے لئے یہ بھی تشویش کی بات تھی کہ ہمیں مﺅرد الزام ٹہرایا جائےگا کہ ہم نے جمہوری عمل میں مداخلت کی۔کیوں نہ الیکشن ہونے دیں ۔

 وہ مزید لکھتی ہیں ۔ سچ بات تو یہ ہے دونوں کے پاس مسائل بھی بہت تھے اور اثاثے بھی۔ مشرف اےک فوجی بغاوت کے ذریعے حکومت میں آیا تھا مگر انہوں نے صورتحال کو کنٹرول کیا اور فوج میں انہیں سراہایا جاتا ہے۔بینظیر اور انکے خاندان پر کرپشن کے شدید الزامات تھے۔ مگر وہ اصلاحات کی علامت کے طور پر ابھری تھی۔ اور عمومی طور پر لبرل سیاسی خیالات کی حامل ہیں۔دونوں فریقین لبرل اور ماڈریٹ ہیں اور انتہا پسندی کے خلاف لڑنا چاہتے ہیں۔ ان کے درمیاں پاور شیئرنگ پاکستان میں جمہوریت کی جانب صرف اےک قدم ہوگا۔ بہرحال میں نے یہ ضروری جانا تاکہ ملک کچھ آگے بڑھ سکے۔

امریکی سیکریٹری کے مطابق رات کو مشرف اور بینظیر دونوں سے فون پہ بات ہوئی اور تفصیل کے ساتھ ڈیل طے ہو گئی۔ جس کے مطابق بینظیر بھٹو ملک آنے اور عام انتخابات لڑنے کی اجازت ہوگی جو کہ جنوری کے وسط میں ہونے تھے۔

 ڈیل میںان افواہوں کی وجہ سے پیچیدگیاں پیدا ہونے لگیں کہ مشرف صدارتی انتخابات کے بعد وردی اتارینگے۔اور وہ آرمی چیف کا عہدہ رکھتے ہوئے صدرارتی اتنخاب لڑینگے۔بینظیر نے مجھے بتاےا کہ جنرل مشرف ایسا نہیں کرینگے۔ اور یہ بھی کہا کہ میں یہ سمجھونگی کہ امریکی حکومت بیچ میں ضامن ہے۔ رائیس کے مطابق ڈیل کا 4 اکتوبر کو اعلان کیا گےا۔

 لیکن جب 18 اکتوبر کو بینظیر بھٹو وطن لوٹیں تو کارساز کراچی میں ان پر قاتلانہ حملہ ہوا اور انکے استقبالی جلوس میں دو دھماکے ہوئے۔ان کی تو جان بچ گئی مگر 140 افراد ہلاک ہوگئے۔اس کے بعد دسمبر میں جناح باغ راولپنڈی کے واقعہ میں محترمہ کو قتل کردیا گیا۔ رائیس کونڈی کے بیان کردہ واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ نے ڈیل تو کرالی لیکن وہ ریٹائرڈ جنرل مشرف کو یہ بات نہیں منوا سکا کہ بینظیر کی جان کی حفاظت کی ضمانت دے۔ امریکہ کی وجہ سے پیپلزپارٹی اپنے دور حکومت میں اس کیس کی تفتیش کو آگے نہیںسکی۔ 

 سیگل کے بیان کے بعد کیا ہوگا؟ کیا سیگل کی گواہی مشرف کو اس کیس میں ملوث کرنے کے لئے کافی ہے؟ ایسا نہیں لگتا۔ کیونکہ ہمارے ملک میں کوئی بھی ہائی پروفائیل کیس اپنے منطقی نتیجہ پر نہیں پہنچے ہیں۔

وزیراعظم ہاﺅس اور ان ہاﺅس تبدیلی کے اشارے


 وزیراعظم ہاﺅس اور ان ہاﺅس تبدیلی کے اشارے

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 

 وزیراعظم نواز شریف کے بیرون ملک پہنچنے کے بعدنے مسلم لیگ (ن) کے اعلیٰ سطحی اجلاس نے وزیراعظم نواز شریف کا ہی موقف دہریا ہے کہ نے پانامہ لیکس کی انکوائری کمیشن ریٹائرڈ جج کی سربراہی میںہو ۔یوں حکمران جماعت نے عمران خان یہ مطالبہ مسترد کر دیا ہے کہ کمیشن کی سربراہی حاضر سروس جج کریں۔ تاحال کمیشن کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہو سکا ہے۔ 

کمیشن کے بارے میں وزیراعظم اور پارٹی کا موقف ایک ہے تو وزیر داخلا چوہدری نثار علی خان کا دوسرا۔ چوہدری صاحب نے بیچ بازار بھانڈا پھوڑ دیا کہ پانچ سابق جج صاحبان اس کمیشن میں آنے سے معذرت کر چکے ہیں۔ عمران خان نے 24 اپریل کی ڈیڈلائن دی ہے جس سے بہت بڑا تحرک پیدا ہو گیا ہے۔ 

ملک شدید بحران کا شکار ہے۔ لیکن بڑے سیاستدان بیرون ملک چلے گئے ہیں۔ اور لندن سرگرمیوں اور توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ آصف زرادری اور رٹیائرڈ جنرل مشرف پہلے ہی علاج کی غرض سے بیرون ملک مقیم ہیں اور وہ تب تک وطن واپس نہیں آئیں گے جب تک ڈاکٹر انہیں جانے کا مشورہ نہیں دیتے۔ اب وزیراعظم نواز شریف بھی بغرض علاج بیرون ملک رونہ ہوئے ہیں۔ 

وزیراعظم ہاﺅس کا کہنا تھا کہ وہ طبی معائنے کے لئے لندن گئے ہیں، چوہدری نثار علی خان کہتے ہیں کہ وہ علاج کے لئے گئے ہیں اور مکمل علاج سے پہلے واپس وطن نہیں آئیں گے۔ 

اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ میاں صاحب آصف علی زرادری سے ملاقات کرنے گئے ہیں۔ جن کو موجودہ منظر نامے کا ایک اہم کھلاڑی قرار دیا جارہا ہے وہ بھی لندن چلے گئے ہیں۔ وہ گزشتہ روز اپنی پریس کانفرنس میں آصف علی زرداری سے قربت کا اشارہ دے چکے ہیں۔

 حکمران جماعت پاناما لیکس کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی۔ وہ رسمی طور پر ہی سہی، آل پارٹیز کانفرنس بھی نہیں بلا سکی ہے۔ حالانکہ دیگر سیاسی جماعتیں بمع پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کے معاملے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات تو چاہ رہی تھیں لیکن وہ عمران خان کے ساتھ جانے کو تیار نہیں تھیں۔ حکومت نے اپنے حق میں منظر نامہ ہونے کے باوجود اس کو استعمال نہیں کیا۔ 

 پی ٹی آئی اور نواز لیگ ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دونوں جماعتیں اندرونی بحران کا بھی شکار ہیں۔ نواز لیگ کے لئے کہا جارہا ہے کہ خود شریف فمیلی میں اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔ 

 تحریک انصاف کے انتخابات ہونے والے تھے۔ اس جماعت میں پہلے ایک نظریاتی گروپ سامنے آیا۔ پھر پارٹی کے اہم رہنما شاہ محمود قریشی کا دو رہنماﺅں چوہدری سرور اور جہانگیر ترین کے خلاف آیا۔ اس صورتحال کو بھانپتے ہوئے عمران خان نے یہ کہہ کر ملتوی کر دیئے ہیں کہ وہ اس وقت حکومت کے خلاف تحریک چلانا جارہے ہیں۔ اگر پارٹی کے انتخابات ملتوی نہ کئے جاتے تو شاید پارٹی دو حصوں میں بٹ جاتی۔ 

بہرحال پی ٹی آئی کے اندر بحران موجود ہے۔ جس پر پاناما لیکس اور عمران خان کے حکومت کے خلاف تحریک کے اعلان نے عارضی طور پردہ ڈال دیا ہے۔ ماضی میں عمران خان دوسروں کی وکٹیں گراتے رہے ہیں اس بار خود ان کی پارٹی کی وکٹیں ہلنے لگی ہیں۔ 

 تحریک انصاف اسلام آباد کے ایف نائین پارک میں بہت بڑا جلسہ کرنا چاہتی ہے لیکن حکومت نے وفاقی دارلحکومت میں اس طرح کے کسی جلسے پر پابندی عائد کردی ہے۔ جس کا اعلان چوہدری نثار علی خان کر چکے ہیں۔ 

اسلام آباد کی فضاﺅں میں یہ بات گونج رہی ہے کہ وزیراعظم کے لئے استعیفا ناگزیر ہے۔ اب وزیر اعظم کے پاس کیا آپشن ہیں۔ عہدے پر رہنے کی کیا قانونی و آئینی پوزیشن ہے؟ انکوائری کمیشن کی حکومتی تجویز اور عمران خان کا چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن کا مطالبہ ایکدوسرے سے ٹکراﺅ میں ہیں۔ دوسری جماعتیں بھی اس پر مطمئن نہ ہوں۔ ایسے میں عمران خان کے لئے رائیونڈ کے مارچ کا ہی راستہ بچتا ہے۔ 

 وزیراعظم کے نام پر دو آف شور کمپنیوں کا عمران خان کی جانب سے انکشاف کے بعد وزیراعظم کی آئنی پوزیشن بہت کمزور ہو گئی ہے۔ اس بنیاد پر بعض وزراءاور اسمبلی ممبران نااہل قرار دیئے جا چکے ہیں۔ کیونکہ انتخابات لڑنے کے لئے جو ملکیت کے گوشوارے داخل کئے گئے ان میں ان کمپنیوں کا ذکر نہیں۔

 وزیراعظم کے لندن ورانگی سے قبل ہی مختلف افواہیں چل رہی تھیں کہ انہیں گھر بھیجنے کے انتظامات مکمل ہو چکے ہیں۔ مختلف ایکٹرز نے اب اسٹیج پر چڑھنا شروع کردیا ہے۔ ان کی بیماری اور علاج کے لئے لندن روانگی سے یہ دلیل مضبوط ہو گیا ہے۔ نواز لیگ اپنی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں نیا وزیراعظم منتخب کر سکتی ہے۔ جو کہ آئینی اور جائز طریقہ ہے۔ 

 اگر وزیراعظم کو اپنی ذات اور خاندان کو بچانے کی فکر نہ ہو تو جمہوریت، پارلیمنٹ، اور صوبائی خواہ وفاقی حکومتوں کو بچانے کا یہ واحد راستہ ہے۔ وزیر اعظم کے جانے سے سیاسی نظام بچ سکتا ہے۔ اگر وزیراعظم خود کو اور اپنے خاندان کو بچانے کی کوشش کریں گے تو اس رسہ کشی میں پورا نظام بیٹھ جائے گا۔ ظاہر ہے مقتدرہ حلقے اور سپریم کورٹ ایسے ملکی حالات پر چپ نہیں بیٹھیں گی۔ ایک آپشن یہ بھی ہے تمام معاملے کو طول دیا جائے۔ 

لیکن جتن اب دیر ہوچکی ہے۔ معاملات الجھ گئے ہیں۔ اگر ڈیڈ لاک لمبا ہوا تو ملک میں معاشی صورتحال بھی ابتر ہوگی۔ مقتدرہ اداروے اس صورتحال کو زیادہ عرصے تک برداشت نہیں کریں گے۔ 

اگر اعتزاز احسن کی بات درست ہے کہ وزیراعظم آصف زرداری سے ملنے گئے ہیں۔ کیا آصف زرادری ان سے ملاقات کریں گے؟اسلام آباد سے پارٹی کے رہنما یہی تاثر دے رہے ہیں کہ چند ماہ قبل جب زرداری کی جانب سے عسکری حلقوں کے خلاف بیان کے بعد وہ دباﺅ میں آگئے تھے۔ لیکن اپروچ کرنے کے باوجود نواز شریف ان کی مدد کو نہیں آئے تھے۔ 

پاناما لیکس کا قصہ اپنی جگہ پر ، یہ سوال فوری حل طلب ہے کہ غیر معینہ مدت تک وزیراعظم ملک سے باہر ہونگے تو وزیراعظم کے اختیارات کس کے پاس ہونگے؟ وزیراعظم کی جسمانی یا سیاسی بیماری کو وزیراعظم ہاﺅس نے ہلکا کر 
کے بیان کیا ہے جبکہ چوہدری نثار علی خان نے اس کو سنجیدہ بنا کر پیش کیا ہے۔ پارٹی کی جمعرات کی میٹنگ سے پپتہ چلتا ہے کہ چوہدری صاحب نے یہ بیان پارٹی یا وزیراعظم سے مشورے سے نہیں دیا ۔ ایک چھوٹے سے ادارے میں بھی جب اس کا سربراہ چھٹی پر ہوتا ہے تو کسی کو قائم مقام بنا کر اپنے اختیارات سونپ کر جاتا ہے۔ لیکن حکمران جماعت نے تاحال ایسا نہیں کیا ۔ 

 یہ بحث خود نواز لیگ کے حلقوں میں بھی چل رہی ہے کہ نواز شریف کی عدم موجودگی میں عبوری وزیراعظم کون ہوگا؟ وہ شریف خاندان میں سے ہوگا یا پارٹی میں سے؟ خود شریف خاندان میں بھی ایک سے زائد امیدوار ہیں۔ مریم نواز شریف ہو سکتی تھیں لیکن پاناما پیپرز میں ان کا نام بھی شامل ہے ۔ بہرحال یہ طے ہے کہ مریم نواز نے جس طرح گزشتہ روز پارٹی کے اجلاس میں سرگرم کردار ادا کیا ۔ پاناما لیکس کے بعد شریف خاندان کے اختلافات بھی کھل کر سامنے آئے ہیں۔ شہباز شریف نے اس پر کچھ ٹھوس موقف نہیں رکھا۔

 وزیراعظم اپنے بیٹوں کا دفاع کرتے رہے۔ یہاں تک کہ مریم کو پارٹی اجلاس میں شکایت کرنی پڑی کہ پارٹی نے وزیراعظم اور اس کے خاندان کا موثر دفاع نہیں کیا۔ اس پر چوہدری نثار کا یہ موقف ہے کہ یہ شریف خاندان کا ذاتی معاملہ ہے وہ خود اپنا دفاع کریں۔ان کا موقف یہ تھاس کہ ہر سطح پر بھرپور طریقے سے دفاع کیا جائے۔ مریم نے پارٹی کے اجلاس میں جو موقف اختیار کیا، وہ نواز شریف کا موقف ہی سمجھا جائے گا۔ لگتا ہے کہ جب تک وزیراعظم نواز شریف لندن میں ہیں شہباز شریف کے بجائے مریم پارٹی اور حکومت معاملات میں اہم رول ادا کریں گی۔ 

بیرون ملک روانگی سے قبل چوہدری نثار علی خان نے صحافیوں سے بات چیت میں عمران خان کے ” خطرے“ سے بھی زیادہ بڑے خطرے کا امکان ظاہر کیا کہ حکومت کو غیر جمہوری طریقے سے ہٹانے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کی اس وارننگ میں یہ خیال بھی پنہاں ہے
 کہ ’ان ہاﺅس‘ تبدیلی لائی جائے۔ دیکھنا یہ ہے کہ لندن کی سرگرمیاں کیا رخ اختیار کرتی ہیں۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 روزنامہ نئی بات کے لئے 


سندھ نامہ: مرکز صوبوں کی آواز کیوں نہیں سنتا؟

April 15, 2016
 سندھ نامہ: مرکز صوبوں کی آواز کیوں نہیں سنتا؟
سندھ نامہ سہیل سانگی
پورے ملک کی طرح سندھ کے میڈیا پر بھی پاناما لیکس چھایا رہا۔ تاہم اخارات نے صوبے کے اہ مسائل کو اٹھانے میں اپنی زمہ داری پوری کی۔ مرکز صوبوں کی آواز کیوں نہیں سنتا کے عنوان سے روزنامہ کاوش لکھتا ہے کہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت منعقدہ چاروں صوبوں کے اجلاس میں صوبوں کی جانب سے ترقیاتی منصبوں سے متعلق معلومات شیئر کرنے ، ترقیاتی بجٹ میں صوبوں کی تجاویز شامل کرنے، ملک کے ترقیاتی گول اور ویزن 2015 کے اہداف حاصل کرنے کے لئے تعاون کا نظام تشکیل دینے سے متعلق فیصلے کئے گئے۔ 

اجلاس میں سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں کی جانب سے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں ان دو صوبوں کے کم منصوبے رکھنے، میگا پروجیکٹس التوا میں ڈالنے، سندھ میں بجلی کے منصبوں میں وفاق کی جانب سے رکاوٹیں ڈالنے ،اور وقت پر فنڈ جاری نہ کرنے کی شکایات بھی پیش کی گئیں۔ سندھ کے وزیر خزانہ نے اجلاس کو بتایا کہ صوبے میں متبادل توانائی کے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ لیکن مرکز کی جانب سے رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں۔ مرکز نوری آباد منصوبے سے بجلی خرید کرنے کے لئے تیار نہیں۔ 

 سندھ دیگر صوبوں کے مقابلے میں وسائل سے مالا مال ہے۔ لیکن یہ وسائل صوبے کے لوگوں کے لئے لاحاصل رہے ہیں۔ جتنی آمدن سندھ وفاق کو دیتا ہے اس کے عوض اس صوبے کو جائز حصہ نہیں ملتا۔ جس کی وجہ سے صوبے کی حالت بہتر نہیں۔ اٹھارویں تریم کے صوبوں کو بظاہر خود مختاری ملی ہے۔ لیکن عملی طور پر صوبے ابھی بااختیار نہیں ہو سکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صوبے مختلف وقت میں مرکز کے سامنے احتجاج بھی کرت رھتے ہیں۔ لیکن وفاقی حکومت اس شکایت کو سنی ان سنی کرتی رہی ہے۔ 

 بلاشبہ ملک پر ایک عرصے تک آمریت کی سیاہ چادر رہی ہے۔ لیکن جو عرصہ جمہوریت رہی ہے اس میں بھی جمہور خوشحال اور خوش نہیں رہا۔ جمہور اس وقت خوشحال ہو سکتا ہے جب صوبے خوشحال ہونگے۔ اور یہ تب ممکن ہے جب مرکز کا صوبوں کی طرف مساویانہ رویہ ہوگا۔ 

 سندھ میں تھر کول کا منصوبہ ہو یا ونڈ اور سولر کے منصوبے، ان منصوبوں سے پوراے ملک کا فائدہ ہونا ہے۔ ملک پہلے ہی توانائی کے بحران سے گزر رہا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی صوبہ بجلی پیدا کرتا ہے اس پر مرکز کو ناخوش نہیں ہونا چاہئے۔ یہ کام مرکزی حکومت کا ہی ہے کہ وہ تمام صوبوں کو ساتھ لیکر چلے۔ کسی ایک صوبے پر نظر کرم زیادہ ہو اور باقی صوبے نظرانداز کئے جائیں اس سے شکایات بڑھیں گی۔ لہٰذا صوبوں کو مزید خود مختاری دینی پڑے گی۔ 

اس حقیقت سے انکار نہیں کہ سندھ کو جو بجٹ ملتا ہے اس کو صوبے کے حالات سے موازنہ کیا جائے تو مایوسی ہوتی ہے۔ صوبے کو بجٹ اور رائلٹی مل رہی ہے وہ منصفانہ طور پر خرچ نہیں ہو رہی۔ اس کی وجہ بدتر حکمرانی ہے۔ سندھ حکومت کو مرکز کے سامنے آواز اٹھانے کے ساتھ صوبے میں بھی اچھی حکمرانی اور شفافیت کو عمل میں لانا ہوگا۔ کرپشن کے ناسور کو ختم کرنے کے لئے سخت اور موثر اقدامات کرنے ہونگے۔ 

 روزنامہ عوامی آواز اداریے میں لکھتا ہے کہ سال 2010 میں صوبے میں جو سیلاب آیا تھا اس کے زخم ابھی تک ہرے ہیں۔ اس سیلاب کے متاثرین آج بھی روٹی، روزگار اور مکان کے لئے اتنے ہی پریشان ہیں جتنے کل تک تھے۔ اس سیلاب کے دوران ٹورھی بند ٹوٹنے سے دریائے سندھ کے دائیں کنارے کا علاقہ متاثر ہوا تھا جہاں ساریال کی فصل ہوتی ہے۔ اس علاقے کا پورا انفرا سٹرکچر اور معاشی نظام تہس نہس ہو گیا تھا۔ کشمور سے لیکر دادو جامشورو تک پکے کے علاقے میں پانی ایسے کھڑا تھا جیسے کچے کا علاقہ ہو۔ 

اس سیلاب میں کئی شہر بھی ڈوبے۔ بلکہ بعض شہروں کو بچانے کے لئے دوسرے شہروں کو ڈبویا گیا۔ یہ صورتحال دیکھ کے متاثرین نے صوبے کے دارلحکموت اور صنعتی حب کراچی کا رخ کیا۔ جہاں پر ان کا استقبال ذلت کے ساتھ کیا گیا۔ انہیں نہ امدادی سامان دیا گیا اور نہ ہی رہائش کی سہولت۔ بلکہ ان کے ساتھ ناانصافی کی گئی۔ اور کئی مسائل کھڑے کر دیئے گئے۔ سب ذلتیں برداشت کر کے، کھلے آسمان کے نیچے یہ لوگ ٹہر گئے۔ کراچی بڑا شہر ہے، نہیں معلوم کہاں کہاں سے آنے والے بھانت بھانت کے لوگوں کو پالتا ہے۔ لیکن کراچی کے دعویداروں نے ان سیلاب متاثرین کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا اور حکومت ان کی مدد نہ کر سکی۔ 

 یہ متاثرین آج بھی کہیں آباد نہیں ہو سکے ہیں اور عارضی جھگیوں میں بغیر کسی سہولت اور حکومت مدد اور سہارے کے رہ رہے ہیں۔ لیکن اب انہیں کراچی کے گلشن معمار اور دیگر علاقوں سے انہیں نکالنے کی کوششیں شروع ہو گئی ہیں۔ اس وجہ سے وہ دربدر ہیں۔ حکومت سندھ اگر سمجھتی ہے کہ یہ سندھ کے باشندے ہیں اور ان کے بھی کچھ حقوق ہیں، انہیں رہائش، روزگار وغیرہ فراہم کرے اور ان متاثرین کی بحالی کے لئے باضابطہ کوئی پروگرام ترتیب دے۔ 

انسانی حقوق قومی کمیشن کی تھر کی صورتحال پر رپورٹ 
 روزنامہ سندھ ایکسپریس نے ریٹائرڈ جسٹس علی نواز چوہان کی سربراہی میں انسانی حقوق سے متعلق قائم کی گئی قومی کمیشن کی تھر کی صورتحال پر رپورٹ کو انسانی المیہ قرار دیا ہے۔ کمیشن نے خوراک تک رسائی نہ ہونے، پینے کا پانی نہ ملنے، اور طبی سہولیات کی قلت اور انتظامی خرابی کو ذمہ دار قرار دیا ہے ۔ کمیشن کے مطابق تھر میں انسانی ترقی کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ لوگوں کو مطلوبہ غذا حاصل نہیں ۔ 76 فیصد آبادی کے پاس ایک یا دو روز کی خوراک کا ذخیرہ نہیں۔ 
کمیشن کے مطابق 13 لاکھ کی آبادی کے لئے 141 ڈاکٹرز ہیں۔ بطور امدا تقسیم ہونے والی گندم سیاسی بنایدوں پر تقسیم ہو تی ہے۔ 
 ہم سمجھتے ہیں کہ تھر میں قحط اور انسانی المیے کی مستقل روک تھام کے لئے طویل المیعاد منصوبوں کی ضرورت ہے۔ سندھ کے حکمرانوں کے پاس اس کا حل صرف گندم کی تقسیم ہے۔ یہ رپورٹ تھر میں حکومتی کارکردگی پر ایک چارج شیٹ ہے۔ 
 روزنامہ نئی بات
http://www.naibaat.com.pk/ePaper/lahore/16-04-2016/details.aspx?id=p13_02.jpg

Saturday, April 2, 2016

Islamabad dhrana and agreement


میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
وفاقی حکومت اور دھرنے دینے والوں کے درمیان معاہدے کے بعد اسلام آباد میں بالآخرڈرامے کا ڈراپ سین ہو گیا۔ ڈی چوک دھرنا برگیڈ سے خالی ہوا۔ تین روز تک یرغمال بنے ہوئے اس شہر کی سڑکوں پر لاقانونیت راج کر رہی تھی۔ وفاقی دارالحکومت میں آئین اورقانون کی جس طرح تضحیک ہو رہی تھی۔ وہ نہایت ہی منفی پیغام دے رہا تھا۔ پارلیمنٹ ہاﺅس کا تقدس اور انتظامیہ خواہ ریاست کے اداروں کی رٹ ریت کے محل کی طرح ڈھیر ہوتی رہی۔ کہیں بھی ریاست کے وہ آہنی ہاتھ حرکت میں نہیں آئے جو ملکی مفاد اور سلامتی کے نام پر مختلف مقامات پر فوری طور پر نظر آجاتے ہیں۔ 
 پارلیمنٹ، پاکستان سیکریٹریٹ، ایوان صدر یا وزیر اعظم ہاﺅس یہ سب جمہوریت کی نشانی اور وفاق کی علامت ہوتے ہیں۔ ان کے تقدس کو برقرار رکھنا اور تحفظ کرنا تمام ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہوتا ہے۔ ان پر حملہ دراصل قانون اور ریاست رٹ پر ہی حملہ ہوتا ہے۔ 
 ہوتے ہیں ۔اسلام آباد ڈندا برداروں کے قبضے میں تھا۔ پولیس فرنٹئر کنسٹبرلی اور ررینجرز کے اہلکار اس ٹولے کے سامنے کھڑے نہیں ہو رہے تھے۔ فوج اس وقت بیچ میں جب کچھ مشتعل لوگوں نے پارلیمنٹ ہاﺅس کا جنگلا عبور کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ تین روز تک خاموش رہے حالانکہ اندرون ملک اور خاص طور پر وہ علاقے جو براہ راست وفاق کے زیر انتظام آتے ہیں وہاں کی سیکیورٹی کے لئے ہو ذمہ دار ہیں۔
 وفاقی دارلحکومت کے شہر پر یہ پہلی یلغار نہیں۔ بینظیر بھٹو کے دور حکومت نے جماعت اسلامی نے بھی ملین مارچ کے نام سے ایسی طبع آزمائی کی تھی۔ ماضی قریب میںعلامہ طاہر القادری، اور عمران خان دو لمبے دھرنے مار کر حکومت کی رٹ کا تماشہ پوری دنیا کے سامنے کر چکے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ جب بھی کوئی دھرنا برگیڈ چاہتی ہے، وفاقی دارلحکومت پر ”حملہ“ کر کے شہر کو یرغمال بنا دیتی ہے، حکومت کا تمام کاروبار اور انتظام بند کر دیتی ہے۔ اس موقعہ پر حکومتی کی بے بسی قابل دید ہوتی ہے۔ ثالثی وعدے، معاہدے سب سامنے آنے لگتے ہیں۔
 پاکستان میں کس طرح کی حکمرانی ہے؟ جہاں دباﺅ اور دھونس کے ذریعے حکومت کو جھکایا جارہا ہے۔ عوام نے جن کو مینڈیٹ دیا ہے وہ حکمرانی نہیں کر پارہے۔ یہ مینڈیٹ کی توہین کے زمرے میں آئے گا کہ چند ٹولوں کے ہاتھوں حکومت اور ریاست یرغمال بن جائے۔ میڈیا کی آنکھ سے پورا ملک ہی نہیں بلکہ پوری دنیا یہ تماشہ دیکھتی رہے۔ 
پندرہ میل دور پنڈی کے لیاقت باغ سے چلنے والے قدم محفوظ شہر اسلام آباد کی طرف بڑھنا شروع ہوئے۔ پورے راستے میں انہیں کہیں بھی مزاحمت کا سمانا نہیں کرنا پڑا۔ یہ پنجاب اور وفاقی حکومت کی مصلحت تھی یا کمزوری؟ کہیں بھی اس ہجوم کو اسپیڈ بریکر نہیں لگا۔ 
 انٹیلیجنس ارادروں نے یقیننا رپورٹس دی ہونگی کہ قادری کے چہلم کے موقعہ گڑبڑ ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود پنڈی کے لیاقت باغ میں انہیں جمع ہونے اور جلسہ کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ تقریبا ایک سال قبل یعنی عمران خان کے دھرنے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ نے اعلان کیا تھا کہ وفاقی دارلحکومت کو محفوظ بنانے کا ایک منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے جس پر سولہ ارب روپے خرچ ہونگے۔ لیکن ایک سال گزرنے کے بعد جب حالیہ واقعہ ہوا تو پتہ چلا کہ اس ضمن میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ بلکہ چوہدری نثار علی خان نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں بتایا کہ وہ یہ منصوبہ بنا رہے ہیں اور جلد ہی وزیر اعظم کو پیش کرنے والے ہیں۔ حالیہ واقعہ سے لگ رہا تھا کہ پنجاب اور اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ نے اس ہجوم کو اس محفوظ شہر میں داخل ہونے کی اجازت دے رکھی ہو۔ 
یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اس طرح کے گروہوں کو کس حد تک چھوٹ ملی ہوئی ہے ایک طرف ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد ہو رہا ہے اور ان دونوں کی بڑی تشہیر بھی ہو رہی ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ پنجاب میں آج بھی مذہبی حلقے جب چاہیں جہاں چاہیں اس طرح کے اجتماعات اور احتجاج کر سکتے ہیں۔ 
 نواز شریف نے لبرل پاکستان بنانے کا موقف بیان کیا۔ اقلیتوں اور خواتین کے حقوق کے قانون کی وجہ سے مذہبی لابی ان پر ناراض بھی تھی۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بعض مذہبی گوروہوں نے ایک مشترکہ اجلاس میں 1977 جیسی تحریک چلانے کی بھی دھمکی دی تھی جس کے نتیجے میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔ 
 ان واقعات سے لگتا ہے کہ نواز حکومت بھلے لبرل پاکستان بنانے کا دعوا کر رہی تھی لیکن مذہبی لابی سے ڈری ہوئی تھی۔یہ وہ ڈر تھا جس کی وجہ سے انہیں قادری کے چہلم پر اجتماع کرنے کی بھی اجازت دی گئی۔ یہ بھی ایک نقطہ اٹھایاجاتا ہے کہ خود ان کی پارٹی میں ایسے رہنما موجود ہیں جن کا جھکاﺅ اور روابط اس قسم کے گروہوں کی طرف ہیں۔ اس قسم کے اور اشارے بھی ملتے ہیں کہ قادری کو عدالت کی جانب سے پھانسی کے بعد چوبیس گھنٹے تک ان کی میت رکھنے کی اجازت دی گئی بتایا جاتا ہے کہ ان کے نماز جنازہ میں دو لاکھ افراد نے شرکت کی۔ جبکہ بھٹو کو پھانسی دینے کے بعد چند گھنٹوں میں سخت حفاظتی اقدامات میں ان کی تدفین کی گئی اور نماز جنازہ میں بمشکل دو درجن افراد شریک ہوپائے تھے۔ اس قادری کے معاملے میں ایسا نہیں کیا گیا۔ 

 اگرچہ اس مرتبہ حکومت نے مذاکرات کر کے مطالبات مان لئے اس لئے دھرنے کی عمر ذرا کم ہوگئی۔ یہ بھی کہا جارہا ہے۔ کوئی تحریری معاہدہ بھی ہوا ہے۔ جس کی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان ترید کر رہے ہیں جبکہ اسحاق ڈار جنہوں نے اس معاملے کو نمٹانے میں اہم کردار ادا کیا ہے وہ معاہدہ ہونے کا اقرار کر رہے ہیں۔ معاہدہ خواہ تحریری نہ بھی ہوا ہو، وعدہ ہی ہوا ہو، حکومت کے اس رویہ کی وجہ سے ان ٹولوں کو ترغیب اور شہہ ملے گی۔ جو دباﺅ کے ذریعے اپنے مطالبات منوانا چاہتے ہیں۔ چھ آٹھ ہزار کا مجمع کسی بھی وقت وفاقی حکومت کو بحران میں ڈال سکتا ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ ان کا تعلق سندھ یا بلوچستان سے نہ ہو۔ اس لئے باقی دو صوبے اپنی یہ قوت اور حیثیت منوا چکے ہیں۔ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیںکہ اس طرح کے واقعات مذہبی جماعتیں یاگروہوں یا دائیں بازو کی سوچ والوں کی جانب سے ہی ہوئے ہیں۔
اس واقعہ اس کے پس منظر ، جس طرح سے اسکو حل کیا گیا اور اس کے اثرات کے حوالےس بہت سارے سوالات ہیں۔ اگر یہ بحران اسی طرح سے حل کرنا تھا تو دارلحکومت اور پالیمنٹ کی توہین کرنے، لاکھوں شہریوں کو چار روز تک خوف میں رکھنے اور ملک کا کام کاج معطل رکھنے کی کیا منطق تھی؟ 
سوال یہ بھی ہے کہ نواز لیگ حکومت کو اتنے بڑے مسئلہ میں ڈالنے والے کون تھے؟ وہ کیا چاہتے تھے؟ عمران خان کے دھرنے کو توڑنے کے لئے پیپلزپارٹی نے پہلکاری کی اور ملک کی سیاسی جماعتیں جمہوری حکومت کو بچانے کے لئے کٹھی ہوگئیں۔ اور وہ اس مقصد میں کامیاب بھی ہو گئیں۔
 اس مرتبہ کس نے نواز لیگ کی ضمانت کرائی ہے؟ ممکن ہے کہ پس پردہ چکھ اور فریقین بھی ہوں۔ تفصیلات جو سرعام پر آئی ہیں اس کے مطابق سنی تحریک نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے اور کراچی سے ان کے لیڈر کی اسلام آباد آمد اور مذاکرات کو کامیاب کرانا اہمیت کا حامل ہے۔ اسلام آباد کا واقعہ سے حکومت خواہ عوام کو یہ پیغام ملتا ہے کہ آپریشن اور دیگر کارروایوں کے باوجود انتہا پسند اگر اپنی کمر سیدھی کرنا چاہیں تو ریاست و قانون اور آئین کی رٹ کو مروڑ سکتے ہیں حکومتی ادارے ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ 

مار چ ۳۱ 
۱۳ نئی بات کے لئے