Friday, April 29, 2016

سندھ کے ترقیاتی منصوبے: عدالتیں کہاں ہیں؟


سندھ کے ترقیاتی منصوبے: عدالتیں کہاں ہیں؟

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 

ابھی مبصرین اور ماہرین اس خبر پر اظہار افسوس کر رہے تھے کہ سندھ حکومت رواں مالی سال کے دوران بمشکل تیس فیصد ترقیاتی بجٹ خرچ کر سکی ہے کہ ایک اور خبر آئی ہے کہ حکومت سندھ نے 108 ایم پی ایز کو چار چار کروڑ روپے کے حساب سے تین ارب 87 کروڑ 75 لاکھ روپے اپنے حلقوں میں ترقیاتی کام کرانے کے لئے جاری کئے۔ جن میں سے صرف چھ ایم پی ایز نے یہ فنڈ خرچ کئے جبکہ باقی 102 ایم پی ایز نے ایک ٹکہ بھی خرچ نہیں کیا۔ جن منتخب نمائندوں نے رقم خرچ نہیں کی اس میں خود وزیراعلیٰ سندھ، اسپیکر سندھ اسمبلی، بعض وزراء منظور وسان، جام شورو، دوست علی راہموں، علی نواز مہر، شر جیل میمن صوبائی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے چیئرمین سلیم رضا جلبانی، طارق مسعود آرائیں، فصیح شاہ، غلام قادر چانڈیو، بہادر ڈاہری، اعجاز شاہ شیرازی، بھی شامل ہیں۔ 

یہ ایک طویل لسٹ ہے جس میں احمد علی پتافی، محمد علی ملکانی، پیر فضل جیلانی (رانیپور)، نعیم کھرل، غزالہ سیال، اویس مظفر، امداد پتافی، اعجاز علی شاہ، مراد شاہ، عبدلکریم سومرو، مہیش ملانی، ارباب راہموں ، علی نواز شاہ شامل ہیں۔ 715 اسکیمیں جاری کرنے کے لئے ایم پی ایز کو یہ رقم جاری کی گئی۔ 

جب وزیراعلیٰ کو نہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کی رقم خرچ کرنے کی توفیق ہوئی اور نہ بطور ایم پی اے اپنے حلقے میں ترقیاتی کام کرنے کی ہمت ہوئی۔ ایسے میں ایم پی ایز یا مختلف محکموں سے پوچھنے کی زحمت کون کر سکتا ہے؟ یعنی بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحاان اللہ۔۔۔

سندھ کی ترقی کیسے ہو؟ رواں مالی سال کے دوران حکومت سندھ نے ترقیاتی منصوبوں کے لئے 213ارب روپے مختص کئے تھے جس میں 27 ارب روپے غیر ملکی امداد بھی شامل تھی۔ وزارت خزانہ کے جاری کردہ دستاویز کے مطابق اس میں سے بمشکل تینتیس فیصد فنڈ خرچ کئے جا سکے ہیں۔ صوبے کے چھیالیس میں سے سولہ محکمے ایسے ہیں جنہوں نے بجٹ کا دس فیصد بھی خرچ نہیں کیا۔ صوبائی ڈزاسٹر اتھارٹی نے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا جبکہ تھر کے علاقے میں قحط ڈزاسٹر کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ 

 بات صرف یہیں پر ختم نہیں۔ روشن سندھ اسکیم میں ایک بااثر ٹھیکیدار کو یہ ذمہ داری سونپی گئی۔ نتائج اسکیم کے مقاصد سے الٹ آئے۔ پھر بھی پتہ نہیں ٹھیکیدار کی کونسی ادا بھا گئی کہ اسے کروڑوں روپے کی ادائگی کردی گئی۔ ٹھیکے کے شرائط میں یہ طے تھا کہ کام میں ایسا معیار رکھا جائے گا کہ دو سال تک لائیٹیں خراب نہیں ہونگی۔ جب یہ لائیٹیں وقت سے پہلے خراب ہونا شروع ہوئیں تو اس ٹھیکیدار سے حساب لینا چاہئے تھا۔ لیکن ایسا کرنے کے بجائے اسے ادائگی کردی گئی۔ 

 لگتا ہے کہ اس منصوبے کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا گیا ہے جو اکثر معاملات میں کیا جاتا ہے، یعنی میرٹ کو ٹھکرا نا۔ تقرر ہو یا تبادلہ، یا پھر کوئی ترقیاتی کام کا ٹھیکہ ۔ یہاں بھی کر پسندیدہ اور ناتجربیکار افراد کو نوازا گیا۔ کہیں بھی میرٹ نہیں چلتی۔ جب میرٹ نہیں چلے گی تو یہی نتائج نکلیں گے، جو روشن سندھ منصوبے میں سامنے آئے ہیں۔ یہ منصوبہ سندھ کو روشن کرنے کے لئے تھا، لیکن میرٹ کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے سندھ کو اندھیرے میں دھکیل کر ایک اور ناانصافی کی گئی۔ یہ منصوبہ ایسا ہی تھا جیسا پڑھا لکھا پنجاب کا منصوبہ۔ جس سے وہاں کی شرح خواندگی پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ پنجاب میں سستی روٹی کی اسکیم بھی شروع کی گئی، لیکن یہ اسکیم حکومت کو بہت مہنگی پڑی۔ یعنی کوئی بھی اسکیم شروع کریں اس کے نتائج الٹ آتے ہیں۔ اس سے سمجھ لینا چاہئے کہ یقیننا کہیں نہ کہیں اثر رسوخ استعمال ہوا ہے۔ 

عام خیال یہ تھا کہ گزشتہ دور میں عوام کو کچھ دینے میں ناکامی اور لوگوں کے غصے کے پیش نظر دوسرے یعنی موجودہ دور میں ان غلطیوں کا ازالہ کرے گی۔ لیکن یہ خام خیالی ثابت ہوا۔ کیونکہ موجودہ دور میں بھی حکومت اور حکمران جماعت کے اسمبلی ممبران نے مکمل طور پر عوام کو نظرانداز کیا۔ ایک طرف سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے مختص کی گئی رقم خرچ نیں کی گئی، اس پر طرہ یہ کہ اسمبلی ممبران کو جو ترقیاتی فنڈز مہیا کئے گے انہوں نے ان فنڈز کو ہاتھ ہی نہیں لگایا۔ 

 تھر کے چھ ایم پی ایز میں سے کسی نے اس فنڈ سے ایک ٹکہ خرچ نہیں کیا ۔ تھر وہ علاقہ ہے جہاں بدترین غربت اور بچوں کی اموات محض اس وجہ سے ہو رہی ہیں کہ اسے ترقی میں پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہی صورتحال ساحلی ضلع ٹھٹہ کی ہے جو ملک کے غریب ترین اضلاع میں دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ 

 اگر حکومت کی اولیت عوام کی خدمت کرنا اور ان کی زندگی میں بہتری لانا ہوتا تو صورتحال مختلف ہوتی۔ لیکن جب صرف اپنی جیبیں بھرنا مقصود ہو تو ترقی کی صورتحال یہی ہوگی۔ فنڈز کا اجراءاور خرچ نہ ہوتا یک پہلو ہے، دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ جو رقومات خرچ کی گئیں وہ کتنی منصفانہ انداز میں کی گئیں ان میں شفافیت کتنی تھی۔ 

 سندھ کے مختلف اضلاع میں ابترصورتحال ہے ۔ کہیں پینے کا پانی نہیں تو کہیں سیوریج اور نکاسی آب کا نظام ٹوٹ چکا ہے، کہیں روڈ اور گلیاں کھنڈر بنے ہوئے ہیں۔ کہیں صفائی کا نظام درہم برہم ہے۔ صحت، تعلیم، روزگار وغیرہ کی سہولیات تو دور کی بات ہے۔ 

 ہر گاﺅں اور شہر کی صورتحال بتاتی ہے کہ وہاں بنیادی سہولیات کی کیا صورتحال ہے۔ یہ صورتحال اس صوبے کی ہے جہاں حکمران جماعت برسوں سے حکومت میں ہے اور یہی نمائندے منتخب ہو کر آتے رہے ہیں۔ دنیا بھر میں شہادتیںاور قربانیاں ہمیشہ جوش اور جذبے کا سب بنتی ہیں لیکن ہماری بد نصیبی ہے کہ یہ اقتدار کی رکسی کے لےئے استعمال ہو رہی ہیں۔ 

 کرپشن، میرٹ کو مٹی میں ملانا، بد ترین حکمرانی نے انسانی حقوق اور سماجی انصاف کا جنازہ نکال دیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ چند افراد ہیں جو حکومت کے نام پر لوگوں پر سوار ہیں۔ 

 ایک خیال یہ بھی ہے کہ کرپشن کے الزامات پر نیب اور دیگر اداروں کی حالیہ کارروایوں کے بعد اسمبلی ممبران ان فنڈز کو ہاتھ لگانے کے لئے تیار نہیں۔ کیونکہ انہیں ان رقومات کا حصہ دینا پڑ جائے گا۔ حکومت مخالف حلقوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں ایم پی ایز کی کوٹا کا فنڈ صرف کاغذوں پر ہی خرچ ہوا ہے۔ سرزمین پر کوئی اسکیم موجود نہیں۔ جب ممبر صاحبان کو اپنے حصے کے جو کہ 80 سے لیکر 100 فیصد تک ہوتا ہے نہ ملے تو ایسے فنڈ جاری کرانے اور خرچ کرنے کا کیا فائدہ ۔ یہ صورتحال سندھ حکومت اور یہاں کے منتخب نمائندوں کی مجرمانہ غفلت کو عیاں کرسکتی ہے۔ اصولی طور پر کابینہ کے تمام وزراءاور ایم پی ایز کا احتساب ہونا چاہئے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ سندھ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ اس معاملے کا نوٹس لے۔۔۔

سندھ میں معاشی ترقی کی بہت بڑی گنجائش اور صلاحیت ہے۔ دستیاب وسائل کی خراب انتظام کاری اور بہت زیادہ سیاسی کی وجہ سے اس صوبے کے وسائل تو خرچ ہو جاتے ہیں لیکن مسائل حل نہیں ہوتے۔ 
26-اپریل-2016 
Nai Baat
http://www.naibaat.com.pk/ePaper/islamabad/26-04-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg


No comments:

Post a Comment