Friday, April 22, 2016

چھوٹو آپریشن کے لمبے اثرات

April 22, 2016
چھوٹو آپریشن کے لمبے اثرات
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
اکیس روز کے آپریشن کے بعد بلآخر بدنام زمانہ ڈاکو غلام رسول کو گرفتار کر اور یرغاملی پولیس اہلکاروں کو رہا کرالیا گیا ہے۔ اس آپریشن میں پانچ روز فوج بھی شامل تھی جبکہ باقی وقت میں رینجرز اور پنجاب پولیس تھے۔ آئی ایس پی آر ترجمان کا بیان ہے کہ چھوٹو نے غیر مشروط طور پر فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ فوج نے چار روز تک چھوٹو کی سپلائی لائین کاٹ رکھی تھی۔ نجی چینلز کی اطلاعات کے مطابق ڈاکوﺅں اور انتظامیہ کے درمیان معاہدہ طے پایا۔ معاہدہ کرنے میں عمائدین اور چند مقامی افراد نے مدد کی۔ یرغمالیوں کو رہا کردیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ مذاکراتی کمیٹی بنائی گئی۔چھوٹو نے یرغمالی رہا کرانے اور ہتھیار ڈالنے کے لئے جو شرائط رکھی تھی ان میں انہیں اور ان کے اہل خانہ کو دبئی بھیجنا، شامل تھا۔ 
 چھوٹو اس سے پہلے بھی پولیس اہل کاروں کو اغوا کر کے اپنے ساتھیوں کو رہا کراچکا ہے۔ لیکن اس مرتبہ انہیں گرفتاری دینے پڑی۔ اس سے قبل 22 سو پولیس نفری چھوٹو کے خلاف کامیابی حاصل نہیں کر سکی تھی۔ آرمی کو ایک بار پھر امن و امان کے مسئلہ پر طلب کیا گیا۔ جب کہ یہ معاملہ قانون نافذ کرنے والی سول ایجنسیوں کا تھا۔ 
گھوٹکی سے دریائے سندھ کی اپ اسٹریم میں دریائے سندھ کے چوڑائی آٹھ کلومیٹر سے گیارہ کلومیٹر تک ہے، جس میںمختلف چھوٹے جزائر ہیں جو متوسط سیلاب میں بھی محفوظ رہتے ہیں، ڈاکو اس جغرافیائی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔بالائی سندھ میں بھی دریا کے دونوں اطراف میں خیرپور، شکارپور، کشمور اور گھوٹکی میں اس وقت بھی ڈاکو سرگرم ہیں، لیکن قبائلی تنازعات کی وجہ سے ان کی حدود غیر اعلانیہ طور پر محدود ہیں۔سندھ میں ڈاکو اغوا کے علاوہ بھتہ خوری اور کچے کی زرخیز زمینوں پر کاشت اور بھینسیں بھی پالتے جن کا دودھ قریبی شہروں میں فروخت کیا جاتا ہے۔ یہی صورتحال تھوڑے بہت فرق کے ساتھ پنجاب میں بھی ہے۔ 
 تین صوں کی سرحوں پر واقع برسوں تک دریا کا کچے کا یہ علاقہ جرائم پیشہ افراد کی جنت بنا رہا ہے جہاں حکومت اور قانون کی رٹ نہیں چلتی تھی۔یہاں سندھ اور پنجاب کے گینگ یرغمالیوں کا تبادلہ بھی کرتے تھے اور ان کو پولیس سے محفوظ رکھنے کے لئے بھی قیام کراتے تھے۔ اب آرمی کے گن شپ ہیلی کاپٹروں اور بم پھینکنے کے بعد آرمی نے کامیابی حاصل کی ہے۔ کچا جمال آپریشن کے دوران وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے ڈائریکٹر جنرل رینجرز جنرل بلال اکبرسے ملاقات کی۔ ملاقات میں پنجاب میں چھوٹو گینگ کے خلاف جاری آپریشن کے سندھ پر اثرات پر غور کیا گیا۔ سندھ حکومت کو یہ تشویش ہے کہ چھوٹو گینگ کے سندھ میں داخلے پر تشویش رہی لیکن اپنے صوبے میں چھپے ہوئے ڈاکوﺅں کے خلاف شکارپور اور گھوٹکی میں ناکام ہونے والے آپریشن پر تشویش ہی نہیں۔ 
 چھوٹو کے اس ڈرامے میں چند چیزیں ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ اکیس روزہ اس مقابلے کے دوران میڈیا کی توجہ پاناما لیکس سے کم ہوئی۔ سول ایجنسیوں کی صلاحیت اور ناکامی کا کھلا اظہار ہوا۔ سب سے بڑی بات یہ کہ مجموعی طور گورننس کا اسپیس بھی کم ہوا۔ 
اس المیے کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ ملک بھر میں کئی ایسے مقامات ہیں جہاں ریاست کی اتھارٹی موجود نہیں اگر موجود ہے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ کیونکہ ان مقامات پر جرائم پیشہ افراد آزادی کے ساتھ اپنی کاروائیاں کرتے رہتے ہیں اور عام سی زندگی گزارتے ہیں۔ 

کوئی بھی منظم اور مسلسل ہونے والا جرم پشت پناہی کے بغیر پروان نہیں چڑھتا ۔ وہ کسی مقامی وڈیرے کی ہو یا ریاستی اداروں کی چھوٹ کا نتیجہ۔سندھ جس کو ڈاکوﺅں کے حوالے سے خاصی شہرت دی گئی ہے وہاں کا تجربہ بتاتا ہے کہ جنرل ضیاالحق کے دور حکومت میں سندھ میں ڈاکو کو پہلے چھوٹ دی گئی اس کے بعد ان کے خلاف بھرپور آپریشن ہوا نتیجے میں کچے کے جنگلات کاٹا گیا۔ اور یہاں سے جو زمینیں حاصل ہوئیں وہ اپنے من پسند لوگوں کو دی گئیں۔ قبائلی بنیادوں پر سیاست کرنے والے ان سرداروں اور جاگیرداروں کی ڈاکو سیاسی مجبوری ہیں جن کے ذریعے وہ اپنی حکمرانی قائم کیے ہوئے ہیں۔ سندھ میں پولیس میں سیاسی تقرریوں اور تبادلوں کے الزامات ہیں۔ ان دونوں حوالے سے پنجاب میں کیا صورتحال ہے؟ اس سوال کا بھی جواب آنا چاہئے۔ 

ایک طویل عرسے تک پنجاب حکومت جنوبی پنجاب میں ڈاکوﺅں اور مذہبی انتہا پسندوں کی موجودگی اور بڑھتے ہوئے اثر سے انکار کرتی رہی۔ چھوٹو کوئی راتوں رات پیدا نہیں ہوا۔ تعجب کی بات نہیں کہ پولیس کا یاک سابق مخبر، ایک بہت بڑی گینگ کے ساتھ جس کا اپنا نیٹ ورک بھی تھا بلا روک ٹوک کاروائیاں کرتا رہا کیا یہ مقامی بااثر افراد کی پشت پناہی کے بغیر ممکن تھا؟ 

دلچسپ امر ہے کہ ماضی میں تمام پولیس کاروائیاں ناکام رہی۔ یوں ان جرائم پیشہ افراد کو مزید جگہ ملتی رہی۔ 2013 میں گینگ نے ایک پولیس پوسٹ پر حملہ کیا اور آٹھ اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا۔ انہیں آٹھ روز بعد رہائی ملی جب پولیس نے چھوٹو کے گھر والوں اور ساتھیوں کو رہا کیا۔ سوالیہ یہ بھی ہے کہ کس طرح سے اس گینگ تک اتنا جدید ہتھیار پہنچتا رہا جو وقتا فوقتا پولیس کے خالف استعمال ہوتا رہا۔ اس علاقے میں صرف چھوٹ کی گینگ نہیں بلکہ نصف درج اور گینگ بھی ہیں۔ جو اس طاقتور صوبے کی طاقت کو چیلینج بنے رہےہیں۔ 

بظاہر لگتا ہے کہ یہ آرمی کا دباﺅ تھا جس نے پنجاب حکومت کو سرگرم کیا اور ایکشن میں لے آیا۔ لیکن ابھی تک کسی مذہبی انتہا پسند گروپ کے خلاف کاروائی کی کوئی اطلاع نہیں جن کا کسی طرح سے ان جرائم پیشہ افراد سے گٹھ جوڑ ہے۔ شدت پسندی اور حکومت کی اتھارٹی کے سکڑنے کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ لہٰذا یہ معاملہ مربوط حکمت عملی کے بغیر موثر طور پرحل نہیں کیا جاسکتا۔ 
 ابھی تک صورتحال یہ ہے کہ صوبائی خواہ وفاقی حکومت انکار کی اس صورتحال سے باہر نہیں آسکی ہے۔ ایسے میںاس مسئلہ کا حل کیسے ہوگا۔ 
انتہا پسند گروپوں کے خالف کریک ڈاﺅن کرنے کے سوال پر فوجی اور سول قیادت کے درمیان نتاﺅ کی صورتحال رہی۔ کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہو اجب گزشتہ ماہ علامہ اقبال پارک لاہور کے پارک میں دھماکہ ہوا جس میں درجنوں افراد جاں بحق ہوگئے۔ جب عسکری حلقوں نے فوری آپریشن کرنے کا یک طرفہ فیصلہ کیا تو سول حکومت کو اچھا نہیں لگا۔ اب اگرچہ بظاہر یہ تعلقات معمول پر آگئے ہیںکیونکہ کہ صوبائی حکومت آرمی کا مطالبہ مان لیا ہے۔ لیکن یہ معاملہ ایک چبھن کے طور پر بہرحال موجود ہے۔ 
صوبائی حکومت کا دعوا ا پنی جگہ پر کہ سول ایجنسیاں اس کاروائی کی قیادت کر رہی ہیں۔ لیکن راجن پور آپریشن سے یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ سول ایجنسیاں اس طرح کے جرائم پیشہ افراد سے نمٹنے کی بھی پورے طور پر صلاحیت نہیں رکھتیں۔ دہشتگردوں یا شدت پسندوں سے کیسے نمٹ لے گی؟
آرمی نے چھوٹو گینگ کو پکڑ لیا ہے لیکن یہ مسئلے کا خاتمہ نہیں۔ جب حکمرانی سکڑ رہی ہو ایسے میں آرمی کے واپس چلے جانے کے بعددوسرے گینگ بھی پیدا ہوتے رہیں گے۔ یہ صرف راجن پور کا قصہ نہیں۔ حکمرانی کے غیر موثر ہونے نے ایک خلاءپیدا کیا ہے۔ جو کہ یہ شدت پسند گروپ بھر رہے ہیں۔ ۔ 
 سندھ اور بلوچستان میں پہلے ہی حکمرانی بہت خراب ہے۔ یوں اندرونی سیکیورٹی کے معاملات میں فوج کا کردار بڑھ گیا ہے۔ کراچی کو ہی دیکھیئے جس کو عملا رینجرز چلا رہی ہے۔ یہاںسول ایجنسیاں پیچھے ہٹ گئی ہیں۔ رینجرز کے آپریشن سے پہلے ملک کے اس بڑے اور صنعتی شہر میں کئی علاقے نو گو ایریا ز تھے۔ اب کراچی میں حالات معمول پر آتے جارہے ہیں۔ 

وفاقی حکومت کراچی میں رینجرز کو مکمل اختیارات دینے کی حمایت کرتی ہے، لیکن یہی اختیارات پنجاب میں دینے کو تیار نہیں۔ 
چھوٹو کے خلاف آپریشن کے بعد پنجاب میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے لئے دباﺅ کو برداشت کرنا صوبائی خواہ وفاقی حکومت کے لئے مشکل ہو جائے گا ۔ چھوٹوکے خلاف آپریشن نے سوالات بھی اٹھائے ہیں اور اثرات بھی دکھائے ہیں۔ سول قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی صلاحیت کو ایکسپوز کر دیا ہے۔ ایک ڈاکو گینگ کے لئے بھی اب سول حکومت کا یہاں پر بھی فوج پر انحصار بڑھ گیا ہے۔ یہ بات فوج کو پنجاب میں بھی کھینچ لائے گی جو بلوچستان اور شمالی مغرب میں پہلے سے آپریشن میں مصروف ہے۔ یہ سمجھنا از حد ضروری ہے کہ فوجی آپریشن کسی طور پر بھی مستقل یاطویل مدت کا حل نہیں۔ مسئلہ کسی ایک یا دو گینگ کے خاتمے کا نہیں۔ مسئلہ حکومت کی اتھارٹی قائم کرنے کا ہے۔ اس نازک مسئلہ پر کوئی واضح سوچ موجود نہیں۔ 

http://www.naibaat.com.pk/ePaper/lahore/22-04-2016/details.aspx?id=p12_05.jpg



1 comment:

  1. http://www.naibaat.com.pk/ePaper/lahore/22-04-2016/details.aspx?id=p12_05.jpg
    نئی بات کالم

    ReplyDelete