جوہی میں پانی کی جنگ
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
جوہی کو پانی دلانے کی تحریک گزشتہ ایک ہفتے سندھ کے مختلف شہروں تک پہنچ گئی ۔جوہی کو پانی دینے کے لئے سینکڑوں خواتین اور مرد حضرات نے حیدرآباد میں مظاہرہ کیا۔ ریلی نکالی اور دھرنا دیا۔ جوہی کے رہائشیوں کی اپیل پر اسلام آباد، کراچی، دادو، کنڈیارو میں احتجاج کئے گئے۔لیکن حکومت سندھ خواہ پیپلزپارتی کی قیادت نے اس کا سنجیدگی سے نوٹس نہیں لیا۔جوہی کی آٹھ شاخوں میں پانی نہیں۔ ہزارہا ایکڑ زمین بنجر بن گئی ہے۔ اورآٹھ یونین کونسلوں کی ڈھائی لاکھ سے زائد انسانی آبادی پانی کی قلت کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے۔
جوہی سندھ کے ضلع دادو میں کھیرتھر پہاڑ کی گود میں واقع تحصیل ہے۔ اس کا ایک حصہ پہاڑی ندیوں کے پانی سے کاشت ہوتا ہے اور دوسرا حصہ دادو کینال سے نکلنے والی جوہی برانچ سے آباد ہوتا ہے۔ گزشتہ تین ماہ سے کاشتکار پانی کی قلت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔اب اس کی حمایت میں صوبے کے مختلف شہروں بشمول وفاقی و صوبائی دارالحکومت میں احتجاج ہو رہے ہیں۔ کراچی پریس کلب کے باہر گزشتہ دو ہفتوں سے انہوں نے احتجاجی کیمپ بھی قائم کر رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیروں کی زمینیوں پر پانی دینے کے لئے پانی پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے۔
کالاباغ ڈیم اور تھل کینال کی تعمیر کے خلاف بڑے بڑے احتجاج ہوتے رہے جن میں سیاسی جماعتیں پیش پیش رہی۔ سندھ میں پانی کی قلت اور پانی پر سیاست، پانی کی چوری اور پیسوں کے عوض فروخت کے خلاف چھوٹے موٹے احتجاج ہوتے رہے ہیں۔ تین روز قبل بدین میں سب ڈویزنل آفیسر اور سب انجنیئر کاشتکاروں کے حملے میں زخمی ہو گئے۔ لیکن جوہی کے کاشتکاروں کی تحریک کچھ مختلف ہے۔ جوہی پسماندہ ، دور دراز پہاڑوں کی گود میں واقع علاقہ ہے۔ کاچھو کے نام سے موسوم نصف علاقہ بارانی ہے۔
یہ امر قابل غور ہے کہ سندھ کے پسماندہ علاقوں سے ہی تحریکیں چل رہی ہیں۔ جس طرح پسماندہ علاقے جوہی کے باشندوں نے تحریک شروع کی ہے بالکل سی طرح تھر کے لوگوں نے تھر کول اور گوڑانو ڈیم کے حوالے سے تحریک چلائی تھی۔ تبدیلی کی تحریکوں کے لئے کم ترقی یافتہ اور پسماندہ علاقے بھی پہلکاری کر سکتے ہیں۔انتخابات کے موقع پریہ تحریک حکمران جماعت کی یقین دہانی کی وجہ سے عارضی طور پر معطل ہے۔ لیکن مسئلہ حل نہیں ہوا ہے اور نہ ہی حکمران جماعت اس معاملے میں سنجیدگی دکھا رہی ہے لہٰذا کسی بھی وقت یہ تحریک دوبارہ اٹھ سکتی ہے۔
تھر اور جوہی کی کچھ اور بھی مماثلتیں ہیں۔ تھر میں کوئلہ ہے۔ جوہی میں قدرتی گیس کے ذخائر ہیں۔ دونوں دور دراز ہیں۔ دونوں کا کچھ حصہ پہاڑی ہے ۔ قحط دونوں کی پہچان ہے۔ ماضی میں دونوں علاقے ترقیاتی منصوبوں میں نظر انداز رہے ۔دونوں علاقوں کا بڑا اثاثہ انسانی وسائل یا پھر معدنی وسائل ہیں۔ معدنی وسائل کارپوریٹ کمپنیوں کے حوالے ہیں۔ انسانی وسائل کو ترقی دینے کے لئے حکومتی سطح پر بھرپور کوشش نہیں لی گئی۔ جو بھی انسانی وسائل کی ترقی موجود ہے وہ یہاں کے لوگوں کی اپنی کوششوں اور صلاحیتوں کا نتیجہ ہے۔سیاسی شعور ہو یا تعلیم دونوں علاقوں کے لوگوں نے اپنے بل بوتے پر سوسائٹی میں جگہ بنائی ہے۔ جدوجہد کرنے والوں کے شہر کی شناخت رکھنے والے جوہی کے شہریوں نے 2010 کے سیلاب کو شکست دے کر اپنے وجود کو بچایا۔اس علاقے کی اس وہ سے بھی اہمیت ہے کہ گورکھ ہل اسٹیشن کاکو قریبی شہر جوہی ہے۔
کاچھو کے کاشتکاروں کی تحریک مجھے کاشتکاروں کی بغاوت جیسی لگتی ہے۔ اس تحریک کا مطالعہ کرتے وقت مجھے برصغیر کواہ دنیا بھر کی کئی کسان تحریکیں یاد آئیں۔ بھارت میں کیرالہ اور تلنگانہ کی تحریک، ستر کے عشرے کی سندھ کے ٹنڈو الہیار ضلع میں چمبڑ کے مقام پر زمینوں پر قبضے کی تحریک، جہاں انہوں نے کسان عدالتیں قائم کردی تھی۔ اوکاڑہ پٹ فیڈر ، چارسدہ کے کسانوں کی تحریک، پچاس کے عشرے میں سندھ ہاری کمیٹی کی الاٹی، نصف بٹائی اور ٹینینسی ایکٹ کی تحریکیں۔
جوہی مجھے لاطینی امریکہ میں پیرو کے پہاڑی علاقوں جیسا لگا۔ جہاں آبپاشی اور پانی کی انتظام کاری سیاست پر مرکوز ہے۔ پانی کی تقسیم کا معاملہ تیرہویں صدی کے انکا (Inca) کے دور سے چل رہا تھا۔ اور پندرہویں اور سولہویں صدی میں ہسپانوی باشندوں نے آخر پیرو کو فتح کر کے اس مسئلے کو اپنیمفادات کے مطابق حل کیا۔ پانی پر قبضہ سماجی زوال کا سبب بنا۔ جس کے نتیجے میں کس طرح سے زمین، پانی اور انسانی وسائل کے استعمال میں تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ اور مقامی باشندوں کی زندگی کے طریقہ کار میں تبدیلیاں واقع ہوئی۔ یہی صورتحال جوہی شہر کی ہے جس کی پچہتر ہزار سے زائد آبادی کو پینے کا پانی جوہی برانچ سے ملتا تھا۔ لیکن بعد میں شہر کی واٹر سپلائی کو برساتی ندی نئی گاج سے منسلک کردیا گیا۔ اب نہ بارشیں ہوتی ہیں نہ جوہی والوں کو پانی ملتا ہے۔ یہی صورتحال علاقے کے باقی چھوٹے شہروں کی ہے۔
جوہی برانچ سے لفٹ مشینوں اور غیر قانونی آؤٹ لیٹس کے ذریعے پانی چرایا جاتا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہیں عوام ووٹ دیتے ہیں۔ گندم کی بوائی کا موسم چل رہا ہے۔ پیرو میں یہ ہوا تھا کہ کاشتکاروں اور بڑے زمینداروں کے درمیان کشمکش نے بالآخر کاشتکاروں کو مجبور کیا کہ وہ حکومت کے خلاف آواز اٹھائیں۔
پیرو میں پانی کے لئے جدوجہد کامیڈی اینڈ ٹریجڈی ۔نام سے پال ٹراوک نے کوچابامبا کی پانی کی لڑائی Cochabamba Water War پر کتاب لکھی ہے۔لاطینی امریکہ کے اس ملک میں یہ تحریک 1999 میں پانی کی قیمتیں بڑھانے اور پانی بند کرنے پر شروع ہوئی۔ کاشتکارو شہر میں داخل ہوئے۔ ایک انقلابی آسکر الیورا کی قیادت میں فیکٹریز کے مزدور بھی شامل ہو گئے۔ جو پہلے مزدور یونینوں میں کام کر چکے تھے۔پھر قدیمی قبیلہ چولٹاس جو ریڈ انڈین کی طرح تھا وہ بھی شامل ہوگیا۔جیسے تحریک بڑھی شہر کے دہاڑی کمانے والے، دکانوں پر کام کرنے والے، ریڑھہ والے شامل ہو گئے۔ یونیورسٹیوں سے پڑھ کر آنے والے بھی تحریک کا حصہ بنے ۔ احتجاج کرنے والوں نے اپنا ریفرینڈم منعقد کرلیا۔ جس میں پچاس ہزار ووٹوں میں سے 96 فیصد نے پانی کی انتظام کاری کے نئے معاہدے کو منسوخ کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔ مسئلے کی شدت اتنی تھی کہ حکومت کو طاقت کا استعمال بھی کرنا پڑا۔
احتجاج کرنے والے کشاتکاروں کا کہنا ہے کہ حکمران جماعت کے رہنما ظفر لغاری خاندان، عزیز جونیجو، کلثوم چانڈیو، ڈاٹر جمالی اور دیگر حضرات نے جوہی براچ سے غیر قانونی طور پر واٹر کور س نکالے ہوئے ہیں اور لفٹ مشینیں فٹ کی ہوئی ہیں۔ جوہی کی شاخیں ایک شخص کو بطور تحفہ دی گئی ہیں۔ نیتجے میں عام کاشتکار کو کاشت کے لئے اور لوگوں کو پینے کے لئے پانی نہیں ملتا۔ حالیہ تحریک کے دوران چیف انجیئر آبپاشی نے ایک سرکاری اجلاس میں اعتراف کیا کہ جوہی شاخ پر کوئی افسر مقرر نہیں بس چھوٹے ملازمین ہیں جو کام چلاتے ہیں۔ یعنی پانی کی چوری اور مصنوعی قلت منتخب نمائندوں او رآبپاشی افسران کی ملی بھگت پانی چوری کیا جارہا ہے۔
پانی کا مسئلہ ہر گھر کا مسئلہ ہے۔ پانی انسان کے بنیادی حقوق میں شامل ہے ۔ اس کے بغیر انسانی زندگی مفلوج ہو جاتی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیاں بڑھ گئی ہیں۔ خواتین کی پریشانیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ مجبور ہو کر بچیاں سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔ ایک لاکھ چودہ ہزار زمین متاثر ہوئی ہے۔
جوہی تحصیل نے ہمیشہ پیپلزپارٹی کو ووٹ دیا ہے۔ سندھ کے حکمران اگر پانی نہیں دے سکتے تو استعیفا دے دیں۔ یہ سمجھا جارہا تھا کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نوٹس لیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ معاملہ سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوا۔ اخبارات مسلسل خبریں اور اداریے لکھ رہے ہیں۔ اب بھی اگر حکومت کچھ نہیں کرتی سندھ کا شعور اس کا گھیراؤ تنگ کر دے گا۔ کامیڈین اصغر سومرو، گلوکارہ دیبا سحر ، کئی اہل دانش و فکر کے لوگ احتجاجوں میں شامل ہیں۔ مختلف مکاتب فکر کی تحریک ہے۔ اس میں کوئی سیاسی پارٹی شامل نہیں کہ اس کو دبایا جاسکے۔ تین ماہ سے کاشتکاروں کا احتجاج چل رہا ہے۔ کاشتکاروں اور بڑے زمینداروں کے درمیان کشمکش نے بالآخر کاشتکاروں کو مجبور کیا کہ وہ حکومت کے خلاف آواز اٹھائیں۔جوہی کے کاشتکاروں کی جدوجہد ایک نیا تاریخ کا باب لکھ رہی ہے۔
Nai Baat Nov 23, 2018
Sohail Sangi Column - Mery dil mery musafer
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
جوہی کو پانی دلانے کی تحریک گزشتہ ایک ہفتے سندھ کے مختلف شہروں تک پہنچ گئی ۔جوہی کو پانی دینے کے لئے سینکڑوں خواتین اور مرد حضرات نے حیدرآباد میں مظاہرہ کیا۔ ریلی نکالی اور دھرنا دیا۔ جوہی کے رہائشیوں کی اپیل پر اسلام آباد، کراچی، دادو، کنڈیارو میں احتجاج کئے گئے۔لیکن حکومت سندھ خواہ پیپلزپارتی کی قیادت نے اس کا سنجیدگی سے نوٹس نہیں لیا۔جوہی کی آٹھ شاخوں میں پانی نہیں۔ ہزارہا ایکڑ زمین بنجر بن گئی ہے۔ اورآٹھ یونین کونسلوں کی ڈھائی لاکھ سے زائد انسانی آبادی پانی کی قلت کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے۔
جوہی سندھ کے ضلع دادو میں کھیرتھر پہاڑ کی گود میں واقع تحصیل ہے۔ اس کا ایک حصہ پہاڑی ندیوں کے پانی سے کاشت ہوتا ہے اور دوسرا حصہ دادو کینال سے نکلنے والی جوہی برانچ سے آباد ہوتا ہے۔ گزشتہ تین ماہ سے کاشتکار پانی کی قلت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔اب اس کی حمایت میں صوبے کے مختلف شہروں بشمول وفاقی و صوبائی دارالحکومت میں احتجاج ہو رہے ہیں۔ کراچی پریس کلب کے باہر گزشتہ دو ہفتوں سے انہوں نے احتجاجی کیمپ بھی قائم کر رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیروں کی زمینیوں پر پانی دینے کے لئے پانی پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے۔
کالاباغ ڈیم اور تھل کینال کی تعمیر کے خلاف بڑے بڑے احتجاج ہوتے رہے جن میں سیاسی جماعتیں پیش پیش رہی۔ سندھ میں پانی کی قلت اور پانی پر سیاست، پانی کی چوری اور پیسوں کے عوض فروخت کے خلاف چھوٹے موٹے احتجاج ہوتے رہے ہیں۔ تین روز قبل بدین میں سب ڈویزنل آفیسر اور سب انجنیئر کاشتکاروں کے حملے میں زخمی ہو گئے۔ لیکن جوہی کے کاشتکاروں کی تحریک کچھ مختلف ہے۔ جوہی پسماندہ ، دور دراز پہاڑوں کی گود میں واقع علاقہ ہے۔ کاچھو کے نام سے موسوم نصف علاقہ بارانی ہے۔
یہ امر قابل غور ہے کہ سندھ کے پسماندہ علاقوں سے ہی تحریکیں چل رہی ہیں۔ جس طرح پسماندہ علاقے جوہی کے باشندوں نے تحریک شروع کی ہے بالکل سی طرح تھر کے لوگوں نے تھر کول اور گوڑانو ڈیم کے حوالے سے تحریک چلائی تھی۔ تبدیلی کی تحریکوں کے لئے کم ترقی یافتہ اور پسماندہ علاقے بھی پہلکاری کر سکتے ہیں۔انتخابات کے موقع پریہ تحریک حکمران جماعت کی یقین دہانی کی وجہ سے عارضی طور پر معطل ہے۔ لیکن مسئلہ حل نہیں ہوا ہے اور نہ ہی حکمران جماعت اس معاملے میں سنجیدگی دکھا رہی ہے لہٰذا کسی بھی وقت یہ تحریک دوبارہ اٹھ سکتی ہے۔
تھر اور جوہی کی کچھ اور بھی مماثلتیں ہیں۔ تھر میں کوئلہ ہے۔ جوہی میں قدرتی گیس کے ذخائر ہیں۔ دونوں دور دراز ہیں۔ دونوں کا کچھ حصہ پہاڑی ہے ۔ قحط دونوں کی پہچان ہے۔ ماضی میں دونوں علاقے ترقیاتی منصوبوں میں نظر انداز رہے ۔دونوں علاقوں کا بڑا اثاثہ انسانی وسائل یا پھر معدنی وسائل ہیں۔ معدنی وسائل کارپوریٹ کمپنیوں کے حوالے ہیں۔ انسانی وسائل کو ترقی دینے کے لئے حکومتی سطح پر بھرپور کوشش نہیں لی گئی۔ جو بھی انسانی وسائل کی ترقی موجود ہے وہ یہاں کے لوگوں کی اپنی کوششوں اور صلاحیتوں کا نتیجہ ہے۔سیاسی شعور ہو یا تعلیم دونوں علاقوں کے لوگوں نے اپنے بل بوتے پر سوسائٹی میں جگہ بنائی ہے۔ جدوجہد کرنے والوں کے شہر کی شناخت رکھنے والے جوہی کے شہریوں نے 2010 کے سیلاب کو شکست دے کر اپنے وجود کو بچایا۔اس علاقے کی اس وہ سے بھی اہمیت ہے کہ گورکھ ہل اسٹیشن کاکو قریبی شہر جوہی ہے۔
کاچھو کے کاشتکاروں کی تحریک مجھے کاشتکاروں کی بغاوت جیسی لگتی ہے۔ اس تحریک کا مطالعہ کرتے وقت مجھے برصغیر کواہ دنیا بھر کی کئی کسان تحریکیں یاد آئیں۔ بھارت میں کیرالہ اور تلنگانہ کی تحریک، ستر کے عشرے کی سندھ کے ٹنڈو الہیار ضلع میں چمبڑ کے مقام پر زمینوں پر قبضے کی تحریک، جہاں انہوں نے کسان عدالتیں قائم کردی تھی۔ اوکاڑہ پٹ فیڈر ، چارسدہ کے کسانوں کی تحریک، پچاس کے عشرے میں سندھ ہاری کمیٹی کی الاٹی، نصف بٹائی اور ٹینینسی ایکٹ کی تحریکیں۔
جوہی مجھے لاطینی امریکہ میں پیرو کے پہاڑی علاقوں جیسا لگا۔ جہاں آبپاشی اور پانی کی انتظام کاری سیاست پر مرکوز ہے۔ پانی کی تقسیم کا معاملہ تیرہویں صدی کے انکا (Inca) کے دور سے چل رہا تھا۔ اور پندرہویں اور سولہویں صدی میں ہسپانوی باشندوں نے آخر پیرو کو فتح کر کے اس مسئلے کو اپنیمفادات کے مطابق حل کیا۔ پانی پر قبضہ سماجی زوال کا سبب بنا۔ جس کے نتیجے میں کس طرح سے زمین، پانی اور انسانی وسائل کے استعمال میں تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ اور مقامی باشندوں کی زندگی کے طریقہ کار میں تبدیلیاں واقع ہوئی۔ یہی صورتحال جوہی شہر کی ہے جس کی پچہتر ہزار سے زائد آبادی کو پینے کا پانی جوہی برانچ سے ملتا تھا۔ لیکن بعد میں شہر کی واٹر سپلائی کو برساتی ندی نئی گاج سے منسلک کردیا گیا۔ اب نہ بارشیں ہوتی ہیں نہ جوہی والوں کو پانی ملتا ہے۔ یہی صورتحال علاقے کے باقی چھوٹے شہروں کی ہے۔
جوہی برانچ سے لفٹ مشینوں اور غیر قانونی آؤٹ لیٹس کے ذریعے پانی چرایا جاتا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہیں عوام ووٹ دیتے ہیں۔ گندم کی بوائی کا موسم چل رہا ہے۔ پیرو میں یہ ہوا تھا کہ کاشتکاروں اور بڑے زمینداروں کے درمیان کشمکش نے بالآخر کاشتکاروں کو مجبور کیا کہ وہ حکومت کے خلاف آواز اٹھائیں۔
پیرو میں پانی کے لئے جدوجہد کامیڈی اینڈ ٹریجڈی ۔نام سے پال ٹراوک نے کوچابامبا کی پانی کی لڑائی Cochabamba Water War پر کتاب لکھی ہے۔لاطینی امریکہ کے اس ملک میں یہ تحریک 1999 میں پانی کی قیمتیں بڑھانے اور پانی بند کرنے پر شروع ہوئی۔ کاشتکارو شہر میں داخل ہوئے۔ ایک انقلابی آسکر الیورا کی قیادت میں فیکٹریز کے مزدور بھی شامل ہو گئے۔ جو پہلے مزدور یونینوں میں کام کر چکے تھے۔پھر قدیمی قبیلہ چولٹاس جو ریڈ انڈین کی طرح تھا وہ بھی شامل ہوگیا۔جیسے تحریک بڑھی شہر کے دہاڑی کمانے والے، دکانوں پر کام کرنے والے، ریڑھہ والے شامل ہو گئے۔ یونیورسٹیوں سے پڑھ کر آنے والے بھی تحریک کا حصہ بنے ۔ احتجاج کرنے والوں نے اپنا ریفرینڈم منعقد کرلیا۔ جس میں پچاس ہزار ووٹوں میں سے 96 فیصد نے پانی کی انتظام کاری کے نئے معاہدے کو منسوخ کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔ مسئلے کی شدت اتنی تھی کہ حکومت کو طاقت کا استعمال بھی کرنا پڑا۔
احتجاج کرنے والے کشاتکاروں کا کہنا ہے کہ حکمران جماعت کے رہنما ظفر لغاری خاندان، عزیز جونیجو، کلثوم چانڈیو، ڈاٹر جمالی اور دیگر حضرات نے جوہی براچ سے غیر قانونی طور پر واٹر کور س نکالے ہوئے ہیں اور لفٹ مشینیں فٹ کی ہوئی ہیں۔ جوہی کی شاخیں ایک شخص کو بطور تحفہ دی گئی ہیں۔ نیتجے میں عام کاشتکار کو کاشت کے لئے اور لوگوں کو پینے کے لئے پانی نہیں ملتا۔ حالیہ تحریک کے دوران چیف انجیئر آبپاشی نے ایک سرکاری اجلاس میں اعتراف کیا کہ جوہی شاخ پر کوئی افسر مقرر نہیں بس چھوٹے ملازمین ہیں جو کام چلاتے ہیں۔ یعنی پانی کی چوری اور مصنوعی قلت منتخب نمائندوں او رآبپاشی افسران کی ملی بھگت پانی چوری کیا جارہا ہے۔
پانی کا مسئلہ ہر گھر کا مسئلہ ہے۔ پانی انسان کے بنیادی حقوق میں شامل ہے ۔ اس کے بغیر انسانی زندگی مفلوج ہو جاتی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیاں بڑھ گئی ہیں۔ خواتین کی پریشانیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ مجبور ہو کر بچیاں سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔ ایک لاکھ چودہ ہزار زمین متاثر ہوئی ہے۔
جوہی تحصیل نے ہمیشہ پیپلزپارٹی کو ووٹ دیا ہے۔ سندھ کے حکمران اگر پانی نہیں دے سکتے تو استعیفا دے دیں۔ یہ سمجھا جارہا تھا کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نوٹس لیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ معاملہ سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوا۔ اخبارات مسلسل خبریں اور اداریے لکھ رہے ہیں۔ اب بھی اگر حکومت کچھ نہیں کرتی سندھ کا شعور اس کا گھیراؤ تنگ کر دے گا۔ کامیڈین اصغر سومرو، گلوکارہ دیبا سحر ، کئی اہل دانش و فکر کے لوگ احتجاجوں میں شامل ہیں۔ مختلف مکاتب فکر کی تحریک ہے۔ اس میں کوئی سیاسی پارٹی شامل نہیں کہ اس کو دبایا جاسکے۔ تین ماہ سے کاشتکاروں کا احتجاج چل رہا ہے۔ کاشتکاروں اور بڑے زمینداروں کے درمیان کشمکش نے بالآخر کاشتکاروں کو مجبور کیا کہ وہ حکومت کے خلاف آواز اٹھائیں۔جوہی کے کاشتکاروں کی جدوجہد ایک نیا تاریخ کا باب لکھ رہی ہے۔
Nai Baat Nov 23, 2018
Sohail Sangi Column - Mery dil mery musafer