Friday, November 23, 2018

جوہی میں پانی کی جنگ


جوہی میں پانی کی جنگ 
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
جوہی کو پانی دلانے کی تحریک گزشتہ ایک ہفتے سندھ کے مختلف شہروں تک پہنچ گئی ۔جوہی کو پانی دینے کے لئے سینکڑوں خواتین اور مرد حضرات نے حیدرآباد میں مظاہرہ کیا۔ ریلی نکالی اور دھرنا دیا۔ جوہی کے رہائشیوں کی اپیل پر اسلام آباد، کراچی، دادو، کنڈیارو میں احتجاج کئے گئے۔لیکن حکومت سندھ خواہ پیپلزپارتی کی قیادت نے اس کا سنجیدگی سے نوٹس نہیں لیا۔جوہی کی آٹھ شاخوں میں پانی نہیں۔ ہزارہا ایکڑ زمین بنجر بن گئی ہے۔ اورآٹھ یونین کونسلوں کی ڈھائی لاکھ سے زائد انسانی آبادی پانی کی قلت کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے۔ 
جوہی سندھ کے ضلع دادو میں کھیرتھر پہاڑ کی گود میں واقع تحصیل ہے۔ اس کا ایک حصہ پہاڑی ندیوں کے پانی سے کاشت ہوتا ہے اور دوسرا حصہ دادو کینال سے نکلنے والی جوہی برانچ سے آباد ہوتا ہے۔ گزشتہ تین ماہ سے کاشتکار پانی کی قلت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔اب اس کی حمایت میں صوبے کے مختلف شہروں بشمول وفاقی و صوبائی دارالحکومت میں احتجاج ہو رہے ہیں۔ کراچی پریس کلب کے باہر گزشتہ دو ہفتوں سے انہوں نے احتجاجی کیمپ بھی قائم کر رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیروں کی زمینیوں پر پانی دینے کے لئے پانی پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے۔
کالاباغ ڈیم اور تھل کینال کی تعمیر کے خلاف بڑے بڑے احتجاج ہوتے رہے جن میں سیاسی جماعتیں پیش پیش رہی۔ سندھ میں پانی کی قلت اور پانی پر سیاست، پانی کی چوری اور پیسوں کے عوض فروخت کے خلاف چھوٹے موٹے احتجاج ہوتے رہے ہیں۔ تین روز قبل بدین میں سب ڈویزنل آفیسر اور سب انجنیئر کاشتکاروں کے حملے میں زخمی ہو گئے۔ لیکن جوہی کے کاشتکاروں کی تحریک کچھ مختلف ہے۔ جوہی پسماندہ ، دور دراز پہاڑوں کی گود میں واقع علاقہ ہے۔ کاچھو کے نام سے موسوم نصف علاقہ بارانی ہے۔
یہ امر قابل غور ہے کہ سندھ کے پسماندہ علاقوں سے ہی تحریکیں چل رہی ہیں۔ جس طرح پسماندہ علاقے جوہی کے باشندوں نے تحریک شروع کی ہے بالکل سی طرح تھر کے لوگوں نے تھر کول اور گوڑانو ڈیم کے حوالے سے تحریک چلائی تھی۔ تبدیلی کی تحریکوں کے لئے کم ترقی یافتہ اور پسماندہ علاقے بھی پہلکاری کر سکتے ہیں۔انتخابات کے موقع پریہ تحریک حکمران جماعت کی یقین دہانی کی وجہ سے عارضی طور پر معطل ہے۔ لیکن مسئلہ حل نہیں ہوا ہے اور نہ ہی حکمران جماعت اس معاملے میں سنجیدگی دکھا رہی ہے لہٰذا کسی بھی وقت یہ تحریک دوبارہ اٹھ سکتی ہے۔
تھر اور جوہی کی کچھ اور بھی مماثلتیں ہیں۔ تھر میں کوئلہ ہے۔ جوہی میں قدرتی گیس کے ذخائر ہیں۔ دونوں دور دراز ہیں۔ دونوں کا کچھ حصہ پہاڑی ہے ۔ قحط دونوں کی پہچان ہے۔ ماضی میں دونوں علاقے ترقیاتی منصوبوں میں نظر انداز رہے ۔دونوں علاقوں کا بڑا اثاثہ انسانی وسائل یا پھر معدنی وسائل ہیں۔ معدنی وسائل کارپوریٹ کمپنیوں کے حوالے ہیں۔ انسانی وسائل کو ترقی دینے کے لئے حکومتی سطح پر بھرپور کوشش نہیں لی گئی۔ جو بھی انسانی وسائل کی ترقی موجود ہے وہ یہاں کے لوگوں کی اپنی کوششوں اور صلاحیتوں کا نتیجہ ہے۔سیاسی شعور ہو یا تعلیم دونوں علاقوں کے لوگوں نے اپنے بل بوتے پر سوسائٹی میں جگہ بنائی ہے۔ جدوجہد کرنے والوں کے شہر کی شناخت رکھنے والے جوہی کے شہریوں نے 2010 کے سیلاب کو شکست دے کر اپنے وجود کو بچایا۔اس علاقے کی اس وہ سے بھی اہمیت ہے کہ گورکھ ہل اسٹیشن کاکو قریبی شہر جوہی ہے۔
کاچھو کے کاشتکاروں کی تحریک مجھے کاشتکاروں کی بغاوت جیسی لگتی ہے۔ اس تحریک کا مطالعہ کرتے وقت مجھے برصغیر کواہ دنیا بھر کی کئی کسان تحریکیں یاد آئیں۔ بھارت میں کیرالہ اور تلنگانہ کی تحریک، ستر کے عشرے کی سندھ کے ٹنڈو الہیار ضلع میں چمبڑ کے مقام پر زمینوں پر قبضے کی تحریک، جہاں انہوں نے کسان عدالتیں قائم کردی تھی۔ اوکاڑہ پٹ فیڈر ، چارسدہ کے کسانوں کی تحریک، پچاس کے عشرے میں سندھ ہاری کمیٹی کی الاٹی، نصف بٹائی اور ٹینینسی ایکٹ کی تحریکیں۔
جوہی مجھے لاطینی امریکہ میں پیرو کے پہاڑی علاقوں جیسا لگا۔ جہاں آبپاشی اور پانی کی انتظام کاری سیاست پر مرکوز ہے۔ پانی کی تقسیم کا معاملہ تیرہویں صدی کے انکا (Inca) کے دور سے چل رہا تھا۔ اور پندرہویں اور سولہویں صدی میں ہسپانوی باشندوں نے آخر پیرو کو فتح کر کے اس مسئلے کو اپنیمفادات کے مطابق حل کیا۔ پانی پر قبضہ سماجی زوال کا سبب بنا۔ جس کے نتیجے میں کس طرح سے زمین، پانی اور انسانی وسائل کے استعمال میں تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ اور مقامی باشندوں کی زندگی کے طریقہ کار میں تبدیلیاں واقع ہوئی۔ یہی صورتحال جوہی شہر کی ہے جس کی پچہتر ہزار سے زائد آبادی کو پینے کا پانی جوہی برانچ سے ملتا تھا۔ لیکن بعد میں شہر کی واٹر سپلائی کو برساتی ندی نئی گاج سے منسلک کردیا گیا۔ اب نہ بارشیں ہوتی ہیں نہ جوہی والوں کو پانی ملتا ہے۔ یہی صورتحال علاقے کے باقی چھوٹے شہروں کی ہے۔ 
جوہی برانچ سے لفٹ مشینوں اور غیر قانونی آؤٹ لیٹس کے ذریعے پانی چرایا جاتا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہیں عوام ووٹ دیتے ہیں۔ گندم کی بوائی کا موسم چل رہا ہے۔ پیرو میں یہ ہوا تھا کہ کاشتکاروں اور بڑے زمینداروں کے درمیان کشمکش نے بالآخر کاشتکاروں کو مجبور کیا کہ وہ حکومت کے خلاف آواز اٹھائیں۔ 
پیرو میں پانی کے لئے جدوجہد کامیڈی اینڈ ٹریجڈی ۔نام سے پال ٹراوک نے کوچابامبا کی پانی کی لڑائی Cochabamba Water War پر کتاب لکھی ہے۔لاطینی امریکہ کے اس ملک میں یہ تحریک 1999 میں پانی کی قیمتیں بڑھانے اور پانی بند کرنے پر شروع ہوئی۔ کاشتکارو شہر میں داخل ہوئے۔ ایک انقلابی آسکر الیورا کی قیادت میں فیکٹریز کے مزدور بھی شامل ہو گئے۔ جو پہلے مزدور یونینوں میں کام کر چکے تھے۔پھر قدیمی قبیلہ چولٹاس جو ریڈ انڈین کی طرح تھا وہ بھی شامل ہوگیا۔جیسے تحریک بڑھی شہر کے دہاڑی کمانے والے، دکانوں پر کام کرنے والے، ریڑھہ والے شامل ہو گئے۔ یونیورسٹیوں سے پڑھ کر آنے والے بھی تحریک کا حصہ بنے ۔ احتجاج کرنے والوں نے اپنا ریفرینڈم منعقد کرلیا۔ جس میں پچاس ہزار ووٹوں میں سے 96 فیصد نے پانی کی انتظام کاری کے نئے معاہدے کو منسوخ کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔ مسئلے کی شدت اتنی تھی کہ حکومت کو طاقت کا استعمال بھی کرنا پڑا۔ 
احتجاج کرنے والے کشاتکاروں کا کہنا ہے کہ حکمران جماعت کے رہنما ظفر لغاری خاندان، عزیز جونیجو، کلثوم چانڈیو، ڈاٹر جمالی اور دیگر حضرات نے جوہی براچ سے غیر قانونی طور پر واٹر کور س نکالے ہوئے ہیں اور لفٹ مشینیں فٹ کی ہوئی ہیں۔ جوہی کی شاخیں ایک شخص کو بطور تحفہ دی گئی ہیں۔ نیتجے میں عام کاشتکار کو کاشت کے لئے اور لوگوں کو پینے کے لئے پانی نہیں ملتا۔ حالیہ تحریک کے دوران چیف انجیئر آبپاشی نے ایک سرکاری اجلاس میں اعتراف کیا کہ جوہی شاخ پر کوئی افسر مقرر نہیں بس چھوٹے ملازمین ہیں جو کام چلاتے ہیں۔ یعنی پانی کی چوری اور مصنوعی قلت منتخب نمائندوں او رآبپاشی افسران کی ملی بھگت پانی چوری کیا جارہا ہے۔ 
پانی کا مسئلہ ہر گھر کا مسئلہ ہے۔ پانی انسان کے بنیادی حقوق میں شامل ہے ۔ اس کے بغیر انسانی زندگی مفلوج ہو جاتی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیاں بڑھ گئی ہیں۔ خواتین کی پریشانیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ مجبور ہو کر بچیاں سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔ ایک لاکھ چودہ ہزار زمین متاثر ہوئی ہے۔ 
جوہی تحصیل نے ہمیشہ پیپلزپارٹی کو ووٹ دیا ہے۔ سندھ کے حکمران اگر پانی نہیں دے سکتے تو استعیفا دے دیں۔ یہ سمجھا جارہا تھا کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نوٹس لیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ معاملہ سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوا۔ اخبارات مسلسل خبریں اور اداریے لکھ رہے ہیں۔ اب بھی اگر حکومت کچھ نہیں کرتی سندھ کا شعور اس کا گھیراؤ تنگ کر دے گا۔ کامیڈین اصغر سومرو، گلوکارہ دیبا سحر ، کئی اہل دانش و فکر کے لوگ احتجاجوں میں شامل ہیں۔ مختلف مکاتب فکر کی تحریک ہے۔ اس میں کوئی سیاسی پارٹی شامل نہیں کہ اس کو دبایا جاسکے۔ تین ماہ سے کاشتکاروں کا احتجاج چل رہا ہے۔ کاشتکاروں اور بڑے زمینداروں کے درمیان کشمکش نے بالآخر کاشتکاروں کو مجبور کیا کہ وہ حکومت کے خلاف آواز اٹھائیں۔جوہی کے کاشتکاروں کی جدوجہد ایک نیا تاریخ کا باب لکھ رہی ہے۔ 


Nai Baat Nov 23, 2018 
Sohail Sangi Column - Mery dil mery musafer

Friday, November 16, 2018

زرداری اور نواز شریف کی حکمت عملی


زرداری اور نواز شریف کی حکمت عملی

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
سعودی پیکیج کے کرنسی مارکیٹ میں مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ڈالر کی قیمت میں پونے روپے سے دو روپے تک کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس پیکیج کے اعلان کے بعد ملک کی سیاسی مارکیٹ پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔حکومت کی پریشانی میں بڑی حد تک کمی آئی ہے وزیر اعظم کہنے لگے ہیں کہ ممکن ہے کہ اب آئی ایم ایف سے قرضہ نہ لینا پڑے، اور اگر لینا بھی پڑا تو تھوڑا سا ہوگا۔ ملک کا معاشی بحران سے نکلے کی ہر محب وطن پاکستانی خیرمقدم کرے گا۔لیکن یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ ملک کو یہ امداد مفت میں نہیں مل رہی اور اس امداد کے عوض ہم سے جو خدمت لی جا رہی ہے وہ پاکستان کی مشکلات میں کمی نہیں بلکہ اضافے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ 
منحرف صحافی جمال خاشقی کے سفارت خانہ میں قتل کے معاملے میں سعودی عرب عالمی سطح پر مشکل میں ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ دو سال میں وہ تجارتی خواہ سرمایہ کاری اور خارجہ امور کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ اتنا قریب نہیں تھا جتنا امریکہ اور انڈیا کے قریب ہو گیا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ کسی کو این آر او نہیں ملے۔ اپوزیشن جماعتیں مسلم لیگ (نواز)اورپیپلزپارٹی کہتی ہیں کہ حکومت سے این آر او کس نے کیسے اور کب مانگا؟۔ احتسا ب کا آغاز علیم خان اور جہانگیرترین سے کیا جائے۔ انصاف اور احتساب کے نام پر انتقام نہیں چلے گا۔ 
وزیراعظم عمران خان اب کہتے ہیں کہ نواز لیگ اور پیپلزپارٹی دونوں جماعتیں سڑکوں پر آنا چاہتی ہیں، آجائیں کنٹینر ہم فراہم کریں گے۔ یہی وزیراعظم سعودی پیکیج سے پہلے کہہ رہے تھے کہ ان کے خلاف اپوزیشن سازش کر رہی ہے۔ پاکستان کی نمائندہ وکلاء تنظیمیں، بااختیار بار کونسلیں کا عدالتی نظام نسق میں مداخلت، ججوں کو دباؤمیں لانے، ججوں کو دباؤپر معزول کرنے اور آئین سے تجاوز جیسے واقعات پر غم و غصہ کا اظہارکر چکی ہیں۔
معاشی حالات سے لگتا ہے کہ سعودی پیشکش ایک حد تک ہی بیل آؤٹ پیکیج کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ پاکستان کو فوری طور پر پیسے چاہئیں، جس ذکر وزیر خزانہ اسد عمر گزشتہ روز کر چکے ہیں۔ وزیراعظم بھی سمجھتے ہیں کہ یہ پیکیج کلی طور پر ملک کی معاشی ضرورتوں کو پورا نہیں کر سکتا، یہی وجہ ہے کہ ۔سعودی اکنامک کانفرنس میں پچاس لاکھ گھر جو رعایتی بننے تھے، سرمایہ کاری مانگ لی۔ اب وہ مزید رقم کی تلاش میں خلیجی ریاستوں کے دورے پر بھی نکل رہے ہیں۔ 
سعودی پیکیج سے پہلے ملک میں اقتصادی افراتفری کی صورتحال تھی۔ مہنگائی عروج کو پہنچ چکی تھی۔ عام لوگوں میں نالائقی،نا اہلی، بد انتظامی،کرپشن، مہنگائی، غیرملکی قرضہ جات کی افادیت، پروٹوکول نہ رکھنے کے دعوے زیر بحث ہے۔پوزیشن اس موقعہ سے فائدہ اٹھانا چاہ رہی تھی۔ ایسے میں پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے خلاف گھیراؤ تنگ کرنے کی خبریں آنے لگی۔ اپوزیشن نے اس ضمن میں اپنی تیاریاں شروع کردی تھی۔ نواز شریف اور آصف زرداری ایک دوسرے کے قریب آرہے تھے۔ 
وزیراعظم قوم بار بار خطاب کئے جارہے ہیں۔ اپوزیشن کا یہ موقف ہے کہ حکومت اپنی نا اہلی چھپانے کے لئے لوگوں کو احتساب کے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا جارہا ہے۔عوام مہنگائی اور بیروزگاری سے چھٹکارا مانگ رہی ہے، بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافہ واپس لینا چاہتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ڈالر ہو یا گیس بجلی کے نرخ یا اشیائے صرف کی قیمتیں جو بڑھ گئی ہیں وہ واپس پرانی سطح پر نہیں آسکتی۔ اگر حکومت کوشش بھی کرے گی تو ڈالر کی قیمت میں ایک حد تک ہی کمی آسکے گی۔ سعودی پیکیج سے حکومت کو تو کچھ سہولت ہو سکتی ہے لیکن عوام کو کوئی فوری رلیف نہیں ملے گا۔ 
آصف علی زرداری سمجھتے ہیں کہ ان کے خلاف کارروائی ہونے والی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جاتی امرا پر دستک دی ہے۔ فضل الرحمان نئے دور کے نوابزدہ نصر اللہ خان بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گزشتہ تین سال کے دوران پیپلزپارٹی شاید علامہ طاہرالقادری کی ثالثی کام آئی۔ نواز شریف کے خلاف عمران خان کا بلواسطہ طور پر ساتھ دے رہی تھی۔ اس کی حکمت عملی کی وجہ سے عمران خان کے لئے اقتدار کا راستہ آسان بنا۔
2018ء میں تحریک انصاف عملاً سینیٹ کا چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین پیپلزپارٹی کو سونپ چکی۔ سینیٹ الیکشن کے نتائج میں پیپلزپارٹی کی حکمت عملی بھاری نظر آنے لگی۔ پیپلزپارٹی کا خیال تھا کہ ہنگ پارلیمنٹ آئے گی۔ اور وہ کنگ میکر کا کردار ادا کرے گی۔ ہنگ پارلیمنٹ تو آگئی لیکن پیپلزپارٹی کو وہ کردار نہیں ملا۔ پیپلزپارٹی کی ضرورت ختم ہو گئی۔ ایسے میں پیپلزپارٹی کے اور اس کے رہنماؤں کے پرانے ’’گناہ‘‘ یاد آگئے۔ پیپلزپارٹی کو اپنی حدود میں رکھنے کے لئے ڈرایا جارہا ہے کہ سندھ میں اس کی حکومت ختم ہو سکتی ہے اور گورنر راج نافذ ہو سکتی ہے۔ اس کا عندیہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو سے بھی ملتا ہے، جس مں انہوں نے کہا ہے کہ میں گورنر راج نافذ کرنے کی کوئی آئینی گنجائش نہیں۔ 
اگرچہ عام انتخابات کے بعد آصف زرداری رول کم نظر آرہا تھا۔ لیکن حالات و واقعات کچھ ایسے بنے کہ چند ہفتوں میں نواز شریف، زرداری، فضل الرحمان، اے این پی اور کچھ دوسری پارٹیوں کو ایک صفحے پر آگئے۔ یہ کہا جارہا ہے کہ نئے اتحاد کے ذریعے زرداری رعایت لینا چاہ رہے ہیں۔ موجودہ مشکل صورتحال میں نواز شریف اور زرداری ملک کر عمران خان حکومت کو ہٹائیں یہ ان دونوں کو وارا نہیں کھاتا۔ کیونکہ موجودہ معاشی اور علاقائی صورتحال کا حل ان دونوں کے پاس بھی نہیں۔ جو حل ان کے پاس ہے اس کے لئے مقتدرہ حلقے تیار نہیں ہونگے۔نواز شریف اور زرداری کی حکمت عملی یہ نظر آتی ہے کہ ’’نئے پاکستان‘‘ کی کشتی اپنے منطقی انجام تک پہنچے۔ سیاست کی عدم شرکت والے حالیہ پروجیکٹ کو آزمائش کا پورا موقعہ دیا جائے۔ مقتدرہ حلقوں کو سمجھانے کے لیے وہ اس کے خواب کی تکمیل یا تجربہ ضروری سمجھتے ہیں۔ جس میں سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے جو ڈالر کی بارش ہونی ہے وہ ہونے دو، لوٹی ہوئی دولت واپس آنی ہے ۔ ٹیکسوں کی مد میں مزید رقومات جمع ہونے کے دعوے اور وعدے ہیں۔ منی لانڈرنگ، سوئز بینک اکاؤنٹس سے پیسے نکلوانے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں سمجھتی ہیں کہ یہ سب ڈھکوسلے ہیں۔ ایسی چیزیں ہیں جنہیں عام لوگوں میں ا یک نعرے اور بیانیہ کے طور پر تو بیچا جاسکتا ہے لیکن اس کا کوئی عملی پہلو نہیں۔ لہٰذا دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کو کوئی جلدی نہیں۔
پنجاب کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے ڈیڑھ درجن اراکین انتظار میں کہ نواز لیگ رابطہ کرے۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ وفاق اور پنجاب کے حوالے سے کہتے ہیں کہ ’’ان ہاؤس‘‘ تبدیلی جمہوریت کا حصہ ہے۔ ضمنی انتخابات کے نتائج نے صورتحال کو عوامی سطح پر مزید اپوزیشن کے حق میں رائے دے دی ہے۔
مرکز اور پنجاب جہاں تحریک انصاف آزاد اراکین کی مدد سے حکومت بنا سکی ہے وہاں ناراض اراکین اسمبلی کی تعداد اچھی خاصی ہے۔ لیکن دونوں بڑی جماعتیں حالیہ پروجیکٹ کا حصہ بننا پسند نہیں کریں گی۔ ان ہاؤس تک اگر معاملہ گیا بھی تو یہ جماعتیں چاہیں گی کہ کوئی تیسرا شخص بھلے آئے۔ حکومت کے خلاف حالیہ تحرک پیپلزپارٹی کا ہی انشی ایٹو ہے۔ نواز لیگ کہتی ہے کہ حکومت کے خلاف جس قرارداد کا ذکر آصف علی زرداری نے کیا ہے وہ قرارداد پیپلزپارٹی ہی آگے بڑھائے۔کچھ عرصہ اپوزیشن تحریک انصاف کی حکومت کو دوڑاتی رہے گی۔
روزنامہ نئی بات ۔سہیل سانگی کالم ۔ ۲۶ اکتوبر ۲۰۱۸