Friday, May 31, 2019

عمران خان کے سیاسی وجود کا سوال


عمران خان کے سیاسی وجود کا سوال

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
30 مئی 2019 2019-05-30
 اپوزیشن اچھی طرح سے جانتی ہے کہ عمران خان کی پیٹھ مضبوط ہے، لہٰذا  عجلت میں کوئی تحریک چلانا قابل عمل حکمت عملی نہیں تھی۔ وہ جانتی تھی کہ معیشت سنبھل نہیں سکے گی۔ لوگ بھی بیزار ہونگے اور تحریک انصاف کی مقبولیت میں کمی آئے گی۔ مقتدرہ حلقوں اور حکمران جماعت کے درمیان  اختلافات پیدا ہونگے۔ وہ کسی اور آپشن کا سوچنے لگیں گے۔ تب تحریک چلائی جاسکتی ہے۔ اپوزیشن اس وقت کا انتظار کر رہی تھی۔  لہٰذا حکومت کے خلاف ہلکی آنچ یعنی بیان بازی کے ذریعے مخالفت چلتی رہی۔ وہ اس لئے بھی ضروری تھی کہ بڑی جماعتوں کی قیادت کے خلاف کرپشن کے الزامات تھے۔ اور ان جماعتوں کو اپنا دفاع بھی کرتے رہنا تھا، ساتھ ساتھ حکومت کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا کر، دباؤ ڈال کر کچھ رلیف بھی لیتے رہنا تھا۔ 
گزشتہ ہفتے دی اکنامک ٹائیمز میں شایع ہونے والی خبر نے صورتحال کو کچھ واضح کیا۔ خبر یہ تھی وزیراعظم عمران خان اور عسکری قوتوں کے درمیان اختلافات ابھر رہے ہیں۔ویسے بھی صرف ایک سال کے اندر  حکومت کو ختم کرنا کسی طور پر جسٹیفائی نہیں ہوسکے گا۔ ماضی میں بھی اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ بظاہرعمران خان وہی کر رہے ہیں جو مقتدرہ قوتیں چاہتی ہیں۔ لیکن عمران خان کی جماعت  بہرحال ایک سیاسی پارٹی ہے، جس کا اپنا سیاسی ایجنڈا ہے۔جس میں بعض سیاسی اور سماجی تبدیلیاں لانے کی شدید خواہش ہے۔یہاں پر مقتدرہ حلقوں اور عمران خان کے درمیان تصادم یا فرق کی لکیر شروع ہوتی ہے۔ بعض تجزیہ نگار یہ بھی کہتے ہیں کہ عمران خان کی بدقسمتی ہے کہ اس کو خزانہ خالی ملا۔ جس کیو وجہ سے پرجوش عمران خان عوام کے لئے کچھ نہیں پارہا ہے۔اس کا ویژن دھرے کا دھرا رہ گیا ہے۔ 
اب سیاست جس موڑ کی طرف بڑھ رہی ہے۔دو ہفتے پہلے زرداری نے کھل کر نیب  چیئرمین کے خلاف بات کی اور کہا کہ نہیں معلوم نیب چیئرمین خود عہدے پر رہتے بھی ہیں یا نہیں۔ مئی کے دوسرے ہفتے میں جاوید چوہدری کا کالم نیب چیئرمین سے غیر رسمی  بات چیت سے متعلق سامنے آیا، اسی کے ساتھ نیب چیئرمین کے خلاف ایک  نا زیبا ویڈیو بھی وائرل ہوئی۔ بلاول بھٹو اور آصف زرداری  اب تک دو مرتبہ تفتیش کے لئے حاضر ہونے سے معذرت کر چکے ہیں۔اگرچہ جاوید چوہدری کی نیب چیئر مین سے بات چیت میں زیادہ تر تنقید اپوزیشن رہنماؤں پر ہے لیکن بعض واضح اشارے حکمران جماعت کے لوگوں کے لئے بھی موجود ہیں۔
 نیب نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو جعلی اکاؤنٹس کیس میں الگ الگ طلب کیا تھا۔خبروں کے مطابق بلاول بھٹو زرداری پارک لین کمپنی جبکہ سابق صدر آصف زرداری سندھ حکومت کے غیر قانونی ٹھیکوں کے کیس میں نیب راولپنڈی کی تشکیل کردہ انویسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پیش ہونا ہے۔ نیب کی ٹیم پارک لین کمپنی کیس میں بلاول بھٹو کا بیان ریکارڈ کرے گی جبکہ آصف علی زرداری سے سندھ حکومت کی طرف سے دیے گئے غیر قانونی ٹھیکوں میں خورد برد اور اہل خانہ کے ائیر ٹکٹس، نجی طیاروں کے اخراجات اور نوڈیرو ہاؤس کے اخراجات کے بارے میں پوچھنا ہے۔ گزشتہ ہفتے  اثناء میں بلاول بھٹو نے افطار پارٹی منعقد کی۔ اس افطار پارٹی میں آصف زرداری موجود نہ تھا جبکہ نواز لیگ کی سینئر قیادت موجود ہونے کے باوجود  پلیٹ فارم مریم اور بلاول کے حوالے تھا۔ لگتا ہے کہ ایک طرح سے حکومت کا بھی محاصرہ کیا جارہا ہے۔ نیب کی جانب سے حکمران جماعت کے بعض اہم لوگوں کو گھیرنے کے اشارے اور اپوزیشن کی جانب سے تحریک کی تیاری حکومت  کے خلاف ہی جاتے ہیں۔ اس طرح کی چیزیں اچانک نہیں ہوا کرتی۔ 
مریم نواز  اپنے والدنواز شریف کے بیانیہ  کے ساتھ ہے۔ ان کا انداز جارحانہ ضرور ہے  لیکن چند روز پہلے وہ کہہ چکی ہیں کہ ہم حکومت کو گرانا نہیں چاہتے، یہ اپنی کراکردگی کی وجہ سے ہی گر جائے گی۔ اسی طرح کی بات بلاول بھٹو نے ٹرین مارچ کے خاتمے پر کہی تھی۔ مریم نواز ممکنہ احتجاجی تحریک کیلئے اپنے کارکنوں کو ذہنی طور پر تیار کررہی ہے، لیکن یہ بات اپنی جگہ پر ہے کہ مریم کا رویہ دو رخی رہتا ہے۔ ان کا رویہ تب کا  زیادہ جارحانہ انداز اس وقت ہوتا ہے، جب میاں نوازشریف جیل میں ہوتے ہیں۔وہ جیل سے باہر ہیں تو انداز نرم ہوجاتا ہے، ان کے اس رویہ سے عملامصلحت جھلکتی ہے۔
عمران خان کے لئے ملکی معیشت کی بحالی، اور مجموعی طور پر معاشی بحران مسئلہ بنے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی پارٹی کی مقبولیت میں کمی  واقع ہوئی ہے۔ آئی ایم ایف سے معاہدہ کو بھی پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے۔ آئی ایم ایف کے ذریعے بلاواسطہ دباؤ موجود ہے۔ آئی ایم ایف کے جانے کی وجہ سے  چین سے بھی پہلے والی قربت نہیں رہی۔ 
 اس تمام صورتحال کی باوجود مقتدرہ حلقوں کی جانب سے حکومت کے خلاف ایکشن نہ لینے کی وجہ یہ ہے کہ ملک کو کسی انارکی کی صورتحال مین نہ دھکیلا جائے۔ وقت دیا جائے کہ آئی ایم ایف سے معاملات بن جائیں، حکومت گرے لسٹ سے نکل آئے۔ مقتدرہ حلقے یہ بھی نہیں چاہتے کہ عمران خان حکومت کو مکمل طور آزادی دی جائے۔ لہذا  نیب اور اپوزیشن
 کی جانب سے دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔ 
 حکومت ابھی تک مقتدرہ قوتوں کے بل بوتے پر ہی چل رہی ہے۔ یہ قوتیں یقیننا چاہیں گی کہ عمران خان ان کی بیساکھی کے بغیر کھڑے ہوں۔سیاسی حوالے سے عمران خان نے کوئی  سیاسی”معجزہ“ نہیں دکھایا ہے۔سیاسی طور پر اس کے وجود کی یہ حالت ہے کہ نو دس ماہ میں اپوزیشن متحد ہونے جارہی ہے۔ اب اگر حکومت اپنی وجود کا الگ سے اظہار کرتی ہے اور assert  کرتی ہے تو فوری طور پرحکومت مخالف تحریک نہیں چلے گی۔ اور اپوزیشن کو کسی اور طریقے سے نمٹا جاسکتا ہے۔ مثلا  نواز شریف کو فی الحال بیرون ملک جانے کی جازت دے دی جائے۔ زرداری کی گرفتاری ملتوی کی جائے۔ دو بڑی اپوزیشن جماعتیں اچھا کھیل رہی ہیں۔ عید کے بعد متوقع آل پارٹیز کانفرنس بھی مولانا فضل الرحمٰن کے توسط سے بلائی جارہی ہے۔ مولانا فضل ا لرحمٰن کا یہ روفائیل ہے کہ  جب عمران خان کی حکومت بنی تھی اسی وقت انہوں نے اس کے خلاف اعلان جنگ کر لیا تھا۔ لہٰذا دونوں پارٹیوں نے  اپنے لئے مذاکرات  اور رلیف لینے کا راستہ کھلا رکھا ہے۔  


Thursday, May 30, 2019

یونیورسٹیوں میں بحران کیوں؟


یونیورسٹیوں میں بحران   کیوں؟
میرے دل میرے مسافر   سہیل سانگی 
ملک کے مختلف جامعات میں ہراسمنٹ، فکری بنیاد پراساتذہ یا طلباء کے قتل، عدم برداشت  کے واقعات  کے سوال شدت اختیار کرگیا ہے کہ  ملک کی اعلیٰ تعلیم کس نہج پر جارہی ہے؟ اس میں مزید اضافہ اور بجٹ میں کٹوتی نے کردیا ہے۔حکومت عملی طور  اعلیٰ ٰ تعلیم  کے لئے کتنی سنجیدہ ہے؟ اس کا بھی پتہ چلتا ہے۔ ذرا ان اعدادوشمار کو دیکھ لیجیئے۔ دنیا کی14  جامعات میں پاکستان چیئرز گزشتہ دس سال سے خالی  ہیں۔ جامعات میں چیئرز متعلق ملک کا امیج بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ جبکہ دنیا کی تین سو یونیورسٹیز میں  بھارتی چیئرز بھری ہوئی ہیں جو کہ اپنے ملک کا بہتر امیج بنانے میں کردار ادا کرتی ہیں۔چیئرزحکومت پاکستان  ان چیئرز کے لئے اعلیٰ تدریسی و تحقیقی پس منظر رکھنے والے اسکالرز کا انتخاب ہائر ایجوکیشن کے ذریعے کرتی ہے۔ لیکن گزشتہ کئی برسوں سے حکومت کوئی فیصلہ نہیں کرسکی ہے۔ ٹائیمز ہائر ایجوکیشن  کے مطابق  دنیا کی بہترین 1000 میں  پاکستان کے صرف 7 جامعات ہیں۔ جس میں سے ایک قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد ہے۔  چونکہ یہاں ملک کی ہر شرافیہ کے بچے پڑھتے ہیں اور وفاقی دارالحکومت  کی وجہ سے  ایک ایسا جزیرہ بنایا ہوا ہے جو شو کیس کے طور پر بھی کام کرتا ہے لہٰذا اس یونیورسٹی کو درست رکھنا حکمرانوں کی مجبوری اور ضرورت ہے۔ 
یہ بھی نوید آئی ہے کہ ملک کے اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو ایک اور جھٹکا لگنے ولا ہائر ایجوکیشن کمیشن  نے اخراجات جاریہ  کے لئے  103 ارب روپے دینے کا مطالبہ کیا تھا حکومت  صرف 58 ارب روپے دینے کو تیار ہے۔ اگر ہائر ایجوکیشن کا یہمطالبہ نہیں مانا جاتا تو سرکاری شعبے میں چلنے والی 117 جامعات  شدید بحران میں چلے جائیں گے۔ 
رواں مالی سال کے لئے ہیک نے 82  ارب روپے مانگے تھے لیکن اسے تقریبا تیس ارب روپے کم ادا کئے گئے۔ نئے مالی سال کے لئے ہیک نے 30  ارب روپے کی فرمائش کی تھی لیکن حکومت بمشکل  28 ارب روپے دینے پر راضی ہوئی ہے۔ بلکہ وزارت خزانہ نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ آنے والے تین سال کے دوران اس شعبے میں رقم میں مزید کمی ہوگی۔ جامعات طلباء کی بڑھتی ہوئی تعداد، ان کے لئے اساتذہ اور افرا اسٹرکچر، سائنسی آلات، تنخواہوں  اور پینشنوں میں اضافے کے بوجھ تلے دبے چلے جارہے ہیں۔
کم بجٹ کی فراہمی کے بعد ہیک نے ملک کی تمام سرکاری یونیورسٹیز میں تحقیق کی مد میں رقومات کم کردی ہیں اور بعض پروگرام بند بھی کردیئے ہیں۔ سائنسی آلات، غیر ملکی کانفرنسز میں شرکت کے لئے سفری اخراجات،  غیر ملکی وظائف، میں کمی کردی گئی ہے۔ مزید بجٹ میں کٹوتی کے نتیجے میں کئی پروجیکٹس بند کردیئے جائیں گے۔ 
جب پیسے نہیں ہونگے تو کئی خراب چیزیں سامنے آناشروع ہونگی۔ لامحالہ طلباء کی فیس اور مختلف سرٹیفکیٹس کے اجراء کی فیس میں اضافے ناگزیر ہو جائیں گے۔ دیہی علاقوں کی یونیورسٹیز  کے حصے میں خراب صورتحال زیادہ آئے گی۔
یونیورسٹی  بنیادی طور پر ایسا ادارہ ہوتا ہے جو ایسے ذہن پیدا کرتا ہے  جو فکر یا سوچ اور عمل میں آگے ہوں۔ جو صرف ملی ہوئی تعلیم تک محدود نہیں  ہوتے بلکہ آگے کی سوچتے ہیں اور عمل کرتے ہیں۔ ایسے لوگ پیدا کرتے ہیں جو سوچتے ہیں، سوال اٹھاتے ہیں، تجزیاتی ذہن رکھتے ہیں تخلیق  اور ایجادات کرتے ہیں۔بعض یونیورسٹیوں میں سخت قواع و ضوابط ہیں لڑکیوں کا اسکارف پہننا ضروری ہے۔ اساتذہ کو اپنے مضمون کے بارے میں ہی کم جانکاری ہوتی ہے۔ دیکھا جائے تو اہلیت کا فقدان  تدریس سے لیکر انتظامیہ اور بعض اوقات وائیس چانسلرز تک نظر آتا ہے۔ 
پچاس کے عشرے کی بات ہے کہ سندھ کے وزیر تعلیم نے سندھ یونیورسٹی کے وائیس چانسلر کو تار بھیجا کہ وہان سے کوٹری ریلوے اسٹیشن پر ملیں۔ وزیر موصوف کراچی سے سکھر جارہے ہیں،  وزیر صاحب کے آنے سے ایک روز قبل متعلقہ ڈپٹی کمشنر نے وائیس چانسلر کو اس ملاقات سے متعلق آگاہ کیا۔ غالبا عالمہ آئی آئی قاضی وائیس چانسلر تھے۔ انہوں نے کوٹری ریلوے اسٹیشن پر جاکر وزیر سے ملنے سے انکار کیا، اور کہا کہ مجھے ویزر موصوف سے کوئی کام نہیں، میں کیوں ملنے جاؤں؟البتہ انہیں کوئی مجھ سے کام ہے تو ضرر تشریف لے آئیں۔ آج یہ صورتحال ہے کہ اگر کوئی وزیر یونیورسٹی کے شہر یا اس کے کسی قریبی مقام کا دورہکرتا ہے یا آتا ہے، تو وائیس چانسلر کی وہاں حاضری ضروری سمجھی جاتی ہے۔  یہ صرف  صورتحال ملک بھر میں ہے۔ یہ اور بات ہے کہ سندھ میں کچھ زیادہ ہے۔ یہ قدم تحیقی اور اعلیٰ تخلیقی ذہن پیدا کرنے والے ادارے کی حیثیت اور خود مختاری کم کرنے کے مترادف ہے۔  اب بات یہاں تک جا پہنچی ہے کہ  پروچانسیلر اور پرو وائیس چانسیلر کے عہدے  ایجاد کر  کے سیاسی مداخلت کوقانونی شکل دیدی گئی ہے۔ جامعات کہنے کو خود مختار ہیں اور سینڈیٰکٹ کے تحت چلتے ہیں۔  اب یہ مداخلت اتنی حد تک ہے کہ اس عمل کو عیب نہیں سمجھا جاتا۔ عملا وہاں سیاسی مداخلت  نے یونیورسٹی کے بنیادی تصور کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ وائیس چانسیلر ہی نہیں بلکہ  دیگر اہم عہدوں پر تقرریاں سیاسی اثر رسوخ پر ہوتی ہیں۔ چھوٹے موٹے ٹھیکے، یا دیکر کام متعلقہ علاقے کے  رکن اسمبلی یا وزیراعلیٰ کے قریبی لوگوں  کے کہنے پر دیئے جاتے ہیں۔ یہ کوئی آج کی یا ایک روز کی صورتحال نہیں۔ اب اس کو ڈیڑھ دو عشرے ہو چکے ہیں۔ یہ بھی نظر آیا کہ یونیورسٹیزاعلیٰ تعلیم دینے اور تحقیق کے اداروں کے بجائے   حکمران جامعات کی سفارش پر روزگار فراہم کرنے کے ادارے بن گئے ہیں۔ جہاں اساتذہ اور ٹیکنیکل سپورٹ کے اسٹاف کی  بڑے پیمانے پر کمی ہے لیکن لوئر اسٹاف تین چار گنا زیادہ ہے۔ جو یونیورسٹی  کی تدریس یا تحقیق کو بہتر بنانے میں مدد کے بجائے اس کے خسارے میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
خود مختار اداروں میں سیاسی مداخلت کی وجہ سے قوانین وضوابط کو بالائے تاک رکھ دیا جاتا ہے، یہاں سے غیر قانونی  طریقوں اور کرپشن کا راستہ کھلتا ہے۔  پھر یہ مداخلت کرپشن کا باعث بھی بنتی ہے اور اس کی پناہ گاہ بھی۔ ان دو کاموں کی وجہ سے یونیورسٹی انتظامیہ خود کو بے بس محسوس کرتی ہے۔ نتیجۃ وہ بھی ان دو برایوں کی لپیٹ میں آجاتی ہے۔سیاسی مداخلت کے باعث انتظامیہ اساتذہ اور ملازمین کے مطالبات اور طلباء کی ضروریات کو صحیح طور پر دیکھنا اس کی ترجیح نہیں  رہتی ہے۔ ایسے میں یہ سب اپنے مطالبات کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کرتے ہیں۔اور یوں  ایک اور بحران  شروع ہو جاتا ہے، جو آج کل سندھ کے جامعات کو درپیش ہے۔ اگر سندھ کے جامعات کا جائزہ لیا جائے تو کمزور انتظامیہ کے لئے یہ مشکل نظرآے گا کہ تدریسی عمل یا یونیورسٹی میں ایک  سیکھنے کا ماحول پیدا کرسکیں یا اس کی مانیٹرنگ کر سکیں۔ مانیٹرنگ کے لئے الگ سے ٹیمیں بھی بنائی جاسکتی ہیں۔ہم ہر سال لاکھوں گریجوئٹس پیدا کررہے ہیں لیکن ان کی علمی صلاحیت میٹرک کے برابر بھی نہیں ہوتی، اس میں اساتذہ کا قصور بھی ہو سکتا ہے لیکن یونیورسٹی تک پہنچنے والے بچوں کی  ابتدائی تعلیم میں کوئی کمی  ہے۔ 
اعلیٰ تعلیمی اداروں  میں بحرانی صورتحال اچھا شگون بھی ثابت ہو سکتی ہے کہ ہم  سب سوچیں کہ اعلیٰ تعلیم کو آگے کس طرح سے بڑھایا جائے۔پاکستان کی  اعلیٰ تعلیم  بدترین  صورتحال کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف پیسے اس پیچیدہ صورتحال کو حل نہیں کرسکتے۔ چار قسم کے بحران ہیں: اساتذہ اور طلباء میں دانش  و  رواداری سکی کمی، اساتذہ اور طلباء میں اخلاقیات،  سیاسی مداخلت، طلباء اور والدین دنوں کی کریئر کونسلنگ تاکہ بچے کو اس کے  apptitude اور صلاحیت کے مطابق داخلہ مل سکے۔

https://www.naibaat.pk/27-May-2019/23585

Monday, May 27, 2019

سندھ میں پولیس اختیارات کی گتھی


سندھ میں پولیس  اختیارات کی گتھی
سندھ نامہ سہیل سانگی 
 سندھ  میں پولیس قانون کی گتھی نہ پولیس سربراہ اور حکومت کے درمیان سلجھ سکی اور نہ ہی سندھ اسمبلی میں منظور کردہ بل سے۔ اب معاملہ عدالت میں ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں قائم ڈویزن بنچ نے حال ہی سندھ اسمبلی سے منظور کردہ  پولیس قانون کے بل اور اس پر کی گئی بحث کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ منظور کردہ بل سندھ ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق نہیں۔ سندھ اسمبلی نے بل منظور کرلیا ہے اب گورنر کے دستخط کے بعد اس پر عمل درآمد ہوگا۔ عدالت نے بتایا کہ اخبارات میں آیا ہے کہ بعض اراکین اسمبلی نے بل کی منظوری کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔  عدالت چاہتی ہے کہ پولیس  میں سیاسی مداخلت کم ہو۔ عدالت نے سوال کیا کہ عدالتی احکامات کو کس حد تک بل میں شامل کیا گیا؟ 
”پولیس کا پروٹوکول فور کا تعارف ختم ہونا چاہئے“کے عنوان سے روزنامہ کاوش لکھتا ہے کہ پولیس پہلے ہی سیاسی مداخلت کے باعث قانون پر عمل درآمد اور عوام کے جان و مال کی حفاظت سے دستبردار ہو کر مکمل طور پر پروٹوکول فورس بنی ہوئی تھی،  اب مکمل طور پر حکمرانوں کی مٹھی میں آگئی ہے۔ یہ کام سندھ اسمبلی سے مشرف دور کا پولیس قانون بعض ترامیم کے ساتھ منظور کرانے سے نظر آرہا ہے۔ اس بل منظور ہونے کے بعد پولیس کے تمام اختیارت وزیراعلیٰ نے اپنے پاس رکھ لئے ہیں۔ اب ایس ایس پی سے آئی جی تک کے افسران کا تقرر وزیراعلیٰ کر سکیں گے۔ آپریشن اور انوسٹٹیگیشن پولیس کے دو الگ الگ محکمے ہونگے۔ پولیس پبلک سیفٹی کمیشن کے سامنے جوابدہ ہوگی۔ پولیس سندھ حکومت کا محکمہ ہے اس  اختیار اور کنٹرول صوبائی حکومت کا ہی ہونا چاہئے۔  اب تک اس محکمے میں جو حالات خراب ہوئے ہیں وہ سیاسی مداخلت کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ پولیس کو سندھ کے منتظمین، وزراء، مشیران، معاونین خصوصی،  سیاسی شخصیات اور منتخب نمائندوں نے بطور پروٹوکول فورس کے استعمال کیا ہے۔ ان کے نجی بنگلوں پر بھی گارڈ کے طور پر  پولیس تعینات ہے۔ حکمران جو گڈ گورننس کی دعوا کرتے ہیں،  امن و امان کی بات کرتے ہیں،  وہ خود بلٹ پروف شیشے کے پیچھے کھڑے ہو کر  تقاریر کرتے ہیں۔ کمانڈوز کے محاصرے میں ہوتے ہیں۔ پولیس کے تحفظ میں ہوتے ہیں، لیکن عوام کا تحفظ کون کرے؟  پولیس افسران کا تقرر بھی سیاسی شخصیات کی فرمائش پر کیا جاتا ہے۔ اس بل کی منظوری کے بعد ہی نہیں، پہلے میں ایس ایس پیز کی تعینات  سیاسی لوگوں کی مرضی سے کئے جاتے رہے ہیں۔ پھر یہ افسران  سیاسی رہنماؤں، وزرائئ، مشیروں کے جاہ و جلال، رعب، دبدبے اور بادشاہی برقرار رکھنے کے ایجنڈے پر عمل کرتے نظرآتے ہیں۔ اس بل کی منظوری کے بعداس مداخلت کو قانونی  تحفظ مل گیا ہے۔ اگر محکمہ پولیس  کے اہم عہدوں پر تقرریوں کے اختیارات حکومت سندھ کے سربراہ کے پاس چلے جائیں گے تو پھر آئی سندھ پولیس اور محکمہ داخلہ کا کیا کام رہ جاتا ہے؟ پولیس افسران آئی جی کے بجائے ان کی تعینات کرانے والے بااثر شخص کے احکامات کی تعمیل و تکمیل کریں گے۔  جس مہا مجرم پر بااثر سیاسی شخصیت کا دست شفقت  اور سرپرستی ہوگی،  وہ آئی جی کے زور لگانے کے باوجود گرفتار نہیں ہو سکے گا۔ اس ضمن میں ضلع خیرپور کے ذلو وسان کی مثال  تازہ ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ قانون خواہ کتنے ہی اچھے کیوں نہ بنائے جائیں، اس محکمے میں جب تک سیاسی مداخلت ختم نہیں ہوگی تب تک نہ امن و امان قائم ہو سکے گا اور نہ ہی لوگوں کی داد رسی ہو سکے گی۔ 
سندھ میں بڑی تعداد میں سائبر کرائیم کے کیس رپورٹ ہورہے ہیں۔یہ واقعات تعلیمی اداروں خواہ چھوٹے شہروں میں ہورہے ہیں۔ سوشل میڈیا اور موبائیل فون کے ذریعے خواتین کو ہراساں  یا بلیک میل کرنے کے واقعات  رپورٹ ہوئے ہیں۔ مہران انجنیئرنگ یونیورسٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس کو بھی سائبر کرائیم میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک لڑکی کے نام کا جعلی اکاؤنٹ بنا کر یونیورسٹی کے وائیس چانسلر اور دیگر افسران  پر الزام تراشی کی۔انہیں ہراساں اور بلیک میل کیا۔ 

”روزنامہ پہنجی اخبار“ اداریے میں لکھتا ہے کہ ٹنڈو غلام علی میں سوشل میڈیا پر بلیک میلنگ کے باعث خودکشی کرنے والی  انیلا کا درد اگر کوئی سمجھنا چاہے، اس کے آخری خط کی دو سطور ہیں جس میں اس نے کہا ہے کہ میں جینا چاہتی ہوں، میری مدد کی جائے۔“ مگر جب تک مدد کا کوئی ہاتھ اس تک پہنچتا،  تب تک موت کے مضبوط ہاتھ اس کے کمزور گلے تک  پہنچ چکے تھے۔ یہ ایسا واقعہ ہے جس نے  ہمارے سماج میں  سائبر دنیا کے اس مکروہ چہرے کو سامنے لا کھڑا کیا ہے جہاں  مجرمانہ ذہنیت کو کھلی چھوٹ حاصل ہے۔ انہیں نہ قانون کا خوف ہے اور نہ اخلاقیات کا لحاظ۔ نتیجۃ اکثر معصوم زندگیاں آسانی سے وحشیوں کا شکار ہو جاتی ہیں۔ جو کہ ٹیکنالاجی سے لیکر اس کے کئی پہلوؤں سے بے بہرہ ہوتی ہیں۔ اگرچہ ٹیکنالاجی کی دنیا میں کوئی بھی ایجاد اپنے جوہر میں نقصان دہ نہیں ہوتی مگر اس کو استعمال کرنے والے اس کے منفی اور مثبت رجحانات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ یہ ٹیکنالاجی  اگر مثبت ہاتھوں میں ہے  تو اس کا کارآمد استعمال اجتماعی مقاصدکے لئے انتہائی فائدمند ہوتا ہے۔ جس طرح سے کسی معاشرے میں خراب اطوار و عادات کے لوگ ہوتے ہیں اسی طرح سے سائبر کی دنیا بھی  اس طرح کے رجحانات سے خالی نہیں۔جیسے عالمی سطح پر ٹیکنالاجی  کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے اس کے مثبت اور منفی رجحانات بھی سامنے آنے لگے ہیں۔پاکستان میں بھی سائبر شکایات ہر سال بڑھ رہی ہیں۔ گزشتہ سال کے دوران اڑھائی ہزار شکایات پر  ایف آئی اے کے سائبر کرائیم سرکل  نے تحقیقات کی۔بدقسمتی سے ان میں اکثریت  خواتین کو ہراساں  یا بلیک میل کرنے سے متعلق تھیں۔ اگرچہ ایف آئی کا سائبر کرائیم کنٹرول کرنے کے لئے نیشنل ریسپانس سینٹر موجود ہے۔ لیکن سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کی اکثریت  لاعلم ہے کہ یہ سینٹر کہاں ہے اور کیا کرتا ہے؟ سائبر دنیا اب مجرمانہ ذہنیت رکھنے والوں کی پناہ گاہ بنتی جارہی ہے۔ جہاں سوشل میڈیا پر دوستی رکھ کر اغوا کرنے سے لیکر ہراساں اور بلیک میل کرنے کے واقعات  میں اضافہ ہورہا ہے۔ وفاقی حکومت کو چاہئے کہ وہ آگاہی کی ملک گیر مہم چلائے، لوگوں کو بتائے کہ لوگ کہاں اور کس طرح سے اپنی شکایات درج کراسکتے ہیں۔ تاکہ سوشل میڈیا کی دنیا خاص طور پر خواتین اور کم عمر بچوں کے لئے محفوظ پلیٹ فارم بن سکے۔     

Friday, May 10, 2019

سیاست میں گولڈن ہینڈ شیک


 سیاست  میں گولڈن ہینڈ شیک  
 میرے دل میرے مسافر   سہیل سانگی
 اپوزیشن کی  بڑی جماعت ن لیگ نے پارلیمانی عہدوں میں اہم تبدیلیاں کردی ہیں۔ اس سے قبل یہ اشارے مل رہے تھے کہ  پارٹی کی پالیسی  پر اتفاق رائے نہیں تھا۔ پارٹی کے بعض رہنما شہباز شریف  کی پالیسی  کو صحیح سمجھتے تھے۔ جبکہ کئی رہنما نواز شریف کے بیانیے پر چلنا چاہتے ہیں۔شریف فیملی مزید 2 عہدوں سے دستبردار ہوگئی، شہباز نے لندن سے واپسی ملتوی کردی  ہے، رانا تنویر  پی اے سی کے چیئرمین، خواجہ آصف پارلیمانی لیڈر مقرر کردیا گیا۔ پارٹی میں ازسرنو تنظیم سازی کردی گئی۔ سینئرشاہد خاقان پارٹی کے نائب صدر ہوگئے ہیں، ن لیگ کی مریم نواز اور حمزہ شہباز بھی نائب صدر ہو گئے ہیں۔ خواجہ آصف کوپارلیمانی لیڈر شہباز شریف کی خواہش پر بنایا گیا،رانا تنویر کو نواز شریف کی مکمل تائیدحاصل ہے۔ 
شہباز شریف کی غیر موجودگی میں شاہد خاقان عباسی پارٹی کی رہنمائی کریں گے، اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے طور پر کام کریں گے۔  ڈیل کی باتیں اس وقت دم  توڑ گئیں جب نواز شریف کو ضمانت کی مدت ختم ہونے کے بعد جیل جانا پڑا،کیونکہ انہوں نے پرانے بیانیہ چھوڑا نہیں ہے،وہ موزون وقت کا انتظار کررہے ہیں۔

 پارٹی کے زرائع کہتے ہیں کہ پارٹی کنٹرول ایک ہاتھ میں ہونے کے بجائے تین چار ہاتھوں میں تقسیم ہوجائے تو کارکردگی پر مثبت اثر پڑے گا، مقدمات اور سزاؤں  کے دباؤسے نکلنے کیلئے ہم نے نئی صف آرائی کی ہے۔
 شریف خاندان سیاست  سے کنارہ کش نہیں ہواہے۔ حالیہ تبدیلیاں مشکل حالات ٹالنے کی منصوبہ بندی ہے،شریف برادران مریم اور حمزہ کو اپنے تخت دے کر پیچھے بیٹھ کر حکومت کریں گے۔ گزشتہ دو ماہ  کے دوران پارٹی کی عدم سرگرمی کے باعث بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر کے طور پر ابھر کر سامنے آرہے تھے۔ لہٰذا  پارٹی کو سرگرم رکھنے کے لئے ازسرنو منظم کرنا ضروری ہو گیا تھا۔ شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شریف بھی مقدمات میں الجھے ہوئے ہیں۔ لہٰذا نواز لیگ کی ساری امیدیں مریم نواز سے وابستہ ہیں۔
 دوسری طرف پیپلز پارٹی کے”بڑے“ آصف علی زرداری کے گرد بھی گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔ ان کی گرفتاری  ماہ صیام سے پہلے متوقع تھی لیکن ملک کامالی بحران اور آئی ایم  ایف سے مذاکرات آڑے آگئے۔اگرچہ  بیانیہ زرداری کا ہی چل رہا ہے۔تاہم ان کا سیاسی کردار بہت حد تک محدود ہو رہا ہے اور بلاول بھٹو زرداری زیادہ تر پارٹی معاملات اپنے ہاتھ میں لے چکے ہیں۔آج ملک میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف بڑی پارٹیاں ہیں۔ عمران خان، مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری ان پارٹیوں کے رہنما ہیں۔
 صورتحال اس نہج پر چلی گئی ہے کہ دونوں جماعتوں کے دو  دوبڑے عملا غیر فعال ہو جائیں، ریٹائر ہوں یا جیل جا کر غیر فعال ہو جائیں۔ اس فارمولا کے تحت نواز شریف جیل پہنچ چکے ہیں۔ اور ان کی پارٹی نئے عہدیداران منتخب کر چکی ہے۔ نواز شریف کے پاس اگرچہ رسمی طور پر  پارٹی کے صدر اور لیڈر آف اپوزیشن نے عہدے ابھی تک باقی ہیں۔ یہ بھی کچھ عرصے بعد وہ چھوڑ دیں گے۔ ان کی جگہ پر پارٹی کی نئی قیادت ذمہ داریاں سنبھال لے گی۔ 
اب پیپلزپارٹی کی باری ہے۔ میگا منی لانڈرنگ کیس میں نیب نے سابق صدر آصف زرداری کے خلاف ضمنی ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ 4وعدہ معاف گواہوں کے بیانات ضمنی ریفرنس کا حصہ ہونگے۔جس طرح سے نواز لیگ میں نواز شریف اور شہباز شریف کو احتساب کے جال میں ہیں، اسی طرح آصف علی زرداری اور فریال تالپور احتساب کے محاصرے  میں ہیں۔ 
آصف زرداری سے پہلے فریال تالپور کی گرفتاری متوقع تھی۔یہی وجہ ہے کہ دو ہفتے قبل فریال سندھا سمبلی میں آئیں اور وہاں ان کی سالگرہ منائی گئی۔ مزید یہ کہ سندھ اسمبلی کو مسلسل سیشن میں رکھا گیا، فریال تالپور کی گرفتاری کی صورت میں ان کو اسپیکر کے پراڈکشن آرڈر کے ذریعے اسمبلی میں بلایا جاسکے۔ 
سابق  وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے گزشتہ دسمبر میں کہا تھا کہ زرداری اور نواز شریف کی جائدادیں ضبط ہونگی وہ جیل چلے جائیں گے اور ان دونوں کی سیاست ختم  ہو چکی ہے۔  انہی دنوں میں پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے تین سال کی مدت رکھنے والوں کا ذکر کیااور کہا کہ”مقررہ مدت والے آتے جاتے رہتے ہیں۔ میدان میں صرف سیاستدان ہی مستقل طور پر رہتے ہیں۔“ عدلیہ ہو یا عسکری ادارہ دونوں میں عہدوں اور عمر کی حد مقرر ہے۔ جس کے بعد وہ ریٹائر ہو جاتے ہیں۔انہیں پتہ تھا کہ جبری رٹائرمنٹ کا پلان متعارف ہو رہا ہے۔
 آصف زرادری کا خیال تھا کہ ان اداروں میں بیٹھے ہوئے حضرات خود کو سیاستدانوں سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ  پیشے کے لحاظ سے ان دونوں اداروں کے حضرات نے باقاعدہ تربیت حاصل کی ہے، لیکن انہیں ایک نقطہ پر آکر ریٹائر ہونا ہے۔ 
سیاستدان کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ سیاستدان کو ملکی حالات کا گہرا مطالعہ کرنا پڑتا ہے، سماج کو سمجھنا پڑتا ہے، سماج کی مختلف طبقوں اور فریقین کو اکموڈیٹ اور ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے،ان میں قوت برداشت زیادہ ہوتی ہے۔لہٰذا سیاستدان بننے میں ایک وقت درکار ہوتا ہے۔ وہ بنیادی طور پر خدمت کے جذبے کے ساتھ آتے ہیں، اور عوام میں اپنی جگہ بناتے ہیں۔ وہ اگر ایک الیکشن ہار جائیں اور اقتدار سے باہر جائیں، ان کے لئے کوئی مسئلہ نہیں آئندہ انتخابات  جیت کر دوبارہ اقتدار میں آجاتے ہیِ دنیا بھر میں سیاست کا یہی سائیکل چلتا ہے۔ لہٰذا سیاست یا سیاستدانوں اور باقی دونوں ا داروں کی آپس میں موازنہ کرنا درست ان تینوں اداروں کی نوعیت، فرائض اور میکنزم مختلف ہے۔ سیاستدان اپنی سیاسی وراثت دوسری نسل کو منتقل کر لیتے ہیں۔ جو کہ اور اداروں میں ممکن نہیں۔ 
 فارمولا  نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کے دو دوبڑوں کو سیاسی میدان سے آؤٹ کرنے کا زیر عمل ہے۔یہ قیادت ریٹائرمنٹ کا باقاعدہ یا رضاکارانہ اعلان نہیں کر رہی، لہٰذا انہیں جیل کے ذریعے ریٹائرمنٹ  کے راستے پر ڈالا جارہا ہے۔ ان دونوں جماعتوں کے  ”بڑوں“ نے بڑی مزاحمت کی۔ لیکن کرپشن کا آلہ اور احتساب کا جال مضبوط تھا، جس کو عوام میں بھی پزیرائی مل چکی تھی،  لہٰذا اس سے بچ نہیں پا رہے ہیں۔ 
اب نواز شریف اور آصف علی زرادری سیاسی منظر نامے سے ہٹ رہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرادری ریڈیکل بیانات دے رہے ہیں۔ گزشتہ دو تین ماہ سے ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے پارٹی قیادت کی سیٹ عملی طور پر سنبھال لی ہے۔ اور آصف علی زرادری پارٹی کی قیادت سے دستبردار ی نظر آتی ہے۔ نواز لیگ کے بعد  پیپلزپارٹی میں بھی ”اولڈ گارڈز“  کے بجائے نئی نسل کی قیادت میں آگئی ہے۔ممکن ہے کہ مقتدرہ حلقوں کا خیال ہو کہاولڈ گارڈز کے مقابلے میں نئی نسل کی قیادت سے نمٹنا زیادہ آسان ہے۔ 
ملازمت میں جبری ریٹائرمنٹ ہوتی ہے،  اب سیاست میں بھی جبری ریٹائرمنٹ کا طریقہ متعارف  ہو رہا ہے۔ کارپوریٹ کلچرنے جبری ریٹائرمنٹ کا مہذب نام گولڈن ہینڈ شیک رکھا ہے۔ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ دونوں کی قیادت کو گولڈن ہینڈ شیک دیا جارہا ہے۔ ان دونوں پارٹیوں کے”بڑے“ سیاست سے  فارغ ہوں اور ان کی جگہ پر مریم نواز اور بلاول بھٹو کو لیا جاسکتاہے۔


Saturday, May 4, 2019

ایڈز کے کیسز- سندھ میں خوف وہراس

سندھ نامہ  سہیل سانگی 
 ابھی پولیو کے قطرے پلانے سے انکار، اس مہم میں حائل مختلف رکاوٹوں اور ڈاکٹرز کے ہاتھوں غلط علاج کے باعث بچوں کی فوتگیوں تھر میں بچوں کی اموات روکنے میں ناکامی کے معاملات چل رہے تھے کہ سندھ بھر سے ایڈز پھیلنے کی خبریں آرہی ہیں، اس پر تاحال حکومت سندھ کا کوئی واضح اور مضبوط موقف سامنے نہیں آیا ہے۔  لاڑکانہ کے علاقے رتو دیرو میں ایڈز میں مبتلا مریضوں کی تعدادڈیرھ سو  ہو گئی ہے۔ سانگھڑ میں سات برس کے دوران 121  افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔، اسی مدت کے دوران اسکریننگ میں  2017افراد کو پازیٹو پایا گیا۔ حیدرآباد کے دیہی علاقوں میں چھ افراد موت کا شکار ہوئے جبکہ  پانچ نئے کیسز ظاہر ہوئے ہیں۔ حیدرآباد ضلع کے دو سو  سے زائد دیہات ابھی تک اسکریننگ  کے عمل سے محروم ہیں۔ شکارپور میں بھی ایڈز کے کیسز سامنے آئے ہیں۔ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ ہر جگہ پر اسکریننگ ٹیسٹ  سے معذرت کر لی ہے۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر سندھ  ایڈز کے مطابق 2500 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے 85 افراد اس مرض میں مبتلا پائے گئے۔ان روپرٹس کے بعد سندھ میں خوف وہراس پھیلا ہوا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات  فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت ایڈز  کے معاملے پر سندھ حکومت کی مدد کے لئے تیار ہے۔ میڈیا کے مطابق سندھ حکومت نے  ایڈز پر قابو پانے کے لئے عالمی ادارہ صحت سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بھی بدخبر رپورٹ ہوئی ہے کہ مختلف ادویات کی قیمتوں میں سو فیصد سے تین سو فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے۔ 
روزنامہ کاوش ادایے میں لکھتا ہے کہاکہ تازہ اطلاعات کے مطابق ایچ آئی وی وائرس یا ایڈز  میں سندھ افریقی ممالک  کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ اس بیماری کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ نے صوبے بھر میں تشویشناک صورتحال پیدا کردی ہے۔ کسی بھی ملک میں اگر گورننس کا نظام بہتر ہو جائے تو نصف سے زائد مسائل خود بخود حل ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ ان مسائل کا براہ راست تعلق گورننس سے ہوتا ہے۔ سندھ کا بنیادی مسئلہ بھی گورننس ہے۔ منتظمین نے شاید حکمرانی کو دل پشوری سمجھ لیا ہے۔صوبے بھی کوئی بھی محکمہ ایسا نہیں جس کی کارکردگی بہتر تو دور کی بات، اطمینان بخش بھی نہیں ہے۔ محکمہ صحت  اور ہمارا صحت کا نظام خود بیمار محکمہ ہے، جس کے علاج کی ضرورت ہے۔ صوبے میں ایڈز پروگرام چل رہا ہے، لیکن یہ پروگرام کس سیارے پر ہے؟ کچھ پتہ نہیں کم از کم سندھ میں تو نظر نہیں آتا۔  یہ مرض راتوں رات نہیں پھیلا۔ ابھی تو کئی اضلاع میں اسکریننگ نہیں ہوئی ہے، اگر سب اضلاع میں اسکریننگ ہوگی، یہ تعداد کہاں تک پہنچے  اسکریننگ کا نظام بہتر نہ ہونے اور  وائرل لوڈ ٹیسٹ مہنگے ہونے کی وجہ سے کئی متاثرہ افراد تشخیص اور رجسٹر ہونے سے رہ گئے ہیں۔ گزشتہ سال اپریل میں  اقوام متحدہ کے ایشیا پیسفک ریجنل سپورٹ پروگرام کے ڈائریکٹر  سندھ کے انتظامی سربراہ سے ملاقات کی تھی۔اس موقع پر سندھ کے انتظامی سربراہ نے یقین دلایا تھا کہ صوبے میں ایڈز پر کنٹرول  کرلیا گیا ہے۔صورتحال یہ بنی ہے کہ ایک سال گزرنے بعد سندھ حکومت نے عالمی ادارے سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔  زمینی حقائق اور اصل صورتحال سے روگردانی  کر کے کارکردگی دکھانے کے لئے جب صرف بیانوں پر زور  دیا جائے گا تو ایسی ہی صورتحال پیدا ہوگی۔ حکومت کا کام اچھی حکمرانی کے ذریعے  عوام کو  صحتمند ماحول اور سہولیات فراہم کرنا ہے۔ تاکہ  امراض نہ پھیلیں۔  لیک حکومت کا معیار یہ ہے کہ اس کی گورننس کے ذریعے امراض کے پھیلاؤ  کے لئے سازگار ماحول پید اکرتے ہیں او رجب کوئی فرد مرض میں مبتلا ہوتا ہے  تو اس کے علاج کے لئے سرکاری سطح پر کوئی مناسب بندوبت موجود نہیں ہے۔  

روز نامہ ”پنہنجی اخبار“  محکمہ آبپاشی کے آٹھ سال جو ضایع ہو گئے کے عنوان سے ادایے میں لکھتا ہے کہ صوبائی وزیر آبپاشی سید ناصر شاہ نے محکمہ میں 150  ارب روپے کی بیقاعدگیوں کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ضلع بدین کے بعض علاقوں مین پینے کا پانی دستیاب نہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ فصلوں کو چھوڑیں فی الحال صرف پینے کا پانی تو دیں۔  یہ اعترافات آٹھ سال کے بعد سننے مین آرہے ہیں۔ یہ محکمہ آٹھ سال سے وزیراعلیٰ سندھ ے پاس یرغمال بنا ہوا تھا۔ بلاشبہ وزیراعلیٰ کو قانونی طور رپر صوابدیدی اختیار ہے کہ وہ بعض محکمے اپنے پاس رکھے۔ چونکہ ان کے پا س متعدد  کام ہوتے ہیں،  لہٰذا یہ سب  فرائض  احسن طریقے سے پورے کرنا  ا یک شخص کے  بس کی بات نہیں ہوتی۔ حیرت کی بات ہے کہ آٹھ برس تک حکومت نے پارٹی کے کسی ایک فرد کو بھی اس قابل اور اہل نہیں سمجھا کہ اسے اس اہم محکمہ کا قلمدان دیا جائے۔ وزیر آبپاشی کو  پانی فراہمی،  صوبے کے تمام کینالوں اور شاخوں میں شرع سے لیکر آخر تک کی دیکھ بھال،  صوبے کے لئے پانی کے حصے کا حصول یقینی بنانا،  پانی کی قلت خواہ سیلاب کی صورت میں انتظامکاری کرنا شامل ہوتا ہے۔ گھوٹکی سے لیکر بدین تک  پانی کی صورتحال کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔ ارسا جیسے اداروں میں سندھ کے پانی کا کیس پیش کرنا ہوتا ہے۔ اس تمام  فرائض نبھانے کے لئے افسران سے اجلاس کرنا، صورتحال معلوم کرنا اور ہدایات دینا ان کی ذمہ داریوں میں شال ہے۔  جب وزیراعلیٰ سے ملاقات ہی مسئلہ ہو،  ایسے میں انجیئر یا کسی اور آبپاشی افسر کی ان تک رسائی کتنی ممکن ہو سکتی تھی؟ آٹھ سال کے دوران یہ سب کچھ نہ ہو سکا۔اب صورتحال یہاں تک پہنچی ہے کہ کینالوں اور شاخوں میں مٹی اڑ رہی ہے فصلیں سوکھ رہی ہیں، زیرزمین پانی کڑوا ہو چکا ہے، دیہی علاقوں میں پینے کا پانی بھی دستیا ب نہیں۔  ظاہر ہے کہ وزیراعلیٰ کی انتظامی اور سیاسی مصروفیت یہ سب کام دیکھنے کے آگے رکاوٹ بنی رہی۔اب بدترین صورتحال پیدا ہونے اور عوامی دباؤ کے نتیجے میں وزیراعلیٰ نے یہ قلمدان سید ناصر شاہ کے حوالے کیا ہے۔ان کے پاس  زمینی صورتحال کا اعتراف کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ اعتراف اچھی بات بات ہے کیونکہ یہ حقیقت پسندی کی علامت  ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف اعتراف کرنے سے مسائل حل ہو جائیں 
 گے؟  قلمدان سنبھالنے کے بعد آبپاشی کے نئے وزیر موصوف کہتے ہیں کہ 150  ارب روپے کی کرپشن نہیں بلکہ بے قاعدگی ہے۔ قبلا قواعد وضوابط  توڑے ہی کرپشن کے لئے جاتے ہیں۔ وزیر کا تقرر مثبت عمل ہے لیکن سندھ کے آٹھ سال جو ضایع ہو گئے وہ تو واپس نہیں آ سکتے اور نہ ہی ان کا ازالہ ہو سکتا ہے۔ 

ایم کیو ایم پھر سیاسی تنہائی کا شکار


تقسیم کا  نعرہ:  بات دور تلک جائے گی  
 ایم کیو ایم پھر سیاسی تنہائی کا شکار

 میرے دل میرے مسافر   سہیل سانگی

”سندھ کی تقسیم کے خلاف جو لوگ ہوں اٹھ کھڑے ہوں“، سندھ اسمبلی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی اپیل پر جی ڈی اے اور پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی اٹھ کھڑے ہوئے۔ جس پر وزیراعلیٰ نے ان کا شکریہ ادا کیا، جب کہ ایم کیو ایم کے اراکین اپنی نشستوں پربیٹھے رہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ متحدہ ختم ہوگئی مگر یہ تو بڑھتی جارہی ہے، پہلے ایک متحدہ تھی لیکن اب 4ہوگئیں۔ 
 پہلے سے اعلان کردہ ایم کیو ایم کا جلسہ سنیچر کے روز ہوا، اسی روز وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گورنر سندھ عمران اسماعیل سے ملاقات کی، دونوں عہدیداروں نے ورکنگ رلیشن شپ  پر اتفاق رائے کیا۔ یوں تحریک انصاف نے خود کو ایم کیو ایم کی  پالیسی سے دوری کا اظہار کردیا۔نتیجے میں ایم کیو ایم ایک بار پھر  سیاسی تنہائی میں چلی گئی۔ اس سے قبل وفاقی حکومت سندھ حکومت  پر دباؤ ڈالنے کے لئے ایم کیو ایم کو  شہ دیتی رہی۔
وفاق میں تحریک انصاف اور سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے۔ ایسے میں سندھ حکومت کے درمیان تنازعات اور جھگڑے چلتے رہے۔ گزشتہ نو ماہ کے دوران کئی بار ایسے مرحلے آئے کہ وفاق نے اپنے گورنر عمران اسماعیل کے ذریعے سندھ حکومت کو دھمکایا، یا پھر کبھی اپنے وزیر سے بیان دلوایا کہ کراچی کو نظرانداز کیا جارہا ہے، وفاق کوئی راست اقدام کرے۔  

پھر وزیراعظم نے بھی یہ فرما یاکہ ایم کیو ایم والے نفیس لوگ ہیں، ان نفیس  لوگوں نے ایک بار پھر سندھ کو تقسیم کرنے کی بات کی۔  تب تحریک انصاف کو احساس ہوا کہ وہ جس  پارٹی کو آگے بڑھا رہی ہے وہ کراچی کو ایک بار پھر  عدم استحکام کی طرف لے جائے گا۔ 
خالد مقبول صدیقی جو کہ وفاقی وزیر بھی ہیں،کہتے ہیں کہ سندھ کی تقسیم ہو چکی، اب صرف اعلان کرنا باقی ہے۔ صوبائی مختاری کے نام پر عوام کے وسائل چھینے گئے ہیں۔ کوٹا سسٹم نافذ کر کے سندھ کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ وہ اٹھارویں ترمیم کے بھی مخالف ہیں، کہتے ہیں اس ترمیم میں عوام سے دھوکہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ کراچی میں فساد بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ دھمکی آمیز رویہ ہے، یہ وہی رویہ ہے جس کی وجہ سے ایم کیو ایم کی ساکھ متاثر ہوئی۔ 

ایم کیو ایم کو پتہ ہے کہ سندھ اس معاملے پر کتنا حساس ہے۔ سیاسی اسکورنگ کے لئے یہ بیانات دیئے جارہے ہیں۔ آج ایم کیو ایم کراچی کی نمائندہ پارٹی نہیں ہے۔ کراچی کے لوگ ہینگ  اوورسے نکل رہے تھے کہ یہ بیان پھر سامنے آیا ہے۔ 

ایم کیو ایم  اپنے قیام سے لیکرہر دور میں حکومت کی اتحادی رہی ہے۔ مشرف دور میں اس تنظیم کو خصوصی  پشت پناہی حاصل رہی، اس کو مزید طاقتور بنایا گیا۔انتہا پسندی اور کراچی میں امن وامان کی بدترین صورتحال کے پیش نظر جب آپریشن ہوا تو اس کا سورج غروب ہونے لگا۔ ایم کیو ایم ایک خاص وقت پر انتہا پسندی کے مطالبات کرنے لگتی ہے، جو  وال چاکنگ، بیانوں اور پوسٹرز کی شکل میں سامنے آتی رہی ہے۔
  27 اپریل کے جلسے  میں ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے  اس معاملے کو اور بھڑکانے کی کوشش کی ہے۔ سندھ کے لوگ ابھی کسی لسانی منافرت وغیرہ کا شکار نہیں ہونا چاہتے، آخر  ایم کیو ایم کے رہنما نے کس کی آشیر واد سے  اس حساس مسئلے کو جگانے کی کوشش کی ہے؟ اس کا خیال تھا کہ تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی  (یا وفاق اور صوبہ سندھ کی حکومتوں) کے درمیان حالیہ کشیدگی سے وہ سیاسی فائدہ اٹھا سکتی ہے۔

 سندھ کے لوگ صوبے کی جغرافیائی وحدت  پر نہ سودے بازی کریں گے اور نہ  خاموش بیٹھیں گے۔ اس کا اظہار سندھ اسمبلی میں گزشتہ روز کیا گیا۔ 
سندھ کے لوگ صرف اردو بولنے والوں کو ہی نہیں ملک کی دوسری زبانیں بولنے اور رھنے والوں سے بھی نفرت نہیں کرتے، ملک کے بالائی علاقوں سے لاکھوں لوگ صرف کراچی میں ہی نہیں، صوبے کے دیگر شہروں اور دیہات میں مقیم ہیں۔  وہاں کاروبار  یا ملازمتیں کر رہے ہیں۔لیکن کراچی میں اردو کی لسانیت کے بنیاد پر مسئلہ کھڑا کیا جارہا ہے۔ 

 یہ حقیقت قبول کرنی چاہئے کہ آبادی کے لحاظ سے کراچی کا نقشہ تبدیل ہو چکا ہے۔ اب دوسری  زبان بولنے  اور دوسرے علاقوں کے رھنے والے لوگ یہاں آکر آباد ہوئے ہیں ان کی آبادی اردو بولنے والوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ یہ کیس طور پر ممکن نہیں کہ سب کو یہاں سے نکال کر  اردو بولنے والوں کی اکثریت قائم کی جائے۔ 
شہری علاقے کی اصطلاح جب استعمال کی جاتی ہے تو سوچنا چاہئے کہ تیزی کے ساتھ اور بڑے پیمانے پر اربنائزیشن کے نتیجے میں سندھ میں دیگر علاقے بھی اس تعریف کے زمرے میں آتے ہیں۔اب لے دے کر ایم کیو ایم کے پاس صرف لسانی شناخت رہ جاتی ہے جس کی بنیاد پر وہ سیاست کرے۔ 

 اس صورت میں کراچی کی سیاسی ٹرین میں وہ مسافر سفر کرنا چاہیں گے جونئے
 زمینی حقائق کوتسلیم نہیں کرتے۔جو گزشتہ سات عشروں سندھ کی زمین کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑ نہیں پائے ہیں۔ اب جب ایم کیوا یم سیاسی تنہائی کا شکار ہو گئی ہے تو ہو اپنی کھوئی ہوئی حیثیت بحال کرنے کے لئے  خالد مقبول صدیقی کے ذریعے یہ بیان بازی کر رہی ہے۔ 
سندھ کا میدان ایم کیو ایم کے لئے اور پیپلزپارٹی کے لئے ووٹ کا ذریعہ ضرور ہے۔ لیکن  بقول ایک سندھی دانشور کے سندھ ایک رومانس ہے۔ 
سندھ کے علاوہ باقی تینوں صوبوں میں تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ سندھ میں منتخب حکومت ہے، یہ الگ بات ہے کہ سندھ کے لوگوں نے پیپلزپارٹی کو مینڈیٹ دیا ہے، اور وہی حکومت میں ہے۔ ایم کیو ایم اس حکومت میں شامل نہیں۔ لہٰذا وہ تحریک انصاف کی وفاقی حکومت سے مطالبہ کر رہی ہے کہ  وہ سندھ میں مداخلت کر کے معاملات کو درست کرے۔ کیا آج اگر ایم کیو ایم صوبائی حکومت میں شامل ہوتی تو کسی طور پر بھی وفاقی حکومت کو مداخلت کے لئے کہتی؟ 

جہاں تک معاشی ترقی اورترقیاتی کاموں وغیرہ میں نابرابری کاسوال ہے، وہ سندھ کے باقی علاقوں میں بھی نظر آتی ہے۔کیا سندھ کے وہ علاقے بھی اپنے لئے الگ صوبے کا مطالبہ کردیں؟ اس  معاملے کو جمہوری طریقوں سے حل کیا جاسکتا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے  اچھی پیشکش کی ہے کہ معاملات کے حل کیلئے ہم ایم کیوایم کے ساتھ بیٹھنے کے لئے تیار ہیں جب چاہیں ہمارے ساتھ اجلاس کرلیں۔

کراچی کے اردو بولنے والوں کی کسی طور پر بھی خواہش نہیں کہ اس شہر میں فسادات ہوں۔ فسادات یا پرانی ایم کیو ایم کو زندہ کرنے کے بھی حق میں نہیں۔ کیونکہ اس سے نقصان اردو بولنے والوں کا ہی ہوگا، اور بدنامی عمران خان حکومت کی ہوگی۔ تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کو چاہئے کہ وہ ایم کیو ایم کے اس رویہ پر غور کرے اورایسے رجحان اور گروہ کو غیرضروری طور پر آگے لانے کی کوشش سے گریز کرے۔

سندھ میں برف کیسے پگھلی؟

 سندھ میں برف کیسے پگھلی؟  
میرے دل میرے مسافر  سہیل سانگی 
 راتو رات  سندھ میں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف  مفاہمت کے راستے پر آگئیں۔ چند ماہ سے سندھ اور وفاق کی حکمران جماعتوں کے درمیان جاری کشیدگی گزشتہ ہفتے نقطہ عروج پر پہنچ گئی تھی جب  دونوں جماعتوں کے سربراہان سیاسی بدکلامی پر اتر آئے۔ بلاول بھٹو وزیراعظم عمران خان کو مسلسل سلیکٹیڈ وزیراعظم کہتے رہے ہیں۔ 
پہلے حکمران جماعت نے صرف شیخ رشید کو اپنے تحفظ کے لئے بدزبانی کے لئے رکھا ہوا تھا۔ شیخ صاحب کے ذمہ زیادہ تر نواز لیگ کو چپ کرنا تھا۔
جوابی مہم کا آغازچند ہفتے پہلے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے قومی اسمبلی میں بلاول بھٹو کے بارے میں زبان کھولنے سے کرایا گیا۔شاید اس لئے کہ زوپر کی سطح پر جاری جوڑ توڑ میں شاہ محمود قریشی امکانی متبادل وزیراعظم کے امیدوار نظر آرہے تھے، جو ممکنہ طور پیپلزپارٹی کی مدد سے اپنے لئے جگہ بنا سکتے تھے۔حکمران جماعت نے یہ راستہ  بند کرنا ضروری سمجھا۔اب چونکہ یہ آپشن تقریبا ختم ہو چکا تھا لہذٰا مخدوم صاحب نے بھی اس طرح کا بیان دینے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کی۔  

اس کے بعد خود وزیراعظم عمران خان بھی ان کے خلاف ترش زبان استعمال کرنے لگے، جس میں ذاتیات کا عمل زیادہ تھا۔ صورتحال یہ بنی کہ ملک میں تمام تر  بیانیہ سیاسی ہونے کے بجائے ذاتی ہو گیا۔ اسمبلی ہو یا ٹی وی ٹاک شو، یا جلسہ یا پریس کانفرنس سے خطاب ہو یا سیاسی بیان ہر جگہ پر سیاسی بدکلامی  ہونے لگی۔ 
سندھ میں حکومت  تبدیل کرنے کی کوششوں کے ذریعے بھی ڈریا دھمکایا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کو کاوئنٹر کرنے کے لئے ایم کیو ایم کو میدان میں اتارا گیا۔ایم کیو ایم کے کے پاس وہی انتہا پسندانہ نعرہ تھا، جس پر اسلام آباد کو اعتراض تھا۔
 تحریک انصاف کی جانب سے جارحانہ  سیاسی چال کہ پیپلزپارٹی  کے پاس ایک ہی توڑ تھا وہ یہ کہ ”کاز“ کو اجاگر کرے، وفاقی حکومت کی مختلف پالیسیوں خاص طور پر صوبے کو  این ایف سی کے تحت ملنے والی رقم میں کٹوتی، اٹھارویں ترمیم  وغیرہ کے حوالے سے سندھ کا کیس تیار کر لیا۔ سندھ کو اپنے حصے کے 121 ارب روپے نہیں ملے، اس کو وزیراعلیٰ سندھ نے وفاقی حکومت کی نااہلی قرار دیا تھا۔
وزیرتعلیم سید سرادر علی شاہ نے یہ کہتے رہے کہ وفاق پیسے نہیں دے رہا، لہٰذا خستہ حال اسکولوں کی مرمت وغیرہ ممکن نہیں۔  
گورنر سندھ نے برملا سندھ حکومت سے اختلافات اور  وفاقی حکومت سے اس کی دوری کا ذکر کیا۔ مشیروں  کے تقرر کے معاملے پر اختلافات سامنے آئے۔ 

سندھ اسمبلی کا رواں سیشن مسلسل ہنگامہ آرائی کا شکار رہا۔ ہاتھا پائی بھی ہو گئی۔ حزب مخالف کے مائیک چوہے کھا گئے۔ سندھ اسمبلی میں سندھ حکومت پر کرپشن کا الزام لگایا۔ جوابا سرکاری بنچوں نے وفاقی حکومت پر تنقید کی۔حلیم عادل اور امدا پتافی کے درمیان ہاتھا پائی۔ جس کے بعد اسپیکر کو اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔ پیپلزپارٹی نے سندھ اسمبلی میں جارحانہ رویہ برقرار  رکھا۔
اچانک ایک تبدیلی آگئی۔ تحریک انصاف کو ہی پیچھے ہٹنا پڑا اور بلاول کو”ناقص لیڈر“کہنے پر پی ٹی آئی کے رہنما فردوس شمیم نے معافی مانگ لی۔ اس سیشن کے دوران ہفتے کے آخری روز  یہ ہوا کہ پیپلزپارٹی کی رہنمافریال تالپور کی سالگرہ پر سندھ اسمبلی  میں اپوزیشن لیڈر نے اجلاس شروع ہوتے ہی مبارکباد دی۔فریال تالپور نے کہا کہ اگر یہ ماحول جاری رہا توبہتر فضا میں اسمبلی کی کارروائی چلے گی۔سندھ اسمبلی میں آصف علی زرداری کی ہمشیرہ اور رکن سندھ اسمبلی فریال تالپور کی سالگرہ منائی گئی جس میں اپوزیشن کے اراکین اسمبلی نے بھی شرکت کی۔ فریال تالپور کو تین دن بعد تفتیش کے لئے نیب اسلام آباد کے سامنے پیش ہونا تھا۔
پریس اور مہمانوں کی گیلریوں میں بیٹھے لوگوں کو عجیب سا لگا کہ جن کو ڈاکو اور لٹیرے کہا جارہا، کرپشن کے الزام میں مقدمات چلانے اور سزائیں دینے کی بات کی جارہی ہے، ان کو اچانک سالگرہ کی مبارکبادیں دی جارہی تھی۔  واضح رہے کہ رواں اجلاس میں دس روز پہلے سندھ اسمبلی وزیراعظم عمران خان ا کے خلاف قراردادیں منظور کر چکی ہے۔  
 ایک روز قبل سندھ کابینہ نے فیصلہ کیا کہ اب کسی مشیر یا خصوصی معاون کے تقرر کے لئے گورنر سندھ کی منظوری ضروری نہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ جیکب آباد سے تعلق رکھنے والے پارٹی رہنما اعجاز جکھرانی کو مشیر بنانا چاہ رہے تھے لیکن گورنر سندھ نے ان کا تقرر اپنے ایک مشیر کے تقرر سے مشروط کردیاتھا۔
سنیچر کے روزوزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے اپنی کابینہ کی ٹیم کے ساتھ گورنر ہاؤس  جا کر گورنر سندھ عمران اسماعیل سے ملاقات کی۔ اس موقعہ پر سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور تحریک انصاف کے رہنمافردوس شمیم نقوی اور علیم عادل شیخ بھی موجود تھے۔ 
وزیر اعلیٰ سندھ اور گورنر سندھ کی ملاقات  والے روز دو اہم واقعات ہوئے۔ ایک یہ کہ بنیادی حقوق کے حوالے سے اسلام آباد میں منعقدہ ڈائیلاگ میں فوجی عدالتوں کی مدت میں اضافے اٹھارویں ترمیم  کے خاتمے اور این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی کو نامنظور کر کے اس کی مزاحمت کا فیصلہ کیا گیا۔اسی روز ایم کیو ایم نے کراچی میں جلسہ کیا، جس کا اعلان دو ہفتے پہلے کیا گیا تھا۔ جلسے میں ایم کیو ایم نے کراچی کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کردیا۔ 
میڈیا کے ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں سندھ کی صورتحال، سندھ اسمبلی میں جاری کشیدگی،  وفاقی حکومت کی فنڈنگ سے سندھ میں جاری منصوبوں، اور وفاق سے سندھ کو ملنے والی رقومات  میں کٹوتی کے معاملات زیر غور آئے۔ ملاقات میں گورنر اور  وزیراعلیٰ کے درمیان ورکنگ رلیشن شپ قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ سندھ حکومت اور گورنر کے درمیان کچھ عرصے سے رابطے ختم  ہو گئے تھے۔ 
بہت سے سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ اچانک برف کیسے پگھلی؟سندھ میں نے ٰ ڈجی رینجرز کی تقرری حسن اتفاق ہے۔کیاپنجاب میں حکمران جماعت کے اندر اختلافات نے وفاق کی  حکمران جماعت کو اس طرف دھکیل دیا کہ دوسرے بڑے صوبے میں عدم استحکام کی صورت پیدا نہ کرے۔؟  
معتبر ذرائع کے مطابق  اعلیٰ سطح پر دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان رابطوں کے بعد گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ کے درمیان ملاقات ہوئی۔پیپلزپارٹی کا یہ موقف تھا کہ سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی بلاوجہ کشیدگی پیدا کی ہے جس سے نہ پی ٹی آئی کو کوئی فائدہ ہے اور نہ پیپلزپارٹی کو۔ گورنر اور وزیراعلیٰ کے درمیان رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے  ہیں۔ 
اطلاعات  کے مطابق  یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اسمبلی میں دنوں جماعتوں کے اراکین  ایکد وسرے کے خلاف غیر پارلیمانی زبان استعمال نہیں کریں گی۔ گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ سندھ کی سربراہی میں ایک کور کمیٹی تشکیل دی گئی، جو اختلافی معاملات نمٹائے گی۔ 
 پیپلزپارٹی گزشتہ روز بلاول بھٹو کے خلاف بدزبانی  پر مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔وزیراعلیٰ سندھ نے چیئرمین سینیٹ سے مالاقات میں بھی مالی معاملات اٹھائے۔ گاج ڈیم منصوبہ مکمل نہ ہونے پر وفاق کو ذمہ دار ورار دیا اور کہا کہ اس کی وجہ سے  ڈیم کی لاگت اڑتالیس ارب روپے سے بڑھ کر ساٹھ ارب روپے ہو گئی ہے۔ انڈس ہائی وے کو ڈبل کیریج کرنے کے لئے سندھ حکومت  وفاق کو پہلے ہی ساتھ ارب روپے واپس کر چکی ہے۔ لگتا ہے کہ حالیہ مفاہمت  میں کوئی ثالث یا ضامن نہیں ہے۔ پیپلزپارٹی سندھ میں یہ مہم کسی حد تک ابھی بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ اتحاد اور اس کے ساتھ ساتھ جدوجہد جاری رکھنے کے فارمولے پر عمل کر رہی ہے۔