Sunday, August 1, 2021

بھٹو خاندان کی آخری ری یونین اور شاہنواز بھٹو کی پراسرار موت

 Shahnawaz Bhutto , <> Last Re-union of Bhuttos <>

By Sohail Sangi 

For BBC Urdu


 

شاہنواز بھٹو

 سہیل سانگی

یہ بھٹو خاندان کی آخری ری یونین تھی، جس میں کنبے کے تمام افراد شریک ہوئے۔ بھٹو خاندان کی چھٹیاں اور پکنک اس وقت ماتم میں تبدیل ہو گئیں جب انہیں بھٹو کے سب سے چھوٹے بیٹے شاہنواز بھٹو کی موت کی خبر ملی۔ خاندان فرانس کے تفریحی مقام کینز میں میں فیملی ری یونین کے لئے اکٹھا ہوا تھا۔

 1979 میں ذوالفقارعلی بھٹو کی پھانسی کے بعد بھٹو خواتین - بیگم نصرت اور بے نظیر کی طویل قید اور نصرت بھٹو کی بیماری کی وجہ سے اس خاندان پر المیہ بدستور منڈلاتا رہا۔ اب چھبیس سالہ شاہنواز بھٹوکی پراسرار موت نے انہیں ایک اور المیے سے دوچار کردیا۔

جب 5 جولائی 1977 کو فوجی بغاوت کے ذریعے ذوالفقارعلی بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹا گیا تب شاہنواز بیرون ملک زیر تعلیم تھے، ان دنوں وہ چھٹی پر پاکستان آئے ہوئے تھے لیکن والدین کی ہدایت پر اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لئے واپس سوئزرلینڈ چلے گئے۔

 

بھٹو کو 18 مارچ 1978 کو لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے سزائے موت سنائی تو شاہنواز والد کی جان بچانے کے لئے بین الاقوامی مہم میں اپنے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کی مدد کرنے  کے لئےلندن پہنچے۔

سیاسی اور عسکری جدوجہد

 5 جولائی 1977 کو جنرل ضیا نے بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ بھٹو کو گرفتار کرکے گھر میں نظربند کردیا گیا۔ اس وقت شاہ اور بینظیر پاکستان میں تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور بینظیر بھٹو کے مرکزی ترجمان بشیر ریاض نے بتایا کہ نصرت نے پیپلز پارٹی کی باگ ڈور سنبھالی تو پارٹی کارکنوں کے حوصلے بلند کرنے کے لئے بینظیر اور شاہ کو لاہور بھیج دیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب شاہ نے سیاسی تقریر کی۔ تب عام طور پر پنجاب اور خاص طور پرلاہور پیپلز پارٹی کے انتخابی کارکردگی کا مرکز تھے۔

راجا انور کے مطابق بیگم نصرت نے مرتضیٰ اور شاہ سے کہا کہ وہ بھٹو کی رہائی کے لئے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کے لئے برطانیہ جائیں۔ نصرت اور بینظیر دونوں ہی پاکستان میں رہیں بعد میں لندن میں مرتضیٰ اور شاہ نے ضیا مخالف ریلیوں کی قیادت کی۔

مرتضیٰ والد کے پھانسی کے بعد غصے میں آگئے۔ والدہ اور بہن پاکستان میں جیل میں قید تھیں، مرتضیٰ نے طاقت کے ذریعے ضیا حکومت کو گرانے کا فیصلہ کیا اور شاہ نے اپنے بڑے بھائی کی قیادت قبول کی جس کے بعد وہ مرتضی کے ہمراہ بیروت گیا جہاں فلسطینی عسکریت پسندوں کے ایک گروپ نے دونوں کو گوریلا جنگ میں کریش کورس کرایا۔ اس وقت بیروت خانہ جنگی کی لپیٹ میں تھا۔

ان دنوں پاکستان میں الذوالفقار سرگرم عمل تھی، شاہنواز اور مرتضیٰ  کو مسلح کارروایاں کرنے والی تنظیم الذوالفقار کی وجہ سے ہمیشہ پر اسرار اور چھپی ہوئی دھمکی کا سامنا رہا۔ مرتضیٰ اس تنظیم کے چیف مانے جاتے تھے۔

بھٹو کے کئی بین الاقوامی رہنماؤں سے ذاتی تعلقات تھے۔ جب ایران میں انقلاب کے بعد امام خمینی اور ان کے پیروکار برسر اقتدار آئے تو شاہنواز نے نئی ایرانی حکومت سے رابطہ کیا اور کچھ ہی عرصے میں امام خمینی کے ساتھ ملاقات کا انتظام کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

دونوں بھائیوں کو بطور مہمان ایران آنے کی دعوت دی گئی تھی۔ انہوں نے قم میں امام خمینی سے ملاقات کی۔ انہوں نے انہیں یقین دلایا کہ ان کے والد کی زندگی بچانے کی کوشش کریں گے۔

اسلحہ و فنڈز  کا حصول

والد کو سزائے موت ملنے کے بعد مرتضی اور شاہنواز کی طرز زندگی میں ایک ڈرامائی تبدیلی آئی- یہ ہارورڈ اور آکسفورڈ کے علمی  کام سے گوریلا نیٹ ورک کی رہنمائی کرنے تک کا سفر ہے۔ انہوں نے شمالی افریقہ اور مشرق وسطی، مغربی یورپ کی ایک دارالحکومت سے دوسری دارالحکومت تک کا سفر کیا۔ اکثر اپنے مرحوم والد کے کاشت کئے ہوئے روابط کو استعمال کیا، تاکہ ان کی تنظیم کے لئے فنڈز اور اسلحہ اکٹھا کرسکیں۔

دونوں بھائیوں نے افغان وزارت خارجہ سے متعلق ایک اہلکار کی بیٹیوں سے شادی کی ۔ بعض اوقات طرابلس یا دمشق، پیرس یا لندن اورایک بار بمبئی بھی گئے۔

برسوں بعد بھٹو خاندان کی ری یونین

شاہنواز بھٹو، اپنی اہلیہ ریحانہ اور تین سالہ بیٹی سسئی کے ساتھ، چند روز قبل ہی پارٹمنٹ میں منتقل ہوئے تھے۔ جبکہ ان کی والدہ نصرت فرانس کے جنوب میں زیرعلاج تھیں، بھٹو خاندان نے ہمسایہ نائس میں اپارٹمنٹ لے رکھے تھے۔ بینظیر رہائی کے بعد لندن میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہی تھی۔ خاندان کی ری یونین کے لئے مرتضیٰ بھٹو دمشق سے اور صنم بھٹو لندن سے اپنے شوہر ناصر حسین کے ساتھ  فرانس آئی تھیں ۔ رات کو دیر تک خاندان کے افراد گھومتے اور گپ شپ کرتے رہے۔

شاہ کا جسم ٹھنڈا ہے

اگلی صبح شاہنواز کی اہلیہ ریحانہ نے بیگم نصرت بھٹو کو اطلاع دی کہ شاہنواز کا انتقال ہوگیا ہے۔ بینظیر بھٹو کا کہنا ہے کہ انہیں صنم نے بتایا کہ شاہنواز کو کچھ ہو گیا ہے۔

 بینظیر بھٹو نے اپنی آپ بیتی کی کتاب "مشرق کی بیٹی" میں واقعہ کو یوں بیان کیا ہے: صنم بیڈ روم میں چلی گئی۔ "جلدی سے! ہمیں جانا ہے جلدی" اپنا بچہ میرے حوالے کرتے ہوئے اس نے کہا۔

"ریحانہ کہتی ہے گوگی نے کچھ کھا لیا ہے" صنم نے کہا۔

میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔"کیا وہ بیمار ہے؟ کیا یہ سنجیدہ ہے؟" ہال سے جلدی جلدی میں نے فون کیا۔

 فون پر ہنگامی نمبر میں نے ڈائل کیا اور فرانسیسی زبان میں ریکارڈنگ آرہی تھی۔

"ماں ، تم مجھ سے زیادہ فرانسیسی جانتے ہو۔ اگر ہمیں پولیس نہیں مل سکتی ہے تو، ہسپتال، "میں نے تیزی سے کہا۔

بینظیر لکھتی ہیں کہ  جب امی تیسرااسپتال ڈائل کر رہی تھی، اتنے میں میر (مرتضیٰ) اندر آیا۔ وہ ٹوٹا ہوا لگ رہا تھا۔ خاموشی سے کہہ رہا تھا میں نے دیکھا۔"اس کا انتقال ہو گیا ہے" یہ الفاظ ان کے منہ پرتھے۔

"نہیں!" میں چلائی. امی کے ہاتھ سے فون گر گیا۔

"یہ سچ ہے ماں" میر نے اذیت بھری سرگوشی کی۔ "میں نے مردے دیکھے ہیں۔ شاہ کا جسم ٹھنڈا ہے۔"

اس نے زہر لیا

بینظیر نے شاہنواز کے فلیٹ پر پہنچنے کے بعد وہاں کی صورتحال بھی بتائی ہے۔"شاہ نواز کافی ٹیبل کے پاس کمرے میں قالین پر پڑا تھا۔۔

"اس نے ابھی تک گزشتہ رات والی سفید پتلون پہنی ہوئی تھی ۔اس کاہاتھ پھیلا ہوا تھا۔ایسالگ رہا تھا کہ وہ سو رہا ہے۔

"گوگی!" میں نے چلا کراسے جگانے کی کوشش کی۔ لیکن پھر میں نے اس کی ناک دیکھی۔ جو چاک کی سفیدہوگئی تھی.

"میں نے کمرے کے آس پاس دیکھا۔ کافی ٹیبل ٹیڑھی ہو گئی تھی۔ ایک طشتری میں بھوری رنگ کا مائع ساتھ والی میز پر نظر آرہا تھا۔ کشن آدھے صوفے سے دور تھا اور پھولوں کا گلدان گر گیا تھا۔ میری نگاہیں اس کی میز پر اٹھیں۔ چمڑے کی فائل کا فولڈر موجود نہیں تھا۔ ۔۔میں نے ٹیریس پر نظر ڈالی۔ اس کے کاغذات وہاں پڑے تھے۔ فولڈر کھلا ہواتھا۔

"بہت بڑی گڑبڑ ہوگئی تھی۔اس کا جسم ٹھنڈا تھا۔ خدا جانے کتناوقت شاہ وہاں زندگی اور موت کی کشمکش میں رہاتھا۔کسی کو الرٹ نہیں کیا گیا تھا۔ اور کسی کے پاس وقت نہیں تھا کہ ان کے کاغذات کے ذریعے جانتا۔

"ریحانہ اس کے ہونٹ ہلے۔ میں نہیں سن سکی وہ کیا کہہ رہی تھی۔

"زہر"، اس کی بہن فوزیہ نے کہا:"اس نے زہر لیا۔ 

 فاطمہ  بھٹو

مرتضیٰ  کی بیٹی فاطمہ  بھٹو اپنی کتاب گانے، خون اور تلوار" نے اس رات کے واقعہ کو یوں بیان کیا ہے۔

"جب ریحانہ اور شاہنواز ایونیو ڈی روئی البرٹ پہنچے تو وہ دونوں ناراض ہوگئے ، راستے میں ان کے دلائل ہو گئے۔

شاہ ایک کیسینو جانا چاہتا تھا اور ریحانہ گو گو نائٹ کلب جانا چاہتی تھی۔ جب وہ اپارٹمنٹ بلاک کی لابی میں پہنچے تب معاملہ خاصا خراب ہوچکا تھا۔ پاپا (مرتضیٰ) نے پوچھا کیا معاملہ ہے؟ اور ریحانہ نے اسے اپنے کام سے کام رکھنے کو کہا۔

"مرتضیٰ  نے غصے کا ردعمل ظاہر کیا اور توقع کی کہ شاہ اپنی بیوی کو پرٹھنڈا کرنے کے لئے قدم اٹھائے گا۔ لیکن اس وقت میرے والد اور ریحانہ کے مابین  تیزالفاظ کا تبادلہ ہو رہا تھا اور شاہ درمیان میں پھنس گئے۔ ریحانہ نے میرے والد اور اس کی بہن (فوزیہ) سے کہا کہ اپنا سامان بیگ میں  پیک کرو میرے گھر سے نکل جائو۔ پاپا نے ناراض ہو کرقسم کھائی، اس کی توہین کی گئی تھی۔ وہ ہماری چیزیں پیک کرنے لگے۔ مجھے یہ جھگڑا یاد ہے، میری خواہش تھی کہ سب لوگ چیخنا بند کردیں۔ کچھ ہی منٹوں میں ہم جونم کے فلیٹ پر چلے گئے۔

18 اگست کی سہ پہر پونے دو بجے ریحانہ نے دروازے کی گھنٹی بجی۔ وہ بہت تکلیف میں تھیں اور ابتدا میں پاپا اس کا آنے کی اجازت دینے کے موڈ میں نہیں تھے۔ جونم نے دیکھا کہ کچھ گڑبڑ ہے اور مرتضی سے کہا کہ  اس سے بات کرے۔ 'کچھ گڑبڑہے' ریحانہ نے انہیں بتایا۔

جونم نے فورا پولیس کو بلایا اور شاہ کے اپارٹمنٹ کا پتہ دیا۔ اس کے بعد یہ سب لوگ شاہنواز کے فلیٹ کے لئے روانہ ہوئے۔

فاطمہ بھٹومزید لکھتی ہیں کہ " جب وہ اپارٹمنٹ میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ شاہ کی لاش صوفے اور کافی ٹیبل کے بیچ کمرے کے فرش پراوندھے منہ پڑی تھی۔ مرتضیٰ بعد میں کہتا تھا کہ مجھے معلوم تھا کہ وہ مر گیا تھا۔

"شاہ کے سینے پر نیلے رنگ کے نشانات ہیں اس کا چہرہ پہلے ہی نیلا اور  سیاہ ہونا شروع ہوگیا تھا۔ مرتضی کو زہرکا شبہ ہوا۔ اور اپارٹمنٹ میں تلاش شروع کردی۔ ایک سال قبل ان بھائیوں کو زہر کی چھوٹی سی شیشیں دی گئیں تھیں کہ اگر وہ کبھی ضیاء کے حکام  کے ہاتھوں گرفتارہو جائیں تو استعمال کرلیں۔

"ایک ڈاکٹر کچن میں کھڑا تھا جب مرتضیٰ نے کچرے کا ٹوکرہ کھولا تو اسے کئی ٹشووں کے نیچے شیشے کی ایک چھوٹی سی بوتل ملی جس پر پینٹراکسائڈ کا لیبل لکھا ہوا تھا۔ اس نے بوتل ڈاکٹر کے حوالے کی اور پولیس کو اس کی اطلاع دی۔

"اس نے پولیس کوبتایا کہ شاہ چار قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں۔ اور یہ ممکن تھا کوئی فلیٹ میں گھس آیا ہو۔

"شاہنواز کی لاش پولیس کے اٹھانے سے پہلے مرتضی ماں کو مطلع کرنا چاہتا تھا ، لہذا وہ نصرت کو لینے چلا گیا۔"

اس واقع کے مشتبہ ہونے کے بعد طویل تحقیقات کا سلسلہ شروع ہوگیا، جو بھٹو خاندان کے لئے مزید اذیت کا باعث بھی بنا۔

پاکستان کے آمر جنرل ضیاء الحق نے پاکستانی میڈیا کو نشہ اور شراب کے استعمال کی وجہ سے شاہنواز بھٹو کی موت کی تصویر کشی کرنے پر مجبور کیا۔

لاش ملنے کے بعد ، کینز میں واقع "بریگیڈ کریمنل" کی فرانسیسی تفتیشی ٹیم تیزی سے حرکت میں آگئی۔ پہلی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ کسی فائول پلے' کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

تاہم ، پولیس نے شاہنواز کے جسم کی جانچ پڑتال کے لئے مقرر کردہ ڈاکٹر رینی گیگلیہ نے موت کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے انکار کردیا۔ یوں ایک مشکل صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے بعد گراس میں سرکاری وکیل کے دفتر نے شاہنواز کی لاش کا پوسٹ مارٹم کا حکم دیا۔

کیس کی تفتیش کرنے والے کینز کے پرنسپل کمشنر نے بھی تحقیقات مکمل ہونے تک کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔ کمشنر، پولیس کے اعلی افسران کی ٹیم کے تعاون سے شاہنواز کی اہلیہ اور کنبہ کے دیگر افراد سے تفتیش میں مصروف رہی۔

 موت سے متعلق سازشی نظریے

شاہنواز کی ہلاکت سے متعلق طرح طرح کی تھیوریز صرف فرانس میں ہی نہیں بلکہ پاکستان اور اس سے متعلق ممالک میں گردش کر رہی تھی،

کہا گیا کہ ان کی لاش کے قریب ایک خالی شیشی ملی ہے، جس میں شاید زہر تھا۔ سب سے زیادہ اس تھیوری نے زور پکڑا شاہنواز کو کسی نے زہر دیا ہے۔

 اس قیاس آرائی کے مطابق  شاہنواز ، اور ان کے بھائی مرتضیٰ ، پاکستان حکومت کے ایجنٹوں کے ذریعہ انھیں اغوا کیے جانے کی صورت میں تشدد سے بچنے کے لئے ہمیشہ زہر کی گولی اپنے ساتھ رکھتے تھے۔

تین مختلف تھیوریز میں شاہنواز کی والدہ نصرت بھٹو، اس کے بھائی مرتضیٰ اور ان کی اہلیہ ریحانہ کے ساتھ مبینہ اختلافات کی بات کی گئی۔

پہلی تھیوری کے مطابق  بیگم نصرت ناخوش تھیں کہ انہوں نے ایک افغان اہلکار کی بیٹی سے شادی کی ہے جبکہ ذاتی طور پر وہ ایرانی نسل کی لڑکی کو ترجیح دیتی تھی۔

مرتضیٰ کے ساتھ الذولفقار تنظیم کی حکمت عملی کے بارے میں دوسرا متضاد یا اختلافات گنوایا گیا۔

تیسری تھیوری موت کے موقع پر بیوی سے جھگڑے سے متعلق ہے۔ کہا گیا کہ ان کی اہلیہ ڈانس کلب جانا چاہتی تھی جب کہ شاہنواز نے کیسینو کو ترجیح دی۔ لیکن یہ بات اتنی بڑی نہیں لگتی کہ اس اختلاف پر شاہنواز کو زہر دیا گیا ہو۔

زہر خوری کی تھیوریز میں بھی متعدد اور متضاد سوالات ہیں: اگر یہ خود کشی نہ تھی۔تو کوئی دوسرا شخص ان کوموت کے کیپسول کھانے پر مجبور نہیں کرسکتا تھا کیونکہ شاہنواز کراٹے کا ماہر تھا۔

رقم کے معاملے پر بحث اور ہاتھا پائی ہوئی؟

جمشید مارکر ، جو فرانس میں پاکستان کے سفیر تھے، اپنی یاداشتوں " خاموش سفارتکاری" میں لکھتے ہیں کہ " شاہنواز کی موت کی اطلاع ملنے کے بعد انہوں نے ڈی گراساؤ کے ذریعے معلومات کٹھی کی۔ (ڈی گراساؤ فرانسیسی سیاستدان تھے جو کہ سلامتی امور کو دیکھتے تھے) تقریبا چھ ہفتے بعد ڈی گراساؤ نے حتمی رپورٹ دی کہ نائیس کے ایل ریستوران میں بھٹو خاندان کے قریبی افراد بشمول بیگم نصرت ، بینظیر، صنم، مرتضیٰ، اور شاہنواز اپنی بیگمات کے ساتھ  ڈنر کے لئے اکٹھے ہوئے۔

وہاں رقم کے معاملے پر گرما گرم بحث ہوئی۔ اور دونوں بھائیوں میں ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ اس کے بعد پارٹی ختم ہوگئی۔ شاہنوازاور ان کی بیگم اپنے ہوٹل کے کمرے میں چلے گئے۔ تو مرتضیٰ ان کے پیچھے گئے۔ اور دونوں بھائیوں کے درمیان دوبارہ تو تو میں میں ہوئی۔ "

صحافی اوون بینیٹ جونز گزشتہ سال شایع ہونے والی اپنی کتاب "بھٹو خاندان " میں جمشید مارکر کے موقف سے اتفاق نہیں کرتے وہ لکھتے ہیں کہ بہرحال جمشید مارکر ضیا حکومت کے سفیر تھے۔جن کا بھٹو خاندان کے ساتھ  مخالفت کاریکارڈ موجود ہے۔

موت واضح طور پر ایک قتل ہے

ان تمام مختلف خیالات کو پاکستان پیپلز پارٹی اور بینظیر بھٹو کے مرکزی ترجمان بشیر ریاض نے "بے ہودہ" اور "بکواس" قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔ ایک بھارتی اخبار کو بتایا تھا کہ ظاہر ہے کہ یہ تمام افواہیں اور قیاس آرائیاں جان بوجھ کر پریس کو کھلائی جارہی ہیں۔ اس میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ شاہنواز بھٹو کے خاندان کسی فرد کے ساتھ اتنے بڑے اختلافات ہوں۔ ان کی موت کی رات وہ عمدہ جذبات میں تھا اور اسے خودکشی کا موڈ قرار نہیں دیا جاسکتا تھا۔ اس کی موت واضح طور پر ایک قتل ہے۔ "

 بشیر ریاض نے پاکستانی ایجنٹوں کے ذریعہ بھٹو بھائیوں پر قتل کی دو پچھلی کوششوں کا ذکر کیا ، جن میں سے ایک 1981 میں پاکستانی پریس میں اس وقت بڑے پیمانے پر عام ہوئی جب خبر ملی کہ شاہنواز کو کابل میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔

خاندان کا شاہنواز کی بیوی پر شبہ

مرتضیٰ اور بے نظیر کو یقین تھا کہ انہیں زہر دیا گیا، شاید ان کی بیوی کے ذریعہ، ان کا خیال تھا کہ اس نے ضیا کی ایجنسیوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر لیا تھا۔

پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آنے تک بھٹو خاندان کے افراد خاموشی اختیار کئے ہوئے تھے۔ فرانسیسی حکام کو اب احساس ہورہا تھا کہ ان کے ہاتھوں میں دور رس نتائج مرتب کرنے والا کیس ہے۔

بشیر ریاض نے اس ذریعہ کی شناخت جاننے کا مطالبہ کیا جو یہ کہانیاں اگا رہے تھے اور آگے بڑھا رہے تھے۔ اگرچہ بھٹو خاندان کے قریبی ذرائع نے پاکستان حکومت پر شاہنواز کی ہلاکت میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا لیکن یہاں پھر کسی ٹھوس ثبوت کے لئے گہری تشویش کی ضرورت تھی۔

غیرملکی میڈیا نے یہ خبر بھی دی کہ ایک پاکستانی انٹیلی جنس اہلکار شاہنواز کی ہلاکت کے ایک دن بعد کینز دیکھا گیا تھا۔

پاکستان میں رد عمل سے بچنے کے لیے گرفتاریاں

نہ صرف سندھ بلکہ پورے ملک میں ہمدردی کی لہر کی متعدد اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ لندن میں پیپلز پارٹی کے ہیڈ کوارٹر کو تعزیت کی کالوں کے ذریعے تانتا بندھ گیا۔

بڑھتی ہوئی ہمدردی نے صدر ضیا کو بھی مجبور کردیا، انہوں نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ایک موقع پر کہا کہ وہ بھٹو خاندان کے اس دکھ میں شریک ہیں۔ لیکن انہیں خوف تھا کہ بے نظیر کی جلاوطنی سے واپسی ایک تیز سیاسی تحریک میں تبدیل ہوسکتی ہے ۔لہٰذا پاکستان میں گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

بینظیر کا لاش لیکر جانے کا فیصلہ

جیسے ہی فرانسیسی تفتیشی ٹیم نے لاش ورثاء کے حوالے کی، بینظیرنے اپنی چھوٹی بہن صنم بھٹو اور ان کے قریبی ساتھیوں کے ہمراہ پاکستان جانے کا اعلان کیا۔ وہ تدفین کے لئے سندھ کے شہرلاڑکانہ میں بھٹو کے آبائی گھر گڑھی خدابخش جائیں گی۔

وطن واپسی کی صورت میں بینظیر کی دوبارہ گرفتاری یقینی سمجھی جارہی تھی۔ ان کی واپسی کا فلپائنی حزب اختلاف کی رہنما بینیگو ایکنو کے ساتھ موازنہ کیا جا رہا تھا۔ جنہیں جلاوطنی سےوطن واپسی پر گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔

نوجوان بھٹو کی میت ورثاء کے حوالے کرنے میں فرانس کی طرف سے طویل تاخیر نے پاکستان میں فوری جذباتی لمحے کو ٹھنڈہ کردیا ۔ اس تاخیر نے ضیا حکومت کو وطن واپسی کے لئے منصوبہ بندی کرنے اور دیگر سیاسی رہنماؤں کے ساتھ بینظیر بھٹو کے رابطے کو محدود کرنے کا وقت بھی دیا۔

لاس اینجلز ٹائیمز کی بیس اگست  1985 کے شمارے میں رونے ٹیمپسٹ نے میڈیا ایک مغربی سفارتی ذریعہ کا حوالہ دیا کہ: "اگر میت واقعہ کے ایک ہفتہ بعد وطن لائی  جاتی تو زیادہ بڑا جذباتی ردعمل ہوتا۔ بہت سارے لوگ تھے جنہوں نے کنبے کے لئے ہمدردی محسوس کی، لیکن تاخیر نے اس جذبات کی شدت کو ایک حد تک کم کیا۔

لاش کا گھیراؤ اور بینظیر کی اشکباری

بالاخر جنرل ضیا حکومت نے خاندان کے قبرستان میں تدفین کے لئے بینظیربھٹو کو بھائی کی میت لانے کی اجازت دے دی۔

ہوائی اڈے پر بہت سارے بین الاقوامی پریس کے صحافی موجود تھے۔ بشیر ریاض بتاتے ہیں کہ جب بینظیرنے ان سے بات کی تو وہ  زارو قطاررو رہی تھیں ۔ ان کے آنسو بہہ رہے تھے کہ وہ اپنے بھائی کو پھر کبھی نہیں دیکھ سکیں گی۔ اس کا چہرہ اس کے اندرونی احساسات اور اس کے ٹوٹے ہوئے دل کو ظاہر کرتا ہے۔

بشیر ریاض کے مطابق ہم 22 اگست کی صبح تقریبا آٹھ بجے کراچی ایئرپورٹ پہنچے۔ ہوائی اڈہ افسردگی سے گھرا ہوا تھا۔ سنگاپور ایئر لائن کی پرواز کو مسلح کمانڈوز نے گھیر لیا۔ اسی اثنا میں ، شاہنواز کی لاش کو فوکر طیارے میں منتقل کیا گیا ، جس کی منزل لاڑکانہ تھی، جس پر پیپلزپارٹی کے جھنڈے اور گلاب لگے ہوئےتھے۔

ہزاروں افراد سفر کی پابندی کے باوجود موہن جودڑو ایئرپورٹ پر جمع ہوگئے۔ چاروں طرف لوگوں کی ایک بڑی تعداد دیکھی جا سکتی تھی۔ 

شاہنواز کی میت کو آخری غسل دیا گیا اور پھر جنازہ لاڑکانہ اسٹڈیم میں لایا گیا۔ اس کے بعد ان کی لاش کو گڑھی خدا بخش لے جایا گیا اور انہیں پیپلز پارٹی کے جھنڈے میں سپرد خاک کردیا گیا۔

شاہنواز کی موت صرف میرا ذاتی نقصان نہیں

بشیر ریاض کے مطابق بہت ہی مشکل سے بینظیر بھٹو نے ہزاروں لوگوں سے خطاب کیا جو ان کا غم بانٹنے کے لئے پاکستان  بھرسے آئے تھے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا، "پاکستانی عوام کا درد میرا درد ہے۔ شاہنواز کی موت صرف میرا ذاتی نقصان نہیں ہے ۔

اس خطاب کے بعد ایک غیر ملکی صحافی نے بینظیر سے پوچھا "آپ کیوں کہتے ہیں شاہنوازکی موت پراسرار ہے؟ انہوں نے صحافی سے پوچھا: "کیا آپ شاہنواز کی موت کی وجہ جانتے ہیں؟" نہیں ، اس نے جواب دیا۔ بینظیر نے کہا ، "اسی وجہ سے میں کہتی ہوں کہ میرا بھائی پراسرار حالات میں مر گیا۔ 18 جولائی سے لے کر اب تک بہت ساری تحقیقات کی جاچکی ہیں لیکن ہمیں کوئی اطلاع نہیں ملی۔ ان حالات میں اگر ہم شاہنواز کی موت کو پراسرار نہیں کہیں تو پھر آپ بتائیں کہ مجھے اسے کیا کہنا چاہئے۔

شاہنواز کی موت کے خاندان پر اثرات

شاہنواز کی اچانک موت بھٹو خاندان کے لئے ایک بڑا صدمہ تھا۔ میر مرتضیٰ بھٹو نے فوری طور پر اپنی بیوی فوزیہ کو اس شبے سے طلاق دے دی کہ اس کی بہن ریحانہ کا بھائی کی موت میں مبینہ ہاتھ ہے۔

 شاہنواز اور مرتضی نے دو افغان بہنوں سے شادی کی تھی، مرتضیٰ کی بیٹی فاطمہ بھٹو کی اس وقت عمر تین سال تھی بعد میں مرتضیٰ نے غنویٰ بھٹو سے شادی کی۔

شاہنواز کی موت بیگم نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو کے لیے ایک اور بڑا صدمہ تھا آخری اوالاد ہونے کی وجہ سے وہ والدہ کے قریب تھے، بینظیر بھٹو اپنی سوانح عمری میں لکھتی ہیں کہ شاہ بہن بھائیوں کے بہت قریب تھے  اور جب وہ سب بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے گئے، تو وہ افسردہ اور مایوس ہوگئے تھے۔

بعد کے دنوں میں جب مرتضیٰ بھٹو نے پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کیا تو بینظیر بھٹو انہیں روکتی رہیں ان کے قریبی ساتھیوں کے مطابق وہ خوفزدہ تھیں کہ انہیں کچھ نے ہوجائے۔

راجا انور نے اپنی کتاب میں لکھتےہیں کہ شاہ اکثر مرتضیٰ سے دوسرے الذوالفقارکے عسکریت پسندوں کے ساتھ اسے پاکستان بھیجنے کو کہتے تھے ، لیکن مرتضیٰ نے ہمیشہ انکار کرتے تھے۔ اسے یقین تھا کہ شاہ کو یقینا گرفتار کرلیا جائے گا یا قتل کردیا جائے گا۔

مقدمے کا کیا ہوا؟

دسمبر 1988 کو خبر رسان ایجنسی اے پی نے اطلاع دی کہ فرانس کی ایک عدالت نے وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی بھابھی کو اپنے شوہر کی موت کے الزام میں دو سال قید کی سزا سنائی۔

ریحانہ بھٹو ریاستہائے متحدہ میں مقیم ہیں اور "خطرے میں پڑنے والے شخص کی عدم مدد" کے الزامات کا سامنا کرنے کے لئے وہ خود مقدمے میں پیش نہیں ہوئیں ۔

بینظیر بھٹو لکھتی ہیں کہ نامعلوم افراد کے ذریعہ قتل کے الزام کو برقرار رکھا۔ خودکشی کا بدنما داغ کم از کم شاہ کے نام سے ہٹا دیا گیا تھا۔ عدالت کے فیصلے کے فورابعد ، بی بی سی نے ریحانہ کے وکیل کے بارے میں اطلاع دی کہ ریحانہ نے بھی اب اس بات کو قبول کرلیا ہے شاہ کو قتل کردیا گیا تھا۔

ریحانہ نے اس کے جسم میں زہرپھیلنے کے چند گھنٹوں بعد ہی اس کو اگلے کمرے میں دیکھ لیا تھا۔ ابتدائی تفتیش میں اس نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اس نے اپنے شوہر کو اپنے کمرے میں آہ و بکا کرتے ہوئے سنا لیکن اس نے کوئی توجہ نہیں دی کیونکہ وہ اس سے ناراض تھی۔

فاطمہ بھٹو نے فرانس میں خاندان کے وکیل  جیکوس ورگس کے حوالے  سے شبہ ظاہر کیا ہے کہ معاملے میں امریکہ اور پاکستان کی خفیہ ادارے ملوث ہو سکتے ہیں۔ لیکن اس پہلو پر تحقیقات نہیں کی گئی۔

پولیس کو اس معاملے کی تفتیش کے دوران اسے تقریبا دو ماہ جیل میں بند کیا گیا تھا ، کیونکہ یہ الزامات معمولی تھے ، لہذا اسے رہا کیا گیا تھا تاکہ وہ امریکہ میں اپنے بچے کے ساتھ رہ سکے۔

 

 







 

Memories of Left Politics in Shikarpur

 

Memories of Left Politics in Shikarpur

Paryal Mari

Translated by Shahnilla Fayaz

The Shikarpur city has been the center of literature, commerce, trade and politics. When the Lenin-led Bolshevik revolution in Russia pushed Tsar Shahi, to the defeat, the currency of Tsar Shahi was available here with the Hindu Seths of Shikarpur, who were doing business with European countries including Iran, Turkey and Russia through Dar Bolan. There was also a branch of Bank of India in Shikarpur.

The beauty of Shikarpur a small town was much know across the then India.

Near railway station, in Brohi Colony lived an educated family of Kako Yar Mohammad Brohi and Essa Khan Brohi.

Muhammad Qasim was among the three sons of Kako Yar Muhammad Brohi.

Dr. Muhammad Qasim Brohi received his early education from Shikarpur and intermediate, in 1973 he joined Liaquat Medical College. His first contact was Khari Muhammad Juno then vice president of Sindh National Students Federation a Left students’ organization. From here he started Left-wing politics.

This was the time when hippy culture started in Europe. There was a fashion among college students to have long hair and to wear bell bottoms and also wearing a bandage on head was counted as fashion. Some of them used to sell marijuana or hashish which was often used by youngsters. We also saw Dr. Muhammad Qasim Brohi in this practice. While going to college mostly traveling by train.

My first meeting with Qasim Brohi was at the house of Javed Bhutto, (who later did masters in philosophy, and migrated to US, where he was murdered.)

The Railway Station, Cafe of Ejaz Lakhi Gate, Essa Khan Hotel near Rustam Chowk were main sitting places. Shikarpur was the center of progressive politics and nationalism. PPP workers were also active in politics.

After completing his medical education, Dr. Qasim joined civil hospital Shikarpur as doctor, it was to be one of the biggest hospitals in Sindh where surgeons like Dr. Naik Muhammad Sheikh, Qazi Nabi Bakhsh, Dr. Gulzar Sheikh and Dr. Qayoom Taraz were specialists. Dr. Qasim Brohi availed the opportunity to work and live with them.

He appeared in commission, as a solid comrade had his own comradely thoughts about religion. During viva viva, on a question related to religion he got stuck with the examiner and had to lose his job.

After leaving his job he set up his own private clinic at Brohi Colony near railway station which was very successful and at the same time he started politics regularly. We were all members of the Communist Party- Dr Shams Siddiqui (he did MMBS from Chandka and opened clinic in Shikarpur), Rahim Bux Jafri, Javed Bhutto, Shahid Bhutto, younger brother of Javed Bhutto, and had later founded Voice Group for revolutionary singers, Saeed Anwar Pathan, then a school teacher, Ayaz Abro (now he has opened a book shop in Qasimabad Hyderabad), Aijaz Mangi (now a known columnist– some of them were sympathisers. Communist Party used to publish a monthly underground magazine namely “Surkh Parcham (Red Flag). Shaheed Nazir Abbasi, Professor Jamal Naqvi, Sohail Sangi, Badar Abro, Shabbir Shar and some other comrades were arrested for publishing this communist magazine. Nazir Abbasi was tortured to death during interrogation, while others were tried in the Special Military Court in the case known as Jam Saqi case.

In Shikarpur, there were more than 30 reading members, Dr. Shams Siddiqui and Rahim Bakhsh Jafri’s Otaqs, or Mumtaz Mangi's shop. Mumtaz Mangi is elder brother of Aijaz Mangi, and now doing construction business in Shikarpur. Dr. Muhammad Qasim's Hospital and Javed Bhutto’s house were places of our regular sittings and political discussions.

Comrade Rahim Buksh Jaffery was a representative party on open fronts- working in PNP, ANP or National Progressive Party. Comrade Rahim Buksh always held the post of Central Joint Secretary.

Meanwhile party decided to work on labour front. Dr. Muhammad Qasim Brohi was assigned this job as he was a doctor and a public figure who is generous with regard to the treatment at his hospital. He was associated with the poor and needy people, as well as he was friendly with common people. So under the leadership of Dr. Qasim the Municipal Committee labor union was registered. With Asim Soomro, Lal Hari Lal, along with hundreds of workers launched movement to fight for workers' rights. With help of two friends of Dr. Brohi - Lahoti and Lalo, we succeeded to form Shikarpur Tanga Union and it was also registered.

Peoples' politics seemed to work in a people’s style led by Dr Qasim Brohi, in Shikarpur.
Mumtaz Mangi formed Mechanical Workers Union, likewise some friends of Sindh Watan Dost Party, which was led by Dr Arbab Khuhawar formed a union in Wapda. 
To strengthen Dr. Qasim Brohi’s efforts at municipal union, we used to visit the Christian colony of sanitary staff. We used to have friendship and community based relations with the sanitary workers. We used to have social gatherings and attend marriage ceremonies. 

Once one of our workers from the colony was intoxicated and was on his way to Railway Colony, some friends of Brohi community were sitting at the hotel in Saddar area. Very enthusiastic to see they shouted slogans in favor of Dr. Mohammad Qasim- “Bhangi -Broh Bhai Bhai”.  Brohi Community expressed displeasure on these slogans.

It was decided at the general body meeting of the Municipal workers union that a charter of demands would be presented by the union demands regularisation of work charges workers/employees, action against sexual harassment of women workers and medical facilities for municipal workers.

It was the time of Zia dictatorship. Haji Moula Bakhsh Soomro's special person Seth Abdul Sattar Sheikh was the chairman of the city municipal committee. A complete strike was observed to press the demands and workers and their supporters also observed carried out to protest the hunger strike. Dr. Qasim Brohi was arrested along with other union officials.

To weaken the union, the municipal administration intervened and through Nazir Soomro, the then central in-charge of sanitary section, formed a pocket union in which Vishnu Advocate also played the role to help pocket union

When Comrade Jam Saqi was released from prison, he launched extensive tour of Sindh and held big gatherings at dozens of place across the province. Comrade Ghulam Rasool Sehto was supporter of Jam Saqi. As at that time differences surfaced, and a split known as majority and minority within the Communist Party of Pakistan was seen. Drafts policy documents were under discussion when Jam Saqi with Imdad Chandio and other comrades toured Sindh.

A big public meeting held at Ganesh Park, Lakhi Dar in Shikarpur and a large procession was brought to the venue. Comrade Jam Saqi was then taken to the Christian Colony where the workers including men and women warmly welcomed him. A reception was hosted by the party at the bungalow of Agha Ghulam Nabi Pathan.

In entire arrangements major contribution was of Dr Muhammad Qasim Brohi and his union colleagues. On party decision Dr Qasim contested the LB election in Shikarpur.

Nasarullah Lodhi from PPP and Muhammad Yousuf Sonaro from Soomro group were also in run. PPP was request to withdraw it candidate in favour of Dr Brohi, but request was not positively responded. The result was

Yousuf Sonaro won the election and PPP candidate and Dr Brohi both lost.

Later, Dr Brohi once again joined government job and after hard work he became a psychiatrist. He specialised in this field by further studies and practice and now is known as specialist of mental health.

He spent most of his service time in Sir Cowasjee Mental Health Hospital generally known as Giddu Hospital.

He run clinic regularly in Hyderabad, but on Sunday mornings and the rest of the evenings in Sukkur.

Dr Brohi has recently retired from government job. He has exposure of a number of countries during government job as well as later on.

Now he is serving his hometown in Shikarpur.

Dr Qasim is a silent philanthropist who still treats poor patients free of cost and also provides medicines. He has always been a source of joy, who is true to his profession, so also his political commitment – to serve the people. 

Courtesy Daily Outcome