Saturday, December 28, 2019

سندھ میں ہاری تحریک کا سیاسی اثر


سندھ  میں ہاری تحریک کا سیاسی اثر 
سہیل سانگی  
 یہ مقالہ  اکتوبر 2019 میں منعقدہ تاریخ کانفرنس میں پڑھا گیا۔ 
ایسٹ انڈیا کمپنی نے جب سندھ فتح کیا تب تک برطانیہ میں صنعتی سرمایہ حاوی ہوچکا تھا۔ برطانوی صنعت کار سستے خام مال اور پانی مصنوعات کو بیچنے کی تلاش میں تھے۔ ان مقاصد کے پیش نظر انہوں نے سندھ میں کینال سسٹم رائج کیا۔ نتیجے میں ر بنجر زمینیں زیرکاشت لائی گئیں۔اور فی ایکڑ پیداوار میں بھی اضافہ ہوا۔  سرمایہ کاری اور آبپاشی نظام کی وجہ سے پیداواری ذرائع میں تبدیلی آئی۔ جس کے نتیجے میں نئے طبقات وجود میں آئے۔ زمیندار،سود پر قرضہ،  بے زمین کسان،  اور بیروزگار ہونے والے دستکار۔ 

انگریزیوں نے اپنی گرفت مضبوط رکھنے کئے لئے جاگیرداروں کے ساتھ اتحاد کیا۔ ان کو اقتدار میں بھی حصہ پتی دینا شروع کیا تو اور معاشی پالیسیوں میں بھی ان کا خیال رکھا۔
 کینال سسٹم کے متعارف ہونے اور زرعی اجناس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے  بڑھی ہوئی زرعی پیداوار کے حصے پر زمینداروں اور کسانوں میں جھگڑاشدید ہونے لگا۔ 
 سندھ میں لگان کے نئے نظام کی وجہ سے  زمیندار اور جاگیردار کسان کا حصہ (بٹئی) اپنی مرضی سے تبدیل کرنے لگے۔(احمد سلیم)، لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا ان کے لئے اپنی زمینیں سنبھالنا مشکل ہوتا گیا۔ لہٰذا انہوں نے ٹھیکداری کا نیا نظام مقاطعہ رائج کیا۔ کسانوں کے لئے یہ صورتحال تباہ کن تھی۔ کیونکہ مقاطعیدار ان سے وہ رقم بھی وصول کرتا تھا جو اس نیزمیندار کو ادا کی،  لگان اور اپنا منفع کا حصہ۔ 

آل انڈیا کسان کمیٹی اکتوبر  -36-1935 میں وجود میں آئی۔ اس سے قبل برصغیر میں موجود دو بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ اور انڈین نیشنل کانگریس  میں سے کوئی بھی سیاسی جماعت کسانوں کی بہتری کے لئے کام نہیں کر رہی تھی۔دیکھا جائے تو آل انڈیا کسان سبھا کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا کا ایک فرنٹ تھی۔لیکن اس میں کانگریس، کمیونسٹ اور سوشلسٹ بھی شامل تھے۔  ابتدائی طور پر بہار،  اترپردیش، آندھرا پردیش، ملابار، گجرات، پنجاب اور بنگال میں ہاری تنظیمیں بنیں۔ اس کے بعد 1936 میں کسان سبھا اپنے سرخ جھنڈے کے ساتھ قائم ہوئی۔ تین سال کے اندر اس نے آٹھ لاکھ کسانوں کو منظم کرلیا۔ ان کا نعرہ تھا ”مزدور کسان راج“۔ یہ سیاسی  اظہار تھا۔

 آل انڈیا کسان سبھا  کے قیام کے بعد کانگریس نے بطور سیاسی پارٹی کے کسان سوال پر کام کرنا شروع کیا۔  کانگریس کے بعض لیڈروں کو کسان سبھا کے جھنڈے کا رنگ لال رکھنے پر اعتراض تھا، لیکن بعد میں انہوں نے اس رنگ کو قبول کرلیا۔ کانگریس کو دوسرا اعتراض کسان سبھا کے جنرل سیکریٹری سوامی سہاج آنند کے اس بیانیے پر تھا کہ کسان کارکن اپنے ساتھ ڈنڈا بھی رکھیں۔ کانگریس عدم تشدد کی بات کر رہی تھی۔ اس طرح کے  ملے جلے رجحانات سندھ ہاری کمیٹی میں بھی چلتے رہے۔ 

”جو کھیڑے سو کھائے“  اور جاگیرداری کا خاتمہ سندھ کے ہاریوں کا  صوفی شاہ عنایت شہید کے زمانے سے سدا بہار مطالبہ رہا ہے۔  اضافی زمینیں ضبط کرو، اور زمین کی از سرنو تقسیم کی جانے پر زور دیا جانے لگا، کیونکہ  اس مطالبے پر عمل درآمد کے بغیر دیہی غربت کا کوئی دوسرا حل نہیں۔ سندھ ہاریوں کا کردار اپنے بنیادی حقوق مثلا  مزارعتی حقوق، زمین کی ملکیت اور دیگر مظالم  کے خلاف آواز اہم رہا۔  زمینداروں کے ظلم اور ان کے غیر انسانی حد تک حالات  زندگی  نے ہاری کمیٹی کو جنم دیا۔  ابتدائی طور پر ہاری ایسوسی ایشن بنی، جو ایک سماجی فلاحی لگتی تھی۔ بعد میں اس کا نام  تبدیل کر کے ہاری کمیٹی رکھا گیا، جس سے طبقاتی تنظیم کا اظہار ہوتا ہے۔ 

ہاری تحریک نے سندھ کے عوام کے سیاسی  و سماجی شعور میں اضافہ کیا بلکہ سندھ کے دانشوروں اور متوسط طبقے کو بھی متحرک کیا، یوں کم پڑھا لکھا اور روایتی طورپر غیر منظم سمجھے جانے والے اس طبقے نے مجموعی طور پر سماجی وفکری ترقی میں نہایت ہی اہم کردار ادا کیا۔

سندھ ہاری کمیٹی کانگریس، کمیونسٹوں، روشن خیال شہری باشعور طبقے اور آزادی پسندوں کا اتحاد تھا۔ سوویت انقلاب  نے آزادی پسندوں کو متاثر کیا اورمضبوط کیا۔ ترقی پسندی اور روشن خیالی کے اس اثر  عنصر نے معاشرے کے نچلے طبقات  جو کہ انگریزوں اور جاگیرداروں کے دوہرے ظلم کا شکار تھے اور نہایت غربت اور پست حالی کی زندگی گزار رہے تھے۔  آزاد کرانے اور تحریک آزادی کا حصہ بنانے کی کوشش کی۔ وہ لوگ جو  سیاست کرنا چاہتے تھے لیکن ان کی کوئی برادریاں یا قبیلے نہ تھے جو ووٹ  بینک بنیں۔ اور وہ بھی جوبراہ راست عوام سے رجوع کرتے تھے ان کی ضرورت بنی کی عوام کے وسیع تر حلقے کو اپنی طرف لے آئین، یہ ضرورت اس وقت مزید برھ گئی جب برطانوی راج  نے برصغیر میں سیاسی اصلاحات لانا شروع کیں اور انتخابات  سیاسی اثر رسوخ اور اقتدار کے لئے اہم ہونے لگے۔ 
تیس کے عشرے شروع ہونے تک برصغیر  کے مختلف کونوں میں جاگیردار مخالف تحریکیں چل رہی تھیَ۔ سندھ میں ہاری ایسو سی ایشن اور ہاری کمیٹی بننے  کے  بعد ان تحریکوں کی خبریں سندھ تک بھی پہنچنے لگیں۔ سندھ کی بمبئی سے علحدگی کے پیچھے صوبے کی شناخت کی بحالی کی خوش آئند بات اپنی جگہ پر، لیکن اس میں بمبئی کی مزدور تحریکوں  کے  اثرات کا ڈر سندھ کی جاگیردار اشرافیہ بھی  محسوس کر رہی تھے۔ 
ہاری کمیٹی کے قیام کے پیچھے سندھ کے ہاریوں کے استحصال کو ختم کرنے کے لئے مربوط کوشش کرنا تھا، اور انہیں ایک مشترکہ پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا جو جاگیرداروں اور زمینداروں کے خلاف جدوجہد کر رہے تھے۔ 
انگریز کے دور میں بھی زرعی پیداوار میں منصفانہ حصہ نہ ملنا یا لگان وغیرہ کی شرح میں اضافہ، ہاری کی سماجی زندگی پر حاوی ہونا  وغیرہ شامل تھا۔  اب تو بلکہ زرعی پیداوار میں  زمیندار اپنا  بڑاھتا رہتا تھا۔ ہاری کمیٹی نے نہ صرف ہاریوں  میں بیداری پیدا کی، انہیں آگاہی دی بلکہ ان کے مطالبات مختلف حکومتی سطح پر بھی پیش کئے۔ لہٰذا  زمینداروں اور بیوروکریسی کو چیلینج کرنے کے لئے ہاری کمیٹی  میں وزن پیدا ہوا۔ 

انگریز نے زمین سے متعلق  اپنے قانون نافذ کئے۔ تقریبا تین ہزار جاگیرداروں کے پاس  ہر ایک کے پاس پانچ سو ایکڑ سے زائد زمین تھی۔( اسلم خواجہ  پیپلز موومنٹس ان پاکستان)

 تیس کے عشرے میں سکھر بیراج کی زمینیں تقسیم ہونے لگیں۔ جب سندھ کے باہر کے لوگوں کو زمینیں ملیں تو یہ لوگ کسان بھی اپنے ساتھ لے آئے۔ مجموعی سیاسی  و سماجی جاگرتا کی وجہ سے کسانوں میں جاگیرداروں سے  عدم  فرمانی سر اٹھانے لگی۔ جس کے لئے دفعہ 109   اور دفعہ 107 کا بے دریغ استعمال ہونے لگا۔ ہاریوں کو غنڈہ ایکٹ کے تحت گرفتار کیا جانے لگا۔ 

ہاری کمیٹی میں مختلف مکاتب فکر کے لوگ تھے، جو سمجھتے تھے کہ ہاری اینجڈا مجموعی طور پر ان کی سیاسی فکر کو آگے بڑھا رہا ہے۔ ہاری کمیٹی  چونکہ مختلف الخیال سیاسی پارٹیوں کا اتحاد نما  تھا لہٰذا کسی کو بھی اس تنظیم کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا آسان نہ تھا، لہٰذا یہ کلاس تنظیم رہی۔ لہٰذا سندھ میں ہاریوں کا  تحریک آزادی میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ 
چالیس کے عشرے میں ہاری تحریک جس کی قیادت ہاری کمیٹی کر رہی تھی، طبقاتی تنظیم ہی رہی۔ اس عرصے میں ہاری کمیٹی نے اس حوالے سے دو بنیادی مطالبات  بٹئی  زرعی پیداوار کی ہاری اور زمیندار کے درمیان تقسیم کامطالبہ منوالیا۔یہ طبقاتی مطالبہ تھا۔ٹیننسی ایکٹ پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ دوفعہ 197 اور 109 کے مطالبات  پر موبلائزیشن کی، ج کہ ان کو سماجی تحفظ فراہم کرتا تھا۔ 

سندھ ہاری کمیٹی کی قیادت نامور سیاستدان اور سماجی کارکن کر رہے تھے۔ حیدر بخش جتوئی کی ہاری کمیٹی میں شمولیت نے  سندھ کے کسانوں کی تنظیم میں نئی جان ڈال دی۔ وہ سرکاری عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے۔ لہٰذا بیوروکریسی کا مائنڈ سیٹ جانتے تھے اور کس طرح سے وہ کام کرتی ہے؟ وہ طریقہ بھی جانتے تھے۔ وہ کیمونسٹ پارٹی اور تھیوسوفیکل سوسائٹی کے ممبر تھے۔  وہ کسانوں اور سندھ کے غریب طبقات کے حقوق اور ان کی حقیقی آزادی میں یقین رکھتے تھے۔  

ہاری کمیٹی کا اہم قدم ٹننسی ایکٹ تھا۔  سر روجر نے ٹیننسی کی قانون سازی کی تجاویز دیں جن کی ہاری کمیٹی نے بھرپور انداز میں مخالفت کی۔ 
 سندھ ہاری کمیٹی مکمل طورپر جمہوری اور پرامن جدوجہد میں یقین رکھتی تھی۔ تمام اشوز کمیٹی کی تنظیم میں زیر بحث لائے جاتے تھے۔  ہاری کمیٹی ایک منظم تنظیم تھی۔ جس کی صوبے بھر  ضلور تعلقہ سطح پر شاخیں تھیں۔ ہاری کمیٹی نے ہاریوں کو منظم اور موبلائیز کرنے کے لئے کانفرنسیں بھی کیں۔ 

پچاس کا عشرہ 
سندھ میں چالیس اور  پچاس کے عشرے میں جو  بڑے پیمانے پر بٹئی تحریک، الاٹی تحریک اور سندھ ٹیننسی ایکٹ کی تحریکیں چلیں  اور کامیابیاں حاصل کیں۔ اس ہاری تحریک کے رہنماؤں کامریڈ نذیر جتوئی، عزیزاللہ جروار، کامریڈ رمضان شیخ، مولانا ہالیجوی، مولانا عبدالحق ربانی اور دیگرحضرات دیوبند کے سند یافتہ علماء  تھے۔ سرخے مولوی کہلانے والے یہ حضرات ہمیشہ ترقی پسند اور تحریک کا حصہ اور قوم پرست تحریک کے حامی رہے۔ کھڈہ  مدرسہ کراچی کے علماء کا اس حوالے سے خاص کردار رہا۔

پچاس  کے عشرے میں زمین، کسان کے لئے پیداوار میں منصفانہ حصے قرضوں میں معافی، اور بھاری لگان کے معاملات پیش پیش رہے۔ 
سندھ اور پنجاب میں کسانوں نے ملک گیر تحریک شروع کر رکھی تھی۔ قرضے کے لئے قانون سازی، سرکاری زمینوں پر ان کے حق کے لئے۔ اس کے ضواب میں حکومت نے  ریونیو میں رعایت اور بے زمین ہاریوں کو زمین دینے کے مطالبات کو اصولی طور پر مانا۔

سندھ حکومت نے  ہاریوں کی بہبود کے لئے  ایک کمیٹی بنائی۔ لیکن ایوب کھڑو نے اس کمیٹی  کی سفارشات کوکو دبا دیا۔ اس رپورٹ پر مسعود کھدرپوش کا تاریخی اختلافی نوٹ تھا۔ 
سندھ ہاری کمیٹی کا رول تاریخ میں نمایاں رہے گا۔  جس نے ہاریوں کے حقوق، زمینی اصلاحات کے لئے بھرپور اور خلوص کے ساتھ جدوجہد کی۔ سندھ ہاری کمیٹی کی 1955  میں منعقدہ ہاری کمیٹی کی قراردادوں  سے ظاہر ہے۔ 

قیام پاکستان کے بعدسندھ میں کسانوں نے مزدور طبقے کے ساتھ مل کر زمینی اصلاحات  اور کسانوں کے حالات بہتر بنانے کی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔ نئے ملک بننے کے بعد صورتحال میں تبدیلی آچکی تھی۔لیکن کسانوں کے مسائل اپنی جگہ پر قائم رہے۔  اب برارہ راست جاگیردار حکومت میں تھے۔ اور بیوروکریسی براہ راست ان کے ماتحت تھی۔  ایک عشرے بعد  سبز انقلاب شروع ہوا۔ لیکن اس سے کسانوں کی غربت اور حالات پر کوئی اثر نہیں پڑا۔  ایک پڑھا لکھا اور قانونی  شکل میں ایسا طبقہ حکمران بنا جس
 کے ہاتھوں میں بڑی بڑی زمیندرایاں تھیَ  جو کسانوں کی زندگی کے تمام پہلوؤں کو کنٹرول کر رہا تھا۔  آزادی کے تقریبا دو عشروں تک سندھ کے زرعی شعبے میں معملی تبدیلی آئی۔ ٹیننسی ایکٹ جو 1950 میں پاس ہوا ھتا  وہ کسانوں کو تحفظ نہیں دے پارہا تھا۔  جوقانونی  لحاظ  سے مستقل بن چکے تھے۔ 
 سندھ کے کسان کے ساتھ یہ المیہ رہا کہ پہلے سے موجود زمینوں کی از سرنو  تقسیم زمیندار کرنے نہیں دے رہے تھے، ااور جو بیراجوں کی تعمیر سے نئی زمین قابل کاشت بن رہی تھی وہ
 حکومت ان کو دینے کے لئے تیار نہیں تھی۔ 
کوٹری اور گڈو بیراج کی  بعد قابل کاشت بننے والی زمینیں  فوجی اور سول افسرشاہی یا پنجابی آبادگاروں اور سندھ کے زمینداروں کو دی گئیں۔ تقریبا بیس لاکھ ایکڑ زمیں  1947  میں انڈیا منتقل ہونے والے ہندوؤں نے چھوڑی تھی۔ یہ زمین  شہروں میں آباد انڈیا سے آنے اردو بولنے  والوں کو الاٹ کی گئیں۔ جس کے نتیجے میں شہری غیر
 حاضر زمیندار طبقہ وجود میں آیا۔  1959کے اصلاحات  نے خاندان کے اندر ہی زمین کے کھاتوں کی معمولی  تبدیلی آئی۔  زمین کی ملکیت  میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔  (ڈاکٹر فیروز احمد)
قیام پاکستان کے بعد سندھ حکومت کی ماتحت زمین کا کنٹرول اور اس کی تقسیم کی ذمہ داری  ری ہبلیٹیشن کمشنر کو کوپنجاب میں لینڈ الینیشن بل سندھ میں مسلمانوں کو زمینیں واپس دینے۔ پاکستان حکومت کا پہلا قدم یہ تھا کہ مہاجروں کو آباد کرے۔ لہذا چالیس فیصدزرعی زمین جو ہندوؤں کے پاس رہن تھی۔ وہ انڈیا سے اانے والے مہاجروں کو الاٹ کی گئی۔  شہری علاقوں کی غیر منقولہ جائدادیں بھی  مہاجروں کو الٹ کی گئیں۔ 

پچا س کا عشرہ 
پچاس کے دہائی کے پہلے حصے میں ٹیننسی ایکٹ منظور کرا پائی۔ یہ ایکٹ مرکزی حکومت  کی سندھ کے زمینداروں کے ناراضگی وجہ سے ممکن ہو سکا۔  عوام کو فائدہ ہمیشہ حکمران طبقوں کی کمزوری اور ان کے آپس کے تضادات سے ملتا ہے۔ 
ایوب خان کے مارشل لاٗ سے پہلے کراچی میں ہاری حقدار کے نعرے پر مزدوروں، طلباء، نشینل عوامی پارٹی اور دیگر روشن خیال لوگوں نے ایک بہت بڑا جلوس نکالا، جس سے ہاری سوال ایجنڈا پر ابھر آیا، یہاں تک کہ ایوب خان نے جب مارشل لاء نافذ کیا تو انہوں نے اس بے چینی کو بھی مارشل لاء کی وجواہت میں سے ایک  بیان کیا۔ 
نعپ کے اندر سندھ کے تمام قوم پرست شامل تھے، لیکن جب ایوب خان نے پنجابیوں اور پٹھانوں کو زمینیں الاٹ کیں، تو نعپ کی پنجاب اور صوبہ صوبہ سرحد (پختونخوا)  سے قیادت نے  سندھ نعپ سے اس کی مخالفت نہ کرنے کو کہا۔ 

ٹیننسی ایکٹ 1950 میں پاس ہوا جس میں ہاریوں کو حقوق دیئے گئے تھے۔ اس لئے حکومت نے ایک کمیٹی بنائی کہ ٹیننسی ایکٹ میں ترامیم کے لئے سفارشات پیش کرے۔ اس ٹرمز آف ریفرنس ہی عجیب تھے، جو بذات خود بتاتے تھے کہ ہاریوں کو دیا نہیں جارہا بکلہ ان کو جو کچھ حقوق حاصل ہیں وہ چھینے جارہے ہیں۔ ان ٹرمز آف ریفرنس کا  ذرا جائزہ لیجیئے:   
۱۔ کیا ضروری ہے کہ کسانوں کو ٹیننسی حقوق دیئے جائیں؟ 
۲۔  اگر ہاں تو ہاریوں کے کس طبقے کو؟ 
ان میں سے بعض نکات درج ذیل ہیں 
۱۔ ہاری کو تجارتی کاشت کی صورت میں کسی بھی وقت ٹیننسی کے حقوق سے محروم کیا جاسکتا ہے ۔
 زمیندار ٹربیونل میں جائے بغیر کسی ہاری کو بے دخل کرسکتا ہے۔ 
اصل بل میں ہاری کو  بھوسے کا  آدھا حصہ اور  زمیندار کو تین چوتھائی حصہ تجویز کیا گیا تھا۔  اور کھڑو کی ترامیم میں ہاری کا حصہ کم کردیا گیا۔ 
 سندھ ہاری کمیٹی کا یہ موقف تھا کہ زمین کسان کی ہے زمینداری نظام کو جانا چاہئے۔  اور زمین کی ملکیت کا حق کسان کو ہونا چاہئے۔ ہاریوں او رعوام کی طرف سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ کوٹری بیراج کی زمین  بلا تاخیر  بے زمین کسانوں کو دی جائے۔
ایوب خان کے 1959 کے زمینی اصلاحات  جس میں زمین کی حد ملکیت پانچ سو ایکڑ مقرر کی گئی۔ اس سے صرف یہ ہوا کہ بڑا زمیندار مزید زمین نہیں خرید کر سکتا۔ کچھ زمین سرینڈر بھی ہوئی۔  وہ  مزید زمینی اصلاحات سے ڈرے ہوئے تھے۔ 
پچاس کی دہائی کے پہلے حصے تک ہاری کمیٹی اور ہاری تحریک  بطور طبقاتی تنظیم کے رہی، لیکن مرکزی حکومت کی جانب سے سندھ کے امور میں بڑھتی ہوئی مداخلت اور خاص طور پر سندھ کی زمینوں کی حق ملکیت کے حوالے سے اقدامات نے ہاری کمیٹی خواہ ہاری تحریک کو قوم پرستانہ موقف کی طرف دھکیل دیا۔  جب ون یونٹ بنا تو ہاری کمیٹی اور اس کے اتحادیوں کو قوم پرستانہ موقف اختیار کرنا پڑا۔ یہ صورتحال ساٹھ کے عشرے کے آخری ایام یعنی ون یونٹ ٹوٹنے تک جاری رہی۔ 

 ساٹھ کا عشرہ
ایوب کے لینڈ ریفارمس کے  جلد ہی بعد ویسٹ پاکستان حکومت نے 1960  میں کوٹری بیراج  کے زیر کمانڈ زمین فروخت کرنے کی پالیسی کا اعلان کیا۔  یہی پالیسی دو سال بعد گڈو بیراج کے لئے بھی روا رکھی گئی۔ کوٹا مقرر کردیا گیا۔ 
حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی و سول  افسران کے لئے،ان میں اکثر کا تعلق پنجاب، صوبہ سرحد یا قبائلی علاقوں سے تھا۔  پنجاب کے سیلاب کے متاثرین  کے لئے بھی کوٹا تھا۔ سندھ کے بے زمین کسانوں کے لئے کوئی کوٹا نہیں رکھا گیا۔ کوٹری بیراج کی سولہ لاکھ ایکڑ اور گڈو بیراج کی گیارہ لاکھ ایکڑ زمین غیر سندھیوں میں اس طرح سے تقسیم کی گئی۔ 
یہ سب کچھ ون یونٹ کی چھتری کے نیچے ہورہا تھا۔ لہٰذا کسان بطور طبقے کے ون یونٹ سے متاثر ہو رہا تھا۔ اس بات نے کسان تحریک میں ون یونٹ کی مخالفت کا عنصر ڈالا۔ 
 زمینداری  دنیا بھر میں ختم ہو چکی ہے۔ لیکن پاکستان میں زمینداری نظام مضبوط ہوتا رہا۔ حکومت کے اندر خواہ باہر مستقل مفاد رکھنے والے مضبوط ہیں  جو کہ زمینداری کا خاتمہ نہیں ہونے دے رہے ہیں۔  لہٰذا یہ کونسل حکومت سے مطالبہ کرتی ہے: 
الف:  پاکستان کے تمام کسانوں  کے مزارعتی حق  کا تحفظ کیا جائے۔  اور ان کی داخلا ریکارڈ آف رائیٹس میں کی جائے، یک طرفہ طور پر زمینداروں کی جانب سے بے دخلی کی قانونی طور پر ناجائز قراد یا جائے۔ 
ب:  بٹئی سسٹم کی جگہ نقد پیسوں کی زمین کی کرایہ داری کو رائج کیا جائے۔ کسان یہ رقم سرکاری ادارے کے ذریعے ادا کریں گے۔  ت: جب تک بٹئی سسٹم ختم نہیں ہوتا، کسان پیداوار کا حصہ  اٹھائیں گے جس میں سے کوئی کٹوتی نہیں ہوگی۔ث؛  ہر قسم کی مفت اور جبری محنت  کا مکمل خاتمہ، اس مقصد کے لئے تمام سرکاری مشرنی استعمال کی جائے۔ 
 اسی سلسلے کی کانفرنس  21 اور 22 جولائی 1970 میں سکرنڈ میں ہوئی۔ شیخ عبدالمجید سندھی نے صدارتی تقریر میں کہا کہ ہماری جدوجہد صرف ون یونٹ کے خاتمے تک نہیں، بلکہ یہ جاگیرداروں کے زمینوں پر قبضے اور طالمانہ پالیسیوں کے خلاف بھی ہے۔ سکرنڈ ہاری کانفرنس اس لئے بلائی گئی تھی کہ ون یونٹ ٹوٹنے کے بعد کی صورتحال میں کیا لائحہ عمل ہو،  لیکن سکرنڈ ہاری کانفرنس متبادل اور جامع لائحہ عمل دینے میں ناکام رہی۔ اس کے اعلامیہ میں  روایتی مطالبات  اور روزمرہ کے اشوزتھے جو  سیاسی بیانات میں پہلے بھی کئے جاتے رہے۔ مطلب کوئی متبادل پروگرام نہیں دیا گیا۔
اس کانفرنس کی قراردادوں کا خلاصہ یہ تھا: 
کسانوں میں منصفانہ بنیادوں پر ہاریوں میں زمین تقسیم کی جائے، ہر طرح کی مفت اور جبری محنت (بیگر) کا خاتمہ کیا جائے، کسان کا بٹئی میں حصہ تین چوتھائی  مقرر کیا جائے۔  
حکومت کسانوں سے کپاس خود  خرید کرے اور بعد میں فروخت کرے۔ نئی زرعی ٹیکنالاجی  متعارف کرائی جائے۔ 
زرعی اصلاحات کی جائیں۔ 
 ساٹھ کے عشرے میں ہاری کمیٹی کوشاں رہی کہ ٹیننسی ایکٹ پر عمل کرائے۔ یہ معاملہ 1967 تک چلتا رہا۔ 

ہاری تحریک نے سندھ کے کونے کونے میں سیاسی اور طبقاتی شعور پیدا کیا۔ کمیونسٹوں کی اولیت ون یونٹ  رہا۔ انہوں نے سماجی تبدیلی کے بیانیہ کو پیچھے چھوڑ دیا، جب کہ معاشرہ سماجی تبدیلی کے دہانے کھڑا تھا۔اس معروضی صورتحال کو قوم پرست اور کمیونسٹ سمجھ نہ سکے۔ بھٹو نے اس صورتحال کو کیش کر لیا، اس کے ساتھ وہ ہاری کمیٹی کے نعرے اور کیڈر کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ سندھ میں ہاری کمیٹی کا پیدا کیا ہوا ہی شعور تھا، جس نے پیپلزپارٹی کو ابتدائی طور پر پارٹی کی بنیادیں فراہم کیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ہاری کارکن اس بات کو اوچھے طریقے سے رکھتے تھے کہ بھٹو نے ان کے کام پر قبضہ کرلیا ہے۔ سندھ میں آج بھی روشن خیالی، ترقی پسندی  موجود ہے جس کو سیاسی شعور کا نام دیا جاسکتا ہے  اس کی  اصل وجہ  ہاری کمیٹی کا نچلی سطح  (گراس روٹ)پر کیا ہوا کام ہے۔ ہاری کمیٹی نے سندھ کی سیاست کوکئی ترقی پسند رہنما دیئے اور کئی سیاسی کارکنوں کی تربیت بھی کی۔ 

 کمیونسٹ ایوب کے زمانے میں جمہوریت کی بحالی اور یحییٰ خان کے زمانے میں مارشل لاء ختم کرو کا نعرہ لگا رہے تھے، جب کہ ون ونٹ کا خاتمہ طے تھا۔ 

ہاری کمیٹی میں بحث چلی کہ جمہوریت کی بحالی اہم ہے یا ون یونٹ کا توڑنا۔ حیدربخش جتوئی کا موقف تھا کہ جمہوریت کی بحالی ون یونٹ توڑنے سے مشروط ہے۔ اگر جمہوریت بحال ہوتی ہے اور ون یونٹ نہیں ٹوٹتا تو ایسی جمہوریت لولی لنگڑی ہوگی۔ جی ایم سید کا موقف تھا کہ صرف ون یونٹ کا ٹوٹنا ہی اہم ہے۔ ولی خان نے خالصتا جمہوریت کا نعرہ دیا، جس کو حیدربخش جتوئی نے یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ خالصتا جمہوریت کیا ہوتی ہے۔ حیدر بخش جتوئی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ تھے، لیکن ان کا بعض امور پر پارٹی سے اختلاف بھی رہا، جس کا اظہار پہلے وہ پارٹی کے اندر متعلقہ فورم میں کرتے رہتے تھے اور بعد میں سرعام بھی کرتے تھے۔ یہ بڑی اہم بات تھی کہ کامریڈ جتوئی نے کھل کر کبھی پارٹی پر تنقید نہیں کی۔ بعد میں جب کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان نے شاگرد ہاری مزدور عوامی رابطہ کمیٹی بنائی تو وہ اس کے ساتھ کھڑے رہے، جس کا مقصد سیاسی پروگرام کو آگے بڑھانا اور کسانوں کو سیات میں شامل کرنا تھا۔ 

ون یونٹ سندھ کے قوم پرستوں اور کمیونسٹوں کا مشترکہ مطالبہ اورنقطہ اتحاد نقطہ تھا۔ اس کے ٹوٹنے  بعد یہ مشترکہ نقطہ ہ ختم ہو گیا۔ تو مشترکہ پلیٹ فارم بھی ختم ہو گیا۔ 
ستر کے عشرے میں سندھ کی سیاسی جماعتوں  کے مشترکہ جدوجہد کے نکات کم ہو گئے، انہوں نے ہر فرنٹ پر اپنی راہیں جدا کرلیں۔  رسول بخش پلیجو نے سندھی ہاری تحریک بنالی،  اسی طرح سے پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں نے اپنی اپنی ہاری کمیٹیاں بنائیں۔

 ضیاء دور میں کمیونسٹوں نے ہاری کمیٹی کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کی گئی۔ ابھی کچھ بنا ہی پائے تھے کہ خو

ذڪر هڪ ديومالائي ڪردار سان ٿيل ملاقاتن جو!

ذڪر هڪ ديومالائي ڪردار سان ٿيل ملاقاتن جو!


بينظير ڀٽو جو نالو ۽ تصوير اڄ به سڄي ملڪ جي پوئتي پيل ماڻهن لاءِ مزاحمت جو اهڃاڻ آهي. هوءَ هئي ته ملڪ گير پارٽي جي ڪرشماتي ليڊر پر سنڌ جو ماڻهو هن جو پاڻ سان خاص رشتو ۽ ناتو سمجهي ٿو. هڪ مزاحمت ڪندڙ اڪيلي ڇوڪري، بقول حبيب جالب جي “ايڪ نهتي لڙڪي” ڀٽي جي ڌيءُ، جنهن وڙهندي وڙهندي مزاحمت ڪندي جان ڏني. سنڌ جو ماڻهو هن سان پيار ڪري ٿو، اهو سوچڻ بنا ته ان مان کيس ڪو ذاتي فائدو ملندو به يا نه، ماڻهو بينظير سان ڪو حساب ڪتاب نٿا ڪن، هو سمجهن ٿا ته هوءَ سندن حقن جو دفاع ڪندڙ راڻي هئي. سنڌ جو ماڻهو سمجهي ٿو ته محترمه جو قتل ڄڻ سندن خوابن جو قتل آهي، هو پاڻ کي زخمي سمجهن ٿا. سنڌ جا اهي ماڻهو جيڪي سندس زندگي ۾ سياسي مخالف هئا، يا اهي جيڪي پيپلز پارٽي جي مخالفت ڪن ٿا، سي به هاڻي بينظير جي خلاف ڪو اکر ٻڌڻ لاءِ تيار ناهن.
پيءُ جو لاش، ماءُ جو اداس چهرو، بي وطن ڀاءُ جو خون، اباڻي گهر آڏو ٻئي ڀاءُ جو قتل، جيل جون ڪال ڪوٺڙيون، فوجين جا پهرا، بيوس عوام، جيل ۾ قيد پٺين تي ڦٽڪا کائيندڙ سندس ڪارڪنن جون اذيتون… اهو سڀ ڪجهه کيس ورثي ۾ مليو. هن سنڌ جي شهر شهر جو دورو ڪيو، شايد ئي ڪو اهڙو علائقو هجي جتي بينظير جي پيرن جا نشان نه هجن، جيڪو به ماڻهو جدوجهد ۾ مصروف هو، ان سان ملاقات ڪيائين.
منهنجون به محترمه سان ڪجهه يادون وابسته آهن.
منهنجي پهرين ملاقات ساڻس تڏهن ٿي جڏهن چونڊيل وزيراعظم ذوالفقار علي ڀٽو کي اقتدار تان هٽائڻ بعد جنرل ضياءُ، ميان احمد رضا قصوري جي قتل ڪيس ۾ کيس گرفتار ڪيو هو، ۽ هوءَ پنهنجي ماءُ نصرت ڀٽو سان گڏ ملڪ ۽ خاص ڪري سنڌ ۾ ضياءُ خلاف مهم هلائڻ لاءِ نڪتي هئي. تڏهن آئون حيدرآباد ۾ سنڌ نيوز اخبار سان واڳيل هيس. هوءَ حيدرآباد ۾ پريس ڪلب جي “ميٽ دي پريس” پروگرام ۾ آئي هئي. هوءَ يونيورسٽي جي شاگردياڻي پئي لڳي. آڪسفورڊ ۽ هارورڊ يونيورسٽي جي مغربي تعليم ۽ انگلينڊ ۾ رهائش جي باوجود کيس مشرقي لباس پهريل هو. هن تفصيل سان پرجوش انداز سان ٻن ڪلاڪن کان وڌيڪ ڳالهايو.، مٿي تي ڏاڍي تميز سان پوتي پيل هيس، سندس ڳالهين ۾ عزم ۽ ڪاوڙ جو اظهار هو، تڏهن خبر نه هئي ته هڪ سنهڙي سيپڪڙي ڇوڪري ايندڙ سالن ۾ ايڏي “خطرناڪ” ٿي ويندي جو کيس مارڻو پوندو. اهو به ته وڏن نازن سان پليل ڀٽو جي وڏ گهراڻي جي ٻارڙي مارشل لا جون اذيتون ۽ جيل به ڪاٽي ويندي. ها اهو ضرور لڳو پئي ته هيءَ ڇوڪري جيڪڏهن پير جهلي سياست ۾ اچي ٿي ته واقعي ملڪ جي سياست بدلجي ويندي.
محترمه سان ٻي ملاقات 1982ع ۾ ٿي، جڏهن مشهور ڪميونسٽ ڪيس عرف عام ڄام ساقي ڪيس ۾ هوءَ بچاءُ جي شاهد طور آئي. هي ڪيس ڪرنل محمد عتيق جي سربراهيءَ ۾ فوجي ڪورٽ ۾ هليو، جنهن ۾ ڪامريڊ ڄام ساقي پروفيسر جمال نقوي، بدر ابڙو، شبير شر، ڪمال وارثي، امر لال ۽ آئون جوابدار طور هئاسين. بچاءُ جي شاهدن جي ڊگهي لسٽ هئي جنهن ۾ سمورا چوٽيءَ جا جمهوريت پسند سياستدان ۽ اڳواڻ شامل هئا.
هوءَ ٽي ڏينهن فوجي عدالت ۾ آئي. ڪميونسٽن جي بچاءُ لاءِ پهرين ڏينهن سندس بيان رڪارڊ نه ٿي سگهيو. هن ٻڌايو ته، “آئون فوجي عدالتن کي نٿي مڃان، ان ڪري نه پئي اچڻ چاهيم پر ڪامريڊ ڄام ساقيءَ جي اها ڳالهه وڻي ته فوجي عدالتن کي مڃي هو به ڪو نه ٿو، پر هي هڪ فورم آهي، جنهن کي استعمال ڪرڻ گهرجي. مون محسوس ڪيو ته هونئن به فوجي عدالت ۽ مارشل لا جي قيدي کي دفاع ۽ مدد جي ضرورت هوندي آهي.”
پهرين ڏينهن جڏهن عدالتي ڪارروائي نه هلي ته محترمه اسان جوابدارن ۽ انهن جي گهروارن سان ٻه ٽي ڪلاڪ ويٺي رهي ۽ ڳالهيون ڪندي رهي. هن اسان جوابدارن لاءِ سگريٽ، چاڪليٽ ۽ بسڪوٽ به آندا هئا. هن ڪيس جا تفصيل “وڏي جوابدار” ڄام ساقي کان ورتا. اسان جي گهروارن سان هڪ هڪ ڪري ڳالهايائين، هن اهو به دلچسپي سان پڇيو ته جيل ۾ ڪهڙيون حالتون آهن؟ اتي ڪيئن ٿا رهو؟ هن اسان جي گهروارن کي ٻڌايو ته هي اڪيلا نه پيا وڙهن، پوري ملڪ جو عوام مارشل لا خلاف وڙهي پيو، جلدي تحريڪ اٿڻ واري آهي.
هو بچاءُ جي شاهد طور نه آئي هئي، ڄڻ اسان قيدين سان ملاقات لاءِ آئي هئي. هن اسان جي لاءِ ڪتاب به موڪليا. هن ڪامريڊ ڄام ساقي سان الڳ به ملاقات ڪئي، سياسي حالتن تي ڳالهايو. فوجي عدالت جي ٻن فوجي آفيسرن ڪرنل محمد عتيق ۽ ڪيپٽن افتخار جليس ۽ هڪ سويلين مئجسٽريٽ حبيب الله ڀٽو جي حالت به ڏسڻ وٽان هئي. محترمه جي اُتي موجودگي اسان جي لاءِ اعزاز ۽ آٿت جي ڳالهه هئي پر خود اهي ڪورٽ جا آفيسر به پنهنجي لاءِ خوشقسمتي سمجهي رهيا هئا.
بي بي سي جو نمائندو آئين هور شلوار قميص پائي اسان جي عزيزن سان گڏ عدالت ۾ ويٺو هو، جيئن محترمه بيان لاءِ ڳالهائڻ شروع ڪيو ته هن پنهنجو ٽيپ رڪارڊر آن ڪيو. ان جي آواز ڪرنل عتيق جا ڪن کڙا ڪيا ۽ چيو ته، “بي بي سي جي نمائندي کي ٻاهر ڪڍو.” ڳالهيون ٿيون، محترمه جو ۽ اسان جو موقف هو ته هي ڪا ڪلوزڊ ڪورٽ ڪونهي، اوپن آهي، ان جو بيان رڪارڊ ڪرڻ ۾ ڪو حرج ڪونهي، ڀل ماڻهن کي خبر پوي ته محترمه ڪورٽ ۾ ڇا ڳالهايو آهي. ڪرنل عتيق چيو ته، “اڄ رات جڏهن بي بي سي تان انٽرويو شروع ٿيندو ته محترمه پنهنجي بيان ۾ چيو……ته ان جي چند گهڙين بعد آئون ڪوارٽر گارڊ ۾ هوندس.” ايئن صحافي کي عدالت مان ڪڍڻ بعد ڪارروائي شروع ٿي.
محترمه سان ٽئين ملاقات تڏهن ٿي جڏهن آئون عوامي آواز جو ايڊيٽر هوس. محترمه سنڌي ايڊيٽرن يعني مون کي، علي قاضي ۽ فقير محمد لاشاري مرحوم کي غير رسمي ڳالهه ٻولهه لاءِ گهرايو هو. ملاقات ڊاڪٽر اسماعيل اڍيجو مرحوم سان گڏ ٿي. سنڌي ايڊيٽرن سان اها ملاقات صبح يارهين وڳي شروع ٿي، جيڪا شام پنجين وڳي تائين جاري رهي. محترمه تڏهن اپوزيشن ۾ هئي. ان ملاقات ۾ هن ڪيترائي تفصيل ٻڌايا، خطرن ۽ خدشن کان آگاهه ڪيو. ان بعد جڏهن هوءَ وزيراعظم ٿي، پوءِ وري اپوزيشن ۾ آئي تڏهن به ڪيتريون ملاقاتون ٿيون.
هوءَ هڪ ليجنڊ ۽ ديومالائي ڪردار هئي، سندس ڪهاڻي نسل در نسل منتقل ٿيندي رهندي.

Friday, December 27, 2019

محترمہ کی کچھ یادیں کچھ باتیں


محترمہ کی کچھ یادیں کچھ باتیں 
 میرے دل میرے مسافر۔۔۔ سہیل سانگی
بینظیر بھٹو کا نام اور تصویر آج بھی ملک بھر کے لوگوں کے لئے مزاحمت کی علامت ہے۔   پاکستان نے ایک کرشماتی لیڈر تھی  مگر سندھ کے لوگوں کا ان سے خصوصی رشتہ ناطہ اور لگاؤ تھا۔ سندھ کے لوگوں کی اکثریت ان سے پیار کرتی تھی بغیر اس کا خیال کئے کہ ان کو وہ کوئی فائدہ بھی دیگی یا نہیں؟لوگ ان سے کوئی حساب کتاب بھی نہیں کرتے۔وہ ان کو حقوق کی دفاع کرنی والی اور امیدوں اور خوابوں کی رانی سمجھتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ سندھ کے لوگ سمجھتے ہیں کہ محترمہ قتل ان کے خوابوں اور امیدوں کا قتل ہے۔ وہ خود کو زخمی سمجھتے ہیں۔ 
والد کی لاش، ماں کا اداس چہرہ، بے وطن بھائی کا خون، فوجی آمریت، جیل کی کال کوٹھڑی، فوجیوں کے پہرے، بے بس عوام، کئی خدشے، جیل میں قید پیٹھ پر کوڑے کھانے والے ہزاروں کارکنوں کی اذیتیں۔اور عمر چھبیس سال۔یہ سب انکو وراثت میں ملیں۔ انہوں نے سندھ کے ہر شہر کا دورہ کیا۔اور جو جو جدوجہد میں مصروف تھا اس کے ملاقات کی۔ میری بھی کئی یادیں محترمہ سے وابستہ ہیں۔
محترمہ بے نظیر بھٹو سے میری پہلی ملاقات تب ہوئی تھی جب انکے والد ذوالفقار علی بھٹو کوجنرل ضیا نے میاں احمد قصوری قتل کیس میں گرفتار کر لیا تھا اور وہ اپنی والدہ نصرت بھٹو کے ساتھ ملکر ملک بھر میں خاص کر سندھ میں ضیا کے خلاف مہم چلا رہی تھی۔وہ چاہتی تو اپنی بہن صنم بھٹو کی طرح پرامن زندگی بھی گذار سکتی تھی، مگر اس کو سیاست کا طوفان اٹھا کر لے گئے۔
تب میں حیدرآباد میں صحافت کرتا تھا۔ محترمہ پریس کلب کے میٹ دی پریس پروگرام میں آئیں۔ وہ یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ لگ رہی تھیں تھیں۔آکسفرڈ اور ہاورڈ کی مغربی تعلیم کے باوجود انہوں نے ٹھیٹ مشرقی لباس زیب تن کیا ہوا تھا۔ انہوں نے تفصیل کے ساتھ مگر بہت ہی جذباتی انداز میں بات چیت کی۔دو گھنٹے سے زیادہ بات کرتی رہیں۔ سر پربڑی تمیز سے دوپٹہ جیسے کوئی مشرقی خاتون پہنتی ہے۔ بات چیت میں عزم بھی تھا اورغصہ بھی۔ تب کچھ طے نہیں تا کہ یہ ایک پان دھان لڑکی آئندہ برسوں میں ایک اتنا بڑا خطرہ بن جائیگی وہ سالہا سال تک انتخابات ہی نہیں کرائیگا۔اور یہ بھی کہ بڑے نازوں میں پلی بھٹو خاندان کی یہ لڑکی مارشل لاء کی صعوبتیں اور جیلیں بھی برداشت کر لے گی۔ ہاں یہ ضرور لگا کہ اگر یہ لڑکی واقعی ملکی سیاست میں آجاتی ہے تو پاکستان کی حالت بدل جائیگی۔
محترمہ سے دوسری ملاقات 1982 میں ہوئی جب وہ مشہور سیاسی مقدمہ جام ساقی کیس میں دفاع کے گواہ کے طور پر پیش ہوئیں۔ یہ مقدمہ کرنل محمد عتیق کی سربراہی میں قائم خصوصی فوجی عدالت میں چلایا گیا جس میں بے نظیر بھٹو کے علاوہ خان عبدالولی خانِ، میر غوث بخش بزنجو، معراج محمد خان، فتحیاب علی خان، بیگم طاہرہ مظہر علی، حاصل بزنجو، سمیت ملک کی سرکردہ شخصیات بطور دفاع کے گواہ کے پیش ہوئی تھی۔

وہ تین مرتبہ فوجی عدالت میں آئیں۔ پہلے روز ان کا بیان قلمبند نہیں کیا جا سکا۔ جب کہ باقی دو دن تک انکا بیان جاری رہا۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ وہ فوجی عدالت کو عدالت ہی نہیں مانتیں۔ اس لئے ایک خیال یہ آیا کہ میں پیش نہ ہوں، مگر پھر آپ لوگوں سے رابطہ کرنے پہ کامریڈ جام ساقی کی یہ بات اچھی لگی کہ فوجی عدالت اور مارشل لا ء کو مانتے تو وہ بھی نہیں ہیں لیکن ایک فورم ہے جسکو استعمال کرنا چاہئے۔ اور یہ بھی کہ ہم اپنی آواز ہر فورم پر اٹھائیں گے اور ہر فورم اپنے مشن کے لئے استعمال کرینگے۔ تو میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے جانا چاہئے۔ اور یہ کہ فوجی عدالت اور مارشل لاء کے قیدی کو ویسے بھی دفاع اور مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔
راقم الحروف بھی اس مقدمہ کا ایک ملزم تھا۔
پہلے دن جب عدالتی کارروائی نہیں ہوئی تو محترمہ ہم”ملزماں“ اور انکے اہل خانہ کے ساتھ دو تین گھنٹے تک بیٹھی رہیں اور باتیں کرتی رہیں۔ انہوں نے مقدمے کی تفصیلات ”بڑے ملزم“جام ساقی سے پوچھیں اور دیگر ملزمان پروفیسر جمال نقوی، بدر ابڑو، کمال وارثی، شبیر شر سے سیاست اور اہل خانہ وغیرہ کے بارے میں پوچھا۔ انہیں اس سے بھی خاصی دلچسپی تھی کہ جیل کے کیا حالات ہیں، ہم لوگوں کو کن حالات میں رکھا گیا ہے۔ وہ ہمارے ہم ”ملزمان“ کے اہل خانہ سے گلے ملیں ان کو بتایا کہ ہم لوگ ملک میں مارشل لاء کے خلاف اور جمہوریت اور عوام کے حقوق کی تارریخی جنگ لڑ رہے ہیں۔ جلد کوئی تحریک اٹھے گی۔ فکر نہ کریں۔ 
وہ صرف دفاع کے گواہ کے طور پر نہیں آئیں تھیں، بلکہ قیدیوں سے ایک ملاقاتی طور پر آئی تھیں۔ سگریٹ،خاصی کھانے پینے کی چیزیں، تحائف کچھ کتابیں بھی لائی تھیں۔ بعد میں جب مقدمہ ختم ہوا اسکے بعد بھی وہ خاصے دنوں تک جیل پر ہم لوگوں کو سگریٹ وغیرہ بھیجتی رہیں۔ایساشاید ان کو پتہ تھا کہ ایک قیدی کی جیل میں کیا ضروریات ہوتی ہیں۔
سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے تھے۔ ہماری خواہش تھی کہ ہمارے اہل خانہ بھی محترمہ سے ملیں۔ ہم نے بھی عدالت سے درخواست کی کہ اہل خانہ کو بلایا جائے۔ ہمارے اس مطالبے کی محترمہ نے بھی تائید کی۔
فوجی عدالت جو دو فوجی افسرا ن کرنل محمد عتیق اور کیپٹن افتخار جلیس اور ایک سویلین میجسٹریٹ ھبیب اللہ بھٹو پر مشتمل تھی اس کی حالت بھی دیکھنے کے قابل تھی۔ہم ملزمان تو محترمہ کی موجودگی کو اعزاز سمجھ ہی رہے تھے مگر خود فوجی افسران بھی اپنی خوش قسمتی سمجھ رہے تھے کہ محترمہ ان کی عدالت میں موجود تھی۔ پہلی بار ایک فوٹو گرافر عدالت میں فوٹو بنانے کی اجازت دی گئی۔ بی بی سی کے نمائندے آئن ہور بھی شلوار قمیض پہن کر ایک پاکستانی کے روپ میں کمرہ عدالت تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ جیسے ہی بی بی نے اپنا بیان شروع کیا تو آئن ہور نے اپنا ٹیپ ریکارڈر آن کیا۔ چند ہی لمحوں میں کرنل عتیق نے شور مچانا شروع کردیا کہ بی بی سی کے رپورٹر کو باہر نکالا جائے۔
محترمہ اور ہم ”ملزمان“ کا موقف تھا کہا اس میں کوئی ہرج نہیں ہے۔ لوگوں کو پتہ چلے کہ محترمہ نے کیا بیان رکارڈ کرایا ہے۔ عدالت کی کارروائی کچھ دیر کے لئے روک دی گئی۔ کچھ مذاکرات کچھ بات چیت ہوئی۔ کرنل عتیق نے کہا کہ”آ ج رات جب”سیربین“میں یہ نشر ہوگا کہ محترمہ نے اپنے بیان میں کہا۔۔۔۔ اس کے چند لمحوں بعد میں آپ لوگوں کے ساتھ لانڈھی جیل میں ہونگا۔“
یوں اس صحافی کو نکالنے کے بعد عدالت نے محترمہ کا بیان ریکارڈ کیا۔ محترمہ کے بیان سے لگ رہا تھا کہ انی تمام سیاست کا محور 1973کا آئین تھا۔اور وہ جمہوریت اور اس آئین کے لئے تمام سرحدیں عبور کر سکتی ہے۔ اور بعد کے واقعات نے یہ ثابت بھی کیا۔
محترمہ سے میری  تیسری ملاقات تب ہوئی جب میں سندھی روزنامہ عوامی آواز کا ایڈیٹر تھا اور محترمہ نے سندھی ایڈیٹرز علی قاضی، فقیر محمد لاشاری اور راقم الحروف کو غیر رسمی بات چیت کے لئے مدعو کیاتھا۔بلاول ہاؤس میں اس ملاقات کا بندوبست میرے پرانے دوست اور پیپلز پارٹی کے رہنما ڈاکٹر اسماعیل اوڈیجو نے کیا تھا۔ محترمہ کے ساتھ ہم سندھی ایڈیٹرز کی یہ طویل ملاقات تھی جو صبح گیارہ بجے شروع ہوئی اور شام پانچ بجے تک جاری رہی۔ اس وقت وہ اپوزیشن میں تھی۔ انہوں نے علاقائی وملکی صورتحال، سندھ کے رول پر تفصیل سے بات چیت کی۔محترمہ کا کہنا تھا کہ سندھ کو اپنی میڈیا، سرمایہ (بینک)،تعلیمی ادارے وغیرہ ہونے چاہئے۔
اس کے بعد وہ وزیر اعظم تھیں یا اپوزیشن لیڈر ان سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ وہ جمہوریت اور سماجی تبدیلی کی ایک بھرپور اور مضبوط آواز تھی۔ چار برسوں میں بہت کچھ بدل چکا ہے۔ مگر جلاوطنی کاٹ کے آنے والی بینظیر بھٹو جو بے موت قتل کی گئی، انکا درد لوگوں کے دلوں سے ابھی جلاوطن نہیں ہوا ہے۔بعض فراق دلوں کے مستقل مکین ہو جاتے ہیں۔ بھٹوز کا درد بھی ایسا ہی ہے۔ جب تک محترمہ زندہ تھی تو لگتا تھا لہ وہ ایک روایتی سیاستدان ہے، مگر اب محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک لیجینڈ تھی۔اور آنے والی نسلوں کے لئے کسی دیومالائی کردار سے کم نہیں تھی۔لگتا ہے سندھ میں یہ کہانی نسل در نسل منتقل ہوتی رہے گی۔

پیپلزپارٹی بینظیر بھٹو کے بعد

  27 د سمبر ، 2019
پیپلزپارٹی بینظیر بھٹو کے بعد
سہیل سانگی
ایک پاکستان پیپلزپارٹی وہ تھی جس نے ذوالفقارعلی بھٹو کی قیادت میں عام لوگوں کو متحرک کیا اورلاکھوں کے مجمعے لگائے۔ بھٹو کو پھانسی لگنے کے بعد پیپلزپارٹی کی قیادت بینظیر بھٹو نے سنبھالی، ان کی رہنمائی میں جنرل ضیاء الحق کے خلاف ایم آرڈی کی تحریک چلائی، اور ہزاروں افراد پرمشتمل کئی میلوں تک ریلیاں نکالیں۔ پارٹی کا تیسرا دورآصف علی زرداری کی زیر قیادت رہا، جس میں مفاہمت اور جوڑ توڑ کی سیاست متعارف ہوئی۔ اب چوتھا دوربلاول بھٹو زرداری کا چل رہا ہے۔

بینظیر بھٹو ذہین اور پرکشش سیاسی رہنما اور ذات میں مزاحمت تھیں۔ بینظیر بھٹو کی موت ذوالفقار علی بھٹو کی موت سے کم نہ تھی۔  بھٹو کے بعد بینظیر نے پارٹی کی قیادت سنبھال لی تھی۔ بنظیر بھٹو نےعوامی اور مقبول سیاست تھی، جس میں کارکنوں کی سنی جاتی تھی۔  وزراء خواہ اراکین اسمبلی کارکنوں سے ڈرتے تھے کہ وہ کہیں "بی بی کو شکایت نہ لگا دیں۔"  
مشرف دورمیں لیاقت باغ راولپنڈی میں ایک جلسے کے بعد بینظیر بھٹو دہشتگردوں ہاتھوں قتل ہو گئیں۔ تو 

پارٹی کی قیادت بظاہران کے بیٹے بلاول بھٹو کو سونپ دی گئی۔ بلاول کم عمر تھے اورابھی برطانیہ میں زیر تعلیم تھے۔ لہٰذا عملی طور پر آصف علی زرادری پیپلزپارٹی کے سپریمو بن گئے۔
دو ہزار آٹھ  میں بینظیر کے بغیر ہونے والے پہلے انتخابات ہوئے۔ تو پاکستان کے لوگوں نے بینظیر بھٹو کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کو ہمدردی کا ووٹ دیا۔ اور پارٹی نے مرکز اور دو صوبوں میں حکومت بنالی۔

کچھ کامیابیاں کچھ الزامات
پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی پارٹی نے حکومت میں آئینی مدت مکمل کی، جسے زرداری کی مفاہمت کا نتیجہ قراردیاجاتا ہے۔ یہ تمام مدت پارٹی عدلیہ کے سخت دبائو میں رہی۔ مزاحمت کے بجائےمفاہمت کے باوجود سوئیز کیس میں پارٹی کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کوفارغ کردیا گیا۔ دوسرے وزیراعظم راجا پرویزاشرف کو رینٹل پاوراسکینڈل میں گھیر لیاگیا۔ میمو گیٹ اسکینڈل بھی سامنے آیا۔ پارٹی اور حکومت کا زیادہ تر وقت اپنا دفاع کرتے ہوئے گزرا۔
پیپلزپارٹی نے اس دورحکومت کے بعض کارنامے بھی ہیں۔ اٹھارویں آئینی ترمیم  منظورکر کے صدر کے اختیارات کم کئے اورصوبوں کے اختیارات بڑھائے۔ صوبہ سرحد کا نام پختونخوا رکھا۔ بلوچستان کا قومی مالیاتی ایوارڈ میں حصہ بڑھایا۔ بینظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعےوفاق سے براہ راست غریب لوگوں کو رقومات کی منتقلی کی۔ فہمیدہ مرزا پہلی خاتون اسپیکر اور شیری رحمان سینیٹ میں پہلی خاتون اپوزیشن لیڈر بنیں۔ پارٹی نے مسلم لیگ نواز کے ساتھ اتحاد کر کے مشرف کو مواخذہ سے ڈرایا تو وہ بھاگ گئے۔  
پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں کسی پر کشش رہنما کی عدم موجودگی میں عمران خان کو موقع ملا۔ 2013 کے انتخابات میں پیپلزپارٹی مرکز میں ہار گئی اورایک صوبے تک محدود ہوگئی۔ پنجاب میں شاہ محمود قریشی، سردار آصف احمد علی اوردیگر نصف درجن بااثرشخصیات نے پارٹی سے علحدگی اختیار کرلی۔
پیپلزپارٹی کےاس دور حکومت پر کرپشن اور خراب حکمرانی کے دھبے آئے۔ بلاول کی مشکل یہ تھی کہ وہ والد کی موجودگی میں پیپلزپارٹی کو بحال کر سکیں۔ 

زرداری کا سیاسی ماڈل
زرداری عوامی رہنما تو تھے نہیں، لہٰذا انہوں نے سیاست کا نیا ماڈل متعارف کرایا۔ یہ ذوالفقارعلی بھٹو اور بینظیر بھٹو کے ماڈل سے مختلف تھا جو کہ عوام میں یقین رکھتے تھے۔ پیپلزپارٹی کے ایک قریبی ذریعہ کا کہنا ہے کہ زرداری نے نوے کے عشرے کی سیاست سے سیکھا کہ اقتدار کے لئے جوڑ توڑ ضروری ہے۔ بینظیربھٹو کو عوامی حمایت ہمیشہ حاصل رہی لیکن لابنگ اورجوڑ توڑ کی وجہ سے انہیں حکومت سے آئوٹ کیا جاتا رہا۔ زرداری نے سیاست کے نئے ماڈل فن میں اتنی مہارت حاصل کر لی وہ جوڑ توڑ کے بادشاہ کہلانے لگے۔
پارٹی کو بھی نئے سیاسی ماڈل پر استوار کیا گیا۔ پارٹی کے کارکنوں کویہ پیغام دیا کہ روٹی کپڑا اور مکان کو بھول جائو، نظام سے فائدہ اٹھائو۔ اپنا ایک حلقہ اثر بنائو جوانتخابات کی میکنزم کو سمجھتا ہو اورالیکشن والے دن پولنگ اسٹیشن کو سنبھال سکے۔ اس کے نتیجے میں پارٹی کے اندرنظریاتی یا جیالے کارکنوں کی جگہ بینیفشریز کا ایک کلاس کھڑا کردیا گیا۔ جس پر پرانے جیالے کہنے لگے کہ پیپلزپارٹی بینظیر کی موت کے بعد یتیم ہوگئی۔

پنجاب راضی نہیں
زرداری کے مقامی انتظامات اور الیکٹ ایبل فارمولا سے پارٹی کو سندھ میں تو کامیابی ہوئی لیکن پنجاب میں یہ نسخہ نہیں چل پایا، لہٰذا پارٹی پنجاب کے شہری خواہ وسطی اور شمالی علاقوں میں صاف ہوگئی صرف ایک حد تک جنوبی پنجاب میں وجود برقرار رکھ پائی۔ صورتحال یہ بنی کہ دو ہزار تیرہ میں سندھ سے 65 نشستیں، پنجاب اور خیبر پختونخوا سے بالترتیب چھ اورتین نشستیں حاصل کیں۔  حالانکہ 2008 میں اس نے 97 نشستیں لی تھیں۔
پیپلزپارٹی کے لئے سب سے بڑا چیلینج  پنجاب میں واپس پائوں جمانا تھا۔ وہ پارٹی جس نے اٹھاسی کے انتخابات  سوئیپ کر لئے تھے آج اتنی سکڑ گئی ہے کہ پنجاب میں بمشکل تیسری قوت کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔
 یہ المیہ ہے کہ پنجاب آصف علی زرداری کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ بلاول بھٹو کو وطن واپسی کے بعد پنجاب میں رکھا گیا۔ وہاں گھر لیکر دیا گیا۔ اعتزازاحسن اور دیگر کے کہنے پر پارٹی نے عمل کیا لیکن کوئی کامیابی حاصل نہ کر سکی۔ پنجاب اپنا رخ تبدیل کر چکا تھا۔
بلاشبہ پارٹی کے ساتھ  یکساں سلوک نہ ہونا اور دھندلی بھی وجوہات رہیں، لیکن مکمل صفایا کے لئے یہ جواز ناکافی ہیں۔ کسی طرح سے اس بیانہ نے جگہ بنا لی کہ" پارٹی کرپٹ ہے اوراس نے عام لوگوں کو کچھ بھی نہیں دیا۔" اس کے مقابلے میں شہباز شریف نے کہا کہ "کام کو عزت دو۔"

سندھ روایتی قلعہ برقرار
دوہزار اٹھارہ کے انتخابات میں پارٹی قومی سطح پر تیسرے نمبر پر چلی گئی۔ اورعملا سندھ تک محدود ہوگئی ہے، جو پارٹی کا روایتی قلعہ رہا ہے۔ لیکن یہاں بھی شہری علاقوں میں وہ جگہ نہ بنا پائی جو بھٹو کے زمانے میں تھی۔ کیونکہ شہری علاقوں میں متعارف ہو چکی تھی۔
گزشتہ سال پارٹی نے بلوچستان میں زہری حکومت کو توڑنے اورصادق سنجرانی کوسینیٹ کا چیئرمین منتخب کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جس کے ملکی سیاست پرگہرے اثرات مرتب ہوئے۔  
سندھ تک محدود ہونے کے بعد پارٹی کے لئے سندھ حکومت اہم ہوگئی ہے۔ گزشتہ چار سال سے پارٹی سندھ حکومت وفاق سے محاذ آرائی میں ہے۔ پارٹی کے ساتھ ساتھ سندھ حکومت پر بھی عدالتی دبائو ابھی تک چل رہا ہے۔
جعلی اکائونٹس اورمنی لانڈرنگ کے کیس نے پارٹی قیادت بلکہ پارٹی کی سندھ میں حکومت کو چیلینج میں ڈال دیا ہے۔ وہ احتساب کے عمل کو یک طرفہ کہتے ہیں۔ اب وہ پنجاب میں پارٹی بحال کریں یا سندھ میں پارٹی قیادت پر لگائے گئے کرپشن کے الزامات کا دفاع کریں۔

اب بلاول بھٹو
آج بھی پیپلزپارٹی واحد پارٹی ہے جو نظری اعتبار سے جمہوری آزادیوں، وفاقیت، تمام شہریوں کی برابری اور صوبوں خواہ خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کی بات کرتی ہے۔ لیکن اب بھی پارٹی کارکنوں کے اجلاس بھی بلاول ہائوس میں ہوتے ہیں جہاں کارکن چل کر آتے ہیں۔
آصف زرداری کی گرفتاری، بیماری اور سنیئر سیاستدانوں کو مائنس کرنے کے فارمولا کے "نفاذ" کے بعد پارٹی کی قیادت اب بلاول بھٹو کے پاس ہے۔ لیکن انہیں بھی نیب بلا رہا ہے۔ شاید ان پربھی کوئی داغ لگانے کا منصوبہ ہے۔  


Wednesday, December 25, 2019

چلو مشرف کے حامیوں کوآئین تو یاد آیا

سہیل سانگی  
نواز شریف کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر جنرل مشرف نے اقتدار میں آٹھ سال گزارنے پر اکتفا نہیں کیا وہ  وردی میں ہی رہ کر مزید عرصہ حکومت کرنا چاہتے تھے۔لہٰذا  انہوں نے تین نومبر 2007 کو ملک میں ایک بار پھر ایمرجنسی نافذ کردی۔ تین نومبر سے پندرہ دسمبرتک- بیالیس روز آئین معطل رہا کئی جج بشمول چیف جسٹس نظربند کر دیئے گئے۔ میڈیا پر پابندی لاگو کردی گئی۔ ملک کو عبوری آئینی حکم نامے کے تحت چلایا جانے لگا۔ اس غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام سے ملک میں بحران پیدا ہو گیا۔ جس نے مشرف کو پہلے اقتدار سے اور بعد میں ملک سے ہی باہر نکال دیا۔ 
 مشرف نے بڑھتی ہوئی دہشتگردی اورعدلیہ کی انتظامی امور میں مداخلت کو ایمرجنسی کے نفاذ کے لئے  بطورجواز بتایا۔ لیکن آ اس پر کوئی بات نہیں کی جارہی کہ یہ جواز کتنا جائز تھا۔ 
پرویز مشرف نے نواز شریف کو ہٹانے کے بعد ابتدائی طور وہ چیف ایگزیکیٹو بنے۔ پہلی مرتبہ صدر رفیق احمد تارڑ کو ہٹاکر خود کو صدر مقرر کیا۔ د دوسری مرتبہ  تیس اپریل  2002 کو ریفرینڈم کے ذریعے خود کو صدر منتخب کرالیا، حالانکہ ریفرینڈم کے ذریعے صدر منتخب کرنے کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں تھی۔ ریفرینڈم کا سوال نامہ ضیا ء الحق کے سوالنامے جیسا تھا، جس میں کوئی متبادل جواب کی گنجائش نہیں تھی۔ ریفرینڈم میں بھی وہ سوال نہیں تھا جس کا بعد میں مشرف نے جواز بنا کر ایمرجنسی نافذ کی۔ 
 تیسری مرمیں وہ تین بار صدر ہوئے۔ تبہ صدر بن رہے تھے تو عدالت آڑے آگئی۔  مارچ 2007 میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو مبہم الزامات کے تحت ہٹایا تو وکلاء نے اس اقدام کوعدلیہ کی آزادی پر حملہ قراردیا اوراس خلاف ملک بھر میں تحریک چلائی۔ 
جولائی 2007 میں سپریم کورٹ کی تیرہ رکنی بنچ نے جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بحال کردیا۔ پہلی مرتبہ ججز نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ 
2007 کے صدارتی انتخاب کے موقع پر جنرل مشرف کے مخالف امیدوار ریٹائرڈ جسٹس وجیہ الدین احمد کی درخواست پر سوال کھڑا ہوا کہ کیا مسلح افواج کا رکن آئینی طور پر صدارتی انتخاب لڑسکتا ہے؟  سپریم کورٹ نے اگرچہ مشرف کوراستہ تو دیا لیکن الیکشن کمیشن کو پابند کیا کہ وہ عدالت سے حتمی فیصلے تک کامیاب  صدارتی امیدوار کا  سرکاری طور پر اعلان نہ کیاجائے۔ صدارتی انتخاب جنرل مشرف جیت گئے۔ 
اس سے پہلے کہ عدالت کسی نتیجے پر پہنچتی، 3 نومبر کی شام  جنرل مشرف نے بطور آرمی چیف ایمرجنسی کا نفاذ کردیا۔ ملک کے آئین کو معطل کر کے عبوری آئینی حکم جاری کردیا۔ 
ایمرجنسی نافذ کے وقت جنرل مشرف کے پاس صدر اورآرمی چیف دونوں عہدے تھے۔جنرل مشرف  کے ان دو اقدامات کے خلاف ملک بھر میں شدید ردعمل ہوا۔ عالمی قوتوں نے بھی اس اقدام کی مخالفت کی۔ دباؤ کے جواب میں مشرف نے کہا کہ اگر ان کے صدارتی انتخاب لڑنے دیا جائے تو وہ آرمی کا عہدہ چھوڑنے کے لئے تیار ہیں۔اس  اعتراف کے بعد کوئی کیسے مشرف کا دفاع کر سکتا ہے کہ اداروں کو اپنے عہدے کے لئے استعمال کر رہا تھا۔ 
ایمرجنسی کے پچیس روز بعد انہوں نے آرمی چیف کا عہدہ جنرل کیانی کے حوالے کیا اورصدر کے عہدے کا حلف اٹھا کر فل ٹائیم سیاستدان بن بیٹھے۔ صدر کے عہدے کا حلف لینے کے اٹھارہ روز بعد انہوں نے عبوری آئینی حکمنامہ واپس لیا۔  2008 کے انتخابات کے بعدنواز لیگ اور پیپلزپارٹی کی جانب سے مواخذہ  سے  ڈر کرانہوں نے استعیفا دے دیا۔ 
گیارہ ماہ بعد سپریم کورٹ نے ایمرجنسی خواہ عبوری آئینی حکمنامے کو غیرآئینی قرار دیا۔ عدالت نے مشرف کو اپنی صفائی پیش کرنے کے لئے بلایا، لیکن وہ لندن روانہ ہو گئے۔  
2013کے الیکشن سے قبل سینیٹ نے متفقہ قرارداد منظور کر کے مطالبہ کیا گیا کہ پرویز مشرف کے خلاف آئین کی دفعہ چھ کے تحت غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔
آج  ایم کیو ایم سندھ میں ریلی نکال رہی ہے چوہدری برادران بھی سزا کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اس قرارداد کے وقت مسلم لیگ (ق)  اورایم کیو ایم خاموش تھی۔ الیکشن کے بعد نواز شریف وزیراعظم بنے تو عمران خان  طعنے دیتے رہے مشرف کے خلاف آئین سے غداری کا مقدمہ کیوں نہیں چلایا جارہا۔
 جب حکومت نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر مقدمہ چلانے کا اعلان کیا تو رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر عارف علوی نے  مشرف کے خلاف مقدمے کا خیر مقدم کیا۔2014میں مقدمے کی سماعت شروع ہوئی۔ اُس وقت کے سیکرٹری دفاع آصف یاسین ملک نے ایک بیان میں کہا کہ فوج کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں۔ تاہم جنرل راحیل شریف فوج کے سربراہ بنے تو اُنہوں نے مشرف کو بچانے کی کوشش کی جس کا اعتراف مشرف ایک ٹی وی انٹرویو میں بھی کرچکے ہیں۔تب چوہدری  برادران کہہ رہے تھے کہ اکیلے پرویز مشرف پر مقدمہ نہ چلایا جائے بلکہ اُن کے ساتھ کچھ شریک ملزمان پر بھی مقدمہ چلایا جائے۔دراصل سیاسی جماعتیں مشرف کو آئین شکن سمجھ رہی تھی اور سیاسی طور پر ان کی حمایت موجود نہ تھی۔اب اگر کوئی سیاسی جماعت  یو ٹرن لے رہی ہے تو یہ سیاسی مصلحت پسندی ہے۔ 
17دسمبر 2019کو خصوصی عدالت نے جو فیصلہ دیا ہے وہ 31جولائی 2009کو سپریم کورٹ کے فیصلے کا تسلسل ہے جس میں کہا گیا تھا کہ مشرف نے صرف اپنا عہدہ بچانے کے لئے آئین معطل کیا۔ مشرف کے خلاف فیصلہ میں جب کوئی سقم نہیں ملا تو تین رکنی خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس وقار احمد سیٹھ کے  پیرا 66کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اس پیرا میں لکھا  ہے کہ اگر مشرف کی سزائے موت پر عملدرآمد نہیں ہوتا تو  بعد از مرگ اُنہیں ڈی چوک اسلام آباد میں لایا جائے اور یہاں اُن کی لاش تین دن تک لٹکائی جائے۔ 
چلو پیرا 66کی وجہ سے مشرف کے حامیوں کوانسانی حقوق اورآئین تو یاد آیا۔ پرویز مشرف آئین پاکستان کو کاغذ کا ٹکڑا سمجھ کر ڈسٹ بن میں پھینکنے کی بات کرتے تھے،آج انہیں اسی کاغذ کے ٹکڑے کی طاقت کا اندازہ ہوگیا ہوگا،پارلیمنٹ سپریم ہے،عدلیہ سمیت دیگر ادارے آئین و قانون کے تابع اور اپنے متعین کردہ دائرہ اختیار میں رہنے کے پابند ہیں، 

Monday, December 23, 2019

تاریخ کو درست ہونے دی

https://www.naibaat.pk/19-Dec-2019/28469
گزشتہ دو ہفتوں کے دوران دو عدالتی فیصلے آئے ہیں جن پر ملک میں بحث کی جارہی ہے۔ ایک فیصلہ سابق آرمی چیف کی سزا اور دوسرا موجودہ آرمی چیف کی توسیع سے متعلق ہے ۔ زیادہ بحث سابق آرمی چیف سے متعلق فیصلے پر ہو رہی ہے۔ سابق آرمی چیف کی سزا پر افواجِ پاکستان کے ترجمان کی طرف سے غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ خصوصی عدالت نے سابق آرمی چیف کو آئین شکنی کی پاداش میںسزائے موت سنائی ہے۔ حکومت انہیں سزا سے بچانے کے جتن کر رہی ہے۔ عوامی اور سیاسی حلقوں میں اس سزا کو پسند کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے کہ طویل عرصے تک آمریت کے سیاہ سایے میں رہنے والے ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی آمر کو سزا ملی ہے۔آمریت جس کی وجہ سے عوام کو معاشی، سیاسی، سماجی اور آزادی سے کئی متعلق مصائب کا سامنا کرنا پڑا ، جس کی وجہ آدھا ملک ہم سے الگ ہو گیا۔اب امید ہو چلی ہے کہ آئندہ ملک میں جمہوریت ڈٰ ی ریل نہیں ہوگی۔ یہاں ہم اس بحث میں نہیں جاتے کہ جسٹس حمودالرحمٰن کمیشن نے کیا رپورٹ دی تھی کی کہ جنرل یحییٰ خان، جنرل عبدالحمید، جنرل ایم ایم پیرزادہ، جنرل گل حسن، میجر جنرل عمر، جنرل مٹھا کے لئے کہا تھا کہ فیلڈ مارشل ایوب خان سے غیر قانونی طور پر اقتدار غصب کرنے پر ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔

پاکستان کی تاریخ میں پانچ مرتبہ آئین توڑنے کا ’’ناپسندیدہ‘‘ عمل ہوا، جو سنگین غداری کے دائرے میں آتا ہے۔ جنرل مشرف دو مرتبہ اس عمل کے مرتکب ہوئے۔ عجیب بات ہے کہ ملک کا آئین نہ خود کبھی اپنا تحفظ کر سکا نہ جمہوریت اور جمہوری اداروں کا۔ آئین شکن آمروں کو سزا دینے کے برعکس آمر ہر مرتبہ اپنا آئینی تحفظ حاصل کرتے رہے۔
جنرل ضیاء نے 1977میں آئین توڑا، لیکن ان پر سنگین غداری کا مقدمہ نہیں چل سکا۔ کیونکہ 1985کی قومی اسمبلی سے انہوں نے اس آئین شکنی کو آٹھویں ترمیم کے ذریعہ تحفظ حاصل کرلیا۔ مزید یہ کہ ضیاٗ الحق کی موت کے بعدبینظیر بھٹو کو شرائط پر حکومت بنانے دی گئی تھی۔ چونکہ ضیاء پر مقدمہ نہ چل سکا، لہٰذا جنرل پرویز مشرف نے بھی1999میں آئین توڑا۔ اُنہوں نے 2002کی اسمبلی سے 17ویں ترمیم کے ذریعہ پناہ حاصل کر لی ۔مشرف نے 2007میں آئین کو معطل کیا جس سے وفاداری کا حلف انہوں نے اُٹھایا تھا۔ لیکن 2008کی اسمبلی نے اُنہیں تحفظ نہیں دیا۔ 2009میں سپریم کورٹ نے اُنہیں غاصب قرار دے کر اُن پر آئین سے بغاوت کا مقدمہ چلانے کا حکم دیا۔
آئین کی دفعہ کے مطابق ’’کوئی بھی شخص جو طاقت کے استعمال یا طاقت سے یا کسی اور غیرآئینی طریقے سے آئین منسوخ کرے یا اُسے معطل کرے یا اُسے منسوخ کرنے کی سازش کرے تو سنگین غداری کا مجرم ہوگا‘‘۔مشرف نے نومبر 2007 کو آئین معطل کیا۔ اس حقیقت کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔ اور اسی الزام پر ان کو عدالت نے سزا سنائی ہے ۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ پرویز مشرف کا یہ اقدام اپنے عہدے کی مدت میں خود توسیع کرنے کے بعد کا ہے۔ حال ہی سپریم کورٹ توسیع کے معاملہ پر سوالات اٹھا چکی ہے۔

پاکستان میں غداری کے سرٹیفکیٹ ایک طویل عرصے سے تقسیم ہوتے رہے ہیں۔ لیکن یہ سب سیاسی الزامات تھے۔یہ پہلا موقع ہے کہ عدالت نے کسی کو آئین سے غداری کا مجرم ٹھہرایا ہے۔ یہ ایک اعلیٰ عدالت کا فیصلہ ہے، جس کے باقی فیصلے بھی تسلیم کئے جاتے رہے ہیں۔
ملک کے عوام آئین کا احترام اور بالادستی چاہتے ہیں، جس کا اظہار متعدد مواقع پر مختلف طریقوں سے کر چکے ہیں۔ اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا جانا چاہئے کہ پرویز مشرف 12 سال قبل اس کی ملازمت سے ریٹائر ہو چکے۔ اب ان کی حیثیت عام شہری کی سی ہے اور وہ اپنی پینشن بھی سویلین اکائونٹ سے لیتے ہیں۔ بلکہ انہوں نے ایک سویلین کی طرح ایک سیاسی جماعت بھی بنا رکھی ہے۔ اس کو ایک سویلین کی طرح ہی لینا چاہئے۔ انہیں بطور پاکستان کے عام شہری کے وہ تمام حقوق حاصل ہیں وہ سزا کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل میں جاسکتے ہیں۔
جہاں تک حکومت کا معاملہ ہے اپوزیشن کے زمانے میں عمران خان مشرف کے ٹرائل کا مطالبہ کرتے رہے ۔لیکن اب ان کی حکومت کھل کر مشرف کی حمایت کر رہی ہے۔ مشرف کے خلاف سنائے جانے والے فیصلے پر بڑا اعتراض یہ ہے کہ اُن کا ساتھ دینے والوں کو سزا کیوں نہیں ملی؟ حکومت چاہے تو کچھ شریک ملزمان پر مقدمہ بنا سکتی ہے۔ اگرچہ اس اعتراض میں بھی کوئی زیادہ وزن نہیں کہ مشرف کو دفاع کا موقعہ نہیں دیا گیا۔ تاہم یہ معاملہ عدالت میں اپیل میں اٹھایا جاسکتا ہے، اور وہیں اٹھانا چاہئے۔ اس کے لئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔ مشرف کے وکلا اس فیصلے پر اپیل دائر کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ اپیل کے بعد بھی اگر فیصلہ برقرار رہتا ہے تو سزائے موت کو عمر قید میں بدلنا صدرِ مملکت کا اختیار ہے۔ بہتر ہے کہ عدالتی اور قانونی طریقہ اختیار کریں جو باوقار طریقہ ہے۔اس فیصلے کو الجھانے سے مزید الجھاوے پیدا ہونگے جو سلجھائے نہیں سلجھیں گے۔

وقت اور تاریخ فیصلوں کو درست کرتی رہتی ہے۔ امید ہو چلی ہے کہ پاکستان کی تاریخ کا رخ صحیح سمت میں جارہا ہے۔ اس فیصلے پر عمل درآمد ہو یا نہ ہو، اس کی ایک علامتی حیثیت ضرور ہے کہ آئین کو کوئی بھی طالع آزما توڑ نہیں سکتا۔ اگر توڑے گا تو کبھی نہ کبھی اس کی باری ضرور آئے گی۔ 

سندھ، طلباء یونین کی بحالی کے لیے قانون سازی

 سہیل سانگی
سندھ  میں طلباء یونین بحال کرنے کے لئے قانون سازی کی جارہی ہے۔ طلباء یونین کے بارے میں سندھ اسمبلی میں پیش کیا گیا بل اسٹینڈنگ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے۔  صوبائی حکمران جماعت نے اقدام  
گزشتہ ماہ ملک  بھر میں نوجوانوں  کے طلباء یونین کی بحالی کے لئے مارچ  کے جواب میں پیش کیا گیا ہے۔ طلباء مارچ کے موقع پر پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے ان کے حق میں ٹوئیٹ کیا تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی طلباء یونین کی بحالی کی حمایت کی تھی۔ لیکن ان کی طرف سے پنجاب یا خیبر پختونخوا میں کوئی عملی قدم سامنے نہیں آیا۔  طلباء مارچ میں یونین  کی بحالی کے ساتھ ساتھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی فنڈز میں کمی، فیسوں میں اضافے، ہوسٹلز سے متعلق مطالبات بھی اٹھائے گئے تھے۔ یہ وہ مطالبات ہیں جو  طلباء یونین اٹھاتی تھی۔ 
جنرل ضیاء الحق نے 1984 میں ایک مارشل لاء آرڈر کے ذریعے طلباء یونینز پر پابندی لگائی تھی۔  تعجب کی بات ہے کہ  اس پابندی کے خلاف کسی سیاسی جماعت کا مذمتی بیان ریکارڈ پر موجود نہیں۔ یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ کراچی اوربعض دیگر شہروں میں طلباء نے اس پابندی کے خلاف ایک سو ر وز تک احتجاج بھی کیا۔ جس کا سیاسی جماعتوں نے بھی کوئی نوٹس نہیں لیا۔ طلبا یونین کی عدم موجودگی پاکستان کی تعلیم، معاشرے اور سیاست کے لئے تباہ کن ثابت ہوئی۔ ضیاء کو کئی عشرے گزر گئے لیکن اس حکم کو نہیں بدلا جاسکا۔  یہ پابندی جاری ہے۔  
پیپلزپارٹی کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی  نے بیان تو دیا لیکن عملی طور پر اقدامات نہ کر سکے۔اب طلباء سے داخلے کے وقت حلف نامہ لیا جاتا ہے کہ وہ کوئی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیں گے۔  اصل میں   ضیاء الحق طلباء کی مزحمت سے خوفزدہ تھے۔ بہانہ یہ بنایاگیا کہ یونین کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں پرتشدد واقعات ہوتے ہیں اور تعلیمی نظام تاثر ہوتا ہے لہٰذا طلباء سیاست پر مکمل  پابندی لگا دی جائے۔ یوں کیمپس غیر سیاسی ہوتے گئے۔  سندھ اور بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں  قانون نافذ کرنے والے تعینات ہو گئے۔  دوسری طرف جامعات میں اساتذہ،  ملازمین  اور افسران کی تنظیمیں ابھریں۔  اور ان کو جامعات خواہ حکومت نے بطور فریق مان بھی لیا۔ تعلیم کے سب سے بڑے فریق طالب علم کو بغیر نمائندگی کے رکھا گیا۔ 
طلباء یونین ایک ادارہ ہیں جس میں مختلف تنظیمیں ووٹ کے ذریعے منتخب ہو تی تھی۔  جو طلباء کے مسائل پیش کرتی تھی۔  جہاں تک تعلیمی اداروں میں اسلح کا معاملہ ہے۔  و ہ خود ریاست کی حمایت یافتہ ہے۔  جس کا مقصد ترقی پسند طلباء کو نشانہ بنانا تھا۔  پھر  یہ تشدد  طلباء تنظیموں پر قابو پانے کے لئے  استعمال ہوا۔  ساٹھ اور ستر کے عشرے میں نظریاتی مقابلہ تھا جو بعد میں ذاتی اور  طاقتور  افراد کی طرف منتقل ہو گیا۔ کسی تنظیم  کے جائے  افراد کو ہینڈل کرناحکومت اور ریاستی اداروں  کے لئے آسان تھا۔  
یہ درست ہے کہ یونینز میں طلباء تنظیموں کے حامی یا نامزد افراد  امیدوار ہوتے تھے، لیکن یہ تنظیمیں ایسے امیدوار کھڑا کرتی تھی جو مقبول ہو یاتعلیمی ادارے کے زیادہ سے  زیادہطلباء کے لئے قابل قبول ہو۔  لہٰذا یونین میں آنے والوں کو  دوسرے کو برداشت کرنا سکھاتی تھی، اور یہ پیغام نیچے عام طالب علم تک بھی جاتا تھا۔اس سے خود طلباء تنظیموں کی بھی سوشل آڈٹ ہوتی تھی کہ کل انہیں ووٹ لینے کے لئے عام طالب علم سے رجوع کرنا ہے۔  بعد میں کیا ہوا؟  منتخب نمائندوں  اور طلباء تنظیموں کی سوشل آڈت کی عدم موجودگی میں  کوئی چیک اینڈ بلینس نہیں رہا۔ جامعات میں عدم برداشت بڑھا۔  یہ بھی سب نے مشاہدہ کیا کہ طلباء یونین پر پابندی سے تعلیمی معیار تو نہیں بڑھا  اور نہ ہی وہ امن  جس کے نام پر پابندی لگائی گی تھی۔
ابھی سندھ حکومت نے طلباء یونین کی بحالی کے لئے جو مسودہ پیش کیا ہے،  اس میں طلباء  یونین کو ایسوسی ایشن کی طرح رکھا گیا ہے۔  طلباء یونین کے نمائندوں کی  جامعات کے فیصلہ ساز یا انتظامی اداروں میں نمائندگی کو تسلیم نہیں کیا گیاہے۔  جبکہ یونین کو متعلقہ ادارے کے ماتحت رکھا ہوا ہے۔ 
اس موضوع پر کراچی حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہروں میں طلباء اور سابق طلباء یونین خواہ طلباء تنظیموں کے عہدیداران  کے مشاورتی اجلاس ہورہے ہیں۔  مشاورتی اجلاسوں میں یہ بات سامنے آئی کہ   پہلے قانون کے تحت ہر یونیورسٹی کے اپنے قوائدو ضوابط ہوتے تھے۔ لیکن مجموعی طوپر رہنما اصول موجود تھے۔ کراچی یونیورسٹی کی یونین تین سطحوں پر نمائندگی رکھتی تھی۔منتخب عہدیداران کے علاوہ ہر شعبہ سے نمائندے منتخب کیے جاتے تھے۔یہ نمائندگی فیکلٹی کی تعداد کے حساب سے ہوتی تھی۔ شعبوں کے سطح پر کونسل بنتی تھی جس میں کونسلرز کا انتخاب ہوتا تھا، جتنا بڑا شعبہ اتنے ہی زیادہ کونسلرز۔ان کونسلرز کا ایک سپیکر منتخب ہوتا تھا۔ یونین اپنے مسائل کونسل میں پیش کرتی تھی۔ یونیورسٹی سے منسلک کالجز میں بھی یونین ہوتی تھی اور اس کی کونسل اور سپیکر منتخب ہوتے تھے۔ ان کالجز کی ایک انٹر کالج باڈی بنتی تھی جس کے صدر، جنرل سیکرٹری اور کونسل ممبران ہوتے تھے۔طلبا یونین کے امیدوار کے لیے یہ لازم تھا کہ وہ کبھی امتحانات میں فیل نہ ہوا ہو۔ یونیورسٹی کی ایک کمیٹی الیکشن کی نگرانی کرتی تھی اور 10 سے 15 روز میں انتخابات منعقد ہوتے تھے۔ 
سنہ 1984 تک اس ادارے میں طلبا تنظیموں کی بھی نمائندگی ہوتی تھی۔ یونیورسٹی کی یونین کا صدر اور یونیورسٹی سے منسلک کالجز کا صدر رکن ہوتے تھے۔طلبا کے کئی مسائل یونین خود حل کرتی تھی۔ ٹرانسپورٹ کا انتظام یونین کے پاس ہوتا تھا۔ طلبہ کا ہفتہ منایا جاتا جس میں پاکستان بھر کی بڑی شخصیات سے طلبا کا تعارف کرایا جاتا۔طلبا یونین اپنے مطالبات کے لیے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرتے تھے۔  چارٹر آف ڈیمانڈ میں زیادہ تر مطالبات جامعات اور کالجز کی گرانٹس بڑھانا، فیسوں میں کمی، کتابیں اور لائبریوں اور اساتذہ کی تعداد میں اضافے سے متعلق ہوتے تھے۔
نئی قانون سای کے  بارے میں منعقدہ اجلاسوں میں طلباء یونین کی زیادہ خود مختاری کی بات کر رہے ہیں۔  یہ رائے سامنے آرہی ہے کہ کہ ایسوسی ایشن کے طور پر اگر طلباء یونین بحال نہیں ہوتی تو یہ کنٹرولڈ ڈیموکریسی جیسی شکل ہوگی  اور یونین کو صرف بعض غیر نصابی اور سماجی سرگرمیوں تک محدود کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس کام کے لئے ویسے بھی ملک کا آئین ہر شہری کو تنظیم سازی کا حق دیتا ہے۔ طلبا یونین کے حوالے سے حکومت کے سامنے  بعض بڑے چیلینجز بھی ہیں۔
اگرچہ مجوزہ بل میں سرکاری خواہ نجی تعلیمی اداروں میں طلباء یونین قائم کرنے کا ذکر موجود ہے۔  نجی شعبے نے بڑے  پیمانے پر سرمایہ کاری کی، جس کے اپنے مفادات ہیں اور وہ اس سے قبل بھی حکومت کی تعلیم سے متعلق پالیسیوں پر اثرانداز ہوتا رہا ہے۔ نجی شعبے میں چلنے والے جامعات  اپنے انتظامی امور میں یونین سازی اور اس کے اختیارات کو مداخلت سمجھیں گے۔ بعض سابق یونین کے عہدیداران کا خیال ہے کہ  حکومت کے لئے یہ بھی چیلینج ہے کہ معاشرے کے مختلف شعبوں میں مختلف اداروں کی مداخلت  کی وجہ سے نئی قانون سازی ایک مشکل کام ہے۔ مزید یہ کہ آج کا طالب علم کیا چاہتا ہے اس کا فیصلہ خود اس کوکرنے دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ  س نئی قانون سازی میں جانے  سے معاملہ اور الجھے گا اور اس میں غیر ضروری تاخیر ہوگی۔اس کے بجائے پرانے قانون اور ضوابط کے ساتھ عمل شروع کردیا جائے۔  دیکھنا یہ ہے کہ سندھ حکومت واقعی طلباء یونی بحال کرتی ہے یا معاملے کو قانون سازی میں پھنسائے رکھتی ہے۔ 


Wednesday, December 18, 2019

جی ڈی اے کا چارٹر آف ڈیمانڈ اور عمران خان

https://www.naibaat.pk/16-Dec-2019/28413
میرے دل میرے مسافر   سہیل سانگی
ڈیرھ سال حکومت کے بعد وزیراعظم عمران خان نے سندھ میں موجود اپنے سیاسی اتحادیوں کو ملاقات کا وقت دیا۔  وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران  جی ڈی اے رہنما ایاز لطیف پلیجو نے پندرہ نکاتی  چارٹر آف ڈمانڈ  پیش کیا جس میں کہا گیا ہے کہ سندھ میں جہالت، کرپشن، تشدد اور خراب حکمرانی کے خاتمے کے لئے منصوبہ بندی کیا جائے۔  وفاقی ملازمتوں، ترقی اور صنعتی پیکیج کا اعلان کیا جائے۔ سی پیک میں پورا حصہ دیا جائے، سندھ میں غٰر قانونی مقیم تارکین وطن کو واپس ان کے ممالک میں بھیجا جائے۔  پانی کی تقسیم میں سندھ کے ساتھ بینالاقوامی  قانون کے تحت انصاف کیا جائے۔  دریائے سندھ پر کوئی ڈیم یا کینال نہ بنایا جائے۔  
 پیر پاگارا کی قیادت میں قائم  یہ اتحاد مختلف  بااثر افراد، گروپوں اور جماعتوں پر مشتمل ہے، جس کا ایک نکاتی ایجنڈا پیپلزپارٹی کی مخالفت ہے۔ یہ مخالفت ک بھی صرف انتخابات کے موقع پر کی جاتی ہے۔ اس کے بعد ہر فرد اور گروپ اپنے طور پر کام کرتا رہتا ہے۔ باقی تمام عرصہ غیر فعال ہونے کی وجہ سے نہ اس اتحاد کی مربوط پالیسی بنتی ہے اور نہ عوام کے مسائل کے لئے آواز اٹھا پاتا ہے۔ 
جب انتخابات سر پر آتے ہیں  یہ سوال سامنے آتا ہے کہ سندھ میں کوئی موثر متبادل نہیں۔لہٰذا پیپلزپارٹی کو ہی قبول کر لیا جاتا ہے۔پیپلزپارٹی پر ایک طرف یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ وڈیروں کی پارٹی ہے، لیکن اس کے متبادل کے طور پر آنے والے پیپلزپارٹی سے بھی زیاادہ وڈیرے ہیں۔ سیاسی طاقت زمینداروں، گدی نشینوں  کے گرد گھومتی ہے جو صرف  اپنے سیاسی خواہ  معاشی مفادات کو ہی دیکھتے ہیں۔ ان میں سے کچھ پیپلزپارٹی میں ہیں کچھ اس کے مخالف لابی میں ہیں۔ ایسے میں کوئی نئی لہر جو عوام کو پرانی زنجیروں سے آزاد کر پائے ایک خواب سا لگتا ہے۔ یہ دلچسپ امر ہے کہ وفاقی حکومت میں سندھ سے حکومت کے پارلیمانی اتحادی ایم کیو ایم اور فنکشنل لیگ جبکہ  قومی عوامی تحریک وغیرہ صرف سیاسی اتحادی سمجھی  جاتی ہے۔
وفاقی حکومت کے حامی گرینڈ  ڈیموکریٹک  الائنس  کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ اس اتحادنے دو  انتخابات لڑے لیکن اسے کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کرسکا۔  بلکہ وقت کے ساتھ اس کی مقبولیت میں کمی آئی۔ اسمبلی میں اس کی نشستیں کم ہوئیں، ووٹ بینک سکڑا۔ یہاں تک کہ اتحاد میں شامل جماعتوں کے تعداد میں بھی کمی واقع ہوئی۔  اب صوبائی خواہ قومی اسمبلی میں اس کی چھوٹی سی نمائندگی ہے۔  سیاسی طور پر قومی عوامی تحریک  کے سرگرم ہونے کی وجہ سے نظرآتا ہے جن کی خواہش ہے کہ یہ اتحاد  انتخابات کی موسم کے علاوہ بھی نظر آئے۔ یاز لطیف پلیجو  جی ڈی اے کے باقی افراد  سے مختلف ہیں،  ان کی تربیت سیاسی کارکن  کی ہے، جو عوام کو سرگرم کرتا ہے اور اس سے رول ادا کراتا ہے۔  جبکہ اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں و افراد  ان سے مختلف ہیں۔ جن کو عوام صرف انتخابات کے موقع پر ہی یا آتے ہیں۔  ایاز لطیف پلیجو کو گرینڈ نیشنل الائنس  میں رہ کر کئی چیلینجز کا سامنا ہے۔ ایک طرف  وہ خود اور یہ اتحاد سندھ کے عوام کے بھلے کے لئے کوئی موثر کردار ادا نہیں کرپارہا ہے۔  اس کی وجہ اس اتحاد میں شامل افراد و گروپوں کی روز مرہ کے مسائل سے لاتعلقی ہے،  وہ خود کو صرف پارلیمنٹ کی حد تک محدود رکھے ہوئے ہی ں لیکن وہاں بھی کوئی موثر کردار ادا نہیں کر رہے ہیں۔  دوسرا یہ کہ ان کی اپنی ترقی پسندانہ  امیج کو نقصان پہنچ رہا، کیونکہ وہ ایک ایسے اتحاد کا حصہ ہے  جو سندھ میں رجعتی  سیاست  کی علامت سمجھے جاتے ہیں اور جمہوری حکومتوں کو  خلاف رہے ہیں۔  ایاز لطیف پلیجو کو مشکل صورتحال درپیش تھی لہٰذا انہوں نے حال ہی میں جی ڈی اے کے ایک وفد  کے ساتھ زیراعظم عمران خان سے ملاقات  کر کے انہیں 15 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا۔  یہ درست ہے کہ یہ  چارٹر ایاز لطیف پلیجو یا س طرح کے دیگر افراد نے اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لئے کیا  لیکن یہ  حکمران جماعت تحریک انصاف کو یاد دلاتا ہے کہ وہ سندھ کے عوام کو درپیش  سنجیدہ مسائل   ہیں جس میں وفاقی حکومت کا بھی رول ہے۔ بظاہر  ان مسائل کو وفاقی حکومت پیپلزپارٹی اور سندھ حکومت کے کھاتے میں ڈال کر اپنی ذمہ داریوں سے بری ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔   
وزیراعظم کو پیش کئے گئے ان مطالبات کے حوالے سے دو باتیں انتہائی اہم ہیں۔ اول یہ کی  یہ مطالبات ٹھوس شواہد، اعدا وشمار  اور ان کے حل کے فریم ورک کے بغیر پیش کئے گئے ہیں۔لہٰذا ان مطالبات  پر سنجیدہ غور کا امکان کم نظر آتا ہے۔ دوم  یہ کہ ان مطالبات کو گرینڈ ڈیموکریٹک  الائنس کی اعلیٰ قیادت اور دیگر اہم اراکین کی کتنی حمایت حاصل ہے؟  
چارٹر آف ڈیمانڈ میں تیل، گیس کے قدرتی وسائل کی آمدنی سندھ کو منتقل کرنے کامطالبہ اہم ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد قدرتی وسائل  صوبائی اختیا ہے پھر وفاق اس کی انتظام کاری اور کنٹرول کے لئے محکمے اور ادارے کیوں باقی رکھے ہوئے ہے؟  ان شعبوں ابھی تک وہ فیصلے کئے جارہے ہیں جن کا  انہیں آئینی طور پر اختیار ہی نہیں۔  لاڑکانہ میں ایچ آئی وی  پھیلنے  کی ہنگامی صورتحال پر وفاقی حکومت  نے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔گرینڈ الائنس نے  وفاقی حکومت کو مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔  ایک اور مطالبہ پسماندہ علاقوں کی ترقی میں وفاقی حکومت کا رول  سے متعلق ہے۔ تھر میں قحط، بارشوں کی تباہی اور ٹڈی  دل  کے حملے کی ہنگامی صورتحال پر بھی  وفاق کا رول  نظر نہیں آیا۔ مطلب اگر سندھ میں کہیں ہنگامی صورتحال بھی پیدا ہوتی ہے تو وہاں بھی وفاقی حکومت نہیں پہنچتی۔  سندھ کے بارے میں جو مطالبات جی ڈیٰ اے نے پیش کئے ہیں وہی مطالبات پیپلزپارٹی بطور پارٹی اورصوبائی حکومت کے وقت بوقت وفاق سے کرتی رہی ہے۔  
اگر ان مطالبات کو فریم ورک میں لایا جائے  تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ وفاق نے سندھ میں ترقایتی منصوبوں  کے لئے تحریک انصاف حکومت نے  کم  پیسے مختص کئے۔ مشترکہ مفادات کی کونسل  اور قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاس نہیں بلائے۔  وزیراعظم عمران خان نے  اس چارٹر آف ڈیمانڈ پر نہ وئی  تبصرہ کیا اور نہ کوئی کمیٹی بنائی۔  ایسے میں جی ڈی اے سندھ میں سیاسی ساکھ کھونے لگے گا۔ 

https://www.darsaal.com/columns/sohail-sangi/gda-ka-charter-of-demand-18003.html