ہرمعاملہ عدلیہ کو ہی طے کرنا ہے؟
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
ایک بار پھر الیکشن کمیشن میں تقرریوں کے لئے بھی عدلیہ سے رجوع کیا ہے۔ متحدہ اپوزیشن جس میں مسلم لیگ نواز، پیپلزپارٹی، اے این پی سمیت اہم جماعتیں شامل ہیں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنرر کی میعاد میں توسیع کر کے اس اہم ادارے کو غیر فعال ہونے سے بچایا جائے۔ متحدہ اپوزیشن میں مسلم لیگ نواز، پیپلزپارٹی، اے این پی سمیت اہم جماعتیں شامل ہیں۔ آئین کے مطابق الیکشن کمشن ایک چیف الیکشن کمشنر اور چار اراکین پر مشتمل ہوگا۔موجودہ چیف الیکشن کمشنرسردار محمد رضا آج پانچ دسمبر کو ریٹائر ہوگئے ہیں۔ جبکہ الیکشن کمیشن کے سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے دو ممبران چھبیس جنوری کو ریٹائر ہو جائیں۔اگر ان عہدوں کو بروقت نہیں بھر اگیا، یہ اہم ادارہ مکمل طور پر غیرفعال ہوجائے گا۔ آئین کی شق 213 اس ضمن میں خاموش ہے کہ اگر چیف الیکشن کمشنر اور اراکین کے تقرر کے معاملے میں حکومت اور اپوزیشن پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی کسی اتفاق رائے سے کرنا ہے۔ اگر اتفاق رائے نہ ہو سکا تو کیا ہو، اس پر آئین کی یہ شق خاموش ہے۔ اپوزیشن کے نزدیک اس صورت میں قابل عمل ایک ہی راستہ ہے کہ سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے۔
ان کے تقرر کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا جارہا ہے۔ جوکہ آئین کی خلاف ورزی سمجھا جارہا ہے۔چیف الیکشن کمشنر سمیت سندھ اور بلوچستان کے ارکان کی تقرری کے معاملے پرڈاکٹرشیریں مزاری کی سربراہی میں پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس مختصر کارروائی کے بعد ملتوی ہوگیا۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن نے ارکان کی تقرری ایک ہفتے کیلئے موخر کرتے ہوئے متفقہ فیصلہ کیا کہ چیف الیکشن کمشنر اورممبران کی تقرری ایک ساتھ کی جائے گی۔کمیٹی کی چیئر پرسن شیریں مزاری کا دعوا ہے کہ ہے کہ اگلے ہفتے تمام ناموں پر اتفاق کرلیں گے جبکہ مسلم لیگ نواز کے سینیٹر مشاہداللہ کا کہناہے کہ معاملات اتنی جلدی نہیں بلکہ کچھ لو اورکچھ دوکی بنیاد پر حل ہوتے ہیں۔احسن اقبال نے کہا کہ اگر حکومت چیف الیکشن کمشنر اپنی مرضی کا چاہتی ہے تو پھر الیکشن کمیشن کے دو ممبران اپوزیشن کے بنائے‘دوسری جانب متحدہ اپوزیشن الیکشن کمیشن کی تشکیل کا معاملہ سپریم کورٹ میں لے گئی اور سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی جس پر حکومت نے کہاہے کہ اپوزیشن کا الیکشن کمیشن کی تشکیل کے معاملے میں پارلیمنٹ کی بجائے سپریم کورٹ سے رجوع کرنا صریحاً بدقسمتی ہے اس سے سیاسی نظام کمزورہوگا۔ اپوزیشن سمجھتی ہے کہ ہے کہ حکومت پنجاب سے تعلق رکھنے والے ممبر کوقائم مقام عہدہ دے کر اس ادارے کو ایڈہاک بنیادوں پر چلانا چاہتی ہے۔ اس وجہ سے اپوزیشن نے عدالت سے رجوع کیا ہے۔
الیکشن کمیشن موجودہ حالات مین دو وجہ سے مزید اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ ایک یہ کہ تحریک انصاف کے خلاف فارین فنڈنگ کا معاملہ کمیشن کے سامنے زیر سماعت ہے۔ جس کے لئے اپوزیشن زور دے رہی تھی کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر ہی اس پر فیصلہ دیں۔ حکومت جلدی میں اس کیس کا فیصلہ نہیں چاہتی تھی، وہ ’فریننڈلی‘ چیف الیکشن کمشنر کا انتظار کر رہی تھی۔اس لئے الیکشن کمیشن کو غیر فعال رکھنا اس کے فائدے میں تھا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ متحدہ اپوزیشن کے گزشتہ اجلاس میں مسلم لیگ نواز کے جنرل سیکریٹری احسن اقبال نے نئے آدانہ، غیر جاندارانہ اور شفاف انتخابات کا مطالبہ کیا تھا۔ مسلم لیگ نواز نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ کوئی دوسرا آپشن ملک کے لئے نقصاندہ ثابت ہوگا۔ پیپلزپارٹی بھی نئے انتخابات کے حق میں ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ چونکہ کہ سب جماعتیں ’سلیکٹیڈ وزیراعظم‘کے خلاف ہیں لہٰذا آئندہ بھی ’سلیکٹیڈ وزیراعظم‘نہیں چاہئے، بلکہ انتخابات کے ذریعے وزر اعظم چاہئے۔ ان دو وجوہات کی بناء پر اپوزیشن چاہتی ہے کہ الیکشن کمیشن فعال اور غیر جانبدار ہو۔
بدھ ے روز مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف نے لندن میں پریس کانفرنس میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ مسلم لیگ نواز کے سابقہ موقف سے متصاد ہے۔ انہوں کا کہنا ہے کہ جتنا جلد ہو سکے قوم کی وزیراعظم عمران خان سے جان چھڑانی چاہئے اس کے لئے ان ہاؤس تبدیلی واحد آئینی اور قانونی راستہ ہے۔ یاد رہے کہ دو روز قبل نیب کے وکیل نعیم بخاری نے شہباز شریف کی ضمانت مسترد کرنے سے متعلق دو درخواستیں واپس لے لیں تھی۔ جس کو سیاسی حلقوں میں معنی خیز قراردیا جارہا تھا۔ ستمبر میں پیپلزپارٹی نے بھی حکومت کو تین ماہ کی ڈٰڈ لائن دی تھی اور ان ہاؤس تبدیلی کی کوشش کی تھی۔
قومی اسمبلی کے اسپیکر مولوی تمیز الدین کی پٹیشن سے لیکر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے تک کے معاملات ہمارے سامنے ہیں۔ کیا ہرمعاملہ عدالتوں کو ہی طے کرنا ہے؟ وفاقی حکومت چیف آف آرمی اسٹاف کے توسیع میں قانونی تقاضے پورے نہ کر سکی جس کی وجہ سے سپریم کورٹ کو بیچ میں آنا پڑا۔اور اس نے عدالتی حکم جاری کیا۔ نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کا معاملہ آیا تو عدالت کو ہی بیچ میں لایا گیا۔ مشرف کو بیرون ملک اجازت دینے کے لئے بھی عدالتی حکم لیا گیا۔پاناما گیٹ کا معاملہ پر بھی عدالتی حکم حاصل کیا گیا۔ حلانکہ یہ سب کے سب معاملات سیاسی یاانتظامی تھے جنہیں معمول کے مطابق انتظامی طور پر یا سیاسی مشاورت کے ساتھ حل کیا جاسکتا تھا۔پچاس کی دہائی سے لیکر ہم سیاسی معاملات سیاسی طور پر سیاسی فورم میں حل کرنے کے بجائے ان کو عدلیہ میں لے جاتے رہے ہیں، نتیجۃ جو کچھ ہوتا رہا وہ ہمارے سامنے ہے۔ان تمام واقعات کے دوران ملک میں منتخب پارلیمنٹ بھی موجود تھی۔ یہ صورتحال دوباتوں کو ظاہر کرتی ہے۔ ایک یہ کہ فیصلہ کرنے والے متعلقہ اداروں پر خاص قسم کے فیصلے لینے کے لئے دباؤ ہے، جس کی وجہ سے وہ معمول کے مطابق فیصلے نہیں کر پارہے ہیں۔ یا بعض دیگر قوتیں اپنی مرضی کے فیصلے چاہتی ہیں۔کوئی بھی اپنے سر بات لینا نہیں چاہتا۔ دوسری بات یہ کہ نظام چل نہیں رہا۔ شایدہم اپنے نظام کو قانون اور آئین کے مطابق چلنے نہیں دینا چاہ رہے ہیں، جس میں با ر بار مداخلت کی جارہی۔ صاف بات یہ ہے کہ نظام کو چلنے دیا جائے گا تو اس کی خرابیاں یا نقائص خود بخود ایک مسلسل عمل کے ذریعے ٹھیک ہوتے رہیں گے۔ حکومت، سیاسی جماعتیں خواہ ادارے صرف پسند کے بعض نقائص یا ٹکڑے نکال کر ان کو اپنی پسند کے مطابق استعمال کرتے رہے تو یہ نظام نہ بنے گا نہ چلے گا۔
No comments:
Post a Comment