پیپلزپارٹی بینظیر بھٹو کے بعد
سہیل سانگی
ایک پاکستان پیپلزپارٹی وہ تھی جس نے
ذوالفقارعلی بھٹو کی قیادت میں عام لوگوں کو متحرک کیا اورلاکھوں کے مجمعے لگائے۔ بھٹو
کو پھانسی لگنے کے بعد پیپلزپارٹی کی قیادت بینظیر بھٹو نے سنبھالی، ان کی رہنمائی
میں جنرل ضیاء الحق کے خلاف ایم آرڈی کی تحریک چلائی، اور ہزاروں افراد پرمشتمل
کئی میلوں تک ریلیاں نکالیں۔ پارٹی کا تیسرا دورآصف علی زرداری کی زیر قیادت رہا،
جس میں مفاہمت اور جوڑ توڑ کی سیاست متعارف ہوئی۔ اب چوتھا دوربلاول بھٹو زرداری
کا چل رہا ہے۔
بینظیر بھٹو ذہین اور پرکشش سیاسی رہنما اور ذات
میں مزاحمت تھیں۔ بینظیر بھٹو کی موت ذوالفقار علی بھٹو کی موت سے کم نہ تھی۔ بھٹو کے بعد بینظیر نے پارٹی کی قیادت سنبھال
لی تھی۔ بنظیر بھٹو نےعوامی اور مقبول سیاست تھی، جس میں کارکنوں کی سنی جاتی تھی۔
وزراء خواہ اراکین اسمبلی کارکنوں سے ڈرتے
تھے کہ وہ کہیں "بی بی کو شکایت نہ لگا دیں۔"
مشرف دورمیں لیاقت باغ راولپنڈی میں ایک جلسے کے
بعد بینظیر بھٹو دہشتگردوں ہاتھوں قتل ہو گئیں۔ تو
پارٹی کی قیادت بظاہران کے بیٹے
بلاول بھٹو کو سونپ دی گئی۔ بلاول کم عمر تھے اورابھی برطانیہ میں زیر تعلیم تھے۔
لہٰذا عملی طور پر آصف علی زرادری پیپلزپارٹی کے سپریمو بن گئے۔
دو ہزار آٹھ میں بینظیر کے بغیر ہونے والے پہلے انتخابات ہوئے۔
تو پاکستان کے لوگوں نے بینظیر بھٹو کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کو
ہمدردی کا ووٹ دیا۔ اور پارٹی نے مرکز اور دو صوبوں میں حکومت بنالی۔
پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی پارٹی نے حکومت میں آئینی مدت مکمل
کی، جسے زرداری کی مفاہمت کا نتیجہ قراردیاجاتا ہے۔ یہ تمام مدت پارٹی عدلیہ کے
سخت دبائو میں رہی۔ مزاحمت کے بجائےمفاہمت کے باوجود سوئیز کیس میں پارٹی کے وزیراعظم
یوسف رضا گیلانی کوفارغ کردیا گیا۔ دوسرے وزیراعظم راجا پرویزاشرف کو رینٹل
پاوراسکینڈل میں گھیر لیاگیا۔ میمو گیٹ اسکینڈل بھی سامنے آیا۔ پارٹی اور حکومت کا
زیادہ تر وقت اپنا دفاع کرتے ہوئے گزرا۔
پیپلزپارٹی نے اس دورحکومت کے بعض کارنامے بھی ہیں۔ اٹھارویں آئینی ترمیم منظورکر کے صدر کے اختیارات کم کئے اورصوبوں کے
اختیارات بڑھائے۔ صوبہ سرحد کا نام پختونخوا رکھا۔ بلوچستان کا قومی مالیاتی
ایوارڈ میں حصہ بڑھایا۔ بینظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعےوفاق سے براہ راست
غریب لوگوں کو رقومات کی منتقلی کی۔ فہمیدہ مرزا پہلی خاتون اسپیکر اور شیری رحمان
سینیٹ میں پہلی خاتون اپوزیشن لیڈر بنیں۔ پارٹی نے مسلم لیگ نواز کے ساتھ اتحاد کر
کے مشرف کو مواخذہ سے ڈرایا تو وہ بھاگ گئے۔
پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں کسی پر کشش رہنما کی عدم موجودگی میں
عمران خان کو موقع ملا۔ 2013 کے انتخابات میں پیپلزپارٹی مرکز میں ہار گئی اورایک
صوبے تک محدود ہوگئی۔ پنجاب میں شاہ محمود قریشی، سردار آصف احمد علی اوردیگر نصف
درجن بااثرشخصیات نے پارٹی سے علحدگی اختیار کرلی۔
پیپلزپارٹی کےاس دور حکومت پر کرپشن اور خراب
حکمرانی کے دھبے آئے۔ بلاول کی
مشکل یہ تھی کہ وہ والد کی موجودگی میں پیپلزپارٹی کو بحال کر سکیں۔
زرداری کا سیاسی ماڈل
زرداری عوامی رہنما تو تھے نہیں، لہٰذا انہوں نے سیاست کا نیا ماڈل
متعارف کرایا۔ یہ ذوالفقارعلی بھٹو اور بینظیر بھٹو کے ماڈل سے مختلف تھا جو
کہ عوام میں یقین رکھتے تھے۔ پیپلزپارٹی کے ایک قریبی ذریعہ کا کہنا ہے کہ زرداری نے نوے کے عشرے
کی سیاست سے سیکھا کہ اقتدار کے لئے جوڑ توڑ ضروری ہے۔ بینظیربھٹو کو عوامی حمایت
ہمیشہ حاصل رہی لیکن لابنگ اورجوڑ توڑ کی وجہ سے انہیں حکومت سے آئوٹ کیا جاتا
رہا۔ زرداری نے سیاست کے نئے ماڈل فن میں اتنی مہارت حاصل کر لی وہ جوڑ توڑ کے
بادشاہ کہلانے لگے۔
پارٹی کو بھی نئے سیاسی ماڈل پر استوار کیا گیا۔ پارٹی کے کارکنوں کویہ
پیغام دیا کہ روٹی کپڑا اور مکان کو بھول جائو، نظام سے فائدہ اٹھائو۔ اپنا ایک
حلقہ اثر بنائو جوانتخابات کی میکنزم کو سمجھتا ہو اورالیکشن والے دن پولنگ اسٹیشن
کو سنبھال سکے۔ اس کے نتیجے میں پارٹی کے اندرنظریاتی یا جیالے کارکنوں کی جگہ
بینیفشریز کا ایک کلاس کھڑا کردیا گیا۔ جس پر پرانے جیالے کہنے لگے کہ پیپلزپارٹی بینظیر
کی موت کے بعد یتیم ہوگئی۔
پنجاب راضی نہیں
زرداری کے مقامی انتظامات اور الیکٹ ایبل فارمولا سے پارٹی کو سندھ
میں تو کامیابی ہوئی لیکن پنجاب میں یہ نسخہ نہیں چل پایا، لہٰذا پارٹی پنجاب کے
شہری خواہ وسطی اور شمالی علاقوں میں صاف ہوگئی صرف ایک حد تک جنوبی پنجاب میں
وجود برقرار رکھ پائی۔ صورتحال یہ بنی کہ دو ہزار تیرہ میں سندھ سے 65 نشستیں، پنجاب اور خیبر پختونخوا سے بالترتیب چھ اورتین نشستیں
حاصل کیں۔ حالانکہ 2008 میں اس نے 97
نشستیں لی تھیں۔
پیپلزپارٹی کے لئے سب سے بڑا چیلینج پنجاب میں واپس پائوں جمانا تھا۔ وہ پارٹی جس
نے اٹھاسی کے انتخابات سوئیپ کر لئے تھے
آج اتنی سکڑ گئی ہے کہ پنجاب میں بمشکل تیسری قوت کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔
یہ المیہ ہے کہ پنجاب آصف علی زرداری کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔
بلاول بھٹو کو وطن واپسی کے بعد پنجاب میں رکھا گیا۔ وہاں گھر لیکر دیا گیا۔
اعتزازاحسن اور دیگر کے کہنے پر پارٹی نے عمل کیا لیکن کوئی کامیابی حاصل نہ کر
سکی۔ پنجاب اپنا رخ تبدیل کر چکا تھا۔
بلاشبہ پارٹی کے ساتھ یکساں سلوک نہ ہونا اور دھندلی بھی وجوہات رہیں،
لیکن مکمل صفایا کے لئے یہ جواز ناکافی ہیں۔ کسی طرح سے اس بیانہ نے جگہ بنا لی
کہ" پارٹی کرپٹ ہے اوراس نے عام لوگوں کو کچھ بھی نہیں دیا۔" اس کے
مقابلے میں شہباز شریف نے کہا کہ "کام کو عزت دو۔"
سندھ روایتی قلعہ برقرار
دوہزار اٹھارہ کے انتخابات میں پارٹی قومی سطح
پر تیسرے نمبر پر چلی گئی۔ اورعملا سندھ تک محدود ہوگئی ہے، جو پارٹی کا روایتی
قلعہ رہا ہے۔ لیکن یہاں بھی شہری علاقوں میں وہ جگہ نہ بنا پائی جو بھٹو کے زمانے میں
تھی۔ کیونکہ شہری علاقوں میں متعارف ہو چکی تھی۔
گزشتہ سال پارٹی نے بلوچستان میں زہری حکومت کو
توڑنے اورصادق سنجرانی کوسینیٹ کا چیئرمین منتخب کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جس
کے ملکی سیاست پرگہرے اثرات مرتب ہوئے۔
سندھ تک محدود ہونے کے بعد پارٹی کے لئے سندھ
حکومت اہم ہوگئی ہے۔ گزشتہ چار سال سے پارٹی سندھ حکومت وفاق سے محاذ آرائی میں ہے۔
پارٹی کے ساتھ ساتھ سندھ حکومت پر بھی عدالتی دبائو ابھی تک چل رہا ہے۔
جعلی اکائونٹس اورمنی لانڈرنگ کے کیس نے پارٹی
قیادت بلکہ پارٹی کی سندھ میں حکومت کو چیلینج میں ڈال دیا ہے۔ وہ احتساب کے عمل
کو یک طرفہ کہتے ہیں۔ اب وہ پنجاب میں پارٹی بحال کریں یا سندھ میں پارٹی قیادت پر
لگائے گئے کرپشن کے الزامات کا دفاع کریں۔
اب بلاول بھٹو
آج بھی پیپلزپارٹی واحد پارٹی ہے جو نظری اعتبار
سے جمہوری آزادیوں، وفاقیت، تمام شہریوں کی برابری اور صوبوں خواہ خواتین اور
اقلیتوں کے حقوق کی بات کرتی ہے۔ لیکن اب بھی پارٹی کارکنوں کے اجلاس بھی بلاول
ہائوس میں ہوتے ہیں جہاں کارکن چل کر آتے ہیں۔
آصف زرداری کی گرفتاری، بیماری اور سنیئر
سیاستدانوں کو مائنس کرنے کے فارمولا کے "نفاذ" کے بعد پارٹی کی قیادت
اب بلاول بھٹو کے پاس ہے۔ لیکن انہیں بھی نیب بلا رہا ہے۔ شاید ان پربھی کوئی داغ
لگانے کا منصوبہ ہے۔
No comments:
Post a Comment