|
Urdu Columns of Sohail Sangi میرے دل میرے مسافر : کالم
Wednesday, May 30, 2018
Sohail Sangi Columns May 2018
Tuesday, May 29, 2018
سندھ میں نئی سیاسی لہر
سندھ میں نئی سیاسی لہر
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
سیاسی کارکنوں کی جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج سے سندھ میں ایک نئی اٹھی ہے۔ ملک بھر میں گمشدگیوں کا سلسلہ تقریبا 2008 سے چل رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی اس معاملے کا نوٹس لیا تھا۔ غور طلب ہے کہ یہ دور جب منتخب اور جمہوری حکومت کا رہا ہے۔ جن لوگوں کے خلاف یہ کارروائی کی جارہی ہے، ان کو شکایت ہے کہ ریاست اور حکومت ان کو حقوق نہیں دے رہی۔ اور جب وہ حقوق مانگتے ہیں اورپر امن احتجاج کرتے ہیں تو ان کے خلاف ریاستی ادارے سرگرم ہو جاتے ہیں۔ یعنی یہ سائیکل اس طرح سے ہے کہ حقوق اور ان کے حصول کے لئے جدوجہد ہے۔اقوام عالم اور سیاسی جدوجہد کی تاریخ بتاتی ہے کہ سیاسی جدوجہد کی کئی اشکال اور ماڈل ہیں۔ دنیا بھر میں ہر جدوجہد آغاز میں پرامن ہی ہوتی ہے۔ اس میں تشدد کا عنصر اس وقت داخل ہوتا ہے جب ریاستی ادارے اس کی پہلکاری کرتے ہیں۔ اور پھر یہ جدوجہدشدت پسندی اختیار کر لیتی ہے۔
بلوچستان مشرف دور سے ہی زیر عتاب تھا۔ بعد میں یہ سلسلہ سندھ اور خیبر پختونخوا تک آپہنچا۔ بلوچ مسنگ پرسنز کی بازیابی کے لئے ماما قدیر کی قیادت میں بلوچستان سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کیا گیا۔ یہ مارچ سندھ کی قوم پرست یا بائیں بازو کی جماعتوں اور پنجاب کی بعض بائیں بازو افراد کے علاوہ حمایت حاصل نہیں کرسکا۔ اب پشتون نوجوان اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ان کی تحریک کو زیادہ قبولیت حاصل ہوئی ہے۔ پشتون تحفظ تحریک کے بارے میں متضاد اور مختلف تبصرے اور تجزیے سامنے آئے ہیں کہ آخر اس تحریک کے پیچھے کون لوگ ہیں؟ اس کے کیا مقاصد ہیں؟ اس کے اچانک بھڑک اٹھنے کی کیا وجوہات ہیں؟
جبری گمشدگی سے مراد یہ ہے کہ بغیر وارنٹ، اور جرم بتائے گرفتار کرنا اور کسی عدالت یا سرکاری ادارے میں گرفتاری ظاہر نہ کرنا۔ سندھ میں پہلے ان کو اٹھایا جاتا تھا جن گروپوں پر علحدگی پسندی کا الزامات تھے۔ لیکن بعد میں پرامن جدوجہد میں یا ریاستی بیانیے سے اختلاف رکھنے والے ادیب، دانشور، آرٹسٹ، صحافی یہاں تک کہ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے ولاے بھی اس زد میں آگئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک سو سے زائد افراد پراسرار طور پر لاپتہ ہیں۔ خوف کی فضا کے باوجود ان واقعات کے خلاف سندھ میں چھوٹے پیمانے پر احتجاج ہوتے رہے۔ لیکن یہ آواز زیادہ پزیرائی حاصل نہ کرسکے۔ اب پختونخوا سے بھی آواز بھرپور انداز میں اٹھی ہے، جس کا ریاستی اداروں نے بھی نوٹس لیا ہے۔ اس نوٹس لینے کی بعض اہم وجوہات میں سے اس علاقے کا حمکت عملی کے لحاط سے جغرافیائی محل وقوع، تین صوبوں میں بڑی تعداد میں پشتون آبادی کی موجودگی، اور خود اہم ریاستی اداروں میں پشتون موجودگی سمجھے جارہے ہیں۔
سندھ میں حالیہ احتجاج کی لہر شاید پشتون تحریک سے متاثر ہو کر پیدا ہوئی ہے۔ 21 مئی کو کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاج کرنے والوں اور گمشدگان کے ورثاء خاص طور پر خواتین پر تشدد نے اس احتجاج کو تیز کردیا۔ کراچی پریس کلب کے احتجاج کے دوران پولیس اور دیگر اداروں کے اہلکاروں نے چار نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔ جن کو چھڑانے کے لئے کیمپ میں موجود خواتین نے مزاحمت بھی کی۔
گمشد گان کے عزیز اقارب ان کی بازیابی اور رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی گرفتاری ظاہر کی جائے، اگر الزامات ہیں تو عدالت میں پیش کیا جائے اور مقدمہ چلایا جائے۔ یہ لوگ مظاہرہ ہی تو کر رہے تھے۔ زیادہ سے زیادہ کیمپ لگا کر تین روز بیٹھتے، احتجاج کرتے چلے جاتے۔ بالکل اس طرح جیسے روزانہ ملک بھر لوگ اپنے اپنے مطالبات لیکر پریس کلبوں کے سامنے احتجاج کرتے رہتے ہیں۔
اس کے خلاس صوبے بھر میں احتجاج شروع ہو گیا۔ صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال اور وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ نے بھوک ہڑتالی کیمپ پر پہنچ کر ان سے گمشدگان کی لسٹ طلب کی۔ اور دوسرے روز احتجاج کرنے والوں کو مذاکرات کے لئے اپنے دفتر میں بلایا۔ وزراء کی فرمائش تھی کہ آپ لوگ بھوک ہڑتالی کیمپ ختم کریں، تو ہم آپ کا معاملہ حکومت کے پاس اٹھائیں گے۔ تعجب ہے کہ صوبائی وزیر داخلہ نے احتجاج کرنے والوں سے ’’ گرفتار شدگان‘‘ کی لسٹ طلب کی۔ حالانکہ وزیر داخلہ ہونے کے ناطے انہیں معلوم ہونا چاہئے تھا کہ ان کے صوبے میں اس طرح کے الزامات میں کون کون گرفتار ہے جس کے لئے صوبے میں مسلسل احتجاج ہو رہے ہیں۔ وزراء نے اس لئے بھی اس احتجاج کرنے والوں سے ملاقات کرنے میں ہرج نہیں سمجھا ۔ ان کے نزدیک اس میں سندھ حکومت فریق نہیں ۔ یہ وفاقی حکومت کا معاملہ ہے۔ دو ماہ بعد انتخابات ہونے والے ہیں ۔انہیں ڈر تھا کہ کہیں انہیں انتخابی مہم کے دوران اس مطالبہ پر پکڑ نہ ہو جائے۔ یہی سندھ حکومت ایک درجن سے زائد واقعات میں اپنے ملازمین، اور کاشتکاروں پر اسی مقام پر لاٹھیاں برسا چکی ہے۔
کراچی پریس کلب کے سامنے ہونے والے واقعہ کے رد عمل میں سندھ کے کونے کونے سے اور ہر مکتب فکر کے لوگوں نے بشمول ادیب، دانشور، سیاسی کارکن، سول سوسائٹی، صحافی حیدرآبا د میں منعقدہ احتجاج میں شرکت کی۔ بڑٰ بات یہ کہ اس احتجاج میں خواتین کی ایک بڑٰ تعداد موجود تھی۔سندھ کے مختلف شہروں میں احتجاج ہوئے۔ اسلام آباد کی یونیورسٹیز میں زیر تعلیم سندھی طلباء نے تین روز تک بھوک ہڑتالی کیمپ لگا کر بھوک ہڑتال کی۔ بھی احتجاج کیا۔ سندھ نے جس طرح سے اس واقعہ پر ردعمل دکھایا ہے اس سے لگتا ہے کہ سندھ کا اجتماعی شعور صرف انتخابات تک محدودد نہیں۔ یہ درست ہے کہ الیکٹیبلز پارٹی ٹکٹ لینے میں مصروف ہیں۔ لیکن سندھ صرف ان ’’منتخب ہونے کے قابل‘‘ افراد تک محدود نہیں۔
کسی بھی ناانصافی خلاف پر امن احتجاج کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے، جس کی آئین میں ضمات دی گئی ہے۔ اگر آئین اور قانون کی بالادستی مانی جاتی تو صوبے میں انسانی حقوق کی ابتر صورتحال نہیں ہوتی۔ لوگوں کو سڑکوں سے اٹھا لیا جاتا ہے۔ عوامی مقامات سے گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ ایک سو افراد لا پتہ ہیں جن کی گرفتاری ظاہر نہیں کی گئی۔ اگر کسی پر الزام ہے ، اس کے لئے قانونی راستہ موجود ہے۔ کوئی شخص خواہ کتنا ہی بڑا یا چھوٹ کیوں نہ ہو اس کو اپنی صفائی پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔
ویسے پورا ملک احتجاج پروف بنا ہوا ہے۔ عوامی احتجاج کا اثر ہی نہیں ہوتا۔ جب یہ معاملہ ’’ اشو ‘‘ بن جاتا ہے ، عوامی دباؤ پڑتا ہے تب جا کر حکمران تحرک میں آتے ہیں۔
بینظیر بھٹو نے کہا تھا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ لیکن لیکن تاثر یہ بن رہا ہے اور کہا یہ جارہا ہے کہ اب ریاست لوگوں سے جمہوریت کا انتقام لے رہی ہے۔
یہ تاثر بھی ابھرا ہے کہ احتجاجوں کے لئے ریاستی اداروں کا دہرا رویہ ہے، بعض احتجاجوں کو کئی ہفتوں تک جاری رھنے دیا جاتا ہے چاہے اس کے نتیجے میں وفاقی دارلحکومت سیل ہو جائے، اور ان احتجاجوں کوقبولیت بھی ملتی ہے،۔ ایک یہ احتجاج ہیں کہ پرامن کیمپ لگانے پر بھی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
تشدد اور غربت دو ایسے جال ہیں۔ اگر کوئی ملکان دونوں میں پھنس جائے، تو یہ دونوں عناصر ایک دوسری کو مضبوط کرتے رھتے ہیں۔ ہمارا ملک بھی ان دو میں پھنسا ہوا ہے۔ اور ترقی کی طرف نہیں بڑھ رہا ہے۔ خراب حکمرانی انہیں ان دو جالوں سے نکلنے میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ تشدد ہمیشہ غیر انسانی اثرات چھوڑتا ہے۔ ان پر بھی جو کرتے ہیں اور ان پر بھی جن پر کیا جاتا ہے۔ اس کے اثرات سیاسی اور سماجی نظام پر بھی پڑتے ہیں۔
انتخابات جو حکومت اپنی دوبارہ قانونی حیثیت تسلیم کرانے کے لئے کرتی ہے ایک شو ڈاؤن کا اچھا موقع ہے۔ لوگ غیر متحرک رہ کر حکومت کی ناانصافیاں برداشت کر رہے ہوتے ہیں، وہ ووٹ دینے نہیں آتے یا سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ اور عوام کی خواہش کو نافذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سندھ کا اس طرح کا ردعمل کسی انتخابی انقلاب میں بھی بدل سکتا ہے۔اس تحریک کا کوئی لیڈر نہیں ہے۔ کوئی ایک پارٹی یا تنظیم نہیں ہے۔ سندھ کو بغیر قیادت کے اس طرح کی تحریکیں چلانے کا اپنا تجربہ ہے۔ ون یونٹ کے خلاف تحریک بھی خود رو تھی، لوگوں نے اپنے طور پر چلائی۔ ایم آرڈی کی تحریک شروع کے ایک ہفتے بعد بغیر قیادت کے تھی۔ لوگ اور کارکنان جو بلا امتیاز تمام پارٹیوں سے تھے ، چلا رہے تھے۔
گزشتہ اگست سے سندھ میں سیاسی اغواکی نئی لہر اٹھی۔ گزشتہ ہفتے سول سوسائٹی کے کارکنوں نے تپتی دھوپ میں سندھ بھر میں 72 گھنٹے کی بھوک ہڑتال کی۔ سندھ ہائی کورٹ نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی فورس قائم کرنے کے باوجود نہ ان اداروں نے اور نہ پولیس تقریبا ایک سو گمشدگان کے بارے میں مناسب معلومات فراہم کر سکے ہیں۔ جن کا کوئی پتہ ہی نہیں۔ ان کے رشتیدار کو ان کی صحت اور زندگی کے بارے میں تشویش ہے۔ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ان کی مہم چلانے والے بھی اس لپیٹ میں آ گئے ہیں۔ جو رہائی حاصل کر پائے وہ خاموش ہیں۔ ان کی یہ پراسرار خاموشی سے بہت کچھ سمجھا جاسکتا ہے۔
سندھ میں ہم تاریخ کا باب کس طرح لکھنا چاہ رہے ہیں؟ اگر مثبت لکھنا ہے تو غیر قانونی طور پر نظربندوں کو رہا کیا جانا چاہئے۔ اور جن لوگوں نے ان کو تحویل میں لیا تھا ان سے عدالت میں پوچھا جانا چاہئے۔ انہیں مزید کوئی نقصان نہ پہنچے گا ان کے ورثاء کو اس کی یقین دہانی کرائی جانی چاہئے۔ آرمی چیف نے گزشتہ دنوں ایک احتجاج کو ختم کرانے کے لئے طاقت کا استعمال کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم اپنے بچوں پر گولی نہیں چلا سکتے۔ اس کا اطلاق سندھ کے احتجاج کرنے والوں پر بھی ہونا چاہئے۔ یہ بھی پاکستان کے بچے ہیں۔
https://www.naibaat.pk/28-May-2018/13085
http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/59609/Sohail-Sangi/Sirf-Asad-DurranI-Hi-KyunSindh-Main-Nai-Siyasi-Lehar.aspx
Friday, May 25, 2018
اقتدار کی سیاست اور سندھ کے قوم پرست
Nai Baat May 25, 2018
اقتدار کی سیاست اور سندھ کے قوم پرست
عمران خان اور سندھ کے قوم پرست
سندھ کے قوم پرست اقتدار کی سیاست سے باہر کیوں؟
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
سندھ یونائٹیڈ پارٹی نے تحریک انصاف سے اتحاد کر لیا ہے۔ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ فی الحال سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ ہوا ہے لیکن یہ اتحاد انتخابات کے بعد بھی جاری رہے گا۔ اس معاہدے میں پیپلزپارٹی کی کرپشن کو اہم نقطہ بنایا گیا ہے۔ سندھ کے قوم پرستوں کا مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد اور ایڈجسٹمنٹ ہوتا رہا ہے۔ وفاق میں حکومت بنانے کی خواہش مند ہر پارٹی ماضی میں سندھ کے قوم پرستوں کے ساتھ اتحاد کرتی رہی ہے۔ یہ معاملہ نوے کے عشرے سے چلا آرہا ہے۔
ماضی قریب کے ایک اتحاد کا جائزہ اس مظہر کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ گزشتہ انتخابات سے تقریبا ایک سال پہلے جولائی 2012میں سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے سید جلال محمود شاہ اور نواز لیگ کے سربراہ نواز شریف نے سات نکاتی تحریری معاہدہ کیا تھا۔ اس سات نکاتی اعلامیہ میں پاکستان کے آئین میں رہتے ہوئے صوبوں کو زیادہ سے زیاہد صوبائی خود مختاری دینا، قومی مالیاتی کمیشن کو بہتر بنانا، 1991 کے پانی کے معاہدے پر مکمل عمل اور سندھ کی جغرافیائی حدود سے چھیڑ چھار نہ کرنا شامل تھے۔ اس معاہدے میں سندھ میں لسانی، مذہبی اور فرقہ قرارانہ تقسیم ، دہشت گردی ، کرپشن کے خاتمے کے خلاف اور اچھی حکمرانی کے لئے موثر اقدامات کرنا، اور آزاد خارجہ پالیسی اختیا کے نکات بھی شامل تھے۔ اگرچہ اس معاہدے پر بھی سندھ کے سیاسی حلقوں میں سخت تنقید ہوئی۔ لیکن بظاہر یہ معاہدہ خاصا جامع تھا۔
یہ وہ صورتحال تھی جب سندھ خواہ وفاق میں پیپلزپارٹی اقتدار میں تھی۔ بینظیر بھٹو کی عدم موجودگی اور پیپلزپارٹی کی خرابی حکمرانی کی وجہ سے سندھ میں متبادل کی گنجائش محسوس کی جارہی تھی۔اس خیال کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے 2010 میں پارلیمانی سیاست کرنے والی سندھ کی جماعتوں قومی عوامی تحریک، سندھ ترقی پسند پارٹی اور سندھ یونائٹیڈ پارٹی نے سندھ پروگریسو نیشنلسٹ الائنس بنایا تھا۔ اور مشترکہ انتخاب لڑنے کا اعلان کیا تھا تاکہ سندھی ووٹرز کو تیسرا آپشن پیش کر سکیں۔نواز شریف اس اتحاد اور اس میں شامل پارٹیوں کے ساتھ رابطے میں رہے لیکن انہوں نے اتحاد سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے ساتھ کیا۔ اس اتحاد سے اس خیال کی نفی ہو گئی کہ قوم پرست خود متحد ہو کر انتخابات نہیں لڑ سکتے۔
اس اعلامیہ کے نکات پر شببے کا اظہار کیا جارہا تھا وہ کس طرح سے سندھ کے دکھوں درمان ہو گا۔ نواز شریف نے قوم پرستوں کو اقتدار میں حصہ کیا سیاست اور معیشت میں حصہ نہیں دیا۔ نواز شریف کے پاس انتخابات سے پہلے اور بعد مختلف حکمت عملی ہوتی ہے۔
اٹھارویں ترمیم کے بعد کم از کم آئین کی میں صوبوں کو بڑی حد تک خود مختاری حاصل ہے۔ پانی کی منصفانہ تقسیم، قومی مالیاتی ایوارڈ ، توانائی کی تقسیم کے معاملات پیپلزپارٹی شدومد سے اٹھارہی ہے۔ جس کے بعد قوم پرستوں کے لئے اسپیس مزید کم ہو گیا ہے۔
آج سندھ بعض دیگر گروپ بھی متبادل کے نعرے کے ساتھ پارلیمانی سیاست میں آئے ہیں۔جبکہ قوم پرستوں کے درمیان پانچ سال قبل والی قربت نہیں۔عمران خان سندھ کے قوم پرستوں کے بارے میں وہ حکمت عملی اپنا رہے ہیں جو نواز شریف اپناتے رہے ہیں۔ نواز شریف کی طرح عمران خان کا بھی سندھ میں کوئی تنظیمی سیٹ اپ نہیں۔ انہیں اس اتحاد سے سندھ میں سیاسی اور اخلاقی قبولیت کا جواز مل گیا۔
سندھ میں قومپرستی کے مختلف رنگ اور لہجے ہیں۔ صرف ایک گروپ نے تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔ جب کہ باقی مکاتب فکر اس سے باہر ہیں۔ سندھ کی قوم پرست سیاست کا ایک ہبت بڑا حصہ پارلیمانی یا وفاقی سیساست پر یقین نہیں رکھتے۔ اس درجہ بندی میں جیئے سندھ قومی محاذ کے دو گروپ، جیئے سندھ محاذ اور جیئے سندھ تحریک باقی جو قوم پرست جماعتیں پارلیمانی سیاست کرنا چاہتی ہیں ۔ عمران خان نے سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے ساتھ اتحاد کے لئے بھی کیا کہ قادر مگسی کی سندھ ترقی پسند پارٹی اور پلیجو کی عوامی تحریک 2007 میں نواز شریف کی قیادت میں بننے والے آل پارٹیز ڈیموکریٹک الائنس کا حصہ رہی ہیں۔ نواز شریف نے یہ اتحاد بینظیر بھٹو کی جانب سے جنرل مشرف کے خلاف بنائے اتحاد کے جواب میں بنایا تھا۔
سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے ان دو اتحادوں کا موازنہ دلچسپی سے خالی نہیں۔ نواز لیگ کے معاہدہ تحریری تھا اور اس پر خود نواز شریف نے دستخط کئے تھے ۔ حالیہ معاہدے میں تحریک انصاف سندھ کے صدر نے مفاہمت کا اعلان کیا ہے۔ اور اس میں مطالبات اور مسائل کا باقاعدہ ذکر تھا۔ حالیہ معاہدہ ان تمام معاملات پر خاموش ہے۔ یعنی سندھ کے وہ اشوز جس پر صوبے میں قوم پرست سیاست ہوتی رہی ہے تحریک انصاف ان پر کوئی وعدہ کرنے کے لئے بھی تیار نہیں۔ یہ عملا ایک نتخابی مفاہمت ہے۔ جس میں صرف پیپلزپارٹی کی خراب حکمرانی پر اتفاق کیا گیا ہے۔ 2012 کے اوائل میں قوم پرست پارٹیوں سے تحریک انصاف نے اتحاد ی کوشش کی تھی۔ ان مذاکرات کی سربراہی شاہ محمود قریشی کر رہے تھے۔ سوائے جلال محمود شاہ کے سندھی قوم پرستوں کی اکثریت تحریک انصاف کے ساتھ اتھاد کے حق میں نہیں تھی۔ جلال محمود شاہ کی ملاقات اور امکانی اتحاد پر اتفاق رائے کے بعد دو سرگرم گروپوں قادر مگسی کی ترقی پسند پارٹی اور قومی عوامی تحریک نے نواز شریف سے اتحاد کے لئے کوشش کی۔ اب سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے سربراہ جلال محمود شاہ اور تحریک انصاف سندھ کے صدر عارف علوی کے درمیان کامیاب مذاکرات ہوئے۔
تحریک انصاف ور سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے درمیان حالیہ انتخابی اتحاد کے بعد سندھ کے قوم پرستوں کا ایک پلیٹ فارم سے انتخاب لڑنا خارج از امکان لگتا ہے۔
جہاں تک جلال محمود شاہ کی بات ہے، تجزیہ نگار اس امر کو بھی اہمیت دے رہے ہیں کہ اس اتحاد سے جلال محمود شاہ تحریک انصاف کے رہنما یار محمد رند کی مدد سے اپنی نشست جیت سکتے ہیں۔ کیونکہ اس حلقے میں ان کی برادری کے ووٹ فیصلہ تعداد میں موجود ہیں۔ چند ماہ قبل یار محمد رند سیہون میں عمران خان کا کامیاب جلسہ منعقد کرا چکے ہیں۔ سندھ میں اگر نان پیپلز پارٹی سیٹ اپ بنتا ہے تو جلال محمود شاہ وزارت اعلیٰ کے بہتر امیدوار ہو سکتے ہیں۔ جلال محمود شاہ پہلے نواز شریف کے ساتھ اور اب عمران خان کے ساتھ اتحاد کر کے جی ایم سید کے سیاسی ورثے میں تبدیلی لا چکے ہیں۔ قوم پرست گروپ سمجھتے ہیں کہ وہ پنجاب کو خوش کر کے اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جلال محمود شاہ کی سندھ یونائٹیڈ پارٹی تنظیمی طور خواہ ووٹ کے حوالے سے کوئی بڑی پارٹی نہیں ہے۔مگر ان کا نام اور تعارف بڑا ہے۔وہ سندھ کی قوم پرست تحریک کے بانی جی ایم سید کے پوتے ہیں۔ صوبے کے سیاسی خواہ سماجی حلقوں میں ذاتی طبع کی وجہ سے قابل قبول ہیں۔ مزید یہ کہ جلال محمود شاہ الیکٹبل کی فہرست میں آتے ہیں۔
سیاسی حلقے شبہ کا اظہار کر رہے کہ کیا عمران خان ا قتدار میں آنے کے بعد سندھ کے سیاسی اور معاشی حقوق نہیں دے گا؟ اٹھارویں ترمیم پر مکمل عمل درآمد کرائے گا؟
تحریک انصاف کو اس اتحاد سے یہ بھی فائدہ ہوگا کہ یہ اتحاد تحریک انصاف میں شمولیت کرنے والوں کو ڈھال مہیا کرے گا ۔ جس طرح نواز لیگ کو سندھ میں پاؤں ٹکانے کے لیے جگہ چاہئے تھی۔ اسی طرح تحریک انصاف کو بھی جگہ چاہئے۔ یہ طے ہونا ابھی باقی ہے کہ صوبے کے دارلحکومت کراچی میں تحریک انصاف کیا حکمت عملی بناتی ہے ؟ کراچی میں وہ ایم کیو ایم اور کے بطن سے جنم لینے والے گروپوں کے ساتھ سیاسی مقابلے میں ہے۔
ملک میں جب بھی فیصلہ کن موڑ آیا، قوم پرستوں نے اسٹیبلشمنٹ کی حامی قوتوں کا ساتھ دیا۔ یہی اسٹیبلشمنٹ جس سے ان کو شکایت رہی ہے انہی کے حامیوں کے ساتھ اتحاد کرتی رہی ہیں۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں کسی نہ کسی شکل میں مختلف قوم پرست گروپوں کو اقتدار میں شامل کیا جاتا رہالیکن یہ المیہ ہے کہ سندھ میں قوم پرستوں کو کبھی بھی اقتدار میں شامل نہیں کیا گیا۔ اسلام آباد اور لاہور سے حوصلہ افزائی نہ ہونے کی وجہ سے سندھ کی قوم پرست تحریک میں پارلیمانی سیاست نہ کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوتا رہا، جس کا فائدہ کسی اور کو نہیں پیپلزپارٹی کو ہی ملتا رہا۔ دیکھئے اس مرتبہ کی حکمت عملی کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں؟
Thursday, May 24, 2018
نواز شریف کا بیانیہ اور سندھ
نواز شریف کا بیانیہ اور سندھ
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ ایک پنجابی سیاستدان جو تین مرتبہ وزیر اعظم رہ چکا ہے اس پر غداری کا لیبل لگایا جارہا ہے۔ سندھیوں پختونوں اور بلوچوں پر غداری کا لیبل لگتا رہا۔ یہ لیبل بہت سے لوگوں کو اچھا بھی لگتا تھا۔ کوئی تصور کرسکتاتھا کہ ایک بھاری مینڈیٹ اور پنجاب سے تعلق رکھنے والا وزیر اعظم عدالت عظمیٰ کے ایک فیصلے پر سیاست سے باہر ہوجائے گا۔ اور پھر بیٹی سمیت احتساب عدالت میں مقدمات کا سامنا کرے گا۔
سندھ کی مشہور لکھاری اور ڈرامہ نویس نورالہدیٰ شاہ نے گزشتہ دنوں اپنے والد کے حوالے سے لکھا تھا کہ پاکستان میں تب تک لوگوں کو حقوق نہیں ملیں گے جب تک کوئی پنجابی لیڈر اٹھ کھڑا نہیں ہوتا اور وہ انہیں اس ”جرم“ میں سزا نہیںہوتی۔ سندھ اور چھوٹے صوبوں میں یہ تاثر پیدا ہوا تھا کہ تب تک ملک میں جمہوری نظام نہیں رائج ہوسکے گا جب تک پنجاب نہیں چاہے گا۔ ملک میں تب تک بالغ رائے دہی کی بنیاد پر انتخابات نہیں ہوئے جب تک کہ مشرقی پاکستان بنگلا دیش نہیں بناور پنجاب اکثریت میں نہیں آیا۔ لیکن معاملہ تب عالمی طور پر مانے ہوئے اصولوں کے مطابق انتخابات نہیں ہو پائے۔ ابھی بھی جس جمہوریت اور سویلین بالادستی کی تلاش ہے، پنجاب کے اسٹینڈ لئے بغیر ممکن نہیں۔
میاں صاحب کے بیانیہ کو ملک کے خلاف قرار دے کر ان پر غداری کا لیبل چسپاں کیا جارہا ہے۔ حالانکہ ان کا یہ بیان بعض اداروں یا افسران کے خلاف ہو سکتا ہے، اس کو ریاست کے خلاف کیسے قرار دیا جاسکتا ہے؟ دنیا بھر میں سیاسی جماعتیں اور سیاسی رہنما حکومتی بیانیے سے اختلاف کرتی ہیں۔ ماضی کی بعض حکومتی پالیسیوں کو غلط قرار دیتی ہیں۔ یہ ان کا نقطہ نظر ہے۔
بظاہر ان کا یہ بیانیہ مقبول گیا ہے۔ ایک اور مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے وہ یہ کہ اس کو خود ان کی اپنی پارٹی کے بعض حلقے بھی خطرناک تصور کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے خلاف بیانئے کو قبول کرے گا یا نہیں ؟ پارٹی کے ابھی تک تین اجلاس ہو چکے ہیں۔ پہلا اجلاس وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی صادرت میں ہو۔ دوسرا اجلاس پارٹی کے صدر شہباز شریف کی صدارت میں ہوا۔ نواز لیگ نے اسلام آباد میں منعقدہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اپنے قائد نواز شریف کا بیانیہ مسترد کر دیا ہے۔ اجلاس کی صدارت وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کی، جنہوں نے اپنے بڑے بھائی نواز شریف کے نااہل ہونے کے بعد پارٹی کی صدارت سنبھالی ہے۔ اس کے بعدایک ہفتے کے اندر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اتوار کے روز ایک بار پھر پارٹی کے قائد نواز شریف اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی قیادت میں اجلاس ہوا۔ ان تین اجلاسوں کے انعقاد اور ان میں کی گئی بحث کی خبریں میڈیا تک پہنچی ہیں۔ اس سے اندازہ لگای جاسکتا ہے کہ پارٹی کے اندر بیانیے پر اتفاق رائے نہیں۔
میڈیا کے اطلاعات کے مطابق نواز لیگ کے ارکان پارلیمنٹ اس معاملے پر تقسیم تھے۔ کچھ ارکان کا خیال تھا کہ سابق وزیر اعظم کے بیانیہ سے انہیں سیاسی طور نقصان ہوگا۔ ان کے حامی اراکین اسمبلی بھی تھے جن کا کہنا تھا کہ ان کے بیانیے سے سیاسی فائدہ ہوگا۔ یہ سوال موجود ہے کہ کیا پنجاب اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے خلاف بیانیہ کو قبول کرے گا یا نہیں ؟ یہاں یہ بھی وضاحت ضروری ہے کہ صرف نواز لیگ ہی نہیں بلکہ میڈیا بھی اس بیانیئے پر بٹی ہوئی ہے۔
ایک خیال یہ بھی ہے کہ صورتحال رواں ماہ کے اختتام پر تبدیل ہو جائے گی جب منتخب حکومت اپنی آئینی مدت مکمل کر لے گی اور نگراں حکومت اختیارات سنبھالے گی۔ اس وقت میڈیا کا وہ حصہ جو میاں صاحب کے ساتھ کھڑا ہے کیا وہ اس تاریخ کے بعد بھی کھڑا رہے گا؟
یہ درست ہے کہ ملک میں جمہوری نظام ضروری ہے۔ لیکن جمہوریت کی اب تعریف وسیع ہوگئی ہے۔ لوگ اس بیانیے کے ساتھ بھی کھڑے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ بھی کھڑے ہیں کہ جمہوریت واقعی لوگوں کو کچھ دے پائی ہے؟ یہ حقیقت ہے کہ ملک کی معاشی خواہ سیاسی مارکیٹ پر چھوٹی سی اشرافیہ نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ گنتی کے فراد کے پاسا قتداربھی ہے اور وسائل کا استعمال کا اختیار بھی۔آمدنی کی تقسیم غیر مساوی اور غیر منصفانہ ہو جاتی ہے۔ آئین اور اصول کے مطابق جمہوریت تو ہے لیکن ہر سطح پر نابرابری جمہوریت کے جوہر اور وح کو ختم کردیتی ہے۔ یہیں سے اصل مسئلہ شروع ہوتا ہے۔ ایسے میں جب معیشت سکڑنے لگتی ہے تو عام آدمی کے پاس کچھ نہیں بچتا، اس کے لئے مسئلہ ہو جاتا ہے۔
یہ ابت ایک بار پھر شدت سے محسوس کی جارہی کہ معاشی مارکیٹ بشمول وسائل اور اقتدارمملکت پر پنجاب کا غلبہ ہے۔ ملک کی سیاسی تاریخ میں مارشل لائ، سیاسی حکومتوں کے قیام سے متعدد بار تبدیلیاں آئیں۔ ابھی ایک تبدیلی بالغ نہیں ہوئی تو دوسری آگئی۔ ہم ضیا دور کے بعد ایک مختلف صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس دور کے بعد خاص طور پر 1991کے بعد جو حکمراں بھی آئے وہ اختیارات پر گرفت مضبوط کرنے اور حکومت بچانے میں لگے رہے ہیں۔ مسائل کے حل پر توجہ مرکوز نہیں کرسکے ہیں۔
نواز شریف نے پہلی مرتبہ بیانیے کو واضح شکل میں رکھا اور وہ اس پر کھڑے بھی وہئے ہیں۔ ورنہ ملکی تاریخ میں اس طرح کا سیاسی بیانیہ واضح طور پر پہلے کبھی اختیار نہیں کیا گیا۔ یہ درست ہے کہ اس کی ایک وجہ پاکستانی میڈیا تھی۔ جس کو حکومت وقت اور اسٹبلشمنٹ کنٹرول کرتی تھی، لیکن دوسری وجہ یہ ہے کہ اس طرح کے بیانیئے دوسری صوبوں سے اٹھتے تھے، جو ریاستی اشرافیہ کا حصہ نہیں تھے۔ اب پنجاب روایتی بیانیے سے اختلاف رکھنے والوں یا مختلف بیانیہ اختیار کرنے والوں کو ” غدار “ قرار دینے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہا ہے ۔ یہ بھی خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ کیا اسٹبلشمنٹ کی رائے بھی منقسم؟ ۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ پنجاب نواز شریف کے بیانیہ کو قبول کرے گا یا نہیں۔
یہ یاد رکھنا اہم ہے کہ ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف پر غداری کا مقدمہ موجود ہے جس کا چلنا ابھی باقی ہے۔
پاکستان کی تاریخ ’غداروں‘ کی ایک طویل فہرست رکھتی ہے۔سوشل میڈیا تاریخ کے کئی صفحات سے مٹی اور دز ہٹا کر پیش کر رہا ہے۔ یہ باتیں صرف مین اسٹریم میڈیٰا میں ہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی ہورہی ہیں۔ کہ بلوچوں کو قرآن پر جان کی امان دے کر پھانسی چڑھا دیا گیا۔ ون یونٹ کی مخالفت کرنے والے سب ہی لوگ غدار ٹھہرائے گئے۔ ملک غلام جیلانی جو شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ سے وابستہ تھے، انھوں نے مشرقی پاکستان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف یکہ وتنہا احتجاج کیا، گرفتار ہوئے، پس زندان بھیجے گئے۔ وہ بھی ’غدارِ پاکستان‘ ‘تھے۔ ان کی بیٹی عاصمہ جیلانی نے اپنے باپ کی رہائی کے لیے مقدمہ لڑا۔ عاصمہ جیلانی بعد میں عاصمہ جہانگیر کے نام سے مشہور ہوئیں۔ انھوں نے اور ان کی بہن حنا جیلانی نے پاکستان میں انسانی حقوق کی سربلندی اور عورتوں کے حقوق کے لیے بے مثال جدوجہد کی لیکن ہر دوسرے چوتھے روز ’غدار‘ اور ’انڈین ایجنٹ‘ کہلائیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ہم نے غداری کے سرٹیفکیٹ چھاپنے کی ایک فیکٹری لگا رکھی ہے۔ اپنے جمہوری اور انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والا شخص بنگالی ہو، سندھی ہو، پشتون یا پنجابی اور بلوچ ہو ’غدار‘ ‘ہے، ”انڈین ایجنٹ‘ ‘ہے اور موت کا حق دار ہے۔ ہمارے یہاں صرف افراد ہی نہیں اخبار، رسائل و جرائد اور کتابیں بھی ’غدار‘ ٹھہرائی گئیں۔ ان میں فیض صاحب کی نظم ’صبح آزادی‘ اولیت رکھتی ہے۔ حبیب جالب کا مجموعہ ’سر مقتل‘ بھی اسی قبیل میں آتا ہے۔
ہمارے دوست صولت پاشا اگرچہ ” غیر سیاسی“ ہیں لیکن حالات حاضرہ پر بروقت، تیز تبصرہ کرنے والوں میں سے ہیں۔ انہوں نے اپنے اسٹیٹس پر نوے کے عشرے کا ایک اور دلچسپ واقعہ بیان کیا ہے ۔ تب متحدہ پر بہت سخت وقت تھا ۔ ” 1992 کے الیکشن میں متحدہ نے قومی اور صوبائی سیٹوں کے لئے بندے اتارے، لیکن خلائی مخلوق کی ضد تھی کہ کم از کم چار سیٹیں حقیقی کے لئے قومی میں چھوڑے اور دس صوبائی میں، الطاف نے انکار کر دیا اور قومی سے اپنے بندوں کو کہا کہ کاغذات نامزدگی واپس لے لو صوبائی کے تین دن بعد ہونے تھے۔۔۔خلائی مخلوق خوش ہو گئی کہ اب تو سارے اپنے بندے آ جائیں گے -الطاف نے قومی کے الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا تھا .۔ لیکن جس دن قومی کا الیکشن ہونا تھا پورے شہر کے ہر پولنگ سٹیشن پر سناٹا تھا۔ خلائی مخلوق پریشان ہو گئی ۔۔الطاف لندن جا چکا تھا اسکو گیارہ بجے معلوم ہو گیا کہ اسکا بائیکاٹ کامیاب ہو چکا، لیکن اب یہ خطرہ تھا کہ کہ حقیقی والے چند سو یا ہزار ووٹ لے کر قومی کی ساری سیٹیں نہ لے جائیں، وپہر بارہ بجے میسج بھیج دیا کہ جتنے ووٹر نکل سکتے ہو نکالو اور شیر نواز کی پارٹی والوں کو ووٹ دلا دو،میں ایک عزیز کے گھرنارتھ نظم آباد تھا بارہ بجے اسکی گھنٹی بجی وہ گیٹ پر گیا اور تین چار منٹ بعد واپس آیا کہ ایم کیو ایم والے اے تھے کہتے تھے کہ بھائی کا حکم ہے کہ اگلے تین چار گھنٹوں میں جتنے ووٹر نکل سکتے ہیں نکلیں اور نواز پارٹی کو ووٹ ڈال دیں ۔۔وہ تو ویسے ہی نواز کا حامی تھا سب گھر والوں کو گاڑی میں بھرا اور ووٹ ڈال آیا...اس دن نواز کی پارٹی کو کراچی سے آٹھ سیٹیں ملیں ایک حیدرآباد شہر سے بھی ملی۔۔خلائی مخلوق یہ دیکھ کے حیران رہ گی کہ حقیقی کسی ایک بھی سیٹ پر چار ہزار ووٹ بھی نہ سکی - خلائی گروپ نے الطاف کو کنٹیکٹ کیا اور کہا کہ پلیز اب تین دن بعد ہونے والے صوبائی الیکشن کا بائیکاٹ نہ کرے، ہماری جو بے عزتی ہونا تھی ہو گئی۔۔ الطاف نے بائیکاٹ واپس لیا اور صوبائی میں کراچی اور حیدرآباد کی تمام سیٹیں اسکے بندوں نے لیں۔۔بتانے کا مقصد صرف یہ تھا کہ خلائی مخلوق کتنی بھی انجینرنگ کر لے ووٹر کو مجبور نہیں کر سکتی کہ اسکے لوگوں کو ووٹ دے۔۔ووٹر ہمیشہ انٹی اسٹیبلشمنٹ ووٹ دیتا ہے۔“ یہ تو خیر کراچی اور مہاجر ووٹ کی بات تھی۔ سب جانتے ہیں کہ پنجاب کا ووٹ بھاری ہوتا ہے۔
اب سب کی نظریں نواز لیگ اور پنجاب پر ہیں ۔ پنجاب کا اس بیانیہ پر کیا ردعمل ہوتا ہے۔ مثبت یا منفی؟ یہ ردعمل ہی فیصلہ کرے گا کہ ملک میںکیا نظام ہوگا؟ اور اختیارات کی کیا تقسیم ہوگی؟ جمہوری عمل کس شکل میں رہے گا۔
https://www.naibaat.pk/Columnist/19
http://insightpk.com/urducolumn/nai-baat/sohail-sangi/nawaz-sharif-ka-bayaniya-aur-sindh
https://www.darsaal.com/columns/sohail-sangi/nawaz-sharif-ka-bayaniya-aur-sindh-3698.html
http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/59320/Sohail-Sangi/Nawaz-Sharif-Ka-Bayaniya-Aur-Sindh.aspx
Friday, May 18, 2018
نئے پاور بروکرز اور سندھ
New power brokers and Sindh
Nai Baat May 18, 2018
نئے پاور بروکرز اور سندھ
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
پاکستان میں اچانک نئے پاور بروکرز کا ظہور نظر آتا ہے۔ سندھ میں علی قاضی نے تبدیلی پسند پارٹی بنا لی۔ پیپلزپارٹی کے سپریمو آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی ذوالفقار مرزا نے بدین میں بہت بڑا شو کر کے صوبے میں حکمران جماعت کے خلاف محاذ کھڑا کرنے کا اعلان کردیا۔ ایک طویل عرصے تک امریکہ میں رہائش پزیر سابق طالب علم رہنما اقبال ترین نے بھی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی بنا لی۔ خیبرپختونخوا سے منظور پشتین اٹھا ہے جو پختونوں کے حقوق اور ان کے درد کی داستان لئے ہوئے ہے۔ بلوچستان میں بلوچستان عوامی پارٹی بن گئی۔ پنجاب میں پہلے مذہبی بیانیئے کے ساتھ لبیک یا رسول اللہ پارٹی اٹھی، لیکن بعد میں اس کی پزیرائی کو کم کیا گیا۔ اس کے بجائے جنوبی پنجاب میں سرائیکی صوبے کے نعرے کے ساتھ سرائیکی سمحاذ سامنے آیا ۔ جس نے اب تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ اس سے پہلے گزشتہ دو عشروں سے تحریک انصاف تبدیلی کے نعرے کے ساتھ موجود تھی۔
یہ تمام مظاہر ملک کے اندر معاشی، سیاسی اور سماجی تبدیلی کا اظہار کرتے ہیں۔ گزشتہ چار عشروں کے دوران میںشہری آبادی بڑھی ہے۔یہ شہری طبقہ خود کو متوسط طبقے کے طور پر اپنی شناخت کراتا ہے۔یعنی ملک کے اندر بڑے پیمانے پر متوسط طبقہ وجود میں آیا ہے۔ یہ طبقہ ایک ”نئے پاکستان“ کا خواب دیکھتا ہے۔ یہ متوسط طبقہ ہی نہیں بلکہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال نے بھی کردار ادا کیا۔
یہ سب کچھ راتوں رات یا صرف گزشتہ پانچ سال کے عرصے کے دوران نہیں ہوا۔ اس کے آثار 2013 کے الیکشن کے موقع پر بھی نظر آرہے تھے۔ لیکن اس کا موثر اور بھرپور طریقے سے اظہار نہیں ہو سکا تھا۔ تب امریکہ افغنساتن سے فوجوں کا انخلاءچاہ رہا تھا۔ امریکہ کا خواہش تھی کہ ان کے فوجوں کے انخلاء کے بعد پاکستان صورتحال سے نمٹ لے گا۔ لیکن چین کی خطے میں جارحانہ انداز میں داخلا نے معاملے کو الجھا دیا ۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ امریکہ کی تمام تر کوششوں کے باوجود پاک افغانستان معاملات نہیں بن پا رہے ہیں، خطے میں چین کا اثر نفوذ بڑھ رہا ہے، بظاہر لگتا ہے کہ امریکہ کا اثر کم ہوا ہے۔ پاکستان امریکہ کے بجائے اب متعد معاملات میں امریکہ کے بجائے چین کی طرف دیکھنے لگا ہے۔ ایک نئے دائروں میں اتحاد بن رہے ہیں۔ بھارت، افغانستان اور امریکہ کی قربت ہے ایران کا امریکہ سے تنازع ہے لیکن بھارت اور ایران دوست ہیں۔
2013 کے انتخابات کے بعد کا منظر نامہ کچھ اس طرح تھا کہ نواز شریف کی حکومت مکمل عسکری اور بیوروکریسی کی حمایت ے سے بنی۔ تحریک ا نصاف مسلم لیگ فنکشنل، جماعت اسلامی، جمیعت علمائے اسلام فضل الرحمان ، محمود اچکزئی کی پختونخوا عوامی ملی پارٹی، ایم کیو ایم حلقہ ہ اقتدار میں شریک ہوئیں۔ یہی صورتحال بلوچستان کی رہی، صوبے میں کشیدگی کے باوجود متوسط طبقے کی نمائندہ جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی کو شریک اقتدار بنایا گیا۔ یعنی ملک میں جو موجود پرانی اور مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کو شریک اقتدار کیا گیا۔ سیاسی اشرافیہ بظاہر ڈرائیونگ سیٹ پر رہی۔ لیکن وہ اندرونی اور بیرونی حقیقی قوتوں کی ماتحت اور دباﺅ میں رہی۔ دوسری طرف یہ بھی ہوا کہ اس سیاسی منظر نامے میں لبرل اور ترقی پسند قوتیں دباﺅ میں رہیں۔ کہ کسی طرح سے وہ حلقہ اقتدار سے باہر رہیں۔ ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی تاحال سندھ میں پوزیشن رکھتی ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے ان دونوں کا تعلق ایک ایسے صوبے سے ہے جس کا اقتدار کے نئے ڈھانچے میں کوئی جگہ نہیں۔ پنجاب ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان اہم کردار رہے ۔سندھ اس دائرہ اقتدار میں دور کے نقطے کی طرح رہا۔ سندھ میں اہم کا قیام امن رہا۔ صوبے کے دارالحکومت کراچی میں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کیا گیا۔ اور پیپلزپارٹی پر بھی کرپشن وغیرہ کے مقدمات قائم ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ صوبے میں رینجرز کی تعینات اور کراچی کے ساتھ صوبے بھر میں آپریشن کرنے کی دھمکی کے معاملات سر فہرست رہے۔ پیپلزپارٹی لوگوں کو کچھ دینے کے بجائے خود کو بچانے میں مصروف رہی۔ یہاں تک کہ ہر سال بجٹ میں ملازمتوں کے اعلان کے باوجود کوئی ملازمت نہیں دے سکی۔
یہ منظر نامہ بتاتا ہے کہ ملک میں موجود تمام مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کو شریک اقتدار کیا گیا۔ لیکن یہ جماعتیں نئے حقائق اور طبقے کو اپنے اندر سمو نہ سکیں۔ ان کے مطاابات اور ضروریات کو ایڈریس نہ کر سکیں۔ ان پارٹیوں کا صورتحال کا ادارک کم تھا یا ان میں صلاحیت نہیں تھی یا پھر وہ اپنی جماعتوں کو کلوزڈ کلب کے طور پر چلا رہی تھیں۔ ان سیاسی جماعتوں میں کے تنظیمی ڈھانچے خواہ پالیسیوں میں پرانے طبقات ہی حاوی رہے۔
لہذا اب ملک کی سیاست میں ان طبقات کو رول دیا جارہا ہے جو شریک اقتدار نہیں رہے یا پھر جن کو یہ پارٹیاں اپنا نہ سکیں۔ اس کی مختلف صوبوں میں مختلف اشکال سامنے آئی ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ستر اور اسی کے عشرے میں بڑے پیمانے پر پاکستانی بیرون ملک رہائش پزیر ہوئے۔ وہاں پر انہوں نے ملازمتیں یا چھوٹے موٹے کاروبار کئے۔ اب وہ پاکستان میں بعض چیزیں بیرون ملک کی طرح دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی امر اہم ہے کہ وہ اب فکر روزگار سے بھی فارغ ہیں۔ تحریک انصاف اور سندھ میں بننے والی اقبال ترین کی پارٹی زیادہ تر سمندر پار پاکستانیوں کے خیالات کی عکاسی کرتی ہیں۔ سندھ میں علی قاضی کی تبدیلی پسند پارٹی اور اقبال ترین کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی بنیادی طور پر نئے شہری طبقے کی نمائندگی کرتی ہیں۔ اور دونوں براہ راست اقتدار کی سیاست کرنا چاہتی ہیں۔ اس لئے آئندہ انتخابات میں حصہ لینا چاہتی ہیں۔ اقبال ترین طالب علمی کے زمانے میں قوم پرست رہے ہیں۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کو بیرون ملک سے وطن لوٹنے والوں اور بعض ریٹائرڈ افسران کی حمایت حاصل ہے۔
ذوالفقار مرزا نے پارٹی نہیں بنائی، وہ کسی پارٹی میں شمولیت کے خواہان ہیں۔ گزشتہ روز بدین میں ایک بڑا سیاسی شو کیا۔ ان کی بیگم رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے نے پیپلز پارٹی سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔ اور کہا کہ اب وہ اس سیاسی جماعت میں جائیں گی جو سندھ اور بدین کی عوام کو پانی اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کی یقین دہانی کرائے گی۔ذوالفقار مرزا اور ان کی بیگم سندھ میں پیپلزپارٹی سے ناراض حلقے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ان کا زیادہ تر فوکس سندھ کی دیہی آبادی رہے گی۔ وہ پیپلزپارٹی کے مخالفین سے اتحاد کرکے ملک گیر پارٹی میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔ تبدیلی پسند پارٹی اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی عین انتخابات کے موقع پر میدان میں آئی ہیں۔ ابھی ان کا تنظیمی نیٹ ورک بھی صحیح معنوں میں نہیں بن سکا ہے۔ اس کے علاوہ انتخابی مہم بھی بمشکل چھ ہفتے کی ہوگی۔ اس مختصر مدت میں لوگوں کو موبلائز کرنا اتنا آسان کام نہیں ہوگا۔
دوسرے صوبوں میں نئی پارٹیوں اور نئے طبقات کواقتدار اور اختیار میں نمائندگی مل سکتی ہے لیکن سندھ میں صورتحال میں کوئی بڑی تبدیلی خارج از امکان لگتی ہے۔ مستقبل میں ابھرنے والے اقتدار کے ڈھانچے میں سندھ کی اہمیت وہ رہے گی جو 2013 کے انتخابات کے بعد تھی۔ ممکن ہے کہ یہ نئے پاور بروکر اتخابی نتائج پر زیادہ تراثر انداز نہ ہو پائیں۔ لیکن پیپلزپارٹی اور دیگر مین اسٹریم پارٹیوں کو یہ ضرور پیغام مل سکتا ہے کہ وہ اپنی پالیسیاں اور تنظیمی ڈھانچہ تبدیل کریں اور نئے طبقوں کو اپنے اندر سمو لیں۔
https://www.naibaat.pk/17-May-2018/12761
Naye Power Broker Auk Sindh By Sohail Sangi (Dated: 18 May 2018)
http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-may-18-2018-167807
http://insightpk.com/urducolumn/nai-baat/sohail-sangi/naye-power-broker-auk-sindh
http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/59171/Sohail-Sangi/Naye-Power-Broker-Auk-Sindh.aspx
https://www.darsaal.com/columns/sohail-sangi/naye-power-broker-auk-sindh-3554.html
http://politics92.com/singlecolumn/59171/Sohail-Sangi/Naye-Power-Broker-Auk-Sindh.aspx
Friday, May 11, 2018
اصغر خان کیس کے مضمرات
https://www.naibaat.pk/10-May-2018/12554
اصغر خان کیس
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
اصغرخان کیس ایک بار پھر کھل گیا ہے۔ اصغرخان کیس میں بعض اہم اداروں کے افسران کے رول پر سوالات اٹھائے گئے تھے اور ان کے خلاف کارروائی کے لئے کہا گیا تھا۔ گزشتہ دنوںعدالت عظمیٰ نے سابق آرمی چیف اسلم بیگ مرزا اور سابق آئی ایس آئی کے سربراہ اسد درانی کی فیصلے پر عمل درآمد روکنے کے لئے درخواستیں مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت چھ سال پہلے دیئے گئے اس فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے کے ذمہ داروں کا تعین کرے گی۔ چھ سال پہلے سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ 1990 کے انتخابات میں سابق آرمی چیف اسلم بیگ مرزا اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل اسد درانی نے آئی جے آئی بنائی، سیاستدانوں میں رقومات تقسیم کی۔ جس کے بعد آئی جے آئی انتخابات جیتے اور نواز شریف وزیر اعظم بنے۔
آئینی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی روشنی میں ریٹائرڈ جنرل اسلم بیگ مرزا اور اسد درانی کے خلاف غداری کا مقدمہ درج ہونا چاہئے تھا، جو کہ نہیں کیا جاسکا۔ اب اچانک کارروائی کے بارے میں سوچا جارہا ہے۔ یہ مقدمہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں یعنی 2012 میں آیا تھا۔ اگرچہ 90 کے انتخابات میں سب سے زیادہ متاثرہ پارٹی پیپلزپارٹی تھی، جس کو ہروایا گیا تھا۔ لیکن پارٹی نے مصلحتا خاموشی اختیار کی۔ کیونکہ اس میں عسکری حلقوں اور ایجنسیوں کا معاملہ آرہا تھا۔ پارٹی ان طاقتور اداروں سے بگاڑنا نہیں چاہتی تھی۔ اس زمانے میں ویسے بھی حکمران جماعت پیپلزپارٹی کی اسٹبلشمنٹ سے سخت کشیدگی چل رہی تھی۔ جس میں وہ مزید اضافہ نہیں کرنا چاہتی تھی۔
آج نواز شریف خلائی مخلوق کی بات کر رہے ہیں ۔ وہ یہ نہیں بتا رہے ہیں کہ 90 کے انتخابات میں میں کیا ہوا تھا؟ انہیں کون اقتدار میں لے آیا۔ اس طرح سے نوے کے عشرے میں جس طرح سے نواز شریف اور بینظیر بھٹو کی حکومتیں برطرف ہوتی رہی، اس کا بھی حوالہ نہیں دے رہے۔
اگرچہ بینظیر کے خلاف یہ اقدام بظاہر آئینی تھا کیونکہ ضیاءالحق کی ایجاد کردہ 58 ٹو بی کے تحت حکومت برطرف کی گئی۔ لیکن آئی جے آئی کے لیڈروں کی مالی اعانت کی گئی کہ وہ انتخابات جیت سکیں۔ آئی جے آئی کو اقتدار میں لانے کا یہ ایک وسیع تر منصوبہ تھا۔ یعنی یہ صرف پیسہ نہیں تھا بلکہ ایک مکمل دھاندلی تھی۔
بات پورے طور پر تب کھل کر سامنے آئی جب ایک اہم ایجنسی کے سابق چیف اسد درانی نے 1995 میں پول کھول دیا۔ جس کے بعد اصغرخان سپریم کورٹ میں کیس لے گئے۔ اصغر خان وہ مواد عدالت میں لے گئے تھے، جو وزیر داخلہ ریٹائرڈ جنرل نصیراللہ بابر نے 1996 میں قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔ جنرل درانی نے اپنے حلفیہ بیان مین درجنوں سیاست دانوں کی لسٹ دی جنہیں آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کی ہدایت پر رقم ادا کی گئی ۔ سندھ میں ایم آئی کے سابق چیف بریگیڈئیر(ر) حامد سعید اختر نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ ”صدر غلام ا سحاق خان نے آرٹیکل (2) 58 بی کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے پی پی پی حکومت تحلیل کی ۔انہوں نے کہا کہ 12 ستمبر 1990ء کو ڈی جی ایم آئی میجر جنرل محمد اسد درانی نے کراچی کا دورہ کیا اور مجھے احکامات دئیے کہ مختلف بینکوں میں 6 اکاﺅنٹ کھولیں اور ان کے نمبر مجھے ارسال کریں۔ان اکاﺅنٹس پر نظر رکھیں۔ وقتاً فوقتاً ان اکاﺅنٹس میں فنڈز جمع ہوں گے آپ ہر اکاﺅنٹ میں ہفتہ وار بیلنس کے بارے میں مجھے آگاہ رکھیں۔ “بریگیڈئیر(ر) حامد سعید اختر نے اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ میں بھی اپنا حلفیہ بیان داخل کراچکے ہیں۔
بہرحال مقدمہ سرد خانے میں پڑا رہا۔ کیونکہ کہ 1997 میں نواز شریف اقتدار میں آگئے تھے۔ مقدمے کی دوباہ سماعت 2012 میں عدالت نے ہدایت کی کہ اس اسکینڈل میں ملوث تمام افراد کے خلاف قانونی قدم اٹھایا جائے۔ لیکن ان ہدایات پر کبھی بھی عمل درآمد نہیں ہوا۔ اب یہ کیس دوبارہ کھلا ہے۔ جنر اسلم بیگ مرزا اور اسد درانی نے اس فیصلے پر عمل درآمد روکنے کے لئے درخواستیں دی تھی کہ وہ صدر غلام اسحاق خان کے حکم کے پابند تھے۔ لہٰذا انہیں بری الذمہ قرار دیا جائے۔ سپریم کورٹ نے ان کی یہ دلیل مسترد کردی ہے اور بات اس کے عمل درآمد کی طرف چلی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مقدمہ کرپٹ پریکٹس اور غداری کے زمرے میں آتا ہے۔ غداری کا مقدمہ صرف حکومت ہی کر سکتی ہے۔ حالیہ سماعت کے دوران کہا گیاکہ یہ حکومت فیصلہ کرے گی کہ غداری کا مقدمہ دائر کرتی ہے یا کچھ اور۔
عدالت کی حالیہ شنوائی کے دوران عدالتی فیصلے کے کچھ پیرا گراف پڑھ کر سنائے اور کہا کہ 1990 کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی۔ اور صدر غلام اسحاق خان کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔ ان ہوں نے عدالت کو بتیا کہ فیصلے میں جنرل درانی اور جنرل اسلم بیگ کے رول کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے جبکہ مہران بینک کے یونس حبیب کو بھی پارٹی بنایا گیا ہے۔
عدالت نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وہ ایک ہفتے کے اندر رپورٹ پیش کریں۔ ایف آئی اے چیف نے عدالت میں حاضر ہو کر عدالت کو ان اقدامات سے آگاہ کیا جو تاحال حکومت نے اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 18 افراد کے بیانات قلمبند کئے گئے ہیں جبکہ 12 کے ابھی پوچھ گچھ کرنی ہے۔ 190ویڈیو کلپس بھی بطور ثبوت کے حاصل کرلی گئی ہیں۔ ڈی جی ایف آئی کے مطابق 140 ملین روپے چھ بے نامی کھاتوں میں جمع کرائے گئے تھے۔ کل 15 اکاﺅنٹس کی چھان بین کی جارہی ہے۔
سیاسی عمل میں ریاستی اداروں کی مداخلت کی وجہ سے لوگوں کا نظام میں اعتماد ختم ہو رہا ہے۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ سیاستدان بھی اس کا حصہ بنتے ہیں۔ انہیں اقتدار میں آنے کی جلدی ہوتی ہے۔ انتخابات میں جو کچھ ہوتا ہے اس کے لئے سیاسی جماعتیں ایجنسیوں کو مورد الزام ٹہراتی رہی ہیں۔ عمران خان نے بھی یہ الزام عائد کیا کہ 2013 کے انتخابات میں انہیں ایجنسیوں نے ہروایا۔ واضح رہے کہ عمران خان پر الزام ہے کہ انہیں عسکری حلقوں کی حمایت حاصل ہے۔ نواز لیگ سینیٹ چیئرمین کے انتخاب کا رونا روتی ہے۔ سب سے زیادہ مزیدار چوہدری شجاعت کا دعوا ہے کہ 2008 کے ناتخابات میں قاف لیگ کی شکست اداروں کی جوڑ توڑ کی وہ سے ہوئی۔ چوہدری صاحب کی پارٹی سابق آمر پرویز مشرف نے 1999 کے بعدبنوائی تھی تاکہ نواز لیگ کو توڑا اور اس کو اقتدار سے دور رکھا جاسکے۔ سترہ سال بعد کیس کا فیصلہ آیا۔ اس فیصلے کو چھ سال ہو چکے، اس پر عمل نہیں ہوا۔ایسا کیس جس میں حساس اداروں پر الزام آیا کہ پیسے اور اختیار کو استعمال کرتے ہوئے انتخابی نتائج تبدیل کردیئے گئے۔ اصغر خان کیس کا آج کھلنا اپنی معنی رکھتا ہے۔ جس کے اثرات نواز لیگ اور عسکری قوت دونوں پر پڑ سکتے ہیں۔اس طرح کی سیاسی انجنیئرنگ کے باعث سیاستدان اچھی حکمرانی یا عوام سے کئے گئے وعدے پورے کرنے کے بجائے ان قوتوں کی طرف دیکھتے ہیں جو انہیں بغیر محنت کئے اقتدار میں لاسکتی ہیں۔لہٰذا ملک میں جمہوری عمل اور اداروں کے احترام کے لئے اصغر خان کیس کو اس کے منطقی نتیجے پر پہنچانا چاہئے۔
https://www.naibaat.pk/10-May-2018/12554
http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/58918/Sohail-Sangi/Asghar-Khan-Case.aspx
http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/58918/Sohail-Sangi/Asghar-Khan-Case.aspx
------- ------ ----- ---- -------- ------- --- ---- ----- ---- ---
اصغرخان کیس،فوج نے سپریم کورٹ کی معاونت پر رضامندی ظاہر کردی
15 جون ، 2018
کراچی(جنگ نیوز)پاکستان آرمی نے 1990ء کے الیکشن کی پولیٹیکل انجینئرنگ میں اعلیٰ رینک کے ریٹائرڈفوجی افسران کے ملوث ہونے کے اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کی معاونت کیلئے رضامندی ظاہر کردی ہے۔ان ریٹائرڈفوجی افسروں پر فوج کے حمایت یافتہ امیدواروں کو فیورکرنے‘سیاستدانوں اور صحافیوں کو رشوت دینے کا الزام ہے ۔وزارت دفاع نے سپریم کورٹ میں ایک خط جمع کرایاہے جس میں کہا گیا ہے کہ فوج ان افسروں کو ٹرائل کرنے کیلئے تیار ہے ۔ آرمی کے ڈائریکٹر جنرل لاءجنہیں پہلے جج ایڈوکیٹ جنرل کہاجاتاتھا ،نے اٹارنی جنرل اشتراوصاف سے رجوع کیاہے اورمشاورت کی ہے تاکہ ملزم سابق فوجی افسران کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکے ۔اٹارنی جنرل نے عدالت کو رائے دی ہے کہ ریٹائرڈفوجی افسران کا کیس فوج کو ریفر کیاجاسکتا ہے ۔ وزارت قانون کے سابق مشیر اور قانونی ماہر شرافت علی نے کہا ہے کہ عشروں پرانے کیس میں فوج کی اچانک دلچسپی معنی خیز ہے ۔
Tuesday, May 8, 2018
تبدیلی کا نعرہ گیارہ نکات سے غائب
تبدیلی کا نعرہ گیارہ نکات سے غائب
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
عمران خان نے لاہور کے جلسے میں گیارہ نکاتی ایجنڈے کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایجنڈا ملک کی صورتحال اور اسکو درپیش مسائل کے بارے میں اس جماعت کے ویزن اور ترجیحات کو ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ اس انتخابی منشور کا باقاعدہ تحریری شکل میں آنا باقی ہے۔ تحریک انصاف پہلی سیاسی جماعت ہے جس نے انتخابی پروگرام کا اعلان کیا ہے۔ ملک میں موجود تین بڑی جماعتوں میں سے دو یعنی پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز پہلے ہی حکومت میں رہی ہیں۔ اور ان کے طرز حکمرانی، پالیسیوں اور ترجیحات کے بارے میں لوگوں کو معلوم ہے۔ پھر بھی انہیں بھی انتخابی پروگرام کا باضابطہ اعلان کرنا پڑے گا۔ نواز لیگ چاہے پروگرام کوئی بھی دے لیکن اس کا انتخابی بیانیہ مظلوم ہونے والا رہے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ سویلین اختیارات کی بالادستی۔، اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور عدالتی اصلاحات ہو سکتے ہیں۔ پیپلزپارٹی زیادہ تر اپنے پرانے نعرے روٹی کپڑا اور مکان کا ہی نعرہ لگائے گی۔ تحریک انصاف ایک بڑی پارٹی کے طور پر پہلی مرتبہ سامنے آرئی ہے لہٰذاکے لئے اس ایجنڈا کا اعلان ضروری تھا۔ عمران خان نے سیاسی پروگرام کا سر سیٹ کرنے کے لئے پہل کی۔ عمران خان کے گیارہ نکات میں ایک تعلیمی نصاب، ہیلتھ انشورنس ، قوم سے اکٹھا کرکے ملک کو قرضہ اتارنا، نیب کو مضبوط کرکے کرپشن کا خاتمہ، سرمایہ کاری میں خاص طور پر سیاحت کو فروغ دینے کے ذریعے اضافہ کرنا ، 50 لاکھ سستے گھر تعمیر کرنا، زراعت میں ایمرجنسی ، وفاق کو مضبوط بنانا ، جنوبی پنجاب کو نیا صوبہ بنانا فاٹا کو کے پی کے میں ضم کرنا ، ملک بھر میں 10 ارب درخت لگانا ، پولیس کا نظام بہتر بنانا شامل ہے ۔
اس بات سے ہٹ کر، کہ جلسہ کتنا بڑا تھا یا چھوٹا تھا، ایک بڑے اعلان کی توقع جارہی تھی، جو ان کی پذیرائی کا باعث بنے ۔ لیکن عمران خان اس جلسہ میں کوئی بڑا نعرہ یا پیغام دینے میں ناکام رہے۔ انہوں نے کوئی ایسا نعرہ، کوئی ایسا پروگرام نہیں دیا جو ان کے دیئے گئے تبدیلی کے نعرے کا اظہار ہوتا۔ گیارہ نکات میں کوئی بھی نکتہ نہ نیا ہے اور نہ انقلابی، اور نہ ہی کوئی نیا طریقہ کار بتایا گیا ہے جو ان نکات کو حاصل کرنے کو یقینی بنا سکیں۔ ، جس کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ وہ اس نعرے اور پیغام کو لیکر نکلیں گے تو ان کی بڑی پذیرائی کا سامان ہو گا۔ جہاں تک عمران خان کے گیارہ نکات کا تعلق ہے تو انہیںاس طرح کے روایتی نکات کا اظہار دیگر سیاستدان بھی کرتے رہے ہیں اور اب بھی کریں گے۔
عمران خان کے اس پروگرام کو عوام ان کی جماعت کی صوبہ خیبر پختونخوا میں کارکردگی کی بنیاد پر پرکھیں گے اور جانچیں گے، جہاں ان کی جماعت پانچ سال مکمل کر رہی ہے۔صوبہ خیبر پختونخوا کا طرز حکمرانی ہی تحریک انصاف کے ماڈل اور ترجیحات کے تعین کے لئے لیا جائے گا۔ اقوام متحدہ کے ادارے کے تعاون سے خیبر پختونخوا میں شروع کی گئی شجر کاری مہم میں خود صوبائی حکومت کے دستاویزات کے مطابق درحقیقت نصف پودے بھی نہیں لگائے گئے ۔ اور پودوں کی قیمت خرید ، ان کی تقسیم پر سوال اٹھائے جارہے ہیں۔
تعجب کی بات ہے کہ تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت کے پانچ سالہ کارکردگی کا کریڈٹ لینے یا عوام کو اپنی کارکردگی دکھانے کے بجائے ابھی تک شوکت خانم ہسپتال اور ورلڈکپ کا کریڈٹ ہی لے رہی ہے۔ کیا پارٹی قیادت خیبرپختونخوا حکومت کو ڈس اون کر رہی ہے؟ یا اس کی کوئی کارکردگی نہیں بلکہ وہ ایک طرح سے بوجھ بنی ہوئی ہے، جس کا ذکر پارٹی قیادت نہیں کرنا چاہتی؟ تجزیہ نگار جو خیبرپختونخوا کے حالات و واقعات کو بہت قریب سے دیکھتے رہے ہیں، وہ صوبائی حکومت کی کارکردگی کے بڑے نقاد ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان جو کہہ رہے ہیں یا جو پروگرام آئندہ انتخابات کے لئے ملک بھر کے عوام کو دے رہے ہیں،اپنی پارٹی کی حکومت نے صوبے میںایسا کچھ بھی نہیں کیا ہے، جو ماڈل کے طور پر پیش کر سکیں، مثال دے سکیں۔ بلکہ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صحت، تعلیم، شجرکاری، کرپشن کے خاتمے یا اچھی حکمرانی کی مد میں کامیابی کے بجائے کوتاہیاں اور نااہلی کے انبار ہیں۔ ان کی حکومت صوبے کی آمدن بڑھانے کے لئے بھی کوئی نیا اور موثر اقدام نہیں کرسکی۔
عمران خان کے بعض نکات سمجھ سے بالاتر لگتے ہیں۔ وہ قوم سے چندہ جمع کر کے قرضہ اتارنا چاہتے ہیں۔ کبھی نواز شریف نے بھی قرض اتارو ملک سنوارو کا نعرہ لگایا تھا۔لیکن بع وہ سرکاری شعبے کی بعض صنعتیں فروخت کرنے سے زیادہ کچھ نہ کر سکے۔ عمران خان کو چندہ جمع کرنے کا تجربہ ہو سکتا ہے، کیونکہ انہوں نے شوکت خانم ہسپتال بنالیا تھا۔ یہ سب اس زمانے کی بات ہے جب وہ سیاسی نہیں تھے، وہ متنازع نہیں تھے۔ یا کرکٹ جیتنے کا جذبہ نیا نیا تھا۔ اب وہ سیاستدان ہیں۔ ان کی ہر بات کو سیاسی پیمانے سے ناپا تولا جائے گا۔
اکتوبر 2011 کے جلسے میں ہوئے اور ملک میں سیاسی تبدیلی کے نعرے کو پذیرائی ملی، ایک تیسری قوت کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی۔ نوجوان جس خود کو ملک میں موجود دو بڑی پارٹیوں میں جگہ نہیں بنا پارہا تھا یا دیکھ رہا تھا اس نے تبدیلی کے نعرے کو قبول کیا تھا۔ 2013 میں عمران خان وہ سب حاصل نہ کرسکا لیکن انہوں نے خیبرپختونخوا میں حکومت بنا لی اور بعد میں احتجاجوں کے ذریعے وہ دوسری یا تیسری قوت کے طور پر ابھرے۔
اصولی طور پرگیارہ نکات کا تعلق ملک کو درپیش سلگتے مسائل سے ہونا چاہئے۔ لیکن اس کا عکس ان نکات میں نہیں ملتا۔ ملک کی ساٹھ فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں کی ہے۔ نوجوانوں کا سب سے بڑا مسئلہ تعلیم، بیروزگاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اظہار کی آزادی ہے۔ ان تینوں اسموں کے بارے میں گیارہ نکات میں کیا ہے؟
عمران خان ملک کو درپیش بعض اہم سوالات کا جواب نہیں دے پائے۔ پہلا سوال ملک میں سیاسی استحکام اور سیاسی نظام ہے، و جمہوریت کے لئے ضروری ہے۔ دوسرا صوبائی حقوق ہیں۔ لیکن ان حقوق کے بجائے وہ ایک مضبوط مرکز کی بات کر رہے ہیں، جس سے مزید صوبائی تضاد بڑھے گا۔اسی طرح انہوں نے خارجہ پالیسی سے بھی اجتناب کیا ہے۔ انہوں نے پہلے تبدیلی کا نعرہ لگایا۔ اب وہ جن اقدامات کا اعلان کر رہے ہیں وہ اصلاحات تو ہو سکتے ہیں، یکسر کوئی نظام تبدیل نہیں کر رہے ہیں۔ وہ پہلے نیا پاکستان بنا رہے تھے، اب وہ ایک پاکستان کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ تحریک انصاف کسی مربوط معاشی نظام کا خاکہ نہیں پیش کر سکی ہے، جو ملک کی سیاسی، انتظامی، اور سماجی حیثیت کو بدل سکے۔
http://e.naibaat.pk/ePaper/lahore/04-05-2018/details.aspx?id=p12_04.jpg
http://e.naibaat.pk/ePaper/lahore/04-05-2018/details.aspx?id=p12_04.jpg
ایم کیو ایم دو سے ایک کیسے ہوئی؟
ایم کیو ایم دو سے ایک کیسے ہوئی؟
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
گزشتہ ہفتہ ایم کیو ایم کے سابق ہیڈ کوارٹر کے قریب منعقدہ پیپلزپارٹی کے پاور شو نے ایم کیو ایم کی کوکھ سے جنم لینے والے دو بڑے گرپوں کو چھیڑ دیا۔ ایک ہفتے کے اندر ایم کیو ایم پاکستان کے نام سے بہادرآباد اور پیر الاہی بخش کالونی کے دونوں گروپوں نے مل کر فیڈرل بی ایریا نیں ٹنکی گراﺅنڈ میں جلسہ کیا۔ یہ جلسہ بڑا تھا یا چھوٹا یہ الگ بحث ہے لیکن دونوں گروپوں نے مشترکہ جلسہ کیا۔ یہ وہ علاقہ ہے جو ایم کیو ایم کے سابق ہیڈ کوارٹر نائین زیرو کے قریب اور یہاں پر پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جلسہ کر کے پارٹی کی کراچی میں موجودگی کا اعلان کیا تھا۔ بلاول کے جلسے کے بعد خلاد مقبول صدیقی جس کو مبینہ طور پر اسٹبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے اور فاروق ستار کے گروپوں نے الگ الگ جلسے کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہد ونوں اعالن پیپلزپارٹی کو جواب دینے کے لئے کئے گئے تھے۔ آخر وقت تک یقین نہیں تھا کہ یہ جلسہ دونوں گروپوں کی مشترکہ تقریب بن جائے گا۔ دو تین روز کے انر ایک دوسرے پر شدید الزامات عائد کرنے اور غدار کا لقب دینے والے متحد ہو گئے۔ دونوں گروپوں میں اتنی جدلی قربت معنی خیز ہے۔ اس سے قبل ایم کیو ایم کے خیرخواہ اور میانہ روی سوچ رکھنے ولاے حضرات پوری کوشش کر چکے تھے کہ کسی طرح سے یہ دونوں گروپ متحد ہو جائیں، قریب آجائیں۔ لیکن ان کی یہ کوششیں کئی ماہ کے بعد بھی کامیاب نہیں ہو سکیں۔ دونوں گروپوں کے رہنما ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔
ایم کیو ایم میں حالیہ پہلا گروپ مصطفیٰ کمال کی قیادت میں پیدا ہوا جس نے پاک سرزمین پارٹی بنائی۔ اس کے بعد فاروق ستار کی قیادت میں ایم کوی ایم نے لندن سے لاتعلقی کا اظہار کا اعلان کیا۔ آگے چل کر لیڈر شپ کے معاملے پر پاکستان میں موجود گروپوں اور رہنماﺅں میں اختلافات شدید تر ہو گئے۔ اس دوران بظاہر کراچی کے مینڈیٹ کی دعوایدار جماعت دو گروپوں میں تقسیم ہوگئی تھی۔ لیکن عملاان دو گروپوں کے اندر تین تین چار چار گروپ تھے۔
رواں سال جنوری تک ملک کی سیاست کا محور اسلام آباد اور پنجاب رہے۔ کراچی میں کوئی زیادہا ثر دکھانے والی سرگرمی نہیں وہ رہی تھی۔ ماسوائے ایم کوی ایم کے مختلف گرپوں کے ایک دوسرے کے خلاف بیانات وغیرہ کے۔ یا پھر کبھی کبھا ملک گیر پارٹی کے رہنما ” روٹین“ کی سرگمریوں کے حوالے سے سندھ کے دارالحکومت کا دورہ کر رہے تھے۔ لیکن سینیٹ کے انتخابات کے بعد جیسے ہی عام انتخابات کا راستہ نظر آنے لگا، تحریک انصاف، نواز لیگ، جماعت اسلامی، نے انتخابی مہم کے طور پر اپنی سرگرمیاں شروع کردی۔ نواز لیگ کے صدر شہابز شریف نے گزشتہ ماہ دو مرتبہ دورہ کیا اور اپنی اتحادی جامعتوں اور ایم کوی ایم کے رہنماﺅں سے ملاقاتیں کیں۔ وہ اس امر کا اجائزہ لے رہے تھے کہ نواز لیگ کے حامیوں اور کراچی یں آباد پنجابی بولنے والوں کی مدد سے کوئی نشست حاصل کی جاسکتی ہےَ اور یہ بھی کہ وفاق میں موجود ان کے اتحادی کراچی میں ان کی کیا مدد کر سکتے ہیں۔ شہباز شریف نے اس بات کا بھی جائزہ لیا کہ اس میٹروپولیٹن شہر میں نواز لیگ کے خلاف اتحاد بننے یا سیاست ہونے کے بجائے کس طرح سے اس کوپیپلزپارٹی کے خلاف سیاست میں تبدیل کیا جاسکتاہے؟ جو سندھ میں حکمران جماع شہباز شریف، عمران خان اور جماعت اسلامی کے مولانا سراج الحق سمیت کسی کے کراچی کے دورے پر ایم کوی ایم کو اعتراض نہیں تھا۔ البتہ پیپلزپارٹی نے جب جلسہ کیا تو اس کو برا لگا۔
بلاول بھٹو کے جلسے نے ایم کوی ایم کو متحدہ کردیا۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خٰال ہے کہ پیپلزپارٹی کو اپنا پاور شو نہیں کرنا چاہئے تھا۔ کیونکہ پیپلزپارٹی کو ایم کیو ایم کے پس منظر میں سے کوئیووٹ ملنے کی امید کم ہی ہے۔ اس شو کے خوف نے ایم کیو ایم کو متحدہ کردیا۔ بلاول بھٹو نے اپنی تقریر میں ایم کیو ایم کو قومی مصیبت موومنٹ کہا تھا اور یہ بھی کہا کہ اگر اس کے قائد برے ہیں تو اس قائد کے ساتھی بھی برے ہی ہونگے۔ یوں انہوں نے ایم کیو ایم کے دونوں گروپوں کے رہنماﺅں کوچھیڑ دیا۔ دوسری دلیل یہ دی جارہی ہے کہ پیپزپارٹی کے ضروری تھا کہ اپنے ہون گراﺅنڈ صوبے کے دارلحکومت میں پانا پاور شو کرے۔ اور اپنے وجود کا احساس دلائے۔ دوسری طرف دوسری ملک گیر جماعتیں کراچی میں” گھس“ رہپی تھی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ ایم کیو ایم کو سیہات کرنے کی آزادی ہے۔ اصولی طور پر ایسا ہی ہونا چاہئے۔ سوال یہ ہے کہ کونسی سیاست؟ دونوں گروپوں کے جلسے میں جو تقاریر ہوئیں وہ بتاتی ہیں کہ ایم کیو ایم سیاست کو واپس اسی جگہ لے جانا چاہتی ہے جہاں پر جھگڑا ہوا تھا۔ وہ لسانیت کی بنیاد پر نفرت اور تفریق اور الگ صوبے کی بات کر رہی ہے۔ سندھ کو متروکہ سندھ قرار دے رہی ہے۔ صوبے اور اس کے عوام کو درپیش مسائل پر سیات کرنے کے بجائے صوبے کے دو بڑے لسانی گروہوں وک ایک دوسر ے کےمنے سامنے کھڑا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس کا لامحالہ نقصان عوام کا ہی ہونا ہے۔
ایم کیو ایم کا جلسہ اور اس میں کی گئی تقاریر چار چیزوں کو عیاں کرتی ہیں: (۱) سندھ متروکہ ہے اور اس وک الگ صوبہ چاہئے (۲) مہاجر ووٹ بینک ایک ہے اور کو قتسیم نہیں کرنے دیا جائے گا۔ (۳) اس کو رہنما نہیں منزل چاہئے ( یعنی رہنما کوئی بھی ہو لسانیت اور صوبہ اہم ہے۔ یہ بات بظاہر اس کے قائڈ الطاف کی نفی کرتی ہے۔ (۴) مہاجریت کی شناخت برقرار رہے۔
جس طرح سے ایم کیو ایم دونوں گروپ لوٹ آئے ہیں اور ایک دوسرے کے گلے ملے ہیں اس سے لگتا ہے کہ انہیں بلاول بھٹو کی تقریر اور پیپزپارٹی کے جلسے نے کٹھا کیا ہی ہے۔ اصل میں کوئی اور قوت ہے جس کے اشارے پر یہ سب ہوا ہے۔ پیلزپاٹی اور بلاول بھٹ نحض وجہ بنے ہیں۔ ویسے ای کیو ایم کے دوبارہ زندہ ہونے سے پیپلزپارٹی کو کوئی نقصان نہیں۔ خاص طور پر انتخابات کے موقعہ پر۔ پس منظر یہ بھی ہو کہ ایم کیو ایم ہاجریت اور صوبے کا مطالبہ کررہی ہو اور سندھ کو متروکہ قرار دے رہی ہو۔ پیپلزپارٹی کو یہ فائدہ ملے گا کہ ایم کیو ایم کے اس موقف کےردعمل میں سندھیت کے نام پر ووٹ لے گی۔
لگتا ہے کہ کراچی کا مینڈٰٹ ایم کوی ایم کے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس فارمولے کے اسٹبلشمنٹ کو دو فائدے ہیں۔ ایک یہ کہ کراچی میں لسانیت کی سیاست برقرار رہے گی اور کراچی کسی ملک گیر پارٹی کی چھتری کے تلے نہیں آ پائے گا۔ یعنی یہاں کی سیات پر اسٹبلشمنٹ کی گرفت مضبوط رہے گی۔ دوسری بات یہ کہ آئندہ انتخابات کے بعد پسند کے وزیراعظم کے لئے ایم مضبوط گروپ سے ووٹ کا حصول یقنی ہو جائے گا۔ لہٰذا ایم کیو ایم کو اس طرح متحدہ کرنا اور مہاجر ووٹ بینک کو متحدہ رکھنا ضروری خیا کیا گیا۔
کراچی اور اسلام آباد کے سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ سٹبلشمنٹ کو خطرہ ہے کہ اگر ایم کیو ایم کو تحد نہیں کیا گیا، اور اس کے مینڈیٹ کو توڑنے کی کوشش کی گئی، ، اس بات کا امکان ہے کہ ایم کو ایم کا لندن والا قائد اپنے امیدوار کھڑے کردے۔ یا یہ کہ وہ انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کردے۔ اگر یہ صورتحال بنی تو 2013 کے بعد کئے گئے آپریشن، سیاسی چائنا کٹنگ اور دیگر کئے گئے اقدامات بہہ جائیں گے۔ لہٰا ایم کیو ایم پاکستان کو دوبارہ زندھ کرنا اور متحدہ کرنا ضروری تھا۔
MQM, Farooq Sttar, Tanki Ground, Bilawal Bhutto,
http://e.naibaat.pk/ePaper/lahore/08-05-2018/details.aspx?id=p12_05.jpg
----------------------------------------------------------------
https://jang.com.pk/news/507253
16 جون ، 2018
http://e.naibaat.pk/ePaper/lahore/08-05-2018/details.aspx?id=p12_05.jpg
----------------------------------------------------------------
https://jang.com.pk/news/507253
فاروق ستار کا پھر نئے صوبوں کا مطالبہ ، پیپلز پارٹی پر سرکاری وسائل استعمال کرنیکا الزام
15 جون ، 2018
کراچی (نیوز ڈیسک؍اسٹاف رپورٹر) ایم کیوایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے ایک بار پھر سندھ میں نئے صوبوں کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی اب بھی سرکاری وسائل اور افسران کو استعمال کرر ہی ہے، الیکشن سے قبل دھاندلی کا سلسلہ جاری ہے، پری پول ریگنگ ہورہی ہے اور ہماری کوئی شنوائی نہیں ہورہی۔ جمعرات کو کراچی سٹی کورٹ میںمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ الیکشن ہمارے مسئلے کا حل نہیں اس سے ہم چوتھی بڑی جماعت بن کر سامنے آجاتے ہیں لیکن عوام کے بنیادی مسائل حل نہیں ہورہے، اس لیے ہم ایسی بات کریں جس کی آئین میں گنجائش ہو، آئینی اصلا حا ت کی بات کریں اور انتظامی بنیادوں پر صوبے بنانے کی بات کریں، سندھ میں بھی بشمول جنوبی سندھ نئے صوبے بنائے جائیں۔ ایم کیوایم رہنما کا کہنا تھا کہ اس بار پر ایک مثالی مردم شماری ہونا تھی جس کے نہ ہونے سے سب سے زیادہ نقصان کراچی اور سندھ کے شہریوں کا ہے، یہاں لوگوں میں بے چینی اور غصہ ہے، ہم نے انہیں صبر کی تلقین کی ہوئی ہے۔ فاروق ستار نے کہا کہ مردم شماری میں آبادی کم دکھائی گئی ہے، عوام کو حق نمائندگی سےمحروم کیا جارہا ہے، آئینی اور انتظامی اصلاحات نہیں کی گئیں تو الیکشن کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھاکہ ہم ایم کیوایم
پاکستان کے کارکن، ممبر اور رکن ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے باوجود سمجھتا ہوں کہ سندھ میں ایم کیوایم کا ووٹ بینک تقسیم نہیں ہونا چاہیے، وہ ایم کیو ایم کی تقسیم کا بالکل بھی ساتھ نہیں دیں گے، میں بہادرآباد کے ساتھیوں کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ اب ہمیں اپنا مسئلہ حل کرلینا چاہیے اور ملکر ایم کیوایم کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنا چاہیے کیونکہ یہی عقلمندی ہے۔ قبل ازیں ایم کیوایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار کاغذات نامزدگی فارم کی اسکروٹنی کے لیے ریٹرننگ افسر کے سامنے پیش ہوئے تاہم ان کے کاغذات کی اسکروٹنی مکمل نہ ہوسکی۔ ریٹرننگ افسر نے فاروق ستار کو بتایا کہ ان کے کاغذات کی اسکروٹنی عید کے بعد مکمل کی جائے گی، کاغذات کی تصدیق کے لیے کچھ وقت درکار ہوگا۔
----------------------------------
فاروق ستار کو بہادرآباد واپسی کا مینڈیٹ مل گیا
15 جون ، 2018
کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ پی آئی بی گروپ کا فاروق ستار کی رہائش گاہ پر اہم اجلاس ہوا۔
اجلاس میں ایم کیو ایم کے اراکین رابطہ کمیٹی کی اکثریت نے فاروق ستار کو بہادرآباد واپسی کا مینڈیٹ دے دیا۔ذرائع کے مطابق اراکین اجلاس میں اس نکتے پر بھی متفق ہوئے کہ الیکشن میں بہادرآباد کے امیدواروں کے خلاف کھڑے نہیں ہوں گے۔
اجلاس میں اتحاد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ انتخابات میں اتحاد کا مظاہرہ کرنا اہم معاملہ ہے۔
....................................
....................................
عید کے موقع پر ایم کیو ایم بہادر آباد اور پی آئی بی ایک ہوگئے
عیدالفطر کے موقع پر ایم کیو ایم بہادر آباد اور پی آئی بی ایک ہو گئے۔ دونوں نے مل کر کام کرنے اور ایک ہونے کا اعلان کردیا۔
فاروق ستار اختلافات بھلاکر بہادر آباد دفتر جا پہنچے ۔ بہادرآباد آفس میں خالد مقبول صدیقی،فیصل سبزواری اور خواجہ اظہار سمیت دیگر رہنماؤں نے استقبال کیا ۔جس کے بعد سینئر رہنما ؤں کا اجلاس ہوا ۔
اجلاس کے بعد دونوں دھڑوں نے دوبارہ مل کر کام کرنے کا ا علان کر دیا ۔
میڈیا سے گفتگو میں فاروق ستار نے کہا کہ مقصد ایم کیو ایم کو ہر حال میں ایک رکھنا مقصد ہے ۔الیکشن نہیں اس کے بعد بھی ایک رہنا ہے ۔ایم کیو ایم کے دھڑوں کو یکجا کرنے کے لیے چاند رات کے انتخاب کا مقصد عید پر خوشخبری اور عیدی دینا تھا ۔
اس موقع پر خالد مقبول کا کہنا تھا کہ چاند رات پر چار چاند لگ گئے ، عید کا مزا دوبالا ہو گیا۔ایم کیو ایم کسی ایک کی نہیں،سب کی ہے، ہم ایک ہیں،کسی فارمولے کی ضرورت نہیں،سازشیوں کا پتہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ چند ماہ میں ایم کیو ایم کی طاقت کا اندازہ ہوا ہے۔ بہت سارے سوالوں کا ہم نے ملکر جواب دے دیا،باقی سوالوں کےجواب عید کےبعد دیں گے ۔خلوص اور محنت کو دیکھتے ہوئے پارٹی ٹکٹ دیے جائیں گے۔
ایم کیوایم پاکستان کے دونوں گروپوں میں اختلافات ختم
16 جون ، 2018
کراچی(اسٹاف رپورٹر) ایم کیو ایم پاکستان کے دونوں گروپوں کے درمیان جار ی اختلافات ختم ہوگئے ہیںاور سنیئر رہنما فاروق ستار نے ایم کیو ایم کی کنوینر شپ کے حوالے سے الیکشن کمیشن اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے بہادر آباد کے ساتھ مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس سلسلے میں فاروق ستار کی قیام گاہ پر ان کی صدارت میں ان کے حامیوں کا اجلاس ہوا جس میں اگلے انتخابات کے حوالے سے طویل بحث ہوئی، وہاں موجود بیشتر ارکان کی رائے تھی کہ عدالتی فیصلے کے بعد ہمیں معاملات کو مزید خراب کرنے کے بجائے حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے بہادر آباد کے ساتھیوں کی پیش کش کو قبول کرنا چاہئے،ایم کیو ایم پاکستان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد سنیئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کو رضا مند کرنے کے لئے دو رکنی ٹیم کو پی آئی بی بھیجا تھا جس میں سردار احمد اور کشور زہرا شامل تھے،جمعرات کو بھی کشور زہرا نے ڈاکٹر فاروق ستار سے ملاقات کی اور انہیںمل کر کام کرنے پر رضامند کرنے کی کوشش کی، جمعرات کی شب پی آئی بی کے اجلاس میں بھی کئی افراد نے
عدالتی فیصلے کو قبول کرنے پر زور دیا، جس کے بعد جمعہ کو ڈاکٹر فاروق ستار نے اپنے ساتھیوں سے مزید بات چیت اور مشاورت کی ،اس بات کا قوی امکان ہے کہ عید کے بعد صورت حال میں مزید مثبت تبدیلی آ ئے گی اور دونوں گروپ یکجا ہوجائیں گے جس کے بعد ایم کیو ایم کی جانب سے ناراض ہوکر پی آئی بی جانے والے ارکان اور کارکنوں کو بھی الیکشن میں ٹکٹ دینے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
Fear of PPP, PSP forces MQM factions to patch up
Fear of PPP, PSP forces MQM factions to patch up
KARACHI: Wary of the Pakistan Peoples Party and Pak Sarzameen Party’s prospects in the upcoming general elections, the PIB and Bahadurabad groups of the Muttahida Qaumi Movement-Pakistan on Friday decided to put aside their differences for now to show their voters and supporters that they will go to the polls together under the same election symbol of kite.
Dr Farooq Sattar seems to be the sole loser in the battle that began on Feb 5 over MQM-P leadership, as background interviews with some key leaders of the Bahadurabad group indicated that they were unwilling to give him back the responsibility of the party convener, especially after the June 11 decision of Islamabad High Court.
The IHC had ruled that the MQM coordination committee convener was Dr Khalid Maqbool Siddiqui and not Dr Sattar as per decision of the Election Commission of Pakistan. While Dr Sattar told a press conference following the decision that he could challenge the IHC ruling before the Supreme Court, Dr Siddiqui at his press conference invited him to the Bahadurabad office of the party though without mentioning his future role in the MQM-P.
Also read: What's behind the rift?
Sources said most of the PIB group members were against any further confrontation with the Bahadurabad group as they did not want Dr Sattar to approach the Supreme Court, citing that a division within the MQM-P would only benefit the rival PSP and PPP in the July 25 general elections.
The sources said candidates of the two factions had filed nomination papers for national and provincial assembly seats against each other, but there was a realisation in both camps that none of them could win even a single seat if the division persisted.
While most members in the PIB camp are ready to return to Bahadurabad unconditionally, the Bahadurabad faction seems uninterested in giving Dr Sattar the importance they were promising until a few days back.
Even a day before the IHC decision, the Bahadurabad faction offered Dr Sattar to return to the party as convener of the coordination committee. “This [offer] is no longer valid,” said a senior Bahadurabad group leader, adding that the IHC declared Dr Siddiqui convener on a plea filed by Dr Sattar himself.
“Our doors are open for every worker, office-bearer and leader, including Farooq bhai, and they should return to the party and we all should go to polls from the united platform of the MQM-P,” he said.
He said that it was decided during behind-the-scene talks between the two camps that the PIB group would submit a list of their candidates to a parliamentary board, which would make a final decision.
Asked whether the Bahadurabad group would give Dr Sattar the right to grant election ticket, another senior leader briefly replied: “I doubt.”
Dr Sattar was earlier told that he could return to the party as convener but the power to grant election tickets and authority to oversee internal organisational matter would rest with other persons.
On Friday, a meeting was held at Dr Sattar’s residence in which it was decided that the PIB group would go to Bahadurabad as MQM-P workers “for the sake of unity”.
Former MQM MNA Ali Raza Abidi, who is currently associated with Dr Sattar-led PIB group, in a video statement said that “we all have decided after consultation to go to Bahadurabad headquarters as workers on Friday night and will cotest election together”.
Differences within the MQM-P had surfaced on Feb 5 when Dr Sattar had announced boycott of a coordination committee meeting, as his rival had refused to give a party ticket to his favourite, Kamran Tessori, for the Senate elections.
Later, the Bahadurabad group removed Dr Sattar from the position of party convener and appointed Dr Siddiqui as the new party leader. Dr Sattar, however, did not budge. He held his group’s intra-party elections and appointed himself as the convener. The Bahadurabad group challenged the intra-party elections before the ECP that later accepted Dr Sattar’s removal and declared Dr Siddiqui the party convener.
The split cost the MQM-P dearly as the party failed to retain its four seats in the Senate during the March 11 elections. The Bahadurabad group managed to get only one seat, while the PIB faction remained empty-handed, as the PPP bagged 10 of the 12 seats.
Party insiders believed that even if the PIB and Bahadurabad groups managed to reconcile, the two sides could fight again at the time of finalisation of party tickets for the general elections.
Published in Dawn, June 16th, 2018
Subscribe to:
Comments (Atom)