Thursday, May 24, 2018

نواز شریف کا بیانیہ اور سندھ

نواز شریف کا بیانیہ اور سندھ 
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ ایک پنجابی سیاستدان جو تین مرتبہ وزیر اعظم رہ چکا ہے اس پر غداری کا لیبل لگایا جارہا ہے۔ سندھیوں پختونوں اور بلوچوں پر غداری کا لیبل لگتا رہا۔ یہ لیبل بہت سے لوگوں کو اچھا بھی لگتا تھا۔ کوئی تصور کرسکتاتھا کہ ایک بھاری مینڈیٹ اور پنجاب سے تعلق رکھنے والا وزیر اعظم عدالت عظمیٰ کے ایک فیصلے پر سیاست سے باہر ہوجائے گا۔ اور پھر بیٹی سمیت احتساب عدالت میں مقدمات کا سامنا کرے گا۔ 
سندھ کی مشہور لکھاری اور ڈرامہ نویس نورالہدیٰ شاہ نے گزشتہ دنوں اپنے والد کے حوالے سے لکھا تھا کہ پاکستان میں تب تک لوگوں کو حقوق نہیں ملیں گے جب تک کوئی پنجابی لیڈر اٹھ کھڑا نہیں ہوتا اور وہ انہیں اس ”جرم“ میں سزا نہیںہوتی۔ سندھ اور چھوٹے صوبوں میں یہ تاثر پیدا ہوا تھا کہ تب تک ملک میں جمہوری نظام نہیں رائج ہوسکے گا جب تک پنجاب نہیں چاہے گا۔ ملک میں تب تک بالغ رائے دہی کی بنیاد پر انتخابات نہیں ہوئے جب تک کہ مشرقی پاکستان بنگلا دیش نہیں بناور پنجاب اکثریت میں نہیں آیا۔ لیکن معاملہ تب عالمی طور پر مانے ہوئے اصولوں کے مطابق انتخابات نہیں ہو پائے۔ ابھی بھی جس جمہوریت اور سویلین بالادستی کی تلاش ہے، پنجاب کے اسٹینڈ لئے بغیر ممکن نہیں۔ 
میاں صاحب کے بیانیہ کو ملک کے خلاف قرار دے کر ان پر غداری کا لیبل چسپاں کیا جارہا ہے۔ حالانکہ ان کا یہ بیان بعض اداروں یا افسران کے خلاف ہو سکتا ہے، اس کو ریاست کے خلاف کیسے قرار دیا جاسکتا ہے؟ دنیا بھر میں سیاسی جماعتیں اور سیاسی رہنما حکومتی بیانیے سے اختلاف کرتی ہیں۔ ماضی کی بعض حکومتی پالیسیوں کو غلط قرار دیتی ہیں۔ یہ ان کا نقطہ نظر ہے۔ 
بظاہر ان کا یہ بیانیہ مقبول گیا ہے۔ ایک اور مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے وہ یہ کہ اس کو خود ان کی اپنی پارٹی کے بعض حلقے بھی خطرناک تصور کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے خلاف بیانئے کو قبول کرے گا یا نہیں ؟ پارٹی کے ابھی تک تین اجلاس ہو چکے ہیں۔ پہلا اجلاس وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی صادرت میں ہو۔ دوسرا اجلاس پارٹی کے صدر شہباز شریف کی صدارت میں ہوا۔ نواز لیگ نے اسلام آباد میں منعقدہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اپنے قائد نواز شریف کا بیانیہ مسترد کر دیا ہے۔ اجلاس کی صدارت وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کی، جنہوں نے اپنے بڑے بھائی نواز شریف کے نااہل ہونے کے بعد پارٹی کی صدارت سنبھالی ہے۔ اس کے بعدایک ہفتے کے اندر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اتوار کے روز ایک بار پھر پارٹی کے قائد نواز شریف اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی قیادت میں اجلاس ہوا۔ ان تین اجلاسوں کے انعقاد اور ان میں کی گئی بحث کی خبریں میڈیا تک پہنچی ہیں۔ اس سے اندازہ لگای جاسکتا ہے کہ پارٹی کے اندر بیانیے پر اتفاق رائے نہیں۔ 
میڈیا کے اطلاعات کے مطابق نواز لیگ کے ارکان پارلیمنٹ اس معاملے پر تقسیم تھے۔ کچھ ارکان کا خیال تھا کہ سابق وزیر اعظم کے بیانیہ سے انہیں سیاسی طور نقصان ہوگا۔ ان کے حامی اراکین اسمبلی بھی تھے جن کا کہنا تھا کہ ان کے بیانیے سے سیاسی فائدہ ہوگا۔ یہ سوال موجود ہے کہ کیا پنجاب اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے خلاف بیانیہ کو قبول کرے گا یا نہیں ؟ یہاں یہ بھی وضاحت ضروری ہے کہ صرف نواز لیگ ہی نہیں بلکہ میڈیا بھی اس بیانیئے پر بٹی ہوئی ہے۔ 
ایک خیال یہ بھی ہے کہ صورتحال رواں ماہ کے اختتام پر تبدیل ہو جائے گی جب منتخب حکومت اپنی آئینی مدت مکمل کر لے گی اور نگراں حکومت اختیارات سنبھالے گی۔ اس وقت میڈیا کا وہ حصہ جو میاں صاحب کے ساتھ کھڑا ہے کیا وہ اس تاریخ کے بعد بھی کھڑا رہے گا؟ 
یہ درست ہے کہ ملک میں جمہوری نظام ضروری ہے۔ لیکن جمہوریت کی اب تعریف وسیع ہوگئی ہے۔ لوگ اس بیانیے کے ساتھ بھی کھڑے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ بھی کھڑے ہیں کہ جمہوریت واقعی لوگوں کو کچھ دے پائی ہے؟ یہ حقیقت ہے کہ ملک کی معاشی خواہ سیاسی مارکیٹ پر چھوٹی سی اشرافیہ نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ گنتی کے فراد کے پاسا قتداربھی ہے اور وسائل کا استعمال کا اختیار بھی۔آمدنی کی تقسیم غیر مساوی اور غیر منصفانہ ہو جاتی ہے۔ آئین اور اصول کے مطابق جمہوریت تو ہے لیکن ہر سطح پر نابرابری جمہوریت کے جوہر اور وح کو ختم کردیتی ہے۔ یہیں سے اصل مسئلہ شروع ہوتا ہے۔ ایسے میں جب معیشت سکڑنے لگتی ہے تو عام آدمی کے پاس کچھ نہیں بچتا، اس کے لئے مسئلہ ہو جاتا ہے۔
یہ ابت ایک بار پھر شدت سے محسوس کی جارہی کہ معاشی مارکیٹ بشمول وسائل اور اقتدارمملکت پر پنجاب کا غلبہ ہے۔ ملک کی سیاسی تاریخ میں مارشل لائ، سیاسی حکومتوں کے قیام سے متعدد بار تبدیلیاں آئیں۔ ابھی ایک تبدیلی بالغ نہیں ہوئی تو دوسری آگئی۔ ہم ضیا دور کے بعد ایک مختلف صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس دور کے بعد خاص طور پر 1991کے بعد جو حکمراں بھی آئے وہ اختیارات پر گرفت مضبوط کرنے اور حکومت بچانے میں لگے رہے ہیں۔ مسائل کے حل پر توجہ مرکوز نہیں کرسکے ہیں۔ 
 نواز شریف نے پہلی مرتبہ بیانیے کو واضح شکل میں رکھا اور وہ اس پر کھڑے بھی وہئے ہیں۔ ورنہ ملکی تاریخ میں اس طرح کا سیاسی بیانیہ واضح طور پر پہلے کبھی اختیار نہیں کیا گیا۔ یہ درست ہے کہ اس کی ایک وجہ پاکستانی میڈیا تھی۔ جس کو حکومت وقت اور اسٹبلشمنٹ کنٹرول کرتی تھی، لیکن دوسری وجہ یہ ہے کہ اس طرح کے بیانیئے دوسری صوبوں سے اٹھتے تھے، جو ریاستی اشرافیہ کا حصہ نہیں تھے۔ اب پنجاب روایتی بیانیے سے اختلاف رکھنے والوں یا مختلف بیانیہ اختیار کرنے والوں کو ” غدار “ قرار دینے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہا ہے ۔ یہ بھی خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ کیا اسٹبلشمنٹ کی رائے بھی منقسم؟ ۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ پنجاب نواز شریف کے بیانیہ کو قبول کرے گا یا نہیں۔
 یہ یاد رکھنا اہم ہے کہ ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف پر غداری کا مقدمہ موجود ہے جس کا چلنا ابھی باقی ہے۔ 
پاکستان کی تاریخ ’غداروں‘ کی ایک طویل فہرست رکھتی ہے۔سوشل میڈیا تاریخ کے کئی صفحات سے مٹی اور دز ہٹا کر پیش کر رہا ہے۔ یہ باتیں صرف مین اسٹریم میڈیٰا میں ہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی ہورہی ہیں۔ کہ بلوچوں کو قرآن پر جان کی امان دے کر پھانسی چڑھا دیا گیا۔ ون یونٹ کی مخالفت کرنے والے سب ہی لوگ غدار ٹھہرائے گئے۔ ملک غلام جیلانی جو شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ سے وابستہ تھے، انھوں نے مشرقی پاکستان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف یکہ وتنہا احتجاج کیا، گرفتار ہوئے، پس زندان بھیجے گئے۔ وہ بھی ’غدارِ پاکستان‘ ‘تھے۔ ان کی بیٹی عاصمہ جیلانی نے اپنے باپ کی رہائی کے لیے مقدمہ لڑا۔ عاصمہ جیلانی بعد میں عاصمہ جہانگیر کے نام سے مشہور ہوئیں۔ انھوں نے اور ان کی بہن حنا جیلانی نے پاکستان میں انسانی حقوق کی سربلندی اور عورتوں کے حقوق کے لیے بے مثال جدوجہد کی لیکن ہر دوسرے چوتھے روز ’غدار‘ اور ’انڈین ایجنٹ‘ کہلائیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ہم نے غداری کے سرٹیفکیٹ چھاپنے کی ایک فیکٹری لگا رکھی ہے۔ اپنے جمہوری اور انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والا شخص بنگالی ہو، سندھی ہو، پشتون یا پنجابی اور بلوچ ہو ’غدار‘ ‘ہے، ”انڈین ایجنٹ‘ ‘ہے اور موت کا حق دار ہے۔ ہمارے یہاں صرف افراد ہی نہیں اخبار، رسائل و جرائد اور کتابیں بھی ’غدار‘ ٹھہرائی گئیں۔ ان میں فیض صاحب کی نظم ’صبح آزادی‘ اولیت رکھتی ہے۔ حبیب جالب کا مجموعہ ’سر مقتل‘ بھی اسی قبیل میں آتا ہے۔
ہمارے دوست صولت پاشا اگرچہ ” غیر سیاسی“ ہیں لیکن حالات حاضرہ پر بروقت، تیز تبصرہ کرنے والوں میں سے ہیں۔ انہوں نے اپنے اسٹیٹس پر نوے کے عشرے کا ایک اور دلچسپ واقعہ بیان کیا ہے ۔ تب متحدہ پر بہت سخت وقت تھا ۔ ” 1992 کے الیکشن میں متحدہ نے قومی اور صوبائی سیٹوں کے لئے بندے اتارے، لیکن خلائی مخلوق کی ضد تھی کہ کم از کم چار سیٹیں حقیقی کے لئے قومی میں چھوڑے اور دس صوبائی میں، الطاف نے انکار کر دیا اور قومی سے اپنے بندوں کو کہا کہ کاغذات نامزدگی واپس لے لو صوبائی کے تین دن بعد ہونے تھے۔۔۔خلائی مخلوق خوش ہو گئی کہ اب تو سارے اپنے بندے آ جائیں گے -الطاف نے قومی کے الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا تھا .۔ لیکن جس دن قومی کا الیکشن ہونا تھا پورے شہر کے ہر پولنگ سٹیشن پر سناٹا تھا۔ خلائی مخلوق پریشان ہو گئی ۔۔الطاف لندن جا چکا تھا اسکو گیارہ بجے معلوم ہو گیا کہ اسکا بائیکاٹ کامیاب ہو چکا، لیکن اب یہ خطرہ تھا کہ کہ حقیقی والے چند سو یا ہزار ووٹ لے کر قومی کی ساری سیٹیں نہ لے جائیں، وپہر بارہ بجے میسج بھیج دیا کہ جتنے ووٹر نکل سکتے ہو نکالو اور شیر نواز کی پارٹی والوں کو ووٹ دلا دو،میں ایک عزیز کے گھرنارتھ نظم آباد تھا بارہ بجے اسکی گھنٹی بجی وہ گیٹ پر گیا اور تین چار منٹ بعد واپس آیا کہ ایم کیو ایم والے اے تھے کہتے تھے کہ بھائی کا حکم ہے کہ اگلے تین چار گھنٹوں میں جتنے ووٹر نکل سکتے ہیں نکلیں اور نواز پارٹی کو ووٹ ڈال دیں ۔۔وہ تو ویسے ہی نواز کا حامی تھا سب گھر والوں کو گاڑی میں بھرا اور ووٹ ڈال آیا...اس دن نواز کی پارٹی کو کراچی سے آٹھ سیٹیں ملیں ایک حیدرآباد شہر سے بھی ملی۔۔خلائی مخلوق یہ دیکھ کے حیران رہ گی کہ حقیقی کسی ایک بھی سیٹ پر چار ہزار ووٹ بھی نہ سکی - خلائی گروپ نے الطاف کو کنٹیکٹ کیا اور کہا کہ پلیز اب تین دن بعد ہونے والے صوبائی الیکشن کا بائیکاٹ نہ کرے، ہماری جو بے عزتی ہونا تھی ہو گئی۔۔ الطاف نے بائیکاٹ واپس لیا اور صوبائی میں کراچی اور حیدرآباد کی تمام سیٹیں اسکے بندوں نے لیں۔۔بتانے کا مقصد صرف یہ تھا کہ خلائی مخلوق کتنی بھی انجینرنگ کر لے ووٹر کو مجبور نہیں کر سکتی کہ اسکے لوگوں کو ووٹ دے۔۔ووٹر ہمیشہ انٹی اسٹیبلشمنٹ ووٹ دیتا ہے۔“ یہ تو خیر کراچی اور مہاجر ووٹ کی بات تھی۔ سب جانتے ہیں کہ پنجاب کا ووٹ بھاری ہوتا ہے۔ 
 اب سب کی نظریں نواز لیگ اور پنجاب پر ہیں ۔ پنجاب کا اس بیانیہ پر کیا ردعمل ہوتا ہے۔ مثبت یا منفی؟ یہ ردعمل ہی فیصلہ کرے گا کہ ملک میںکیا نظام ہوگا؟ اور اختیارات کی کیا تقسیم ہوگی؟ جمہوری عمل کس شکل میں رہے گا۔ 

https://www.naibaat.pk/Columnist/19 

http://insightpk.com/urducolumn/nai-baat/sohail-sangi/nawaz-sharif-ka-bayaniya-aur-sindh

https://www.darsaal.com/columns/sohail-sangi/nawaz-sharif-ka-bayaniya-aur-sindh-3698.html

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/59320/Sohail-Sangi/Nawaz-Sharif-Ka-Bayaniya-Aur-Sindh.aspx

No comments:

Post a Comment