Tuesday, May 8, 2018

تبدیلی کا نعرہ گیارہ نکات سے غائب

تبدیلی کا نعرہ گیارہ نکات سے غائب
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
عمران خان نے لاہور کے جلسے میں گیارہ نکاتی ایجنڈے کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایجنڈا ملک کی صورتحال اور اسکو درپیش مسائل کے بارے میں اس جماعت کے ویزن اور ترجیحات کو ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ اس انتخابی منشور کا باقاعدہ تحریری شکل میں آنا باقی ہے۔ تحریک انصاف پہلی سیاسی جماعت ہے جس نے انتخابی پروگرام کا اعلان کیا ہے۔ ملک میں موجود تین بڑی جماعتوں میں سے دو یعنی پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز پہلے ہی حکومت میں رہی ہیں۔ اور ان کے طرز حکمرانی، پالیسیوں اور ترجیحات کے بارے میں لوگوں کو معلوم ہے۔ پھر بھی انہیں بھی انتخابی پروگرام کا باضابطہ اعلان کرنا پڑے گا۔ نواز لیگ چاہے پروگرام کوئی بھی دے لیکن اس کا انتخابی بیانیہ مظلوم ہونے والا رہے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ سویلین اختیارات کی بالادستی۔، اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور عدالتی اصلاحات ہو سکتے ہیں۔ پیپلزپارٹی زیادہ تر اپنے پرانے نعرے روٹی کپڑا اور مکان کا ہی نعرہ لگائے گی۔ تحریک انصاف ایک بڑی پارٹی کے طور پر پہلی مرتبہ سامنے آرئی ہے لہٰذاکے لئے اس ایجنڈا کا اعلان ضروری تھا۔ عمران خان نے سیاسی پروگرام کا سر سیٹ کرنے کے لئے پہل کی۔ عمران خان کے گیارہ نکات میں ایک تعلیمی نصاب، ہیلتھ انشورنس ، قوم سے اکٹھا کرکے ملک کو قرضہ اتارنا، نیب کو مضبوط کرکے کرپشن کا خاتمہ، سرمایہ کاری میں خاص طور پر سیاحت کو فروغ دینے کے ذریعے اضافہ کرنا ، 50 لاکھ سستے گھر تعمیر کرنا، زراعت میں ایمرجنسی ، وفاق کو مضبوط بنانا ، جنوبی پنجاب کو نیا صوبہ بنانا فاٹا کو کے پی کے میں ضم کرنا ، ملک بھر میں 10 ارب درخت لگانا ، پولیس کا نظام بہتر بنانا شامل ہے ۔
اس بات سے ہٹ کر، کہ جلسہ کتنا بڑا تھا یا چھوٹا تھا، ایک بڑے اعلان کی توقع جارہی تھی، جو ان کی پذیرائی کا باعث بنے ۔ لیکن عمران خان اس جلسہ میں کوئی بڑا نعرہ یا پیغام دینے میں ناکام رہے۔ انہوں نے کوئی ایسا نعرہ، کوئی ایسا پروگرام نہیں دیا جو ان کے دیئے گئے تبدیلی کے نعرے کا اظہار ہوتا۔ گیارہ نکات میں کوئی بھی نکتہ نہ نیا ہے اور نہ انقلابی، اور نہ ہی کوئی نیا طریقہ کار بتایا گیا ہے جو ان نکات کو حاصل کرنے کو یقینی بنا سکیں۔ ، جس کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ وہ اس نعرے اور پیغام کو لیکر نکلیں گے تو ان کی بڑی پذیرائی کا سامان ہو گا۔ جہاں تک عمران خان کے گیارہ نکات کا تعلق ہے تو انہیںاس طرح کے روایتی نکات کا اظہار دیگر سیاستدان بھی کرتے رہے ہیں اور اب بھی کریں گے۔
عمران خان کے اس پروگرام کو عوام ان کی جماعت کی صوبہ خیبر پختونخوا میں کارکردگی کی بنیاد پر پرکھیں گے اور جانچیں گے، جہاں ان کی جماعت پانچ سال مکمل کر رہی ہے۔صوبہ خیبر پختونخوا کا طرز حکمرانی ہی تحریک انصاف کے ماڈل اور ترجیحات کے تعین کے لئے لیا جائے گا۔ اقوام متحدہ کے ادارے کے تعاون سے خیبر پختونخوا میں شروع کی گئی شجر کاری مہم میں خود صوبائی حکومت کے دستاویزات کے مطابق درحقیقت نصف پودے بھی نہیں لگائے گئے ۔ اور پودوں کی قیمت خرید ، ان کی تقسیم پر سوال اٹھائے جارہے ہیں۔ 
تعجب کی بات ہے کہ تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت کے پانچ سالہ کارکردگی کا کریڈٹ لینے یا عوام کو اپنی کارکردگی دکھانے کے بجائے ابھی تک شوکت خانم ہسپتال اور ورلڈکپ کا کریڈٹ ہی لے رہی ہے۔ کیا پارٹی قیادت خیبرپختونخوا حکومت کو ڈس اون کر رہی ہے؟ یا اس کی کوئی کارکردگی نہیں بلکہ وہ ایک طرح سے بوجھ بنی ہوئی ہے، جس کا ذکر پارٹی قیادت نہیں کرنا چاہتی؟ تجزیہ نگار جو خیبرپختونخوا کے حالات و واقعات کو بہت قریب سے دیکھتے رہے ہیں، وہ صوبائی حکومت کی کارکردگی کے بڑے نقاد ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان جو کہہ رہے ہیں یا جو پروگرام آئندہ انتخابات کے لئے ملک بھر کے عوام کو دے رہے ہیں،اپنی پارٹی کی حکومت نے صوبے میںایسا کچھ بھی نہیں کیا ہے، جو ماڈل کے طور پر پیش کر سکیں، مثال دے سکیں۔ بلکہ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صحت، تعلیم، شجرکاری، کرپشن کے خاتمے یا اچھی حکمرانی کی مد میں کامیابی کے بجائے کوتاہیاں اور نااہلی کے انبار ہیں۔ ان کی حکومت صوبے کی آمدن بڑھانے کے لئے بھی کوئی نیا اور موثر اقدام نہیں کرسکی۔ 
عمران خان کے بعض نکات سمجھ سے بالاتر لگتے ہیں۔ وہ قوم سے چندہ جمع کر کے قرضہ اتارنا چاہتے ہیں۔ کبھی نواز شریف نے بھی قرض اتارو ملک سنوارو کا نعرہ لگایا تھا۔لیکن بع وہ سرکاری شعبے کی بعض صنعتیں فروخت کرنے سے زیادہ کچھ نہ کر سکے۔ عمران خان کو چندہ جمع کرنے کا تجربہ ہو سکتا ہے، کیونکہ انہوں نے شوکت خانم ہسپتال بنالیا تھا۔ یہ سب اس زمانے کی بات ہے جب وہ سیاسی نہیں تھے، وہ متنازع نہیں تھے۔ یا کرکٹ جیتنے کا جذبہ نیا نیا تھا۔ اب وہ سیاستدان ہیں۔ ان کی ہر بات کو سیاسی پیمانے سے ناپا تولا جائے گا۔ 
اکتوبر 2011 کے جلسے میں ہوئے اور ملک میں سیاسی تبدیلی کے نعرے کو پذیرائی ملی، ایک تیسری قوت کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی۔ نوجوان جس خود کو ملک میں موجود دو بڑی پارٹیوں میں جگہ نہیں بنا پارہا تھا یا دیکھ رہا تھا اس نے تبدیلی کے نعرے کو قبول کیا تھا۔ 2013 میں عمران خان وہ سب حاصل نہ کرسکا لیکن انہوں نے خیبرپختونخوا میں حکومت بنا لی اور بعد میں احتجاجوں کے ذریعے وہ دوسری یا تیسری قوت کے طور پر ابھرے۔ 
اصولی طور پرگیارہ نکات کا تعلق ملک کو درپیش سلگتے مسائل سے ہونا چاہئے۔ لیکن اس کا عکس ان نکات میں نہیں ملتا۔ ملک کی ساٹھ فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں کی ہے۔ نوجوانوں کا سب سے بڑا مسئلہ تعلیم، بیروزگاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اظہار کی آزادی ہے۔ ان تینوں اسموں کے بارے میں گیارہ نکات میں کیا ہے؟ 
 عمران خان ملک کو درپیش بعض اہم سوالات کا جواب نہیں دے پائے۔ پہلا سوال ملک میں سیاسی استحکام اور سیاسی نظام ہے، و جمہوریت کے لئے ضروری ہے۔ دوسرا صوبائی حقوق ہیں۔ لیکن ان حقوق کے بجائے وہ ایک مضبوط مرکز کی بات کر رہے ہیں، جس سے مزید صوبائی تضاد بڑھے گا۔اسی طرح انہوں نے خارجہ پالیسی سے بھی اجتناب کیا ہے۔ انہوں نے پہلے تبدیلی کا نعرہ لگایا۔ اب وہ جن اقدامات کا اعلان کر رہے ہیں وہ اصلاحات تو ہو سکتے ہیں، یکسر کوئی نظام تبدیل نہیں کر رہے ہیں۔ وہ پہلے نیا پاکستان بنا رہے تھے، اب وہ ایک پاکستان کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ تحریک انصاف کسی مربوط معاشی نظام کا خاکہ نہیں پیش کر سکی ہے، جو ملک کی سیاسی، انتظامی، اور سماجی حیثیت کو بدل سکے۔ 

http://e.naibaat.pk/ePaper/lahore/04-05-2018/details.aspx?id=p12_04.jpg

No comments:

Post a Comment