Nai Baat May 25, 2018
اقتدار کی سیاست اور سندھ کے قوم پرست
عمران خان اور سندھ کے قوم پرست
سندھ کے قوم پرست اقتدار کی سیاست سے باہر کیوں؟
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
سندھ یونائٹیڈ پارٹی نے تحریک انصاف سے اتحاد کر لیا ہے۔ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ فی الحال سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ ہوا ہے لیکن یہ اتحاد انتخابات کے بعد بھی جاری رہے گا۔ اس معاہدے میں پیپلزپارٹی کی کرپشن کو اہم نقطہ بنایا گیا ہے۔ سندھ کے قوم پرستوں کا مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد اور ایڈجسٹمنٹ ہوتا رہا ہے۔ وفاق میں حکومت بنانے کی خواہش مند ہر پارٹی ماضی میں سندھ کے قوم پرستوں کے ساتھ اتحاد کرتی رہی ہے۔ یہ معاملہ نوے کے عشرے سے چلا آرہا ہے۔
ماضی قریب کے ایک اتحاد کا جائزہ اس مظہر کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ گزشتہ انتخابات سے تقریبا ایک سال پہلے جولائی 2012میں سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے سید جلال محمود شاہ اور نواز لیگ کے سربراہ نواز شریف نے سات نکاتی تحریری معاہدہ کیا تھا۔ اس سات نکاتی اعلامیہ میں پاکستان کے آئین میں رہتے ہوئے صوبوں کو زیادہ سے زیاہد صوبائی خود مختاری دینا، قومی مالیاتی کمیشن کو بہتر بنانا، 1991 کے پانی کے معاہدے پر مکمل عمل اور سندھ کی جغرافیائی حدود سے چھیڑ چھار نہ کرنا شامل تھے۔ اس معاہدے میں سندھ میں لسانی، مذہبی اور فرقہ قرارانہ تقسیم ، دہشت گردی ، کرپشن کے خاتمے کے خلاف اور اچھی حکمرانی کے لئے موثر اقدامات کرنا، اور آزاد خارجہ پالیسی اختیا کے نکات بھی شامل تھے۔ اگرچہ اس معاہدے پر بھی سندھ کے سیاسی حلقوں میں سخت تنقید ہوئی۔ لیکن بظاہر یہ معاہدہ خاصا جامع تھا۔
یہ وہ صورتحال تھی جب سندھ خواہ وفاق میں پیپلزپارٹی اقتدار میں تھی۔ بینظیر بھٹو کی عدم موجودگی اور پیپلزپارٹی کی خرابی حکمرانی کی وجہ سے سندھ میں متبادل کی گنجائش محسوس کی جارہی تھی۔اس خیال کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے 2010 میں پارلیمانی سیاست کرنے والی سندھ کی جماعتوں قومی عوامی تحریک، سندھ ترقی پسند پارٹی اور سندھ یونائٹیڈ پارٹی نے سندھ پروگریسو نیشنلسٹ الائنس بنایا تھا۔ اور مشترکہ انتخاب لڑنے کا اعلان کیا تھا تاکہ سندھی ووٹرز کو تیسرا آپشن پیش کر سکیں۔نواز شریف اس اتحاد اور اس میں شامل پارٹیوں کے ساتھ رابطے میں رہے لیکن انہوں نے اتحاد سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے ساتھ کیا۔ اس اتحاد سے اس خیال کی نفی ہو گئی کہ قوم پرست خود متحد ہو کر انتخابات نہیں لڑ سکتے۔
اس اعلامیہ کے نکات پر شببے کا اظہار کیا جارہا تھا وہ کس طرح سے سندھ کے دکھوں درمان ہو گا۔ نواز شریف نے قوم پرستوں کو اقتدار میں حصہ کیا سیاست اور معیشت میں حصہ نہیں دیا۔ نواز شریف کے پاس انتخابات سے پہلے اور بعد مختلف حکمت عملی ہوتی ہے۔
اٹھارویں ترمیم کے بعد کم از کم آئین کی میں صوبوں کو بڑی حد تک خود مختاری حاصل ہے۔ پانی کی منصفانہ تقسیم، قومی مالیاتی ایوارڈ ، توانائی کی تقسیم کے معاملات پیپلزپارٹی شدومد سے اٹھارہی ہے۔ جس کے بعد قوم پرستوں کے لئے اسپیس مزید کم ہو گیا ہے۔
آج سندھ بعض دیگر گروپ بھی متبادل کے نعرے کے ساتھ پارلیمانی سیاست میں آئے ہیں۔جبکہ قوم پرستوں کے درمیان پانچ سال قبل والی قربت نہیں۔عمران خان سندھ کے قوم پرستوں کے بارے میں وہ حکمت عملی اپنا رہے ہیں جو نواز شریف اپناتے رہے ہیں۔ نواز شریف کی طرح عمران خان کا بھی سندھ میں کوئی تنظیمی سیٹ اپ نہیں۔ انہیں اس اتحاد سے سندھ میں سیاسی اور اخلاقی قبولیت کا جواز مل گیا۔
سندھ میں قومپرستی کے مختلف رنگ اور لہجے ہیں۔ صرف ایک گروپ نے تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔ جب کہ باقی مکاتب فکر اس سے باہر ہیں۔ سندھ کی قوم پرست سیاست کا ایک ہبت بڑا حصہ پارلیمانی یا وفاقی سیساست پر یقین نہیں رکھتے۔ اس درجہ بندی میں جیئے سندھ قومی محاذ کے دو گروپ، جیئے سندھ محاذ اور جیئے سندھ تحریک باقی جو قوم پرست جماعتیں پارلیمانی سیاست کرنا چاہتی ہیں ۔ عمران خان نے سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے ساتھ اتحاد کے لئے بھی کیا کہ قادر مگسی کی سندھ ترقی پسند پارٹی اور پلیجو کی عوامی تحریک 2007 میں نواز شریف کی قیادت میں بننے والے آل پارٹیز ڈیموکریٹک الائنس کا حصہ رہی ہیں۔ نواز شریف نے یہ اتحاد بینظیر بھٹو کی جانب سے جنرل مشرف کے خلاف بنائے اتحاد کے جواب میں بنایا تھا۔
سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے ان دو اتحادوں کا موازنہ دلچسپی سے خالی نہیں۔ نواز لیگ کے معاہدہ تحریری تھا اور اس پر خود نواز شریف نے دستخط کئے تھے ۔ حالیہ معاہدے میں تحریک انصاف سندھ کے صدر نے مفاہمت کا اعلان کیا ہے۔ اور اس میں مطالبات اور مسائل کا باقاعدہ ذکر تھا۔ حالیہ معاہدہ ان تمام معاملات پر خاموش ہے۔ یعنی سندھ کے وہ اشوز جس پر صوبے میں قوم پرست سیاست ہوتی رہی ہے تحریک انصاف ان پر کوئی وعدہ کرنے کے لئے بھی تیار نہیں۔ یہ عملا ایک نتخابی مفاہمت ہے۔ جس میں صرف پیپلزپارٹی کی خراب حکمرانی پر اتفاق کیا گیا ہے۔ 2012 کے اوائل میں قوم پرست پارٹیوں سے تحریک انصاف نے اتحاد ی کوشش کی تھی۔ ان مذاکرات کی سربراہی شاہ محمود قریشی کر رہے تھے۔ سوائے جلال محمود شاہ کے سندھی قوم پرستوں کی اکثریت تحریک انصاف کے ساتھ اتھاد کے حق میں نہیں تھی۔ جلال محمود شاہ کی ملاقات اور امکانی اتحاد پر اتفاق رائے کے بعد دو سرگرم گروپوں قادر مگسی کی ترقی پسند پارٹی اور قومی عوامی تحریک نے نواز شریف سے اتحاد کے لئے کوشش کی۔ اب سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے سربراہ جلال محمود شاہ اور تحریک انصاف سندھ کے صدر عارف علوی کے درمیان کامیاب مذاکرات ہوئے۔
تحریک انصاف ور سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے درمیان حالیہ انتخابی اتحاد کے بعد سندھ کے قوم پرستوں کا ایک پلیٹ فارم سے انتخاب لڑنا خارج از امکان لگتا ہے۔
جہاں تک جلال محمود شاہ کی بات ہے، تجزیہ نگار اس امر کو بھی اہمیت دے رہے ہیں کہ اس اتحاد سے جلال محمود شاہ تحریک انصاف کے رہنما یار محمد رند کی مدد سے اپنی نشست جیت سکتے ہیں۔ کیونکہ اس حلقے میں ان کی برادری کے ووٹ فیصلہ تعداد میں موجود ہیں۔ چند ماہ قبل یار محمد رند سیہون میں عمران خان کا کامیاب جلسہ منعقد کرا چکے ہیں۔ سندھ میں اگر نان پیپلز پارٹی سیٹ اپ بنتا ہے تو جلال محمود شاہ وزارت اعلیٰ کے بہتر امیدوار ہو سکتے ہیں۔ جلال محمود شاہ پہلے نواز شریف کے ساتھ اور اب عمران خان کے ساتھ اتحاد کر کے جی ایم سید کے سیاسی ورثے میں تبدیلی لا چکے ہیں۔ قوم پرست گروپ سمجھتے ہیں کہ وہ پنجاب کو خوش کر کے اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جلال محمود شاہ کی سندھ یونائٹیڈ پارٹی تنظیمی طور خواہ ووٹ کے حوالے سے کوئی بڑی پارٹی نہیں ہے۔مگر ان کا نام اور تعارف بڑا ہے۔وہ سندھ کی قوم پرست تحریک کے بانی جی ایم سید کے پوتے ہیں۔ صوبے کے سیاسی خواہ سماجی حلقوں میں ذاتی طبع کی وجہ سے قابل قبول ہیں۔ مزید یہ کہ جلال محمود شاہ الیکٹبل کی فہرست میں آتے ہیں۔
سیاسی حلقے شبہ کا اظہار کر رہے کہ کیا عمران خان ا قتدار میں آنے کے بعد سندھ کے سیاسی اور معاشی حقوق نہیں دے گا؟ اٹھارویں ترمیم پر مکمل عمل درآمد کرائے گا؟
تحریک انصاف کو اس اتحاد سے یہ بھی فائدہ ہوگا کہ یہ اتحاد تحریک انصاف میں شمولیت کرنے والوں کو ڈھال مہیا کرے گا ۔ جس طرح نواز لیگ کو سندھ میں پاؤں ٹکانے کے لیے جگہ چاہئے تھی۔ اسی طرح تحریک انصاف کو بھی جگہ چاہئے۔ یہ طے ہونا ابھی باقی ہے کہ صوبے کے دارلحکومت کراچی میں تحریک انصاف کیا حکمت عملی بناتی ہے ؟ کراچی میں وہ ایم کیو ایم اور کے بطن سے جنم لینے والے گروپوں کے ساتھ سیاسی مقابلے میں ہے۔
ملک میں جب بھی فیصلہ کن موڑ آیا، قوم پرستوں نے اسٹیبلشمنٹ کی حامی قوتوں کا ساتھ دیا۔ یہی اسٹیبلشمنٹ جس سے ان کو شکایت رہی ہے انہی کے حامیوں کے ساتھ اتحاد کرتی رہی ہیں۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں کسی نہ کسی شکل میں مختلف قوم پرست گروپوں کو اقتدار میں شامل کیا جاتا رہالیکن یہ المیہ ہے کہ سندھ میں قوم پرستوں کو کبھی بھی اقتدار میں شامل نہیں کیا گیا۔ اسلام آباد اور لاہور سے حوصلہ افزائی نہ ہونے کی وجہ سے سندھ کی قوم پرست تحریک میں پارلیمانی سیاست نہ کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوتا رہا، جس کا فائدہ کسی اور کو نہیں پیپلزپارٹی کو ہی ملتا رہا۔ دیکھئے اس مرتبہ کی حکمت عملی کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں؟
No comments:
Post a Comment