Friday, September 28, 2018

قحط زدگان کی امداد کا مہنگا ترین فارمولا

قحط زدگان کی امداد کا مہنگا ترین فارمولا 
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
سندھ حکومت نے تھر اور صوبے کے دیگر علاقوں کو قحط زدہ تو قرار دے دیا لیکن ایک ماہ گزرنے کے بعد بھی امدادی کارروائیاں شروع نہیں کی جاسکی ہیں۔ ھتر سے بچوں کی اموات اور لوگوں کی نقل کنای کی خبریں مسلسل آرہی ہیں۔ صوبائی حکومت نے غیر متوقع طور پراگست میں ہی تھر کو قحط زدہ قرار دے دیا، ورنہ گزشتہ برسوں میں خشک سالی کے باوجود اس بارانی علاقے کو قحط متاثر قرار دینے سے گریز کرتی رہی ہے۔سندھ حکومت کی اس مرتبہ حد حساسیت حیران کن ہے کہ سندھ حکومت نے تھر سمیت چھ اضلاع کی تین سو پندرہ دیہوں کو آفت زدہ قرار دیا گیاہے، متاثرہ علاقے میں گندم اور مویشیوں کو چارہ دینے کا علان کیا ۔ 
تھرپارکر اور عمرکوٹ اضلاع میں قحط زدگان میں امدادی گندم تقسیم کرنے کا پروگرام بنایا گیا ہے۔ جو کہ اتنا پیچیدہ ہے کہ ایک بڑی آبادی اس امداد سے استفادہ نہیں کر سکے گی۔ طریقہ یہ رکھا گیا ہے کہ قومی کارڈ کی بنیاد پر فی خاندان ہر ماہ پچاس کلو گندم مفت دی جائے گی۔گزشتہ سال حکومت نے دو لاکھ ستاسی ہزار خاندانوں میں گندم تقسیم کی تھی۔ لیکن حالیہ امدادی کاررویوں میں صرف دولاکھ آٹھ ہزار خاندان شامل کئے گئے ہیں۔ نتیجۃ 80 ہزارخاندان امدادی لسٹ سے خارج کر دیئے گئے ہیں۔ بالفاظ دیگرے سولہ لاکھ آبادی میں سے ایک چوتھائی آبادی اس امداد س ے محروم ہو جائے گی۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ نادرا ریکارڈ کے مطابق خاندان دولاکھ آٹھ ہزار خاندان ہیں۔ مسئلہ نادرا کے ریکاڑد کا ہے جو اپ ڈیت نہیں کیا گیا ہے، ار اس دلیل کو درست بھی مانا جائے، تو گزشتہ سال امدادی گندم دو لاکھ ستاسی ہزار خاندانوں میں کیسے تقسیم کی گئی؟ دوئم یہ کہ اگر خاندانوں کے اعداد و شمار میں فرق آرہا تھا، گزشتہ ماہ جب امدادی کام کی تیاری کے لئے محکمہ رلیف اور کابینہ کی کمیٹی نے ہوم ورک شروع کیا تب اس کی نشاندہی کیوں نہیں کی گئی؟ اس نقص کے بارے میں نہ لوگوں کو بتایا گیا کہ لوگ اپنا نادرا کا ریکارڈ اپ ڈیٹ کرائیں اور نہ ہی نادرا کو آگاہ کیا گیا اور اس سے ریکارڈ کو اپڈیٹ کرنے کے لئے مدد لی گئی۔ 
لگتا ہے کہ صوبائی حکومت ذمہ داری اپنے کندھوں سے اتار کر نادرا پر ڈالنا چاہ رہی ہے۔ نادرا کے پاس یہی جواب ہوگا کہ اس ادارے سے نہ صوبائی حکومت نے اور نہ متعلقہ لوگوں نے رابطہ کیا۔ 
گزشتہ سال بھی حکومت نے ساتھ گندم کی قساط دینے کا اعلان کیا تھا جس میں سے اپریل میں تقسیم ہونے والی قسط حکومت کی آئینی مدت مکمل ہونے اور نگراں حکومت آنے کی وجہ سے روک دی گئی تھی۔یہ قسط تاحال تقسیم نہیں کی جاسکی ہے۔ زیادہ مستحقین روزگار کی تلاش میں نقل مکانی کر چکے ہیں۔
حکومت کے امدادی منصوبے کے مطابق امدادی گندم اور چارہ کی تقسیم کا مرکزتحصیل ہیڈ کوارٹرز میں رکھا گیا ہے۔ 21 ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا یہ صحرائی علاقہ چھ تحصٰلوں پر مشتمل ہے جس میں 2300 گاؤں ہیں۔ ضلع میں روڈ نیٹ ورک خال خال ہے۔ 
کئی گاؤں سے تحصیل ہیڈکوارٹر ایک سو سے ڈیڑھ سو کلو میٹر کے فاصلے پر ہیں۔ جہاں تک پہنچنے کے لئے فی خاندان کو آٹھ سو سے ایک ہزار روپے تک خرچ کرنا پڑے گا، یہ رقم تقریبا پچاس کلوگرام گندم کی قیمت کے برابر ہے۔ 
مزید یہ کہ گندم کی تقسیم کا عمل بہت ہی پیچیدہ رکھا گیاہے۔ امداد کے مستحق شخص کو چار کونٹرز یا دفاتر سے تصدیق اور داخلا کرانے کے بعد پچاس کلو گندم دی جاتی ہے۔ 
چھاچھر اور دیگر تحصیلوں میں جہاں ایک دو روز امدادی کارروایاں شروع کی گی تھی وہاں پر ان چار دفاتر میں موجود عملے کی جانب سے رشوت لینے کی بھی شکایات موصل ہوئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ امدادی گندم اور چارے کی تقسیم کے مراکز تحصیل ہیڈ کوارٹرز میں اس لئے رکھے گئے ہیں کہ حکومت کے پاس یہ گندم گاؤں تک پہنچانے کے لئے مطلوبہ ٹرانسپورٹ کے پیسے نہیں ہیں ۔ یا وہ اس پر پیسے خرچ کرنا نہیں چاہتی۔ ماضی میں بھی مختلف ٹرانسپورٹرز کے کروڑوں روپے کے بل روک دیئے گئے تھے، جو بعد میں کمیشن کی ادائیگی اور اثر رسوخ کے بعد ادا ہو سکے تھے۔ 
صوبائی حکومت کو ہر ماہ دو ارب روپے کی گندم اور اتنی ہی رقم ٹرانسپورٹیشن پر خرچ کرنی پڑے گی۔بارہ ماہ میں یہ رقم کم از کم چالیس سے پچاس ارب روپے تک بنے گی ۔ اتنی بڑی رقم کاصوبائی حکومت آسانی سے بندوبست نہیں کر سکے گی۔ عملا گندم کی دو تین قسطیں کم ہو جائیں گی۔تقسیم کے حالیہ منصوبے کے تحت جتنی رقم حکومت گندم اور چارے پر خرچ کرے گی، متاثرین کو بھی اتنی ہی رقم یہ مادا حاصل کرنے کے لئے کرایے اور ٹرانسپورٹ پر خرچ کرنی پڑے گی۔ لہٰذا حکومت کا قحط زدگان کی امداد کا فارمولا حکومت اور متاثرین دونوں کے لئے مہنگا ترین فارمولا ہے۔ 
دوسرے علاقوں میں ابھی امدادی کام شروع ہی نہیں کیا جاسکا ہے ۔اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ تھر میں صورتحال زیادہ خراب ہے۔ اور نقل مکانی ہورہی ہے۔ بلکہ بعض اعدا وشمار کے مطابق خاصی آبادی نقل مکانی کر چکی ہے جس کو اپنی کوتاہی اور نااہلی کو چھپانے کے لئے حکومتی اہلکار معمول کی نقل مکانی قرار دے رہے ہیں۔
ایک لمحے کے لئے اگر اس سرکاری دلیل کو مان بھی لیا جائے، کیا آج اکیسویں صدی میں کسی علاقے سے ہر سال چالیس فیصد آبادی کی نقل مکانی خود حکومت اور یاست کی کرکردگی پر سوالیہ نشان نہیں؟ پیپلزپارٹی جس کو تھر کی 72 فیصد خواتین نے ووٹ ڈالے ہیں اور اس پارٹی کے پاس حکمرانی کا اب تیسرادور ہے۔ 
صرف تھر میں امدادی سرگرمیاں شروع کرنے سے ظاہرہوتا ہے کہ یہ علاقہ صوبے کے باقی بارانی یا بیراجی علاقوں سے مختلف ہے۔ لیکن قحط زدہ قرار دینے کے فیصلے میں تھر کو دوسرے علاقوں کے ساتھ نتھی کردیا گیا۔ جس سے حکومت تھر میں قحط کی شدت کم دکھانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔ صرف بارش پر انحصار کرنے والے اس علاقے کی صرف صورتحال مختلف ہے ، یہاں گزشتہ دو عشروں کے دوران پندرہ سال قحط رہا ہے۔ جس کی وجہ سے غذائیت کی شدید قلت، بدترین غربت ہے۔ مزید یہ کہ قریبی بیراجی علاقے ٹیل( آبپاشی کے آخری سرے پر) ہونے کی وجہ سے معاشی بدحالی کا شکار ہے۔ لہٰذا تھر کے لوگوں کے لئے روزگار کرنے کے قریب ترین مواقع اور مقامات چار کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔

تھر کوہر دوسرے تیسرے سال خشک سالی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گزشتہ دو عشروں سے اس علاقے میں قحط سالی کی آمد اور اس کی شدت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے قحط سالی میں وقفہ کم ہو گیا۔ 
حکومت کو تھرصرف دو مواقع پر یاد آتا ہے۔ ایک الیکشن ہوتے ہیں دوسرے جب قحط پڑتا ہے۔ الیکشن اور قحط میں دو قدر مشترکہ ہیں۔ دونوں مواقع پر بڑے بڑے وعدے اور اعلانات کئے جاتے ہیں۔ کچھ عرصے بعد حکومت وقت یہ وعدے اور اعلانات بھول جاتی ہے۔حکومت نے ایک بار پھر گندم اور مویشیوں کے لئے چارے کی تقسیم کی صورت میں قحط کا عارضی حل ڈھونڈاہے۔ گندم کی تقسیم ناگزیر ہے یہ اور بات ہے کہ حکمران جماعت اس سے سیاسی اور اس کے اراکین کاکوذاتی فائدے اٹھائیں گے۔لوگ سیاسی طور پر ان کے ماتحت ہو جاتے ہیں۔ حکمران جماعت کے لوگوں کو گندم تقسیم کی ٹرانسپورٹ میں خرد برد کا موقع ملتا ہے۔
تعجب کی بات ہے کہ حکومت تھر اور اس کے قحط کو امدادی گندم کے فریم ورک سے ہٹ کر نہیں سوچتی۔ تھر کاقحط دراصل ترقی کے سوال سے منسلک ہے۔ یہ خیال بھی پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ صوبائی حکومت تھر کول کے ذخائر کی وجہ سے یہاں پر اب کوئی بنیادی نوعیت کا ترقیاتی کام نہیں کرنا چاہتی۔ وہی کام رکنا چاہتی ہے جو لوک کمپنی کو سہولت دیتا ہے۔ باقی کاموں کے لئے لوگوں کو یہ سکھایا جارہا ہے کہ ان کے لئے حکومت کے بجائے کول کمپنی کی طرف دیکھیں۔ 
سندھ حکومت نے کول کمپنی کے ذیلی ادارے کو کروڑہا روپے اس مقصد کے لئے بطور عطیہ دیئے ہیں۔ کول کمپنی اوراس کے ذیلی ادارے تھر کے نام پر آنے والا ہر پیسہ اپنے لئے حاصل کرنا چاہ رہی ہے۔ یہ رقم سرکاری ترقیاتی منصوبوں کی ہو، یا مخیر حضرات کی طرف سے ہو یا کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی کی ہے۔ کمپنی کا کوئلہ نکالنا ور اس سے بجلی پیدا کرنا ہے۔ 
رواں سال قحط کی شدت زیادہ ہوگی، اس سے پہلے کہ صورتحال انسانی المیے کی شکل اختیار کرے وفاقی حکومت بھی آگے آئے۔ اورعالمی اداروں سے بھی امداد کی اپیل کی جائے۔ 
تھر کے لوگوں کو بارش یا پھر امداد کے سہارے چھوڑنے کے بجائے متبادل ذرائع روزگار میسر کئے جاسکتے ہیں۔
۱)تھر کی سب سے مضبوط نقطہ اس کی افرادی قوت ہے۔ ابھی بھی ہزاروں کی تعداد میں تھر کے لوگ غیر ہنرمند مزادر کے طور پر کراچی اور حیدرآبدا کی گارمنٹ فیکٹریوں میں کام کرتے ہی۔ انہیں نئے اسکلز سکھائے جاسکتے ہیں۔
۲)اس مسودے میں تجویز کیا گیا تھا کہ تھر میں ایک یونیورسٹی، ایک میڈیکل اور انجنیئرنگ کالج، دو پیرا میڈیکل اسکول، کھولے جائیں۔ دس کلومیٹر کے دائرے میں چھوٹے شہر بسائے جائیں جہان حلومت تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم رکے۔
۳) زیر زمین پانی کو بروئے کار لا کر کاشت کے جدید طریقے اپنائے جائیں۔ 
۴) مویشیوں کی پالنا کے لئے گؤچر چراگاہیں بحال کی جائیں۔ 
۵)لیکن حکومت کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ دور میں ماہرین کی مدد سے ایک ترقیاتی منصوبے اور تھر ڈولپمنٹ تھارٹی کا مسودہ بنایا گیا تھا، لیکن یہ مسودہ گزشتہ چار برس سے سرد خانے میں پڑا ہوا ہے۔ 
اس مسودے میں بعض اہم تجاویز دی گئی ہیں۔ ایک یہ دنیا کے مختلف صحراؤں میں زیر زمین کم اور کڑوے پانی پر کاشت کی جاتی ہے۔ اس طرح کے کامیاب تجربے پاکستان کے بعض تحقیقی ادارے بھی کر چکے ہیں۔دوئم یہ کہ سطحی ترقیاتی کاموں کے بجائے مربوط اور بنیادی نوعیت کے منصوبے بنائے جائیں۔سوئم یہ کہہر دس کلومیٹر کے فاصلے پر ’’منی ٹاؤن‘‘ بنائے جائیں، جہاں تعلیم، صحت، اور دیگر سہولیات بہم پہنچائی جائیں۔ ان منصوبں پر عمل کر کے تھر کو خوشحال اور سر سبز بنایا جاسکتا ہے۔ یہی قحط کا آؤٹ آف باکس حل ہے۔ 
Sohail Sangi Column Nai Baat Sep 28, 2018, Thar drought and relief measures

نئے پاکستان میں شہری بھی نئے ؟


نئے پاکستان میں شہری بھی نئے ؟ 
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
وزیراعظم عمران خان نے غیرقانونی تارکین بنگالیوں، برمیوں اور افغانیوں کو قومی شناختی کارڈ اور ملکی شہریت دینے کااعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کی سندھ اور بلوچستان میں مخالفت کی جارہی ہے۔ کیونکہ کہ یہ دونوں صوبے سمجھتے ہیں اس فیصلے کے اثرات سب سے زیادہ انہی کو بھگتنے پڑیں گے۔ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس پرجلد بازی اور بجائے اس کے مختلف پہلوؤں پر غیر جذباتی انداز میں غور کرنے کی ضرورت ہے۔ نقل مکانی یا دیس بدل کسی آبادی کا سائیز بدل دیتی ہے۔ 
برما، بنگلا دیش، افغانستان سے غیر قانونی نقل مکانی اور ان کی سندھ میں آبادکاری کی وجہ سے سندھ کے لوگوں کی شناخت کو ایک سنجیدہ خطرہ ہیں۔ یہ نقل مکانی سندھ کے سماجی معاشی اور سیاسی ماحول پر بری طرح سے اثرانداز ہوتے ہیں جہاں یہ بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ زبان، مذہب ثقافت یہ کسی علاقے کی سماجی و معاشی اور سیاسی پیٹرن کو بھی بدل دیتے ہیں۔ 
مضبوط قوانین اور سیاسی قوت فیصلہ کی عدم موجودگی میں غیر قانونی تارکین وطن کو واپس ان کے ملک بھیجنا مشکل کام رہا۔ کیونکہ سیاسی جماعتیں ان کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے اور ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ غیر قانونی تارکین وطن صوبے میں معاشرتی اور لسانی تشدد کی بڑی وجہ رہی ہے۔ اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ پاکستان ملکی سالمیت اور صوبے کی وحدت کے لئے اس ضمن میں ٹھوس اقدامات کرے۔ 
اقوام متحدہ کی ورلڈ پاپولیش پالیسی 2005 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 32 لاکھ سے زائد تارکین وطن ہیں ۔ 2012 کی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تعداد پچاس لاکھ ہے۔ جن میں بیس لاکھ بنگلادیشی، پچیس لاکھ افغانی اور پانچ لاکھ دوسرے ممالک کی شہریت رکھنے والے ہیں۔ نقل مکانی اور ترک وطن دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک اندرون ملک کے اندر اور دوسری غیر ممالک سے ۔ سندھ گزشتہ چار عشروں سے ان دونوں طرح کی نقل مکانی کرنے والوں کی آبادکاری سے گزر رہا ہے۔ 
پہلی نقل مکانی قیام پاکستان کے ساتھ ہوئی۔ لاکھوں مہاجرین بھارت سے سندھ میں آکر آباد ہوئے۔ ابھی مہاجرین پورے طور پر بحال اور ضم ہی نہیں ہوئے تھے کہ مشرقی پاکستان سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ سندھ آگئے جن میں سے اکثریت نے کراچی میں ہی سکونت اختیار کی۔ یہ سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں نوے کے عشرے تک جاری رہا۔ 
ابھی اس واقع کو دس سال ہی نہیں گزرے تھے کہ ضیاء الحق کی قیادت میں پاکستان امریکہ کی پراکسی جنگ جنگ کے لئے افغان جنگ میں کود پڑا۔ نیتجے میں عالمی اداروں اور عالمی قوتوں کی فرمائش پر لاکھوں افغان پناہ گزینوں کو پاکستان میں پناہ دینی پڑی۔ صرف اتنا ہی نہیں اس جنگ کی آڑ میں دنیا بھر سے ہزاروں جنگجو پاکستان پہنچ گئے۔ پاکستان حکومت ان کی سہولتکار بنی ۔ جن کی سرگرمیوں سے پاکستان تاحال نبرد آزما ہے۔
غیر متوازن ترقی اور صنعت و تجارت کے ایک ہی صوبے میں ارتکاز کی وجہ سے اندرون وطن نقل مکانی ملک کے بالائی حصے سے سندھ کی طرف ہوئی۔ بعد میں شمالی علاقہ جات وغیرہ میں آپریشن کی وجہ سے بھی سندھ کے دارلحکومت کی طرف نقل مکانی ہوئی۔ 
متعدد مثالیں موجود ہیں ۔ یہ امر مسلمہ ہے کہ غیر قانونی دیس بدلی یا ترک وطن سیاسی عدم استحکام، سماجی، معاشی، لسانی اور گروہی کشیدگی کو جنم دیتی ہے اور اس میں اضافہ بھی کرتی ہے۔ پاکستان کے کیس میں بنگلادیشی سیاسی طور پر اس پوزیشن میں ہیں کہ سندھ ، بلوچستان اورکے پی کے بعض حلقوں کے نتائج پر اثرانداز ہوں۔ 
پاکستان میں بنگالیوں اور روہینگا (برمیوں) کی آمد 1980کے عشرے میں شروع ہوئی اور 1988 تک جاری رہی۔ روہینگا کی کراچی میں بڑے پیمانے پر آبادکاری سے کراچی میانمار کے بعد برمیوں کادنیا کا سب سے بڑا شہر ہو گیا۔ برمی آبادی کراچی کے ساٹھ سے زائد بستیوں مثلا برمی کالونی کورنگی، ارکن آباد، مچھر کالونی، بلال کالونی، ضیاء الحق کالونی اور گودھرا کیمپ میں رہائش پذیر ہے۔ 
2017 کے اعداد وشمار کے مطابق 14 لاکھ رجسٹرڈ افغانی ابھی تک پاکستان میں رہائش پزیر ہیں۔ وہ خیبرپختونخوا، کوئٹہ اور کراچی میں مقیم ہیں۔ ان میں سے اکثر پاکستان میں ہی پیداا ہوئے اور لسانی طور پر پختون ہیں۔ حالیہ مردم شماری میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں آبادی کی شرح میں اضافہ افغان پناہ گزینوں کی وجہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ بع
ض ذرائع کے مطابق عرب نزاد ہزاروں افراد 1979میں سوویت یونین کے خلاف’’ افغان جہاد‘‘ اور بعد میں افغانستان میں امریکہ مداخلت کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کے لئے آئے تھے، وہ بھی پاکستان میں موجود ہیں۔ 
سندھ کے سابق ایڈووکیٹ جنرل ضمیر گھمرو کے مطابق صوبے میں بائیس لاکھ غیر قانونی تارکین وطن ہیں۔ یہ تعداد سندھ کی آبادی کاپانچ فیصد بنتی ہے یعنی گلگت بلتستان کی آبادی سے دگنی تعداد میں ہیں۔
غیر ملکی تارکین وطن کی پاکستان میں موجودگی غیر قانونی ہے لیکن حکومت پاکستان نے ان کو ملک سے نکالنے کی کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ 2010 میں بم دھماکوں اور ٹارگیٹ کلنگز کے واقعات میں اضافے کے بعد پیپلزپارٹی کی حکومت نے وارننگ دی کہ تارکین وطن خود کو رجسٹر کرائیں یا ملک چھوڑ کر چلے جائیں۔ یہ فیصلہ ملک میں کام کرنیو الے غیر ملکی دہشتگرد گروپوں کے خلاف قدم کا حصہ تھا۔ لیکن اس اعلان پر بھی عمل نہیں ہو سکا۔ 
پاکستان میں مضبوط قوانین کی عدم موجودگی میں غیر قاونی تارکین وطن میں اضافہ ہوتا رہا ہے جو بلا روک ٹوک ملک کے مختلف حصوں میں رہتے ہیں اور کاروبار کرتے ہیں۔ 
بنگالیوں، افغانیوں اور روہینگا کی آبادی کے کوئی مستند اعداوشمار موجود نہیں۔ تاہم بعض سروے ، تحقیق اور ان کے رہنماؤں سے انٹریوز کے نتیجے میں پتہ چلتا ہے کہ سولہ لاکھ بنگالی اور چار لاکھ روہینگا کراچی میں رہائش پذیر ہیں۔ شیخ محمد فیروز چیئرمین پاکستان بنگالی ایکشن کمیٹی کا دعوا ہے کہ پاکستان میں بنگالیوں کی دو سو سے زائد بستیاں ہیں جن میں سے 132 کراچی میں ہیں۔ باقی ٹھٹہ، بدین، ٹنڈو آدم اور لاہور میں ہیں۔ 
بنگالی اور روہینگا زبان اور ثقافت کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ لیکن روہینگا عام طور پر خود کو بنگالی کے طور پر شناخت کراتے ہیں تاکہ یہ تاثر دے سکیں کہ وہ سقوط ڈھاکہ سے پہلے یہاں آکر آباد ہوئے ہیں۔ یہ بات ان کو نیچرلائیز ڈسٹیزن شپ حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے۔ 
ان دو آبادیوں کی نمائندگی دو سیاسی جماعتیں کرتی ہیں۔ پاکستان مسلم لائنس اور پاکستان مسلم لیگ شیر بنگال۔ روہینگا آبادی بڑی حد تک جماعت اسلامی، جیمعت علمائے اسلام اور اہل سنت والجماعت سمیت مذہبی سیاسی جماعتوں کی حمایت کرتی ہے۔ 
سیاسی طور پر یہ تارکین وطن صوبے کے دارلحکومت کی مختلف نشستوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں ۔ 2001 کے بلدیاتی انتخابات میں کراچی میں یونین اور تحصیل سطح پرکئی بنگالی اور روہینگا رہنما مختلف پارٹیوں کے ٹکٹ پر یا آزاد حیثیت میں ناظم اور کونسلرز کے طور رپ منتخب ہوئے۔ پاکستان مسلم الائنس 2001 کے انتخابات سے پہلے قائم کی گئی اور مسلم لیگ شیر بنگال مارچ 2006 میں ۔ برمی اور بنگالی کمیونٹیز نے 2002 کے عام انتخابات میں ان پارٹیوں نے اپنے اپنے پلیٹ فارم سے حصہ لیا۔ پاکستان مسلم الائنس کوئی نشست تو حاصل نہیں کر سکا۔ تاہم کورنگی اور بن قاسم میں ان کو اچھے ووٹ ملے۔ 
بنگالی کمیونٹی کے ایک رہنما کے مطابق مشرف دور کے بلدیاتی انتخابات میں ہمارے 75لوگ منتخب ہوئے تھے۔ ایم کیو ایم نے 2002 میں بنگالی اور برمیوں کے لئے ایک خصوصی کمیٹی ’’پاکستان بنگالی کمیٹی‘‘ تشکیل دی۔ جس کے بعد پاکستان مسلم الائنس نے اپنی سرگرمیاں ترک کر دیں۔ ایم کیو ایم یا اس طرح کے لسانی سیاست کرنے والے گروپوں کے لئے ان کی سیاسی بقا کا بھی مسئلہ ہے۔ 
بنگالیوں کے بعض رہنما سمجھتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں بنگالیوں کو اپنی سیاسی جلسے کامیاب کرانے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ 2012 میں ہزاروں بنگالیوں اور روہینگا لوگوں نے قائد مزار پر جمع ہوئے جہاں ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے اپنی پارٹی آل پاکستان مسلم لیگ کا اعلان کیا۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ سابق صدر مشرف نے اپنے دور اقتدار میں ان کمیونٹیز کی پاکستان میں آکر آباد ہونے میں مدد دی ہے۔
روہینگا سالیڈرٹی آرگنائزیشن جماعت اسلامی سے منسلک ہے۔ کیونکہ برمی آبادی مذہبی سوچ رکھتی ہے۔ جبکہ دیگر مذہبی جماعتوں کی بھی حمایت اس آبادی میں موجود ہے۔ روہینگا اور بنگالی آبادی سمجھتی ہے کہ کراچی میں عسکریت پسند گروپوں کے خلاف آپریشن کے بعد بلدیاتی انتخابات آزادانہ ہونگے لہٰذا یہ لوگ اپنی مرضی کے نمائندے منتخب کر پائیں گے۔ 

اندرونی خواہ بیرونی نقل مکانی کی وجہ سے س وجہ سے سندھ کے آبادیاتی آبادی توازن میں تبدیلی واقع ہو گئی۔ جوتشویش کا باعث رہی ہے۔ سندھ کے لوگ اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ کہیں ا وہ اپنے ہی صوبے میں اقلیت میں تبدیل نہ ہو جائیں۔ جیسے انڈیا کے تریپورہ اور سکم میں صوبوں میں ہوا۔ شناخت ثقافتی تحفظ کے ساتھ سیاسی اور حکومتی کنٹرول خواہ وسائل ہاتھ سے نکل کر ایک غیر آبادی کے پاس نہ چلا جائے۔
صورتحال اس وجہ سے بھی گمبھیرہو جاتی کہ باہر سے آئے ہوئے لوگ نہ ضم ہو رہے ، نہ مین اسٹریم میں نہیں آرہے۔ مضبوط قوانین کی عدم موجودگی اور موجود قوانین پر موثر عمل درآمد نہ ہونیکی وجہ سے معاملات مزید پیچیدہ ہوئے ہیں۔ ماحولیات کی تباہی، سرکاری زمینوں پر قبضے، اور کمیونٹیز کے درمیان کشیدگی نے بھی نت نئے مسائل پیدا کئے ہیں۔ پاکستان ویسے ہی آبادی کی شرح میں اضافہ کا شکار ہے ۔ آبادی کی شرح میں کمی کے لئے کروڑہا روپے خرچ کر رہا ہے۔یوں مزید تارکین وطن کو شہریت دینے سے اپنی آبادی میں مزید اضافہ کرے گا۔ 
غیر قانونی تارکین وطن کی وجہ سے مجموعی طور پر زمین اور وسائل پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ تنخواہیں کم ہو جاتی ہیں کیونکہ سستا مزدور دستیاب ہوتا ہے اس کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کے لئے ملازمت کے مواقع بھی کم ہو جاتے ہیں۔ان میں سے کئی ایک سرکاری شعبے کی سہولیات مثلا صحت تعلیم وغیرہ کی سہولیات بھی حاصل کرتے ہیں۔ اس کی قیمت ٹیکس دہندگان کو ادا کرنی پڑتی ہے۔ ان سہولیات پر دباؤ بڑھ جانے کی وجہ سے مقامی لوگوں کے لئے ان سہولیات کی فراہمی مشکل ہو جاتی ہے۔ اگر یہ غیر قانونی تارکین وطن نہ ہوں تو
مقامی آبادی کے لئے متعدد ملازمتیں اور کاروبار کے مواقع نکل سکتے ہیں۔ 
افغانی، بنگالی اور روہینگا دونوں کمیونٹیز کے لئے شناختی کارڈ کا اجراء سب سے بڑا مسئلہ رہا ہے۔ نقل مکانی کا رجحان کراچی کی طرف زیادہ ہے۔ بڑے شہر ہونے کی وجہ سے روزگار اور کاروبار کے مواقع اور شہری سہولیات زیادہ ہیں اس کے ساتھ ساتھ شہر کے میٹروپولیٹن ہونے کی وجہ سے نئے آنے والی اپنی شناخت آسانی سے چھپا سکتے ہیں۔ کراچی کا جغرافیائی محل وقوع ہے۔ بڑی تعدا دمیں اور بھانت بھانت کے غیر قانونی طور تارکین وطن کی موجودگی میں غیر ملکی قوتوں کو موقع ملے گا کہ وہ پاکستان میں رونما ہونے والے واقعات پر اثر انداز ہوں۔اس کے اثرات معیشت، سیاست، وسائل اور شہری سہولیات پر تو پڑیں گے ہی لیکن قومی سلامتی پر بھی پڑیں گے۔ 
Sohail Sangi Column- Nai baat 24-Sep-2018 - Illegal immigrants in Sindh-

https://www.naibaat.pk/24-Sep-2018/17093

Thursday, September 20, 2018

پی ٹی آئی حکومت نیا مالیاتی ایوارڈ دے پائے گی؟



پی ٹی آئی حکومت نیا مالیاتی ایوارڈ دے پائے گی؟
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
صوبوں اور وفاق کے درمیان خواہ آپس میں صوبوں کے مابین مالی وسائل کی تقسیم صرف معاشی یا مالی مسئلہ نہیں یہ کسی صوبے کی ترقی اور اختیارات سے منسلک ہونے کی وجہ سے سیاسی مسئلہ بھی ہے۔ اس سوال کو صحیح طور پر حل نہ کرنے کی وجہ سے صوبوں کے درمیان خواہ بعض صوبوں کی مرکز سے کشیدگی یا ناراضگی ملکی سیاست کی اہم حرکیات رہی ہیں۔بنگال بھی یہی شکوہ کرتا رہا۔ بلوچستان کو بھی اس پر ناراضگی ہے۔ سندھ بھی اس نقطے پر صوبائی خود مختاری کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ لہٰذا مالی وسائل کی تقسیم کو صرف اقتصادیات یا بجٹ کے دو اور چار کے ہندسوں کے تحت نہ کیا جاسکتا ہے اور نہ سمجھا اور پرکھا جاسکتا ہے۔
وفاقی حکومت نے چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ سے کہا ہے کہ وہ نویں قومی مالیاتی کمیشن کے لئے اپنے نمائندوں کو نامزد کرے۔قومی مالیاتی کمیشن مالی وسائل کی صوبوں اور وفاق کے درمیان تقسیم کا فارمولا تیار کر کے منظور کرتی ہے ی جو فارمولا آئینی طور پر پانچ سال کے لئے نافذ العمل ہوتا ہے۔اس کے بعد نیا مالیاتی ایوارڈ دینا لازم ہے ۔ آئین کی شق 160 (1) کے تحت ہر پانچ سال بعد یہ کمیشن تشکیل دینا ہے۔ وفاقی اور صوبائی وزرائے خزانہ بلحاظ عہدہ کمیشن کے ممبر ہوتے ہیں جبکہ ہر صوبہ مزید ایک ایک اپنا نمائندہ کمیشن کے لئے نامزد کرتا ہے۔ 
گزشتہ جولائی کے انتخابات کے بعد سوائے سندھ کے وفاق خواہ تین صوبوں میں حکومتیں تبدیل ہو گئی ہیں لہٰذا ان صوبوں کی حکومتیں نئے اراکین مقرر کریں گی۔ وفاق اور ان صوبوں میں وزرائے خزانہ بھی نئے ہیں،لہٰذا اراکین کمیشن نئے ہونگے۔ ۔ 
2009میں ساتویں مالیاتی ایوارڈ کا اعلان پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں کیا گیا تھا۔ صوبوں کا زیادہ کرنے کی وجہ سے اس ایوارڈ کو تاریخی قرار دیا جاتا رہا ہے۔ بڑی کوششوں اور محنت کے نتیجے میں یہ ایوارڈ دیا جاسکا، جو ماضی کے تمام ایوارڈز سے اپنے اپروچ اور نقط نظر مین مختلف تھا۔ آنے والے برسوں کے دوران اگرچہ چھوٹے صوبے احتجاج کرتے رہے لیکن نیا ایوارڈ دینے کے بجائے ساتویں ایوارڈ میں توسیع کی جاتی رہی۔ اس کے بعد مشترکہ مفادات کی کونسل کے 18 اجلاس ہوئے لیکن کسی بھی اجلاس میں نئے مالیاتی ایوارڈ پر بحث نہیں کی گئی۔ 
ساتویں مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے مطابق وفاق کو 42.5 فیصد اور صوبوں کو 57.5 فیصد دیا گیا ہے۔ صوبوں کو دیئے گئے اس حصے سے پنجاب کو 51.74 فیصد، سندھ کو 24.55 فیصد، خیبر پختونخوا کو 14.62 فیصد، اور بلوچستان کو 9.09 فیصد حصہ ملتا رہا۔ یہ ایوارڈ جون 2015 میں ختم ہو گیا تھا، اس کے بعد نیا ایوارڈ دینا تھا۔مسلم لیگ نواز حکومت نے فروری 2016 میں نواں قومی مالیاتی کمیشن تشکیل دیا تھا لیکن بعض رسمی اجلاسوں کے علاوہ یہ کمیشن کوئی ایوارڈ یا فارمولا تجویز نہ کر سکا۔ 
قومی مالیاتی کمیشن میں وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم اور پھر صوبوں کے مابین وسائل کی تقسیم پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کو نئے چیلینج کا سامنا ہے۔ آئندہ مالیاتی ایوارڈ میں نئی مردم شماری، فاٹا کی خیبرپختونخوا میں ضم ہونے کے نئے مظاہر سا منے آئے ہیں۔دوسری طرف مالی معاملات کو دوبارہ مرکزیت میں لانے کے لئے بھی آوازیں آر ہی ہیں۔ صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم میں آبادی کو کتنا وزن دیا جائے اور صوبے کی جانب سے خود ٹیکس وصول کرنے کے عوامل کو بھی اہمیت دینے کے معاملات شامل ہیں۔ صوبوں کے درمیان کے معاملات طے کرنا اتنا مشکل نہیں تاہم صوبوں سے وسائل لیکر مرکز کو دینے کا معاملہ متنازع ہوگا۔ 
عسکری حلقوں اور سابق وفاقی وزراء خزانہ سمیت بعض حلقے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ صوبوں اور وفاق کے درمیان وسائل کی تقسیم پر نظر ثانی کی جائے اور سیکیورٹی کے اخراجات میں اضافے کے پیش نظر وفاق کو زیادہ رقومات فراہم کی جائیں۔ یہ بھی فرمائش کی گئی کہ اس کے ساتھ ساتھ آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور قبائلی علاقوں کی ترقی کے لئے خصوصی رقومات فراہم کی جائیں۔ 
قومی مالیاتی ایوارڈ پر پارٹی موقف کا اندازہ ہوتا ہے کہ صوبوں کو زیادہ مالی وسائل ملنے کے بعد خیبرپختونخوا حکومت خوش ہے، کیونکہ سندھ اور پنجاب کے ساتھ ساتھ خٰبرپختونخوا کا حصہ بھی بڑھا ہے۔ خیبرپختونخوا کے نمائندے نے گزشتہ کمیشن کے اجلاس میں صوبوں کا حصہ 57.5فیصد سے بڑھا کر 75فیصد کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جو کہ کسی طور پر بھی حقیقی نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مرکز صوبوں کو زیادہ وسائل دینا نہیں چاہتا، پنجاب آبادی کی بنیاد پر ہی وسائل کی تقسیم چاہتا ہے اور باقی تین صوبے ٹیکسوں کی وصولی، پسماندگی اور غربت کو فارمولے کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔
تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو اشیاء پر سیلز ٹیکس صوبوں کو دینے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا جو کہ 1973 کے آئین میں ہے اور سندھ نے یہ تجویز پیش کی تھی۔ خیبر پختونخوا کا خیال تھا کہ ایسا کرنے سے قابل تقسیم محاصل میں رقم کم ہو جائے گی، نتیجۃ اس کا حصہ بھی کم ہوگا۔ 
ستمبر 2017میں تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا حکومت کے وزیر خزانہ این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کے سلسلے میں خیبر پختونخوا حکومت کے طلب کردہ اجلاس کے موقع پرکہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کا موقف ہے کہ وفاقی حکومت مرکز اور صوبوں کے درمیان قابل تقسیم محاصل میں صوبوں کا حصہ 80فیصد جبکہ مرکز کا حصہ 20فیصد رکھے اور قبائلی علاقوں کے لئے مرکز اپنے ہی حصے سے تین فیصد ادا کرے۔
سیاسی سطح پر دو چھوٹے صوبوں کا موقف ہے کہ مالی وسائل کی تقسیم میں آبادی کا عنصر کم کیا جائے۔ گزشتہ ماہ مئی میں منعقدہ سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں بلوچستان اور کے پی کے دو سینٹروں نے کہا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ کی بنیاد غربت، پسماندگی، سامی اور معاشی ترقی کی عنصر پر ہونی چاہئے۔ ساتویں قومی مالیاتی ایوارڈ میں مالیاتی تقسیم کے لئے جن عوامل کو وزن دیا گیا تھا وہ درج ذیل ہیں۔ آبادی 82 فیصد، غربت او رپسماندگی 10.3 فیصد، روینیو وصولی 5 فیصد۔
فنی سطح پر بھی موقف میں بڑا فرق ہے۔ آئی ایم ایف بھی پاسکتان کے حوالے سے مالی وسائل کی مرکزیت کا موقف رکھتا ہے۔ اس عاملی مالیاتی ادارے کا مشورہ ہے کہ وفاق اور صوبے مشترکہ طور پر کانٹیجنسی فنڈ قائم کریں۔ رواں سال کے اوائل میں عالمی بینک کے تعاون سے وسائل کی تقسیم سے متعلق بل کا مسودہ تیار کیا گیا تھا۔ جس پر سینیٹ چیئرمین رضا ربانی نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ وسائل کی تقسیم کے بل کا مسودہ آئین کی نفی کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے آئین کی غلط تشریح کی جارہی ہے۔
ساتویں مالیاتی ایوارڈ پر تنقید کی جاتی ہے کہ اس سے معاشی و مالی وسائل کی مرکزیت ختم ہو گئی ہے۔ وفاق کے پاس کم وسائل اور اختیارات رہ گئے ہیں۔ اس کے جواب میںیہ نقط نظر بھی ہے کہ وفاق انتظامی اصلاحات کے ذریعے وفاقی اخراجات میں کمی کرے۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کی روشنی میں صوبوں کو بعض وزارتیں دے کروفاقی وزارتوں کی تعداد 27 سے کم کر کے 18 کی جا سکتی ہے۔ اور 35 ڈویزن کو 23 کیا جاسکتا ہے۔ 
بعض ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیکیورٹی کے اخراجات بھی کم کئے جا سکتے ہیں۔ دو بڑے صوبوں کا ماننا ہے کہ بعض ذیلی وفاقی ٹیکس جو ابھی تک وفاق کے پاس ہیں، ان کی وصولی صوبوں کو منتقل کر کے مزید آمدن حاصل کی جا سکتی ہے۔
ماسوائے پنجاب کے باقی صوبوں کوغربت اور پسماندگی کے پیش نظر یہ حصہ کم لگتا۔ سندھ ملک کی کل آمدنی کا 70 فیصد دیتا ہے لیکن پنجاب مالی تقسیم میں پنجاب بڑا حصہ لے جاتا ہے۔ پنجاب کا ملکی آمدن میں حصہ 23.04 ہے۔ یہی وجہ ہے این ایف سی ایوارڈ وفاق اور صوبوں کے درمیان خواہ صوبوں کے آپس میں ایک حساس معاملہ ہے۔ 
مالی مرکزیت واپس لانے والوں کا موقف ہے کہ وفاقی حکومت کے تقریبا 11فیصد حصے میں کمی کے علاوہ اس کو بلوچستان کی ممکنہ آمدن میں کمی کو پورا کرنے کے لئے رقم چاہئے۔ آمدنی کا ایک فیصد حصہ صوبہ خیبر پختونخوا کو دہشتگردی کے خلاف جنگ کیلئے مختص کیا گیا۔ 
اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد نئی ذمہ داریوں کو نبھانے کے لئے صوبوں کو وسائل چاہئیں۔ خاص طور پر تعلیم ، صحت وغیرہ کے لئے۔ 
صوبوں میں قدرتی وسائل (تیل، گیس وغیرہ) کی ملکیت اور رائلٹی کی تقسیم پر اختلافات ہیں۔ سندھ اور بلوچستان تیل اور گیس کی ملکیت میں خود کو محروم سمجھتے ہیں۔ سندھ ملکی گیس کی کل پیداوار کا 71 فیصد پیدا کرتا ہے۔ بلوچستان 22 فیصد، خیبر پختونخوا پانچ فیصد اور پنجاب دو فیصد پیدا کرتا ہے۔تیل کی پیدوار میں بھی اسی طرح سے ہے۔ سندھ 56 فیصد، بلوچستان 25 فیصد، خیبر پختونخوا ایک فیصد اور پنجاب 18 فیصد پیداوار دیتا ہے۔ 
اٹھارویں آئینی ترمیم سے پہلے وفاق قدرتی وسائل کی رائلٹی کا 88.5 فیصد اٹھاتا رہا ہے۔ صوبوں کے حصے میں 11.5 فیصد رائلٹی آتی تھی اور وہ بھی کرپشن اور بیورو کریسی کے سرخ فیتے کا شکار ہو جاتی تھی۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کا رائلٹی کا حصہ ساڑھے فیصد سے بڑھا کر پچاس فیصد کر دیا گیا ہے لیکن اس پر عمل درآمد ہونا ابھی باقی ہے۔ 
اٹھارویں ترمیم کے مطابق قومی مالیاتی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ بڑھایا جا سکتا ہے اس کو کم نہیں کیا جاسکتا۔ اب اس میں کوئی بھی تبدیلی آئینی ترمیم کے بغیر ممکن نہیں۔ منقسم پارلمینٹ میں پی ٹی آئی کی حکومت ایک راہ نکال سکتی ہے کہ قابل تقسیم پول کو تبدیل کر دیا جائے اور بعض اخراجات جمع ہونے والی رقم میں سے منہا کر کے باقی رقم کو قابل تقسیم پول قرادیا جائے اور اس میں سے صوبوں کو اپنا حصہ دیا جائے۔
ساتویں ایوارڈ سے پہلے وفاقی حکومت صوبوں بڑی بڑی رقومات بطور گرانٹ دیتی رہی ہے۔ یہ رقومات ملا کر بعض اوقات موجودہ ایوارڈ کی رقم سے زیادہ بھی بنتی رہی ہے۔ 
وفاقی حکومت نے بعض نئے ٹیکس متعارف کرائے ہیں جو قابل تقسیم پول کا حصہ نہیں۔ پیٹرولیم لیوی ’’کاربان ٹیکس‘‘ کی شکل میں نافذ کیا گیا ہے اسی طرح سے گیس انفرا اسٹرکچر دولپمنٹ سیس کی آمدنی مکمل طور پر وفاقی حکومت کی ملکیت ہے۔ یوں وفاقی حکومت نے اپنی آمدنی کے نئے ذرائع تلاش کر لئے ہیں۔ 
تحریک انصاف کے سربراہ اور ویزراعظم سینٹرل بورڈ آف روینیو میں بعض بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں۔ ٹیکس کی بیس بڑھانا چاہتے ہیں۔ نئے این ایف سی ایوارڈ کی راہ ہموار کرنا ایک پیچیدہ، متنوع اور مشکل عمل ہے۔ فریقین کو متفقہ فارمولا پر پہنچنے کے لئے لچک اور باہمی مفاہمت کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔ 
تحریک انصاف جب صرف ایک صوبے خیبر پختونخوا میں حکومت میں تھی اس کا مالی وسائل کی تقسیم کے لئے موقف صوبوں کے حق میں تھا۔ کیا وفاق میں حکومت میں آنے کے بعد وہ اپنا موقف تبدیل کردے گی؟کیا تحریک انصاف کی حکومت نیا ایوارڈ دینے میں کامیاب ہو جائے گی؟ وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کا فارمولا تبدیل کرنے کے لئے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے، جو کہ پی ٹی آئی کو حاصل نہیں۔ دو بڑی اپوزیشن جماعتوں کی خوش دلی جس کی وجہ سے اٹھارویں ترمیم لائی گئی تھی، موجودہ حالات میں ممکن نہیں

ڈیم : ضد نہ کریں۔ آئینی اداروں کی لوٹ آئیں



ڈیم : ضد نہ کریں۔ آئینی اداروں کی لوٹ آئیں 
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
سندھ کوپانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ پانی کی کمی کی وجہ سے صرف 30فیصد رقبے پر فصلیں کاشت ہو سکتی ہیں۔صوبے کے بارانی علاقوں میں بارش نہ ہونے کے بعد سندھ حکومت نے ان کوقحط زدہ قرار دے دیا ہے۔ ان بارانی اضلاع کے لوگ قحط کی صورت میں ان قحط زدگان قریبی بیراجی علاقوں میں آکر روزگار کرتے تھے۔ لیکن بیراجی علاقوں میں بھی بارش نہ ہونے اور دریائی پانی کی قلت نے ان کو اس حالت میں نہیں چھوڑا کہ قحط زدگان وہاں آکر گزر سفر کریں۔ گزشتہ کئی برسوں سے کوٹری بیراج سے نیچے پانی نہ چھوڑنے کی وجہ سے ٹھٹھہ بدین کی لاکھوں ایکڑ زمین سمندر برد ہو چکی ہے۔ سندھ مسلسل یہ شکایت کر رہا ہے کہاس کو اپنے حصے کا پانی نہیں دیا جارہا۔ نتیجے میں صوبے میں بدترین معاشی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ سندھ میں یہ شبہ پختہ ہو رہا ہے کہ اس کے حصے کا پانی روک کر متنازع ڈیم بنانے کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔ 
ملک میں بات بھاشا دیامیر ڈیم کی تعمیر سے شروع ہوئی تھی۔ اب کالاباغ ڈیم بنانے تک جاپہنچی ہے۔کہا جارہا ہے کہ کالاباغ ڈیم بھی بن سکتا ہے۔ اس متنازع آبی منصوبے کو مشرف دور میں فنی کمیٹیاں ناقابل عمل قرار دے چکی ہیں۔ 
نوے کے عشرے میں جب میاں نواز شریف نے کالاباغ ڈیم کا اعلان کیا توتمام سندھ اور خیبر پختونخوا اس کے خلاف سراپا احتجا ہو گئے تھے۔محترمہ بینظیر بھٹو کی قیادت میں سندھ کے تمام مکاتب فکر نے سندھ پنجاب سرح پر دھرنا دیا تھا اور ولی خان کی قیادت میں کے پی کے کے عوام نے اٹک پل پر دھرنا دیا تھا۔اس ڈیم کو 3صوبوں کی اسمبلیاں مسترد کر چکی ہیں۔قومی اسمبلی اس ڈیم کو مردہ گھوڑا قرار دے چکی ہے۔کیامسترد کئے گئے متنازع ڈیم کو ایک بار پر مسلط کرنااسمبلیوں اور عوام کی توہین نہیں ہوگا؟ 
پس منظر:گلگت بلتستان میں ضلع دیا میر کے بھاشا کے مقام پرتعمیر ہونے والابھاشا ڈیم دریا ئے سندھ کا 15فیصد پانی کابہاؤ روک سکے گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پہاڑی سلسلوں ک کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے اس ڈیم سے کوئی نہر نہیں نکالی جاسکتی۔ بھاشا دیامیر ڈیم کا اعلان 2006 میں کیا گیا تھا، لیکن اسکاسنگ بنیاد 2011 میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے رکھا۔ دس سال کے باوجود ڈیم کی تعمیر ابتدائی مراحل میں رہی۔ 2016 میں ہی ایشین ڈولپمنٹ بینک نے پیسے دینے سے انکار کردیا تھا۔ 
ایشین بینک نے مشورہ دیا تھاکہ پاکستان کو اتنے بڑے منصوبے کے لئے کسی ایک ادارے یا ایک ملک پر انحصار نہ کرے۔ بعد میں ایشین بینک کے مشورے پر ہی پانی کے ذخیرے ، بجلی پیدا کرنے کے پروجیکٹ اور زمین کی خراداری کو الگ الگ شکل میں لے آئے۔ لیکن پھر بھی ایشین بینک نے رقم فراہم نہیں کی۔ بعد میں حکومت نے یو ایس ایڈ پروگرام کو بھی فیزیبلٹی بنوائی تاکہ بجلی کی پیداور میں نجی امریکی سرمایہ کاروں کو شامل کیا جاسکے۔ اس سے قبل عالمی بینک سے بھی مذاکرات کئے گئے۔ لیکن بھارت نے ڈیم کے لئے این او سی دینے سے ناکر کردیا، جس کے بعد عالمی بینک سے مذاکرات ختم ہو گئے۔ 
رواں سال مارچ میں حکومت نے میں بتایاتھا کہ 14 ارب ڈالر کی مالیت سے بنائے جانے والے بھاشا اور دیا میر ڈیم کی ری سیٹلمنٹ کا صرف بیس فیصد کا م مکمل ہوا ہے۔ جبکہ تاحال پروجیکٹ پر 88 ارب روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔ 
انتخابات سے قبل جولائی میں چیئرمین واپڈا لیفٹنٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے نگران وزیر اعظم جسٹس (ر) نا صر الملک کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ بھاشا اور مہمند دیم کی تعمیر راوں سال شروع ہو جائیگی،بھاشا ڈیم میں 8.1ملین ایکٹر فٹ اور مہمند ڈیم میں 1.2ملین ایکٹر فٹ پانی ذخیرہ ہوگا، دونوں ڈیمز سے مجموعی1250 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی،داسو ہا ئیڈرو پاور پراجیکٹ سے بجلی کی پید اوار 2023میں شروع ہو گی،کرم تنگی ڈیم بھی تعمیر کئلے تیا ر ہے۔ بھاشا ڈیم میں 8.1ملین ایکٹر فٹ پانی ذخیرہ ہو گا اور 4500میگا واٹ بجلی حاصل ہو گی۔اسی طرح مہمند ڈیم میں 1.2ملین ایکٹر فٹ پانی ذخیرہ کیا جا ئے گا اور 800میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی۔بھاشا ڈیم پروجیکٹ میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 6.4 ملین ایکڑ فٹ ہوگی۔ 
اس منصوبے کے لئے غیر ملکی فنڈنگ موجود نہیں۔حکومت نے پروجیکٹ کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ 650 روپے کی لاگت سے ڈیم کا پروجیکٹ سرکاری شعبے میں تعمیر کیا جائے گا، جبکہ 750 ارب روپے کی مالیت کا بجلی بنانے کا پروجیکٹ نجی پاور پیدا کرنے والی کمپنیوں کو دیا جائے گا۔ واپڈا حکام کے مطابو متاثرین کی بحالی کا 80 فیصد کام ابھی باقی ہے۔ قراقرم ہائی وے کی ری لاوکیشن کا 7فیصد کام مکمل ہوا ہے اور 93کام باقی ہے۔ 31605 ایکڑ زمین حاصل کی گئی ہے جس کی 58ارب روپے کی ادائیگی کردی گئی ہے۔ جبکہ ساڑھے چھ ارب ڈالر کی مزید 5724 ایخڑ مزید زمین حا صل کی جائے گی۔
زمین حاصل کرنے اور متاثرین کی بحالی پر کل 125 ارب روپے خرچ ہونگے۔ ڈیم کے ڈھانے کی تعمیر پر 268.5 روپے درکار ہونگے۔
ڈیم کی سالانہ دیکھ بھال کی سالانہ خرچ 52 ارب روپے ہوگا اور یہ 2027 میں مکمل ہوگا۔ ڈیم کے لئے بجٹ میں دو سال کے دوران 37 رابے روپے فی سال کے حساب سے رکھنے تھے۔ مالی وسائل فراہم کرنے کی حکمت عملی کے مطابق کل مالیت کا 57 فیصد یعنی 370 ارب روپے وفاقی حکومت کو سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت ادا کرنے ہیں۔ جبکہ واپڈا 116 ارب روپے کی ایکوئٹی مہیا کرے گی۔ جو مالیت کا اٹھارہ فیصد بنتی ہے، 163 ارب روپے وفاقی حکومت کمرشل بینکوں کے ذریعے فراہم کرے گی۔ 
یہ ڈیم ملک میں سیلابوں کو روکنے میں مدد کرے گا اور واپڈا حکام کا کہنا ہے کہ یہ ڈیم ملک میں پانی ذخیرہ کرنے ی صلاحیت 30 سے بڑھ کر 48 دن ہو جائے گی۔ اور اس سے ساڑھے چار میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی۔ معاملہ جب سپریم کورٹ نے اپنے ہاتھوں میں لیا تو فنڈ جمع کرنے کی مہم چلائی گئی۔ واپڈا چیئر میں ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل مزمل حسین کو سپریم کورٹ نے ڈی مز کی عمل درآمد کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا ہے۔
21جولائی کو واپڈا چیئرمین نے بتایا کہ پاکستان نے ایشیں انفا ارٹرکچر بینک اور سوئس بینک سے دو ارب ڈالر روپے قرضہ طلب کیا ہے، انہوں نے یہ بھی ہا کہ دیامیر بھاشا اور منڈا ڈیم کی تعمیر کے لئے رقم حاصل کرنے کے لئے بجلی کے صارفین پر خصوصی سرچارج نافذ کیا جائے گا۔ ڈیڑھ سے دو ارب ڈالر تک کے بیرونی وسائل کی ضرورت پڑے گی۔ بارہ سال تک غیر ملکی مالیاتی اداروں سے قرضہ کے لئے مذاکرات ہوتے رہے لیکن کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ 
رقم کی عدم موجودگی، متاثرین کی بحالیات کے لئے ادائیگی اور مقامی قبائلیوں کے جھگڑے تعمیر میں تاخیر کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ 
سندھ نے پہلے بھاشا ڈیم پر اپنے اعتراضات واپس لے لئے تھے۔ لیکن اب جس طرح سے ڈیموں کے لئے مہم چلائی جارہی ہے اور کالاباغ ڈیم بنانے کا اشارہ دیا جارہا ہے۔ صوبے موقف میں تبدیلی آئی ہے۔ 
پہلے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا بیان سامنے آیا کہ دریائی سسٹم میں اتنا پانی موجود ہی نہیں کہ ڈیم بنایا جائے۔ اس کے علاوہ سندھ نے جس مقام پر ڈیم تعمیر ہوگا سکے ارضیاتی حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔پیپلزپارٹی سینیٹ میں اور بطور پارٹی یہ کہہ رہی ہے کہ جو بھی اس متنازع مسترد ڈیم کی بات کرے گا اس کی سخت مزاحمت کی جائے گی۔انہوں نے باور کروایا کہ عالمی قانون کے مطابق دریا کے آخر پر بسنے والوں کا زیادہ حق ہوتا ہے۔ سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم کے معاملے کو چھیڑنے سے وفاق کمزور ہوگا اور بے وقت راگنی چھیڑنے سے دیگر آبی منصوبے بھی متنازع ہوجائیں گے۔ متنازع معاملات کو ہوا دینا قوم کو تقسیم در تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔تمام تر کوششوں کے باوجود بڑے آبی ذخائر کا فیصلہ کسی غیرمنتخب فورم سے نہیں ہو سکتا، لگتا ہے کہ کالاباغ ڈیم کے صرف ایک پہلو پر بریفنگ دی۔انہوں نے کہا کہ بریفنگ دینے والے ڈیم کے سیاسی پہلو پر بریفنگ دیتے تو متنازع ڈیم کا ذکر نہ کیا جاتا۔ توقع ہے کہ تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر ذمہ داریاں نبھائیں گے۔ 
اب کہا جارہا ہے کہ ڈیم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف آئین کی شق 6 لاگو ہوسکتی ہے ۔ یعنی غداری کا مقدمہ قائم کیا جاسکتا ہے۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ ڈیم کی مخالفت کرنے والوں کو غدار کہا جارہا ہے۔ 2005 میں مشرف دور میں بھی کچھ ایسے ہی الزامات لگائے گئے تھے۔ ۔ صوبائی وزیر سید ناصر شاہ نے کہنا ہے کہ کالاباغ ڈیم کی بات کرنے والوں کے خلاف شق 6 کااطلاق ہونا چاہئے۔ 
سندھ سے سوشل میڈیا پر بھی زبردست ردعمل سامنے آیا۔وہ کہتے ہیں کہ شق 6 قبول، ڈیم نامنظور۔ آکر ایسی صورتحال کیوں بنائی جارہی ہے؟وزیراعلیٰ سندھ، پیپلزپارٹی کے سنیٹرز اور صوبائی وزیر بھی ڈیم پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی کی قرارداد کے بعد کیا ڈیم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف واقعی غداری کے مقدمات قائم کئے جا سکتے ہیں؟
فیصلہ سازوں کو سمجھنا چاہئے کہ یہ ملک ایک فیڈریشن ہے،تاحال پارلیمنٹ بھی موجود ہے۔تمام متنازع امور کا فیصلہ کرنے کے لئے مشترکہ مفادات کی کونسل، بین الصوبائی وزارت اور دیگر آئینی ادارے موجود ہیں۔ماضی میں بھی صوبوں کی رائے اور آئینی اداروں کو بائی پاس کر نے کے اچھے نتائج نہیں نکلے ہیں۔ اور اب بھی اچھے نتائج نہیں نکلیں گے۔ آئیے ہم سب آئین اور آئینی اداروں کی طرف لوٹ آئیں، اور دیکھیں کہ وہاں مسائل کا حل کیا ہے؟ یہ حل کس طرح سے تلاش کیا جاسکتا ہے؟

http://e.naibaat.pk/ePaper/lahore/18-09-2018/details.aspx?id=p12_03.jpg

Wednesday, September 12, 2018

صوبہ جنوبی پنجاب یا سرا ئیکی؟



صوبہ جنوبی پنجاب یا سرا ئیکی؟ 

میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
جنوبی پنجاب کا قیام تحریک انصاف کے منشور کا اہم نکتہ ہے۔ حکمران جماعت کی پنجاب میں جیت جنوبی پنجاب میں جیت سے ہی تعبیر کی جاتی ہے۔ آئینی لحاظ سے نئے صوبے کے قیام کے لئے متعلقہ صوبائی اسمبلی اور پھر سینیٹ و قومی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کا ووٹ ضروری ہے۔چونکہ تحریک انصاف کو پنجاب خواہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دو تہائی اکثیر حاصل نہیں ہے۔ یہ مقصد تینوں بڑی پارٹیوں کی حمایت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔یعنی پی ٹی آئی کے لئے اپنے منشور کے اس اہم نقطے پر عمل درآمد کے لئے اپوزیشن جماعتوں کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ 
سرائیکی صوبے کے حامیوں کی جانب سے تحریک انصاف پر صوبے کے قیام کے لئے دباؤ ڈالنا اپنی جگہ پر۔ اہم سوال اپوزیشن جماعتوں کا تعاون حاصل کرنے کا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وفاقی کابینہ نے اپنے پہلے اجلاس میں جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لئے اپوزیشن کی دوبڑی پارٹیوں پاکستان مسلم لیگ نوازاور پیپلز پارٹی سے بات چیت کے لئے ایک ٹاسک فورس قائم کی ہے، تاکہ نئے صوبے کے لئے نہ صرف سیاسی اتفاق رائے قائم کیا جائے بلکہ اس کو عملی شکل دینے کے لئے تینوں ایوانوں میں مطلوبہ اراکین کی حمایت بھی حاصل کی جا سکے۔ 
ماضی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی پنجاب میں نیا صوبہ بنانے کی حمایت میں بیانات بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔ مسلم لیگ نواز صوبائی اسمبلی میں قرادادیں بھی منظور کراچکی ہے۔ ان قراردادوں کے بعد صوبے خواہ مرکز میں نواز لیگ حکومت میں بھی رہی۔ رواں سال پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی اپریل میں ملتان کے قریب پارٹی کی ممبر سازی مہم کے دوران خہا تھا کہ جنوبی پنجاب کا صوبہ بنائیں گے۔ رواں سال گزشتہ حکومت کی آئینی مدت مکمل ہونے سے پہلے سرا ئیکی بیلٹ سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ نواز کے رہنما یہ کہتے رہے ہیں کہ پارٹی صوبہ بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے صوبے کے قیام کی منصوبہ شامل کرے گی۔جہاں تک عوامی رائے کا تعلق ہے گزشتہ سال ستمبر میں سمال فارمرز نے تنظیم نے مطالبہ کیا کہ 14 اضلاع پر مشتمل انتظامی بنیادوں پر صوبہ بنانے کا اعلان کیا جائے۔ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الاہی نے گزشتہ ماہ ملتان میں ایک تقریب میں کہا تھا کہ تحریک انصاف کے ساتھ مل کر صوبی جنوبی پنجاب بنائیں گے۔ 
پنجاب سے ہٹ کر ملک کے باقی حصوں کا ماننا ہے کہ کستان کی فیڈریشن میں عدم توازن کی وجہ پنجاب کی آبادی کا حجم ہے اور ا لہٰذا س میں توازن لائے بغیر نہ ملک میں جمہوریت صحیح طور پر پنپ سکتی اور نہ مٹلف صوبوں اور علاقوں کی شکایات دور ہو سکتی ہیں۔ اس بات میں وزن پایا جاتا ہے کہ جنوبی پنجاب اور بہاولپور کو شکایا رہی ہیں۔ محرومیوں اور شکایات میں میاں نوازشریف کے دور میں اضافہ ہوا۔اگرچہ صدر فاروق احمد لغاری، اسپیکر یوسف رضا گیلانی، اور پھر یوسف رضا گیلانی بطور وزیر اعظم بھی رہ چکے ہیں۔ لہٰذا ایک لحاظ سے اس بیلٹ کی شراکت اقتدار میں ہوتی رہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود ان کی شکایات کا مداوہ نہیں ہو سکا اور مسلسل کسی نہ کسی شکل میں اپنے صوبے کے لئے مطالبہ کرتے آئے ہیں۔ اس مطالبہ میں اتنا دم ہے کہ اس پر کبھی ایک جماعت اور کبھی دوسری جماعت سیاست چمکاتی رہی ہیں۔ اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بات نعرے سے آگے نہیں بڑھی۔ گزشتہ برسوں کے دوران اس مطالبہ کی ہیئت تبدیل ہو گئی۔ وہ یہ کہ جنوبی پنجاب میں ایک صوبہ بنایا جائے یا دو۔اگر ایک صوبہ بنایا جائے تو کون کون سے اضلاع اس میں شامل ہوں؟ اگر دو بنائے جائیں تو کون کونسے علاقوں پر مشتمل ہو؟ صوبے کی بینادیں سیاسی ی(یعنی محرومیوں کا احساس وغیرہ )اور ثقافتی ہوں یا انتظامی؟



جنوبی پنجاب کی محرومیوں کا ذمہ دار ذمہ دار مسلم لیگ(ن) کی قیادت کو قرار دیا جاتا ہے لیکن پیپلزپارٹی کے ساتھ ساتھ فاروق لغاری جیسی شخصیات کو اس سے بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم اس بیلٹ سے تعلق رکھنے والے وہ افراد بھی شامل ہیں جو اس نعرے کی آڑ میں اپنے لئے سیاسی پناہ گاہیں تلاش کرتے رہے ہیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ جنوبی پنجاب کے غریب عام لوگوں اور کسانوں کا استحصال کرنے والے اور شوگر مافیا کا حصہ بنے ہوئے ہیں وڈیرے پر مشتمل ہے۔جو بوقت ضرورت وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں جگہ ڈھونڈ نے کے لئے بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے کارڈ کو استعمال کرتے ہیں۔اور اقتدار میں حصہ ملنے کے بعد یہ مطالبہ بھول جاتے ہیں۔ اس مرتبہ یہ مثال خسرو بختیار کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی چھوڑنے والے بعض اراکین قومی وصوبائی اسمبلی پر فٹ آتی ہے۔ 
سرائیکستان عوامی اتحاد کے رہنماؤں خواجہ غلام فرید کوریجہ‘ کرنل عبدالجبار عباسی‘ پروفیسر شوکت مغل‘ ملک خضر حیات ڈیال‘ عاشق بزدار‘ مسیح اللہ خان‘ صوفی تاج گوپانگ اور مہر مظہر کات کا کہنا ہے کہ صوبے کے نام اور حدود کا مسئلہ اہم ہے۔ اس کیلئے ہم صوبہ جنوبی پنجاب محاذ کی قیادت سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرائیکی خطے کی تہذیب‘ ثقافت اور روایات پنجاب سے الگ ہیں اور انتظامی صوبے کی اصطلاح کو نہیں مانتے اور مکمل صوبے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
جنوبی پنجاب کے اہل فکرو نظر حضرات کاان پر الزام ہے کہ انہوں نے بہاولپور اور جنوبی پنجاب کا کیس خراب کیا۔ دو کی بجائے ایک نئے صوبے (خواہ وہ بہاولپور ہو یا جنوبی پنجاب) کی با ت کرتے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں ایک صوبہ بنے یا دو، یہاں کے لوگوں کا مکمل اتفاق ضروری ہے۔ ایک صوبے بنانے کی صورت میں اتفاق رائے بنتا نظر نہیں آتا۔اس لئے کہ بہاولپور والے اپنا صوبہ اور جنوبی پنجاب والے اپنا صوبہ چاہ رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ بہاولپور بھی جنوبی پنجاب کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ بہاولپور قیام پاکستان کے وقت الگ ریاست تھی۔
پچاس کے عشرے میں مشرقی پاکستان کا سیاسی مقابلہ کرنے کے لئے مساوات کا فارمولہ بنا کر کوجب پاکستان کے مغربی حصہ کے تمام صوبوں اور ریاستوں کو ون یونٹ کی شکل دیکر مغربی پاکستان بنایا گیا پر تو بہاولپور سمیت دیگر ریاستوں کو بھی اس میں شامل کر دیا گیا۔ اور بہاولپور کی الگ شناخت ختم کردی گئی۔اور ایک طویل مدت تک یہ لوگ پاکستان کے مختلف حصوں میں ’’ ریاستی ‘‘ کے پر پہچانے جاتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ والی ریاست بہاولپور اور حکومت پاکستان کے درمیان ایک معاہدے کے تحت کیا گیا تھا۔اس طرح کا معاہدہ سندھ کی ریاست خیرپور کے والی ے ساتھ بھی کیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس معاہدے کی وجہ سے آبادی میں اضافے اور دیگر انتظامی امور کے باوجودآج تک خیرپور کو مزید اضلاع میں تقسیم نہیں کیا گیا۔
سیاسی طور پر یہ رائے مضبوط شکل میں موجود ہے کہ بہاولپور وغیرہ کے لوگوں کی اکثریت قطعاً اس تجویز کی حمایت نہیں کرے گی جس میں ان کے صوبہ بہاولپور کا مطالبہ بھی شامل نہ ہو۔جب بہاولپور اور جنوبی پنجاب میں صوبے کی حدود اور ایک صوبہ یا دو صوبہ کے حوالے سے اختلاف ہوگا تویہ دلیل پختہ ہوگی کے نئے صوبے کے لئے لوگوں میں اتفاق رائے موجود نہیں تو کس طرح سے صوبہ بنایا جاسکتا ہے۔ 
پنجاب میں نیا صوبہ ایک بنے یا دو یہ معاملہ حالیہ دنوں کا نہیں ۔ گزشتہ ڈیڑھ عشرے سے اس پر دلیل بازی اور بحث ہوتی رہی ہے۔ یہاں تک کہ 2012 میں پنجاب اسمبلی بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے صوبوں کے لئے الگ الگ قراردادیں پاس کرچکی ہے۔ 
اس معاملے کو سمجھنے کے لئے آئے پنجاب اسمبلی کی متفقہ قراردادوں قرارداد نمبر 160 اور قرارداد نمبر161 کے متن کاملاحظہ کریں ۔ قرارداد نمبر 160 پہلی قرارداد تھی جو بہاولپور صوبے سے متعلق ہے اس کا متن درج ذیل ہے :
قرارداد نمبر 160: صوبائی اسمبلی پنجاب کے اس ایوان کی رائے ہے کہ بہاولپور کے عوام جو ایک طویل عرصہ سے بہاولپور صوبے کی بحالی کی جدوجہد کررہے ہیں، یہ مطالبہ نیا صوبہ بنانے کا نہیں بلکہ سابقہ صوبے کو بحال کرنے کا ہے، جس کی بنیاد انتظامی، جغرافیائی، تاریخی، آئینی اور سیاسی حقائق ہیں۔ ان حقائق کی بنیاد پر اس ایوان کی رائے ہے کہ سابقہ صوبہ بہاولپور کو بلاتاخیر بحال ہونا چاہئے اور وفاقی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کرتا ہے کہ فی الفور ایک قومی کمیشن تشکیل دیا جائے جو نئے صوبوں سے متعلق تمام کلیدی معاملات (پانی و دیگر معاملات کی منصفانہ تقسیم، جغرافیائی حد بندی سمیت تمام آئینی، قانونی، انتظامی معاملات) پر فوری فیصلہ دے اور نئے صوبوں کی تشکیل کے عمل کو جلد مکمل کرے۔
جنوبی پنجاب صوبہ سے متعلق قرارداد نمبر161 کا متن یہ ہے:
صوبائی اسمبلی پنجاب کا یہ نمائندہ ایوان، وفاقی حکومت سے صوبہ جنوبی پنجاب کی تشکیل کا مطالبہ کرتا ہے اور اس نئے صوبے کی تشکیل کو عملی جامہ پہنانے کے لئے وفاقی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کرتا ہے کہ فی الفور ایک قومی کمیشن تشکیل دیا جائے جو نئے صوبوں سے متعلق تمام کلیدی معاملات (پانی و دیگر وسائل کی منصفانہ تقسیم، جغرافیائی حد بندی سمیت تمام آئینی، قانونی، انتظامی معاملات) پر فوری فیصلہ دے اور نئے صوبوں کی تشکیل کے عمل کو جلد مکمل کرے۔
دونوں قراردادیں پنجاب میں مسلم لیگ نواز کے دور حکومت میں اور متفقہ طور پر منظور کی گئیں۔ دونوں مسلم لیگ (ن) کے رانا ثناء اللہ نے پیش کی تھیں۔ لہٰذا ان قرار دادوں کو سیاسی خواہ اخلاقی طور پر عوامی رائے کا فیصلہ سمجھا جائے گا۔ جب تک کہ نئی قرارداد کے ذریعے اس کو تبدیل نہیں کیا جاتا۔ بعض تجزیہ نگاروں کے نزدیک جب نیا صوبہ بننے جائے گا توایک ہی وقت دو قراردادیں سرائیکی صوبے کے قیام کی تراہ میں رکاوٹ بن جائیں گی۔
تحریک انصاف ایک نیا صوبہ بنانا چاہتی ہے یا دو؟جنوبی پنجاب صوبہ بنے یا سرائیکی صوبہ؟ اس پر جنوبی پنجاب اور سرائیکی بیلٹ میں اتفاق رائے ضروری ہے۔ ایک ا تفاق رائے اسمبلیوں میں موجود تین بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان بھی ضروری ہے۔ کیا اپوزیشن جماعتیں عمران خان کی زیر قیادت یہ صوبہ بنانا پسند کریں گی؟ 



https://www.naibaat.pk/10-Sep-2018/16611

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/63069/Sohail-Sangi/Sooba-Janoobi-Punjab-Ya-Saraiki.aspx

https://www.darsaal.com/columns/sohail-sangi/sooba-janoobi-punjab-ya-saraiki-6926.html

http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-sep-11-2018-178786

Friday, September 7, 2018

وزیراعظم صاحب! حالات کو عوام کی نظر سے دیکھیئے



وزیراعظم صاحب! حالات کو عوام کی نظر سے دیکھیئے

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
وزیراعظم عمران خان کا ایک سو روز کا ایجنڈا جو لوگوں کو کوئی رلیف دے سکے، اس کے لئے ابھی مختلف ٹاسک فورسز اور کمیٹیوں نے کام شروع کیا ہے۔ لیکن اس سے قبل عام لوگوں کے لئے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ یہ دور کی بات ہے کہ وہ عملا کتنارلیف دے گا۔ تحریک انصاف کے دو فیصلے معاشی طور پرعام آدمی پر چار سو ارب روپے سے بھی زائد رقم کا بوجھ ڈال دیں گے۔ یہ ہیں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ۔ بجلی کی قیمت میں دو روپے فی یونٹ کا اضافہ کا فیصلہ کیا جاچکا ہے، جبکہ وزیراعظم عمران خان کی حال ہی میں قائم کردہ اکنامک کوآرڈی نیشنل کونسل گیس کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کرنے جارہی ہے۔ گزشتہ ہفتے حکومت نے تین کی قیمتوں مین کمی کا اعلان کیا تھا۔ تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عام اور غریب لوگوں تک عموما نہیں یا پہنچ پاتا جو پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرتے ہیں۔ یہ فائدہ ذاتی گاڑیاں استعمال کرنے والوں تک ہی محدود رہتا ہے۔ وہ بھی عمل درآمد کا مکینزم کمزور ہونے کی وجہ سے مکمل طور پر نہیں ملتا۔ 
اس سے قبل حکومتی حلقوں نے یہ منادی کردی کہ ہمارا گردشی قرضہ پچھلے برسوں میں حکومت کی طرف سے بار بار خطیر ادائیگیوں کے باوجود بڑھ کر 596ارب روپے ہو چکا ہے۔ گزشتہ ماہ جولائی میں گردشی قرضے میں 30ارب روپے کا حیران کن اضافہ ہوا۔مزید یہ بھی انکشاف سامنے آیا کہ پاور ہولڈنگ کمپنیوں کا بھی 582ارب روپے کاگردشی قرضہ ہے لہٰذاحقیقی واجبات کی رقم 1188ارب روپے بنتی ہے۔ 
پی ٹی آئی کی حکومت نے بجلی کے ٹیرف میں 2روپے فی یونٹ اضافہ کردیا ہے جس سے صارفین پر 200ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ مزید یہ کہ انڈسٹریل سپورٹ پیکج ختم کر کے صنعتی ہونٹس کے لیے 3روپے فی یونٹ مزید مہنگی کر دی ہے،یعنی صنعتوں کے لیے بجلی 5روپے مہنگی کر دی گئی ہے۔ تحریک انصاف جب اپوزیشن میں تھی یہ کہتی تھی کہ پاکستان میں بجلی بہت مہنگی ہے جس سے ملک کی صنعتیں نہیں چل رہیں اب بجلی مزید مہنگی کی گئی ۔ صنعتی یونٹس کے لیے 3روپے فی یونٹ کی سبسڈی ختم کرنے سے ملکی ایکسپورٹ متاثر ہو گی۔
بجلی کے نادہندگان کو پری پیڈ میٹر فراہم کرنے کی ایک تجویز بھی زیرغور ہے تاکہ پیشگی ادائیگی کے بعد ہی بجلی کی فراہمی ممکن ہو۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ صارفین سے گیس یا بجلی کی فراہمی سے پہلے رقم لے لی جائے۔ پیشگی ادائیگی کا نظام مضبوط انتظام کاری میں ہی موثر ہوتا ہے۔ اصل میں یہ تجویز گردشی قرضہ میں مزید اضافہ سے بچنے کے لئے ہے۔اور یوں یہ سارا قرضہ خفیہ انداز میں صارفین پر منتقل کرنے کی کوشش ہے۔ پری پیڈ نظام میں صارفین کو قیمتوں میں رلیف دیا جاتا ہے۔لیکن اس کے نتیجے میں ہوگا یہ کہ لاکھوں کی تعداد میں پری پیڈ میٹرز کی خریداری کا بوجھ بھی صارفین پر پڑے گا۔ نئے میٹرز رائج کرنے کا تجربہ مشرف دور میں شروع کیا گیا تھا۔ اور نئے میٹرز کے نام پرصارفین سے لاکھوں روپے وصول کرنے کے باوجود صارفین کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ البتہ یہ ضرور ہوا کہ میٹرز بنانے والی کمپنیوں نے لاکھوں میٹرز بنائے اور بیچے۔ 
اکنامک کوآرڈی نیشن کونسل کے پہلے اجلاس میں گھریلو صارفین کے لئے گیس کی قیمتوں میں180فیصد اورکمرشل، انڈسٹریل اور پاور سیکٹر کے لئے30فیصد اضافے کی سمری پیش کی گئی ہے۔ وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ پچھلی حکومت نے4سال میں گیس کے نرخوں میں ایک بار بھی اضافہ نہیں کیا جس سے آئل اینڈ گیس سیکٹر خصوصاً گیس کمپنیوں کو شدید مالی نقصانات کا سامناکرنا پڑ رہا ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگیولیٹری اتھارٹی ( اوگرا )کے قوانین کے مطابق سال میں دو مرتبہ قیمتوں پر نظر ثانی کرنی ہے۔ عموما گیس اور تیل کی قیتوں کا تعین ان کی عالمی مارکیٹ کی قیمتوں کے پیش نظر کیا جاتا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران ان کی قیمتیں کم رہی۔ جس کی وہ سے گزشتہ حکومت کو موقع ملا کہ وہ گیس کی قیمتیں نہ بڑھائے۔ 
گیس فراہم کرنے والی دو کمپنیوں سدرن گیس کمپنی اور نادرن گیس کمپنی کے خلاف گیس کی زیان کے تنازعات عدالتوں میں زیر ساعت ہونے کی وہ سے بھی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جاسکا۔ اوگرا میں کبھی کبھی قورم پورا ہونے کا بھی مسئلہ رہا۔ پیپلزپارٹی کی حکومت سے لے کر گیس کے معاملات نیب اور سپریم کورٹ میں زیر تفتیش رہے۔ 
گزشتہ حکومتیں سیاسی قیمت ادا کرنے سے خوف زدہ تھیں۔ اب توضیح یہ نکالی جارہی ہے کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ بعض نئی گیس فیلڈ سے نکالی جانے والی گیس کی قیمت پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ پرانی گیس فیلڈ میں گیس کی کمی ہوئی ہے۔ 
اطلاعات کے مطابق توانائی کے وفاقی وزیر غلام سرور خان کی زیر قیادت اعلیٰ حکام نے وزیراعظم عمران خان کو گیس کے نرخ بڑھانے سے متعلق آگاہ کیا ۔ وزیراعظم کو یہ بھی بتایا گیا کہ 50ارب روپے کی گیس سالانہ چوری ہوتی ہے۔اگرچہ گیس کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ پیٹرولیم ڈویژن نے خاص طور پر چار سال تک قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا جواز پیش کر کے قیمتیں بڑھانے کی جو تجویز دی ہے۔ 
گیس اور بجلی کی چوری اور ان کے زیان (لائن لاسز) قیمتوں میں اضافہ کی بڑی وجہ رہے ہیں۔ ان نقصانات کی وجوہات تکنیکی ہوں یا انتظامی کمپنیوں کی کارکردگی اور نااہلی میں شمار کی جائین گی۔ کمپنیاں یہ دونوں نقصانات کا بوجھ صارفین پر ڈالتی رہی ہیں۔ حالانکہ یہ وہ نقصانات ہیں جو خود کمپنیوں کو اٹھانا چاہئیں۔ 
ہمارے معاشرے مین یہ عام سی بات ہے کہ کسی محکمہ میں کسی ضلع سطح پر بھی نیا افسر آتا ہے، خاص مفادات رکھنے والے گروہ سرگرم ہو جاتے ہیں۔ اپنا کام نکلوا تے ہیں۔و زیراعظم اور اسکی معاشی اور سے متعلق ٹیم کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بالکل سی طرح جب کبھی حکومتی تبدیلی ہوتی ہے، کئی خاص مفادات رکھنے والے گروپ اپنی بات منوانے اور اپنے مفادات حاصل کرنے کے لئے سرگرم ہو جاتے ہیں۔ اور اپنا مفاد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
وزیراعظم صاحب! اس پوری تجویز کو کمپنیوں کی آنکھ سے نہیں ان لاکھوں عوام کی آنکھ سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جن کو آپ نے تبدیلی اور بہتر زندگی کا خواب دکھا کر ووٹ حاصل کئے تھے۔ آپ عوام کے نمائندے ہیں۔ کمپنیوں کے نہیں۔ خاصے معاملات گیس اور بجلی کی کمپنیوں کی کارکردگی بہتر بنانے سے ٹھیک ہو سکتے ہیں۔لہٰذا قیمتیں بڑھانے سے پہلے گیس اور بجلی کی چوری، ان کے زیان کے معاملات کو دیکھا جائے۔
ایک ساتھ گھریلو صارفین کے لئے گیس کے نرخوں میں تین گنا اضافہ مہنگائی کے شکار عام لوگوں کے لئے جینا مشکل کردے گا۔ صنعتی و تجارتی شعبے پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہونگے۔ گیس اور بجلی وہ اجن ہیں جس کی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی بڑھ جاتی ہے۔ اشیائے صرف کی قیمتوں سے لیکر کر ترانسپورٹ کے کرایوں تک، اور تجارتی و صنعتی شعبوں میں روز گار کے مواقع سے لیکر درآمدات تک سب پر اس کا منفی اثر پڑتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا نئی حکومت کی ساکھ بھی اس غیر معقول اضافے کی متحمل ہو سکتی ہے؟۔ جب تک تحریک انصاف کے منشور پر عمل شروع ہو، اور اس کے خوشگوار اثرات لوگوں تک پہنچیں، تب تک انکو معاشی رلیف دینے کی ضرورت ہے۔



https://www.naibaat.pk/06-Sep-2018/16464




http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/62954/Sohail-Sangi/Wazir-e-Azam-Sahib-Halat-Ko-Awam-Ki-Nazar-Se-Dekhiye.aspx




https://www.darsaal.com/columns/sohail-sangi/wazir-e-azam-sahib-halat-ko-awam-ki-nazar-se-dekhiye-6834.html




http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-sep-7-2018-178448




http://politics92.com/singlecolumn/62954/Sohail-Sangi/Wazir-e-Azam-Sahib-Halat-Ko-Awam-Ki-Nazar-Se-Dekhiye.aspx



Sunday, September 2, 2018

تھر میں پھر قحط نے سر اٹھا لی



حکومت سازی ، نئی صورتحال میں بدلتی ہوئی صف بندی ، نئی حکومتوں سے عوام کی وابستہ امیدیں اخبارات کا زیادہ ترموضوع رہے ہیں۔ تاہم سندھ کے اخبارات نے بعض چبھتے ہوئے مسائل جو سلاہا سال سے نظر انداز ہوتے رہے ہیں ان کی طرف حکومت کی توجہ دلائی ہے ۔ روزنامہ کاوش لکھتا ہے سندھ کے صحرائے تھر میں ایک مرتبہ پھر قحط کے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ ضلع انتظامیہ نے وقت پر بارشیں نہ ہونے کے بعد سینئر بورڈ آف روینیو اور دیگر بالا حکام کو خط لکھ دیا ہے کہ ضلع کو قحط زدہ قرار دے کر امدادی کارروائیاں شروع کی جائیں۔ تھرپارکر ضلع کے چار تحصیلوں میں مون سون کی بارشیں تاحال نہیں ہوئی ہیں۔ ۔ تھر کی معیشت اور روزگار کا انحصار صرف مون سون کی بارشوں پر ہے۔ یہاں لوگوں کے لئے نہ روزگار ہے اور نہ مال مویشیوں کے لئے چارہ موجود ہے ۔ اس صورتحال کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر تھرپارکر نے تحصیلداروں اور اسسٹنٹ کمشنرز سے صحرائی علاقہ کا سروے کرانے کے بعد ضلع کو قحط زدہ قرار دینے کی رپورٹ تیار کر کے سندھ کے بالا حکام کو بھیج دی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موسمی بارسیں نہ ہونے کی وجہ سے یہاں نہ فصل ہوسکے گی اور نہ گھاس اور مویشیوں کے لئے چارہ۔ لہٰذا صحرائی علاقے میںبسنے والی آبادی اور ان کے مویشی بھوک کی صورتحال سے دوچار ہو جائیں گے۔ دوسری جانب غذائیت کی کمی اور اس سے پیدا ہونے والے امراض میںکئی بچے مبتلا ہیں، ضلع میں نچلی سطح پر صحت کی سہولیات کا نظام بہتر نہ ہونے کی وجہ سے ضلع ہیڈکوارٹر کا واحد ہسپتال مٹھی ہے جہاں تک پہنچتے پہنچتے بچے دم توڑ دیتے ہیں یا پھر اس حالت میں ہوتے ہیں کہ ان کا علاج ناممکن ہو جاتا ہے۔ رواں ماہ کے دوران بچوں کی فوتگی کی تعداد 28 ہو گئی ہے۔ حکومت صرف ضلع ہیڈکوارٹر کی ہسپاتل کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اصل مسئلہ غربت اور غذائیت کی کمی ہے اس پر موثر انداز میں عمل نہیں کر رہی۔
روزنامہ عبرت لکھتا ہے کہ گزشتہ 24 سال سے سندھ کے شہری خواہ دور دراز دیہی علاقوں میں کام کرنے والی لیڈی ہیلتھ ورکرز کام کر رہی ہیں۔ گزشتہ دس سال سے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی ذمہ داری بھی ان خواتین ورکرز کو دی گئی ہے۔ یہ خواتین ہیلتھ ورکرز گرمی ہو یا سردی، بارش ہو یا آندھی، یا گھرمیں بیماری ہو یا فوتگی اپنی ذمہ داری نبھا رہی ہیں۔ اس کام کے دوران انہیں متعدد چیلنجز کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ صحت کی بھلائی جیسا اہم کام سرانجام دینے والی ان خواتین کو مستقل نہیں کیا گیا ہے۔ چند سال قبل ان ورکرز نے کراچی میں ا بھرپورحتجاج بھی کیا تھا۔ جس پر حکومت وقت نے لاٹھیاں برسائیں اور گرفتاریاں بھی کی۔ اس احتجاج کے بعد حکومت سندھ نے ہیلتھ ورکرز کو مستقل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ صحت اور تعلیم کو اولین ترجیح قرار دینے والی حکومت تا حال ان ہزاروں خواتین ملازمین کی ملازمت کو مستقل نہیں کر سکی ہے۔ یہ امر ناقابل فہم ہے کہ بچوں کو اپاہج ہونے سے بچانے اور بنیادی صحت کی سہولیات میں مدد دینے والی ان صحت کارکنان کی جانب حکومت کا یہ رویہ کیوں ہے؟ سونے پر سہاگہ یہ کہ ان ورکرز کو ڈیوٹی کے لئے مطلوب سہولیتا بھی نہیں دی جاتی ہیں۔ ان ورکرز نے دہشتگردی کے بڑھتے رجحان جس میں بعض ورکرز شہید یا زخمی ہوئی، اس کے باوجود انہوں نے اپنے فرائض نبھانے میں کوئی عذر نہیں کیا۔ یہ امر دلچسپ ہے کہ حالیہ انتخابات کے دوران بھی لیڈی ہیلتھ ورکرز سے الیکشن ڈیوٹی لگائی گئی۔ خیرپور ناتھن شاہ میں یہ ورکرز گزشتہ 46 روز سے علامتی بھوک ہڑتال پر ہیں لیکن اس کا نہ نگرانوں نے اور نہ ہی عدلیہ نے نوٹس لیا۔
شکارپور ضلع کے بعض علاقے جہاں پولیس اور دیگر سرکاری اہلکار بکتر بند گاڑی کے بغیر نہیں جا سکتے ایسے علاقوں میں بھی ان صحت کارکنوں نے اپنا کا جاری رکھا ہوا ہے۔
سندھ میں چھوٹی صنعتوں کے قیام میں مدد اور سہولت دینے کے لئے صوبائی محکمہ صنعت کے تحت قائم سندھ سمال انڈسٹریز کارپوریشن کے ملازمین کو چار ماہ سے تنخواہ کی ادائیگی نہیں کی جاسکی ہے۔ کروڑہا روپے کے پلاٹ میں کرپشن اور اضافی ملازمین کی بھرتی کے باعث ادارے کو بند کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ ادارے کو اخراجات کم کرنے اور بقایاجات کی وصولی تیز کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ کارپوریشن میں 880 ملازمین کام کر رہے ہیں روف صدیقی کے وزارت کے دوران بعض اضافی اور غیر ضروری بھرتیاں کی گئی جس کی وجہ سے کارپوریشن بحران کا شکار ہے۔بحران کی وجہ سے پینشن اور تنخواہیں بروقت ادا نہیں کی جارہی ہیں۔ 2002 سے 2010 تک بغیر اشتہار کے غیرقانونی بھرتیاں کی گئیں۔ محکمہ صنعت نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر سمری محکمہ خزانہ کو بھیجی تھی، وزارت خزانہ نے یہ سمری مسترد کردی ہے۔
روزنامہ سندھ ایکسپریس سندھ کی نئی حکومت عوام کا حق ادا کرے گی؟ کے عنوان سے لکھتا ہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی تیسری مرتبہ اقتدار میں آئی ہے جبکہ سید مراد علی شاہ دوسری مرتبہ وزیراعلیٰ منتخب ہوئے ہیں۔ دوبارہ منصب ملنے کے بعد اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے گزشتہ دور حکومت کی کارکردگی کے مختصر حوالے دیئے۔ اس کے ساتھ ساتھ نئی حکومت میں عوام کی توقعات پر پورا اترنے کا عزم بھی کیا۔ پیپلزپارٹی کے گزشتہ دو دور حکومت کیسے رہے،؟ سندھ کے مسائل کو کتنا حل کیا گیا؟ یہ سوالات تاحال باقی ہیں۔ تمام تر تنقید اور تحفظات کے باوجود عوام نے پیپلزپارٹی کو تیسری مرتبہ موقع دیا ہے جو کسی غنیمت سے کم نہیں۔ مراد علی شاہ کے گزشتہ بائیس ماہ کے دور حکومت سے یہ بات سامنے آئی کہ ان میں کام
کرنے کی صلاحیت ہے۔ پہلی مرتبہ وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد انہوں نے سر سبز تھر ، خوشحال سندھ کا نعرہ دیا تھا اور صحت اور تعلیم کو الین ترجیح قرار دیا تھا۔ اس ضمن میں کئے گئے حکومتی اقدامات اپنی جگہ پر لیکن یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ سندھ ابھی تک ان دو اہم شعبوں سمیت بنیادی ضروریات کی عدم موجودگی کے حوالے سے تکلیف دہ صورتحال سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ دس سال میں پینے کے پانی کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا بلکہ اس میںمزید خرابی پیدا ہوئی۔ واٹر کمیشن کی رپورٹ بتاتی ہے کہ سرکاری فائیلوں ایک صورتحال ہے جبکہ زمینی حقائق کچھ اور ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران تھرمیں غذائی قلت کے باعث 397 بچوں کی اموات واقع ہوئی۔ تعلیمی ایمرجنسی بھی کوئی ٹھوس نتائج نہیں دے سکی۔ زراعت کے لئے پانی کی کم فراہمی کی وجہ سے پیداوار کا اہم شعبہ بہت پیچھے چلا گیا۔ اس صورتحال میں آئندہ پانچ سال سندھ کے عوام کے لئے ہی نہیں بلکہ پیپلزپارٹی کے لئے بھی اہم ہیں۔ اگر پیپلزپارٹی عوام کے دیئے گئے مینڈیٹ پر پورا نہ اتری تو یہ سندھ کے عوام اور خود پیپلزپارٹی کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔

https://www.naibaat.pk/17-Aug-2018/15811

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/62746/Sohail-Sangi/Sindh-Masail-Hi-Masail-Hal-Kaun-Karega.aspx

سندھ حکومت کو درپیش چیلینج



سندھ چیلینجز میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی

وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی سربراہی میں قائم ہونے والی سندھ حکومت کو متعدد چیلینجز درپیش ہیں۔ سب سے بڑا چیلینج پارٹی دو مرتبہ کی کارکردگی پرتمام اعتراضات اور تحفظات سوالیہ نشان کے باوجودپیپلزپارٹی پر تیسری مرتبہ سندھ کے عوام کی جانب سے اعتماد کو برقرار رکھنے کا ہے۔ سندھ میں جن چیزوں نے پیپلزپارٹی کے حق میں ماحول بنایا اس میں بڑا عنصر یہ رہا کہ سندھ کے لوگ جی ڈی اے کو ووٹ دینا نہیں چاہتے تھے۔ دوسرے یہ کہ بلاول بھٹو نے انتخابی مہم کے دوران لوگوں کو یقین دلایا کہ حکومت کی کارکردگی وہ ذاتی طور پر ضمانت دے رہے ہیں۔

سندھ میں عام لوگوں کو درپیش مسائل میں اچھی حکمرانی، بنیادی سہولیات کی فراہمی ہے۔ یہ وہ بنیادی سہولیات ہیں جو سوشل انڈیکیٹرز میں شامل ہیں۔ جو ظاہر کرتے ہیں کہ کسی بھی ملک میں عام لوگوں کے لئے ترقی کی کیا صورتحال ہے۔ ایہی نڈیکیٹرز ترقی کو ناپنے کے پیمانے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ سندھ میں سوشل ا نڈیکیٹرز کا اظہار منصوبہ بندی کے حوالے کئے گئے مختلف سرو ے ہ میں کیا گیا ہے ۔ انتخابی مہم کے دوران بھی حکمران جماعت کے اراکین اسمبلی کو ووٹرز کی جانب سے جن سوالات کی شکل میں سامنا کرنا پڑا۔ وہ ان انڈیکیٹرز کا عام زبان میں اظہار ہی تھا۔ ان سوشل ا نڈیکیٹرز میں عام لوگوں کو سوشل انڈیکیٹرز ایک پیمانہ ہوتے ہیں جس سے بعض نکات کی مدد سے پورے نظام کو سمجھا جاسکتا ہے۔ ان انڈیکیٹرز میں غربت، نابرابری کی شرح، تعلیم، عمر کا دورانیہ، روزگار او ر بیروزگاری، صحت پر ہونے والے اخراجات، نوجوان جو نہ روزگار سے لگے ہوئے ہیں نہ زیر تعلیم ہیں اور نہ ہی کسی ہنر کے لئے زیر تربیت ہیں۔ خو دکشی کی شرح، زندگی سے مطمئن ہونا وغیرہ ان سوشل انڈٰکیٹرز میں شامل ہے۔ صحت، تعلیم، روزگار، پینے کا پانی اور نکاسی آب سب سے اہم نکات سمجھے جاتے ہیں۔ 

جہاں تک روزگار کی صورتحال ہے گزشتہ دور میں سندھ حکومت متعدد اعلانات کے باوجود نئی بھرتی نہ کر سکی۔ حالانکہ مختلف صوبائی محکموں میں ہزارہا خالی اسمایوں کا اعلان کر کے درخواستیں منگوائی گئیں۔ لیکن اس ضمن میں مزید کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ بظاہر یہ جواز دیا گیا کہ وفاق کی جانب سے ملنے والی رقم کم ہو گئی ہے۔ اعلان کردہ متعدد اسامیاں نئی نہیں تھی، بلکہ یہ اسامیاں ریٹائرمنٹ کے ذریعے خالی ہوئی تھی۔ ان کے لئے رقم ابجٹ میں اخراجات جاریہ کی مد میں موجود رہتی ہے۔ پارٹی کی حکومت کے پہلے دور میں بعض جعلی یا مقررہ تعداد سے سے زیادہ ملازمتیں دی گئی تھی۔ ان بھرتیوں کے معاملات عدالتوں یا مختلف کمیٹیوں کے زیر غور رہے۔ اس مرتبہ صوبائی حکومت پر دباؤ ہے کہ خالی اسامیاں پر کرے۔ واضح رہے کہ گزشتہ دور حکومت میں ہزاروں کی تعداد میں خالی اسامیوں کے اشتہارات شایع کئے گئے تھے اور لاکھوں لوگوں نے درخواستیں دی تھی۔ 
خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مقابلے میں سندھ کے سوشل اور معاشی انڈیکیٹرز کمزور ہیں، یعنی تعلیم زوال کا شکار ہے۔ اس حقیقت کو تسلیم کیا گیا اور تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ ہوا ۔ اس کے باوجودکئی اسکول بند ہیں اور ٹیچرز کی حاضری کو یقینی بنانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔لیکن اس میں کوئی بڑیٰ کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔
محکمہ صحت میں چاہے تھر میں نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت اور چانڈ کا ہسپتال میں سہولیات کے فقدان میں بچوں کی اموات، دوائیں اور ڈاکٹر دونوں کی موجودگی پر سولات اٹھائے جاتے ہیں۔صحت کی سہولیات کاغذوں میں ضلع سطح پر موجود ہیں، لیکن عملا ایسا نہیں۔ حکومت پہلے سے موجود طبی سہولیات کو کیسے یقینی بنائیگی؟ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی سوال ہے کہ ضلع سطح سے نیچے یہ سہولیات کیسے پہنچائے؟ پرائمری ہیلتھ کی سہولیات ایک بڑا اشو ہیں۔ صوبائی حکومت نے پیپلز ہیلتھ انیشیئٹو کے نام پر دیہی علاقوں میں صحت مراکز اور ہسپتالوں کو ایک حد تک پرائیویٹائزیشن کی طرف لے گئی۔ مگر صورتحال میں کوئی اصلاح احوال نہیں سامنے آیا۔ یہ چیلینج بدستور موجود ہے بلکہ وقت کے ساتھ اس میں شدت آئی ہے۔ 
صوبے کو آبپاشی پانی کی قلت کا سامنا ہے اس کے لیے نئی سندھ حکومت کو حکمت عملی واضح کرنا ہوگی پانی کی قلت کی وجہ سے زراعت متاثر ہو رہی ہے خود ان کے اپنے حلقے میں لوگ پینے کے پانی کے لیے پریشان ہیں۔پانی کا معالہ بظاہر وفاقی حکومت سے ہے۔ لیکن خود پانی کی صوبے کے اندر تقسیم بھی منصفانہ نہیں ہو رہی۔ زرعی اجناس کی نرخوں کے تعین کا معاملہ بھی اہم ہیں جس طرح گنے کی خریداری کے وقت مل مالکان کا رویہ سامنے آیا اور مراد علی شاہ بے بس نظر آئے کیونکہ انور مجید کے ساتھ آصف علی زرداری کا نام بھی لیا جارہا تھا۔پانی کی قلت اور زرعی اجناس کی صحیح قیمتیں نہ ملنے کی وجہ سے دیہی معیشت پر خراب اثرات مرتب ہوئے اور غربت کی شرح میں اضافہ ہوا۔ نتیجہ میں دیہی آبادی روز گار کے لئے نہ صرف شہروں کی طرف منتقل ہوئی بلکہ اس کا انحصار شہروں پر بڑھ گیا۔ صنعت کاری نہ ہونے کی وجہ سے شہروں میں پہلے ہی روزگار کے مواقع کم تھے۔ لہٰذا نئی لیبر فورس کو بھی سروس سیکٹر کی طرف جانا پڑا۔ صوبے میں معاشی براربی ایکٹوٹی کم ہے صنعتیں صرف کراچی تک محدود ہیں جس وجہ سے بیروزگاری بڑھ رہی ہے اور لوگوں کی نظریں صرف سرکاری ملازمتوں پر ہیں یہ بیروزگاری بھی ان کی اولیت میں ہوگی۔



شاہر ا ئیں بنانے کی بات کی گئی لیکن ہر شہر کی اندرونی حالت سے ہر ایم پی اے واقف ہیں اور تنزیلاہ شیدی سمیت کئی رکن اسمبلی اپنے لوگوں کو ان کی تعمیر کی یقین دہانیاں کراکے آئے ہیں۔اسی طرح سے سالڈ ویسٹ اور کچرے کی شکایت کراچی سمیت ہر ٹاؤن کمٹی میں سننے کو ملتی ہے، اس کا تدارک آئندہ پانچ سالوں میں بھی ان کا پیچھا کرے گا۔

بعض سابق وزراء شرجیل انعام میمن سمیت دیگر رہنما کرپشن کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں ان کی تفتیش اور تحقیق کس قدر شفاف ہوپاتی ہے۔ یہ بھی چئلینج ہوگا

مراد علی شاھ کس حد تک بااختیار ہیں یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے ماضی میں بھی بار بار یہ خبریں آتی تھیں کہ فریال تالپور حکومت سندھ کے معاملات دیکھ رہی ہیں۔ اس بار فریال تالپور خود صوبائی اسمبلی کی رکن ہیں ان کا کتنا مرکزی کردار رہتا ہے اور یہ کردار مددگار ثابت ہوتا ہے یہ ان کے فیصلوں میں رکاوٹ بنتا ہے۔
اپوزیشن پہلے سے مختلف ہیں زیادہ متحرک ہے کیونکہ تحریک انصاف ہو یا ایم کیو ایم یا تحریک لبیک ان کے بقا کا معاملہ ہے انہیں اپنی کارکردگی دکھانی ہے، اس وجہ سے پہلے کی طرح آسان نہ ہوگا اور تحریک انصاف کے اراکین میں کسی ایک لسانی ایکائی کے لوگ شامل نہیں مختلف اقوام اور طبقات کی نمائندگی موجود ہے۔سندھ میں سماجی اور معاشی طور پرغیر یقینی حالات ہیں ان حالات نے مزید صورتحال کو خراب کردیا ہے۔
نواز لیگ کے برعکس پیپلزپارٹی خوش ہے کہ چلو اس کو اپنے صوبے میں حکومت ملی۔ اس مرتبہ پیپلزپارٹی وزیراعظم عمران خان سے کوئی پنگا لینا نہیں چاہتی۔ کیونکہ یہ بات اسٹبلشمنٹ کو ناراض کرے گی۔ اسٹبلشمنٹ چاہتی ہے کہ عمران خان والا پروجیکٹ چلے اور اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ لیکن سندھ حکومت کو سیاسی طور پر خواہ صوبے کے لوگوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے متعدد چیلینجز درپیش ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ لوگوں کو واقعی کچھ دیتی ہے یا پھر سیاسی کھیل کھیلتی ہے۔

https://www.naibaat.pk/27-Aug-2018/16086

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/62593/Sohail-Sangi/Sindh-Hukumat-Ko-Darpesh-Challenges.aspx