میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
سندھ کی قوم پرست سیاست میں تبدیلی کے امکان
ملک میں اجاری حالیہ بحران اور انتخابات کے قریب آنے کے ساتھ سندھ میں
سیاسی سرگرمیاں شروع ہو گئی ہیں۔ ان سرگرمیوں میں اضافہ صوبے میں سیاسی کارکنوں کیپراسرار گمشدگیوں اور گرفتاریوں نے بھی صوبے کی قوم پرست گرپوں کو سرگرم میں دھکیل دیا۔ یہ پراسرار گمشدگیاں ریاستی اداروں کی جانب سے گرفتاریاں قرار دی جارہی ہیں۔ لیکن ان کی گرفتای سرکری طور رپ طاہر نہیں کی جارہی۔ اس سے پہلے جو سرگرمیاں تھی، وہ یا تو شہری علاقوں یعنی کراچی یا حیدرآباد تک محدود تھی، ایم کیو ایم کے مختلف دھڑے اپنی جگہ بنانے کے لئے کوشاں تھے۔
پیپلزپارٹی نے تنظیم سازی کے لئے کچھ سرگرمی کی۔ لیکن باقی سیاسی گروپ اور پارٹیاں سرگرمی نہیں دکھا رہی تھی۔ گزشتہ دنون مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری شجاعت حسین جو ماضی میں وفاقی کابینہ میں رہتے ہوئے کبھی بھی سندھ نہیں آئے تھے، وہ کراچی پہنچے۔ انہوں نے پیر پاگارا اور سید غوث علی شاہ سے ملاقاتیں کیں۔
سندھ یونائٹیڈ پارٹی نے اتوار کے روز کراچی میں ایک بڑی ریلی نکال کر سیاسی شو کا مظاہرہ کیا۔ یہ شو اس وجہ سے بھی کرنا پڑا کہ پراسرار گرفتار شگان رہائی کے بعد اس پارٹی میں شمولیت اختیار کر رہے تھے۔ اور یہ بات پھیلائی جارہی تھی کہ قوم پرست سیاست کرنے والوں کو ترغیب دی جارہی تھی کہ وہ سندھ یونائٹیڈ پارٹی میں شامل ہوں۔ اس پر مختلف حلقوں میں سولات اٹھائے جارہے تھے کہ بعض ریاستی ادارے یونائٹیڈ پارٹی کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں اور اس پارٹی کو آنے والے وقت میں کوئی کردار دینا چاہتے ہیں۔
سندھ یونائٹیڈ پارٹی سندھ کی قوم پرست پارٹی ہے جو سندھ کے حقوق پارلیمانی سیاست کے ذریعے حاصل رکنا چاہتیہ ہے۔
پارٹی کے سربراہ جیئے سندھ تحریک کے بانی جی ایم سید کے پوتے سید جالال محمود شاہی ہیں جو نوے کے عشرے میں ایم کیو ایم کے ساتھ ایک بندوبست کے ذریعے سندھ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر رہ چکے ہیں۔ اپنے منشور میں سندھ یونائٹیڈ پارتی سندھیوں کو ایک قوم سمجھتی ہے۔ ا سکے مطابق کنفیڈریشن ہو یا ایک ہی ریاست لیکن پاکستان کے چاروں صوبوں کو خود مختاری ہونی چاہئے۔
سندھ یونائیٹیڈ پارٹی کا قیام 9 دسمبر 2006 میں لایا گیا۔ پارٹی کا خیال ہے کہ پاکستان میں صوبوں کو اختیارات گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے تحت حاصل ہیں جو کہ ایک نوآبادیاتی نظام تھا۔ جب کہ پاکستان 1940 کی قرارداد کے تحت بنا ہے لہٰذا صوبوں کو اس کے مطابق اختیارات ملنے چاہئیں۔
سندھ یونائٹیڈ پارٹی یہ بھی سمجھتی ہے کہ پنجاب کی بالادستی کی وجہ سے ملک کا سیاسی اور معاشی نقصان ہوتا رہا ہے اور اس کی وجہ سے بحران بھی رہے ہیں۔
پارٹی سندھ کی آزادی یا علحدگی نہیں چاہتی۔ اس کا خیال ہے کہ ملک کی مختلف نسلیتی اور لسانی گرہوں کو سیاسی اور ثقافتی حقوق دینے سے ملک میں علحدگی کی تحریکیں کمزور ہونگی۔
جلال محمود شاہ کہتے ہیں کہ جو لوگ جو سندھ کے آئینی حقوق میں یقین رکھتے ہیں انہیں اس پارٹی کا خیر مقدم کرنا چاہئے کیونکہ یہ پارٹی ملکی سطح کی سیاست کرنا چاہتی ہے۔
جلال محمود شاہ اپنی الگ پارٹی کے قیام سے پہلے انفرادی طور صوبے کے اندر قائم ہونے والے مختلد اتحادوں کا حصہ رہے ۔ انہوں نے لیاقت جتوئی، ارباب غلام رحیم، امتیاز شیخ اور دیگر شخصیات کے ساتھ اتحاد کیا۔ اس کے بعد لیاقت جتوئی اور ارباب غلام رحیم وزیراعلیٰ بنے لیکن جلال محمود شاہ صوبائی اسمبلی تک بھی نہیں پہنچ سکے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جلال محمود شاہ کو اس لئے صوبائی اسمبلی کی نشست نہیں دی گئی، کہ وہ وزیراعلیٰ کے مضبوط امیدوار ہو سکتے تھے۔ لہٰذا انہوں نے سندھ ڈیموکریٹک الائنس کے تجربے کے بعد اپنی الگ پارٹی بنای اور انہوں ے اپنے ماضی کے حلیفوں پر تنقید بھی کی۔
جولائی 2012 میں جلال محمود شاہ نے اور نواز لیگ کے ساتھ اتحاد کیا۔ دونوں پارٹیوں کے درمیان ایکٹھ نکاتی معاہدہ پر بھی دستخط ہوئے۔ اس معاہدے کو بعض تجزیہ نگاروں نے سندھ پنجاب کے درمیان معاہدہ قرار دیا تھا۔ اس سے قبل پیپلزپارٹی کو ’’سندھ پنجاب معاہدہ‘‘ سمجھا جاتا رہا ہے۔ لیکن یہ معاہدہ دیرپا ثابت نہیں ہوا۔ نہ بعد میں نواز شریف نے کوئی فالو اپ کیا اور نہ ہی جلال محمود شاہ نے ۔ اس معاہدے کو بظاہر پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے خلاف انتخابی معاہدہ قرار دیا جارہا تھا۔ اسکے نیتجے میں سندھ کی قوم پرست جماعتیں تقسیم ہو گئیں۔ اور 2010 میں تین قوم پرست جماعتوں عوامی تحریک، سندھ ترقی پسند پارٹی اور سندھ یونائٹیڈ پارٹی نے سندھ پرگریسو لائنس کے نام سے جو اتحاد بنایا تھا وہ توٹ گیا۔ اس عرصے میں قومی عوامی تحریک نے لیاری کی امن کمیٹی کے ساتھ اتحاد کیا اور ڈاکٹر قادر مگسی نے عمران سے رابطہ کیا۔
قوم پرستوں کی پنجاب بیسڈ پارٹیوں کی طرف قدم بڑھانے کو سیاسی تجزیہ نگار اس امر سے تعبیر کر رہے تھے کہ پیپلزپارٹی نے قوم پرستوں کو اپنی صفوں میں جگہ دینے سے انکار کردیا تھا۔
آگے چل کر نواز لیگ نے سندھ میں پیپلزپارٹی کے خلاف پیر پاگارا سید صبغت اللہ شاہ کی قیادت میں پیپلزپارٹی کے خلاف محاذ کھڑا کیا۔ جس کیو جہ سے جلال محمود شاہ اور ان کے ’’سندھ پنجاب معاہدہ ‘‘ کی اہمیت ختم ہو گئی۔ دس جماعتی اتحاد وجود میں آیا، اس اتحاد میں نواز لیگ، جے یو آئی (ٖف)، سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے ساتھ ساتھ سب گروپ اور جماعتیں شامل تھیں ۔ سندھ جیئے سندھ کے تین گروپوں یعنی جیئے سندھ بشیر خان گروپ، جیئے سندھ آریسر گروپ اور جیئے سندھ خالق جونیجو گروپ شامل نہیں ہوئے کیونکہ یہ تینوں جماعتیں پارلیمانی سیاست پر یقین نہیں رکھتی تھیں۔ لیکن 2013 کے انتخابات میں یہ دس جماعتیں اتحاد متفقہ طور پر مشترکہ ا میدوار نہیں کھڑے کر سکے۔ لہٰذا پیپلزپارٹی کے خلاف سیاسی مخالفت کا تو ماحول بنا لیکن کوئی تنظیم یا شخصیت اس پوزیشن میں نہیں تھی کہ پیپلزپارٹی مخالف ان امنگوں کو ٹھوس شکل دے کر ووٹ میں تبدیل نہیں کرسکے۔
یہ کثیر رنگی اتحاد تھا۔ جس میں قوم پرست جماعتوں کے ساتھ ساتھ نواز لیگ، فنکشنل لیگ، اور جے یو آئی فضلا الرحمان گروپ سے لیکر جماعت اسلامی، سنی تحریک، جمیعت علمائے پاکستان اور جتوئی کی نیشنل پیپلزپارٹی بھی شامل تھیں۔
جلال محمود شاہ کا حلقہ انتخاب وہی ہے جو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا رہا ہے۔ اس کے علاوہ کوٹری اور جامشورو کا کچھ علاقہ قومی اسمبلی کی نشست کے لئے ان کا حلقہ بنتا ہے جہاں ملک اسد سکندر کا اثر رسوخ ہے۔ ملک اس سکندر اور جلال محمود شاہ خاندانی طور ایک دوسرے کے سیاسی حریف ہیں۔ کوٹری اور جامشورو کے حلقے سے شاہ صاحب کے داد اور جیئے سندھ تحریک کے بانی جی ایم سید کو ملک اس کے والد ملک سکندر نے شکست دی تھی۔ لہٰذا اس حلقہ سے انتخابات جیتا ناممکن لگتا ہے۔
ایس یو پی نے 2015 میں کرپشن کے خلاف اور اچھی حکمرانی کے لئے احتجاجی مہم چلائی تھی۔ لیکن یہ مہم زیادہ پزیرائی حاصل نہ کرسکی۔ اب ایک بار پھر جلال محمود شاہ نے بڑا سیاسی شو کیا ہے۔ اس سے سندھ کی قوم پرست حلقوں کو پیغام دیا ہے کہ اگر وہ سب متحد ہوں تو سندھ کی حقوق کی جدوجہد پارلیمانی سیاست کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔
جلال محمود شاہ کی سیاست کا ایک مثبت
پہلو یہ بھی سمجھا جارہا ہے مسلح یا انتہا پسندی کی سیاست کے بجائے نوجوانوں کو عملی اور پارلیمانی سیاست میں شریک کیا جاسکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتخابات میں اور اس سے پہلے سندھ کے لوگ اس سوچ کو کتنی پزیرائی دیتے ہیں؟ اور خود جلال محمود شاہ اپنی حکمت عملی اور رابظوں کے ذریعے کس حد تک عام لوگوں اور بااثر لوگوں کو اپنے ساتھ کھڑا کر سکتے ہیں؟
Sindhi Nationalism, Jalal Mehmood Shah, SUP, Sindh United Party, PPP, G.M Syed, Nawaz Sharifr, PMLN, Qadir Magsi, Palijo, PML-F, Pir Pagara, Liaquat Jatoi, Imtiaz Shaikh, Arbab Ghulam Rahim, SPNA,
Sohail Sangi Column
Daily Nai Baat, August 22, 2017