Thursday, August 31, 2017

Sohail Sangi Column August 2017 on Awaz Today Pak dot Com

Sohail Sangi Column August 2017  on Awaz Today Pak dot Com

Nai Baat – Mery Dil mery Muasafar – Sindh Nama, Sindh Dairy, Sindhi Press, 

سہیل سانگی کالم ۔ میرے دل میرے مسافر ۔ روزنامہ نئی بات



پنجاب میں سیاسی تبدیلی کے محرکات

سندھ کے باسیوں کا میونسپل سروسز کی ضرورت نہیں؟

سندھ کی قوم پرست سیاست میں تبدیلی کا مکان


اور ان کے اثرات مردم شماری کے نتائج  

Sohail Sangi Column August 2017 on Pak Discussion dot Com

Sohail Sangi Column August 2017  on Pak Discussion dot Com

Nai Baat – Mery Dil mery Muasafar – Sindh Nama, Sindh Dairy, Sindhi Press, 

سہیل سانگی کالم ۔ میرے دل میرے مسافر ۔ روزنامہ نئی بات




Sindh ki qaum parsat siyasat main tabdeeli ka imkaan 

NAB- zada afsran ko bachany kay jatan


Links of some old columns 
https://www.pakdiscussion.com/?s=suhail+sangi 






Sohail Sangi Column August 2017 on Bathak dot Com

Sohail Sangi Column August 2017 on Bathak dot Com
Nai Baat – Mery Dil mery Muasafar – Sindh Nama, Sindh Dairy, Sindhi Press, 

سہیل سانگی کالم ۔ میرے دل میرے مسافر ۔ روزنامہ نئی بات


اور ان کے اثرات مردم شماری کے نتائج
نیب ذدہ افسران کو بچانے کے جتن
ٹرمپ کی نئی حکمت عملی
سندھ کی قوم پرست سیاست میں تبدیلی کا مکان
آتے ہی ملازمتیں دینے کا لولی پاپ انتخابات قریب
ہر ادارہ آئینی حدود میں رہے
محکمہ تعلیم کی چارج شیٹ جیسی رپورٹ
پنجاب اپنا کردار ادا کرے
سندھ کے باسیوں کا میونسپل سروسز کی ضرورت نہیں؟
پنجاب میں سیاسی تبدیلی کے محرکات
http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-aug-4-2017-131372

مردم شماری کے نتائج کے اثرات اور تحفظات


مردم شماری کے نتائج کے اثرات 

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی

نئی گنتی کے مطابق اب ہم دو سو آٹھ ملین لوگ اس ملک میں رہ رہے ہیں۔ 19 سال کے طویل التوا کے بعد مردم شماری ہو ہی گئی اور اس کے عبوری نتائج شایع کردیئے گئے ہیں۔ ان نتائج کے مطابق 1998 کے بعد آبادی میں تیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اور اس کے مضمرات پریشان کن ہیں۔ مجموعی طور پر آبادی میں 2.4 فیصد اضافہ ہوا۔ اس بڑھتی ہوئی آبادی کی آٹے، صحت، تعلیم، رہائش، اور دیگر ضروریات کو پورا کرنا ایک بہت بڑا چیلینج ہے۔ مردم شماری کے اثرات قومی اور صوبائی اسمبلی میں نمائندگی، وسائل کی تقسیم، ملازمتوں اور ترقیاتی منصوبوں میں حصے پر پڑتا ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں جہاں صوبوں کے درمیاں کشیدگی، کمزور جمہوریت قانون کی اور اچھی حکمرانی کا فقدان ، معاشی نابرابری اور ترقی کے بنیادی پالیسیوں کی غیر موجودگی میں مردم شماری کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ حالیہ مردم شماری کے نتائج پر مختلف حلقوں کے اعتراضات سا منے آئے ہیں ، ان اعتراضات کے مطابق جو اعداد وشمار دیے گئے ہیں، آبادی اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صورتحال اور بھی گمبھیر ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کا حصہ کم ہوا ہے، جبکہ سندھ کے حصے میں تھوڑا سا اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ بلوچستان میں 0.9 فیصد اور خیبر پختونخوا میں 1.3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ اعداد وشمار اس تحقیق کو مسترد کرتے ہیں کہ ملک میں گزشتہ بروسں کے دوران شرح پیدائش میں کمی ہوئی ہے۔ اگر واقعی کمی ہوئی ہے تو یہ بڑھی ہوئی آبادی کہاں سے آئی؟ گزشتہ برسوں کے دوران صوبہ خٰبر پختونخواہ میں بڑے پیمانے پر آبادی کا انخلاء ہوا۔ اعداد وشمار اس انخلاء کی عکاسی نہیں کرتے۔کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ شرح پیدائش اوسط سے زیادہ ہے یا اس صوبے میں آکر بسنے ولاوں کی تعداد زیادہ ہے؟ 



ماہرین کا کہنا ہے کہ آبادی کی منتقلی وسائل ، دولت اور بینادی سہولیات کے رخ میں ہوتی ہے۔ اگر پنجاب میں زیادہ ترقی اور وسائل ہیں تو اس کی آبادی میں اضافہ کیوں نہیں ہوا۔ اعداد شمار کے مطابق ملک میں شہری آبادی میں اضافہ ہوا، لیکن یہ اضافہ پنجاب میں ہونے والی تمام ترقی کے باوجود اس صوبے میں شہری آبادی کے اجافے کو اس حد تک ظاہر نہیں کرتا۔ اس کے مقابلے میں سندھ ملک کا سب سے زیادہ شہری آبادی کا صوبہ قرار پایا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس صوبے میں شہروں میں بنیادی سہولیات کی صورتحال خطرناک حد تک خراب ہے۔ اس مرتبہ شہری علاقوں کی تعریف بھی تبدیل ہو گئی ہے۔ پہلے میونسپل شہروں کو شہری علاقوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ اب اس میں ٹاؤن کمیٹیوں کو بھی شامل کرلیا گیا ہے۔ جبکہ ان علاقوں میں املاک پر ٹیکس کو حساب میں نہیں لیا گیا ہے۔ کراچی کی آبادی میں 16.5 ملین کا اضافہ بتایا گیا ہے جو کہ ناقابل یقین لگتا ہے۔ کراچی میں کیا شرح پیدائش میں اتنی زیادہ کمی ہوئی ہے یا پھر یہاں آکر بسنے والوں کی تعداد میں بہت ہی زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔ 



مردم شماری پر سوائے خیبر پختونخوا کے باقی سب کو اعتراض ہے۔ پنجاب میں سرائیکی بیلٹ کو اعتراض ہے۔ ان کہنا ہے کہ مردم شماری سیاسی ہے، لاہور 

مردم شماری کے ان اعداد وشمار پر نہ صرف حکومت سندھ کو اعتراض ہے بلکہ سندھ کی تقریبا تمام سیاسی جماعتوں کو بشمول قوم پرست جماعتوں اور ایم کیو ایم اعتراض ہے۔ سندھ حکومت کا دعوا ہے کہ تقریبا ایک کروڑ کم آبادی ظاہر کی گئی ہے۔ اس ضمن میں سندھ اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ محکمہ شماریات پاکستان کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کو خط لکھ کر مردم شماری کے ابتدائی نتائج سے آگاہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان نتائج کو مشترکہ مفادات کی کونسل میں پیش کرنے کے بعد ان نتائج کا اعلان کیا گیا ہے۔ 


سندھ حکومت نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان تحفظات کا اظہار سندھ نے مردم شماری کا عمل شروع ہونے سے پہلے بھی کیا تھا اور جب یہ عمل جاری تھا اس وقت بھی کیا تھا۔ سندھ حکومت کا مطالبہ تھا کہ مردم شماری کے پر کئے گئے ایک فارم کی کاپی صوبائی حکومت کو بھی فراہم کی جائے۔ سندھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ مردم شماری وفاقی نہیں صوبائی سبجیکٹ ہے۔

قوم پرستوں کا خیال ہے کہ سندھ میں ملک کے بالائی علاقوں خواہ دیگر ممالک سے نقل مکانی کر کے آنے والوں کی درست شماری نہیں ہوئی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اس نقل مکانی کر کے آنے والوں کا صوبے کے وسائل اور انفرااسٹرکچر پر دباؤ پڑتا ہے۔ جس کی وجہ سے صوبے کے باسیوں کو مطلوبہ سہولیات نہیں مل پاتی ہیں۔ قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو نے دعوا کیا ہے کہ سندھ کی آبادی 70 ملین ہے نہ کہ 47.89 ملین۔ ان کا کہنا ہے کہ سندھ اسمبلی ان نتائج کو مسترد کرنے کے لئے قرارداد منظور کرے اور معاملے کو مشترکہ مفادات کے اجلاس میں اٹھائے۔ وہ کہتے ہیں کہ خود بنگالی آبادی آبادی بڑھ کر تین ملین ہو گئی ہے۔ سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے سربراہ سید جلال محمود شاہ نے ان اعدادوشمار کو مسترد کیا ہے تاہم اس بات سے اتفاق کیا کہ سندھ ملک کا سب سے زیادہ شہری صوبہ ہے۔
پاکستان کے دوسرے علاقوں سے سندھ میں آکر بسنے ولاوں اور خود سندھ کے باسیوں کی صحیح شمار نہیں کیا گیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ کراچی، حیدرآباد اور جامشورو وغیرہ میں افغان پناہ گزینوں کی آبادی بڑے پیمانے پر موجود ہے۔ سندھ کی قوم پرست رائے عامہ کا کہنا ہے کہ اس امر پرسندھ میں مختلف الخیال جماعتیں متفق ہیں کہ صوبے میں بڑے پیمانے پر باہر سے لوگ آکر آباد ہوئے ہیں۔ لیکن اس امر کا تعین کیا جانا انتہپائی ضروری ہے کہ سندھ کا اصل اور مستقل رہائشی کون ہے؟ اور ان کی آبادی کیا ہے؟ سندھ کے اہل فکر حلقوں کے مطابق حکومت سندھ میں آباد تارکین وطن اور دوسرے صوبوں سے آکر یہاں کام کے لئے آنے والوں کا شمار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان کو الگ سے شمار نہیں کیا گیا۔ یہ بھی کہ اگر سندھ واقعی ملک میں سب سے زیادہ شہری آبادی رکھتا ہے تو اتنی کم آبادی کیوں؟ سندھ میں بلوچستان، خیبرپختونخواکے لوگ بڑے پیمانے پر آکر بس رہے ہیں۔ اگر سندھ میں اوسط شرح آبادی میں 2.41 کا اضافہ ما ن لیا جائے تو باہر سے آنے والوں کا حساب نہیں بنتا۔ 




بلوچستان مردم شماری سے پہلے خدشہ ظاہر کر چکا تھا کہ دانستہ طور پر افغان پناہ گزینوں کو اس صوبے کی مردم شماری کے دوران شمار کیا جائے گا۔ بعد کے نتائج سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایسا ہی کیا گیا ہے۔ میں بسنے والے افغانیوں کو بھی شمار کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ خیبرپختونخوا جہاں کے لوگ دوسی جگہوں پر زیادہ نقل مکانی کرتے ہیں وہاں پر اضافے کی شرح 2,89 ہے جو سب سے زیادہ ہے۔ شروع سے ہی خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ مقامی آبادی کو صحیح طور پر شمار نہیں کیا جائے گا۔ 



شہری علاقوں کی طرف منتقلی بہت ہی اہم ہے۔ اس کا آنے والے وقتوں میں رائے عامہ اور سیاست پر اثر ظاہر ہوگا۔ سوشل سسٹم اور سیاسی سسٹم کی طرف جائیں گے، سیاسی جماعتیں مضبوط ہونگی۔ 



مردم شماری کرانا جتنا اہم ہے اس کو شفاف رکھنا، اور اتنا مصدقہ رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے تاکہ اس کے نتائج لوگ آسانی سے سمجھ سکیں۔ ایسا کرنے سے کوئی نئی سیاسی بحث نہیں کھلتی۔ مردم شماری کا عمل شروع کرنے سے پہلے لوگوں کو educate کرنے اور آگاہی دینے کی ضرورت تھی۔ سماج کے مخلتف پرتوں، مختلف شناخت رکھے والے علاقوں کے لوگوں کو اعتماد میں لینے کی ضرورت تھی۔ اس پورے عمل میں ان لوگوں کی شرکت اور مشاورت رکھی جاتی تو آج جو اعتراضات اٹھائے جارہے ہیں، جن تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے وہ نہیں ہوتا۔ مردم شماری کے متنازع ہو جانے کی وجہ سے ایک اور سیاسی بے چینی اور کشمکش شروع ہو جائے گی۔ 

Reservations and Rejection of Census results in pakistan, By Sohail Sangi, 
Daily Nai baat column August 29, 2017

Monday, August 28, 2017

ٹرمپ کی نئی حکمت عملی

میرے دل میرے مسافر۔ ۔ سہیل سانگی

ٹرمپ کی نئی حکمت عملی خطے میں سخت گیر ماحول پیدا کرے گی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا سے متعلق نئی حکمت عملی پر خطے میں تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔اس پالیسی پر عمل پیرا ہونے سے خطے کے لوگوں میں بے چینی میں اضافہ ہوگا اور رائے عامہ امریکہ کے خلاف بنے گی۔ امریکی صدر نے فوجی ہیڈ کوارٹر سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان میں مزید فوجیں بھیجنے، پاکستان پر دہشتگردوں کی پشت پناہی کرنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے افغنستان میں بھارت کے کردار میں اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پہلی نظر میں ٹرمپ کی اس حکمت عملی میں کوئی ایسی چیز نظر نہیں آرہی جو سولہ سال سے افغانستان میں جاری جنگ کا خاتمہ کر سکے ۔ اس کے برعکس اس سخت گیر حکمت عملی سے خطے میں کشیدگی اور خونریزی میں مزید اضافہ ہوگا۔

80 کے عشرے سے افغانستان میں کی گئی مداخلت کی وجہ سے، جس میں پاکستان کو بھی ملوث کیا گیا تھا، خطے میں سیاسی، معاشی، سماجی اور ثقافتی توڑ پھوڑ، بگاڑ شروع ہوا تھا وہ ابھی تک جاری ہے۔ اس کے خطے کے لوگوں کی زندگی، خوشحالی، سیاسی و معاشی حقوق پر منفی اثرات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔ پہلے افغانستان میں پراکسی لڑائی لڑی جارہی تھی لیکن نائین الیون کے بعد امریکہ بہادر بقلم خود براہ راست میدان میں کود پڑا اور اس نے اپنی اور ناٹو کے اتحادی ممالک کی فوجیں اتاردیں۔ امریکہ کے مختلف اقدامات کے باوجود قیام امن دور کی بات لگتی ہے۔ ہر چھ آٹھ ماہ کے بعد دہشتگردی کا آتش فشاں آگ اکنے لگتا ہے۔

امریکی حکمت عملی کی وجہ سے علاقے میں مستقل امن کے بجائے عدم استحکام اور پرتشدد واقعات اور دہتگردی میں اضافہ ہوا ہے۔ ان تمام تجربات کے باوجود ایک مرتبہ پھر امریکی صدر نے افغان مسئلہ کا فوجی حل ڈھونڈ نکالا ہے۔ یہ ایک ایسا حل ہے جو غیر معینہ مدت تک امریکہ کو صرف افگانستان میں ہی نہیں بلکہ اس خطے میں پھنسائے رکھے گا۔ امریکہ جہاں کہیں بھ اپنی فوجی موجودگی رکھتا ہے وہاں کے اردگرد کے ممالک پر بھی اس کے منفی اثرات پڑت ہیں۔ یعنی علاقے میں عسکری حلقوں کی ضرورت اور بالادستی ہو جاتی ہے۔

نئی حکمت عملی کے تحت کتنے امریکی فوجی افغانستان بھیجے جائیں گے؟ یہ فوجی تنا عرصہ یہاں تعینات ہونگے؟ ٹرمپ نے اپنی تقریر اور پالیسی میں کوئی اظہار نہیں کیا۔ یعنی اس کی تعدا کتنی بھی ہو سکتی ہے اور ان کی تعینات کی مدت کوئی بھی ہوسکتی ہے، جو کہ غیر معینہ ہے۔ دراصل ٹرمپ نے افغان سوال کو وسطی ایشیا کے باجئے اس کو جنوبی ایشیا سے نتھی کردیا ہے۔ اور پورے خطے میں جنگ کے فیل کو مست کردیا ہے۔ لہٰذا تجزی نگاروں کے مطابق امریکہ نے مشرق وسطیٰ کے ساتھ ساتھ جنوبی و وسطی ایشیا میں جنگ کا نیا محاذ کھول دیا ہے۔

تعجب کی بات ہے کہ ٹرمپ نے اپنی صدارتی انتخابی مہم کے دوران افغان جنگ کو وقت کا ضیاع قرا دیا تھا۔ لیکن اب 360 درجہ کا الٹا چکر لگا کر اس حکمت عملی کا اعلان کر کے مزید امریکی فوجی بھیجنے اور افغان جنگ کو طول دینے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے اس اعلان پر ان کے ووٹرز اور امریکی عوام کیا رد عمل دکھائیں گے؟ اس ردعمل کے کیا کیا مظاہر سامنے آئیں گے؟ یہ وقت کے ساتھ پتہ چلے گا۔ امریکہ جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے اس کے صدر کا اعلان ایک حد تک انتخابی پروگرام سے مختلف کھڑا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ دنیا بھر میں جمہوریتوں یا دور دراز کے 
ممالک میں جمہویرت لانے یا اس کا دفاع کرنے کا امریکہ نے ٹھیکہ نہیں لیا ہے۔ 

آج کی تبدیل شدہ دنیا میں بھی امریکہ مشرق وسطیٰ اور افغنستان میں فوجیں بھیج سکتا ہے اور دنیا بھر کو ٹھیک کرنے کا نعرہ بھی لگاتا ہے لیکن دنیا میں جمہوری عمل کے حوالے سے خود کو دور رکھنا چاہتا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی لیا جائے گا کہ دنیا بھر میں کاص طور پر ایسے ممالک جہاں ابھی جمہویرت نوزائیدہ ہے اور پروان چڑھ رہی ہے ، غیر جمہوری اور غیر سیاسی حلقوں کو کھلی چھوٹ دے رہا ہے ۔ حالانکہ یہ چھوٹ پہلے بھی حاصل رہی ہے لیکن اب تو اس کا باضابطہ اعلان کردیا گیا ہے۔

ٹرمپ نے افغان مسئلے فوجی حل کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب اس ملک کے چالیس فیصد علاقے پر طالبان کا قبضہ ہے۔ یعنی افغان حکومت کا کنٹرول صرف 60 فیصد علاقے پر ہے۔ جبکہ افغانستان میں اندرونی بے چینی معالہ کا ایک اور اہم پہلو ہے۔ امریکہ کے سمانے جو چیلینجز ہیں ان میں افغان حکومت اور امیرکہ کے ساتھ طالبان کا جھگڑا، کمزور اور کرپٹ حکومت ہے۔ خطے میں روس، چین اور ایران بھی اپنا اپنا اثر رکھتی ہیں۔ جو اپنا اثر دکھاتی بھی رہی ہیں۔ ان کو نظرانداز کر کے اس مسئلہ کا کوئی پستقل حل نہیں نکالا جاسکتا۔ 

اس پس منظر میں جب افغان مسئلے کو دیکھا جائے تو امریکی کوششیں غیر سنجیدہ لگتی ہیں۔ مزید امریکی فوجیں افغانستان بھیجنے یا سخت گیر حکمت عملی کسی طور پر بھی جنگ کا توازن تبدیل نہیں کر سکتی۔ بلکہ اس سے لڑائی مزید تیز ہو جائے گی۔ اور طالبان، داعش اور دیگر شدت پسند گروپوں کے درمیان رابطے مضبوط ہو جائیں گے۔ نیتجے میں افغناستان اور خطے کے دوسرے ممالک کے لئے خطرات بڑھ جائیں گے۔ حیران کن امر ہے کہ صورتحال کی اس ھساسیت کے باوجود مسئلہ کا سیاسی اور سفارتی ھل نہیں تلاش کیا جارہا ہے۔ اور فوجی حل ہی تلاش کر لیا گیا ہے ، جس کا تجربہ ٹرمپ سے پہلے کم از کم دو امریکی صدور کر چکے ہیں۔

ٹرمپ کی افغان حکمت عملی خطے میں سخت گیر ماحول پیدا کرے گی جس سے پراکسی جنگوں میں اضافہ ہو گا۔ اس حکمت عملی میں بعض بنیادی نقائص ہیں۔ ہیں۔ کتنے امریکی فوجی کتنے عرصے تک رہیں گے؟ امریکہ درحقیقت کتنی فوجی مداخلت کرے گا؟ کوئی فوجوں کی واپسی کا ٹائیم ٹیبل نہیں۔ اور ٹھوس طور پر یہ واضھ نہیں کہ امریکہ کونسے مقصاد اس فوجی حل کے ذریعے حاصل کرنا چاہتا ہے؟ اس کے خطے میں کیا کیا اثرات ہونگے اور ان سے نمٹنے کے لئے کیا کیا اقدامات کئے جائیں ؟ افغناستان جو ایک بار پھر شدید تصادم اور کشیدگی کی لپیٹ میں آئے گا اس کی بحالی اور معاشی تعمیر کے لئے کوئی پلان نہیں۔ بلکہ اس مرتبہ ٹرمپ معاشی تعمیر سے العانیہ دستبردار ہو گئے ہیں۔

امریکی صدر کی اس حکمت عملی کے پاکستان پر براہ راست اور منفی اثرات مرتب ہونگے۔ اگرچہ ٹرمپ کی تقریر سے پہلے امریکی سیکریٹری برائے خارجہ امور نے پاکسناتی کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے فون پر ابت چیت کی تھی اور بدھ کے روز امریکی سفیر نے آرمی ثیف جنرل باجوہ سے ملاقات کی تھی۔ لیکن امریکی حکمت عملی میں بعض اعلانات بہت ہی واضح ہیں۔ وہ افغانستان میں بھارت کا کردار بڑھانا چاہتا ہے۔ پاکستان کے اندر دہشتگردوں کے نیٹ ورک کا بلا امتیاز مکمل خاتمہ چاہتا ہے اور اس امر کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ پاکلستان کسی بھی شدت پسند گروپ کی پشت پناہی نہیں کرتا۔ 

افغانستان میں انڈیا کے کردار کو بڑھانے کا مطلب پاکستان کے رول کو کم کرنا ہے۔ لہٰذا دو پڑوسی ممالک جو پہلے ہی ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہیں اور کئی غلط فہمیوں اور قدامات کی وجہ سے دوستی نہیں کر پا رہے ہیں۔ ان کے درمیان خلیج کی ایک اور وجہ پیدا ہو جائے گی۔ پاکستان اس صورتحال میں کثیر رخوں سے دباؤ میں آ جائے گا۔ پاکستان کے لئے مشکل ہوگا کہ وہ امریکی صدر کی ’’ڈو مور‘‘ فرمائش کو جھٹلا سکے۔ اس کے پاس بہرحال بڑی حد تک امریکی اطمینان تک جانے کے بغیر کوئی آپشن نہیں۔ پاکستان کو تبدیل شدہ حالات میں اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ 

پاکستان کو ایک نقصان یہ بھی ہے کہ وہ گزشتہ سات ماہ کے دوران ٹرمپ انتظامیہ کو اپنی بات سمجھانا تو دور کی بات، اس کو سنا بھی نہ سکا ہے۔ لہٰذا پاکستان کے لئے پیچیدگیوں اور مشکلاتوں میں مزید اضافہ ہو گا۔ مجموعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ ٹرمپ کی اس پالیسی سے خطے میں نہ ختم ہونے والی ایک نئی جنگ کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔

August 25, 2017
Nai Baat, Trump's South Asia Strategy, Sohail Sangi, Taliban,

Friday, August 25, 2017

سندھ کی قوم پرست سیاست میں تبدیلی کے امکان


میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی




سندھ کی قوم پرست سیاست میں تبدیلی کے امکان 

ملک میں اجاری حالیہ بحران اور انتخابات کے قریب آنے کے ساتھ سندھ میں

 سیاسی سرگرمیاں شروع ہو گئی ہیں۔ ان سرگرمیوں میں اضافہ صوبے میں سیاسی کارکنوں کیپراسرار گمشدگیوں اور گرفتاریوں نے بھی صوبے کی قوم پرست گرپوں کو سرگرم میں دھکیل دیا۔ یہ پراسرار گمشدگیاں ریاستی اداروں کی جانب سے گرفتاریاں قرار دی جارہی ہیں۔ لیکن ان کی گرفتای سرکری طور رپ طاہر نہیں کی جارہی۔ اس سے پہلے جو سرگرمیاں تھی، وہ یا تو شہری علاقوں یعنی کراچی یا حیدرآباد تک محدود تھی، ایم کیو ایم کے مختلف دھڑے اپنی جگہ بنانے کے لئے کوشاں تھے۔ 
پیپلزپارٹی نے تنظیم سازی کے لئے کچھ سرگرمی کی۔ لیکن باقی سیاسی گروپ اور پارٹیاں سرگرمی نہیں دکھا رہی تھی۔ گزشتہ دنون مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری شجاعت حسین جو ماضی میں وفاقی کابینہ میں رہتے ہوئے کبھی بھی سندھ نہیں آئے تھے، وہ کراچی پہنچے۔ انہوں نے پیر پاگارا اور سید غوث علی شاہ سے ملاقاتیں کیں۔ 

سندھ یونائٹیڈ پارٹی نے اتوار کے روز کراچی میں ایک بڑی ریلی نکال کر سیاسی شو کا مظاہرہ کیا۔ یہ شو اس وجہ سے بھی کرنا پڑا کہ پراسرار گرفتار شگان رہائی کے بعد اس پارٹی میں شمولیت اختیار کر رہے تھے۔ اور یہ بات پھیلائی جارہی تھی کہ قوم پرست سیاست کرنے والوں کو ترغیب دی جارہی تھی کہ وہ سندھ یونائٹیڈ پارٹی میں شامل ہوں۔ اس پر مختلف حلقوں میں سولات اٹھائے جارہے تھے کہ بعض ریاستی ادارے یونائٹیڈ پارٹی کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں اور اس پارٹی کو آنے والے وقت میں کوئی کردار دینا چاہتے ہیں۔

 
سندھ یونائٹیڈ پارٹی سندھ کی قوم پرست پارٹی ہے جو سندھ کے حقوق پارلیمانی سیاست کے ذریعے حاصل رکنا چاہتیہ ہے۔ 


پارٹی کے سربراہ جیئے سندھ تحریک کے بانی جی ایم سید کے پوتے سید جالال محمود شاہی ہیں جو نوے کے عشرے میں ایم کیو ایم کے ساتھ ایک بندوبست کے ذریعے سندھ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر رہ چکے ہیں۔ اپنے منشور میں سندھ یونائٹیڈ پارتی سندھیوں کو ایک قوم سمجھتی ہے۔ ا سکے مطابق کنفیڈریشن ہو یا ایک ہی ریاست لیکن پاکستان کے چاروں صوبوں کو خود مختاری ہونی چاہئے۔ 
سندھ یونائیٹیڈ پارٹی کا قیام 9 دسمبر 2006 میں لایا گیا۔ پارٹی کا خیال ہے کہ پاکستان میں صوبوں کو اختیارات گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے تحت حاصل ہیں جو کہ ایک نوآبادیاتی نظام تھا۔ جب کہ پاکستان 1940 کی قرارداد کے تحت بنا ہے لہٰذا صوبوں کو اس کے مطابق اختیارات ملنے چاہئیں۔ 


سندھ یونائٹیڈ پارٹی یہ بھی سمجھتی ہے کہ پنجاب کی بالادستی کی وجہ سے ملک کا سیاسی اور معاشی نقصان ہوتا رہا ہے اور اس کی وجہ سے بحران بھی رہے ہیں۔ 
پارٹی سندھ کی آزادی یا علحدگی نہیں چاہتی۔ اس کا خیال ہے کہ ملک کی مختلف نسلیتی اور لسانی گرہوں کو سیاسی اور ثقافتی حقوق دینے سے ملک میں علحدگی کی تحریکیں کمزور ہونگی۔

 
جلال محمود شاہ کہتے ہیں کہ جو لوگ جو سندھ کے آئینی حقوق میں یقین رکھتے ہیں انہیں اس پارٹی کا خیر مقدم کرنا چاہئے کیونکہ یہ پارٹی ملکی سطح کی سیاست کرنا چاہتی ہے۔ 


جلال محمود شاہ اپنی الگ پارٹی کے قیام سے پہلے انفرادی طور صوبے کے اندر قائم ہونے والے مختلد اتحادوں کا حصہ رہے ۔ انہوں نے لیاقت جتوئی، ارباب غلام رحیم، امتیاز شیخ اور دیگر شخصیات کے ساتھ اتحاد کیا۔ اس کے بعد لیاقت جتوئی اور ارباب غلام رحیم وزیراعلیٰ بنے لیکن جلال محمود شاہ صوبائی اسمبلی تک بھی نہیں پہنچ سکے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جلال محمود شاہ کو اس لئے صوبائی اسمبلی کی نشست نہیں دی گئی، کہ وہ وزیراعلیٰ کے مضبوط امیدوار ہو سکتے تھے۔ لہٰذا انہوں نے سندھ ڈیموکریٹک الائنس کے تجربے کے بعد اپنی الگ پارٹی بنای اور انہوں ے اپنے ماضی کے حلیفوں پر تنقید بھی کی۔ 


جولائی 2012 میں جلال محمود شاہ نے اور نواز لیگ کے ساتھ اتحاد کیا۔ دونوں پارٹیوں کے درمیان ایکٹھ نکاتی معاہدہ پر بھی دستخط ہوئے۔ اس معاہدے کو بعض تجزیہ نگاروں نے سندھ پنجاب کے درمیان معاہدہ قرار دیا تھا۔ اس سے قبل پیپلزپارٹی کو ’’سندھ پنجاب معاہدہ‘‘ سمجھا جاتا رہا ہے۔ لیکن یہ معاہدہ دیرپا ثابت نہیں ہوا۔ نہ بعد میں نواز شریف نے کوئی فالو اپ کیا اور نہ ہی جلال محمود شاہ نے ۔ اس معاہدے کو بظاہر پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے خلاف انتخابی معاہدہ قرار دیا جارہا تھا۔ اسکے نیتجے میں سندھ کی قوم پرست جماعتیں تقسیم ہو گئیں۔ اور 2010 میں تین قوم پرست جماعتوں عوامی تحریک، سندھ ترقی پسند پارٹی اور سندھ یونائٹیڈ پارٹی نے سندھ پرگریسو لائنس کے نام سے جو اتحاد بنایا تھا وہ توٹ گیا۔ اس عرصے میں قومی عوامی تحریک نے لیاری کی امن کمیٹی کے ساتھ اتحاد کیا اور ڈاکٹر قادر مگسی نے عمران سے رابطہ کیا۔

 
قوم پرستوں کی پنجاب بیسڈ پارٹیوں کی طرف قدم بڑھانے کو سیاسی تجزیہ نگار اس امر سے تعبیر کر رہے تھے کہ پیپلزپارٹی نے قوم پرستوں کو اپنی صفوں میں جگہ دینے سے انکار کردیا تھا۔ 


آگے چل کر نواز لیگ نے سندھ میں پیپلزپارٹی کے خلاف پیر پاگارا سید صبغت اللہ شاہ کی قیادت میں پیپلزپارٹی کے خلاف محاذ کھڑا کیا۔ جس کیو جہ سے جلال محمود شاہ اور ان کے ’’سندھ پنجاب معاہدہ ‘‘ کی اہمیت ختم ہو گئی۔ دس جماعتی اتحاد وجود میں آیا، اس اتحاد میں نواز لیگ، جے یو آئی (ٖف)، سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے ساتھ ساتھ سب گروپ اور جماعتیں شامل تھیں ۔ سندھ جیئے سندھ کے تین گروپوں یعنی جیئے سندھ بشیر خان گروپ، جیئے سندھ آریسر گروپ اور جیئے سندھ خالق جونیجو گروپ شامل نہیں ہوئے کیونکہ یہ تینوں جماعتیں پارلیمانی سیاست پر یقین نہیں رکھتی تھیں۔ لیکن 2013 کے انتخابات میں یہ دس جماعتیں اتحاد متفقہ طور پر مشترکہ ا میدوار نہیں کھڑے کر سکے۔ لہٰذا پیپلزپارٹی کے خلاف سیاسی مخالفت کا تو ماحول بنا لیکن کوئی تنظیم یا شخصیت اس پوزیشن میں نہیں تھی کہ پیپلزپارٹی مخالف ان امنگوں کو ٹھوس شکل دے کر ووٹ میں تبدیل نہیں کرسکے۔ 

یہ کثیر رنگی اتحاد تھا۔ جس میں قوم پرست جماعتوں کے ساتھ ساتھ نواز لیگ، فنکشنل لیگ، اور جے یو آئی فضلا الرحمان گروپ سے لیکر جماعت اسلامی، سنی تحریک، جمیعت علمائے پاکستان اور جتوئی کی نیشنل پیپلزپارٹی بھی شامل تھیں۔ 

جلال محمود شاہ کا حلقہ انتخاب وہی ہے جو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا رہا ہے۔ اس کے علاوہ کوٹری اور جامشورو کا کچھ علاقہ قومی اسمبلی کی نشست کے لئے ان کا حلقہ بنتا ہے جہاں ملک اسد سکندر کا اثر رسوخ ہے۔ ملک اس سکندر اور جلال محمود شاہ خاندانی طور ایک دوسرے کے سیاسی حریف ہیں۔ کوٹری اور جامشورو کے حلقے سے شاہ صاحب کے داد اور جیئے سندھ تحریک کے بانی جی ایم سید کو ملک اس کے والد ملک سکندر نے شکست دی تھی۔ لہٰذا اس حلقہ سے انتخابات جیتا ناممکن لگتا ہے۔ 


ایس یو پی نے 2015 میں کرپشن کے خلاف اور اچھی حکمرانی کے لئے احتجاجی مہم چلائی تھی۔ لیکن یہ مہم زیادہ پزیرائی حاصل نہ کرسکی۔ اب ایک بار پھر جلال محمود شاہ نے بڑا سیاسی شو کیا ہے۔ اس سے سندھ کی قوم پرست حلقوں کو پیغام دیا ہے کہ اگر وہ سب متحد ہوں تو سندھ کی حقوق کی جدوجہد پارلیمانی سیاست کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔ 

جلال محمود شاہ کی سیاست کا ایک مثبت
 پہلو یہ بھی سمجھا جارہا ہے مسلح یا انتہا پسندی کی سیاست کے بجائے نوجوانوں کو عملی اور پارلیمانی سیاست میں شریک کیا جاسکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتخابات میں اور اس سے پہلے سندھ کے لوگ اس سوچ کو کتنی پزیرائی دیتے ہیں؟ اور خود جلال محمود شاہ اپنی حکمت عملی اور رابظوں کے ذریعے کس حد تک عام لوگوں اور بااثر لوگوں کو اپنے ساتھ کھڑا کر سکتے ہیں؟

Sindhi Nationalism, Jalal Mehmood Shah, SUP, Sindh United Party, PPP,  G.M Syed, Nawaz Sharifr, PMLN, Qadir Magsi, Palijo, PML-F, Pir Pagara,  Liaquat Jatoi, Imtiaz Shaikh, Arbab Ghulam Rahim, SPNA, 
Sohail Sangi Column 
Daily Nai Baat, August 22, 2017 

Monday, August 21, 2017

سویلین بالادستی کے لئے مذاکرات مگر کس سے؟

میرے دل میرے  مسافر     سہیل سانگی 


وزیر اعظم نواز شریف کی عدلیہ کے ہاتھوں عہدے سے برطرفی نے دو اہم سوال پیدا کردیئے ہیں۔ ایک سویلین بالادستی اور دوسرا اداروں کے درمیان کشیدگی۔ حالیہ موجودہ بحران کے پس منظر میں یہ سوالات ہیں یا انہی کے گرد گرد گھومتا ہے یہ دونوں سوالات ماضی میں بھی جمہوری عمل اور سیاسی نظام کے لئے خطرہ رہے ہیں۔ ان بنیادی سوالات سے کیسے نمٹا جائے؟ اس کے لئے وزیراعظم نواز شریف نے آئینی ترامیم یا نئے آئین کی تجویز دی ہے۔ 

نواز شریف نے لاہور میں کہا کہ موجودہ ڈرامہ جاری رہا، ملک کو ایک بار پھر مشرقی پاکستان جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بیلٹ کا احترام نہیں کیا گیا۔ میاں صاحب آئین میں خاص طور پر عدالیہ اور آئین کی شق 26 اور 63 میں ترمیم چاہتے ہیں۔ انہوں نے بعد میں یہ بھی کہا کہ اگر ان کی جماعت 2018 کے انتخابات جیتنے کے بعد یہ ترامیم لے آئے گی۔ جبکہ سنیٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی نے تجویز دی ہے کہ تین اہم ریاستی ادارے پارلیمنٹ، فوج اور عدلیہ مل بیٹھ کر بات چیت کریں اور حل نکالیں کہ ہر ادارہ اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کرے۔ ہر ادارے کا اپنے قانونی دائرہ کار میں رہنا از حد ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج کو وزیراعظم کے معرفت دعوت دی جائیگی کیونکہ فوج وزیراعظم کے ماتحت ہے اور عدلیہ کو چیف جسٹس آف پاکستان کے ذریعے۔ 
سابق ویراعظم کی تجویز کو سیاسی حمایت حاصل نہیں ہو سکی۔ تاہم رضا ربانی کی پیشکش کو مختلف حلقوں نے سراہا اور اس تجویز کو مزید ٹھوس شکل دینے کے لئے کہا۔ تمام سیاسی جماعتوں کے سنیٹرز نے گزشتہ ہفتے سنیٹ کے چیئر مین رضا ربانی کی اس تجویز پر اتفاق کر لیا تھا کہ پارلیمنٹ، عدلیہ اور عسکری اسٹبلشمنٹ کے درمیان بات چیت کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ نواز شریف نے رضا ربانی کی تجویز کا خیرمقدم کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کی جماعت اس تجویز کو عمل میں لانے کے لئے سب سے آگے ہوگی۔


اپوزیشن کی تین جماعتیں یعنی پیپلزپارٹی، تحریک انصاف اور ایم کیو ایم مذاکرات کی ضرورت پر متفق ہیں۔ تاہم تینوں جماعتوں کا خیال ہے کہ وہ واضح طور پر اپنا موقف تب بیان کر سکیں گی جب اس مقصد کے لئے مکینزم سامنے آئے گا۔

نواز لیگ نے آئینی اصلاحات کی بات کی ہے اور احتساب کا فورم یا حق پارلیمنٹ ک دے رہے ہیں۔ تحریک انصاف کو عوام کی حمایت حاصل ہے جو کہ ملک کے ڈھانچے میں اصلاحات چاہتے ہیں۔ لیکن دونوں کے درمیان الفاظ کی جنگ جاری ہے۔ دونوں کو سمجھنا چاہئے کہ اگر سیاست رہتی تبھی دونوں کی اہمیت ہے۔ ان ان کے آپس کے اس ٹکراؤ کی وجہ سے سیاست ہی نہیں رہتی اور غیر جمہوری قوتیں سامنے آجاتی ہیں تو کیا ہوگا۔

پاناما مقدمے کے فیصلے کے بعد نواز لیگ کے رہنما یہ کہتے سنائی دیئے ہیں کہ اب متعلقہ فریقین کے درمیان آخری مذاکرات کا وقت آگیا ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی کئی بار یہ بات کہی ہے کہ ملٹری سویلین عدم توازن کو ختم کرنے کے لئے سیاسی قیادت کو بیٹھ کر بات کرنی چاہئے۔ کیونکہ کسی ایک وزیراعظم نے کبھی بھی آئینی مدت پوری نہیں کی۔ نواز شریف کا کہنا ہے کہ ملک کے نظام کو وائرس لگ گیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ میثاق جمہوریت پر قائم رہنے کی بات کی اور کہا کہ اس کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ پیپلز پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ میاں نواز شریف کی ان تجاویز سے متفق نہیں۔ تحریک انصاف کے وائیس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی تجویز کو پارٹی سنجیدگی سے نہیں لے رہی کیونکہ وہ اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنا چاہتے ہیں۔ 

پہلے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اور اب خود آصف علی زرداری نے نواز شریف سے کوئی بات نہ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ پیپلزپارٹی کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتی جس سے نواز شریف کو فائدہ ملے۔ سوال یہ ہے کہ کیا رضا ربانی کی پیشکش اس کی ذاتی یا بطور چیئرمین سنیٹ کے ہے یا انہوں نے پارٹی سے مشورہ کیا تھا؟ اس سے پہلے یہی لگ رہا تھا کہ ان کی یہ تجویز اصل میں پارٹی کی طرف سے ہے لیکن آصف علی زرداری کے حالیہ موقف سے لگتا ہے کہ پارٹی کا موقف الگ ہے یا پھر پارٹی نے اب اپنی حکمت عملی تبدیل کی ہے۔
رضا ربانی جلد ہی ایسی کمیٹی تشکیل دینے جارہے تھے۔ عام تاثر یہ ہے کہ رضا ربانی کی ساکھ اچھی ہے۔ سنیٹ کے چیئرمین اس ضمن میں دیگر پارٹیوں کے رہنماؤں کو اعتماد میں لیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کونسی مکینزم بنائی جائے گی؟ اور فوج اور عدلیہ کی نمائندگی کون کرے گا۔ 

سنیٹ نے جس طرح سے ریاستی اداروں کے درمیان تصادم کو روکنے کے لئے ان اداروں کی آپس میں بات چیت کی تجویز پیش کی ہے اس کی کوئی پہلے مثال نہیں ملتی۔ یعنی پارلیمنٹ آرمی اور عدلیہ کو دعوت دے رہی ہے کہ وہ ان کو سننا چاہتی ہے۔ وہ ان تمام اداروں کے سربراہوں کو سنیٹ میں دعوت دے کر سننا چاہتے ہیں۔ رضا ربانی کی تجویز پر شک نہیں کیا جاسکتا لیکن بحران کو حل کرنے کے لئے 
یہ فارمولا بہت ہی سادہ لگتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ بات چیت کشیدگی کے اصل محرکات کو حل کر پائیں گے؟ اداروں کے درمیان کشیدگی ایک علامت یا اظہار ہے ہے بذات خود مرض نہیں۔ تمام زور متنازع آئینی شق کے تحت وزیراعظم کی نااہلی کا ہے۔ سیاسی نظام اور جمہوری عمل کے حقیقی سوال کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ کیا یوں سویلین بالادست بحال ہو جائے گی؟ پارلیمنٹ کو ان متنازع شقوں پر بحث کرنی چاہئے اور اگر ممکن ہو تو ان کو ختم کرنا چاہئے۔ لیکن یہ کام کسی فرد واحد کو بچانے کے لئے نہیں ہونا چاہئے۔ یہ کسی وزیر عظم کے خلاف فیصلہ نہیں بلکہ جمہوری عمل کو خطرہ پیدا کر رہا ہے۔ اس ضمن میں چیف جسٹس آف پاکستان پارلیمنٹ کو کیا یہ یقین دہانی کرائیں کے کہ منتخب سیاسی رہنما چاہے کوئی جرم کریں قانون کی گرفت سے بالا تر ہونگے؟

آئین میں ترمیم کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے نہ کہ عدلیہ کا۔ عدلیہ ریاست کی ایک الگ شاخ ہے۔تمام اداروں کو اپنے اپنے دائرے میں کام کرنا چاہئے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے صحیح طور پر کام نہ کرنے اور فیصلہ سازی نہ کرنے کی وجہ سے اختیارات کے عدم توازن کابحران گہراہوا ہے۔ خود پارلیمنٹ میں معاملات طے کرنے کے بجائے سیاستدان عدلیہ سے رجوع کرتے رہے ہیں۔ پاناما گیٹ اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ جب عسکری قیادت کہتی ہے کہ وہ آئین پر عمل پیرا رہے گی، اس کا عملی مطلب یہ نکل رہا ہے کہ آئین میں پارلیمنٹ کی مدت کا ذکر ہے نہ کہ وزیراعظم کی پانچ سالہ مدت۔

بلاشبہ سول ملٹری تعلقات جمہوری عمل میں رکاوٹ کی بہت بڑی وجہ سمجھی جارہ ہے۔ جمہوری نظام کے لئے سویلین بالادست اشد ضروری ہے۔ ملٹری کی طرف جھکا ہوا عدم توازن ملک میں عدم استحکام کی اہم وجہ ہے۔ لیکن یہ صورتحال بعض بنیادی نوعیت کے اصلاحات لانے کے بغیر تبدیل نہیں کی جاسکتی۔ یہ معاملہ آرمی چیف اور پارلیمنٹ کے درمیان بات چیت شروع کرنے سے حل نہیں ہو سکتا۔ کیا اس کا مطلب فوج کو سیاسی یا آئینی کردار دینا ہے؟ درحقیقت سیاسی نظام میں اصلاح کی ضرورت ہے اس کا حل اس طرح کے مذاکرات نہیں بلکہ ایک نئے سماجی معاہدے کی ضرورت ہے۔ جب ہم عوام کے مینڈیٰٹ کے احترام کی بات کرتے ہیں تو یہ احترام خود مینڈیٹ لینے والے منتخب نمائندوں کو بھی کرناچاہئے اور اپنا کردار موثر طور پر ادا کرنا چاہئے۔ پارلیمنٹ بطور موثر ادارے کے رکھنا منتخب نمائندوں سویلین کا کام ہے۔ جہاں جہاں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے وہاں خلاء پیدا ہوتا ہے اور یہیں سے بحران جنم لیتا ہے یا دوبارہ سر اٹھاتا ہے۔ 




August 17, 2017 Nai Baat 

Sohail Sangi Column 

پنجاب اپنا کردار ادا کرے

پنجاب اپنا کردار ادا کرے
میرے دل میرے مسافر    سہیل سانگی

 عدالتی فیصلے پر وزارت عظمیٰ سے ہٹائے جانے کے بعد سابق وزیراعظم نواز
 شریف نے بذریعہ جی ٹی روڈ س گھر کی طرف سفر شروع کردیا ہے۔ اقتدار سے ہٹنے کے بعدیہ سفر گھر واپسی کا ہی نہیں، ان کی سیاسی زندگی کا نیا سفر ہے، جو ان کی سیاسی بقا کا بھی تعین کرے گا۔ لاہور واپسی کے لئے وہ آرام سے بذریعہ ہوئی جہاز یا موٹر وے بھی آسکتے تھے۔ لیکن انہوں نے اس مقصد کے لئے جی ٹی روڈ چنا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے خلاف ایک فیصلہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ نے دیا، اب وہ سب سے بڑی عدالت عوام سے رجوع کر رہے ہیں۔ جمہوریت اور سیاست میں عوام کی عدالت ہی سب سے بڑی عدالت سمجھی جاتی ہے۔ جی ٹی روڈ پر آنے کی کئی تشریحات اور وجوہات بیان کی کی جارہی ہیں۔

یہ درست بھی ہے کہ اس قدم کے مختلف النوع اثرات بھی پڑیں گے۔ اس سے یہ طے ہو گیا کہ سابق وزیراعظم یاں نواز شریف اسٹبلشمنٹ کے محاذ آرائی کی پالیسی پر گامزن ہو گئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ چوہدری نثار علی خان، شہباز شریف اور پارٹی کے بعض دیگر رہنمااس پالیسی کے حق میں نہیں تھے۔ لیکن اقتدار سے ہٹنے کے ایک ہفتے کے اندر مختلف واقعات رونما ہوئے، جس کی وجہ سے نواز شریف کی محاذ آرائی کی حکمت عملی کو تقویت ھاصل ہوئی۔ شہباز شریف کو پنجاب باقی آئینی مدت تک ویزراعظم نامزد کرنے کیا گیا تو پنجاب پارٹی کی طاقت کے اصل سرچشمہ میں وزارت اعلیٰ کے امیدوار پر صوبے میں پارٹی عملی طور پر تین چارگروپوں میں بٹ گئی۔ ہر لابی اپنا امیدوار لے آنا چاہتی تھی۔ 
صرف اتنا ہی نہیں بلکہ خوف شریف فیملی میں بھی اختلافات مزید ابھر کر سامنے آئے۔ اس صورتحال سے اس خیال کو تقویت ملی کہ اگر نواز شریف سیاسی مظر سے ہٹ جاتے ہیں تو نواز لیگ کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ 

عمران خان نے اپنی تحریک کی بنیاد پنجاب میں ہی رکھی اور پنجاب کی سطح پر ہی وہ نواز حکومت کے خلاف لڑتے رہے۔ اس سے یہ تاثر بنا کہ پنجاب اپنی سیاسی قیادت میں تبدیلی چاہتا ہے۔ اور پنجاب نواز شریف اور ان کی پارٹی کے ساتھ نہیں۔ اس مقصد کے لئے عمران خان دو مرتبہ ملک کے اس بڑے صوبے میں طاقت کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔ نواز شریف کے خلاف تحریک میں سندھ، بلوچستان اور بڑی حد تک خیبر پختونخوا صوبے شامل نہیں رہے۔ اس لئے ان کی اس سیاست کو جی ٹی روڈ کی سیاست کا نام دیا گیا۔ ابھی نواز شریف نے جوابی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے اسی جی ٹی روڈ کا انتخاب کیا، جہاں پر تحریک انصاف ان کے خلاف تاثر دینے میں کامیاب ہوئی تھی۔ 

یہ صحیح ہے کہ نواز لیگ جس طرح کی پارٹی ہے اور جن طبقات کی اصل میں نمائندگی کرتی ہے، وہ روایتی طور پر سڑکوں کی سیاست نہیں کرتی۔ اس پارٹی کو جب جنرل مشرف نے 1999 میں ہٹایا تھا اور بعد میں قید کی سزا بھی دی اور جلاوطن کیا تب بھی پارٹی نے عوامی احتجاج نہیں کیا۔ حال ہی میں جب عدالتی حکم پر اس پارٹی کے وزیراعظم کو ہٹایا گیا تب بھی سڑ کوں احتجاج نہیں ہوئے۔ نواز لیگ کے حصے مین صرف ایک ہی احتجاج ہے وہ ہے مشرف کی جانب سے ہٹائے گئے ججز کی بحالی کے لئے لانگ مارچ۔ وکلاء اور سوسائٹی کے دیگر حصے ریٹائرڈ جسٹس چوہدری افتخار محمد اور دیگر ججز کی بحالی کے لئے متحرک تھے۔ 

نواز شریف نے اس تحریک کو نیا موڑ دینے کے لئے لاہور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کیا۔ لانگ مارچ ابھی راستے میں ہی تھا کہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل کیانی کی مداخلت پر پیپلزپارٹی کی حکومت نے ججز کی بحالی کا اعلان کر دیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ تقریبا ایک عشرہ پہلے نواز شریف نے عدلیہ کی بحالی کے لئے لانگ مارچ کیا تھا۔ اب 2017 میں عدلیہ نے ان کو نااہل قرار دیا۔ اب وہ اسی علدیہ کے اس فیصلے کے خلاف اسی جی ٹی روڈ پر عوام سے رجوع کر رہے ہیں۔ 

نواز شریف بظاہر عدالت کے خلاف نہیں بول رہے ہیں۔ وہ ان کے خلاف کئے گئے اقدام کو سازش قرار دے رہے ہیں۔ اور اس ضمن میں ان کا دعوا ہے کہ ان کے پاس بعض اہم راز بھی ہیں جنہیں وہ افشاء کرنا چاہتے ہیں۔ ان نعرہ سویلین اختیارات کی بحالی ہے۔ یہی وہ نعرہ ہے جو ملک کی جمہوری قوتوں کو ایک پیج پر کھڑا کر رہاہے۔ پاکستان کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری ہوئی ہے جہاں منتخب اور سویلین حکومتوں کو آزادانہ طور پر کام کرنے نہیں دیا گیا۔ تاریخ اور سیاست کے طالب علم اس امر سے اچھی طرح واقف ہیں۔ اگر تایخ کی بات کی جائے تو خود میاں صاحب بھی بہت سارے معاملات کے گواہ ہیں بلکہ وہ خود بھی اس ’’گناہ‘‘میں 80 اور 90 کے عشروں میں شریک رہے ہیں۔ 1988 میں کس طرح سے بینظیر بھٹو کو حکومت دیتے وقت بعض رسمی اور غیر رسمی معاہدے کئے گئے۔ بینظیر کے اختیارات کم کئے گئے۔ پھر یہ سلسلہ 90 کے عشرے میں بھی جاری رہا۔ آرمی چیف، صدر اور وزیرا عظم پر مشتمل ٹرائیکا بنی، جو تقریبا ہر ہفتے اجلاس کرتی تھی اور مختلف فیصلے کرتی تھی ۔ یعنی ویزراعظم آزادانہ طور پر فیصلہ سازی نہیں کرتے تھے۔ 

اب میاں نوازشریف سویلین اخیارات کا نعرہ لیکر میدان میں آئے ہیں اور ایک نئے سیاسی سفر کا آگاز کر رہے ہیں۔ ان کے اس اقدام کو ملک کی جمہوری، ترقی پسند اورحقوق کی جدوجہد رکنے والی قوتیں ایک مثبت قدم سمجھ رہی ہیں۔

پنجاب پر مسلسل یہ الزامات عائد ہوتے رہے کہ وہ جمہوریت، لوگوں کے حقوق کی جدوجہد میں ساتھ نہیں دیتا۔ یہ صورتحال ون یونٹ ، صوبوں کو اختیارات دینے، مشرقی پاکستان سے اکثریت میں جیت کر آنے والی پارٹی عوامی لیگ کو اقتدار حوالے نہ کرنے کے الزامات عائد ہوتے رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ تب تک کھڑا رہا جب تک بھٹو اسٹبلشمنٹ کے ساتھ رہا۔ خیبر پختونخوا،سندھ اور بلوچستان میں صوبائی حقوق کی جدوجہدخواہ کسی بھی دور میں ہوئی ہو، پنجاب نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔ لہٰذا ان صوبں اور تحریکوں کا اکیلاپن بڑھتا گیا۔ ان تحریکوں کو میں بھی کو روکنے میں بھی کی پنجاب نے حمایت کی۔حالانکہ یہ تحریکیں اپنے جوہر میں حقوق، جمہوریت اور سویلین بالادستی کے زمرے میں ہی آتی تھیں۔ صرف اتنا ہی نہیں پنجاب نے ضیاء الحق کی آمریت کے خلاف چلنے والی تحریک ایم آرڈی موومنٹ میں بھی اس طرح سے ساتھ نہیں دیا۔
تاریخ یہ بتاتی ہے کہ پنجاب کو چھوڑ کر باقی تمام صوبے اور وہاں کی نمائندہ جماعتیں سویلین اختیارات، حقوق اور جمہوریت کے لئے اگلے مورچوں پر لڑتے رہے ہیں۔ جب کہ پنجاب میں ان تحریکوں کو مطلوبہ پذیرائی اور حمایت نہیں ملی۔ پاکستان میں انتخابات اور لولی لنگڑی جمہوریت تب بحال ہو سکی جب مشرقی بازو علحدہ وہ گیا۔ تاریخ کے ان واقعات سے یہ سبق ملتا ہے کہ جمہوریت ہو یا صوبائی حقوق یا سویلین اختیارات کی بحالی، جب تک پنجاب آگے نہیں آئے گا تب تک یہ معاملات سلجھ نہیں سکیں گے۔ جمہوریت اور حقوق کی جدوجہد آگے نہیں بڑھے گی۔اس صورتحال میں پنجاب کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے کہ وہ اپنا مظبوط،موثر اور فیصلہ کن کردار ادا کرے۔

Punjab should play its role 
Sohail Sangi Column .. Daily Nai Baat August 11, 2017 

Thursday, August 3, 2017

جماعتوں کے سیاسی کریئر اور عدالتی فیصلے

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 

وزیراعظم استعیفا دے دیں، یہ اتنا آسان نہیں۔ کیونکہ وہ ابھی قانونی جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔عمران خان جلدی فیصلہ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔جے آئی ٹی کی تحقیقات شروع کرنے سے ملک بھر میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔ اور افواہ فیکٹریز نے بڑے پیمانے پر کام شروع کردیا تھا۔ ابھی جے ٹی ٹی تو ختم ہو چکی ہے لیکن غیر یقینی صورتحال اور افواہ سازی جاری ہے۔ یہ درست ہے کہ نواز لیگ کی حکومت پر ہر طرف سے شدید دباؤ ڈالا گیا ہے۔ عدالتی، سیاسی، میڈیا، اور اسٹبلشمنٹ کے ذریعے سے بھی دباؤ بڑھایا گیا۔ شدید دباؤ کے تاثر کو کم کرنے کے لئے وزیراعظم مالدیپ کے قیام کی سالگرہ کی تقریب میں شرکت کے لئے چلے گئے۔ ورنہ مالدیپ پاکستان کے لئے کوئی معاشی، یا حکمت عملی کے حوالے سے بڑی حیثیت نہیں رکھتا۔

پاناما گیٹ پر جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد سپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ کی جانب سے لیکن تاحال فیصلہ محفوظ ہے ۔ اس کا کسی بھی روز اعلان ہو سکتا ہے۔ نہیں معلوم کہ کیا فیصلہ ہوگا؟ قانونی ماہرین کے مطابق دوطرح کے فیصلے ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ عدالت وزیراعظم کو نااہل قرار دے۔ دوسرا یہ کہ مقدمہ احتساب عدالت کو بھیج دے۔ وزیراعظم نواز شریف یہ چاہتے ہیں کہ وہ مالی بے ضابگیوں کا مقدمہ چلانے والی عدالت میں سامنا کریں ۔ اس صورت میں وہ قانونی طور پر استعیفا دینے کے پابند نہیں۔ رہی بات دوسرے آپشن کی، تو اس کے لئے عدلیہ نے یہ سطور تحریر ہونے تک حکم جاری نہیں کیا۔ وہ باقی سیاسی مخالفت یا اخلاقی طور پر استعیفا دیں، اس طرح کی ہمارے ہاں روایت نہیں۔ جہاں تک عوامی ردعمل کا تعلق ہے، اس کے لئے سڑکوں پر لاکھوں لوگ ابھی تک نہیں نکلے۔ 

اگر مقدمہ ٹرائل کورٹ میں بھیج دیا جاتا ہے ، جو کہ احتساب عدالت ہوسکتی ہے، اس صورت میں سے میاں صاحب کی حکومت کو مزید وقت مل جائے گا۔ شاید اتنا کہ حکومت کی مدت مکمل ہو جائے گی۔ رہی بات عام انتخابات کی ، تمام تر مشکلات، مخالفتوں اور بعض افراد کی خواہشات کے باوجود انتخابی جیت کے لئے نواز لیگ پر امید ہے۔ 

سیاسی سرکس مزید پیچیدہو گیا ہے۔ اب صرف شریف خاندان کی طرف سے قانونی لڑائی جیتنے یا ہار نے کا معاملہ نہیں رہا۔ اس سرکس کے کچھ اور بھی کھلاڑی ہیں ، جن کی صحت پر نواز شریف کی قانونی جنگ کی جیت یا ہار کے کے اثرات پڑنے ہیں۔ ان کرداروں نے کئی امیدیں باندھی ہوئی ہیں۔ اپنے لئے گنجائش دیکھی ہے۔ لہٰذا ہر دو صورتوں میں سیاسی منظر نامے پر اثرات پڑنے ہیں۔ اگر عدالت وزیراعظم کو گھر روانہ کرتی ہے۔ تو سیاسی کھیل کے قواعد و ضوابط ایکدم تبدیل ہو جائیں گے۔خود حکمران جماعت کے اندر خواہ باہر سیاسی صف بندی نئے سرے سے ہوگی۔ نواز لیگ میں نواز شریف کے بغیر قیادت کا سوال شروع سے ہی متنازع رہا ہے۔ اب حکمران جماعت نواز لیگ میں اقتدار کی جنگ تیز ہو جائے گی۔ اس جنگ کے کچھ دھندلے عکس ابھی بھی نظر آرہے ہیں۔ بظاہر نواز لیگ بطور پارٹی اپنے لیڈر نواز شریف کے پیچھے کھڑی ہے۔ لیکن اس بحران کے مشکل مرحلے میں بعض حلقے اس پر اختلاف رائے دکھا رہے ۔ 

پارٹی کے اندرسب سے بڑا خطرہ ویزر داخلہ چوہدری نثار سے ہے کہ وہ وزارت سے استعیفا دے دیں گے۔ چوہدری صاحب اس بحران کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔ اور اپنا موقف بیان کرنے کے لئے دو مرتبہ پریس کانفرنس پر ملتوی کر چکے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے یہ پریس کانفرنس اسحاق ڈار کی جانب سے ثالثی کرنے اور انہیں پارٹی کی جانب سے اس یقین دہانی کے بعد ملتوی کردی کہ اگر وزیراعظم نواز شریف کے خلاف عدالتی حکم آتا ہے تو پارٹی چوہدری صاحب سے جونیئر کسی کو وزیراعظم نہیں بنائے گی۔ لیگی حلقوں کے مطابق میاں نواز شریف کے بعد چوہدری نثار علی خان ہی خود کو سنیئر اور پارٹی کا بڑا لیڈر سمجھتے ہیں۔ لہٰذا میاں صاحب کے جانے کی صورت میں وہ خود کو اس عہدے کا اہل سمجھتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ چوہدری صاحب کو وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کو وزیراعظم بنانے پر کوئی اعتراض نہیں۔ مصالحت کی ان کوششوں کے بعد یہ نواز لیگ نے بحران کے لئے بلائے گئے پارٹی کے مختلف اجلاسوں سے چوہدری نثار کا آؤٹ کردیا ہے۔ نیتجے میں چوہدری صاحب اپنی پرانی پوزیشن پر چلے گئے ہیں، لیکن انہیں بھی عدالت کے فیصلے کا انتظار ہے۔ اگر وہ کابینہ سے مستعفی ہوتے ہیں تو پارٹی کے اندر دیگر اختلاف رائے رکھنے والے رہنماؤں کے لئے راستہ نکلے گا۔

بات یہیں پر ختم نہیں۔ جانشینی کے معاملے پر خود شریف خاندان بھی بٹا ہوا ہے۔عدالتی فیصلے کے بعد یہ جنگ اس محاز پر بھی تیز ہو جائے گی۔ متبادل کے لئے خواجہ آصف، احسن اقبال ک اور ایک دو اور نام میڈیا اور سیاسی حلقوں میں گشت کر رہے ہیں۔ لیکن ایک اہم نام کلثوم نواز بھی ہیں۔ مشرف دور میں وہ سرگرم ہوئی تھی۔ گزشتہ دنوں یہ خبریں آرہی تھی کہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ۔ لیکن وزیراعظم نواز شریف کے مالدیپ کے حالیہ دورے کے دوران کلثوم نواز کی عوام میں پذیرائی اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ وہ اہم منصب کے لئے تیار ہیں ۔ 

اگرچہ یہ جنگ نواز لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان ہے۔ لیکن دوسری جماعتیں بھی میدان میں کود پڑی ہیں۔ یہ بحران گیم چینجر بن چکا ہے، خواہ کیس اس کا کوئی بھی حل نکلے ۔ لہٰذاسیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف مہم چلا رہی ہیں۔ ان جماعتوں کے مطالبات اور مفادات ایک دوسرے سے متوازی ہیں۔نواز لیگ کے اتحادی تاحال اسکے ساتھ ہی کھڑے ہیں۔ لیکن وزیراعظم کی نااہلی یا ان پر مقدمہ ، ہر دو صورتوں میں صف بندی تبدیل ہو جائے گی۔ پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی اس نقطہ پر متفق ہیں کہ وزیراعظم استعیفا دیں۔ لیکن ان کا یہ اتحاد لمبا نہیں چل سکتا۔یہ پنجاب میں ایک دوسرے کی عملا حریف ہیں اور نواز لیگ کی اسپیس خود لینا چاہتی ہیں۔ اسی طرح کی صورتحال نواز لیگ اور پ پیپلزپارٹی کی ہے۔ دونوں کی یہ مشترکہ خواہش ہے کہ بنی گالا کی رہائش گاہ کی خریداری میں منی ٹریل کے معاملے پر عمران خان کو سپریم کورٹ نااہل قرار دے۔ لیکن یہ دونوں جماعتیں بھی ایک دوسرے کو اسپیس دینے کے لئے تیار نہیں۔ نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کی خواہش ہوگی کہ کسی طرح سے تحریک انصاف انتخابات سے باہر ہو۔ تحریک انصاف پنجاب میں نواز لیگ کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ جبکہ پیپلزپارٹی موقعہ غنیمت سمجھتی ہے کہ تحریک انصاف کی عدم موجودگی یا کمزور پوزیشن کے نتیجے میں وہ کسی حد تک ملک کے بڑے صوبے میں اپنی پوزیشن بحال کر لے گی۔ عمران خان چاہ رہے ہیں کہ نواز لیگ بغیر نواز شریف کے انتخابات میں آئے، یہی سوچ نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کی کہ عمران خان کے بغیر تحریک انصاف انتخابی میدان میں ہو۔ 

تمام پارٹیاں اس پر متفق ہیں کہ وقت سے پہلے انتخابات نہ ہوں۔ تاریخ کا یہ المیہ ہے کہ ملک کی دو بڑی پارٹیوں کے رہنماؤں کے سیاسی کریئر کا فیصلہ عدالت میں محفوظ فیصلوں سے بندھا ہوا ہے۔پارلیمنٹ کے غیر موثر ہونے کی وجہ سے عدلیہ کا رول مزید بڑھ گیا ہے۔ سیاسی فیصلے پارلیمنٹ سے باہر لے جانے کے بعد یہ سوال بھی اہم ہے کہ عدلیہ بالادست ہے یا پارلیمنٹ سول ملٹری تعلقات میں جو کشیدگی نواز شریف کی حکومت آنے سے وقت سے تھی اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، یہ بحراں خواہ کسی بھی سمت میں حل ہوتا ہے، ان تعلقات میں بہتری کا امکان نظر نہیں آتا۔ سیاسی بحران کی وجہ سے اختیارات کا جھکاؤ مزیدعسکری حلقوں کی طرف ہو گیا۔ لیکن ایسا بھی نہیں لگتاکہ سیاسی نظام کو لپیٹا نہیں جارہا۔ ملک ایک نہ ختم ہونے والے سیاسی گھن چکر میں پھنستا نظر آتا ہے۔

پاناما گیٹ نے جہاں ’’ احتساب ہو نا چاہئے ‘ کے بیانیہ کو مقبول بنایا وہاں سیاسی اور نظام کا بحران بھی پیدا کیا۔ اس کا ایک اور نتیجہ یہ نکلا کہ ریاست کی مختلف شاخوں کے درمیان اختیارات میں عدم توازن پیدا ہوگیا۔ جو کہ مستقبل میں ملک کے سیاسی اور جمہوری عمل پر اثرانداز ہوگا۔ بلاشبہ عدلیہ بطور ثالث کے سامنے آئی ہے۔ سپریم کورٹ سیاسی جنگی حل کرنے کی جگہ بن گئی ہے۔ 

روزنامہ نئی بات ۔۔ کالم ۔۔۔ سہیل سانگی 
۲۸ جولائی ۲۰۱۷

پنجاب کی سیاست کے محرکات

پنجاب کی سیاست کے محرکات
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
حالیہ سیاسی کشمکش سویلین بالادستی کے خلاف اور جوڈیشل ایکٹیوازم کا اظہار ہے، جس میں کرپشن کے خلاف اقدامات کرنے کی عوامی خواہش کا بیانیہ بھی شامل ہو گیا ہے۔ 2013 کے عام انتخابات جس میں پیپلزپارٹی پنجاب میں بری طرح سے ہار گئی، تحریک انصاف کو کچھ نشستیں ملی، لیکن نواز لیگ نے اکثریت حاصل کر کے وفاق اور پنجاب میں حکومت بنائی تھی۔ عمران خان اس روز سے نواز لیگ کی حکومت کو گرانے کے لئے کوشاں ہیں۔ لیکن ان کی مخالفت اور احتجاج کا دائرہ پنجاب سے باہر نہیں جا سکا۔ جس کی وہ سے سندھ اور بلوچستان خاص طور پر اس پوری لڑائی کو پنجاب کی اندرونی سیاسی لڑائی سمجھ رہے ہیں۔ مختلف طبقات سیاسی بلادستی، اختیار و اقتدار حاصل کر نے کے لئے ایک دوسرے سے دست گریباں ہیں۔
سندھ پنجاب اور بلوچستان میں ضیاءالحق کے اشرافیہ کے باقیات اگرچہ مضبوط ہوئے ہیں لیکن ان کو ضیاء مخلف حلقوں کے بیانیئے اور نعرے کا ساتھ دینا پڑ رہا ہے۔ پنجاب میں حکمراں طبقے کی اکثریت1985ضیاءالحق کی باقیات پر مشتمل ہے۔ 

ذوالفقار علی بھٹو نے پنجاب میں درمیانہ یا نچلے طبقے کو ایوانوں تک لانے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ بطور پارٹی کے ایک عرصے تک پیپلزپارٹی پنجاب کی پارٹی سمجھی جاتی تھی۔ 1970 کے انتخابات نے بھی اس امر کو ثابت کیا۔ لیکن پیپلزپارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد صورتحال تبدیل ہونا شروع ہوئی۔ اس ڈر سے کہ کہیں پرانی پنجاب کی اشرافیہ بھٹو حکومت کے خلاف نہ کھڑی ہو جائے، بھٹو نے اس پرانی اور روایتی حکمران طبقات کے لئے بھی دروازے کھول دیئے۔ لیکن اس سے دراصل پارٹی کمزور ہوئی۔ جب اس پرانی اشرافیہ کاروبای طبقے اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ مل کر نے بھٹو کی مخالفت کا علم بلند کیا تو پارٹی اس سیاسی حملے سے بچ نہ سکی۔ اور بھٹو حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ 

ضیاء الحق کے دور میں پنجاب میں نئے پاور بروکرز وہ بنے جو ساٹھ یا ستر کے عشرے میں مذہبی تنظیموں کے طلباءتنظیموں سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ لوگ بعد میں مختلف سیاسی جماعتوں میں شامل ہوگئے۔ یوں تاجر طبقے نے ان نئے پاور بروکرز کو اپنے ہاتھ میں کیا۔ نواز شریف شہری تاجران اور صنعتی طبقات کے نمائندہ کے طور پر سامنے آئے ۔پنجاب کی سیاسی معیشت کا تجزیہ بتاتا ہے کہ اس طرح سے تاجر و صنعتکار طبقے کا مذہبی جماعتوں سے اتحاد ہوا۔ جو آج بھی مختلف شکلیوں میں موجود ہے۔ یوں پنجاب میں ایک نئی اشرافیہ بھر کرسمانے آئی۔ جس کا بڑا سیاسی اظہار نواز لیگ ہے۔ 

معیشت کے پھیلاﺅ اور سائنس اور ٹیکنولاجی اور پنجاب میں معیشت کے زرعی حصے میں تبدیلیوں کے اثرات کا سماجی اور سیاسی اظہار ہونے لگا۔ 
یہ کہہ سکتے ہیں کہ ملک میں نئے طبقات پید اہو ئے جو کہ شہری تھے اور سیاسی نمائندگی بھی ایک نئے شہری طبقے کے پاس چلی گئی۔ یہپاں پر اداروں کے درمیاں تضاد اور ٹکراﺅ کیونکہ کہ زمینی حقائق کی وجہ سے اداروں کے درمیان طاقت کا توازن تبدیل نہیں ہوا۔ اسٹیبلشمنٹ کی گرفت مضبوط رہی۔ ابھرتے طبقات اپنے ا اختیارت بڑہانا چاہتے تھے۔ لہٰذا وہ سویلین بالادستی چاہتے تھے۔ لیکن روایتی اسٹیبلشمنٹ اپنے پرانے موقف اور پالیسی پر کھڑی تھی۔ بینظیر بھٹو نے نواز لیگ کے ساتھ جو میثاق جمہوریت کیا تھا وہ دراصل تاجر و صنعت کار طبقات اور زراعت سے منسلک طبقات کے درمیاں معاہدہ تھا۔ عمران خان ان دونوں جماعتوں کے خلاف اس وجہ سے ہیں کہ بڑے طبقات آپس میں بن گئے ہیں اور پروفیشنل اور چھوٹا کاروباری طبقہ اختیار و اقتدار سے باہر رہ گیا ہے۔ 

 ابھی یہ جنگ چل ہی رہی تھی کہ معیشت کے پھیلاﺅ کی وجہ سے ایک اور طبقہ وجود میں آیا، جو پروفیشل پر مشتمل تھا۔ اس طبقے میں وکیل، ڈاکٹر، انجنیئر اور بیران ملک کما کر واپس آنے والے شامل تھے۔ یہ لوگ ایک صاف شفاف چیزیں چاہتے تھے۔ ان کی نمائندگی تحریک پاکستان کے پاس آگئی۔ یہ سیاسی لڑائی پنجاب میں بڑے پیمانے پر اس وجہ سے لڑ جارہی ہے کہ وہیں پر ہی بڑی تبدیلیاں سیاسی معیشت میں آئی ہیں۔ سیاسی معیشت کے اثرات باقی صوبوں میں اتنے پکے ہوئے اور مضبوط نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ باقی صوبوں میں یہ سیاست ماٹھی ہے۔ 

پنجاب میں دو طرح کے طبقات کے درمیاں اس جنگ کے بعض نہایت ہی دلچسپ پہلو ہیں کہ ان دونوں کی نمائندہ جماعتوں کے موقف میں تضاد ہے۔ شہری آزادیوں اور حقوق کے بغیر پروفیشنل طبقات اپنا وجود اور ترقی برقرار نہیں رکھ سکتے۔ لیکن وہ سودے بازی کر کے اسٹبلشمنٹ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ نواز لیگ اس پروفیشنل طبقے کو ” اسپیس “ نہیں دے رہی۔ طبقات معیشت کے بنیادی طبقات کو نظر انداز کر رہی ہے۔ 

 بلا شبہ حالیہ وقعات سے سویلین بالاستی کی جانب سفر کو دھچکا قرار پہنچا ہے ۔ وہ نواز شریف کو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں چلنے والی جمہوریت بمقابلہ اسٹیبلشمنٹ جدوجہد میں امید کی ایک علامت قرار دیا جارہا ہے ۔ نواز شریف کو جب جنرل مشرف نے عہدے سے برطرف کیا، سزا سنائی، اور بعد میں جلاوطن ہو گئے۔ سمجھا یہ ارہا تھا کہ اب ایک نیا نواز شریف میدان مین آیا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ مشرف دور میں ان کی سیاست وہی رہی۔ اور مشرف کے بعد جب پیپلزپارٹی حکومت میں آئی تب بھی انہوں نے اپنی حکمت عملی، اور پالیسی تبدیل نہیں کی۔ انہوں نے پیپلزپارٹی کی جمہوری حکومت کو ڈی اسٹبلایئز کرنے میں اسٹبلشمنٹ کا ساتھ دیا۔ یہاں تک کہ خود بھی کورٹ میں جاکر کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے منتخب حکومت کا عدالتی ومیڈیا ٹرائل کرنے اور منتخب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو عدالتی طور پہ نااہل قرار دلوانے کی عوام میں فضا سازگا‘ بنا نے میںبھرپورکردار ادا کیا۔ 

نواز شریف نے جسٹس افتخار محمد چوہدری کے جوڈیشل ایکٹوازم، پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے پیپلز پارٹی کی خارجہ اور داخلہ پالیسیوں کے خلاف پس پردہ سرگرمیوں میں مصروف رہے اور پھر لانگ مارچ بھی کیا۔ تب اگر وہ قانون سازی یا مختلف انتظامی اقدامات کے لئے پیپلزپارٹی کے ساتھ کھڑے ہو جاتے اور پیپلزپارٹی کی ہمت بندھاتے تو ضیاءالحق اور مشرف کی تمام باقیات کا خاتمہ ہوسکتا تھا، یا بڑی حد تک ان میں کمی آسکتی تھی۔ 
نواز شریف دو مرتبہ ویزراعظم رہ چکے تھے اس وجہ سے انہیں مختلف معاملات کو کس طرح ہینڈل کیا جائے اسکا تجربہ ہو گیا تھا۔اور وہ پہلے والی غلطیاں نہیں دہرائیں گے۔ مگر ایسا نہ ہو سکا۔

پیپلزپارٹی کے کھاتے میں یہ بات جاتی ہے کہ اس نے اٹھارویں آئینی ترمیم کر کے صوبوں کی شکایات کا بڑی حد تک ازالہ کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس ترمیم پر معن و عن عمل کرنا ابھی باقی ہے۔ اس ترمیم کے نتیجے میں صوبائی حقوق کی مختلف صوبوں میں جاری تحریکیں بڑی حد تک کمزور ہوئیں۔ نواز شریف نے حکومت میں آکر نہ صرف اس ترمیم پر مزید عمل درآمد کو روکا بلکہ سچی بات یہ ہے کہ انہوں کیس بھی حوالے سے کوئی قابل قدر قانون سازی نہیں کی۔ حالانکہ دو آمروں ضیاءالحق اور مشرف نے جس طرح سے ملک کی سیاست، معیشت، سیاسی معیشت، قوانین، انتظام کاری اور دوسرے شعبوں کا جتنا خانہ خراب کیا تھا اس پر کئی اقدامات کرنے، قانون سازی اور فیصلہ سازی کی سخت ضرورت تھی۔ اگر نواز شریف مختلف اقدامات کرتے تو یقیننا آج جو انہیں سویلین بالادستی کا شکوہ نہیں رہتا۔ 

نواز شریف فوجی عدالتوں کے قیام، سندھ میں رینجرز کے سیاسی ایڈوینچرز، بلوچستان میں معاملہ زیادہ سنگین ہونے اور شہریوں آزادیوں کو سلب کرنے والے قوانین کی منظوری اور آڑدیننس جاری کرنے میں پہل کاری کر کے مختلف سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ نہیں کر سکے۔ اسی طرح سے تحفظ پاکستان قانون ، اینٹی سائبرکرائمز بل، ضابطہ فوجداری میں ترمیم، سوشل میڈیا ایکٹوازم کے خلاف کارروائی اور اس جیسے کئی اور قوانین بھی بنائے گئے۔ لیکن وہ اپنا کلیدی کردار ادا نہ کر سکے سامنے لائے گئے۔ یہ سب معاملات سویلین بالادستی کے زمرے میں آتے ہیں۔ 

Nai Baat August 4, 2017