میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
وزیراعظم استعیفا دے دیں، یہ اتنا آسان نہیں۔ کیونکہ وہ ابھی قانونی جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔عمران خان جلدی فیصلہ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔جے آئی ٹی کی تحقیقات شروع کرنے سے ملک بھر میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔ اور افواہ فیکٹریز نے بڑے پیمانے پر کام شروع کردیا تھا۔ ابھی جے ٹی ٹی تو ختم ہو چکی ہے لیکن غیر یقینی صورتحال اور افواہ سازی جاری ہے۔ یہ درست ہے کہ نواز لیگ کی حکومت پر ہر طرف سے شدید دباؤ ڈالا گیا ہے۔ عدالتی، سیاسی، میڈیا، اور اسٹبلشمنٹ کے ذریعے سے بھی دباؤ بڑھایا گیا۔ شدید دباؤ کے تاثر کو کم کرنے کے لئے وزیراعظم مالدیپ کے قیام کی سالگرہ کی تقریب میں شرکت کے لئے چلے گئے۔ ورنہ مالدیپ پاکستان کے لئے کوئی معاشی، یا حکمت عملی کے حوالے سے بڑی حیثیت نہیں رکھتا۔
پاناما گیٹ پر جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد سپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ کی جانب سے لیکن تاحال فیصلہ محفوظ ہے ۔ اس کا کسی بھی روز اعلان ہو سکتا ہے۔ نہیں معلوم کہ کیا فیصلہ ہوگا؟ قانونی ماہرین کے مطابق دوطرح کے فیصلے ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ عدالت وزیراعظم کو نااہل قرار دے۔ دوسرا یہ کہ مقدمہ احتساب عدالت کو بھیج دے۔ وزیراعظم نواز شریف یہ چاہتے ہیں کہ وہ مالی بے ضابگیوں کا مقدمہ چلانے والی عدالت میں سامنا کریں ۔ اس صورت میں وہ قانونی طور پر استعیفا دینے کے پابند نہیں۔ رہی بات دوسرے آپشن کی، تو اس کے لئے عدلیہ نے یہ سطور تحریر ہونے تک حکم جاری نہیں کیا۔ وہ باقی سیاسی مخالفت یا اخلاقی طور پر استعیفا دیں، اس طرح کی ہمارے ہاں روایت نہیں۔ جہاں تک عوامی ردعمل کا تعلق ہے، اس کے لئے سڑکوں پر لاکھوں لوگ ابھی تک نہیں نکلے۔
اگر مقدمہ ٹرائل کورٹ میں بھیج دیا جاتا ہے ، جو کہ احتساب عدالت ہوسکتی ہے، اس صورت میں سے میاں صاحب کی حکومت کو مزید وقت مل جائے گا۔ شاید اتنا کہ حکومت کی مدت مکمل ہو جائے گی۔ رہی بات عام انتخابات کی ، تمام تر مشکلات، مخالفتوں اور بعض افراد کی خواہشات کے باوجود انتخابی جیت کے لئے نواز لیگ پر امید ہے۔
سیاسی سرکس مزید پیچیدہو گیا ہے۔ اب صرف شریف خاندان کی طرف سے قانونی لڑائی جیتنے یا ہار نے کا معاملہ نہیں رہا۔ اس سرکس کے کچھ اور بھی کھلاڑی ہیں ، جن کی صحت پر نواز شریف کی قانونی جنگ کی جیت یا ہار کے کے اثرات پڑنے ہیں۔ ان کرداروں نے کئی امیدیں باندھی ہوئی ہیں۔ اپنے لئے گنجائش دیکھی ہے۔ لہٰذا ہر دو صورتوں میں سیاسی منظر نامے پر اثرات پڑنے ہیں۔ اگر عدالت وزیراعظم کو گھر روانہ کرتی ہے۔ تو سیاسی کھیل کے قواعد و ضوابط ایکدم تبدیل ہو جائیں گے۔خود حکمران جماعت کے اندر خواہ باہر سیاسی صف بندی نئے سرے سے ہوگی۔ نواز لیگ میں نواز شریف کے بغیر قیادت کا سوال شروع سے ہی متنازع رہا ہے۔ اب حکمران جماعت نواز لیگ میں اقتدار کی جنگ تیز ہو جائے گی۔ اس جنگ کے کچھ دھندلے عکس ابھی بھی نظر آرہے ہیں۔ بظاہر نواز لیگ بطور پارٹی اپنے لیڈر نواز شریف کے پیچھے کھڑی ہے۔ لیکن اس بحران کے مشکل مرحلے میں بعض حلقے اس پر اختلاف رائے دکھا رہے ۔
پارٹی کے اندرسب سے بڑا خطرہ ویزر داخلہ چوہدری نثار سے ہے کہ وہ وزارت سے استعیفا دے دیں گے۔ چوہدری صاحب اس بحران کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔ اور اپنا موقف بیان کرنے کے لئے دو مرتبہ پریس کانفرنس پر ملتوی کر چکے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے یہ پریس کانفرنس اسحاق ڈار کی جانب سے ثالثی کرنے اور انہیں پارٹی کی جانب سے اس یقین دہانی کے بعد ملتوی کردی کہ اگر وزیراعظم نواز شریف کے خلاف عدالتی حکم آتا ہے تو پارٹی چوہدری صاحب سے جونیئر کسی کو وزیراعظم نہیں بنائے گی۔ لیگی حلقوں کے مطابق میاں نواز شریف کے بعد چوہدری نثار علی خان ہی خود کو سنیئر اور پارٹی کا بڑا لیڈر سمجھتے ہیں۔ لہٰذا میاں صاحب کے جانے کی صورت میں وہ خود کو اس عہدے کا اہل سمجھتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ چوہدری صاحب کو وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کو وزیراعظم بنانے پر کوئی اعتراض نہیں۔ مصالحت کی ان کوششوں کے بعد یہ نواز لیگ نے بحران کے لئے بلائے گئے پارٹی کے مختلف اجلاسوں سے چوہدری نثار کا آؤٹ کردیا ہے۔ نیتجے میں چوہدری صاحب اپنی پرانی پوزیشن پر چلے گئے ہیں، لیکن انہیں بھی عدالت کے فیصلے کا انتظار ہے۔ اگر وہ کابینہ سے مستعفی ہوتے ہیں تو پارٹی کے اندر دیگر اختلاف رائے رکھنے والے رہنماؤں کے لئے راستہ نکلے گا۔
بات یہیں پر ختم نہیں۔ جانشینی کے معاملے پر خود شریف خاندان بھی بٹا ہوا ہے۔عدالتی فیصلے کے بعد یہ جنگ اس محاز پر بھی تیز ہو جائے گی۔ متبادل کے لئے خواجہ آصف، احسن اقبال ک اور ایک دو اور نام میڈیا اور سیاسی حلقوں میں گشت کر رہے ہیں۔ لیکن ایک اہم نام کلثوم نواز بھی ہیں۔ مشرف دور میں وہ سرگرم ہوئی تھی۔ گزشتہ دنوں یہ خبریں آرہی تھی کہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ۔ لیکن وزیراعظم نواز شریف کے مالدیپ کے حالیہ دورے کے دوران کلثوم نواز کی عوام میں پذیرائی اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ وہ اہم منصب کے لئے تیار ہیں ۔
اگرچہ یہ جنگ نواز لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان ہے۔ لیکن دوسری جماعتیں بھی میدان میں کود پڑی ہیں۔ یہ بحران گیم چینجر بن چکا ہے، خواہ کیس اس کا کوئی بھی حل نکلے ۔ لہٰذاسیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف مہم چلا رہی ہیں۔ ان جماعتوں کے مطالبات اور مفادات ایک دوسرے سے متوازی ہیں۔نواز لیگ کے اتحادی تاحال اسکے ساتھ ہی کھڑے ہیں۔ لیکن وزیراعظم کی نااہلی یا ان پر مقدمہ ، ہر دو صورتوں میں صف بندی تبدیل ہو جائے گی۔ پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی اس نقطہ پر متفق ہیں کہ وزیراعظم استعیفا دیں۔ لیکن ان کا یہ اتحاد لمبا نہیں چل سکتا۔یہ پنجاب میں ایک دوسرے کی عملا حریف ہیں اور نواز لیگ کی اسپیس خود لینا چاہتی ہیں۔ اسی طرح کی صورتحال نواز لیگ اور پ پیپلزپارٹی کی ہے۔ دونوں کی یہ مشترکہ خواہش ہے کہ بنی گالا کی رہائش گاہ کی خریداری میں منی ٹریل کے معاملے پر عمران خان کو سپریم کورٹ نااہل قرار دے۔ لیکن یہ دونوں جماعتیں بھی ایک دوسرے کو اسپیس دینے کے لئے تیار نہیں۔ نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کی خواہش ہوگی کہ کسی طرح سے تحریک انصاف انتخابات سے باہر ہو۔ تحریک انصاف پنجاب میں نواز لیگ کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ جبکہ پیپلزپارٹی موقعہ غنیمت سمجھتی ہے کہ تحریک انصاف کی عدم موجودگی یا کمزور پوزیشن کے نتیجے میں وہ کسی حد تک ملک کے بڑے صوبے میں اپنی پوزیشن بحال کر لے گی۔ عمران خان چاہ رہے ہیں کہ نواز لیگ بغیر نواز شریف کے انتخابات میں آئے، یہی سوچ نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کی کہ عمران خان کے بغیر تحریک انصاف انتخابی میدان میں ہو۔
تمام پارٹیاں اس پر متفق ہیں کہ وقت سے پہلے انتخابات نہ ہوں۔ تاریخ کا یہ المیہ ہے کہ ملک کی دو بڑی پارٹیوں کے رہنماؤں کے سیاسی کریئر کا فیصلہ عدالت میں محفوظ فیصلوں سے بندھا ہوا ہے۔پارلیمنٹ کے غیر موثر ہونے کی وجہ سے عدلیہ کا رول مزید بڑھ گیا ہے۔ سیاسی فیصلے پارلیمنٹ سے باہر لے جانے کے بعد یہ سوال بھی اہم ہے کہ عدلیہ بالادست ہے یا پارلیمنٹ سول ملٹری تعلقات میں جو کشیدگی نواز شریف کی حکومت آنے سے وقت سے تھی اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، یہ بحراں خواہ کسی بھی سمت میں حل ہوتا ہے، ان تعلقات میں بہتری کا امکان نظر نہیں آتا۔ سیاسی بحران کی وجہ سے اختیارات کا جھکاؤ مزیدعسکری حلقوں کی طرف ہو گیا۔ لیکن ایسا بھی نہیں لگتاکہ سیاسی نظام کو لپیٹا نہیں جارہا۔ ملک ایک نہ ختم ہونے والے سیاسی گھن چکر میں پھنستا نظر آتا ہے۔
پاناما گیٹ نے جہاں ’’ احتساب ہو نا چاہئے ‘ کے بیانیہ کو مقبول بنایا وہاں سیاسی اور نظام کا بحران بھی پیدا کیا۔ اس کا ایک اور نتیجہ یہ نکلا کہ ریاست کی مختلف شاخوں کے درمیان اختیارات میں عدم توازن پیدا ہوگیا۔ جو کہ مستقبل میں ملک کے سیاسی اور جمہوری عمل پر اثرانداز ہوگا۔ بلاشبہ عدلیہ بطور ثالث کے سامنے آئی ہے۔ سپریم کورٹ سیاسی جنگی حل کرنے کی جگہ بن گئی ہے۔
روزنامہ نئی بات ۔۔ کالم ۔۔۔ سہیل سانگی
۲۸ جولائی ۲۰۱۷
وزیراعظم استعیفا دے دیں، یہ اتنا آسان نہیں۔ کیونکہ وہ ابھی قانونی جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔عمران خان جلدی فیصلہ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔جے آئی ٹی کی تحقیقات شروع کرنے سے ملک بھر میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔ اور افواہ فیکٹریز نے بڑے پیمانے پر کام شروع کردیا تھا۔ ابھی جے ٹی ٹی تو ختم ہو چکی ہے لیکن غیر یقینی صورتحال اور افواہ سازی جاری ہے۔ یہ درست ہے کہ نواز لیگ کی حکومت پر ہر طرف سے شدید دباؤ ڈالا گیا ہے۔ عدالتی، سیاسی، میڈیا، اور اسٹبلشمنٹ کے ذریعے سے بھی دباؤ بڑھایا گیا۔ شدید دباؤ کے تاثر کو کم کرنے کے لئے وزیراعظم مالدیپ کے قیام کی سالگرہ کی تقریب میں شرکت کے لئے چلے گئے۔ ورنہ مالدیپ پاکستان کے لئے کوئی معاشی، یا حکمت عملی کے حوالے سے بڑی حیثیت نہیں رکھتا۔
پاناما گیٹ پر جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد سپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ کی جانب سے لیکن تاحال فیصلہ محفوظ ہے ۔ اس کا کسی بھی روز اعلان ہو سکتا ہے۔ نہیں معلوم کہ کیا فیصلہ ہوگا؟ قانونی ماہرین کے مطابق دوطرح کے فیصلے ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ عدالت وزیراعظم کو نااہل قرار دے۔ دوسرا یہ کہ مقدمہ احتساب عدالت کو بھیج دے۔ وزیراعظم نواز شریف یہ چاہتے ہیں کہ وہ مالی بے ضابگیوں کا مقدمہ چلانے والی عدالت میں سامنا کریں ۔ اس صورت میں وہ قانونی طور پر استعیفا دینے کے پابند نہیں۔ رہی بات دوسرے آپشن کی، تو اس کے لئے عدلیہ نے یہ سطور تحریر ہونے تک حکم جاری نہیں کیا۔ وہ باقی سیاسی مخالفت یا اخلاقی طور پر استعیفا دیں، اس طرح کی ہمارے ہاں روایت نہیں۔ جہاں تک عوامی ردعمل کا تعلق ہے، اس کے لئے سڑکوں پر لاکھوں لوگ ابھی تک نہیں نکلے۔
اگر مقدمہ ٹرائل کورٹ میں بھیج دیا جاتا ہے ، جو کہ احتساب عدالت ہوسکتی ہے، اس صورت میں سے میاں صاحب کی حکومت کو مزید وقت مل جائے گا۔ شاید اتنا کہ حکومت کی مدت مکمل ہو جائے گی۔ رہی بات عام انتخابات کی ، تمام تر مشکلات، مخالفتوں اور بعض افراد کی خواہشات کے باوجود انتخابی جیت کے لئے نواز لیگ پر امید ہے۔
سیاسی سرکس مزید پیچیدہو گیا ہے۔ اب صرف شریف خاندان کی طرف سے قانونی لڑائی جیتنے یا ہار نے کا معاملہ نہیں رہا۔ اس سرکس کے کچھ اور بھی کھلاڑی ہیں ، جن کی صحت پر نواز شریف کی قانونی جنگ کی جیت یا ہار کے کے اثرات پڑنے ہیں۔ ان کرداروں نے کئی امیدیں باندھی ہوئی ہیں۔ اپنے لئے گنجائش دیکھی ہے۔ لہٰذا ہر دو صورتوں میں سیاسی منظر نامے پر اثرات پڑنے ہیں۔ اگر عدالت وزیراعظم کو گھر روانہ کرتی ہے۔ تو سیاسی کھیل کے قواعد و ضوابط ایکدم تبدیل ہو جائیں گے۔خود حکمران جماعت کے اندر خواہ باہر سیاسی صف بندی نئے سرے سے ہوگی۔ نواز لیگ میں نواز شریف کے بغیر قیادت کا سوال شروع سے ہی متنازع رہا ہے۔ اب حکمران جماعت نواز لیگ میں اقتدار کی جنگ تیز ہو جائے گی۔ اس جنگ کے کچھ دھندلے عکس ابھی بھی نظر آرہے ہیں۔ بظاہر نواز لیگ بطور پارٹی اپنے لیڈر نواز شریف کے پیچھے کھڑی ہے۔ لیکن اس بحران کے مشکل مرحلے میں بعض حلقے اس پر اختلاف رائے دکھا رہے ۔
پارٹی کے اندرسب سے بڑا خطرہ ویزر داخلہ چوہدری نثار سے ہے کہ وہ وزارت سے استعیفا دے دیں گے۔ چوہدری صاحب اس بحران کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔ اور اپنا موقف بیان کرنے کے لئے دو مرتبہ پریس کانفرنس پر ملتوی کر چکے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے یہ پریس کانفرنس اسحاق ڈار کی جانب سے ثالثی کرنے اور انہیں پارٹی کی جانب سے اس یقین دہانی کے بعد ملتوی کردی کہ اگر وزیراعظم نواز شریف کے خلاف عدالتی حکم آتا ہے تو پارٹی چوہدری صاحب سے جونیئر کسی کو وزیراعظم نہیں بنائے گی۔ لیگی حلقوں کے مطابق میاں نواز شریف کے بعد چوہدری نثار علی خان ہی خود کو سنیئر اور پارٹی کا بڑا لیڈر سمجھتے ہیں۔ لہٰذا میاں صاحب کے جانے کی صورت میں وہ خود کو اس عہدے کا اہل سمجھتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ چوہدری صاحب کو وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کو وزیراعظم بنانے پر کوئی اعتراض نہیں۔ مصالحت کی ان کوششوں کے بعد یہ نواز لیگ نے بحران کے لئے بلائے گئے پارٹی کے مختلف اجلاسوں سے چوہدری نثار کا آؤٹ کردیا ہے۔ نیتجے میں چوہدری صاحب اپنی پرانی پوزیشن پر چلے گئے ہیں، لیکن انہیں بھی عدالت کے فیصلے کا انتظار ہے۔ اگر وہ کابینہ سے مستعفی ہوتے ہیں تو پارٹی کے اندر دیگر اختلاف رائے رکھنے والے رہنماؤں کے لئے راستہ نکلے گا۔
بات یہیں پر ختم نہیں۔ جانشینی کے معاملے پر خود شریف خاندان بھی بٹا ہوا ہے۔عدالتی فیصلے کے بعد یہ جنگ اس محاز پر بھی تیز ہو جائے گی۔ متبادل کے لئے خواجہ آصف، احسن اقبال ک اور ایک دو اور نام میڈیا اور سیاسی حلقوں میں گشت کر رہے ہیں۔ لیکن ایک اہم نام کلثوم نواز بھی ہیں۔ مشرف دور میں وہ سرگرم ہوئی تھی۔ گزشتہ دنوں یہ خبریں آرہی تھی کہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ۔ لیکن وزیراعظم نواز شریف کے مالدیپ کے حالیہ دورے کے دوران کلثوم نواز کی عوام میں پذیرائی اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ وہ اہم منصب کے لئے تیار ہیں ۔
اگرچہ یہ جنگ نواز لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان ہے۔ لیکن دوسری جماعتیں بھی میدان میں کود پڑی ہیں۔ یہ بحران گیم چینجر بن چکا ہے، خواہ کیس اس کا کوئی بھی حل نکلے ۔ لہٰذاسیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف مہم چلا رہی ہیں۔ ان جماعتوں کے مطالبات اور مفادات ایک دوسرے سے متوازی ہیں۔نواز لیگ کے اتحادی تاحال اسکے ساتھ ہی کھڑے ہیں۔ لیکن وزیراعظم کی نااہلی یا ان پر مقدمہ ، ہر دو صورتوں میں صف بندی تبدیل ہو جائے گی۔ پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی اس نقطہ پر متفق ہیں کہ وزیراعظم استعیفا دیں۔ لیکن ان کا یہ اتحاد لمبا نہیں چل سکتا۔یہ پنجاب میں ایک دوسرے کی عملا حریف ہیں اور نواز لیگ کی اسپیس خود لینا چاہتی ہیں۔ اسی طرح کی صورتحال نواز لیگ اور پ پیپلزپارٹی کی ہے۔ دونوں کی یہ مشترکہ خواہش ہے کہ بنی گالا کی رہائش گاہ کی خریداری میں منی ٹریل کے معاملے پر عمران خان کو سپریم کورٹ نااہل قرار دے۔ لیکن یہ دونوں جماعتیں بھی ایک دوسرے کو اسپیس دینے کے لئے تیار نہیں۔ نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کی خواہش ہوگی کہ کسی طرح سے تحریک انصاف انتخابات سے باہر ہو۔ تحریک انصاف پنجاب میں نواز لیگ کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ جبکہ پیپلزپارٹی موقعہ غنیمت سمجھتی ہے کہ تحریک انصاف کی عدم موجودگی یا کمزور پوزیشن کے نتیجے میں وہ کسی حد تک ملک کے بڑے صوبے میں اپنی پوزیشن بحال کر لے گی۔ عمران خان چاہ رہے ہیں کہ نواز لیگ بغیر نواز شریف کے انتخابات میں آئے، یہی سوچ نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کی کہ عمران خان کے بغیر تحریک انصاف انتخابی میدان میں ہو۔
تمام پارٹیاں اس پر متفق ہیں کہ وقت سے پہلے انتخابات نہ ہوں۔ تاریخ کا یہ المیہ ہے کہ ملک کی دو بڑی پارٹیوں کے رہنماؤں کے سیاسی کریئر کا فیصلہ عدالت میں محفوظ فیصلوں سے بندھا ہوا ہے۔پارلیمنٹ کے غیر موثر ہونے کی وجہ سے عدلیہ کا رول مزید بڑھ گیا ہے۔ سیاسی فیصلے پارلیمنٹ سے باہر لے جانے کے بعد یہ سوال بھی اہم ہے کہ عدلیہ بالادست ہے یا پارلیمنٹ سول ملٹری تعلقات میں جو کشیدگی نواز شریف کی حکومت آنے سے وقت سے تھی اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، یہ بحراں خواہ کسی بھی سمت میں حل ہوتا ہے، ان تعلقات میں بہتری کا امکان نظر نہیں آتا۔ سیاسی بحران کی وجہ سے اختیارات کا جھکاؤ مزیدعسکری حلقوں کی طرف ہو گیا۔ لیکن ایسا بھی نہیں لگتاکہ سیاسی نظام کو لپیٹا نہیں جارہا۔ ملک ایک نہ ختم ہونے والے سیاسی گھن چکر میں پھنستا نظر آتا ہے۔
پاناما گیٹ نے جہاں ’’ احتساب ہو نا چاہئے ‘ کے بیانیہ کو مقبول بنایا وہاں سیاسی اور نظام کا بحران بھی پیدا کیا۔ اس کا ایک اور نتیجہ یہ نکلا کہ ریاست کی مختلف شاخوں کے درمیان اختیارات میں عدم توازن پیدا ہوگیا۔ جو کہ مستقبل میں ملک کے سیاسی اور جمہوری عمل پر اثرانداز ہوگا۔ بلاشبہ عدلیہ بطور ثالث کے سامنے آئی ہے۔ سپریم کورٹ سیاسی جنگی حل کرنے کی جگہ بن گئی ہے۔
روزنامہ نئی بات ۔۔ کالم ۔۔۔ سہیل سانگی
۲۸ جولائی ۲۰۱۷
No comments:
Post a Comment