ایک بار پھر استعیفا تھراپی
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
ایک بار پھر استعیفا تھراپی سامنے آئی ہے۔ جس میں پچیس سے زائد اراکین اسمبلی کے استعیفا کااعلان سامنے آیا ہے۔ ابھی ہفتہ بھی نہیں ہوا کہآرمی چیف جنرل باجوہ نے سینیٹ میں پارلیمان کی بالادستی،آئین کی پاسداری، جمہوریت کے احترام اور سلامتی کے امور پر پارلیمنٹ کی رہنمائی پر اصرار کیا تھا۔ ان کے اس خطاب سے ان تمام لوگوں کی امیدوں پر اوس پڑ گئی تھی جو وقت سے پہلے انتخابات چاہتے تھے یا پھر طویل مدت کی نگراں حکومت۔ جنرل صاحب نے خطے کی صورتحال سے آگاہی دیتے ہوئے سعودی و ایرانی ممکنہ تصادم کا حصہ نہ بننے، بھارت سے بات چیت کی راہ اپنانے، افغانستان میں قیامِ امن اور امریکی صدر ٹرمپ کی پاکستان بارے سخت گیر پالیسی پہ بھی سینیٹ کو اعتماد میں لیا۔ اس کے بعد بعض رخوں پیش رفت سیاسی جماعتوں کی طرف سے یہ ہوئی ۔ پیپلزپارٹی سمیت دیگر جماعتوں کی حمایت کے نتیجے میں سینٹ میں حلقہ بندیوں سے متعلق چوبیسویں آئینی ترمیم منظور کر لی گئی۔ حکمران جماعت نواز لیگ جو شدید دباؤ میں اور زیر عتاب ہے اس نے نئی حکمت عملی اختیار کرلی۔ سیاسی جماعتیں الیکشن کے موڈ میں چلی گئی۔ِ میاں نواز شریف نے اگلے انتخابات کے لئے نواز لیگ کے لئے اپنے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف کو نامزد کردیا۔ سے یہ لگ رہا تھا کہ ملک پر غیر یقینی کیفیت ختم ہو رہی ہے۔ اس تمام کامطلب یہ بھی لیا جارہا تھا کہ میاں نواز شریف نے اپنی نااہلی کو تسلیم کر لیا ہے، بالفاظ دیگرے انہوں نے مائنس ون فارمولا تسلیم کر لیا ہے۔ پھر اچانک یہ خبر آئی کہ نواز شریف اپنے بھائی شہباز زریف کو وزیراعظم بنانے کی بات لوگوں میں کہنے سے گریز کر رہے ہیں۔ پارٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں فیصلہ پارٹی کی مجلس عاملہ کرے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ خبریں آنے لگیں کی شریف خاندان میں اختلافات ختم کرنے کے لئے خاندان کے بعض خیرخواہ درمیان میں آئے اور مریم نواز کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا عہدہ دینے کی پیشکش کی۔ بشرطیکہ کہ نواز شریف شہباز شریف کو وزیراعظم بنا لیں۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ مریم نواز کبھی بھی پنجاب کی وزیراعلیٰ نہیں بن سکتیں۔
نواز شریف نے اپنی عدالتی برطرفی کو ماننے کو تیار نہ تھے انہوں نے اسٹبلشمنٹ کو چیلنج کیا اور سویلین اقتدارِ اعلیٰ کی بحالی کی مہم چلارہے تھے۔ جبکہ میاں شہباز شریف محاذ آرائی کی پالیسی کے مخالف تھے۔ نواز شریف اپنا مقدمہ عوام کی عدالت میں پیش کررہے تھے۔ان کے حلقہ انتخاب یعنی نے اْن کا ساتھ دیا اور ان کی برطرفی پر ردعمل کا اظہار کیا۔ سب کوششیں ہو چکی۔ نہ پارٹی ٹوٹی اور نہ نواز شریف کو پارٹی صدارت سے فارغ کیا جاسکا۔لہٰذا شہباز اور چوہدری نثار کی مفاہمت اور مصلحت کی پالیسی نہیں چل سکی۔ نواز شریف کی پارٹی اور حکومت پر گرفت برقرار رہی ۔اچانک نواز شریف نے مزاحمتی حکمت عملی کو تبدیل کرکے نے شہباز شریف کو اگلے انتخابات کیلئے پارٹی کا وزیراعظم نامزد کرلیا۔ دو متضاد لائنیں چل رہی تھی۔ ایک طرف مزاحمت دوسری طرف شہباز شریف کو آگے کرنے کے ذریعے مفاہمت ۔ یہ ماجرا سمجھ میں نہیں آئی۔اب ایک طرف نواز شریف کی مزاحمتی لائن اور دوسری جانب افہام تفہیم کے نمائندہ شہباز شریف کی وزارتِ عظمیٰ کیلئے نامزدگیدو متضاد حکمت عملیاں سامنے آئیں۔
سینیٹ میں جنرل قمر جاوید باجوہ کے سینیٹ سے خطاب سے دو باتیں عیاں تھی۔ ایک یہ کہ منتخب ادارے قابلِ احترام ہیں اور جمہوری تسلسل جاری رہے گا اور دوسرا یہ کہ قومی سلامتی کے امور پر سول اور فوجی قیادت چیلنجوں کا مقابلہ کر نے کے لئے ایک صفحہ پر آنے کو تیار ہیں ۔ اصل معاملہ جنوبی وسطی ایشیا کی صورتحال ا تھی۔ کسی تجزیہ نگار نے خوب کہا ہے کہ یہی سوچ نواز شریف اور آصف زرداری کی بھی تھی۔ لیکن ان اس سوچ کو چلنے دیا گیا اور نہ انہیں۔
لگ رہا ہے کہ حالات کچھ بہتر ی کی طرف جارہے ہیں، لیکن خطرات کے گہرے سائے خطے پر موجود ہیں۔ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں بگاڑ پیدا ہونے جارہا ہے۔ امریکی نائب صدر امریکی نائب صدر نے افغانستان میں قائم امریکی فوجی اڈے بگرام میں خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان دہشت گردوں کو مبینہ طور پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہا ہے، تاہم یہ دن ختم ہوگئے اور اب امریکی صدر نے پاکستان کو نوٹس پر رکھ لیا۔ اس بیان سے صورتحال خراب ہوگئی۔ جس کے جواب میں وزیر دفاع خواجہ آصف کو ہی نہیں، چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی ا سمبلی کو بھی امریکہ کے حالیہ رویے کے بارے میں بیانات دینے پڑے۔
چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے نائب امریکی صدر مائیک پینس کی جانب پاکستان کو دی جانے والی دھمکی کے جواب میں کہا ہے کہ اب پاکستان کی دوسروں سے نوٹس لینے کی عادت نہیں رہی۔اسلام آباد میں منعقدہ 6 ملکی اسپیکرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے امریکا پر واضح کیا کہ پاکستان ایک خودمختار ملک ہے اور اسے اب دوسروں سے ہدایات لینے کی عادت نہیں رہی، چاہے وہ ہدایات امریکا سے ہی کیوں نہ آئیں۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ امریکا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو نظر انداز کر رہا ہے۔ اس سے ملتا جلتا بیان اسپیکر قومی اسمبلی یاز صادق کا ہے۔ ان دونوں رہنماؤں نے امریکہ کے خلاف موقف اختیار کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ پیپلزپارٹی نے رضا ربانی کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کر کے اسکو ان کا ذاتی موقف قرار دیا ہے۔ صدر ممنون حسین نے اسی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاک چین اتحادی راہداری (سی پیک) کی تعریف کی اور کہا کہ سی پیک خطے میں ایک نئی روح پھونک دے گا جبکہ پاکستان خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنا کردار با احسن و خوبی ادا کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پورے خطے کے ممالک کو سی پیک میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہے کیونکہ سی پیک کے فعال ہونے میں زیادہ دیر نہیں رہی۔وفاقی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے امریکی بیانات اور الزامات پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ کا بیان اقوام متحدہ میں سفارتی اور افغانستان جنگ میں ناکامی کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں الزام یا دھمکی نہ دیں، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہمارے تجربے سے سیکھیں۔ملک کے رہنماؤں کے ان بیانات سے لگتا ہے کہ سخت گیرامریکی موقف نے ایک بار پاکستان کو واپس پرانے بیانیے کی طرف دھکیل دیا ہے۔
لہٰذا اس کے اثرات ملکی سیاست پر بھی پڑ رہے ہیں۔اب صورتحال یہ ہے ۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نواز شریف کو کوئی نہیں بچاسکتا۔ پیرسیالوی کہتے ہیں کہ شہباز نے رانا ثنا کے استعفے کا مطالبہ پورا نہیں کیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے لاہو رمیں 16ممالک کے سفیروں اور قونصل جنرلز نے ملاقات کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اتوار کے روز ناشتے پر ہونے والی ملاقات دو گھنٹے تک جاری رہی۔ ملاقات کے دوران مختلف بین الاقوامی امور پر بات چیت کی گئی۔
نوازلیگ ایک مرتبہ پھر مخمصے کا شکار ہوگئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب میاں نواز شریف کھلے عام شہباز شریف کی بطور مستقبل کے وزیراعظم کے نام نہیں لے رہے ہیں۔ نواز شریف ان کے حمایوں کے پاس مضبوط دلیل یہ ہے کہ عمران خان کا توڑ نواز شریف ہی ہو سکتے ہیں نہ کہ شہباز۔اس ضمن میں وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا تاہ بیان اہمیت کا حامل ہے ان کا کہناہے کہ لڑائی سے کچھ نہیں ملے گا، سب ایک دوسرے کو معاف کریں۔ آرمی چیف جمہوریت کے حامی ہیں، ان کا حکم ماننے والے بھی اس پر عمل کریں۔ اب لوگوں کا فیصلہ چلے گا بند کمروں کا نہیں ، اقتدار اور پالیسی سازی پرآمرانہ سوچ کا قبضہ ہے ۔
Sohail Sangi Column
Nai Baat Dec 26, 2017