Tuesday, December 26, 2017

ایک بار پھر استعیفا تھراپی


ایک بار پھر استعیفا تھراپی

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
ایک بار پھر استعیفا تھراپی سامنے آئی ہے۔ جس میں پچیس سے زائد اراکین اسمبلی کے استعیفا کااعلان سامنے آیا ہے۔ ابھی ہفتہ بھی نہیں ہوا کہآرمی چیف جنرل باجوہ نے سینیٹ میں پارلیمان کی بالادستی،آئین کی پاسداری، جمہوریت کے احترام اور سلامتی کے امور پر پارلیمنٹ کی رہنمائی پر اصرار کیا تھا۔ ان کے اس خطاب سے ان تمام لوگوں کی امیدوں پر اوس پڑ گئی تھی جو وقت سے پہلے انتخابات چاہتے تھے یا پھر طویل مدت کی نگراں حکومت۔ جنرل صاحب نے خطے کی صورتحال سے آگاہی دیتے ہوئے سعودی و ایرانی ممکنہ تصادم کا حصہ نہ بننے، بھارت سے بات چیت کی راہ اپنانے، افغانستان میں قیامِ امن اور امریکی صدر ٹرمپ کی پاکستان بارے سخت گیر پالیسی پہ بھی سینیٹ کو اعتماد میں لیا۔ اس کے بعد بعض رخوں پیش رفت سیاسی جماعتوں کی طرف سے یہ ہوئی ۔ پیپلزپارٹی سمیت دیگر جماعتوں کی حمایت کے نتیجے میں سینٹ میں حلقہ بندیوں سے متعلق چوبیسویں آئینی ترمیم منظور کر لی گئی۔ حکمران جماعت نواز لیگ جو شدید دباؤ میں اور زیر عتاب ہے اس نے نئی حکمت عملی اختیار کرلی۔ سیاسی جماعتیں الیکشن کے موڈ میں چلی گئی۔ِ میاں نواز شریف نے اگلے انتخابات کے لئے نواز لیگ کے لئے اپنے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف کو نامزد کردیا۔ سے یہ لگ رہا تھا کہ ملک پر غیر یقینی کیفیت ختم ہو رہی ہے۔ اس تمام کامطلب یہ بھی لیا جارہا تھا کہ میاں نواز شریف نے اپنی نااہلی کو تسلیم کر لیا ہے، بالفاظ دیگرے انہوں نے مائنس ون فارمولا تسلیم کر لیا ہے۔ پھر اچانک یہ خبر آئی کہ نواز شریف اپنے بھائی شہباز زریف کو وزیراعظم بنانے کی بات لوگوں میں کہنے سے گریز کر رہے ہیں۔ پارٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں فیصلہ پارٹی کی مجلس عاملہ کرے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ خبریں آنے لگیں کی شریف خاندان میں اختلافات ختم کرنے کے لئے خاندان کے بعض خیرخواہ درمیان میں آئے اور مریم نواز کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا عہدہ دینے کی پیشکش کی۔ بشرطیکہ کہ نواز شریف شہباز شریف کو وزیراعظم بنا لیں۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ مریم نواز کبھی بھی پنجاب کی وزیراعلیٰ نہیں بن سکتیں۔
نواز شریف نے اپنی عدالتی برطرفی کو ماننے کو تیار نہ تھے انہوں نے اسٹبلشمنٹ کو چیلنج کیا اور سویلین اقتدارِ اعلیٰ کی بحالی کی مہم چلارہے تھے۔ جبکہ میاں شہباز شریف محاذ آرائی کی پالیسی کے مخالف تھے۔ نواز شریف اپنا مقدمہ عوام کی عدالت میں پیش کررہے تھے۔ان کے حلقہ انتخاب یعنی نے اْن کا ساتھ دیا اور ان کی برطرفی پر ردعمل کا اظہار کیا۔ سب کوششیں ہو چکی۔ نہ پارٹی ٹوٹی اور نہ نواز شریف کو پارٹی صدارت سے فارغ کیا جاسکا۔لہٰذا شہباز اور چوہدری نثار کی مفاہمت اور مصلحت کی پالیسی نہیں چل سکی۔ نواز شریف کی پارٹی اور حکومت پر گرفت برقرار رہی ۔اچانک نواز شریف نے مزاحمتی حکمت عملی کو تبدیل کرکے نے شہباز شریف کو اگلے انتخابات کیلئے پارٹی کا وزیراعظم نامزد کرلیا۔ دو متضاد لائنیں چل رہی تھی۔ ایک طرف مزاحمت دوسری طرف شہباز شریف کو آگے کرنے کے ذریعے مفاہمت ۔ یہ ماجرا سمجھ میں نہیں آئی۔اب ایک طرف نواز شریف کی مزاحمتی لائن اور دوسری جانب افہام تفہیم کے نمائندہ شہباز شریف کی وزارتِ عظمیٰ کیلئے نامزدگیدو متضاد حکمت عملیاں سامنے آئیں۔
سینیٹ میں جنرل قمر جاوید باجوہ کے سینیٹ سے خطاب سے دو باتیں عیاں تھی۔ ایک یہ کہ منتخب ادارے قابلِ احترام ہیں اور جمہوری تسلسل جاری رہے گا اور دوسرا یہ کہ قومی سلامتی کے امور پر سول اور فوجی قیادت چیلنجوں کا مقابلہ کر نے کے لئے ایک صفحہ پر آنے کو تیار ہیں ۔ اصل معاملہ جنوبی وسطی ایشیا کی صورتحال ا تھی۔ کسی تجزیہ نگار نے خوب کہا ہے کہ یہی سوچ نواز شریف اور آصف زرداری کی بھی تھی۔ لیکن ان اس سوچ کو چلنے دیا گیا اور نہ انہیں۔
لگ رہا ہے کہ حالات کچھ بہتر ی کی طرف جارہے ہیں، لیکن خطرات کے گہرے سائے خطے پر موجود ہیں۔ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں بگاڑ پیدا ہونے جارہا ہے۔ امریکی نائب صدر امریکی نائب صدر نے افغانستان میں قائم امریکی فوجی اڈے بگرام میں خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان دہشت گردوں کو مبینہ طور پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہا ہے، تاہم یہ دن ختم ہوگئے اور اب امریکی صدر نے پاکستان کو نوٹس پر رکھ لیا۔ اس بیان سے صورتحال خراب ہوگئی۔ جس کے جواب میں وزیر دفاع خواجہ آصف کو ہی نہیں، چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی ا سمبلی کو بھی امریکہ کے حالیہ رویے کے بارے میں بیانات دینے پڑے۔
چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے نائب امریکی صدر مائیک پینس کی جانب پاکستان کو دی جانے والی دھمکی کے جواب میں کہا ہے کہ اب پاکستان کی دوسروں سے نوٹس لینے کی عادت نہیں رہی۔اسلام آباد میں منعقدہ 6 ملکی اسپیکرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے امریکا پر واضح کیا کہ پاکستان ایک خودمختار ملک ہے اور اسے اب دوسروں سے ہدایات لینے کی عادت نہیں رہی، چاہے وہ ہدایات امریکا سے ہی کیوں نہ آئیں۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ امریکا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو نظر انداز کر رہا ہے۔ اس سے ملتا جلتا بیان اسپیکر قومی اسمبلی یاز صادق کا ہے۔ ان دونوں رہنماؤں نے امریکہ کے خلاف موقف اختیار کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ پیپلزپارٹی نے رضا ربانی کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کر کے اسکو ان کا ذاتی موقف قرار دیا ہے۔ صدر ممنون حسین نے اسی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاک چین اتحادی راہداری (سی پیک) کی تعریف کی اور کہا کہ سی پیک خطے میں ایک نئی روح پھونک دے گا جبکہ پاکستان خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنا کردار با احسن و خوبی ادا کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پورے خطے کے ممالک کو سی پیک میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہے کیونکہ سی پیک کے فعال ہونے میں زیادہ دیر نہیں رہی۔وفاقی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے امریکی بیانات اور الزامات پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ کا بیان اقوام متحدہ میں سفارتی اور افغانستان جنگ میں ناکامی کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں الزام یا دھمکی نہ دیں، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہمارے تجربے سے سیکھیں۔ملک کے رہنماؤں کے ان بیانات سے لگتا ہے کہ سخت گیرامریکی موقف نے ایک بار پاکستان کو واپس پرانے بیانیے کی طرف دھکیل دیا ہے۔
لہٰذا اس کے اثرات ملکی سیاست پر بھی پڑ رہے ہیں۔اب صورتحال یہ ہے ۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نواز شریف کو کوئی نہیں بچاسکتا۔ پیرسیالوی کہتے ہیں کہ شہباز نے رانا ثنا کے استعفے کا مطالبہ پورا نہیں کیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے لاہو رمیں 16ممالک کے سفیروں اور قونصل جنرلز نے ملاقات کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اتوار کے روز ناشتے پر ہونے والی ملاقات دو گھنٹے تک جاری رہی۔ ملاقات کے دوران مختلف بین الاقوامی امور پر بات چیت کی گئی۔
نوازلیگ ایک مرتبہ پھر مخمصے کا شکار ہوگئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب میاں نواز شریف کھلے عام شہباز شریف کی بطور مستقبل کے وزیراعظم کے نام نہیں لے رہے ہیں۔ نواز شریف ان کے حمایوں کے پاس مضبوط دلیل یہ ہے کہ عمران خان کا توڑ نواز شریف ہی ہو سکتے ہیں نہ کہ شہباز۔اس ضمن میں وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا تاہ بیان اہمیت کا حامل ہے ان کا کہناہے کہ لڑائی سے کچھ نہیں ملے گا، سب ایک دوسرے کو معاف کریں۔ آرمی چیف جمہوریت کے حامی ہیں، ان کا حکم ماننے والے بھی اس پر عمل کریں۔ اب لوگوں کا فیصلہ چلے گا بند کمروں کا نہیں ، اقتدار اور پالیسی سازی پرآمرانہ سوچ کا قبضہ ہے ۔

Sohail Sangi Column
Nai Baat Dec 26, 2017 

http://politics92.com/singlecolumn/53689/Sohail-Sangi/Aik-Bar-Phir-Istifa-Therapy.aspx

Monday, December 25, 2017

جنرل صاحب ان سینیٹ

Dec 22, 2017
Sohail Sangi
Nai Bat Column

جنرل صاحب ان سینیٹ 
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 

ملک اندرونی خواہ بیرونی خطرات میں گھرا ہوا ہے۔ دہشگردی کی آگ تمام تر کوششوں کے باوجود بجھائی نہیں جاسکی ہے۔ جنگ عوام کی حمایت کے بغیر نہیں جیتی جاسکتی۔ اور جو ادارہ عوام کی نمائندگی کرتا ہے وہ پارلیمنٹ ہے۔ عوام کے نمائندہ اس ادرے کی حالت یہ ہے کہ کسی بھی ملکی اور ریاستی ادارے نے اس کو اہمیت نہیں دی۔کہ یہ ادارہ اپنی بالادستی گنوا سکے۔ حد یہ ہے کہ حکومت بھی متعدد فیصلے اس ادارے سے باہر کرتی رہی ہے۔ پارلیمنٹ میں جو فیصؒ ے لانے چاہئے تھے وہ کابینہ میں ہوتے رہے اور کابینہ میں جو فیصلے ہونے تھے وہ فرد اوحد یعنی وزیراعظم کرتے رہے۔ 
سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی صاحب آرمی چیف کو منتخب ایوان کی گلی میں لے آئے۔ یہ ایک خوش آئند بات لگتی ہے کہ آرمی چیف نے ملک کے منتخب ایوان بالا میں آکر بریفنگ دی۔ افواہوں کا ایک طوفان تھا، بلکہ سونامی تھی جو سب کچھ بہا کر لے جارہی تھی۔ موجودہ صورتحال میں جب ملک میں افواہ سازی کی انڈسٹری اوور ٹائیم پر کام کر رہی تھی۔ بریفنگ خوش آئنداور اہم ہے۔ چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے ملک کے سیاسی بحران کی شدت میں اضافہ کے پیش نظر ماہ اگست میں ہی تجویز پیش کی تھی کہ ملک کے تین اہم ادارے پارلیمنٹ، فوج اور عدلیہ مل بیٹھیں، اور بحران کا حل تلاش کریں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے سینیٹ چیئرمیں کی اس تجویز کی حمایت کی تھی۔ لیکن پھر اس ضمن میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ہاں یہ ضرور ہوا کہ 18 ستمبر کو سینیٹ کی دفاعی کمیٹی نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا اورمیں آرمی چیف سے ملاقات کی تھی۔تجزیہ نگار دفاعی کمیٹی کے دورے کو آرمی چیف کے پارلیمنٹ میں آنے سے انکارسمجھ رہے تھے۔

اس موقع پر پیپلزپارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کا یہ بنیادی اعتراض تھا کہ جی
 ایچ کیو کو پارلیمنٹ میں آکربریفنگ دینی چاہئے۔ نہ کہ پارلیمانی کمیٹی کو جی ایچ کیو جانا چاہئے۔ بعد میں فرحت اللہ بابر نے ایک کمیٹی سے استعیفا دے دیا۔ اس دوران جنرلوں اور ججز کے احتساب کے بھی آوازیں سیاسی فضا میں یہ بھی اٹھنے لگیں۔ نئے مردم شماری کے عبوری نتائج کے بعد نئی حلقہ بندی آئینی طور پرلازم ہو گئی۔ جس کے بغیر 2018 کے انتخابات کا ہونا ناممکن لگ رہا تھا۔ 
نئی حلقہ بندی کے لئے آئینی ترمیم قومی اسمبلی نے تو منظور کر لی لیکن سینیٹ میں ترمیم کے لئے مطلوبہ کورم ہی پورا نہیں ہو رہا تھا۔یوں ایک ماہ تک حلقہ بندی سے متعلق آئینی ترمیم سینیٹ میں لٹکی رہی۔ سب سے برا اعتراض پیپلزپارٹی کو تھا، جو سندھ میں مردم شماری کے نتائج کو چیلینج کر رہی تھی۔ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ پیپلزپارٹی کی سینیٹ میں اکثریت ہے لیکن اگر باقی تمام جماعتیں مل جائیں تو عددی اعتبار سے یہ ترمیم منظور ہو سکتی تھی۔
ایسے میں اسپیکر قومی اسمبلی ایازصادق کا’’ مایوس کن‘‘ بیان سامنے آیا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کر سکے گی۔ یہ بیان بظاہر مایوس کن سمجھا جارہا ہے لیکن اس بیان کی یہ بھ تعبیر تھی کہ نواز لیگ حکومت کے خالف ایک ’’ بڑی سازش‘‘ ہو رہی ہے۔ اس سازش کے تانے بانے پنجاب میں مذہبی نعرے پرنواز لیگ کو دھرنوں کے ذریعے دائیں بازو کی حمایت سے محروم کرنے اور بعض اراکین اسمبلی کے استعیفا کے اعلانوں سے بھی ملتے ہیں۔ 

اس سیاسی حملے کے دو مقاصد تھے۔ ایک یہ کہ حکمران جماعت نواز لیگ اپنی قیادت تبدیل کرے۔ دوئم یہ کہ وہ اپنی پالیسی محاذ آرائی کے بجائے، افہام و تفہیم کی طرف لے آئے۔ اگر یہ دونوں اقدامات نہیں ہوتے، تو پھر بحران اپنی انتہا کی طرف جاتا نظر آرہا تھا۔
سینیٹ میں اس بریفنگ کے فورا بعد دو نکات پر پیش رفت نظر آئی۔ پہلی یہ کہ سینٹ نے اسی روز آئینی ترمیم منظور کر لی۔ دوئم یہ کہ دوسرے روز نوز لیگ کے صدر نواز شریف کا یہ بیان آگیا کہ پارٹی کاّ ئندہ وزیراعظم میاں شہباز شریف ہونگے۔ 
یہ درست ہے کہ مجموعی طور پر ملک کی سیاسی جماعتوں کا کردار جمہوری عمل کے تسلسل اور اس کو مضبوط بنانے کے لئے اتنا موثر اور قابل تعریف نہیں لگتا۔ لیکن سحالات اور واقعات نے سیاسی جماعتوں کو اس نہج پر کھڑا کر دیا ہے کہ وہ کچھ نہ کریں اور صرف اپنی جگہ پر کھڑی رہیں تب بھی معاملات صحیح سمت میں جا سکتے ہیں۔ ماضی میں اسٹبلشمنٹ ملک کی دو اہم پارٹیوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے اور جمہوری نظام کو کمزور رکنے بلکہ اس میں تعلطل پیدا کرنے میں کامیاب ہوتی رہی ہے۔ اس مرتبہ ایسا نہیں ہو سکا۔ اس کے لئے مذہبی نعروں پر دھرنوں کا سہارا لیا گیا۔ ایک اور مثبت بات یہ بھی ہوئی کہ ملک کی مین اسٹریم سیاسی مذہبی جماعتیں ان دھرنا دینے والوں کے ساتھ کھڑی نہیں ہوئی۔

اس دوران ایک اور عنصر بھی شامل ہوا، وہ یہ کہ امریکہ نے پاکستان کو آخری موقعہ دینے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی یہ بھی خطے میں روس اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر کو روکنے کے لئے توازن پیدا کیا جارہا ہے۔ خطے کی تبدیل شدہ صورتحال کا تقجا تھا کہ سیاسی و عسکری فریقین ایک صفحے پر کھڑے ہوں۔ 

بریفنگ میں پورے ایوان پر مشتمل سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ فوج جمہوری نظام کے حق میں ہے۔ پارلیمنٹ دفاعی اور خارجہ پالیسی بنائے۔ہم اس پر عمل کریں گے۔ حکومت جو کہے گی اس پر عمل کریں گے۔پارلیمنٹ کی بالادستی کو قبول کرتے ہیں۔ فوج پارلیمنٹ کے ماتحت ہے۔ ملک میں صدارتی نظام نہیں چل سکتا کیونکہ اس سے چھوٹے صوبوں کے حقوق متاثر ہونگے۔ خارجہ اور دفاعی پالیسی کے حوالے سے سیاسی فریقین کو تحفظات رہے ہیں اور یہ بھی شکایت کی جاتی رہی ہے کہ ان دو اہم امور میں سیاسی بازو کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔ 
اب جب آرمی چیف نے سینیٹ میں آکر یہ اعلان کیا ہے ، سیاسی فریقین کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ اب اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ آرمی چیف نے جن نکات کو اٹھایا ہے یا جن نکات کو واضح کیا ہے ملک کے تمام ادارے بشمول آرمی، پارلیمنٹ، سیاسی قوتیں اور عدلیہ یقینی بنائیں کہ ان پر معن و عن عمل ہو اور ملک بحران سے مکمل طور پر نکل سکے۔

Thursday, December 21, 2017

قیادت تبدیل کرنے کے لئے نواز لیگ پر دباؤ

Dec 19 

قیادت تبدیل کرنے کے لئے نواز لیگ پر دباؤ 
غیر یقینی صورتحال عروج پر
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
ایک غیر یقینی کی فضا ہے جو پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے۔ پہلے ٹی وی ٹاک شوز میں اخبارات کے کالمز میں یہ سوال پوچھے جاتے رہے کہ کچھ ہونے والا ہے، کیا ہونے والا ہے۔ اب منتخب نمائندے بھی یہ سوال پوچھ رہے ہیں۔ اس غیر یقینی صورتحال نے مختلف سطحوں پر حکومتی خواہ انتظامی فیصلہ سازی کو ہی نہیں عام زندگی کو اور معیشت کے پہیے کو بھی سست کردیا ہے۔ 
صرف سوالات ہی نہیں ایک ذہن بن گیا ہے ۔موجودہ حکومت اپنی آّ ئینی حکومت مدت پوری کر سکے گی ؟ سینیٹ کے الیکشن کا کیا ہوگا؟سیاسی نظام اور جمہوری عمل برقرار رہے گا یا ختم ہو جائے گا؟ نگراں سیٹ اپ آئینی طریقے سے تشکیل دیا جائے گا یا کوئی اور راستہ اختیار کیا جائے گا۔؟ الیکشن وقت پر ہو پائیں گے ؟ اگر نہیں تو کتنے عرصے تک نہیں ہونگے؟ طویل مدت کی نگراں حکومت کیسی ہوگی؟ کیا ٹیکنوکریٹ حکومت کی کیا صورتحال ہے؟ اس پورے سیاسی بحران میں عدلیہ کیا رول ادا کرے گی؟ 
اس غیر یقینی صورتحال کی باز گشت صرف عام اراکین پارلیمنٹ کی گفتگو میں سنانئی دیتی ہے بلکہ قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کے ان ارشادات ن کہ انہیں نہیں لگتا کہ کہ حکومت اپنی مدت پوری کریگی نے غیر یقینی صورتحال اور سیاسی دھند میں اضافہ رکردیا ہے۔ 
سیاسی جماعتوں کے اکابرین سے بات چیت سے مختلف امکانات کا پتہ چلتا ہے، جس میں زیادہ تر حصہ ان کی خواہشات کا ہوتا ہے۔ یہ سوچ اکابرین کی نہیں بلکہ عملی سیاستدان کی ہوتی ہے۔ یہ پہلا موقعہ نہیں کہ منتخب ایوان کے رکھوالے ایاز صادق نے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اس سے پہلے مختلف موقع پر سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی متعدد بار اپنی تقاریر ، میڈیا سے بات چیت اور خود یوان کے اندر اس طرح کے خیالات کا ا ظہار کر چکے ہیں۔ اور خطرے کی نشان دہی کر چکے ہیں۔ جب منتخب ایوان کے رہنما اس طرح کی بات کرتے ہیں تو یہ ان کی خواہش نہیں ہوتی۔ بلکہ جو انہیں معلومات ہوتی ہے اور جو ان کا ویزن ہوتا ہے اس کے پیش نظر بات کرتے ہیں۔ 
اس کے ساتھ ساتھ انہیں اس بات کا بھی اداراک ہوتا ہے کہ جس ایوان کی وہ نمائندگی کر رہے ہیں اس میں کتنا دم ہے۔ اس ایوان اور اس کے ایوان کی کیا قوت اور صلاحیت ہے۔ یہ قوت اور صلاحیت ایک تو انہیں آئین سے ملتی ہے۔ دوسرے اراکین ک جن پارٹیوں سے وابسہ ہوتے ہیں ان کی قیادت سے حاصل ہوتی ہے ۔ تیسرے خود ان منتخب اراکین کے اپنے سچائی سے بھی ہوتی ہے۔ یہی وہ صلاحیتیں ہیں جو کسی منتخب ایوان کے کردار کو متعین کرتی ہیں۔ 
اسپیکر قومی اسمبلی کے بیان کی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے فوری طورپر تردید کی ۔ جو کہ ضروری بھی تھی۔ لیکن ان کی یہ تردید نقصان کا مکمل طور پر ازالہ نہیں کر سکی۔ حکمراں جماعت نواز لیگ میں ابھی تک بحران جاری ہے۔ 
کئی مخالف جماعتیں اور اسٹبلشمنٹ مائنس نواز شریف فارمولا کے لئے کوشاں ہیں۔ یہ سمجھا جارہا ہے کہ نواز شریف کی قیادت میں نواز لیگ کو انتخابات میں شکست دینا آسان نہیں۔اور یہ بھی کہ نواز شریف کے عدم موجودگی میں پارٹی کے اندر مختلف گروپ اس طرح سے متحد نہیں رہ سکتے۔ لہٰذ ان کے نزدیک ا نواز شریف کو مائنس کرنا لازم ہے۔ اطلاعات اور واقعات کے مطابق پارٹی کے اندرایک دھڑا ایسا ہے جو مائنس نواز شریف فارمولے کو کسی قیمت پر قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہے جبکہ دوسرے دھڑا چاہتا ہے افہام و تفہیم سے کام لیا جائے۔ اور نواز شریف کی عملی سیاست میں واپسی کے لئے کسی اچھے وقت کا انتظار کیا جائے۔
عمران خان بڑے بڑے جلسے کرنے کے باوجود کئی معاملات سے پیچھا نہیں چھڑاسکتے۔ عمران خان جس نے کبھی بھی آمریت کو نہیں للکارا۔ مشرف کے حامی رہے۔ اور ہر مرتبہ انہوں نے سیاسی حکومتوں کو ہی چیلینج کیا۔ یہاں تک کہ انتخابی مہم کے دوران جہانگیر ترین کی نااہلی بھی ان کا پیچھا کرتی رہے کی۔
عملی صورتحال یہ بن رہی ہے کہ سپریم کورٹ کے دو مختلف بنچوں کی دو فیصلوں نے آئندہ ملکی سیاست کا جو رخ متعین کریا اس میں شہباز شریف اور عمران خان حریف ہوں گے۔ شہباز شریف ان زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہیں۔ 
انہوں نے حدیبیہ پیپر ملز میں سنائے گئے فیصلے پر اسی عدالت عظمی پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے جس پر ان کے پارٹی کے سربراہ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نوازعدم اعتماد کااظہار کرتے ہیں۔ 
جہانگیر ترین کو نااہل اور عمران خان کو اہل قرار دینے والے فیصلے میں ایک فاضل جج کے اضافے نوٹ مزید صورتحال واضح کردی ہے۔ جس میں نواز شریف کی جانب سے مختلف جلسوں میں اور میڈیا پر اٹھائے گئے سوالات کے جواب دیئے گئے ہیں۔ ایک جج کی طرف سے یہ اضافی نوٹ یا فیصلہ یقیننا یہ بات لگتی ہے کہ عدالت سے باہر کہی جانے والی باتوں کا جواب دیا جائے۔ 
ماہرین پانامااور عمران خان اور جہانگیر ترین کے مقدمے کے فیصلے میں دہرا معیار کا بھی ذکر کر رہے ہیں۔ اس طرح کے سوالات کا جواب چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایک سیمینار سے خطاب کے دوران دیا اور اپنے فیصلے کی وضاحت دینا پڑی۔ انہیں حلفیہ کہنا پڑا کہ عدلیہ پر کوئی دباو نہیں ۔ یہ درست ہے کہ عدلیہ کا احترام کیا جانا چاہئے۔ اور عدالتی فیصلوں پر رائے دینا آسان کام نہیں لوگ عدلیہ سے انصاف اور غیر جانبداری کی توقع کرتے ہیں۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ عدلیہ نہ صرف انصاف کرے بلکہ نظر بھی آنا چاہئے کہ کہ انصاف ہوا۔ کیا عدالتوں کو یا ججوں کو عدالت سے باہر اس طرح کی باتں کرنی چاہئیں؟ اس طرح کے مزید سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔ 
حدیبیہ پیپر ملز کے فیصلے کے بعد صورتحال مزید تبدیل ہوئی ہے کہ اب مفا ہمت اور مصلحت کی حکمت عملی چلانے والے شہباز شریف اور دیگر حضرات کونسا راستہ اختیار کریں گے۔ اس تمام صورتحال کے باوجود موجودہ حکومت کاآّ ئینی حکومت مدت مکمل کرنا ؟ سینیٹ کے الیکشن ،سیاسی نظام اور جمہوری عمل کے تسلسل کے سوالات اپنی جگہ پر موجود ہیں۔ایسے میں سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی کی جانب سے پورے ایوان بالا کو کمیٹی میں تبدیل کر کے آرمی چیف کی جانب سے بریفنگ کا بندوبست کرنا ایک اچھا شگون سمجھا جارہا ہے۔ میاں رضا ربانی کی یہ کوشش ان کے اس سوچ کا تسلسل ہے کہ ریاست کے اہم ادارے مل بیٹھیں اور ایک مشترکہ الئحہ عمل بنائیں۔ دیکھیں میاں رضا ربانی کی یہ کوشش کس حد تک غیر یقینی صورتحال کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے ؟

Dec 19 
Sohail Sangi 
Nai Baa
t

Friday, December 15, 2017

پیپلزپارٹی کی سیاست اور سندھ

Dec 15, 2017
Sohail Sangi Column
Daily Nai Baat

پیپلزپارٹی کی سیاست اور سندھ
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی

سندھ میں پیپلزپارٹی اور اس کی صوبائی حکومت کو نئی صورتحال کا سامنا ہے۔ اس مرتبہ کرپشن کے مقدمات یا وفاق سے تصادم یا اسٹبلشمنٹ سے براہ راست تنازع نہیں بلکہ بعض سیاسی محرکات کا سامنا ہے ۔ وہ ہیں چھوٹے بڑے شہروں میں پینے کے پانی اور نکاسی آب کی صورتحال اور دوسری ہے گنے کا بحران۔ جس نے دیہی معیشت کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔ ایک معاملے کا تعلق صوبے کی دیہی آبادی سے ہے اور دوسرے کا تعلق گزشتہ دو سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت اس کے بعض عہدیداروں اور افسران کے خلاف کرپشن کی تحقیقات چلتی رہی اور اس کرپشن کی کہانیاں میڈیامیں آتی رہی۔ بعض معاملات عدالتوں تک بھی پہنچے۔ لیکن اب ان سب معاملات میں فی الحال س خاموشی ہے۔
اس سے پہلے سندھ میں رینجرز کے اختیارات کے ساتھ ساتھ، رینجرز اور ایف آئی اہلکاروں کے کی جانب سے صوبائی محکموں پر چھاپے پڑتے رہے۔ سندھ حکومت احتجاج کرتی رہی۔پیپلزپارٹی ڈاکٹر عاصم اور شرجیل میمن کے خلاف بعض مقدمات کی وجہ سے گزشتہ کئی ماہ تک دباؤ میں تھی ۔سابق وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کی پونے چھ ارب روپے مالیت کی اشتہاری مہم میں کرپشن کا کیس عدلیہ کی حدود سے ’’ڈرامائی‘‘ گرفتاری ہوئی۔ گزشتہ دنوں ڈاکٹر عاصم ضمانت پر رہا ہو گئے۔ اور پارٹی عہدے سے استعیفیٰ دینے کے بعد بیرون ملک چلے گئے۔ تین ماہ تک حکومت سندھ اور اے ڈی خواجہ کے درمیان انتظامی و عدالتی جنگ چلتی رہی۔
بینظیر بھٹو ہاؤسنگ اسکیم میں میگا کرپشن کی گئی۔ اس اسکیم کے تحت دو مرحلوں میں ہر سال چھ ہزار بے گھر افراد کو گھر تعمیر کر نے تھے۔ معاملہ کا وزیراعلیٰ سندھ نے نوٹس لیا پھر بات آئی گئی ہو گئی۔ سیاسی اور حکومتی معاملات کے ساتھ ساتھ پارٹی قیادت کے کاروباری معاملات پر بھی چیک رکھا گیا۔ ایک پاور پلانٹ کو گیس کی سپلائی کا معاملہ اٹھا، پھر پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے تین کاروباری پارٹنر پراسرار طور پر لاپتہ ہوئے۔ جنہیں چند ہفتے بعد رہا کیا گیا۔ محکمہ انسداد رشوت ستانی سندھ کے مطابق ہیپٹائٹس پروگرام، خیرپور سرکٹ ہاؤس اور اسلام کوٹ ایئر پورٹ کی تعمیر سمیت 240 انکوائریز محکمہ انسداد رشوت ستانی کے پاس ہیں۔ ان الزامات میں 904 افسران ملوث بتائے جاتے ہیں۔
محکمہ تعلیم اور بلدیات میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کا معاملہ سید قائم علی شاہ کے وزارت اعلیٰ کے دور سے چل رہا تھا۔ یہ معاملہ نئے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ حتمی طور پر نمٹا نہ سکے۔ تھر میں پینے کے پانی سے متعلق آر او پلانٹس میں بھی مبینہ کرپشن کی شکایات کی محکمہ جاتی تحقیقات ہوئی تاہم پارٹی کے بعض بااثر افراد کے بیچ میں آنے کی وجہ کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ سندھ میں کرپشن کے بیانیئے کا چرچہ رہا۔ لیکن ٹھوس شکل میں تاحال کوئی چیز سامنے نہیں آئی۔ 
مردم شماری کے عبوری نتائج کے سندھ حکومت کو ایک اور موقعہ فراہم کیا۔صوبائی حکومت خواہ قوم پرست سیاسی جماعتوں کے تحفظات سامنے آگئے۔ لہٰذا صوبے میں پیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف جو بیانیہ چل رہا تھا اس میں تبدیلی آئی، اور سیاسی لڑائی کا رخ وفاق اور پنجاب کی طرف ہو گیا۔ 
پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت نے وفاقی حکومت کے ساتھ ذرا جارحانہ رویہ اختیار رکھا۔ خاص طور پر صوبے میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ، وفاق سے مالیات میں حصہ بطور مطالبے کے مانگا۔ صوبائی اسمبلی نے وفاقی ادارے نیب کے متوازی ادارہ بنانے کا قانون منظور کیا۔ جس میں صوبائی معاملات میں تحقیقات کا اختیار وفاق سے لے لیا گیا تھا۔ لیکن یہ ب معاملہ ابھی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ لیکن اس سے یہ ضرور ہوا کہ وفاقی ادارے نیب نے ’جارحانہ انداز‘‘ میں سندھ میں کارروائیاں روک دیں۔ 
سینکڑوں ایسے افسران اور اہلکار ہیں جنہوں نے نیب کے ساتھ پلی بارگین کیا۔ لہٰذاکرپشن کے ذریعے کمائی کے کچھ حصے کی نیب کو ’’رضاکارانہ‘‘ ادا کرنے کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ کرپشن کرکے ’’ یوں رضاکارانہ ادائگی‘‘ کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے پرعدالت نے برہمی کا بھی اظہار کیا تھا۔ نیب کو کرپشن کے ذریعے ہڑپ کی گئی رقم کی’’رضاکارانہ طور‘‘ پرواپسی اور عدلیہ کے نوٹس لینے نے پریشانی پیدا کردی۔ لیکن اس کے باجود پانچ سو کے لگ بھگ افسران مختلف اہلکار و افسران اپنے عہدوں پر کام کرتے رہے۔ عزیر بلوچ کے اعترافات ایک بار پھر سامنے آئے ۔ اسٹبلشمنٹ ایک وقت میں پیپلزپارٹی یا نواز لیگ کسی ایک پر ہاتھ ڈال سکتی تھی۔ کچھ حالا ایسے پیدا ہوئے، کچھ پارٹی نے اپنے کارڈز ٹھیک کھیلے۔ لہٰذا جب نواز لیگ کے خلاف معاملات چل رہے تھے، پیپلزپارٹی کے خلاف مواد کٹھا کیا گیااور تیاری کی جارہی تھی لیکن کارروائی نہیں کی گئی۔ اب حالات بدل گئے ہیں۔ لگتا ہے کہ جو الزامات اور تحقیقات ہوئی وہ کسی اور وقت کے لئے اٹھا کے رکھ دی گئی ہے۔ 
یہ تو تھے الزامات ، مقدمات، تحقیقات کے معاملے۔ لیکن دو اہم معاملات نے سر اٹھایا ہے جس سے پیپلزپارٹی آسانی سے خود کوبری نہیں کر سکتی۔ گنے کی قیمتوں پر کاشتکاروں اور شگرملز کے درمیان تنازع تیز ہو گیا ہے۔ گنے کی خریدری اکتوبر سے شروع ہونی تھی، اس کی تاحال ڈیڑھ ماہ گزرنے کے بعد بھی قیمتیں مقرر نہیں کی گئی ہیں۔ نتیجے میں پوری دیہی معیشت تعطل کا شکار ہے۔ صوبے کی دیہی آبادی عموما پیپلزپارٹی کی ووٹر ہے۔ گنے کے بحران کی وجہ سے پارٹی پر منفی اثرات کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ 
صوبے میں پینے کے پانی اور صفائی اور ڈرینیج کے ناقص انتظاما ت کا معاملہ جو سپریم کورٹ کے پاس زیر سماعت ہے۔ جہاں عدالتی حکم پر وزیراعلیٰ سندھ بھی حاضر ہو چکے ہیں۔ عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس اقبال کلہوڑو پر مشتمل مسلسل نگرانی کے لئے کمیشن تشکیل دے دیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے اور اس کمیشن کی رپورٹ نے سندھ حکومت کو بہت ہی دفاعی پوزیشن میں ڈال دیا۔یہ معاملہ صوبے کے چھوٹے بڑے شہروں اور رائے عامہ بنانے والے حلقوں میں پیپلزپارٹی کے خلاف ایک بیانیہ اور دلیل کے طور سامنے آیا۔ اس بیانیہ سے صوبائی حکومت جان نہیں چھڑاپارہی تھی۔ یہ سوال ات اٹھائے جارہے ہیں کہ چلیں کرپشن کے الزامات کو مخالفین کی پروپیگنڈہ کہہ کر مسترد کردیں۔ لیکن عوام کو حقیقی معنوں میں کیا ملا۔ ممکن ہے کہ آئندہ انتخابات میں اپوزیشن جماعتیں کرپشن کے معاملات اٹھائیں لیکن اس نعرے کو سندھ میں شاید اتنی مقبولیت نہ مل سکے۔ اس کے بجائے عوام کو کیا ملا اور کیا نہیں ملا یہ نعرہ زیادہ مقبولیت حا صل کرسکتا ہے۔

Dec 15, 2017
Sohail Sangi Column
Daily Nai Baat  

Friday, December 8, 2017

طاقت اور جمہوریت کے سرچشمے میں تبدیلی


طاقت اور جمہوریت کے سرچشمے میں تبدیلی

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی

پریڈ گراؤنڈ اسلام آبادمیں سابق صدر آصف علی زرداری عالم لوہار کے گائے ہوئے
 گیت پر اگر بھنگڑہ نہ بھی ڈالاتے تو بھی اس ریلی کے وہی سیاسی اثرات ہوتے تھے۔ لیکن سابق صدر کا یہ ڈانس ریلی کو عوامی سطح پر آیا۔ یہ عجیب بات ہے کہ وہ وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں اس کو عوامی سطح پر لایا گیا۔ پنجاب کے کسی شہر میں یا سندھ کے کسی دیہات میں ’’ہو جمالو‘‘ پر ڈانس نہیں کیا۔ سندھ کے لوگ جو گزشتہ برسہا برس سے پیپلزپارٹی کو ووٹ دیتے رہے ہیں۔ وہ پارٹی کے شریک چیئرمین کا یہ رقص دیکھنے کے منتظر رہیں گے۔ 



پیپلزپارٹی کی یوم تاسیس پر اسلام آباد میں منعقدہ یہ ریلی کئی حوالوں سے اہمیت کی حامل ہے۔ 2013 کے عام انتخابات کے بعد سابق حکمران پارٹی وفاقی د ارلحکومت میں کوئی بڑا سیاسی شو نہیں کر پائی تھی۔ ملک کے اندر سیاست اس طرح کی ہو رہی تھی جس میں نواز لیگ یا پھر تحریک انصاف ہی میدان میں نظر آرہی تھیں۔ مختلف مواقع پر پیپلزپارٹی نے آگے آنے کی کوشش کی لیکن سیاست کے بڑے بحث میں اس کو جگہ نہیں مل رہی تھی۔ اور جب کبھی کوئی جگہ بنتی بھی تھی تو سندھ حکومت کی کارکردگی اور سندھ میں مختلف شعبوں میں کرپشن کے الزامات کے تحت اداروں کی کارروائی کے ہاتھوں اس کو پیچھے ہٹنا پڑتا تھا۔

2013 کے عام انتخابات کے بعد پیپلزپارٹی نے صرف سندھ تک محدود ہو گئی لیکن اس نے نواز لیگ کی مخالفت میں جارحانہ رویہ رکھنے کے بجائے دوستانہ پالیسی رکھی۔ پیپلز پارٹی سمجھتی تھی کہ پنجاب میں بنیاد رکھنے والی نواز لیگ کو کمزور کرنا مشکل ہے۔ لہٰذا وہ اس بات کا انتظار کرتی رہی کہ نواز لیگ خود اپنی غلطیوں یا اپنے ہی وزن تلے جھک جائے۔ اسٹبلشمنٹ سے محاذ آرائی کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کے دھنروں کے ذریعے مسلسل حملوں اور پاناما کیس ن میں میاں نواز شریف کی بطور وزیراعظم برطرفی نے وقت سے پہلے ایسی صورتحال پیدا کردی۔

نواز شریف کے ساتھ اسٹبلشمنٹ کی محاذ آرائی کے دوران جمہوریت کے تسلسل اور سویلین بلادستی کے نعرے پر کمزور ہونے کے بجائے مضبوط ہورہی تھی۔ نواز شریف اسلام آباد میں کمزور ہورہے تھے لیکن پنجاب میں مضبوط ہورہے تھے۔ پنجاب پر جمہوری اور لبرل سوچ حاوی ہونے جارہی تھی۔ ساٹھ کے عشرے اور ذوالفقار علی بھٹو کے بعد یہ پہلا موقعہ تھا کہ پنجاب میں یہ فکر دوبارہ پروان چڑھ نے لگا تھا۔اس سوچ کو ووٹ میں تبدیل ہونا ذرا مشکل اور طویل عمل تھا۔ اسٹبلشمنٹ کو یہ ضرورت پیش آئی کہ وہ عوام اور ووٹر کی سطح پر نواز لیگ سے نمٹے۔ فیض آباد دھرنے کو اس پس منظر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ جس کے فورا بعد لاہور میں بھی اسی بیانیہ پر دھرنا لگایا گیا۔ یہ نواز لیگ کے ووٹ بینک پر وار تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس دھرنے نمٹنے کے لئے نواز لیگ گومگو کا شکار رہی۔
فیض آباد دھرنے کے بعد یہ تاثر پختہ ہورہا تھا کہ اب مذہبی جماعتیں اور مذہبی بیانیہ ملک کی سیاست پر خاص طور پر اسلام آباد پر حاوی رہے گا۔ حکمران جماعت اس معاملے میں صحیح طور پر کردار ادا نہ کرسکی۔ جس کی وجہ سے ایک خلاء پیدا ہوا۔ ایسے میں پیپلزپارٹی کو موقعہ ملا کہ وہ اس خلاء کو پر کرے جو نواز لیگ نے فیض آباد اور لاہور کے دھرنوں کے بعد اپنی پالیسی اور حکمت عملی دائیں بازو کی طرف رکھنے کی وجہ سے پیدا کیا تھا۔ پیپلز پارٹی نے اپنی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر وفاقی دارالحکومت میں ریلی منعقد کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ ملک میں لبرل ازم کی بھی بات کی جاسکتی ہے۔ اس کا اظہار اور بیانہ ملک میں اتنا ہی مضبوط ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں اسلام آباد میں کسی سرگرمی کو تیار نہیں تھی۔ خود نواز لیگ بھی۔ پیپلزپارٹی نے پیش رفت کی۔ 
ایک زمانہ تھا جب لوگ سیاسی دباؤ ڈالنے کے لئے عوام سے رجوع کرتے تھے۔ عوام کے پاس جاتے تھے۔ شہر شہر جلسہ کرتے تھے۔ ذوالفقارعلی بھٹو نے ایوب خان کے خلاف بھی بڑے بڑے جلسے کئے۔ مشرقی پاکستان جب تک بنگلادیش نہیں بنا تھا شیخ مجیب نے بھی عوام کی حمایت اور اس حمایت کے اظہار کے لئے بنگال میں جگہ جگہ جلسے کئے تھے۔ بھٹو نے اقتدار میں رہتے ہوئے بھی عوام سے رجوع کرنے کے لئے جلسے کئے۔ یہاں تک کہ بنگلادیش کو تسلیم کرنے اور بھارت سے شملہ معاہدہ کرنے کے لئے بھی جلسوں کے ذریعے عوام سے رجوع کیا تھا۔ لیکن اب عوام کو موبلائیز کرنے کے بجائے اپنے حامیوں کو مختلف رہنما انہیں وفاقی دارالحکومت بلاتے ہیں۔ 
ججز کی بحالی کے لئے نواز شریف نے بھی لاہور سے اسلام آباد تک مارچ کیا۔ لیکن آدھے راستے میں بات مک گئی۔ عمران خان نے دو مرتبہ اسلام آباد کا رخ یا، اور سیای طاقت کا مظاہرہ دارلحکومت میں کیا۔ 
برطرفی کے بعد نواز شریف کا جی ٹی روڈ بھی اسی ضمن میں شمار ہوتا ہے۔ 
کہتے ہیں کہ کراچی سے وفاقی دارلحکومت تبدیل کر کے اسلام آباد کا نیا شہر بسا کے دارلحکومت قائم کرنے کے پیچھے سیاسی مقصد یہ تھا کہ کراچی صنعتی شہر ہے۔ یہاں مزدور اور شہری زیادہ سرگرم ہیں۔ حکومت ان کے دباؤ میں جلدی آجاتی ہے، لہٰذا دارلحکومت ایسی جگہ پر ہو جہاں اس طرح کا حتجاج اور دباؤ نہ ہو۔ اب تو بڑی بڑی سیاسی جماعتیں اسلام آباد میں ہی اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ یعنی سیاستداں عوام سے رجوع کرنے کے بجائے اسٹبلشمنٹ سے یا حکمرانوں سے رجوع کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ بھی لیا جاسکتا ہیکہ اب جمہوریت اور طاقت کا سرچشمہ عوام نہیں بلکہ اسٹبلشمنٹ ہے۔
آصف زرادری کا ڈانس جہاں لوک ترنگ کا اظہار کرتا ہے وہاں اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ اب صورتحال اس کی حق میں تبدیل ہورہی ہے۔ اس جلسے سے آصف زرادری کا اچانک خطاب بھی اس دلیل کی تائید کرتا ہے کیونکہ پروگرام کے مطابق جلسے سے بلاول بھٹو زرادری کو ہی خطاب کرنا تھا۔
سابق صدر زرداری کا وقت سے پہلے انتخابات کا مشورہ، نواز لیگ حکومت پہلے ہی ہار مان لے، کیا پتہ عبوری حکومت تک نہ رہے۔نواز شریف کو بچانے کے بجائے اب خود آگے آنے کا اعلان جیسے کلمات کو تجزیہ نگار اہمیت دے رہے ہیں۔ گزشتہ دس روز سے نگراں حکومت کے قیام کی باتیں ہورہی تھی، جس کے جواب میں آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ آئین سے بالاتر اقدام نہیں
ہونا چاہئے۔ یعنی نگراں حکومت وزیراعظم اور اپوزیشن ( نواز لیگ اور پیپلزپارٹی ) کی باہمی مشاورت سے بنے۔ حالیہ موقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلزپارٹی اپنے اس موقف سے پیچھے ہٹی ہے اور نگراں حکومت کسی اور طرح سے بھی قائم کرنے کے لئے تیار ہوگئی ہے۔ 
لہٰذا گزشتہ ہفتے تک پیپلزپارٹی جمہوری تسلسل کے لئے نواز لیگ کے ساتھ کھڑی تھی، اب وہ اس کی مخالفت میں کھڑی ہو گئی ہے۔ پاکستان کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کا خیال ہے کہ ملکی سیاست میں حالیہ تبدیلی دراصل اسٹبلشمنٹ کی کمزوری کو طاہر کرتی ہے۔ کیونکہ ماضی میں اسٹبلشمنٹ سیاسی جماعتوں سے جوڑ توڑ کر کے انہیں ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کردیتی تھی۔ لیکن اس مرتبہ کوئی بھی مین اسٹریم کی سیاسی جماعت اسٹبلشمنٹ کے ساتھ نہیں کھڑی ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ جذباتی اور مذہبی بیانیہ کا سہارا لیا گیا۔ہ پیپلزپارٹی کی حالیہ پالیسی اسٹبلشمنٹ کے لئے معاون بنے گی۔ پیپلزپارٹی کے لئے ایک پنتھ دو کاج کی صورتحال بن گئی۔ وہ اس کا اظہار اسلام آباد میں ہی کرنا چاہتی تھی۔ 
نئی بات آٹھ دسمبر دوہزار سترہ
Nai Baat 
Sohail Sangi Column

http://politics92.com/singlecolumn/53054/Sohail-Sangi/Taqat-Aur-Jamhoriyat-Ka-Sar-Chashma-Tabeel.aspx 

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/53054/Sohail-Sangi/Taqat-Aur-Jamhoriyat-Ka-Sar-Chashma-Tabeel.aspx

Thursday, December 7, 2017

طویل مدت کی نگراں حکومت کے قیام کی راہ


طویل مدت کی نگراں حکومت کے قیام کی راہیں

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ایک روز پہلے یہ ریمارکس دیئے اور کہا کہ کیا فوج کو حکومت اور مظاہرین کے درمیان ثالثی کا اختیارہے؟ جن کو سیاست کرنی ہے وہ ملازمت چھوڑ کر یہ کام کیرں۔ دوسرے روز لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس قاضی محمد امین احمد نے ریمارکس دیئے ہی کہ فوج نے مصیبت سے نکالا، کردار ادا نہ کرتی تو کتنی لاشیں گرتیں۔
دھرنے کے اور ا دھرنا لگانے والوں کے مطالبات کی منظوری اور جس طرح سے یہ مطالبات منظور ہوئے ان کے بارے میں نہ صرف عدالتیں سوال کر رہی ہیں۔ ن معاملات کا فوری طور ملکی سیاست پر جو اثرات ہوئے سو ہوئے لیکن طویل مدت میں ملک کی سیاست اور حکمرانی سے لیکر طرز زندگی اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہونگے۔ یہ ایک طویل فہرست ا ہے۔ اگر ایک جملے میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ دھرنا سیاست نے ملک میں جمہوری نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بعض ماہرین یہاں تک کہتے ہیں کہ ملک واپس ضیاء دور میں چلا گیا ہے نواز لیگ نے دھرنے سے متعلق پارلیمانی جماعتوں کے کردار کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشکل پڑنے پر تمام جماعتوں نے سیاست چمکائی ہے جبکہ پارٹی کے صدر وسابق وزیراعظم نواز شریف نے دھرنے سے متعلق وزارت داخلہ کے اقدامات پر عدم اطمینان اظہار کیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دھرنے کو درست انداز میں ہینڈل نہیں کیا گیا۔ آپریشن کی ناکامی سے حکومت کی سبکی ہوئی،‘دھرنے کے پیچھے کون تھا‘معاہدے کے نکات کس نے طے کئے ‘ذمہ داروں کا تعین کیاجائے یہ تفصیلات وزیر داخلہ احسن اقبال نے سے ان کو علیحدگی میں بتائی۔ 
مسلم لیگ (ن) کی مشاورتی اجلاس میں پارٹی رہنماؤں نے وزیر قانون کے استعفیٰ کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیاان کا ماننا ہے کہ بائیس دن بعد زاہد حامد کے استعفیٰ سے اور دھرنا قائدین کے مطالبات ماننے کے باعث حکومت کی رٹ کمزور ہوئی پارلیمانی جماعتوں کے عدم تعاون کی وجہ سے زاہد حامد کو وزارت کی قربانی دینا پڑی۔
مردم شماری کے عبوری نتائج کی روشنی میں اسمبلیوں کی حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی ترمیم حکومت منظور نہیں کراسکی ہے۔17 نومبر کو قومی اسمبلی کی منظور کردہ اس ترمیم کے لئے سنیٹ کا اجلاس طلب کیا گیا تھا۔ چار مرتبہ سنیٹ کے اجلاس میں یہ ترمیم پیش کرنے کی کوشش کی گئی لیکن سینیٹرز کی مطلوبہ تعدادحاضر نہ ہونے کی وجہ سے یہ ترمیم منظور نہیں کی جاسکی۔ گزشتہ روز تمام تر کوششوں کے باوجود ایوان میں 65 اراکین موجود تھے۔ جبکہ ترمیم کے لئے دو تہائی یعنی 69 اراکین کی حمایت ضروری ہے۔ پیپلزپارٹی کو حلقہ بندیوں کے مجوزہ قانون پر تحفظات ہیں۔ حکومت یہ تحفظات دور کرنے میں ناکام رہی، اس کے بغیر پیپلزپارٹی جس کو ایوان بالا میں اکثریت حاصل ہے اس بل کی حمایت کرنے سے انکار کردیا ہے۔ 
مردم شماری سے متعلق پیچیدگیوں کی وجہ سے آئندہ عام انتخابات کے انعقاد میں تاخیر ہو سکتی ہے۔حکومت اور اپوزیشن مطلوبہ آئینی ترمیم کی منظوری کے ایشو پر بٹی ہوئی ہیں۔ قومی اسمبلی نے اگرچہ آئینی ترمیم کی منظوری دیدی ہے لیکن یہ قانون سینیٹ تک نہیں پہنچ پا رہا کیونکہ ارکان کی مطلوبہ (دو تہائی) تعداد دستیاب نہیں ہے۔ 29 اگست کو الیکشن کمیشن نے وزارت قانون کی توجہ مردم شماری 2017ء کے نتیجے میں آئندہ عام انتخابات کے بروقت انعقاد کے حوالے سے پیدا ہونے والے آئینی نوعیت کے سوالات کی جانب مبذول کرائی تھی۔ تیرہ اگست کو منعقدہ مشترکہ مفادات کی کونسل نے حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی بل لانے کی منظوری دی تھی۔ پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ اس بل کو پہلے مشترکہ مفادات کی کونسل سے منظور کرانا چاہئے۔ 
ایک طرف پیپلزپارٹی پر حلقہ بندیوں سے متعلق ترمیم منظور نہ کرانے کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔ اور سیاسی جماعتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔دوسری طرف پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی کا ماننا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کا دفاع کریں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ ملک میں ابھرتے ہوئے رجحانات ریاست کے لیے خطرناک ہیں جبکہ بتایا جائے حکومت فوج کو بلانے اور معاہدہ کرنے پر کیوں مجبور ہوئی؟
22 دن اسلام آباد اور راولپنڈی یرغمال بنے رہے، دھرنے کے شرکاء سے معاہدہ اور اسلام آباد میں فوج کو طلب کیا گیا، وزیر قانون زاہد حامد عہدے سے مستعفی ہوگئے، ملک میں اتنا کچھ ہوا لیکن پارلیمنٹ کو کسی فیصلے سے متعلق اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ یہ شکایت سینیٹ کے چیئرمین نے بھی کی ایوان میں کی۔ 
وزیر اعظم ملکی صورتحال سے زیادہ اہم جدہ اور ریاض جانا اہم سمجھا۔ وزیرداخلہ 15 منٹ کے نوٹس پر عدالت میں پیش ہوسکتے ہیں تو پارلیمنٹ میں کیوں نہیں، جبکہ وزیر اعظم کو خود ایوان میں آنا چاہیے۔ اگرچہ سینیٹ کا اجلاس چل رہا تھا۔ یوں پارلیمنٹ کی توقیر کا خود حکومت نے بھی خیال نہیں رکھا۔ وہ ایک غیر متعلقہ ادارہ بنتی جارہی ہے۔
سیاسی قوتیں نہ دھرنے کا معاملہ اور نہ ہی حلقہ بندیوں کا معاملہ طے کر پارہی ہیں۔ اب سینیٹ کا اجلاس ملتوی ہو گیا ہے۔ اس بحران کو حل نہیں کر پارہی ہیں۔ 
چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے اگست میں ملک کو بحرانوں سے نکالنے اور مسائل کے حل کے لیے ریاستی اداروں کو مذاکرات کی دعوت دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ملک اداروں کے درمیان تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا اور ملکی مسائل کا قابل قبول حل نکالنے کے لیے ایگزیکٹو، پارلیمنٹ اور عدلیہ کے درمیان مذاکرات ضروری ہیں۔انہوں نے اس مقصد کے لئے سینیٹ کے فورم کی پیشکش کی تھی۔ اگرچہ اس پیشکش کو حکمران جماعت نواز لیگ نے قبول کیا تھا۔ لیکن باقی دو ریاستی اداروں کی جانب سے مثبت جواب نہ ملنے کی وجہ سے یہ پیشکش کوشش ناتمام رہی۔ اور اداروں کے درمیان خلیج بڑہی۔ جس کا اظہار فیض آباد کے دھرنے کے موقعہ پر کھلم کھلا نظر آیا۔ 
سیاسی جماعتوں کے اختلاافات کو سیاسی انتشار کا نام دے کر اس صورتحال میں وقت سے پہلے موجودہ حکوت کو ختم کرنے کی باتیں چل رہی ہیں۔ اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ عبوری حکومت کے لبادے میں طویل مدت کی عبوری حکومت قائم کردی جائے۔ 
میڈیا کا ایک حصہ یہ بھی کہہ رہا ہے کہ نگران وزیراعظم کے عہدے کی تلاش شروع ہو چکی ہے۔ پیپلزپارٹی نے اس سرگرمی کو بھانپ لیا ہے۔ اس کے جواب میں سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سیاسی تبدیلی آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے ذریعے آنی چاہیے۔ انہوں نے جوڑ توڑ کے ذریعے سیاسی تبدیلی کی ہمیشہ مخالفت کی ہے۔ ان کا مزید کہناتھا کہ سیاسی انجینئرنگ اور مذہبی نسل پرستی تھوپنے کی مخالفت کرتے رہیں گے،پیپلز پارٹی عوام کیاختیارات غصب کرنے کے خلاف مزاحمت کا عہد کرتی ہے۔
آئینی طور پر وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کونگران وزیراعظم نامزد کرنا ہے ۔ لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ ان دونوں حضرات کو علم ہی نہیں کہ نگراں وزیراعظم شاید تلاش بھی کر لیا گیا ہے۔ یعنی آئین سے بالاتر راستہ اختیار کیا جارہا ہے۔چوہدری شجاعت حسین بھی کہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کا نامزد کردہ نگراں وزیراعظم انہیں منظور نہیں۔یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب تحریک انصاف اور اس کے ہمنواقبل از وقت الیکشن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایسے میں یہ بھی کوشش کی جارہی ہے کہ مارچ 2018ء میں سینیٹ کے انتخابات سے قبل موجودہ حکومت گھر چلی جائے گی۔ کیونکہ سینیٹ کے انتخابات موجودہ اسمبلیوں کے ذریعے کرانے کی صورت میں نواز لیگ کو سینیٹ میں اکثریت حاصل کر لے گی۔ 
ایک طرف موجودہ حکومت کو مدت مکمل کرنے سے پہلے ہٹانے کی راہ ہموار کی جارہی ہے دوسری طرف حلقہ بندیوں سے متعلق آئنی ترمیم منظور کرنے میں سینیٹ کی ناکامی کی وجہ سے بروقت الیکشن کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔
یوں طویل عرصہ کیلئے نگراں حکومت کے قیام کی راہ ہموار ہوگی۔

Nai Baat Dec 1, 2017 
Sohail Sangi
Column