Thursday, May 26, 2016

نواز شریف سے ہی کام چلانا ہے



 نواز شریف سے ہی کام چلانا ہے
نواز حکومت کے تین سال کیسے گزرے؟

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 

پہلا موقعہ ہے کہ نواز لیگ نے حکومت کے تین سال مکمل کر لئے۔ وہ اپنے تئیں یقیننا اس کو ایک بڑا کارنامہ سمجھتی ہے ۔ ورنہ تیسرے سال کے دوران ہی ان کی حکومت کو چلتا کر دیا جاتا تھا۔ اس سے قبل ایک بار تو بہت ہی بھاری مینڈیٹ کے ساتھ، لیکن وقت سے پہلے ان کی حکومت ختم کردی گئی۔ 

بظاہر یہ اسٹبلشمنٹ سے مسلسل کشیدگی اور تصادم کی وجہ سے ہوا۔ یہ نوے کا عشرہ تھا جب ملک کی دو بڑی جماعتیں پیپلزپارٹی اور نواز لیگ ایک دوسری کی ٹانگیں کھینچ رہی تھی۔ وہ انتخابات تک صبر نہیں کر پار ہی تھیں۔ اس کو سیاسی جماعتوں کی نا بلوغت سے تعبیر کیا جاتا ہے کہ وہ باہر کی قوتوں کو مداخلت کی دعوت دیتی رہیں یا ان کی حوصلہ افزائی کرتی رہیں۔ 

لیکن جب مشرف نے دونوں جماعتوں کا باہر رکھنے اور نئے پاور بروکرز سیاست کے میدان میں اتارنے کا فارمولا بنایا تو ان دوجماعتوں کو بات سمجھ میں آئی۔دیکھا جائے تو ابھی بھی نئے پاور بروکرز کا ڈر ہی ان دونوں جماعتوں ایک دوسرے کے قریب رکھے ہوئے ہے۔ 

تیسری مرتبہ اقتدار میں آنے کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے کراچی میں وفاقی حکومت کی نگرانی میں دہشتگردوں، ٹارگیٹ کلرز، بھتہ خوری وغیرہ کے آپریشن شروع کر دیا۔ بعد میں اس آپریشن کا دائرہ کرپشن، چائنا کٹنگ تک بڑھا دیا گیا ۔ رینجنرز کو پولیس کے اختیارات دینے کے معاملے پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تنازع کھڑا ہوا۔

 وزیراعظم اس معاملے میں پیپلزپارٹی اور سندھ حکومت کا ساتھ نہ دے سکے۔ یہاں سے نواز لیگ کی سیاسی تنہائی شروع ہو گئی۔
باقی معاملات میں خواہ مختلف نقط نظر ہو لیکن کراچی کی حد تک نواز لیگ کی حکومت کو عسکری قوتوں کی بھرپور حمایت رہی۔

 خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف اور سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت رہی، یہ دونوں جماعتیں وفاق میں اپوزیشن جماعتیں رہیں۔ اس وجہ سے صوبائی تضاد بھی بڑھا۔ 
دوسرے سال کے دوران نواز لیگ حکومت کو دو بڑے چیلینجز کا سامنا کرنا پڑا۔ عمران خان اور طاہر القادری نے نے اپنے حامیوں سمیت دسمبر اور اگست 20014 میں پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے دھرنے دیئے او لاہور سے لانگ مارچ کیا۔ یہ احتجاج مجبورا آرمی پبلک اسکول پشاور کے سانحے کے بعد ختم کرنا پڑا۔ اس واقعہ کے بعدسیاسی قوتوں کو بٹھایا گیا کہ وہ پہلے دہشتگردی کے واقعات کا حل نکالیں۔ 

عمران خان کے احتجاج اور مطالبے پر 2015 میں قائم کی گئی انکوائری کمیشن نے نواز لیگ کو دھاندلی کے الزامات سے بری کر دیا۔تاہم یہ تمام عرصہ حکومت سخت دباﺅ میں رہی اگر انکوائری کمیشن کا فیصلہ حکومت کے خلاف آتا تو تیسرے سال ہی نواز لیگ حکومت کو گھر بھیج دیا جاتا۔ 

اگرچہ پاناما اسکینڈل نے حکومت کو گہری ضرب پپہنچائی ہے۔ لیکن اکثر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اب چونکہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس ہے جو تحقیقاتی کمیشن کے ٹی او آ رز بنائے گی، اس کے بعد یہ معاملہ بطور گرم سیاسی اشو کے نہیں رہے گا۔ 
سیاسی قوتوں میںتمام اختلافات اور کشیدگیوں کے باوجود یہ رائے حاوی ہے کہ کسی بھی غیر جمہوری قدم کی حمایت نہیں کریں گی۔ 

اگر یہ اتفاق رائے یوں ہی چلتا رہا تو نواز لیگ اپنی آئینی مدت مکمل کر لے گی۔ یہ رائے اس وجہ سے بھی بنی ہے کہ نواز شریف کو” کنٹرول اور ضابطے “میں رکھنا بہت سے حلقوں کا مقصد ہو سکتا ہے لیکن اس کو ہٹا کر عمران خان کو بٹھائیں، اس پر سیاسی خواہ غیر سیاسی حلقوں میں اتفاق رائے نہیں۔ پھر کیا فوج اقتدار سنبھال لے یاپیپلز پارٹی؟ اس میں بھی بہت سارے اگر مگر ہیں۔
 لہٰذا بات اس پر آکر ٹہر گئی ہے کہ فی الحال اس جھنجھٹ میں پڑنے کے بجاے نواز شریف سے ہی کام چلانا چاہئے۔ 

سیاسی قوتیں ایک صفحے پر بھلے نہ ہوں لیکن قریبی صفحوں پر ضرور ہیں۔ چند ہفتوں سے حکمران جماعت اور اپوزیشن کے درمیان سخت کشیدگی ہے۔ لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے سربراہ اور ممبران کی اہلیت سے متعلق بائیسویں آئینی ترمیم پر تمام جماعتیں متفق ہو گئیں اور اس ترمیم کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔ یہ امر دلچسپ ہے کہ ابھی ایک سال پہلے تک الیکشن کمیشن پر الزامات عائد ہوتے رہے اور انتخابات میں دھاندلی پر عمران خان نے بڑی تحریک چلائی تھی۔ 

نواز حکومت کے تین سال کے سفر میں دو سال زیادہ مشکل رہے۔انہیں سول ملٹری اختیار کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں خاصی دقت کا سامنا کرنا پڑا۔ نواز حکومت کو مختلف مواقع پر پیچھے ہٹنا پڑا۔نہ چاہتے ہوئے بھی ریٹائرڈ جنرل مشرف بیرون ملک جانے کی اجازت دینی پڑی۔ پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے سویلین اور عسکری نقطہ نظرالگ الگ ہیں۔ یہ وہ نقطہ ہے جہاں سب سے پہلی دراڑ پڑی ۔ اس کی گاہے بگاہے جھلک مختلف مواقع پر نظر آ تی رہتی ہے۔ 

 دہشتگردی کے خلاف پنجاب میں اقدامات کئے جانے ہیں۔ سویلین حکومت ایک طرح سے چیزیں کرنا چاہتی ہے اور عسکری قوتیں دوسرے طریقے سے۔ فی الحال نواز شریف اس معاملے کو بڑی حد تک روکے ہوئے ہے۔ لیکن وہ زیادہ عرصے تک ایسا نہیں کر پائیں گے۔ بدنام ڈاکو غلام رسول عرف چھوٹو کا ڈرامائی آپریشن بہت ساری چیزیں واضح کر دیتا ہے۔ 

 افغانستان کے ساتھ تعلقات اہم ہیں لیکن اس میں الجھنے میںنواز شریف کا کوئی بھلا نہیں لہٰذا وہ اس پر الگ سے اسٹینڈ لینا ضروری نہیں سمجھتے۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ آیا ہے لیکن اس کی وجہ سویلین حکومت نہیں۔ یہ معاملہ شدت پسند گروپوں کے ساتھ تعلقات اور ان کو کیسے ڈاٰل کیا جائے اس سے تعلق رکھتا ہے۔ جس کو اب سویلین حکومت نہیں دیکھ رہی۔ 

 نواز شریف کی حکومت کو مدت مکمل کرنے میں دو ہی چیزیں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ ایک پاک بھارت تعلقات اور دوسرے پنجاب میں کارروائی۔ 
رواں سال چائنا پاک اقتصادی راہداری کا منصوبہ سامنے آیا۔ اس کے نتیجے میں کچھ عرصے تک سول اور عسکری قوتوں کے درمیان خوشگوار تعلقات دیکھنے میں آئے۔ میڈیانے یہ بھی خبریں آنے لگی کی آرمی چیف اور وزیراعظم کے درمیان ہفتے میں دو ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔ 

ابھی یہ معاملہ چل ہی رہا تھا کہ اپناما سکینڈل پھٹ پڑا۔ وزیراعظم نواز شریف کے دو بیٹے اور ایک بیٹی کاآف شور کمپنیوں میں نام آ گیا۔ وزیراعظم نے دو مرتبہ قوم سے خطاب کیا۔ اور قومی اسمبلی میں اپنے خاندان کے کاروبار کی تفصیلات بتائیں ۔ اگرچہ اپوزیشن نے انکے خطاب پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور قومی اسمبلی کے اجلاس کا بائکاٹ کیا لیکن وہ اس پر راضی ہوگئی کہ حکومت کے ساتھ بیٹھ کر عدالتی کمیشن کے ٹی او آرز بنائے ۔ وزیراعظم نے اعلان کیا کہ اگر الزامات ثابت وہئے تو وہ استعیفا دینے کو تیار ہیں لیکن اپوزیشن کی دو جماعتوں کا زور تھا کہ وزیر اعظم تحقیقات مکمل ہونے تک استعیفا دیں۔ 

 پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کا اگر قانون سازی کے حوالے سے موازہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ پیپلزپارٹی کا زور آئین کو صاف ستھرا کرنے پر رہا ۔یعنی جنرل مشرف جو غیر آئینی شقیں آئین میں ڈال گئے تھے وہ نکال دی جائیں۔ 

نواز لیگ نے نیشنل ایکشن پلان اور متنازع اکیسویں آئینی ترمیم دی جس کے تحت فوجی عدالتیں قائم کی گئیں۔ اور ان عدالتوں کو آئینی تحفظ دیا گیا۔ 
نواز شریف کے گزشتہ دور حکومت میں بھی آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت کراچی میں فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں۔ 

پیپلزپارٹی اٹھارویں ترمیم منظور کرانے میں کامیاب ہو گئی۔ جس میں صوبائی خود مختاری دی گئی ہے۔ یہ ترمیم سترہویں ترمیم کا توڑ بھی تھی، جس میں صدر کو اسمبلی توڑنے کے اختیارات دیئے گئے تھے۔ یہی وہ ترمیم ہے جو مشرف کا اختیارات کی نئے سرے سے تقسیم کا فامولا ہے۔ 

پیپلزپارٹی کی حکومت نے انیسویں ترمیم ججوں کے تقرر کے حوالے سے پاس کی۔ اور خواتین کی جنسی ہراسگی کے خلاف قانون منظور کیا۔ اگرچہ مذہبی حلقوں سے اس بل کی سخت مخالفت کی گئی۔ 

 دہشتگردی کے خلاف اقدامات کے ساتھ ساتھ نواز لیگ نے توانائی کے شعبے میں جنرل سیلز ٹیکس، اور سرچارج کا نفاذ رہا۔ پی آئی اے کی نجکاری کے چکر میں ایک دوسری نیم سرکاری کمپنی تشکیل دی گئی اور اس سے متعلق قانون بھی بنا دیا گیا۔ انتخابی منشور اور نعروں کے برعکس معاشی حوالے سے وہ کوئی ٹھوس کام نہیں کر سکے۔ ملکی معیشت کی خراب صورتحال کا نقشہ اسٹیٹ بینک کی حالیہ رپورٹ سے صاف نظر آتا ہے۔

چوتھے سال میں دیکھنا ہے کہ نواز لیگ معاملات کو کس رخ میں لے جاتی ہے یا معاملات نواز لیگ کو کس رخ میں لے جاتے ہیں ۔


Nai Baat May 26, 2016 Sohail Sangi Column 
http://www.naibaat.com.pk/ePaper/islamabad/26-05-2016/details.aspx?id=p12_05.jpg


Saturday, May 21, 2016

سیاستدانوں کی مشقیں


 سیاستدانوں کی مشقیں 
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 

پاناما لیکس کے بطن سے جنم لینے والے بحران کا خاتمہ حکومت آسانی سے کر سکتی تھی۔ جو بعد از خرابی بسیار ہوا وہ پہلے بھی ہو سکتا تھا۔ اس کے لئے چھ ہفتے تک وقت اور عوام کا پیسہ ضایع کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ ویزراعظم قوم سے خطاب کے موقع پر یا پھر قومی اسمبلی میں خطاب میں اس معاملے کو ایک ہی جھٹکے میں اپنی وضاحت کر کے ختم کر سکتے تھے۔ لیکن وزیراعظم کو یہ مشورہ دیا گیا کہ انہوں نے اگر ایسا کیا تو وہ، ان خاندان بلکہ پوری پارٹی دلدل میں پھنس جائے گی۔ اور احتساب وغیرہ کا معاملہ نہیں بلکہ سیاسی معاملہ ہے، جس کا مطلب سیاسی اسکور
حاصل کرنا یا پھر نواز لیگ کی حکومت کو گرانا ہے۔ 

بہرحال اپوزیشن کی یقین دہانی پر وزیراعظم نے جب اسمبلی میں آکر خطاب کیا تو اپوزیشن نے صرف اجلاس کا بائکاٹ کیا۔ اور کوئی شور شرابہ نہیں کیا۔ چاہے وزیراعظم نے اپوزیشن کے سات سوالات کا جواب نہ دیا لیکن انہوں نے اسمبلی کی بالادستی کو تسلیم کیا۔ دوسرے روز اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ اور عمران خان کی تند و تیز تفصیلی تقاریر ہوئیں اس کے بعد مجموعی طور پر پہلے جیسے گرمی نہیں رہی۔ 

 اپوزیشن کی جانب سے قومی اسمبلی کے اجلاس کا بائکاٹ ختم کرنے اور پاناما لیکس کی تحقیقات کے لئے وزیرعظم کی اعلان کردہ پارلیمانی کمیٹی میں شمولیت پر راضی ہونے نے ماحول کو بہتر بنادیا ہے۔ ورنہ وزیراعظم کی قومی اسمبلی کی تقریر کو اپوزیشن نے مایوس کن قرار دیا تھا۔ اب یہ کمیٹی نئے ٹی او آر طے کرے گی۔ آئینی نظام اور جمہوریت کو خطرے میں ڈالے بغیر معاملات احتساب کی طرف بڑھیں گے۔ 

 میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹی اور آر کچھ اس طرح کے بنیں گے جس میں وزیراعظم کو یہ شکایت نہ ہو کہ احتساب صرف ان کے خاندان کا ہو رہا ہے۔ اپوزیشن سمجھتی ہے کہ اس طرح کا عمل آگے چل کر نواز لیگ کو فائدہ دے گا کیونکہ وہ خود کو عوام میں مظلوم کے طور پیش کر کے ووٹ لے سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اپوزیشن کے پاس دوسرا کوئی موثر آپشن بھی نہیں تھا۔ پارلیمنٹ کا بائکاٹ جاری رکھنے اور پارلیمنٹ سے باہر احتجاج کرنے ، الزام تراشی اور شور شرابے کا تھا جس سے ملک میں مزید بے یقینی پیدا ہوتی۔ اور یہ بے یقینی جہاں ملکی معیشت کو متاثر کرتی وہاں خود آئنی نظام کو بھی خطے میں ڈال سکتی تھی۔ 

اپوزیشن کا ایک طرف مصالحانہ رویہ ہے تو دوسری طرف وہ اپنا پریشر جاری رکھنا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ہفتے تک ان کے وزیرعظم سے سات سوالات تھے وہ اب بڑھ کر ستر سوالات ہو گئے ہیں۔ اب جب بھی حکومت ٹی او آر یا تحقیقات کے دوران اگر گڑبڑ کرے گی تو اس کی ”گوشہ مالی“ کے لئے یہ ستر سوالات اس کا پیچھا کرتے رہیں گے اور ”درست “ رکھنے میں مدد دیں گے۔ اپوزیشن کے سوال در سوال پاناما لیکس سمیت کرپشن وغیرہ کے معاملات جن کی چیف جسٹس کی سربراہی میں تحقیقات ہونی ہے اس پر اثرانداز ہو سکتے ہیں یا پھر اس میں تاخیر کا باعث بن سکتے ہیں جب چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن بن رہا ہے تو اس طرح کے سوالات کمیشن کے لئے اٹھ کے رکھے جائیں تو بہتر ہوگا۔ 

 حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایسی کشیدگی جو افراتفری کی شکل اختیار کرے نہ تحقیقات کے لئے اور نہ جمہوری نظام کے لئے فائدہ مند
 ہو سکتی ہے۔ 

 عوام چاہتے ہیں کہ ہر قسم کی کرپشن سے ہمیشہ کے لئے جان چھڑانے کی خاطر بامعنی عدالتی تحقیقات اور نیتجہ خیز احتساب ہونا چاہئے۔ لیکن ایسا کوئی معجزہ ہو جائے، یہ مشکل لگتا ہے۔ اسمبلی کے اس اجلاس کے دوران حکومت خواہ اپوزیشن کی کارکردگی اور رویہ قابل تحسین نہیں تھا۔ وہ ایک دوسرے کو اکموڈیٹ کر رہے تھے۔ جب اکموڈیٹ ہی کرنا ٹہرا تو پھر اتنا بڑا شو لگانے اور شور کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ وزیراعظم ایوان میں تھوڑی دیر کے لئے ہی آئے اور اس دوران انہوں وہ کہا جو وہ چہاتے تھے لیکن وہ کچھ نہیں کہا جو عوام چاہتے تھے۔ اپوزیشن کو جو ایوان کے اندر کہان چاہئے تھا وہ وہاں کہنے کے بجائے ایوان سے باہر آکر کہا۔ وزیراعظم بھی یہی کر رہے ہیں ۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر یک منتخن ایوان کی حیثیت کم ہو جاتی ہے۔ 

وزیراعظم کے لئے بہترین موقعہ تھا کہ وہ خود کو وسیع نظر سیاستدان ثابت کرتے۔ وہ صرف یہ اعلان کرتے کہ جب تک پاناما لیکس کی تحقیقات مکمل نہیں ہوتی تب تک وہ عہدے سے علحدہ ہو رہے ہیں۔ یہ سیاسی فتح تھی جو انہیں آئندہ انتخابات جیتنے میں مدد دیتی۔ عہدہ سے وقتی طور پر علحدہ وہنے کا مطلب جرم تسلیم کرنا نہیں ہوتا، بلکہ اداروں میں یہ اعتماد کرنا ہوتا ہے کہ وہ ان کے بارے میں غیر جانبدارانہ تحقیقات کر ہو سکے گی۔ سیاست میں عوامی تاثر یا رائے اہم ہوتی ہے۔ یہ رائے اگر ایک مرتبہ قائم ہو جائے تو لمبے عرصے تک چلتی ہے۔
حکومت زیادہ تر یہ راگ گاتی رہی کہ نظام کو خطرہ ہے۔ سوال یہ کہ کیسے؟نواز لیگ قومی اسمبلی میں اکثریتی جماعت ہے جہاں اس کو کوئی خطرہ نہیں اگر وہ کسی وجہ سے ایوان میں اپنی قیادت میں تبدیلی لے آتی اس سے جمہوریت ڈی ریل نہیں ہوتی۔ بلکہ اس سے پارٹی کی اخلاقی پوزیشن مضبوط ہوتی۔ 

ملکی حالات کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ مجموعی طور پر عوام کی ناراضگی کا اظہار کرنتے کرتے تھک چکا ہے ۔ عوام کی اس تھکاوٹ کا قائدہ ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی لے لیتا ہے۔ اس مرتبہ وزیراعظم نے لے لیا کہ وہ اپنے موقف پر ڈٹ گئے۔ وہ نہ خود کو عوام کے سامنے اور نہ متخب ایوان کے سامنے جوابدہ سمجھتے ہیں۔ یہ ایک غؒط رویات ہے جس کو ملک کی ایک بڑی پارٹی نے ایک مرتبہ پھر مضبوط کیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ لوگوں میں اپنی جمہوری فرائض ادا کرنے کی صلاحیت میں کمی آئی ہے۔ یا وہ ختم ہو چکا ہے۔ 

جب وہ سب ایک دوسرے کو چور چور کہہ رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ پورے حکمران طبقے کی مذمت کر رہے ہیں ۔ نواز شریف کے تذبزب نے اس کے مخالفین کے لئے راستہ کھولا کہ وہ اپنے مالی اور نظریاتی کرپشن کو ایک طرف رکھ کر اس سے حساب دینے کا مطالبہ کریں۔ یہ ان غیر جمہوری وقتوں کو بلاوا دینے کے برابر ہے کہ وہ آئیں اور ان کرپٹ اور مفاد پرست سیاستدانوں سے عوام کی جان چھڑائیں۔ 

 اسے اتفاق کہئے کہ فوجی اسٹبلشمنٹ نے اس مرتبہ خود کو دور رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کا کوئی بھی ویزر اب یہ نہیں کہ رہا کہ حکومت اور فوج ایک صفحے پر ہیں۔ بلککہ فوج تو یہ کہہ رہی ہے کہ بلا امتیاز احتساب ہونا چاہئے۔ ویسے بھی ایک متخب حکومت کا یہ کہنا کہ وہ فوج کے صفھے پر ہے کوئی فخر کی بات نہیں۔ 

 پاناما لیکس کی وجہ سے ملک میں جمہوریت کو جو نقصان ہوا سو ہوا، اتنا ہی نقصان اس موضوع پر ہونے والی بحث سے بھی ہوا۔ ایک وزیر باتدبیر نے یہاں تک کہاں کہ پاناما لیکس پر احتجاج کرنے والے دہشتگرد ہیں۔ یا یہ کہ وزیراعظم اپوزیشن کے سوالات کا جواب دینے کے پابند نہیں۔اپوزیشن بھی جو کہہ رہی تھی وہ یہ کہ حکمران جماعت ہم سے زیادہ کرپٹ ہے۔ (مطلب ہم کم کرپٹ ہیں)۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت اور پارٹی رہنماﺅں و افسران پر جو الزامات لگتے رہے اس پر سب لوگوں ی توجہ ہٹ گئی۔ اس پوری بحچ میں کسی نے بھی اس پر بات نہیں کی۔ 

المیہ دیکھئے کہ پوری انتظامیہ اور حکومت پچھلے چار ہفتوں سے معطل ہے۔ باقی عوام کے کام فیصلہ سازی وغیرہ ہو ہی نہیں رہی۔ سرکاری لیڈر حملہ کرنے یا حملے سے بچنے کی مشق میں مصروف رہے۔ 

لوگوں کی تکالیف بڑھتی رہیِ ۔ سیاستدان کس طرح سے عوام کے حقوق کے رکھوالے ہیں؟ یہ کہیں بھی نظر نہیں آیا۔ 

 روزنامہ نئی بات 
http://www.naibaat.com.pk/ePaper/lahore/20-05-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg

اقتصادی راہداری اور چینی حکمت عملی


Nai Baat May 3, 2016
http://www.naibaat.com.pk/ePaper/lahore/03-05-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg

 اقتصادی راہداری اور چینی حکمت عملی

میرے د ل میرے مسافر سہیل سانگی

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ روز گوادر میں بات چیت کرتے ہوئے اشارہ دیا ہے کہ چینی اقتصادی رہداری کے تحت چین سے پہلی کارگو شپمینٹ رواں سال ہی گوادر کے ڈیپ سمندری بندرگاہ پر پہنچ جائے گی۔شاید جنرل راحیل شریف اپنی ملازمت کی مدت میں ہی یہ منصوبہ شروع ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔اگرچہ شروع میں سیاسی رہنماﺅں کے درمیان اس منصوبے کے بارے میں تحفظات تھے لیکن بعد میں اتفا ق رائے پیدا گیا۔

یہ راہداری چین کی بڑی پہچان ہے جو دنیا کے سامنے یہ اعلان بھی ہے کہ وہ معاشی طور پر بالادست ہو رہا ہے جوخطے کے دوسرے ممالک میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ لیکن اس کو ایک آزمائش سے بھی گزرنا پڑے گا کہ وہ شراکت دار ممالک کے معاشی، سیاسی اور انتظامی ڈھانچے ، کلچرمیں ”مداخلت“ کرے اور اس کا خود کو عادی بنائے۔ یہ مداخلت خواہ براہ راست نہ ہو لیکن معاشی تبدیلیاں یقینی طور پر سیاسی، سماجی اور ثقافتی حوالے سے اثر انداز ہونگی۔ 

 جنوبی ایشیا مشکل ترین خطہ ہے۔یہ تیل اور عالمی تجارت کی بڑی گزرگاہ ہے۔ اس کے علاوہ یہاں جمہوریت اور معاشی ماحول اور حالات بظاہر بھلے ایک جیسی لگتے ہوں لیکن اندر اور اپنے جوہر میں مختلف ہیں۔ بلکہ بعض اوقات متضاد بھی۔ ان ممالک کے اندرونی تضاد ات اور ایک دوسرے سے تنازعات اور کشیدگی ایک اور چیلینج ہے جسے چین کو سامنا کرنا پڑے گا۔ چین اپنی ڈپلومیسی میں جارحانہ نہیں رہتا۔ یہاں تو معاملہ معیشت اور سرمایہ کاری کا ہے لہٰذا اس کو مزید نرم ہونا پڑے گا۔ یعنی یہ سب کچھ کسی محاذ آرائی یا تضاد میں آئے بغیر حاصل کرلے ۔ یہی چین کی پالیسی لگتی ہے۔چین جانتا ہے کہ خطے میں امن اور استحکام کے بغیر یہ منصوبہ نہ کامیاب ہو سکتا ہے اور نہ ہی نتائج دے سکتا ہے۔ 

چین کا خیال ہے کہ برسہا برس کے جھگڑوں ، محاذ آرائی اور کشیدگی کے تلخ تجربوں کے بعد خطے کی اقوام کو اب یہ بات سمجھ میں آگئی ہے کہ معیشت اور کاروبار ہی ترقی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ لہٰذا چین حالات کو معمول پر رکھنے کے اپروچ کے ذریعے تمام فریق ممالک کو خوش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس اپروچ کے عوض اسے کوئی معاشی، سمجھوتہ بازی یا سودے بازی یا پھر جنگی حکمت عمل کے حوالے سے کوئی قیمت نہیں دینی پڑ رہی۔ چین اور انڈیا کے درمیان گرمجوشی کے تبادلے اس کی ایک مثال ہیں۔ 

چین ڈپلومیسی بہت ہی دانشمندی سے چلا رہا ہے کہ جس ملک کا جتنا اسٹیک ہے اتنی ہی اس کو اہمیت دی جائے۔ اس راہداری کی جغرافیائی حکمت عملی کے حوالے سے اہمیت اپنی جگہ پر ہے۔ لیکن چین کے لئے حقیقی چیلینج تب ہو گا جب اس کا یہ پروجیکٹ مختلف ممالک کے باہمی کشیدگی میں مکمل ہو جائے گا اور کام شروع کر دے گا۔ یہ ایک بڑا سوال ہے کہ راہداری بننے کے بعد چین کس طرح سے جنوبی ایشیا کے خطے میں کشیدگی کی صورتحال کا کس طرح سے سامنا کرتا ہے؟ معاملہ صرف پاکستان اور انڈیا کی کشیدگی کا نہیں ہے بلکہ خطے کے دوسرے چھوٹے ممالک بھی خاص طور پر سری لنکا اور نیپال انڈیا کی بالادستی پر خوش نہیں سمجھتے۔ 

جنوبی ایشیا میں استحکام اور سیکیورٹی چین کی یقیننا ترجیح ہے۔ لیکن یہ سب خطے کی معاشی مفادات کی قیمت پر نہیں۔ ” ایک بیلٹ ایک روڈ “ کوئی بندھا ٹکا فارمولا نہیں بلکہ ، یہ ایک ابھرتا ہوا تصور ہے جس میں چین بوقت ضرورت ترامیم کرتا رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ چینی پالیسی ساز اس کو تصور کو سائنسی اپروچ کا نام دیتا ہے۔ چین کے لئے ٹائیم لائین اہم ہے۔ اس کے پاس اضافی صلاحیتیں موجودہے۔ جو بغیر استعمال کئے پڑی ہوئی ہے۔ اس کے سرمایہ کار پیسہ لگانے کے لئے جلدی کوئی مقام ڈھونڈ رہے ہیں ۔ جہاں وہ اپنی افرادی قوت، ہنر، اور دیگر صلاحیتین استعمال کر سکیں۔ ماہرین کا خیلا ہے کہ چین کو اگر یہ نظر آیا کہ یہ منصوبہ ٹائیم فریم میں قابل عمل نہیں ہے تو وہ اس میں ردوبدل کر دے گا یا مکمل طور رپر تبدیل بھی کر سکتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ چین کسی بھی اسٹیک ہولڈر ملک سے باضابطہ معاہدہ کرنے سے گریز کر رہا ہے تاکہ آنے والے وقت میں کسی ذمہ داری سے بچا جا سکے۔

 رواں سال ستمبر میں ہونے والی جی۔ 20 کانفرنس جس کی میزبانی چین کر رہا ہے اس کے ابرے میں چین کا یہ موقف ہے کہ یہ کانفرنس معاشی معاملات کے لئے ہونی چاہئے نہ کہ سیاسی معاملات کو زیر بحث لانے کے لئے۔

 چین چاروں طرف سے خود کو مختلف راہداریوں کے ذریعے ملا رہا ہے۔ جب چین خطے کے تمام ممالک سے جڑا ہوا ہوگا تو خطے کی تجارتی اور معاشی صورتحال کیا ہوگی؟ اس میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان اور افغانستان میں جاری دہشتگردی ہے۔

جنوی ایشیا کے اندرونی کشیدگی اور تضادات سے متعلق چین سمجھتا ہے کہ سیکیورٹی بنیادی طور پر جنوبی ایشیا کے ممالک کی اپنی ذمہ داری ہے۔ وہ صرف راہداریوں یا اس سے منسلک معاشی زون کے تحفظ کو اپنی فکر سمجھتا ہے۔ 
چین کا قطعی طور پر ارادہ نہیں کہ وہ جنوبی ایشیا کے ممالک کے درمیان مداخلت یا ثالثٰی کرے۔ وہ ان راہداریوں کے تحفظ میں براہ راست بھی ملوث ہونا پسند نہیں کرے گا۔ چین کے ماہرین کا خیال ہے کہ ”ایک بیلٹ ایک راستہ “منصوبے نے چین پر بہت بڑی ذمہ داری ڈال دی ہے۔ منصوبے کے فریقین کے درمیان کسی کشیدگی کی صورت میں وہ صرف اخلاقی دباﺅ ڈال سکتا ہے۔ حکمت عملی یہ ہوگی کہ خطے میں استحکام پر کم از کم اپنی توانائی استعمال کرے۔ یعنی محدود رول جس طرح افغانستان کے امن کے عمل میں کر رہا ہے۔لیکن وہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ یہ کشیدگی اس حد تک نہ جا پہنچے جہاں چینی مفادت خطرے میں پڑ جائیں۔ 

 ماہرین کا خیال ہے کہ چین کی افغانستان میں امن کوششوں میں شرکت اس کے اندرونی تحفظ کا بھی معاملہ تھا ۔ سنکیانگ کی صورتحال کی وجہ سے اس افغانستان سے تعاون کی ضروت تھی جہاں ترکستان اسلامک موومنٹ کے شدت پسند ( جن کا ہیڈکوارٹر افغانستان میں تھا) گڑبڑ کر رہے تھے۔ 

چینی اقتصادی راہداری کو بلاشبہ ایک مستحکم افغانستان کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر افغانستان کے شمالی علاقوں میں جہاں بغاوت گزشتہ کچھ عرصے سے بڑھ گئی ہے۔

 بہرحال یہ ایک چیلینج ہے۔ لیکن چین کوئی حرفت کر سکتا ہے۔ اب چین چاہتا ہے کہ سارک ایک علاقائی تعاون کا فورم بنے۔ اور وہ آسیان کی طرح موثر تجارتی و کاروباری تتنظیم کے طور رپ ابھرے۔ تاکہ وہ ایک بیلٹ ایک راستہ منصوبوں کے فوائد حاصؒ کر سکے۔ چین جنوبی ایشیا کے ممالک کو زبردستی ایک دوسرے کے قریب لانے سے گریز کرے گا۔ 

پاکستان کی جغرافیائی حکمت عملی کی پوزیشن مسلمہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس کی معیشت ان چیلینجوں کا بوجھ اٹھا سکتا ہے؟ اس صورت میں تمام تر ذمہ داری سیاسی حکومتوں پر آتی ہے۔ خراب حکمرانی اورملک کی غریب معیشت کرپشن کا شکارہے۔ عام آدمی کو کوئی رلیف نہیں مل رہا۔ 

چین کا پاکستان کے سیا سی، معاشی نظام کے معاملات سے کوئی واسطہ نہیں اس کی دلچسپی صرف اس میں ہے کہ اس کا راہداری منصوبہ مقررہ مدت میں کسی طور پر کامیاب ہو۔ ایک حد اس کو پاکستان کی اندرونی سیکیورٹی اور سیاسی استحکام کے بارے میں بھی تشویش ہو سکتی ہے۔ کیونکہ یہ دونوں عناصر وقت پر منصوبے کے مکمل ہونے کے لئے ضروری ہیں ۔
سیکیورٹی اسٹبلشمنٹ کنٹرول کے نئے طریقے تلاش کر رہی ہے۔ جبکہ سویلین سائیڈ اپنے کمزور کردار اور رویوں کی وجہ سے عوام میں مقبولیت کھو رہی ہے۔ بہرحال اگر معاملات خراب ہونے لگتے ہیں چین پاکستان کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنے کو ترجیح دے گا۔ 

 روزنامہ نئی بات 

Saturday, May 14, 2016

سیاسی منظر نامے پر شدید دھند



  ملکی سیاست کے بدلتے منظرشدید دھند

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 

 پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں اتنی جلدی منظر اور کادار تبدیل ہوتے ہیں جتنے تیزی سے کسی پاپ یا جدید موسیقی کے ویڈیو میں بھی شاید تبدیل نہ ہوتے ہوں۔ جدید گانے میں بدلتے سین کسی حد تک سمجھ میں آ جاتے ہیں لیکن پاکستان میں ہر لمحے ایک نئی فلم ہے۔ ابھی بمشکل لوگ ایک فلم کو سمجھنے میں لگے رہتے ہیں کہ دوسری فلم دوسرا واقعہ سامنے آ جاتا ہے۔ قرضے میں دبی ہوئی معیشت، خراب حکمرانی کا شکار اس ملک کے عوام سمجھ ہی نہیں پارہے ہیں کہ ملک کس طرف جا رہا ہے؟ کیا ہونے والا ہے؟ کس واقعہ کا دوسرے کسی واقعے سے کیا تعلق ہے؟ 

میڈیا جس کا کردار واقعات اور حالات کی تحقیق اور تشریح کرکے صحیح سیاق و سباق میں پیش کرنا ہے وہ اس کام سے بری ہو کر واقعات کے پیچھے دوڑ رہا ہے۔ 
نتیجے میں جتنی پیچیدگی ملکی حالات میں ہے اس سے بڑھ کر پیچیدگی لوگوں کے ذہنوں میں ہے۔ وہ روز بروز سیاسی اور حکومتی معاملات سے بیگانہ ہوتے جا رہے ہیں یا پھر یہ کہ ان کو صرف تماش بین کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ لوگوں کی ملکی سیاست، معیشت اور حالات سے لاتعلقی بڑھ رہی ہے۔ غیر یقینی صورتحال کی وجہ ہے جو ذہنی اور نفسیاتی دباﺅ بڑھ رہا ہے وہ اپنی جگہ پر لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک خاص قسم کی ذہنیت بن رہی ہے جس کے اثرات سماجی رویوں، اور جلدی شاہوکارہونے کی طرف جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کرپشن کے خلاف اتنی ساری چیخ و پکار کے باوجود سرکاری محکموں میں کہیں کرپشن کم نہیں ہوئی۔ 

وہ سمجھتے ہیں کہ یہاں کوئی نظام، قاعدہ، قانون کام ہی نہیں کرتا۔ سب کچھ کتابوں میں لکھا ہوا ہے لیکن عملا جو ہو رہا ہے دراصل وہی حقیقت ہے اور اسی پر چلنا ہے جو اس پر نہیں چلتا وہ سمجھیں آج کے دور میں نہیں رہ رہا۔ لوگ بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر جیسے ہی موقعہ لگے سب کچھ اور جلدی میں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس سوچ کے ساتھ کی کیا پتہ دوبارہ موقعہ ملے یا نہ ملے۔ 

گزشتہ ماہ ابھی پاناما پیپز ظاہر ہوئے تھے کہ پنجاب کے بدنام زمانہ ڈاکو غلام رسول عرف چھوٹو کی فلم تین ہفتے تک چلتی رہی۔ یہ فلم میڈیا کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں پر چھائی رہی۔ اس میں کئی ڈرامائی موڑ بھی آئے۔ پنجاب پولیس آئی، رینجرز آئی، فوج بھی پہنچی اور بعد میں مذاکرات بھی ہوئے اورچھوٹو کو فوج نے اپنی تحویل میں لے لیا ۔ اس کے بعد یہ فلم ڈبے میں بند کر کے رکھ دی گئی۔ اب اس کا کوئی ذکر فکر ہی نہیں ہوتا کہ چھوٹو کہاں ہے؟ اس سے تفتیش کے دوران کیا کیا انکشافات ہوئے؟ 

 پاناما لیکس نے ویزراعظم نواز شریف پر دباﺅ واقعی بڑھا دیا تھا کہ ان کی ناسازی طبع کی وجہ سے انہیں لندن جانا پڑا۔ اس دوران مختلف افواہین گردش کرتی رہیں۔ بعض افواہوں میں وزن بھی محسوس ہوتا تھا۔ اس کے ایک دو روز بعد آرمی چیف کا بیان آیا کہ کرپشن کے خاتمے کے خلاف ہر کوشش کی حمایت کریںگے سب کا بلا تفریق احتساب ہونا چاہئے۔ اور اس کا اظہار کچھ اس طرح بھی ہوا کہ پاک فوج کے بارہ افسران کے خلاف کارروائی کی خبر آئی۔ وزیراعظم نے پاناما لیکس کو منہ دینے کے لئے عوامی رابطے کی مہم شروع کی۔ انہوں سکھر ملتان موٹر وے کا افتتاح کیا۔ لیکن تھر کول کے ایک پروجیکٹ کا اففتاح ان کی لندن روانگی کیو جہ سے عین وقت پر ملتوی کردیا گیا تھا۔ اس طرف ویراعظم نہیں آئے۔

پاناما لیکس کے بعد کراچی کے معاملات پس منظر میں چلے گئے تھے ۔ لیکن اپریل کے آخر میں یہ خبر آئی کہ ایم کیو ایم کے رہنما عمران فاروق جنہیں چند سال پہلے لندن میں پر اسرار طریقے سے قتل کیا گیا تھا اس کیس میں گرفتار ایک ملزم خالد شمیم جو پاکستان کی تحویل میں ہے اس کی ایڈیالہ جیل میں ویڈیو ریکارڈ کی گئی۔ اس ویڈیو کے کچھ کلپس منظر عام پر آئے۔ 

اس سے پہلے پھانسی کے منتظر ایم کیو ایم کے ایک کارکن صولت مرزا کی بھی ویڈیو منظر عام پر آئی تھی۔ پیپلزپارٹی سے قربت رکھنے والے عذیر بلوچ کی بھی ویڈیو ریکارڈنگ کی باز گشت سنائی دیتی رہی۔ لیکن ان تمام ویڈیو ریکارڈنگ کے بعد اس ضمن میں کسی کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی ہو، کم از کم میڈیا میں کوئی خبر نہیں آئی۔ یہ سب ریکارڈنگ کیا صرف تاریخ کو ریکارڈ کرنے کے لئے کی گئی تھیں یا ان کا کوئی اور بھی مقصد یا استعمال تھا؟ 

رینجرز کی تحویل میں ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کے کوآرڈینیٹر کی ہلاکت اور اس کا آرمی چیف اور ڈی جی رینجنرز کی جانب سے نوٹس لینا پوسٹ مارٹم رپورٹ میںمتوفی کے جسم پر تشدد کے نشانات اور عسکری ادارے کے تحقیقات کے عمل پر ایم کیو ایم کی جانب سے اطمینان کا اظہار بھی گزشتہ دس روز کے واقعات میں شامل ہے۔

 سندھ میں جعلی بھرتیاں کے قصے بھی دھیرے دھیرے کھل رہے ہیں وہ بھی اس خوبصورتی کے ساتھ کہ ہر ہفتے ایک خبر آی ہے کہ محکمہ بلدیات ، پولیس وغیرہ میں اتنے ہزار لوگوں کی جعلی بھرتی ہوئی۔ تحقیقات کے لئے کمیٹیاں بنائی جارہی ہیں۔ ان بھرتیوں کے حوالے سے پہلے بھی کمیٹیاں بنائی گئی تھیں ان رپورٹس ابھی تک بغیر عمل درآمد کے پڑی ہوئی ہیں۔

نیب نے سندھ کی88 ترقیاتی اسکیموں کو غیر شفاف قرار د ے کر اپنا اعتراضی خط لکھ چکا ہے۔ لیکن سندھ حکومت ساٹھ فیصد سے زائد تریقاتی رقم خرچ نہ کر سکی اس کا کوئی نوٹس لینے کے لئے تیار نہیں۔ نہ نیب اور نہ ہی عدالتیں۔ کیا اتنی بڑی رقم نااہلی، کوتاہی، لاپروائی کے زمرے میں نہیں آتی جس کی وجہ سے کروڑوں لوگوں کو مختلف تکالیف بھگتنا پڑ رہی ہیں؟

گزشتہ ہفتے سندھ کے ہسپتالوں میں اربوں روپے کی بے قاعدگی کا نکشاف ہوا نیب نے ریکارڈ طلب کر لیا۔ 

 اسی دس روز کے دوران وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کے اہم تعلیمی اداروں میں دہشتگردی کا خطرہ، تعلیمی ادارے بند رہے۔ کراچی میں بڑے تعلیمی اداروں کی حفاطت کی ذمہ داری رینجرز نے لے لی۔ 

 تھر میں گزشتہ تین سال سے قحط ہے۔ غذائی قلت کی وجہ سے بچوں کی اموات ہو رہی ہیں ۔ سنیٹ کمیٹی نے حکومت سندھ کی تھر سے متعلق کمیٹی کی رپورٹ مسترد کر چکی ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ منتخب نمائندے بجائے لوگوں کی مدد کرتے انہیں دلاسہ دیتے دو ایم این ایز اور ایک ایم پی اے کے خلاف غیر قانونی طور پر ہرن کا شکار کر رہے تھے۔ یہ رویہ منتخب نمائندوں اور حکموت کی اس انسانی المیے کی طرف سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ 

 کرپشن کے معاملات کے حوالے سے پہلے صرف سندھ سے خبریں آرہی تھیں اب اچانک بلوچستان میں بھی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔ 
 بلوچستان کے سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی گرفتار ان کے گھر سے نوٹون سے بھرے بارہ تھیلے برآمدہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان کی پبلک سروس کمیشن کے دو ڈپٹی ڈائریکٹر گرفتار بھی کرپشن کے الزام میں گرفتار ہوئے ہیں۔
 آٹھ مئی کو یہ خبر آئی کہ حکومت سندھ نے بغیر کسی حیل و حجت کے رینجرز کے اختیارات میں تین ماہ کی توسیع کردی۔ ورنہ اس سے پہلے صوبائی حکومت، رینجرز اور وفاقی حکومت کے درمیان اختلافات سمانے آتے رہے ہیں اور سخت بیان بازی میڈیا میں پڑھنے کو ملتی رہی ہے۔ اس اچانک تبدیلی کے یقیننا کچھ محرکات ہونگے ۔

 ڈاکٹر عاصم سمیت چھ افراد پر فرد جرم عائد کردی گئی ہے لیکن اس فرد جرم میں الزامات اس سے مختلف ہیں جو ان کی گرفتاری کے وقت بتائے گئے تھے۔ تب یہ کہا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے ہسپتال میں دہشتگردوں کا علاج کیا ہے۔ اس سے قبل یہ بھی باتیں ہو رہی تھیں کہ ڈاکٹر عاصم کے کیس میں کسی اور بڑی مچھلی کو بھی ملوث کیا جارہا ہے۔ 

 پاناما لیکس ک اایک اور دھماکہ پچاس کھرب روپے کی آف شور کمپنیاں رکھنے والے چار سو پاکستانیوں کے نام ظاہر ہوئے ہیں ۔ اس کے بعد تحقیقات کا دائرہ بڑھ جائے گا۔ لیکن شاید تحقیقات نہیں ہو پائے گی۔ 

 جنرل پرویز مشرف پر غداری کے سنگین الزامات کے کیس میں مفرور ملزم قرار دے دیا۔ جنرل مشرف چند ہفتے قبل بیماری کی وجہ سے بیرون ملک چلے گئے تھے۔ اب اس معاملے نے از سرنو سر اٹھایا ہے۔ 

 سیاسی منظر نامے پر شدید دھند چھائی ہوئی ہے۔ اس دھند میں ابھرنے والے خاکوں کی تشریح و توضیح ہر ایک کے اپنے طور پر کر رہا ہے۔ حکومتی اور ریاستی ادارے لوگوں کی رہنمائی کرنے کے بجائے آپس میں ہی الجھے ہوئے ہیں۔ پاناما پیپرز کے زلزلے کے جھٹکے ابھی تک جا ری ہیں ۔ در حقیقت سیاسی بحران شدید تر ہو رہا ہے۔ 
 روزنامہ نئی بات 
http://www.naibaat.com.pk/pre/islamabad/Page12.aspx



Thursday, May 12, 2016

وزیر اعظم، اسٹبلشمنٹ اور اپوزیشن

وزیر اعظم، عسکری اسٹبلشمنٹ اور اپوزیشن

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی 

وزیراعظم نواز شریف نے سنگ بنیادوں کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ اور اسکے ساتھ ہی وہ جلسوں سے خطاب کر کے عوام سے براہ راست رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب اپوزیشن خاص طور پر تحریک انصاف عوام کے پاس جانے کی تیاری کر رہی ہے۔ وزیراعظم شاید عمران خاں اور اس طرح کے دوسرے سیاستدانوں کی کوششوں کی پیش بندی کرنا چاہ رہے ہیں۔ یا یہ کہ اگر انہیں کل اقتدار سے علحدہ کر دیا جاتا ہے تو وہ یہ بات گنوا سکتے ہیں کہ انہوں نے کون کون سے پروجیکٹ شروع کئے تھے۔

 نواز شریف میںذوالفقار علی بھٹو والی دانشمندی تو نہیں کہ جب بھی انہیں تنگ گلی کی طرف گھسیٹا گیا تو انوہں نے عوام سے روجوع کیا اور وہیں سے اپنی قوت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ لہٰذوزیراعظم کی عوامی رابطے کے مذکورہ بالا دو ہی اسباب ہو سکتے ہیں۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ وزیراعظم پارلیمنٹ کے متبادل کے طور پر عوامی رابطہ مہم شروع کئے ہوئے ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ وزیراعظم کی تقریر میں وہی تند و تیز زبان ہے جو انتخابی مہم میں ہوا کرتی ہے، اپوزیشن کے بارے میں ریمارکس وغیرہ بلکل اسی انداز سے ہیں۔ 

وزیراعظم اس وقت پاناما لیکس اور سول عسکری تناﺅ میں گھرے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم گزشتہ چند ہفتوں سے اپنے مشیروں ، وزراءائر خیر خواہوں سے مشاورت کرتے رہے ہیں ۔ ایک مرحلے پر وزیراعظم نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ جب ترکی کے وزیراعظم وہاں کی عسکری اسٹبلشمنٹ اور سیاسی پاوزیشن کا مقابل کر سکتے ہیں تو تو وہ خود اس پر عمل کیوں نہیں کر سکتے؟ 

وزیراعظم کو پارٹی کے بعض رہنماﺅں نے مشورہ دیا کہ اپوزیشن کے ساتھ سخت رویہ رکھنے سے گریز کریں اور عسکری اسٹبلشمنٹ کے ساتھ معاملات کو چلانے کی کوشش کریں۔ ان سے بات چیت اور مشاورت کرتے رہیں۔ لیکن ان کے بعض مشیر اور قریب لوگوں کا یہ مشورہ ہے کہ جب اپوزیشن ان کو تنگ گلی کی طرف دھکیل رہی ہے، اور ایسی صورتحال پیدا کر رہی ہے جس کی وجہ سے ان کی پوزیشن کمزور ہوتی جارہی ہے، ایسے میں انہیں اپوزیشن کی طرف سخت موقف لینا چاہئے۔ وزیراعظم کے حالیہ جلسے اسی سوچ اور مشورے کا نتیجہ ہیں ۔
 جب پاناما لیکس کامعاملہ کھلا تو وزیراعظم نے پارلیمنٹ سے رجوع کرنے کے بجائے ٹی وی قوم سے خطاب کیا، حکومت مسلسل معاملے کو 
پارلیمنٹ میں لانے یا اس پر ایوان میں بات کرنے سے کتراتی رہی۔ وزراءبھی زیادہ تر پریس کانفرنسوں پر زور دیتے رہے۔ 

اس کے برعکس پیپلزپارٹی کا رویہ زیادہ مثبت رہا کہ وہ اس معاملے کواس کو پارلیمنٹ میں ہی لانے کی کوشش کرتی رہی، یہاں تک کہ مشترکہ اپوزیشن کا اجلاس سنیٹر اعتزاز احسن کے گھر پر ہوا لیکن اس ٹی او آر کا خط قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے لیڈر سید خورشید شاہ نے لکھا ۔ یعنی معمالہ پارلیمنٹ کے اندر ہی رہے اور اور وزیراعظم یا حکمران جماعت کو بھی بات چیت کرنے میں کوئی دقت نہ ہو۔ عملی طور پر یہ وہی پرانا فریم ورک ہے جس میں پیپلزپارٹی اور نواز لیگ دو اہم فریق ہیں۔ مشترکہ اپوزیشن کو جمع کرنا پیپلزپارٹی کے ہی کھاتے میں جاتا ہے۔ پیپلزپارٹی کی حکمت عملی کے پیچھے یہ آئیڈیا پنہاں ہے کہ اگر مقتدرہ حلقے بات چیت کرنا چاہتے ہیں تو عمران خان سے نہیںاس سے بات کریں۔ کیونکہ ایوان کے اندر خواہ باہر اپوزیشن کی لیڈر وہی ہے۔

بعض حلقوں کا خیال ہے کہ معاملہ ایک بار پھر نوے کے عشرے کی طرح محاذ آرائی کی طرف چلا گیا ہے جس میں ملک کی دو اہم پارٹیان ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کے لئے سیاسی و غیر سیاسی قوتوں سے اتحاد کر رہی تھی۔ طائرانہ نظر سے ایسا ہی محسوس ہوتا ہے لیکن عملا ایسا نہیں۔بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے درمیان لندن میں جو میثاق جمہوریت پر دستخط ہوئے تھے وہ بڑی حد تک قائم ہے۔ پیپلزپارٹی کو کسی بھی طور پر یہ بات فادہ نہیں دیتی کہ موجودہ نظام کو گرا دیا جائے۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا ہے تو پورا سیاسی نظام ہی تبدیل ہو جائے گا اور نئے پاور بروکرز میدان میں آئیں گے، بالکل سی طرح سے جس طرح مشرف نے پیدا کئے تھے۔ ان نئے پاور بروکرز کو شکست دینا یا ان سے ڈٰیل کرنا مشکل ہو جائے گا۔ 

یہ بھی حقیقت ہے کہ جب تک پیپلزپارٹی میدان میں نہیں آتی تب تک حکومت کے خلاف کوئی بڑا اتحاد نہیں بن سکتا۔موجودہ حکومت کے خاتمے کی بات ہوتی تو صف دبندیاں ہی تبدیل و جاتی۔ تمام جماعتیں نئے مرحلے کے لئے اپنی حکمت عملیاں بناتیں۔ اگر ایسا کوئی اتحاد بن رہا ہوتا تو مولانا فضل الرحمان وزیراعظم کے ساتھ نہیں کھڑے ہوتے۔ اور محمود خان اچکزئی کا رویہ بھی مختلف ہوتا۔ 

وزیراعظم کا اپوزیشن کی طرف دہرا رویہ ہے ایک طرف ان کو دہشتگرد قرار دے رہے ہیں تو دوسری طرف بات چیت کے لئے بھی تیار ہیں۔اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں کہ حکومت اپوزیشن کے ٹی او آرز پرجوں کا توں عمل کرے ۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ اپوزیشن کے رویے میں لچک موجود ہے جبکہ حکمران جماعت کے رویے میں یہ لچک نہیں۔ اسلام آباد کو رائیونڈ کے دھرنوں کے خوف سے وزیراعظم اپوزیشن کے ٹی اور آرز کو رد بھی کر رہے ہیں اور اپوزیشن سے بات بھی کرنا چاہتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اپوزیشن کمیٹی تو بنائے۔ اس سے تجزیہ نگار یہ اخذ کر رہے ہیں کہ نواز لیگ میں ایک زائد رائے موجود ہین اور وزیر اعظم ان دونوں حکمت عملیوں پر بیک وقت عمل پیرا ہیں۔ 

 اب جب وزیراعظم ر استعیفا کا دباﺅ کم ہو چکا ہے وزیراعظم کے لئے مثالی صورتحال ہے کہ وہ اپوزیشن کے ٹی او آرز کو قبول کر لے، یوں بات لمبے بحر میں چلی جائے گی۔ 
 روزنامہ نئی بات
http://www.naibaat.com.pk/ePaper/lahore/10-05-2016/details.aspx?id=p12_05.jpg

Saturday, May 7, 2016

پیپلزپارٹی کے موقف میں تبدیلی کیسے آئیَ ؟

Nai Baat May 7, 2016
http://www.naibaat.com.pk/pre/lahore/Page12.aspx
پیپلزپارٹی کے موقف میں تبدیلی کیسے آئیَ ؟

 میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی

 پیپلزپارٹی وزیراعظم کے استعیفا سے پیچھے ہٹ گئی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس نے نواز لیگ کی مخالفت نہیں کرنا چاہتی یا اس سے جھگڑا ختم کر لیا ہے۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی بڑی جماعت ہونے کے باوجود اس نے ایوان کے اندر خواہ باہر میدان پی ٹی آئی کو دے رکھا تھا۔ پی ٹی آئی 2014 میں ایوان سے باہر دھرنا دیئے بیٹھی تھی۔ اسوقت تمام پارلیمانی قوتوں نے محسوس کیا کہ وہ غیر جمہوری قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد ہو ا جائیں۔ لیکن اس وقت پارلیمانی قوتیں اس طرح سے نہیں سوچ رہی ہیں ۔ 

پیپلز پارٹی کے اس رویے کی وجہ سے مجموعی طور ر یہ تاثر بنا کہ پیپلزپارٹی فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے۔ خاص طور پر پنجاب میں وہ اپنے لئے جگہ نہیں بنا پارہی تھی جہاں گزشتہ انتخابات کے بعد پیپلزپارٹی ”آخری سانسیں“ لے رہی تھی۔

پاناما لیکس کے بعد صورتحال بدل گئی۔ پیپلزپارٹی کے اراکین پارلیمنٹ نے دونوں ایوانوں میں حکومت کے خلاف آواز بلندکی۔ او ر پارٹی کے سینٹ میں لیڈر اعتزاز احسن کے گھر پر مشترکہ اپوزیشن کے اجلاس میںاپوزیشن نے ٹی او آر تیار کیا گیا۔
پیپلزپارٹی کے موقف میں یہ اچانک تبدیلی کیسے آئی؟  خود ساختہ جلاوطن پارٹی کے اہم لیڈر آصف علی زرادری نواز شریف حکومت کے ساتھ دوستانہ انداز اختیار کئے ہوئے تھے۔ ملک میں موجود پارٹی کے ایک اور اہم رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ حکومت کی مخالفت کے باوجود پی ٹی آئی کی طرح وزیراعظم کے استعیفا کا مطالبہ نہیں کر رہے تھے۔ اچانک پارٹی کے نوجوان چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے استعیفا کا مطالبہ کر لیا۔ یہ مطالبہ ان کے والد کی لائین کے برعکس تھا۔ 

دراصل بلاول بھٹو زردار ی نے پنجاب پیپلزپارٹی کے ان خیالات اور سوچ کو اپنالیا ۔ انہوں نے آزاد کشمیر میں اپنی تقریر میں شریف برادران کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اپریل میں بلاول بھٹو زرداری کے اسلام آباد میں قیام کے دوران پنجاب کے پارٹی رہنماﺅں کی ان سے تفصیلی بات چیت ہوئے اور انہوں نے اپنے چیئرمین کو پنجاب کے سیاسی محرکات کے بارے میں راضی کر لیا جس کے بعد پارٹی نے اپنے روایتی موقف سے ہٹ کر وزیراعظم کے استعیفا کا مطالبہ کیا۔ پنجاب کے رہنماﺅں کا یہ موقف تھا کہ2013 کے عام انتخابات میں پنجاب میں پیپلزپارٹی کو بڑا دھچکا لگا۔ اور پی ٹی آئی ایک مضبوط فریق کے طور پر سامنے آئی۔ مزید یہ کہ فرینڈلی اپوزیشن سے پارٹی کو خاص طور پر پنجاب میں کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔ پی ٹی آئی ان کے پاﺅں سے زمیں کھینچ رہی ہے۔ اب ایک جارحانہ موقف کے بغیر پنجاب میں پارٹی کی دوبارہ بحالی ممکن نہیں۔ اس لئے پاناما لیکس 
ایک سنہری موقعہ ہے۔ جس کی عوام میں بھی پذیرائی ہوئی ہے۔ 

 پارٹی کے سامنے یہ بھی بات تھی کہ آرمی چیف بلامتیاز احتساب کی بات کر چکے ہیں اور اپنے ہی حلقے یعنی عسکری ادارے سے نصف درج کے قریب سنیئر افسران کے خلاف کارروائی کر کے مثال قائم کر چکے ہیں کہ کوئی بھی احتساب سے بلاتر نہیں۔ اس کا مطلب یہ لیا گیا کہ ملک کے مقتدر حلقے بھی وزیراعظم کا احتساب چاہ رہے ہیں۔

پیپلزپارٹی کے سنیئر لیڈر اس تبدیلی کی توضیح یوں بیان کرتے ہیں کہ ان کی پارٹی تعمیری سیاست کر رہی تھی۔ لیکن نواز لیگ نے پارلیمنٹ کو ربڑ اسٹمپ بنا دیا ہے لہٰذا اس کو ہوش دلانا ضروری ہوگیا ہے۔ 

 پنجاب کے رہنما سمجھتے ہیں کہ پاناما لیکس ایک نعمت سمجھتے ہیں۔ اور وہ مکمل طور پر وزیراعظم کے خلاف جانا چاہ رہے ہیں۔ اگرچہ مشترکہ اپوزیشن وزیراعظم کے استعیفا پر مشترکہ موقف اختیار نہیں کر سکی۔ لیکن پیپلزپارٹی کا سرکاری موقف وہی ہے جو بلاول بھٹو نے آزاد کشمیر میں بیان کیا تھا اور اسکو سنیٹر اعتزاز احسن نے مشترکہ اپوزیشن کے اجلاس کے بعد ٹی او آر سے متعلق بریفنگ دیتے وقت بیان کیا کہ ان کی پارٹی وزیراعظم سے استعیفا چاہتی ہے۔ 

پیپلزپارٹی میں ایک سوچ یہ بھی ہے کہ پارٹی کو نہایت ہی خبرداری کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے۔ جبکہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ حکمران جماعت کے خلاف مکمل طور پر مہم چلانی چاہئے۔ 

بعض رہنماﺅں کا خیال ہے کہ موجود ہ صورتحال کو صحیح طور پر ہینڈل نہیں کیا گیا تو یہ یہ جال ثابت ہو سکتی ہے۔ اور ملک کو انارکی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی چیئر میں کا وزیراعظم سے استعیفا کا مطالبہ پی ٹی آئی کے پریشر کی وجہ سے نہیں تھا۔ لیکن سوچی سمجھی حکمت عملی کا نتیجہ تھا۔ 

سندھ نواز شریف کی ہر حال میں مخالفت کے حق میں نہیں۔اگرچہ سندھ حکومت کے بہت سارے معاملات میں عسکری حلقوں سے اختلاف ہے۔ اور یہ بھی شکایت ہے کہ وزیراعظم سندھ کے معاملات میں پیپلزپارٹی یا سندھ حکومت کی کوئی مدد نہیں کر سکے۔لیکن اس کے باجود وہ صورتحال کو احتیاط سے ہینڈل کرنے کے حق میں ہے۔

پیپلزپارٹی کی رہنما شیری رحمان کا کہنا ہے کہ پاناما پیپپرز پر ہمارا ردعمل فطری تھا۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ بحرانوں میں قیادت کی ہے۔ اور آج بھی وہی کر رہی ہے۔ کمیشن صرف ویزراعظم یا کسی ایک فرد کے خلاف نہیں۔ یہ صرف چند گنے  چنے لوگوں کے خلاف کاروائی نہیں۔ 
یہ ایک فریم ورک ہے جو عوامی مطالبے کے پیش نظر شفافیت کے لئے بنایا گیا ہے

 جہاں تک پی ٹی آئی اور عمران خان کا تعلق ہے اسے بھی اپنی روایتی حکمت عملی سے دستبردار ہونا پڑا۔ لگتا ہے کہ انہوں نے 2014 کے دھرنوں کی سیاست اور حکمت عملی سے بہت کچھ سیکھا۔ سب سے اہم بات یہ کہ حکومت سے اکیلے نہیں لڑا جا سکتا۔ اس ضمن میں عمران خان کو کچھ سمجھوتے بازی بھی کرنی پڑی۔ کیونکہ کل تک وہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کو ایک ہی صف میں کھڑا کر کے بات کرتے تھے۔ لیکن آج وہ پیپلزپارٹی کے ساتھ اتحاد میں کھڑے ہیں۔ 

اب مشترکہ اپوزیشن تنگ گلی میں کھڑے وزیراعظم کو مل کر للکار رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ نئی صف بندی نواز حکومت کو گرا سکتی ہے؟ پاناما سکینڈل کے ابھی مزید تفصیلات آئندہ ماہ آنی باقی ہیں۔کیا اس صورت میں یہ نئی صف بندی کتنی رہ سکتی ہے۔ ابھی بھی نواز شریف کو پیچھے دھکلنے پر تو اتفاق رائے ہے لیکن تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے ان کے استعیفا پر اختلاف ہے۔

 پی ٹی آئی وزیراعظم کے استعیفا پر سخت موقف رکھتی ہے۔ بلاول بھٹو نے پارٹی کی لائین بدل دی ہے۔ پارٹی پر دباﺅ یہی ہے کہ پی ٹی آئی کے لئے کھلا میدان نہ چھوڑا جائے۔ اور پارٹی کی اپوزیشن کے طور پر جو پوزیشن ہے اس کو برقرار رکھا جائے۔ ظاہر ہے کہ بلاول بھٹو کی اس نئی لائین کو والد کی منظوری حاصل ہوگی۔ پاناما اسکینڈل اب صرف احتساب کے بارے میں نہیں رہا بلہ ایک سیاسی اشو بن گیا ہے۔ جس میں ہر سیاسی جماعت بڑھ چڑھ کر بات کرنا چاہتی ہے۔ 1990 کی دہائی کے بعد ہم نے پہلی مرتبہ حکومت مخالف اتنا بڑا اتحاد دقائم ہوا ہے۔ یہ نوے کے عشرے کی محاذ آرائی کی یاد دلاتا ہے۔ اگرچہ اس میں بلاتفری احتساب کی بات کی گئی ہے لیکن اصل ٹارگیٹ وزیراعظم نواز شریف ہی ہیں ۔

وزیراعظم کے خلاف تحقیقات پر تو سب متفق ہیں لیکن کیا ہر سیاسی جماعت واقعی بلا امتیاز احتساب چاہتی ہے؟ ہر پارٹی میں کچھ نہ کچھ گند کچرا موجود ہے۔ پاناما پیپرز میں بشمول پی ٹی آئی تقریبا تمام بڑی پارٹیوں کے لوگوں کی کرپشن اور مالی بے قاعدگیوں کے بارے میں انکشافات موجود ہیں۔ ایسے میں پی ٹی آئی کی اخلاقی پوزیشن اس وقت کمزور ہوئی جب یہ خبریں آئیں کہ ان کے دو رہنما جہانگیر ترین اور علیم خان یا ان کے خاندان کے لوگوں کے بھی آف شور کمپنیوں میں حصہ ہے۔ یقیننا پارٹی کے اندرونی حلقوں سے عمران خان پر دباﺅ ہے کہ وہ ان رہنماﺅں کا بھی احتساب ہو اور ان کے خلاف پارٹی کے اندر بھی کارروائی کی جائے۔ 

اب گیند سیاسی جماعتوں کی کورٹ میں ہے ۔ کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ جمہوریت ملک میں کرپشن کا خاتمہ نہیں کر سکتی۔ بلکہ وہ ایسے مواقع فراہم کرتی ہے کہ منتخب نمائندے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھائیں۔ لہٰذا معاملہ ایک مرتبہ کے احتساب کا نہیں۔ بلکہ مسلسل اور بلا تفریق احتساب کا ہے۔ 

http://www.naibaat.com.pk/ePaper/lahore/06-05-2016/details.aspx?id=p12_05.jpg