نواز شریف سے ہی کام چلانا ہے
نواز حکومت کے تین سال کیسے گزرے؟
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
پہلا موقعہ ہے کہ نواز لیگ نے حکومت کے تین سال مکمل کر لئے۔ وہ اپنے تئیں یقیننا اس کو ایک بڑا کارنامہ سمجھتی ہے ۔ ورنہ تیسرے سال کے دوران ہی ان کی حکومت کو چلتا کر دیا جاتا تھا۔ اس سے قبل ایک بار تو بہت ہی بھاری مینڈیٹ کے ساتھ، لیکن وقت سے پہلے ان کی حکومت ختم کردی گئی۔
بظاہر یہ اسٹبلشمنٹ سے مسلسل کشیدگی اور تصادم کی وجہ سے ہوا۔ یہ نوے کا عشرہ تھا جب ملک کی دو بڑی جماعتیں پیپلزپارٹی اور نواز لیگ ایک دوسری کی ٹانگیں کھینچ رہی تھی۔ وہ انتخابات تک صبر نہیں کر پار ہی تھیں۔ اس کو سیاسی جماعتوں کی نا بلوغت سے تعبیر کیا جاتا ہے کہ وہ باہر کی قوتوں کو مداخلت کی دعوت دیتی رہیں یا ان کی حوصلہ افزائی کرتی رہیں۔
لیکن جب مشرف نے دونوں جماعتوں کا باہر رکھنے اور نئے پاور بروکرز سیاست کے میدان میں اتارنے کا فارمولا بنایا تو ان دوجماعتوں کو بات سمجھ میں آئی۔دیکھا جائے تو ابھی بھی نئے پاور بروکرز کا ڈر ہی ان دونوں جماعتوں ایک دوسرے کے قریب رکھے ہوئے ہے۔
تیسری مرتبہ اقتدار میں آنے کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے کراچی میں وفاقی حکومت کی نگرانی میں دہشتگردوں، ٹارگیٹ کلرز، بھتہ خوری وغیرہ کے آپریشن شروع کر دیا۔ بعد میں اس آپریشن کا دائرہ کرپشن، چائنا کٹنگ تک بڑھا دیا گیا ۔ رینجنرز کو پولیس کے اختیارات دینے کے معاملے پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تنازع کھڑا ہوا۔
وزیراعظم اس معاملے میں پیپلزپارٹی اور سندھ حکومت کا ساتھ نہ دے سکے۔ یہاں سے نواز لیگ کی سیاسی تنہائی شروع ہو گئی۔
باقی معاملات میں خواہ مختلف نقط نظر ہو لیکن کراچی کی حد تک نواز لیگ کی حکومت کو عسکری قوتوں کی بھرپور حمایت رہی۔
خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف اور سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت رہی، یہ دونوں جماعتیں وفاق میں اپوزیشن جماعتیں رہیں۔ اس وجہ سے صوبائی تضاد بھی بڑھا۔
دوسرے سال کے دوران نواز لیگ حکومت کو دو بڑے چیلینجز کا سامنا کرنا پڑا۔ عمران خان اور طاہر القادری نے نے اپنے حامیوں سمیت دسمبر اور اگست 20014 میں پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے دھرنے دیئے او لاہور سے لانگ مارچ کیا۔ یہ احتجاج مجبورا آرمی پبلک اسکول پشاور کے سانحے کے بعد ختم کرنا پڑا۔ اس واقعہ کے بعدسیاسی قوتوں کو بٹھایا گیا کہ وہ پہلے دہشتگردی کے واقعات کا حل نکالیں۔
عمران خان کے احتجاج اور مطالبے پر 2015 میں قائم کی گئی انکوائری کمیشن نے نواز لیگ کو دھاندلی کے الزامات سے بری کر دیا۔تاہم یہ تمام عرصہ حکومت سخت دباﺅ میں رہی اگر انکوائری کمیشن کا فیصلہ حکومت کے خلاف آتا تو تیسرے سال ہی نواز لیگ حکومت کو گھر بھیج دیا جاتا۔
اگرچہ پاناما اسکینڈل نے حکومت کو گہری ضرب پپہنچائی ہے۔ لیکن اکثر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اب چونکہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس ہے جو تحقیقاتی کمیشن کے ٹی او آ رز بنائے گی، اس کے بعد یہ معاملہ بطور گرم سیاسی اشو کے نہیں رہے گا۔
سیاسی قوتوں میںتمام اختلافات اور کشیدگیوں کے باوجود یہ رائے حاوی ہے کہ کسی بھی غیر جمہوری قدم کی حمایت نہیں کریں گی۔
اگر یہ اتفاق رائے یوں ہی چلتا رہا تو نواز لیگ اپنی آئینی مدت مکمل کر لے گی۔ یہ رائے اس وجہ سے بھی بنی ہے کہ نواز شریف کو” کنٹرول اور ضابطے “میں رکھنا بہت سے حلقوں کا مقصد ہو سکتا ہے لیکن اس کو ہٹا کر عمران خان کو بٹھائیں، اس پر سیاسی خواہ غیر سیاسی حلقوں میں اتفاق رائے نہیں۔ پھر کیا فوج اقتدار سنبھال لے یاپیپلز پارٹی؟ اس میں بھی بہت سارے اگر مگر ہیں۔
لہٰذا بات اس پر آکر ٹہر گئی ہے کہ فی الحال اس جھنجھٹ میں پڑنے کے بجاے نواز شریف سے ہی کام چلانا چاہئے۔
سیاسی قوتیں ایک صفحے پر بھلے نہ ہوں لیکن قریبی صفحوں پر ضرور ہیں۔ چند ہفتوں سے حکمران جماعت اور اپوزیشن کے درمیان سخت کشیدگی ہے۔ لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے سربراہ اور ممبران کی اہلیت سے متعلق بائیسویں آئینی ترمیم پر تمام جماعتیں متفق ہو گئیں اور اس ترمیم کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔ یہ امر دلچسپ ہے کہ ابھی ایک سال پہلے تک الیکشن کمیشن پر الزامات عائد ہوتے رہے اور انتخابات میں دھاندلی پر عمران خان نے بڑی تحریک چلائی تھی۔
نواز حکومت کے تین سال کے سفر میں دو سال زیادہ مشکل رہے۔انہیں سول ملٹری اختیار کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں خاصی دقت کا سامنا کرنا پڑا۔ نواز حکومت کو مختلف مواقع پر پیچھے ہٹنا پڑا۔نہ چاہتے ہوئے بھی ریٹائرڈ جنرل مشرف بیرون ملک جانے کی اجازت دینی پڑی۔ پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے سویلین اور عسکری نقطہ نظرالگ الگ ہیں۔ یہ وہ نقطہ ہے جہاں سب سے پہلی دراڑ پڑی ۔ اس کی گاہے بگاہے جھلک مختلف مواقع پر نظر آ تی رہتی ہے۔
دہشتگردی کے خلاف پنجاب میں اقدامات کئے جانے ہیں۔ سویلین حکومت ایک طرح سے چیزیں کرنا چاہتی ہے اور عسکری قوتیں دوسرے طریقے سے۔ فی الحال نواز شریف اس معاملے کو بڑی حد تک روکے ہوئے ہے۔ لیکن وہ زیادہ عرصے تک ایسا نہیں کر پائیں گے۔ بدنام ڈاکو غلام رسول عرف چھوٹو کا ڈرامائی آپریشن بہت ساری چیزیں واضح کر دیتا ہے۔
افغانستان کے ساتھ تعلقات اہم ہیں لیکن اس میں الجھنے میںنواز شریف کا کوئی بھلا نہیں لہٰذا وہ اس پر الگ سے اسٹینڈ لینا ضروری نہیں سمجھتے۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ آیا ہے لیکن اس کی وجہ سویلین حکومت نہیں۔ یہ معاملہ شدت پسند گروپوں کے ساتھ تعلقات اور ان کو کیسے ڈاٰل کیا جائے اس سے تعلق رکھتا ہے۔ جس کو اب سویلین حکومت نہیں دیکھ رہی۔
نواز شریف کی حکومت کو مدت مکمل کرنے میں دو ہی چیزیں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ ایک پاک بھارت تعلقات اور دوسرے پنجاب میں کارروائی۔
رواں سال چائنا پاک اقتصادی راہداری کا منصوبہ سامنے آیا۔ اس کے نتیجے میں کچھ عرصے تک سول اور عسکری قوتوں کے درمیان خوشگوار تعلقات دیکھنے میں آئے۔ میڈیانے یہ بھی خبریں آنے لگی کی آرمی چیف اور وزیراعظم کے درمیان ہفتے میں دو ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔
ابھی یہ معاملہ چل ہی رہا تھا کہ اپناما سکینڈل پھٹ پڑا۔ وزیراعظم نواز شریف کے دو بیٹے اور ایک بیٹی کاآف شور کمپنیوں میں نام آ گیا۔ وزیراعظم نے دو مرتبہ قوم سے خطاب کیا۔ اور قومی اسمبلی میں اپنے خاندان کے کاروبار کی تفصیلات بتائیں ۔ اگرچہ اپوزیشن نے انکے خطاب پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور قومی اسمبلی کے اجلاس کا بائکاٹ کیا لیکن وہ اس پر راضی ہوگئی کہ حکومت کے ساتھ بیٹھ کر عدالتی کمیشن کے ٹی او آرز بنائے ۔ وزیراعظم نے اعلان کیا کہ اگر الزامات ثابت وہئے تو وہ استعیفا دینے کو تیار ہیں لیکن اپوزیشن کی دو جماعتوں کا زور تھا کہ وزیر اعظم تحقیقات مکمل ہونے تک استعیفا دیں۔
پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کا اگر قانون سازی کے حوالے سے موازہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ پیپلزپارٹی کا زور آئین کو صاف ستھرا کرنے پر رہا ۔یعنی جنرل مشرف جو غیر آئینی شقیں آئین میں ڈال گئے تھے وہ نکال دی جائیں۔
نواز لیگ نے نیشنل ایکشن پلان اور متنازع اکیسویں آئینی ترمیم دی جس کے تحت فوجی عدالتیں قائم کی گئیں۔ اور ان عدالتوں کو آئینی تحفظ دیا گیا۔
نواز شریف کے گزشتہ دور حکومت میں بھی آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت کراچی میں فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں۔
پیپلزپارٹی اٹھارویں ترمیم منظور کرانے میں کامیاب ہو گئی۔ جس میں صوبائی خود مختاری دی گئی ہے۔ یہ ترمیم سترہویں ترمیم کا توڑ بھی تھی، جس میں صدر کو اسمبلی توڑنے کے اختیارات دیئے گئے تھے۔ یہی وہ ترمیم ہے جو مشرف کا اختیارات کی نئے سرے سے تقسیم کا فامولا ہے۔
پیپلزپارٹی کی حکومت نے انیسویں ترمیم ججوں کے تقرر کے حوالے سے پاس کی۔ اور خواتین کی جنسی ہراسگی کے خلاف قانون منظور کیا۔ اگرچہ مذہبی حلقوں سے اس بل کی سخت مخالفت کی گئی۔
دہشتگردی کے خلاف اقدامات کے ساتھ ساتھ نواز لیگ نے توانائی کے شعبے میں جنرل سیلز ٹیکس، اور سرچارج کا نفاذ رہا۔ پی آئی اے کی نجکاری کے چکر میں ایک دوسری نیم سرکاری کمپنی تشکیل دی گئی اور اس سے متعلق قانون بھی بنا دیا گیا۔ انتخابی منشور اور نعروں کے برعکس معاشی حوالے سے وہ کوئی ٹھوس کام نہیں کر سکے۔ ملکی معیشت کی خراب صورتحال کا نقشہ اسٹیٹ بینک کی حالیہ رپورٹ سے صاف نظر آتا ہے۔
چوتھے سال میں دیکھنا ہے کہ نواز لیگ معاملات کو کس رخ میں لے جاتی ہے یا معاملات نواز لیگ کو کس رخ میں لے جاتے ہیں ۔








