سیاستدانوں کی مشقیں
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
پاناما لیکس کے بطن سے جنم لینے والے بحران کا خاتمہ حکومت آسانی سے کر سکتی تھی۔ جو بعد از خرابی بسیار ہوا وہ پہلے بھی ہو سکتا تھا۔ اس کے لئے چھ ہفتے تک وقت اور عوام کا پیسہ ضایع کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ ویزراعظم قوم سے خطاب کے موقع پر یا پھر قومی اسمبلی میں خطاب میں اس معاملے کو ایک ہی جھٹکے میں اپنی وضاحت کر کے ختم کر سکتے تھے۔ لیکن وزیراعظم کو یہ مشورہ دیا گیا کہ انہوں نے اگر ایسا کیا تو وہ، ان خاندان بلکہ پوری پارٹی دلدل میں پھنس جائے گی۔ اور احتساب وغیرہ کا معاملہ نہیں بلکہ سیاسی معاملہ ہے، جس کا مطلب سیاسی اسکور
حاصل کرنا یا پھر نواز لیگ کی حکومت کو گرانا ہے۔
حاصل کرنا یا پھر نواز لیگ کی حکومت کو گرانا ہے۔
بہرحال اپوزیشن کی یقین دہانی پر وزیراعظم نے جب اسمبلی میں آکر خطاب کیا تو اپوزیشن نے صرف اجلاس کا بائکاٹ کیا۔ اور کوئی شور شرابہ نہیں کیا۔ چاہے وزیراعظم نے اپوزیشن کے سات سوالات کا جواب نہ دیا لیکن انہوں نے اسمبلی کی بالادستی کو تسلیم کیا۔ دوسرے روز اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ اور عمران خان کی تند و تیز تفصیلی تقاریر ہوئیں اس کے بعد مجموعی طور پر پہلے جیسے گرمی نہیں رہی۔
اپوزیشن کی جانب سے قومی اسمبلی کے اجلاس کا بائکاٹ ختم کرنے اور پاناما لیکس کی تحقیقات کے لئے وزیرعظم کی اعلان کردہ پارلیمانی کمیٹی میں شمولیت پر راضی ہونے نے ماحول کو بہتر بنادیا ہے۔ ورنہ وزیراعظم کی قومی اسمبلی کی تقریر کو اپوزیشن نے مایوس کن قرار دیا تھا۔ اب یہ کمیٹی نئے ٹی او آر طے کرے گی۔ آئینی نظام اور جمہوریت کو خطرے میں ڈالے بغیر معاملات احتساب کی طرف بڑھیں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹی اور آر کچھ اس طرح کے بنیں گے جس میں وزیراعظم کو یہ شکایت نہ ہو کہ احتساب صرف ان کے خاندان کا ہو رہا ہے۔ اپوزیشن سمجھتی ہے کہ اس طرح کا عمل آگے چل کر نواز لیگ کو فائدہ دے گا کیونکہ وہ خود کو عوام میں مظلوم کے طور پیش کر کے ووٹ لے سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اپوزیشن کے پاس دوسرا کوئی موثر آپشن بھی نہیں تھا۔ پارلیمنٹ کا بائکاٹ جاری رکھنے اور پارلیمنٹ سے باہر احتجاج کرنے ، الزام تراشی اور شور شرابے کا تھا جس سے ملک میں مزید بے یقینی پیدا ہوتی۔ اور یہ بے یقینی جہاں ملکی معیشت کو متاثر کرتی وہاں خود آئنی نظام کو بھی خطے میں ڈال سکتی تھی۔
اپوزیشن کا ایک طرف مصالحانہ رویہ ہے تو دوسری طرف وہ اپنا پریشر جاری رکھنا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ہفتے تک ان کے وزیرعظم سے سات سوالات تھے وہ اب بڑھ کر ستر سوالات ہو گئے ہیں۔ اب جب بھی حکومت ٹی او آر یا تحقیقات کے دوران اگر گڑبڑ کرے گی تو اس کی ”گوشہ مالی“ کے لئے یہ ستر سوالات اس کا پیچھا کرتے رہیں گے اور ”درست “ رکھنے میں مدد دیں گے۔ اپوزیشن کے سوال در سوال پاناما لیکس سمیت کرپشن وغیرہ کے معاملات جن کی چیف جسٹس کی سربراہی میں تحقیقات ہونی ہے اس پر اثرانداز ہو سکتے ہیں یا پھر اس میں تاخیر کا باعث بن سکتے ہیں جب چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن بن رہا ہے تو اس طرح کے سوالات کمیشن کے لئے اٹھ کے رکھے جائیں تو بہتر ہوگا۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایسی کشیدگی جو افراتفری کی شکل اختیار کرے نہ تحقیقات کے لئے اور نہ جمہوری نظام کے لئے فائدہ مند
ہو سکتی ہے۔
عوام چاہتے ہیں کہ ہر قسم کی کرپشن سے ہمیشہ کے لئے جان چھڑانے کی خاطر بامعنی عدالتی تحقیقات اور نیتجہ خیز احتساب ہونا چاہئے۔ لیکن ایسا کوئی معجزہ ہو جائے، یہ مشکل لگتا ہے۔ اسمبلی کے اس اجلاس کے دوران حکومت خواہ اپوزیشن کی کارکردگی اور رویہ قابل تحسین نہیں تھا۔ وہ ایک دوسرے کو اکموڈیٹ کر رہے تھے۔ جب اکموڈیٹ ہی کرنا ٹہرا تو پھر اتنا بڑا شو لگانے اور شور کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ وزیراعظم ایوان میں تھوڑی دیر کے لئے ہی آئے اور اس دوران انہوں وہ کہا جو وہ چہاتے تھے لیکن وہ کچھ نہیں کہا جو عوام چاہتے تھے۔ اپوزیشن کو جو ایوان کے اندر کہان چاہئے تھا وہ وہاں کہنے کے بجائے ایوان سے باہر آکر کہا۔ وزیراعظم بھی یہی کر رہے ہیں ۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر یک منتخن ایوان کی حیثیت کم ہو جاتی ہے۔
وزیراعظم کے لئے بہترین موقعہ تھا کہ وہ خود کو وسیع نظر سیاستدان ثابت کرتے۔ وہ صرف یہ اعلان کرتے کہ جب تک پاناما لیکس کی تحقیقات مکمل نہیں ہوتی تب تک وہ عہدے سے علحدہ ہو رہے ہیں۔ یہ سیاسی فتح تھی جو انہیں آئندہ انتخابات جیتنے میں مدد دیتی۔ عہدہ سے وقتی طور پر علحدہ وہنے کا مطلب جرم تسلیم کرنا نہیں ہوتا، بلکہ اداروں میں یہ اعتماد کرنا ہوتا ہے کہ وہ ان کے بارے میں غیر جانبدارانہ تحقیقات کر ہو سکے گی۔ سیاست میں عوامی تاثر یا رائے اہم ہوتی ہے۔ یہ رائے اگر ایک مرتبہ قائم ہو جائے تو لمبے عرصے تک چلتی ہے۔
حکومت زیادہ تر یہ راگ گاتی رہی کہ نظام کو خطرہ ہے۔ سوال یہ کہ کیسے؟نواز لیگ قومی اسمبلی میں اکثریتی جماعت ہے جہاں اس کو کوئی خطرہ نہیں اگر وہ کسی وجہ سے ایوان میں اپنی قیادت میں تبدیلی لے آتی اس سے جمہوریت ڈی ریل نہیں ہوتی۔ بلکہ اس سے پارٹی کی اخلاقی پوزیشن مضبوط ہوتی۔
ملکی حالات کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ مجموعی طور پر عوام کی ناراضگی کا اظہار کرنتے کرتے تھک چکا ہے ۔ عوام کی اس تھکاوٹ کا قائدہ ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی لے لیتا ہے۔ اس مرتبہ وزیراعظم نے لے لیا کہ وہ اپنے موقف پر ڈٹ گئے۔ وہ نہ خود کو عوام کے سامنے اور نہ متخب ایوان کے سامنے جوابدہ سمجھتے ہیں۔ یہ ایک غؒط رویات ہے جس کو ملک کی ایک بڑی پارٹی نے ایک مرتبہ پھر مضبوط کیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ لوگوں میں اپنی جمہوری فرائض ادا کرنے کی صلاحیت میں کمی آئی ہے۔ یا وہ ختم ہو چکا ہے۔
جب وہ سب ایک دوسرے کو چور چور کہہ رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ پورے حکمران طبقے کی مذمت کر رہے ہیں ۔ نواز شریف کے تذبزب نے اس کے مخالفین کے لئے راستہ کھولا کہ وہ اپنے مالی اور نظریاتی کرپشن کو ایک طرف رکھ کر اس سے حساب دینے کا مطالبہ کریں۔ یہ ان غیر جمہوری وقتوں کو بلاوا دینے کے برابر ہے کہ وہ آئیں اور ان کرپٹ اور مفاد پرست سیاستدانوں سے عوام کی جان چھڑائیں۔
اسے اتفاق کہئے کہ فوجی اسٹبلشمنٹ نے اس مرتبہ خود کو دور رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کا کوئی بھی ویزر اب یہ نہیں کہ رہا کہ حکومت اور فوج ایک صفحے پر ہیں۔ بلککہ فوج تو یہ کہہ رہی ہے کہ بلا امتیاز احتساب ہونا چاہئے۔ ویسے بھی ایک متخب حکومت کا یہ کہنا کہ وہ فوج کے صفھے پر ہے کوئی فخر کی بات نہیں۔
پاناما لیکس کی وجہ سے ملک میں جمہوریت کو جو نقصان ہوا سو ہوا، اتنا ہی نقصان اس موضوع پر ہونے والی بحث سے بھی ہوا۔ ایک وزیر باتدبیر نے یہاں تک کہاں کہ پاناما لیکس پر احتجاج کرنے والے دہشتگرد ہیں۔ یا یہ کہ وزیراعظم اپوزیشن کے سوالات کا جواب دینے کے پابند نہیں۔اپوزیشن بھی جو کہہ رہی تھی وہ یہ کہ حکمران جماعت ہم سے زیادہ کرپٹ ہے۔ (مطلب ہم کم کرپٹ ہیں)۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت اور پارٹی رہنماﺅں و افسران پر جو الزامات لگتے رہے اس پر سب لوگوں ی توجہ ہٹ گئی۔ اس پوری بحچ میں کسی نے بھی اس پر بات نہیں کی۔
المیہ دیکھئے کہ پوری انتظامیہ اور حکومت پچھلے چار ہفتوں سے معطل ہے۔ باقی عوام کے کام فیصلہ سازی وغیرہ ہو ہی نہیں رہی۔ سرکاری لیڈر حملہ کرنے یا حملے سے بچنے کی مشق میں مصروف رہے۔
لوگوں کی تکالیف بڑھتی رہیِ ۔ سیاستدان کس طرح سے عوام کے حقوق کے رکھوالے ہیں؟ یہ کہیں بھی نظر نہیں آیا۔
روزنامہ نئی بات
http://www.naibaat.com.pk/ePaper/lahore/20-05-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg


No comments:
Post a Comment