Thursday, May 12, 2016

وزیر اعظم، اسٹبلشمنٹ اور اپوزیشن

وزیر اعظم، عسکری اسٹبلشمنٹ اور اپوزیشن

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی 

وزیراعظم نواز شریف نے سنگ بنیادوں کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ اور اسکے ساتھ ہی وہ جلسوں سے خطاب کر کے عوام سے براہ راست رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب اپوزیشن خاص طور پر تحریک انصاف عوام کے پاس جانے کی تیاری کر رہی ہے۔ وزیراعظم شاید عمران خاں اور اس طرح کے دوسرے سیاستدانوں کی کوششوں کی پیش بندی کرنا چاہ رہے ہیں۔ یا یہ کہ اگر انہیں کل اقتدار سے علحدہ کر دیا جاتا ہے تو وہ یہ بات گنوا سکتے ہیں کہ انہوں نے کون کون سے پروجیکٹ شروع کئے تھے۔

 نواز شریف میںذوالفقار علی بھٹو والی دانشمندی تو نہیں کہ جب بھی انہیں تنگ گلی کی طرف گھسیٹا گیا تو انوہں نے عوام سے روجوع کیا اور وہیں سے اپنی قوت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ لہٰذوزیراعظم کی عوامی رابطے کے مذکورہ بالا دو ہی اسباب ہو سکتے ہیں۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ وزیراعظم پارلیمنٹ کے متبادل کے طور پر عوامی رابطہ مہم شروع کئے ہوئے ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ وزیراعظم کی تقریر میں وہی تند و تیز زبان ہے جو انتخابی مہم میں ہوا کرتی ہے، اپوزیشن کے بارے میں ریمارکس وغیرہ بلکل اسی انداز سے ہیں۔ 

وزیراعظم اس وقت پاناما لیکس اور سول عسکری تناﺅ میں گھرے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم گزشتہ چند ہفتوں سے اپنے مشیروں ، وزراءائر خیر خواہوں سے مشاورت کرتے رہے ہیں ۔ ایک مرحلے پر وزیراعظم نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ جب ترکی کے وزیراعظم وہاں کی عسکری اسٹبلشمنٹ اور سیاسی پاوزیشن کا مقابل کر سکتے ہیں تو تو وہ خود اس پر عمل کیوں نہیں کر سکتے؟ 

وزیراعظم کو پارٹی کے بعض رہنماﺅں نے مشورہ دیا کہ اپوزیشن کے ساتھ سخت رویہ رکھنے سے گریز کریں اور عسکری اسٹبلشمنٹ کے ساتھ معاملات کو چلانے کی کوشش کریں۔ ان سے بات چیت اور مشاورت کرتے رہیں۔ لیکن ان کے بعض مشیر اور قریب لوگوں کا یہ مشورہ ہے کہ جب اپوزیشن ان کو تنگ گلی کی طرف دھکیل رہی ہے، اور ایسی صورتحال پیدا کر رہی ہے جس کی وجہ سے ان کی پوزیشن کمزور ہوتی جارہی ہے، ایسے میں انہیں اپوزیشن کی طرف سخت موقف لینا چاہئے۔ وزیراعظم کے حالیہ جلسے اسی سوچ اور مشورے کا نتیجہ ہیں ۔
 جب پاناما لیکس کامعاملہ کھلا تو وزیراعظم نے پارلیمنٹ سے رجوع کرنے کے بجائے ٹی وی قوم سے خطاب کیا، حکومت مسلسل معاملے کو 
پارلیمنٹ میں لانے یا اس پر ایوان میں بات کرنے سے کتراتی رہی۔ وزراءبھی زیادہ تر پریس کانفرنسوں پر زور دیتے رہے۔ 

اس کے برعکس پیپلزپارٹی کا رویہ زیادہ مثبت رہا کہ وہ اس معاملے کواس کو پارلیمنٹ میں ہی لانے کی کوشش کرتی رہی، یہاں تک کہ مشترکہ اپوزیشن کا اجلاس سنیٹر اعتزاز احسن کے گھر پر ہوا لیکن اس ٹی او آر کا خط قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے لیڈر سید خورشید شاہ نے لکھا ۔ یعنی معمالہ پارلیمنٹ کے اندر ہی رہے اور اور وزیراعظم یا حکمران جماعت کو بھی بات چیت کرنے میں کوئی دقت نہ ہو۔ عملی طور پر یہ وہی پرانا فریم ورک ہے جس میں پیپلزپارٹی اور نواز لیگ دو اہم فریق ہیں۔ مشترکہ اپوزیشن کو جمع کرنا پیپلزپارٹی کے ہی کھاتے میں جاتا ہے۔ پیپلزپارٹی کی حکمت عملی کے پیچھے یہ آئیڈیا پنہاں ہے کہ اگر مقتدرہ حلقے بات چیت کرنا چاہتے ہیں تو عمران خان سے نہیںاس سے بات کریں۔ کیونکہ ایوان کے اندر خواہ باہر اپوزیشن کی لیڈر وہی ہے۔

بعض حلقوں کا خیال ہے کہ معاملہ ایک بار پھر نوے کے عشرے کی طرح محاذ آرائی کی طرف چلا گیا ہے جس میں ملک کی دو اہم پارٹیان ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کے لئے سیاسی و غیر سیاسی قوتوں سے اتحاد کر رہی تھی۔ طائرانہ نظر سے ایسا ہی محسوس ہوتا ہے لیکن عملا ایسا نہیں۔بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے درمیان لندن میں جو میثاق جمہوریت پر دستخط ہوئے تھے وہ بڑی حد تک قائم ہے۔ پیپلزپارٹی کو کسی بھی طور پر یہ بات فادہ نہیں دیتی کہ موجودہ نظام کو گرا دیا جائے۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا ہے تو پورا سیاسی نظام ہی تبدیل ہو جائے گا اور نئے پاور بروکرز میدان میں آئیں گے، بالکل سی طرح سے جس طرح مشرف نے پیدا کئے تھے۔ ان نئے پاور بروکرز کو شکست دینا یا ان سے ڈٰیل کرنا مشکل ہو جائے گا۔ 

یہ بھی حقیقت ہے کہ جب تک پیپلزپارٹی میدان میں نہیں آتی تب تک حکومت کے خلاف کوئی بڑا اتحاد نہیں بن سکتا۔موجودہ حکومت کے خاتمے کی بات ہوتی تو صف دبندیاں ہی تبدیل و جاتی۔ تمام جماعتیں نئے مرحلے کے لئے اپنی حکمت عملیاں بناتیں۔ اگر ایسا کوئی اتحاد بن رہا ہوتا تو مولانا فضل الرحمان وزیراعظم کے ساتھ نہیں کھڑے ہوتے۔ اور محمود خان اچکزئی کا رویہ بھی مختلف ہوتا۔ 

وزیراعظم کا اپوزیشن کی طرف دہرا رویہ ہے ایک طرف ان کو دہشتگرد قرار دے رہے ہیں تو دوسری طرف بات چیت کے لئے بھی تیار ہیں۔اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں کہ حکومت اپوزیشن کے ٹی او آرز پرجوں کا توں عمل کرے ۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ اپوزیشن کے رویے میں لچک موجود ہے جبکہ حکمران جماعت کے رویے میں یہ لچک نہیں۔ اسلام آباد کو رائیونڈ کے دھرنوں کے خوف سے وزیراعظم اپوزیشن کے ٹی اور آرز کو رد بھی کر رہے ہیں اور اپوزیشن سے بات بھی کرنا چاہتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اپوزیشن کمیٹی تو بنائے۔ اس سے تجزیہ نگار یہ اخذ کر رہے ہیں کہ نواز لیگ میں ایک زائد رائے موجود ہین اور وزیر اعظم ان دونوں حکمت عملیوں پر بیک وقت عمل پیرا ہیں۔ 

 اب جب وزیراعظم ر استعیفا کا دباﺅ کم ہو چکا ہے وزیراعظم کے لئے مثالی صورتحال ہے کہ وہ اپوزیشن کے ٹی او آرز کو قبول کر لے، یوں بات لمبے بحر میں چلی جائے گی۔ 
 روزنامہ نئی بات
http://www.naibaat.com.pk/ePaper/lahore/10-05-2016/details.aspx?id=p12_05.jpg

No comments:

Post a Comment