Nai Baat May 7, 2016
http://www.naibaat.com.pk/pre/lahore/Page12.aspx
http://www.naibaat.com.pk/ePaper/lahore/06-05-2016/details.aspx?id=p12_05.jpg
http://www.naibaat.com.pk/pre/lahore/Page12.aspx
پیپلزپارٹی کے موقف میں تبدیلی کیسے آئیَ ؟
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
پیپلزپارٹی وزیراعظم کے استعیفا سے پیچھے ہٹ گئی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس نے نواز لیگ کی مخالفت نہیں کرنا چاہتی یا اس سے جھگڑا ختم کر لیا ہے۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی بڑی جماعت ہونے کے باوجود اس نے ایوان کے اندر خواہ باہر میدان پی ٹی آئی کو دے رکھا تھا۔ پی ٹی آئی 2014 میں ایوان سے باہر دھرنا دیئے بیٹھی تھی۔ اسوقت تمام پارلیمانی قوتوں نے محسوس کیا کہ وہ غیر جمہوری قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد ہو ا جائیں۔ لیکن اس وقت پارلیمانی قوتیں اس طرح سے نہیں سوچ رہی ہیں ۔
پیپلز پارٹی کے اس رویے کی وجہ سے مجموعی طور ر یہ تاثر بنا کہ پیپلزپارٹی فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے۔ خاص طور پر پنجاب میں وہ اپنے لئے جگہ نہیں بنا پارہی تھی جہاں گزشتہ انتخابات کے بعد پیپلزپارٹی ”آخری سانسیں“ لے رہی تھی۔
پاناما لیکس کے بعد صورتحال بدل گئی۔ پیپلزپارٹی کے اراکین پارلیمنٹ نے دونوں ایوانوں میں حکومت کے خلاف آواز بلندکی۔ او ر پارٹی کے سینٹ میں لیڈر اعتزاز احسن کے گھر پر مشترکہ اپوزیشن کے اجلاس میںاپوزیشن نے ٹی او آر تیار کیا گیا۔
پیپلزپارٹی کے موقف میں یہ اچانک تبدیلی کیسے آئی؟ خود ساختہ جلاوطن پارٹی کے اہم لیڈر آصف علی زرادری نواز شریف حکومت کے ساتھ دوستانہ انداز اختیار کئے ہوئے تھے۔ ملک میں موجود پارٹی کے ایک اور اہم رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ حکومت کی مخالفت کے باوجود پی ٹی آئی کی طرح وزیراعظم کے استعیفا کا مطالبہ نہیں کر رہے تھے۔ اچانک پارٹی کے نوجوان چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے استعیفا کا مطالبہ کر لیا۔ یہ مطالبہ ان کے والد کی لائین کے برعکس تھا۔
دراصل بلاول بھٹو زردار ی نے پنجاب پیپلزپارٹی کے ان خیالات اور سوچ کو اپنالیا ۔ انہوں نے آزاد کشمیر میں اپنی تقریر میں شریف برادران کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اپریل میں بلاول بھٹو زرداری کے اسلام آباد میں قیام کے دوران پنجاب کے پارٹی رہنماﺅں کی ان سے تفصیلی بات چیت ہوئے اور انہوں نے اپنے چیئرمین کو پنجاب کے سیاسی محرکات کے بارے میں راضی کر لیا جس کے بعد پارٹی نے اپنے روایتی موقف سے ہٹ کر وزیراعظم کے استعیفا کا مطالبہ کیا۔ پنجاب کے رہنماﺅں کا یہ موقف تھا کہ2013 کے عام انتخابات میں پنجاب میں پیپلزپارٹی کو بڑا دھچکا لگا۔ اور پی ٹی آئی ایک مضبوط فریق کے طور پر سامنے آئی۔ مزید یہ کہ فرینڈلی اپوزیشن سے پارٹی کو خاص طور پر پنجاب میں کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔ پی ٹی آئی ان کے پاﺅں سے زمیں کھینچ رہی ہے۔ اب ایک جارحانہ موقف کے بغیر پنجاب میں پارٹی کی دوبارہ بحالی ممکن نہیں۔ اس لئے پاناما لیکس
ایک سنہری موقعہ ہے۔ جس کی عوام میں بھی پذیرائی ہوئی ہے۔
پارٹی کے سامنے یہ بھی بات تھی کہ آرمی چیف بلامتیاز احتساب کی بات کر چکے ہیں اور اپنے ہی حلقے یعنی عسکری ادارے سے نصف درج کے قریب سنیئر افسران کے خلاف کارروائی کر کے مثال قائم کر چکے ہیں کہ کوئی بھی احتساب سے بلاتر نہیں۔ اس کا مطلب یہ لیا گیا کہ ملک کے مقتدر حلقے بھی وزیراعظم کا احتساب چاہ رہے ہیں۔
پیپلزپارٹی کے سنیئر لیڈر اس تبدیلی کی توضیح یوں بیان کرتے ہیں کہ ان کی پارٹی تعمیری سیاست کر رہی تھی۔ لیکن نواز لیگ نے پارلیمنٹ کو ربڑ اسٹمپ بنا دیا ہے لہٰذا اس کو ہوش دلانا ضروری ہوگیا ہے۔
پنجاب کے رہنما سمجھتے ہیں کہ پاناما لیکس ایک نعمت سمجھتے ہیں۔ اور وہ مکمل طور پر وزیراعظم کے خلاف جانا چاہ رہے ہیں۔ اگرچہ مشترکہ اپوزیشن وزیراعظم کے استعیفا پر مشترکہ موقف اختیار نہیں کر سکی۔ لیکن پیپلزپارٹی کا سرکاری موقف وہی ہے جو بلاول بھٹو نے آزاد کشمیر میں بیان کیا تھا اور اسکو سنیٹر اعتزاز احسن نے مشترکہ اپوزیشن کے اجلاس کے بعد ٹی او آر سے متعلق بریفنگ دیتے وقت بیان کیا کہ ان کی پارٹی وزیراعظم سے استعیفا چاہتی ہے۔
پیپلزپارٹی میں ایک سوچ یہ بھی ہے کہ پارٹی کو نہایت ہی خبرداری کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے۔ جبکہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ حکمران جماعت کے خلاف مکمل طور پر مہم چلانی چاہئے۔
بعض رہنماﺅں کا خیال ہے کہ موجود ہ صورتحال کو صحیح طور پر ہینڈل نہیں کیا گیا تو یہ یہ جال ثابت ہو سکتی ہے۔ اور ملک کو انارکی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی چیئر میں کا وزیراعظم سے استعیفا کا مطالبہ پی ٹی آئی کے پریشر کی وجہ سے نہیں تھا۔ لیکن سوچی سمجھی حکمت عملی کا نتیجہ تھا۔
سندھ نواز شریف کی ہر حال میں مخالفت کے حق میں نہیں۔اگرچہ سندھ حکومت کے بہت سارے معاملات میں عسکری حلقوں سے اختلاف ہے۔ اور یہ بھی شکایت ہے کہ وزیراعظم سندھ کے معاملات میں پیپلزپارٹی یا سندھ حکومت کی کوئی مدد نہیں کر سکے۔لیکن اس کے باجود وہ صورتحال کو احتیاط سے ہینڈل کرنے کے حق میں ہے۔
پیپلزپارٹی کی رہنما شیری رحمان کا کہنا ہے کہ پاناما پیپپرز پر ہمارا ردعمل فطری تھا۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ بحرانوں میں قیادت کی ہے۔ اور آج بھی وہی کر رہی ہے۔ کمیشن صرف ویزراعظم یا کسی ایک فرد کے خلاف نہیں۔ یہ صرف چند گنے چنے لوگوں کے خلاف کاروائی نہیں۔
یہ ایک فریم ورک ہے جو عوامی مطالبے کے پیش نظر شفافیت کے لئے بنایا گیا ہے
جہاں تک پی ٹی آئی اور عمران خان کا تعلق ہے اسے بھی اپنی روایتی حکمت عملی سے دستبردار ہونا پڑا۔ لگتا ہے کہ انہوں نے 2014 کے دھرنوں کی سیاست اور حکمت عملی سے بہت کچھ سیکھا۔ سب سے اہم بات یہ کہ حکومت سے اکیلے نہیں لڑا جا سکتا۔ اس ضمن میں عمران خان کو کچھ سمجھوتے بازی بھی کرنی پڑی۔ کیونکہ کل تک وہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کو ایک ہی صف میں کھڑا کر کے بات کرتے تھے۔ لیکن آج وہ پیپلزپارٹی کے ساتھ اتحاد میں کھڑے ہیں۔
اب مشترکہ اپوزیشن تنگ گلی میں کھڑے وزیراعظم کو مل کر للکار رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ نئی صف بندی نواز حکومت کو گرا سکتی ہے؟ پاناما سکینڈل کے ابھی مزید تفصیلات آئندہ ماہ آنی باقی ہیں۔کیا اس صورت میں یہ نئی صف بندی کتنی رہ سکتی ہے۔ ابھی بھی نواز شریف کو پیچھے دھکلنے پر تو اتفاق رائے ہے لیکن تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے ان کے استعیفا پر اختلاف ہے۔
پی ٹی آئی وزیراعظم کے استعیفا پر سخت موقف رکھتی ہے۔ بلاول بھٹو نے پارٹی کی لائین بدل دی ہے۔ پارٹی پر دباﺅ یہی ہے کہ پی ٹی آئی کے لئے کھلا میدان نہ چھوڑا جائے۔ اور پارٹی کی اپوزیشن کے طور پر جو پوزیشن ہے اس کو برقرار رکھا جائے۔ ظاہر ہے کہ بلاول بھٹو کی اس نئی لائین کو والد کی منظوری حاصل ہوگی۔ پاناما اسکینڈل اب صرف احتساب کے بارے میں نہیں رہا بلہ ایک سیاسی اشو بن گیا ہے۔ جس میں ہر سیاسی جماعت بڑھ چڑھ کر بات کرنا چاہتی ہے۔ 1990 کی دہائی کے بعد ہم نے پہلی مرتبہ حکومت مخالف اتنا بڑا اتحاد دقائم ہوا ہے۔ یہ نوے کے عشرے کی محاذ آرائی کی یاد دلاتا ہے۔ اگرچہ اس میں بلاتفری احتساب کی بات کی گئی ہے لیکن اصل ٹارگیٹ وزیراعظم نواز شریف ہی ہیں ۔
وزیراعظم کے خلاف تحقیقات پر تو سب متفق ہیں لیکن کیا ہر سیاسی جماعت واقعی بلا امتیاز احتساب چاہتی ہے؟ ہر پارٹی میں کچھ نہ کچھ گند کچرا موجود ہے۔ پاناما پیپرز میں بشمول پی ٹی آئی تقریبا تمام بڑی پارٹیوں کے لوگوں کی کرپشن اور مالی بے قاعدگیوں کے بارے میں انکشافات موجود ہیں۔ ایسے میں پی ٹی آئی کی اخلاقی پوزیشن اس وقت کمزور ہوئی جب یہ خبریں آئیں کہ ان کے دو رہنما جہانگیر ترین اور علیم خان یا ان کے خاندان کے لوگوں کے بھی آف شور کمپنیوں میں حصہ ہے۔ یقیننا پارٹی کے اندرونی حلقوں سے عمران خان پر دباﺅ ہے کہ وہ ان رہنماﺅں کا بھی احتساب ہو اور ان کے خلاف پارٹی کے اندر بھی کارروائی کی جائے۔
اب گیند سیاسی جماعتوں کی کورٹ میں ہے ۔ کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ جمہوریت ملک میں کرپشن کا خاتمہ نہیں کر سکتی۔ بلکہ وہ ایسے مواقع فراہم کرتی ہے کہ منتخب نمائندے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھائیں۔ لہٰذا معاملہ ایک مرتبہ کے احتساب کا نہیں۔ بلکہ مسلسل اور بلا تفریق احتساب کا ہے۔
http://www.naibaat.com.pk/ePaper/lahore/06-05-2016/details.aspx?id=p12_05.jpg
No comments:
Post a Comment