Friday, November 27, 2015

PML- F, مسلم لیگ فنکشنل

مسلم لیگ فنکشنل کا رول باقی ہے؟
میرے دل میرے مسافر 
 سہیل سانگی

سندھ میں روز بروز سیاست یک طرفہ ہوتی جارہی ہے۔ وفاقی سیاست کی دعویدار جماعتیں سندھ میں سنجیدہ یا سیاست کرنے یا یہاںبھرپور کردار ادا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی ۔ان جماعتوں کی بنیاد کوئی ایک یا دوسرا صوبہ ہے۔ وہ خود کو وہاں تک ہی محدود رکھے ہوئے ہیں۔جہاں تک صوبے سندھ کی اندرونی سیاست کا سوال ہے ۔ یہاں پیپلزپارٹی مخالف گروپ الگ الگ پویزیشن لئے کھڑے ہیں۔ان مخالفین کا کسی ایک پارٹی میں آنا یا نئی پارٹی بناناتو درکنار ایک اتحاد میں بھی بیٹھنے کے لئے تیار نہیں۔اگرچہ یہ صورتحال ابھی زیادہ واضح ہوئی ہے لیکن گزشتہ کئی برس سے کسی نہ کسی شکل میں موجود تھی۔
 سندھ میں پیر پاگارا کی مسلم لیگ فنکشنل ایک اہم سیاسی گروپ کے طور پر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے بغیر جب بھی صوبے میں حکومت بنی، فنکشنل لیگ کے ساتھ اتحاد کے ذریعے یا آشیرواد سے بنی۔ 2007 تک فنکشنل لیگ پارلیمانی یا اقتداری سیاست کے حوالے سے دوسری بڑی جماعت کے طور پر موجود تھی۔ لیکن اس کے بعد اس جماعت نے سکڑنا شروع کیا۔ گزشتہ دو عام انتخابات خواہ حالیہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج سے اس کے محدود ہونے مزید اظہار سامنے آیا ہے۔ 
 سندھ کی اقتداری سیاست میں پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے بعد مسلم لیگ فنکشنل تیسری فریق ہے جو حکومت کے ساتھ یا مخالف اتحاد میں شامل رہتی ہے۔1985 میں مرحوم وزیراعظم محمد خان جونیجو کو متحدہ مسلم لیگ کا صدر بنانے کا فیصلہ ہوا، جس پر مرحوم پیر پاگارہ سید شاہ مردان شاہ نے اپنی راہیں الگ کردیں اور مسلم لیگ فنکشنل کے نام سے ایک دھڑا بنالیا۔
فنکشنل لیگ کا اگرچہ اپنا نیٹ ورک ہے لیکن یہ نیٹ ورک سیاسی نہیں بلکہ پیر پاگارہ کے مریدوں پر مشتمل ہے ۔ اس کا اثر سانگھڑ اور خیرپور میں خاص طور پر اور، عمرکوٹ اور تھر کے بعض حصوں میں کسی حد تک موجود ہے۔باقی اضلاع میں اس کے وہ بااثر افراد حامی حامی بن جاتے ہیں جو پیپلزپارٹی کے مخالف ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پانسہ پلٹنے والا ہے تب اس جماعت کا ساتھ دیتے ہیں 

انیس سو چالیس کی دہائی کے آغاز میں جب برصغیر میں تحریک آزادی کا زور تھا، حر جماعت کے روحانی پیشوا پیر پاگارہ صبغت اللہ شاہ راشدی نے برطانوی راج کے خلاف اعلان جنگ کیا تھا، جس کے بعد انہیں گرفتار کرکے پھانسی دے دی گئی۔ تو مریدوں نے گوریلا جنگ شروع کردی جس کو تاریخ میں حر تحریک کے نام یاد کیا جاتا ہے۔ 

پیر صبغت اللہ شاہ کے فرزند سابق پیر پاگارہ شاہ مردان شاہ کو بچپن میں ہی لندن منتقل کردیا گیا۔ قیام پاکستان کے بعد وزیر اعظم لیاقت علی خان کی ثالثی کے ذریعے انہیں وطن آنے کی اجازت ملی۔ محققین کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ لیاقت علی خان اور اسٹیبلشمنٹ سے معاہدہ کرکے آئے تھے اس لیے وہ ہمیشہ اسٹبلشمنٹ کی سیاست کا حصہ رہے۔ سندھ میں ون یونٹ کے خلاف اور ایم آرڈی ، دو بڑی تحریکیں چلیں۔ ان دونوں تحریکوں میں ان کا کوئی حصہ نہیں نظر آتا۔مرحوم پیر پاگارہ شاہ مردان شاہ برملا کہتے تھے کہ وہ جی ایچ کیو کے آدمی ہیں جبکہ موجودہ پیر پگارہ پیر صبغت اللہ شاہ بھی یہ روایت پر روایت پر قائم ہیں۔
فوجی حکمرانوں جنرل ایوب خان، جنرل ضیاالحق اور جنرل مشرف ا کے دور حکومتوں میں مسلم لیگ فنکشنل یا پیر پاگارہ کواقتدار میں شیئر ملتا رہا ہے۔ مرحوم پیر پاگارا اور ا ن کی سیاست کو قریب سے دیکھنے والوں کے مطابق پیر صاحب سمجھتے تھے کہ اقتدار کس کو دیا جائے یہ فیصلہ تو اسٹبلشمنٹ کرتی ہے۔ اقتدار بانٹنے والے جب اقتدار دیناچاہیں گے انہیں حصہ مل جائے گا۔اور وہ بھی بلاکر دیا جائے گا۔ ایسے میں لوگوں تک جانے کی کیا ضرورت ہے۔ 
ستر کے عشرے میں انتخابی مہم کے دوران ذوالفقار علی بھٹو ہر قاتلانہ حملہ ہوا۔ بعد میں بھٹو دور میں سانگھڑ میں چھ حروں کا قتل ہوا۔ جس کا مقدمہ جام صادق علی اور دو سنیئر افسران پر دائر کیا گیا۔ یوں پیپلزپارٹی اور پیر پاگارا ایک دوسرے حریف بن گئے۔ 
 بھٹو کے خلاف پاکستان نیشنل الائنس یعنی پی این اے کی تحریک میں پیرشاہ مردان شاہ پیش پیش رہے۔ اس تحریک کے بعد جنرل ضاالحق جب اقتدار پر قابض ہوئے تو پیر پاگارہ کی انہیں سیاسی حمایت حاصل رہی ۔جنرل ضیاالحق کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد پیر پاگارہ کے نامزد امیدوار محمد خان جونیجو کو وزیر اعظم کے منصب پر بٹھایا گیا ۔ جنرل ضیاالحق کے خلاف میں سندھ میں جمہوریت کی بحالی کی تحریک یعنی ایم آر ڈی کی تحریک چلی جس نے سندھ کے ہر گھر کو متاثر کیا لیکن پیر پاگارہ نے خود کو اس تحریک سے دور رکھا ۔ یہی صورتحال قوم پرستوں کی تھی۔ 

 1988 کے عام انتخابات کے وقت سندھ میں سیاسی ابھار زوروں پر تھا۔ پیر پاگارہ اپنے آبائی خیرپور میں پیپلز پارٹی کے امیدوار سید پرویز علی شاہ سے شکست کھا گئے، اس کے بعد انہوں نے انتخابات میں کبھی حصہ نہیں لیا۔ 
بینظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف جب اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کا قیام عمل میں آیا تو پیر پاگارہ بھی اس میں شامل رہے۔ تب تک جام صادق علی پیر پاگارا سے معافی تلافی کراچکے تھے۔ بینظیر بھٹو کی حکومت کی برطرفی کے بعد سندھ میں پیر پاگارہ کے منظور نظر جام صادق کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا۔ جام صادق کے انتقال کے بعد مسلم لیگ فنکشنل کے حمایتی مظفر شاہ کو یہ منصب سونپا گیا۔
 میاں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعدجنرل پرویز مشرف نے جب حکومت بنائی تو مسلم لیگ فنکشنل حکومت میں شامل تھی ۔ یہ ساتھ جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کے آخری دنوں تک رہا۔ 
 کالاغ ڈیم کی تعمیر کے منصوبے کا بھی اعلان ہوا، لیکن مسلم لیگ فنکشنل کا اس پر عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ بلکہ اس کی حمایت میں بیانات آتے رہے۔ 
انتخابات جیتنے کے حوالے سے فنکشنل لیگ کا ریکارڈ کچھ اس طرح سے ہے: 2002 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ فنکشنل نے قومی کی چار اور صوبائی اسمبلی میں 16 نششتوں پر کامیابی حاصل کی، 2008 کے انتخابات میں آٹھ صوبائی اور 5 قومی اسمبلی کی نشستیںحاصل کیں۔ جبکہ 2013 کے انتخابات میں 10 صوبائی اور 6 قومی اسمبلی کی نشستوں پرملیں۔

2008 کے انتخابات کے بعدمسلم لیگ فنکشنل حکمران پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی شریک اقتدار رہی ۔ لیکن جب نئے انتخابات کا چرچہ ہونے لگا تو کراچی اور سندھ کے دیگر شہروں کے علیحدہ بلدیاتی نظام دینے پرحکومت سے علیحدگی اختیار کرلی، جس پر سندھ میں فنکشنل لیگ کو پذیرائی حاصل ہوئی اور قوم پرست جماعتوں نے بھی ان کی حمایت کی۔ پہلی بار مسلم لیگ فنکشنل نے اسمبلی کے اندر اور باہر متحرک نظر آئی ۔ فنکشنل لیگ نے اپنی چھتری کے نیچے قوم پرستوں کو جمع کرلیا۔ یہ تاثر پیدا ہوا تھا کہ شاید اب مسلم لیگ فنکشنل مین اسٹریم پالیٹکس میں آئے گی لیکن انتخابات سے پہلی وہ اپنی پرانی ڈگر پر چلی گئی۔ اس مہم سے پیپلز پارٹی کو نقصان ہوا ، یہ ضرور ہوا کہ سندھ کو اپنا متبادل بنانے میں فلٹر لگ گیا۔ 

فکشنل لیگ کا دعوا ہے کہ گزشتہ انتخابات میں ان کی جماعت نے ساڑھے بائیس لاکھ ووٹ حاصل کئے تھے۔ نیہ جماعت خود کو پی پی پی کا متبادل سمجھتی ہے ۔ مسلم لیگ فنکشنل کا کوئی واضح پروگرام یا منشور کبھی سامنے نہیں آیا۔ اس کی تنظیم کاری بھی جمہوری اصولوں پر مبنی نہیں۔ ی سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ عملا یہ مریدوں کی جماعت ہے ۔غیر مریدوں کے لئے اس جماعت میں جگہ کم ہے۔ سیاست میں وہ اقتدار کے قریب رہتی ہے، ان کی جماعت کا زیادہ ترکنٹرول حر جماعت کے پاس ہے جس کی وجہ سے باقی لوگ خود کو مسلم لیگ فنکشنل کے قریب محسوس نہیں کرتے اور اس وجہ سے وہ سندھ میں لوگوں کی ہمدردی اور حمایت حاصل نہیں کر پائی ہے۔

 Nov 25 2015
Party position in 2018 election 
PartiesNo. of Members
Grand Democratic Alliance14
Mutahida Majlis-a- Amal Pakistan1
Mutahida Quami Movement Pakistan21
Pakistan Peoples Party Parliamentarians99
Pakistan Tehreek-e-Insaf30

3


Members' list for: Grand Democratic Alliance

List is alphabetically sorted on names.

Abdul Razzaque  PS-54 Tharparkar-I 
Ali Ghulam  PS-41 Sanghar-I 
Ali Gohar Khan Mahar  PS-20 Ghotki-III 
Arif Mustafa Jatoi  PS-36 Naushahro Feroze-IV 
Hasnian Ali Mirza  PS-72 Badin-III  
Moazzam Ali Khan  PS-11 Larkana-II 
Muhammad Rafiq  PS-29 Khairpur-IV 
Muhammad Rashid Shah  PS-32 Khairpur-VII 
Muhammad Shaharyar Khan Mahar  PS-8 Shikarpur-II 
Nand Kumar Goklani  RSM-168 
Naseem  RSW-158 
Nusrat Bano Sehar Abbasi  RSW-157 
Shams Din  PS-42 Sanghar-II 
Waryam Faqir  PS-46 Sanghar-VI 

Friday, November 20, 2015

دوسرے مرحلے کے انتخابات غیر یقینی صورتحال


میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 
سندھ میں دوسرے مرحلے کے انتخابات اس طرح سے ہو رہے ہیں جن کی کوئی بھی ownership کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ نہ الیکشن کمیشن ، نہ حکومت یا اسکا کوئی ادارہ، اور نہ ہی عدلیہ۔ پہلے مرحلے کے انتخابات کے بعد اول شدید خوف کا عالم طاری تھا کہ دراز شریف کے واقعہ کی طرح کوئی تصادم یا خونریزی نہ ہو جائے۔ لیکن چند ہی روز بعد غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی۔ ماضی کی طرح یہ انتخابات ملتوی ہوتے ہوتے رہ گئے۔ اگرچہ سانگھڑ کے مکمل ضلع اور دیگرآٹھ اضلاع کی 81لوکل کونسلز میں انتخابات ملتوی کر دیئے گئے ہیں۔پہلے روز سے ہی ان انتخابات پر جو غیر یقینی کے سیاہ بادل منڈلا رہے تھے وہ پولنگ والے روز تک بھی چھٹ نہیں سکے ہیں ۔ 

ان انتخابات نے صرف سیاسی جماعتوں کو ہی نہیں بلکہ الیکشن کمیشن اور عدلیہ کو بھی ایکد وسرے کے آمنے سامنے کھڑا کردیا۔ 17 نومبر کو سندھ ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ حلقہ بندیوں پر 24 گھنٹے میں نظر ثانی کر کے انتخابات کرالئے جائیں۔ الیکشن کمیشن نے سندھ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلینج کیا تھا۔ الیکشن کمیشن کا یہ موقف تھا کہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل کرنا اس کے بس میں نہیںکہ الیکشن کا شیڈیول متاثر کئے بغیر24 گھنٹے کے اندر حلقہ بندیوں پر نظر ثانی کیا جائے۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ آٹھ اضلاع میں حلقہ بندیاں تبدیل کی جائیں۔ اس پر میڈیا میں الیکشن کمیشن کا یہ موقف سامنے آیا کہ عدالت الیکشن کمیشن کے اختیارات میں مداخلت کر رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کا خیال تھا کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل یا تبدیل ہو، تاکہ انتخابات پہلے سے مقرر کردہ حد بندیوں کے مطابق کرا لئے جائیں۔ اگر ایسا ممکن نہیں تو یہ انتخابات ملتوی کردیئے جائیں ۔ انتخابات ملتوی رکانے کا الزام کوئی بھی اٹھانے کے لئے تیار نہ تھا۔ 

الیکشن کمیشن ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ عدالت عظمیٰ نے بتایا الیکشن کمیشن کی مرضی ہے کہ وہ انتخابات کرائے یا ملتوی کرے۔ سپریم کورٹ اس ضمن میں کوئی حکم جاری نہیں کرے گی۔تاہم عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا کہ بعض کونسلز کی متنازع حد بندیوں کو ٹھیک کئے بغیر وہاں انتخابات نہیں ہونے چاہئیں۔ ہائی کورٹ نے سندھ کے 9 اضلاع میں ازسرنو حلقہ بندی کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھا۔ الیکشن کمیشن سندھ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی کرکے کہتا ہے کہ جو کرنا ہے وہ کرلو۔ 

اب 81 لوکل کونسلز کے انتخابات پولنگ سے صرف 9 گھنٹے پہلے ملتوی کردیئے گئے۔ الیکشن کمیشن نے رات گئے ان لوکل کونسلز کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جہاں انتخابات ملتوہ کردیئے گئے ہیں ۔ پولنگ والے روز بھی کئی ووٹرز کو پتہ نہیں تھا کہ ان کے حلقے میں آج انتخابات ہو رہے ہیں یا ملتوی ہو چکے ہیں۔ الیکشن کمیشن اور عدلاتی فیصلے سے صرف اتنی ہی پیچیدگیاں پیدا نہیں ہوئی ہیں کہ غیر یقینی صورتحال ہے۔ بلکہ یہ بھی کل کو اگر حد بندیوں کے حوالے یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ جہاں انتخابات ہو چکے ہیں اس علاقے کا کوئی حصہ نئی حد بندی میں ایسے حلقے میں چلا جاتا ہے تو کیا وہاں کے لوگ دوبارہ ووٹ کاسٹ کریں گے؟ 

 یہ امر قابل غور ہے کہ سندھ میں ہی ہر بات متنازع کیوں بن جاتی ہے؟ گورننس اور مشاورت کا فقدان ہے؟ یا سیاسی طور پر اتنی بڑی تقسیم ہے؟ یا پھر فیصلہ سازی والے اداروں کی جانب سے بروقت فیصلہ سازی نہ کرنے یا کم توجہ دینے کی وجہ سے پیچیدگیاں پیدا ہو اجتی ہیں جن کو آخر وقت میں نہ عدلات سلجھا سکتی ہے اور نہ الیکشن کمیشن یا کوئی ادارہ۔ یہ صورتحال صرف انتخابات تک ہی محدود نہیں۔ سیاسی حوالے سے بھی اور حکومت سازی خواہ امن وامان کے حوالے سے بھی موجود ہے۔ اس سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ سندھ کوئی مکمل یونٹ نہیں۔ یہاں چھوٹے چھوٹے گروہی مفادات اتنے گہرے پیوست ہو چکے ہیں کہ ذرا بھی کسی پر آنچ آتی ہے تو بات کا بتنگڑ بن جاتا ہے اور پھر کسی بڑے ادارے کو ہی مداخلت کرنی پڑتی ہے۔ آخر سندھ خود کو کتنے حولاوں سے ٹکڑیوں اور گروہوں میں تقسیم کرے گا؟ یہ صورتحال میں لازمی طور پر کم ووٹ کاسٹ ہونگے۔ ووٹوں کا کم کاسٹ ہونا خود انتخابات کو مشکوک بنا دیاتا ہے 
پیپلزپارٹی نے اس فیصلے کو متنازع قرار دیا ہے۔ وہ اس وجہ سے بھی کہ ان کی اسکیم کے مطابق یعنی ان کی بنائی ہوئی حد بندیوں کے مطابق انتخابات نہیں ہورہے ہیں ۔

 اس مرحلے کی یہ بھی خصوصیت رہی کہ پولنگ عملے کو ملنے والے معاوضے میں غیر قانونی طور پر ختوتی کی گئی جس پر اس عملے نے کئی مقامات پر احتجاج بھی کیا۔ 

بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے خد وخال پر اگر ایک نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ کیس بڑے بڑا اپ سیٹ امکان نہیں ۔ پیپلزپارٹی کا ہی پلڑا بھاری لگتا ہے۔ سانگھڑ کو چھوڑ کر جن علاقوں میں انتخابات ملتوی ہوئے ہیں، وہاں جب بھی انتخابات ہونگے تو پیپلزپارٹی کے حامیوں کی ہی جیت ہوگی۔ کیونکہ پیپلزپارٹی پہلے سے ہی اکثریت میں ہوگی، مزید یہ کہ صوبے میں تو اس کی حکومت ہے ہی۔ اور اس کو صوبائی سطح پر چیلینج کرنے والی کوئی پارٹی یا اتحاد سامنے نہیں آیا ہے۔ 

دوسرے مرحلے کی دوسری اہم بات بڑی پارٹیوں کی مرکزی قیادت کی انتخابی مہم میں شرکت ہے۔ میاں نواز شریف کی دیوالی کی تقریب میں شرکت محدود سہی لیکن بلدیاتی مہم کا حصہ تھی۔ اس کے بعد بلاول بھٹو زرداری اور عمران خان نے چارچار اضلاع کا دورہ کیا۔ ان دو رہنماﺅں کے دوروں نے انتخابی مہم میں جان ڈال دی۔ اور اس کی اہمیت میں بھی اضافہ کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ ان دونوں رہنماﺅں نے کوئی سیاسی پروگرام یا نعرہ دینے کے بجائے ایکد وسرے کو ذاتی طور پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ 

اس انتخابی مہم کی یہ بھی خامی رہی کہ مجموعی طور پر کوئی سیاسی نعرہ یا پروگرام بھی سامنے نہیں آیا۔ نہ کسی سیاسی جماعت کی جانب سے اور نہ کسی انتخابی اتحاد کی جانب سے پروگرام دیا گیا کہ وہ کس طرح سے لوگوں کو بنیادی شہری یا میونسپل سورسز پہنچائیں گے؟ ان کے پاس مخصوص علاقوں کی ترقی کے لئے کیا پروگرام ہے؟ ایسا پروگرام دینے یا وعدے کرنے میں سیاسی جماعتیں خواہ انتخابی اتحاد والے گروپ بھی دلچسپی نہیں تھی۔ لہٰذا خوف، غیر یقینی حالات میں بغیر پروگرام کے دوسرا مرحلہ بھی اختتام پذیر ہو رہا ہے۔



Wednesday, November 18, 2015

اپوزیشن کہاں ہے؟

اپوزیشن کہاں ہے؟
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی 
ایک بار پھر حکومت کی کارکردگی، کرپشن اور اداروں کے اختیارات اور حدود کے تعین کی بحث زوروں پر ہے۔ ماضی قریب میں بھی یہ بحث چلتی رہی ہے۔ پیپلزپارٹی کو گزشتہ دور حکومت میں بھی اس قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پیپلزپارٹی یہ کہتی رہی کہ ہر ادارے کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہئے۔ اب نواز لیگ حکومت بھی یہی بات کہہ رہی ہے۔ پارلیمنٹ میں گزشتہ دنوں اس موضوع پر اراکین پارلیمنٹ کی تقاریر کا بھی لب و لباب یہی تھی۔ 

بڑی حیران کن بات ہے کہ ہم ملک میں باقاعدہ کوئی نظام حکومت نہیں بنا پائے ہیں کہ آئے دن کوئی نہ کوئی مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے۔کسی بھی جمہوری ریاست کے ارکان ہوتے ہیں مقننہ ( پارلمینٹ)، حکومت (انتظامیہ) اور عدلیہ۔ ان تینوں ارکان کو ا اپنی اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا ہے۔ 

پچاس کے عشرے سے ہوتا یہ رہا ہے کہ کسی ایک رکن نے اپنی کمزوری یا کسی اور وجہ سے ٹھیک سے کام نہیں کرپایا یا اسے ٹھیک سے کام کرنے نہیں دیا گیا۔ نتیجے میںپوار ریاستی ڈھانچہ ہلنے لگا۔ یہ بھی ہوتا رہا کہ کبھی کوئی دو ارکان کسی دوسرے ریاستی ادارے کی مدد سے آپس میں مل کر تیسرے کی راہ میں رکاوٹ بنتے رہے۔ یاا س کے خلاف کھڑے ہوگئے۔یعنی تین پاﺅں پہ کھڑی ہوئی ریاست کا ایک پاﺅں اپنی جگہ سے ہل گیا۔نیتجے میں جدید ریاست کا قیام خواب ہی رہا۔اس میں سب سے بڑا نقصان ریاست کے پہلے رکن یعنی پارلیمنٹ کا ہوا۔ جب ہم پارلیمنٹ کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب سیاسی نظام اور سیاسی جماعتیں ہیں۔کیونکہ پارلیمنٹ کا وجود سیاست اور سیاستدانوں سے ہی ہوتا ہے۔دنیا بھر میں یہ مسلمہ اصول ہے کہ ریاست چلانا پارلیمنٹ کا کام ہے۔ جو کہ باقی دو اراکن اور ریاست کے دیگر ماتحت اداروں کے ذریعے معاملات چلاتی ہے۔ ملک میں لاگو ہونے واے پہلے مارشل لا سے لیکر آج تک ہم مختلف تجربے کرتے آئے ہیں۔ ایوب خان نے مارشل لا نافذ کر کے ریاست کے تینوں ارکان کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ ویسے یہ معاملہ صرف ایوب خان تک محدود نہیں، جب بھی ملک میں مارشل لاءنافذ ہوتا ہے تو ایسا ہوتا ہے۔ پھر یہ یحیٰ خان کا مارشل ہو ، ضیاءا لحق کا ہو یا مشرف کا۔مقننہ اور انتظامیہ ایک ہی ادارے یا شخص میں سما جاتے ہیںعدلیہ اس کا ساتھ دیتی رہی ۔ جسٹس منیر کے فیصلے سے لیکر نئی صدی کے ابتدائی برسوں تک ہم اس کے مظاہر دیکھتے رہے ہیں۔

نظام میں خرابی اس وقت آتی ہے جب جب کسی بھی وجہ سے ایک ادارہ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے یا اس کی حدود کم کردی جاتی ہیں یا پھر دوسرا ادارہ اپنی حدود سے آگے بڑھ کر کام کرنا شروع کرتا ہے۔ یعنی وہ دوسرے ادارے کی حدود میں داخل ہو جاتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ کا یہ صحیح ہے کہ پاکستان میں سیاسی دور ہی ہی بڑا مختصر اور چند برسوں پر محیط ہے۔ بغور مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ملک میں کبھی بھی اپوزیشن اپنا رول صحیح طور پر ادا نہ کر پائی ہے۔ یہ بات پچاس کے عشرے سے لیکر آج تک کی صورتحال پر لاگو کر کے دیکھی جاسکتی ہے۔ 

بھٹو دور کی اپوزیشن ہو یا بینظیر اور نواز شریف کے نوے کے عشرے کے دور حکمرانی ہوں، اپوزیشن جس کو اصولی طور پر پارلیمنٹ کا حصہ ہونا چاہئے، اور اسی کے ذریعے حکومت کی کارکردگی اور پالیسیوں پر چیک اینڈ بلینس رکھنا ہے۔ لیکن ہماری اپوزیشن کچھ اور کرتی رہی اور ملک یا قوم کی بہتری اور ترقی کی راہیں اختیار کرنے یا ڈھونڈنے کے بجائے اقتدار میں آنے کے شارٹ کٹ ڈھونڈتی رہی۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ ہم جمہوریت کو ہی نقصان پہنچاتے رہے۔ 

چوہدری افتخار محمد کا بطورچیف جسٹس کا دور جڈیشل ایکٹو ازم کا مانا جاتا ہے۔ انہوں نے کمانڈ اپنے ہاتھ میں لے لی تھی۔ میمو گیٹ، ایبٹ آباد کمیشن، کراچی بدامنی کیس اور کئی دوسرے معاملات تھے جس پر صرف عدلیہ کی جانب سے ہی حکومت پر چیک اینڈ بیلنس رکھا جارہا تھا۔ یہاں تک کہ کئی سیاسی معاملات میں بھی عدلیہ کو مداخلت کرنی پڑی۔ عدلیہ نے خراب حکمرانی کو ایکسپوز کیا۔ حالانکہ یہ سب کام اپوزیشن کو ہی کرنا تھا۔ لیکن اپوزیشن کے رول کی عدم موجودگی میں عدلیہ کو آگے آنا پڑا۔ ممکن ہے کہ آنے والا تاریخدان اس کو عدلیہ کی جانب سے سیاست اور حکومتی معاملات میں مداخلت قرار دے۔ 

 ملک میں قانون کی حکمرانی، خود احتسابی نظام اور جمہوری روایات کی عدم موجودگی میں خراب حکومتی کارکردگی، کرپشن وغیرہ لازمی حصہ ہوتی ہیں۔ اس کا حل مجموعی طور پر سیاسی ہی ہوتا ہے۔ عجیب سا لگتا ہے کہ کل جو بات عدلیہ کہہ رہی تھی یہ بات اب فوج کر رہی ہے کہہ رہی ہے۔ 

2011 کا ایک واقعہ مجھے یاد آرہا ہے ۔ جب سیاسی قوتیں کراچی میں بدامنی روکنے میں ناکام ہوئیں تو سپریم کورٹ آگے آئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے یہ از خود نوٹس علامہ طاہرالقادری کے ایک اخبار میں لکھے گئے خط پر لیا تھا جس میں انہوں نے سپریم کورٹ سے مداخلت کی اپیل کی تھی۔ آگے چل کر علامہ قادری نے دھرنا سیاست شروع کی۔ اس خط میں کہا گیا تھا کہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں صورتحال کو قابو میں رکھنے میں ناکام ہو گئی ہیں۔لہٰذا سپریم کورٹ اس کا نوٹس لے۔ اس دوران اور بھی دخواستیں عدالت میں پیش ہوئیں۔ ایک وکیل نے عدلات سے استدعاکی کہ وہ وفاقی حکومت کو ہدایت کرے کہ ہنگامی صورتحال کا علان کرے اور فوج کو سویلیں حکومت کی مدد کے لئے بلایا جائے۔ تاکہ شہریوں کی جان، مال اور عزت کا تحفظ ہو سکے۔ ان صاحب عدالت سے کہا کہ تمام سیاسی جماعتین یہ مطالبہ کر چکی ہیں کہ کراچی میں امن و امان کی بحالی کے لئے فوج سے مدد لی جائے۔ اور آرمی چیف بھی یہ پیشکش کر چکے ہیں کہ وہ طلب کرنے پر مدد دینے کو تیار ہیں۔دو ہزار گیارہ میں مختتف واقعات رنما ہوئے۔ اور یہ خیال پختہ ہو گیا کہ صوبے کی حکمران جماعتیں پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم اور عوامی نیشل پارٹی نے خود سیاسی جماعتوں کے بجائے لسانی گروہوں میں تبدیل کردیا ہے۔ اس بے بسی کے عالم میں فوج طلب کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ 

 صنعتکار بھی اس صف میں شامل ہوکر یہی مطالبہ کر رہے ہیں۔ آرمی کو طلب کرنا اس صورتحال میں ہر ایک کو اچھا لگتا ہے۔ اس سے پہلے جب فوج سے کہا گیا تھا تو آرمی چیف نے یہ شرائط رکھی تھی کہ فوج اپنی عدالتیں بھی اپنی بنائے گی۔ اس کے بعد 2013 کے انتخابات ہوئے۔ مرکزی سطح پر چینج آف گارڈ ہوا۔ جنرل کیانی کی جگہ پر جنرل راحیل شریف آگئے۔ وزیرستان آپریشن اور پھر کراچی آپریشن ہوئے۔ نیشنل ایکشن پلان آیا۔ اور فوجی عدالتیں بھی بن گئیں ۔

آج رینجرز کا دعوا ہے کہ کراچی میں کرپشن ہوئی ہے۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے سنیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے سندھ میں کرپشن کی نشاندہی کی۔ جنرل عبدالقادر بلوچ نے بھی اپنے حالیہ بیان میںسندھ میں کرپشن کی طرف اشارہ کیا کیا ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ مشرف کی حکمرانی کے بعد بھی جو دور شروع ہوا اس میں بھی ہر سطح پر اپوزیشن عملی طور پر غائب تھی۔ جس کو دوستانہ اپوزیشن کا نام دیا جاتا رہا۔ آج بھی یہی صورتحال موجود ہے۔ نہ مرکز میں اپوزیشن ہے نہ صوبوں میں۔ مطلب پارلیمنٹ میں حقیقی اپوزیشن نہیں۔ جو گورننس سے متعلق سوالات اٹھائے، حکومت پر چیک اینڈ بیلنس رکھے۔ اگر پارلیمانی اور سیاسی قوتیں خواہ اسمبلی کے اندر ہوں یا باہر اپنا رول ادا نہیں کریں گی۔تو ظاہر ہے کہ ایک خلاءپیدا ہوگا۔اس خلاءکو صرف ادارے ہی نہیں عام آدمی بھی محسوس کرنے لگتا ہے۔ 

 پیپلزپارٹی وفاق میں اپوزیشن کے طور پر ہو یا سندھ میں حکومتی سطح پر وہ اپنا تاریخی کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ایسے میں فائدہ صرف اور صرف تحریک انصاف کو ہی ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری ”انکل عمران خان“ پر اتنے برہم ہورہے ہیں۔ 

Nai Baat
Nov 17 2015





Saturday, November 14, 2015

سیاسی رہنماﺅں میں دیوالی تہوار کا مقابلہ

Nov 14

 سیاسی رہنماﺅں میں دیوالی تہوار کا مقابلہ 
 میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
 ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو اچانک ہندو برادری سے یکجہتی کا اظہار کرنے کی سوجھی۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرادری تھر کے دوردراز علاقہ مٹھی پہنچ گئے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے عمرکوٹ میں دیوالی کا تہوار منایا۔ اس سے ایک روز قبل وزیراعظم نواز شریف نے کراچی میں دیولای کی ایک تقریب میں شرکت کی۔ اور اس موقعہ پر انہوں نے اپنی تقریر میں تاریخی جملے کہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ظالم مسلمان ہوگا تو وہ مظلوم ہندو کا ساتھ دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندو، سکھ، پارسی اور عیسائی بھی اس ملک کا حصہ ہے۔ وزیراعظم نے حیدرآباد میں صوفی سنت بھگت کنورام کے نام سے منسوب میڈیکل کمپلیکس تعمیر کرنے کا اعلان کیا۔ بھگت کنورام صوفی تھے جو سندھ کے ہندو اور مسلم دونوں میں یکسان مقبولیت رکھتے تھے۔ اور راگ کے ذریعے صوفی ازم کا پیغام پھیلاتے تھے۔ جنہیں قتل کردیا گیاتھا۔ ان کے نام سے منسوب مییڈیکل کمپلیکس کی تعمیر کا اعلان یقننا اہمیت کا حامل ہے لیکن تجزیہ نگار ان کی تقریر کو بھی اتنی ہی اہمیت دے رہے ہیں۔ جو بظاہر بانی پاکستان قائد اعظم کی گیارہ اگست کی تقریر کا ترجمہ لگتی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ نیا ملک بلا کسی امتیاز کے یہاں پر آباد تمام لوگوں وک ہوگا۔ اور مذہبی بنیاد پر کسی سے کوئی امتیاز نہیں کیا جائے گا۔ اور پاکستان کے سب شہری برابر کے شہری ہونگے۔ قائد اعظم کی یہ تقریر نہ صرف ملک کی عملی سیاست اور حکمت عملی سے ھم ہو گئی بلکہ تاریخ کے صفحات سے بھی گم ہے۔ نواز شریف کا یہ اظہار ملک میں بسنے والی تمام اقلیتوں کو ہی نہیں بلکہ ان لوگوں کو بھی جو ملک میں رواداری، مذہب، نسل زبان کے حوالے سے کثیر رنگوں کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں اور ملک کے تمام شہریوں کو برابری کا درجہ دینے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ میاں نواز شریف کا یہ اعلان اس وجہ سے بھی اہمیت کا حامل ہے ۔ جب ملک گزشتہ چند دہائیوں سے مذہبی انتہا پسندی، فکری تنگ نظری اورعدم برداشت کی لپیٹ میں ہے۔ 
یہ تینوں اظاہر الگ الگ سہی، ملک کی تین بڑی پارٹیوں نے کئے ہیں۔ جو وفاق یا پھر صوبوں میں حکمران جماعتیں ہیں۔ ملک کے عوام کئی برسوں سے اپنے رہنماﺅں سے یہ الفاظ سننے کا انتظار کرتے رہے۔یہ اس لئے بھی کہ پچاس کے عشرے بعد صرف ایک مذہب ہی نہیں بلکہ اس میں بھی ایک مخصوص مکتب فکر کی ریاستی سطح پر حمایت حاصل رہی۔ دیگر مکاتب فکر کی حوصلہ شکنی کی گئی۔نتیجے میں دوسرے تمام مکاتب فکر نے خود کو خطرہ سمجھا۔ یوں عوام کو مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تقسیم کیا گیا، ایک دوسرے سے دور کیا گیا۔ صورتحال یہاں تک بھی گئی کہ مخلتف عقائد اور مکاتب فکر کے لوگ ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو گئی بعض صورتوں میں ہتھیار بھی استعمال کئے گئے ۔عدم برداشت اور گھٹن کا ماحول جس میں آزادی سے سوچنے اور سانس لینا مشکل ہو رہا تھا۔ 
اس پر بھی سوال کیا جا سکتا ہے کہ ہماری حکمران سیاسی جماعتوں نے یہ موقف اور یہ اظہار پہلے کیوں نہیں کیا؟ اور اب جب یہ اظہار کیا ہے تو اس کی عملی شکلیں کیا ہونگی؟ 
نواز شریف، عمران خان اور بلاول بھٹو زرادری کی جانب سے دیوالی کا تہوار منانا سیاسی مقابلہ ہے۔ جس کا تعلق بلدیاتی انتخابات سے بھی ہے۔ لیکن یہ طے ہے کہ اس کو اسٹبلشمنٹ کی بھی حمایت حاصل ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر حکومت میں موجود سیاسی جماعتیں بھارت سے متعلق اپنا الگ سے موقف کھلے عام نہیں رکھ سکتیں ۔ 
 عمرکوٹ اور تھر دونوں بھارتی سرحد سے لگتے ہیں۔ اس سے پہلے سندھ خواہ پنجاب میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف پرتشدد واقعات ہوتے رہے ہیں۔ جس میں ہندو لڑخیوں کو زبردستی مذہب تبدیل کرنے اور عسائیوں کے خلاف تشدد ، ہندوﺅں کی بھارت نقل مکانی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ان واقعات پر ان سیاستدانوں نے کبھی بھی واضھ اور ٹھوس موقف اختیار نہیں کیا۔ بلکہ بعض معاملات پر یا تو خود اس کا حصہ بنے یا پھر خاموش تماشائی بنے رہے۔ رینکل کماری اور کچھ ہندو لڑکیوں کے کیس میں پیپلزپارٹی اپنے ایم این اے میاں مٹھو کے خلاف کارروائی نہ کر سکی۔ ڈیڑھ ماہ قبل عمران خان نے شمالی سندھ کے دورہ جکے دوران میاں مٹھو سے ملاقات کی اور انہیں پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی۔ لہٰذا ان سیاستدانوں کو آئنہد وقت میں اپنے عمل اور پالیسی کا جائزہ لینا پڑے گا کہ وہ نیا موقف کتنا حقیقی ہے اور پرانا موقف کس قدر نقصاندہ ہے۔ جس سے بچنے کے لئے بعض عملی اقدامات کی بھی ضرورت پڑے گی۔ 
 پاکستان کے تین سیاسی رہنماﺅں کی جانب سے ایک ایسے موقع پر بھائچارے اور یکجہتی کا اظہار کیاگیا ہے جب بھارت میں مذہبی جنونیت بڑھی ہوئی ہے۔ خاص طور پر بھارتی وزیراعظم مودی کی پالیسیوں کی وجہ سے اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے لئے مشکل صورتحال بنی ہوئی ہے۔ یہ انتہا پسندی اس حد تک بڑھی وہئی ہے کہ بھاتی دانشوروں کو تشویش لاحق ہو رہی ہے کہ بھارت اپنا سیکیولر، رواداری، برداشت اور مذاہب، عقائد، نسل اور زبان کے حوالے سے کثیر رنگی کا امیج کھو رہا ہے۔ انہوں نے باقاعدہ مودی حکومت کے خلاف مہم شروع کی ہوئی ہے۔ سرکاری ایوارڈ لوٹانے، دستخطی مہم، مشترکہ اعلامیئے، احتجاج کی شکل میں اس کا اظہار سامنے آچکا ہے۔ مودی کی ہندو انتہا پسندی کو بہار صوبے میں منہ کی کھانی پڑی جہاں انتخابات میں ان کی پارٹی کو سکشت ہوئی۔ 
ایک طرف مودی حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسی اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والا عدم برداشت کا ماحول ہے۔ دوسری طرف پاکستان کی بڑی پارٹیوں کی جانب سے اپنے ہم وطن ہندﺅں سے دیوالی پر یکجہتی کا اظہار ہے۔ یہ دونوں اظہار ایک دوسے کے الٹ ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سیاستدانوں نے اس دانشمندی کا اظہار کیا ہے۔ ورنہ بابری مسجد کے موقعہ پر سرکاری طور پر نواز حکومت نے احتجاج کی اپیل کی تھی۔ پہلے یہ ہوتا رہا ہے کہ بھارت میں کسی انتہا پندانہ یا پرتشدد اقدام کے جواب میں پاکستان میں بھی اسی انداز میں اظہار کای جاتا تھا، نتیجے میں بھارت میں مسلمانوں اور پاکستان میں ہندوﺅں کے لئے مشکلات پیدا ہوتی رہی ہیں ۔ ہمارے رہنماﺅں کے اس موقف سے یقننا عالمی طور پر پاکستان کا امیج بہتر کرنے میں مدد ملے گی۔ ورنہ دنیا بھر میں پاکستان کا امیج انتہا پسند کے طور پر مانا جاتا ہے۔ بعض محققین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ریاستی سطح پر موہن جو دڑو کی وارثی اس وجہ سے کی تاکہ بھارت کو نیچا دکھا سکے کہ دنیا کی سب سے بڑی تہذیب بھارت نہیں ہم ہیں۔ اسباب خواہ کچھ بھی ہوں، موہن جو دڑو کے بارے میں جو موقف اختیار کای گیا وہ بھی تاریخ نے درست ثابت کیا۔ طویل مدت میں سیاسی رہنماﺅں کاموجود موقف بھی صحٰح ثابت ہوگا۔ 
 یہ امر اہمیت کا حامل ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کو یہ بات سمجھ میں آگئی ہے کہ انتہا پسندی کا جواب انتہا پسندی نہیں بلکہ برداشت، رواداری اوع یکجتی کے ساتھ بھی دیا جاسکتا ہے۔ اور مخالف جو انتہا پسندی کا کھیل کھیلنا چاہ رہا ہے اس کو اس ہتھیار کے ذریعے ہی ناکام بنایا جاسکتا ہے۔ پاکستان کے اس موقف سے یقیننا بھارت میں انتہا پسندی کے خلاف جاری مہم کو بھی تقویت حاصل ہوگی۔ یوں مجموعی طور پر برصغیر میں برداشت، رواداری اور امن کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔ 

سندھ اور نواز حکومت کے درمیان ٹھن گئی

سندھ اور نواز حکومت کے درمیان ٹھن گئی
Nov 10, 2015
Nai baat

میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 
سندھ حکومت اور نواز لیگ کی وفاقی حکومت کے درمیان ایک بار پھر ٹھن گئی ہے۔ دونوں جانب سے سخت بیانات آنے شروع ہوگئے ہیں اس مرتبہ بیانات میں جو زبان استعمال کی گئی ہے وہ موجودہ دور حکومت میں پہلی مرتبہ نظر آئی ہیں۔ اس سے پہلے پیپلزپاز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے سیاسی حوالے سے نواز شریف کے لئے کچھ کہا تھا۔ لیکن وہ سب کا سب سیاسی معاملہ تھا۔ اس مرتبہ سندھ حکومت یہ شکایت کر ہی ہے کہ فنڈز کے معاملے میں وفاق وعدے پورا نہیں کر رہا ۔ بلکہ یہ کہا جارہا کہ ہے وزیراعظم عودے سے مکر گئے ہیں۔ وفاق ا وزیراعلیٰ سندھ کے ان الفاظ کا نامناسب قرار دے رہا ہے اور اور شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وزارت خزانہ کی جانب سے ایک تفصیلی وضاحت نامہ جاری کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے شکوہ کیا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ کراچی میں دہشتگردوں کے خلاف لڑو اگر آپ کو کچھ ہوا تو ہم بیٹھے ہیں۔ اور وزیراعظم نے اس آپریشن کے کے لئے بارہ ارب روپے دینے کا بھی وعدہ کیا تھا۔ لیکن تاحال اس مد میں ایک پیسہ بھی نہیں دیا گیا ہے۔انہوں نے یہ بھی شکوہ کیا کہ دہشتگردوں کے ساتھ لڑنے کے لئے نہ بلٹ پروف گاڑیاں ہیں، نہ ہتھیار، ٹارگیٹیڈ آپریشن کے لئے مطلوبہ اسلح کی مد میں بھی مدد کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ لیکن اس مد میں بھی کوئی رقم فراہم نہیں کی گئی ہے۔ 
 اس کے جواب میں وزارت خزانہ کا کہنا اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ وزیراعظم نے کراچی آپریشن کے لئے 12 ارب روپے دینے کا اعلان کیا تھا۔ اور یہ بھی غلط ہے کہ سندھ حکومت دہشتگردی کے خلاف یہ جنگ اکیلے اپنے وسائل سے لڑ رہا ہے۔ وفاق کا ماننا ہے کہ امن و مان کا قیام صوبائی ذمہ داری ہے۔ اور صوبہ وفاق کی جانب سے قومی وسائل میں سے بڑی رقم حاصل کر رہا ہے۔ وفاق کا یہ بھی دعوا ہے کہ کراچی کی خراب صورتحال کے پیش نظر وفاقی ادارے رینجرز کی تعینات کی گئی ہے۔ جس کے تمام اخراجات وفاق اٹھاتا ہے۔ 
 صوبائی حکومت مسلسل یہی کہتی رہی کہ وفاق تھر کول پروجیکٹ کے لئے رقم نہیں فراہم کر رہا۔ اس ضمن میں ڈاکٹر ثمر مبارک کے ذریعے جو تجربات کئے گئے وہ سندھ حکومت نے اپنے خرچے پر کئے ۔ سندھ حکومت تھر کول کو ترقی دلانے میں وفاق کو رکاوٹ قرار دیتی رہی ہے۔ اس کا جواب ڈھائی سال کے بعد وفاق کی جانب سے آیا ہے اور اس نے الٹا سندھ حکومت کو اس تاخیر کے لئے ذمہ دار ٹہریا ہے۔ 
 وفاق نے سندھ حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ تھر کول پروجیکٹ میں تاخیر کر رہی اور کراچی گریٹر واٹر سپلائی پروجیکٹ کے لئے وفاق کی جانب سے فراہم کردہ رقم استعمال نہیں کی جارہی۔ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے اپنی حکومت کی ناکامیاں چھپانے کے لئے وفاق کے خلاف نا مناسب زبان استعمال کی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ایوان صنعت و تجارت کی تقرب میں کہا تھا کہ وزیراعظم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں رقم فارہم کرنے اورصوبے کے بعض اہم ترقیاتی منصوبوں کو فنڈز کی فراہمی سے متعلق اپنے وعدوں سے مکر گئے ہیں ، جس کی وجہ سے صوبے میں ترقی کی رفتار کم ہو کر رہ گئی ہے۔ 
وزارت خزانہ کے دفتر سے جاری کی گئی وضاحت میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کا یہ دعوا درست نہیں کہ وفاق نے سندھ اینگر پاور پروجیکٹ کو 1200 میگاواٹ بجلی کے منصوبے پر چینی سرمایہ کاروں کے لئے مالیاتی ضمانت نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے پہلے سے ہی کہہ دیا تھا کہ سندھ حکومت جب اس طرح کی گارنٹی دے گی تو اس کے ضواب میں ایسی گارنٹی وفاقی حکومت جاری کردے گی ۔ چونکہ یہ نجی و سرکاری شراکت داری میں کمپنی ہے۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ نے اس شرط کو تسلیم کرنے میں طویل عرصہ لیا جیسے ہی سندھ نے ہاں کی، وفاقی حکومت نے گارنٹی کے کاغذات منظور کر لئے۔ اس لئے یہ ایک حل شدہ معاملہ ہے۔ 
پروجیکٹ کے سرمایہ کاروں نے ایک ہفتہ قبل وزارت سے پانچ سو ملین ڈالر کے شرائط کے لئے راابطہ کیا تھا۔ وزارت خزانہ نے واضح کیا کہ نہ صرف تسلیم کرتا ہے بلکہ گارنٹی جاری کرنے کے لئے بھی تیار ہے۔وفاق چاہتا ہے کہ پاک چین تجارتی راہداری کے منصوبوں میں سے سب سے پہلے تھر کول کا منصوبہ شروع ہو۔ 
وفاقی کا موقف یہ ہے کہ وفاق نے کراچی گریٹر واٹر سپلائی پروجیکٹ کے لئے رقم فراہم کی جسے استعمال نہیںکیا گیا۔وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ جب تک پہلے فراہم کی گئی رقم خرچ نہیں کی جائے گی تب تک مزید رقم نہیں دی جاسکتی۔
کراچی واٹر پروجیکٹ کے لئے وفاق کا الزام ہے کہ حکومت سندھ نے اس کے لئے کوئی رقم جاری نہیں کی جبکہ کل لاگت میں سے وفاق نے گزشتہ مالی سال کے دوران تقریبا سوا دو ارب روپے اور رواں مالی سال کے دوران پان سو ملین روپے صوبائی حکومت کو دیئے ہیں 
 وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ سندھ پنجاب سمیت دیگر صوبوں کو گیس فراہم کرتا ہے۔ این ایل جی کے حوالے سے کئی مرتبہ وفاق کو لکھ چکے ہیں لیکن مشترکہ مفادات کی کونسل کا اجلاس طلب نہیں کیا جارہا ہے ۔ بہرحال صوؓون کی آپس میں یا مرکز سے ٹھن جانا کسی بھی طور پر اچھا شگون نہیں۔ خاص طور رپر تب جب سندھ کو کی پہلے پانی، اور مالی وسائل میں جائز حصہ نہ ملنے اور اس کے گیس خواہ توانائی کے دیگر وسائل دوسرے صوبون میں استعمال ہونے اور خود اپنے صوبے میں لوڈ شیڈنگ اور غربت کا سامنا ہو۔ 
 یہ سب کچھ ایسے موقعہ پر ہو رہا ہے جب ایم کیو ایم کے اراکین اسمبلی نے استعیفعے واپس لے لئے ہیں۔ اسلام آباد اور پنڈی کے معاملات میں بہتری آئی ہے۔ بعض تجزی نگاروں کے مطابق اب نواز شریف دباﺅ سے نکل چکے ہیں اور ان کی شخصیت الگ لیڈر کے طور پر ابھر رہی ہے۔ سیاست اپنی جگہ پر لیکن صوبوں اور لوگوں کو حقوق اور وسائل میں ان کا جائز حصہ ملنا چہائے۔ 
 اسی طرح سندھ کے کھیرتھر کی پہاڑیوں میں واقعہ تاریخی قلعہ رنی کوٹ میں بھی ایک چشمہ بہتا ہے، اس کے لئے بھی کہا جاتا ہے کہ اس چسمے کے تالاب میں چاند کی چودھویں کو پریاں اتری ہیں۔ اس تالاب کا نام ہی پریوں کا تالاب رکھا گیا ہے۔ 




Friday, November 6, 2015

بلدیاتی انتخاب: کیا کھویا کیا پایا

بلدیاتی انتخاب: کیا کھویا کیا پایا
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی 
بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے نے کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیئے ہیں ۔ یہ سوال ان لوگوں کے لئے بھی ہیں جو ملک میں جمہوریت چاہتے ہیں، ان کے لئے بھی جو نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی چاہتے ہیں اور ان کے لئے بھی جو عام کو اس نظام کے ذریعے بنیادی سہولیات دینا چاہتے ہیں۔ 
 خیرپور کے واقعے نے بحث کا موضوع تبدیل کردیا۔ یہ تو پولنگ والے روز کا واقعہ ہے۔ جس کے اثرات بھی دور رس پڑنے ہیں۔ اس سے پہلے جو سرگرمیاں ہو رہی تھی، وہ بھی سیاسی حوالے سے خطرناک تھیں ، جس میں وہ لوگ جو حقیقی معنوں میں شہریوں کی خدمت کر سکتے تھے یا جن سے شہری جواب طلبی کر سکتے تھے وہ میدان میں ہی نہیں آئے۔ 
 پہلے مرحلے میں سندھ میں پیپلزپارٹی نے 720 نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ 174 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں ۔ انتخابات پر نظر رکھنے والی تنظیم فری اینڈ فیر الیکشن نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انخابات میں 2013 کے انتخابات کی خامیوں کو دہرایا گیا ہے۔ کئی انتظامی بے ضابطگیاں ہوئیں، دھاندلی کی شکایات آئیں۔ انتخابات کا ماحول سیاسی کم اور ذاتی زیادہ رہا، جس پر انا کا عنصرحاوی رہا۔ پورا ماحول کئی تضادات سے بھرا رہا۔ ان میں سے کچھ تضادات مثلا برادری سسٹم وغیرہ بظاہر چھوٹے تھے لیکن ان کے اثرات بڑے تھے۔ لیکن بلدیات کا نظام چلانا انہی کو ہے کو جیت کر آئے ہیں ۔ 
 بلدیاتی اداروں کے بنیادی کام میں صفائی، پینے کے پانی کی فراہمی، شہروں کی گلیاں، سڑکیں اور اس طرح کی سہولیات شامل ہیں۔ مشرف دور میں بلدیاتی اداروں کا اینجڈا بھی بڑھادیا گیا تھا تو اختیارات اور فنڈز بھی۔ لیکن اب جس نظام کے تحت انتخابات کا پہلا مرحلہ دو صوبوں میں مکمل ہو اہے اس کا دائرہ اختیار اتنا نہیں جتنا مشرف دور کے بلدیاتی نظام جس کو ضلع حکومتوں کا نام دیا گیا تھا۔ ان تمام امور کے باوجود بلدیاتی اداروں کو فنڈز دیئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ان اداروں کو بعض مقامی ٹیکس وصول کرنے اک بھی اختیار ہے اور جو سہولیات یہ ادارے فراہم کریں گے اس کے لئے بھی شہریوں کو ادائگی کرے ہے۔ کسی زمانے میں چنگی ناکہ ان اداروں کی آمدن کا ایک بڑا ذریعہ ہوتا تھا۔ چنگی ناکے کے ٹھیکوں میں بدعنوانی اور ناجائز وصولیوں نے شہریوں اور تاجروں کو بہت تنگ کیا باآخر عالمی ملایاتی اداروں کے مشورے پر سیلز ٹیکس لاگو کر کے چنگی ٹیکس ختم کردیا گیا، اور اس کے عوض ان اداروں کو سیلز ٹیکس میں سے کچھ رقم کبھی ماہوار تو کبھی سہ ماہی پر ادا کی اجتی رہی۔ یہ امر باعث تعجب ہے کہ واٹر ٹیکس، ڈرینیج ٹیکس ، دکانوں پر ٹیکس، اسٹریٹ لائیٹس وغیہر کا ٹیکس اور اس طرح کے کئے محصولات ہیں جو یہ ادارے کئی برسوں سے وصول نہیں کر پائے ہیں۔ خواہ ضیا دور ہو یا مشرف کا بااختیار بلدیاتی دور۔ ہر دور میں کروڑوں روپے کا ٹیکس شہریوں پر واجب الادا رہا ہے۔ یہ ٹکیس بھی ان اداروں کی آمدن کا بہت بڑا ذریعہ ہے لیکن شہریوں کی غیر ذمہ داری اپنی جگہ، لیکن ان اداروں میں کرپشن ، بدنظمی خراب کارکردگی کی وجہ سے یہ بھی ادائگیاں نہیں ہو پارہی۔ عملی طور پر بلدیاتی ا دارے غیر متحرک رہے ہیں ، ان میں تحرک صرف اس وقت آ پاتا ہے جب اس میں فنڈز آتے ہیں۔ یا شہر کی معتبری کا سوال آتا ہے۔ خود فنڈ پیدا کرنے کے حوالے سے کوئی تحرک نظر نہیں آیا۔ یونین کونسلوں اور ٹاﺅن کمیٹیوں کو بھی فنڈز مہیا کئے جاتے رہے ہیں ۔ 
 مختلف چھوٹے بڑے شہروں پر نظر ڈالی جائے تو گندگی کا ڈھیر لگتے ہیں، گلیاں اور سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کرتی ہیں۔ سیوریج کا پانی سڑکوں پر تالاب کی شکل میں کئی روز تک کھڑا رہتا ہے۔ ھالانکہ ان اداروں کو ماہانہ بڑی رقومات ملتی رہی ہیں۔ ایک چھوٹی ٹاﺅں کمیٹی کو ھی دو کروڑ کے لگ بھگ رقم ملتی ہے ، لیکن شہری سہولیات غائب ہیں۔ اول تو ضرورت سے زیادہ بھرتیاں کی گئی ہیں دوئم یہ کہ رقومات میں سے ایک ٹکہ بھی خرچ نہیں ہوتا، تمام کی تمام رقوامت ہضم کرلی جاتی ہیں۔ سندھ کے کئی تحصیلوں میں ان رقومات میں سے باقاعدہ اراکین اسمبلی کو ایک بہت بڑا حصہ دیا جاتا رہا ہے۔ نتیجے میں عملا یہ ادارے اپنے وجود کا جواز کھو بیٹھے ہیں ۔ 
 اب بلدیاتی انتخابات میں عوام اپنے نمائندے منتخب کر رہے ہیں۔ پہلے مرحلے کے نتائج اور دوسرے اور تیسے مرحلے میں جو امیدوار میدان میں ان ک نام دیھ کر قطعی طور پر نہیں لگتا کہ کم از کم سندھ میں شہری سہولیات کی صورتحال تبدیل ہوگی۔ ان میں اہم مناصب پر بااثر خاندانوں اور اراکین اسمبلی کی تیسری نسل آ رہی ہے۔ وہ اسی پرانے کلچر کو برقرار رکھے گی جس کے تحت عام شہری کو کوئی سہولت نہیں مل رہی تھی اور آنے والی رقومات ہضم کرلی جاتی تھی۔ 
ہم جمہوریت کی تیسری سیڑھی کیسی تمعیر کر رہے ہیں جس کے لئے بہت شور کیا جارہا تھا۔ 
ان انتخابات نے نچلی سطح پر ذاتی دشمنیاں بھی پیدا کردی ہیں اور برادریوں کو مزید تقسیم کر دیا ہے۔ یہ دشمنیاں اب برسہا برس تک چلیں گی۔ ہر سیاسی جماعت کی کوشش تھی کہ جس حلقے میں جو برادری اکثریت میں ہے اسی کوٹکٹ دیا جائے۔ جمہوریت تو عوام کو بلا ماتیاز برادری یا نسل کے قریب لے آتی ہے۔ برادریوں، نسل، زبان یا مذہب کی تقسیم کے بجائے فکر ، سیاسی سوچ اور نظریے کی بنیاد پر ایک پلیٹ فام پر کٹھا کرتی ہے۔ لیکن ہم جمہوریت کے نام پر برادری سسٹم یا دوسریا س طرح کی تقسیم کو مضبوط کر رہے ہیں ۔ اس ”نیک کام “میں سیاسی جماعتوں سے لے کر انتظامیہ اور اسٹبلشمنٹ تک سب اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ 
سیاسی جماعتوں کی یہ ستم ظریفی ہے کہ انہوں نے نچلی سطح پر تنظیم کاری نہیں کی۔ ملک کی بڑی پارٹیاں جس میں پیپلزپارٹی، نواز لیگ اور تحریک انصاف کا شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے تنظیم کاری کی طرف توجہ نہیں دی۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کی تنظیم بظاہرتحصیل سطح پر موجود ہے۔ لیکن وہ بھی ایسی ہے جس سے پارٹی کے کارکنوں کو شکایات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک سو سے زائد نشستوں پر کارکنان پارٹی امیدوار کے مقابلے میں آگئے تھے۔ باقی نواز لیگ اور تحریک انصاف کی سندھ میں ضلع سطح پر تنظیم کاری خال خال ہے۔ 
ایسے میں سیاسی تربیت کی عدم موجودگی اور مقامی سطح پر اناداروں پر پارٹی کا چیک اینڈ بیلنس موجود ہی نہیںہوگا۔ اور باثر افراد کی تیسری نسل اپنے طور پر یا اپنے بڑوں کی ہدیات پر پرانا کھیل کھیلتی رہے گی ۔

بلدیاتی انتخابات کے بعض اہم نئے رجحانات

بلدیاتی انتخابات کے بعض اہم نئے رجحانات
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج کم و بیش یہی متوقع تھے۔ پیپلزپارٹی کا پلڑا بھاری رہا۔ ان ا تخابات کو اگر تبدیلی کی کسوٹی مانا جائے تو یہی کہا جا سکے گا کہ سوائے سکھر کے کوئی تبدیلی نہیں واقع نہیں ہوئی۔ سکھر شہر کی بلدیہ کے سربراہ کے لئے ایم کیو ایم کا امیدوار کی جیت ہوتی تھی۔ لیکن اس مرتبہ ایسا نہیں ہوا۔ 
سندھ میں بلدیاتی انتخابات اور بلدیاتی نظام کا معاملہ متنازع رہا ہے۔ کیونکہ صوبے کی دو بڑی پارٹیاں کو کبھی ایک دوسری کی اتحادی تو کبھی ایک دوسرے کی مخالف رہی ہیں اس نطام پر متفق نہیں ہو سکی تھی۔ اس نظام کے تکراری بن جانے کی وجہ سے چند سال قبل سندھ میں قوم پرستوں کے لئے بھی جگہ بن گئی تھی۔ یہ الگ قصہ ہے کہ وہ اس خلاءکو پر نہ کر سکے۔ پیپلزپارٹی حکومت دراصل بلدیاتی نظام کے گورکھ دھندے میں پڑنا نہیں چاہ رہی تھی۔ انتخابی فہرستوں اور حلقہ بندیوں کے معاملات بھی اٹھائے جاتے رہے۔سپریم کورٹ کے بعد سندھ ہائی کورٹ میں حد بندیوں سے متعلق درخواستوں کی وجہ سے مسلسل غیر یقینی کی صورتحال رہی ۔بالآخرعدالتی فیصلے نے مجبور کردیا کہ وہ انتخابات کرائے۔ 
 پیپلز پارٹی کے اصل کھلاڑی آصف علی زرداری ملک میں موجود نہیں تھے ۔ ایسے میں بظاہر نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو کی زیر قیادت یہ پہلے انتخابات تھے۔ عملا ایسا نہیں تھا۔ پارٹی کے رہنماو ¿ں سے بات چیت اور بیانات سے ظاہر ہوتا تھا کہ ٹکٹوں کی تقسیم فریال تالپور کی زیر نگرانی ہوئی تھی ۔
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ محلے اور بستی بستی سے امیدوار ہونے کی وجہ سے ان انتخابات میں عام انتخابات سے بھی زیادہ گہماگہمی ہوتی۔ لیکن انتخابی مہم گلیوں اور سڑکوں پر آنے کے بجائے وڈیروں کی اوطاقوں تک محدود رہی۔ ملک گیر دو بڑی پارٹیاں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف پنجاب میں ہی پنجہ آزمائی کر رہی تھی۔ سندھ شاید ان کا ایجنڈا نہیں تھا۔ قوم پرست بھی کوئی اتحاد نہین بنا سکے۔لہٰذا پیپلزپارٹی کے مقابلے میں کوئی بڑا سیاسی اتحاد سامنے نہیں آسکا۔ یوں یہ پارٹی پہلے مرحلے میں ایک بڑی آزمائش سے بچ گئی۔ پیپلز پارٹی کی قیادت اور اس کے دوستوں کو کرپشن کے الزامات کے تحت وفاق کے تین اداروں احتساب بیورو، ایف آئی اے اور رینجرز کی کارروائی کا سامنا ہے۔ لیکن تحریک انصاف ،مسلم لیگ ن، مسلم لیگ فنکشنل اور قومپرست اس کا سیاسی فائدہ نہیں اٹھاسکے۔ اور کوئی سیاسی مہم چلانے میں ناکام رہے۔ بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ انتخابات غیر سیاسی رہے۔ 
 سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں 707 امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوئے۔ جبکہ دو مرحلے باقی ہیں۔ دوسرے اور تیسرے مرحلے میں سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کو مقابلے کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دادو میں سابق وفاقی وزیر لیاقت جتوئی تو دریائے کی دوسری طرف سابق وزیراعظم غلام مصطفیٰ جتوئی کا خاندان میدان میں ہے۔سانگھڑ اور عمر کوٹ میں فنکشنل لیگ اور تحریک انصاف، تھرپارکر میں ارباب غلام رحیم اور بدین میں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا پیپلز پارٹی کے لیے چئلینج بنے ہوئے ہیں۔ اس طرح کی صورتحال کا سامنا پیپلزپارٹی کو پہلے مرحلے میں نہیں تھا۔
 حالیہ انتخابات میںخیرپور میں کل 795 پولنگ اسٹیشن میں سے اسی فیصد کو الیکشن کمیشن نے حساس قرار دیا تھا۔ لہٰذا یہاں سیکیورٹی کس قدر سخت انتظامات ہونا ضروری تھی۔ دونوں فریقین کے پاس اسلحہ موجود تھا جس کا بیدریغ استعمال بھی کیا گیا۔نتیجے میں گیارہ افراد مارے گئے۔یہاں پولیس کی کارکردگی کا سوال اٹھتا ہے۔خیرپور میں گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں یونین کونسل سگیوں میں پولنگ کے روز تصام میں دو افراد ہلاک ہوئے دونوں کا ہی تعلق پیپلزپارٹی سے تھا۔ 2001 کے بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی اکثریت سے جیتی تھی ۔موجودہ وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کی صاحبزداری نفیسہ شاہ ضلعی ناظمہ بنیں ۔بعد میں جب وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کے دور حکومت میں انتخابات ہوئے تو یہاں مسلم لیگ فنکشنل نے اکثریت حاصل کی۔ 
سندھ کو ان انتخابات میں بہت بڑا نقصان ہوا۔ اب سندھ میں میں اسلح کی سیاست کا راستہ کھل گیا ہے۔ جب نظریاتی سیاست ختم ہو، تربیت نہ ہو، معاملات سیاسی کارکنوں کے بجائے الیکشن باز افراد کے ہاتھ میں آجائیں تو مفاہمت ختم ہو جاتی ہے۔ کسی نے خوب کہا ہے کہ سیاست بغیر خونریزی کے جنگ ہے اور خونریزی کے ساتھ سیاست ہے۔ جب سیاسی مخالفت ذاتی رجنش اور انا کا مسئلہ بن چکجائے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے۔1970 کی انتخابی مہم کے دوران سانگھڑ میں ذوالفقار علی بھٹو پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔ جس کے بعد چھ حروں کا قتل ہوا۔ اس کیس کے ایک ملزم جام صادق علی بھی تھی۔ اب خیرپور میں پیپلزپارٹی اور فنکشنل لیگ کے کارکنوں کے درمیان تصادم میں فنکشنل لیگ کے گیارہ افراد جان بحق ہوئے ہیں۔ ان انتخابات کے دوسرے مرحلے میں سانگھڑ اور عمرکوٹ میں پیپلزپارٹی اور فنکشنل لیگ کو ایک دوسرے کا سامنا کرنا ہے۔ اس حوالے شدید خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ 
 ایس ایس پی عمرکوٹ قیوم پتافی گھوٹکی میں اپنے بھائی کے مددگار بنے ہوئے تھے۔ جنہیں اب معطل کردیا گیاہے۔ لاڑکانہ میں ایک امیدوار نقد ادائیگی میں مصروف تھا۔اس سے ان شکوک کو مدد ملتی ہے کہ انتظامیہ نے کس طرح سے اپنے پسندیدہ امیدواروں کی مدد کی ہوگی۔
ان انتخابات میں الیکشن کمیشن کی capacity کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ کیونکہ اساتذہ جو روایتی طور پر الیکشن ڈیوٹی کرتے تھے اور انہیں اس کام کا تجربہ بھی تھا۔ انہوں نے صوبائی محکمہ تعلیم کے ساتھ مطالبات کی وجہ سے الیکشن ڈیوٹی کا بائکاٹ کیا تھا۔ پولنگ کے عمل میں ان کی عدم موجودگی میں یہ کام غیر متعلقہ اور غیر تربیت یافتہ عملے سے لیا گیا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی عدالت میں ڈبے کھلے تو یہی پتہ چلے گا کہ کئی قانونی جھول نکل آئیں گے۔ 
بلدیاتی انتخابات کے نتائج متحدہ قومی موومنٹ کے لیے یقننا باعث پریشانی ہوسکتے ہیں کیونکہ سکھر میں میونسپل کا چیئرمین اس بار ان کا نہیں ہوگا۔بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں نوابشاہ شہر ، ٹنڈو آدم، ٹنڈو الہیار، میرپورخاص اور حیدرآباد میں ایم کیو ایم کا سالڈ ووٹ بینک موجود ہے۔ حیدرآباد میں تو وہ اس ووٹ بینک کو بچا سکے گی۔ لیکن باقی شہروں میں اپنی حکمت عملی کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا۔ 
 مجموعی طور پر پہلے مرحلے میں قوم پرست جماعتیں انفرادی طور پر بھی اپنی کوئی کارکردگی نہیں دکھا سکیں۔ یہ رجحانات بھی غور طلب ہیں کہ بعض مقامات پر پیپلزپارٹی کے باغی کارکنوں نے پارٹی کے سرکاری امیدواروں کو ہرا دہا۔ چند مثالیں ایسی بھی ملتی ہیں کہ تبدیلی کے خواہان بعض گروپوں نے بھپور کوشش کی اور عوام نے انہیں ووٹ دے کر ان پر اعتماد کا اظہار کیا۔ جس سے یہ امید بندھی ہے کہ اگر موثر و منظم طریقے اور سچائی کے ساتھ کی گئی کوشش صورتحال پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔ 
پہلے مرحلے کے آٹھ اضلاع میں یونین کونسل یا یونین کمیٹی کے، چییرمین یا وائس چیئرمین کے عہدے کے لئے خواتین امیدواروں کی تعدا د دو سے زیادہ نہیں۔ حد تو یہ ہے کہ جمہوریت اور ترقی پسند ہونے کی دعویدار پیپلز پارٹی بھی اس ضمن آگے نہیں آئی۔ جبکہ 2001 اور 2005 کے انتخابات میں نفیسہ شاہ، فریال تالپور، راحیلہ مگسی، صغرا جونیجو ضلع ناظم رہیں ۔ نمائندگی کے حوالے سے جو سلوک خواتین کے ساتھ کیا گیا وہی سلوک عام کارکنوں کے ساتھ بھی۔آبادی کے یہ دونوں حصے معاشرے میں نظر اندازرہے۔ چلو، کارکن اسمبلی کے رکن نہیں بن سکتے وہ یونین یا ٹاﺅن کمیٹی کے چیئرمین تو ہوسکتے تھے۔ مگر حکمران جماعت خواہ دیگر پارٹیوں نے کارکنوں کو اس منصب بھ کے قابل بھی نہیں سمجھا۔ سوال یہ ہے کہ جمہوریت کا فروغ بڑے سیاسی خاندانوں کی دوسری اورتیسری نسل کو آگے لانے سے کیسے ممکن ہوگا؟ ۔ان انتخابات سے بنیادی شہری سہولیات عام لوگوں تک کیسے پہنچے گی؟