مسلم لیگ فنکشنل کا رول باقی ہے؟
میرے دل میرے مسافر
سہیل سانگی
سندھ میں روز بروز سیاست یک طرفہ ہوتی جارہی ہے۔ وفاقی سیاست کی دعویدار جماعتیں سندھ میں سنجیدہ یا سیاست کرنے یا یہاںبھرپور کردار ادا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی ۔ان جماعتوں کی بنیاد کوئی ایک یا دوسرا صوبہ ہے۔ وہ خود کو وہاں تک ہی محدود رکھے ہوئے ہیں۔جہاں تک صوبے سندھ کی اندرونی سیاست کا سوال ہے ۔ یہاں پیپلزپارٹی مخالف گروپ الگ الگ پویزیشن لئے کھڑے ہیں۔ان مخالفین کا کسی ایک پارٹی میں آنا یا نئی پارٹی بناناتو درکنار ایک اتحاد میں بھی بیٹھنے کے لئے تیار نہیں۔اگرچہ یہ صورتحال ابھی زیادہ واضح ہوئی ہے لیکن گزشتہ کئی برس سے کسی نہ کسی شکل میں موجود تھی۔
سندھ میں پیر پاگارا کی مسلم لیگ فنکشنل ایک اہم سیاسی گروپ کے طور پر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے بغیر جب بھی صوبے میں حکومت بنی، فنکشنل لیگ کے ساتھ اتحاد کے ذریعے یا آشیرواد سے بنی۔ 2007 تک فنکشنل لیگ پارلیمانی یا اقتداری سیاست کے حوالے سے دوسری بڑی جماعت کے طور پر موجود تھی۔ لیکن اس کے بعد اس جماعت نے سکڑنا شروع کیا۔ گزشتہ دو عام انتخابات خواہ حالیہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج سے اس کے محدود ہونے مزید اظہار سامنے آیا ہے۔
سندھ کی اقتداری سیاست میں پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے بعد مسلم لیگ فنکشنل تیسری فریق ہے جو حکومت کے ساتھ یا مخالف اتحاد میں شامل رہتی ہے۔1985 میں مرحوم وزیراعظم محمد خان جونیجو کو متحدہ مسلم لیگ کا صدر بنانے کا فیصلہ ہوا، جس پر مرحوم پیر پاگارہ سید شاہ مردان شاہ نے اپنی راہیں الگ کردیں اور مسلم لیگ فنکشنل کے نام سے ایک دھڑا بنالیا۔
فنکشنل لیگ کا اگرچہ اپنا نیٹ ورک ہے لیکن یہ نیٹ ورک سیاسی نہیں بلکہ پیر پاگارہ کے مریدوں پر مشتمل ہے ۔ اس کا اثر سانگھڑ اور خیرپور میں خاص طور پر اور، عمرکوٹ اور تھر کے بعض حصوں میں کسی حد تک موجود ہے۔باقی اضلاع میں اس کے وہ بااثر افراد حامی حامی بن جاتے ہیں جو پیپلزپارٹی کے مخالف ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پانسہ پلٹنے والا ہے تب اس جماعت کا ساتھ دیتے ہیں
انیس سو چالیس کی دہائی کے آغاز میں جب برصغیر میں تحریک آزادی کا زور تھا، حر جماعت کے روحانی پیشوا پیر پاگارہ صبغت اللہ شاہ راشدی نے برطانوی راج کے خلاف اعلان جنگ کیا تھا، جس کے بعد انہیں گرفتار کرکے پھانسی دے دی گئی۔ تو مریدوں نے گوریلا جنگ شروع کردی جس کو تاریخ میں حر تحریک کے نام یاد کیا جاتا ہے۔
پیر صبغت اللہ شاہ کے فرزند سابق پیر پاگارہ شاہ مردان شاہ کو بچپن میں ہی لندن منتقل کردیا گیا۔ قیام پاکستان کے بعد وزیر اعظم لیاقت علی خان کی ثالثی کے ذریعے انہیں وطن آنے کی اجازت ملی۔ محققین کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ لیاقت علی خان اور اسٹیبلشمنٹ سے معاہدہ کرکے آئے تھے اس لیے وہ ہمیشہ اسٹبلشمنٹ کی سیاست کا حصہ رہے۔ سندھ میں ون یونٹ کے خلاف اور ایم آرڈی ، دو بڑی تحریکیں چلیں۔ ان دونوں تحریکوں میں ان کا کوئی حصہ نہیں نظر آتا۔مرحوم پیر پاگارہ شاہ مردان شاہ برملا کہتے تھے کہ وہ جی ایچ کیو کے آدمی ہیں جبکہ موجودہ پیر پگارہ پیر صبغت اللہ شاہ بھی یہ روایت پر روایت پر قائم ہیں۔
فوجی حکمرانوں جنرل ایوب خان، جنرل ضیاالحق اور جنرل مشرف ا کے دور حکومتوں میں مسلم لیگ فنکشنل یا پیر پاگارہ کواقتدار میں شیئر ملتا رہا ہے۔ مرحوم پیر پاگارا اور ا ن کی سیاست کو قریب سے دیکھنے والوں کے مطابق پیر صاحب سمجھتے تھے کہ اقتدار کس کو دیا جائے یہ فیصلہ تو اسٹبلشمنٹ کرتی ہے۔ اقتدار بانٹنے والے جب اقتدار دیناچاہیں گے انہیں حصہ مل جائے گا۔اور وہ بھی بلاکر دیا جائے گا۔ ایسے میں لوگوں تک جانے کی کیا ضرورت ہے۔
ستر کے عشرے میں انتخابی مہم کے دوران ذوالفقار علی بھٹو ہر قاتلانہ حملہ ہوا۔ بعد میں بھٹو دور میں سانگھڑ میں چھ حروں کا قتل ہوا۔ جس کا مقدمہ جام صادق علی اور دو سنیئر افسران پر دائر کیا گیا۔ یوں پیپلزپارٹی اور پیر پاگارا ایک دوسرے حریف بن گئے۔
بھٹو کے خلاف پاکستان نیشنل الائنس یعنی پی این اے کی تحریک میں پیرشاہ مردان شاہ پیش پیش رہے۔ اس تحریک کے بعد جنرل ضاالحق جب اقتدار پر قابض ہوئے تو پیر پاگارہ کی انہیں سیاسی حمایت حاصل رہی ۔جنرل ضیاالحق کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد پیر پاگارہ کے نامزد امیدوار محمد خان جونیجو کو وزیر اعظم کے منصب پر بٹھایا گیا ۔ جنرل ضیاالحق کے خلاف میں سندھ میں جمہوریت کی بحالی کی تحریک یعنی ایم آر ڈی کی تحریک چلی جس نے سندھ کے ہر گھر کو متاثر کیا لیکن پیر پاگارہ نے خود کو اس تحریک سے دور رکھا ۔ یہی صورتحال قوم پرستوں کی تھی۔
1988 کے عام انتخابات کے وقت سندھ میں سیاسی ابھار زوروں پر تھا۔ پیر پاگارہ اپنے آبائی خیرپور میں پیپلز پارٹی کے امیدوار سید پرویز علی شاہ سے شکست کھا گئے، اس کے بعد انہوں نے انتخابات میں کبھی حصہ نہیں لیا۔
بینظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف جب اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کا قیام عمل میں آیا تو پیر پاگارہ بھی اس میں شامل رہے۔ تب تک جام صادق علی پیر پاگارا سے معافی تلافی کراچکے تھے۔ بینظیر بھٹو کی حکومت کی برطرفی کے بعد سندھ میں پیر پاگارہ کے منظور نظر جام صادق کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا۔ جام صادق کے انتقال کے بعد مسلم لیگ فنکشنل کے حمایتی مظفر شاہ کو یہ منصب سونپا گیا۔
میاں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعدجنرل پرویز مشرف نے جب حکومت بنائی تو مسلم لیگ فنکشنل حکومت میں شامل تھی ۔ یہ ساتھ جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کے آخری دنوں تک رہا۔
کالاغ ڈیم کی تعمیر کے منصوبے کا بھی اعلان ہوا، لیکن مسلم لیگ فنکشنل کا اس پر عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ بلکہ اس کی حمایت میں بیانات آتے رہے۔
انتخابات جیتنے کے حوالے سے فنکشنل لیگ کا ریکارڈ کچھ اس طرح سے ہے: 2002 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ فنکشنل نے قومی کی چار اور صوبائی اسمبلی میں 16 نششتوں پر کامیابی حاصل کی، 2008 کے انتخابات میں آٹھ صوبائی اور 5 قومی اسمبلی کی نشستیںحاصل کیں۔ جبکہ 2013 کے انتخابات میں 10 صوبائی اور 6 قومی اسمبلی کی نشستوں پرملیں۔
2008 کے انتخابات کے بعدمسلم لیگ فنکشنل حکمران پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی شریک اقتدار رہی ۔ لیکن جب نئے انتخابات کا چرچہ ہونے لگا تو کراچی اور سندھ کے دیگر شہروں کے علیحدہ بلدیاتی نظام دینے پرحکومت سے علیحدگی اختیار کرلی، جس پر سندھ میں فنکشنل لیگ کو پذیرائی حاصل ہوئی اور قوم پرست جماعتوں نے بھی ان کی حمایت کی۔ پہلی بار مسلم لیگ فنکشنل نے اسمبلی کے اندر اور باہر متحرک نظر آئی ۔ فنکشنل لیگ نے اپنی چھتری کے نیچے قوم پرستوں کو جمع کرلیا۔ یہ تاثر پیدا ہوا تھا کہ شاید اب مسلم لیگ فنکشنل مین اسٹریم پالیٹکس میں آئے گی لیکن انتخابات سے پہلی وہ اپنی پرانی ڈگر پر چلی گئی۔ اس مہم سے پیپلز پارٹی کو نقصان ہوا ، یہ ضرور ہوا کہ سندھ کو اپنا متبادل بنانے میں فلٹر لگ گیا۔
فکشنل لیگ کا دعوا ہے کہ گزشتہ انتخابات میں ان کی جماعت نے ساڑھے بائیس لاکھ ووٹ حاصل کئے تھے۔ نیہ جماعت خود کو پی پی پی کا متبادل سمجھتی ہے ۔ مسلم لیگ فنکشنل کا کوئی واضح پروگرام یا منشور کبھی سامنے نہیں آیا۔ اس کی تنظیم کاری بھی جمہوری اصولوں پر مبنی نہیں۔ ی سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ عملا یہ مریدوں کی جماعت ہے ۔غیر مریدوں کے لئے اس جماعت میں جگہ کم ہے۔ سیاست میں وہ اقتدار کے قریب رہتی ہے، ان کی جماعت کا زیادہ ترکنٹرول حر جماعت کے پاس ہے جس کی وجہ سے باقی لوگ خود کو مسلم لیگ فنکشنل کے قریب محسوس نہیں کرتے اور اس وجہ سے وہ سندھ میں لوگوں کی ہمدردی اور حمایت حاصل نہیں کر پائی ہے۔
Nov 25 2015
Party position in 2018 election
| Parties | No. of Members | ||||||||||||||||||||||||||||
| Grand Democratic Alliance | 14 | ||||||||||||||||||||||||||||
| Mutahida Majlis-a- Amal Pakistan | 1 | ||||||||||||||||||||||||||||
| Mutahida Quami Movement Pakistan | 21 | ||||||||||||||||||||||||||||
| Pakistan Peoples Party Parliamentarians | 99 | ||||||||||||||||||||||||||||
| Pakistan Tehreek-e-Insaf | 30 | ||||||||||||||||||||||||||||
3Members' list for: Grand Democratic AllianceList is alphabetically sorted on names.
|