سندھ اور نواز حکومت کے درمیان ٹھن گئی
Nov 10, 2015
Nai baat
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
سندھ حکومت اور نواز لیگ کی وفاقی حکومت کے درمیان ایک بار پھر ٹھن گئی ہے۔ دونوں جانب سے سخت بیانات آنے شروع ہوگئے ہیں اس مرتبہ بیانات میں جو زبان استعمال کی گئی ہے وہ موجودہ دور حکومت میں پہلی مرتبہ نظر آئی ہیں۔ اس سے پہلے پیپلزپاز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے سیاسی حوالے سے نواز شریف کے لئے کچھ کہا تھا۔ لیکن وہ سب کا سب سیاسی معاملہ تھا۔ اس مرتبہ سندھ حکومت یہ شکایت کر ہی ہے کہ فنڈز کے معاملے میں وفاق وعدے پورا نہیں کر رہا ۔ بلکہ یہ کہا جارہا کہ ہے وزیراعظم عودے سے مکر گئے ہیں۔ وفاق ا وزیراعلیٰ سندھ کے ان الفاظ کا نامناسب قرار دے رہا ہے اور اور شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وزارت خزانہ کی جانب سے ایک تفصیلی وضاحت نامہ جاری کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے شکوہ کیا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ کراچی میں دہشتگردوں کے خلاف لڑو اگر آپ کو کچھ ہوا تو ہم بیٹھے ہیں۔ اور وزیراعظم نے اس آپریشن کے کے لئے بارہ ارب روپے دینے کا بھی وعدہ کیا تھا۔ لیکن تاحال اس مد میں ایک پیسہ بھی نہیں دیا گیا ہے۔انہوں نے یہ بھی شکوہ کیا کہ دہشتگردوں کے ساتھ لڑنے کے لئے نہ بلٹ پروف گاڑیاں ہیں، نہ ہتھیار، ٹارگیٹیڈ آپریشن کے لئے مطلوبہ اسلح کی مد میں بھی مدد کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ لیکن اس مد میں بھی کوئی رقم فراہم نہیں کی گئی ہے۔
اس کے جواب میں وزارت خزانہ کا کہنا اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ وزیراعظم نے کراچی آپریشن کے لئے 12 ارب روپے دینے کا اعلان کیا تھا۔ اور یہ بھی غلط ہے کہ سندھ حکومت دہشتگردی کے خلاف یہ جنگ اکیلے اپنے وسائل سے لڑ رہا ہے۔ وفاق کا ماننا ہے کہ امن و مان کا قیام صوبائی ذمہ داری ہے۔ اور صوبہ وفاق کی جانب سے قومی وسائل میں سے بڑی رقم حاصل کر رہا ہے۔ وفاق کا یہ بھی دعوا ہے کہ کراچی کی خراب صورتحال کے پیش نظر وفاقی ادارے رینجرز کی تعینات کی گئی ہے۔ جس کے تمام اخراجات وفاق اٹھاتا ہے۔
صوبائی حکومت مسلسل یہی کہتی رہی کہ وفاق تھر کول پروجیکٹ کے لئے رقم نہیں فراہم کر رہا۔ اس ضمن میں ڈاکٹر ثمر مبارک کے ذریعے جو تجربات کئے گئے وہ سندھ حکومت نے اپنے خرچے پر کئے ۔ سندھ حکومت تھر کول کو ترقی دلانے میں وفاق کو رکاوٹ قرار دیتی رہی ہے۔ اس کا جواب ڈھائی سال کے بعد وفاق کی جانب سے آیا ہے اور اس نے الٹا سندھ حکومت کو اس تاخیر کے لئے ذمہ دار ٹہریا ہے۔
وفاق نے سندھ حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ تھر کول پروجیکٹ میں تاخیر کر رہی اور کراچی گریٹر واٹر سپلائی پروجیکٹ کے لئے وفاق کی جانب سے فراہم کردہ رقم استعمال نہیں کی جارہی۔ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے اپنی حکومت کی ناکامیاں چھپانے کے لئے وفاق کے خلاف نا مناسب زبان استعمال کی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ایوان صنعت و تجارت کی تقرب میں کہا تھا کہ وزیراعظم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں رقم فارہم کرنے اورصوبے کے بعض اہم ترقیاتی منصوبوں کو فنڈز کی فراہمی سے متعلق اپنے وعدوں سے مکر گئے ہیں ، جس کی وجہ سے صوبے میں ترقی کی رفتار کم ہو کر رہ گئی ہے۔
وزارت خزانہ کے دفتر سے جاری کی گئی وضاحت میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کا یہ دعوا درست نہیں کہ وفاق نے سندھ اینگر پاور پروجیکٹ کو 1200 میگاواٹ بجلی کے منصوبے پر چینی سرمایہ کاروں کے لئے مالیاتی ضمانت نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے پہلے سے ہی کہہ دیا تھا کہ سندھ حکومت جب اس طرح کی گارنٹی دے گی تو اس کے ضواب میں ایسی گارنٹی وفاقی حکومت جاری کردے گی ۔ چونکہ یہ نجی و سرکاری شراکت داری میں کمپنی ہے۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ نے اس شرط کو تسلیم کرنے میں طویل عرصہ لیا جیسے ہی سندھ نے ہاں کی، وفاقی حکومت نے گارنٹی کے کاغذات منظور کر لئے۔ اس لئے یہ ایک حل شدہ معاملہ ہے۔
پروجیکٹ کے سرمایہ کاروں نے ایک ہفتہ قبل وزارت سے پانچ سو ملین ڈالر کے شرائط کے لئے راابطہ کیا تھا۔ وزارت خزانہ نے واضح کیا کہ نہ صرف تسلیم کرتا ہے بلکہ گارنٹی جاری کرنے کے لئے بھی تیار ہے۔وفاق چاہتا ہے کہ پاک چین تجارتی راہداری کے منصوبوں میں سے سب سے پہلے تھر کول کا منصوبہ شروع ہو۔
وفاقی کا موقف یہ ہے کہ وفاق نے کراچی گریٹر واٹر سپلائی پروجیکٹ کے لئے رقم فراہم کی جسے استعمال نہیںکیا گیا۔وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ جب تک پہلے فراہم کی گئی رقم خرچ نہیں کی جائے گی تب تک مزید رقم نہیں دی جاسکتی۔
کراچی واٹر پروجیکٹ کے لئے وفاق کا الزام ہے کہ حکومت سندھ نے اس کے لئے کوئی رقم جاری نہیں کی جبکہ کل لاگت میں سے وفاق نے گزشتہ مالی سال کے دوران تقریبا سوا دو ارب روپے اور رواں مالی سال کے دوران پان سو ملین روپے صوبائی حکومت کو دیئے ہیں
وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ سندھ پنجاب سمیت دیگر صوبوں کو گیس فراہم کرتا ہے۔ این ایل جی کے حوالے سے کئی مرتبہ وفاق کو لکھ چکے ہیں لیکن مشترکہ مفادات کی کونسل کا اجلاس طلب نہیں کیا جارہا ہے ۔ بہرحال صوؓون کی آپس میں یا مرکز سے ٹھن جانا کسی بھی طور پر اچھا شگون نہیں۔ خاص طور رپر تب جب سندھ کو کی پہلے پانی، اور مالی وسائل میں جائز حصہ نہ ملنے اور اس کے گیس خواہ توانائی کے دیگر وسائل دوسرے صوبون میں استعمال ہونے اور خود اپنے صوبے میں لوڈ شیڈنگ اور غربت کا سامنا ہو۔
یہ سب کچھ ایسے موقعہ پر ہو رہا ہے جب ایم کیو ایم کے اراکین اسمبلی نے استعیفعے واپس لے لئے ہیں۔ اسلام آباد اور پنڈی کے معاملات میں بہتری آئی ہے۔ بعض تجزی نگاروں کے مطابق اب نواز شریف دباﺅ سے نکل چکے ہیں اور ان کی شخصیت الگ لیڈر کے طور پر ابھر رہی ہے۔ سیاست اپنی جگہ پر لیکن صوبوں اور لوگوں کو حقوق اور وسائل میں ان کا جائز حصہ ملنا چہائے۔
اسی طرح سندھ کے کھیرتھر کی پہاڑیوں میں واقعہ تاریخی قلعہ رنی کوٹ میں بھی ایک چشمہ بہتا ہے، اس کے لئے بھی کہا جاتا ہے کہ اس چسمے کے تالاب میں چاند کی چودھویں کو پریاں اتری ہیں۔ اس تالاب کا نام ہی پریوں کا تالاب رکھا گیا ہے۔
No comments:
Post a Comment