Friday, November 6, 2015

بلدیاتی انتخاب: کیا کھویا کیا پایا

بلدیاتی انتخاب: کیا کھویا کیا پایا
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی 
بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے نے کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیئے ہیں ۔ یہ سوال ان لوگوں کے لئے بھی ہیں جو ملک میں جمہوریت چاہتے ہیں، ان کے لئے بھی جو نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی چاہتے ہیں اور ان کے لئے بھی جو عام کو اس نظام کے ذریعے بنیادی سہولیات دینا چاہتے ہیں۔ 
 خیرپور کے واقعے نے بحث کا موضوع تبدیل کردیا۔ یہ تو پولنگ والے روز کا واقعہ ہے۔ جس کے اثرات بھی دور رس پڑنے ہیں۔ اس سے پہلے جو سرگرمیاں ہو رہی تھی، وہ بھی سیاسی حوالے سے خطرناک تھیں ، جس میں وہ لوگ جو حقیقی معنوں میں شہریوں کی خدمت کر سکتے تھے یا جن سے شہری جواب طلبی کر سکتے تھے وہ میدان میں ہی نہیں آئے۔ 
 پہلے مرحلے میں سندھ میں پیپلزپارٹی نے 720 نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ 174 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں ۔ انتخابات پر نظر رکھنے والی تنظیم فری اینڈ فیر الیکشن نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انخابات میں 2013 کے انتخابات کی خامیوں کو دہرایا گیا ہے۔ کئی انتظامی بے ضابطگیاں ہوئیں، دھاندلی کی شکایات آئیں۔ انتخابات کا ماحول سیاسی کم اور ذاتی زیادہ رہا، جس پر انا کا عنصرحاوی رہا۔ پورا ماحول کئی تضادات سے بھرا رہا۔ ان میں سے کچھ تضادات مثلا برادری سسٹم وغیرہ بظاہر چھوٹے تھے لیکن ان کے اثرات بڑے تھے۔ لیکن بلدیات کا نظام چلانا انہی کو ہے کو جیت کر آئے ہیں ۔ 
 بلدیاتی اداروں کے بنیادی کام میں صفائی، پینے کے پانی کی فراہمی، شہروں کی گلیاں، سڑکیں اور اس طرح کی سہولیات شامل ہیں۔ مشرف دور میں بلدیاتی اداروں کا اینجڈا بھی بڑھادیا گیا تھا تو اختیارات اور فنڈز بھی۔ لیکن اب جس نظام کے تحت انتخابات کا پہلا مرحلہ دو صوبوں میں مکمل ہو اہے اس کا دائرہ اختیار اتنا نہیں جتنا مشرف دور کے بلدیاتی نظام جس کو ضلع حکومتوں کا نام دیا گیا تھا۔ ان تمام امور کے باوجود بلدیاتی اداروں کو فنڈز دیئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ان اداروں کو بعض مقامی ٹیکس وصول کرنے اک بھی اختیار ہے اور جو سہولیات یہ ادارے فراہم کریں گے اس کے لئے بھی شہریوں کو ادائگی کرے ہے۔ کسی زمانے میں چنگی ناکہ ان اداروں کی آمدن کا ایک بڑا ذریعہ ہوتا تھا۔ چنگی ناکے کے ٹھیکوں میں بدعنوانی اور ناجائز وصولیوں نے شہریوں اور تاجروں کو بہت تنگ کیا باآخر عالمی ملایاتی اداروں کے مشورے پر سیلز ٹیکس لاگو کر کے چنگی ٹیکس ختم کردیا گیا، اور اس کے عوض ان اداروں کو سیلز ٹیکس میں سے کچھ رقم کبھی ماہوار تو کبھی سہ ماہی پر ادا کی اجتی رہی۔ یہ امر باعث تعجب ہے کہ واٹر ٹیکس، ڈرینیج ٹیکس ، دکانوں پر ٹیکس، اسٹریٹ لائیٹس وغیہر کا ٹیکس اور اس طرح کے کئے محصولات ہیں جو یہ ادارے کئی برسوں سے وصول نہیں کر پائے ہیں۔ خواہ ضیا دور ہو یا مشرف کا بااختیار بلدیاتی دور۔ ہر دور میں کروڑوں روپے کا ٹیکس شہریوں پر واجب الادا رہا ہے۔ یہ ٹکیس بھی ان اداروں کی آمدن کا بہت بڑا ذریعہ ہے لیکن شہریوں کی غیر ذمہ داری اپنی جگہ، لیکن ان اداروں میں کرپشن ، بدنظمی خراب کارکردگی کی وجہ سے یہ بھی ادائگیاں نہیں ہو پارہی۔ عملی طور پر بلدیاتی ا دارے غیر متحرک رہے ہیں ، ان میں تحرک صرف اس وقت آ پاتا ہے جب اس میں فنڈز آتے ہیں۔ یا شہر کی معتبری کا سوال آتا ہے۔ خود فنڈ پیدا کرنے کے حوالے سے کوئی تحرک نظر نہیں آیا۔ یونین کونسلوں اور ٹاﺅن کمیٹیوں کو بھی فنڈز مہیا کئے جاتے رہے ہیں ۔ 
 مختلف چھوٹے بڑے شہروں پر نظر ڈالی جائے تو گندگی کا ڈھیر لگتے ہیں، گلیاں اور سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کرتی ہیں۔ سیوریج کا پانی سڑکوں پر تالاب کی شکل میں کئی روز تک کھڑا رہتا ہے۔ ھالانکہ ان اداروں کو ماہانہ بڑی رقومات ملتی رہی ہیں۔ ایک چھوٹی ٹاﺅں کمیٹی کو ھی دو کروڑ کے لگ بھگ رقم ملتی ہے ، لیکن شہری سہولیات غائب ہیں۔ اول تو ضرورت سے زیادہ بھرتیاں کی گئی ہیں دوئم یہ کہ رقومات میں سے ایک ٹکہ بھی خرچ نہیں ہوتا، تمام کی تمام رقوامت ہضم کرلی جاتی ہیں۔ سندھ کے کئی تحصیلوں میں ان رقومات میں سے باقاعدہ اراکین اسمبلی کو ایک بہت بڑا حصہ دیا جاتا رہا ہے۔ نتیجے میں عملا یہ ادارے اپنے وجود کا جواز کھو بیٹھے ہیں ۔ 
 اب بلدیاتی انتخابات میں عوام اپنے نمائندے منتخب کر رہے ہیں۔ پہلے مرحلے کے نتائج اور دوسرے اور تیسے مرحلے میں جو امیدوار میدان میں ان ک نام دیھ کر قطعی طور پر نہیں لگتا کہ کم از کم سندھ میں شہری سہولیات کی صورتحال تبدیل ہوگی۔ ان میں اہم مناصب پر بااثر خاندانوں اور اراکین اسمبلی کی تیسری نسل آ رہی ہے۔ وہ اسی پرانے کلچر کو برقرار رکھے گی جس کے تحت عام شہری کو کوئی سہولت نہیں مل رہی تھی اور آنے والی رقومات ہضم کرلی جاتی تھی۔ 
ہم جمہوریت کی تیسری سیڑھی کیسی تمعیر کر رہے ہیں جس کے لئے بہت شور کیا جارہا تھا۔ 
ان انتخابات نے نچلی سطح پر ذاتی دشمنیاں بھی پیدا کردی ہیں اور برادریوں کو مزید تقسیم کر دیا ہے۔ یہ دشمنیاں اب برسہا برس تک چلیں گی۔ ہر سیاسی جماعت کی کوشش تھی کہ جس حلقے میں جو برادری اکثریت میں ہے اسی کوٹکٹ دیا جائے۔ جمہوریت تو عوام کو بلا ماتیاز برادری یا نسل کے قریب لے آتی ہے۔ برادریوں، نسل، زبان یا مذہب کی تقسیم کے بجائے فکر ، سیاسی سوچ اور نظریے کی بنیاد پر ایک پلیٹ فام پر کٹھا کرتی ہے۔ لیکن ہم جمہوریت کے نام پر برادری سسٹم یا دوسریا س طرح کی تقسیم کو مضبوط کر رہے ہیں ۔ اس ”نیک کام “میں سیاسی جماعتوں سے لے کر انتظامیہ اور اسٹبلشمنٹ تک سب اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ 
سیاسی جماعتوں کی یہ ستم ظریفی ہے کہ انہوں نے نچلی سطح پر تنظیم کاری نہیں کی۔ ملک کی بڑی پارٹیاں جس میں پیپلزپارٹی، نواز لیگ اور تحریک انصاف کا شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے تنظیم کاری کی طرف توجہ نہیں دی۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کی تنظیم بظاہرتحصیل سطح پر موجود ہے۔ لیکن وہ بھی ایسی ہے جس سے پارٹی کے کارکنوں کو شکایات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک سو سے زائد نشستوں پر کارکنان پارٹی امیدوار کے مقابلے میں آگئے تھے۔ باقی نواز لیگ اور تحریک انصاف کی سندھ میں ضلع سطح پر تنظیم کاری خال خال ہے۔ 
ایسے میں سیاسی تربیت کی عدم موجودگی اور مقامی سطح پر اناداروں پر پارٹی کا چیک اینڈ بیلنس موجود ہی نہیںہوگا۔ اور باثر افراد کی تیسری نسل اپنے طور پر یا اپنے بڑوں کی ہدیات پر پرانا کھیل کھیلتی رہے گی ۔

No comments:

Post a Comment