Thursday, March 30, 2017

آصف علی زرداری کا لہجہ کیوں بدلا؟

آصف علی زرداری کا لہجہ کیوں بدلا؟
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
پیپلز پارٹی کے بڑے آصف علی زرداری نے جیو ٹی وی پر انٹرویو میں بعض اہم باتیں کی ہیں۔ دراصل اس انٹرویوکے ذریعے پارٹی کی نئی حکمت عملی کا اعلان کیا ہے۔یہی کہ اب مفاہمت کی سیاست ختم۔ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ میں ٹھن گئی ہے۔ وہ ایک دوسرے کو پہلے کی طرح جگہ دینے کے لئے تیار نہیں جو 2013 کے انتخابات کے بعد دے رہے تھے۔ منظر نامہ کچھ اس طرح کا بن گیا ہے کہ ایک بار پھر ملک میں دو ہی پارٹیاں نظر آرہی ہیں۔ عمران خان نے چار سال تک مسلسل ’’محنت‘‘ کرکے متبادل اور حقیقی اپوزیشن کا پروفائیل بنایا تھا۔ انتخابات میں دھاندلیوں سے لیکر پانامالیکس تک کے معاملات اٹھائے تھے۔ صرف سیاست کو ہی گرمائے نہیں رکھا بلکہ ملک کو سر پر اٹھائے رکھا۔ انتخابات میں دھاندلیوں کا معاملہ کوئی ٹھوس نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا، گزشتہ انتخابات کو چھوڑیئے نئے انتخابات کے لئے اصلاحات بھی نہیں کراپائے۔ ان کی اس تحریک سے فائدہ لینے والوں نے فائدہ لے لیا، عمران خان کی جھولی عوام کی جھولی کی طرح خالی ہی رہی۔ پاناما لیکس کا معاملہ بھی عدالتی کٹہرے میں چلا گیا۔ اس پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا ہے جس کا عمران خان سمیت سب کو انتظار ہے۔


آصف علی زرداری کسی مناسب موقع کی تلاش میں تھے۔ آرمی چیف کے تبدیل ہونے کے بعد صورتحال میں تبدیلی آئی۔ ملک کی سیاسی فضا میں درجہ حرارت میں کمی واقع ہوئی۔ وہ دو ماہ قبل سیاسی فضا کا درجہ حرارت ناپنے کے لئے وطن آئے۔ ضمنی انتخابات کے ذریعے خود اور بلاول بھٹو زرادری کے قومی اسمبلی میں جانے کی بات کر کے واپس چلے گئے۔ انہوں اس اثناء میں امریکہ کا دورہ بھی کیا۔ اور وہاں رونما ہونے والی تبدیلی سے متعلق آگاہی حاصل کی۔


پیپلزپارٹی فوجی عدالتوں کے قیام میں نہ صرف سیاسی اسکور کرکے اپنی پوزیشن بہتر بنا لی گئی اس کے ساتھ ساتھ ڈیل بھی کر لی۔ اسکو یہ فائدہ دراصل سنیٹ میں اکثریت اور ایوان بالا کی سربراہی کی وجہ سے ملا۔ پیپلزپارٹی مختلف اہم پارٹیوں کی کانفرنس منعقد کر کے یہ تاثر دینے میں کامیاب ہوگئی کہ فوجی عدالتوں کے قیام کا معاملہ نواز لیگ کے بس کی بات نہیں، صرف یہی پارٹی نمٹا سکتی ہے۔ اسکو سیاسی جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہے اور سنیٹ میں بھی اکثریت ہے۔ بعد میں فوجی عدالتوں کے قیام کے سوال پر نواز لیگ کی ٹیم نے رسمی طور پر پیپلزپارٹی کے ساتھ مذاکرات کئے ۔دراصل پیپلزپارٹی کے مذاکرات ارباب اختیار سے ہو چکے تھے۔ پیپلزپارٹی سمجھتی تھی کہ نواز لیگ سے کوئی ڈیل یا ضمانت نہیں مل سکتی۔ کیونکہ گزشتہ دو سال کے دوران سندھ میں پیپلز پارٹی کے وڈیروں یا وزراء کے خلاف کارروائی کی جا رہی تھی، پیپلزپارٹی نے نواز لیگ کو ’’احسانات‘‘ یاد دلائے۔لیکن نواز لیگ نے بے بسی دکھائی۔


ایک طرف پانامالیکس کیس عدالت عظمیٰ میں مکمل ہو گیا۔ اور فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔ دوسری جانب فوجی عدالتوں کی آئینی مدت ختم ہو گئی۔ آپریشن ردالفساد کی وجہ سے ان عدالتوں کے دوبارہ قیام کی ضرورت پیش آرہی تھی۔ پنجاب میں بھی رینجرز کی قیادت میں کسی حد تک آپریشن شروع ہوچکا تھا۔ اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے پیپلزپارٹی کے اپنا کارڈ کھیلا۔ اس حکمت عملی نے ایک بار پھر ملکی سیاست میں پیپلزپارٹی کی اہمیت بڑھادی۔ اس کا اظہارآصف علی زرداری کے حالیہ ٹی وی انٹرویو سے ملتا ہے جس میں ان کا لب و لہجہ ہی نہیں بلکہ مواد بھی جارحانہ ہے۔ سندھ سابق وزیر اطلاعات شرجیل میمن کی بھی واپسی اور گرفتاری ہوگئی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ رہائی بھی ہوگئی۔
نواز لیگ کے ساتھ اب پیپلزپارٹی کو معاہدہ کرنے کی اس لئے بھی ضرورت نہیں تھی کہ اب انتخابات کا اعلان آئندہ دس گیارہ ماہ میں ہونے والا ہے۔ اس میں نواز لیگ کی بے بسی اور بے وفائیوں نے بھی اثر دکھایا۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے براہ راست اسٹبلشمنٹ سے بات کرنا مناسب سمجھا۔ اس بات چیت کے فوری طور پر اثرات بھی سامنے آئے۔ اس براہ راست بات چیت نے نواز لیگ کو غصہ دلا دیا۔


اس اثناء میں ہمیشہ متنازع بنے ہوئے اور پیپلزپارٹی کے دور حکومت کے امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی کا امریکی اخبار میں مضمون شایع ہوا، جس میں انہوں نے دعوا کیا کہ انہوں نے دوہزار امریکیوں کو سفارتی کوٹے پر روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر ویزے جاری کئے۔ ان کا یہ بھی دعوا تھا کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی امریکی فوجی حملے میں ہلاکت میں بھی ان کا تعلق بنتا ہے۔ ایبٹ آباد واقعہ سیکیورٹی کے حوالے سے نہایت ہی حساس رہا ہے۔ اس واقعہ کی عدالتی کمیشن نے تحقیقات بھی کی تھی۔ لیکن جس طرح حمودالرحمان رپورٹ شایع نہ ہوسکی تھی اسی طرح ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ بھی شایع نہیں کی گئی۔ پیپلزپارٹی نے حسین حقانی کے اس مضمون اور ویزے جاری کرنے کا معاملہ سیاسی گیند کی طرح میدان میں پھینکا کہ وہ کسی طرح عسکری حلقوں اور پیپلزپارٹی کے تعلقات کو نقصان پہنچا سکے۔


آصف زرداری کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ اور عسکری اداروں کی مشترکہ رائے تھی کہ ایبٹ آ باد کمیشن رپورٹ شایع نہ کی جائے۔ حکومت نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا حکم نامہ عام کیا جس میں حسین حقانی کو ہدایت کی گئی تھی امریکیوں کو روایتی طریقہ کار پورا کئے بغیر سفارتی ویزے جاری کئے جائیں۔ پیپلزپارٹی کا یہ موقف ہے کہ ہر ملک کے سفارتخانے میں عسکری اور خفیہ اداروں کے شعبے موجود ہوتے ہیں۔ اس طرح کے ویزا ان اداروں کے وہاں موجود شعبوں سے مشاورت کے بعد جاری کئے جاتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کا یہ بھی موقف ہے کہ وزیراعظم کا یہ ہدایت نامہ عام کرنے کے لئے یہ وقت مناسب نہیں تھا۔ تاہم پیپلز پارٹی نے ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ شایع کرنے کا مطالبہ کر کے حکومت کے اس موقف کی ہوا نکال دی ہے۔


دو تین روز تک پیپلزپارٹی اور حکمران جماعت نواز لیگ کے وزراء کے درمیان بیانات کا تبادلہ ہوتا رہا۔ پہلے بلاول بھٹوزرداری یا اسمبلی میں بیٹھے ہوئے پارٹی کے رہنما نواز شریف کیخلاف بیانات دیتے تھے لیکن اب آصف علی زرداری بھی نواز شریف کے خلاف بول رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے ساتھ ان کے بہت سارے انتخابات ہیں۔انہوں نے 2013 کے انتخابات کو ایک مرتبہ پھر آر او انتخابات قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابات بحالت مجبوری قبول کئے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کو حکمرانوں کی آنکھوں میں غرور اور تکبر نظر آرہا ہے۔ اگرچہ نواز شریف کی جانب سے براہ راست بیان نہیں آیا لیکن چوہدری نثارعلی خان کے ذریعے پراکسی جنگ چل رہی ہے۔ پیپلزپارٹی نے شرجیل میمن کو میدان میں اتارا ہے کہ وہ چوہدری نثار علی خان کو جواب دے۔


پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کے درمیان پانی کی منصفانہ تقسیم اور مردم شماری کے حوالے سے بھی دو جنگیں چل رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اس صوبے کو پانی بجلی وغیرہ میں جائز ھصہ نہ دینے کی صورت میں صوبے میں موجود وفاقی اداروں کو تالے لگانے یا اکھاڑ کر پھینکنے کی دھمکی دی۔ چوہدری نثار کاکہنا ہے کہ صوبہ کسی کی جاگیر نہیں ۔ یوں پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کے درمیان سخت لہجے میں بیان بازی جاری ہے۔ نوازشریف نے گزشتہ دنوں سندھ کا دورہ کیا۔ اس کے جواب میں آصف زرداری پنجاب کا دورہ کر رہے ہیں۔ اب میاں صاحب پھر سندھ کے دورے پر ہیں۔


اس جنگ میں عمران خان غیر حاضر ہیں۔وہ نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کے درمیان اس جنگ کا مزہ لے رہے ہیں یا اس کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن عام تاثر ایک مرتبہ پھر یہ ابھر رہا ہے کہ ملک میں دو ہی بڑی پارٹیاں ہیں۔ اور انہی کا ایک دوسرے سے مقابلہ ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے لئے کی جانے والی کوششوں کے بعد عمران خان کا رول کم ہوجائے گا۔ گزشتہ دنوں محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمان کی وزیراعظم نواز شریف سے الگ الگ ملاقاتیں اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔
پاناما مقدمے کا فیصلہ کا انتظار کیا جارہا ہے۔ ممکن ہے وقت سے پہلے انتخاب ہوں۔ دوسری جانب نواز لیگ کی یہ بھی کوشش ہے کہ انتخابات کا اعلان سنیٹ کے انتخابات کے بعد ہو۔تاکہ وہ سنیٹ میں اپنی پوزیشن بہتر بنا سکیں۔لیکن
زرداری کی حکمت عملی دونوں صورتوں میں کوئی توڑ نکالنے کی ہے

۔