Friday, April 26, 2019

سندھ: محکمہ صحت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

سندھ: محکمہ صحت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

سندھ نامہ  سہیل سانگی 

 سندھ اسمبلی کا ایوان آج کل جس طرح چل رہا ہے، جو مناظردیکھنے  اور جملے سننے کو ملتے ہیں، وہ سب کچھ دیکھ کر یقین ہی نہیں آتا کہ یہ سندھ بھر کے کروڑہا عوام کی نمائندگی کرنے والا منتخب اور پڑھے لکھے لوگوں کا ایوان ہے۔  جس کا فرض سندھ لے عوام کے مسائل  حل کرنے کے اقدامات اور قانون سازی کرنا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ کوئی ایکشن مووی چل رہی ہے۔
گزشتہ ایک ماہ سے  صوبائی محکمہ صحت میڈیا میں زیر بحث ہے۔  یہ محکمہ پیپلزپاارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی  زرداری کی ہمشیرہ عذرا پیچوہو کے پاس ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مختلف اضلاع میں پندرہ سو سے زیادہ ڈاکٹرز ڈیوٹیوں سے غیر حاضر ہیں۔ تھرجہاں غذائیت کی کمی  اور قحط کی وجہ سے بچوں کی اموات کا سلسلہ رک نہیں رہا، وہاں  ڈاکٹرز کو خصوصی الاؤنس دے کر تعینات کردہ ڈاکٹروں میں سے چالیس ڈاکٹرز ڈیوٹی نہیں دے رہے ہیں۔ ڈی جی ہیلتھ  نے ان ڈاکٹرز کو نوٹس جاری کئے ہیں لیکن معاملہ سیکریٹری کے پاس لٹ گیا ہے۔ ان تمام  ڈاکٹرز کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاسکی ہے۔ لاڑکانہ  کے ایک نجی ہسپتال میں غلط انجیکش لگانے سے میرزادی  نامی ایک خاتون  فوت ہونے کی خبریں شیاع ہوئی ہیں۔ سکھر سول ہسپتال میں  ڈاکٹرز کی کوتاہی کے باعث تھلیسمیا کی ایک بچی سویرا لولائی کو غلط خون لگایا گیا۔ معاملے کی تحقیقات کے لئے کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔  ہیلتھ کیئر کمیشن کی کارکردگی نے نشوا کو غلط انجیکشن لگانے پر ہسپتال پر صرف پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔ 

عصمت جونیجو کیس میں اپوزیشن نے سندھ اسمبلی میں مذمتی قرارداد پیش کی، اور پوچھا ہے کہ وزیر صحت کہاں لاپتہ ہیں۔ 
روزنامہ کاوش ا داریے میں لکھتا ہے کہ سندھ میں جنسی زیادتی کے بعد لڑکیوں کو قتل کرنے کا ایک اور  واقعہ رپورٹ ہوا ہے۔ میڈیا میں یہ آنے کے بعد یہ واقعہ ہائی پروفائل ہوگیا۔ اس مرتبہ یہ واقعہ کسی دیہی یا چھوٹے شہر  میں نہیں بلکہ صوبے کے دارلحکومت کراچی کے کورنگی کے علاقے میں رونما ہوا۔ایک سرکاری ہسپتال میں عصمت  جونیجو نامی ایک لڑکی کو ڈاکٹروں نے جنسی زیادتی کرنے کے بعد قتل کردیا۔جنسی زیادتی اور قتل کے بعد اس واقعہ میں ڈاکٹر ایاز عباسی کو  بڑا ملزم قرار دیا گیا ہے جبکہ واقعہ میں تین اور ملزمان بھی شامل ہیں۔ جنہیں  ریمانڈ پر جیل بھیج دی گیا ہے۔ مقتولہ کے ورثاء کا کہنا ہے کہ عصمت علاج کے لئے ہسپتال گئی تھی، جہاں اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد زہر کا انجیکشن لگا کر قتل کردیا گیا۔ ورثاء کے اعتراض کے بعد یہ تفتیش اب ملیر منتقل کردی گئی ہے۔ چیف سیکریٹری نے واقعہ کے بڑے ملزمکو سرکاری نوکری سے معطل کر دیا ہے تاہم باقی تین ملزمان  کی معطلی کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ 
جنسی زیادتیوں اور لڑکیوں کو قتل کرنے کے واقعات دن بدن بڑھتے جارہے ہیں۔ بعض واقعات منظر عام پر آنے کی وجہ سے ہائی پروفائل ہو جاتے ہیں۔ جبکہ باقی واقعات اثر رسوخ اور دباؤ کے باعث دب جاتے ہیں۔  اکثر سرکاری محکموں میں لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی  کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ بڑھتے ہوئے ان واقعات کی وجہ سے شہری عورت  بھی اپنے ورک پلیس پر خود کو محفوظ نہیں سمجھتی۔ جنسی ہراسگی، اور زیادتی  خواہ لڑکیوں کے قتل کے واقعات کے  بارے میں  انسانی حقوق کی تنظیمیں  تحقیقی رپورٹس شایع کرتی رہی ہیں اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے حکومت سندھ کو موثر قانون سازی  اور مشترکہ مکینزم بنانے کی سفارشات کرتی رہی ہیں۔ اس نوعیت کے بعض واقعات سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کی وجہ سے ہائی پروفائل ہو جانے کے بعد کچھ عرصے تک حکومت حرکت میں آتی ہے، بعد میں ان کیسز کا فالو اپ نہیں کیاجاتا۔ خیرپور ضلع میں منشا وسان کا واقعہ سندھ میں سخت عوامی ردعمل کا باعث بنا۔ لیکن بعد میں اس واقعہ پر جرگہ کرایا گیا۔ اس جرگے کی سہولتکاری کا الزام ضلع پولیس پر عائد کیا گیا۔ اس کے علاوہ تانیا خاصخیلی،  صائمہ جروار سے لیکر نائلہ رند تک  خود کشی کے واقعات میں کوئی  انتظامی وقانونی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ اس تناظر میں عصمت جونیجو کیس  کے حوالے سے ضرور یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب کیس ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور لوگ اس بات کو بھول جائیں گے، کیا تب عصمت سے انصاف ہو سکے گا؟ حکومت اس کیس کو اتنی سنجیدگی کے ساتھ آگے لے کر جائے گی؟  سوال محکمہ صحت کی ساتھ ساتھناکامی کا بھی اٹھتا ہے۔ سندھ کے سرکاری ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسگی کے واقعات زیادہ رپورٹ ہو رہے ہیں۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان سرکاری اداروں میں  عورت کی محفوظ موجودگی کے لئے موثر اقدامات نہیں کئے گئے ہیں۔ یہ معاشرہ بہت ہی بھیانک تصوی ر دکھائے گا جب ہپستال کا کام جب علاج کے بجائے  خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل بن جائے۔

عصمت جونیجو کا واقعہ اس لئے بھی غیر معمولی واقعہ ہے  اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں تشدد پسند رویوں میں تبدیلی لانے کے لئے کتنے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ عورتوں کو محفوظ سماج مہیا نہ کرنا حموتوں کی ناکامی ہے۔ عورت ملازمت کے دوران خود کو محفوظ نہیں سمجھتی، اور ملازمت چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہے، ایسے بھی واقعات ہیں جہاں ملازمت چھوڑنے کے بعد بھی ہراسگی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

 روزنامہ سندھ ایکسپریس لکھتا ہے کہ ہسپتال کا تصور آتے ہی ایسا لگتا ہے کہ
وہاں کوئی مریض پہنچے گا، تو صحتمند ہو کر نکلے گا۔ لیکن ہمارے ہاں ہسپتالیں مریضوں کے ساتھ جس طرح کا رویہ رکھتی ہیں اس سے لگتا ہے یہ ہسپتال مریضوں کی تکلیف دور کرنے کے بجائے ان کی تکالیف میں اضافے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ کراچی کے ایک نجی ہسپتال مین 9 سالہ نشوا غلط انجیکشن لگنے سے فوت ہو گئی۔ نشوا کو غلط انجیکشن لگتا کوتاہی ہو سکتی ہے لیکن عصمت جونیجو کو جنسی زیادتی کا نشاہ بنانے کے بعد زہر کا انجیکشن لگا کر ہلاک کر دینا سنگین جرم کے دائرے میں آئے گا۔ کئی میڈیکل سینٹرز ہیں جہاں چیک اینڈ بیلینس کا کوئی نظام نہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں کہ علاج کے لئے آنے والوں کے ساتھ جنسی زیادتی یا غلط انجیکشن کے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟  اکثرمیڈیکل سینٹرز میں غیر تربیت یافتہ عملہ ہوتا ہے۔ سرکاری ہپستال ہوں یا نجی دونوں  جگہ یکساں صورتحال ہے۔ نجی ہسپاتلوں میں مریضوں اور ان کے ورثاء کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جاتا ہے، لیکن علاج کی مناسب سہولیات موجود نہیں۔


https://www.naibaat.pk/26-Apr-2019/22824

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/69436/Sohail-Sangi/Sindh-Hasaptalon-Mein-Amwat-Larki-Se-Ziadti-Aur-Amwat.aspx



---------------------------
 23 نومبر 2018
حکمہ صحت سندھ کے بیشتر پروگرام غیرفعال ہیں تاہم تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی گئی۔

صوبائی محکمہ صحت کے ماتحت چلنے والے صحت کے بیشتر منصوبوں کی کارکردگی پرسوالات اٹھادیے گئے۔ متاثرہ مریضوں کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ غریب مریضوں کے نام پر بجٹ میں صحت کے ان منصوبوں میں سالانہ اربوں روپے مختص کرنے کا اعلان کرتی ہے لیکن ان منصوبوں میں مریضوںکودوا تک نہیں ملتی، صوبے میں صحت کے12 سے زائدمختلف منصوبے جاری ہیں جس کے لیے حکو مت سندھ نے اربوں روپے سالانہ مختص کرتی ہے لیکن ان میں بیشتر منصوبے صرف کاغذات پر رکھے گئے ہیں۔ ان میں متعدد منصوبوں کے لیے بجٹ کتاب میں رقم بھی مختص کی جاتی ہے۔
ایک منصوبہ577 ملین کی لاگت سے500 بستروں پر مشتمل نیپا اسپتال قائم کرنا تھا جس کیلیے آلات کی خریداری بھی کی گئی لیکن بعدازاں عوام کے اس منصوبے کوصوبائی کابینہ سے منظوری لے کرجناح اسپتال سے رٹائر ہونے والے ایک آرتھوپیڈک ڈاکٹر کے حوالے کرنے کا عملی پروگرام بنالیا گیا اوراسپتال کا نام بھی تبدیل کرکے سرکاری اسپتال کو خودمختار بناکر سیاسی بنیادوں پر ایک ڈاکٹرکے نام کرنے کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں صرف اس بات کا انتظار کیا جارہا ہے کہ رٹائرہونے والے ڈاکٹرکے2سال مکمل ہوتے ہی اسپتال ڈاکٹرکے حوالے کردیا جائے۔
اسی طرح صوبے میں انسداد نابیناکنٹرول پروگرام، انسدادغذائی قلت، انسداد ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام، سندھ ایڈزکنٹرول پروگرام، انسداد ٹی بی کنٹرول پروگرام، لیڈیزہیلتھ ورکرز پروگرام، ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کی صحت کا پروگرام سمیت دیگرمنصوبے شامل ہیں جوعملاً غیرفعال ہیں، ان اہم منصوبوںپرمنظورنظرافسران کوانتظامی سربراہان مقررکررکھاہے جس کی وجہ سے صحت کے جاری منصوبوںکی کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی ہے۔
-------------------------------------------------------------------------
سابق صدر آصف علی زرداری اور پی پی چیئرمین بلاول زرداری کا آبائی شہر صحت کے حوالے سے صورتحال انتہائی دگرگوں ہوگئی، اربوں روپے سے بنائے گئے، صحت کے منصوبے شہریوں کی زندگیوں پر سوالیہ نشان بن گئے، کروڑوں روپے کی جدید مشینری ناکارہ ہونے لگی۔ سندھ کے پانچ شہروں کو علاج معالجے کی سہولت دینے والے اسپتال کے شہری خود مدد کے طلب گار ہیں۔ گزشتہ دونوں خسرے سے ہونے والی معصوم بچوں کی ہلاکتوں نے محکمہ صحت کی کرپشن کی داستانوں کو کھول دیا ہے، سابق صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کے آبائی شہر میں محکمہ صحت کے افسران عوام کی زندگیوں سے کھیلنے میں مصروف ہیں اربوں روپے کی لاگت سے بنائے گئے صحت کے منصوبے کئی سال سے التو کا شکار ہیں اور حکومتی کارکردگی کا منہ چڑا رہے ہیں۔ قاضی احمد روڈ پر واقع ماں اور بچے کی صحت سے متعلق زیر تعمیر چلڈرن اسپتال جسے 2016ء میں مکمل ہونا تھا ابھی نامکمل ہے، جس کی وجہ سے ضلع اور دیگر اضلاع سے آنے والے مریضوں کو بے انتہا پریشانی کا سامنا ہے جبکہ اسپتال کے تعمیراتی کام میں بھی انتہائی ناقص میٹریل استعمال کیا گیاہے جبکہ کروڑوں روپے کی لاگت سے بننے والے کڈنی سینٹر بھی جسے 2014ء میں مکمل ہوکر کام شروع کرنا تھا تاحال تکمیل کے مراحل سے گزر رہا ہے، گردوں کی بیماریوں کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر ادیب رضوی نے اپنے دورہ نواب شاہ کے دوران اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ گردوں کی بڑھتی ہوئی بیماریوں کے باعث گردوں کے اسپتال کا قیام نہ صرف ضروری ہے بلکہ وقت کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گردوں کے مریضوں کو ڈائیلاسزکی شدید ضرورت ہوتی ہے جبکہ ضلع کے سب سے بڑے اسپتال پیپلز میڈیکل اسپتال میں مشینیں تو موجود ہیں مگر فعال نہیں ہے۔ اس کے علاوہ لیزر کے ذریعے گردوں میں پتھر توڑنے کی مشین موجود ہے مگر وہ بھی فعال نہ ہونے کی وجہ سے مریض استفادے سے محروم ہیں جبکہ ڈسڑکٹ ہیلتھ آفس کے قریب بنایا جانے والے خون کے زرات کوالگ الگ کرنے کے کام کا منصوبہ بھی طویل عرصے سے فعال نہیں ہوسکا جبکہ سانپ کے کاٹے کی ویکسین تیار کرنے کا منصوبہ سکرنڈ مکمل کردیا گیا ہے۔ اس ہی سلسلے میں ادویات کو محفوظ رکھنے کے لیے ائرکنڈیشن گودام کی تعمیر کا منصوبہ جوکہ ضلعی گورنمنٹ کے دور میں شروع کیا گیا تھا، طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی مکمل نہیں ہوسکا ہے اور اس سلسلے میں عذر یہ تراشا جارہا ہے کہ یہ منصوبہ سندھ حکومت کا نہیں بلکہ ضلعی حکومت کا تھا اور منصوبے جوں کے توں پڑے ہیں۔ ایک ہزار سے زائد بستروں پر مشتمل پیپلز میڈیکل یونیورسٹی اسپتال اندرون سندھ کا سب سے بڑا اسپتال ہے جو سندھ کے پانچ اضلاع دادو، نوشہرو فیروز، سانگھڑ، خیرپور سمیت دیگر شہریوں کے مریضوں کو علاج معالجے کی جدید سہولت فراہم کرتا ہے۔ تاہم ناقص حکمت عملی اور بیڈگورننس کی وجہ سے مریض صحت یاب ہونے کی بجائے موت کے منہ میں جارہے ہیں جو حکومتی گڈگورننس کی بدترین مثال ہے۔ سرکاری ڈاکٹر اسپتال کے بجائے اپنے پرائیویٹ کلینکوں میں مصروف ہوتے ہیں۔ شہریوں نے سابق صدر آصف علی زردرای سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر صحت کے التو منصوبوں کو مکمل کیا جائے تاکہ عوام بروقت ان منصوبوں مستفید ہوسکیں۔

توپوں کا رخ پیپلزپارٹی کی طرف کیوں؟


توپوں کا رخ پیپلزپارٹی کی طرف کیوں؟

میرے دل میرے مسافر    سہیل سانگی 

وانا میں جلسے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کو  ”صاحبہ“ کہنے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہیاس سے قبل بلاول نے وزیراعظم اور دیگر لوگوں کو جاہل، گھوسٹ ملازم اور بھگوڑا کہا تھا۔ سعید غنی کا تازہ بیان یہ ہے کہ فردوس عاشق اعوان ہڑپہ سے ملنے والی ممی ہیں۔ وزیراعظم  کے بیان کے  جواب میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پرائم منسٹر سلیکٹ بڑے عہدے پر چھوٹا آدمی ہے جبکہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے عمران کے الفاظ کوشرمناک اور قابل مذمت قرار دیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی ترجمان سمریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیر اعظم عمران جیسا چھوٹے ذہن کا

 سیاسی مخالف نہیں دیکھا جبکہ مریم نواز نے بھی اظہار ناپسندیدگی کیا ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ کوئی ناشائستہ لفظ بولا جاتا تھا تو اسے غیر پارلیمانی اورغیر سیاسی قرار دیا جاتا تھا۔ کیونکہ سیاست سچ کہنے کا فن ہے۔ اس میں آپ کے الفاظ تخاطب اور انداز بیان ایسا ہوتا ہے کہ بات کہہ  دی جائے لیکن وہ سب اخلاق کے دائرے میں ہو۔ اب سیاستدان ایک دوسرے کی تذلیل کریں۔ایک ایسا وقت جب کسی سنجیدہ گفتگو یا تعمیری بحث کے بجائے پارلیمنٹ ویسے ہی الزام تراشی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ملک کے اہم سیاستدانوں  کے لئے کرپٹ ہونے کا بیانیہ  پختہ ہوچکا ہے۔ ایسے میں یہ  لب و لہجہ کیا معنی رکھتاہے؟  ہم کس کلچر کو فروغ دے رہے ہیں؟ وزیراعظم بڑا عہدہ ہوتا ہے، اگر کوئی ان پر ذاتی حملے کرتا ہے تو انہیں 
نظرانداز کردینا چاہئے۔

جب سے پیپلزپارٹی کی قیادت نے موجودہ حکومت کے خلاف سیاسی جنگ کا
 اعلان کیا ہے حکومتی توپوں کا رخ پیپلزپارٹی اور خاص طور پر بلاول بھٹو کی طرف ہے۔ پی ٹی آئی اور پی پی پی کے درمیان سیاسی کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔قومی اسمبلی میں  روز ہنگامہ رہتا ہے،  اپوزیشن جماعتوں نے وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی کو قومی اسمبلی میں تقریر نہ کرنے دی۔پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف میں لفظی جنگ جاری ہے۔ اگرچہ اسمبلی کے اندر نواز لیگ براہ رست اس جنگ کا حصہ نہیں لیکن اسمبلی سے باہر بیان بازی میں پیپلزپارٹی کا ساتھ دے رہی ہے۔
 صرف بیان بازی  ہی نہیں، اگر پیپلزپارٹی وفاقی حکومت کے لئے مشکلات پیدا کرہی ہے تو تحریک انصاف  اس کا حساب سندھ اسمبلی میں چکانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ تحریک انصاف اس مقصد کے لئے سندھ کے دیہی علاقوں میں اپنی پارٹی یا اتحادیوں سے مدد لینے کے بجائے  یہاں پیپلزپارٹی کے خلاف ایم کیو ایم کو کھڑا کیا گیا ہے۔لہٰذا  زراعت، آبپاشی،  وغیرہ  جیسے دیہی علاقوں کے مسائل کے بجائے شہری علاقوں کے مسائل ترجیح بنتے جارہے ہیں۔  اس غبارے میں دوبارہ ہوا بھرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔تاکہ ایوان سے باہرکی سیاست  میں پیپلزپارٹی پر دباؤ ڈالا جاسکے۔ 
پی پی پی اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان بھی لفظوں کی گولہ باری شروع ہوچکی ہے۔ ایم کیو ایم دو طرح سے دباؤ ڈال رہی ہے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں نے  ایک بارپھر وفاق کو سندھ میں مداخلت کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ یہ بھی شکوہ ہے کہ میئر کراچی کو اختیارات نہیں دیئے گئے اور نہ ہی فنڈز جاری کئے جارہے ہیں۔ایم کیو ایم نے ایک بار پھر نوکریوں کا معاملہ اٹھایا ہے۔ایم کیو ایم وزیراعظم عمران خان سے آرٹیکل 149 کے تحت صوبوں میں ہونے والی ناانصافی پر مداخلت اور نیب سے سندھ میں گزشتہ برسوں کے دوران سرکاری نوکریوں کے حوالے سے ہونے والی کرپشن کی تحقیقات کا مطالبہ کررہی ہے۔جس پر پی پی پی کی طرف سے اسمبلی  کے اندر خواہ باہرشدید ردعمل آیا۔
صوبائی اسمبلی کے اندر پی ٹی آئی موجود ہے۔ ہنگامہ آرائی  صرف قومی اسمبلی تک ہی محدود نہیں۔پی ٹی آئی اور پی پی پی کے درمیان سیاسی کشیدگی سندھ اسمبلی کے رواں اجلاس میں بھی نظرآئی۔ایوان میں اربوں روپے کی رشوت اور چوبیس گھنٹے شراب نوشی کا بھی تذکرہ بھی نکلا۔ اپوزیشن اور حکومت میں جھڑپ بھی ہوئی اسپیکر کی جانب سے اپوزیشن کو غیرملکی شہدپلانے کی دعوت بھی دی گئی۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن اور حکومت کے درمیان نعرے بازی  ہوئی، واک آؤٹ کی نوبت آتی رہی۔ بات تقریبا ہاتھاپائی تک پہنچ گئی۔  پیپلزپارٹی کی خاتون رکن کلثوم چانڈیو نے مائیک اٹھا کر اپوزیشن رکن پر مارا۔ سرکاری بینچز اب بات کو مزید بڑھانا نہیں چاہا، وہ اپوزیشن سے قائمہ کمیٹیوں کے حوالے سے بات چیت پر راضی ہوگئی۔اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ کمیٹیوں میں مساوی نمائندگی  دی جائے۔ ظاہر ہے کہ پیپلزپارٹی اپوزیشن  اتنے بڑے مطالبے نہیں مانے گی۔
  اپوزیشن اور سندھ حکومت  ایک دوسرے سے مثالی تعلقات رکھنا نہیں چاہتی۔ دونوں ایک بات پر متفق ہیں کہ عوامی مسائل ایوان میں نہ آئیں۔ گورنرسندھ عمران اسماعیل  نے ایک اور اہم معاملے کی طرف توجہ دلائی ہے کہ سندھ حکومت اور وفاق کے درمیان کوئی ورکنگ ریلیشن شپ نہیں پی پی پی حکومت کے ساتھ نہیں چلناچاہتی۔ گورنر  کے اس بیان نے وزیراعلیٰ  اور سندھ حکومت کے اس دعوے کی تائید کردی ہے کہ وفاق سندھ کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کر رہا۔ 
 قومی اسمبلی ہو یا صوبائی  اسمبلی،  اپوزیشن بجلی اور گیس کے ٹیرف میں اضافہ، امختلف مصنوعات کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ،  اشیائے خوردنی اور عام استعمال کی قیمتوں میں اضافے،بے روزگاری، صوبے کے مختلف علاقوں میں پینے کے پانی کی قلت،  تعلیم اور صحت کے نظام کی بہتری  کے معاملات پو کوئی ٹھوس بات نہیں کر رہی۔ اس کے بجائے   منتخب ایوانوں میں حکومت اور اپوزیشن  ایک دوسرے پرمحض الزامات درالزامات  لگائے جارہے ہیں۔ مطلب منتخب ایوان آج کی صورتحال  سے غیر متعلق ہو کر کھڑے ہیں۔ کے تحت حکومت پر تنقید کررہے ہیں۔سیاسی جماعتوں کی جانب سے عوامی ایشوز نہ اٹھانے کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ اگر عوامی ایشوز اٹھائے گئے اور لوگ سڑکوں پر آگئے تو انہیں واپس کون بھیجے گا؟  مہنگائی اور معاشی نظام کی خرابی کے معاملات مقبول بیانیہ بن گئے تو معاشی اصلاحات  ناگزیر ہو جائیں گے۔ لہٰذا پورے کا پورا  ایجنڈا ہی تبدیل ہو جائے گا۔
سندھ میں پیپلزپارٹی حکومت میں ہے۔ وہ  وفاق کے ساتھ  تنازع میں تو جاسکتی ہے لیکن عوامی مسائل پر سڑکوں کی طرف نہیں جائے گی، کیونکہ وہ بھی اس معاملے میں فریق ہے۔ عوامی ایشوز پر احتجاج شہروں میں ہی ہونا ہے۔  ایم کیوایم وفاق میں مخلوط حکومت کا حصہ ہے۔  اور بڑی مشکل سے اس نے وفاقی حکومت سے تعلقات استوار کئے ہیں، ان تعلقات کو کسی طور رپر بھی بگاڑنا نہیں چاہے گی۔ 
سیاسی جماعتوں کی تمام ترتوجہ مسائل  کے حل کے بجائے حکومت گرانے اور  ذاتی قسم کے الزام لگا کر  اخباری سرخیوں میں آنا یا ٹاک شو  کا موضوع بننے پر ہے اس سے عوام کو کتنے رکعت کا ثواب ہوگا؟۔ 

Tuesday, April 23, 2019

بدیلی کا نعرہ ’’ اسٹیٹس کو‘‘ پر آگیا


بدیلی کا نعرہ ’’ اسٹیٹس کو‘‘ پر آگیا
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 

ہمارے دوست اور پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما سینیٹر مولا بخش چانڈیو بادشاہ آدمی ہیں۔بہت سے لوگوں کوان کی باتیں اور بیانات عام سی لگتی ہیں۔ لیکن ان کی باتوں میں گہرائی ہوتی ہے۔حیدرآباد کی مشہور شخصیت میر رسول بخش تالپور کے دست راست لال بن یوسف جنہوں نے ایوب خان کے مقابلے میں محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کی تھی۔ حیدرؓاد میں ’’بھاؤ مولابخش‘‘ یعنی مولابخش بھائی کے طور پر پہچانے جانے والے پرانے سیاسی کارکن ہیں۔انہوں نے سیاسی تربیت اس دور میں حاصل کی جب دنیا میں نظریات کی سیاست تھی، سندھ میں ادب، سیاست اور کلچر ایک ہی پیج پر تھے۔ رہی سہی کسر ان کے آبائی علاقے ٹنڈو ولی محمد نے نکال لی۔ جو لوگ حیدرآباد کو جانتے ہیں انہیں پتہ ہے کہ ٹنڈو ولی محمد کی کیا خصوصیات ہیں۔ لہٰذا ان کی تربیت میں عوامی دانش کا تڑکا بھی لگ گیا۔ انہوں نے بظاہر بڑی سادگی سے زیراعظم بھی پیپلز پارٹی کا لانے کا مطالبہ کردیا۔ وہ کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت نے پیپلز پارٹی کے 6وزراء لیے ہیں، وزیر اعظم بھی ہمارا لے لیں،وزیراعظم کی کشتی میں سوراخ ہوچکا ہے، آہستہ آہستہ پوری حکومت کا حلیہ ہی تبدیل ہوجائے گا، مسائل کے حل کے لیے صرف وزیرخزانہ نہیں وزیراعظم بھی پیپلز پارٹی کا لانا ہوگا۔بہت سے لوگوں کو یہ بات عجیب اور ہلکی لگی ہوگی۔یہ پیپلزپارٹی کی قیادت کی کاریگری ہے، وہ جانتی ہے کہ کون سی بات کس وقت اور کس کے منہ سے کہلوائی جائے۔ 
اصل معاملہ معیشت کو سنبھالا دینے کا تھا۔ کپتان کو لانے والوں کا خیال تھا کہ جیسے ہی وہ اقتدار کی پچ پر کھڑے ہونگے تو چھکے ہی چھکے ہونگے اور ڈالروں کی بارش ہونے لگے گی۔ نو ماہ تک ڈھول بجتے رہے کہ بس ابھی شادمانی ہونیوالی ہے، لیکن عین وقت پر ماہرین نے رپورٹ دی کہ پورے نو ماہ تک آسرے میں ہی رکھا گیا۔ کوئی خوشخبری نہیں۔ بلکہ بدخبری ہے۔مزید بدخبریاں آئی ایم ایف سے معاہدے اور بجٹ کے اعلان کے ساتھ سامنے آجائیں گی۔لہٰٰذا سیاسی کھیل کو بدلنے کی سوچ پختہ ہوگئی۔ شریف خاندان کورلیف دینے اور پیپلزپارٹی کی قیادت کے خلاف کریک ڈاؤن نہ کرنے کے پیچھے یہی سوچ کارفرما بتائی جاتی ہے۔ جس پر تحریک انصاف والے ڈیل اور ڈھیل کی کہہ کراپنی حکومت اور سیاسی دفاع کے لئے شور مچاتے رہے۔ متبادل کے لئے ہوم ورک کیا گیا۔ پہلی نظر ملک کی دو بڑی پارٹیوں نواز لیگ اور پیپلزپارٹی پر جانا فطری امر تھا۔ہر دو جماعتوں کے پاس دو آپشن تھے۔ نواز لیگ میں تین رجحانات موجود ہیں۔ پانچ نشستوں پر کھڑی حکومت کو ان ہاؤس تبدیلی کے ذریعے تبدیل کردیا جائے، اور شہباز شریف کو وزیر اعظم بنادیا جائے۔ پیپلزپارٹی حکومت سازی میں نواز لیگ کی مدد کرے۔ بھاؤ مولابخش چانڈیو کا بیان اس حوالے سے ہے کہ وزیراعظم پیپلزپارٹی کا بنایا جائے۔
دوسرا رجحان یہ تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت کواپنے وزن کے نیچے خود ہی دب کر گر جانے دیا جائے۔ اور معاملہ نئے انتخابات کی طرف جائے۔اس رجحان کے پیچھے یہ سوچ کرفرما ہے کہ مقتدرہ حلقے امور خارجہ ، دفاع اور مجموعی حکمت عملی کے بارے میں اپنی سوچ تبدیل کریں، اس کے بغیر معاشی حالات درست نہیں ہوسکتے۔ اس رجحان کے حامی سابق وزیراعظم میاں نواز شریف بتائے جاتے ہیں۔ قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب بلاول بھٹو ان سے ملنے آئے تھے، تو انہوں نے یہ بات پیپلزپارٹی کے چیئرمین کو گوش گزار کردی تھی۔ پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ انتخابات کے نتائج تو پہلے سے طے ہوتے ہیں۔ اور یہ طے ہونے سے پہلے انتخابات میں نہیں جایا جاسکتا۔ نواز شریف سمجھتے ہیں کہ موجودہ صورتحال اور حالیہ ایجنڈے کے ساتھ کوئی بھی حکومت میں آئے، کوئی اسپیس ہی نہیں،ماسوائے کاسمیٹس تبدیلیوں کے کچھ نہیں کرسکتا۔ ایک حد تک پیپلزپارٹی بھی یہ سمجھتی ہے، لیکن اس کی قیادت پرمقدمات کے بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے بعض معاملات میں جلدی ہے۔اس لئے یہ نقطہ دونوں بڑی جماعتوں کو ایک پیج پر لانے کی راہ میں رکاوٹ بھی ہے۔ 
پنجاب میں عوامی سطح پر حکومت سے دوری حکومت کے لئے بڑا چیلینج بنی ہوئی ہے۔ لہٰذا تیسرا آپشن چوہدری نثار علی خان کے ذریعے سیاسی معاملات کو ٹھیک کرنے کا ہے۔ لیکن چوہدری صاحب اگر کر بھی پائیں گے تو زیادہ سے زیادہ سیاسی معاملات ہی ٹھیک کریں گے۔ معاملہ معیشت کا ہے۔ چوہدری صاحب کی دوسری خصوصیت ریٹائرڈ فوجی افسر سید اعجاز علی شاہ کو وزیر داخلہ بنا کر پوری کردی گئی ہے۔ 
ملک میں سیاسی پولرائزیشن نئی شکل لے رہا ہے۔مہنگائی اور معاشی بدنظمی نے عام آدمی کو بری طرح سے متاثر کیا ہے۔ معاشی دباؤ اور حکومت کی کارکردگی چیلنج ہونے کی سوچ باعث وفاقی کابینہ میں حالیہ تبدیلیوں کا موجب بنی۔ کابینہ میں حالیہ تبدیلیوں کے باوجود بہتری کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ جیسے کہ تاثر دیا جارہا ہے پہلے والی ٹیم میں بے اثر لوگ تھے۔ اب نئی ٹیم میں ’’ اسٹیٹس کو‘‘ کی علامت بنے ہوئے لوگ آگئے ہیں۔ دوسریا ہم بات کاینہ میں غیر منتخب لوگوں کا بے پناہ اضافہ ہے جو پارلیمنٹ اور عوامی مینڈیت کی حیثیت کم کر دیتا ہے۔ ملک کی دو بڑی پارٹیوں کو کرپٹ قرار دینے والے بیانیے سے بھی سیای خلاء بنا ہوا ہے۔ اس سے نہ ملک میں معاشی ترقی اور معیشت کی بحالی ہوگی اور نہ سیاسی نظام میں نمو ہوگی۔مانگے تانگے پر نہ معاشی ترقی تو دور کی بات معاشی استحکام بھی حاصل نہیں کیا جاسکتا۔یہ ایک عارضی رلیف ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ معاشی طور کمزور ملک مضبوط خارجہ پالیسی بھی نہیں بنا سکتے ۔خطے میں تیزی سے تبدیلیاں رونماہو ورہی ہے، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ غیر منتخب افراد کی پالیسی سازی اور فیصلہ سازی میں اضافے اور پارلمنٹ کی حیثیت کم ہونے سے سیاسی خلاء اور بڑھے گا۔۔ تبدیلی کا نعرہ اب’’ اسٹیٹس کو‘‘ پر آکر کھڑا ہوگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض سیاستدان ملک میں صدارتی نظام یا غیر سیاسی قوتوں کے نظام کا خطرہ محسوس کر رہے ہیں اور کہہ رہے کہ آہستہ آہستہ یہ عمل ملک کے جسم میں سرایت کرتا جارہا ہے۔

https://www.naibaat.pk/22-Apr-2019/22714

Saturday, April 20, 2019

سندھ میں اپوزیشن: نہ حکمت عملی نہ منصوبہ بندی

سندھ نامہ سہیل سانگی 
سندھ اسمبلی میں حکومت اوراپوزیشن سیاسی بحث مباحثوں کے ذریعے ایک دوسرے سے اسکور سیٹل کرنے میں مصروف ہیں۔ اپوزیشن پی ٹی آئی، ایم کیو ایم اور جی ڈی اے پر مشتمل ہے۔ صوبے کے لوگوں کو جو حقیقی مسائل درپیش ہیں ان پر اپوزیشن نہ مضبوط موقف لے رہی اور نہ کوئی حکمت عملی بنائے ہوئے۔ دونوں فریقین سیاسی مباحثے میں مصرور رہ کر وقت پورا کر رہے ہیں۔ لاڑ کے علاقے میں پانی کی شدید قلت کا معاملہ ہو ، یا گنے کی قیمتوں اور گندم کی خریداری ، ان میں سے کسی ایک پر بھی اپوزیشن کے پاس نہ جامع حکمت عملی ہے اور نہ منصوبہ بندی۔ یہ صورتحال پیپلزپارٹی کے فائدے میں ہے۔ 
سندھ حکومت اس دوران بعض منصوبوں کا افتتاح کر کے اپنا مثبت امیج بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ یہ وہ میدان ہے جہاں اپوزیشن کے پاس کچھ بھی نہیں۔لوگ مسائل کا شکار ضرور ہیں، لیکن وہ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ جو کچھ کرنا ہے وہ پیپلزپارٹی کو ہی کرنا ہے۔ اپوزیشن کے پاس نہ ویزن ہے اور نہ ہی انہیں عام مسائل پر توجہ دینے کے لئے فرصت ہے۔



کراچی میں پولیس کیہ فائرنگ کے نیتجے میں ایک بچے کی ہلاکت کو تقریبا تمام اخبارات نے اپنے دادریوں میں موضوع بحث بنایا ہے۔ روزنامہ سندھ ایکسپریس لکھتا ہے کہ پولیس کا کام لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کرنا ہے۔ اور انہیں احصاس دلانا ہے کہ وہ بغیر کسی خوف و خطر اپنی زندگی گزار یں۔ لیکن ہمارے ہاں محکم،ہ پولیس لوگوں کے ساتھ وہ زیادتیاں کرتا ہے کہ جس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ محمہ بنایا ہی عوام کوپریشان کرنے کے لئے ہی بنایا گیا ہے۔کبھی کوئی ہاف فرائی کبھی فل فرائی ہو جاتا ہے۔کوئی شہری کسی واردات کی شکایت لے کر پو لیس کے پاس پہنچتا ہے تو اس کے ساتھ بدترین سلوک کیا جاتا ہے لہٰذا لوگ خود کو پولیس سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صورتحال میں لوگوں کا پولیس پر اعتماد اٹھ گیا ہے۔ 
کچھ عرصے سے پولیس مقابلوں میں معصوم بچوں کی ہلاکت کے واقعات پیش ؤرہے ہیں۔گزشتہ روز کی ایک رپورٹ کے مطابق کراچی کے علاقیصفوراں چورنگی کے پاس پولیس اہلکاروں کی فائرنگ کے نتیجے میں ڈٰڑھ سالہ بچہ ہلاک ہو گیا۔ بچہ اپنے الدین کے ساتھ رکشا میں بیٹھا ہوا تھا۔ موٹر سائیکل پر سوار پولیس اہلکاروں نے فائنگ کی جس میں بچہ ہلاک ہوگیا۔ والدین معجزانہ طور پر چب گئے۔ وزیراعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ پولیس نے معاملہ کا نوٹس لیا ہے۔ّ ئی نے معاملے کا نوٹس لیا ہے۔پولیس حکام کے مطابق فائرنگ کرنے والے اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ پولسی کا کہنا ہے کہ اہلکار ڈاکوٗو پر فائرنگ کر رہے تھے کہ یہ واقعہ پیش آیا۔ اس سے قبل بھی دو واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ ایک واقعہ میں دو سالہ بچی ہلاک ہو گئی۔ دوسرے واقعہ میں دس سالہ بچہ۔ پولیس اہلکاروں کو کسی بھی طور پر عوام اجتماعات کے مقام پر فائنرگ کرنے کا اختیار نہیں۔ جب تک گولی چلانا آخری
آپشن ہے۔  یہ پولیس اہلکاروں کی نااہلی اور اختیارات سے تجاوز کرنا ہے۔ واقعہ کے بعد چار پولیس اہلکاروں زیر حراست ہیں۔ اور مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ پہلے بھی اس طرح کی کارروائی ہوتی رہی ہے۔ جس کے بعد معافی تلافی ہو جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ بار بار اس طرح کے واقعات کیوں ہوتے ہیں۔ اس پر تحقیق ہونی چاہئے۔ پولیس کو کسی طور پر بھی یہ اجازت نہیں ہونی چاہئے کہ بازاروں اور گلیوں میں گولیاں برساتی پھرے۔ ان اہلکاروں کی جو غلطی ہو، انہیں جو سزا ملے وہ اپنی جگہ پر ، پالیسی اور ہدایات میں ک چکھ گرؓر ہے جس کی وجہ سے اس طرح کیواقعات رونما ہوتے ہیں۔ 

رونامہ ’ پنہنجی اخبار‘‘ اپنے ادایے میں لکھتا ہے کہ آئی جی صاحب معافی کوئی تلافی نہیں۔ اختیارات کو تجاوز کرنے اور پالیسی کے ساتھ ساتھ تربیت میں بھی بعض تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ 
روز نامہ کاوش لکھتا ہے زیرین سندھ کے ٹھٹہ بدین اور سجاول اضلاع کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہاں پر کثیر رخوں میں تباہی کا اہتمام کیا ہوا ہے۔ ضلع بدین گزشتہ دو سال سے زرعی پانی کی قلت کا شکار ہے۔ علی بندر کے مقام پر غیر قانونی بدن باندھ کر پانی روک دیا گیا ہے۔ دو سال سے مسلسل اس صورتحال کی وجہ سے ضلع کی معیشت تباہ ہے۔ ساحلی پٹی اور ڈیلٹا مکمل طور پ تباہ ہونے کے بعد لوگوں نے وہاں سے نقل مکانی شروع کردی ہے۔ کیونکہ کہ ان علاقوں میں زراعت کے لئے ہی نہیں بلکہ پینے کا پانی بھی دستیاب نہیں۔ دو سال سے بدین کے رہائشیوں اور کاشتکاروں کا احتجاج بھی جاری ہے۔دو روز قبل شادی لارج سے 18 کلو میٹر پیدل لانگ مارچ بھی احتجاج پروف حکمرانوں کی توجہ کاسبب نہیں بن سکا۔ دو لاکھ آبادی پینے کے پانی سے بھی محروم ہے۔ نہیں معلوم کہ حکومت کی اور کیا ترجیح ہے؟ 
 کا مختلف معاملات پر وفاق ے تنازع اپنی جگہ پر لیکن خود صوبے کے منتظمین کی عدم توجہگی اور عوامی مسائل سے لا تعلقی کی وجہ سے سندھ کے جسم میں صحرا سرایت کر رہا ہے۔ یہ درست ہے کہ سندھ کو اپنے حصہ کا پانی نہیں ملتا، لیکن جو پانی ملتا ہے اس کی بہتر ریگیولیشن نہ ہونے کی وجہ سے ، اور پانی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے بعد صوبے کا زرین علاقہ جو لاڑ کہلاتا ہے مکمل تباہی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ خوشی اور خوژھالی خواب سی بن گی ہے۔ دیہی علاقوں میں، خوشحالی اور خوشیوں کا کلچر پانی پر ہی منحصر ہے۔ تسلیم کہ تھر میں حالات خراب ہیں کہ بارشیں نہیں ہوئیں۔ لاڑ کے حصے کا پانی تو تسلیم شدہ ور منظور شدہ ہے وہ کہاں گیا؟ یہ وہ علاقے ہیں جہاں کبھی دریائے سندھ کی وجہ سے بندرگاہیں ہوتی تھی۔ اب تو یہاں پینے کا پانی بھی دستیاب نہیں۔ ایل بی اور ڈی غلط ڈیزائین کا نزلہ بھی اسی علاقے پر گرتا ہے۔

Sindh Govt V/s IG Police 


Friday, April 19, 2019

سندھ میں امن و امان کے لئے ذمہ دار کون؟

سندھ میں امن و امان کے لئے ذمہ دار کون؟

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی

سندھ میں جو تنازع آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کے دنوں میں شروع ہوا تھا، وہ نئے آئی جی پی کلیم امام کے ساتھ بھی جاری ہے۔کوئی نہیں سمجھ پاتا کہ سندھ میں خصوصا صوبائی دارلحکومت کراچی میں امن و امان کے لئے کون ذمہ دار ہے؟ امن و امان کون سنبھالتا ہے؟ سندھ حکومت، پولیس یا رینجرز؟ گزشتہ روز کراچی میں صفوراں چورنگی پر پولیس فائرنگ میں ایک معصوم بچی کی ہلاکت پر حکومت سندھ اور پولیس کے درمیان ایک دوسرے پرا لزام تراشی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

حکومت کے ساتھ رینجرز کا معاملہ رہا ہے، اب پولیس کے ساتھ بھی نہیں بن رہی۔
سندھ حکومت کہتی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بشمول پولیس اس کے اختیار میں نہیں۔ ایک طرف امن و امان صوبائی معاملہ قرار دیا جاتا ہے تو دوسری طرف صوبے کے اختیار میں ہی نہیں تو وہ کس طرح سے امن و امان قائم کریگی؟ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبائی مضمون ہے۔ کسی حد تک دونوں کے پاس یہی نکتہ ہے کہ پولیس میں سیاست مداخلت کے نام پر چیف ایگزیکٹو کے اختیارات کم کردئیے گئے ہیں۔ لیکن یہ بھی شکایات ہیں کہ صوبائی چیف اگزیکیوٹو نے پولیس کو بھی خصوصاً تبادلے کے معاملات پر سیاست میں ملوث کردیا ہے۔ سابق آئی جی پی اے ڈی خواجہ کے بعد موجودہ کلیم امام بھی انہیں ناقابل قبول ہیں۔ جس طرح سے سید مراد علی شاہ نے پولیس پر تنقید کی ہے
رواں سال فروری قانون کا مسودہ تیار کیا، جس میں ڈی آئی جیز اور ایڈیشنل آئی جی کو چیف سیکریٹری اور وزیراعلیٰ سندھ کے ماتحت رکھنے کی تجویز دی گئی۔ مسودہ تیار کرتے وقت آئی جی سندھ پولیس کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔جوابا آئی جی پولیس نے اپنی طرف سے قانونی مسودہ تجویز کیا ہے۔گزشتہ دنوں صوبائی وزیر امتیاز شیخ کی سربراہی میں قائم کردہ کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں پولیس قانون کا حکومت کا تجویز کردہ مسودہ غور کے لئے پیش ہوا تو آئی جی سندھ پولیس نے بھی کمیٹی کے سامنے اپنامسودہ پیش کیا ۔ آئی جی سندھ کے مسودے میں حیدرآباد اور سکھر کی ریجنل پولیس افسر کی اسامیاں دوبارہ بحال کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ مسودے میں تجویز کیا گیا ہے کہ ڈی آئی جی اور ایڈیشنل آئی جی کی سطح کے افسران سے متعلق اختیارات آئی جی کو دیئے جائیں۔ جبکہ حکومتی مسودے میں یہ اختیارات وزیراعلیٰ اور چیف سیکریٹری کو دیئے گئے ہیں۔پولیس نے حکومت سندھ کے اس موقف کی مخالفت کی گئی ہے کہ آئی جی اختیارات صرف ایس پی سطح کے افسران تک ہوں اور ڈی آئی جی اور یڈیشنلّ ئی کے سطح کے اختیارات چیف سیکریٹری یا وزیراعلیٰ کے پا س ہوں۔ حکومت کا یہ موقف ہے کہ پولیس صوبائی اختیار ہے لہٰذا پولیس قانون میں تبدیلی سندھ اسمبلی کے ذریعے ہی کی جائے گی اور حکومت کو اختیار ہے کہ وہ قانون کا مسودہ تیار کرے۔پولیس پر حکومت سندھ کی مکمل نگرانی ہو۔
1989 سے کراچی میں امن و امان کے لئے رینجرز موجود ہے۔ لیکن سندھ حکومت نے 2013 کے کراچی آپریشن کے بعد اس کے اختیارات میں کمی کی دو مرتبہ کوشش کی جب اس نے چند سرکاری دفاتر پر چھاپے مارے ۔ یہا لگ بات ہے کہ اس کے پیچھے ایف آئی اے اور نیب تھے۔ تب حکومت سندھ نے تین مرتبہ رینجرز کے اختیارات میں توسیع پر جھگڑا بھی کیا۔ لیکن بعد میں معاملہ ٹھنڈا پڑگیا۔ اس اثناء میں اے ڈی خواجہ کاتبادلہ کیا، لیکن اے ڈی خواجہ سول سوسائٹی کی مدد سے عدالت پہنچ گئے۔ یوں حکومت اے ڈی خواجہ کو بطور آئی جی نہ ہٹا سکی اور سندھ ہائی کورٹ میں کیس بھی ہار گئی ، صرف اتنا ہی نہیں عدالت نے رہنما اصول بھی دیئے اور پولیس افسران کے تبادلوں اور تعینات میں حکومت کو مداخلت سے روک دیا۔ جو تنازع اے ڈی خواجہ کے دنوں سے شروع ہوا تھا نئے آئی جی پی کلیم امام کے ساتھ بھی جاری ہے آج کے آئی جی کو بھی حکومت کی جانب سے سخت سوالات اور تنقید کا سامنا ہے۔ پولیس کی جانب سے منعقدہ کانفرنس میں وزیر اعلیٰ کے تنقیدی ریمارکس نے پولیس کے سینئر افسران کو بھی مایوس کیا۔اتنا ہی نہیں سندھ کے وزیر مرتضیٰ وہاب نے وزیراعلیٰ کے ریمارکس کا دفاع کیا اور کہا کہ کانفرنسیں بلانا پولیس کا کام نہیں۔ اور کہا کہ حکومت کے پاس پولیس کے احتساب اور سوالات پوچھنے کا ہر حق حاصل ہے۔ آئی جی پی سندھ کا کہنا تھا کہ چیف ایگزیکٹو کے پاس پولیس کے احتساب کا ہر حق حاصل ہے، کسی بھی کرپشن کی صورت میں آڈٹ کا حکم دیں یا وضاحت مانگ سکتے ہیں۔
عدالتی حکم کے تحت تبادلے اور تعیناتی کے اختیارات آئی جی پی کے پاس ہیں۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تنازع 2009۔10 کے بعد شروع ہوا جب سندھ کے سابق وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا تھے۔ سابق چیف جسٹس ریٹائرڈ جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ایک کیس میں سو موٹو لیا بعد میں 2011 میں کراچی بدامنی کیس پڑگیا۔ انتخابات 2013 کے فوری بعد سندھ حکومت نے فوری طور پر مشرف دور کے نافذ کردہ پولیس آرڈر 2002 کی جگہ پر پولیس ایکٹ 1861 بحال کردیا۔ 2013 میں کراچی آپریشن کے آغاز کی اصل اور بڑی وجہ کالعدم گروہوں کے جنگجوؤں اور سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگزکا خاتمہ کرنا تھا۔ بعد میں یہ آپریشن پھیلا دیا گیا۔ آرمی کی درخواست پر رینجرز کے اختیارات میں توسیع دے دی گئی۔ دیہی سندھ میں پولیس نے ڈکیتوں اور اغوا کرنے والوں کے خلاف بڑا آپریشن کیا، جس کے بعد صوبے کی شاہراہیں محفوظ ہو سکیں۔
جھگڑے کی بنیاد تقرر اور تبادلے ہیں۔ اب پولیس اور سندھ حکومت کے درمیان الزام بازی کا کھیل شروع ہو گیا ہے۔ ڈی آئی جی پولیس امیر شیخ بھی کہتے ہیں کہ بھرتیوں کا وہ معیار نہیں۔ سپریم کورٹ میں اے ڈی خواجہ نے بھی یہی بات کی تھی۔ قائم علی شاہ کی وزارت اعلیٰ کے دور میں سابق فوجیوں کی پولیس میں بھرتی اور نئے پولیس اہلکاروں کی فوج کے ہاتھوں ٹریننگ کے معاملات بھی سامنے آتے رہے۔ جب پولیس کو حکومت ہی اون نہیں کرتی تو پھر عوام کیسے اون own کریں گے؟
صوبائی حکومت کا یہ موقف صحیح بھی ہو لیکن معاملہ نیتوں کا ہے۔ تقرر سیاسی بنیادوں پر ہوتے ہیں۔ بلاشبہ پولیس میں اصلاحات کی ضرورت ہے، اس کی تربیت اور نئے خطوط پر استوا ر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کو جدید اسلح اور تیناکنالاجی سے لیس کرنے کی ضرورت ہے۔
جب جنگ سیاسی بن جائے تو بحران پیدا ہوتا ہے۔ ایک ادارہ دوسرے کے کندھے پر ذمہ داری ڈال دیتا ہے۔ بحران کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کو حل کون کرے گا؟ جھگڑا سیاسی اور اختیارات کا ہے عوام بیچ میں پستا رہا ہے۔ آخر امن و امان کسی کی ذمہ داری ہے؟


Sindh Police and govt controversy

https://www.darsaal.com/columns/sohail-sangi/sindh-mein-aman-o-aman-ke-liye-zimadar-kaun-12314.html

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/69209/Sohail-Sangi/Sindh-Mein-Aman-o-Aman-Ke-Liye-Zimadar-Kaun.aspx

70 فیصد ترقیاتی رقم کیوں خرچ نہیں ہوئی؟


70 فیصد ترقیاتی رقم کیوں خرچ نہیں ہوئی؟
سندھ نامہ سہیل سانگی 
روزنامہ کاوش لکھتا ہے کہ حکومت ترقیاتی بجٹ کا 70 فیصد حصہ استعمال کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس ترقیاتی بجٹ کے تحت 2250 منصوبوں میں سے صرف 500 منصوبے مکمل ہوسکے ہیں۔رواں مالی سال کے آٹھ ماہ میں 258 ارب روپے میں سے 20 ارب روپے جاری کئے گئے۔ باقی رقم جاری نہ ہونے یا استعمال نہ ہونے کی صورت میں مالی سال کے اختتام پر واپس خزانہ میں چلی جائے گی۔ ترقیاتی بجٹ کا استعمال توانائی، تعلیم، لوکل باڈیز، اور امداد باہمی کے شعبوں میں ہونا تھا۔ محکمہ تعلیم پر مختص بجٹ میں سے صرف 21 فیصد رقم خرچ کی جا سکی ہے۔ محکمہ توانائی پر مختص بجٹ میں سے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہو سکا۔ انسانی حقوق اور اقلیتوں کے لئے مختص بجٹ کا 10 فیصد خرچ کیا جا سکا ۔
ان محکموں پر نظر ڈالی جائے تو ان شعبوں میں بحران کا پتہ چلتا ہے۔ توانائی کا کا بحران سندھ سمیت پاکستان کے دوسرے صوبوں مین بھی حاوی رہا۔ موسم سرما میں گیس کی اور موسم گرما میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ رہی۔ ان دونوں کا تعلق محکمہ توانائی سے ہے۔ لیکن تاحال اس شعبے کے ترقیاتی بجٹ پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا گیا۔ 

سندھ میں تقریبا دس ہزار اسکول ایک کلاس روم پر مشتمل ہیں۔یعنی مناسب بلڈنگ کے بغیر ہیں۔صوبے میں 
ساٹھ لاکھ سے زائد بچے اسکول نہیں جاتے۔ 18 ہزار اسکولوں میں صرف ایک استادہے۔پچاس فیصد اسکولوں میں پینے کے پانی اور واش روم کی مناسب سہولیات موجود نہیں۔ جس محکمہ کی یہ صورتحال ہو وہاں 21 فیصد بجٹ استعمال ہو اور باقی تقریبا 80 فیصد بجٹ ضایع ہو جائے، اس کو عمل کو کیا نام دیا جائے۔
انسانی حقوق کے معاملے میں بھی صورتحال خاصی گمبھیر ہے۔ اقلیتی امور کے حوالے سے یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ اقلیت سے تعلق رکھنے والی نوجوان لڑکیوں کا اغوا اور شادی کے واقعات آئے دن میڈیا میں رپورٹ ہوتے رھتے ہیں۔صوبائی حکومت ان عوای اہمیت کے مسائل پر کتنی سنجیدگی سے غور کررہی ہے، یہ قابل دید ہے۔
اخبارات ایسی خبروں سے بھرے ہوئے ہیں کہ پینے کے پانی کا بحران شدت اختیار کررہا ہے کہیں ڈرینیج کا نظام درہم برہم ہے۔ شہریوں کو پبلک پارکس کی انتظامات کے بارے میں بھی شکایات ہیں۔جو کہ تباہی کا شکار ہین، جن کی مرمت کی ضرورت ہے، یہ وہ مسائل ہیں جن کا تعلق محکمہ بلدیات سے ہے۔ لیکن حکومت نیان تمام معاملات پر رقم خرچ کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ 
یہ عجیب صورتحال نہیں کہ عوام کا پیسہ پڑا ہوا ہے اور عوام مسائل کا شکار ہیں، لیکن پیسے خرچ نہیں کئے جاتے۔ یہ رقم آئندہ دو ماہ بعد واپس محکمہ خزانہ میں چلی جائے گی۔یعنی ضایع ہو جائے گی۔ آخر یہ رقم ضایع کیوں کی جارہی ہے؟ سندھ میں لوگ جس طرح کی زندگی گزار رہے ہیں وہ کسی طور پر بھی ایسی نہیں کہ لوگوں کو سہولیات پہنچانے کے لئے رقم خرچ کرنے کی ضرورت نہ ہو۔آج بھی جتنا ترقیاتی کام ادھورا ہے اور بعض منصوبے جن کی فوری ضرورت ہے، ان لئے ایسے دس بجٹ بھی کم ہونگے۔ صوبے کے عوامی نمائندوں کو چاہئے کہ وہ کوئی ایسا مکینزم بنائیں کہ ترقیاتی بجٹ پورے اور صحیح طور پر خرچ ہو سکے۔
بلاول بھٹو کی تھر یاترا
روزنامہ سندھ ایکسپریس ’’بلاول بھٹو کی تھر یاترا‘‘ کے عنوان سے لکھتا ہے کہ ملک کو ایک عرصے سے توانائی کے بحران کا سامنا ہے،اب ہم مالی بحران سے بھی گزر رہے ہیں۔ ایسے میں تھر کے دور دراز علاقے میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا دو بجلی گھروں کا افتتاح ہوا کے تازے جھونکے سے کم نہیں۔ اب یہ امید ہو چلی ہے کہ بجلی کی قلت دور رکنے کے لئے کچھ مزید بجلی دستیاب ہو گئی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے تھر میں این ای ڈی یونیورسٹی کھولنے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئلے پر اصل حق مقامی باشندوں کا ہے۔ ان کو فائدہ پہنچانے کے لئے مقامی لوگوں کو مفت بجلی فراہم کی جائے گی اوران کے بل حکومت سندھ ادا کرے گی۔ یہ سب اچھی باتیں ہیں۔ لوگوں کو خوشی تب ہوگی جب ان اعلانات پر عمل ہوگا۔ کیونکہ ہماری حکومت اعلان کرنے میں دیر نہیں کرتی، لیکن جب کسی اعلان پر عمل نہیں کیا جائے گا تو لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ پائے گا۔ 
ایک اور بات جو حکومت کو سمجھنی چاہئے کہ صرف یونیورسٹی کا کیمپس کافی نہیں۔ کیونکہ کیمپس میں چند محدود شعبے ہوتے ہیں۔تھر کے لوگوں کو مکمل یونیورسٹی کی ضرورت ہے۔ یہ یونیورسٹی جدید شعبوں اور علوم کی ہونی چاہئے۔ اگر ٹیکنالاجی کا شعبہ ہے تو جدید ٹیکنالاجی سے متعلق شعبے ہونے چاہئے، تھر کو مفت بجلی کی فراہمی کے لئے فوری طور پر لائحہ عمل تیار کرنا چاہء کہ کتنے یونٹس تک بجلی مفت دی جائے گی، اور وہ کون لوگ ہونگے جو اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے؟ صرف بجلی کی فراہمی کا مسئلہ نہیں ہے۔ غذائی قلت اور صحت کی سہولیات کی بھی کمی ہے۔ حکومت کو ان مسائل کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔ سب سے اہم معاملہ اعلانات پر عمل درآمد اوران پر عمل کے وقت کا ہے۔ 
سندھ کے حصے سے ایف بی آر کی کٹوتی
حکومت سندھ نے ایف بی آر کی جانب سے سندھ کے حصے سے ود ہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی کے خلاف عدالت میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ کی زیر صدارت ایک اجلاس میں آگاہی دی گئی کہ گزشتہ برسوں کے دوران ایف بی آر نے ود ہولڈنگ ٹیکس کا جھوٹا دعوا کر کے سندھ کے حصے سے 7 ارب، 5 کروڑ، 47 لاکھ روپے کی کٹوتی کر لی ہے۔
حکومتی سطح پر بات چیت کے باوجود یہ رقم واپس نہیں کی جارہی۔ وزیراعلیٰ نے سیکریٹری خزانہ کو ہدایت کی کہ اس رقم پر سود کا بھی حساب لگایا جائے۔ تاکہ وفاق سے اس اصل رقم کے ساتھ سود کی رقم بھی وصول کی جاسکے۔ وزیراعلیٰ نے یہ بھی ہدایت کی کہ اس رقم کے حوالے سے پورا کیس تیار کیا جائے، تاکہ اس مقصد کے لئے ہائی کورٹ سے رجوع کیاجاسکے کیونکہ وفاقی حکام ہماری کوئی بات سننے کے لئے تیار نہیں۔ 

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/69024/Sohail-Sangi/70-Feesad-Taraqiyati-Raqam-Kyun-Kharch-Nahi-Hui.aspx 

https://www.darsaal.com/columns/sohail-sangi/70-feesad-taraqiyati-raqam-kyun-kharch-nahi-hui-12160.html

سہیل سانگی کالم ، اردو کالم، میرے دل میرے مسافر 

Friday, April 12, 2019

بلاول بھٹو کو غلط بریفنگ



بلاول بھٹو کو غلط بریفنگ 

میرے دل میرے مسافر ۔۔۔۔سہیل سانگی

بلاآخر بلاول بھٹو نے تھر کے نوجوانوں کی آواز کو تسلیم کر لیا۔اور یہ اظہار کیا کہ وہ تھر کے لئے واقعی کچھ کرناچاہتے ہیں۔ بلاول بھٹو نے تھر میں کوئلے سے چلنے والے 330 میگاواٹ کے دو بجلی گھروں کا افتتاح کرتے ہوئے تھر میں این ای ڈی یونیورسٹی کے کیمپس کے قیام اور ایک پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت جنرل یونیورسٹی کے قیام کے لئے وزیراعلیٰ سندھ کو ہدایات دی۔ گزشتہ ایک ہفتے سے تھر کے نوجوانوں اور فکر دانش کی طرف سے سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا میں مہم چل رہی تھی کہ تھر میں یونیورسٹی قائم کی جائے ۔بلاول بھٹونے اس مہم کو مانتے ہوئے کہا کہ آج کل تھر میں یونیورسٹی کے لئے سوشل میڈیا پر مہم چل رہی ہے۔ تھر میں ایک نہیں دو یونیورسٹیاں ہونی چاہئیں۔

سندھ صوبے کی مختلف یونیورسٹیوں میں تدریس کا کام کرنے والے ساٹھ اساتذہ نے ایک غیر رسمی تنظیم تھر اکیڈمیہ فورم کے پلیٹ فارم سے حکومت سندھ، وزیراعلیٰ سندھ اور دیگر حکام کو ایک درخواست ارسال کی کہ قحط زدہ اور پسماندہ تھر کی ترقی صرف یہاں پر موجود افرادی قوت کی ترقی سے ہی کی جاسکتی ہے۔مشترکہ درخواست بھیجنے ولاوں میں تین سابو وائیس چانسلرز، اور تیس سے زائد پی ایچ ڈی اسکالرز شامل ہیں۔ قحط کی صورت میں ہر سال حکومت کو قحط زدگان تک تین سے چار ارب روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ لہذا علاقے کی ترقی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ افرادی قوت کی ترقی یہاں پر اعلیٰ تعلیم و فنی تربیت کے ادارے قائم کرنے سے ہی ممکن ہے۔ 

تھر کے لوگوں کو شکایت رہی کہ تھر سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی و سینیٹ کی جانب سے تھرکی مجموعی ترقی کے لئے کوئی جامع مطالبہ نہیں پیش کیا گیا۔ یہ منتخب اراکین اسمبلی حکومت کی جانب سے دی گئی مختلف منصوبوں پر ہی مطمئن رہے۔ لیکن تھر کے پڑھے لکھے طبقے نے کئی برسوں کے انتظار کے بعد پہلکاری کردی۔ اس پہلکاری کو پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے سراہا اور تسلیم بھی کیا۔کئی ممالک میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ پہلکاری پڑھا لکھا طبقہ ہی کرتا ہے۔

بلاول بھٹو کے اس اعلان کو سمجھنے کے لئے اصل مطالبے کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ کیونکہ سوشل میڈیا پر یہ مطالبہ اساتذہ کی جانب سے پٹیشن بھیجنے کے بعد تین روز تک دوسرے یاور تیسرے نمبر پرٹرینڈ بنا رہا رہا۔ پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ تھر آج کل بہت ہی تکلیف دہ صورتحال سے گزررہا ہے۔ بارش کے آسرے پر چھوڑے ہوئے اس صحرائی علاقے کو پانی کی قلت، غذائیت کی کمی، بھوک اوربدترین افلاس، صحت کی بری حالت، پسماندگی ، تعلیم کی کمی، بیروزگاری کے سخت چیلینجز کاسامنا ہے۔ یہ سب مسائل نئے نہیں، درحقیقت ایک طویل عرصے سے جاری ان مسائل نے انسانی جانیں بھی لی ہیں۔ 
تھر بائیس ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا اٹھارہ لاکھ آبادی ولا یہ علاقہ چوبیس ہزار دیہات پر مشتمل ہے جو کہ صوبے میں انسانی ترقی کے انڈیٰکس میں 29 ویں نمبر پر ہے۔ تعلیمی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔تھر کی ساتھ تحصیلوں میں صرف دو کالج اور آٹھ ہائر سیکنڈری اسکول ہیں۔ جن میں سے چار کی سرکاری طور پر بطور ادارے کے منطوری نہ ہونے کی وجہ سے اساتذہ اور دیگر سہولیات کی کمی ہے۔کوئی اعلیٰ تعلیمی ادارہ چار سو کلو میٹر کی رینج میں موجود نہیں۔ پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ غربت کی وجہ سے اس پسماندہ علاقے کے بچے یونیورسٹی یا اعلیٰ فنی تعلیم کیلئے حیدرآباد اور کراچی تک نہیں پہنچ سکتے۔ اس وجہ سے تعلیم ان کے لئے کم پرکشش ہو جاتی ہے اور شرح خواندگی مین مزید کمی کا باعث بنتی ہے۔
انٹرمیڈیٹ تک پڑھنے والوں میں سے بمشکل پانچ فیصد بچے شہر اور اعلیٰ تعلیم کے اخراجات برداشت کر سکتے ہیں یونیورسٹیوں تک پہنچ پاتے ہیں۔یونیورسٹی کے قیام سے مجموعی طور پر اور خاص طور پر خواتین میں شرح خواندگی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ اسکالرز کے مطابق پائدار ترقی کے لئے سائنس ، ٹیکنیکل اور سماجی علوم کی اعلیٰ تعلیم ضروری ہے۔

تھر کی بھوک، بدترین غربت اور تکالیف کو دور کرنے کے لئے اس صحرائی علاقے میں سرکاری شعبے میں کثیر شعبہ جاتی یونیورسٹی کا قیام ضروری ہو گیا ہے۔ تھر کول پروجیکٹ اور وہاں سے بجلی گھروں کی تعمیر سے علاقے میں روزگار اور کاروبار کے مزید مواقع نکلیں گے۔ تھر کے لوگ اگر مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل نہیں کر پائیں گے تو یہ ایک بڑا موقعہ اس علاقے کے غریب لوگوں کے ہاتھوں سے نکل جائے گا اور تمام تر ترقی کے باجود یہ لوگ غریب ہی رہیں گے۔ ترقی ان سے کوسوں دور ہی رہے گی۔
ایک روز پہلے گورنر سندھ عمران اسماعیل نے حیدرآباد یونیورسٹی کی افتتاحی تقریب کے موقعہ پر کہا کہ وزیراعظم عمران خانتھر میں یونیورسٹی قائم کرنا چاہتے ہیں اور اگلی ملاقات میں وہ وزیراعظم سے اس موضوع پر بات کریں گے۔ تھر کاا مسئلہ بچوں کی اموات کی مسلسل خبروں کی وجہ سے موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ گورنر کے اس بیان نے مزید دباؤ پیدا کردیا۔ حالانکہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ چھاچھرو کے موقع پر استقبالیہ تقریر میں تھر یویورسٹی کی فرمائش کی گئی تھی لیکن انہوں نے اس معاملے کو گول کردیا تھا۔ 
یہ ایک مثبت امر ہے کہ بلاول بھٹو نے عوامی دباؤ کو تسلیم کیا۔فوری ردعمل کے طور پر ان اعلانات کو سراہا جارہا ہے۔ لیکن ان کے ان اعلانات میں کیا کیا ہے؟بلاول نے تھر جانے سے ایک روز قبل اجلاس میں پوچھا تھا کہ تھر یونیورسٹی کا مطالبہ ہو رہا ہے اس کے بارے میں کیاکرنا ہے؟ لگتا ہے کہ بلاول صاحب کو صحیح بریفنگ نہیں دی گئی۔
بلاول بھٹو سے پہلے تھر کول منصوبے کی ایک کمپنی سندھ اینگرو کے سابق چیف شمس الدین شیخ مئی 2018 میں این ای ڈی یونیورسٹی کراچی کے تھر کیمپس کے قیام کا اعلان کر چکے ہیں۔ یونیورسٹی تھر کے علاقے اسلام کوٹ میں انہوں نے یہ اعلان کراچی میں منعقدہ ایک عالمی کانفرنس میں کیا تھا۔ ایک کول کمپنی کے اعلان کردہ منصوبے کو دوبارہ پارٹی سربراہ سے ایک سال بعد کرایا گیا۔ این ای ڈی یونیورسٹی کی یہ تجویز ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد نے چند ہفتے پہلے منظور بھی کر لی ہے۔ یہ تجویز بطور سندھ اینگرو کے ایک پروجیکٹ کے طور پر ہے۔ماہرین کے مطابق یہ کول کمپنی چاہتی ہے کہ کول منصوبے اور اس سے متعلق اپنے حق میں تحقیق اور رائے عامہ بنانے کے لئے ایک ایسا ادارہ قائم کرے۔ اور اپنی پسند کی رپورٹس بنوائے۔ 
تھر میں یونیورسٹی کے قیام کے اعلانات کی کہانی پرانی ہے۔ 2012 میں سندھ اسمبلی نے تھر میں ی کراچی یونیورسٹی کا کیمپس قائم کرنے کی قرارداد منظور کی تھی۔ سندھ یونیورسٹی نے تو 2017 میں تھر کیمپس کا باقاعدہ اعلان کر کے داخلے کا شیڈیول بھی جاری کیا تھا۔زمینی حقائق میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ 
بلاول بھٹو نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ میں جنرل یونیورسٹی کی بات کی ہے جس کے لئے انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ کو ہوم ورک کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس منصوبے کو عملی شکل دینے میں کئی اجلاس اور رپورٹس کی ضرورت پڑے گی۔اور ایک طویل وقت لگے گا۔کیا یہ یونیورسٹی بھی کول کمپنیوں کی حصیداری سے ہوگی؟پرائیویٹ پارٹنرشپ میںیونیورسٹی کی تجویز تھر کے لئے کتنی قابل عمل ہے؟ تھر کا بچہ جو اسکول کی فیس بھی نہیں دے سکتا وہ پرائیویٹ یونورسٹی کے اخراجات کیسے پورے کر پائے گا؟ 
پیپلزپارٹی کے سپریمو آصف علی زرداری نے بھی دو سال پہلے تھر ایرڈ یونیورسٹی کے قیام کا علان کیا تھا اور وزیراعلیٰ سندھ کو ہدایات دی تھی۔ لیکن تاحال کوئی پیش قدمی نہیں ہوئی۔ اب یہ اعلان دوسری شکل میں پیش کیا جارہا ہے۔بلاول بھٹو نے تھر کی ترقی کے لئے جیسا کہ اظہار کیا ہے اس کو اسی جذبے اور روح کے ساتھ عمل کرائیں۔ 
تھر میں یونیورسٹی کے قیام کے اعلانات کی کہانی پرانی ہے۔ 2012 میں سندھ اسمبلی نے تھر میں کراچی یونیورسٹی کا کیمپس قائم کرنے کی قرارداد منظور کی تھی۔ سندھ یونیورسٹی نے تو 2017 میں تھر کیمپس کا باقاعدہ اعلان کر کے داخلے کا شیڈیول بھی جاری کیا تھا۔زمینی حقائق میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔

http://e.naibaat.pk/ePaper/lahore/12-04-2019/details.aspx?id=p10_04.jpg
سہیل سانگی کالم ، اردو کالم، میرے دل میرے مسافر 

https://www.darsaal.com/columns/sohail-sangi/bilawal-bhutto-ko-galat-briefing-12123.html

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/68986/Sohail-Sangi/Bilawal-Bhutto-Ko-Galat-Briefing.aspx

Thursday, April 11, 2019

Tharis scholars demand Thar university






Daily Kawish Petition by Thar Scholars for Thar University


------------------------------------------------------------------------------------------------------------
http://induschronicle.com.pk/latest-news-detail.php?Id=1116&fbclid=IwAR0UCoD3Y87feX9rNaQcTZz2sgohj5iFJMkyoYg6JMKMWxmy_KM3-fcdpBs


ICR, April 7, 2019: 

Over fifty luminaries hailing from Sindh’s desert of Thar believe the real cause of underdevelopment of their area is lack of human resource which can only be produced through setting up educational institutions in the area. 

In order to address the root cause of the problem, they asked the Sindh government to open a university in Thar preferably at its prime city of Mithi. This institution would create human resource locally and thus improve the situation on the ground. 

The Thar Desert covers an area of 200,000 km2 (77,000 sq mi) and forms a boundary between India and Pakistan. About 15 percent--12,000 sq mi--of the Thar Desert is located in Pakistan. This desert appears very low at the human development index of Pakistan.

The desire to have a university in Thar has been put on a paper prepared by Thar Academia Forum. The formal request has been signed by B.S Chaudhry, a Higher Education Commission (HEC) Distinguished Professor and member, Prof Dr. Jailmal, Prof Dr. Feroz Memon, Sohail Sangi, Dr. Abdul Ghani, Dr. Gulzar, Dr. Qasim Samejo and others. 

These people are among faculty members of various universities in Sindh and have earned a name in their respective professions.

Thar which has huge deposits of coal that Pakistan is tapping to address its energy problem has been the focus of media for its deaths of newborn babies due to poor health facilities and malnourished mothers. 
-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------






Daily Kawish Petition by Thar Scholars for Thar University



Petition by Thar Scholars for Thar University

https://www.samaa.tv/education/2019/04/thar-does-not-have-a-single-public-university/?fbclid=IwAR3dBcwxL36dIjjnCnKmoXbwLjqN7dqN7em49Y1qStj2bg2WnDEWvSCGZ_Q


Plea for opening Thar University in Mithi
https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=09_04_2019_117_003&fbclid=IwAR0fkRzwm8JXhEhbPqozgdS3MwJ-jihKxVxzTUvnxvwdpNMy9Z7bjkhTWp8

Petition of Thari scholars for University

http://www.thekawish.com/beta/epaper-details.php?details=2019%2FApril%2F08-04-2019%2FPage4%2FP4-1.jpg&fbclid=IwAR3kBeYZGQJR689K4fn_EVB-FILRrjpFJwddYL8ssMqBwEx9PX7HZqdtFug

Joint petition of Thari scholars for University

http://sindhexpress.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=130716823&Issue=NP_HYD&Date=20190407&fbclid=IwAR3vtyJD9MSMIuRokTDhGN1G2EbFiCgdMknPL9uP47ZFlQ8XMdYFgEQS-1Y






Thar University Editorials




Daily Kawish Editorial on Thar University













Daily Pahenji Akhbar Editorial on Thar University







Daily Sindh Express Editorial on Thar University




Daily Sindh Editorial on Thar University


Friday, April 5, 2019

وزیراعظم کے سیاسی مقاصد اور ترقیاتی پیکیج


وزیراعظم  کے سیاسی مقاصد اور ترقیاتی پیکیج
سندھ نامہ سہیل سانگی
سابق وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر سندھ بھر میں سرگرمی نظر آئی۔پیپلزپارٹی کی اپیل پر تمام علاقوں سے لوگ قافلوں کی شکل میں گڑھی خدابخش پہنچے۔ اور سابق اور پیپلزپارٹی کے بانی کوخراج عقیدت پیش کیا۔پارٹی کارکنوں اور حامیوں کو سرگرم کرنے کے لئے دو ہفتے قبل بلاول بھٹو نے کراچی سے لاڑکانہ تک ٹرین مارچ کیا۔یہ سرگرمی صرف پیپلزپارٹی کی حد تک نہیں تھی۔ سندھ کے اخبارات نے بھی بھٹو پر اداریے لکھے اور بغیر سرکاری سرپرستی کے برسی کے روز تین تین چار چار مضامین بھی شایع کئے۔لگتا ہے کہ بھٹو سیاسی طور پر ابھی بھی زندہ ہے۔ پیپلزپارٹی کی قیادت میں سے سابق صدر آصف علی زرداری، فریال تالپور اور دیگر کیخلاف جعلی اکاؤنٹس کیس کا پہلا نیب ریفرنس باقاعدہ سماعت کیلئے مقرر کردیا گیا۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سابق ایڈمنسٹریٹر کراچی محمد حسین سمیت تمام ملزمان کو 19 اپریل کوطلب کرلیا ہے۔ سندھ میں سیاسی سرگرمی اس کے لئے ضروری بھی ہو گئی ہے۔
وزیراعظم عمران خان کا دورہ سندھ سیاسی اور میڈیٰا حلقوں میں زیر بحث ہے۔’’وزیراعظم کا کراچی کے لئے پیکیج کا اعلان ‘‘کے عنوان سے روزنامہ کاوش لکھتا ہے کہ وزیراعظم نے دورہ سندھ کے دوران کراچی کے لئے 162 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا۔ وفاقی حکومت کے اپنے وسائل اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سے تیار کی کئے گئے اس پیکیج میں 18 منصوبے شامل ہیں، جس میں ٹرانسپورٹ کے دس اور واٹر سیوریج کے سات منصوبے ہیں۔ وفاقی حکومت نے کراچی کے چھ اضلاع کے لئے دو سو آر او پلانٹس لگانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ نئی ٹرانسپورٹ اسکیم متعارف کرائی جائے گی جس کے تحت پانچ سو ٹرانسپورٹرز کو پانچ سو نئی بسیں خرید کرنے کے لئے قرضہ دیا جائے گا۔
وزیراعظم نے حیدرآباد میں نئی یونیورسٹی بھی قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی ذمہ داری سندھ حکومت کی ہے۔ سندھ حکومت اندرون سندھ سے انتخابات جیت کر آتی ہے لہیذا وہ کراچی کے ساتھ بہتر سلوک نہیں کر رہی۔ وزیراعظم نے گھوٹکی ضلع کے خانگڑھ کے مقام پر بھی جلسہ عام سے خطاب کیا لیکن اس ضلع کے لئے کسی ترقیاتی اسکیم کا اعلان نہیں کیا۔
یہ کوئی پہلا موقعہ نہیں۔مختلف ادوار میں مختلف اضلاع کے لئے سیاسی بنیادوں پر اور سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے ترقیاتی پیکیجز کے اعلانات کئے جاتے رہے ہیں۔ کراچی کے لئے اتنے بڑے ترقیاتی پیکیج کا اعلان خوشی کی بات ہے۔ لیکن یہاں وزیراعظم نے کراچی اور سندھ کے باقی اضلاع میں امتیاز برتا ہے۔ ہونا یہ چاہئے تھا کہ ویزراعظم کو پورے سندھ کے لئے وفاق کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کرنا چاہئے تھا۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے سیاسی اتحادیوں کو خوش کرنے کے لئے پیکیج کا اعلان تو کیا گیا ہے لیکن خانگڑھ میں سیاسی اتحادی جنہوں نے جلسہ عام کا بندوبست بھی کیا، ان کے علاقے کے لئے کوئی منصوبہ نہیں دیا گیا۔ تھر سمیت صوبے کے مختلف اضلاع کے لئے پیکیج کی امید کی جارہی تھی۔
حیدرآباد کے لئے بھی یونیورسٹی کا علان کیا گیا۔ خانگڑھ میں میزبان نے اپنی استقبالیہ تقریر میں گھوٹکی میں موجود 250 تیل کے کنوؤں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے باوجود یہ ضلع پسماندہ ہے۔ گھوٹکی کو اور نہیں تو ایک معیاری ٹکنیکل انسٹیٹیوٹ کا ہی اعلان کیا جاتا تاکہ مقامی نوجوان فنی تعلیم حاصل کرکے ضلع میں تیل اور گیس کی کمپنیوں میں روزگار حاصل کر پاتے۔ علاقے میں تیل اور گیس نکالنے کا کام کرنے والی کمپنیوں کومقامی لوگوں کو روزگار دینے کا پابند کرنے کا علان کرتے۔اگرچہ یہ کمپنیاں سندھ میں ہی کام کررہی ہیں لیکن وہ سندھ انتظامیہ کی ایک بھی نہیں سنتی۔ یہاں تک کہ ان کمپنیوں کی سیکیورٹی بھی وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذمہ ہے۔ البتہ یہ کمپنیاں علاقے کے بعض بااثر افراد کو اپنے ساتھ ملا لیتی ہیں۔ جو اپنے کارندوں کو سیکیورٹی میں بھرتی کرا دیتے ہیں۔جن کی مدد سے مقامی لوگوں کی آواز کو دبادیا جاتا ہے۔
یہ کمپنیاں صوبائی انتظامیہ کے بجائے وفاقی صاحب لوگوں کے کہنے پر چلتی ہیں۔ سندھ میں پانی کی کمی اور زراعت پر انحصار کم ہونے کے بعد بڑپیمانے پر بیروزگاری ہے۔ اگر تیل اور گیس کمپنیوں میں نوجوانوں کو روزگار دیا جائے تو بڑی حد تک اس بیروزگاری پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے لئے نوجوانوں کی فنی تربیت کا بندوبست کرنا ضروری ہے۔ لہٰذا وزیراعطم کو سیاسی بنیادوں پر ترقیاتی اعلان کرنے کے بجائے زمینی حقائق کی بنیاد پر منصوبوں کا اعلان کرنا چاہئے۔
سندھ میں نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات شروع ہو چکے ہیں ۔ امتحانات میں نقل کرنے کے واقعات کی خبریں اور ان پر اہل دانش و فکر کی آراء سامنے آرہی ہے۔روزنامہ عبرت لکھتا ہے کہ امتحانات شروع ہوتے ہی پورا سال خاموش میں رہنے والے دانشور، صحافی، سماجی کارکن خواب خرگوش سے بیدار ہو کر سامنے آ گئے ہیں۔ بیدار بھی ایسے ویسے کہ اچھا بھلا بندہ پاگل ہو جائے۔ سال بھر یہ سب حضرات اتنے بے خبر رہے کہ انہیں پتہ ہی نہیں کہ ہورا سال کونسا اسکول اور کالج بند ہے یا کھلا رہا، اور وہاں پر کیا پڑھائی ہوتی رہی؟ اساتذہ اور طلباء کی حاضری کی کیا صورتحال رہی؟ یہ فکر کسی کو نہیں ہوئی۔
جیسے ہی امتحانات قریب آئے ، سب سے پہلے اساتذہ کی تنظیموں کے عہدیداران بیدار ہوئے۔ اپنے من پسند مطالبات کی بوریاں بھر کر سڑکوں پر نکل آئے۔ کہاں کہاں سے پریس کلبوں تک پہنچے، ا جدوجہد میں تنظیموں کے رہنما تو چھپ گئے، عام اساتذہ پر لاٹھیاں پڑیں۔ بعد میں مطالبات تسلیم کرانے کا ڈرامہ رچا کر اپنی فتح قرار دے کر داد وصول کر رہے ہیں۔ عام آدمی اس صورتحال کا تماشائی ہے، جو کبھی اساتذہ کی حمایت تو کبھی مخالفت کرتا ہے۔
یہ درست کے امتحانات میں نقل ہوتی ہے۔ اور نقل ایک ناسور ہے۔ یہ سب حضرات جو عین امتحانات کے موقع پر چیخ و پکار کرتے ہیں، ان کے پاس سال کے باقی گیارہ ماہ بھی ہیں جب وہ تعلیم کی صورتحال پر نظر رکھ سکتے ہیں۔ صرف نقل کا رونا امتحانت کے دنوں میں ہی کیوں؟
Karachi Package, Prime Minister,