For kind attention of Chief Justice of Pakistan
چیف جسٹس صاحب کی خدمت میں گزارش تھر میں طبی سہولیات کی صورتحال
مٹھی ضلع ہیڈکوارٹر ہسپتال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔ ضلع ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں نرسری میں 6 افراد کا اسٹاف ایک این جی او نے فراہم کیا ہے۔
۔مٹھی ہسپتال میں فزیشن میڈیکل اسپیشلسٹ کوئی نہیں۔
۔آرتھو سرجن کوئی نہیں۔ مریض حیدرآباد ریفر کئے جاتے ہیں۔
۔ای این ٹی سرجن کوئی نہیں۔ ریڈیولاجسٹ ڈپلوما ہولڈر ہیں۔
۔گائنی میں صرف دو ڈاکٹرز ہیں جو کہ ایم سی پی ایس ہیں۔
۔میڈیکل یا سرجری کا کوئی آئی سی یو نہیں۔
۔ایمرجنسی میں آکسیجن لائن نہیں۔
۔نومولد بچوں کے لئے نرسری میں 18 انکیوبیٹرز ہیں لیکن وینٹی لیٹرز نہیں۔
۔مٹھی سہپتال میں سرجن کی 2, ، گئناکولاجسٹ کی 2, آئی این ٹی اسپیشلسٹ کی ایک پوسٹ خالی ہے۔
7 تحصیلیں ہیں۔ جن میں سے تین میں تحصیل ہسپتالیں نہیں۔ 210 ڈسپینسریوں میں سے 170 کی ایس این ای منظور شدہ نہیں۔
۔ تھر صرف مٹھی نہیں۔ چھاچھرو، ڈاہلی اور نگرپارکر کے سینکڑوں گاؤں ضلع ہیڈکوارٹر سے بذریعہ روڈ کنیکٹ نہیں۔
چھاچھرو اور ڈاہلی تحصیلیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھاچھرو اور ڈاہلی تحصیلیں 1625 گاؤں پر مشتمل ہیں۔
وزیراعظم سید قائم علی شاہ نے 2014 میں چھاچھرو ہسپتال کو تحصیل ہیڈکوارٹر کا درجہ دینے کا اعلان کیا۔ لیکن اس ہسپتال کو تا حال نہ تحصیل ہیڈکوارٹر کی ایس این ای منظور کی گئی، اور نہ بلڈنگ اور تحصیل ہسپتال کے مطابق دوائیں فراہم کی جاتی ہیں۔
چھاچھر ہسپتال میں آج بھی مندرجہ ذیل پوسٹس خالی ہیں
3 لیڈی ڈاکٹرز، 6 ایل ایچ وی
ایک فزیشن،
ایک ریڈیو لاجسٹ،
ایکAnesthesia ماہر
، ایک سونولاجسٹ،
ایک او ٹی سرجن
ایک اسٹور کیپر کی جگہیں خالی ہیں
آپریشن روم مرمت کے بہانے بند ہے۔ ڈلیوری کے لئے آنے والی خواتین کو دوسرے ہسپتالوں میں ریفر کیا جاتا ہے۔
ایکسرے مشین معمولی نقص کی وجہ سے خراب پڑی ہوئی ہے۔
پورے ہسپتال میں ایک لیڈی ڈاکٹر ہے جو چوبیس گھنٹے ڈیوٹی نہیں دے سکتی۔ ہسپتال میں صرف 25 بیڈز ہیں۔ جبکہ مریضوں کا روزانہ دالہ چالیس کے لگ بھگ ہے۔
مریضوں کا علاج کرنے کے بجائے انہیں ریفر کیا جاتا ہے۔
چھاچھرو اور ڈاہلی تحصیلوں 2 آر ایچ یو، 13 بی ایچ یو، اور 45 ڈسپینسریاں ہیں۔ ان دو تحصیلوں میں 45 ڈسپینسریز اور 2 بی ایچ یو کاغذوں پر فعال ہیں جن میں سے
آٹھ میں میڈیکل آفیسر مقرر ہیں اور ان 8 کی ایس این ای منظور ہے۔ ۔ باقی 37 ڈسپینسرز کے حوالے ہیں۔
یہ صورتحال نگرپارکر تحصیل کی ہے