Saturday, October 13, 2018

For kind attention of Chief Justice of Pakistan


For kind attention of Chief Justice of Pakistan 
چیف جسٹس صاحب کی خدمت میں گزارش تھر میں طبی سہولیات کی صورتحال 

مٹھی ضلع ہیڈکوارٹر ہسپتال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔ ضلع ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں نرسری میں 6 افراد کا اسٹاف ایک این جی او نے فراہم کیا ہے۔ 
۔مٹھی ہسپتال میں فزیشن میڈیکل اسپیشلسٹ کوئی نہیں۔ 
۔آرتھو سرجن کوئی نہیں۔ مریض حیدرآباد ریفر کئے جاتے ہیں۔ 
۔ای این ٹی سرجن کوئی نہیں۔ ریڈیولاجسٹ ڈپلوما ہولڈر ہیں۔ 
۔گائنی میں صرف دو ڈاکٹرز ہیں جو کہ ایم سی پی ایس ہیں۔
۔میڈیکل یا سرجری کا کوئی آئی سی یو نہیں۔ 
۔ایمرجنسی میں آکسیجن لائن نہیں۔ 
۔نومولد بچوں کے لئے نرسری میں 18 انکیوبیٹرز ہیں لیکن وینٹی لیٹرز نہیں۔ 
۔مٹھی سہپتال میں سرجن کی 2, ، گئناکولاجسٹ کی 2, آئی این ٹی اسپیشلسٹ کی ایک پوسٹ خالی ہے۔ 
7 تحصیلیں ہیں۔ جن میں سے تین میں تحصیل ہسپتالیں نہیں۔ 210 ڈسپینسریوں میں سے 170 کی ایس این ای منظور شدہ نہیں۔ 
۔ تھر صرف مٹھی نہیں۔ چھاچھرو، ڈاہلی اور نگرپارکر کے سینکڑوں گاؤں ضلع ہیڈکوارٹر سے بذریعہ روڈ کنیکٹ نہیں۔ 
چھاچھرو اور ڈاہلی تحصیلیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھاچھرو اور ڈاہلی تحصیلیں 1625 گاؤں پر مشتمل ہیں۔ 
وزیراعظم سید قائم علی شاہ نے 2014 میں چھاچھرو ہسپتال کو تحصیل ہیڈکوارٹر کا درجہ دینے کا اعلان کیا۔ لیکن اس ہسپتال کو تا حال نہ تحصیل ہیڈکوارٹر کی ایس این ای منظور کی گئی، اور نہ بلڈنگ اور تحصیل ہسپتال کے مطابق دوائیں فراہم کی جاتی ہیں۔ 
چھاچھر ہسپتال میں آج بھی مندرجہ ذیل پوسٹس خالی ہیں
3 لیڈی ڈاکٹرز، 6 ایل ایچ وی
ایک فزیشن، 
ایک ریڈیو لاجسٹ، 
ایکAnesthesia ماہر 
، ایک سونولاجسٹ، 
ایک او ٹی سرجن 
ایک اسٹور کیپر کی جگہیں خالی ہیں
آپریشن روم مرمت کے بہانے بند ہے۔ ڈلیوری کے لئے آنے والی خواتین کو دوسرے ہسپتالوں میں ریفر کیا جاتا ہے۔ 
ایکسرے مشین معمولی نقص کی وجہ سے خراب پڑی ہوئی ہے۔ 
پورے ہسپتال میں ایک لیڈی ڈاکٹر ہے جو چوبیس گھنٹے ڈیوٹی نہیں دے سکتی۔ ہسپتال میں صرف 25 بیڈز ہیں۔ جبکہ مریضوں کا روزانہ دالہ چالیس کے لگ بھگ ہے۔ 
مریضوں کا علاج کرنے کے بجائے انہیں ریفر کیا جاتا ہے۔
چھاچھرو اور ڈاہلی تحصیلوں 2 آر ایچ یو، 13 بی ایچ یو، اور 45 ڈسپینسریاں ہیں۔ ان دو تحصیلوں میں 45 ڈسپینسریز اور 2 بی ایچ یو کاغذوں پر فعال ہیں جن میں سے
آٹھ میں میڈیکل آفیسر مقرر ہیں اور ان 8 کی ایس این ای منظور ہے۔ ۔ باقی 37 ڈسپینسرز کے حوالے ہیں۔
یہ صورتحال نگرپارکر تحصیل کی ہے

Friday, October 12, 2018

پہلے 100 روز اب 6 ماہ کی مہلت


میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی

’’نہیں نہیں‘‘کرتے کرتے بالآخر پاکستان نے پھر آئی ایم ایف کا در کھٹکھٹا ہے۔ معیشت دان کچ زیادہ لیکن عام آمدی بھی سمجھ رہا ہے کہ اس قرضے کے کیا نتائج برآمد ہونگے۔ بعض نتائج معاشی افراتفری کی صورت میں نمودار ہوگئے ہیں جن کا سامنا ہر موڑ پر رومزمرہ کی زندگی میں لوگ کر رہے ہیں۔ لیکن وزیراعظم عمران خان نے قوم کو یقین دلارہے ہیں کہ’’ ڈرنے یا گھبرانے کی ضرورت نہیں‘قوم حوصلہ رکھے‘ ملک کوان مشکل حالات سے نکالوں گا‘موجودہ بحران سے نکلنے اور قرضے کی قسطیں ادا کرنے کیلئے ہمیں مزید قرضے چاہئیں۔آئی ایم ایف کے پاس جانے سے قیامت نہیں آگئی‘ اصلاحات کے اثرات 6ماہ بعد نظرآئیں گے۔‘‘ وہ سمجھتے ہیں کہ آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل کرنے کے بعد وہ اپنی آئینی مدت پوری کر لیں گے۔ اس لئے خود بھی خوش ہیں اور قوم کو بھی خوشخبری سنا رہے ہیں۔ پہلے 100 روز کی بات کی جارہی تھی، اب چھ ماہ کی مہلت مانگی جارہی ہے۔
حکومت ابھی بھی یہ خواب دکھا رہی ہے کہ لوٹی ہوئی دولت واپس لائی جارہی ہے۔ لوگوں کے تصرف کے لئے یہ خیال اچھا ہے۔ لیکن عملا حکومت بھی یہ جاتی ہے کہ لوٹی ہوئی دولت واپس لانا اتنا آسان نہیں، اگر کبھی ایسا ہوا بھی تو اس میں بہت وقت درکار ہوگا۔ ملک چلانے کے لئے تو ابھی پیسوں کی ضرورت ہے۔ لہٰذا یہ ایک نعرہ یا مخالفین کو دبانے کے لئے ایک بہانہ تو ہو سکتا ہے لیکن اس میں عملیت کا پہلو کم ہی ہے۔
دنیا میں سرمایہ داری نے پورا نظام ایسا بنادیا ہے کہ چھوٹے خواہ بڑے ملک مالیاتی اداروں کی مرضی کے بغیر نہیں چل سکتے۔ آزادی۔حقیقی معنوں میں عالمی بینک، آئی ایم ایف اور مختلف ادارے یہ طے کرتے ہیں کہ آپ کو زندگی کیسے گزارنی ہے؟ آپ کا لائیف اسٹائل کیا ہو؟ ۔ جب یہ ادارے یہ معاملات طے کرتے ہیں تو وہ یہ بھی فیصلہ کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ کس طرح سے ہو؟ اور کس ملک میں کس طرح کی حکومتیں ہوں؟ آئی ایم ایف کی فرمائش یہ ہوگی کہ پانی ،بجلی ،گیس کے نرخوں میں اضافہ ہو۔
وزیراعظم خود مانتے ہیں کہ 8 ارب ڈالر کی درآمدات اور برآمدات کا عدم توازن ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس دو راستے ہیں، دوست ممالک کے پاس جا کر ان سے مشکل وقت میں ساتھ دینے کا کہیں یا پھر عالمی مالیاتی فنڈ سے رجوع کریں۔ دوست ممالک کے پاس بھی جا کر دیکھا لیکن کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔وزیراعظم کہتے ہیں کہ ترسیلات زر کی مد میں 20 ارب ڈالر پاکستان آتے ہیں، ہم نے اس کا مطالعہ کیا، جتنی مقدار میں ترسیلات زر بینکاری ذرائع سے آتی ہیں اتنے ہی بے قاعدہ عمل کے ذریعے آتے ہیں، بے قاعدہ طریقہ سے ترسیلات زر کو روک دیا جائے تو ہمیں قرضہ نہیں لینا پڑے گا۔تحریک انصاف کی حکومت کا خیال تھا کہ سمندر پار پاکستانی پیسے بھی بھیجیں گے۔ ملک میں سرمایہ کاری بھی کریں گے۔ ڈیم کے لئے بھی فنڈدیں گے۔ یہ خوش فہمی جب عمل کی کسوٹی سے ٹکرائی تو مثبت صورتحال نہیں تھی۔ بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کی بڑی تعداد مزدوروں یا بمشکل اپنا گزارا کرنے والوں کی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ڈالر کی اصل قدر 150روپے ہے۔ آسودہ حال لوگوں کو کوئی فکر ہیں۔ آئی ایم ایف سے معاہدہ کے بعد مہنگائی کا جو طوفان اٹھے گا وہ غربت کی لکیر سے نیچے والوں کو مزید کنگال کر دے گا۔ بلکہ متوسط اور تنخواہ دار طبقہ بری طرح سے اس سونامی کی لپیٹ میں آجائیگا۔ لہذا نہ صرف غربت میں اضافہ ہوگا اور اس میں شدت آئے گی بلکہ غریبوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا۔ تبدیلی کے نعرے سے متوسط طبقہ ہی زیادہ توقعات رکھے ہوئے تھا۔ اس طبقے کے نیچے دھکیلنے سے بڑی معاشی اور سماجی بحران پیدا پیدا ہوگا۔ سماجی بحران مختلف اقسام کی کرپشن کی صورت میں سامنے آئے گا۔ اور معاشی بحران اس طرح سے کہ اس کی قوت خرید کم ہو جائے گی اور مختلف اشیاء اور مصنوعات کی مارکیٹ کم ہونے کی وجہ سے پیداوار بھی کم ہوگی۔
وزیراعظم کم آمدنی والے طبقہ اور غریب عوام کو 50 لاکھ گھروں کی فراہمی کیلئے نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبہ شروع کررہے ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ اس اقدام سے غریبوں کو چھت میسر آنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو روزگار ملے گا اور اقتصادی سرگرمی سے شرح نمو میں اضافہ ہو گا۔کم آمدنی والے وفاقی ملازمین کیلئے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اسکیم کا آغاز کیا جا رہا ہے، کچی آبادیوں کے رہائشیوں کو مالکانہ حقوق دیں گے، 60 روز میں نیشنل فنانشل ریگولیٹری ادارہ بھی قائم کیا جا رہا ہے، گھروں کیلئے اراضی حکومت فراہم کرے گی جبکہ باقی کام نجی شعبہ انجام دے گا۔ سوال یہ ہے کہ جب غریب لوگوں کے پاس روز مرہ کی زندگی گزارنے کے لئے بھی پیسے نہیں ہونگے تو وہ یہ مکانات کیسے خرید کر سکیں گے؟ یہ بھی سوال ہے کہ صرف اسلام آباد میں مقیم وفاقی ملازمین کے لئے ہی ہاؤسنگ اسکیم کیوں؟ باقی شہروں میں بھی وفاقی یا صوبائی حکومتوں کے ملازمین ہیں۔کیا یہ باقی شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہوگا؟ایک زمانے میں نواز شریف نے بھی ییلو کیب ٹیکسی اسکیم شروع کی تھی۔ یہ اسکیم واقعتا کتنے لوگوں کو روزگار دے پائی؟ اس کے معاشی اور سماجی طور پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟
پیپلزپارٹی کی سنیئر لیڈر اور سنیٹر شیری رحمان کہتی ہیں کہ بحران صرف معاشی نہیں، بلکہ سیاسی بھی ہے۔ یہ درست ہے کہ قومی اسمبلی، اور سینیٹ کے باقاعدہ اجلاس ہو رہے ہیں۔ عدلیہ بھی سرگرم ہے۔ وزیراطلاعات فواد چوہدری اور نواز لیگ کے سینیٹر مشاہداللہ کے درمیاں تلخ الفاظ کے تبادلہ کے بعدسینیٹ کے سابق چیئرمین رضا ربانی کہتے ہیں کہ سینیٹ میں جس طرح کی صورتحال پیدا کی جارہی ہے اس کے پیچھے یہ عوامل کارفرما ہیں کہ ایوان بالا ملک کو درپیش حقیقی مسائل پر بحث نہ کرسکے۔ احتساب کے بارے میں روز نت نئی خبریں شایع ہو رہی ہیں۔ لیکن سب کچھ اچھا نہیں۔ حکمران جماعت کی اتحادی ایم کیو ایم کچھ فاصلہ کرنا شروع کیا ہے۔ عمران خان صرف 4 ووٹوں کی اکثریت سے یعنی 176 ووٹ لے کر وزیراعظم بنے تھے۔ وہ بی این پی مینگل اور ایم کیو ایم جیسے اتحادیوں کی بیساکھیوں کے سہارے حکومت کر رہے ہیں۔پیپلزپارٹی کے قومی اسمبلی میں رہنما سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ اگر ایم کیو ایم حکومت کی حمایت سے دستبردار ہو جائے تو پی ٹی آئی کی حکومت قومی اسمبلی میں اپنی عددی اکثریت کھو بیٹھے گی۔ بلوچستان سے سردار اختر مینگل نے بھی ناراضگی ظاہر کی ہے۔ سی پیک کے حوالے جب حاصل بزنجو اور دیگر بلوچ رہنماؤں نے سخت موقف کا اظہار کیا ، جس کے بعد وزیراعظم کوئٹہ گئے اور بلوچستان کی صوبائی حکومت کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی۔ بعد میں ایک چینی وفد کی بلوچستان حکومت کے عہدیداران کے ساتھ اجلاس بھی کیا۔ڈیم اور غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ دینے کے معاملات پرسندھ میں تپش محسوس کی گئی۔ پی ٹی آئی کے گورنر سندھ نے حیدرآباد کی یونیورسٹیوں کا دورہ کیا۔
حکومت جس کو کوئی زیادہ عددی اکثریت حاصل نہیں، جس کا دعوا ہے کہ وہ بہت کچھ کرنا چاہتی ہے۔ لیکن وہ پارلیمنٹ کے اندر خواہ باہر سازگار ماحول قائم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اپوزیشن نیب کے سخت رویے کے خلاف متحد ہورہی ہے۔ یہ درست ہے کہ فی الحال قوم خواہ میڈیا بٹا ہوا ہے۔سرکاری اشتہارات کے بلوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے میڈیا میں بھی بے چینی ہے۔اظہار رائے کی آزادی کا معاملہ بھی شدت سے محسوس کیا جارہا ہے۔آنے والے دنوں میں ہر ایک درد کی شدت محسوس کرنے لگے گا۔ احتجاج کے لئے سازگار موسم آرہے ہیں۔ تیاریاں ہورہی ہیں۔


Nai Baat - Sohail Sangi Column October 12, 2018

https://www.naibaat.pk/11-Oct-2018/17705

Thursday, October 11, 2018

سندھ میں نیب ایک بار پھر سرگرم


میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
سندھ میں نیب ایک بار پھر سرگرم ہو گئی ہے۔ مختلف محکموں میں مبینہ تحقیقات از سرنو شروع کردی ہے۔ جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا ہے۔ اس کیس میں بینکنگ کورٹ نے سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کی ضمانت میں 16 اکتوبر تک توسیع کردی ہے۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سابق صدر حسین لوائی، بینکر طحٰہ رضا، انور مجید ان کے بیٹے عبدالغنی اس کیس میں گرفتار ہیں۔ 
منی لانڈرنگ کیس میں جے آئی ٹی نے حکومت سندھ کے زیر استعمال بینک اکاؤنٹس کا 10 سال کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ ٹیم نے بینک اکاؤنٹس کی اسٹیٹمنٹس اور متعلقہ افسران کے دستخطوں کے ساتھ مانگا ہے۔ سندھ حکومت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ دس سال کے دوران بحران کا شکار جن صنعتوں کی مالی امداد کی ہے اس کی تفصیلات بھی دی جائیں۔ آبپاشی، کمیونیکشن اینڈ ورکس محکموں کے ٹھیکوں کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔ جے آئی ٹی نے سندھ حکومت کو جو خط لکھا ہے اس میں سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس لینے کا حوالہ دیا گیا ہے۔ 
منی لانڈرنگ کیس میں پانچ ملزمان کے گھروں پر چھاپے مارے گئے۔ بینکنگ کورٹ کے جج نے سمٹ بینک کے سربراہ اور دیگر کو اشتہاری قرار دینے کے خلاف کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کردی ہے اور پانچوں ملزمان کی ملک میں موجود املاک کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔ نیب ٹیم نے2013 سے 2017 تک اومنی گروپ کی شگرملز کو دی گئی سبسڈی کی تفصیلات طلب کی ہیں ۔محکمہ زراعت اور کین کمشنر کو بھیجے گئے خط میں پوچھا گیا ہے کہ یہ سبسڈی کس قانون کے تحت دی گئی؟ اس کا کاشتکاروں کو فائدہ پہنچا بھی یا نہیں؟
بحریہ ٹاؤن کو کراچی میں الاٹ کی گئی زمین کا معاملہ بھی کرپشن کے دائرے میں لے لیا گیا ہے۔ گزشتہ روز چیف جسٹس نے یہ رریمارکس دیئے کہ بحریہ ٹاؤن کو کراچی میں زمین دھولہ دہی کے ساتھ لیز پر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زمین لیز پر دینے کا معاملہ بھی نیب کے حوالے کیا جائے۔ نیب نے سندھ سمال انڈسٹریز کارپوریشن کے پلاٹس کی غیرقانونی الاٹمنٹ کی بھی تحقیقات شروع کردی ہے اور ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔ نیب نے کارپوریشن کے ایم ڈی، حیدرآباد اور لاڑکانہ کے ڈائریکٹرز کو بھی طلب کیا ہے۔ صنعتی پلاٹ کمرشل مقاصد کے لئے الاٹ کئے گئے تھے۔ سندھ سمال انڈسٹریز کے معاملات کی محکمہ جاتی خواہ سندھ کے محکمہ انسداد رشوت ستانی کی جانب سے بھی تحقیقات ہوئی تھی۔ حالیہ اقدامات کے بعد پارپوریشن میں بڑے پیمانے پر افسران کے تبادلے کئے گئے ہیں۔
سولر منصوبے کے لئے جاری کی گئی بجٹ کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔ روشن سندھ منصوبے کے تحت 2014-15 میں دو ارب روپے جاری کئے گئے تھے۔ منصوبے میں کرپشن اور مہنگے داموں اسٹریٹ لائٹس خرید کرنے اور خریداری سے زائد تعداد دکھانے کے الزامات ہیں۔ صوبائی محکمہ خزانہ کی جانب سے نیب کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ اب تک اس منصوبے پر 8 ارب ساڑھے کروڑ روپے سے زائد رقم جاری کی گئی ہے۔ یہ رقومات صوبے کے چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں اسٹریٹ لائٹس کے لئے جاری کی گئی تھی۔
ادھر سابق ایم پی اے غلام محمد شہلیانی اور ان کے بیٹوں کے خلاف نیب نے ریفرنس داخل کر دیا ہے۔ ان پر گڑھی خیرو میں ترقیاتی کاموں میں 197 ملین روپے کی کرپشن کا الزام ہے۔ پی پی پی کے سابق وزیرشرجیل میمن پہلے ہی گرفتار ہیں ۔ وہ اشتہارات میں مبینہ کرپشن کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان ان کے خلاف 2012 میں قوائد وضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 43 انفرمیشن افسران کی بھرتی کی تحقیقات ہو رہی ہے۔ 
ان واقعات پر براہ راست ردعمل پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید احمد شاہ کا آیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ٹی وی پر چلایا جارہا ہے کہ نیب نے خورشید شاہ کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہیں، الزام لگایا جارہا ہے کہ میں نے جاگیریں بنائی ہیں، احتساب کا چیئرمین بیوقوف نہیں کہ خورشید شاہ کے خلاف ایسا کام کرکے خود پر داغ لگائے،ہمیں کوئی ڈر یا خوف نہیں، ہم نے جیلیں دیکھی ہیں، کوڑے کھائے ہیں، میرے خلاف نیب کے کیسز کی خبریں چلیں مگر کوئی جرم ثابت تو کر کے دکھائے، انتقام کی بو آرہی ہے،میرے سامنے لاکھوں ایکڑ زمین تھی مگر نہ خود، نہ بیوی اور نہ ہی بیٹے کے نام پر قبضہ کیا، اربوں روپے مالیت کے پلاٹوں سے قبضہ چھڑواکر اسپتال، پارک اور تعلیمی ادارے بنوائے۔
گزشتہ دور حکومت کے میں جب نیب نے سندھ کے مختلف محکموں میں گھس کر مبینہ کرپشن کے الزامات کی تحقیقات شروع کی تھی تو پیپلزپارٹی نے سخت احتجاج کیا تھا۔ اور متوازی نیب قانون کا بل بھی پاس کیا تھا۔ پیپلزپارٹی کا یہ موقف تھا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد نیب صوبائی معاملہ ہے۔ 
ان واقعات کے بعد پیپلزپارٹی کے شریک چییئرمین آصف علی زرداری اور میڈم فریال تالپور جو گزشتہ دور حکومت میں عملی طور پرسندھ کے معاملات چلارہی تھی، یہ دونوں سیاسی منظر سے غائب ہیں معاملات پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری دیکھ رہے ہیں۔
سندھ حکومت بھی نیب کی تحقیقات کے معاملات کی وجہ سے اس کو جواب دینے میں الجھی ہوئی ہے۔ 
شہباز شریف کی گرفتاری پر پیپلزپارٹی کا ردعمل سامنے آیا ہے، تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس کی وجہ سندھ میں پیپلزپارٹی کے خلاف اور خاص طور پر منی لانڈرنگ کیس میں آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے خلاف تحقیقات کے معاملات ہیں۔ تاہم پیپلزپارٹی شہباز شریف کی گرفتاری کے معاملے میں بہت زیادہ آگے جانا نہیں چاہتی۔
پی پی پی کی قیادت سخت مشکلات کا شکار ہے ۔منی لانڈرنگ کیس میں ایف آئی اے آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کو چار مرتبہ طلب کیا۔ اب سپریم کورٹ کی ہدایت پرجے آئی ٹی نے باضابطہ تحقیقات شروع کردی ہے۔ 
پی پی پی قیادت مخمصے کا شکار ہے۔ وہ متحدہ اپوزیشن کا حصہ بنے یا اپنی لاگ حیثیت برقرار رکھے جس میں اپوزیشن تقسیم ہے۔گزشتہ ماہ یہ اطلاعات آرہی تھی کہ آصف علی زرداری کو ڈیل کی پیشکش کی جا رہی ہے جس کے تحت سابق صدر اور ان کی بہن فریال تالپور 5 سال کے لیے بیرون ملک چلے جائیں گے۔ مقتدرہ حلقوں کے پاس پیپلزپارٹی کے لئے دو آپشن تھے۔ پہلا آپشن یہ کہ نوازشریف اور مریم نواز کی طرح آصف زرداری اور فریال تالپور کو جیل بھیج دیا جائے۔
دوسرا یہ کہ موجودہ اسمبلی کی پانچ سالہ مدت تک دونوں بہن بھائی بیرون ملک چلے جائیں۔ پنجاب اور وفاق میں حکمران جماعت تحریک انصاف عددی اعتبار سے بہت زیادہ مستحکم پوزیشن میں نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ کسی حد تک اس کا ازالہ ضمنی انتخابات میں ہو جائے۔ 
حالیہ پروجیکٹ چلانے والے حلقے چاہتے ہیں کہ جس طرح نوازشریف کا احتساب ہوا ہے اسی طرح آصف زرداری اور دیگر کا بھی احتساب کیا جائے۔ صرف شریف خاندان کے خلاف احتساب کرنے کا پنجاب میں سخت ردعمل پایا جاتا ہے۔ دوئم یہ کہ موجودہ معاشی حالات میں ویسے ہی حکومتی معاملات چلانا مشکل ہو رہا ہے۔ آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی صورت میں عام لوگوں پر مزید ٹیکس اور مزید مہنگائی کا بوجھ پڑنے ولا ہے۔ ایسے میں اگر مضبوط اپوزیشن عمران خان کے لئے مزید مشکلاتیں پیدا کرے گی۔ 
نئی بات ۔ کالم ۔سہیل سانگی ۔ 
Nai Baat October 11, 2018 , Sohail Sangi Column

Monday, October 8, 2018

Sohail Sangi Columns Sept 2018


Sohail Sangi Columns Sept 2018  total 12 Columns
1.       Sindh Nama Sept 29, 2018

2.       Qahat zdgan ke imdad ka mahnga formula
3.    
   Nai Pakistan ke nai Shehri
4.      
Ehtesab adalt ka faisla mansookh nhe huwa
5.    
   Aaye aini idraoon k taraf chaleen
6.    
   Nai Aabi mansoobon pw Sindh ke Aetrazat
7.    
   PTI naya NFC award epaye gi?
8.     
  Sooba Junoobi Punjab ya Saraiki?
9.      
Ye raha Sindh Hukmoot ka misaali model

10.  Mr Prime minister

11.   Imran Khan Hukoomat ko drpesh siyasi chalange

12.   Sindh ke masael kon hal krega?

رانا مشہود کی منطق اور بڑا پتھر




رانا مشہود کی منطق اور بڑا پتھر
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا مشہود کی ایک نجی ٹی وی چینل بات چیت بڑی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ جس پر ہر مقتدرہ حلقہ اپنی رائے دینا ضروری سمجھ رہا ہے۔ ترجمان پاک فوج نے نواز لیگ کے رہنما اور سابق وزیر پنجاب رانا مشہود کے بیان کو بے بنیاد اور افسوسناک قرار دیدیا ہے۔ اور کہا کہ ایسے غیر ذمہ دارانہ رویے ملکی استحکام کیلئے نقصاندہ ہیں۔
پی ٹی آئی نے رانا مشہود کے بیان پر مذمتی قراردادپنجاب اسمبلی میں جمع کرائی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ رانا مشہور کو کیا پتہ،کیا مذاکرات ہوئے ہیں۔ رانا صاحب کی وضاحت کام نہیں آئی۔
ن لیگی ترجمان اور ممبر قومی اسمبلی مریم اورنگزیب نے رانا مشہود کے بیان کو ان کی ذاتی رائے قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ رانا مشہود کے بیان کا ن لیگ اور اس کی قیادت سے کوئی تعلق نہیں،بیان قابل حیرت اور باعث تعجب ہے۔ نواز لیگ کے سربراہ شہبازشریف نے ’’متنازعہ بیان‘‘ پر رانا مشہود کی پارٹی رکنیت معطل کر تے ہوئے راجا ظفرالحق کی سربراہی میں انکوائری کیلئے 3 رکنی کمیٹی تشکیل دیدی۔کمیٹی2 ہفتے میں اجلاس بلا کر رانا مشہود سے متنازعہ بیان پر باز پرس کرے گی اور اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ نے بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانچ سال میں ن لیگ پر جتنے الزامات لگائے گئے اس کے بعد ڈیل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ن لیگ تمام معاملات پارلیمنٹ کے اندر طے کرے گی۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بعض اوقات لوگ اپنی خواہشات کو خبر بنا دیتے ہیں، رانا مشہود نے جو بات کی وہ ان کی خواہش تو ہو سکتی ہے لیکن حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے، انہوں نے بیان اپنی سمجھ اور معلومات کی بنیاد پر دیا ہوگا، ان کا بیان خام خیال ہی ہے،مسلم لیگ(ن) ایک جمہوری جماعت ہے جس نے ہمیشہ جمہوریت کا ساتھ دیا،ن لیگ جمہوری انداز سے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور پارلیمانی کمیشن میں پی ٹی آئی کے جعلی مینڈیٹ کا پول کھولے گا، ہمیں عدلیہ پر یقین ہے اور امید ہے کہ شریف خاندان پر جو سیاسی مقدمات بنائے گئے ہیں ان کو ردی کی ٹوکری میں پھینکا جائے گا۔
نواز شریف اور شہباز شریف کے قریبی ساتھی رانا مشہود نے دعویٰ کیا تھاہے کہ آئندہ 2 ماہ بہت اہم ہیں اور پنجاب میں ہماری حکومت ہوگی۔ٹی وی چینلز سے خصوصی بات کرتے ہوئے رانا مشہود نے حکومت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح پی ٹی آئی کو اکثریت دی گئی یہ ساری دنیا کو پتہ ہے اور اب یہ سوچ پیدا ہورہی ہے کہ یہ لوگ ڈلیور نہیں کر پائے اور یہ بھی احساس ہورہا ہے کہ انتخابات میں جو ہوا غلط ہوا۔رانا مشہود نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ انہیں سمجھ آگئی ہے کہ شہباز شریف ہی بہتر چوائس تھے، الیکشن میں جیتنے والی جماعت کو گھوڑا سمجھا گیا لیکن وہ خچر نکلی۔
اب اس بیان کا زیادہ چرچہ ہوا اور ان سے ’’باز پرس‘‘ ہوئی تورانا مشہود نے اداروں سے ڈیل سے متعلق اپنے حالیہ انٹرویو کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کسی ڈیل کی بات نہیں کر رہا، اداروں کے درمیان جو گفتگو ہوتی ہے اس کی بنیاد پر بات کر رہا ہوں کہ پنجاب میں ہماری حکومت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ 2 ڈھائی ماہ بہت اہم ہیں اسی دوران ضمنی انتخابات بھی ہونے ہیں، عدالت یا عوام کے ذریعے موجودہ حکومت کا خاتمہ ہونا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ پنجاب میں آزاد امیدواروں سے جو وعدے کیے گئے وہ وفا نہیں ہوئے اور وہ اپنے حلقوں میں منہ دکھانے کے قابل نہیں ہوئے۔
اگر رانا مشہود کا بیان خام خیال تھا۔ وہ’’ ڈھینگیں‘‘ مار رہے تھے، تو پھر یہ بیان اپنی موت مر جاتا جیسے روزانہ کئی سیاسی بیانات مر جاتے ہیں۔ اس پر اتنا شدید ردعمل دینے کی کیا ضرورت تھی؟ سابق وزیر پنجاب رانا مشہود کے بیان کا لب لباب یہ تھا آئندہ 2 ماہ میں پنجاب میں ن لیگی کی حکومت ہوگی۔ ن لیگ سے اسٹیبلشمنٹ اوراداروں کے معاملات بہت حد تک ٹھیک ہوچکے ہیں۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران جب سے نوازشریف اور ان کاخاندان زیر عتاب ہے بعد مسلسل ڈیل ، ڈھیل اور این آراو کی باتیں ہورہی ہیں۔ایک عدالتی فیصلے کے نتیجے میں نااہلی اور اس کے بعد ایون فیلڈ فیلٹس کیس میں سزائیں ہوئیں۔ نواز شریف جب اپنی اہلیہ کی عیادت کے لئے لندن گئے تو یہ باتیں پھیلائی گئیں کہ اب وہ کبھی بھی واپس وطن نہیں آئیں گے وغیرہوغیرہ۔ ہوا س کے الٹ ۔ ر نواز شریف اورمریم نواز واپس آکر گرفتاری دیدی۔تحریک انصاف کی حکومت تشکیل کے بعد ایک بار پھر نوازشریف سے مفاہمت کی باتیں ہونے لگیں۔ 
یار لوگ یہ بھی کہانیاں بانتے رہے اور مختلف سرے ملاتے رہے کہ سعودی عرب نے نوازشریف کو رہا کرنے کے بدلے دس ارب ڈالر دینے کی پیشکش کی ہے کلثوم نواز کے انتقال پر نواز شریف سے تعزیت کے لئے سعودی عرب ، ترکی اور بعض دیگر ممالک کے سفیروں کی جاتی امراء آمد سے مزید اس طرح کی ’’خبروں ‘‘ٓ پھیلنے لگیں۔ اسی اثناء میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے احتساب عدالت کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے نوازشریف،ان کی صاحبزادی اور داماد کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ سزاؤں کی معطلی سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے یقین نی کرنے والوں کو بھی یقین کرنے پر مجبور کردیا۔ کم از کم دو مواقع موجودہ حکومت کے بارے میں چیف جسٹس آف پاکستان کے ریمارکس آئے، حالانکہ روایتی طور پر عدالتی ریمارکس ہی تھے۔ لیکن تجزیہ نگار ان کو بھی صورتحال کی تبدیلی سے جوڑنے لگے۔
نواز شریف اور مریم نواز ابھی تک کلثوم نواز کے سوگ میں ہیں۔ وقت کے ساتھ اور سزا کی معطلی کے بعد وہ بہت ساری چیزیں معمول پر آگئی ہیں۔ وہ عدالتوں میں پیش بھی ہو رہے ہیں۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ نوازشریف اور ان کی صاحبزادی چپ ہیں۔ یہ طویل چُپ بہت معنی خیز ہے۔ 
اگر رانا مشہود کا بیان صرف سادہ سا ہوتا، تو مخالفین چاہے کوئی بھی ردعمل دیں، نواز لیگ کو اس طرح کا ردعمل نہیں دینا چاہئے تھا۔ بہرحال سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ کا بیان معنی خیز ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نوازلیگ تمام معاملات پارلیمنٹ کے اندر طے کرے گی۔ ابھی قومی اسمبلی کی گیارہ، پنجاب اسمبلی کی تیرہ، خیبرپختونخوا کی نو، سندھ اور بلوچستان اسمبلی کی دو دو اسمبلیوں پر ضمنی انتخابات ہونگے۔ یہ قومی خواہ پنجاب اسمبلی میں ضمنی انتخابات کی یہ تعداد خاصی اہم ہے۔ یوں معاملہ اگر بقول رانا ثناء اللہ کے ایوان کے اندر ہی ہو جائے گا۔ 
یہ درست ہے کہ ضمنی انتخابات میں ہپمیشہ ایک اور سرگرمی بھی آج کی صورتحال کے حوالے سے اہم ہے ۔پیپلزپارٹی اور نواز لیگ میں قربتیں بڑھنے لگی۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ نہ ملی تو باقی کمیٹیوں پر بھی نام نہیں دیں گے۔ خورشید شاہ سے ان کے چیمبر میں شہباز شریف کی ملاقات کی ، شہبار شریف نے مولانا فضل الرحمٰن کو ٹاسک دیا۔ یوں ایک مرتبہ پھر متحدہ اپوزیشن بنانے کا راستہ نکلتا ہے۔ 
عوام کو جلدی کوئی رلیف نہ ملنے کی وجہ سے مایوسی بڑھ رہی ہے۔ جلدی میں پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرنے والوں کی محرومیاں بھی اپنی جگہ پر ہیں۔ یہ درست ہے کہ اس وقت حکومت کے خلاف کی بڑی موبلائیزشن کی گنجائش نہیں۔حکومت کی اپنی پالیسیاں اور اقدامات اور اسکی مختلف حلقوں کے ساتھ تعلقات وغیرہ کے معاملات ہی اہم ہیں۔ رانا مشہود کی بات آج خام خیالی لگ رہی ہے لیکن وقت کے ساتھ اس بات میں وزن بڑھتا جائے گا۔ لگتا ہے کہ انہوں نے کسی بڑے پتھر کے ہلنے کی نشاندہی کردی ہے۔
Nai Baat October 5, 2018 - Sohail Sangi Column
.......................................................................................................................
تجزیہ کار عارف نظامی نے کہا کہ سینیٹ کی نشست پر ن لیگ کو دس ووٹ زیادہ پڑے جبکہ پی ٹی آئی کو پانچ ووٹ کم ملے، یہ ایک نئی حکومت کیلئے علامتی طور پر اچھے اشارے نہیں ہیں، پی ٹی آئی میں نئے آنے والوں کو نوازنے پر تحفظات پائے جاتے
ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد ن لیگ کے حوصلے بلند ہوئے ہیں، شہبازشریف اگر جان مارتے تو پنجاب میں حکومت بناسکتے تھے، ن لیگ اس وقت پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت گرانا نہیں چاہتی ہے، رانا مشہود نے شہباز شریف کی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے، وفاق اور پنجاب میں معلق پارلیمنٹ ہے، پی ٹی آئی کی کارکردگی اچھی نہیں رہتی اور ان کے سہولت کار ان کے نیچے سے قالین کھینچ لیں تو اسے مشکل ہوسکتی ہے، پنجاب میں چوہدری برادران اور وفاق میں ایم کیو ایم اپنی پوزیشن تبدیل کرسکتے ہیں۔سابق ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب راجہ عامر عباس نے کہا کہ نواز شریف خاندان کی سزا معطلی سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ ضرورت سے زیادہ کچھ تفصیلی ہوگیا ہے،سزا معطلی یا ضمانت کے مرحلہ پر کبھی اتنا لمبا فیصلہ نہیں آتا ہے، اس فیصلے میں کچھ ایسے قانونی پہلوئوں کو بھی ڈسکس کرلیا گیا ہے جو حتمی اپیل میں ڈسکس ہونا تھے، ججوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں لگ رہا ہے کہ شاید یہ سزا برقرار نہ رہ سکے۔

Friday, October 5, 2018

سندھ میں لسانی فسادات کی بو



سندھ میں لسانی فسادات کی بو

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی اور اپوزیشن دونوں ایک دوسرے کے اعصاب اور قوت برداشت آزما رہے ہیں۔ تحریک انصاف حکومت نے پیپلزپارٹی کو کھیلنے کے لئے کالاباغ ڈیم اور غیرقانونی مقیم تارکین وطن کو پاکستانی شہریت اور قومی شناختی کارڈ جاری کرنے کے اعلانات کے اشو بنا کر دیئے۔ بجٹ اجلاس میں بجٹ کے بجائے سیاسی تقریر کیں۔ اور ایک دوسرے پر الزامات عائد کئے ۔ سندھ کوئی عالمی یتیم خانہ نہیں کہ برمی بنگالی و افغانی یہیں پر آکر آباد ہوں۔ کالاباغ ڈیم و دوسرے مجوزہ ڈیموں اور غیرملکیوں کو پاکستانی شہریت اور قومی شناختی کارڈ کے خلاف ایوان میں گرمی موجود تھی کہ معاملہ سیاست سے ہٹ کر لسانیت کی طرف چلا گیا۔ ایم کیو ایم کے محمد حسین نے کہا کہ دیہی علاقوں سے منتخب ہو کر آنے والے شہری علاقوں سے انصاف نہیں کرتے۔ کراچی پورے ملک کو پالتا ہے۔سندھ کو پالنے والے کراچی کو پانی نہیں دیا جارہا۔ کراچی کو سندھ حکومت کچھ دینے کے لئے تیار نہیں۔ سابق صوبائی وزیر داخلا سہیل انور سیال اردو بولنے والوں کو ٹارگیٹ بنایا۔ سندھی جان دینا جاتے ہیں تو جان لینا بھی جانتے ہیں۔ چار وز بعد کراچی اور حیدرآباد میں سندھیوں کے خلاف وال چاکنگ نظر آئی۔ اور جوابا ویسی وال چاکنگ مہاجروں کے خلاف بھی کی گئی۔ 
اس خطرے کو بھانپتے ہوئے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے سہیل انور سیال کی تقریر کا نوٹس لیا اور برہمی کا اظہار کیا۔معاملہ اتنا حساس تھا۔ بلاول بھٹو اسلام آباد سے کراچی آئے اور انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات کی۔ اور معاملے کی حساسیت سے آگاہ کیا۔وزیرعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بجٹ پر بحث کو سمیٹتے ہوئے ان تقاریر کا حوالہ دیا۔ انہوں نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جس کی اسمبلی میں پاکستان کی ہر زبان بولنے والے بیٹھے ہیں، میں اپنے اراکین کی طرف سے خود معافی مانگتا ہوں۔ ہمیں اپنے اندر برداشت کا مادہ پیدا کرنا ہوگا، میں خود ہجرت کر کے آیا ہوں میرے بڑے ہجرت کرکے آئے ہیں سندھ نے ہمیں اپنا کہا ہم سندھی ہوگئے، آپ بھی سندھ کو اپنائیں۔انھوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی کو سندھ کے لوگوں نے عزت دی،ا ب وہ بھی سندھی سیکھیں اور کوشش کریں کہ سندھ اسمبلی کا ماحول آگے خراب نہ ہو۔ صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ سید ناصر شاہ نے وضاحت کی کہ سہیل انور سیال جذبات خطابت میں کچھ آگے نکل گئے۔ صوبائی وزیر زراعت محمد اسماعیل راہو نے کراچی میں سندھیوں کے خلاف دیواروں پر وال چاکنگ کرنے والوں کے خلاف ردعمل دیتے ہوئے کا ہے کہ کراچی میں دیواروں پر سندھیوں کے خلاف وال چاکنگ کرنے کی پرزور مذمت کی اور کہا کہ سندھی اور مہاجر آپس میں بھائی ہیں۔ پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ہمارے آنے سے سب سے زیادہ فائدہ مہاجروں کو ہوا ہے مہاجروں کو ایک شخص سے جوڑ دیا گیا جس سے ہم نے علیحدہ کر کے مہاجروں کی اصل شناخت بحال کرائی آج شہر میں لاشیں نہیں ملتیں، شہداء قبرستان مزید آباد نہیں ہو رہا، مہاجر اپنے گھروں پر سو رہے ہیں۔
ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی نے پرانے زخم ہرے کر دیئے ہیں۔ غیر ذمہ دارانہ جملے خواہ کوئی بھی بولے نقصان سندھ کے لوگوں کا ہے۔ تیس سال قبل تیس ستمبر کو سانحہ حیدرآباد ہوا اور دوسری رات یکم اکتوبر کو سانحہ کراچی۔ یہ دونوں دن سندھ کی تاریخ کے سیاہ ترین باب کے طور پر لکھی جائیں گے۔ تیس ستمبر 1988 کی شام کو حیدرآباد شہر میں کاروں اور موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد کی اندھا دھند فائرنگ کی جس میں 250 افراد جاں بحق اور 500 زخمی ہوئے تھے۔ یکم اکتوبر کو کراچی میں سندھی بستیوں کو ٹارگیٹ کیا گیا۔ جس میں درجنوں افراد قتل و زخمی ہوئے۔ حکومت نے کراچی اور حیدرآباد میں فوج طلب کرلی اورکرفیو ناٖفذ کردیا۔ سندھ کی دو لسانی آبادیوں میں کشیدگی اور پرتشدد واقعات جون 1988 سے ہو رہے تھے۔ اس سے پہلے مارچ 1983 میں جب ایم کیو ایم بلدیاتی انتخابات جیت کرآئی توسندھ کے ترقی پسند اور کسان رہنما کامریڈ حیدربخش جتوئی کے نام سے منسوب شہر کے گاڑی کھاتہ میں واقع حیدر چوک کا نام تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی، اور کچھ قابل اعتراض وال چاکنگ کی گئی تھی۔ 
عجیب بات ہے کہ 80 کے عشرے میں بھی ماہ ستمبر اور اکتوبر میں خونریزی ہوئی تھی۔ لسانی ب بنیادوں پر پرتشدد واقعات نے کراچی شہر کو لپیٹ میں لے لیا۔ اورمعاملہ دہشتگردی تک جا پہنچا۔ 
سوشل میڈیا پر بھی خطرے کا الارم بج گیا۔ اور گرما گرم بحث چھڑ گئی ہے۔ سندھ کے اہل دانش حلقوں میں تاثر پایا جاتا ہے جس کا اظہار مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا دونوں پر کیا جارہا ہے کہ آج کے مقتدرہ قوتوں کا تکون ایک پیج پہ ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری بھی کہتے ہیں فوج اور عدلیہ حکومت کی پشت پر کھڑے ہیں۔ سیلکیڈ وزیراعظم کو مصنوعی طریقے سے جتنی شہرت دی گئی اس کے نقصانات کا اندازہ اسٹیبلشمینٹ کو اب شاید اچھی طرح ہونے لگا ہے جب اس وقت سندہ اور پنجاب میں عمران خان کی حکومت اور اس کو سپورٹ کرنیوالے اداروں کے خلاف نفرت، غم و غصہ سڑکوں پہ آیا گیاہے۔دانشور اور حقوق کی ایکٹوسٹ امر سندھو سوشل میڈیا پر لکھتی ہیں کہ جہاں اسٹبلشمنٹ کی یہ تینوں طاقتیں ایک پیج پہ ہیں وہاں سندھ کا سیاسی و سماجی شعور بغیر کسی سیاسی جماعت کے فرق کے ایک سڑک پہ اس ’’نئے پاکستان ‘‘کے خلاف احتجاج میں ہے۔ سندھ کی زبان سنیں تو۔ پسینہ آنے لگتا ہے کہ اب سندھ کی دس سالہ خاموشی اچانک اس طرح پھر سے سیاسی طور مزاحمتی شکل میں سامنے آ رہی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے سندھ کے عوام کو پھر سے لسانی آگ میں دھکیلا جائے۔ اسمبلی میں اپنے مہروں کو آگے کرنے کے باوجود مطلوبہ نتائج نہ آنے پہ اس قسم کی نعرے بازی شروع کردی ہے۔ لگتا ہے پھر سے کوئی تیس ستمبر یا پہلی اکتوبر کرا کے اس طوفان سے توجہ ہٹانا چاہتی ہے جو ڈیم کی چندہ مہم سے شروع ہو کر این ایف سی ایوارڈ اور اٹھارویں ترمیم پہ حملے کی صورت میں نازل ہونے والا ہے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کی طرف سے کوئی سنجیدہ ردعمل ظاہر کر کی بجائے گھٹیا فلموں جیسے ڈائلاگ پر مبنی نفرت آمیز تقریروں بھی دراصل عتاب میں آئی ہوئی اپنی گردن بچا کر سندھ کے عوام کو سستی پر خطرناک لسانی تصادم کے منہ میں دھکیلنا ہے ۔لہذا سندھ کے تمام باشندے (بشمو ل اردو اور سندھی بولنے والے) کو سستی جذباتیت کا شکار ہونے کی بجائے اپنی مزاحمتی سیاست سے مرکزی حکومت اور ’’نیا پاکستان‘‘ کا نعرہ لگانے والوں کے ان منصوبوں کو بے نقاب کرنا ہے جس میں صوبائی خود مختاری سے لیکر مالیاتی ایوارڈ بھی چھیننے کی کوشش کی جارہی رہی ہے۔ لسانی تصادم کسی صورت سندہ کے مفاد میں نہیں ، اس لئیے اس آگ میں حصہ لینے کی بجائے پیپلز پارٹی پریشر ڈالیں کہ عوام کو لسانی تصادم میں الجھانے بجائے مرکز سے پانی، مالیاتی ایوارڈ اور صوئی خودمختاری پہ پوزیشنیں اور عوام بھی سستے ڈرامے کا کردار بننے کے بجائے اپنے آئینی حقوق کے حصول پہ توجہ دے۔ 
ایک حلقہ اس خیال کا ہے کہ اس وقت پاکستان سخت معاشی بحران میں ہے۔ اب مستقل مفادات رکھنے والے سندھ میں جھگڑے کرواکر کراچی کی سندھ سے علیحدگی کرادی جائے جس کیلئے ایم کیو ایم کے بکھرے ہوئے ٹکڑے کام آئیں گے۔ اس طرح کراچی وفاق کا سبجیکٹ بنادیا جائیگا ۔یوں کراچی سے حاصل ہونے والا 70 فی صد ریوینیو وفاق کو چلا جائے گا اور سندھی اور اردو بولنے والے سندھی ہاتھ ملتے رہ جائیں گے اور ایک دوسرے سے دست و گریبان رہیں گے۔ 
گزشتہ دس سال تک ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی اقتدار میں شریک رہے ہیں۔ اب چونکہ معالہ کھل کر سامنے آگیا ہے۔ دونوں جماعتوں خواہ دونوں آبادیوں کو کو احتیاط اورہوش سے کام لینا چاہئے کہ کہیں کوئی اشتعال انگیزی کسی بڑے واقعہ کی شکل نہ اختیار کر لے اورواقعات سندھ کو 80 کے عشرے میں نہ دھکیل دیں۔ 



Nai Baat October 4, 2018. ethnic riots in Sindh fear