Monday, October 8, 2018

رانا مشہود کی منطق اور بڑا پتھر




رانا مشہود کی منطق اور بڑا پتھر
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا مشہود کی ایک نجی ٹی وی چینل بات چیت بڑی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ جس پر ہر مقتدرہ حلقہ اپنی رائے دینا ضروری سمجھ رہا ہے۔ ترجمان پاک فوج نے نواز لیگ کے رہنما اور سابق وزیر پنجاب رانا مشہود کے بیان کو بے بنیاد اور افسوسناک قرار دیدیا ہے۔ اور کہا کہ ایسے غیر ذمہ دارانہ رویے ملکی استحکام کیلئے نقصاندہ ہیں۔
پی ٹی آئی نے رانا مشہود کے بیان پر مذمتی قراردادپنجاب اسمبلی میں جمع کرائی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ رانا مشہور کو کیا پتہ،کیا مذاکرات ہوئے ہیں۔ رانا صاحب کی وضاحت کام نہیں آئی۔
ن لیگی ترجمان اور ممبر قومی اسمبلی مریم اورنگزیب نے رانا مشہود کے بیان کو ان کی ذاتی رائے قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ رانا مشہود کے بیان کا ن لیگ اور اس کی قیادت سے کوئی تعلق نہیں،بیان قابل حیرت اور باعث تعجب ہے۔ نواز لیگ کے سربراہ شہبازشریف نے ’’متنازعہ بیان‘‘ پر رانا مشہود کی پارٹی رکنیت معطل کر تے ہوئے راجا ظفرالحق کی سربراہی میں انکوائری کیلئے 3 رکنی کمیٹی تشکیل دیدی۔کمیٹی2 ہفتے میں اجلاس بلا کر رانا مشہود سے متنازعہ بیان پر باز پرس کرے گی اور اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ نے بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانچ سال میں ن لیگ پر جتنے الزامات لگائے گئے اس کے بعد ڈیل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ن لیگ تمام معاملات پارلیمنٹ کے اندر طے کرے گی۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بعض اوقات لوگ اپنی خواہشات کو خبر بنا دیتے ہیں، رانا مشہود نے جو بات کی وہ ان کی خواہش تو ہو سکتی ہے لیکن حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے، انہوں نے بیان اپنی سمجھ اور معلومات کی بنیاد پر دیا ہوگا، ان کا بیان خام خیال ہی ہے،مسلم لیگ(ن) ایک جمہوری جماعت ہے جس نے ہمیشہ جمہوریت کا ساتھ دیا،ن لیگ جمہوری انداز سے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور پارلیمانی کمیشن میں پی ٹی آئی کے جعلی مینڈیٹ کا پول کھولے گا، ہمیں عدلیہ پر یقین ہے اور امید ہے کہ شریف خاندان پر جو سیاسی مقدمات بنائے گئے ہیں ان کو ردی کی ٹوکری میں پھینکا جائے گا۔
نواز شریف اور شہباز شریف کے قریبی ساتھی رانا مشہود نے دعویٰ کیا تھاہے کہ آئندہ 2 ماہ بہت اہم ہیں اور پنجاب میں ہماری حکومت ہوگی۔ٹی وی چینلز سے خصوصی بات کرتے ہوئے رانا مشہود نے حکومت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح پی ٹی آئی کو اکثریت دی گئی یہ ساری دنیا کو پتہ ہے اور اب یہ سوچ پیدا ہورہی ہے کہ یہ لوگ ڈلیور نہیں کر پائے اور یہ بھی احساس ہورہا ہے کہ انتخابات میں جو ہوا غلط ہوا۔رانا مشہود نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ انہیں سمجھ آگئی ہے کہ شہباز شریف ہی بہتر چوائس تھے، الیکشن میں جیتنے والی جماعت کو گھوڑا سمجھا گیا لیکن وہ خچر نکلی۔
اب اس بیان کا زیادہ چرچہ ہوا اور ان سے ’’باز پرس‘‘ ہوئی تورانا مشہود نے اداروں سے ڈیل سے متعلق اپنے حالیہ انٹرویو کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کسی ڈیل کی بات نہیں کر رہا، اداروں کے درمیان جو گفتگو ہوتی ہے اس کی بنیاد پر بات کر رہا ہوں کہ پنجاب میں ہماری حکومت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ 2 ڈھائی ماہ بہت اہم ہیں اسی دوران ضمنی انتخابات بھی ہونے ہیں، عدالت یا عوام کے ذریعے موجودہ حکومت کا خاتمہ ہونا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ پنجاب میں آزاد امیدواروں سے جو وعدے کیے گئے وہ وفا نہیں ہوئے اور وہ اپنے حلقوں میں منہ دکھانے کے قابل نہیں ہوئے۔
اگر رانا مشہود کا بیان خام خیال تھا۔ وہ’’ ڈھینگیں‘‘ مار رہے تھے، تو پھر یہ بیان اپنی موت مر جاتا جیسے روزانہ کئی سیاسی بیانات مر جاتے ہیں۔ اس پر اتنا شدید ردعمل دینے کی کیا ضرورت تھی؟ سابق وزیر پنجاب رانا مشہود کے بیان کا لب لباب یہ تھا آئندہ 2 ماہ میں پنجاب میں ن لیگی کی حکومت ہوگی۔ ن لیگ سے اسٹیبلشمنٹ اوراداروں کے معاملات بہت حد تک ٹھیک ہوچکے ہیں۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران جب سے نوازشریف اور ان کاخاندان زیر عتاب ہے بعد مسلسل ڈیل ، ڈھیل اور این آراو کی باتیں ہورہی ہیں۔ایک عدالتی فیصلے کے نتیجے میں نااہلی اور اس کے بعد ایون فیلڈ فیلٹس کیس میں سزائیں ہوئیں۔ نواز شریف جب اپنی اہلیہ کی عیادت کے لئے لندن گئے تو یہ باتیں پھیلائی گئیں کہ اب وہ کبھی بھی واپس وطن نہیں آئیں گے وغیرہوغیرہ۔ ہوا س کے الٹ ۔ ر نواز شریف اورمریم نواز واپس آکر گرفتاری دیدی۔تحریک انصاف کی حکومت تشکیل کے بعد ایک بار پھر نوازشریف سے مفاہمت کی باتیں ہونے لگیں۔ 
یار لوگ یہ بھی کہانیاں بانتے رہے اور مختلف سرے ملاتے رہے کہ سعودی عرب نے نوازشریف کو رہا کرنے کے بدلے دس ارب ڈالر دینے کی پیشکش کی ہے کلثوم نواز کے انتقال پر نواز شریف سے تعزیت کے لئے سعودی عرب ، ترکی اور بعض دیگر ممالک کے سفیروں کی جاتی امراء آمد سے مزید اس طرح کی ’’خبروں ‘‘ٓ پھیلنے لگیں۔ اسی اثناء میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے احتساب عدالت کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے نوازشریف،ان کی صاحبزادی اور داماد کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ سزاؤں کی معطلی سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے یقین نی کرنے والوں کو بھی یقین کرنے پر مجبور کردیا۔ کم از کم دو مواقع موجودہ حکومت کے بارے میں چیف جسٹس آف پاکستان کے ریمارکس آئے، حالانکہ روایتی طور پر عدالتی ریمارکس ہی تھے۔ لیکن تجزیہ نگار ان کو بھی صورتحال کی تبدیلی سے جوڑنے لگے۔
نواز شریف اور مریم نواز ابھی تک کلثوم نواز کے سوگ میں ہیں۔ وقت کے ساتھ اور سزا کی معطلی کے بعد وہ بہت ساری چیزیں معمول پر آگئی ہیں۔ وہ عدالتوں میں پیش بھی ہو رہے ہیں۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ نوازشریف اور ان کی صاحبزادی چپ ہیں۔ یہ طویل چُپ بہت معنی خیز ہے۔ 
اگر رانا مشہود کا بیان صرف سادہ سا ہوتا، تو مخالفین چاہے کوئی بھی ردعمل دیں، نواز لیگ کو اس طرح کا ردعمل نہیں دینا چاہئے تھا۔ بہرحال سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ کا بیان معنی خیز ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نوازلیگ تمام معاملات پارلیمنٹ کے اندر طے کرے گی۔ ابھی قومی اسمبلی کی گیارہ، پنجاب اسمبلی کی تیرہ، خیبرپختونخوا کی نو، سندھ اور بلوچستان اسمبلی کی دو دو اسمبلیوں پر ضمنی انتخابات ہونگے۔ یہ قومی خواہ پنجاب اسمبلی میں ضمنی انتخابات کی یہ تعداد خاصی اہم ہے۔ یوں معاملہ اگر بقول رانا ثناء اللہ کے ایوان کے اندر ہی ہو جائے گا۔ 
یہ درست ہے کہ ضمنی انتخابات میں ہپمیشہ ایک اور سرگرمی بھی آج کی صورتحال کے حوالے سے اہم ہے ۔پیپلزپارٹی اور نواز لیگ میں قربتیں بڑھنے لگی۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ نہ ملی تو باقی کمیٹیوں پر بھی نام نہیں دیں گے۔ خورشید شاہ سے ان کے چیمبر میں شہباز شریف کی ملاقات کی ، شہبار شریف نے مولانا فضل الرحمٰن کو ٹاسک دیا۔ یوں ایک مرتبہ پھر متحدہ اپوزیشن بنانے کا راستہ نکلتا ہے۔ 
عوام کو جلدی کوئی رلیف نہ ملنے کی وجہ سے مایوسی بڑھ رہی ہے۔ جلدی میں پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرنے والوں کی محرومیاں بھی اپنی جگہ پر ہیں۔ یہ درست ہے کہ اس وقت حکومت کے خلاف کی بڑی موبلائیزشن کی گنجائش نہیں۔حکومت کی اپنی پالیسیاں اور اقدامات اور اسکی مختلف حلقوں کے ساتھ تعلقات وغیرہ کے معاملات ہی اہم ہیں۔ رانا مشہود کی بات آج خام خیالی لگ رہی ہے لیکن وقت کے ساتھ اس بات میں وزن بڑھتا جائے گا۔ لگتا ہے کہ انہوں نے کسی بڑے پتھر کے ہلنے کی نشاندہی کردی ہے۔
Nai Baat October 5, 2018 - Sohail Sangi Column
.......................................................................................................................
تجزیہ کار عارف نظامی نے کہا کہ سینیٹ کی نشست پر ن لیگ کو دس ووٹ زیادہ پڑے جبکہ پی ٹی آئی کو پانچ ووٹ کم ملے، یہ ایک نئی حکومت کیلئے علامتی طور پر اچھے اشارے نہیں ہیں، پی ٹی آئی میں نئے آنے والوں کو نوازنے پر تحفظات پائے جاتے
ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد ن لیگ کے حوصلے بلند ہوئے ہیں، شہبازشریف اگر جان مارتے تو پنجاب میں حکومت بناسکتے تھے، ن لیگ اس وقت پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت گرانا نہیں چاہتی ہے، رانا مشہود نے شہباز شریف کی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے، وفاق اور پنجاب میں معلق پارلیمنٹ ہے، پی ٹی آئی کی کارکردگی اچھی نہیں رہتی اور ان کے سہولت کار ان کے نیچے سے قالین کھینچ لیں تو اسے مشکل ہوسکتی ہے، پنجاب میں چوہدری برادران اور وفاق میں ایم کیو ایم اپنی پوزیشن تبدیل کرسکتے ہیں۔سابق ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب راجہ عامر عباس نے کہا کہ نواز شریف خاندان کی سزا معطلی سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ ضرورت سے زیادہ کچھ تفصیلی ہوگیا ہے،سزا معطلی یا ضمانت کے مرحلہ پر کبھی اتنا لمبا فیصلہ نہیں آتا ہے، اس فیصلے میں کچھ ایسے قانونی پہلوئوں کو بھی ڈسکس کرلیا گیا ہے جو حتمی اپیل میں ڈسکس ہونا تھے، ججوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں لگ رہا ہے کہ شاید یہ سزا برقرار نہ رہ سکے۔

No comments:

Post a Comment