Thursday, February 28, 2019

خطے کی صورتحال اور بھارت


خطے کی صورتحال اور بھارت
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
دو ہفتے تک برصغیر کے دو بڑے ممالک کے درمیان شدید کشیدگی رہی۔ کشیدگی کی حس یہ تھی کہ پاکستان اور انڈیا دونوں نے اپنے فوجی سربراہوں کو مناسب صورت میں کارروائی کے اختیارات بھی دے دیئے تھے۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حالات بہت غیر معمولی ہیں۔امریکی صدر ٹرمپ نے اس کو خطرناک قرار دیا اورحالات کی سنگینی پر تشویش کا اظہار کیا ۔ اور کہا کہ امریکہ اس کشیدگی کا خاتمہ چاہتا ہے۔ 
پاک بھارت تعلقات میں حالیہ کشیدگی بظاہر پلوامہ واقعے کے بعد ابھری۔ لیکن اس سے قبل بھی یہ چنگاری جل رہی تھی۔ بھارت کے اس جارحانہ اور جنگجویانہ رویے کو وہاں ہونے والے انتخابات سے بھی جوڑا جارہا ہے۔ بھارتی وزیراعظم مودی اس بنیاد پر انتخابات جیتنا چاہتے ہیں۔ کسی حد تک یہ بات درست بھی لگتی ہے۔ 
چھ آٹھ ماہ پہلے تک بھارت میں صورتحال یہ تھی کہ مختلف صوبوں میں چھوٹے چھوٹے سیاسی گروپ ابھر رہے تھے۔ وہ مودی کی حکمران بی جے پی کو شکست دینے کے ایک نکاتی ایجنڈے پر قرب آرہے تھے۔ اگر ان گروپوں کے ایک دوسرے سے قریب آنے کا سلسلہ جاری رہتا تو شاید بی جے پی بڑی انتخابات میں بڑی اکثریت حاصل نہیں کرسکتی تھی اور اسکو حکومت بنانے یا اس وک مستحکم رکھنے کے لئے اتحادیوں کی ضرورت پڑتی۔

گزشتہ پانچ سال کے دوران بھارت میں رنوما ہونے والے واقعات کے مطالع سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت میں جمہوری اور کثیر مذہبی، رواداری کا رنگ ہلکا پڑا ہے۔ اس کی جگہ انتہا پسندی، ملک خواہ خطے میں بالادست ہونے کی طرف گیا ہے۔ اس نئی پہچان نے روشن خیال، جمہوریت پسند، ملک کو ہر حوالے سے کثیر رنگی کے ماحول کے لئے خطرہ پیدا کردیا۔ مودی کی اس پالیسی کی ملک کے اندر بھی مزاحمت ہوتی رہی۔ فکری سطح پر یہ رجحان مضبوط ہورہا تھا۔جس کو سیاسی اور عملی شکل دینا باقی تھا۔ انہیں معلوم تھا کہ اس کے خلاف جو قوتیں جمع ہو رہی ہیں ان میں مخلتف الخیالی زیادہ ہے۔اور ان کا اتحاد جو ابھی ابتدائی شکل میں ہے، ایک ملک گیر سطح قوت کی شکل اختیار نہیں کر سکا ہے۔ اس صورتحال میں نریندر مودی ایک ایسے کارڈ کی تلاش میں تھے کہ وہ لوگوں کو ایک چھتری کے نیچے کھڑا کر سکے۔ اور رومانس پیدا کر سکے۔ 

مذہبی رومانیت بہرحال برصغیر کا المیہ رہی ہے۔ سیاست ہو یااور کوئی سماجی تعلق خوف اور لالچ یا بالادستی ہمیشہ انسان کے لئے پر کشش رہے ہیں۔ یہی تینوں چیزیں اس کی سوچ اور عمل کا اہم محرک رہی ہیں۔لہٰذا انہوں نے ہندوتوا اور پاکستان سے کشیدگی کا بیانیہ اختیار کیا۔

مودی کی پالیسی ایک طرف ملک کی اندرونی سیاست کو ظاہر کرتی ہے اور اس کا توڑ ڈھونڈتی ہے تو دوسری طرف خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے بھی اس کا گہرا تعلق ہے۔اس خطے میں امریکہ اور سوویت یونین دو بڑے کھلاڑی رہے ہیں۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد خطے میں خلاء پیدا ہوا۔ نوے کے عشرے میں امریکہ کی دلچسپی ختم ہونے لگی۔ یہاں تک کہ افغان کی پراکسی جنگ میں اہم پارٹنر پاکستان کوامریکہ نے اعلانیہ طور پر غیراہم قرار دے دیا تھا۔پھر ہوا یہ کہ چین اور انڈیا اپنا اثر رسوخ بڑھانے لگے۔ ان کی معیشتیں بڑی تھی اور وہ براہ راست کسی بڑے اور جلتے ہوئے تنازع میں ملوث نہیں تھے۔اس لے ان کو یہ سہولت حاصل ہو گئی کہ وہ اپنی حیثیت منائیں اور ایک جگہ حاصل کر لیں۔ 
پاکستان دشتگردی کے خلاف عالمی جنگ کا پارٹنر بنا تو کچھ دہشتگردی اس کو اپنے حصے میں بھی آئی، جس کا وہ خود بھی شکار ہوتارہا۔ دوسری جانب پڑوسی ممالک پاکستان پر دہشتگردی ایکسپورٹ کرنے کا الزام لگاتے رہے۔

اب جب افغانستان سے امریکہ اپنی افواج کے انخلاء میں سنجیدہ ہے ، اور تیاری کے لئے طالبان سے بات چیت ہورہی ہے۔ تو ایک بار پھر خطے میں خال پیدا ہونے جارہا ہے۔ اس خال کو پر کرنے کے لئے چین اور انڈیا دونوں کوشان ہیں چین کا سی پیک منصوبہ خطے سے بعد از امریکی انخلاء کے لئے بنائے رکھا تھا۔اس منصوبے میں پاکستان حصہ دار ہے۔ اس کے جواب میں انڈیا ایران سے قربت رکھتے ہوئے افغانستان اور وسطی ایشیا میں اپنا مارکیٹ اور رول یقینی بنانا چہاتا ہے۔ چہار بہار بندرگاہ اس کی واضح مثال ہے۔ 
ابھی انڈیاور چین کے درمیان مقابلہ جاری تھا کہ سعودی عرب بھی خطے میں اہم کردار ادا کرنے کے لئے میدان میں آگیا ہے۔ یہ خطہ جہاں اکثرمسلم ممالک ہیں، لہٰذا سعودی عرب کے لئے سوچ کے حوالے سے نرم گوشہ موجود ہے۔ انڈیا اپنی پالیسیوں کو منتوع بنا رہا ہے ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع اور کشیدگی ہے۔ جو کسی بھی وقت بھڑک سکتی ہے لیکن انڈیٰا کے امریکہ خواہ ایران دونوں سے قریبی تعلقات ہیں۔ بلکہ انڈیا ایران کے ذریعے افغانستان اور وسط ایشیا تک راسئی کر رہا ہے۔ 
پاکستان اور انڈیا کے درمیان تنازع ہے لیکن انڈیا کے سعودی عرب کے ساتھ گہرے معاشی تعلقات ہیں۔ پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری سے انڈیا میں سعودی عرب نے کئی گنازیادہ سرمایہ کاری کی ہوئی ہے ۔ عالمی اقتصادی ماہرین کے مطابق سعودی عرب کے انڈیا میں معاشی مفادات زیادہ ہیں۔ سعودی عرب علاقے میں نہ صرف معاشی بلکی جغرافیائی حکمت عملی اور فوجی حکمت عملی کے حوالے سے بھی اس خطے میں اہم کردارا دا کرنا چاہتا ہے اس مقصد کے لئے مسلم ممالک کی اتحادی فوج کی بنیاد رکھی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ معاشی معاملات میں انڈیا سے اور فوجی معاملات میں پاکستان سے قریب ہونے جارہا ہے۔ 
سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی ہے لیکن یہاں یہ امر بھی اہم ہے کہ انڈیا سعودی عرب اور ایران دونوں سے نبھا کر رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب چین کے ساتھ اسلح اور بعض فوجی امور کے تعلقات بنانے جارہا ہے۔ ان دونوں کو قریب لانے میں پاکستان بھی رول ادا کرسکتاہے۔ ولی عہدسعودی عرب کا دورہ پاکستان، انڈیا، چین اور ملائیشیا اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔

چند ماہ پہلے امریکہ نے پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے قرض دینے کی مخالفت کی تھی۔ لیکن اب پاکستان کومعاشی بحران سے نکالنے کے لئے ایک طرف آئی ایم ایف قرضہ دینے کے لئے تیار ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب پاکستان کی مالی مدد کرنے کے لئے تیار ہو گیا ہے۔ خطے میں مختلف ممالک کا اباہمی روابط اور تعلقات کے ساتھ ساتھ جوڑ توڑ جاری ہے۔ اس کھینچاتانی نے ایک نئی صورتحال کو جنم دیا ہے۔ جس کے اثرات مجموعی طور پر اس خطے کے صورتحال پر ہی نہیں بلکہ خطے کے ممالک کی اندرونی صورتحال خواہ سیاست پر بھی پڑ رہے ہیں۔ 
برصغیرکے عوام کو سمجھنا چاہئے یہ بات اہم ہے کہ آج کے دور کے مختلف جحانات اور تضادات کیلئے اس خطے کا میدان زیادہ موزوں ہے ۔القاعدہ، داعش اور دیگر انتہا پسند تنظیموں کیلئے میدانِ جنگ بھی یہی خطہ ہے۔ انڈیا کی ا ندرونی سیاست خواہ پاکستان کی طرف رویہ اور خارجہ پالیسی اس پس منظر میں ہی سمجھی جاسکتی ہے۔ امریکہ کی جانب سے نوٹس لینے کے بعد پاک بھارت کشیدگی میں کسی حد تک کمی ہوئی ہے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے موقف میں لچک آگئی، زبان نرم اور انداز بدل گئے۔ جس کا اظہار انہوں نے راجستھان میں ریلی سے خطاب کرتے وقت کیا۔

بھارت کی جنگ پسند رویہ کے باعث وہاں کی جمہوری اور رواداری اور برداشت کے نظام کو جو نقصان پہنچا سو پہنچا لیکن اس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑنے لگے ہیں۔ یہاں بھی رواداری اور برداشت کا ماحول دباؤ میں آگیا ہے۔ بھارتی وزیراعظم کی پالیسی نہ صرف اپنے عوام کو بلکہ پاکستان کے عوام کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے اور پورے برصغیر میں جمہوری اور رواداری کو پیچھے کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ عالمی اور علاقائی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں اور نئی صف بندیوں کے تناظر میں دیکھنا چاہئے۔اس صورتحال کو سمجھنے کے لئے پاکستان خواہ بھارت دونوں کی جمہوری اور اہل دانش کو یہ پس منظر نظر میں رکھنا چاہئے اور اس اسی حوالے سے اپنا رول ادا کرنا چاہئے۔

Indo Pak relations new turn. Regional situation and Indian attitude towards Pakistan

دو جنگوں کا مشاہدہ اور ہجرت کا تجربہ



دوجنگوں اور ہجرت کا تجربہ 

سہیل سانگی
میں نے کبھی جنگ لڑی تو نہیں، لیکن جنگ لڑتے دیکھی ضرور ہے۔ اور اس جنگ کے اثرات کا تجربہ بھی ہے۔ مجھیاچھی طرح سے یاد ہے میں جب تھرپارکر کے شہر چھاچھرو ہائی اسکول میں نویں جماعت کا طالبعلم تھا تو 1965 کی جنگ ہوئی تھی۔ تب تھر میں نہ سڑکیں تھی نہ دیگر سہولیات۔ چھاچھرو تحصیل ہیڈ کوارٹر تھا۔ اس پسمنادہ اور دور دراز علاقے کے باسیوں نے کبھی فوج دیکھی نہیں تھی۔ شہر میں زیر تعلیم طلباء نے بھی کسی فوجی کو نہیں دیکھا تھا۔سوائے نصاب کی کتب میں فیلڈ مارشل ایوب خان کی تصویر کے یا کبھی کبھار اخبارات میں کسی فوجی تقریب کے۔ البتہ رینجرز سے واقف تھے اور تھر کے لوگ اسی کو فوج سمجھتے تھے۔ مختلف چوکیوں پر تعینات رینجرز کے پاس اونٹ ہوتے تھے۔ ان کی گاڑیان کبھی کسی افسر کے دورے کے موقع پر ہی نظر آتی تھی۔ وہ بھی تین چار ماہ میں کوئی ایک مرتبہ۔ 
رن آف کچھ میں لڑائی ہوئی ، اس کا ذکر بھی ریڈیو پر یا تھوڑا سا اخبار سے پتہ چلا۔ تھر کے لوگ اس لڑائی سے لاتعلق نظر آتے تھے۔ سب سمجھتے رہے کہ یہ بہت دور کی بات ہے۔ پھر اچانک شہر میں رینجرز کی نفری زیادہ آگئی۔ اور فوج بھی نظر آنے لگی۔ اگلے دو تین روز کے بعد ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر نے مسلمان طلباء کو بلایا اور بتایا کہ انڈیااور پاکستان کے درمیان جنگ شروع ہو چکی ہے۔ اور ہم مسلمان لڑکوں کو بطور اسکاؤٹ ڈیوٹی دینی ہے۔ 
دیہی علاقوں سے آکر ہوسٹل میں قیام پزیر لڑکے اسکول کی اسکاؤٹ سرگرمی یا دیگرغیر نصابی سرگرمیوں میں کم ہی حصہ لیتے تھے۔ شہر میں مسلم آبادی کم تھی، جس کی تعلیم سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ شہر میں رہنے والے کچھ غیر مسلم لڑکے اس طرح کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے تھے۔ ہم مسلم لڑ کوں کو اسکاؤٹنگ کے بارے میں میں کچھ بھی پتہ نہیں تھا۔ہم میں سے کسیایک نے ہیڈ ماسٹرکو بتایا بعض غیر مسلم لڑکے اچھے اسکاؤٹ ہیں۔ جس پر انہوں نے بتایا کہ نہیں۔ صرف سملم لڑکوں کو ہی یہ کام کرنا ہے اوپر سے آرڈر ہے۔ 
خیر ہمیں ہمارے ڈرل ٹیچر جو کہ ایک ریٹائرڈ فوجی حولدار یا لانس نائک تھے ان کے حوالے کیا گیا۔تین تین کے گروپ بنائے گئے اور ہر گروپ کو شہر کا ایک محلہ دیا گیا۔ جہاں پر ہماری ڈیوٹی یہ تھی کہ سورج غروب ہونے کے بعد ہمیں شہر میں بلیک آؤٹ پر عمل درآمد کرانا ہے۔ کوئی روشنی نظر نہ آئے۔ ہمیں ہلکی پھلکی ہدایات اور تربیت دینے کے بعد ایک سیٹی (وسل) ایک چھوٹی سی ڈنڈی اور ایک بیج دیا گیا۔ ہم سورج غروب ہونے کے بعد رات کو بارہ بجے تک متعلقہ محلے کی گلیوں میں آوزایں لگاتے رہتے تھے کہ بتیناں بند کرو۔ چھاچھرو شہر میں تب بجلی نہیں تھی۔ لوگ مٹی کے تیل کی لالٹین جلاتے تھے۔ ایک دم شہر کا معمول بدل گیا۔ ایک یہ کہ رات کا کھانا سورج غروب ہونے سے پہلے پکالیا جاتا تھا، اور اس کے بعد اندھیرا ہوتا تھا۔ ہم مسلم لڑکے خود کو شہر کے ان غیر مسلم ہندوؤں سے بالاتر سمجھنے لگے۔ اور یہ بھی مزہ آنے لگا کہ ہم بھی حکم چلا سکتے ہیں بلکہ چلا رہے ہیں۔ شہر میں مقیم ہندو آبادی میں بے أرامی محسوس ہو رہی تھی۔ ان میں غیر یقنینی کیفیت کو ہم محسوس تو کر رہے تھے لیکن سمجھ نہیں پارہے تھے کہ آکر مسئلہ کیا ہے؟ ہم لوگ بھی تو رہ رہے ہیں۔ برسوں بعد ان کی اس کیفیت کی وجہ سمجھ میں آئی۔ 
مزید فوج اور ر ینجرز شہر میں آنے لگی۔ ہمارے ہوسٹلے قریب واقع سرکاری ریسٹ ہاؤس میں فوجی افسران أنے لگے۔ چھاچھرو شہر کے لگوں نے زندگی میں پہلی بار ہیلی کاپٹر بھی دیکھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ جنرل ٹکا خان جن کے پاس اس سیکٹر کی کمانڈ تھے وہ دورے پر أئے تھے۔ ہیلی کاپٹر ریسٹ ہاؤس کے پاس میدان میں اترا تو اتنازور سے شور ہوا اور مٹی اڑی تھی جس کا ہم میں سے کسی کو پہلے تجربہ نہیں تھا۔ہوسٹل کا ایک حصہ فوج اور رینجرز کے حوالے کردیا گیا۔ جہاں پر محاذ سے واپس آنے والے یا محاذ پر جانے والے سپاہیوں کو ٹہریا جاتا۔ لیکن یہاں وہ سپاہی ہوتے تھے جو بیمار یا زخمی ہوتے تھے۔ ان سے کبھی کبھی کبھار محاذکے قصے کچھ حقیقی کچھ مبالغے والے سنتے تھے۔ 
لیکن ہماری یہ حکمرانی زیادہ دن نہیں چلی۔محاذ جیسے ہی تیزی آئی، اسکول اور ہوسٹل بند کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اور ہوسٹلرز سے کہا گیا کہ وہ اپنے اپنے گاؤں چلے جائیں۔
جب ڈیڑھ ماہ بعد واپس آئے تو جنگ ختم ہو چکی تھی۔ ریجرز کا شہر کے مغربی حصے میں ہیڈکوارٹر بن چکا تھا۔ شہر میں بھی رینجرز کی موجودگی کو محسوس کیا جاسکتا تھا۔ بعض سرکاری عمارتیں ابھی تک رینجرز یا فوجی استعمال میں تھی۔ یہاں تک کہ مسلم ہوسٹل بھی۔ اسکول ہیڈ ماسٹر نے بڑی جدوجہد کے بعد ہوسٹل کا ایک حصہ طلباء کے لئے خالی کرایا اور تین کمرے رینجرز کو دے دیئے گئے۔ بیچ میں دیوار کھڑی کردی گئی۔ 
شہر کا ماحول تبدیل تھا۔ اسکول میں حاضری کم تھے، دیہی علاقوں سے نصف بچے بھی واپس نہیں آسکے تھے۔ تب یہ پتہ چلا کہ کچھ علاقوں پر انڈیا نے قبضہ بھی کیا ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ انڈیا کے راجستھان صوبے سے ہزاروں کی تعداد میں مسلم آبادی یہاں منتقل ہو گی ہے۔ تھر کو پہلی مرتبہ مہاجروں کا تجربہ ہوا۔ نئے آنے کی جارحانہ طبع اور شہروں میںآکر مواقع ہاتھ کرنے کا بھی مقامی لوگوں کو تجربہ ہوا۔ جس نے تھر میں ایک نئی نفسیات اور نئے طبقے کو جنم دیا۔ 
بعد میں جب یونیورسٹی میں پڑھنے آئے تو پتہ چلا کہ اس جنگ میں کیا ہوا تھا۔ انڈیا کے 1617 مربع کلومیٹر علاقے پر پاکستان نے اور پاکستان کے 446 مربع کلومیٹر عالقے پر انڈیا نے قبضہ کیا۔ پاکستان آرمی نے انڈیا کے تقریبا بیس افسران، انیس جونیئر افسران اور 569 دوسر ی ر ینک کے افسران کو گرفتار کرلیا تھا۔
اس جنگ کے نتائج کیا نکلے؟ پہلا یہ کہ پہلی مرتبہ دووں ملکوں کے درمیان ایک دیوار کھڑی ہو گئی۔ اس سے پہلے دونوں ملکوں کے درمیان ویزا ؤسان تھا۔ لوگ ایک دوسے کے پاس آزادی سے آجا سکتے تھے۔ کتابیں، میگزین، وغیرہ بھی۔ یہاں تک کہ پاکستانی سینماؤں انڈین فلموں کی نمائش بھی ہوتی تھی۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان تعلقات 1948 میں نہیں بلکہ 1965 میں بنے۔ پہلے ایک سافٹ بارڈر تھا۔ اور بعض لوگوں نے پاکستان میں اپنی جائدادیں فروخت نہیں کی تھی، وہ سمجھتے تھے کہ ایک دن آئے گا کہ صورتحال تبدیل ہوگی، اور وہ واپس آجائیں گے۔ اس جنگ کے بعد یہ خواب ٹوٹ گیا۔ 
۔ 1947 کی تقسیم ہند کے بعد دونوں ممالک کے درمیان یہ پہلی حقیقی جنگ تھی۔ چھ سال بعد انڈیا کی مدد سے مشرقی پاکستان علحدہ و کر بنگلادیش بن گیا۔ لاہور اور سیالکوٹ کو انڈیا کی حملے کی کوشش نے لاہور کے لئے مستقل کطرہ بنا دیا۔ انڈٰیا کو یقین ہو گیا کہ پاسکتان زبردستی کشمیر حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یوں اس جنگ نے دشمنی کا ایک مستقل سنگ بنیاد رکھ دیا۔ یہ ایک عجیب جنگ ہے جو کسی نے نہیں جیتی۔ پہلے پاکستان چھ ستمبر کو یوم دفاع مناتا تھا۔ بعد میں جنرل مشرف دور میں یہ دن منانا بند کردیا گیا۔ اب دوبارہ منایا جارہا ہے۔ 
یہ ضرور دیکھنا چاہئے کہ اس کے بعد پاکستان کا معاشرہ کس طرح سے فوجی سوچ یا شدت پسندی کی طرف گیا۔ 
۔1971 کی جنگ اس وجہ سے انوکھی اور مختلف ہے کہ اس میں کشمیر کا مسئلہ شامل نہیں۔ بلکہ مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان یا بعض لوگ اس کو یاں بھی لیتے ہیں کہ شیخ مجیب الرحمٰن، بھٹو اور یحیٰ خان کی سیاسی جنگ کے نتیجے میں ہوئی تھی۔ 
مشرقی پاکستان کے محاذ پر جو ہوا سو ہوا لیکن اس مغربی محاذ پر بھی جنگ ہوئی۔ انڈیا 5795 مربع کلو میٹرمیل (تقریبا پندرہ ہزار کلومیٹر) پاکستان کے علاقے پر قبضہ کرلیا یہ علاقہ سندھ کا تھر کا خطہ تھا۔ اس کی وجہ سے تھر کو ایک بار پھر آبادی کی منتقلی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس مرتبہ اس پندرہ ہزار مربع کلومیٹر علاقے کی تقریبا تمام آبادی نے یہ علاقہ خالی کردیاتھا۔ مسلم آبادی سندھ کے بیراج علاقے یا محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو گئی۔ اور ہندو آبادی کا بڑا حصہ خاص طور پر تاجر اور بالادست طبقہ انڈیا منتقل ہوگیا۔ مسلم آبادی کو انڈین رضاکاروں یا ہندو بالادست طبقے کے ہاتھوں لوٹ مار کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ نتیجے میں غریب علاقے کے غریب لوگ مزید غریب ہو گئے۔ یہ بھی ہوا کہ جب انڈیا نے مقبوضہ علاقے واپس کئے تو منتقل ہونے والی آبادی کے گھر اور دیگر سہولیات تباہ تھی۔
ایک انتقال آبادی 1965 کی جنگ میں مسلم آبادی کی انڈیا سے تھر میں ہوئی اور دوسری مرتبہ ہندو آبادی کی منتقلی انڈٰیاکی طرف ہوئی۔ اورباقی مسلم آبادی کو بھی پانے گھر مکانات اور املاک چھوڑ کر محفوظ مقامات پر جانا پڑا۔ اس تین طرح کی منتقلی نے تھر کی معیشت، معاشرت اور سیاست پر گہرے اثر چھوڑے۔ جومکمل طور پر ایک الگ باب ہے۔1972میں شملہ معاہدے کے تحت یہ علاقہ واپس پاکستان کو ملا۔تھر کو تیسری مرتبہ کارگل کے موقعہ پر بھی ہجرت کا سامنا کرنا پڑا۔ انڈیا نے اس واقعہ کے بعد جنگ راجستھان سیکٹر پر فوج کٹھی کی اور جنگی تیاری کی تو لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگ 1971 کی جنگ کے ڈرے ہوئے اور لٹے ہوئے تھے۔ سرحد کے قریبی سینکڑوں گاؤں کی آبادی محفوظ مقامات پر منتقل ہوئی۔ اس منتقلی کے بی لوگوں کی معیشت، اور نفسیات پر گہرے اثر مرتب ہوئے۔ تھرکے لوگوں نے تینوں مرتبہ اپنے ہی طورپر یہ ہجرت کی اس ضمن میں نہ انہیں کوئی سرکاری آگاہی دی گئی اور نہ ان کی مدد کی گئی۔ 
ایک بار پھر دو پڑوسی ملکوں کے درمیان جنگ کے گھنے بادل چھائے ہوئے ہیں اور ایک حد تک دونوں جنگ میں جا بھی چکے ہیں۔ پاک بھارت حالیہ ٹکراؤ کی وجہ سے ماضی کے تین تجربات کی روشنی میں سندھ کے سرحدی خاص طور پر تھر کے علاقے میں خوف وہراس پایا جاتا ہے۔ سندھ حکومت نے یہ الرٹ جاری کیا ہے کہ کسی ناگہانی صورت میں علاقے خالی کرائے جاسکتے ہیں۔اس سے شدید خوف وہراس پھیل رہا ہے۔ لہیذا اس بارے میں لوگوں کو صحیح آگاہی دی جائے اور صحیح صورتحال بتائی جائے اور یہ بھی کہ منتقلی کی صورت میں انکی مدد کی جائے۔ 

Monday, February 25, 2019

سندھ حکومت اور آئی جی پولیس پھر آمنے سامنے



سندھ حکومت اور آئی جی پولیس پھر آمنے سامنے

پانی کی قلت کے خلاف کاشکاروں کی تحریکیں

سندھ نامہ سہیل سانگی 
سندھ حکومت اور آئی جی سندھ پولیس ایک بار پھر آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ حکومت سندھ نے نئے پولیس قانون کا مسودہ تیار کیا ہے۔ جس میں ڈی آئی جیز اور ایڈیشنل آئی جی کو چیف سیکریٹری اور وزیراعلیٰ سندھ کے ماتحت کیا رکھنے کی تجویز دی گئی تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مسودہ تیار کرتے وقت آئی جی سندھ پولیس کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔ اس کے جواب میں آئی جی پولیس نے اپنی طرف سے قانونی مسودہ تجویز کیا ہے۔ جس پر گزشتہ روز کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں آئی جی سندھ پولیس نے نیا قانونی مسودہ پیش کیا اور کمیٹی میں اس مسودے پر غور کیا گیا۔ آئی جی سندھ کے تجویز کردہ اس مسودے میں آر پی حیدرآباد اور سکھر کی اسامیاں دوبارہ بحال کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔ یہ مسودہ حکومت سندھ کی کابینہ کمیٹی کے حوالے کردیاگیا ہے۔ پولیس کو خود مختار طریقے سے کام کرنے کی سفارش کرتے ہوئے اس مسودے میں تجویز کیا گیا ہے کہ ڈی آئی جی اور ایڈیشنل آئی جی کی سطح کے افسران سے متعلق اختیارات آئی جی کو دیئے جائیں۔ جبکہ حکومتی مسودے میں یہ اختیارات وزیراعلیٰ اور چیف سیکریٹری کو دیئے گئے ہیں۔اجلاس میں حکومت سندھ کے اس موقف کی مخالفت کی گئی ہے کہ آئی جی اختیارات صرف ایس پی سطح کے افسران تک ہوں اور ڈی آئی جی اور یڈیشنلّ ئی کے سطح کے اختیارات چیف سیکریٹری یا وزیراعلیٰ کے پا س ہوں۔ کابینہ کمیٹی میں حوکمت کا یہ موقف تھا کہ پولیس صوبائی اختیار ہے لہٰذا پولیس قانون میں تبدیلی سندھ اسمبلی کے ذریعے ہی کی جائے گی اور حکومت کو اختیار ہے کہ وہ قانون کا مسودہ تیار کرے۔ اس لئے حکومت سندھ نے پولیس کے لئے الگ قانونی مسودہ تیار کیا ہے۔ پولیس پر حکومت سندھ کی مکمل نگرانی ہو۔ کابینہ کمیٹی کے سربراہ صوبائی وزیر امتیاز شیخ پر امید ہیں کہ کابینہ کمیٹی اور آئی جی سندھ پولیس مل کر نیا قانونی مسودہ تیار کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ 
صوبے کے زریں علاقوں جوہی اور گولاڑچی میں پانی کی قلت کے خلاف کاشتکاروں کی تحریکیں شروع ہو گئی ہیں۔چند ماہ قبل جوہی کے کاشتکاروں کی بھرپور تحریک کے نیتجے میں بیس روز تک اس علاقے میں پانی فراہم کیا گیا تھا۔ اس کے بعد دوبارہ پانی کی فراہمی بند کردی گئی ہے نتیجے میں کاشت کی گئی فصلیں سوکھ گئی ہیں۔ 
’’سندھ کو ویران کرنے ولا محکمہ آبپاشی‘‘ کے عنوان سے روزنامہ کاوش لکھتا ہے کہ محکمہ آبپاشی کی نااہل انتظامیہ نے سندھ کو ویران کرنے کی کوئی کسر اٹھا کے نہیں رکھی ہے۔ خاص طور پر ٹیل والے تین اضلاع ٹھٹہ، سجاول اور بدین کو صحرا میں تبدیل کرنے کی راہ پر چل رہا ہے۔ ان اضلاع میں انسانی آبادی پینے کے پانی سے محروم ہے۔ کینالوں اور شاخوں میں مٹی اڑ رہی ہے۔ ان اضلاع سے بڑے پیمانے پر آبادی کا انخلاء شروع ہو گیا ہے۔ اس کے خلاف احتجاج بھی شدت آرہی ہے۔ ایک ایسا ہی احتجاج بدین ضلع کے شہر گولاڑچی میں ہوا۔ گولاڑچی کی 25 سے زائد شاخوں میں پانی کی فراہمی بند ہونے کے خلاف تحریک شروع ہو گئی ہے۔ شامیانے لگا کر جاری احتجاج اور علامتی بھوک ہڑتال میں ضلع کے مختلف شہروں سے لوگوں نے شرکت کی۔ اس تحریک میں سول سوسائٹی، سیاسی اور سماجی تنظیمیں بھی شریک ہیں۔ احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جب تک پھیلی اور دیگر کینالوں مینمصنوعی اور غیر قانونی طور پر لگائی گئی رکاوٹیں نہیں ہٹائی جاتی، ان کا یہ احتجاج جاری رہے گا۔ سندھ کو پانی کا حصہ کم مل رہا ہے لیکن جو مل رہا ہے، اس کی درست ریگیولیشن نہ ہونے کی وجہ سے سندھ صحرا میں تبدیل ہو رہا ہے۔ محکمہ آبپاشی کی انتظامیہ اس کے لئے ذمہ دار ہے۔ اس محکمہ کا کمال ہے کہ خشک صورتحال میں سیلاب پیدا کردیتا ہے اور سیلاب کو خشک صورتحال میں تبدیل کر سکتا ہے۔ سندھ کی معیشت کا انحصار زراعت پرہے۔ جس کو تباہ کیا جارہا ہے۔ٹیل کے کاشتکار مسلسل شکایات کرتے رہتے ہیں کہ ان کے حصے کا پانی اوپر کے حصے کے زمینداروں کو پانی فروخت کیا جارہا ہے ۔ ہزارہا ڈائریکٹ آؤٹ لیٹس کے ذریعے پانی لے لیا جاتا ہے۔ اس اہم محکمہ کو بدانتظامی، نااہلی اور کرپشن نے تباہ کردیا ہے۔ یہ محکمہ بغیر وزیر کے چلایا جارہا ہے۔ ظاہر ہے کہ پھر محکمہ کی یہی صورتحال ہوگی۔ زراعت کی تباہی نے صوبے میں بدترین غربت کو جنم دیا ہے۔ صوبائی وزیر زراعت کا تعلق بدین سے ہے۔ اس کے علاوہ دیگر اعلیٰ ایوانوں میں بھی بدین کی نمائندگی موجود ہے۔ لیکن یہ سب نمائندے بدین اور دیگر ٹیل والے عالقوں میں پانی کی رسد کو یقینی نہیں بنا سکے ہیں۔
اکیس فروری کو مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر سندھ کے مختلف شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں اور مختلف پروگرام منعقد ہوئے۔ اخبارات نے مضامین اور اداریے لکھ کر مادری زبانوں کی اہمیت اور ان کو فروغ دینے پرزور دیا۔ روزنامہ سندھ ایکسپریس ’’قومی زبانوں کا بل‘‘ کے عنوان سے لکھتا ہے کہ ملک میں کئی قومیں آباد ہیں اور ان کی اپنی اپنی زبانیں ہیں۔ لیکن ان زبانوں کو قومی زبان کا درجہ نہیں دے کر ان کی ترقی کے لئے ماضی میں اقدامات نہیں کئے گئے۔ یہ امر اہم ہے کہ ہر زبان کا اپنا علاقہ ہوتا ہے جہاں یہ زانیں صدیوں سے موجود ہیں۔
وفاق میں پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں زبانوں کے بل پر کچھ کام ہوا۔ لیکن تاحال یہ بل منظور نہ ہوسکا۔یہ بل جان بوجھ کر التوا میں ڈال دیا گیا۔ لہٰذا مادری زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دینے کا معاملہ جوں کا توں التوا کا شکار ہے۔ سینیٹر سسئی پلیجو نے گزشتہ روز ایک سیمینار میں بتایا کہ مادری زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دینے سے متعلق بل سنیٹ کی مجلس قائمہ نے منظور کیا تھا۔ جس میں سندھ کے ہر مکتب فکر کے لوگوں اور اہل دانش نے اہم کردار ادا کیا ۔ یہ بل دیگر پارلیمنٹرین کے ساتھ مشاورت کے بعد سینٹ سے منظور کریا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹینڈنگ کمیٹی سے یہ بل منظور کرانے میں ایم کیو ایم، پیپلزپارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی خواہ خیبرپختونخوا کے راکین کی حمایت حاصل رہی۔ پی ٹی آئی اور بلوچستان عوامی پارٹی نے اگر اس بل کی رکاوٹ نہیں ڈالی تو یہ بل سینیٹ میں آسانی سے پاس ہو جائے گا۔ یہ ایک اہم بل ہء جس کو ترجیحی بنیادوں پر اور جلد منظور کیا جانا چاہئے۔ کیونہ ملک کے اندر زبانوں کی کثیر رنگی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ زبانوں کے بل کے بارے مین یہ مفروضہ پھیلایا گیا ہے کہ اس سے قوم تقسیم ہو جائے گی۔ جبکہ دنیا میں ایسے کئی ممالک ہیں جہاں ایک سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں اور ان کو قومی اور سرکاری زبانوں کا درجہ حاصل ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے پی ٹی آئی حکومت کو اس بل کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہئے۔ اور اس بل کو منظور کرنے کے انتظامات کرنے چاہئیں۔ 

movements for water, Police Nai Baat - Sindh Nama 

https://www.naibaat.pk/22-Feb-2019/21229

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/67652/Sohail-Sangi/Sindh-Hukumat-Aur-IG-Phir-Aamnay-Samnaky.aspx 


Thursday, February 21, 2019

جمہوریت کے ساتھ ایک اور تجربہ



جمہوریت کے ساتھ ایک اور تجربہ

میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 

نئی صدی کے دوران ایک ایسا رجحان بڑھا ہے جو بظاہر عوامی لگتا ہے لیکن اپنے جوہر میں جمہوری نہیں۔ نوآبادآبادیاتی خواہ جدید نوآبادیاتی نظام میں جب عوامی تحریکیں چلتی تھی، تب دنیا میں اسطرح سے جمہوریت نہیں تھی، سرد جنگ کی وجہ سے ان تحریکوں کی اور بھی اہمیت بڑھ جاتی تھی۔ لیکن نئی صدی میں داخل ہونے تک بیشتر ممالک میں جمہوریت کسی نہ کسی شکل میں آچکی تھی۔ اور ان ممالک میں انتخابات ہونے لگے تھے۔اگرچہ جمہوریت اور پاپولرزام دونوں عوام میں قبولیت کی دعویدار ہیں ایک حد ایسالگتا بھی ہے۔ تاہم ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ پاپولرزم تحریک ہے اور جمہوریت ایک نظام ہے۔ گزشتہ دو عشروں کے دوران مختلف ممالک میں اس پاپولر رجحان نے آئینی اداروں اور خود آئینی جمہوریت پر مضر اثرات چھوڑے ہیں۔ پاپولسٹ قیادت کی حکومتوں کی پالسییاں منتخب اداروں کو مضبوط کرنے کے بجائے ان کو کمزور کر رہی ہیں۔ 



پاکستان میں جمہوریت کے ساتھ مختلف تجربے کئے جاتے رہے ہیں۔ جس میں بنیادی جمہوریت، غیر جماعتی جہموریت ،کنٹرولڈ جمہوریت، وغیرہ وغیرہ۔ اب ایک نیا تجربہ کیا جارہا ہے۔ موجودہ سیٹ اپ کو بھی پاپولسٹ سیٹ میں شمار کیا جاتا ہے۔ تھائلینڈ، بنگلادیش اور ترکی میں رونما ہونے والے واقعات کی وجہ سے پاکستان سے خاصی ممثلت رکھتے ہیں، دنیا بھر میں جمہوریت کی صورتحال پر نظر رکھنے والے اداروں کی تحقیق سے لگتا ہے کہ ان ممالک میں انتخابات تو ہوئے ہیں لیکن جمہوریت کمزور ہوئی ہے۔ سمجھا جارہا تھا کہ میانمار اور کمبوڈیا میں جمہوریت جڑیں پکڑ رہی ہے ۔ لیکن عملا ایسا نہیں ہوا۔کمبوڈیا میں ایک پارٹی کی حکومت کی طرف معاملہ چلا گیا ہے۔ پولینڈ اور فلپائین میں بھی جمہوریت کو مضبوط سجھا جارہا تھا۔لیکن وہاں عوامی مقبولیت کے نعرے نے آمرانہ رجحانات بڑھا دیئے ہیں۔ اگرچہ جمہوریت کاکلی طورر پر زوال نہیں ہوا تاہم سخت خطرے میں ضرور ہے ۔ یہ وہ دو ممالک ہیں جہاں حکومت ججز کو گھر بھیج چکی ہے۔ تقریبا اسی طرح سے جیسے جنرل مشرف نے کیا تھا۔ میڈیا کو ڈرایا جارہا ہے۔

ٹونی بلیئر انسٹی ٹیوٹ آف گلوبل چینج کے ایک مطالعہ کے مطابق’’ مقبول ‘‘ قیادت جب منتخب ہو کر آتی ہے تو وہ غیر مقبول منتخب حکومت سے دگنی میعاد اقتدار میں رہتی ہے۔ لہٰذا ایسی حکومت کو وقت مل جاتا ہے کہ وہ جمہوریت کو مزیدنقصان پہنچا سکے۔ یہ بھی دیکھنے میںآیا ہے کہ ایسے مقبول لیڈر اپنے انتظامی اختیارات بڑھا دیتے ہیں۔اور منتخب اداروں کو کسی حساب میں نہیں لاتے۔



پاکستان میں اپوزیشن مخلتف اندیشوں اور خدشات کا اظہار کررہی ہے۔ کبھی لگتا ہے صوبوں اور وفاق کے درمیاں توازن پید اکرنے والی اٹھارویں ترمیم ختم کی جارہی ہے۔ کبھی یہ کہ مالی وسائل میں صوبوں کا حصہ کم کیا جارہا ہے۔ یہ بھی اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ملک میں صدارتی نظام نافذ کیا جارہا ہے۔ 

گزشتہ ڈیڑھ دو عشروں کی سیاسی تبدیلیوں کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے ممالک جہاں آمرانہ رجحان رکھنے والی پاپولسٹ قیادت حکومت میں آئی ہے، اس نے وہاں جمہوری اداروں اور آزادیوں پر کسی آمر کے مقابلے میں زیادہ وار کیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس قیادت کو عوام کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ جبکہ ایک فوجی آمر کو عوام کی حمایت حاصل نہیں ہوتی۔



پاپولسٹ قیادت اس وجہ سے ابھرتی ہے کہ روایتی سیاسی جماعتیں پھر وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں ، نئے پیدا ہونے والے مسائل کو حل نہیں کرپارہی ہوتی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ نئے پیدا ہونے والے طبقات کو اپنی صفوں اور اسی لحاظ سے حکومت میں جگہ نہیں دے رہی ہیں۔ دوسری طرف عوامی مسائل خواہ مطلوبہ اصلاحات لانے سے بھی غافل رہتی ہیں جس کی وجہ سے عوام جمہوری اداروں سے ماویس ہو کر جذباتی نعروں میں جلدی آکر پاپولسٹ تحریکوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ پھر ہوتا یہ ہے کہ ایسی حکومتوں اور سیاسی پارٹیوں کو سیاسی متبادل پروگرام کے بجائے انتظامی یا پالیسی کے فیصلوں پر دبوچ لیتی ہیں۔ پاکستان میں نواز لیگ کی حکومت کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ تحریک انصاف کے پاس کوئی متبادل پروگرام نہیں تھا۔ اور نہ ہی اس کی چاروں صوبوں میں مضبوط تنظیم کاری تھی۔ لیکن کرپشن اور دھاندلی کے الزام پر نواز لیگ کو دوڑا دوڑا کے مار دیا۔ اور اب اس کی جگہ پر حکومت میں ہے۔ اکثر صورتوں میں پاپولسٹ ملک کے آئینی اداروں سے اندر سیاسی نظام کی تبدیلی کا باعث بنتی ہیں۔ اس مقصد کے لئے عوام کی مقبول خواہشات کو ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ فلپائن اور تھائلینڈ میں تختہ الٹنے کی صورتحال پیدا ہوئی جہاں پاپولسٹ کو حکومت سے نکال دیا گیا اور ترکی میں پاپولسٹ کو خطرہ پیدا ہوا۔ وینزولا کی پاپولسٹ اپوزیشن نے فوج کوسیاست میں زیادہ رول دیا جس سے جمہوریت کو دھچکا پہنچا۔



تحریک انصاف اب تک تین معاملات پر عوام کی توجہ دلائے ہوئے ہے۔ اول یہ کہ ملک شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ بحران کی وجہ سبسیڈیز دینا اور مبینہ کرپشن ہے۔ سبسیڈیز کا مطلب ہے وہ سہولیات اور مالی فوائد جو حکومت خرچ پر عوام کو دی گئی،تحریک انصاف اب یہ حکمت عملی بنا رہی ہے کہ یہ تمام سبسیڈیز ختم کردی جائیں گی۔ نتیجے میں گیس، بجلی، اور زرعی پیداوار اشیاء مہنگی ہو جائیں گی۔ یہ حکومت کا اعلان اور فیصلہ ہے۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ ملک کو صنعتی نہیں بنایا گیا۔ زراعت میں سائنسی انداز اختیار نہیں کیا گیا۔یہ سب کچھ نہ کرنے کے پیچھے سیاسی محرکات تھے۔ مجموعی پیداوار نہ بڑھنے اور پائدار خطوط پر ترقی نہ ہونے کی وجہ سے مختلف طبقات اور صوبوں کے آپس میں جھگڑے شروع ہو گئے۔اگر معیشت صحیح خطوط پر استوار کی جاتی تو پیداوار زیادہ ہوتی۔ نتہجۃ ہر ایک کو حصہ ملتا۔ ظاہر ہے کہ جب وسائل اور پیداوار کم ہوگی تو حصہ پتی پر جھگڑے ہونگے۔ 



مبینہ کرپشن میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی اور لوٹی ہوئی رقومات واپس لانے کا سوال نعرے اور بات کی حد تک تو صحیح ہے۔ہو یہ رہا ہے کہ مبینہ کرپشن میں ملوث افراد کو دوڑایا جا رہا ہے، اور انہیں راستے سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ احتساب کے ساتھ سیاست ہو رہی ہے۔ یہ ذہن میں رہے کہ اگر کرپشن کی گئی ہے تو بھی یہ رقم اتنی جلدی اور آسانی سے نہیں وصول ہوسکتی۔ بعض حلقوں کا یہ بھی خیال ہے کہ حکومت کے پاس کرنے کے لئے اور کچھ نہیں ہے، لہٰذا عوام کو دکھانے کے لئے یہ سرگرمی کی جارہی ہے۔ یہ سب کچھ اس لئے بھی ضروری ہے بحران گردشی فرضے کی طرح گھومتا رہے۔ کسی ایک جگہ رک نہ پائے۔ اگر رک گیا تو بحران پھٹ جائے گا۔ لہٰذا سیاسی بیان بازی اور گرما گرمی زیادہ نظر آتی ہے۔ 

جب سیاسی اپوزیشن اور سول سوسائٹی موثرحکمت عملیاں نہیں بناتی جو پاپولسٹ کے لئے جمہوری اداروں اور کلچر کو کچلنامشکل کردیں، وہاں پاپولسٹ اور مضبوط شخصیات نے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔پاپولسٹ قیادت کی حکومت کی ایک خصوصیت یہ بھی ہوتی ہے کہ اس کے خلاف اپوزیشن کو متحد کرنا آسان نہیں ہوتا۔جیسا کہ اپوزیشن کہہ رہی ہے، اور حکومتی حلقوں سے بھی بعض اشارے مل رہے ہیں حکومت پورے سیاسی نظام کو تبدیل کرنے جارہی ہے۔ لیکن اپوزیشن کی جانب سے موثر انداز میں مشترکہ اس حکومتی تحرک کے خلاف موقف سامنے نہیں آیا موجودہ اپوزیشن میں نواز لیگ اور پیپلزپارٹی دو بڑی جماعتیں ہیں۔ وہ بعض اوقات کٹھی ہو جاتی ہیں اور پھر دوسرے لمحے الگ الگ کھڑی ہو جاتی ہیں۔ یوں یہ جماعتیں موقع پرستی اور مصلحت پسندی کا شکار ہو جاتی ہیں۔یہ جماعتیں مشترکہ طور پر حکومت کی مخالفت کرنے یا نظام کو تبدیل کرنے کی حکومتی کوشش کو روکنے کے لئے سامنے نہیں آرہی ہیں۔ اپوزیشن کی صورتحال تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ان تمام ممالک میں ہے جہاں پاپولسٹ حکومتیں ہیں اپوزیشن کے اندر تقسیم کی صورت میں حکومت ہی فائدے میں رہتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ ممالک جہاں آمرانہ جھکاؤ رکھنے والی پاپولسٹ قیادت کی حکومتّ جمہوری بنیادوں کو ہلا دیتی ہیں وہاں جمہوریت کی تعمیرنو مشکل کام ہے۔

آج کے دور میں جمہوریت کا مطلب صرف انتخابات نہیں وہتے۔ کسی حکومت کے جمہوری ہونے کی کسوٹی یہ نہیں کہ انتخابات جیت کر حکومت بنا لے۔ جمہوری حکومتیں لوگوں کی مدد کرتی ہیں کہ ایسے قاعدے قانون بنائے جائیں جس پر سب عمل کریں،اور انہیں اپنی زندگیوں اور کام میں ان کی حیثیت تسلیم کی جاتی ہو۔ آمرانہ حکومتیں اس کے برعکس جو انہیں اچھا لگتا ہے وہ کرتی ہیں۔ اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ عوام کے سامنے کتنی جوابدہ ہے، جمہوری اداروں کی مضبوطی اور ان کو فیصلہ سازی میں شامل کرنے میں کیا اقدامات کئے گئے ہیں۔اظہار رائے کی آزادی اور میڈیا کو کتنی آزادی ہے؟ اس ضمن میں رکاوٹیں تو نہیں۔ اظہار رائے اور میڈیا کی آزادی شفافیت کے علاوہ صرف چیک اینڈ بیلنس ہی نہیں بلکہ سماج میں موجودد تنوع کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ بھی کہ اقلیتوں اور پسماندہ علاقوں کو مرکزی دھارے میں لیا جارہا ہے کہ نہیں؟ ملکی معیشت کا پہیہ کن وسائل سے چلایا جارہا ہے ؟ آخری سوال معیشت کے بارے میں ہے۔ لیکن عملا یہ سوال اولیت رکھتا ہے اور باقی تمام سوالات پر بھاری ہے۔

امریکہ جمہوریت کے چیمپیئن اور مثالی جمہوریت کے طور پر سمجھا جاتا تھا وہ اس اپنے روایتی کردار سے پیچھے ہٹا۔ امریکہ میں سیاسی حقوق اور شہری آزادیاں زوال پزیر ہیں۔ ٹرمپ ’’پہلے امریکہ‘‘ کے نعرے کے ساتھ آیا۔ 
’’پاکستان مقروض ہے، معیشت تباہ ہے ‘‘ کے بیانیہ نے یہ جواز پیدا کیا ہے کہ کہیں سے بھی پیسے حاصل کیا جائے۔اگر ملکی تاریخ پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ پچاس کے عشرے میں بھی یہ بتایا گیا تھا اور بعد میں پاکستان امریکی اتحاد میں چلا گیا تھا۔ ضیاء الحق کے دور میں بھی اس عذر پر ہم افغان جنگ کا حصہ بنے۔ بعد میں مشرف دور میں امریکہ کی دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ کے بھی پارٹنر ہوئے۔آج تمام جواز اور وجوہات ایسی بنا دی گئی ہیں کہ ایک بار پھرہم کسی علاقائی حکمت عملی یا اتحاد کا حصہ بنیں۔ اپنی مالی ضروریات وہاں سے پوری کریں۔ اس صورت میں ملک میں جمہوریت، آزادیاں اور منتخب اداروں کی فیصلہ سازی اتنی ہی ہوجائے گی جتنے پیسے دینے والے اجازت دیں گے۔ 


https://www.naibaat.pk/18-Feb-2019/21139

http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-feb-19-2019-194880

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/67541/Sohail-Sangi/Jamhuriat-Ke-Sath-Aik-Aur-Tajurba.aspx

Saturday, February 16, 2019

نئی تعلیمی پالیسی پر مشاورت



نئی تعلیمی پالیسی پر مشاورت

سندھ نامہ سہیل سانگی 
روزنامہ کاوش لکھتا ہے کہ سندھ میں نئی تعلیمی پالیسی پر مشاورت جاری ہے۔ گزشتہ ماہ حیدرآباد میں منعقدہ ورکشاپ کے بعد کراچی میں بھی ایک ورکشاپ منعقد ہوا جس میں انہی تجاویز کو دہرایا گیا۔ تعلیمی پالیسی مرتب کے لئے دی گئی تجاویز کے اہم نکات یہ تھے۔ اسکولوں میں پینے کے پانی اور واش رومز کی سہولیات کی فراہمی، اساتذہ کی بھرتی کے لئے بی ایڈ اور ایم ایڈ کی شرط نہ کرنا۔نصاب کو جدید بنانا، تاریخ سے متعلق مواد میں جعلی ہیروز کا مواد نکال کر اس دھرتی کے اصل ہیروز اور خواتین سے متعلق مواد شامل کرنا۔ ان تجاویز میں کہا گیا ہے کہ اچھا گریجوئیٹ اگر بی ایڈ یا ایم ایڈ نہیں پاس نہیں ہوتا وہ ٹیچر کی اسامی کے لئے نااہل قرار دیا جاتا ہے۔ لہٰذا اساتذہ کی بھرتی کے لئے ایم ایڈ اور بی ایڈ کی شرط ختم کی جارہی ہے۔ کیونکہ علامہ اقبال یونیورسٹی میں کوئی بھی شخص پچاس ہزار روپے فیس ادا کر کے یہ ڈگریاں لیکر آجاتا ہے۔ اس موقع پر وزیرتعلیم سید سردار علی شاہ نے واضح کیا کہ قانون پر عمل نہ کرنے والے اسکولوں کی رجسٹریشن ختم کردی جائے گی۔ 
دنیا کے ممالک میں جو معیار تعلیم ہے ہم اس سے دو صدی پیچھے ہیں۔ ہم آج بھی انیسویں صدی کے معایر تعلیم سے آگے نہیں بڑھ سکے ہیں۔ اساتذہ کی مہارت، تعلیم دینے میں سنجیدگی اور خلوص کا موازنہ کیا جائے تو ایک بڑی پستی کا پتہ چلتا ہے۔ترقی یافتہ ممالک کے تعلیمی معیار کے بجائے اگر ملک کے دوسرے صوبوں کی تعلیم سے بھی موازنہ کیا جائے تو بھی ہم یں ندامت کا احساس ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ صوبے میں موجود نجی اسکولوں سے سرکاری اسکولوں کے معیار کاموازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ نجی اسکولوں کا معیار ارفع اور اعلیٰ ہے۔ اصل قصہ سرکاری شعبے کے اسکولوں کی پستی کا ہے۔ بلاشبہ بہتر تعلیمی پالیسی سے تعلیمی بہتری ممکن ہے۔ معیاری تعلیم کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ انفرا اسٹرکچر بھی بہتر ہو۔ اسکولوں کی عمارات بہتر ہوں، وہاں بجلی، پانی، واش روم، اور چودیواری سمیت سہولیات موجود ہوں۔ تاکہ بچے پرسکون اور آرام دہ ماحول میں تعلیم حاصل کر سکیں۔ 
یہ بھی درست ہے کہ تعلیمی نصاب کی حالت ابتر ہے۔ یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ آخر بچے کو کیوں کر پڑھایا جائے؟ نصاب جدید تقاضوں کے مطابق ہو،نا چاہئے۔نصاب کے حوالے سے بعض عالمی ضروریات اور تقاضے ہیں اور دوسرے مقامی۔ یعنی نصاب کو تہذیب اور ثقافت سے ہم آہنگ ہونا چاہئے۔ یہ نصاب یہاں کی تاریخ کا عکس ہو۔ اس میں مزاج اور نفسیات کا خیال رکھا جائے۔ دوسرا مسئلہ یہ نصاب پڑھانا اور اس میں موجود علم منتقل کرنے کا ہے۔ یہ نصاب پڑھانے کے لئے جدید تربیت یافتہ اساتذہ کا ہونا لازمی ہے۔ کم از کم وہ تعلیم کی پروفیشنل ڈگری (بی ایڈ ایم ایڈ) رکھنے والے ہوں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نچلی کلاسوں میں پروفیشنل ڈگری ضروری ہے۔ اس سطح پر بچوں کی شخصیت کی تعمیر اور اس کو صحیح رخ دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب تو بھڑیں پالنے کے لئے بھی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ اسپیشلائیزیشن کا دور ہے۔ کیا گاڑی چلانے کے لئے ڈرائیونگ لائسنس ضروری نہیں؟ اگر کوئی بغیر تربیت کے بغیر لائسنس کے ڈرائیونگ کرے گا تو کیا نتیجہ نکلے گا؟ کیا پائلٹ کو بغیر تربیت کے جہاز اڑانے کی اجازت دی جاسکتی ہے؟ 
جہاں تک نجی اسکولوں کی رجسٹریشن ختم کرنے کا معاملہ ہے ، اس موضوع پر وزیر تعلیم اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ لب کشائی کر چکے ہیں۔ کیا یہ بتانے کی زحمت کی جائے گی کہ سندھی مضمون نہ پڑھانے والے ، سپریم کورٹ کے فیصلے پرعمل نہ کرنے والے کتنے بڑے اسکولوں کی رجسٹریشن ختم کی گئی ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ نئی تعلیمی پالیسی لازمی طور پر مرتب کی جائے، اس مقصد کے لئے ماہرین اور حاضر سروس ٹیچرز سے بھی مشاورت کی جائے۔
روزنامہ سندھ ایکسپریس ’’بدین کے کاشتکاروں کا معاشی قتل‘‘ کے عنوان سے اداریے میں رقمطراز ہے کہ گزشتہ ایک سال سے سندھ میں پانی کی قلت کی شدید شکایات بڑھ گئی ہیں۔ اس قلت کا اثر سندھ کے زرعت پر مجموعی طور پر اور مختلف علاقوں کے کاشتکاروں کی معاشی حالت پرخصوصی طور پر پڑرہا ہے۔ قلت کے شکار علاقوں میں معاشی بدحالی بڑھ رہی ہے۔ شاخوں میں پانی نہ آنے کی وجہ سے زمینیں بنجر ہو رہی ہیں۔ اگر صرف صوبے کے ضلع بدین کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے، تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں پر کیا صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ ایک عرصے سے پانی نہ پہنچنے کی وجہ سے فصلوں کی کاشت نہیں ہو سکی ہے۔بدین کے کاشکار ایک عرصے سے پانی کی قلت کے خلاف احتجاج ریکارڈ کراتے رہے ہیں۔ جب چوہدری افتخارمحمد چیف جسٹس تھے، بدین کے کاشتکار احتجاج ریکارڈ کرانے اسلام آباد بھی گئے تھے۔ لیکن انہیں صرف کئی یقین دہانیاں ہی ملی، پانی نہیں مل سکا۔ گزشتہ روز کی رپورت کے مطابق امام واہ میں پانی کی شدید قلت ہے۔ اس کینال میں دس ماہ سے جاری قلت کے خلاف احتجاج کاشتکار اور دیگر رہائشیوں نے گزشتہ روز احتجاج کیا۔ مظارہین کا کہنا ہے کہ دس ماہ سے پانی نہ پہنچنے کے بعد علاقے میں قحط کی صورتحال ہے۔ پینے کا پانی نہ ملنے کی وجہ سے مویشی پیاسے مر رہے ہیں۔ زراعت مکمل طور پر تباہ ہے۔ لوگ پچاس روپے گیلن کے حساب سے پانی خرید کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کینال میں صرف دو ماہ کے لئے پانی دیا جاتا ہے۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ آبپاشی عملہ صرف بااثر اور پیسے ادا کرنے والوں کو پانی مہیا کرتا ہے۔ مسلسل قحط کا شکار کاشتکاروں کے پاس اب پیسے بھی نہیں رہے کہ وہ آبپاشی عملے کو دے کر انی خرید کر سکیں۔ ہم سمجھتے ہیں بدین کے کاشتکاروں کا یہ مطالبہ جائز ہے۔ اس ضمن میں محکمہ آبپاشی اور حکومت کے دیگر اداروں کو فوری اقدامات کرنے چاہیءں۔ 
آئل ریفائنری سندھ میں قائم کی جائے کے عنوان سے روزنامہ عبرت لکھتا ہے کہ پاکستان میں ایشیا کی سب سے بڑی آئل ریفائنری قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ سعودی تعاون سے بلوچستان کی ساحلی پٹی گوادر کے پاس قائم ہونے والی یہ ریفائنری دنیا کی تیسری اور ایشیا کی سب سے بڑی ریفائنری ہوگی۔ وزیر اعظم عمران خان کے مطابق اس ریفائنری پر پندرہ ارب روپے کی لاگت آئے کی۔ اور اس سرمایہ کاری کے پاکستان کی معیشت پر مثبت اثرات پڑیں گے۔ سندھ میں بدین، سانگھڑ، جامشورو، گھوٹکی، شہدادکوٹ کے پاس تیل کے ذخائر ملے ہیں۔ جہاں سے کئی بیرل تیل روزانہ نکالا جارہا ہے۔ اتنی بڑی مقدار میں تیل ملک کے کسی صوبے سے نہیں نکالا جارہا ہے لیکن اس کے باوجود آئل ریفائنری سندھ سے باہر لگائی جارہی ہے۔ وفاقی خواہ صوبائی حکومت کو اس ضمن میں سنجیدگی سے سوچنا چاہئے کہ جہاں سے تیل نکل رہا ہے وہیں ریفائنری قائم ہونی چاہئے۔ 
https://www.naibaat.pk/15-Feb-2019/21056

سندھ میں نئی سیاسی بیداری کا اظہار

سندھ میں نئی سیاسی بیداری کا اظہار

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی

سندھ کے عوام نے ایک مرتبہ پھر حقوق کے لئے بھرپور اجتماعی شعور کا سنجیدگی سے اظہار کیا ہے۔ یہ اظہار لسانیت سے پاک اور پرامن تھا۔ ایسا اظہار جس کے پیچھے کوئی سیاسی پارٹی یا سیاسی قیادت نہیں تھی۔ ارشاد رانجھانی کو 6 فروری بروز بدھ کو بھینس کانونی کے یونین کاؤنسل چیئرمین رحیم شاہ نے سرعام نصف درج کے قریب گولیاں مار کر قتل کر دیا اور پولیس کو یہ کہانی بتائی کہ وہ ڈاکو تھا اس لئے قتل کردیا گیا۔ پولیس نے بھی آسانی سے اس من گھڑت کہانی کو قبول کرلیا۔ اصل حقیقت کچھ اور تھی۔ کیونکہ اس پورے واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ارشاد رانجھانی ویسے کوئی جانا پہچانا سیاسی کارکن نہیں تھا۔ سندھ اہل فکر و نظر یا سیاسی کارکنان اس واقعہ سے قبل شاید رانجھانی کے نام سے ہی واقف نہ تھے۔ وہ ایک عام سا سیاسی کارکن تھا۔ رحیم شاہ نے جس بیدردی سے سرعام ان کو قتل کیا، اور پھر پولیس نے جس طرح کے رویہ کا اظہار کیا۔ سوشل میڈیا نے اس کو وائرل کیا۔ زخمی کو ہسپتال لے جانے کے لئے کوئی آگے بڑھ رہا تھاتو اس کو روکا جارہا تھا۔ آخری گولی ارشاد کے منہ میں ماری جاتی ہے۔ پولیس اس کو لوٹ مار کی واردات قرار دیتی ہے۔ اس امر نے پوری سندھ کی سوسائٹی کو ہلا کر رکھ دیا۔ آئندہ چند گھنٹوں میں یہ درد سندھ بھر میں محسوس کیا جانے لگا۔ اور لوگ احتجاج کے موڈ میں آگئے۔
1948 میں سندھ مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے آٹھ سو اراکین کے وفد نے قائد اعظم سے ملاقات کی اور انہیں کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کے نقصانات سے آگاہ کیا۔
اس بیدرد واقعہ کے باوجود احتجاج اتنا پرامن تھا۔
آج سے ستر سال پہلے یعنی 1948 میں سندھ مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے آٹھ سو اراکین کے وفد نے قائد اعظم سے ملاقات کی اور انہیں کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کے نقصانات سے آگاہ کیا۔ یہ سندھ کا پہلا پرامن اور شعور کا احتجاج تھا۔
ساٹھ کے عشرے میں چار مارچ کا واقعہ سندھ یونیورسٹی کے وائیس چانسلر حسن علی عبدالرحمان کی کمشنر مسروراحسن کے ہاتھوں تذلیل کی وجہ سے ہوا۔ لیکن یہ احتجاج صرف وہیں تک محدود نہیں رہا۔سے شروع ہوا۔ کمشنر کے خلاف اس واقعہ نے تحریک کو جنم دیا۔ وجہ برسوں کی محرومی تھی جو ون یونٹ کے طوق کی شکل میں لوگوں کو جکڑے ہوئے تھی۔ تب طلباء ہر اول دستہ بن گئے۔ اگرچہ ون یونٹ کے خلاف تحریک پہلے بھی چل رہی تھی لیکن اس واقعہ نے ایک ابھار پید اکیا۔ ابتدائی طور پراس تحریک کے پیچھے بھی کوئی روایتی سیاسی قیادت نہیں تھی۔یہ تحریک سندھ کے گاؤں گاؤں تک پھیل گئی۔نئی قیادت ابھری۔ اور بعد میں ایوب خان اور ون یونٹ کے خلاف ملک گیر تحریک کا حصہ بن گئی۔ ون یونٹ کے خلاف تحریک بھی مجموعی طور پر پرامن تھی۔ اس میں سڑکوں کا احتجاج، جلسے جلوس تھے۔ ماس موبلائیزیشن تھی۔ کمشنر کے خلاف اٹھنے والی تحریک سے لیکر ون یونٹ کے خلاف صوبے بھر میں تحرک نے سندھ کی سیاسی حیثیت کو
منوایا۔
ماضی قریب میں دوسری تحریک ایم آرڈی کی تھی۔ اگرچہ ضیاء الحق کے مارشل لاء کے خلاف یہ ملک گیر تحریک تھی لیکن سندھ کی محرومیاں کچھ زیادہ ہی تھی۔ سندھی عوام نے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس طرح سے چلایا کہ اسٹبلشمنٹ بھی پریشان ہو گئی اور خود وڈیرے تحریک کو ٹھنڈا کرنے کے چکر میں تھے لیکن یہ تحریک کارکنان چلا رہے تھے۔ وڈیروں کی سمجھوتہ بازی کے باوجود سندھ نے اپنی سیاسی حیثیت تسلیم کرائی۔
ارشاد رانجھانی سندھ کا پہلا سیاسی کارکن نہیں تھا جس کو قتل کیا گیا ہو۔ اس سے پہلے سندھ متعدد جانے پہچانے سیاسی رہنماؤں اورکارکنوں کے قتل برداشت کرچکا ہے۔حسن ناصر اور ذوالفقار علی بھٹو سے لیکر بینظیر بھٹو تک، نظیر عباسی سے لیکر فاضل راہو تک۔ ان شہادتوں پر سندھ کے عوام نے احتجاج بھی کئے۔ یہ شہادتیں سندھ کو ابھی بھی یاد ہیں۔
یہ بھی درست ہے کہ ارشاد رانجھانی کا قتل کراچی میں کسی سندھی کارکن کا پہلا قتل نہیں تھا۔ لیکن جس بیدردی سے اور سرعام قتل کیا گیا اس نے لوگوں کو جھنجھوڑ دیا۔ سوشل میڈیا پر سول سوسائٹی اور عام آدمی نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس کے وارث بن کر سامنے آئے۔کارساز کراچی پر احتجاج کی اس ا پیل پر مین اسٹریم میڈیا اور اداروں کی آنکھ کھلی۔
ماضی میں شورش زدہ اور لسانی جھگڑوں کی وجہ سے ہزارہا سندھیوں کے جمع ہونے پر بعض اداروں اور حلقوں نے خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا۔ یہ بھی کہ پختون کمیونٹی اس پر ردعمل دکھا سکتی ہے۔ واقعہ کی نوعیت ایسی تھی اور اس کے پیچھے کوئی فوری سیاسی مقاصد نہیں تھے، نہ ہی سیاسی قیادت اس کے پیچھے تھی۔ لہٰذا یہ احتجاج بھرپور ہوا۔پرامن رہا۔ اور بغیر کسی جانی یا مالی نقصان کے ہوا۔ پورا بیانہ ایسا بنا کہ شہر میں موجود پختون برادری بھی مشتعل نہیں ہوئی۔
گیارہ فروری کو ہزارہا سندھی عوام کاساز پر جمع ہوئے۔ کارساز پر احتجاج کرنے والوں کو احساس تھا کہ 8 اکتوبر 2007 کو اسی جگہ پر ایک واقعہ ہوا تھا جہاں پر 140 افراد کی لاشیں اٹھی تھی۔ تب جلوس کی قیادت محترمہ بینظیر بھٹو کر رہی تھی۔ لیکن آج اس احتجاج کی قیادت لوگ خود کر رہے تھے۔ اس میں سول سوسائٹی، سیاسی رہنما، کارکن، ادیب دانشور ،فنکار، مزدور، نوجوان خواتین اور عام لوگ بھی شامل تھے۔ کئی گھنٹے تک یہ پرامن احتجاج جاری رہا۔ نہ کوئی ٹائر جلا نہ کسی گاڑی پر پتھر مارا گیا، نہ کوئی شیشہ ٹوٹا، اور نہ ہی شاہراہ فیصل جیسے مصروف سڑک پر ٹریفک میں رخنہ پڑا۔ یہ ہجوم کسی لسانیت کا شکار نہیں ہوا۔نہ تشدد میں تبدیل ہوا۔ایک تاریخی احتجاج تھا۔ ان ہزارہا افراد کو سندھ حکومت پر غصہ تھا۔ یہی دباؤ تھا جس نے وزیراعلیٰ سندھ کو سندھ اسمبلی کے فلور پر بولنے پر مجبور کردیا۔ اور سندھ حکومت نے غفلت کرنے والے پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ارشاد رانجھانی کے قتل نے اُنہیں ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ضرورت پڑی تو پولیس افسران کے خلاف خود ایف آئی آر درج کرواؤں گا۔سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ پولیس کا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنا پڑے گا، پولیس زخمیوں کو اسپتال لانے کے بجائے تھانے لے جارہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں عوام کی حکمرانی ہے اسے پولیس اسٹیٹ نہیں بننے دیں گے۔
تحقیقاتی ٹیم کی سفارش پر یوسی چیئرمین رحیم شاہ کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ عوام کے احتجاج اور واقعہ پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا براہ راست اظہار کے بعد چھ روز بعد قتل کا مقدمہ درج کیا گیاا رشاد رانجھانی کے قتل کے ملزم رحیم شاہ کو گرفتار کر کے انسداد دہشتگردی کے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا۔ملزم رحیم شاہ کا ماضی کا ریکارڈ قبضہ مافیا کا رہا ہے۔ ان پرفائرنگ سے زخمی ارشاد رانجھانی کو اسپتال نہ پہنچانے کا بھی الزام ہے۔
پرامن اور کامیاب احتجاج جس نے سیاسی اور عوامی تحریکوں کے لئے کئی اسباق چھاڑے ہیں، اس میں بگاڑ پیدا کرنے کا پہلے روز سے ڈر تھا۔ اس احتجاج کے تین روز بعد لاڑکانہ کے پاس نودیرو شگر مل کے قریب تین پختون تاجروں کو نامعلوم موٹر سائکل سوار افراد نے گولیاں مار کر قتل کردیا۔ ان کا تعلق ضلع باجوڑ سے تھا اور وہ گھریلو برتنوں کا کاروبار کرتے تھے۔ یہ لوگ کئی برسوں سے سندھ میں رہائش پذیر تھے۔ قتل کا مقدمہ درج کرلایا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے سندھ پولیس کے سربراہ کو واقعہ کی پیشہ ورانہ انداز میں تحقیقات کی ہدایت کردی ہے۔ واقعہ میں بارہ بور کا پسٹل استعمال کیا گیا ہے۔ واقعہ کو سازش قرر دیا جارہا ہے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرادری نے واقعہ کی مذمت کی ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لئے مناسب اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ نو دیرو کے قریب رونما ہونے والا واقعہ اگر لسانی ردعمل میں ہے تو یہ ایک بڑی سازش ہے۔ اس کے محرک سندھ میں امن کے دشمن ہیں۔واقعہ کی سندھ کے سیاسی فکر اور دانش حلقوں سے بھرپور مذمت کی جارہی ہے۔ہاں یہ درست ہے کہ اس واقعہ نے سندھی اور پختون اہل فکر و نظر کا کام تھوڑا بڑھا دیا ہے۔ انہیں اس مقصد کے لئے مربوط اور بھرپور کوششیں کرنی پڑیں گی۔
سندھ کے باشعور افراد کو جمع کیا ہے جو کسی سیاسی قیادت کے بغیر بھی جمع وہ سکتے ہیں۔ اب سندھ کے لوگ کسی سیاستدان کی منت سماجت کرنے کی ضرورت نہیں ۔ ایک عام فرد یا سول سوسائٹی اگر سچائی کے ساتھ کھڑی ہوگی تو لوگ اس کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے۔ سندھ کا پرامن احتجاج ایک بڑی سچائی ہے جس کو کسی اس طرح کے واقعہ کے ذریعے مٹایا نہیں جاسکتا اور نہ ہی مدھم کیا جاسکتا ہے۔ بڑی حقیقت تو یہ ہے کہ اس احتجاج نے یہ راہیں بھی کھول دی ہیں کہ پرامن طریقے سے احتجاج بھی رنگ لاتا ہے۔ لوگ اپنی قیادت خود بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ س

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/67422/Sohail-Sangi/Sindh-Mein-Nai-Siyasi-Bedari-Ka-Izhar.aspx

http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-feb-15-2019-194587

Wednesday, February 13, 2019

دنگل کا دوسرا راﺅنڈ

دنگل کا دوسرا راؤنڈ
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
وزیراعظم عمران خان نے خاموشی توڑدی کوئی این آر او نہیں آرہا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اب کسی قسم کی رعایت کسی کرپٹ آدمی کو نہیں دیں گے، لٹیروں کیلئے این آراو ملک سے غداری ہوگی۔وزیراعظم کا یہ بیان سیاسی حوالے سے پالیسی بیان کی حیثیت رکھتا ہے۔انہوں نے پارلیمنٹ کے حوالے سے بھی کچھ کہہ دیا ہے کہ ہم نے اس پر بھی پارلیمنٹ چلانے کی کوشش کی لیکن جتنی کوشش کرنی تھی وہ کرلی،جتنا اسمبلی میں شور مچ رہا ہے، ہم کوشش کررہے ہیں اسمبلی ٹھیک طرح چلے۔اسمبلی کے بارے میں ان خیالات کا اظہار کیا اسمبلی کی اہمیت کو کم کرنے کی بات ہے؟ یا اسمبلی ان سے نہیں چل رہی؟
پہلے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اشارہ دیا کہ شہباز شریف خوداستعفیٰ دیں ورنہ بذریعہ ووٹ ہٹائینگے۔ اب وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ جیل سے ایک آدمی اٹھ کر آئے اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بن جائے اور پھر وہ ہی نیب کو طلب کرلے، کہیں بھی کسی جمہوریت میں کوئی یہ تصور نہیں کرسکتا۔ اب باتیں کھل رہی ہیں ۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی کے لئے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کچھ وعدے کئے گئے تھے۔ فواد چوہدری کہتے ہیں کہ جو وعدے کیے اس کی خلاف ورزی کی۔ ن لیگ کے رہنما رانا ثناء اللہ کہتے ہیں کہ شہباز شریف کیخلاف کوئی بھی اقدام کیا گیا تو حکومت سے طے کی گئی چیزیں ختم اور اپوزیشن اپنے لائحہ عمل میں آزاد ہوگی، حکومت کو جمہوری روایات کا پاس نہیں تو ہم سے بھی توقع نہ کرے۔کیا شہباز شریف کوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا سربراہ منتخب کرنے کے وعدے کو ڈیل کا نام دیا جائے؟ عام خیال یہ ہے کہ حکومت سیاسی خواہ مالی حوالے سے سخت دباؤ میں تھی، جس کی وجہ سے یہ فیصلہ کرنا پڑا تھا۔ورنہ حکومت دلی طور پر شہباز شریف کو یہ عہدہ دینا نہیں چاہ رہی تھی۔ جس کا برملا اظہار شیخ رشید کے بیانات سے ہوتا ہے۔ اب جب وہ دباؤ سے باہر نکل آئی ہے تو یہ فیصلہ واپس لینا چاہتی ہے۔
وزراء کے لب و لہجے سے لگتا ہے کہ حکومت نہ صرف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین شپ کے عہدے سے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو ہٹانا چاہتی ہے۔ بلکہ بعض اپوزیشن رہنماؤں کو بھی گرفتار کرنا چاہتی ہے۔ حکومت پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری کے خلاف ریفرنس کو آخری شکل دینے کی تیاری کر رہی ہے۔ اپوزیشن اور حکمران جماعت تحریک انصاف کے درمیان دنگل کا ایک اور راؤنڈ شروع ہونے والا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم کی کڑی تنقید پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی ترجمان و سابق وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ عمران خان کی مرضی اور منشاء کی غلام نہیں،نہ ہی ان کی دھونس سے چل سکتی ہے، عمران خان ڈیل ڈھیل نہ کریں، علیمہ خان سے این آر او ہوچکا۔ اپوزیشن حکومت کی تڑیوں سے ڈرنے والی نہیں،نیب عمران صاحب کو گرفتار کرے، سلیکٹڈ وزیراعظم کے نعرے سننے پڑینگے۔
پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری ایک بار پھر سرگرم ہو گئے ہیں۔سندھ کا دورہ کر رہے ہیں۔ ان کا لہجہ ابھی بھی ترش ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اب دوسرا بنگلہ دیش نہیں بننے دینگے، یہ بیوقوف ہیں، انکی ٹانگیں ویسے ہی ڈگمگا جاتی ہیں، مخالفین کے ساتھ پاکستان کے وسائل کی جنگ لڑ رہے ہیں، اپنے حق کیلئے لڑیں گے۔یہ جنگ سندھ کی نہیں بلکہ پورے ملک کی ہے اور اس جنگ میں ہمارے ساتھ پشتون، بلوچی اور پنجاب ہمارے ساتھ ہے۔انہوں نے سندھ سے بعض وفاقی اداروں کے ہیڈکوارٹرز کی اسلام آباد منتقلی کی مخلافت کی۔ اور کہا کہ سوفاق پہلے ہماری جامعات لے گیا، اب ایوی ایشن کا ہیڈکوارٹر بھی لیجایاجا رہاہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا جھگڑا مجھ سے صرف 18 ویں آئینی ترمیم پر ڈاکہ مارنے کیلئے ہے وہ کراچی سے سول ایوی ایشن کا مرکز ختم کر کے اسلام آباد لے جا رہے ہیں تاکہ نئے دفاتر بناکر کمیشن کمایا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکمران بے وقوف ہیں اور انہیں ملک چلانا نہیں آ رہا ہے۔پیپلزپارٹی یہ موقف اختیار کئے ہوئے ہے کہ آصف زرداری پر لندن اور سوئس عدالتوں میں کوئی مقدمہ ثابت نہیں ہوا ہے۔ جب بھی آصف علی زرداری پر الزام تراشی کی ہے اس کو منہ کی کھانی پڑی ہے۔
وزیراعظم سے لیکر وزراء تک کو بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ ’’کسی کو این آر اونہیں ملے گا ۔‘‘ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ میاں شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئرمین بنایا جانا، میاں نواز شریف کو ان کی خواہش کے مطابق لاہور کی جیل میں منتقل کیا جانا،سلمان شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف کو بیرونِ ملک جانے کی اجازت دینا یہ سب ڈیل کے مظاہر نہیں ؟۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ وزیراعظم اور ان کی ٹیم کی مرضی کے بغیر ہوا؟۔یہ درست ہے کہ د عمران خان یا ان کے ساتھیوں کے بس میں ہوتا توڈیل نہیں ہوتی۔
اب صورتحال واضح ہو گئی ہے۔ یہ ڈیل عمران خان سے نہیں مانگی جا رہی تھی ، اور جو رلیف ملا وہ بھی وزیراعظم کی طرف سے نہیں تھا۔ شیخ رشید کے بیانات وزیراعظم یا ان کی ٹیم کی اصل نمائندہ پالیسی تھے۔ اصل صورتحال تب تبدیل ہوئی جب حکومت نے افغان مذاکرات میں اپنا کردار ادا کرنا شروع کیا۔ ٹرمپ نے وزیراعظم سے ملنے کا عندیہ دیا۔ اب حکومت کا دوبارہ مغرب کی طرف رخ ہے۔مالی بحران کے حوالے سے چین یا بعض اسلامی برادر ملکوں سے ٹھوس مدد نہ مل سکی۔ٹھوس ان معنوں میں کہ دو عرب ممالک نے جو رقم اسٹیٹ بینک میں جمع کرائی ہے اس پر شرح بھی تین فیصد ہے جو آئی ایم ایف کی شرح کے برابر ہی ہے۔ ایسے میں آئی ایم ایف سے پھر مذاکرات شروع ہو گئے۔ یہ بھی تارسیخ میں پہلی مرتبہ ہوا کہ وزیراعظم خود آئی ایم ایف کی سربراہ سے براہ راست ملنے چلے گئے۔ آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لیگارڈ سے ملاقات میں پاکستان کو بیل آؤٹ پیکیج پر بات چیت ہوئی۔ پاکستان اور آئی ایم ایف معیشت کی بحالی کے لئے معاشی اصلاحات پر متفق ہو گئے ہیں۔معیشت کی بحالی کے لئے پورا ماحول چاہئے۔اسلام آباد کے ایک سنیئر ریٹائرڈ بیوروکریٹ کے مطابق اگر عمران خان اپنے لئے راستہ صاف چاہتے ہیں تو دوسروں کو بھی یہ راستہ دینا پڑے گا۔ وزیراعظم عمران خان سمجھتے ہیں کہ آئی ایم ایف سے معاملات کرنے کے بعد اب حالات مکمل طور پر ان کے قابو میں ہیں۔ وہ صورتحال کومزید ٹکراؤ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ جوابا اپوزیشن نے بھی ویسی ہی حکمت عملی بنائی ہوئی ہے۔

Nai Baat Sohail Sangi

Saturday, February 2, 2019

PTI and New NFC award

14-09-2018/



سندھ میں اپوزیشن کا کردار



سندھ میں اپوزیشن کا کردار 

سندھ نامہ سہیل سانگی 
سندھ کے عوام حکمرانی، پالیسی سازی، خواہ عوام کے مصائب کے حوالے سے متعدد مسائل کا شکارہیں۔ سرکاری اعداد شمار اور رپورٹس کے مطابق صوبے میں دیہی خواہ شہری علاقوں میں غربت بڑھ رہی ہے۔ لوگ پینے کے صاف پانی اور نکاسی آب کی سہولیات سے محروم ہیں۔ ا س کا سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس مسلم ہانی کی سربراہی میں قائم واٹر کمیشن کی رپورٹس مشاہدات سے ہوسکتا ہے۔ صوبے میں اڑھائی سال پہلے سنافذ کی گئی تعلیمی ایمرجنسی بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکی۔ زراعت پانی کی قلت، انتظام کاری اور مارکٹنگ میں گڑبڑ کی وجہ سے مسائل کا شکار ہے، یہاں تک کہ کاشتکار گنے اور کپاس کے بجائے دیگر چھوٹی فصلیں کاشت کرنے کی طرف جارہے ہیں۔ صحت سمیت مختلف ادارے اپنے وجود کی حیثیت کھو بیٹھے ہیں۔اس صورتحال پرحکومت خواہ اپوزیشن سندھ اسمبلی میں بات چیت نہیں کررہی۔ ایک دوسرے پر تنقید اور گالیاں دینے کا الزام لگا کر ایوان کو مچھلی مارکیٹ بنائے ہوئے ہیں۔ وہ عوام کو تو بھول بیٹھے ہیں بلکہدونوں فریقین ایوان کا تقدس بھی بھول گئے۔ گزشتہ روز معاملہ کا آغازجی ڈی اے کے رکن عارف مصطفیٰ جتوئی کے اس سوال سے ہوا کہ کیاجیل میں ایک وائرس کی وجہ سے ایک سیاستدان متاثر ہوئے ہیں۔ پھر یہی الزام تراشی ہوتی رہی کہ کس نے کس کو گالی دی ۔ 
اپوزیشن کی جانب سے صوبائی وزیر مکیش کمار چاولہ پر گالی دینے کے الزام کے بعد ہنگامہ، شورشرابے شروع ہوا۔ اپوزیشن لیڈر اورسعیدغنی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور ہنگامہ آرائی اورشور شرابے کے باعث ایوان کا ماحول سخت کشیدہ ہوگیا۔ ایوان میں اپوزیشن ارکان کی جانب سے یہ شکایت کی گئی کہ سرکاری بنچوں پر موجود ایک وزیر کی جانب سے گالی دی گئی ہے۔صوبائی وزرامکیش کمار چالہ اور امتیاز شیخ نے اپوزیشن کے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کسی نے کوئی گالی نہیں دی۔اسپیکر آغا سراج درانی نے کہا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرائیں گے۔تعجب کی بات ہے کہ اپوزیشن کے پاس سرکاری بنچوں سے پوچھنے کے لئے یہی سوال رہ گیا تھا؟ اس طرح کی صورتحال ممکن ہے کہ حکومت کے حق میں جائے کہ اصل مسائل پر اس سے نہ پوچھا جائے، اس کے بجائے فروعی معاملات پر بحث ہو، یا ہنگامہ آرائی ہو۔ اس معاملے میں اپوزیشن کا کردار زیادہ اہم اور ذمہ دارانہ بنتا ہے کہ وہ کسی بھی طرح سے حکومت کو سوالات سے بھاگنے کا موقع نہ دے ۔اور اس کو اس طرف لے آئے کہ وہ عوام کے حقیقی مسائل، اداروں کی کارکردگی، سرکاری پالیسیوں پر بحث کرے تنقید کرے۔ لگتا ہے کہ اپوزیشن نان اشو کو اشو بنا رہی ہے۔ 
سندھ میں نیب کے دائر کردہ مختلف مقدمات میں ایک نیا موڑ آیا ہے۔ سکھر میں ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن اور اسسٹنٹ کمشنر کے خلاف نیب انکوائری ختم کرنے کی رپورٹ پر سندھ ہائی کورٹ چیف جسٹس احمد علی ایم شیخ نے ریماکس دیئے کہ نیب نے ادارے کو کیوں مذاق بنایا ہوا ہے۔نیب تین تین سال انکوائریاں کرتاہے اورچوتھے سال کہتاہے ملزم مطلوب ہی نہیں‘نیب کے تفتیشی افسران کوئی دودھ کے دھلے ہوئے نہیں۔ دریں اثناء قومی احتساب بیورو (نیب) کراچی ریجن کے تمام پراسیکیوٹرز نے استعفیٰ دے دیا۔بظاہر یہ کہا جارہا ہے کہ مستعفی ہونے والے تمام پراسیکیوٹرز نے تنخواہیں بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا۔ نیب پراسیکیوٹرز ایک لاکھ دس ہزار سے چالیس ہزار کے درمیان تنخواہیں لے رہے تھے اور ان کا مطالبہ تھا کہ تنخواہیں بڑھا کر ایڈووکیٹ جنرل کے پراسیکیوٹرز کے برابر کی جائیں۔
قومی ادارہ امرض قلب کراچی وفاقی حکومت کے ماتحت ہو یا سندھ حکومت کے ؟اس معاملے پر دونوں حکومتوں کے درمیان تنازع چل رہا ہے۔ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے مطابق جناح پوسٹ گریجوئیٹ میڈیکل سینٹر اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر وفاق حکومت کے ماتحت ہیں۔ سندھ حکومت نے این آئی وی سی ڈی سے متعلق بل صوبائی اسمبلی سے منظور کرایا۔ لیکن گورنر سندھ نے دستخط کرنے کے بجائے بل واپس کردیا تھا۔ سندھ اسمبلی نے دوبارہ بل پاس کرلیا ہے۔ سندھ حکومت کا موقف ہے کہ محکمہ صحت صوبائی حکومت کے ماتحت ہے۔ لہٰذا صوبائی حکومت اس پر قانون سازی کر سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔ عدالتی حکم کے بعد وفاقی سیکریٹری صحت نے خط لکھ کر بتایا ہے کہ وفاق اس ادارہ کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتا۔ حیرت کی بات ہے کہ صرف ریسرچ کی وجہ سے اس ادارے کو وفاق کے حوالے کیا جارہا ہے۔ 
گزشتہ دنوں خبر آئی تھی کہ وزیراعظم کے 130 مختلف احکامات پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ یہ صورتحال صرف وفاقی حکومت تک محدود نہیں۔ سندھ میں مختلف محکمہ جات میں 957 عدالتی حکم نامے التوا میں پڑے ہوئے ہیں ۔ مجموعی طور پر حکمرانی کا یہ حال ہے۔ 
وفاق کی طرف منتقل ہوتے ہوئے ادارے اور حکومت سندھ کی خاموشی کے عنوان سے ’’ روزنامہ کاوش‘‘ لکھتا ہے کہ یہ تلخ حقیقت ہے کہ گزشتہ ایک عشرے سے سندھ میں خراب حکمرانی ہے۔ نیتجۃ صوبے کا کوئی بھی محکمہ یا وزارت روایتی کام کرنے کے انداز سے باہر نکل نہیں سکتے ہیں۔ خراب حکمرانی کی وجہ سے سندھ زوال کا شکار ہوا۔ جس سے معاشی، سماجی ، نفسیاتی اور سیاسی بدحالی کی علامات بھی واضح طور پر نظر آرہی ہیں۔ خراب حکمرانی اور صوبے کے مفادات کی صحیح طور پر نمائندگی نہ کرنے کی وجہ سے اب صورتحال یہ بنی ہے کہ سندھ سے سرکاری اور نجی اداروں کے ہیڈکوارٹرز اسلام آباد منتقل کئے جا رہے ہیں۔ جب تمام دفاتر اسلام آباد منتقل کئے ہو جائیں گے تو پھر اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو اختیارات دینے کی کیا معنیٰ رہ جائیں گی؟ کراچی اسٹاک ایکسچینج کا نما تبدیل کر کے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کر کے ہیڈکوارٹر اسلام آباد منتقل کردیا گیا۔ نیوی کے بعد مسلم کمرشل بینک، لائیڈ بینک کے ہیڈ کوارٹر سندھ سے منتقل کئے گئے۔ اب پی آئی اے کا ہیڈکوارٹر بھی اسلام آباد لے جایا جارہا ہے۔ اس طرح سے چھوٹے بڑے اداروں کے دفاتر اسلام آباد منتقل کر کے وسائل پرکنٹرول ، انتظام کاری اورحاکمیت مرکز کی طرف منتقل کی جارہی ہے۔ اس طرح کی نتقلی سے صوبے میں روزگار اور مستقبل کی ترقی کے سوالات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ سندھ کے منتخب نمائندے اور سندھ اسمبلی اس ضمن میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکی ہے۔ یہ سوال صرف سندھ کا نہیں بلکہ ملک کے تمام جمہوریت پسندوں کا سوال ہے۔ انہیں اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ 

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/67089/Sohail-Sangi/Sindh-Mein-Opposition-Ka-Kirdar.aspx

Friday, February 1, 2019

این ایف سی ایوارڈ اور دو صوبائی اسمبلیوں کی متفقہ قراردادیں



این ایف سی ایوارڈ بدلنے میں مشکلات 

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
این ایف سی ایوارڈ اور دو صوبائی اسمبلیوں کی متفقہ قرار دادیں
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 
مالیاتی ایوارڈ اور وفاق کی جانب سے صوبوں کو گرانٹس پاکستان میں موضوع بحث رہی ہیں۔وسائل پر مرکزیت کی وجہ سے صوبے خود کو وفاق کے رحم و کرم پر سمجھتے رہے۔اس صورتحال میں ساتویں مالیاتی ایوارڈ کے بعد ایک حد تک توازن پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔جب مجموعی طور پر صوبوں کا حصہ بڑھایا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس ایوارڈ کو آئینی تحفظ بھی دیا گیا کہ کہ صوبوں کا حصہ آئین میں ترمیم کے بغیر کم نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ایوارڈ اگرچہ پیپلزپارٹی کے دور حکومتیں دیا گیا تھا لیکن اس وقت ملک کی دوسری بڑی پارٹی نواز لیگ اپوزیشن میں اور پنجاب میں حکومت میں تھی۔لہٰذا یہ ایوارڈ پوری چھان پھٹک کے بعد منظور کیا گیا تھا۔ 
2009 میں دیئے گئے اس ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ بڑھا دیا گیا تھا۔اس ایوارڈ کے آنے کے بعد آئی ایم ایف اور سیکیورٹی اسٹبلشمنٹ صوبوں سے اتنی بڑی رقومات کی صوبوں کو منتقلی پر سوالیہ نشان ڈالتی رہی ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے نے گزشتہ سال این ایف سی ایوارڈ میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کے لئے کہا تھا تاکہ وفاقی حکومت کے اخراجات کو پورا کیا جا سکے۔ 
آئی ایم ایف کے تین بڑے مشورے ہیں: ۱) مشترکہ مفادات کی کونسل کے ماتحت ٹیکنوکریٹس کی کی ایک مالیاتی کمیٹی تشکیل دی جائے۔ ۲) وفاق اور صوبوں کے مشترکہ نگرانی میں مستقل کانٹیجنسی فنڈ قائم کیا جائے۔ ۳) صوبوں اور وفاق کے مشترکہ دائرہ اختیار میں ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لئے نیشنل ٹیکس کمیشن قائم کیا جائے۔ آئی ایم ایفپاکستان کی مالی صورتحال پر اس لئے بھی نظر رکھے ہوئے ہے کہ پاکستان اس کا گاہک ہے۔ ابھی بھی اس کا مقروض ہے اورآئندہ بھی قرضہ دینے کا خواہشمند ہے۔ اس کو پاکستان کے عوام یا صوبوں سے زیادہ اپنے قرضے اور منافع کی فکر زیادہ رہتی ہے۔ 
موجودہ این ایف سی جس کو صوبوں کے حق میں زیادہ سمجھا جاتا ہے اس کا جھکاؤ بھی چھوٹے صوبوں کی طرف کم ہے۔ وفاق اور صبوں کے درمیان تقسیم کے بعد جو رقم بچ جاتی ہے وہ قابل تقسیم پول کہلاتا ہے۔قابل تقسیم پول میں سے پانچ فیصد روینیو جمع کرنے 10.3 فیصد غربت پر،2.7 فیصد آبادی کا دباؤ کم کرنے پر خرچ ہوتا ہے جبکہ باقی 82 فیصد آبادی کی بنیاد پر تقسیم کیا جاتا ہے۔ 
عملی صورتحال یہ ہے کہ ساتویں مالیاتی ایوارڈ میں س 42.5 فیصد وفاقی حکومت کو دیا گیا۔ باقی 57.5 فیصد صبوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ نتیجے میں پنجاب کو 51.7 فیصد۔ سندھ کو 24.55 فیصد ، خیبر پختونخوا کو 14.62 فیصد اور بلوچستان کو 9.09 فیصد دیا گیا ہے ۔
سندھ تقسیم کے موجودہ فارمولا کی مخالفت کرتا ہے ، جس میں بڑا عنصر آبادی ہی ہے۔ و ہ سمجھتا ہے کہ وہ قومی خزانہ میں 70 فیصد حصہ ڈالتا ہے جبکہ اسے 24.55 فیصد ملتا ہے۔ 
قومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس چھ فروری کو اسلام آباد میں منعقد ہو رہا ہے۔ملک کی موجودہ مالی صورتحال اور بعض حلقوں کی جانب سے ساتویں ایوارڈ پر تحفظات کی وجہ سے اس اجلاس کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ایک طرف اس اندیشے کا اظہار کیا جارہا ہے کہ ساتویں ایوارڈ اور اٹھارویں ترمیم کے ذریعے جومالی اور سیاسی توازن قائم ہوا ہے اس میں کوئی بگاڑ نہ آجائے۔دو سری طرف ایک دوسرے کے مقابل دلائل ہیں۔اس ضمن میں سندھ کا رول زیادہ ابھرا ہوا نظر آتا ہے۔کیونکہ سندھ میں ایسی جماعت کی حکومت ہے جووفاق میں اپوزیشن میں ہے۔ دوسرے یہ کہ سندھ قدرتی گیس، تیل کی پیداوار زیادہ دیتا ہے اور سیلز ٹیکس کی وصولی بھی یہاں سے دوسرے صوبوں کے مقابے میں زیادہ ہے۔ تحریک انصاف کی مرکز اور دو صوبوں میں حکومت ہے۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کی اور بلوچستان میں مخلوط حکومت ہے۔ چھوٹے صوبوں کے حق میں اقتدار کا جھکاؤ نہیں ہے۔ 
وفاق کا موقف ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں چاروں صوبوں کی ایڈ جسٹمنٹ کرنی ہے، اس میں صوبوں کا اپنا حصہ کم کریں گے اور فاٹا کو 3 فیصد دیں گے، وزیر اعظم نیفوری طور پر این ایف سی ایوارڈ کے طریقہ کار پر نظرثانی کا کہا ہے۔
سندھ اسمبلی نے گزشتہ ماہ متفقہ قرارداد کے ذریعے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایین ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے حصے کا اعلان کیا جائے۔ 
گزشتہ نومبر میں وزیرخزانہ خیبرپختونخوا تیمورسلیم جھگڑا نے کہا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت این ایف سی میں صوبوں کا حصہ کم کرنے کی مخالفت کرے گی،اٹھارویں ترمیم بہترین قانون سازی ہے ۔وفاقی اکائیوں کو زیادہ خودمختار بنانا ہے تو انکو ترقی کے لیے زیادہ پیسہ بھی دینا ہے ۔ انہوں نے فرمائش کی کہ سندھ فاٹا کے لیے این ایف سی کا حصہ نہیں دینا چاہتا ہے۔ ان سے درخواست ہے کہ وہ ہماری مدد کریں۔
موجودہ بلوچستان اسمبلی نے اکتوبر میں این ایف سی ایوارڈ پر بحث کی تکمیل پر بلوچستان اسمبلی کے ایوان نے متفقہ طور پر وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نویں این ایف سی ایوارڈ میں رقبہ، آبادی، غربت و پسماندگی، قدرتی وسائل، ساحلی ترقی اور ایس ڈی جیز کے حصول کو وسائل کی تقسیم کے فارمولے کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ چار صوبوں میں سے دو کی اسمبلیاں نئے ایوارڈ میں صوبوں کو زیادہ حصہ دینے کا مطلابہ کر رہی ہیں۔ ایسے میں وفاقی حکومت کی فرمائش کیسے پوری ہوسکتی ہے؟
پیپلزپارٹی کا یہ موقف ہے کہ وفاقی حکومت اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی کے ساتھ چھیڑ خانی کا خیال دل سے نکال دے، کوئی فیصلہ کرنے سے قبل آئین کا مطالعہ بھی کر لیا کرے، آئین میں واضح ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ بڑھے گا کم نہیں ہوگا۔ 
جماعت اسلامی پاکستا ن کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ کہتے ہیں کہ حکومت صوبوں پر مالیاتی کٹوتی نہ لگائے۔ این ایف سی ایوارڈ پر قومی اتفا ق رائے کیا گیا ہے، اس سے چھیڑ چھاڑ سے ملک میں بے یقینی اور مرکز گریز رجحانات بڑھیں گے۔ 
سندھ کا شروع سے یہ موقف رہا ہے کہ وفاقی محاصل کی تقسیم آبادی کی بنیاد پر کرنے کے بجائے صوبوں کی بنیاد پر کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھا آمدنی بڑھانے پر متعلقہ صوبے کو زیادہ حصہ دیا جائے۔ 
اگرچہ ہول سیل اور رٹیل سیلز خدمات کے دائرے میں آتے ہیں، لیکن وفاقی روینیو بورڈ سیلز ٹیکس وصول کرتا ہے۔ سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کام سندھ روینیو بورڈ زیادہ بہتر طور پر کر سکتا ہے۔ سندھ یہ بھی تجویز رکھتا ہے کہ سیلز ٹیکس اگر صوبوں کو نہ دیا جائے تو یہ کام کم از کم سندھ میں صوبائی روینیو بورڈ وفاق کی جانب سے کر سکتا ہے۔ وصولی پراٹھنے والے اخراجات منہا کر کے باقی رقم وفاق کو دی جاسکتی ہے۔ اسی طرح سے وفاقی حکومت غیر منقولہ جائداد پر کیپٹل گین ٹیکس وصول کرتا ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد یہ ٹیکس صوبائی دارے میں آتا ہے۔ گیس انفرا اسٹرکچر ڈولپمنٹ سیس بھی صوبوں کو منتقل کیا جائے کیونکہ یہ بھی صوبائی دارے کا اسم ہے۔ سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ سندھ کو اس ضمن میں وصول کی جانے والے ٹیکس میں سے کبھی بھی اس کا جائز حصہ نہیں ملا ہے۔ سندھ یہ بھی چاہتا ہے کہ قدرتی گیس پر ایکسائیز ڈیوٹی میں اضافہ کیا جائے۔ 
خام تیل اور قدرتی گیس پر رائلٹی وفاق وصول کرتا ہے اور اس کے لئے دو فیصد رقم وصولی کی مد میں اپنے پاس رکھتا ہے۔ یہ رائلٹی وصول کرنے کا اختیار بھی صوبوں کو دیا جائے۔ 
آکٹرائے اور ضلع ٹیکس تصرف کا ٹیکس ہے جس میں سندھ کا حصہ 46 فیصد بنتا ہے۔ لیکن وفاقی حکومت کے پاس اس کی تقسیم جانے کے بعد اس کو کم رقم دی جاتی ہے۔ 
اس مقصد کے لئے وفاقی حکومت نے سیلز ٹیکس کی شرح 12.5 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کی تھی۔ سندھ کا یہ موقف ہے کہ 2010 میں اس مد میں رقم کی تقسیم کو بھی این ایف سی ایوارڈ کے تناسب سے دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس سے سندھ کو نقصان پہنچا ہے۔ سندھ چاہتا ہے کہ اس مد میں سندھ کے حصہ میں دو فیصد اضافہ کیا جائے۔ 
این ایف سی ایوارڈ طویل عرصے تک التوا کا شکار رہا۔ نواز لیگ حکومت کی پالیسیوں کی ناکامی میں سے ایک یہ بھی ہے۔ اب سخت معاشی دباؤ کی وجہ سے حکومت این ایف سی ایوارڈ کی طرف جارہی ہے۔ 
اب آئینی طور پرسوشل سیکٹر صوبوں کا دائرہ اختیار ہے۔ لہٰذا زیادہ وسائل مرکز سے صوبوں کو جانے چاہئیں۔ ان کو اپنے پسماندی علاقوں کو ترقی دلانے ہے غربت کے خاتمے کے اقدامات کرنے ہیں۔ اس کے للئے بھی وسائل کی ضرورت ہے۔ سندھ اور بلوچستان کو یہ شکایت بھی موجود ہے کہ اٹھارویں ترمیم پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے صوبائی خود مختاری ایک خالی کاغذی تحریر بن گئی ہے۔ بعض محکمے اور ان کے اثاثے صوبوں کو منتقل نہیں ہوئے ہیں۔ بلوچستان کے لئے صوبے کی صلاحیت کا مسئلہ ہو سکتا ہے جس کا عموما ذکر بھی کیا جاتا ہے لیکن سندھ اور دیگر صوبوں کے لئے صلاحیت کا مسئلہ نہیں ہے۔ اس لئے سندھ اختیارات کی اٹھارویں ترمیم کے مطابق مکمل منتقلی چاہتا ہے۔ 
این ایف سی کے آئندہ اجلاس میں سندھ نے مذکورہ بالا نکات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئین کسی طرح بھی صوبوں کو اس منتقلی میں کمی کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔تحریک ناصاف کی حکومت آئینی بندشوں کی موجودگی میں ایوارڈ کیسے تبدیل کر پائے گی؟ جبکہ حکمران جماعت کی اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں کے ساتھ شدید سیاسی کشیدگی چل رہی ہے۔ یہ ایک سیاسی سوال ہے۔ تاہم اگر کوئی اور مکینزم بھی بنایا جاتا ہے تو بھی نیا ایوارڈ ایسا ہو کہ صوبوں کو زیادہ ترغیب ملے کہ وہ اپنے سوشل سیکٹر کو بہتر بنائیں۔ 
این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کا حصہ کم کرنے سے صوبے میں غربت مزید بڑھے گی۔



Difficulties in new NFC award - Sohail Sangi - Nai Baat Feb 1, 2019

NFC Award - Sindh

https://www.naibaat.pk/31-Jan-2019/20714